Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-002

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 36
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے لکھیے بھئی! بحث ثانی۔ بحث ثانی۔ تأویل اور تفسیر، دونوں کا معنی ایک ہے، دونوں کا معنی و مطلب قرآن مجید کے معانی و مضامین کی تشریح و توضیح کرنا ہے۔ توضیح بھئی، ت، و، ض، ی، ح، توضیح۔ لکھ لیا بھئی! دونوں کا معنی و مطلب قرآن مجید کے معانی و مضامین کی تشریح و توضیح کرنا ہے۔ پس تأویل القرآن کا معنی ہے، تفسیر القرآن، پس تأویل القرآن کا معنی ہے، تفسیر القرآن، اور تفسیر القرآن کا معنی ہے، تأویل القرآن، اور تفسیر القرآن کا معنی ہے، تأویل القرآن۔ البتہ بعض علماء، البتہ بعض علماء، تأویل و تفسیر میں، کچھ فرق بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ تأویل و تفسیر، چنانچہ تأویل و تفسیر کے فرق کے بارے میں، علماء کے کئی اقوال ہیں۔ الگ سطر میں لکھیے بھئی! راجح قول یہ ہے، راجح بھئی، ج اور ح، راجح قول یہ ہے، کہ، کہ، التفسیر ما یتعلق بالنقل والروایة، بالنقل، با، الف، ل، ن، ق، ف، ل، بھئی، التفسیر ما یتعلق بالنقل والروایة، عن السلف، سین کے ساتھ ہے سلف، عن السلف، والتأویل، والتأویل، ما یتعلق، بالاستنباط، بالاستنباط، استنباط بھئی، ص کے ساتھ ہوتا ہے، الف، لام ہے، اور اس کے الف کے ساتھ باء جوڑ دیں بھئی، بالاستنباط، الاستنباط کے شروع میں کیا لگا دیں، با، بالاستنباط، من نفسہ، من نفسہ، والفہم، والفہم، لکل مفسر، لکل مفسر، لکھ لیا بھئی! ہاں دوبارہ بھی سن لیں اور اس پر اعراب بھی لگا لیں، التفسیر ما یتعلق بالنقل والروایة عن السلف، والتأویل، نہیں والتأویل، والتأویل ما یتعلق بالاستنباط من نفسہ والفہم لکل مفسر۔ لگا لیے اعراب بھئی؟ ص، ص آخر میں، استنباط کے آخر میں ص ہے۔ ہاں تأویل، الف کے ساتھ، بالاستنباط من نفسہ والفہم، والفہم لکل مفسر۔ دوبارہ دیکھ لیں ایک مرتبہ، اعراب بھی، التفسیر ما یتعلق بالنقل والروایة عن السلف والتأویل ما یتعلق بالاستنباط من نفسہ والفہم لکل مفسر۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ تفسیر وہ ہے جس کا تعلق، جس کا تعلق سلف صالحین اور بزرگوں سے، جس کا تعلق سلف صالحین اور بزرگوں سے، نقل و روایت کے ساتھ ہو، سے، نقل و روایت کے ساتھ ہو۔ اور تأویل وہ ہے، جس کا تعلق، اپنے استنباط، اپنے استنباط، اور اپنی سمجھ کے ساتھ ہو، اور اپنی سمجھ کے ساتھ ہو ہر مفسر کے۔ یا یوں کر لیں ترجمہ، دوبارہ سنیں تأویل کا، تأویل وہ ہے جس کا تعلق، ہر مفسر کے، یہاں لکھ دیں مفسر ذرا ترجمہ اور واضح ہو جائے گا آپ کے لیے، جس کا تعلق، ہر مفسر کے، اپنے استنباط، استنباط کا معنی ہوتا ہے نکالنا، مسئلہ بھئی، کوئی مسئلہ نکالنا، کوئی نکتہ معلوم کرنا، اسے استنباط کہا جاتا ہے۔ समझ में आया भाई؟ مفہوم بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں بھئی؟ تفسیر ایک ہے جس میں بزرگوں کے، جو معنی انہوں نے بیان کیے تھے، صحابہ وغیرہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جیسے سمجھے تھے، جو انہوں نے بیان کیا، اس یہ جو ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ تفسیر۔ یہ تفسیر ہے، اور تأویل کہ کچھ عالم دین، خود قرآن میں غور و فکر کرے، اور نئے نئے نکات، نکتہ بیان کرے، اسے کیا کہتے ہیں؟ تأویل کہتے ہیں۔ فرق سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو تفسیر جس میں نقل ہو، روایت ہو بزرگوں سے، کہ انہوں نے اس آیت کا یہ معنی کیا ہے، یہ مفہوم بیان کیا ہے بھئی۔ اور تأویل، جس میں مصنف مفسر کیا کرتا ہے، اپنی طرف سے کوئی نیا نکتہ اور کوئی نئی بات قرآن سے معلوم کرتا ہے، اللہ اس کے ذہن میں ڈال دیتے ہیں، اور اسے بیان کرتا ہے، تو اسے کیا کہا جاتا ہے؟ تأویل کہا جاتا ہے، تأویل۔ آگے لکھیے، اس لیے تفسیر کا دائرہ محدود ہے، اس لیے تفسیر کا دائرہ محدود ہے، اور تأویل کا دائرہ، اور تأویل کا دائرہ، وسیع ہے، اور تأویل کا دائرہ وسیع ہے، اور تا قیامت وسیع ہوتا جائے گا۔ اور تا قیامت وسیع ہوتا جائے گا۔ کثرت تفاسیر کا، مدار، کثرت تفاسیر کا مدار، تأویل ہے، تأویل ہے نہ کہ تفسیر۔ نہ کہ تفسیر۔ کثرت تفاسیر کا مدار، تأویل ہے نہ کہ تفسیر۔ آگے لکھیے، القرآن کتاب اللہ تعالیٰ، القرآن کتاب اللہ تعالیٰ، لا یبلا، لا یبلا من کثرت الرد، کثرت کثرت، گول تا کے ساتھ لکھنا ہے بھئی عربی میں، گول تا آئے گی ہاں۔ لا تبلا لا یبلا، من کثرت الرد، ولا تنقضی، ولا تنقضی، تنقضی تا ہے، دو نقطوں والی، پھر نون ہے، پھر قاف ہے دو نقطوں والا، پھر ضاد اور یا۔ ولا تنقضی عجائبہ، عجائبہ، ترجمه یعنی قرآن الله کی کتاب ہے، قرآن الله کی کتاب ہے، جو بار بار لٹانے سے پرانی نہیں ہوتی۔ جو بار بار کثرت سے لٹانے سے پرانی نہیں ہوتی یعنی اسے جتنی مرتبہ بھی پڑھا جائے، یعنی اسے جتنی مرتبہ بھی پڑھا جائے اور دہرایا جائے، اس سے جی نہیں بھرتا۔ اس سے جی نہیں بھرتا۔ اور اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اور اس کے عجائبات اور نکات ختم نہیں ہوتے۔ جیت لیا بھئی؟ دوبارہ عربی عبارت سن لیں: القرآن کتاب الله تعالی لا يبلى من كثرة الرد ولا تنقضي عجائبه. قرآن الله کی کتاب ہے، لا يبلى۔ بلکہ یہ يبلى کے معنی ہوتے ہیں پرانا ہونا، کثرت رد یعنی کثرت سے لٹانا، بار بار دہرانا مراد ہے۔ سمجھ میں آیا، مفہوم سمجھ میں آ گیا بھئی؟ آپ دنیا کی کوئی اور کتاب اٹھاتے ہیں، کسی انسان کی لکھی ہوئی تو ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد دوبارہ پڑھنے کو جی نہیں چاہتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چاہے جتنی بھی عمدہ لکھی ہو، ایک یا دو مرتبہ، تین مرتبہ کے بعد تو بالکل طبیعت اس سے سیر ہو جائے گی۔ لیکن قرآن اس اللہ کی کتاب ہے، اسے جتنی مرتبہ پڑھا جائے، جتنی مرتبہ بھی پڑھا جائے، یہ اس سے جی نہیں بھرتا، یہ بھی قرآن کا معجزہ ہے بھئی۔ ولا تنقضی عجائبه اور اس کے عجائبات اور نکات کبھی ختم نہیں ہوتے، جو بھی مفسر آتا ہے، نئے نئے نکات بیان کرتا ہے، اور تا قیامت یہ سلسلہ چلتا رہے گا، اس کے قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے، کیونکہ یہ خالقِ ارض و سما کا کلام ہے بھئی۔ آگے لکھیے! یاد رکھیے تفسیر اصل ہے اور تاویل تابع ہے۔ یاد رکھیے تفسیر اصل ہے اور تاویل تابع ہے۔ تاویل کو تفسیر تاویل کو تفسیر اور اصول اسلام کے خلاف اور اصول اسلام کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ نہیں ہونا چاہیے، اگر ہو تو، اگر ہو تو یہ زندقہ، زندقہ ز کے ساتھ ہے، ز را ز اور قاف ہے دو نقطوں والا اور آخر میں ہ تو یہ زندقہ اور الحاد ہے۔ اور الحاد ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یاد رکھیے ابھی آپ کو میں نے بتایا تفسیر تو وہ ہے جس کا تعلق اسلاف سے نقل اور روایت پر کے ساتھ ہو بھئی۔ اسلاف نے صحابہ کرام نے جو تفسیر بیان کی وہ جو معنی بیان کیا اسے تفسیر کہتے ہیں، اور تاویل کا معنی آپ کو بتلایا کہ جو کوئی شخص کیا کرتا ہے، کوئی عالم دین قرآن سے کچھ نئے نکات نکالتا ہے، معلوم کرتا ہے اور سمجھتا ہے، اس کو تاویل کہا جاتا ہے۔ پھر آگے آپ کو بتلایا بھئی یہ جو جس کثرتِ تو تفسیر بھئی اس کا دائرہ بتلایا محدود ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس میں وہی چیزیں آئیں گی جو سلفِ صالحین نے بیان کیں اور جبکہ تاویل کا دائرہ وسیع ہے کہ جو بھی شخص آتا ہے، جو بھی عالمِ دین آتا ہے، وہ اپنی طرف سے نئے نئے نکات بیان کرتا ہے اور ان میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر بتایا کہ کثرتِ تفاسیر جو ہیں یہ آپ اتنی تفاسیر دیکھتے ہیں لاکھوں کی تعداد میں تفاسیر قرآن کی ہو چکیں، تو یہ جو کثرتِ تفاسیر ہے، اتنی تفاسیر زیادہ ہیں، ان کا دارو مدار اور ان کی بنیاد تاویل پر ہے۔ تفسیر جو بھی لکھتا ہے اس میں کیا کرتا ہے اپنی طرف سے وہ نئے نئے نکات بیان کرتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگر صرف وہی سلفِ صالحین کے اقوال ہوتے تو پھر تو وہ ایک ہی تفسیر میں آجاتے، وہ کافی تھے، لیکن ہر ایک اپنے انداز میں کیا کرتا ہے قرآن کے معنی بیان کرتا ہے، تو یہ تاویل ہے۔ لیکن اس تاویل کے اندر ابھی آپ کو ضابطہ بتلا دیا بھئی کہ جو بھی عالم دین ہو اور وہ علوم جانتا ہو عربیت کے اور قرآن کا معنی بیان کرنے کی اس میں اہلیت ہے، تو وہ قرآن میں نئے نئے معنی بیان کر سکتا ہے، لیکن یہ جو نئے معنی ہیں، یہ تفسیر اور اصول اسلام کے خلاف نہیں ہونے چاہئیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ نہیں کہ ایسی بات کرنا شروع کر دے جس سے اصولِ اسلام پر ہی زد پڑتی ہو، انہی کے خلاف سے کوئی ترجمہ کر دیتا ہے، یہ تو غلط ہے بھئی، یہ بے دینی ہے، الحاد، الحاد کا معنی بے دین۔ بے دینی بھئی، تو یہ بے دینی ہے اور زندیقیت ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تو اسلام کی خدمت نہیں کر رہا بلکہ اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ بزرگوں نے ایک معنی بیان کیا تھا، یہ آگے آکر اب ایک ایسا معنی بیان کرتا ہے جس سے وہ معنی سارا کیا ہو جاتا ہے؟ خراب ہو جاتا ہے، یہ درست نہیں بھئی، بات سمجھ میں آئی؟ تو تاویل آپ سب کو بھی اللہ بڑا عالم بنائے بھئی، علومِ عربیت میں ماہر بنائے، پھر آپ بھی نئے قرآن میں غور و فکر کر کے نئے نئے نکات بیان کر سکتے ہیں، لیکن کوئی بھی نکتہ بیان کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ کہیں اصول اسلام کے خلاف تو نہیں؟ تفاسیر کے خلاف تو نہیں؟ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ آگے لکھیے سوال! جلدی جلدی لکھیے بھئی۔ سوال: اس بیان سے ثابت ہوا اس بیان سے ثابت ہوا کہ تاویل پسندیدہ چیز ہے اور بڑا کمال ہے لیکن مشہور تو یہ ہے کہ تاویل ناپسندیدہ اور ممنوع ہے اور تاویل کرنے والے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ جواب: جواب: تاویل کا ایک معنی تفسیر ہے یعنی کسی کلام کا مطلب بیان کرنا اور یہ امرِ مستحسن ہے اور یہ امرِ مستحسن ہے (مستحسن کا معنی پسندیدہ بھئی) اور یہ امرِ مستحسن ہے جیسا کہ ابھی بیان ہوا۔ لکھ لیا بھئی؟ الگ سطر لکھیے! تاویل کا دوسرا معنی تاویل کا دوسرا معنی تحریف ہے، تاویل کا دوسرا معنی تحریف (تا دو نقطوں والی اور ح ح) تحریف ہے، جس میں ترکِ حقیقت جس میں ترکِ حقیقت (ترک یعنی چھوڑنا) جس میں ترکِ حقیقت و ظاہر و ظاہر (ترکِ حقیقت و ظاہر، و ہے وہ ظاہر سے پہلے) جس میں ترکِ حقیقت و ظاہر ہوتا ہے، ظاہر ہوتا ہے، یعنی قرآن کے ظاہری اور حقیقی معنی کو چھوڑ کر یعنی قرآن کے ظاہری اور حقیقی معنی کو چھوڑ کر اپنی طرف سے نئے معنی بیان کرنا اپنی طرف سے نئے معنی بیان کرنا نشان لگائے بھئی! بعد جملہ مکمل ہوا۔ تو ناپسندیدہ اور قبیح تو ناپسندیدہ اور قبیح تو ناپسندیدہ اور قبیح یہ دوسرا معنی ہے تو ناپسندیدہ اور قبیح یہ دوسرا معنی ہے نہ کہ پہلا معنی۔ نہ کہ پہلا معنی۔ لکھ لیا بھئی؟ کہ تاویل کا دوسرا معنی تحریف ہے جس میں ترکِ حقیقت و ظاہر ہوتا ہے یعنی قرآن کے ظاہری اور حقیقی معنی کو چھوڑ کر اپنی طرف سے نئے معنی بیان کرنا، تو ناپسندیدہ اور قبیح یہ دوسرا معنی ہے نہ کہ پہلا معنی۔ تو دیکھیے اوپر جو تفصیل گزری، اس سے معلوم ہوا تھا آپ کو کہ تاویل یہ پسندیدہ چیز ہے، نئے نئے نکات کا بیان کرنا پسندیدہ ہے اور اس کو بڑا کمال سمجھا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑا کمال سمجھا جاتا ہے۔ تو ہونا تو یہ چاہیے تاویل پسندیدہ ہو، لیکن جگہ بعض جگہ آپ پڑھیں گے، سنیں گے کہ تاویل ناپسندیدہ ہے، ممنوع ہے، تاویل کرنے والے کو برا سمجھا جاتا ہے، تو جواب اس کا گزر گیا کہ بھئی تاویل کے دو معنی ہیں، پہلا معنی کون سا ہے؟ تفسیر کرنا، وضا حت کرنا، مطلب بیان کرنا، اور وہ معنی پسندیدہ ہے، اور دوسرا معنی کیا ہے؟ تحریف کرنا بھئی، قرآن کے حقیقی اور ظاہر معنی جو ہیں، ایک ظاہر معنی ہیں، حقیقی معنی جو سامنے نظر آ رہے ہیں بھئی، معلوم ہو رہے ہیں، بزرگوں نے بیان کیے، اس کو چھوڑ کر اپنی طرف سے کیا کر دینا؟ نئے معنی بیان کرنا، کہ یہ معنی ہے اس کا بھئی۔ یہ معنی ہے۔ تو ناپسندیدہ اور قبیح یہ والے یہ دوسرا معنی ہے بھئی پہلا معنی نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی ہذا هو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
131 approved lectures · 2 of 131