اعوذ بالله من الشیطان الرجیم. بسم الله الرحمن الرحیم.
قل اوحی الی انه استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا یهدی الی الرشد فآمنا به ولن نشرک بربنا احدا وانه تعالی جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا.
آج ہم سورہ جن پڑھیں گے. اس کا ذکر پہلے بھی ہو چکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپسی پر بطن نخلہ کے اندر فجر کی نماز پڑھا رہے تھے. تو جنوں کی ایک جماعت کا گزر ہوا وہاں سے. جنات کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت آپ نے پڑھا کہ اس اس سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جنات جو ہیں آسمانوں میں انہوں نے بیٹھنے کی جگہیں خفیہ جگہیں مقرر کر رکھی تھیں، وہاں جا کر چھپ کر بیٹھ جاتے تھے اور پھر فرشتوں سے باتیں سن آتے کہ اللہ کا کیا حکم آیا ہے، زمین پر اس طرح کرنا ہے یا اس طرح تو اس طرح کی باتیں فرشتوں سے سن کر نیچے آ کر وہ کاہنوں وغیرہ کو بتلا دیتے.
تو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا وقت قریب آیا تو اس وقت پھر آسمانوں پر پہرے بڑھا دیے گئے. اب کوئی جن بات سننے کے لیے جاتا تو اس کو آگ کے دہکتے ہوئے شعلے اور انگاروں سے اس کو مارا جاتا اور وہ جل جاتا ختم ہو جاتا. تو جنات کی میٹنگ ہوئی نصیبین کے مقام پر کہ یہ کیا وجہ ہے یہ کیوں اس طرح کا معاملہ شروع ہو گیا، اب ہم کوئی بات سننے جائیں تو بات سننا مشکل ہو گیا ہے.
تو چنانچہ انہوں نے کہا ضرور کوئی خاص بات ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس قدر پہرہ بڑھا دیا گیا. تو جنات کی جماعتیں دنیا میں کہتے ہیں پھیل جاؤ اور دیکھو کہ کیا ہوا ہے، پھر اطلاع لے کر آؤ. تو ایسے ہی جنات کی ایک جماعت تھی، پانچ جنات تھے یا سات تھے یا نو تھے، روایات میں مختلف ذکر آتا ہے. وہ ان کی جماعت گزر رہی تھی بطن نخلہ سے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھا رہے ہیں اور قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں. جنات نے جب قرآن سنا اور اس کی فصاحت و بلاغت کو دیکھا، فصاحت و بلاغت اس کی تاثیر دیکھی، اتنے حیران ہوئے توجہ سے سننے لگے اور اسی وقت اس پر ایمان لے آئے اور پھر جا کر اپنی قوم والوں کو جنات کو اوروں کو بھی انہوں نے دعوت دی.
تو اس وقت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک درخت نے اطلاع دی اجمالاً بتلا دیا کہ جنات کچھ آپ کا کلام سن رہے تھے، وغیرہ. بعد میں پھر یہ جو آگے آج سورہ جن میں ذکر آ رہا ہے کہ پھر باقاعدہ وحی کے ذریعے بھی اللہ تعالی نے آپ کو بتلا دیا کہ کچھ جنات نے اس طرح آپ کے قرآن پڑھنے کو سنا اور پھر ایمان لے آئے اور اس طرح جا کر انہوں نے اپنی قوم سے یہ یہ باتیں کیں تو اسی کا ذکر آ رہا ہے اس سورہ جن کے اندر بھئی.
قل اوحی الی اے پیغمبر آپ فرما دیجیے اوحی الی کہ میری طرف وحی کی گئی ہے انه استمع نفر من الجن. اس استمع کے معنی ہوتے ہیں غور سے سننے کے. سمع کے معنی ہوئے سننا سونا اور استمع کے معنی غور سے سننا.
قل اوحی الی اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے میری طرف وحی کی گئی ہے انه استمع نفر من الجن کہ غور سے سنا جنوں کی ایک جماعت نے فقالوا پس انہوں نے کہا انا سمعنا قرانا عجبا کہ یقین کہ ہم نے کہ بے شک ہم نے سنا ہے ایک عجیب قرآن. ہم نے کیا سنا ہے؟ ایک عجیب قرآن سنا. قرآن کی فصاحت و بلاغت، اس کا دل نشین انداز، اس کی تاثیر اس کے تاثیر ان پہ اتنی زیادہ ہوئی کہ اب وہ قوم کو جا کر یہ کہہ رہے ہیں وہ فقالو ان جنات نے کہا انا سمعنا قرانا عجبا کہ ہم نے سنا ہے ایک عجیب قرآن. یهدی الی الرشد جو ہدایت کرتا ہے الی الرشد بھلائی کی طرف. فآمنا به پس ہم اس پر ایمان لے آئے. یہ جنات دیکھیے بھئی اپنی قوم سے جا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے قرآن سنا، عجیب قرآن سنا اور وہ بھلائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، ہم اس پر ایمان لے آئے. ولن نشرک بربنا احدا اور ہم ہرگز شریک نہیں کریں گے اپنے پروردگار کے ساتھ احدا کسی کو بھی. وانه تعالی جد ربنا جتن کہتے ہیں عظمت کو عظمت بزرگی شان وانه تعالی اور یہ کہ اونچی ہے تعالی اونچی ہے بلند ہے تعالی فعل ہے فعل بھئی.
باب تفعول ہے. کہ اونچی ہے جد ربنا ہمارے پروردگار کی شان. متخذ صاحبة ولا ولدا. صاحبہ بیوی بھئی. متخذ نہیں پکڑی اس نے نہیں رکھی اس نے صاحبتا بیوی ولا ولدا اور نہ کوئی اولاد. ہمارے پروردگار کی اونچی شان ہے، نہ اس نے کوئی بیوی رکھی ہے اور نہ اولاد.
