اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
له مقاليد السماوات والأرض يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر إنه بكل شيء عليم
شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذي أوحينا إليك وما وصينا به إبراهيم وموسى وعيسى أن أقيموا الدين ولا تفرقوا فيه
كبر على المشركين ما تدعوهم إليه
الله يجتبي إليه من يشاء ويهدي إليه من ينيب
له مقاليد السماوات والأرض
اُسی کے لئے چابیاں ہیں آسمانوں کی اور زمین کی
اُسی کے لئے چابیاں ہیں کنجیاں ہیں آسمانوں اور زمین کی
یعنی زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں اُسی کے پاس ہیں
یبسط الرزق لمن يشاء ويقدر
یبسط وہ کشادہ کرتا ہے رزق کو لمن يشاء جس کے لیے وہ چاہتا ہے ويقدر اور تنگ کرتا ہے
جس کے لیے یعنی چاہتا ہے
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں وہ رزق کو کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے ويقدر اور تنگ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے
بھئی قدر یقدر کے اصل معنی تنگ کرنے کے نہیں ہیں اس کے معنی اندازے سے دیتے ہیں معاف کر کے یعنی بقدر ضرورت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں
بازوں کو اللہ وسیع رزق دیتے ہیں اور بازوں کو بس بقدر ضرورت جس سے وہ ان کی زندگی کی گاڑی چل سکے بس اس کا رد اس کو دیتے ہیں تو معنی کہ مراد کیا ہے یعنی تنگ دیتے ہیں کرتے ہیں
إنہ بكل شيء عليم
بے شک وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے
شرع لكم من الدين
متعین کر دیا تمہارے لیے دین میں سے
شرع لکم تمہارے لیے متعین کر دیا طے کر دیا تمہارے لیے من الدین دین میں سے ما وہ
وہ وصی بہ نوحا جس کا حکم دیا نوح علیہ السلام کو
اللہ فرما رہے ہیں بھئی
کہ طے کر دیا تمہارے لیے دین میں سے وہ طریقہ جس کا حکم دیا نوح علیہ السلام کو
والذی أوحينا إليك
اور وہ جو وحی کیا ہم نے آپ کی طرف
وما وصينا به إبراهيم
اور وہ جس کا حکم دیا ہم نے ابراہیم کو
وموسى اور موسی کو وعیسی اور عیسی علیہم الصلاۃ والسلام کو
أن أقيموا أن أقيموا الدين
یہ کہ دین کو قائم رکھو ولا تفرقوا فيه اور اس میں فرقہ نہ ڈالو
اس میں اختلاف نہ ڈالو
معنی سمجھ میں آیا بھئی
اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہ طریقہ طے کر دیا متعین کر دیا جس کی نوح علیہ السلام کو جس کا نوح علیہ السلام کو حکم ہوا اور جو آپ کی طرف وحی کیا گیا اور جس کا حکم ابراہیم علیہ السلام موسی علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ دین کو قائم رکھو
دین کو قائم رہو قائم رکھو یعنی اسی پر کاربند رہو ولا تفرقوا فيه اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو اس میں اختلاف نہ کرو
یہ بات پہلی بھی بیان ہو چکی
کہ پانچ انبیاء ہیں جنہیں اولو العزم انبیاء کہتے ہیں جن کا مقام باقی انبیاء سے بڑھ کر
اور وہ کون کون ہیں حضرت نوح علیہ السلام ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھئی
تو یہ سب کا ذکر آ گیا اس آیت کے اندر حضرت نوح علیہ السلام کا بھی
والذی أوحينا إليك نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی بھئی
اور اللہ فرما رہے ہیں ہم نے تمہارے لیے دین کا وہ طریقہ طے کر دیا جس کی ان سب کو ہم نے جس کا ہم نے حکم دیا تھا بھئی
یہ بات بھی پہلے بیان ہو چکی بھئی
کہ اصول دین سب ہمیشہ سے ایک ہی رہے ہیں بھئی
تمام انبیاء کی تمام رسولوں کی شریعتوں میں اصول دین ایک ہی رہے ہیں
یعنی
نماز
روزہ
زکوۃ
توحید
قیامت
رسالت یہ سب چیزیں سب میں اسی طرح رہی ہیں ہاں کچھ فروعی
احکام الگ تھے بھئی
ان کی زکوۃ کا طریقہ الگ تھا
ان کے روزے الگ تھے
البتہ حکم سب میں بنیادی یہی رہے ہیں بھئی صورت سمجھ میں اگئی بھئی ان کا عبادت کا طریقہ الگ ہوگا کچھ تو لیکن بنیادی چیزیں یہی تھی سب کی بھئی
تو اللہ فرما رہے ہیں وہی اسی کی ہم نے اپ کو بھی انہی چیزوں کا حکم دیا ہے
كبر على المشركين ما تدعوهم إليه
كبر بڑی ہے یعنی بھاری ہے علی المشرکین مشرکین پر ما وہ چیز تدعوہم
کہ آپ بلاتے ہیں ان کو الیہ اس کی طرف
جس کی طرف آپ ان مشرکوں کو دعوت دیتے ہیں بلاتے ہیں وہ چیز مشرکین پر بڑی بھاری ہے یعنی توحید
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی کبر علی المشرکین ما تدعوهم إليه بڑا بھاری ہے مشرکین پر وہ بڑی بھاری ہے مشرکین پر وہ چیز جس کی طرف آپ ان کو دعوت دیتے ہیں یعنی توحید توحید انہیں بڑی گراں گزرتی ہے ان کے
جن بتوں کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ان کا ذکر کریں تو یہ راضی ہوتے ہیں خالص توحید ان کے لیے بہت ان پر بڑی گراں ہے بڑی بھاری ہے
الله يجتبي إليه من يشاء
اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف من يشاء جس کو چاہتے ہیں
