Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-091

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم ولقد ارسلنا موسی بایاتنا الی فرعون وملائه فقال انی رسول رب العالمین فلما جاءهم بایاتنا اذا هم منها یضحکون وما نریهم من ایة الا هی اکبر من اختها واخذناهم بالعذاب لعلهم یرجعون ولقد ارسلنا موسی بایاتنا اور تحقیق البتہ بھیجا ہم نے موسی علیہ السلام کو بایاتنا اپنی نشانیوں کے ساتھ الی فرعون وملائه فرعون کی طرف وملائه اور اس کے سرداروں کی طرف ملاء ان کس کو کہتے ہیں سردار بھئی تو تحقیق ہم نے بھیجا موسی علیہ السلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف فقال انی رسول رب العالمین پس موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں کہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں تمام جہانوں کے پروردگار کا پیغمبر ہوں فلما جاءهم بایاتنا جاء کے معنی ہیں آنا اور اس کے ساتھ با آ جائے صلہ تو اس کے کیا معنی کرتے ہیں لانا فلما جاءهم بایاتنا پس وہ جب ان کے پاس ہماری نشانیاں لائے اذا هم منها یضحکون تو اچانک وہ منھا ان سے یہ ہا ضمیر راجع ہے آیات کو راجع تو یہ ہا ضمیر آیات کو راجع تو وہ ان آیات سے یضحکون ہنسنے لگے ضحک یضحک کا معنی ہنسنا فلما جاءهم بایاتنا اذا هم منها یضحکون پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو یکایک وہ ان سے ان پر ہنسنے لگے وما نریهم من آیة اور ہم نہیں دکھاتے تھے ان کو کوئی نشانی الا هی اکبر من اختها ہیرا ضمیر آیت کو راجع اور ہم نہیں دکھاتے تھے ان لوگوں کو کوئی نشانی مگر یہ کہ وہ نشانی اکبر بڑی ہوتی تھی من اختها اپنی جیسی نشانی سے من اختها ای من مثلها بھئی من اختها ای من مثلها اس جیسی ہا ضمیر اخت بہن کو کہتے ہیں ہا ضمیر راجع ہے کہ وہ آئی نشانی بڑی ہوتی تھی اپنی بہن سے یعنی اپنی جیسی نشانی سے اپنی جیسی نشانی سے تو کلام عرب میں اس طرح استعمال کیا جاتا ہے ایک چیز دوسری کے مثل ہو اور مؤنث ہو تو کیا کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ اس کی مثل ہے اس کی اخت ہے یعنی اس کی مثل ہے بھئی کیونکہ جیسے بہنیں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں تو یہاں اخت کو مثل کے معنی میں اس عام استعمال کیا جاتا ہے وما نریهم اور ہم نہیں دکھاتے تھے ان کو کوئی نشانی الا هی اکبر من اختها مگر وہ اپنی جیسی نشانی سے بڑی ہوتی تھی یعنی با محاورہ ترجمہ مگر یہ کہ وہ نشانی دوسری نشانی سے بڑی ہوتی تھی ہم ان کو جو بھی نشانی دکھاتے تھے وہ یوں کہیں تر با محاورہ ایک سے بڑھ کر ایک ہوتی تھی ایک سے بڑھ کر ایک ہوتی تھی تو لہذا یہ اشکال آپ کے ذہن میں نہیں آنا چاہیے کہ ہر نشانی دوسری سے بڑی ہوتی تھی مطلب پہلی نشانی دوسری سے بڑی اور دوسری نشانی پہلی سے بڑی یہ تو ہو ہی نہیں سکتا بڑی ہوئی تو ایک ہی ہوگی دوسری تو جب ایک بڑی ہوئی ہے تو دوسری تو پہلی سے بڑی ہوئی نہیں یہ با محاورہ محاورے کے انداز میں اسی طرح جب بہت سی چیزوں کی تعریف کرنی ہو تو اسی طرح کی جاتی ہے بہت سی نشانیاں ہم نے بھیجیں اللہ فرما رہے ہیں اور ہر ایک کی تعریف ہر نشانی دوسری نشانی سے بڑھ کر تھی ایک نشانی ایک سے بڑھ کر تھی آپ اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں اسی طرح جب کئی چیزوں کی تعریف کرنی ہو تو پھر اسی طرح کہتے ہیں کہ ہر نشانی دوسری نشانی سے بڑھ کر تھی بھئی بڑھ کر تھی مقصد کیا ہے ہر ایک کے بتلانا کہ ہر ایک ان میں سے بڑی نشانی تھی معنی سمجھ میں آگیا بھئی وما نریهم من آیة الا هی اکبر من اختها اور نہیں دکھاتے نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر یہ کہ وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوتی تھی واخذناهم بالعذاب اور پکڑ لیا ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ لعلهم یرجعون تاکہ وہ رجوع کر لیں ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ وہ رجوع کر لیں عذاب سے یہاں وہ تکالیف مراد ہیں جو ان پر آئیں بھئی دنیاوی تکالیف بھئی دنیاوی تکالیف کہتے ہیں کہ یہ ان پر اللہ نے کئی عذاب بھیجے بھئی کئی عذاب کئی تکالیف بھیجی اور ہر تکلیف آتی تو موسی علیہ السلام کے پاس بھاگے ہوئے آتے کہ آپ سے جو اللہ نے عہد کیا ہے جو نبوت اللہ نے آپ کو دی ہے آپ ہمارے لیے دعا کیجیے اللہ ہم سے اس تکلیف کو دور کر دیں تو ہم ضرور راہ راست پر آ جائیں گے ہم ضرور ہدایت پر آ جائیں گے لیکن ادھر وہ تکلیف دور کی جاتی ہے حضرت موسی علیہ السلام کی دعا سے تو فورا ہی پھر اسی طرح وعدہ توڑ کر اسی طرح سرکشی میں مصروف رہتے تھے کئی تکالیف آئیں مثلاً بھئی بارشیں بہت زیادہ ہوئیں بھئی طوفان آئے بہت زیادہ جس کی وجہ سے حد سے زیادہ یہ لوگ تکلیف میں پڑ گئے پھر دوڑے دوڑے آئے حضرت موسی علیہ السلام کے پاس دعا کیجیے یہ بارشیں رک جائیں یہ طوفان رک جائیں نہیں تو ہم تو بالکل ختم ہو گئے سارا کچھ ہمارا ختم ہو گیا ان بارشوں کی وجہ سے پھر دعا انہوں نے کی تو وہ رک گئیں اور پھر اس کی وجہ سے فصلیں بہت زیادہ ہوئیں بھئی تو انہوں نے کہا اب تو ہم فصلیں خوب ہو گئیں ہماری تھیں اسی طرح سرکشی میں مصروف فصلیں زیادہ ہوئیں تو اللہ تعالی نے ٹڈیوں کا عذاب بھیج دیا بھئی ٹڈی بھئی یہ ٹڈی جانتے ہیں یعنی جانتے ہیں بھئی یہ خاص قسم کی ٹڈی ہوتی یہ اب بھی بعض جگہ اس طرح کی تکلیف آ جاتی ہے یہ ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں آ جاتی ہیں اور یہ ایک ایک ٹڈی تقریبا یہ ایک ایک انگلی کے برابر ہوتی ہے بھئی اور ساری کی ساری فصلوں کو چٹ کر جاتی ہیں جس کھیت پر حملہ آور ہوں ایکا دن میں پورا کھیت صاف کر دیتی ہیں یہ بھئی پورا کھیت تو ٹڈیوں کو اللہ نے بھیج دیا بھئی اتنی زیادہ اتنی کروڑوں اربوں کی تعداد میں میں نے بتایا بھئی پورے پورے کھیت کو یہ ایکا دن میں ہی صاف کر دیتی ہیں اتنی زیادہ تعداد میں ہوتی ہیں تو پھر دوڑے ہوئے آئے دعا کے لیے کہا حضرت موسی علیہ السلام نے دعا کی تو وہ تکلیف بھی اللہ نے دور فرما دی پھر انہوں نے غلہ جو محفوظ کیا کہ اب تو ہمارے پاس بڑا غلہ آ گیا تو اللہ نے گھن کے کیڑے بھیج دیے وہ سا ان کی سارا جو غلہ محفوظ کیا ہوا تھا وہ خراب ہونے لگا وہ پھر بھاگے ہوئے آئے حضرت موسی علیہ السلام نے پھر دعا کی اللہ نے وہ تکلیف دور فرما دی یہ پھر اسی طرح سرکشی میں مصروف رہے پھر اسی طرح بھئی مینڈکوں کا عذاب بھئی اتنے زیادہ اتنے زیادہ مینڈک ہر چیز میں مینڈک بھئی حتی کہ کہتے ہیں یہ بات کرنے کے لیے منہ کھولتے تھے مینڈک پھودک کر منہ میں پہنچ جاتے تھے بھئی اتنی کثرت سے اتنی کثرت سے ہر چیز میں کپڑوں میں برتنوں میں ہر جگہ بستروں پر ہر طرف اور پھر حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آئے دعا ادھر خاص کی انہوں نے دعا کی تو