جیسے انسانوں کے اندر کوئی پہلے عیسائی، کوئی یہودی، کوئی کس طرح کوئی مشرک ہے، جنات کے اندر بھی اسی طرح تھے. اور ان میں بھی بازوں کا یہی اسی طرح کوئی یہودی ہوگا، عیسائی ہوگا، اسی طرح کے ان کے عقیدے تھے کہ اللہ کے لیے بیویاں بھی ثابت کرتے تھے، بیٹے بھی ثابت کرتے تھے جس طرح یہ مشرکین اور یہ عیسائی یہود وغیرہ کرتے ہیں تو اسی طرح وہ بھی جنات بھی کرتے تھے. اب ان جنات نے قرآن سنا ہے تو ان کو پتہ چلا تو اب اپنی قوم کو جا کر کیا کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پروردگار کی شان بڑی اونچی ہے، نہ اس نے کوئی بیوی رکھی ہے اور نہ اور تم لوگوں کا تو گمان ہے، اس کی بیوی بھی ہے، اس کی اولاد بھی ہے عیسائی اس کے لیے جیسے بیٹا ثابت کرتے ہیں وغیرہ تو لیکن ہمارے پر اب ہم ہمیں اب ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے پروردگار کی شان بڑی اونچی ہے، نہ اس نے کوئی بیوی رکھی ہوئی ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے.
وانه تعالی جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا اور اونچی ہے شان ہمارے پروردگار کی نہیں رکھی اس نے کوئی بیوی اور نہ اولاد. وانه اس کا عطف کس پر ہے؟ یاد رکھیے. کہ اس کا عطف جو ہے یہ اور آگے کئی جگہ انا آ رہا ہے، ان سب کا عطف ہے آمنبہ کہ ہا ضمیر پر یا یوں کہیں جار مجرور بہ پر عطف ہے اور یہاں پر حرف جر محذوف ہے وانه وبانہ وبانہ ہم آمنبہ ہم اس قرآن پر ایمان لے آئے، ہم نے اس کی تصدیق کی، ہم نے اس کی کیا کی؟ تصدیق کی اور ہم نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہمارے پروردگار کی شان بڑی اونچی ہے. صورت سمجھ میں آ گئی تو یہ آگے جتنے انا آ رہے ہیں، سب کا اسی پر عطف ہوتا چلا جائے گا. ہم نے اس بات کی بھی تصدیق کی، ہم اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں، ہم اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی.
یاد رکھیے یہاں روایات بعض قراءتوں میں انا آیا ہے انه تعالی بعض میں یہ انہو آیا ہے جیسے کہ اس قراءت کے اندر ہے یہ. تو جہاں انا آیا جن قراءتوں میں وہاں تو بات واضح ہے انه تعالی اس کا عطف ہوا انا سمعنا فقالوا انا ہم نے یہ سارا جنات کا مقولہ چل رہا ہے.
صورت سمجھ میں آ گئی تو انا کی صورت میں تو کوئی مشکل نہیں تھی، لیکن انہ کی صورت میں کس پر عطف ہے؟ تو مفسرین کیا جواب دیتے ہیں کہ فآمنا بہ کی یہ جار مجرور پر عطف ہے یا یہ ہا ضمیر جو ہے اس پر عطف ہے بھئی.
وانه كان يقول سفيهنا على الله شططا. سفیہ کہتے ہیں نا سمجھ کو سفیہ. سفیہ نا سمجھ. شطت حد سے بڑھ کر، حد سے تجاوز کی ہوئی چیز.
وانه كان يقول اور یہ کہ کہتا تھا سفیحنا ہم میں جو نا سمجھ ہے، ہم میں سے جو نا سمجھ ہیں وہ کہتے تھے علی اللہ اللہ پر، یعنی اللہ کے بارے میں شططا حد سے بڑھی ہوئی باتیں. ہم میں جو نا سمجھ تھے، یعنی ہم وہ جنات کہہ رہے ہیں اپنی قوم سے، دعوت دے رہے ہیں ان کو کہ ہم میں سے جو نا سمجھ تھے وہ اللہ کے بارے میں حد سے بڑھی ہوئی باتیں کرتے تھے، یعنی کوئی اللہ کے لیے بیٹا ثابت کرتا تھا، کوئی اللہ کے لیے بیٹیاں ثابت کرتا تھا، وغیرہ. وانه كان يقول سفيهنا على الله شططا اور یہ کہ کہتے تھے ہم میں سے جو بے وقوف تھے اللہ کے بارے میں شططا حد سے بڑھی ہوئی بات. وانا ظنننا ان لن تقول الانس والجن على الله كذبا. وانا ظنننا اور ہم نے یہ گمان کیا تھا، ہمارا یہ خیال تھا ان لن تقول الانس والجن کہ ہرگز نہیں کہیں گے انسان اور جنات علی اللہ اللہ پر یعنی اللہ کے بارے میں کذبا جھوٹ.
یہ جنات اپنا عذر ذکر کر رہے ہیں کہ اس سے پہلے ہم بھی جیسے یہ مسلمان یہ جو یہ جیسے انسان ہیں انسان جیسے ان کے غلط عقائد تھے، کوئی اللہ کے لیے شریک بناتے، کوئی اللہ کے لیے بیٹیاں ثابت کرتے ہیں، کوئی اللہ کے لیے بیٹے ثابت کرتے ہیں تو جس طرح یہ اللہ کے بارے میں یہ سارے باتیں کرتے تھے اسی طرح جنات بھی یہی باتیں کرتے تھے جو انسانوں میں پھیلی ہوئی تھیں، وہی باتیں جنات میں بھی پھیلی ہوئی تھیں. اور اس سے پہلے اب تو ہمیں الحمدللہ، وہ جنات کی بات چل رہی ہے الحمدللہ کہتے ہیں ہمیں ایمان کی نعمت مل گئی لیکن اس سے پہلے ہم گمراہی میں کیوں مبتلا تھے؟ کیونکہ سب انسانوں سے اور سب جنات سے ہم یہی غلط باتیں سنتے تھے اللہ کے بارے میں. اور ہمارا تو یہ خیال تھا اللہ کی ذات کے بارے میں کسی کی جرات نہیں ہوگی وہ غلط بات کرے تو جب یہ سب اس طرح کہہ رہے ہیں تو معلوم ہوا اللہ کا بیٹا بھی ہے، اللہ کی بیٹیاں بھی ہیں، وغیرہ تو اس لیے ہم بھی اس عقیدے کے قائل تھے، لیکن اب حقیقت حال آ کر ہم پر کھلی ہے اور پتہ چلا کہ اللہ کی ذات تو وحدہ لاشریك ہے.