اجتبی يجتبي اجتباء کے معنی ہیں چن لینے کے بھئی
جیسے اصطفا يصطفي اصطفا کے کیا معنی ہیں؟ چن لینا اس کا معنی بھی چن لینا اجتباء کا معنی بھی چن لینا
الله يجتبي إليه اللہ چن لیتے ہیں الیہ اپنی طرف من يشاء جس کو چاہتے ہیں
ويهدي إليه من ينيب
اور ہدایت دیتے ہیں اپنی طرف من ينيب اس کو جو رجوع کرنے والا ہو جو رجوع کرتا ہے
جو اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے اللہ اس کو اپنی طرف ہدایت دے دیتے ہیں اللہ اس کی رہنمائی فرما دیتے ہیں
وما تفرقوا إلا من بعد ما جاءهم العلم
اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا اختلاف نہیں کیا
إلا من بعد ما جاءهم العلم
مگر بعد اس کے کہ جب آ گیا تھا ان کے پاس علم
جب ان کے پاس یقینی علم آ چکا تھا اس کے بعد ہی ان لوگوں نے جو گزشتہ لوگ تھے انہوں نے اختلاف کیا
بغيم بينهم
آپس میں سرکشی کے طور پر
آپس کی ضد کی وجہ سے آپس کی سرکشی کی وجہ سے
بغی سرکشی کو کہتے ہیں بھئی
آپس کی سرکشی مراد ہے آپس کی ضد بھئی آپس کی ضد کی وجہ سے
وما تفرقوا إلا من بعد ما جاءهم العلم بغيم بينهم اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا اختلاف نہیں ڈالا مگر بعد اس کے کہ جب ان کے پاس یقینی علم آ چکا تھا آپس کی ضد کی وجہ سے
یہ تو تھا ما اور الا کے ساتھ ترجمہ بھئی
بمحاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟
کہ انہوں نے یقینی علم آ جانے کے بعد ہی اختلاف کیا آپس کی ضد کی وجہ سے
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
ولولا كلمة سبقت من ربك إلى أجل مسمى لقضي بينهم ولولا كلمة سبقت
اور اگر ایک بات پہلے نہ ہو چکی ہوتی من ربك آپ کے پروردگار کی طرف سے
إلى أجل مسمى ایک مقررہ وقت تک لقضي بينهم البत्ता فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان
اگر ایک بات پہلے نہ ہو چکی ہوتی یعنی اگر ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقررہ کے لیے تو البत्ता ان کا حساب چکا دیا جاتا ان کا فیصلہ کر دیا جاتا
کیا بات اللہ کی طرف سے پہلے طے ہو چکی؟
کہ فیصلہ قیامت کے روز ہی ہوگا
تو اگر وہ بات طے نہ ہو چکی ہوتی اللہ فرماتے ہیں تو ہم دنیا میں ان کا فیصلہ کر دیتے
وإن الذين أورثوا الكتاب من بعدهم لفي شك منه مريب
اور بے شک وہ لوگ أورثوا الكتاب جو وارث بنائے گئے کتاب کے
من بعدهم ان کے بعد
یعنی ان پہلے لوگوں کے بعد جو اس کتاب کے وارث بنائے گئے لفي شك منه البत्ता وہ شک میں ہیں منہ ہا ضمیر راجع ہے کتاب کو اس کتاب کے بارے میں مريب
مريب کا کیا معنی؟
شک تکلیف چیں جو
بے چینی میں ڈالنے والا جو چین نہ لینے دے
وإن الذين أورثوا الكتاب من بعدهم لفي شك منه مريب اور بے شک وہ لوگ جو وارث بنائے گئے کتاب کے ان کے بعد البत्ता وہ اس کتاب کے بارے میں ایسے شک میں ہیں جو انہیں چین نہیں لینے دیتا
جو چین نہیں لینے دیتا
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی
یہ اس قسم کے لفي شك منه مريب یہ پہلے بھی گزر چکے بھئی
اللہ فرما رہے ہیں کہ
گزشتہ لوگوں کے پاس جب اللہ کی طرف سے علم آ چکا تھا
اس کے بعد آپس کی ضد کی وجہ سے انہوں نے کیا کیا آپس میں اختلافات ڈالے
اپنی کتابوں کو بدل دیا
آپس کی ضد کی وجہ سے اپنی ہوس کے لیے اور
عطاوَت کے طور پر
چنانچہ
اب یہ جو بعد والے جو کتاب کے وارث ہوئے یہ بعد میں جو وارث بنے اس کتاب کے ان اہل کتاب میں سے
اب اس کتاب کے اندر اتنی تبدیلیاں وہ کر چکے ہیں کہ وہ اس کے
ایسی ایسی تبدیلیاں ہیں ایسی ایسی انہوں نے اس میں باتیں شامل کر دیں
کہ یہ اس کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں ایسے شکوک و شبہات جو انہیں چین نہیں لینے دیتے بھئی سمجھ نہیں آتی انہیں کہ کیا کریں بھئی
کس طرح بات درست ہے ایک حصہ کچھ بتلاتا ہے کتاب کا تو دوسرا حصہ کچھ اور بتلاتا ہے
فلذلك فادعوا
پس اسی کی طرف آپ بلائیے
یہ جو دین اللہ نے مقرر کر دیا جس کا حکم نوح علیہ السلام کو ہوا
إبراہیم علیہ السلام کو ہوا موسی علیہ السلام کو ہوا عیسی علیہ السلام کو ہوا اور جو آپ کی طرف وحی کیا گیا
اسی کی طرف فادعوا پس آپ کیا کیجیے؟ دعوت دیجیے بلائیے
تو ذالک کے یہ کس کی طرف اشارہ ہے؟ اس دین کی طرف بھئی
فلذلك فادعو پس اسی دین کی طرف آپ دعوت دیجیے واستقم اور ثابت قدم رہیے کما امرت جیسے کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے
یہ مشرکین یہ کفار اپ کو تکلیف دیتے ہیں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں آپ ثابت قدم رہیے جیسا آپ کو حکم دیا گیا ہے
ولا تتبع أهواءهم
اور آپ پیروی نہ کیجیے ان کی خواہشات کی
ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے ان کی خواہشات پر نہ چلیے
یہ اپ سے کہتے ہیں کہ آپ ہمارے بتوں کو بھی مان لیں تو ہم آپ کے دین کو مان لیں گے آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے
وقل اور کہہ دیجیے آمنت بما أنزل الله من كتاب
کہ میں ایمان لایا اس پر جو اللہ نے نازل کی من كتاب یعنی کہ کتاب
میں ایمان لایا
جو کتابیں اللہ نے نازل کیں ان پر
یہ من کتاب بیان ہے ما انزل کا
قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے آمنت میں ایمان لایا بما أنزل الله اس چیز پر جس پر جس کو اللہ نے نازل کیا بھئی کس چیز کو اللہ نے نازل کیا
من کتاب
یعنی کہ
کتاب
تو یہ من کتاب کس کا بیان ہے؟
ما انزل کا تو یہ ما کی جگہ ذرا کتاب کا لفظ لے آئیں تو ترجمہ با محاورہ ہو جائے گا
تو قل آپ کہہ دیجیے آمنت بما أنزل الله من كتاب کہ میں ان کتابوں پر ایمان لایا جو اللہ نے نازل کیں
تو
اس سے ساری کتابیں جن سے کتاب آگئی بھئی کتاب آیا
اور کتاب اس میں جنس ہے ساری کتابوں کو شامل ہوا بھئی ساری کتابوں کو سمجھ میں آیا بھئی نکرہ ہے نا نکرہ کیا ہوتا ہے؟
اس میں جنس ہے بھئی تو ساری کتابیں یا مراد اس سے پھر قرآن ہے بھئی کیا مراد ہے؟
یعنی کتاب مفرد اگر رکھیں مفرد پر جنس کے معنی میں لیں تو ساری کتابیں اگر
مفرد والا معنی رکھیں تو پھر کیا مراد ہے قرآن کہ میں ایمان لایا اس قرآن پر اس کتاب پر جس کو اللہ نے نازل کیا
وأمرت لأعدل بينكم
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں
وأمرت اور مجھے حکم دیا گیا ہے لأعدل بينكم کہ میں تمہارے درمیان عدل کروں تمہارے درمیان انصاف کروں
الله ربنا وربكم
اللہ ہی ہمارا پروردگار ہے اور تمہارا پروردگار ہے
لنا أعمالنا ولكم أعمالكم
हमारे लिए हमारे आमाल हैं ولكم أعمالكم और तुम्हारे लिए तुम्हारे आमाल हैं
لا حجة بيننا وبينكم
کوئی جھگڑا نہیں کوئی بحث نہیں بيننا وبينكم ہمارے اور تمہارے درمیان
لا حجة بيننا وبينكم کوئی بحث نہیں ہمارے اور تمہارے درمیان تمہارے لیے تمہارے عمل ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث نہیں الله يجمع بيننا
اللہ ہمارے درمیان جمع فرمائیں گے یعنی اللہ ہمیں جمع فرمائیں گے وإليه المصير اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
والذين يحاجون في الله
اور وہ لوگ جو
جھگڑے جھگڑتے ہیں فی اللہ اللہ کے بارے میں یعنی
فالله اي في دين الله کس کے بارے میں اللہ کے دین کے بارے میں
جھگڑتے ہیں یعنی بحث کرتے ہیں بلاوجہ جھگڑے نکالتے ہیں بلاوجہ اعتراضات کرتے ہیں
والذين يحاجون في الله اور وہ لوگ جو بحثیں کرتے ہیں اللہ کے بارے میں یا اللہ یوں کہیں اللہ کے دین کے بارے میں وہ لوگ جو بحثیں کرتے ہیں اللہ کے دین کے بارے میں من بعد ما استجيب له
بعد اس کے کہ جب اس کو مان لیا گیا
من بعد ما بعد اس کے کہ استجیب لہ اس کو مان لیا گیا
استجاب کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ قبول کر لینا مان لینا۔
من بعد ما استجیب له بعد اس کے کہ جب اس
اللہ فرما رہے ہیں: والذین یحاجون فی اللہ اور وہ لوگ جو بحثیں کرتے ہیں اللہ کے بارے میں من بعد ما استجیب لہ بعد اس کے کہ جب اس کو مان لیا گیا اللہ کے بارے میں یعنی اللہ کے دین کے بارے اور وہ لوگ جو بحثیں کرتے ہیں اللہ کے دین کے بارے میں بعد اس کے کہ جب اس کو مان لیا گیا قبول کر لیا گیا حجتہم داحضہ ان کی دلیل جو ہے داحضہ باطل ہے۔
داحضہ کا کیا معنی؟ باطل، باطل۔ اور حجت دلیل بھئی دلیل۔ حجت یا وہی بحث والا ترجمہ کر لیں تو حجت دلیل کو بھی کہتے ہیں بحث کو بھی تو حجتہم داحضہ ان کی دلیل جو ہے باطل ہے عند ربھم ان کے پروردگار کے نزدیک، اللہ کے نزدیک ان کی دلیل باطل ہے۔ و علیہم غضب و لہم عذاب شدید و علیہم غضب اور ان پر غضب ہے، غصہ ہے یعنی اللہ کی طرف سے ناراضگی ہے و علیہم غضب اور ان پر غضب ہے و لہم عذاب شدید اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
اللہ فرما رہے ہیں اور وہ لوگ جو جھگڑے، جھگڑے نکالتے ہیں جو بحثیں کرتے ہیں اللہ کے دین کے بارے میں بعد اس کے کہ جب اس کو قبول کر لیا گیا۔ وہ دین جس کی باتیں نہایت سیدھی سادی ہیں جس میں کسی قسم کا الجھاؤ نہیں خالص توحید کی طرف بلایا جاتا ہے اور نیک اعمال کی طرف کہ آخرت میں ہر چیز کا جواب دہ ہونا پڑے گا، اس دین کے اندر کوئی پیچیدگی نہیں، اس کی باتیں خوب واضح ہیں یہاں تک کہ بہت سے سمجھدار لوگوں نے اس کو قبول بھی کر لیا ہے۔ بہت سے سمجھدار لوگوں نے اس کو قبول بھی کر لیا ہے اور بہت سے سمجھداروں نے اگرچہ اس کا اقرار اس کو قبول تو نہیں کیا، لیکن اس کے درست ہونے کی گواہی دے دی ہے اس کے باوجود یہ لوگ محض اپنے بغض اور عناد کی وجہ سے اگر بحثیں کرتے ہیں اور بلاوجہ جھگڑے نکالتے ہیں اس کے اندر تو ان کے لیے اللہ کا غضب ہے اور اللہ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اللہ الذی انزل الکتاب بالحق والم میزان اللہ ہی ہے وہ جس نے نازل کیا کتاب کو حق کے ساتھ والم میزان اور ترازو کو اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے برحق کتاب کو نازل کیا اور ترازو کو۔