اللہ نے یہ تکلیف بھی دور فرما دی انہوں نے پھر اسی طرح وعدہ توڑ دیا پہلے کہتے تھے ہم راہ راست پر آ جائیں گے پھر اسی طرح سرکشی کر رہے تھے پھر اس کے بعد بھئی خون کا عذاب بھئی وہ جو بھی پانی لیتے پینے کے لیے کسی برتن میں یا منہ میں ڈالتے فورا وہ خون بن جاتا بھئی خون بن جاتا وہیں سے بنی اسرائیل والے پانی لیتے تو ان کا پانی ٹھیک رہتا یہ پانی لیتے تو وہ خون بن جاتا حتی کہ کہتے ہیں بنی اسرائیل اتنے تنگ آئے بنی اسرائیل والے کو کہتے بھئی اپنے منہ سے پانی لے کر ہمارے منہ میں ڈال دو پیاس کی شدت اور تکلیف کی وجہ سے وہ بنی اسرائیلی کے منہ میں تو وہ پانی رہتا تھا وہ اس کے منہ میں پانی ڈالتا تو وہ خون بن جاتا تھا بھئی فورا ہی پھر دعا کے لیے آئے تو پھر اللہ نے ان تکالیف کو دور فرما دیا لیکن یہ اسی طرح اپنی سرکشی پر رہے بھئی اسی کا ذکر آ رہا ہے واخذناهم بالعذاب لعلهم یرجعون اور ہم نے ان کو عذاب میں گرفتار کر لیا تاکہ یہ رجوع کر لیں وقالوا اور انہوں نے کہا یا ایها الساحر اے جادوگر بھئی یہ ساحر کا لفظ آیا اے جادوگر یہ کوئی مذاق کے طور پر یا استہزاء کے طور پر نہیں ساحر ان کے ہاں بڑے عالم کو کہا جاتا تھا کس کو کہا جاتا تھا ان کے ہاں جو سب سے بڑا علم جس کو وہ شمار کرتے تھے جادو کو شمار کرتے تھے تو تعظیم کے طور پر وہ یہ کہہ رہے ہیں یا ایها الساحر اے ساحر یعنی اے عالم ادع لنا ربک آپ دعا کیجیے ہمارے لیے اپنے پروردگار سے بما عهد عندك بسبب اس کے جو عہد کر رکھا ہے اس نے عندك آپ کے نزدیک یعنی جو آپ سے عہد کر رکھا ہے آپ اپنے پروردگار سے ہمارے لیے دعا کیجیے بوجہ اس عہد کے جو اللہ نے آپ سے کر رکھا ہے یعنی وہ جو آپ کو نبوت دے رکھی ہے وہ نبوت جو آپ کو دے رکھی ہے اس کے ذریعے ہمارے لیے دعا کیجیے اننا لمحتدون بے شک ہم البتہ لمحتدون راہ راست پر آ جائیں گے ہدایت یافتہ ہو جائیں گے ہدایت پر آ جائیں گے سیدھی راہ پر آ جائیں گے وقالوا یا ایها الساحر اور کہا انہوں نے اے ساحر ادع لنا ربک بما عهد عندك آپ دعا کیجیے ہمارے لیے اپنے پروردگار سے اس کے ذریعے جو آپ سے سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے جو عہد کر رکھا ہے اننا لمحتدون بے شک البتہ ہم ہدایت راہ راست پر آ جائیں گے فلما کشفنا عنهم العذاب اذا هم ينکثون پس جب ہم نے دور کر دیا ان سے عذاب کو اذا هم ينکثون نقت ینکس کے معنی وعدہ توڑنا اذا هم ينکثون تو فورا ہی وہ وعدہ توڑ دیتے فورا ہی وہ وعدہ پس فلما کشفنا پس جب ہم دور کر دیتے ہیں ان سے عذاب کو تو فورا ہی وہ وعدہ توڑ دیتے ونادا فرعون فی قومه اور نادا ینادی کا معنی پکارنا ونادا فرعون فی قومه اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں یا یوں ترجمہ کریں اور منادی کروائی فرعون نے اپنی قوم میں قال یا قومی اس نے کہا اے میری قوم یا قومی یہ آخر سے یا حذف ہوئی ہے ممی کا کسرہ اس پر دلالت کر رہا ہے قال اس نے کہا یا قومی اے میری قوم الیس لی ملک مصر کیا نہیں ہے میرے لیے ملک مصر کی بادشاہی الیس لی ملک مصر کیا نہیں ہے میرے لیے مصر کی بادشاہی وھذه الانهار تجری من تحتی اور یہ نہریں بہتی ہیں میرے نیچے سے یہ نہریں میرے بہتی ہیں من تحتی میرے نیچے سے ای من تحت قصوری یعنی میرے محلوں کے نیچے سے کیا مراد ہے میرے نیچے سے بہتی ہیں کیا مراد کیا ہے میرے محلوں کے نیچے سے بہتی ہیں بھئی فرعون کی بڑی حکومت تھی اس نے دریا سے باقاعدہ نہریں نکلوا رکھی تھی جو اس کے محل کے باغات میں سے گزرا کرتی تھی تو اسی کا ذکر کر رہا ہے کہنے لگا اے میری قوم کیا نہیں ہے میرے لیے مصر کی بادشاہی وھذه الانهار تجری من تحتی اور یہ نہریں میرے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہیں افلا تبصرون کا پس تمہیں دکھائی نہیں دیتا ام انا خیر من ہذا الذی ہو مہین ام بمعنی بلکہ ہے بلکہ میں بہتر ہوں اس شخص سے الذی ہو مہین جو وہ جو حقیر ہے بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں جو کہ حقیر ہے مہینہ ہے ولا یکاد یبین کادا یکادو کےمعنے قریب ہونے کے یبین ابانا یبین کےمعنے بیان کرنے کے اور یہ قریب نہیں کہ بیان کر سکے بیان یعنی واضح بات واضح بات یہ واضح بات نہیں کر سکتا یہ شخص تو حضرت موسی علیہ السلام کی زبان میں کچھ لکنات تھی لکنات بچپن میں آپ واقعہ تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا کہ فرعون کو نجومیوں نے بتلا دیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہوگا بنی اسرائیل میں جو تمہاری ساری سلطنت کو تباہ کر دے گا تمہاری حکومت ختم ہو جائے گی تو اس نے حکم دیا تھا کہ جو بھی بچہ پیدا ہو بنی اسرائیل میں اس کو قتل کر دیا جائے تو پھر جب حضرت موسی علیہ السلام پیدا ہوئے ان کی والدہ حاملہ ہوئیں تو وہ چھپ کر رہتی تھی کسی کو خبر ہی نہ ہونے دی کہ میں حاملہ ہوں اور جب بچے کو جنم دے دیا تو اب خوف تھا کہ کہیں فرعون کو پتہ نہ لگ جائے پتہ لگ جائے تو اسی وقت قتل کر دیتے تھے وہ بچے کو تو چنانچے وہ بچے کو ایک ٹوکری میں رکھا اور دریا میں بہا دیا اور اللہ کی قدرت وہ ٹوکری جو تھی وہ بہتے بہتے وہ اسی فرعون کے جو محل کی طرف جو نہریں جا رہی تھی اسی میں چلی گئی بھئی اور ساتھ اپنی چھوٹی بیٹی کو بھیجا کہ دیکھتی رہنا یہ کدھر کو جاتی ہے ٹوکری تو حضرت موسی علیہ السلام کی بہن دیکھتی جا رہی تھی وہ ٹوکری فرعون کے محل میں چلی گئی اور پھر وہاں اس فرعون کی بیوی نے اس کو بچے کو دیکھ کر اٹھا لیا اور پھر فرعون اتنا چالاک تھا پھر بھی اس کو خطرہ تھا کہ کہیں یہ وہی بچہ نہ ہو جس کے بارے میں مجھے نجومیوں نے بتایا ہے چنانچے اس نے بیوی کی وجہ سے بچہ رکھنے کی اجازت تو دے دی بیوی نے کہا کہ میں رکھوں گی اس بچے کو تو اتنا خوبصورت بچہ ہے لیکن فرعون نے پھر کیا کیا کچھ تھوڑا سا ذرا حضرت موسی علیہ السلام بیٹھنے کے قابل ہوئے تو کہا کہ میں تجربہ کر لیتا ہوں پتہ لگ جائے کہیں یہ وہی بچہ نہ ہو چنانچے ایک طرف ان کے سامنے انگارہ رکھ دیا اور دوسری طرف غالباً سونے وغیرہ یا اس طرح کی کوئی چیزیں رکھ دیں کہ اگر یہ وہی بچہ ہوا پھر تو یہ انگارے کو نہیں اٹھائے گا یہ وہ دوسری چیزوں کو اٹھائے گا اور اگر عام بچہ ہوا تو انگارے کی زیادہ ہے خوبصورت ہے سرخ رنگ کا ہے وہ اسی کی طرف ہاتھ بڑھائے گا چنانچے پھر اللہ کی قدرت سے حضرت موسی علیہ السلام نے بھی انگارے کی طرف ہاتھ بڑھایا ایک دم انگارہ اٹھایا اور اس کو منہ میں ڈال لیا اس کی وجہ سے وہ ان کی زبان میں لکنات تھی کچھ لکنات بھئی تو چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے فرعون ولا یکاد یبین کہ یہ تو واضح طور پر بات بھی نہیں کر سکتا یہ تو ولا یکاد یبین یہ تو بات بھی نہیں کر سکتا ٹھیک طور پر اور بعض مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام کی زبان سے وہ لکنات پھر دور فرما دی تھی وہ انہوں نے اللہ سے دعا کی جس کا ذکر قران میں بھی آتا ہے اور پھر اللہ نے پھر وہ دعا قبول فرمائی اور ان کی زبان سے لکنات دور فرما دی تو پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ولا یکاد یبین کہ یہ تو بیان بھی نہیں کر سکتے کہتے ہیں پھر فرعون ویسے ہی بس لوگوں کو ورغلا رہا ہے وہی پچھلی بات یاد کروا رہا ہے اور بطور مبالغہ کے کہہ رہا ہے کہ یہ تو بات بھی نہیں ٹھیک طرح سے واضح طور پر کر سکتے یا معنی یہ کہ یہ تو اپنی بات بھی بیان نہیں کر سکتے یعنی اپنی بات کو ثابت بھی نہیں کر سکتے یہ جو دعوی کر رہے ہیں نبوت کا دعوی کر رہے ہیں توحید کی دعوت لے کر ائے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اس کو یہ ثابت نہیں کر سکتے حالانکہ کتنے مضبوط دلائل دے کر اللہ نے ان کو بھیجا لیکن بس لوگوں کو ورغلانے کے لیے خوب مبالغہ کرتے ہوئے اور اپنی طرف سے جھوٹ بولتے ہوئے باتیں بنا رہا ہے بھئی تو کہتے ہیں ولا یکاد یبین اور یہ تو بیان بھی نہیں کر سکتا فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذہب فلو لا القی علیہ پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر اسورۃ اسورۃ جمع ہے سوار کی سوار کنگن کو کہتے ہیں کنگن اور اس زمانے میں فرعون جو تھا وہ خود بھی سونے کے کنگن پہنتا سونے کی چیزیں پہنتا اور جو جن دربار میں جن لوگوں سے خوش ہوتا جو وہ وزراء وغیرہ ہوتے تھے ان کو بھی وہ سونے کے کنگن پہناتا تھا بھئی ایک شاہی اعزاز کے طور پر تو یہ اسی کا ذکر کر رہا ہے کہ اگر اگر یہ اتنا ہی بڑا ادمی ہے کہ یہ اس کو اللہ نے پیغمبر بنایا ہے تو اس کو سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے گئے تاکہ پتہ چلتا یہ لوگوں میں ممتاز ہوتا پتہ چلتا اللہ نے اس کو بھیجا ہے تو اسی کا ذکر کر رہا ہے فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذہب پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر سونے کے کنگن او جا ء معہ الملائکۃ مقترنین یا آتے ان کے ساتھ فرشتے مقترنین مقترنین ان کے ساتھ اکٹھے مل کر اقترنہ کے کیا معنی ہوتے ہیں ملنے کے ملنے کے اکٹھے مل کر جمع ہو کر ان کے ساتھ فرشتے کیوں نہیں ائے معنی سمجھ میں اگیا بھئی اگر ان کو اللہ نے بھیجا تھا اب یہ پیغمبر ہیں تو ان کو سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے گئے جیسے بڑے بڑے وزراء اور رءسا پہنتے ہیں اور ان کے ساتھ اور اگر اللہ نے بھیجا ہے تو پھر ان کے ساتھ مل کر اکٹھے فرشتے کیوں نہیں ائے ان کی مدد کے لیے معلوم ہوا کہتے ہیں یہ ویسے ہی باتیں کر رہے ہیں اس طرح کی کوئی بات ہے نہیں بھئی فستخف قومہ پس انہوں نے ہلکا کر دیا اپنی قوم کو یعنی مغلوب کر دیا اپنی قوم کو فرعون نے اس طرح کی باتیں کرکے کیا کر دیا اپنی قوم کو مغلوب کر دیا فاعتہ پس انہوں نے اس فرعون کی اطاعت کی ان باتوں سے ساری قوم والے مغلوب ہو گئے پس انہوں نے اس فرعون کی اطاعت کی انہم کانو قوما فاسقین بے شک وہ فاسق لوگ تھے بے شک وہ لوگ تھے ہی فاسق بھئی اللہ فرما رہے ہیں انہم کانوں قوما فاسقین بے شک یہ تھے ہی فاسق لوگ گناہ گار لوگ تو یہ فرعون نے جو کہا یہ جو ذکر ایا ونادا فرعون فی قومہ کہ منادی کروائی فرعون نے اپنی قوم میں یا تو اس نے باقاعدہ ایلچی اور پیغام رساں کو بھیج کر بستی بستی میں اعلانات کروائے ہوں گے یہی باتیں کی ہوں گی یا ان کے جو بڑے بڑے سردار تھے جو بس بستیوں وغیرہ کے سردار رءسا وغیرہ اور یہ بڑے بڑے لوگ تھے ان ساروں کو جمع کر کے کیا کیا ہو سکتا ہے فرعون نے یہ تقریر کی ہو بھئی تو بہرحال ان سب پہ اس نے اثر ڈالا وہ ایک تو ان کو خوف تھا پھر وہ ایک تو وہ لوگ فرعون سے ڈرتے تھے اور دوسرا جیسے اللہ اگے ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ تھے ہی فاسق بھئی تھے ہی اس قسم کے لوگ تو فرعون نے ونادا فرعون فی قومہ اور پکارا فرعون نے منادی کروائی فرعون نے اپنے قوم میں قال یا قوم لیس لی ملک مصر کیا نہیں ہے میرے لیے مصر کی بادشاہت یہا دہر انھار تجری من تحتفی اور یہ نہریں بہ رہی ہیں میرے نیچے سے افلا تبصرون پس کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ام انا خیر من ہذا الذی ہو مہین مہین ولا یکاد یبین بلکہ میں بہتر ہوں اس شخص سے جو حقیر ہے حضرت موسی علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ میں بہتر ہوں اس شخص سے جو حقیر ہے ولا یکاد یبین اور واضح بات بھی نہیں کر سکتا فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذہب پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر سونے کے کنگن او جاء معہ الملائکۃ مقترنین مقترنین یا آتے فرشتے اس کے ساتھ مل کر اکٹھے مل کر اکٹھے ان کے ساتھ آتے ان کی مدد کے لیے فستخف قومہ پس اس نے اپنی قوم کو بے وقوف بنایا فاعتہ پس انہوں نے اس کی اطاعت کی فستخف کا کیا معنی کیا با محاورہ بے وقوف بنایا اپنی قوم کو بھئی سمجھ میں ایا لفظی ترجمہ میں نے بیان کر دیا ہلکا بنانا کسی کو مغلوب کر دینا فستخف قومہ پس اس نے فرعون نے اپنی قوم کو بے وقوف بنایا فاعتہ پس انہوں نے فرعون کی اطاعت کی انہم کانوں قوما فاسقین بے شک وہ تھے ہی فاسق لوگ فلما اسفونا پس جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا فلما اسفو پس جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا نا ہمیں فلما اسفونا پس جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا انتقمنا منہم ہم نے ان سے انتقام لیا ہم نے ان سے بدلہ لیا فاغرقناہم اجمعین پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا فرعون بڑا لشکر لے کر حضرت موسی علیہ السلام کے پیچھے نکلا بنی اسرائیل حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ اور وہ سمندر کے کنارے پہنچے حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے سمندر پر لاٹھی ماری تو بارہ راستے بن گئے بھئی سمندر کے اندر بھئی سمندر کے اندر بارہ راستے بن گئے بھئی کیا وہ منظر ہوگا اندازہ لگائیے یہ دریا تو چند فٹ گہر چند فٹ گہرے ہوتے ہیں کوئی چالیس فٹ ہے کوئی پچاس فٹ ہے کوئی بڑا زیادہ ہوا سو فٹ ہو جائے گا بہت زیادہ بس یہ فٹوں کے حساب سے دریا گہرے ہوتے ہیں اور سمندر سمندر کی گہرائی تو میلوں میں ہوتی ہے بھئی میلوں کے اندر اور پھر اس کے اندر بارہ راستے بن گئے معلوم ہوا درمیان میں راستے پہاڑوں کی طرح پانی ارد گرد کھڑا ہوگا بھئی اور وہ پھر بنی اسرائیل والے سارے بیچ میں سے گزرنے لگے اور گزر رہے ہیں بھئی تو بارہ قبیلے تھے چونکہ اس لیے بارہ راستے بنا دیے اللہ نے ہر قبیلہ ایک ایک راستے پر چل پڑا اور کہتے ہیں اور پانی بھی جو درمیان میں کھڑا تھا اس میں بھی وہ اللہ نے کھڑکیاں وغیرہ بنا دی ایک طرف والے دوسری طرف والے کو