Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-065

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 10 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم. كذبت قبلهم قوم نوح وعاد وفرعون ذو الأوتاد، وثمود وقوم لوط وأصحاب الأيكة أولئك الأحزاب. إن كل إلا كذب الرسل فحق عقاب. كذبت قبلهم قوم نوح، جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے، یعنی یہ جو مکہ والے ہیں ان سے پہلے قوم نوح بھی جھٹلا چکی ہے پیغمبروں کو. كذبت قبلهم قوم نوح، جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے، وعاد اور قوم عاد نے، وفرعون ذو الأوتاد اور فرعون نے میخوں والے، میخوں والے فرعون نے. اوتاد جمع ہے وتد کی، یا اسی طرح وتد، وتد بھی پڑھنا درست، وتد پڑھنا بھی درست. اور تو اس وتد، یہ وتد جو ہے، اس کا معنی ہے میخ بھئی. کیل، کیل جو دیوار وغیرہ چیزوں میں لگایا جاتا ہے لکڑی میں، اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ وتد کہتے ہیں. تو اس کی جمع اوتاد ہے، تو ذو الاوتاد، ذو مال کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مال والا، تو ذو الاوتاد میخوں والا. تو فرعون جو میخوں والا تھا. بھئی میخوں والا فرعون، اس کا کیا معنی؟ تو بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے مضبوط سلطنت والا. کیا مراد ہے؟ مضبوط سلطنت والا، یا یوں کہیں لشکروں والا، لشکروں والا. کہ کیونکہ جس طرح میخوں کے ذریعے خیمہ مضبوطی سے لگ جاتا ہے، اسی طرح یہ جو اس کے لشکر تھے، اس کی وجہ سے ان کی اس کی سلطنت بڑی مضبوط تھی، یعنی بڑی مضبوط سلطنت والا تھا بھئی، بڑی قوت والا تھا. تو ذو الاوتاد کا کیا معنی کیا پہلی تفسیر کے مطابق؟ یہ تو لفظی میخوں، میخوں والا، وہ دوسری تفسیر میں آگے بیان کرتا ہوں، اس کے مطابق پھر معنی ہو گیا مضبوط سلطنت والا، یا یوں کر لیں لشکروں والا، کیا معنی کر لیں؟ لشکروں والا. تو وتد بول کر کیا مراد ہیں؟ لشکر مراد ہیں، تو جب لشکر زیادہ تھے معلوم ہو اس کی سلطنت بڑی مضبوط تھی بھئی. یا وتد کو اپنے ہی معنی میں رکھیں، چنانچہ بعض مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جب کسی پر ناراض ہوتا تھا یا کسی کو سزا دینا چاہتا تھا، تو اس کے ہاتھ اور پاؤں میں کیل گاڑھ دیتا تھا بھئی. کیل گڑوا دیتا تھا، کیل اس میں لگا دیے جاتے بھئی لکڑی وغیرہ پر اور اس کو اسی طرح چھوڑ دیتے یہاں تک کہ وہ مر جاتا بھئی. تو یہ چونکہ مجرموں کے ہاتھوں میں کیل ٹھنکوا دیتا تھا، اس لیے اس کس نام سے مشہور ہو گیا؟ میخوں والا بھئی. معنی سمجھ میں آ گیا بھئی. تو كذبت قبلهم قوم نوح وعاد وفرعون ذو الأوتاد، جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے اور عاد نے اور میخوں والے فرعون نے، و ثمود اور ثمود نے، یعنی قوم ثمود نے، و قوم لوط اور لوط علیہ السلام کی قوم نے، و أصحاب الأيكة اور ایکہ والوں نے. ایکہ بستی کا نام تھا بھئی، جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام بھیجے گئے تھے. تو ان سب نے جھٹلایا، أولئك الأحزاب، یہی وہ گروہ ہیں، یہی