ترازو سے کیا مراد ہے؟ بعض نے لکھا کہ اس سے مراد یہ مادی ترازو ہے جس میں چیزوں کو تولا جاتا ہے یہ جو چیزوں کو آپ وزن کرتے ہیں، تولتے ہیں بعضوں نے کہا یہ ترازو مراد ہے جو نوح علیہ السلام کے زمانے میں نازل کی گئی یا ان کو طریقہ سکھایا گیا اس کا بھئی۔ بعضوں نے کہا ترازو سے مراد عدل و انصاف ہے بھئی ترازو سے کیا مراد ہے؟ عدل و انصاف مراد ہے۔ تو اللہ نے نازل کیا کتاب کو برحق والم میزان اور عدل و انصاف کو بھی اللہ نے نازل کیا۔
اور بعضوں نے میزان کو عام رکھا بھئی کہ ہر قسم کا ترازو اس میں داخل ہے چاہے وہ مادی ترازو ہو بھئی جس کے اندر چیزوں کو تولا جاتا ہے، چاہے وہ علمی ترازو ہو جسے عقل سلیم کہتے ہیں جس کے ذریعے کھرے کھوٹے کی انسان کو پہچان ہوتی ہے، صحیح اور فاسد کے درمیان جس کے ذریعے انسان فرق کرتا ہے، درست اور غلط کو جس کے ذریعے جانتا ہے وہ عقل سلیم وہ ترازو۔ تو بعضوں کے نزدیک اس سے عام ترازو جس میں اجسام کو تولا جاتا ہے، بعضوں کے نزدیک اس سے مراد عدل و انصاف ہے اور بعض نے اس کو عام رکھا کہ ہر قسم کا ترازو مراد ہے چاہے وہ یہ مادی ترازو ہو جس میں جسموں کو تولا جاتا ہے، چاہے وہ علمی ترازو ہو جیسے عقل سلیم ہے، چاہے وہ اخلاقی ترازو ہو جیسے یہ عدل و انصاف ہے اور چاہے تو یہ سب سے بڑھ کر ترازو تو یہ دین حق ہے جو ٹھیک ٹھیک خالق کے حقوق بھی بتلاتا ہے اور مخلوق کے حقوق کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ خالق اور مخلوق کے حقوق ٹھیک ٹھیک بیان کرتا ہے دین حق بھئی تو ہر قسم کا ترازو اس میں داخل ہوا۔
وما یدریک لعل الساعۃ قریب وما یدریک اور آپ کو کیا خبر لعل الساعۃ قریب شاید کہ قیامت قریب ہی ہو۔ قیامت کا علم اللہ کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہے نہ کسی پیغمبر کو نہ کسی رسول کو نہ کسی مقرب فرشتے کو، یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے بھئی کہ قیامت کب آئے گی، اللہ ہی جانتے ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں یہ آپ سے قیامت کے بارے میں لوگ سوال کرتے ہیں کہ کب آئے گی؟ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو۔ وما یدریک لعل الساعۃ قریب اور آپ کو کیا خبر شاید کہ قیامت قریب ہو یستعجل بہا الذین لا یؤمنون بہا یستعجل جلدی مچاتے ہیں اس میں وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ یستعجل بہاھا ضمیر راجع ہے الساعۃ کو، جلدی کرتے ہیں اس میں کون جلدی کرتے ہیں؟ لا الذی لا یؤمنون بہا جو اس پر ایمان جو ایمان نہیں رکھتے قیامت پر یہ مشرکین اور کافر یہ اس میں جلدی مچاتے ہیں، مذاق کرتے ہیں، کہتے ہیں کب آئے گی وہ آپ کی قیامت؟ آپ کہتے ہیں جو قیامت آنے والی ہے کب آئے گی؟ آ کیوں نہیں جاتی ابھی تک؟ آ کیوں نہیں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ تو اللہ فرماتے ہیں یستعجل بہا الذین لا یؤمنون بہا جلدی کرتے ہیں اس کے لیے وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے والذین امنوا مشفقون منھا اور وہ لوگ جو ایمان لائے مشفقون منھا وہ اس سے ڈرتے ہیں بھئی۔ اشفق یشفق اشفاق کے کیا معنی؟ ڈرنے کے والذین امنوا اور وہ لوگ جو ایمان لائے مشفقون منھا وہ اس سے ڈرتے ہیں ویعلمون انھا الحق اور وہ جانتے ہیں کہ قیامت برحق ہے الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلال بعید الا حرف تنبیہ ہے بھئی کیا معنی کرتے ہیں اس کا؟ خبردار خبردار یا آگاہ رہو یا یاد رکھو بس دوسرے کو اتنا یاد رکھیں متنبہ کرنے کے لیے ہے تو موقع کے مطابق جو مناسب ہو اس لفظوں کے ساتھ اس کا ترجمہ کر دیا جاتا ہے۔
الا ان الذین یمارون فی الساعۃ خبردار! بے شک وہ لوگ یمارون فی الساعۃ جو جھگڑتے ہیں قیامت کے بارے میں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں قیامت کے بارے میں لفی ضلال بعید البتہ دور کی گمراہی میں ہیں۔ وہ البتہ دور کی گمراہی میں ہیں۔ اللہ لطیف بعبادہ اللہ نرمی رکھتے ہیں اپنے بندوں کے ساتھ، لطیف باریک بین اور اسی طرح لطیف مہربانی کرنے والا، نرمی کرنے والا۔ اللہ لطیف بعبادہ اللہ مہربانی فرمانے والے ہیں اپنے بندوں کے ساتھ یرزق من یشاء وہ رزق دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں وھو القوی العزیز اور وہ قوت والے زبردست ہیں۔