وانا ظنننا اور یہ کہ ہمارا یہ گمان تھا ہمارا یہ خیال تھا ان لن تقول الانس والجن علی اللہ کذبا یہ کہ ہرگز نہیں کہیں گے انسان اور جنات اللہ کے بارے میں جھوٹ. ہمارا تو یہ گمان تھا کوئی جھوٹ نہیں بول سکتا اللہ کے بارے میں اس لیے ہم بھی اسی عقیدے والے تھے. وانه كان رجال من الانس يعوذون برجال من الجن فزادوهرهقا. بھئی قدیم زمانے میں جس طرح انسان جنات سے ڈرتے ہیں بھئی آپ دیکھتے ہیں آج کل انسان کیا ہے جنات سے ڈرتے ہیں، قدیم زمانے کے اندر جنات انسانوں سے اس سے بھی بڑھ کر ڈرتے تھے جس طرح آج انسان جنات سے ڈرتا ہے. قدیم زمانے میں جنات انسانوں سے اس سے بھی بڑھ کر ڈرا کرتے تھے. انسان کو دور سے ہی دیکھ کر وہ بھاگ جایا کرتے تھے، اتنا ڈرتے تھے.
لکین پھر کچھ مردوں نے ہی کچھ انسانوں نے ہی آہستہ آہستہ ان کی جرات بڑھا دی. عربوں کی عادت تھی وہ جب کسی اکیلی وادی وغیرہ کسی جنگل میں ہوتے اور کوئی بستی وغیرہ قریب نہ ہوتی وہاں سفر کے اندر پڑاؤ آ جاتا یا کوئی خوفناک جگہ ہوتی تو وہ وہاں پہنچتے جنات ان کو دیکھ کر بھاگ نکلتے بھئی، دور سے دیکھ کر بھاگ جاتے کہ یہ پتہ نہیں کون آ گیا، کتنی خوفناک چیز آ گئی.
یہ عرب وہاں کھڑے ہو کے بڑی اونچی آواز میں آواز دیتے اونچی کہ میں اس وادی کا جو بڑا جن ہے یا اس جنگل کا جو بڑا جن ہے میں اس کی پناہ پکڑتا ہوں باقی شریر جنات.
اب جنات جب ان کی یہ بات سنتے کہتے اوہو یہ تو ہماری پناہ پکڑ رہا ہے، معلوم ہوا یہ ڈر یہ ڈرتا ہے. تو آہستہ آہستہ پھر ان کی جرات بڑھتی چلی گئی بھئی.
تو وہی بات یہ ذکر کر رہے ہیں بھئی جنات. وانه كان رجال من الانس اور یہ کہ کچھ لوگ تھے من الانس انسان کچھ مرد تھے من الانس انسانوں میں سے یعوذون وہ پناہ پکڑتے تھے برجال من الجن جنات میں سے کچھ مردوں کی. انسانوں میں سے کچھ مرد وہ پناہ پکڑتے تھے جنوں میں سے کچھ مردوں کی فزادوهم پس ان انسانوں نے بڑھا دیا ھم ان جنات کو رحقا تکبر کے اعتبار سے، بددماغی کے اعتبار سے. ان جنات ان انسانوں نے ان جنات کے تکبر کو اور بڑھا دیا. ان انسانوں نے ان جنات کے تکبر کو اور بڑھا دیا، ان کی بددماغی کو اور بڑھا دیا. فزادوهم رحقا پس ان انسانوں نے ان جنات کے تکبر کو اور بڑھا دیا. با محاورہ یوں ترجمہ کیبھئی فزادوهم رحقا پس ان انسانوں نے ان جنات کو اور سر چڑھا دیا. ان انسانوں نے ان جنات کو اور سر چڑھا دیا.
وانهم ظنوا كما ظننتم وانههم ظنو بات کس کی چل رہی ہے؟ جنات کی. کس سے بات کر رہے ہیں وہ؟ اپنی قوم والوں سے وہ جو جنات.
آن سن کر گئے تھے جن کو صحابیت کا شرف اللہ نے نصیب فرما دیا، وہ اب اپنی قوم کو جا کر دعوت دے رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ اور کیا کہتے ہیں؟ و انھم اور وہ جو انسان تھے، اے میری قوم والو! وہ جو انسان تھے ظنّوا انہوں نے بھی گمان کیا کما ظننتُم جیسے کہ تم نے گمان کیا ہے اے جنات! اے جنات جس طرح تم نے گمان کیا ہے اسی طرح انسانوں کا بھی یہ گمان تھا لن یبعث اللہ احدا کہ ہرگز نہیں اٹھائے گا اللہ کسی کو۔
اللہ ہرگز کسی کو نہیں اٹھائے گا یا نہیں بھیجے گا، دو ترجمے ہیں یہاں پر، یاد رکھیے! یا تو یہ معنی کہ اللہ ہرگز کسی کو نہیں بھیجے گا یعنی کسی پیغمبر کو۔ اے جنات جس طرح تمہارا گمان تھا اسی طرح اب سے پہلے انسانوں کا بھی یہی گمان تھا کہ اللہ کسی کو پیغمبر بنا کر نہیں بھیجیں گے۔ انسانوں کا بھی یہی گمان اور تمہارا بھی یہی گمان۔
یا دوسرا معنی کہ اللہ کسی کو نہیں اٹھائے گا یعنی قیامت کے دن، کب؟ قیامت دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اللہ، جیسا اے جنات تمہارا گمان تھا کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں اسی طرح انسانوں کا بھی یہی گمان تھا کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے، اللہ کسی کو دوبارہ کسی کو نہیں اٹھائیں گے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
و انّہ کان رجالٌ من الانس یعو ذون برجالٍ من الجنّ فزادوہم رہقا اور کچھ انسانوں میں سے کچھ مرد جو تھے، وہ پناہ پکڑتے تھے جنوں میں سے کچھ مردوں کی، پس ان انسانوں نے ان جنّات کو اور سر چڑھا دیا۔ و انھم ظنّ اور ان انسانوں نے بھی یہ گمان کیا تھا جیسے کہ تم نے گمان کیا ہے کہ اللہ نہیں اٹھائیں گے کسی ایک کو بھی۔ و انا لمسنا السماء فوجدناھا ملئت حرسا شدیدا و شہبا۔ اور ہم نے ٹٹولا آسمان کو، جنّات وہ اب ذکر کر رہے ہیں کہ اب ہم آسمان میں جاتے ہیں، چھپنے کی جگہ تلاش کرتے ہیں، لیکن باتیں سننے کے لیے جوں ہی قریب پہنچتے ہیں ہم پر ہم پر آگ کے گولے برسائے جاتے ہیں۔ و انا لمسنا السماء اور ہم نے آسمان کو ٹٹولا فوجدناھا ملئت حرسا شدیدا، پس ہم نے اس کو پایا ملئت کہ وہ بھرا گیا ہے۔ وہ کیا ہے؟ یعنی بھرا ہوا ہے حرسا شدیدا سخت پہرے سے۔