وہ گروہ ہیں، بھئی اوپر ذکر آیا تھا، جند ما ھنالك مھزوم من الاحزاب. مکہ والوں کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ ایک چھوٹا سا حقیر سا لشکر ہے وہاں پر، یعنی مکہ میں شکست خوردہ ہے من الاحزاب گروہوں میں سے. وہ بہت سے گروھ جن کو جو ان کو پہلے ہم تباہ و برباد کر چکے ہیں، شکست جنہیں ہو چکی ہے، جو ہار گئے، ہمارے انبیاء کے مقابلے میں آئے، ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا، تو ان بہت سے گروہوں میں سے یہ بھی ایک چھوٹا سا لشکر ہے. تو آگے اللہ نے ذکر فرمایا کہ قوم نوح، قوم عاد، فرعون اور اسی طرح قوم ثمود، قوم لوط اور اصحاب ایکہ، یہ سارے یہی وہ گروہ ہیں جن کو جو بڑی قوت والے تھے، یہ مکہ والے تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں، یہ بڑی قوت والی قومیں تھیں، ان سب کو ہم نے کیا کر دیا؟ ہلاک کر دیا، یہی وہ گروہ ہیں. ولئك الأحزاب، یہی وہ گروہ ہیں، ان كل الا كذب الرسل فحق عقاب. ان كل، میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ کل پر تنوین آئے تو وہ دراصل عوض ہوتی ہے مضاف إليه سے. ان کلہم، اور ان نفی کے لیے ہے. تو کلہم یا كل واحد نہیں ہے ان میں سے ہر ایک، الا كذب الرسل مگر یہ کہ اس نے جھٹلایا رسولوں کو. ان كل اي ان كل واحد نہیں ہے ان میں سے ہر ایک الا كذب الرسل مگر مگر اس نے رسولوں کو جھٹلایا. بھئی ہر ایک، انہوں نے تو ایک ایک پیغمبر کی تکذیب کی جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے، تو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ كذب الرسل، انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا بھئی. انہوں نے تو ایک ایک پیغمبر کو جھٹلایا تھا، تو جواب یہ ہے کہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا گویا سب پیغمبروں کو جھٹلانا ہے، کیونکہ ایک، کیونکہ دعوت سب کی ایک ہی ہے بھئی، سب ایک ہی دعوت لے کر آئے، تو ایک کو جھٹلانا سب کو جھٹلانا ہے. فحق عقاب اي فحق عقابي، دیکھو با کے نیچے کسرہ ہے، یہاں یا حذف ہوئی ہے اور یہ با کا کسرہ اس یاء محذوف پر دلالت کر رہا ہے، فحق عقابي تو میری سزا ثابت ہوئی. میری سزا ثابت ہوئی، میری سزا حق ہوئی. ان كل الا كذب الرسل، ان میں سے ہر ایک نے میرے رسولوں ہی کو جھٹلایا تھا، فحق عقابی، تو پھر میری سزا ثابت ہو گئی. پھر میری سزا ثابت ہو گئی، میں نے ان کو سزا دی یعنی. معنی سمجھ میں آگیا. ان نفی کے لیے، الا استثناء کے لیے، تو معنی اب کیا کریں گے با محاورہ. ان میں سے ہر ایک نے رسولوں ہی کو جھٹلایا تھا، فحق عقابی، تو میرا، میری سزا ثابت ہو گئی، برحق ہوئی ان پر. وما ينظر هؤلاء الا صيحة واحدة ما لها من فواق، وما ينظر هؤلاء، اور انتظار نہیں کرتے یہ لوگ الا صيحة واحدة، مگر ایک چیخ کا، ما لها من فواق، کہ نہیں ہوگا اس کے لیے کوئی فواق، وقفہ. اس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا بھئی. ایک، یہ لوگ صرف ایک چیخ ہی کا انتظار کر رہے ہیں، جس میں وقفہ نہیں ہوگا. یعنی چیخ سے کیا مراد ہے؟ نفخہ اولیٰ بھئی، پہلی مرتبہ جو صور پھونکا جائے گا. اور اس میں وقفہ نہیں ہوگا کہ یہ نہیں کہ صور پھونکا جائے اور پھر روکا جائے، پھر پھونکا جائے، پھر روکا، بس وہ تو مسلسل جب ہوگا تو بس، اور فورا ہی یہ سارے کیا ہو جائیں گے؟ ہلاک ہو جائیں گے بھئی. اور سمجھ میں آیا کہ اس میں وقفہ نہیں ہوگا، میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ صور پھونکنے کا حکم ہوگا اللہ کی طرف سے، جس وقت اس زمین پر ایک شخص بھی اللہ کا نام لینے والا نہ رہے گا بھئی. تو اللہ کا نام جب تک اس زمین پر ہے، یہ زمین ہے بھئی، تو یہ اس زمین کی بقا کا سبب ہے بھئی، جب اللہ کے نام لینے والے نہ رہیں گے، تو اللہ کی طرف سے حکم ہوگا صور پھونکنے کا، اور حضرت اسرافیل علیہ السلام انتظار میں ہیں، صور منہ میں لیے منتظر ہیں کس وقت حکم ہوتا ہے اور وہ صور پھونکیں، اور صور جب پھونکیں گے، پہلے اس کی آواز آہستہ آہستہ آنا شروع ہوگی. ہلکی ہلکی، لوگ توجہ نہیں دیں گے، پھر آہستہ آہستہ تیز ہوتی چلی جائے گی، لوگ متوجہ ہوں گے کہ یہ کس چیز کی آواز ہے، کہاں سے آ رہی ہے، اور پھر وہ تیز ہوتے ہوتے اتنی تیز ہو جائے گی کہ سب وہیں پر مر جائیں گے، ختم ہو جائیں گے، تو اس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا. فواق اصل میں کہتے ہیں، بھئی جانور سے، مثلاً گائے سے دودھ نکال رہے ہیں، تو آپ نے دیکھا ہوگا تھن میں سے دودھ نکالتے ہیں، پھر اسے چھوڑ کر پھر تھن پکڑتے ہیں، برتن ادھر نیچے ہی ہے، پھر تھن کو چھوڑ دیتے ہیں، پھر اس سے دودھ نکالتے ہیں، پھر، تو یہ جو ایک مرتبہ تھن سے دودھ نکالا اور پھر چھوڑ کر دوبارہ پکڑا تھن کو اور اس سے دودھ نکالا، یہ جو معمولی سا درمیان میں وقفہ ہے، اس کو اصل میں کہتے ہیں فواق بھئی، کیا کہتے ہیں؟ تو دو مرتبہ دودھ نکالنے کے درمیانی یہ جو معمولی سا وقفہ آیا، اس کو فواق کہتے ہیں، تو اللہ فرما رہے ہیں یہاں. میں ماس پھونکنے میں معمولی سا وقفہ بھی نہیں ہوگا۔ وما ينظر هؤلاء إلا صيحة واحدة جی، ما اور إلا آیا تو اب ترجمہ کیسے کریں گے بامحاورہ؟ ہاں یہ لوگ تو ایک چیخ ہی کا انتظار کر رہے ہیں ما لها من فواق نہیں ہوگا اس میں کوئی وقفہ۔ وقالوا اور کہتے ہیں یہ لوگ اور ربنا عجل لنا قطنا قبل يوم الحساب کہ اے ہمارے پروردگار! عجل لنا جلدی کر دیجئے ہمارے لیے قطنا۔ قط کہتے ہیں حصے کو بھئی، حصے کو۔ قطنا ہمارا حصہ۔ وہ وقالوا اور یہ لوگ کہتے ہیں ربنا عجل لنا کہ جلدی دے دیجیے ہمیں ہمارا حصہ قبل يوم الحساب۔ یوم حساب سے پہلے ہی، قیامت کے دن سے پہلے ہی۔ بھئی! مشرکیں مذاق اڑاتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور پھر ہر ایک کو اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا پڑے گا۔ تو یہ مذاق اڑاتے تھے کہ اے اللہ! اگر یہ سچ کہہ رہے ہیں تو ہمیں جلدی سے ہمارا حصہ دنیا ہی میں دے دیجیے، جو ہمیں ملنا ہے آخرت میں۔ جو ہمارا نامۂ اعمال ہمیں ملے گا، وہ ہمیں دنیا ہی میں دے دیا جائے۔ وقالوا اور کہا ان لوگوں نے ربنا عجل لنا اے ہمارے پروردگار جلدی کر دیجیے ہمارے ہمارے لیے قطنا ہمارا حصہ یعنی جلدی دے دیجیے ہمیں ہمارا حصہ قبل يوم الحساب۔ حساب کے دن سے پہلے ہی۔ اصبر على ما يقولون اے پیغمبر! آپ صبر کرتے رہیے علی ما يقولون اس پر جو یہ کہتے ہیں وذكر عبدنا داود اور آپ یاد کیجیے ہمارے بندے داؤد کو ذا الایدی ہاتھوں والے۔ ہمارے بندے داؤد علیہ السلام ہاتھوں والے۔ یہ تو لفظی ترجمہ میں نے کیا، ہاتھوں والے۔ مراد ہے قوت والے۔ کیا مراد ہے؟ قوت والے بھئی۔ تو ہاتھ بول کر قوت مراد ہے کیونکہ انسان ہر کام کس کے ذریعے کرتا ہے ہاتھوں کے ذریعے، اصل قوت ان میں ہے بھئی، عمل کوئی بھی انہی کے ذریعے سر انجام دیا جاتا ہے۔ تو قوت والے تھے یعنی اللہ کی اطاعت میں۔ قوت والے تھے کس چیز میں؟ اللہ کی اطاعت میں۔ یا ذا الایدی اس لیے فرمایا اللہ نے ان کو کہ یہ اپنے ہاتھوں سے اپنی روزی کماتے تھے بھئی، پہلے ذکر ہو چکا یہ اللہ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا، لوہا ان کے ہاتھ میں موم کی طرح نرم ہو جاتا تھا اور یہ اس سے زرہیں بنا کر بیچتے تھے اور اس سے جو پیسے حاصل ہوتے اسی کو اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے اور اس سے باقی جو ہوتا وہ لوگوں پر، فقراء اور مساکین پر خرچ فرماتے تھے۔ وذكر عبدنا داود ذا الایدی اور ذکر کیجیے، یاد کیجیے ہمارے بندے داؤد کو ذا الایدی قوت والے، ہمت والے۔ اور ہمارے ہمت والے بندے داؤد کو یاد کیجیے۔ انه اواب یقیناً وہ رجوع، بہت رجوع کرنے والے تھے۔ اواب بہت رجوع کرنے والا اللہ کی طرح، بہت توبہ کرنے والا بھئی۔ انه اواب یقیناً وہ بہت رجوع کرنے والے تھے اللہ کی طرف۔ إنا سخرنا الجبال معہ يسبحن بالعشی والإشراق بے شک ہم نے مسخر کر دیا تھا ان کے لیے پہاڑوں کو معہ ان کے ساتھ۔ بے شک ہم نے پہاڑوں کو ان کے لیے ان کے ساتھ مسخر کر دیا تھا يسبحن کہ وہ تسبیح بیان کرتے تھے بالعشی عشیو زوال کے بعد بھئی۔ یعنی دوپہر کے بعد بھئی۔ جب سورج عین سر پر آئے اور پھر مغرب کی طرف جب نکل جائے، تو یہ زوال کے بعد کا جو وقت ہے اگلے دن کی فجر تک یہ سارا وقت کیا کہلاتا ہے؟ عشیو کہلاتا ہے، عشيون بھئی۔ تو ہم نے مسخر کر دیا تھا پہاڑوں کو ان کے ساتھ کہ وہ تسبیح بیان کریں بالعشی یعنی یوں کہیں شام کا وقت کیا مراد ہے؟ شام کا وقت بھئی۔ تو یہ سارا وقت شام کا وغیرہ، یہ سارا اسی میں آ گیا۔ والاشراق اور اشراق صبح کا وقت بھئی، جب سورج تھوڑا سا بلند ہو جائے، ما چند گز کیا ہو جائے مشرق سے یہ افق۔ سورج کیا ہے؟ جب افق سے تھوڑا سا بلند ہو جائے بھئی، تو یہ وقت ہے اشراق کا بھئی۔ تو مراد ہے یعنی صبح بھئی۔ إنا سخرنا الجبال معہ يسبحن بالعشی والاشراق اور بے شک، بے شک ہم نے مسخر کر دیا پہاڑوں کو ان کے ساتھ کہ تسبیح بیان کریں ہاں! معہ کو ظرف بنائیں يسبحن کے لیے بھئی۔ معہ کو کس کے لیے ظرف بنائیں؟ يسبحن۔ إنا سخرنا الجبال بے شک ہم نے پہاڑوں کو مسخر کر دیا معہ يسبحن کہ ان کے ساتھ تسبیح بیان کریں بالعشی والاشراق شام کے وقت اور صبح کے وقت۔ والطیر هذا الطير کا عطف جو ہے الجبال پر ہے اور پرندوں کو۔ اور پرندوں کو بھی ہم نے کیا کیا ان کے لیے؟ مسخر کر دیا محشورة۔ حشر يحشر کے معنی ہوتے ہیں جمع کرنے کے۔ محشورة یہ حال ہے طیر سے، اس حال میں کہ وہ اکٹھے کیے ہوئے ہوتے۔ جمع کیے ہوئے ہوتے۔ یعنی جمع کیے جاتے۔ اور پرندوں کو بھی اس حال میں کہ وہ جمع کیے جاتے، اکٹھے کیے ہوتے۔ اور ہم نے مسخر کر دیا پہاڑوں کو کہ تسبیح بیان کریں ان کے ساتھ شام کے وقت اور صبح کے وقت والطیر محشورة اور پرندے بھی محشورة اکٹھے کیے ہوئے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام بھئی ان کو اللہ نے بڑی ہی پیاری آواز دی تھی بھئی، بڑی پیاری آواز، بڑی دلکش آواز۔ تو جس وقت وہ تسبیح بیان کرتے تھے، تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح میں مصروف ہو جاتے، پرندے بھی سارے جمع ہو کر ان کے ساتھ تسبیح میں مصروف ہو جاتے۔ اور انشاءاللہ جنت میں آپ حضرت داؤد، حضرت داؤد علیہ السلام کی تسبیح سنیں گے بھئی۔ وہاں تو اللہ کی طرف سے بھئی بڑی جو نعمتیں ملیں گی، ایک نعمت یہ بھی ہوگی کہ حضرت داؤد علیہ السلام تسبیح بیان فرمائیں گے اللہ کی اور کتنی دلکش آواز ہوگی، انسان اس کا تصور نہیں کر سکتا اور سارے جنتی اس کے سننے میں مگن ہو جائیں گے بھئی۔ کل لہ اوواب۔ کل لہ اوواب، سب کے سب لہ ای لأجله ان کی وجہ سے لام کیا ہے؟ اجلیہ ہے بھئی۔ کل لہ سب کے سب، یعنی یہ پرندے اور پہاڑ، یہ سب کے سب لہ حضرت داؤد علیہ السلام کی وجہ سے اوواب رجوع کرنے والے ہوتے یعنی تسبیح بار بار بیان کرتے بھئی، یعنی ذکر میں مشغول ہو جاتے۔ کل لہ اوواب، سب کے سب ان کی وجہ سے، یوں کہیں، سب کے سب ان کی وجہ سے مشغول ذکر رہتے۔ اوواب کا معنی لوٹانا، بار بار لوٹانا بھئی، تو وہ بھی کیا کرتے ان کے ساتھ بار بار تسبیح کو لوٹاتے بھئی، بار بار تسبیح پڑھتے بھئی۔ کل لہ اوواب، سب کے سب ان کی وجہ سے مشغولِ ذکر رہتے، یہ ترجمہ کر لیں بھئی۔ یعنی تسبیح بیان کرتے بار بار۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالی فرما رہے ہیں اصبر على ما يقولون آپ صبر کیجیے اس پر جو یہ کہتے ہیں، یعنی یہ مشرکین جو کہتے ہیں، جو باتیں کرتے ہیں اور آپ کو تکلیف دیتے ہیں، اس پر آپ صبر کیجیے۔ اصبر على ما يقولون آپ صبر کیجیے اس پر جو یہ کہتے ہیں وذكر عبدنا داود ذا الایدی اور یاد کیجیے ہمارے بندے داؤد کو ذا الایدی جو قوت والے تھے، انھہ اوواب یقیناً وہ بہت رجوع کرنے والے تھے۔ یعنی اللہ کی طرف وہ بہت رجوع کرنے والے تھے۔ إنا سخرنا الجبال معہ بے شک ہم نے مسخر کر دیا پہاڑوں کو ان کے لیے۔ بے شک ہم نے مسخر کر دیا پہاڑوں کو معہ يسبحن بالعشی والاشراق کہ وہ تسبیح بیان کرتے تھے ان کے ساتھ بالعشی والاشراق شام کے وقت اور صبح کے وقت والطیر محشورة اور پرندے بھی محشورة اکٹھے کیے ہوئے۔ محشورة، پرند اور پرندے بھی محشورة جمع کیے ہوئے۔ کل لہ اوواب۔ سب کے سب، یعنی یہ پہاڑ اور پرندے لہ ان کی وجہ سے اوواب بار بار لوٹانے والے تھے۔ بار بار لوٹانے والے تھے، یعنی تسبیح کو۔ کل لہ اوواب یہ سب بھی ان کی وجہ سے بار بار تسبیح لوٹانے والے تھے، یعنی بار بار تسبیح کرتے والے تھے۔ چلیے بس بھئی ہذا هو المرام، واللہ أعلم بحقیقة الکلام۔
131 approved lectures · 65 of 131