من کان یرید حرث الاخرۃ جو کوئی ارادہ کرتا ہے آخرت کی کھیتی کا حرث کھیتی بھئی من کان یرید حرث الاخرۃ جو کوئی ارادہ کرتا ہے آخرت کی کھیتی کا نزیڈ لہ فی حرثہ ہم بڑھا دیتے ہیں اس کے لیے اس کی کھیتی میں۔ جو کوئی آخرت کی کھیتی کو چاہتا ہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں کھیتی کو بڑھا دیتے ہیں ومن کان یرید حرث الدنیا اور جو دنیا کی کھیتی کو چاہتا ہے نوتیہ منھا ہم اس کو دے دیتے ہیں۔ منھا من تبعضیہ آیا اس میں سے کچھ، اس میں سے جو آخرت کی کھیتی اللہ فرما رہے ہیں جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کے لیے آخرت کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے یعنی دنیا کو چاہتا ہے اس کو ہم دنیا دیتے ہیں لیکن ساری نہیں اس میں سے کچھ تو اس میں سے بھی کچھ دیتے ہیں دنیا چاہنے والوں کو اور جو آخرت چاہتے ہیں ان کے لیے ہم بڑھا دیتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑھا دیتے ہیں بھئی ایک نیکی ایک نیکی کرو کتنی نیکیوں کا ثواب؟ دس نیکیوں کا کم از کم اور اخلاص زیادہ ہو تو اللہ سات سو تک بڑھا دیتے ہیں اور بعضوں کے لیے اخلاص کی بنا پر اس سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے ذرا تصور تو کریں ایک نیکی کا اجر سات سو گنا بھئی سات سو گنا۔
تو اللہ فرما رہے ہیں من کان یرید حرث الاخرۃ جو کوئی آخرت کی کھیتی کو چاہتا ہے ہم بڑھا دیتے ہیں اس کے لیے اس کی کھیتی ومن کان یرید حرث الدنیا اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے نوتیہ منھا ہم اس میں سے اس کو کچھ دے دیتے ہیں وما لہ فی الاخرۃ من نصیب اور نہیں ہوگا اس کے لیے آخرت میں من نصیب کوئی حصہ۔ نصیب حصہ، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ ام لھم شرکاء شرعوا لھم من الدین ما لم یأذن بہ اللہ ام لھم شرکاء کیا ان کے کوئی شریک ہیں یعنی کیا انہوں نے کوئی شریک ٹھہرا رکھے ہیں کہ شرعوا لھم من الدین کہ جنہوں نے طے کر دیا ان کے لیے دین میں ما وہ طریقہ لم یأذن بہ اللہ کہ جس کی اللہ نے اجازت نہیں۔
اذن یئذن کے کیا معنی؟ اجازت دینے کے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ اللہ فرما رہے ہیں یہ دین میں یہ نئی نئی باتیں انہوں نے بنا رکھی ہیں اپنی طرف سے کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے دین میں یہ طریقہ ان کے لیے طے کر دیا جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ ام لھم شرکاء کیا ان کے کوئی ایسے شریک ہیں شرعوا لھم جنہوں نے طے کر دیا ان کے لیے من الدین دین میں سے ما وہ چیز، وہ طریقہ لم یأذن بہ اللہ کہ اجازت نہیں دی اس کی اللہ نے ولولا کلمۃ الفصل لقضی بینھم اور اگر نہ ہوتی فیصلے کی بات ولولا کلمۃ الفصل اور اگر فیصلے کی فیصلے کی بات نہ ہوتی (یعنی اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوتی) لقضی بینھم تو البتہ ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔ کون سے فیصلے کی بات طے ہو چکی ہے؟ کہ فیصلہ آخرت ہی میں اللہ فرمائیں گے بھئی، اسی لیے قیامت قائم ہوگی کہ ہر بات کا فیصلہ کیا جائے۔ ولولا کلمۃ الفصل لقضی بینھم اور اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوتی تو البتہ ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا وان الظالمین لھم عذاب الیم اور بے شک ظالم جو ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ترا الظالمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم ترا الظالمین آپ دیکھیں گے ظالموں کو کہ مشفقین وہ ڈر رہے ہوں گے مما کسبوا اس سے جو انہوں نے کمایا۔ آپ دیکھیں گے ظلم کرنے والوں کو کہ وہ ڈر رہے ہوں گے مما کسبوا اس سے جو انہوں نے کمایا یعنی جو عمل کیے انہوں نے۔ اور یہاں مضاف محذف ہے ای من و بالما کسبو وہ جو انہوں نے کمایا اس کے وبال سے ڈر رہے ہوں گے جو عمل کیئے اس کے وبال سے ترا الظالمین مشفقین مما کسبوا آپ دیکھیں گے کہ ظالم آپ دیکھیں گے ظالموں کو کہ وہ ڈر رہے ہیں اپنے کمائیوں کے وبال سے وھو واقع بھم اور وہ وبال ان پر واقع ہو کر رہے گا۔ وہ وبال ان پر واقع ہوگا والذین امنوا وعملوا الصالحات فی روضات الجنات جی اب دیجیے بھئی آپ حضرات کا بھی تذکرہ آ گیا والذین امنوا اور وہ لوگ جو ایمان لائے وعملو الصالحات اور نیک عمل کرتے رہے فی روضات الجنات وہ جنتوں کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جنتوں کے باغوں میں ہوں گے۔ روضات جمع ہے روضۃ کی روضۃ کہتے ہیں شاداب باغ کو بھئی، شاداب زمین کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ شاداب بھئی۔ تو وہ جنتوں کے باغوں میں شاداب زمینوں میں ہوں گے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے فی روضات الجنات وہ جنت کے کی شاداب زمینوں میں ہوں گے، جنت کے شاداب باغوں میں ہوں گے (یعنی جنت کے اعلیٰ ترین حصوں میں ہوں گے) لھم ما یشاءون عند ربھم ان کے لیے وہ ہوگا یشاءون جو وہ چاہیں گے ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے عند ربھم ان کے پروردگار کے پاس۔ لھم ما یشاءون عند ربھم ان کے لیے جو وہ چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ہوگا ذالک ھو الفضل الکبیر یہ ہے بڑا فضل۔ یہ ہے یہ ہے بڑا فضل۔
