Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-124

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ وہ املی لہم ان کیدی متین ام تسالہم اجرا فہم من مغرم مثقلون۔ ام عندہم الغیب فہم یکتبون۔ گذشتہ سبق کے اخر میں اخری ایتوں کے اندر ذکر چل رہا تھا کہ قیامت کے دن اللہ پاک ظاہر فرمائیں گے اور اسے دیکھ کر تمام اہل ایمان سجدے میں گر جائیں گے جبکہ مشرکین و منافقین سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن وہ سجدہ نہیں کر سکیں گے۔ ان کی کمر ان کی پشتیں جو ہیں تختی کی طرح سخت ہو جائیں گی۔ اور اور یہ بھی اپ نے پڑھا اللہ فرما رہے ہیں کہ ان کی انکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی اور دنیا کے اندر ان کو سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا جبکہ وہ صحیح سالم تھے تو اس وقت سجدہ نہیں کرتے تھے تو اس وقت بھی سجدہ نہیں کر سکیں گے۔ پھر اگے اللہ نے فرمایا فذرنی ومن یکذب بہذا الحدیث کہ اے پیغمبر اپ مجھے چھوڑ دیجیے اور جو جھٹلاتا ہے اس کلام کو میرے اس کلام کو جو جھٹلاتا ہے اسے مجھے اور اسے چھوڑ دیجیے میں خود اس سے نبٹ لوں گا۔ سنستدرجہم من حیث لا یعلمون۔ ہم اہستہ اہستہ اس کو لے جائیں گے اس طور پر کہ اسے علم بھی نہیں ہوگا اسے پتہ بھی نہیں چلے گا ہم اہستہ اہستہ اسے جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ وہ املی لہم وہ املی لہم ان کیدی متین اور میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں۔ املا یملی کے معنی ڈھیل دینے کے۔ وہ املی لہم اور میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں۔ یعنی اللہ فرما رہے ہیں میں ایک دم ان پر عذاب نازل نہیں کر رہا ان کو فورا ان پر گرفت نہیں کر رہا بلکہ ان کو ڈھیل دے رہا ہوں۔ وہ املی لہم اور میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ان کیدی متین یقینا میری تدبیر مضبوط ہے۔ کید تدبیر کو کہتے ہیں بھئی۔ ان کیدی متین یقینا میری تدبیر مضبوط ہے۔ ام تسالہم اجرا کیا اپ سوال کرتے ہیں ان سے اجر کا یعنی معاوضے کا۔ کیا اپ ان سے معاوضہ مانگ رہے ہیں فہم من مغرم مثقلون۔ پس یہ جو ہیں تاوان سے مثقلون بوجھل ہو رہے ہیں۔ یہ اپ کی دعوت کیوں نہیں قبول کرتے کیا وجہ ہے اتنی واضح باتیں اتنے دلائل اتنی نشانیوں کے بعد یہ اپ کی دعوت کیوں نہیں قبول کرتے کیا اپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کر رہے ہیں اس کا جس کے تاوان سے وہ بوجھل ہو رہے ہوں اس وجہ سے وہ قبول نہ کر رہے ہوں حالانکہ ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ ام تسالہم اجرا فہم من مغرم مثقلون۔ مغرم تاوان بھئی۔ مثقلون بوجھل ہو رہے ہیں یہ۔ ام تسالہم اجرا کیا اپ ان سے کوئی معاوضہ مانگ رہے ہیں فہم من مغرم مثقلون پس یہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں یعنی وہ ان پر بوجھ بنا ہوا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ ام عندہم الغیب یا ان کے پاس غیب ہے یعنی غیب کی خبریں ہیں فہم یکتبون پس وہ اس کو لکھ لیتے ہیں۔ یہ کس طرح کہتے ہیں اللہ کے پیغمبر نہیں ہیں یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اور کیا ان کے پاس غیب کی خبریں ہیں جن کو یہ لکھ لیتے ہیں؟ یہ غیب کی جو باتیں کر رہے ہیں اور اس کے دعوے کر رہے ہیں؟ ام عندہم الغیب فہم یکتبون کیا ان کے پاس غیب کی باتیں ہیں پس یہ اس کو لکھ لیتے ہیں فصبر لحکم ربک پس اپ صبر کیجیے اپنے پروردگار کے حکم کا۔ اپ اپنے پروردگار کے حکم کے بارے میں صبر کیجیے۔ ولا تکن کصاحب الحوت اور اپ نہ ہو جائیے کصاحب الحوت جیسے کہ مچھلی والا تھا۔ حوت مچھلی کو کہتے ہیں۔ صاحب الحوت مچھلی والا۔ اور یہاں اس کے بعد میم ایا میں پہلے بتلا چکا ہوں کہ یہاں پر اس کے کنارے پر بھی وقف لازم لکھا ہے جب بھی تلاوت کیجیے ان چیز کا بالخصوص خیال رکھیے بھئی تو یہاں وقف ضروری ہے۔ پس اپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجیے ولا تکن کصاحب الحوت اور اپ مچھلی والے کی طرح نہ ہو جائیے یعنی ان کی طرح حضرت یونس علیہ السلام کی طرح بے صبری کا مظاہرہ نہ کیجیے۔ ان کی طرح نہ ہو جائیے حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ پیچھے گزر چکا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو بتلا دیا کہ تین دن میں عذاب ائے گا انہوں نے دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا تو تین دن میں عذاب ائے گا اور پھر یہ اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر ہی بستی سے نکل گئے اور ادھر بستی والوں نے عذاب کے اثار دیکھے تو سارے بستی والے بستی سے نکل ائے بچوں جانوروں کو سب کو ساتھ لے کر نکل ائے اور ساروں نے اہ و بکا شروع کر دی اللہ کے سامنے رو رہے ہیں چلا رہے ہیں معافیاں مانگ رہے ہیں تو اللہ نے عذاب کو ان پر سے ٹال دیا اور ادھر حضرت یونس علیہ السلام پھر اگے چلے گئے وہاں سے کشتی کے اندر اور وہاں سے پھر ان کو ایک مچھلی نگل گئی۔ اور پھر بعد میں انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں تسبیح پڑھی اللہ کی لا الہ الا انت سبحانک انی کنتم من الظالمین۔ چنانچہ پھر مچھلی نے بعد میں ان کو اللہ کے حکم سے ایک چٹیل میدان میں اگل دیا۔ اور پھر وہاں اللہ نے ان کی مدد فرمائی حالانکہ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے وہ بہت کمزور ہو گئے تھے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجیے ولا تکن کصاحب الحوت اور مچھلی والے جیسے نہ ہویئے ان کی طرح نہ ہو جائیں یعنی ان کی طرح بے صبری نہ کریں۔ اذ نادا وہوا مظلوم۔ جبکہ انہوں نے پکارا وہوا مظلوم اور وہ غم سے گھٹے ہوئے تھے۔ کغم میں نے بتایا کہ دل جب غم سے بھرا ہو بھئی۔ اذ نادا جب انہوں نے پکارا وہوا مظلوم اس حال میں کہ وہ غم سے گھٹ رہے تھے۔ مچھلی کے پیٹ میں تھے بھئی پریشان تھے۔ اور تو اس وقت انہوں نے اللہ کو پکارا اور وہ تسبیح پڑھی تو اس حال میں کہ وہ غم میں گھٹ رہے تھے۔ لول ان تدارکہ نعمت من ربہ اگر نہ پا لیتے ان کو نعمت ان کے رب کی طرف سے یعنی فضل ان کے رب کی طرف سے۔ اگر اللہ کا فضل ان کو نہ پا لیتا یعنی اللہ کا فضل ان کو نہ سنبھال لیتا معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی۔ لول ان تدارکہ نعمت من ربہ اور اگر ان کے رب کا فضل ان کو نہ سنبھال لیتا لنذب بالعراء تو البتہ وہ ڈال دیے جاتے بالعراء چٹیل میدان میں۔ عراء چٹیل میدان بھئی جہاں پر درخت وغیرہ نہ ہوں صاف میدان۔ لنذب بالعراء تو البتہ وہ ڈال دیے جاتے چٹیل میدان میں وہوا مذموم اس حال میں کہ وہ ملامت زدہ ہوتے۔ مزموم زم سے ہے زم مذمت کرنا۔ تو وہ ڈال دیے جاتے چٹیل میدان میں وہوا مذموم اس حال میں کہ وہ ملامت زدہ ہوتے یعنی برے حال میں ہوتے کیا ہوتے؟ اگر رب اللہ کا فضل ان کو نہ سنبھال لیتا تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیے جاتے اور برے حال میں ہوتے لیکن اللہ نے ان کی اس موقع پر بھی مدد فرمائی اور ان کو اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لیا اللہ کی طرف سے فورا مدد اگئی۔ لول ان تدارکہ نعمت من ربہ لنذب بالعراء وہوا مذموم اگر نہ سنبھال لیتا ان کو ان کے رب کا فضل تو البتہ وہ چٹیل میدان میں برے حال میں ڈال دیے جاتے فجتباہ ربہ فجعلہ من الصالحین۔ پس چن لیا ان کو ان کے پروردگار نے پس ان کو کر دیا من الصالحین نیک لوگوں میں سے۔ پس اللہ نے ان کو اس وقت بھی اللہ کے فضل نے ان کی دستگیری کی اللہ نے ان کو چن لیا اور ان کو نیک بندوں میں شامل فرما دیا۔ وان یکاد الذین کفروا لیزلونک۔ اور قریب ہے کہ وہ لوگ ان ان اصل میں انا تھا مخفف من الثقلیہ ہے بھئی۔ وان یکاد الذین کفروا اور یہ کہ قریب قریب ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا لیزلونک البتہ وہ اپ کو پھسلا دیں۔ زلصق کے معنی پھسلنے کے ازلصق پھسلانا، گرانا۔ اور قریب ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا لیزلونک البتہ اپ کو پھسلا دیں ابصارہم اپنی نگاہوں سے اپنی انکھوں سے لما سمعوا الذکر جب وہ سنتے ہیں ذکر کو یعنی قران کو۔ قریب ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا جب وہ قران کو سنتے ہیں تو اپ کو اپنی نگاہوں کے ذریعے پھسلا دیں اپنی نگاہوں کے ذریعے اپ کو ڈگمگا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مشرکین مکہ ایمان تو نہیں لاتے تھے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم قران پڑھتے تو اس وقت وہ اتنی تیز اور اتنی سخت نظروں سے اپ کو گھورتے غصے کے عالم میں کہ یوں لگتا تھا کہ نگاہوں سے ہی اپ کو گرا دیں گے بھئی اپنے غصے انکھوں کے غصے کے ذریعے ہی بھئی۔ تو معنی سمجھ میں ایا بھئی؟ ویقولون اور وہ کہتے ہیں انہ مجنون کہ بے شک یہ البتہ مجنون ہیں۔ بے شک یہ شخص البتہ مجنون ہے دیوانہ ہے۔ یعنی دیکھو نگاہوں انکھوں کے ذریعے بھی سارے اتنے سخت غصے والی نگاہوں سے اپ کو دیکھتے ہیں کہ یوں لگتا ہے انکھوں کے ذریعے یہ اپ کو گرا دیں گے اتنے غضب سے اپ کو دیکھتے ہیں اور پھر مزید برا زبان سے بھی تکلیف دیتے ہیں یہ بھی ساتھ کہتے ہیں کہ یہ ادمی تو مجنون ہے۔ تو انکھوں سے گرانے کا، پھسلانے کا کیا معنی کیا میں نے؟ غصے سے اور غضب سے جو اپ کو دیکھتے تھے تو یوں لگتا تھا ان سے گرا دیں گے اپ کو۔ جی تو یہ محاورہ ہے بھئی۔ یا یہ معنی بعضوں نے کیا۔ کہ بھئی بعض لوگوں کی نظر بڑی لگتی ہے۔ بعض لوگوں کی نظر بڑی لگتی ہے اور کوئی کسی کے پاس اچھی چیز نظر ائے تو فورا ان کو ان کی نظر لگ جاتی ہے بلکہ بعض تو باقاعدہ پورے علاقے میں مشہور ہوتے ہیں مخالفین باقاعدہ لے کر اتے ہیں کہ دوسرے کی کوئی چیز ہو یا کچھ ہو اس پہ نظر لگاؤ تاکہ وہ خراب ہو جائے۔ تو یہ ان میں بھی بعض لوگ ایسے تھے تو یہ باقاعدہ ان کو لے کر اتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر لگائیں اور اپ جانتے ہیں کہ نظر برحق ہے بھئی نظر لگتی ہے۔ تو یہ ان وہ مراد ہیں بعضوں نے یہ ترجمہ کیا۔ کہ وہ اپ کو نظروں کے ذریعے پھسلا دیں یعنی نظر لگا دیں اپ لوگوں اپ کو۔ وان یکاد الذین کفروا لیزلونک بوابصارہم لما سمعوا الذکر ویقولون انہ لمجنون۔ اور قریب ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا البتہ پھسلا دیں اپ کو اپنی نگاہوں سے جب وہ ذکر کو سنتے ہیں ویقولون اور کہتے ہیں کہ یقینا یہ مجنون ہے وما ہو الا ذکر للعالمین۔ اور نہیں ہے یہ قران مگر نصیحت للعالمین جہان والوں کے لیے۔ یہ قران نہیں ہے مگر نصیحت للعالمین تمام جہانوں کے لیے۔ یہ قران نہیں ہے مگر نصیحت للعالمین تمام جہانوں کے لیے۔ یہ تو مار الا کے ساتھ ترجمہ میں نے کیا نہیں ہے یہ قران مگر نصیحت للعالمین جہان تمام جہانوں کے لیے یعنی جہان والوں کے لیے۔ جی با محاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟ ہاں شاباش یہ قران تو نصیحت ہی ہے جہان جہانوں کے لیے یعنی تمام جہان والوں کے لیے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحاقہ مل الحاقہ وما ادراک مل الحاقہ۔ کذبت ثمود واد عاد بالقارعة۔ فاما ثمود فاہلکوا بالطاغیة۔ واما عاد فاہلکوا بریح صرصر عاتیة۔ الحاقہ مل الحاقہ۔ الحاقہ وہ چیز جو حق ہونے والی ہے۔ وہ چیز جو حق ہونے والی ہے۔ مراد قیامت ہے قیامت بھئی۔ تو بعضوں نے یہ ترجمہ کیا بھئی۔ یہ انتہائی فصیح و بلیغ صورتیں ہیں جو بڑی مشکل الفاظ پر اور فصاحت کے انتہا تک پہنچی ہوئی ہیں، اور کسی دوسری زبان میں ان کے اچھے بہترین ترجمے کا حق ادا کرنا بھی نہایت مشکل کام ہے بھئی! اس پوری طور پر ان ترجمہ ان کے مفہوم کو بھی پورے طور پر اسی طرح مؤثرانہ انداز میں کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا بھی ا بڑا مشکل کام ہے بھئی! الحاقۃ پہلا کیا ترجمہ میں نے کیا؟ وہ چیز جو حق ہونے والی ہے یا یوں آسان ترجمہ، وہ چیز جو ہونے والی ہے، وہ چیز جو ہو کر رہے گی، جس کا ہونا برحق ہے، وہ چیز جو ہو کر رہے گی، اور کیا مراد ہے اس سے؟ قیامت مراد ہے۔ اور بعضوں نے اور ترجمہ کیا، وہ حقیقت جو ہو کر رہے گی بھئی! وہ حقیقت جو الحاقۃ وہ حقیقت جو ہو کر رہے گی، م الحاقۃ کیا ہے وہ حقیقت جو ہو کر رہے گی؟ استفہام ہے۔ تو الحاقۃ ہے مبتدا یاد رکھیے، اور ملحقہ اس کی خبر ہے۔ وہ جو حق، وہ حقیقت جو ہو کر رہے گی، کیا ہے وہ حقیقت جو ہو کر رہے گی؟ یہ ہے پورا جملہ بھئی! الحاقۃ ملحقہ، وما ادراک ملحقہ اور آپ کو کیا خبر؟ وما ادراک اور آپ کو کیا خبر؟ آپ کو کیا پتہ؟ ملحقہ کیا ہے وہ حقیقت جو ہو کر رہے گی؟ وما ادراک ملحقہ اور آپ کو کیا پتہ، وہ حقیقت کیا ہے جو ہو کر رہے گی؟ وہ حقیقت جو ہونے والی ہے، یا یوں ترجمہ کیجیے، الحاقۃ ملحقہ وہ حقیقت جو ہونے والی ہے، ملحقہ وہ حقیقت کیا ہے جو ہونے والی ہے، وما ادراک ملحقہ اور آپ کو کیا پتہ، کیا ہے وہ حقیقت جو ہونے والی ہے، کذب ثمود کذب ثمود وعاد بالقارعۃ جھٹلایا قوم ثمود نے اور قوم عاد نے بالقارعۃ جھنجھوڑنے والی کو۔ قارعۃ جھنجھوڑنے والی، یعنی قیامت، قارعا کے معنی ہوتے ہیں کھٹکھٹانے کے، قارعت الباب دروازہ کھٹکھٹایا، تو قارعا کھٹکھٹانے والی، یعنی جھنجھوڑنے والی، قیامت کو جھنجھوڑنے والی کہا گیا، جھنجھوڑنے والی کہا گیا، کیونکہ اس سے اتنے اتنے ہولناک مناظر ہوں گے، اور اتنی دہشت ناک آواز وغیرہ کہ جو جس سے دلوں کو بے انتہا صدمہ پہنچے گا بھئی! دلوں کو بڑا صدمہ پہنچے گا، اور جیسے کوئی بڑی دہشت ناک آواز سے دل کو صدمہ پہنچتا ہے اور ایک دم تکلیف پہنچتی ہے، انسان ڈر جاتا ہے، خوف زدہ ہو جاتا ہے، تو اسی طرح وہ کیفیت ہوگی وہاں پر بھئی! کذب ثمود وعاد بالقارعۃ جھٹلایا قوم ثمود نے اور قوم عاد نے جھنجھوڑنے والے کو، فاما ثمود فاہلکو بالطاغیۃ باقی تو قوم ثمود جو ہے فاہلکو، پس وہ ہلاک کیے گئے بالطاغیۃ طغا یطغا کے معنی سرکش ہونا، سرکش ہونا، حد سے تجاوز کرنا، حد سے تجاوز کرنا۔ تو قوم ثمود جو ہے، ان کو ایک زوردار چنگھاڑ، ایک زوردار چیخ کے ذریعے ختم کیا گیا تھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آ کر زوردار چیخ ماری، یہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی، جن کے پاس وہ اونٹنی بھیجی گئی تھی، اور انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا، تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آ کر زوردار چیخ ماری اور اس سے ان سب کے کلیجے پھٹ گئے اور وہی سب گر کر مر گئے، تو اللہ فرما رہے ہیں فاما ثمود تو قوم ثمود جو ہے، فاہلکو پس وہ ہلاک کیے گئے بالطاغیۃ حد سے گزرنے والی کے ذریعے، یعنی ایک سخت آبت سے ایک سخت آواز جو حد سے گزرنے والی تھی، حد سے حد سے بڑھی ہوئی آواز کے ذریعے، حد سے تجاوز کرنے والی جھنگھاڑ کے ذریعے ان کو ہلاک کر دیا گیا۔ واما عاد اور باقی اور باقی قوم عاد جو ہے، فاہلکو پس وہ ہلاک کیے گئے برریح سرصرین ریح آندی، ریح سرصر انتہائی برف لی تیز ہوا ریح سرصر کس کو کہتے ہیں؟ انتہائی برف لی یعنی انتہائی ٹھنڈی تیز آندھی جو ہے، اس کو ریح سرصر کہتے ہیں۔ اسی طرح ریح سرصر وہ تیز ہوا، تیز آندھی جو بہت شور کرنے والی ہو جس کی جس کی آواز بہت زیادہ ہو بھئی! عالیہ عاتا عتوان کے معنی ہیں قابو سے نکلنا، قابو میں نہ رہنا۔ قابو میں نہ رہنا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں واما عاد اور قوم عاد جو ہے، فاہلکو پس وہ ہلاک کیے گئے برریح سرصر عاتیۃ ایک انتہائی شور والی تیز آندی کے ذریعے عاتیۃ جو قابو سے نکلنے والی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ اللہ جو ہوا بھی بھیجتے ہیں، ایک اندازے سے بھیجتے ہیں، ایک پیمانے سے بھیجتے ہیں، اللہ بارش کا جو بھی قطرہ نازل فرماتے ہیں، تو ایک اندازے سے نازل فرماتے ہیں، لیکن دو دن ایسے آئے، جس دن ہوا قابو سے باہر ہو گئی، اور وہ جس دن قوم عاد کو ہلاک کیا گیا، ان پر جو ہوا بھیجی گئی، اللہ نے ایسی ہوا بھیجی جو قابو سے نکل رہی تھی، جو فرشتے ہوا کو سنبھالنے پر مامور تھے اور مقرر تھے، ان کے بھی قابو سے وہ نکل رہی تھی، اتنی تیز آندھی اللہ نے بھیجی۔ اور اللہ بارش کا جو بھی قطرہ نازل فرماتے ہیں، ایک اندازے سے نازل فرماتے ہیں، جہاں کہیں بھی بارش ہو، لیکن ایک دن اللہ نے ایسی ایسا پانی بھیجا، جو جو فرشتے مقرر تھے، اس کو قابو کر رہے تھے، وہ اتنا اتنا زیادہ پانی تھا کہ ان کے بھی قابو سے باہر نکل رہا تھا اور وہ اس دن جس دن قوم نوح کو جس میں غرق کیا گیا بھئی! تو عاتیہ قابو سے نکلنے والی، حد سے نکلنے والی جو قابو میں نہ آئے، پس قوم عاد جو ہیں، پس وہ ہلاک کیے گئے برریح سرصر عاتیۃ بے قابو شور والی ہوا کے ذریعے، یا بعضوں نے اس کا بڑا پیارا ترجمہ کیا، فاہلکو برریح سرصر عاتیۃ ایک بے قابو طوفانی ہوا کے ذریعے، ایک بے قابو طوفانی ہوا کے ذریعے وہ ہلاک کیے گئے، سخرہا علیہم، سخرہا یہ ضمیر ریح کو راجع، اللہ نے اس ہوا کو مسخر کیا، ان پر مسلط کیا علیہم ان پر، سب لیالیں سات راتیں وسمانیۃ ایام اور آٹھ دن، سات دن اور آٹھ راتیں ان پر وہ ہوا چلتی رہی۔ حسومان، حسومان کے دو معنی بھئی! ایک معنی کسی کام کو مسلسل کرنا، تو حسومان کا معنی ہوا مسلسل، لگاتار، وہ ہوا ان پر سات دن اور آٹھ راتیں مسلسل رہی بھئی! ہاں، سات سات راتیں اور آٹھ دن تک وہ ہوا ان پر مسلسل چلتی رہی۔ تو حسومان کا کیا معنی کیا؟ مسلسل، لگاتار۔ دوسرا معنی حسومان کے معنی منحوس کے بھی آتے ہیں بھئی! منحوس، کہ وہ ہوا اللہ نے ان پر مسلط رکھی سات راتیں اور آٹھ دن تک اس حال میں کہ وہ منحوس تھے، وہ دن اور راتیں کیا تھے یہ؟ من میں، میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ اس صحیح اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ دن، دن وغیرہ یا زمانہ منحوس نہیں ہوتا، زمانہ منحوس نہیں، البتہ یہاں پر جو ان کو من زم دن اور راتوں کو منحوس کہا گیا، وہ اس قوم کی نسبت سے کہ ان کے حق میں یہ دن کیا ثابت ہوئے تھے؟ منحوس ثابت ہوئے تھے۔ مسلط کیا اس ہوا کو ان پر، اس ہوا کو اللہ نے ان پر مسلط کیا سات راتیں اور آٹھ دن تک لگاتار، فتر القوم فیہا سرعا، پس تو دیکھتا ہے، تو دیکھتا اس قوم کو فیہا ان بستیوں میں سرعا، سرعا جمع ہے سریع کی۔ سرعا جمع ہے سریع، سریع کہتے ہیں پچھاڑے ہوے۔ پچھاڑا ہوا، جسے زمین پر پچھاڑ دیا جائے، گرا دیا جائے بھئی! فتر القوم فیہا سرعا، پس آپ اس میں اس قوم کو پچھاڑا ہوا دیکھتے، کانہم اعجاز نخل خاویۃ۔ نخل کھجور کا درخت، اعجاز نخل کھجور کے تنے خاویۃ، خاویہ جو اندر سے خالی ہوں، یعنی کھوکھلے، کھوکھلے، کانہم اعجاز نخل خاویۃ، گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ قوم عاد والے، قوم عاد کے لوگ جو تھے، بڑے زوراور تھے، اللہ نے ان کو بڑی طاقت دی تھی، اور بڑے بڑے مضبوط جسموں والے تھے، اور میں نے بتلایا اتنے طاقتور لوگ تھے کہ ایک ہی شخص جو ہے وہ کھجور کے درخت کو ہاتھوں سے پکڑتا اور جڑ سمیت زمین سے اکھاڑ دیا کرتا تھا، اور وہ کہتے تھے کون ہے ہمارے مقابلے میں، بڑا تکبر کرتے تھے، تو اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ جو بڑے طاقتور بنتے تھے دنیا کے اندر جن کو ہم نے بڑی طاقت دی تھی، یہ تو صرف ہماری بھیجی ہوئی ہوا کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے، باقی کسی چیز کا کیا مقابلہ کرتے، ان پر ہم نے صرف ہوا بھیجی، اور کیا حال ہوا ان کا کہ اس کے بعد سارے زمین پر اس طرح گرے پڑے تھے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں۔ بڑے لمبے لمبے قد تھے، تو اللہ ان کو تشبیہ دے رہے ہیں، کس طرح تھے وہ؟ جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے بکھرے ہوئے زمین پر پڑے ہوتے ہیں، اسی طرح یہ لوگ بھی بکھرے ہوئے تھے، یہ صرف ہماری بھیجی ہوئی ہوا نے ان کا یہ حال کر دیا تھا، ان لوگوں کا جو طاقت کے اندر کسی کو اپنے مقابلے کا ہی نہیں سمجھتے تھے۔ فخرہا علیہم سب لیال وسمانیۃ ایام حسوما، مسلط کر دیا اس ہوا کو ان پر اللہ نے سات راتیں اور آٹھ دن تک لگاتار، فتر القوم فیہا سرعا، پس تو دیکھتا او ان لوگوں کو اس میں پچھاڑے ہوئے، کانہم اعجاز نخل خاویۃ، گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں، فہل ترى لہم من باقیۃ، پس کیا آپ دیکھتے ہیں لہم ان کو من باقیۃ کوئی باقی ان میں سے۔ کیا ان میں سے کسی کو آپ باقی دیکھتے ہیں؟ کوئی باقی دکھائی دیتا ہے؟ سب کو اللہ نے ختم کر دیا، ان کے نشانات بھی مٹا دیے۔ وجاء فرعون، اور آیا فرعون، ومن قبلہ اور وہ جو فرعون سے پہلے تھے، والمؤتفکات، اور وہ الٹائی ہوئی والمؤتفکات، اور وہ الٹائی ہوئی، اور وہ الٹائی ہوئی مراد اور وہ الٹائی ہوئی مراد بستیاں، وہ الٹائی ہوئی بستیاں، آیا فرعون اور وہ لوگ جو فرعون سے پہلے تھے، اور وہ جو الٹائی ہوئی بستیاں تھیں، بالخاطئۃ، خطاؤں کے ساتھ۔ تو فرعون اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹائی ہوئی بستیاں، انہوں نے بھی خطائیں کیں، وہ بھی یہی گناہ لے کر آئے، انہوں نے بھی اللہ کی نافرمانی کی۔ الٹائی ہوئی بستیوں سے مراد حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی وہ بستیاں، جن کو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اپنے پر پر اٹھایا اور اوپر تک لے گئے اور پھر اس کو اٹھا کر زمین پر پٹک دیا۔ وجاء فرعون ومن قبلہ والمؤتفکات بالخاطئۃ، اور لے کر آیا فرعون اور وہ لوگ جو اس سے پہلے تھے اور الٹائی ہوئی بستیاں بالخاطئۃ اسی اسی طرح کے گناہ، اس یہی گناہ لے کر آئے، وہ بھی یہ کر، یہی گناہ لے کر آئے، انہوں نے نافرمانی کی۔ فعصو رسول ربہم، پس نافرمانی کی انہوں نے اپنے رب کے پیغ نمبر کی، ف اخذھم پس پکڑ لیا ان کو ان کے رب نے، اخذۃ الرابیہ۔ اخذۃ پکڑنا، رابیہ۔ ربا یربو کے معنی ہوتے ہیں بڑھنے کے، بڑھنے کے، اسی سے سود کو بھی ربا کہتے ہیں۔ سود کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ربا، کیونکہ اس میں بھی بڑھتا ہے مال بھئی۔ تو رابیہ سے مراد ہے سخت بھئی، سخت پکڑ۔ پس اخذھم اخذۃ الرابیہ، پس پکڑا اللہ نے ان کو سخت پکڑ۔ تو رابیہ کا کیا معنی؟ بڑھنا، وہ پکڑ بھی سختی کے اندر، شدت کے اندر بڑھی ہوئی تھی۔ وہ پکڑ بھی بڑھی ہوئی تھی سختی کے اندر۔ انا لما طغی الماء، بیشک ہم نے، لما طغی الماء، جب پانی میں طغیانی ہوئی۔ جب پانی چڑھ آیا۔ مراد وہ حضرت نوح علیہ السلام کا طوفان ہے بھئی۔ انا بیشک ہم، لما طغی الماء، جب پانی میں طغیانی ہوئی، پانی چڑھ آیا۔ حملناکم فی الجاریہ، ہم نے تمہیں اٹھایا فی الجاریہ، کشتی میں۔ ہم نے تمہیں کس میں اٹھا لیا؟ کشتی میں اٹھا لیا، وہ جو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی تھی۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ دیکھیے، بیشک ہم نے جب پانی میں طغیانی ہوئی، ہم نے تمہیں اٹھا لیا یعنی سوار کیا فی الجاریۃ، کس کے اندر؟ کشتی میں۔ کس کو اٹھایا؟ حملناکم، تمہیں اٹھا لیا۔ خطاب کس کو ہے؟ یہی اس زمانے کے جو لوگ ہیں، مشرکین مکہ وغیرہ اور جو لوگ ہیں اس زمانے کے تو بھئی وہ نوح علیہ السلام کے زمانے میں تو وہ موجود ہی نہیں تھے اور اللہ فرما رہے ہیں حملناکم، ہم نے تمہیں اٹھا لیا۔ تو جواب یہ کہ ان کے آباء کو اٹھایا تھا، ان کے باپ دادوں کو اور یہ ان کی پشتوں میں موجود تھے بھئی۔ یہ ان کی پشتوں میں موجود تھے۔ لنجعلھا لکم تذکرہ۔ ہاں، لنجعلھا ضمیر راجع ہے الجاریہ کو، تاکہ ہم اس کشتی کو بنا دیں۔ یا ضمیر راجع ہے فعلتہ کو۔ یہ جو ہمارا فعل تھا، یہ جو معاملہ تھا، تاکہ ہم اس کو بنا دیں۔ لکم تمہارے لیے تذکرۃ، نصیحت حاصل کرنے کی چیز۔ وتعہا، وعی کے معنی ہوتے ہیں محفوظ کرنا، یاد رکھنا۔ وتعہا اذن وعیۃ۔ اور یاد رکھے اس واقع کو اذن وعیۃ، یاد رکھنے والا کان۔ یاد رکھنے والا۔ لنجعلھا، ہ ضمیر کس کو راجع؟ کشتی کو، جاریہ کو، یا یہ راجع ہے فعل، یہ جو پیچھے معاملہ بیان ہوا۔ وعی کے معنی، یاد رکھنا۔ اذن وعیۃ، یاد رکھنے والا کان۔ یقیناً ہم نے جب پانی میں طغیانی ہوئی، ہم نے تمہیں اٹھایا کشتی میں تاکہ ہم بنائیں اس واقع کو تمہارے لیے یادگار۔ تاکہ ہم اس واقع کو تمہارے لیے نصیحت کی چیز بنائیں، وتعھا اذن وعیۃ، اور یاد رکھے۔ اور تاکہ یاد رکھے، تعیا کا عطف نجعلہ پر ہے، اور تاکہ یاد رکھے اس واقع کو اذن وعیۃ، یاد رکھنے والا کان۔ تاکہ لوگ اس کو کیا کریں؟ یاد رکھیں، اس سے عبرت پکڑیں اور آئندہ اللہ کی نافرمانی نہ کریں۔ فإذا نفخ فی الصور، پس جب پھونکا جائے گا سور کے اندر، نفخۃ واحدۃ، ایک مرتبہ کا پھونکنا۔ نفخہ ثانیہ مراد ہے، کون سا نفخہ مراد ہے؟ پہلی مرتبہ سور پھونکا جائے گا، تمام جاندار مر جائیں گے اور دوسری مرتبہ سور پھونکا جائے گا، تو سب زندہ ہوں گے اور قیامت قائم ہوگی۔ تو نفخہ ثانیہ مراد ہے۔ فإذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ، پس پھر جب پھونکا جائے گا سور کے اندر ایک مرتبہ کا پھونکنا۔ وحملت الارض والجبال، اور اٹھایا جائے گا زمین کو اور پہاڑوں کو، فدکتا، پس ان کو۔ دے مارا جائے گا، دکۃ واحدۃ، ایک مرتبہ دے مارنا۔ دکہ کے معنی ہوتے ہیں، دکہ یا دقو کے معنی۔ کسی چیز کو کوٹنا۔ کسی چیز کو کوٹنا، مارنا۔ تو کسی چیز کو کوٹ کر، مار کر، ہموار کرنا، ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ کیا معنی؟ کسی چیز کو کوٹ کر ہموار اور برابر کرنا، ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ بھی زمین ہے اونچی نیچی ہو، اس کو کوٹ کوٹ کر کیا کیا جاتا ہے؟ برابر کیا جاتا ہے، گڑھے وغیرہ اس میں ختم کیے جاتے ہیں۔ تو یہ ہے دکہ بھئی، دک۔ اللہ فرما رہے ہیں وحملت الارض والجبال، اور اٹھایا جائے گا زمین کو اور پہاڑوں کو، فدکتا دکۃ واحدۃ، تو ان کو ایک ہی مرتبہ دکۃ واحدۃ، ایک مرتبہ کا پٹخنا۔ ان کو ایک ہی مرتبہ پٹخا جائے گا، ایک ہی مرتبہ دے مارا جائے گا۔ یا وہ ترجمہ بھی ملحوظ رکھیں، کسی چیز کو مار کر ہموار کرنا، ٹکڑے کرنا، برابر کرنا۔ ایک ہی مرتبہ ان کو مار کر، ایک ہی مرتبہ ان کو دے مارا جائے گا۔ اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، ان کو ہموار کر دیا جائے گا۔ جی، اب یوں ترجمہ کر لیجیے بھئی، وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدۃ، اور زمین اور آسمان، اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، فدکتا دکۃ واحدۃ، پس ایک ہی مرتبہ پٹخ کر ان کو برابر کر دیا جائے گا، ہموار کر دیا جائے گا۔ یا ایک ہی مرتبہ پٹخ کر ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔ فیومئذ وقعت الواقعۃ، پس اس دن وقعت الواقعۃ، واقع ہو جائے گی۔ واقع ہونے والی۔ فیومئذ وقعت الواقعۃ، پس اس دن ہونے والی ہو جائے گی یہ، واقعہ قیامت بھئی۔ پس اس دن ہونے والی ہو جائے گی، وانشق السماء، اور آسمان پھٹ جائے گا، فھی یومئذ واہیۃ، پس یہ اس روز کمزور ہوگا۔ واہیہ، کمزور۔ وانشق السماء فھی یومئذ واہیۃ، اور آسمان پھٹ جائے گا، فھی یومئذ واہیۃ، پس یہ آسمان اس دن کمزور ہوگا۔ والملک علی ارجائھا، اور فرشتے جو ہیں علی ارجائھا، اس آسمان کے کناروں پر ہوں گے۔ آسمان پھٹنا شروع ہوگا تو فرشتے سمٹ کر کہاں آ جائیں گے؟ آسمان کے کناروں پر آ جائیں گے۔ والملک علی ارجائھا، اور فرشتے اس آسمان کے کناروں پر ہوں گے، ویحمل عرش ربک، اور اٹھائے ہوئے ہوں گے آپ کے رب کے عرش کو فوقھم، اپنے اوپر، یومئذ، اس دن، ثمانیۃ، آٹھ۔ اس دن آپ کے رب کے عرش کو اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ آٹھ، آٹھ فرشتے اس دن اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اور بعضوں نے لکھا آٹھ فرشتے نہیں، آٹھ صفیں ہوں گی فرشتوں کی، وہ اٹھائے ہوئے ہوں گی۔ تو بعضوں نے سمانیہ کے لیے۔ موصوف کیا نکالا؟ نفوس، آٹھ نف اٹھائے ہوئے ہوں گے یعنی آٹھ فرشتے، اور بعضوں نے صفوف سمانیہ، آٹھ صفیں ہوں گی۔ آٹھ فرشتے اگر اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں، اس وقت کہتے ہیں چار نے اٹھایا ہوا ہے۔ اس وقت چار نے، اور قیامت کے دن چار اور ہوں گے، تو آٹھ ہو جائیں گے۔ آٹھ اٹھائے ہوئے لے کر آئیں گے اللہ کے عرش کو۔ اور اللہ کا عرش جو ہے، اس نے اس ساری کائنات کو، سارے زمین و آسمان، جنت، کرسی وغیرہ سب کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ اور عرش کے سامنے ان کی وہی حیثیت ہے، جس طرح ایک بہت بڑا جنگل ہو، اس میں ایک چھوٹا سا انگوٹھی یا ایک چھلا پھینکا جائے، اس کی جو حیثیت جنگل کے سامنے ہوتی ہے۔ اس سارے سات زمین و، سات آسمانوں، جنت، جہنم، کرسی کی یہ حیثیت ہے، عرش کے سامنے۔ اور اس کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ فرشتے کتنے عظیم ہوں گے؟ اللہ ہی جانتا ہے۔ کتنے طاقتور ہوں گے، کتنے بڑے ہوں گے؟ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا بھئی۔ ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیہ، اور اٹھائیں گے آپ کے رب کے عرش کو، اپنے فوقھم، اپنے اوپر، یومئذ، اس دن، ثمانیۃ، آٹھ۔ یومئذ تعرضون، جس دن کہ تم پیش کیے جاۓوگے، لا تخفی منکم خافیہ، چھپی نہ رہے گی تم سے۔ چھپی نہ رہے گی تم میں سے خافیت، خافیہ، چھپنے والی بات، کوئی چھپانے والی بات۔ تمہاری کوئی چھپانے والی بات چھپی نہ رہے گی، سب کچھ سامنے آ جائے گا۔ یومئذ تعرضون لا تخفا منکم خافیہ، جس دن کہ تم پیش کیے جاؤ گے، چھپی نہ رہے گی تمہاری کوئی چھپانے والی بات۔ فاما من اوتی کتابہ بیمینہ، اور پھر نامہ اعمال تقسیم ہوں گے۔ جن کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کامیاب لوگ ہوں گے۔ اور جن کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ نامراد اور جہنمی ہوں گے۔ تو انہی کا اللہ ذکر فرما رہے ہیں، فاما من اوتی کتابہ بیمینہ، پس وہ جس کو دیا گی، دیا گیا، کتابہ، اس کی کتاب، یعنی اس کا نامہ اعمال۔ جس کو اس کا نامہ اعمال دیا گیا، بیمینہ، اس کے دائیں ہاتھ میں، فقول، پس وہ کہے گا، ھا اؤم اقراءوا کتابیہ، ھا اُم۔ ھا اُم، یاد رکھیے، اس میں فعل ہے۔ ھا اُم، کیا ہے؟ اس میں فعل ہے۔ اسم فعل۔ بمعنی خذ کے۔ خذ، لے لو، پکڑ لو۔ اور یہ مفرد، مذکر، مؤنث، تثنیہ، جمع، سب کے لیے ایک ہی طرح رہتا ہے۔ ھا، تو اصل میں اسم فعل ہے، ھا اس کے اندر۔ اسم فعل کیا ہے؟ ھا۔۔ پھر اس ہ کے ساتھ، ہ کا کیا معنی؟ خذ۔ ھا، لے لو، یہ پکڑ لو۔ اور جس کے ساتھ کبھی کاف حرفیہ خاطبیہ ملتا ہے۔ جیسے ذالک کے ساتھ، اسم اشارہ کے ساتھ ملتا تھا، ذالک، ذالکما، ذالککم، ذالکی، ذالکما، ذالکنا۔ تو اور اس کا ترجمہ نہیں ہوتا۔ صرف اس کے لیے کیا پتہ چلتا ہے؟ مخاطب کا پتہ لگتا ہے، کتنے سے خطاب ہو رہا ہے، بس۔ تو یہاں پر بھی اس کے ساتھ کاف حرفیہ خاطبیہ ساتھ مل جاتا ہے، اور کہتے ہیں، ھاک، ھاکما، ھاکم، هاکی، ھاکما، ھاکنہ۔ اور کبھی کاف کی جگہ ہمزہ ساتھ ملا دیتے ہیں۔ ھا آ، وہاں کیا تھا؟ ھاک۔ یہاں کیا کہیں گے؟ ھا آ، ہمزہ ساتھ ملا دیا جاتا ہے، بھئی، یہ بھی کلام عرب میں رائج ہے۔ اور اس میں بھی اسی، اس کو بھی اسی طرح پڑھا جاتا ہے۔ جس طرح کاف حرفیہ خاطبیہ تھا۔ کیا تھا؟ ھاک، ھاکما، ھاکم۔ یہاں بھی، ھا آ، ھا اوما، ھا اوم، وغیرہ اسی طرح کیا کیا جاتا ہے؟ اس کو بھی پڑھا جاتا ہے۔ اور کتابیہ۔ کتابیہ کے بارے میں آخر میں جو ہ آئی ہے، یاد رکھیے، یہ ہ سکتہ کی ہے، سکتہ۔ تو یہ ہ سکتہ جو ہے، جس پر وقف کیا جاتا ہے۔ اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس سے ماقبل والا جو حرف ہے، اس کی حرکت کی حفاظت کی جائے۔ کیا کیا جائے، اس کی حرکت کی حفاظت کی جا، کی جائے، تو یہ اصل میں ہے، کتابی۔ کیا ہے؟ کتابی، میری کتاب، میرا نامہ اعمال۔ اور وقف کرتے تو کسے، اصل میں ہے کتابیہ۔ کتابیہ، یہاں پر کیا ہے؟ فتحہ۔ لیکن اگر وقف کیا جائے تو کیسے پڑھا جائے گا؟ کتابی، یا کی حرکت تو گر جائے گی، تو کلام عرب میں کبھی یوں کیا جاتا ہے، آخری حرف کی حرکت کی حفاظت کے لیے، آخر میں ہ سکتہ بڑھا دیتے ہیں تاکہ اس کی حرکت محفوظ رہے۔ اب دیکھو وہ یا کی حرکت محفوظ ہو گئی، کتابیہ۔ ورنہ کیا پڑھتے؟ کتابی، یا کی حرکت تو گر جاتی، تو اس کی جب حفاظت مقصود ہو تو کیا بڑھا دیتے ہیں؟ ہ سکتہ بڑھا دیتے ہیں۔ تو وہ کہے گا فقول، جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، فقول، پس وہ کہے گا، ھا اوم اقراءوا کتابیہ۔ یہ لو، پڑھو میرا نامہ اعمال۔ خوشی سے کہے گا، اپنے رشتہ داروں، عزیزوں، دوستوں کو کہے گا، یہ لو، پڑھو میرا نامہ اعمال۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی، فاما من اوتی کتابہ بیمینہ، فقول ھا اوم اقراءوا کتابیہ، پس وہ جس کو دا، نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، پس وہ کہے گا، یہ لو، پڑھو میرا نامہ اعمال۔ چلیے بس، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
129 approved lectures · 124 of 129