Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-105

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 3
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم والطور و کتاب مسطور فی رق منشور والبيت المعمور والסף المرفوع والبحر المسجور إن عذاب ربك لواقع ما له من دافع يوم تمور السماء مرا وتصير الجبال سیرا والطور یہ و قسمیہ جا رہا ہے۔ والطور قسم ہے طور پہاڑ کی۔ والطور قسم ہے طور پہاڑ کی۔ طور وہ پہاڑ جہاں پر حضرت موسی علیہ السلام کو تو رات دی گئی جہاں اللہ سے ہم کلام ہوئے والطور قسم ہے طور پہاڑ کی و کتاب مسطور مسطور لکھی ہوئی لکھی ہوئی سطرا یسترو کے معنی لکھنے کے ہیں و کتاب مسطور اور لکھی ہوئی کتاب کی فی رق منشور رقون جو ہے رقون یہ باریک چمڑا لکھنے کے لیے جسے تیار کیا جاتا قدیم زمانے میں باریک چمڑا جس پر لکھا جاتا تھا اسی طرح یہ کاغذ کو بھی کہتے ہیں سفید کاغذ کو رقون رقون معنی سمجھ میں آیا بھئی وہ باریک چمڑا جس پر لکھا جاتا ہے یا سفید کاغذ بھئی۔ منشور کھلا ہوا پھیلایا ہوا و کتاب مسطور فی رق منشور اور اس کتاب کی جو لکھی گئی ہے جو لکھی ہوئی ہے فی رق منشور کھلے کاغذ پر جو لکھی گئی ہے کھلے کاغذ پر یا کشادہ کاغذ پر تو فی رق منشور کا تعلق مسطور سے ہے مسطور سے جار مجرور کا تعلق کس سے ہے مسطور سے لکھی گئی ہے کس پر لکھی گئی ہے کس میں لکھی گئی ہے فی رق منشور کشادہ کاغذ میں والطور و کتاب مسطور فی رق منشور قسم ہے طور پہاڑ کی اور ایسی کتاب کی جو لکھی گئی ہے کھلے کاغذ پر والبيت المعمور اچھا بھئی طور تو پہاڑ ہوا کتاب مسطور سے کیا کون سی کتاب مراد ہے تو بعض مفسرین حضرات لکھتے ہیں اس سے مراد لوح محفوظ ہے بھئی کیا مراد ہے؟ لوح محفوظ۔ بعضوں نے کہا اس سے مراد قرآن ہے بعضوں نے کہا اس سے مراد تورات ہے بھئی تورات اور اس کی دیکھو مناسبت بھی آ گئی طور کے ذکر کے ساتھ بھئی طور پہاڑ اور اس کے ساتھ وہیں پر جو تورات دی گئی وہ مراد ہے۔ بعضوں نے کہا کتاب مسطور سے مراد ہے انسان کا نامہ اعمال جس میں اس کے اعمال درج ہوتے ہیں بھئی۔ والبيت المعمور اور بیت المعمور کی۔ بیت المعمور سے کیا مراد ہے بعضوں نے کہا بیت اللہ مراد ہے خانہ کعبہ بھئی۔ اور زیادہ مفسرین اس بات کی طرف گئے ہیں کہ بیت المعمور سے مراد وہ فرشتوں کی عبادت گاہ جو ساتویں آسمان پر واقع ہے یہ جو خانہ کعبہ ہے اس کے بالکل محاذات میں اس کے بالکل برابر میں بالکل اس کے اوپر اس کی سیدھ میں ساتویں آسمان پر بیت المعمور ہے بھئی۔ احادیث میں جس کا ذکر آتا ہے بیت المعمور ہے جہاں فرشتے طواف کرتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں اللہ کی اور روایات میں آتا ہے کہ روزانہ ستر ہزار فرشتے وہاں طواف کرتے ہیں۔ ستر ہزار فرشتے روزانہ کتنے فرشتے؟ ستر ہزار۔ اور ایک دفعہ جس کی باری آ جاتی ہے پھر دوبارہ کبھی باری نہیں آتی بھئی اتنی کثرت ہے کثیر تعداد ہے فرشتوں کی بھئی۔ والبيت المعمور اور بیت المعمور کی والسقف المرفوع اور اس چھت کی المرفوع جو بلند کی گئی ہے یعنی بلند چھت کی اونچی چھت کی قسم ہے طور پہاڑ کی اور اس کتاب کی جو لکھی گئی ہے کشادہ ورق میں اور بیت کشادہ کاغذ میں اور بیت المعمور کی اور اونچی چھت کی بلند چھت کی۔ یہ بلند چھت سے کیا مراد ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد آسمان ہے کیونکہ آسمان بھی دنیا کے لیے چھت کی طرح ہے بعضوں نے کہا اس سے مراد عرش الہی ہے بھئی عرش الہی ہے کہ وہ جنت کی چھت ہے بھئی جنت کی چھت کیا ہو گی جیسے دنیا کی چھت آسمان ہے اسی طرح جنت کی چھت کیا ہو گی عرش الہی ہے بھئی والسقف المرفوع اور بلند چھت کی والبحر المسجور اور بھرے ہوئے سمندر کی مسجور کا ایک معنی ہے بھرے ہوئے بھئی سجارہ کے معنی بھرنے کے ہوتے ہیں بھئی تو والبحر المسجور کا کیا معنی بھرا ہوا سمندر پر سمندر بھئی تو اس سے کون سا سمندر مراد ہے بعض کہتے ہیں یہ دنیا ہی کے سمندر مراد ہیں اور بعضوں نے کہا کہ وہ سمندر جو عرش کے نیچے ہے بھئی وہ سمندر جو عرش کے روایات میں آتا ہے بھئی تو بعضوں نے کہا وہ سمندر مراد ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر اور عرش سے نیچے ہے بھئی تو ایک معنی میں نے کیا کیا والبحر المسجور بھرے ہوئے سمندر کی دوسرا معنی مسجور کے گرم بھئی گرم ابلتے ہوئے والبحر المسجور اور ابلتے ہوئے سمندر کی جیسے روایات میں بھی آتا ہے احادیث یہ قرآن میں بھی آتا ہے وإذا البحار سجرت کہ قیامت کے قریب قیامت میں کیا کیا جائے گا ان سمندروں میں آگ لگ جائے گی یہ دہکا دیے جائیں گے گرم کر دیے جائیں گے تاکہ اس کی وجہ سے پھر کافروں کو اور تکلیف پہنچے بھئی معنی سمجھ میں آیا بھئی تو ایک معنی ہوا والبحر المسجور بھرے ہوئے سمندر کی دوسرا معنی کیا ہوا ابلتے ہوئے سمندر کی إن عذاب ربك لواقع یہ آ گیا جواب قسم بھئی جواب قسم۔ بے شک عذاب ربك لواقع بے شک آپ کے رب کا عذاب البتہ واقع ہونے والا ہے یقینا آپ کے رب کا عذاب واقع ہو گا ما له من دافع نہیں ہے اس کے لیے اس عذاب کے لیے من دافع کوئی ٹالنے والا کوئی اس عذاب کو ٹالنے والا نہیں ہے کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا إن عذاب ربك لواقع ما له من دافع بے شک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے ما له من دافع نہیں ہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اس کو کوئی ٹالنے والا يوم تمور السماء مرا مار یمورو مورن کے معنی ہوتے ہیں حرکت کرنا حرکت کرنا یوم تمور السماء مرا جس دن آسمان حرکت کرنے لگے گا مورن مفعول مطلق ہے بھئی ضربت ضربا بھئی جس دن آسمان حرکت کرنے لگے گا یعنی قیامت میں آپ نے پڑھا کہ یہ آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور یہ پہاڑ جو ہیں دھمکی ہوئی رنگین اون کی طرح اڑتے پھریں گے بھئی یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے بھئی تو اسی کا ذکر ہے یوم تمور السماء مرا جس دن آسمان حرکت کرنے لگے گا یا با محا یوں ترجمہ کر لیں یوم تمور السماء مرا جس دن کے آسمان تھرتھرانے لگے گا لرزنے لگے گا اور پھر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا یوم تمور السماء مرا جس دن آسمان تھرتھر تھرتھرانے لگے گا وتصير الجبال سيرا صار یسیرو کے معنی چلنے کے ہوتے ہیں اور یہ سیرن مفعول مطلق ہے بھئی اور آپ پہاڑ چلنے لگیں گے یعنی اپنی جگہ چھوڑ دیں گے پہاڑ اتنی بڑی چیز ہے بھئی کہ جس میں راستہ بنانے میں بھی انسان کا ااہ کی کتنی محنت لگ جاتی ہے تو یہ پہاڑ اتنے بڑے بڑے یہ بھی اپنی جگہ چھوڑ دیں گے بھئی وتصير الجبال سيرا اور پہاڑ چلنے لگیں گے فویل يومئذ للمكذبين پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے الذین هم في خوض يلعبون خوض کہتے ہیں باتوں میں مشغول ہونا خاض یخوض خوضا کا کیا معنی ہے؟ باتوں میں مشغول ہونا الذین هم في خوض يلعبون وہ لوگ جو باتوں کے اندر کھیل رہے ہیں جو باتوں میں کھیل رہے ہیں مشغولوں میں لگے ہوئے ہیں آخرت کی کوئی توجہ نہیں فویل يومئذ للمكذبين پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے جو کہ باتوں میں کھیل رہے ہیں يوم يدعون إلى نار جهنم دعا جس دن کہ وہ دھکیلے جائیں گے وہ آگ جہنم کی آگ کی طرح دعا یہ مفعول مطلق ہے دعا یدعو کے معنی دھکیلنے کے دھکیلنے کے بھئی دھکا دینا کسی کو يوم يدعون إلى نار جهنم دعا جس دن کہ وہ دھکیلے جائیں گے جہنم کی آگ کی طرح هادین النار التي كنتم بها تكذبون پھر ان سے کہا جائے گا ہادین النار التي یہ ہے وہ اگ التي كنتم بها تكذبون جس کو تم جھٹلاتے تھے یہ ہے وہ اگ جس کو تم دنیا میں تسلیم ہی نہیں کرتے تھے اور اس کو جھٹلاتے تھے یہ ہے وہ اگ افحر هذا أم أنتم لا تبصرون افحر هذا کیا یہ جادو ہے أم أنتم لا تبصرون یا تم دیکھ نہیں رہے یعنی تمہیں دکھائی نہیں دے رہا ان سے کہا جائے گا یہ وہ اگ ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب بتلاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں اب بھی دکھائی نہیں دے رہا تمہاری نگاہوں کے سامنے ہے تم اس کو جھٹلایا کرتے تھے هادین النار دیکھو هادین آیا النار جو ہے صفت ہے هادینے کی بھئی نہیں یہ خبر ہے هادینے کی اور هادینے دیکھیے مؤنث لایا گیا مبتدا اس میں اشارہ معلومہ نار کا لفظ عربی میں کیا ہے مؤنث ہے مؤنث سمائی هادین النار التي كنتم بها تكذبون یہ ہے وہ آگ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے افحر هذا أم أنتم لا تبصرون کیا یہ جادو ہے یا تمہیں دکھائی نہیں دے رہا اصلوھا اصلوھا اس میں داخل ہو جاؤ اصطلحا ایو دخلوھا، اصطلحا اس میں تم داخل ہو جاؤ، فاصبروا ولا تصبروا، پس تم صبر کرو یا صبر نہ کرو، اب تو تمہیں یہ عذاب بھگتنا ہی پڑے گا، چاہے صبر کرو یا صبر نہ کرو اسی میں رہنا ہے۔ اصطلحا فاصبروا ولا تصبروا، اس میں داخل ہو جاؤ پس تم صبر کرو یا صبر نہ کرو، سواء علیکم تم پر برابر ہے، یعنی تم صبر کرو یا صبر نہ کرو تم پر یہ برابر ہے، انما تجزون ما کنتم تعملون، کہ تم تو بدلہ دیے جاتے ہو وہی جو تم عمل کیا کرتے تھے، تو تمہیں یہ تمہیں اسی چیز کا بدلہ مل رہا ہے جو تم دنیا کے اندر عمل کیا کرتے تھے، یعنی سرکشی کرتے تھے اور شرک کرتے تھے اور ظلم و سستم کرتے تھے۔ انما تجزون ما کنتم تعملون، کہ تم کو بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ ان المتقین فی جنات و نعیم، میں نے بتلایا قرآن کا یہ طریقہ ہے، کہ جہاں جہنم کا ذکر آ جائے اس کے ساتھ ہی پھر فورا کس کا ذکر کر دیا جاتا ہے؟ جنت کا، جہنم کے ہولناک مظاہر ذکر ہوئے بھئی اور کہیں اتنے ہولناک مناظر، اتنے ہولناک مناظر کہ انسان سوچ کر کانپ اٹھتا ہے، تو کہیں ایسا نہ ہو جو خوف الہی دل میں رکھتے ہیں، کہیں وہ ان کے خوف کی شدت سے دل ہی نہ پھٹ جائیں، تو فورا ہی جنت کا ذکر کر دیا جاتا ہے۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں روایات میں آتا ہے ایک مرتبہ، وہ رات کے وقت شہر میں چکر لگا رہے تھے، آپ کی عادت مبارکہ تھی، لوگوں کے احوال معلوم کرنے کے لیے رات کو مدینہ منورہ میں چکر لگاتے تھے بھئی۔ چنانچہ ایک گھر کے پاس سے گزر رہے تھے اندر ایک شخص کی تلاوت کی آواز آئی، یہ نماز وغیرہ میں مشغول یا تلاوت کر رہا تھا اور اس نے یہ سورہ طور پڑھنا شروع کی بھئی۔ اور پھر سورہ طور کے اندر جب آیا ان عذاب ربک لواقع تو فرمایا کہ واقعی یہ اللہ کی ہر بات برحق ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، اب وہیں پر بیٹھ گئے تلاوت سن رہے تھے اور پھر یہ فرمایا، پھر اس کے بعد کہتے ہیں بعد میں گھر تشریف لے آئے، لیکن پھر ایک ماہ تک آپ بیمار رہے بھئی خوف کی وجہ سے، ایک ماہ تک کسی کو آپ کا مرض ہی نہیں سمجھ میں آتا تھا، تو جس کو اللہ نے دل دیا ہوتا ہے، وہ ان باتوں کو سن کر کانپ اٹھتا ہے بھئی، اس کی حالت غیر ہونے لگتی ہے، تو قران فورا ہی کس کا ذکر شروع کر دیتا ہے؟ جنت کا ذکر کر دیتا ہے۔ ان المتقین فی جنات و نعیم، یقینا متقی لوگ جو ہیں باغوں میں اور نعمتوں میں ہوں گے، فاکھین بما آتاہم ربہم، فاکھینا، لذت اٹھا رہے ہوں گے۔ فاکھینا، لذت اٹھا رہے ہوں گے، بما آتاہم ربہم، اس چیز کی جو ان کے پروردگار نے ان کو عطا کیا، جو ان کے پروردگار نے ان کو عطا کیا ہے، اس سے اس کے سے لذت اٹھا رہے ہوں گے۔ آتا یؤتی کا معنی ہوتا ہے عطا کرنا۔ و وقاہہم ربہم عذاب الجحیم، اور بچا لیا ان کو ان کے پروردگار نے عذاب الجحیم، جہنم کے عذاب سے۔ و وقاہہم ربہم عذاب الجحیم، اور بچا لیا ان کو ان کے پروردگار نے جہنم کے عذاب سے، دوزخ کے عذاب سے۔ اللہ فرما رہے ہیں متقی لوگ اس وقت جنتوں میں ہوں گے، نعمتوں میں ہوں گے اور جو کچھ ان کے پروردگار نے انہیں نعمتیں دی ہیں، ان سے لذت اندوز ہو رہے ہوں گے، اس کا لطف اٹھا رہے ہوں گے۔ اور یہ کیا کوئی چھوٹا انعام ہے، کہ اللہ نے ان کو جہنم سے ان کی حفاظت کر دی، ان کو محفوظ رکھ رکھا اللہ نے جہنم سے، یہ بھی اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ کلوا واشربوا ہنیئا بما کنتم تعملون، اور ان سے کہا جائے گا، کلوا واشربوا، کھاؤ اور پیو، ہنیئا، خوشی خوشی، مزے سے۔ کلوا واشربوا ہنیئا، کھاؤ اور پیو مزے سے، بما کنتم تعملون، بدلے میں اس کے جو تم عمل کیا کرتے تھے، جو تم عمل کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں اب خوشی خوشی تم کھاؤ اور پیو۔ کلوا واشربوا ہنیئا بما کنتم تعملون، کھاؤ اور پیو، خوشی خوشی، بدلے میں اس کے جو تم عمل کیا کرتے تھے، وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں۔ متقیینا علی سرور مصفوفہ، اس حال میں کہ وہ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے، علی سرور مصفوفہ۔ سرور جمع ہے سریر کی، تختوں کو کہتے ہیں۔ مصفوفہ، صف بصف لگائے ہوئے بھئی، قطار کے ساتھ جو لگے ہوئے ہوں، قطار میں۔ متقیینا علی سرور مصفوفہ، ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے، قطار میں لگے ہوئے تختوں پر۔ قطار میں لگائے گئے تختوں پر وہ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے، و زوجناہم بحور عین، اور ہم نکاح کر دیں گے ان کا حور عین سے۔ حور، یہ لفظ پہلے بھی بیان ہوا، حوراء کی جمع ہے اور عین عیناء کی جمع ہے، اور حوراء، وہ عورت جس کی آنکھوں کی سفیدی خوب سفید اور سیاہی خوب سیاہ ہو۔ اور عیناء، وہ عورت جس کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں بھئی، جو اور یہ دونوں انتہائی حسن کی علامت ہیں۔ تو ہم ان کا نکاح کر دیں گے بحور عین، بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ، والذین آمنوا واتبعتھم ذریتھم، اور وہ لوگ جو ایمان لائے واتبعتھم، اور پیروی کی ان کی ذریتھم، ان کی اولاد نے۔ ذریت کس کہتے ہیں؟ اولاد۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی وہ اولاد جس نے ان کی پیروی کی، بایمان، کس کے ساتھ؟ ایمان کے ساتھ، اولاد کس حال میں تھی؟ ایمان کے ساتھ تھی۔ الحقنا بہم، ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ، ان کی، الحقنا بہم، ہم ان کے ساتھ ملا دیں گے ان ایمان والوں کے ساتھ، ذریتھم، ان کی اولاد کو۔ ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو ملا دیں گے، وما التناہم، الالتا یالتو کے معنی ہوتے ہیں کمی کرنا، کم کرنا۔ وما التناہم، اور ہم کمی نہیں کریں گے من عملھم، ان کے عمل میں سے، من شئی، کچھ بھی۔ ہم ان کے عمل میں کچھ بھی کمی نہیں کریں گے۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ والذین آمنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان، الحقنا بہم ذریتھم، وما التناہم من عملھم من شئی، اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی جو وہ اولاد جنہوں نے ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ، ہم ان لوگوں کے ساتھ ان کی اس اولاد کو ملا دیں گے اور ہم ان ایمان والوں کے عملوں میں ذرا بھر بھی کمی نہیں کریں گے۔ بھئی جنت میں جب جنتی چلے جائیں گے، اب بعض اوقات ایسا ہوگا، والدین جو ہیں ان کا درجہ اونچا ہوگا، اولاد جو تھی وہ ان کا وہ مقام نہیں ہوگا، وہ اس مرتبے یا اس درجے کو نہیں پہنچے ہوں گے، البتہ وہ بھی ایمان والے تھے، وہ بھی انہی کے راستے پر چلتے رہے، لیکن اس درجے کے نہیں، تو وہ بھی جنت میں ہیں لیکن وہ نچلے درجے میں ہیں۔ یہ اسی طرح اس کے ان کے ماں باپ بھئی، تو وہ پھر اللہ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ ہماری اولاد ہمیں یہاں نظر نہیں آ رہی۔ اللہ فرمائیں گے وہ نچلے درجے میں ہے، وہ پھر اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ ان کی اولاد کو بھی اسی درجے میں لے آئیں گے۔ اللہ ان کی اولاد کو بھی وہی درجہ دے دیں گے، یعنی ان کو اولاد کو نچلے درجے سے اٹھا کر اوپر والے درجے میں لے جایا جائے گا بھئی، اوپر والے درجے میں۔ تو اسی کا ذکر آ رہا ہے۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ والذین آمنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان، اور پیروی کی ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی، تو الحقنا بہم ذریتھم، تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو، وما التناہم من عملھم من شئی، اور ہم کمی نہیں کریں گے ان کے عمل میں سے کچھ بھی۔ یعنی یہ مطلب نہیں، کہ وہ جو والدین جن کا درجہ اونچا تھا، ان کے عمل میں سے کچھ لے کر ہم اولاد کو نہیں دیں گے۔ کیونکہ یہ تو ان کے عمل میں پھر کمی آ گئی بھئی۔ بلکہ ہم اپنے فضل سے کیا کریں گے؟ ان کی اولاد کو اوپر والا درجہ دیں گے، وہ والدین کے عمل میں کچھ کمی نہیں آئے گی بھئی، وہ اسی طرح ہوگا۔ وما التناہم من عملھم من شئی، اور ہم کمی نہیں کریں گے ان کے عمل میں سے کچھ بھی، کل امرء بما کسب رھین۔ کل امرء، ہر شخص، بما کسب، جو کچھ اس نے کمایا، رہین۔ رہین، اس کا ذمہ دار ہے۔ رہین کا کیا معنی؟ ذمہ دار۔ کل امرء، ہر شخص، رہین بما کسب، یہ بما کسب کا تعلق کس سے ہے؟ رہین سے۔ ہر شخص ذمہ دار ہے بما کسب، اس چیز کا جو اس نے کمایا، یعنی ہر شخص اپنی کمائی کا ذمہ دار ہے، جو اس نے عمل کیا اس کا ذمہ دار ہے، اگر نیک عمل کیے تو جنت ملے گی، برے عمل کیے تو جہنم ملے گی بھئی۔ کل امرء بما کسب رہین، ہر شخص اپنی کمائی کا ذمہ دار ہے، و امددناہم بفاکھۃ ولحم۔ یہ دیکھیے بھئی پیچھے آیا، والذین آمنوا، اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی وہ اولاد جنہوں نے ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ، ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ہم ان لوگوں، ایمان والوں کے عمل میں ذرا بھر بھی کمی نہیں کریں گے، یہ تو اللہ نے اپنا فضل بیان فرمایا۔ آگے اللہ نے عمومی ضابطہ ذکر کیا، بھئی عام ضابطہ تو یہی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے، جیسا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو بدلہ ملے گا۔ تو ہاں اگر کسی پر ہم فضل فرما دیں تو وہ ہماری مرضی بھئی۔ و امددناہم بفاکھۃ ولحم مما یشتھون۔ امدد یمدد امداد کے معنی ہوتے ہیں بڑھانے کے، اضافہ کرنے کے۔ و امددناہم، اور ہم ان کے لیے اضافہ کر دیں گے بفاکھۃ، پھلوں میں، ولحم، اور گوشت میں، مما یشتھون، اس میں سے جس کو وہ چاہتے ہوں گے۔ ہم ان کے لیے بڑھا دیں گے میوے اور گوشت، اس قسم میں سے جس کو وہ چاہتے ہوں گے۔ اللہ فرما رہے ہیں جنتی جس قسم کے میوے اور جس قسم کے گوشت، وہ چاہیں گے، جس قسم کے میوے اور گوشت جو ہے ان کو مرغوب ہوں گے، ہم اور زیادہ ان کو دیتے چلے جائیں گے، ہم اور بڑھا دیں گے ان کے لیے۔ و امددناہم بفاکھۃ ولحم مما یشتھون، اور ہم بڑھا دیں گے ان کے لیے پھل اور گوشت اس قسم میں سے جو ان کو مرغوب ہو، جو ان کو جس کی ان کو خواہش ہو۔ یتنازعون فیھا کأسأ لا لغو فیھا ولا تأثیم۔ یتنازعون فیھا جھگڑیں گے اس جنت میں کأسأ کاس شراب کا لبالب بھرا ہوا جام۔ یتنازعون فیھا جھگڑیں گے اس جنت میں کأسأ ایسے شراب کے جام پر لا لغو فیھا جس میں نہ تو بیہودہ گوئی ہوگی ولا تأثیم اور نہ گناہ میں ڈالنا ہوگا۔ اسم گناہ، تأثیم گناہ میں ڈالنا۔ جنتی بھئی آپس میں جیسے دنیا کے اندر ساتھی ہوتے ہیں کھانے پینے میں چھینا جھپٹی کرتے ہیں بھئی، اسی طرح جنتی جنت میں بھی کیا کریں گے؟ اسی طرح محبت کے انداز میں چھینا جھپٹی کریں گے، ہنسی مذاق ہوگا اور لذتیں ہی لذتیں ہوں گی بھئی۔ یتنازعون فیھا کأسأ لا لغو فیھا ولا تأثیم۔ چھینا جھپٹی کریں گے جنت میں شراب کے ایسے جام میں جس میں نہ بیہودہ گوئی ہوگی اور نہ گناہ ہوگا۔ لغو بیہودہ گوئی بھئی، دنیاوی شراب تو پی لے انسان کو ہوش ہی نہیں رہتا کیا بکتا ہے اس کو پتہ ہی نہیں ہوتا بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں لا لغو فیھا اس میں بیہودہ گوئی نہیں ہوگی۔ ولا تأثیم اور اس میں گناہ بھی نہیں ہوگا۔ ویطوف علیہم غلمان لہم اور چکر لگائیں گے قاف یطوف کے معنی چکر لگانا بار بار آنا جانا۔ ویطوف علیہم اور چکر لگائیں گے ان پر غلمان لہم غلمان جمع ہے غلام کی، لڑکے مراد ہیں لڑکے۔ مراد جنتیوں کے خادم ہیں خادم۔ جنت میں جو خدام ہوں گے وہ کم عمر لڑکے ہوں گے اور انسان ہر چیز میں حسن و جمال کو پسند کرتا ہے۔ تو وہاں جو خادم بھی ہوں گے اللہ اتنے حسین و جمیل نصیب فرمائیں گے کہ اس کا ذکر فرما رہے ہیں۔ كأنہم لؤلؤ مکنون گویا کہ وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں بھئی۔ جیسے چھپائے ہوئے جیسے موتی بھئی چھپایا ہوا ہو اپنے گلاس کے اندر ہو تو بالکل صاف ستھرا ہوتا ہے کسی قسم کا میل وغیرہ اور گرد اس پر نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ جنتیوں کے جو خادم ہوں گے بھئی، خادم ہوں گے۔ اور غلمان لہم فرمایا بھئی۔ خادم ہوں گے لام بھئی تخصیص کے لیے جو انہی کے لیے مخصوص ہوں گے یعنی ہر ایک کے اپنے خدام ہوں گے بھئی۔ ہر ایک کے اپنے مخصوص خادم ہوں گے۔ روایت میں آتا ہے کہ ہر جنتی کے ہزار خادم ہوں گے۔ یہاں معلوم ہوا کم از کم ہزار تو ضرور جو اونچے درجے والے ہیں ان کے اور زیادہ ہوں گے۔ تو ہر جنتی کے ہزار خادم ہوں گے اور وہ دوڑتے پھر رہے ہوں گے خدمت کے لیے بھئی۔ کبھی ایک چیز لا رہے ہیں کھانے پینے کی، کبھی دوسری چیز لا رہے ہیں بھئی جو جو طلب کیا جا رہا ہے پیش کر رہے ہیں۔ اور خادم بڑا ہو تو اس سے کچھ نہ کچھ چیز منگواتے ہوئے وہ سہولت نہیں ہوتی لیکن جب چھوٹا ہو تو انسان کو پرواہ بھی نہیں ہوتی۔ دس دفعہ، بیس دفعہ، تیس دفعہ جیسے بھیجے جو تو وہ دوڑ دوڑ کر کام کرتے ہیں بھئی۔ تو یہاں تو وہ اور وہ دوڑ کر خدمتوں میں مصروف ہوں گے اور ہر ایک کے مخصوص خادم ہوں گے۔ تو روایت میں آتا ہے ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے۔ تو صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ کہ یہ خادموں کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں کہ وہ چھپائے ہوئے موتیوں کی طرح ہوں گے۔ تو یہ تو خادموں کا حال ہے تو مخدوموں کا کیا حال ہوگا جو مخدوم ہیں ان کے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ مخدوم کی مثال ان میں اس طرح ہوگی جیسے کہ ستاروں کے درمیان چودویں رات کا چاند ہوتا ہے کہ اس کے سامنے ستارے کچھ بھی نہیں معلوم ہوتے تو مخدوم کا تو اتنا حسن و جمال ہوگا کہ اس کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں معلوم ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ ویطوف علیہم غلمان لہم اور چکر لگائیں گے ان پر ان کے مخصوص لڑکے کا یعنی مخصوص خادم کأنہم لؤلؤ مکنون گویا کہ وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں۔ وأقبل بعضہم علی بعض یتساؤلون اور متوجہ ہوں گے بعضہم علی بعض بعض ان میں سے بعض پر یعنی کیا با محاورہ ترجمہ کریں گے؟ جی؟ ایک دوسرے اور وہ متوجہ ہوں گے ایک دوسرے پر یتساؤلون پوچھتے ہوں گے۔ یعنی پوچھتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے۔ جنتی بھئی آپس میں باتیں کر رہے ہیں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہیں تو باتیں پوچھیں گے ایک دوسرے سے۔ وأقبل بعضہم علی بعض یتساؤلون اور متوجہ ہوں گے ایک دوسرے پر پوچھتے ہوئے قالوا کہیں گے انا کنا قبل فی أہلنا مشفقین بے شک ہم اس سے پہلے فی أہلنا اپنے گھر والوں میں مشفقین ڈرتے تھے۔ جنتی بھئی ایک دوسرے سے باتیں ہو رہی ہوں گی، حال احوال پوچھا جا رہا ہوگا تو کہیں گے کہ بے شک اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں میں ڈرتے تھے۔ یعنی دنیا میں جب تھے اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے تھے، اہل و عیال کے ساتھ تو ہم ڈرا کرتے تھے پتہ نہیں آخر میں ہمارا انجام کیا ہوگا، جنت ملے گی یا جہنم ملے گی، ہم اس وقت ڈرا کرتے تھے۔ قالوا انا کنا قبل فی أہلنا مشفقین کہیں گے بے شک ہم اس سے پہلے گھر والوں میں ڈرا کرتے تھے فمن اللہ علینا پس اللہ نے ہم پر احسان فرمایا وقانا عذاب السموم اور بچا لیا ہمیں گرم ہوا کے عذاب سے۔ اور بچا لیا ہمیں گرم ہوا، جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے۔ سموم کہتے ہیں گرم ہوا کو۔ لو بھئی لو! جو دوپہر کو چلتی ہے بھئی گرمی کے موسم میں سخت گرم ہوا جو چہرے کو جلاتی ہے۔ تو یہ تو دنیا کی مثال ہے آخرت جہنم کی ہوا کا کیا حال ہوگا بھئی؟ تو وہ کہیں گے وقانا عذاب السموم اور بچا لیا ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے یعنی جہنم کی بھاپ سے بھی اللہ نے ہماری، آگ سے تو کی اس کی بھاپ سے بھی اللہ نے ہماری حفاظت کی، ذرہ بھر ہمیں اس کی تکلیف نہیں پہنچنے دی۔ انا کنا من قبل ندعوہ بے شک ہم اس سے پہلے ندعوہ اللہ کو پکارتے تھے۔ ہم اس سے پہلے دنیا میں بھی اللہ کو پکارتے تھے انہ ہو البر الرحیم بے شک وہ اللہ البر نکوکار ہے الرحیم رحم کرنے والا ہے۔ بے شک اللہ نیک سلوک کرنے والے اور الرحیم اور رحم کرنے والے ہیں۔ فذکر فما أنت بنعمة ربک بکاہن ولا مجنون فذکر پس اے پیغمبر آپ نصیحت کیجیے فما أنت بنعمة ربک بکاہن ولا مجنون پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کی نعمت سے یعنی اپنے رب کے فضل سے اپنے رب کے فضل سے پس آپ اپنے رب کے فضل سے نہیں ہیں بکاہن ولا مجنون نہ تو کاہنہ اور نہ مجنون۔ اے پیغمبر آپ نصیحت کرتے رہیے، یہ لوگ آپ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں، کوئی آپ کو شاعر کہتا ہے، کوئی کاہن کہتا ہے، کوئی مجنون کہتا ہے، آپ نصیحت کرتے رہیے آپ رب کے اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں۔ فذکر فما أنت بنعمة ربک بکاہن ولا مجنون پس آپ نصیحت کرتے رہیے، پس آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور مجنون نہیں ہیں۔ أم یقولون شاعر کیا وہ کہتے ہیں یہ شاعر ہے؟ کیا وہ لوگ کیا کہتے ہیں کہ یہ شاعر یعنی آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے؟ نتربص بہ ریب المنون تربص کا معنی ہوتا ہے انتظار کرنا۔ نتربص بہ ہم انتظار کرتے ہیں بہی اس پیغمبر کے بارے میں۔ کس چیز کا انتظار کرتے ہیں؟ ریب المنون۔ بھئی ریب ریب ریب کا ایک معنی تو شک ہے آپ پڑھ چکے بھئی، ریب کا ایک معنی کیا ہے؟ شک۔ اور ریب کا ایک معنی ہے حوادث زمانہ، تکالیف زمانہ۔ ریب کا ایک کیا معنی ہے؟ ایک معنی تو شک ہے، یہاں پر یہ شک والا معنی نہیں دوسرا معنی ہے یعنی حوادث زمانہ، زمانے کی تکالیف، اس کے حوادث بھئی۔ المنون المنون کہتے ہیں موت کو بھئی، موت۔ المنون کسے کہتے ہیں؟ موت۔ تو یہ لفظی اعتبار سے یہ ترجمہ بھی درست ہم انتظار کرتے ہیں اس پیغمبر کے بارے میں، کس چیز کا انتظار کرتے ہیں؟ ریب المنون۔ موت کے حادثے کا۔ منون موت، ریب حادثہ۔ موت کے حادثے کا انتظار کرتے ہیں کہ کب اس پر موت آئے اور یہ ختم ہو جائے۔ اور ویسے یہ ریب المنون کلام عرب میں حوادث زمانہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پہلا ترجمہ کیا کیا میں نے ریب المنون کا؟ موت کا حادثہ۔ ایک ایک لفظ کے مطابق ترجمہ ہوا بھئی، موت کا حادثہ۔ اور دوسرا ترجمہ ریب المنون حوادث زمانہ۔ ریب المنون کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ حوادث زمانہ۔ نتربص بہ ریب المنون ہم انتظار کر رہے ہیں اس کے ساتھ حوادث زمانہ کا کہ اس پر کیا آ جائیں حوادث زمانہ۔ کبھی وہ پیغمبر علیہ السلام کو شاعر کہتے تھے آپ کا کلام سن کر۔ اور یہ جو عرب تھے یہ شاعروں سے بڑا ڈرتے تھے بھئی۔ کیونکہ اشعار جو تھے عرب میں آن فان پورے عرب میں پھیل جایا کرتے تھے، اللہ نے حافظہ سب کو بڑا قوی دیا تھا تو قصیدے عربوں کے اشعار پورے عرب میں دنوں میں پھیل جایا کرتے تھے، ہر شخص یاد رکھ لیتا اور آگے سناتا۔ تو جو شاعر ہوتا تھا اس سے یہ لوگ بڑا ڈرتے تھے۔ کوئی شاعر کا مخالف بھی ہوتا تھا تو اس کے سامنے کبھی کچھ نہیں کہتا تھا اسے شاعر کو، کہ کہیں ایسا نہ ہو میرے خلاف شعر کہہ دے۔ اور جوں خلاف جیسے ہی وہ شعر کہتا تھا دنوں میں پورے عرب میں مشہور ہو جاتا اس آدمی کا پورے عرب میں مذاق اور تماشہ بن جاتا بھئی۔ تو جو بھی ہوتے، وہ یا تو شاعروں کو بڑے بڑے انعام دیتیں رہتے تھے کہ میرے حق میں ہی کہے کبھی میرے خلاف نہ کہہ دے۔ یا اگر مخالف ہوتا تھا تو پھر بھی ایک طرف رہ کر بس آرام سے انتظار کرتے تھے کہ کسی طرح زمانے کی تکالیف آہستہ آہستہ اس کو ختم کر دیں گے، قبر تک پہنچا دیں گے اور ہماری اس سے جان چھوٹ جائے گی۔ تو یہاں پر بھی اسی کو بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ شاعر ہیں اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں آپ کے بارے میں؟ حوادث زمانہ کا کہ یہ شخص ختم ہو جائے۔ أم یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے، ہم انتظار کر رہے ہیں اس کے بارے میں حوادث زمانہ کا۔ قل تربص اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے تربص کیونکہ تم انتظار کرو فإنی معكم من المتربصین پس بے شک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے ان سے کہ تم انتظار کر لو، میں بھی انتظار کر رہا ہوں تمہارے ساتھ، دیکھتے ہیں کس پر حوادث زمانہ آتے ہیں اور اس کو ختم کرتے ہیں، کس پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔ قل تربصوا فإنی معكم من المتربصین اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ تم انتظار کرو، بس بے شک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ ام تأمرهم أحلابهم بهذا؟ أم تأمرهم؟ یا کیا حکم دیتی ہیں؟ امرائے امر کے معنی حکم دینا۔ أحلاب جمع ہے حلم کی، اور حلم کہتے ہیں عقل کو، بھئی عقل۔ أم تأمرهم أحلابهم بهذا؟ اللہ فرما رہے ہیں کیا ان کی عقلیں ان کو حکم دیتی ہیں اس بات کا؟ یہ جس طرح کی باتیں کرتے ہیں، کیا ان کی عقلیں ان کو اس طرح کے حکم دیتی ہیں، وہ سکھاتی ہیں؟ أم هم قوم طاغون یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ أم تأمرهم أحلابهم بهذا أم هم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں ان کو اس بات کا حکم دیتی ہیں یا یہ سرکش لوگ ہیں؟ أم يقولون تقوله کیا یہ کہتے ہیں تقوله کہ اس، جی کہ اس شخص نے تقوله تقول قول سے ہے قول سے۔ تو تقول کا معنی اپنی طرف سے بات بنا لینا، قال یقول کا معنی بات کرنا، اور تقول کا معنی اپنی طرف سے بات بنا لینا۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں تقوله؟ اس شخص نے اس قرآن کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے، اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ بل لا يؤمنون بلکہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ورنہ یہ بات ان کے سامنے کتنی واضح ہے، اگر ان کا یہ خیال ہے کہ اس شخص نے اس قرآن کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے، فلیأتوا بحديث مثله پس چاہیے ان کو کہ یہ لے آئیں بحديث مثله اسی جیسی کوئی بات۔ حديث کس کو کہتے ہیں؟ بات کو۔ مثله اس کی مثل۔ پس چاہیے کہ وہ لے آئیں اسی کے مثل کوئی بات ان کانوا صادقین اگر یہ لوگ سچے ہیں۔ اگر یہ لوگ انہوں نے اپ پر کیا پیغام، کیا اپ پر الزام لگایا ہے کہ اس قرآن کو اس پیغمبر نے اپنی طرف سے گھڑا ہے اور ویسے ہی کہتا ہے کہ اللہ نے بھیجا ہے، تو یہ لوگ بھی اس جیسا کوئی کلام بنا کر لے آئیں، اگر یہ سچے ہیں اپنے دعوے میں۔ فلیأتوا بحديث مثله پس چاہیے کہ لے آئیں اس جیسی بات یعنی اس جیسا کلام۔ پس چاہیے کہ لے آئیں اس جیسا کلام ان کانوا صادقین اگر یہ سچے ہیں۔ حدیث حدیث موصوف مثله یہ اس کی صفت ہے۔ توجہ ہے بھئی؟ حدیث موصوف مجرور ہے، مثله اس کی صفت ہے۔ اس پر ذہن میں آپ کے اشکال آئے گا، حدیث تو ہے نکرہ۔ مثله مضاف ہے ها ضمیر کی طرف۔ اور آپ نے نحو ضابطہ پڑھا ہے کہ جو چیز معرفہ کی طرف مضاف ہو جائے وہ خود کیا بن جاتی ہے؟ معرفہ۔ نکرہ کی طرف کوئی چیز مضاف ہو، یاد رکھو وہ نکرہ ہی رہتی ہے۔ غلام رجل۔ غلام پہلے بھی نکرہ تھا، اب بھی کیا ہے؟ نکرہ، کیونکہ رجل نکرہ کی طرف اضافت ہوئی۔ لیکن اگر معرفہ الرجل کی طرف اضافت ہو جائے، غلام الرجل، تو اب یہ معرفہ بن جائے گا۔ اور ضمیر کس میں سے ہے؟ نکرہ ہے یا معرفہ ہے؟ ضمیر تو معرفہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بلکہ یہ عرف المعارف میں سے ہے۔ تو لہذا مثل کی اضافت ہوئی ضمیر کی طرف، تو یہ تو معرفہ بن گیا، تو پھر یہ نکرہ کی صفت معرفہ کیسے آگئی؟ یاد رکھیے! یاد رکھیے! ہمیشہ۔ کچھ لفظ ایسے ہیں، کچھ لفظ ایسے ہیں کہ ان کی معرفہ کی طرف اضافت ہو جائے، پھر بھی وہ نکرہ ہی رہتے ہیں۔ کچھ لفظ ایسے ہیں جن کے معرفہ کی طرف اضافت ہو جائے وہ پھر بھی نکرہ ہی رہتے ہیں۔ جیسے مثل، شبہ وغیرہ بھئی۔ مثل، شبہ سمجھ میں آیا بھئی؟ احد وغیرہ۔ تو یہ معرفہ کی طرف مضاف ہو جائیں، پھر بھی نکرہ ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ ان لفظوں میں ابہام، اتنا زیادہ ابہام ہوتا ہے کہ معرفہ کی طرف اضافت کے باوجود وہ ابہام ختم نہیں ہوتا۔ بھئی نکرہ کس کو کہتے ہیں؟ جو ذات غیر معین پر دلالت کرے۔ رجل، کوئی متعین آدمی آپ کے ذہن میں آیا؟ نہیں، لیکن جب میں کہتا ہوں الرجل دیکھو الف لام کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے، معلوم ہو کسی متعین آدمی کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ یا میں کہتا ہوں زید، دیکھو فورا زید کا آپ کا جاننے والا دوست ہے، فورا اس کا تصور ذہن میں آ جائے گا۔ تو معرفہ کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے کسی متعین، کوئی متعین ذات پر وہ دلالت کرتا ہے۔ کوئی ضمیر لائیں گے، پتہ لگ جائے گا کون مراد ہے فورا بھئی۔ تو معرفہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ متعین ذات پر۔ میں نے زید کہا، آپ کو پتہ چل گیا یا نہیں، کون شخص مراد ہے؟ فورا زید کا آپ کے ذہن میں تصور آ جائے گا، جبکہ وہ آپ اسے جانتے ہوں بھئی۔ یہاں تک کہ مثل اور شبہ وغیرہ، یہ اتنا ان میں ابہام ہے کہ معرفہ کی طرف اضافت کے باوجود یہ نکرہ ہی رہتے ہیں۔ کیسے؟ بھئی میں نے کہا انت، انت ضمیر لے کر آیا۔ آپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھے کون مراد ہے؟ آپ مخاطب مراد ہیں۔ میں نے کہا انا، سمجھے یا نہیں کون مراد ہے؟ میں نے کہا القرآن، آپ سمجھ گئے کیا مراد ہے؟ کیونکہ معرفہ ہے، متعین ذات پر دلالت کر رہا ہے بھئی، متعین ذات پر۔ اب دیکھیے، میں کہता ہوں مثلک، مثلک، کوئی متعین آپ کے ذہن میں آیا؟ آپ جیسا، یہ تو کوئی بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ دس ہوئے تو وہ دس کے دس اس میں مثلک ہوں گے، ایک ہوا تو ایک ہوگا، تو اس سے تعین نہیں ہوتی۔ آپ جیسا، وہ تو کوئی بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ اس میں اضافت کے باوجود تعین نہیں آتی بھئی۔ میں نے کہا مثلک، آپ جیسا، تو کوئی متعین ذات آئی؟ لیکن میں کہتا ہوں غلامک، آپ کا غلام، دیکھو آپ کو فورا پتہ چل گیا میرے غلام کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن مثلک کہا تو کس کی بات ہو رہی ہے؟ متعین نہیں ہوا۔ تو یہ نکرہ ہی ہے، اس لیے نکرہ کی صفت بنا۔ فلیأتوا بحديث مثله ان كانوا صادقين پس چاہیے کہ لے آئیں یہ اسی جیسا کلام اگر یہ سچے ہیں۔ أم خلقوا من غير شيئ أم هم الخالقون أم خلقوا من غير شيئ یا یہ پیدا کیے گئے ہیں من غير شيئ بغیر کسی چیز کے، یعنی بغیر کسی خالق کے۔ کیا یہ لوگ پیدا کیے گئے ہیں بغیر کسی خالق کے، یعنی خود بخود ہی یہ پیدا ہو گئے ہیں؟ أم هم الخالقون یا یہ خود ہی خالق ہیں؟ یہ جس طرح کی باتیں کرتے ہیں اللہ فرما رہے ہیں۔ أم خلقوا من غير شيئ کیا یہ لوگ بغیر کسی پیدا کیے ہوئے کے خود بخود پیدا ہو گئے ہیں؟ أم هم الخالقون یا یہ خود ہی خالق ہیں؟ کون سی بات ہے؟ کس بنا پر یہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں؟ أم خلقوا السماوات والارض یا کیا پیدا کیا ہے انہوں نے آسمانوں کو اور زمین کو؟ بل لا يوقنون بلکہ یہ لوگ یقین نہیں لاتے، یقین نہیں کرتے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں یہ کبھی کہتے ہیں اللہ نے کوئی کتاب نہیں بھیجی۔ کبھی کہتے ہیں یہ اللہ کا پیغمبر نہیں ہے۔ کبھی کہتے ہیں جی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں وغیرہ۔ اتنی، یہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اور توحید کی طرف نہیں آتے۔ شرک پر جمی ہوئے ہیں، اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، اور اس طرح کی طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ کبھی پیغمبر کو شاعر کہتے ہیں، کبھی مجنون کہتے ہیں۔ یہ کس وجہ سے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں؟ کیا ان کو کسی نے پیدا نہیں کیا؟ یہ خالق کو تو یہ مانتے ہیں۔ خالق کو تو یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کو اللہ نے بنایا، یہ زمین اور آسمان کو اللہ نے بنایا۔ پھر توحید کی طرف یہ کیوں نہیں آتے؟ اور اس طرح کی باتیں یہ کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ خود بخود پیدا ہوئے ہیں؟ جب خالق نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے، تو کیا وہ دوسری مرتبہ پیدا نہیں کر سکتا ان کو؟ أم خلقوا من غير شيئ أم هم الخالقون کیا یہ پیدا ہو گئے ہیں بغیر کسی خالق کے یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟ أم خلقوا السماوات والارض یا پیدا کیا ہے انہوں نے آسمانوں اور زمین کو؟ بل لا يوقنون بلکہ یہ یقین نہیں لاتے، أم عندهم خزائن ربك یا کیا ان کے پاس ہیں آپ کے رب کے خزانے؟ یا ان کے پاس ہیں آپ کے رب کے خزانے، یا (یعنی رب کی رحمت کے خزانے) أم هم المسيطرون یا یہ لوگ حاکم ہیں؟ مسيطر غالب، بھئی غالب۔ سيطرة کے معنی غالب ہونے کے ہیں۔ أم هم المسيطرون یا یہ لوگ حاکم ہیں؟ یا یہ ترجمہ کر لیں: یہ لوگ غالب ہیں۔ یا یہ ترجمہ کر لیں: یہ لوگ نگران ہیں۔ یا یہ ترجمہ کر لیں: یہ لوگ داروغہ ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ نے پیغمبری بھیجنا تھا تو فُـل مکے کے کسی بڑے آدمی کو اللہ نے کیوں نہیں پیغمبر بنایا، طائف کے کسی بڑے آدمی کو اللہ نے پیغمبر کیوں نہیں بنایا، کیا اللہ کے پاس یہی ایک شخص رہ گیا تھا نبوت دینے کے لیے؟ یہ اس طرح کی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ کیا آپ کے رب کی رحمت کے خزانوں کے یہ مالک ہیں؟ یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ کس کو نبوت اللہ کو دینی چاہیے اور کس کو نبوت نہیں دینی چاہیے؟ تو کیا یہ آپ کے رب کی رحمت کے خزانوں کے یہ مالک ہیں؟ یا یہ حاکم یہ ہیں؟ فیصلہ کرنے والے یہ ہیں ان چیزوں کا؟ جب ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے تو پھر کس طرح کی، اس طرح کی باتیں، یہ اس قسم کی باتیں یہ لوگ کیوں کرتے ہیں؟ أم عندهم خزائن ربك کیا ان کے پاس ہیں آپ کے رب کے خزانے، یعنی اس کی رحمت کے خزانے؟ أم هم المسيطرون یا کیا یہ لوگ جو ہیں حاکم ہیں، یعنی فیصلہ کرنے والے ہیں، غالب ہیں؟ أم لهم سلم يا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے؟ سلم کہتے ہیں سیڑھی کو۔ يستميعون کہ یہ سن لیتے ہیں فيه اس سیڑھی میں۔ اس سیڑھی میں یعنی اس پر چڑھ کر یہ سن لیتے ہیں۔ کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی اور آسمان کی خبریں سن لیتے ہیں؟ فلیأت مستمعهم پس چاہیے کہ یہ لے آئیں مستمعهم، مستمع سننے والا۔ مستمعهم اپنے سننے والے کو۔ پس چاہیے کہ یہ لے آئیں، پس چاہیے کہ لے آئے۔ مستمع فاعل ہے، پس چاہیے کہ لے آئے مستمعهم ان میں سے جو سننے والا ہے بسلطان مبین واضح دلیل۔ اسے کیا کرنا چاہیے؟ کوئی واضح دلیل لے آئے۔ یہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ قرآن کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شاعری ہے، کبھی کہتے ہیں یہ کہانت ہے۔ قیامت کے بارے میں کہتے ہیں نہیں کوئی قیامت قائم نہیں ہونی، دوبارہ زندگی نہیں ہے اس موت کے بعد۔ یہ اس طرح کی جو غیب کی خبروں میں دخل دیتے ہیں، کیا یہ عالم، ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ اوپر عالم بالا کی خبریں سن آتے ہیں؟ اگر ایسی بات ہے تو یہ ان میں سے جو سننے والا ہے، جو سننے کا دعویدار ہے، اسے چاہیے کوئی واضح دلیل لے کر آئے بھئی۔ کوئی واضح دلیل لے کر آئے۔ یہ سب یہ اندازوں سے اور اٹکل سے باتیں کرنے والے ہیں اور صرف ضد میں پڑے ہوئے ہیں، ان کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے، نہ کوئی نقلی دلیل ہے، بس صرف ضد ہی ضد ہے ان کی۔ اور اگر کوئی بھی ادنی درجے کی بھی دلیل ہے، لے کر آئیں پیش کریں بھئی۔ أم لهم سلم يستمعون فيه کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ سن لیتے ہیں اس پر چڑھ کر؟ فلیأت مستمعهم بسلطان مبین پس چاہیے کہ لے آئے ان میں سے جو سننے والا ہے واضح دلیل کو۔ أم لهـ، أم له البنات ولكم البنون کیا لہ البنات، اس اللہ کے لیے تو بیٹیاں ہیں؟ ولكم البنون اور تمہارے لیے ام لھم البنات ولكم البنون کیا تمہارے لیے بیٹے کیا اس کے لیے بیٹیاں اور تمہارے لیے بیٹے ام تسألھم أجرا فھم من مغرم مثقلون یا کہ اے پیغمبر ام تسألھم أجرا کیا آپ ان سے بدلے کا سوال کرتے ہیں اجر کا سوال کرتے ہیں بدلے کا سوال کرتے بدلہ مانگتے ہیں فھم من مغرم مغرم کہتے ہیں زمان کو بھئی جرمانہ زمان مغرم کسے کہتے ہیں جرمانہ زمان مثقلون بوجھل بھئی جس پر وزن ڈالا گیا ہو اے پیغمبر کیا آپ ان سے کوئی بدلے کا سوال کرتے ہیں یہ جو آپ ان کو دعوت دے رہے ہیں اور یہ لوگ اس کو قبول نہیں کرتے اس کی کیا وجہ ہے کیا آپ ان سے کوئی بدلہ مانگ رہے ہیں کہ اس کے اس جرمانہ اتنا زیادہ ہے وہ زمان اتنا زیادہ ہے کہ جس کا ان پر بڑا بوجھ پڑا ہوا ہے اور اس کے بوجھ تلے یہ دبے جا رہے ہیں معنی سمجھ میں آیا بھئی ام تسألھم أجرا فھم من مغرم مثقلون یا کیا آپ ان سے مانگ رہے ہیں بدلہ تو یہ اس کے اس کے جرمانے سے یا اس کے زمان سے دبے جا رہے ہیں اس کے زمان سے یہ بوجھل ہو رہے ہیں ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی قرآن کی ورنہ عجیب فصاحت و بلاغت بھئی دعا کرو اللہ قرآن کی فصاحت و بلاغت کی صحیح سمجھ اور لذت ہمیں بھی نصیب فرمائے بھئی آمین سمجھ میں آیا یہ اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہوتی ہے کہ کسی کو اگر یہ نعمت دے دی جائے یہ عرب جو تھے ان کی تو زبان میں نازل ہوا قرآن وہ تو اس کی فصاحت و بلاغت کو جانتے تھے اور حیرت زدہ رہ جاتے تھے اس کلام کو سن کر جیسے میں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے صرف إنّا أعطیناک الکوثر فصلی لربک وانحر إن شانئک ھو الأبتر دیکھو چھوٹی چھوٹی تین آیتیں ہیں کتنی چھوٹی چھوٹی ہیں یہ بیت اللہ میں لٹکایا اور ایک بڑے فصیح و بلیغ شخص اور شاعر نے جب اس کو دیکھا صرف اس چھوٹی سی تین سطروں کو اس نے سنا سنتے ہی اس پر کتنا اثر ہوا ہوگا اس پر نیچے لکھ دیا کہ ما ھذا کلام البشر یہ انسانی کلام نہیں ہے بھئی یہ کوئی خاص اس کی فصاحت و بلاغت جو جس کو وہ محسوس کرتے تھے اور جو ہمارے بڑے علماء جن کو اللہ نے یہ ذوق نصیب کیا تو دعا کرو اللہ ہم سب کو بھی یہ ذوق نصیب فرما دیں بھئی سمجھ میں آیا اللہ دیکھیے کتنے دلائل ذکر کیے جا رہے ہیں یہ لوگ کیوں اس طرح کر رہے ہیں کیا ان کے پاس کیا یہ خود ہی پیدا ہو گئے ہیں یا ان کے پاس رب کے رحمت کے خزانے ہیں ان کو یہ فیصلہ کرنے والے ہیں یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جو آسمان سے باتیں سن کر آ جاتے ہیں اور پھر لوگ بیان کرتے ہیں لوگوں کے سامنے اور کس طرح یہ اللہ کے لیے بیٹیاں ثابت کرتے ہیں اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں یا اے پیغمبر آپ سے ان سے کوئی اجرت مانگ رہے ہیں یہ جو آپ ان کو دعوت دے رہے ہیں اس پر جس کی وجہ سے ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے یہ سیدھے راستے پر نہیں آ رہے ہر طرف سے قرآن بیان کر رہا ہے کہ دیکھو تم لوگ صرف ضد پر اڑے ہوئے ہو بات کوئی بھی نہیں ایسی اور پیغمبر کی دعوت بڑی سیدھی سادھی ہے راہ حق بالکل نمایاں ہے اور واضح ہے صرف تم اپنی ضد میں پڑے ہوئے ہو دیکھو ضد کو چھوڑ دو اللہ کے راستے پر آ جاؤ بھئی ام تسألھم أجرا فھم من مغرم مثقلون یا کیا آپ مانگ رہے ہیں یا کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی بدلہ جس کی وجہ سے یہ جس کے زمان فھم من مغرم مثقلون تو اس کے زمان سے یہ بوجھل ہو رہے ہیں اس کے زمان سے یہ دبے جا رہے ہیں أم عندھم الغیب فھم یكتبون یا ان کے پاس غیب کی باتیں ہیں فھم یكتبون تو یہ اس کو لکھ لیتے ہیں یہ اس طرح کی باتیں جو کرتے ہیں سارے غیب کی باتوں میں دخل دیتے ہیں اللہ نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا وغیرہ اتنی تفصیل جو ابھی بیان ہو رہی تھی بھئی اللہ فرما رہے ہیں کیا ان کے پاس کوئی غیب کی خبریں ہیں فھم یكتبون یہ اس کو لکھ لیتے ہیں اور پھر آکر لوگوں کو کہتے ہیں بس یہ سب صرف ضد میں ہے اپنے انداز سے باتیں کرتے ہیں اٹکل کے تیر چلاتے ہیں أم یریدون کیدا کیا یہ لوگ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں قید کہتے ہیں تدبیر کو عربی زبان میں کسے کہتے ہیں تدبیر کو اسی طرح بری تدبیر کو بھئی أم یریدون کیدا کیا یہ لوگ کسی برائی کا یعنی کسی بری تدبیر کا ارادہ کر رہے ہیں جیسے کہ انہوں نے پیغمبر کے بارے میں مختلف قسم کی تدبیریں کیں فالذین کفروا فھم المکیدون وہی ہیں تدبیر