وہ بھرا ہوا ہے سخت پہرے سے، و شہبا اور شہب جمع ہے شہاب کی، آگ کا شعلہ، آگ کا انگارہ، اور وہ آگ کے انگاروں سے بھرا ہوا ہے، یعنی جو بھی اب قریب جاتا ہے اس کو آگ کا گولہ، آگ کا انگارہ مارا جاتا ہے۔ و انا کنّا نقعد منھا مقاعد للسمع اور ہم جو تھے بیٹھا کرتے تھے منھا ان آسمانوں میں مقاعد للسمع، کہاں پر؟ سننے کی جگہوں میں۔
ہم ان آسمانوں میں سننے کی جگہ، ہم نے کچھ مقرر کر رکھی تھیں، ان سننے کی جگہوں میں ہم بیٹھا کرتے تھے، فمن یستمع الان، پس اب جو کوئی سنتا ہے اب، فمن یستمع الان، پس جو سنتا ہے الان اب، یجد لہ، وہ پاتا ہے لہ اپنے لیے شہابا رصدا، انگارہ، رصدا تیار۔ وہ اپنے لیے تیار انگارہ پاتا ہے۔
و انا کنّا نقعد منھا مقاعد للسمع فمن یستمع الان یجد لہ شہابا رصدا اور ہم آسمان میں بیٹھ سننے کے لیے بیٹھنے کی جگہوں میں بیٹھا کرتے تھے، پس جو کوئی سنتا ہے اب وہ پاتا ہے اپنے لیے تیار انگارہ، تیار شعلہ۔ و انا لا ندری أشرٌ ارید بمن فی الارض ام ارادا بہم ربھم رشدا اور ہم نہیں جانتے، و انا لا ندری اور ہم نہیں جانتے أشرٌ ارید، کیا شر کا، تکلیف کا ارادہ کیا گیا ہے بمن فی الارض ان کے ساتھ جو زمین میں ہیں یعنی زمین والے؟ کیا تکلیف کا ارادہ کیا گیا ہے زمین والوں کے ساتھ؟ ام ارادا بہم ربھم رشدا یا ان کے ساتھ ارادہ کیا ہے ان کے رب نے رشدا بھلائی کا۔
ان جنّات کہہ رہے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین میں جو لوگ ہیں، زمین کے جو رہنے والے ہیں ان کے لیے ساتھ کسی تکلیف کا ان کو تکلیف دینے کا ارادہ کیا گیا ہے یا رب نے ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ جنّات کہتے ہیں کہ ہم آسمانوں میں جا کر پہلے باتیں سنا کرتے تھے، اب ہم پر آ کے گولے برسائے جاتے ہیں۔ ہم حیران تھے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟
اب ہمیں اتنا تو پتہ چل گیا کہ اس کی وجہ یہ قرآن ہے، یہ پیغمبر ہے، یہ قرآن ہے اور یہ، یہ تو ہمیں پتہ چل گیا، لیکن اس قرآن کے ذریعے اور اس پیغمبر کے ذریعے اللہ نے دنیا والوں کے ساتھ شر کا ارادہ فرمایا، تکلیف دینے کا یا بھلائی کا؟ یعنی یعنی پتہ نہیں یہ لوگ جو ہیں اس پیغمبر پر، اس قرآن پر ایمان لائیں گے یا نہیں لائیں گے؟
اگر نہ لائے تو پھر تو شر میں پڑ گئے وہ، سارے کس میں پڑ گئے؟ اور اگر ایمان لے آئے، تو وہ انہوں نے خیر کو پا لیا، بھلائی کو پا لیا۔ تو جنّات کہہ رہے ہیں ہمیں یہ تو پتہ چل گیا کہ یہ قرآن کے نازل ہونے کی وجہ سے پہرے بڑھا دیے گئے ہیں، لیکن اس قرآن کے لیے اللہ نے شر کا ارادہ، تکلیف دینے کا ارادہ فرمایا ہے یا بھلائی کا، یہ ہمیں علم نہیں ہے، یعنی ہمیں نتیجے کا پتہ نہیں ہے کہ لوگ اس کو مان کر خیر کی طرف آ جائیں گے یا نہیں آئیں گے، کیا نتیجہ واقع ہوگا، اس کا ہمیں پتہ نہیں ہے۔
معنی سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا بھئی؟ کہ شر کا ان کے ساتھ ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے؟ یعنی نتیجہ کیا ہوگا؟ ایمان لے آئیں گے تو معلوم ہوا اللہ نے ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے، یا ایمان نہیں لائیں گے تو پھر عذاب ان پر نازل ہوگا تو اللہ نے تکلیف کا ارادہ کیا۔
دیکھیے جنّات کے ادب کا انداز لگائیے بھئی! ادب کا! ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، لیکن ادب کا انداز لگائیے کہ رشید کی، کا ذکر آیا، بھلائی کا ذکر آیا تو اس کی نسبت اللہ کی طرف کی ام ارادا بہم ربھم رشدا کس نے ارادہ کیا بھلائی کا؟ رب نے۔
اور پیچھے شر کا ذکر تھا، تو اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی، اگرچہ سب کچھ کرنے والی اللہ کی ذات، لیکن اس کی نسبت انہوں نے اللہ کی طرف نہیں کی، کیا کہا؟ أشرٌ ارید بمن فی الارض بھئی! تو سب کچھ کرنے والے اللہ ہیں، لیکن جو ناپسندیدہ چیز ہے، اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی جاتی بھئی۔
و انا لا ندری اور ہم نہیں جانتے تھے کہ کیا تکلیف کا ارادہ کیا گیا ہے ان کے لیے جو زمین میں ہیں، ام ارادا ربہم ام ارادا بہم ربھم رشدا یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے؟ و انا منّا الصالحون و منّا دون ذلک اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک تھے و منّا دون ذلک اور ہم میں سے کچھ جو ہیں دون ذلک اس کے علاوہ تھے۔ کچھ ہم میں سے نیک تھے، ہم جنّات میں سے اور کچھ اس کے علاوہ تھے۔
کنا طرائق قِددا اور ہم جو ہیں مختلف راستے راستوں والے تھے۔ طرائق جمع ہے طریقہ کی۔ قدد جمع ہے قِدّتُ کی।
تو ہم مختلف راستوں والے تھے۔ طرائق سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ بھئی لفظوں پر نظر ہے آپ کی۔ کنا طرائق قِددا، ہم مختلف راستے تھے، لفظی ترجمہ کیا بن رہا ہے؟ ہم مختلف راستے تھے، تو یہاں طرائق سے پہلے مضاف محذوف ہے، کنا ذوی طرائق قِددا، ذوی طرائق قِددا۔