دکھائی دے رہے تھے بھئی گزرتے ہوئے چلتے ہوئے چنانچہ بنی اسرائیل والے سارے داخل ہو گئے اندر چلتے بڑھتے چلے جا رہے ہیں راستے پر فرعون سمندر کے پاس پہنچا دیکھا تو منظر دیکھ کر حیران ہوا بھئی پھر بھی عقل نہیں ائی بھئی پھر بھی عقل نہیں ائی اس کو اندازہ لگائیے یہ تعصب ضد اور تکبر کی انتہا کا اندازہ تو لگائیے اس شخص کی جو اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی جسے جس کی کوئی سمجھ اسے نہیں آ رہی بھئی اس نے اپنا سارا لشکر پیچھے ڈال دیا انہی راستوں پر بھئی ادھر بنی اسرائیل والے جب اخری ادمی نکل ایا اور فرعون کا لشکر عین بیچ میں پہنچ چکا ہے سارا تو پھر اس وقت اللہ نے پھر پانی کو مل جانے کا حکم دیا وہ سارے بیچ میں غرق ہو گئے بھئی اور اخری وقت کے اندر جب فرعون نے دیکھ لیا یہ تو سب کچھ مل گیا سارا لشکر برباد ہو گیا سب ڈوب رہے ہیں تو اس اخری وقت کے اندر بھئی وہ ایمان لا رہا ہے کہتا ہے میں موسی اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں بنی اسرائیل کے رب پر تو روایات میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سمندر کی تہ سے خاک اٹھا کر مٹی اور گارہ اٹھا کر اس کے منہ میں ڈال دیے کہ کہیں اللہ اس کے ایمان کو قبول نہ کر لیں بھئی اور اس وقت تک اس وقت کا تو ایمان ویسے بھی مقبول نہیں جب انسان عذاب میں مبتلا ہو جائے انکھوں کے آگے سے پردے ہٹ جائیں موت کی حالت اس پر اجائے اس وقت تک اس وقت کا تو ایمان معتبر ہی نہیں ایمان تو اس سے پہلے کا معتبر ہے تو ساروں کو اللہ نے غرق کر دیا بھئی فلما اسفونا پس جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا انتقمنا منہم تو ہم نے ان سے بدلہ لیا فاغرقناہم اجمعین پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا فج اللهم سلَفًا ومثلاً للآخرين. پس ہم نے ان کو سلف کہتے ہیں گزرے ہوئے لوگ۔ سلف سالِف کی جمع ہے سلف، گزرے ہوئے۔ پس ہم نے ان کو گئے گزرے بنا دیا ومثلاً للآخرين اور نمونہ بنا دیا، مثال بنا دیا للآخرين بعد والوں کے لیے، پیچھے والوں کے لیے۔ پس ہم نے ان کو گئے گزرے بنا دیا، گئے گزرے اور نمونہ بنا دیا پیچھے والوں کے لیے۔ ولما ضرب ابن مریم مثلا اور جب بیان کیا گیا ابنِ مریم کو مثلاً بطور مثال کے إذا قومك منه يصدون تو یکایک آپ کی قوم جو ہے من اس مثال سے یصدون شور مچانے لگے۔ صد یصدّ کے معنی ہوتے ہیں روکنے کے۔ صد یصدّ صد یصدّ کا کیا معنی ہے؟ روکنا، روکنا۔ باب نصرہ سے ہو۔ اور صد یصدّ اگر باب ضربہ ہو تو اس کے معنی ہیں شور مچانے کے بھئی، شور مچانا، چیخنا چلانا۔ ولما ضرب ابن مریم مثلاً اور جب بیان کیا گیا ابنِ مریم یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو مثلاً بطورِ مثال کے، إذا قومك منه يصدون تو اے پیغمبر! آپ کی قوم اس سے شور مچانے لگی۔ بھئی قرآن میں آیا ہے، اللہ فرماتے ہیں اہل مکہ سے خطاب کرتے ہوئے إنكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم إنكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم بے شک تم لوگ اور جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں بھئی۔ وہ جہنم کا ایندھن تم بھی اور جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ایندھن ہیں یعنی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ تو عبداللہ ابنِ زَبَعْری یہ ایک یہودی تھا اور بڑا فصیحُ اللسان تھا۔ بڑا فصیحُ اللسان بڑا زبان آور شخص تھا بھئی۔ تو یہ آیا حضور علیہ السلام سے کہنے لگا اور کہنے لگا مکہ والوں کے سامنے کہ آپ نے تو، آپ تو کہتے ہیں قرآن، اپنے قرآن میں إنكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم کہ تم لوگ اور جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں، اور جن کی عبادت کی جاتی ہے ان میں تو حضرت عیسی علیہ السلام بھی ہیں۔ لوگ ان کی بھی عبادت کرتے ہیں، عیسائی اور حضرت عزیر علیہ السلام بھی ہیں، ان کی بھی لوگ عبادت کرتے ہیں یہودی، کہ یہ اللہ کے بیٹے ہیں؛ اور فرشتے ہیں، ان کی کیا کرتے ہیں؟ یہ عبادت کرتے ہیں تو کیا یہ بھی جہنم میں جائیں گے یہ سارے؟ ان کو تو آپ، ان کا تو بڑا مقام بتلاتے ہیں؛ تو کیا یہ بھی جہنم میں جائیں گے؟ تو مشرکینِ مکہ نے یہ بات سنی تو بڑا شور مچایا بھئی، شور مچانے لگے بھئی۔ چیخنے چلانے لگے بھئی۔ حالانکہ اس آیت میں خطاب تھا اہل مکہ کو بھئی۔ کس کو خطاب تھا؟ اہل مکہ کو خطاب تھا اور اہل مکہ تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے، وہ تو بتوں کی عبادت کرتے تھے؛ تو إنكم وما تعبدون اس سے تم لوگ اور جن کی تم عبادت کرتے ہو یعنی بت مراد ہیں، وہ بت کیا ہیں؟ جہنم کا ایندھن ہیں بھئی۔ جہنم کا ایندھن ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور اگر یہ مات اس میں داخل بھی ہوں، تو بھی مراد یہ ہے آیت کی کہ وہاں بشرطِ عدمِ مانع کی قید معتبر ہے کہ مشرکین اور جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، وہ سارے کے سارے جہنم میں جائیں گے بشرطِ بشرطِ عدمِ مانع، بشرطِ کہ کوئی مانع موجود نہ ہو۔ بشرطِ کہ کوئی مانع موجود نہ ہو، ہاں اگر مانع موجود ہے تو پھر تو بات ہی الگ ہے، اور حضرت حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام اور ملائکہ کے اندر مانع موجود ہے، اور وہ مانع کیا ہے؟ کہ ان کا اللہ کے نزدیک بڑا مقام و مرتبہ ہے بھئی؛ تو یہ مانع یہاں موجود ہے؛ تو اگر مانع موجود، جن میں مانع موجود نہیں وہ مراد ہیں، وہ سارے کس میں جائیں گے؟ جہنم میں جائیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دو جواب ہوئے، ایک جواب یہ کہ اس میں خطاب کس کو ہے؟ صرف اہل مکہ کو خطاب ہے، لہٰذا وہ اس میں داخل ہی نہیں۔ اور اگر ان کو داخل مانا جائے، تو پھر جواب کیا ہے؟ ما کو اپنے عموم پر رکھا جائے، اس سے تمام معبود آ گئے، داخل ہیں اس کے اندر؛ تو پھر کیا جواب ہوگا؟ بشرطِ عدم بشرطِ عدمِ مانع کہ کوئی مانع نہ ہو، شرط یہ ہے کہ کوئی مانع نہ ہو۔ تو یہ عبداللہ ابنِ زَبَعْری جو تھا، اس نے یہ بات بیان کی بھئی مجمع کے اندر، اور وہ لوگ بڑے چیخنے چلانے لگے، شور مچانے لگے، جیسے آپ نے بھی لوگو! دیکھا ہوگا، مجمع ہوں کوئی کا کوئی بات کر دے، جو اس سارے جس کی تائید کرنے والے ہوں، تو سارے شور مچانا شروع کر دیتے ہیں بھئی؛ تو اسی طرح انہوں نے بھی شور مچانا شروع کر دیا، حالانکہ کوئی ایسی بات ان کے پاس نہیں تھی بھئی۔ تو اور پھر یہ جو عبداللہ ابنِ زَبَعْری ہیں، پھر ان کو اللہ نے بعد میں اسلام لانے کی توفیق نصیب فرمائی بھئی، رضی اللہ تعالی عنہ۔ تو اللہ وہی ذکر فرما رہے ہیں ولما ضرب ابن مریم مثلا اور جب بیان کیا گیا ضربہ کے کیا معنی؟ بیان کرنے کے۔ ولما ضرب ابن مریم مثلا اور جب ابنِ مریم کو بطورِ مثال کے ذکر کیا گیا إذا قومك منه يصدون تو یکایک آپ کی قوم اس مثال سے منہو کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ مثل کو۔ تو اچانک آپ کی قوم اس مثال سے یصدون شور مچانے لگے؛ وقالوا اور انہوں نے کہا آآلہتنا خير أم هو کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟ یعنی عیسی ابنِ مریم۔ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟ ما ضربوه لك إلا جدلا اور بیان نہیں کی وہ مثال انہوں نے آپ کے لیے إلا جدلاً مگر جھگڑے کے طور پر ہی۔ ان کا دلیل وغیرہ تو کوئی تھی نہیں، بس ویسے ہی جھگڑے، بحث مباحثے کے طور پر اس بات کو انہوں نے ذکر کیا تھا بھئی۔ ما ضربوه لك إلا جدلاً بیان نہیں کی انہوں نے وہ مثال آپ کے لیے مگر جھگڑے کے مگر جھگڑے کے طور پر ہی، بل هم قوم خصمون بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑا کرنے والے۔ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑا کرنے والے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ إن هو إلا عبد أنعمنا عليه إن هو نہیں ہے وہ، ہو ضمیر راجع ہے ابنِ مریم کو، یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو۔ اللہ فرما رہے ہیں إن ہو کہ وہ عیسی ابنِ مریم نہیں ہیں الا عبد أنعمنا علیہ مگر ایسے بندے أنعمنا علیہ جن پر ہم نے انعام فرمایا، جن پر ہم نے فضل فرمایا، وجعلناه مثلاً اور بنایا ہم نے ان کو نمونہ لبنی إسرائیل کس کے لیے؟ بنی اسرائیل کے لیے۔ إن ہو إلا عبد أنعمنا عليه عبد نکرہ آیا، أنعمنا اس کے بعد فعل، نکرہ کے بعد فعل اس کے لیے صفت بنتا ہے۔ نہیں ہے وہ، وہ نہیں ہے عیسی ابنِ مریم، مگر ہمارے ایسے بندے جن پر ہم، مگر ایسے بندے جن پر ہم نے فضل فرمایا ہے، وجعلناه مثلاً لبنی إسرائیلا اور بنایا ہے ہم نے ان کو نمونہ بنی اسرائیل کے لیے۔ ولو نشاء لجعلنا منكم ملائكة في الأرض يخلفون ولو نشاء اور اگر ہم چاہیں لجعلنا منکم تو البتہ بنا دیں تم سے ملائکةً فرشتے، بنا دیں یعنی پیدا کر دیں تم سے فرشتے۔ ولو نشاء لجعلنا منکم ملائکةً اور اگر ہم چاہیں تو بنا دیں، پیدا کر دیں تم سے فرشتے في الأرض يخلفون زمین میں يخلفون خَلَفَ يَخْلُفُ کے معنی ہیں ایک کے بعد دوسرے کا آنا، یعنی جانشین ہونا۔ ایک کے بعد، ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا، یعنی اس کا جانشین ہونا۔ في الأرض يخلفون تو زمین میں یکے بعد دیگرے رہیں، زمین میں وہ ایک دوسرے کے جانشین ہوں بھئی، زمین میں وہ ایک دوسرے کے جانشین ہوں۔ اللہ فرما رہے ہیں، اگر ہم چاہیں تو تم سے ہی فرشتوں کو پیدا کر دیں، ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمہاری اولاد کیا پیدا ہو؟ فرشتے پیدا ہوں؛ تو اگر ہم چاہیں تو تم سے ہی فرشتے پیدا کر دیں، یعنی تمہاری اولاد جو ہو وہ کس شکل میں ہو؟ فرشتوں کی شکل میں ہو، في الأرض يخلفون یہ فی الارض کا تعلق يخلفون سے ہے، وہ جانشین بن کر رہیں فی الأرض کس میں؟ زمین میں، یعنی تمہارے بعد وہ زمین میں رہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا، اگر ہم چاہیں تو کیا کر دیں؟ تم سے ہی فرشتوں کو پیدا کر دیں، یعنی تمہاری اولاد کیا ہو؟ فرشتے۔ یا یہ من جو ہے مقابلے کے لیے ہے۔ من، بعضوں نے کون سا بنایا؟ من کو مقابلے کے لیے بنایا۔ اور اگر ہم چاہیں تو بنا دیں منکم تمہارے مقابلے میں فرشتے، تمہیں ختم کر کے تمہارے مقابلے میں کن کو لے آئیں اس دنیا میں؟ فرشتوں کو لے آئیں فی الأرض يخلفون جو زمین میں ایک دوسرے کے جانشین ہوں، ایک دوسرے کے پیچھے رہیں۔ معنی سمجھ میں، دونوں معنی سمجھ میں آ گئے؟ وإنّه لعلوم للساعة فلا تمترن بها واتبعون وإنّه لعلوم للساعة اور بے شک البتہ وہ ہاء ضمیر راجع ہے ابنِ مریم کو، یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو۔ اور بے شک عیسی ابنِ مریم البتہ علم للساعة قیامت کی نشانی ہیں۔ علم بمعنی علم کے ہیں بھئی، علم کا کیا معنی یہاں نشانی کے؟ بے شک وہ البتہ قیامت کی نشانی ہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ فرما رہے ہیں، قیامت کی نشانی ہیں بھئی۔ آپ پڑھ چکے ہوں گے، سن چکے ہوں گے اساتذہ سے بھی کہ روایات میں آتا ہے کہ آخر زمانے کے، قیامت کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام آسمانوں سے تشریف لائیں گے بھئی، ان کو اللہ نے زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا، اور اس وقت وہ آسمانوں پر ہیں، اور قیامت کے قریب وہ تشریف لائیں گے۔ تشریف لائیں گے۔ حضرت عیسی علیہ السلام بتیس سال عمر تھی، جب یہود ان کو قتل کرنے کے لیے آئے بھئی، قتل کرنے کے لیے۔ اور وہ مشورہ کر کے آئے کہ ان کو قتل کرتے ہیں، تو جس کمرے میں حضرت عیسی علیہ السلام تھے، اس میں آدمی داخل ہوا بھئی۔ کہ ان کو پکڑیں، پکڑ کے ان کو سولی پر لٹکائیں۔ وہ آدمی اندر داخل ہوا تو حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ نے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا، اور باہر لوگ انتظار میں ہیں کہ وہ ابھی حضرت عیسی علیہ السلام کو پکڑ کر باہر لائے گا۔ اند، وہ جو شخص داخل ہوا تھا، اس کی صورت اللہ نے حضرت عیسی علیہ السلام والی بنا دی۔ وہ باہر نکلا اور کہنے لگا کہ اندر تو وہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تماری تو تلاش میں آئے ہیں اور تم کہہ رہے ہو اندر نہیں ہے بھئی، اس کو پکڑ لیا بھئی۔ وہ بڑا چیخا چلایا کہ میں تمہارا اپنا ساتھی ہوں، کہتے ہیں نہیں نہیں، ہم پہچانتے ہیں اپنے ساتھی کو۔ اللہ نے ان کے ذہنوں سے بھی نکال دیے کہ یہ سوچیں کہ بھئی ابھی وہ جو ہمارا ساتھی اندر گیا تھا وہ کدھر گیا؟ تو ان کو پکڑ لیا اور پھر ان کو انہوں نے سولی دے دی، قتل کر دیا؛ تو حضرت عیسی علیہ السلام کو بتیس سال کی عمر میں اللہ نے آسمانوں پر اٹھا لیا، اور اس وقت وہ آسمانوں پر زندہ ہیں، اور قیامت کے قریب جب دجال ظاہر ہوگا، تو اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام اس کو ختم کرنے کے لیے تشریف لائیں گے اور پھر اس کو قتل کر دیں گے، ختم کر دیں گے۔ اور اتنے امن و امان والا اور اتنے خوشیوں والا اور اتنے سکون والا اور اتنے اتنی سہولتوں والا زمانہ ہوگا، اتنی آسانی مال و دولت اتنا عام ہو جائے گا، کہ لوگ زکوٰۃ دینے کے لیے کسی فقیر کی تلاش کریں گے کوئی مستحق کی تلاش کریں گے لیکن کوئی ان کو زکوٰۃ لینے والا نہیں ملے گا بھئی۔ زکوٰۃ لیکن یاد رکھیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے وہ اپنی شریعت نہیں نافذ کریں گے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت نافذ کریں گے یعنی سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے آئیں گے بھئی۔ امتی کی حیثیت سے سمجھ میں آیا بھئی امتی۔ چنانچہ بھئی حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو کہیں سے تورات کا کوئی نسخہ ملا آپ اس کو دیکھنے میں مصروف ہیں کہ اچانک حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے پوچھا یہ کیا ہے عمر تمہارے ہاتھ میں؟ کہنے لگا یا رسول اللہ تورات ملی کہیں سے میں اس کو دیکھ رہا تھا۔ حضور علیہ السلام نے بڑی ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ جب قرآن میں لے آیا ہوں تو تورات دیکھنے کی کیا ضرورت ہے اور پھر ناراضگی کے عالم میں آپ فرمانے لگے کہ واللہ اگر اگر میری نبوت میں عیسیٰ موسیٰ علیہ السلام بھی آ جائیں تو ان کو بھی میری ہی شریعت کے اتباع کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوگا ان کو وہ بھی میری شریعت پر چلیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی تو سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور تمام کائنات کو اللہ نے آپ ہی کے لیے تخلیق فرمایا اور آپ کی شریعت تا قیامت ہے اور الحمدللہ ثم الحمدللہ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے بنایا اور پھر اس امت کے اندر بھی اللہ نے ہمیں اہل حق میں سے پیدا کیا اور پھر ان میں اہل حق میں سے بھی اللہ نے ہمیں دین پر چلنے اور اس کو سمجھنے اور سیکھنے کی توفیق نصیب فرمائی۔ کتنے انعامات ہیں انسان سوچے تو باقی دنیاوی نعمتیں تو چھوڑیے اللہ نے صحت دی جسم صحیح دیا بیماریوں سے حفاظت کی اور معذور نہیں بنایا اور کتنی ہی نعمتیں کتنی سہولتیں وہ اور سب سے بڑھ کر پھر یہ جو دین کی نعمت اللہ نے نصیب فرمائی بھئی دعا کرو اللہ ہمیں کامل طریقے سے صحیح طریقے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنے اور ان کو پھیلانے کی توفیق نصیب فرمائے بھئی۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب تشریف لائیں گے بھئی اور دجال کو ختم کریں گے اسی کا یہ ذکر ہے وانا لعلم للساعۃ کہ بے شک وہ قیامت کی نشانی ہیں فلا تمترنہ بہ پس آپ شک نہ کیجیے بہا ھا ضمیر راجع ہے ساعت کو یعنی قیامت کو پس آپ قیامت میں بے شک نہ کیجیے پس آپ قیامت میں شک نہ کیجیے واتبعونی یہاں یا محذوف ہے بھئی یہ نون اور اس کا کسرہ اس پر دلالت کر رہے ہیں بھئی واتبعونی اور تم لوگ میرا اتباع کرو۔ وانہ لعلم للساعۃ اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ ابن مریم جو ہیں البتہ نشانی ہیں قیامت کی فلا تمترنہ بہ پس آپ شک نہ کیجیے بہا ای بالساعۃ کس کے اندر؟ قیامت میں پس آپ قیامت میں شک نہ کیجیے واتبعونی ای واتبعونی اور میری پیروی کیجیے۔ میری پیروی کیجیے۔ تو اگر یہ اللہ ہی کا کلام اللہ ہی کی طرف سے ہے تو معنی یہ ہوگا میری پیروی کیجیے یعنی میری ہدایت کی پیروی کیجیے۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ میری کی پیروی کیجیے یعنی میری ہدایت کی پیروی کیجیے بھئی تو یہ اللہ ہی فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام جو ہیں وہ قیامت کی ہی نشانی ہیں قیامت کے قریب چونکہ ان کا نزول ہوگا تو وہ قیامت کی نشانی ہیں تو اس اعتبار سے ان کو قیامت کی نشانی کہا گیا یا اس اعتبار سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو ہیں وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے اللہ کے حکم سے۔ تو جس طرح وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے تو اللہ فرما رہے ہیں ہم بھی قیامت میں اس طرح لوگوں کو زندہ کریں گے اور یہ واضح نشانی ہے بھئی اس سے ہی اندازہ اگر عیسیٰ علیہ السلام ہمارے حکم سے مردوں کو زندہ کر سکتے ہیں تو ہم بطریق اولٰی مردوں کو زندہ کر سکتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی تو وہ جو مردوں کو زندہ کرتے تھے اس اعتبار سے وہ قیامت کی نشانی ہیں لیکن زیادہ راجح یہی ہے کہ وہ قیامت کی نشانی ہیں اس اعتبار سے کہ وہ قیامت کے قریب دوبارہ آسمان سے نازل ہوں گے اور تشریف لائیں گے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ وہ قیامت کی نشانی ہے فلا تمترنہ بہ پس آپ قیامت میں شک نہ کیجیے واتبعونی اور میرے راستے پر کی پیروی کیجیے ھذا صراط مستقیم بے شک ھذا یہ سیدھا راستہ ہے ھذا صراط مستقیم یہ سیدھا راستہ ہے ولا یصدنکم الشیطان اور تمہیں روک نہ دے شیطان دیکھو صد یصدو آیا بھئی اس کا معنی کیا ہیں روکنے کے اور صد یصدو کے معنی ہیں شور مچانے ولا یصدنکم الشیطان اور شیطان تمہیں روک نہ دے انہ لکم عدو مبین بے شک وہ تمہرا صریح دشمن ہے واضح دشمن ہے۔ ولما جاء عیسی بالبینات اور جب لے کر آئے عیسیٰ علیہ السلام نشانیاں قال قد جئکم بالحکمہ تو کہے فرمایا تحقیق میں لایا ہوں تمہارے لیے حکمت کو میں تمہارے پاس کیا لایا ہوں؟ حکمت لایا ہوں دانائی کی باتیں لایا ہوں ولیبین لکم اور یہ کہ تاکہ میں بیان کروں تمہارے لیے بعض الذی بعض وہ چیزیں تختلفون فیہ جس میں تم لوگ اختلاف کرتے ہو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیا فرمانے لگے لوگوں سے؟ کہ تحقیق میں تمہارے پاس دانائی کی باتیں لے کر آیا ہوں اور یہ کہ بیان کروں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو بعض چیزیں دین کے مسائل وغیرہ جن میں تم اختلاف کرتے ہو ان کو تمہارے سامنے بیان کر دوں ان کی حقیقت بتلا دوں۔ فاتقوا اللہ واطیعون پس اللہ سے تم لوگ ڈرو واطیعون اور اطیعونی میری فرمانبرداری کرو۔ ولما جاء عیسی بالبینات قال قد جئکم بالحکمہ اور جب عیسیٰ علیہ السلام نشانیاں لے کر یعنی معجزات لے کر قال قد جئکم بالحکمہ کہ تحقیق میں تمہارے پاس دانائی کی باتیں لے کر آیا ہوں ولیبین لکم بعض الذی تختلفون فیہ اور تاکہ میں بیان کر دوں تمہارے لیے وہ باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو فاتقوا اللہ واطیعون پس تم اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو ان اللہ ربی وربکم فاعبدوا پس بے شک اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے فاعبدوا پس تم اسی کی عبادت کرو ھذا صراط مستقیم یہ ہے سیدھا راستہ۔ فاختلف الاحزاب من بینہم پس اختلاف کیا گروہوں نے آپس میں۔ کئی گروہوں نے آپس میں کیا کیا ان کے بارے میں؟ اختلاف کیا بھئی یہودی جو تھے جو پہلے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر تھے انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کر دیا پیغمبر ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور قتل تک کا منصوبہ بنایا جیسے میں نے ابھی بات واقعہ ذکر کیا۔ اور خود عیسائیوں نے بھی آپس میں اختلاف کیا جیسے آپ دیکھتے ہیں بعضوں نے کہا کہ وہ خود خدا تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود خدا ہیں بعضوں نے کہا وہ تین میں سے ایک ہیں۔ تین میں سے ایک ہیں تین خدا ہیں ان میں سے ایک ہیں بعضوں نے کہا وہ خدا کے بیٹے ہیں وغیرہ مختلف اختلاف کیے بھئی۔ فاختلف الاحزاب من بینہم پس اختلاف کیا کئی گروہوں نے ان کئی گروہوں نے آپس میں فوویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا من عذاب یوم الیم دردناک دن کے عذاب سے دردناک درد بھرے دن کے عذاب سے پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا من عذاب یوم الیم دردناک دن کے عذاب سے۔ هل ينظرون الا الساعۃ هل ينظرونا نہیں انتظار کرتے ہل ب نفی کے لیے ہے بھئی نفی کے لیے الا کے ساتھ آیا استفہام کے لیے نہیں ہے یہ یہاں حل کس کے لیے ہے؟ نفی کے لیے ہے الا کے ساتھ آیا ہے ہل ينظرون الا الساعۃ نہیں انتظار کرتے وہ نہیں انتظار کر رہے وہ لوگ الا الساعۃ مگر قیامت یہ لوگ تو قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں ان تأتیہم بغتہ یہ کہ وہ آ جائے ان پر اچانک وھم لا یشعرون اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی ان کو شعور بھی نہ ہوگا (یعنی ان کو خبر بھی نہ ہوگی)۔ بغتہ کا معنی ہے اچانک بھئی اچانک۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی دعوت پر دعوت کو نہیں سنتے آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے راہ حق کی طرف نہیں آتے ان کے کام دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ یہ صرف قیامت ہی کے انتظار میں ہیں کہ کسی طرح قیامت آئے اور آ کر ان کو اور ان کو پتہ بھی نہ ہو۔ هل ينظرون الا الساعۃ یہ انتظار نہیں کرتے مگر قیامت ہی کا ان تأتیہم بغتہ وھم لا یشعرون یہ کہ وہ ان پر اچانک آ جائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدو الاخلاء اخلاء جمع ہے خلیل کی خلیل گہرے دوست کو کہتے ہیں الاخلاء یومئذ خلیل کا کیا معنی؟ گہرا دوست بھئی گہرا دوست اور خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں بھئی اللہ نے آپ کو اپنا خلیل قرار دیا بھئی حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ اور کتابوں میں آتا ہے کہ جب اللہ نے آپ کو اپنا خلیل بنا لیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ان کی اللہ کے خوف کی وجہ سے یہ حالت ہو گئی کہ ان کے دل جو دھڑکتا تھا اس سے اس طرح کی آواز آتی تھی اللہ کے خوف کی وجہ سے جیسے کوئی پرندہ یا کبوتر وغیرہ کوئی پھڑپھڑا رہا ہو بھئی تو جیسے کبوتر وغیرہ کے پھڑپھڑانے سے اس کے پروں کی آواز سنائی دیتی ہے سب باقاعدہ طور پر سنتے ہیں اسی طرح آپ کے دل کی آواز جو ہے پاس بیٹھے ہوئے سب لوگ سنا کرتے تھے بھئی۔ الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدو دو گہرے دوست جو ہیں یومئذ اس دن یعنی قیامت کے دن بعضہم لبعض عدو بعض بعض کے دشمن ہوں گے بعض بعض کے با محاورہ ترجمہ کیا کریں گے؟ ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ گہرے دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے الا المتقین سوائے متقیوں کے سوائے متقیوں کے۔ تو گہرے دوست بھی قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے دنیا کے اندر انتہا درجے کی گہری دوستیاں تھیں لیکن قیامت میں ایک دوسرے سے چھپتے پھریں گے کہ کہیں اس کی وجہ سے میں نہ پکڑا جاؤں۔ البتہ متقیوں کی دوستی اور وہ قیامت میں بھی اسی طرح باقی ہوگی۔ الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدو الا المتقین گہرے دوست بھی اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے متقیوں کے۔ یا عبادی لا خوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون یا عبادی ای یا عبادی دال کا کسرا کس پر دلالت کر رہا ہے؟ یاء محذوفہ پر یا عبادی اے میرے بندو! یا عبادی لا خوف علیکم الیوم اللہ فرمائیں گے اے بندوں سے اپنے، اے میرے بندوں! نہ تو خوف ہے تم پر آج کے دن ولا انتم تحزنون اور نہ تم غمزدہ ہو گے۔ نہ تو آج تم پر کوئی خوف ہے، یعنی کسی کسی سزا وغیرہ کا تمہیں کوئی خوف ہے آج اور نہ کسی گزشتہ بات پر تم غمگین ہو گے۔ ماضی کے اعمال پر بھی تم غمگین نہیں ہو گے، کیونکہ تم نیکیاں لے کر آئے ہو۔ یا عبادی لا خوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون۔ اے میرے بندوں، نہ تو کوئی تم پر آج خوف ہے اور نہ تم غمزدہ ہو گے۔ الذین آمنوا بایاتنا وکانوا مسلمین۔ وہ لوگ جو ایمان لائے ہماری آیتوں پر اور وہ فرمانبردار تھے۔ ادخلوا الجنة انتم وازواجكم تحبرون۔ ان سے کہا جائے گا، وہ لوگ جو ایمان لائے اور فرمانبردار تھے، ان سے کہا جائے گا ادخلوا الجنة، داخل ہو جاؤ تم جنت میں، انتم وازواجكم، داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں تحبرون کہ تمہاری عزت کی جائے۔ تحبرون کہ تمہاری عزت کی جائے۔ ادخلوا الجنة انتم وازواجكم تحبرون۔ داخل ہو جاؤ جنت میں، تم اور تمہاری بیویاں، تمہاری عزت کی جائے۔ تو یہ حال واقع ہو رہا ہے بھئی، ما قبل انتم وازواجكم سے، کہ تمہاری عزت اس حال میں کہ تمہاری عزت کی جائے۔ تمہیں خوش، خبرا کے معنی ہوتے ہیں خوش کرنے کے۔ خوش کرنے کے۔ تمہیں خوش کیا جائے، تمہاری عزت کی جائے۔ یطاف علیہم بصحاف من ذہب واقواب۔ یطاف علیہم، گھمائے جائیں گے ان پر۔ یعنی گردش میں آئیں گے ان پر۔ گھمائے جائیں گے ان پر بصحاف۔ صحاف جمع ہے صحفتہ کی، صحفتہ کہتے ہیں پیالے کو اور پلیٹ کو۔ پیالہ، پلیٹ، رکابی۔ یطاف علیہم بصحاف من ذہب۔ گردش میں لائے جائیں گے ان پر سونے کی پلیٹیں، سونے کے پیالے۔ واکواب۔ اکواب جمع ہے کوب کی۔ کوب، کوب کہتے ہیں وہ وہ صراحی یا وہ جام جس کا دستہ نہ ہو۔ صراحی جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ نہیں جانتے۔ صراحی بھئی یہ ایک برتن ہے، نیچے وہ اس کا، لوٹا دیکھا ہے بھئی، لوٹا؟ ہاں اسی لوٹے کی یہ جو حصہ اوپر والا ہے، لوٹے کا منہ تو بڑا ہے۔ صراحی اسی شکل کی ہے، شیشے وغیرہ کی خوبصورت بنی ہوتی ہے اور اس کا منہ اوپر پتلا سا، لمبا سا بنا ہوتا ہے بھئی۔ بڑی خوبصورت بنی گھروں میں عموماً سجاوٹ کے لیے لوگ رکھتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ شیشے وغیرہ کی ہوتی ہے اور تو یہ بعض اوقات دستے والی ہوتی ہے اور بعض اوقات بغیر دستے کے، دستے کے۔ تو جو بغیر دستے کے ہو، یہ صراحی، یہ اسی طرح کوئی یہ جام وغیرہ، یعنی یوں کہیں گلاس بھئی، گلاس جس کا دستہ نہیں ہوتا۔ پیالہ ہے دیکھو، جس میں آپ چائے پیتے ہیں، اس کا دستہ ہوتا ہے، جس سے پکڑتے ہیں اس کو۔ لیکن گلاس کا دستہ نہیں ہوتا۔ تو اس کو کوب کہتے ہیں، یہ جو صراحی ہے بغیر دستے کے یا یہ جو گلاس ہے۔ یطاف علیہم بصحاف من ذہب واکواب۔ گھمائے جائیں گے ان پر سونے کے سونے کے پیالے اور گلاس۔ یا یہ ترجمہ کر لیں، گھمائے جائیں گے ان پر سونے کے پیالے اور صراحیاں۔ وفیها ما تشتہیه الأنفس۔ تو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ گھمائے جائیں گے ان پر سونے کی رکابیاں اور صراحیاں اور گلاس سونے کے، سونا، یرحمک اللہ، سونے کے گلاس بھئی۔ وفیها ما تشتہیه الأنفس۔ اور جنت میں ہوگا ما وہ چیز تشتہیه الأنفس، جس کو چاہیں گے۔ اشتہاء کے معنی خواہش کرنا بھئی۔ جس کے نفس خواہش کریں گے، جس کے جی چاہیں، جس کو جی چاہے گا، جنت میں وہ سب ہوگا اور وہ چیزیں تلذ الأعین، جو آنکھوں کو لذت بخشے، جو آنکھوں کو فرحت دے۔ وفیها ما تشتہیه الأنفس وتلذ الأعین۔ اور جنت میں ہوگا، جس کی نفس خواہش کریں گے اور جس سے آنکھوں کو لذت ہوگی۔ اور سب سے زیادہ لذت جو ہوگی، وہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی ہوگی، جو اللہ جنتیوں کو نصیب فرمائیں گے۔ وأنتم فیها خالدون۔ اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ وتلک الجنة التی أوستموہا بما کنتم تعملون۔ وتلک الجنة، یہی ہے وہ جنت التی أوستموہا، جس کے تم وارث ہوئے ہو۔ أورستموہا، ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ التی کو، اور التی سے کیا مراد؟ جنت۔ جی، تو یہ جنت کی صفت ہے۔ تو یہ ہے وہ جنت، جس کے تم وارث بنائے گئے ہو۔ جس کے تم مالک بنائے گئے ہو۔ بما کنتم تعلمون، بوجہ اس کے جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ باقیہ کون سی ہے؟ باسببیہ ہے۔ بوجہ اس کے جو تم عمل کرتے تھے۔ یہ ہے وہ جنت جس کے تم مالک بنائے گئے ہو، بوجہ اپنے اعمال کے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ہے وہ جنت جس کے تم مالک بنائے گئے ہو، بوجہ اپنے اعمال کے۔ لکم فیہا فاکهة كثیرة منھا تأکلون۔ تمہارے لیے اس میں کثرت سے میوے ہیں، منھا تأکلون کہ ان میں سے تم کھاؤ گے۔ تمہارے لیے اس جنت میں کثرت سے پھل ہیں، کثرت سے میوے ہیں، منھا تأکلون، جن میں سے تم کھاؤ گے۔ جنت میں ایسے ایسے پھل اور ایسے ایسے پھل دار درخت، پھلوں کی بھی ایسی لذت کہ ہر پھل کی اپنی ہی لذت ہوگی اور پھل دار درخت بھی ایسے ہوں گے کہ انسان بھئی اگر کھڑے ہو کر پھل توڑنا چاہے تو کھڑے ہو کر بھی توڑ سکے گا، بیٹھ کر پھل توڑنا چاہے تو بیٹھ کر بھی توڑ سکے گا، لیٹ کر پھل توڑنا چاہے تو لیٹ کر بھی توڑ سکے گا بھئی۔ لکم فیہا فاکهة كثیرة منھا۔ ہمارے گھر ایک پودا تھا بھئی لیموں کا بھئی۔ لیموں کا اور اس پر بہت لیموں لگتے تھے، بہت زیادہ بھئی۔ کثرت سے لیموں لگتے تھے۔ لیکن والد صاحب لیموں توڑنے نہیں دیتے تھے بھئی۔ ایک آدھ کہیں ضرورت ہوئی، توڑ لیا، ٹھیک، لیکن ویسے عام توڑنے نہیں دیتے تھے کہ ان کو لگا رہنے دو بھئی۔ اور بزرگوں کی باتیں کتنی عجیب ہوتی ہیں، ان کی نگاہیں کہاں تک پہنچی ہوتی ہیں، انسان حيران ہوتا ہے۔ فرماتے تھے، اس کو دیکھ کر جنت کی یاد آتی ہے۔ کیونکہ اس میں شاخیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، ہر طرف لیموں لگے ہیں، کوئی کھڑا ہو کر توڑنا چاہے تو بھی توڑ سکتا ہے، بیٹھ کر توڑنا چاہے تو بھی توڑ سکتا ہے، لیٹ کر توڑنا چاہے تو نیچے تک شاخیں ان پہ بھی لیموں لگے ہیں، وہاں سے بھی توڑ سکتا ہے، تو اس کو دیکھ کر جنت کی یاد آتی ہے بھئی۔ تو بزرگ بزرگوں کی نظریں ہمیشہ ایسی چیزوں کی طرف رہتی ہیں جو آخرت کی یاد دلانے والی ہوں ہر لمحہ بھئی۔ لکم فیہا فاکهة كثیرة منھا تأکلون۔ پس تمہارے لیے اس میں کثرت سے پھل ہوں گے، جن میں سے تم کھاؤ گے۔ إن المجرمین في عذاب جهنم خالدون۔ قرآن کا طریقہ ہے، جہاں جنتیوں کا ذکر آتا ہے، وہاں جہنمیوں کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے، کہ صرف جنت کے احوال سن کر کہیں انسان جو ہے وہ وہ اللہ کے عذاب سے غافل نہ ہو جائے بھئی اور ہر وقت کوشش کرتا رہے گناہوں سے بچنے کی اور نیک اعمال کرنے کی۔ اور اسی طرح جہاں جہنمیوں کا ذکر آتا ہے، وہاں پھر اللہ فورا جنتیوں کا بھی ذکر فرما دیتے ہیں کہ کہیں جنت جہنمیوں کے ذکر سے خوف کی وجہ سے، خوف کی وجہ سے اہل ایمان کے دل ہی نہ پھٹ جائیں، تو پھر فوراً ہی جنتیوں کا تذکرہ کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جہاں جہنم کا ذکر آتا ہے تو جنت کا ذکر کر دیا جاتا ہے، جہاں جنت کا ذکر آتا ہے تو جہنم کا ذکر کر دیا جاتا ہے۔ تو اب جہنمیوں کا ذکر شروع ہوا بھئی۔ إن المجرمین في عذاب جهنم خالدون۔ بے شک مجرم لوگ، بے شک مجرم لوگ فی عذاب جهنم خالدون، جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ لا يفتر عنہم و ہم فیہ مبلسون۔ افتر یفتر کے معنی تکلیف کا کم کرنا۔ تکلیف کا کم کرنا۔ لا يفتر عنہم، وہ عذاب ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا وهم فیہ مبلسون، اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گے۔ ناامید ہو کر اس میں پڑے رہیں۔ أبلاسه یبلسو کے معنی ہوتے ہیں لاجواب ہو کر خاموش ہو جانا۔ أبلاسه یبلسو کے کیا معنی ہیں؟ لاجواب، لغوی ترجمہ بتلا رہا ہوں، لاجواب ہو کر خاموش ہو جانا۔ تو یہاں مایوس ہونے کے معنا میں ہے، کیونکہ لاجواب ہو کر خاموش ہو جانا بھی مایوسی ہی کی کیفیت ہے ایک بھئی۔ کیا ہے؟ مایوسی کی ایک کیفیت ہے۔ لا يفتر عنہم، وہ عذاب ان سے کم نہیں کیا جائے گا وهم فیہ مبلسون، اور وہ اس میں مایوس رہو کر رہیں گے۔ وما ظلمناہم ولكن كانوا ہم الظالمین۔ اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا، لیکن یہ تھے ہی ظلم کرنے والے۔ ولكن كانوا ہم الظالمین، لیکن یہ تھے ہی ظلم کرنے والے۔ یہ خود ہی کیا تھے؟ یہ خود ہی ظلم کرنے والے تھے۔ اللہ فرما رہے ہیں ہم نے ان پر یہ جہنم میں ہیں، ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا، یہ خود اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔ بھئی کانوا ہم الظالمین، ترکیب یاد رکھنا۔ کانوا کے اندر ساتھ جو یہ و ہے، یہ ضمیر بھئی جمع مذکر غائب کی، یہ کان کا اسم ہے۔ اور الظالمین کان کی خبر ہے، اس لیے منصوب ہے، ورنہ تو الظالمون ہونا چاہیے تھا۔ تو الظالمین کیا ہے؟ کان کی خبر۔ اور یہ جو درمیان میں ہم آیا، یہ فصل ہے، ضمیر فصل ہے۔ یہ کب لاتے ہیں؟ جب خبر بھی معرفہ ہو یا اس میں تفضیل مستعمل بمینہو۔ تو یہاں اس وقت یہ فصل لے آتے ہیں بھئی۔ تو یہ صورت ضمیر والی ہے، لیکن درحقیقت یہ ضمیر نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ کیونکہ اگر اس کو ضمیر بنائیں گے تو پھر یہ مبتدا ہوگا، الظالمین اس کی خبر اور مبتدا خبر مل کر پھر یہ پورا جملہ کیا بنے گا؟ کان کی خبر۔ پورا جملہ، کبھی جملہ بھی تو پورا خبر بنتا ہے، تو پورا جملہ خبر بنتا ہے کان کی۔ تو اس صورت میں ہم کو ہم کیا بناتے؟ مبتدا اور الظالمین کو کیا بناتے؟ خبر اور خبر تو مرفوع ہوتی ہے، تو الظالمین تو منصوب ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا، یہاں یہی ترکیب کرنا پڑے گی کہ ہم کو فصل ہی بنانا پڑے گا اور الظالمین کو کان کی خبر بنائیں گے، تبھی اس کی نصب کی وجہ بیان ہوگی۔ چلیے بس، هذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
131 approved lectures · 91 of 131