کیے ہوئے یعنی جن پر تدبیر کی گئی مکید جس کے بارے میں جس پر تدبیر کی گئی أم یریدون کیدا فالذین کفروا فھم المکیدون کیا یہ ایک برائی کا ارادہ کرتے ہیں فالذین کفروا فھم المکیدون وہی اس تدبی اس بری تدبیر میں اس بری تدبیر میں پڑنے والے ہیں یعنی وہ اس کا اس میں خود ہی پھنسنے والے ہیں یہ خود ہی اس میں پھنسنے فھم المکیدون یہ اس تدبیر میں پڑنے والے ہیں أم لھم إلہ غیر اللہ کیا ان کا کوئی معبود ہے اللہ کے علاوہ سبحان اللہ عما یشرکون پاک ہے اللہ اس چیز سے یشرکون جس کو یہ اللہ کا شریک بناتے ہیں وإن یروا کسفا من السماء ساقطا یقول سحاب مرقوم اور اگر یہ دیکھیں کسفا کوئی ٹکڑا کسفا کا کیا معنی ٹکڑا حصہ من السماء آسمان سے ساقطا گرتا ہوا یقول تو کہیں سحاب مرقوم سحاب بادل مرقوم مرقوم کا معنی ہے خوب گھنا بھئی خوب گھنا تہ بہ تہ بھئی یہ لوگ کہتے ہیں اے پیغمبر اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا کیوں نہیں گرا دیتا اللہ آپ دعا کیوں نہیں کرتے اللہ ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دے یا یہ طلب کرتے تھے دلیل کے طور پر اے پیغمبر اگر آپ سچے ہیں اپنے دعوے میں تو آسمان سے کوئی ٹکڑا گرائیں تاکہ ہم بھی دیکھ لیں اللہ فرماتے ہیں اگر ان پر آسمان سے کوئی ٹکڑا بھی گرا دیا جائے تو اس گرتے ہوئے ٹکڑے کو دیکھ کر بھی یہی کہیں گے یہ تو ایک گھنا بادل ہے بھئی یہ کیا ہے گھنا بادل ہے جس طرح وہ قوم عاد وغیرہ نے بادل کو اپنی طرف عذاب کے بادل ان کی طرف آ رہے تھے اور انہوں نے کیا کہا تھا یہ تو بادل ہیں ہم پر بارش برسائے گا تو یہ بھی اسی طرح کے لوگ ہیں وإن یروا کسفا من السماء ساقطا یقول سحاب مرقوم کہ یہ گھنا بادل ہے یا یہ ترجمہ کر لیں سحاب مرقوم یہ بادل ہے تہ بہ تہ تہ بہ تہ یہ تہ بہ تہ بادل ہے فذرھم پس اے پیغمبر آپ ان کو چھوڑ دیجیے حتی یلاقی یومھم الذی فیہ یسحقون یہاں تک یہ ملاقات کر لیں یومھم الذی فیہ یسحقون اپنے اس دن سے فیہ یسحقون جس میں یہ بے ہوش ہوں گے جن میں جس میں ان پر بے ہوشی طاری ہوگی سعق یسعق کے کیا معنی ہوتے ہیں بے ہوش ہونے کے یومھم الذی فیہ یسحقون اس ان کا وہ دن جس میں یہ بے ہوش ہوں گے یعنی ان کے ہوش اڑ جائیں گے ان کے ہوش اڑ جائیں گے فذرھم حتی یلاقی یومھم الذی فیہ یسحقون پس اے پیغمبر آپ ان کو چھوڑ دیجیے یہاں تک کہ یہ ملاقات کر لیں اپنے اس دن سے جس میں ان کے ہوش اڑنگے ہوں گے یوم لا یغنی عنھم کیدھم شیئا جس دن کہ لا یغنی عنھم کچھ کفایت نہیں کرے گا ان کی عنھم ان کی طرف سے کیدھم ان کی تدبیر شیئا کچھ بھی جس دن ان کی طرف سے کچھ بھی کفایت نہیں کرے گی ان کی تدبیر یہ جو جو تدبیریں کر رہے ہیں کوئی تدبیر ان کے کام نہیں آئے گی تو کچھ بھی کفایت نہیں کرے گی ان کی تدبیر یعنی ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے گی تو با محاورہ ترجمہ یہ کر لیں یوم لا یغنی عنھم کیدھم شیئا جس دن کہ ان کی کوئی تدبیر ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے گی ولا ھم ینصرون اور نہ ان کی مدد کی جائے گی وإن للذین ظلموا عذاباب دون ذلک اور بے شک ظالموں کے لیے عذاباب دون ذلک اور بیشک وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان کے لیے عذاب ہے دون ذلک اس کے علاوہ بھی یعنی اس سے پہلے بھی بیشک وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان کے لیے اس کے علاوہ بھی عذاب ہے یہ تو آخرت کا عذاب ہے ان کے لیے اس کے علاوہ یعنی اس سے پہلے بھی ایک عذاب ہے یعنی دنیا کے اندر بھئی جیسے کہ جیسے کہ بدر میں پھر ان کے ستر بڑے بڑے سردار مارے گئے بھئی یا اسی طرح جیسے ان پر دنیا میں قحط وغیرہ آیا تو اللہ فرما رہے ہیں یہ آخرت کے عذاب سے پہلے بھی ان کے لیے عذاب ہے وإن للذین ظلموا عذاباب دون ذلک اور بیشک وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان کے لیے اس سے پہلے بھی عذاب ہے ولكن اکثرھم لا یعلمون لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے واصبر لحکمہ ربک پس اے پیغمبر آپ صبر کیجیے لحکمہ ربک اپنے پروردگار کے حکم کے لیے فإنك بأعیننا پس بیشک آپ ہماری نگاہوں میں ہیں آپ ہماری آنکھوں میں ہیں یعنی ہماری نگاہوں میں ہیں یعنی ہماری حفاظت میں ہیں تو کیا ترجمہ میں نے کیا واصبر لحکمہ ربک آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کی وجہ سے آپ اپنے رب کے حکم کی یہ جو جو آپ کو تکلیفیں دے رہے ہیں آپ کیا کیجیے اپنے رب کے حکم کی وجہ سے صبر کیجیے یہی یہ معنی واصبر لحکمہ ربک صبر کا معنی ہوتا ہے یعنی جمے رہنا صبر کا کیا معنی ہوتا ہے جمے رہنا واصبر لحکمہ ربک آپ اپنے رب کے حکم پر جمے رہیے آپ کیا کیجیے واصبر لحکمہ ربک آپ اپنے رب کے حکم پر جمے رہیے فإنك بأعیننا پس بیشک آپ ہماری نگاہوں میں ہیں یعنی ہماری حفاظت میں ہیں وسبح بحمد ربک اور آپ تسبیح بیان کیجیے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ یعنی تسبیح کے ساتھ ساتھ حمد کیجیے حین تقوم جس وقت آپ اٹھتے ہیں حین تقوم جس وقت آپ اٹھتے ہیں یعنی جب نیند سے اٹھتے ہیں جب نیند سے اٹھتے ہیں اس وقت کیا کیجیے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کیجیے یا حین تقوم جس وقت آپ اٹھتے ہیں یعنی نماز کے لیے جب آپ اٹھتے ہیں یا حین تقوم جب آپ اٹھتے ہیں یعنی جب آپ کسی مجلس سے اٹھتے ہیں جب مجلس سے اٹھیں تو پھر اللہ کی تسبیح اور حمد بیان کر لیا کیجیے تاکہ اگر مجلس میں کوئی کمی ہوئی ہے تو اللہ اس کو معاف فرما دیں ومن اللیل اور رات میں بھی وسبحہ پس اس کی تسبیح بیان کیجیے وإدبار النجوم اور ستاروں کے پشت پھیرتے وقت بھی إدبار پشت پھیرنا إدبار النجوم ستاروں کے پشت پھیرتے وقت بھی یعنی ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی جب ستارے ڈوبنے لگیں یعنی فجر کے صبح کے وقت بھئی صبح کے وقت ستارے جوں جوں روشنی پھیلتی چلی جاتی ہے آہستہ آہستہ غائب ہوتے چلے جاتے ہیں بھئی تو وہ مراد ہے معنی سمجھ میں آیا بھئی واصبر لحکمہ ربک پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم سے فإنك بأعیننا پس بیشک آپ ہماری حفاظت میں ہیں وسبح بحمد ربک حین تقوم اور تسبیح کیجیے ساتھ اپنے پروردگار کی حمد کے حین تقوم جس وقت آپ اٹھتے ہیں ومن اللیل فسبحہ وإدبار النجوم اور رات کو بھی پس اس اللہ کی تسبیح کیجیے اور ستاروں کے ڈوبنے کے وقت چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام
131 approved lectures · 105 of 131