ذوی جمع ہے کس کی؟ ذُو کی، اور حالت نصبی جری میں ہے، یہاں پر کس حالت میں ہے؟ حالت نصبی میں، ذوی طرائق قِددا ہم مختلف راستوں والے تھے، یعنی مختلف لوگ تھے کوئی، جیسے انسانوں میں مختلف لوگ تھے، کوئی یہودی ہے، کوئی عیسائی ہے، کوئی مشرک ہے، کوئی کس طرح ہے، تو ہم بھی اسی طرح تھے۔ کنا طرائق قِددا ہم مختلف راستوں والے تھے۔
و انا ظننا اور یہ ہم نے خیال کر لیا، اب ہم نے یہ خیال کر لیا، اب ہم سمجھ گئے و انا ظننا اور ہم نے یہ خیال کر لیا ان نعجز اللہ فی الارض کہ ہرگز عاجز نہیں کیا جا سکتا اللہ کو زمین میں و لن نعجزہ ھربا، اور ہم ہرگز اس کو عاجز نہیں کر سکتے، ھربا بھاگ کر۔
ہم اللہ کو بھاگ کر عاجز نہیں کر سکتے۔ یعنی اب ہمیں پتہ چل گیا، اب ہم، اب ہم سمجھ گئے کہ اللہ کو زمین میں بھی عاجز نہیں کیا جا سکتا اور بھاگ کر بھی اللہ کو عاجز نہیں کیا، اللہ کو ہرایا نہیں جا سکتا۔ و انا لمّا سمعنا الھدی آمنا بہ، اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت کو سنا (یعنی قرآن) اور ہم نے جب ہدایت کو سنا آمنا بہ، ہم اس پر ایمان لے آئے، یہ اپنی قوم کے سامنے بیان کر رہے ہیں بھئی۔
فمن یؤمن بربہ فلا یخاف بخسا و لا رحقا، بَخس کہتے ہیں نقصان کو، گھاٹے کو، رہق زیادتی، زیادتی۔ پس جو کوئی اپنے رب پر ایمان لائے گا فلا یخاف بخسا و لا رحقا، نہ تو اسے کسی گھاٹے کا خوف ہوگا، و لا رحقا اور نہ کسی زیادتی کا۔
یعنی آخرت میں نہ اس کو کسی قسم کے خسارے کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور اس کے ساتھ کوئی زیادتی بھی نہیں ہوگی، کہ کسی بے انصافی کا سامنا کرنا پڑے، ایسا نہیں ہوگا۔
فلا یخاف بخسا و لا رحقا، پس نہ تو اس کو کوئی گھاٹے کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا، و انا منّا المسلمون و منّا القاسطون، اور یہ کہ ہم میں سے کچھ جو ہیں، وہ مسلمان تھے، فرمانبردار تھے، و منّا، ہم میں سے کچھ مسلمان ہیں و منّا القاسطون اور کچھ بے انصاف ہیں۔
کچھ لوگ کیا ہیں؟ ہم میں سے کچھ جو ہیں وہ فرمانبردار ہیں یعنی اسلام لے آئے ہیں، و منّا القاسطون اور ہم میں سے کچھ ناانصاف ہیں، بے انصاف ہیں۔
فمن اسلم فأولئک تحروا رشدا، پس جو کوئی مسلمان ہوا، پس وہی لوگ ہیں تحروا رشدا کہ انہوں نے ارادہ کیا ہے بھلائی کا۔ جو اسلام لے آیا، پس تحقیق اس نے بھلائی کا ارادہ کر لیا۔
و اما القاسطون اور باقی جو بے انصاف ہیں، فکانو لجھنم حطبا، پس وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔ حطب وہ لکڑیاں جن کو اگ، جو آگ جلائے جن کے ذریعے آگ جلائی جاتی ہے، خشک لکڑیاں وغیرہ۔
اور باقی جو بے انصاف ہیں فکانو لجھنم حطبا، پس وہ جہنم کا عذاب ہیں، و ان لو استقاموا علی الطریقۃ لاسقینھم ماء غدقا۔ جی۔
و ان لو استقاموا، یہ ان مخففہ من المثقلہ ہے، اصل میں کیا تھا؟ ان، کیا تھا؟ و ان، اور اس کے ساتھ اس کا اسم بھی محذوف ضمیر شان گئی۔ اور اس کا عطف یاد رکھیے بھئی جنّات کی بات مکمل ہوئی۔
اب و ان لو استقاموا اس کا عطف ہے اوحی الیّ انہ استمع، یہاں جو ان آیا تھا اس پر عطف ہے بھئی، یہ بھی اس و ان لو استقاموا کا بھئی۔ و ان لو استقاموا اور اگر یہ سیدھے رہیں علی الطریقۃ راستے پر، لاسقینھم تو البتہ ہم ان کو پلائیں ماء غدقا، کثیر پانی۔ کثرت سے پانی ان کو پلائیں۔
یہ اہل مکہ کو خطاب ہے، تو یہ مشرکین مکہ، پیغمبر آپ کہہ دیجیے میری طرف یہ وحی کی گئی یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ سیدھے رہیں علی الطریقۃ سیدھے راستے پر، لاسقینھم تو البتہ ہم ان کو پلائیں ماء غدقا کثیر پانی، کثرت سے پانی ان کو پلائیں۔ یہ اس وقت موقع پر مکہ میں قحط کی صورت حال تھی، بھئی پہلے میں بتلا چکا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکالیف دیتے تھے تو آپ کی بد دعا سے ان پر قحط آیا، بھئی اور یہاں تک کہ وہ یہ ہڈیاں اور یہ چمڑے وغیرہ کھانے چمڑے کے ٹکڑے وغیرہ کھانے تک وہ مجبور ہوگئے، بارش وغیرہ، غلہ بالکل ختم،
تو اے پیغمبر ان کو کہہ دیجیے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے اگر یہ سیدھے رہیں، سیدھے راستے پر، یہ مکہ والے سیدھے راستے پر سیدھے رہیں، یعنی سیدھے راستے پر آ جائیں لاسقینھم ماء غدقا تو البتہ ہم ان کو سیراب کریں کثیر پانی کے ساتھ، یعنی خوب پانی ان کو پلائیں۔ لنفتنھم فیہ تاکہ ہم آزمائش کریں ان کی فیہ اس میں۔
اس ماء غدق کثیر پانی میں تاکہ ہم ان کی آزمائش کریں۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ اگر یہ ہمارے راستے پر سیدھے ہو جائیں تو ہم ان کو خوب پانی سے سیراب کریں اور اس کثیر پانی میں ہم ان کی آزمائش کریں، اس میں بھی ہم وہ بھی کیا، اس میں بھی کیا کریں ان کی؟ آزمائش کریں کہ کون پھر ہمارے راستے پر رہتا ہے، کون ہمارا شکر ادا کرتا ہے اور کون ہمارا شکر ادا نہیں کرتا۔