ذالک الذی یبشر اللہ عبادہ ذالک الذی یہ وہ چیز ہے یبشر اللہ عبادہ کہ جس کی خوشخبری دیتے ہیں اللہ اپنے بندوں کو وہ بندے الذین امنوا وعملوا الصالحات جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ذالک الذی یبشر اللہ عبادہ الذین امنوا وعملوا الصالحات یہی ہے وہ چیز جس کی اللہ خوشخبری دیتے ہیں اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے آپ کہہ دیجیے لا اسئلکم علیہ اجرا کہ میں تم سے نہیں سوال کرتا اس پر کسی اجر کا یہ جو میں تمہیں دین کی دعوت دے رہا ہوں، یہ جو میں تمہیں تبلیغ کر رہا ہوں اس پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا الا المودۃ فی القربی مگر محبت فی القربی رشتہ داری میں۔ مگر رشتے دارا قرب المودۃ فی القربی مگر محبت فی القربی کس چیز میں؟ رشتہ داری میں۔ اس آیت کی قربی اس میں قربی سے کیا مراد ہے اور اسی کے مطابق پھر مودت فی القربی کا بھی معنی ہوگا تو یاد رکھ
یہ تین تفسیریں اس میں یاد رکھیے بھئی۔
پہلی تفسیر: قربا رشتہ داری۔ اے پیغمبر! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ یہ جو میں تمہیں تبلیغ کرتا ہوں اس پر میں تم سے کوئی اجر کوئی بدلہ نہیں چاہتا، صرف رشتہ داری میں محبت چاہتا ہوں بھئی۔ کہ تم لوگ میرے رشتہ دار ہو۔ تم میں سے کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس کے ساتھ میری رشتہ داری نہ ہو۔ میں تم سے کوئی اور اجر تو نہیں چاہتا صرف کم از کم اس رشتہ داری کے کئی لحاظ رکھو اور کم از کم میرے راستے میں روڑے نہ اٹکاؤ، مجھے تکلیفیں نہ دو، مجھے دین کا پیغام آسانی سے سب تک پہنچانے دو، صرف اتنا میں چاہتا ہوں تم سے۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ تو قربا کا کیا معنی کیا؟ رشتہ داری۔ دوسرا معنی بھئی: الا المودۃ فی القربیٰ مگر محبت فی القربیٰ۔ یعنی معنی ہے رشتہ داروں میں محبت بھئی، رشتہ داری میں محبت یعنی تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرو، حق قرابت کو پہچانو، رشتہ داری کا حق ادا کرو، آپس میں رشتہ داروں سے کیا کرو؟ محبت کرو۔ تو رشتہ داری میں محبت، پہلے کا کیا معنی تھا؟ وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ رشتہ داری تھی اس میں محبت چاہتا ہوں کہ تم مجھے تکلیف نہ دو۔ دوسرا معنی کیا ہوا؟ رشتہ داری میں محبت یعنی آپس میں جو تمہاری رشتہ داریاں ہیں تو رشتہ داروں کا حق پہچانو، ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھو۔
اور تیسرا معنی: الا المودۃ فی القربیٰ مگر اللہ کے قرب میں محبت اللہ کے قرب میں محبت۔ یعنی وہ افعال، وہ کام جو اللہ کے قرب کا باعث ہیں، وہ نیکیاں جو اللہ کے قرب کا باعث ہیں ان کی محبت چاہتا ہوں کہ تم ان نیکیوں کی طرف آؤ اور ان پر چلو بھئی ان کو کرو۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔
تینوں تفسیریں سمجھ میں آگئیں۔ پہلا معنی کیا ہوا؟ کہ میری جو تم سے رشتہ داری ہے اس میں محبت چاہتا ہوں کہ کم از کم مجھے تکلیف نہ دو، ستاؤ نہ اور کچھ بدلہ نہیں چاہتا۔ یا دوسرا معنی؟ آپس میں جو رشتہ داریاں ہیں اس میں محبت کہ ایک دوسرے کا حق پہچانو، حق قرابت کو ادا کرو۔ تیسرا معنی: محبت کس میں؟ قرب میں۔ قرب میں، یعنی کس کے قرب میں؟ اللہ کے قرب میں محبت چاہتا ہوں، یعنی وہ کام جو اللہ کے قرب کا باعث ہیں ان کی محبت چاہتا ہوں کہ تم وہ کرو، نیکیاں کرو۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ تینوں معنی تو پہلے معنی کے مطابق قربا رشتہ داری کے معنی میں ہو گیا بھئی۔ دوسرے معنی کے مطابق پھر قربا سے مراد اقارب ہوئے، رشتہ دار ہوئے۔ تیسرے معنی کے مطابق قربا سے مراد قرب ہے، قریب قرب نزیکی ہی بھئی۔
تو یہاں تین تفسیریں بیان ہوئیں، یاد رکھیے ان میں سے پہلی تفسیر راجح ہے بھئی۔ پہلی تفسیر راجح ہے کیونکہ اس کا ذکر صحیحین کی احادیث میں آتا ہے بھئی، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث میں ہے تو یہ پہلی تفسیر راجح ہے بھئی ان تین تفسیروں میں سے۔
قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربي اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ میں نہیں مانگتا تم سے کوئی اجر، کوئی بدلہ إلا الموددة في القربیٰ مگر رشتہ داری میں محبت۔ ومن يقترف حسنة نزيد له فيها حسنا۔ اقترف يقترف کے معنی ہوتے ہیں کمانے کے۔ ومن يقترف حسنة اور جو نیکی کماتا ہے، نزيد له ہم بڑھا دیتے ہیں اس کے لیے فیہا اس نیکی میں حسنا حسن کو خوبصورتی کو (یعنی خوبی کو)۔ ہم اس کے لیے جو نیکی کماتا ہے، جو نیکیاں کرتا ہے ہم اس کے لیے اس نیکی میں حسن کو یعنی خوبی کو اور بڑھا دیتے ہیں۔ یعنی ایک نیکی کا بدلہ دس گناہ دیتے ہیں بلکہ سات سو تک دیتے ہیں۔ جو نیکی کرتا ہے ہم اس کے لیے نیکی کی خوبی کو بڑھا دیتے ہیں۔
إن الله غفور شكور۔ بیشک اللہ بڑے بخشنے والے، قدردان ہیں۔ شکور کا کیا معنی؟ قدردان ہیں بھئی۔ جو نیکی کرتا ہے، جو اللہ کے راستے پر چلتا ہے، اللہ اس کی قدر فرماتے ہیں۔ إن الله غفور شكور بیشک اللہ بخشنے والے ہیں، قدردان ہیں۔ أم يقولون افترا على الله كذبا۔ کیا وہ لوگ کہتے ہیں افترا کہ اس نے گھڑ لیا ہے علی اللہ اللہ پر کذبا جھوٹ۔ وہ لوگ کیا کہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں؟ کہ یہ جو کہتے ہیں، یہ جو ہمیں قرآن سناتے ہیں اور کہتے ہیں یہ اللہ کا کلام ہے یہ اس نے اپنی طرف سے گھڑ باتیں گھڑ کر بنا لی ہیں اپنی طرف سے۔ تو اسی کو اللہ ذکر فرما رہے ہیں: أم يقولون افترا على الله كذبا کیا وہ لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ باندھا ہے اللہ پر اس نے۔ فئن يشأ الله يختم على قلبك۔ پس اگر اللہ چاہے تو مہر لگا دے علی قلبک آپ کے دل پر۔
یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑا ہے، جھوٹ باندھا ہے، اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تو جھوٹ کو چلنے نہیں دیتے، اللہ تو باطل کو چلنے نہیں دیتے اگر ایسا ہوتا تو اللہ چاہتے تو کیا فرماتے؟ آپ کے دل پر مہر لگا دیتے اور پھر آپ اس طرح کی اور باتیں لانے پر قادر ہی نہ ہوتے۔ بلکہ جو پہلے دی گئی تھی بفرض محال اگر ایسا ہوتا وہ بھی آپ سے لے لی جاتی، مٹادی جاتی آپ کے دل سے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔
فئن يشأ الله يختم على قلبك پس اگر اللہ چاہے تو مہر لگا دے آپ کے دل پر۔ ويمح الله الباطل ويحق الحق بكلماته۔ اور اللہ اور مٹ دیتے ہیں اللہ باطل کو ويحق الحق اور ثابت رکھتے ہیں حق کو بكلماته اپنے کلمات کے ساتھ، اپنے احکام کے ساتھ۔ اللہ اللہ تو باطل کو مٹا دیتے ہیں اور حق کو ثابت رکھتے ہیں اپنے کلمات کے ساتھ، اپنے احکام کے ساتھ۔ معنی سمجھ میں آیا؟ کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں کہ پیغمبر اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ اگر ایسا ہوتا بفرض مححال اگر آپ یہ اپنی طرف سے گھڑ کر لائے ہوتے تو اللہ تو اس بات پر قادر ہے، وہ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا کیونکہ اللہ جو ہیں وہ باطل کو مٹادیتے ہیں اور حق کو ثابت رکھتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔
ويعس اللہ۔ یمحو یاد رکھیے یہ مھا یمحو یہاں واؤ کتابتا دیکھیے گرایا گیا ہے، لکھا نہیں گیا۔ تو یہ قرآن کا رسم الخط ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی! میں نے بتلایا تھا قرآن کا رسم الخط بھی توقیفی ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا اسی طرح لکھا گیا۔ تو یہاں عربی زبان کے ضابطوں کے مطابق واؤ ہونا چاہیے۔ یمحا یمحو واؤ ہے نا یہ ناقص ہے، ناقص آخر میں واؤ تو آنا چاہیے بھئی یمحا یمحو مفرد کا صیغہ ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو واؤ ہونا چاہیے لیکن وہ واؤ اجتماع ساکنین کی وجہ سے تلفظ سے گر جاتا ہے۔
يمحو يمحو واؤ ہے اگر آگے ذرا الرجل ملائیں ساتھ۔ يمحو الرجل واؤ گر گیا یا نہیں گر گیا اجتماع؟ تو یہ واؤ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرا ہے، لیکن چونکہ اجتماع ساکنین سے گرا تھا تو رسم الخط میں بھی اس کو گرا دیا گیا۔ جیسے قرآن میں آتا ہے سند کس طرح ہے آیت؟ سنعذ ال۔ سنادعو الزبانية سنادعو الزبانية۔ دیکھیے یہاں پر بھی واؤ گرا ہے بھئی۔ سنادعو یہاں واؤ اور آپ دیکھیں گے رسم الخط میں نہیں ہے تو قرآن کا اپنا رسم الخط ہے بھئی۔
ويعس الله الباطل ويحق الحق بكلماته اور اللہ باطل کو مٹادیتے ہیں اور حق کو ثابت رکھتے ہیں بكلماته اپنے کلمات سے۔ إنہ عليم بذات الصدور۔ بیشک وہ جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کو۔ وهو الذي يقبل التوبة عن عباده ويعف عن السيئات ويعلم ما تفعلون۔ اور وہی ہے جو توبہ کو قبول کرتا ہے عن عباده اپنے بندوں سے ويعف عن السيئات اور معاف فرما دیتا ہے عن السيئات برائیوں کو، برائیوں سے معاف فرما دیتا ہے۔ ويعلم ما تفعلون اور وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ وهو الذي يقبل التوبة عن عباده ويعف عن السيئات ويعلم ما تفعلون اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ کو اپنے بندوں سے ويعف عن السيئات اور معاف کر دیتا ہے برائیوں کو ويعلم ما تفعلون اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