لنفتنھم فیہ تاکہ ہم ان کی آزمائش کریں اس میں، و من یعرض عن ذکر ربہ اور جو کوئی منہ موڑتا ہے اپنے رب کے ذکر سے یسْلکہ عذابا صعْدا۔ چڑھتے عذاب میں، صعید یصعد صعود کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ اوپر چڑھنے کے، اسی سے صعدا (یعنی سخت عذاب، سخت عذاب)
یسْلکہ تو وہ اس کو داخل کرے گا عذابا صعدا سخت عذاب میں، اور جو کوئی اپنے پروردگار کے رب کے ذکر سے اعراض کرے گا، اس سے منہ موڑے گا، تو وہ رب اس کو داخل کرے گا عذابا صعدا سخت عذاب میں۔
وان المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا۔ اور یہ کہ مساجد جو ہیں وہ اللہ کے لیے ہیں۔ مساجد کس کے لیے ہیں؟ اللہ کے لیے ہیں۔ فلا تدعوا مع الله أحدا پس نہ پکارو اللہ کے ساتھ کسی ایک کو بھی۔ یہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، کسی ایک کو بھی اللہ کے علاوہ ان میں نہ پکارو۔
تو مساجد سے کیا مراد لی؟ مساجد۔ بعض مفسرین نے مساجد سے وہ اعضاء مراد لیے جن پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ مساجد سے کیا مراد لیے؟ وہ اعضاء جن پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ یعنی یہ جو ہتھیلیاں ہیں، یہ گھٹنے ہیں، یہ پاؤں ہیں، یہ ماتھا اور ناک ہے، یہ اعضائے سجدہ ہیں، ان پر سجدہ کرتا ہے انسان۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ مساجد سے یہ اعضائے سجدہ مراد ہیں۔ تو معنی کیا ہوا؟ کہ یہ جو سجدے کے اعضاء ہیں یعنی سجدے کے ہاتھ پاؤں ہیں، یہ اللہ کا حق ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ ان کو صرف اللہ ہی کے سامنے جھکاؤ، کسی اور کے سامنے نہ جھکاؤ۔
تو پہلا ترجمہ کیا ہوا کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، مساجد۔ دوسرا ترجمہ کیا ہوا؟ کہ سجدے کے اعضاء، سجدے کے ہاتھ پاؤں اللہ کا حق ہیں۔ فلا تدعوا مع الله أحدا پس نہ پکارو اللہ کے ساتھ کسی ایک کو بھی۔ وانہ لما قام عبد اللہ یدعوه كادوا يكونون عليه لبدا۔ اور یہ کہ جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ، جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
چنانچہ چونکہ لفظ عبداللہ ذکر ہے اور مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو پھر ترجمہ یوں کرتے ہیں بھئی تاکہ پتہ لگے۔ اور یہ کہ جب کھڑا ہوا عبداللہ، اللہ کے خ اللہ کا خاص بندہ۔ جب کھڑا ہوا اللہ کا خاص بندہ یا یوں ترجمہ کریں، جب کھڑا ہوا اللہ کا کامل بندہ۔ یدعوه اس کو پکارتے ہوئے۔ کادو قریب تھا کہ وہ یکونون عليه لبدا کہ وہ اس پر لپٹ جائیں۔ وہ اس پر کیا ہو جائیں؟ لپٹ جائیں، وہ اس پر ہجوم کر لیں۔
یہ بات بھی پہلے بیان ہو چکی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت قرآن پڑھا کرتے تھے۔ تو مسلمان تو شوق اور رغبت کی وجہ سے اپ کے پاس آتے، جبکہ کفار کا بھی ہجوم لگ جاتا اور وہ کفار کا ہو وہ کس لیے آپ کے گرد جمع ہو جاتے تھے؟ مذاق اڑانے کے لیے اور تکلیف دینے کے لیے۔
تو وہی اللہ ذکر فرما رہے ہیں وانہ لما قام عبد اللہ یدعوه اور جس وقت کھڑا ہوا اللہ کا کامل بندہ یدعوه صلی اللہ کو پکارتے ہوئے کادو یکونون عليه لبدا قریب تھا کہ وہ اس پر اس پر لپٹ جائیں یعنی اس کے گرد ہجوم کر لیں یوں ترجمہ کر لیں۔ قریب تھا کہ وہ اس کے گرد ہجوم کر لیں۔
قل انما ادعو ربی ولا اشرك به أحدا۔ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ میں تو دعوت دیتا ہوں اپنے رب کی، اپنے رب کی طرف ولا اشرك به أحدا اور میں شریک نہیں کرتا اس کے ساتھ کسی ایک کو بھی۔ قل انی لا املك لكم ضرا ولا رشدا۔ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ یقینا میں مالک نہیں ہوں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ کسی بھلا}:nnاے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہارے لیے کسی نقصان اور بھلائی کا مالک نہیں ہوں یعنی کسی کا مجھے اختیار نہیں، نہ میں تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں نہ کوئی نفع پہنچا سکتا ہوں، نفع پہنچانے والی ذات کون سی؟ صرف اللہ کی ہے۔ جب اس کائنات کا کہ اس کائنات کا کامل ترین انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ میں کسی کو ضرر اور نقصان اور نفع دینے کے کہ کا اختیار نہیں رکھتا۔ جب جس کے لیے اس کائنات کو بنایا گیا جو افضل ترین ہستی ہیں اللہ تعالی کی ذات کے بعد جب وہ فرما رہے ہیں کہ میں نہ کسی کو کوئی نفع دے سکتا ہوں نہ کسی کو کوئی نقصان دے سکتا ہوں، جب وہ ذات کسی کے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتی تو باقی لوگ جو ہیں بدتر کہ اعلی کسی کو نفع اور نقصان دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔
قل انی تو ترجمہ یوں کیجیے قل انی لا املك لكم ضرا ولا رشدا۔ آپ کہہ دیجیے کہ یقینا میں اختیار نہیں رکھتا تمہارے نفع تمہارے نقصان کا اور نہ نفع کا۔ قل انی لن یجیر لن يجيرني من الله أحد۔ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ یقینا مجھے پناہ نہیں دے سکتا اللہ سے کوئی ایک بھی۔ ولن اجد من دونه ملتحدا۔ اور میں ہرگز اور میں ہرگز نہیں پاتا اس کے علاوہ ملتحدا کوئی پناہ کی جگہ۔
اگر میں اللہ کے پیغام نہ پہنچاؤں، اللہ کے بتلائے ہوئے طریقے پر نہ چلوں۔ تو میں کوئی مجھے اللہ سے بچا نہیں سکتا اور میں اللہ کے علاوہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں پاتا۔
اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ میں نہ تمہیں کوئی کوئی نفع یا نقصان دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ بلکہ بلکہ تمہارا نفع اور نقصان تو چھوڑو میں اپنے نفع اور نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔ اگر میں اللہ کے احکام پر نہ چلوں، اس کی دعوت صحیح طریقے سے نہ پہنچاؤں۔ تو اللہ کے مقابلے میں کوئی مجھے پناہ نہیں دے سکتا۔
قل انی لن يجيرني من الله أحد کہ ہرگز مجھے پناہ نہیں دے سکتا اللہ کے مقابلے میں کوئی ایک بھی اور میں نہیں ہرگز نہیں پاتا اس اللہ کے علاوہ ملتحدا کوئی پناہ کی جگہ۔ الا بلاغا من الله ورسالاته۔ مگر پہنچانا اللہ کی طرف سے ورسالاته اور اس کے پیغامات۔ یہ استثنا ہے لا املك سے۔ کس سے استثنا ہے؟ لا میں اختیار نہیں رکھتا، صرف اتنا اختیار ہے۔ کیا اختیار ہے؟ بلاغا من الله اللہ کی طرف سے پہنچانا ہے ورسالاته اور اللہ کے پیغامات کہ یہ میں پہنچانا میرے ذمے ہے وہ میں کر رہا ہوں۔
ومن يعص الله ورسوله۔ اور جو کوئی نافرمانی کرتا ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی۔ فان له نار جهنم خالدين فيها أبدا۔ پس یقینا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے کہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حتى إذا رأوا ما يوعدون فسيعلمون من أضعف ناصرا وأقل عددا۔ یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے ما اس چیز کو يوعدون جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
مشرکین مکہ کہتے تھے کہ آپ ہم پر وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے جس کا آپ جس سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں، جس کا ہم سے جس سے ہم جس کا وعدہ کرتے ہیں ہم سے۔ اور مسلمانوں کو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھمکاتے تھے کہ دیکھو کس کے مددگار زیادہ ہیں۔ کس کی تعداد زیادہ ہے۔ ابتدائے اسلام کا زمانہ تھا یقینا اس وقت مشرکین کی تعداد زیادہ مسلمان تو چند گنتی کے لوگ تھے تو کہتے تھے دیکھو ہم گنتی میں بھی زیادہ ہمارے مددگار بھی زیادہ تو ہم ہی غالب رہیں گے ہمیشہ۔ اللہ آگے فرما رہے ہیں فرما رہے ہیں کہ جس وقت وہ اس وعدے کو دیکھ لیں گے یعنی اس عذاب کو دیکھ لیں گے یا اس قیامت کے دن کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ کس کی تعداد زیادہ ہے اور کس کے مددگار زیادہ ہیں۔
حتى إذا رأو یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے ما يوعدون وہ چیز اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے فسيعلمون پس عن قریب وہ جان لیں گے من أضعف ناصرا وأقل عددا۔ کہ کون زیادہ ضعیف ہے زیادہ کمزور ہے ناصرا بہ اعتبار مددگاروں کے وأقل عددا اور کون زیادہ کم ہے بہ اعتبار عدد کے۔ یعنی کس کے مددگار کمزور ہیں اور عدد میں تھوڑے اور کون عدد میں کم ہے۔
فسعن قريب وہ جان لیں گے من أضعف ناصرا وأقل عددا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کون تعداد میں کم ہے۔ قل إن أدري أقريب ما توعدون أم يجعل له ربي أمدا۔ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ میں نہیں جانتا کہ کیا قریب ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی قیامت کا دن۔ کہ میں نہیں جانتا ہے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ میں نہیں جانتا کہ وہ قیامت کا دن جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ قریب ہے۔ أم يجعل له ربي أمدا۔ امد کہتے ہیں مدت کو یا مقرر کر رکھی ہے اس کے لیے میرے پروردگار نے کوئی مدت یعنی لمبی مدت مراد ہے۔ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ میں نہیں جانتا کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی قیامت کیا وہ قریب ہے یا اس کے لیے میرے پروردگار نے کوئی لمبی مدت مقرر کر رکھی ہے۔
عالم الغیب میرا رب جو ہے وہ غیب کا جاننے والا ہے۔ فلا يظهر على غيبه أحدا۔ پس وہ ظاہر نہیں کرتا یعنی مطلع نہیں کرتا على غيبه اپنے غیب پر أحدا کسی ایک کو بھی۔ اللہ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ الا من ارتضى من رسول۔ مگر وہ جس کو پسند کر جس کو وہ جس کو وہ پسند کر لے من رسول کوئی رسول۔ مگر یہ کہ وہ پسند کر لے کسی رسول کو۔ اللہ اپنی غیب کی خبریں کسی کو نہیں دیتے۔ الا من ارتضى من رسول مگر یہ کہ وہ جس کو یہ پسند کر لے من رسول پیغمبروں میں سے۔ پیغمبروں میں سے جس کو وہ پسند کر لے اس کو بعض غیب کی باتوں پر مطلع فرما دیتے ہیں۔ کیا کر دیتے ہیں؟ غیب کی باتوں پر مطلع فرما دیتے ہیں۔ جو پیغمبر کی شان کے لائق ہو بھئی۔ جو جن باتوں پر مطلع کرنا مقصود ہو۔
مگر یہ کہ وہ پسند کر لے پیغمبروں میں سے فانه يسلك من بين يديه ومن خلفه رصدا۔ پس وہ جو ہے اللہ وہ چلا دیتا ہے من بين يديه اس پیغمبر کے سامنے ومن خلفه اور اس کے پیچھے رصدا پہرے دار۔
جس پیغمبر پر اللہ نے وحی کرنی ہو، جس پیغمبر پر بعض جو غیب کے امور جن کو اللہ نے ظاہر فرمانا ہو۔ اس کی طرف پیغمبر کی طرف وحی بھیجنی ہو تو اللہ فرماتے ہیں کہ اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے ہم پہرے دار بھیج دیتے ہیں۔ اس کے آگے اور پیچھے پہرے دار چلا دیتے ہیں۔
معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی۔ فرشتوں کی حفاظت کا بندوبست کر دیا جاتا ہے۔ اس پیغمبر کے آگے پیچھے فرشتوں کی فوج حفاظت کے لیے موجود ہوتی ہے۔ کس لیے؟ تاکہ شیطان وحی کے اندر کسی قسم کا خلل نہ ڈال سکے۔ تاکہ شیطان وحی کے اندر کسی قسم کا خلل نہ ڈال سکے۔
اور یہ جو فرشتوں کے پہرے چلا دیے جاتے ہیں حفاظت کے لیے پہرے دار بھیج دیے جاتے ہیں۔ یہ بھی صرف اللہ کی ظاہری حکومت کے اظہار کے لیے۔ کس کے لیے؟ ظاہری حکومت اللہ نے کہ عظیم الشان نظام بنا رکھا ہے۔ تو اس شاہانہ نظام کے اظہار کے لیے فرشتوں کو مقرر کر دیا جاتا ہے۔ ورنہ وہ ذات جو ہر چیز پر قادر ہے اسے ان چیزوں کی بھی حاجت نہیں۔ لیکن جیسے شاہانہ نظام ہوتا ہے ایک بادشاہ کوئی کام کرنے لگتا ہے تو باقاعدہ پوری ایک فوج کیا کرتی ہے اس کام کو سرانجام تو اسی طرح اللہ نے ایک شاہانہ نظام بنا رکھا ہے۔
مگر یہ کہ جس رسول کو وہ پسند کر لے فانه يسلك من بين يديه ومن خلفه رصدا پس وہ چلا دیتا ہے اس پیغمبر کے آگے اور اس کے پیچھے رصدا پہرے دار۔ ليطلع ان قد أبلغوا رسالات ربهم۔ تاکہ وہ اللہ جان لے ان قد أبلغو رسالات ربهم کہ انہوں نے پہنچا دیا اپنے رب کے پیغامات کو۔ انہوں نے پہنچا دیا اپنے رب کے پیغامات کو۔ کس نے پہنچایا؟ فرشتوں نے پیغمبر تک۔ فرشتوں نے پیغمبر تک وحی پہنچا دی ہے۔ یا تاکہ اللہ جان لے کہ تحقیق وہ پہنچا چکے ہیں۔ کیا معنی؟ یعنی وہ پیغمبر اپنی قوم تک پہنچا چکے ہیں۔ تو دونوں ہو سکتے ہیں معنی۔ فرشتوں کا پیغمبر تک پہنچانا یا پھر پیغمبر کا لوگوں تک پہنچانا۔ ليطلع تاکہ اللہ جان لے ان قد أبلغوا رسالات ربهم یہ کہ وہ پہنچا چکے ہیں اپنے رب کے پیغامات کو واحاط بما لديهم۔ اور تحقیق اللہ نے احاطہ کر لیا جو کچھ ان کے پاس ہے۔ واحاط بما لديهم اور اللہ نے احاطہ کر رکھا ہے بما لديهم جو کچھ ان کے پاس ہے۔ واحصی كل شيء عددا۔ اور اللہ نے شمار کر رکھا ہے احصا شمار اور اللہ نے شمار کر رکھا ہے كل شي كل چیز کو عددا بہ اعتبار عدد کے۔ اللہ کو ہر چیز کا عدد ہر چیز کی تعداد معلوم ہے ہر چیز کا اللہ نے احاطہ کر رکھا ہے۔
ليعلم ان قد أبلغوا رسالات ربهم أن یہ مخففہ من الثقيلة ہے ان کا اور اس کے ساتھ اس کا اس سے ضمیر شان بھی محذوف انہو تھا بھئی۔ ليعلم تاکہ اللہ جان لے کہ تحقیق وہ پہنچا چکے ہیں اپنے رب کے پیغامات کو اور وہ اس نے احاطہ کیا ہوا ہے جو کچھ ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی اس نے شمار کر رکھی ہے۔
ليعلم تاکہ اللہ جان لے یہ بات پہلے بھی کئی مرتبہ میں بیان کر چکا۔ اس سے تو بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اللہ کو پہلے علم نہیں ہوتا بعد میں علم ہوا۔ تو جواب میں بیان کر چکا کہ بعض اوقات جو ہے اللہ کلام فرماتے ہیں اپنے علم کے مطابق اور بعض اوقات انسان کے علم کے مطابق کلام فرماتے ہیں۔ اپنے علم کے مطابق تو سب کچھ اللہ کے سامنے ہے ماضی حال مستقبل کوئی زمانے اللہ کے سامنے سب برابر ہیں۔ ہمارے لیے کوئی چیز ماضی میں ہے کوئی حال میں ہے کوئی استقبال میں ہے۔ یہ زمانے اللہ کے سامنے کوئی چیز نہیں سب کچھ اللہ کے سامنے موجود ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اللہ قیامت کا حال بھی ذکر فرماتے ہیں تو ماضی کے صیغے ذکر ہو رہے ہیں۔ مستقبل کی بات ذکر ہوتی ہے ماضی کے صیغے استعمال ہو رہے ہیں جیسے ایک بات معلوم ہے بھئی ہو چکی ہے۔ اور کبھی اللہ انسانوں کے علم کے مطابق کلام فرماتے ہیں جیسے انسان کو ایک بات مستقبل میں ان آنے والی چیز کا بعد میں پتہ چلتا ہے اسی انداز میں اللہ فرما رہے ہیں یہاں پر بھی ليععلم تاکہ اللہ جان لے بھئی ورنہ اللہ کے علم میں ہر چیز ہے۔ چلیے بس بھئی ہوا ہو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