ويستجيب الذين آمنوا وعملوا الصالحات استجابت کے معنی ہیں قبول کر رہے ہیں یعنی دعائیں قبول کرتا ہے، یعنی دعائیں سنتا ہے۔ ويستجيب الذين آمنوا اور وہ دعائیں سنتا ہے ان لوگوں کی جو ایمان لائے وعملوا الصالحات اور نیک عمل کیے۔ ويزيدهم من فضله اور زیادہ کرتا ہے ان کو کے لیے من فضله اپنے فضل سے, بڑھاتا ہے ان کے لیے اپنے فضل سے (یعنی ان کو زیادہ دیتا ہے)۔ والكافرون لهم عذاب شديد اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے۔
ولو بسط الله الرزق لعباده لبغوا في الأرض اور اگر اللہ پھیلا دیں رزق کو یعنی کشادہ کردیں رزق کو لعباده اپنے بندوں کے لیے لبغوا في الأرض تو البتہ وہ سرکشی کریں زمین میں۔ اللہ ایک حد تک رزق کو پھیلاتے ہیں، ہر ایک کے لیے نہیں پھیلاتے اور بہت زیادہ کشادہ رزق نہیں دیتے اتنا، کیونکہ اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ اگر ہم رزق بڑھادیں مخلوق کے لیے سب کے لیے ہم رزق بڑھا دیں تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں گے۔ اور اس کا مشاہدہ آپ بھی کرتے ہیں جس کے پاس ذرا مال آتا ہے وہ کس طرح سرکشی کرتا ہے زمین کے اندر بھئی۔
ولو بسط الله الرزق لعباده لبغوا في الأرض اور اگر اللہ کشادہ کردیں رزق کو اپنے بندوں کے لیے لبغوا في الأرض تو البتہ وہ سرکشی کرنے لگیں زمین میں۔ ولكن ينزل بقدر ما يشاء۔ لیکن وہ اتارتا ہے ولكن ينزل لیکن وہ اتارتا ہے بقدر ما يشاء اتنے مقدار جتنا وہ چاہتا ہے، جتنا وہ چاہتا ہے اسی کے بقدر نازل کرتا ہے رزق۔ ولكن ينزل بقدر ما يشاء لیکن وہ نازل کرتا ہے اسی کے بقدر جو وہ چاہتا ہے۔ إنہ بعباده خبير بصير۔ بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے، بصير دیکھنے والا ہے۔ وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے، انہیں دیکھنے والا ہے، انہیں دیکھ رہا ہے۔
وهو الذي ينزل الغيث اور وہی ذات ہے جو بارش کو نازل کرتی ہے۔ غيث بارش کو کہتے ہیں بھئی۔ اور بارش بھئی۔ اور عام بارش نہیں، عام بارش کے لیے عربی میں مطر کا لفظ آتا ہے، مطر۔ غيث وہ بارش جو قحط کو دور کردے ختم کردے بھئی، یعنی باران رحمت مراد ہے، کیا مراد ہے؟ رحمت والی بارش بھئی۔ وهو الذي ينزل الغيث من بعد ما قنطوا اور وہی ذات ہے جو رحمت والی بارش نازل کرتی ہے من بعد ما قنطوا بعد اس کے کہ جب وہ لوگ مایوس ہوجاتے ہیں۔ قنطہ کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ مایوس ہونے کے۔ یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ کس طرح آیت آئی تھی؟ فيقنط قنوط لفظ آیا تھا یا نہیں آیا تھا؟ تو قنطا قنطہ کے معنی مایوس ہونا۔ بعد اس کے کہ جب وہ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں۔ وينشر رحمته اور وہ پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو۔ وهو الولي الحميد اور وہی کارساز ہے، قابل تعریف ہے۔ وهو الولي الحميد وہی کارساز قابل تعریف ہے۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں وہی ذات ہے جو بارش کو نازل کرتی ہے جبکہ لوگ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں۔ ظاہری آثار کے اعتبار سے لوگ بارش وغیرہ سے بالکل مایوس ہو چکے ہوتے ہیں تو اس وقت اچانک اللہ اپنی رحمت کو پھیلا دیتا ہے اور رحمت والی بارش ان پر نازل کردیتا ہے۔ وهو الذي ينزل الغيث اور وہی ذات ہے جو بارش اتارتی ہے من بعد ما قنطوا اس کے بعد جبکہ وہ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں وينشر رحمته اور اپنی رحمت کو پھیلا دیتا ہے وهو الولي الحميد اور وہی کارساز قابل تعریف ہے۔
ومن آياته خلق السماوات والأرض اور اسی کی اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے خلق السماوات والأرض زمینوں اور آسمانوں کا پیدا کرنا۔ وما بث فيهما من دابة اور وہ جو پھیلائے ہیں بسط کے معنی پھیلانا، بکھیرنا۔ وما بث فيهما اور وہ جو پھیلائے ہیں فیهما ان دونوں میں (یعنی زمین اور آسمان میں) من دابة جاندار۔ دابة جاندار۔
ومن اور اسی و من آياته اور اللہ ہی کی نشانیوں میں سے ومن آياته اور اس کی نشانیوں میں سے ہے خلق السماوات والأرض زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنا وما بث فيهما من دابة اور وہ جو جاندار ان دونوں کے اندر پھیلا رکھے ہیں۔ اس آیت کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ نے زمین پر جاندار پیدا فرمائے اس طرح کے معلوم ہوتا ہے کچھ جاندار آسمانوں پر بھی ہیں، باقی حقیقت اللہ ہی جانتے ہیں وہ کس قسم کے ہیں۔ بہرحال آیت کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ وما بث فيهما اور وہ جو ان دونوں میں پھیلائے جاندار، کن دونوں میں؟ آسمانوں اور زمین میں۔
وهو على جمعهم إذا يشاء قدير اور وہ ان کے جمع کرنے پر إذا يشاء جب چاہے وہ، قدير قادر ہے۔ وہ ان کے جمع کرنے پر جب چاہے قادر، یعنی وہ جب چاہے ان کو جمع کر سکتا ہے، وہ جب چاہے ان کو جمع کر سکتا ہے۔
چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