Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-061

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 10 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ فنظرة نظرة في النجوم، فقال إني سقيم، فتولوا عنه مدبرين. فنظرة نظرة في النجوم: فنظرا، پس نظر کی، نظر ڈالی. نظرةً، ایک مرتبہ نظر ڈالنا، فی النجوم، ستاروں میں. فنظرا، بھئی آپ نے پڑھا ہے. یہ یہاں دیکھیے، نظرةً مفعول مطلق ہے. اور مفعول مطلق جو ہے اگر فععلةً وزن پر آئے تو یہ عدد بتلانے کے لیے آتا ہے. جلستُ جلسةً، کیا معنی؟ میں ایک مرتبہ بیٹھا. جلستُ جلستينِ، میں دو مرتبہ. تو یہ عدد بتلانے کے لیے آتا ہے. توفظنظرة نظرةً کا کیا معنی ہے؟ ایک مرتبہ نظر ڈالی بھئی، ایک مرتبہ. فنظرةً نظرةً في النجوم، پس انہوں نے نظر ڈالی فی النجوم، ستاروں میں. فقال إني سقيم، پس کہا إني سقيم، میں بیمار ہوں. میں بیمار ہوں. حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان ہو رہا ہے. حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم جو تھی، وہ بتوں کی عبادت کرتی تھی. اور بڑا مندر بنایا ہوا تھا، عبادت گاہ بنائی ہوئی تھی، اس میں بہت سے بت رکھے تھے. تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ یہ تم کن چیزوں کی عبادت کرتے ہو. اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو تم نے اپنا معبود بنا رکھا ہے. خود ہی ان کو تراشا ہے اور اب پھر انہی کی عبادت کر رہے ہو. اور یہ بھی ان سے کہا، جیسے کہ سورہ انبیاء میں آتا ہے، کہ میں ان بتوں کا علاج کروں گا. اول تو ان کو جب کہا کہ تم کس چیز کی عبادت کر رہے ہو، بتوں وغیرہ کی تو وہ حیران ہوئے کہ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں. کہ ہمارے ساتھ تم مذاق کر رہے ہو یا سچ کہہ رہے ہو. اور پھر یہ بھی فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہ میں ان کا علاج کروں گا. تو خیر انہوں نے اس وقت تو توجہ نہیں دی. حضرت ابراہیم علیہ السلام موقع کی تلاش میں تھے کہ کسی وقت مجھے موقع ملے، یہ جگہ کوئی نہ ہو تو میں ان سب کو توڑ دوں، ختم کر دوں. تو ان کا کوئی سالانہ جشن یا تہوار وغیرہ آیا. اور اس تہوار کے موقع پر وہ بتوں کے آگے بہت سے کھانے وغیرہ چڑھاوے چڑھا جاتے، کھانے رکھ جاتے۔ اور خود شہر سے باہر وہ جشن وغیرہ مناتے. کھانے اس لیے بتوں کے سامنے رکھتے تاکہ پھر ان میں برکت ہو جائے، واپس آ کے ہم ان کو کھائیں گے بھئی، بتوں کی عبادت جو کرتے تھے. تو چنانچہ تہوار کا موقع آیا تو انہوں نے وہ سب جانے لگے، تیاری کر رہے ہیں، نکل رہے ہیں. حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی کہا چلو بھئی تم بھی ہمارے ساتھ چلو. آپ تو موقع کی تلاش میں تھے، ان کے ساتھ جانا نہیں چاہتے تھے. تو جب انہوں نے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسے ستاروں پر ایک نظر ڈالی، اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور پھر کہا، میں بیمار ہوں. تو وہ لوگ علم نجوم کے معتقد تھے، علم نجوم میں مہارت بھی رکھتے تھے. تو وہ سمجھے کہ شاید ستاروں کو دیکھ کر انہوں نے یہ بات معلوم کر لی ہے کہ یہ عنقریب بیمار ہونے والے ہیں. انہیں کی عادت کے موافق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں پر نظر ڈالی اور کیا کہا، میں بیمار ہونے والا ہوں. تو انہوں نے وہ سمجھے شاید ستاروں کے ذریعے انہوں نے یہ بات معلوم کر لی ہے کہ یہ عنقریب بیمار ہونے والے ہیں. چنانچہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے بھئی، چھوڑ کر چلے گئے. اور جب یہ چلے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ہیں وہ کلہاڑا لے کر ان کے عبادت گاہ میں گھس گئے اور سارے بتوں کو توڑ دیا بھئی. صرف ایک بڑے بت کو چھوڑا اور اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ کر چلے گئے بھئی. اب جب شام کو وہ واپس آئے، اپنے بتوں کا یہ حال دیکھا تو ان کے پاؤں تلے زمین نکل گئی. ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کر دیا، ہمارے خداؤں کو تباہ و برباد کر دیا. تو جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی باتیں سنی تھیں انہوں نے ذکر کیا کہ بھئی ایک آدمی تھا، اس کا ابراہیم نام ہے، اس نے اس طرح کی باتیں کی تھیں. چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا اور پوچھا کہ یہ تم نے کیا ہے ان کے ساتھ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام جواب میں فرمانے لگے جیسے کہ سورہ انبیاء میں آتا ہے، بل فعلہ کبیرهم، ان کے بڑے نے کیا ہے. یہ جو بڑا بت ہے اس نے کیا ہے. ان سے پوچھ لو. ان سے پوچھتے کیوں نہیں؟ تو کہنے لگے بھئی تمہیں پتہ بھی ہے یہ تو بات نہیں کرتے، ان سے ہم کیسے پوچھیں؟ اور خیر دوسرے لوگوں نے آ کر بتلایا کہ انہوں نے پہلے بھی باتیں کی تھیں، چنانچہ انہوں نے کہا اب اس سے بدلہ لیں گے ہم، اس نے ہمارا، ہمارے معبودوں کا یہ حال کیا ہے تو ہم بھی اس کو عبرت کا نشان بنائیں گے. چنانچہ طے کیا کہ آگ جلاتے ہیں بھئی آگ. اور پھر یہ روایت میں بعد میں آتا ہے کہ ایک مہینے تک یہ سب لوگ لکڑیاں جمع کرتے رہے. ایک جگہ بنائی آگ جلانے کے لیے اور ایک مہینے تک لکڑیاں جمع کرتے رہے. بہت بڑا ڈھیر لگا دیا، پورے شہر والے جمع کر رہے ہیں، آپ اندازہ لگائیں کتنا بڑا ڈھیر ہوگا وہ بھئی، کتنا بڑا ڈھیر. اور پھر اس کو آگ لگائی، اب وہ آگ اتنی بڑھ گئی کہ اس کے قریب بھی کوئی نہیں جا سکتا بھئی، اتنی دور دور تک اس کی تپش جا رہی تھی. اب پریشان ہوئے کہ ان کو اس میں ڈالیں کس طرح. تو شیطان آیا کہتے ہیں اس نے ان کو منجنیق کا طریقہ سکھایا. منجنیق جو ہے، قدیم ایک آلہ تھا، جنگوں وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا تھا. جس کے ذریعے بڑے بڑے پتھر جو ہیں، مثلاً کوئی قوم قلعے میں بند ہو جاتی، قلعہ بند کر لیتے تو یہ منجنیق والے، منجنیق کے ذریعے دور سے بڑے بڑے پتھر مارتے تھے. اور وہ اس طرح اس طرح کے ذریعے قلعے کی دیواریں اور دروازے وغیرہ کو توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے تھے. تو شیطان نے ان کو منجنیق کا طریقہ سکھایا. منجنیق انہوں نے بڑی سی بنائی. اور اس کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رکھ کر پھینکا آگ کے اندر بھئی. سمجھ میں آیا بھئی؟ منجنیق کے اندر، جس طرح یوں سمجھیں جیسے آج کل غلیل ہے بھئی. تو خیر وہ منجنیق تو اور بڑا آلہ ہوتا ہے، لکڑی وغیرہ اور ان چیزوں سے جس میں بڑے بڑے پتھر پھینکے جاتے. تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس میں پھینک دیا. حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں پھینکا، اللہ کی طرف سے آگ کو حکم ہوا: یا نارُ کونی برداً و سلاماً. کہ اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی والی ہو جا. ٹھنڈی ہو جا، یعنی اتنی سلامتی والی ہو جا. ٹھنڈی ہونے کا حکم دیا تو اتنی ٹھنڈی نہ ہو جائے کہ جس سے ان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تکلیف پہنچے، سردی لگنا شروع ہو جائے. تو ٹھنڈی ہو جا اور کس طرح والی، کس طرح کی؟ سلام. یا نارُ کونی برداً و سلاماً، اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی والی ہو جا. چنانچہ آگ ٹھنڈی ہو گئی اور سلامتی والی ہو گئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کچھ بھی نہیں ہوا. صرف ان کے ہاتھ کی جو رسیاں، ہاتھ پاؤں کو جن سے باندھا ہوا تھا، آگ نے صرف ان کو جلایا بھئی. اور ان کو ذرہ بھی نقصان نہیں پہنچا، یہ دیکھیے آگ کی خاصیت ہی جلانا ہے بھئی. لیکن جب خالقِ ارض و سما کی طرف سے حکم آ گیا، تو آگ نے جلانے سے ہی انکار کر دیا. फिर उसके बाद भई, इस वाक़ए के बाद फिर हज़रत इब्राहीम अलैहिस्सलाम वहां से हिजरत फरमा गए. आप इराक के रहने वाले थे, उसके बाद फिर आप शाम तशरीफ़ ले गए भई, शाम तशरीफ़ ले गए. तो यह उसी वाक़ए का जिक्र आ रहा है यहां पर. فنظرةً نظرةً في النجوم، پس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک نظر ڈالی ستاروں میں. فقال إني سقيم، پس فرمایا إني سقيم، میں بیمار ہونے والا ہوں. میں بیمار ہوں، یہ ترجمہ کر لیں یا میں بیمار ہونے والا ہوں. میں بیمار ہوں. بھئی احادیث، بعض احادیث وغیرہ میں ان پر یہ ایک تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ جو فرمایا إني سقيم، میں بیمار ہوں. اسی طرح جو بتوں کے اوپر کلہاڑا رکھا ہے، بڑے بت پر اور پھر انہوں نے پوچھا تو فرمایا بل فعلہ کبیرهم، بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہوگا. ایک یہ. اور تیسرا جب وہ آپ ہجرت کر کے گئے، آپ کی بیوی حضرت سارہ آپ کے ہمراہ تھیں. تو وہاں مصر کا جو بادشاہ تھا، وہ جو خوبصورت عورت ہوتی، وہ چھین لیا کرتا تھا بھئی. تو وہاں پہنچے تو انہوں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں اب؟ بیوی ہوتی تو اس کو چھین لیتا تھا، خوبصورت ہوتی. بہن ہوتی تو پھر اس کو چھوڑ دیتا تھا. تو پوچھا یہ کون ہیں؟ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی تھیں. آپ نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہیں. میری بہن ہیں. تو یہ کذب ان کو احادیث میں ان پر کذب کے لفظ کا اطلاق آیا ہے بھئی. احادیث میں ان کو کیا کہا گیا ہے؟ كذب، تین جھوٹ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے. تو كذب یہاں یاد رکھیے، بمعنی توریہ کے ہے. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہ جھوٹ نہیں تھے، یہ توریہ ہیں. توریہ بھئی. توریہ کا معنی یہ ہے کہ کہنے والا ایک ایسی بات کہتا ہے کہ اس کی مراد اور ہوتی ہے، سمجھنے والا اور سمجھتا ہے. مراد اور ہوتی ہے اور کہنے والا اور سمجھتا ہے. تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مراد اور تھی لیکن چونکہ بظاہر یہ خلافِ واقعۂ تھے، اس لیے ان پر كذب کا اطلاق کیا گیا بھئی. كذب کا اطلاق کیا گیا. آپ نے جو فرمایا کہ یہ میری بہن ہیں، تھی بیوی لیکن فرمایا کیا یہ میری بہن ہیں. وجہ اس کی یہ کہ آپ نے ان کو دینی اعتبار سے فرمایا. اس وقت روئے ارض پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ کے علاوہ اور کوئی ایمان والا نہیں تھا بھئی. اہل ایمان میں سے صرف تو دینی اعتبار سے یہ بھئی بہن تھے. رشتے کے اعتبار سے تو میاں بیوی لیکن دینی اعتبار سے کیا تھے؟ دینی اعتبار، آپ کی مراد تھی دینی اعتبار سے بھئی. دینی اعتبار سے. لیکن وہ رشتے کے اعتبار سے سمجھے بھئی. تو آپ کی مراد اور تھی، وہ سمجھے اور. بات سمجھ میں آئی؟ اور جو آپ نے فرمایا بل فعلہ کبیرهم، بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہے، اس سے پوچھ لو، اس نے کیا ہوگا، یہ بطورِ طنز کے فرمایا. بطورِ طنز کے. کہ کن چیزوں کی عبادت میں لگے ہو؟ دنیا کا اصول تو یہی ہے جو بڑا ہوتا ہے وہ چھوٹے کو ختم کر دیتا ہے، تو یہ بھی ان کا بڑا ہے، اس نے کیا کیا ہوگا، چھوٹے کو ختم، چھوٹوں کو ختم کر دیا ہوگا. تو بطورِ طنز کے ان کی جہالت کو ان پر ظاہر کرنے کے لیے یہ فرمایا. یہ تو وہ بھی سمجھتے تھے کہ یہ کچھ کر ہی نہیں سکتا، نہ بول سکتا ہے، نہ حرکت کر سکتا ہے، تو بطورِ طنز کے فرمایا تھا آپ نے بھئی. لیکن بہرحال بطورِ طنز کے بھی فرمایا، لیکن ظاہر کے اعتبار سے تو واقعۂ کے خلاف تھا بھئی. تو اس اعتبار سے اس پر كذب کا اطلاق ہوا. اور نیز آپ نے یہاں فرمایا إني سقيم، میں بیمار ہوں یا میں بیمار ہونے والا ہوں. پہلا ترجمہ کر لیں اگر میں بیمار ہوں، ستاروں پر نظر ڈالی اور فرمایا میں بیمار ہوں. تو بھئی بیماری نام ہے طبیعت کا اعتدال سے ہٹ جانا. اب آپ بتائیے بھئی دنیا میں سو فیصد طبیعت کس کی ٹھیک ہوتی ہے؟ کچھ نہ کچھ تو عوارض لاحق ہوتے ہیں. ہاں ہمیں بھی ہمیں بھی عوارض لاحق ہوں گے لیکن ہمیں پتہ نہیں، جب طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے پھر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہم بیمار. ورنہ تھوڑے بہت عوارض تو ہر ایک کو لاحق ہیں اور اس سے بڑھ کر اور کیا عارض لاحق ہوگا کہ دن رات اپ قوم کی اس جہالت پر دن رات دل کے اندر کڑھتے رہتے تھے غم کی وجہ سے بھئی دکھ اور تکلیف ہوتی تھی بھئی تو یہ عارض کچھ کم ہے بھئی تو اس اعتبار سے آپ نے کیا فرمایا کہ میں بیمار ہوں۔ یا اس کا معنی یہ کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ بیمار ہونے والا ہوں یعنی مستقبل میں مستقبل میں اور مستقبل میں بھی بھئی ہر آدمی کو عوارض تو ضرور پیش آتے ہیں بھئی بیمار ہوتا ہے کبھی تندرست ہوتا ہے کم از کم موت سے پہلے جب موت بدن میں سرایت کرنے لگے اس وقت تو یقیناً طبیعت اعتدال سے ہٹ جاتی ہے تو اس اعتبار سے ان کی بات ٹھیک تھی اور یہی مراد تھی ان کی لیکن وہ سننے والے اس کے ظاہر کے مطابق انہوں نے کیا وہ کیا سمجھے کہ شاید ستاروں کے ذریعے انہوں نے یہ بات معلوم کی ہے بھئی۔ تو احادیث میں ان پر کذب کا اطلاق آیا ہے بھئی احادیث میں بعض۔ سمجھ میں آیا بھئی اب میں نے بتایا اگرچہ یہ جھوٹ نہیں ہے یہ توریہ ہیں کیا کہتے ہیں ان کو توریہ یعنی ایک ایسی بات کرنا جس کے دو معنی نکلتے ہیں کہنے والا کا ارادہ ایک معنی کا ہے سننے والا دوسرا معنی سمجھتا ہے بھئی۔ جیسے اس کی مثال بھئی حضرت حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما گئے مکہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ساتھ ہیں مکہ والوں نے سو اونٹوں کا اعلان کر دیا جو پکڑے گا جو بتائے گا اس کو سو اونٹ انعام میں دیں گے بھئی۔ سارے جمع ہیں تلاش کر رہے ہیں کہیں مل جائیں پکڑیں ان کو قتل کر دیں بھئی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ایک اونٹنی ہے اس پر مدینہ کی طرف سفر شروع کر دیا۔ راستے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو کوئی جاننے والا ہوگا اس نے پوچھا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہے۔ اب خطرہ تھا اگر سیدھا جواب دیں کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم محمد ہیں پھر تو وہ اطلاع ان تک پہنچ جائے گی تو آپ نے توریہ فرمایا۔ کہنے لگے رجل یہدینی ایک آدمی ہے جو مجھے راستہ دکھاتا ہے۔ اب دیکھیے وہ سمجھا شاید یہ ظاہری راستہ مراد ہے کوئی راستہ مدینے کا راستہ بتانے والا کسی میں جس طرف کو بھی جا رہے ہیں کوئی راستہ دکھانے والا کوئی آدمی ہے ساتھ ان کے بھئی کیونکہ پہلے زمانے میں یہ اس طرح آپ کے ہاں جیسے سڑکیں وغیرہ یہ تو نہیں جنگلوں میں سفر ہوتا تھا راستہ کسی کو معلوم ہے تو وہی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ تو وہ سمجھا شاید یہ ظاہری راستہ مراد ہے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی کیا مراد تھی۔ کہ یہ میری زندگی کے اندر یعنی میری رہنمائی کر رہا ہے دین حق کے اعتبار سے میری رہنمائی کر رہا ہے بھئی معنی سمجھ میں آیا بھئی یہ ہے توریہ بھئی تو حضرت ابوبکر صدیق کی مراد اور تھی وہ اور معنی سمجھا۔ یا جیسے اس کی مثال بھئی حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ بھئی وہ انگریز کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں۔ تمام ہندوستان کے مسلمان ان کی رہنمائی کے اندر انگریز سے مقابلے میں مصروف۔ انگریز ان کو پکڑنے کے لیے کوششوں میں کوششیں کر رہا ہے۔ ایک مرتبہ انگریزی فوج کو اطلاع ملی کہ انگریزوں کو ایک مرتبہ اطلاع ملی کہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ فلاں مسجد میں موجود ہیں۔ انگریز فورا ان کی فوج آئی پورے علاقے کو گھیر لیا اور حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ مسجد کے اندر نوافل کے اندر نماز وغیرہ میں مشغول تھے۔ آپ اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹ گئے اور پھر نوافل وغیرہ میں مشغول ہو گئے انگریز کے فوجی اندر آئے۔ اب مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ سادہ سے انسان ضعیف بدن سادہ سے کپڑے تہبند باندھا ہوا ہے انگریز کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ اتنا سادہ سا انسان پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی قیادت کر رہا ہوگا۔ اندر آئے پوچھا بھئی بھئی آپ نے مولوی قاسم کو تو یہاں نہیں دیکھا۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے جہاں تھوڑی دیر پہلے نوافل میں مشغول تھے اس طرف اشارہ کر کے کہا ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں نفل پڑھ رہے تھے۔ تو وہ سمجھے شاید کوئی اور تھا یہ اگرچہ خود تھے ان کی مراد اپنی تھی وہ سمجھے شاید کوئی اور تھے انہوں نے کہا جلدی نکلو بھئی ابھی ابھی یہاں سے نکلے قریب ہی کہیں ہوں گے بھئی چنانچہ ادھر ادھر ہو گئے آپ آرام سے وہاں سے نکل گئے بھئی تو یہ ہے توریہ بھئی۔ اور توریہ جائز ہے مولانا کیونکہ یہ جھوٹ نہیں ہے سننے والا اس کو غلط سمجھا ہے کہنے والے کی مراد بالکل صحیح ہے بھئی۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ہیں انہوں نے بھی یہ توریہ فرمایا بھئی توریہ فرمایا۔ توریہ فرمایا لیکن اس میں حدیث میں اس پر کذب کا اطلاق کیا گیا کیونکہ حسنات الابرر سیئات المقربین۔ حسنات الابرر سیئات المقربین نکو ابرار کہتے ہیں نکو کار جو نیک لوگ ہیں۔ نیک لوگوں کی جو نیکیاں ہیں سیئات المقربین وہ مقربین کے گناہ ہیں بھئی۔ نیک لوگوں کی جو نیکیاں ہیں مقربین کے اعتبار سے وہ بھی گناہ شمار ہیں بھئی۔ جن کا درجہ جتنا اونچا ہوگا ان کے وہ اسی مقام کے اعتبار سے اس کو دیکھا جائے گا چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درجہ بہت اونچا تھا لہذا اس اعتبار سے یہاں حسنات الابرر سیئات المقربین کے اعتبار سے ان پر کذب کا اطلاق ہوا ہے بھئی۔ بھئی اس حسنات الابرر سیئات المقربین کیا معنی کیا میں نے۔ نیکو کاروں کی جو نیکیاں ہیں وہ مقربین کے گناہ ہیں گناہ شمار ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھانے کے لیے میرے استاد محترم حضرت مولانا افضل خان صاحب رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعہ بڑی پیاری مثال دیتے تھے جس سے بات سمجھ میں فوراً سمجھ میں آجاتی تھی بھئی۔ کہ فرماتے دیکھیے کہ استاد ہو اور اس کے بہت سے شاگرد ہوں اور کچھ شاگرد خاص ہوں بھئی بڑے خاص شاگرد ہیں۔ اب عام شاگرد جب پڑھ کے چلا جائے سال کے بعد وہ استاد سے ملنے آئے تو استاد بڑا خوش ہوگا اسے بڑی دعائیں دے گا۔ کون۔ عام شاگرد اس کا سال کے بعد اس کو ملنے آیا استاد بڑا خوش ہوگا اسے دعائیں دے گا۔ اور خاص شاگرد سال کے بعد آیا تو استاد اس سے ناراض ہوگا۔ تو دیکھو عام شاگرد کے وہ فعل جو استاد کو پسند آیا کہ سال کے بعد دیکھو یہ ملنے آیا مجھے خاص طور پر مقربین کے لیے وہی کیا شمار ہوا۔ اس کی غلطی شمار ہوئی کہ تم تمہارے ساتھ تو میرا تعلق تھا تمہیں تو زیادہ آنا چاہیے تھا بھئی تم کیوں اس میں کم آئے بھئی اب سمجھ میں آگیا بھئی اچھی طرح۔ حسنات الابرر سیئات المقربین۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چونکہ مقام بڑا اونچا بھئی تو حسنات الابرر سیئات المقربین کے اعتبار سے ان کے اس توریے کو کیا کہا گیا حدیث میں کذب کہا گیا بھئی معنی اب اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی۔ فنظرا نظرة فی النجوم پس ایک نظر ڈالی ستاروں میں فقال انی سقیم پس کہا میں یقیناً میں بیمار ہوں یقیناً میں بیمار ہونے والا ہوں فتولوا عنہ مدبرین۔ واللہ یولی کے معنی ہوتے ہیں پشت پھیرنا مڑ جانا مڑ جانا پھر جانا مدبرین ادبر یدبرو کے معنی ہوتے ہیں پشت پھیرنا۔ پشت پھیرنا۔ فتولوا عنہ مدبرین پس وہ ان سے پھر گئے پشت پھیرتے ہوئے ان سے۔ پلٹ گئے پشت پھیرتے ہوئے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ وہ مڑ گئے ان سے پشت پھیرتے ہوئے یعنی چلے گئے وہ ان کو۔ پشت پھیرتے ہوئے ان سے چلے گئے ان کو چھوڑ کر چلے گئے فتولوا عنہ مدبرین پس وہ پلٹ گئے ان سے پشت پھیرتے ہوئے یعنی انہیں چھوڑ کر چلے گئے فارغ الی آلهتهم فقال الا تأکلون۔ راغہ راغہ کا صلہ جب الی آئے الہ راغہ الی۔ یعنی جب یہ الہ کے ساتھ استعمال ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے خفیہ طور پر جانا بھئی۔ خفیہ طور پر کسی چیز کی طرف جانا اس کو اس کے لیے کیا لفظ استعمال کرتے ہیں راغہ الی فارغ الی آلهتهم پس وہ۔ خفیہ طور پر ان کے معبودوں کی طرف چلے گئے فقال پس کہا ان سے الا تأکلون کیا تم کھاتے نہیں ہو۔ بھئی کھانے ان کے سامنے پڑے ہوئے تھے بھئی۔ کہنے لگے ان بتوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں الا تأکلون کیا تم کھاتے نہیں ہو ما لكم لا تنطقون کیا ہوا تمہیں تم بولتے نہیں ہو۔ ما لكم لا تنطقون کیا ہوا تمہیں تم لا تنطقون تم بولتے نہیں ہو۔ فراغ علیهم ضربا بالین۔ راغہ راغہ کا صلہ جب علی آئے راغہ علی علیہ ضربا عربی میں کہتے ہیں بھئی۔ راغہ علیہ ضربا جب کوئی کسی پر اس کو مارنے کے لیے ٹوٹ پڑے بھئی۔ تو کیا کہتے ہیں راغہ علیہ ضربا وہ اس پر کو مارنے کے لیے اس پر ٹوٹ پڑا۔ فراغ علیہم تو ان بتوں پر پس حضرت بھئی ابراہیم علیہ السلام اول تو گئے چپ کر بتوں کے پاس پہلے ان سے کہا بھئی تم کھاتے کیوں نہیں ہو۔ اب جواب انہوں نے کیا دینا تھا بت کیا بولتے تو کہنے لگے ما لكم کیا ہوا تمہیں بھئی بولتے کیوں نہیں ہو تم جواب کیوں نہیں دیتے مجھے اتنے کھانے پڑے ہیں کھا نہیں رہے اور جواب بھی مجھے نہیں دے رہے فراغ علیہم ضربا بالین فراغ علیہم تو ٹوٹ پڑے ان پر ضربا بالیمیں دائیں ہاتھ سے مارتے ہوئے۔ دائیں ہاتھ سے مارتے ہوئے۔ یا معنی یہ ہے یمین کو ذکر کیا گیا دائیں ہاتھ کو کیونکہ دائیں ہاتھ میں قوت زیادہ ہوتی ہے تو معنی ہوا قوت کے ساتھ ان پر۔ ٹوٹ پڑے بھئی انہیں مارنے کے لیے قوت کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے کلہاڑا تھا دونوں ہاتھوں سے دائیں ہاتھ سے نہیں دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر مارتے تھے لیکن دائیں ہاتھ کو ذکر کیا گیا کیونکہ دائیں ہاتھ میں قوت زیادہ ہوتی ہے تو معنی یہ کہ قوت کے ساتھ ان کو مارنے کے لیے ان پر ٹوٹ پڑے۔ فراغ علیہم پس ٹوٹ پڑے ان پر ضربا بالیمین قوت کے ساتھ مارتے ہوئے زور کے ساتھ مارتے ہوئے انہیں ان پر ٹوٹ پڑے فاقبلوا الیہ یزیفون۔ پس وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف یعنی آئے ان کے پاس فاقبلوا الیہ پس وہ جو لوگ تھے وہ آئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس یزیفون۔ زف یزف کے معنی ہوتے ہیں دوڑنے کے بھاگنے کے۔ فاقبلوا الیہ یزیفون پس وہ آئے ان کے پاس دوڑتے ہوئے بھئی جیسے ہی ان کو خبر ملی کہ بتوں کو کس نے توڑ توڑ دیا گھبرائے ہوئے دوڑتے ہوئے آئے بھئی۔ فاقبلوا الیہ الیہ کی حاء ضمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو راجع فاقبلوا الیہ یزیفون پس وہ آئے ان کے پاس دوڑتے ہوئے قال اتعبدون ما تنحتون۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمانے لگے اتعبدون کیا تم عبادت کرتے ہو ما اس چیز کی تنحتون جن کو تم تراشتے ہو۔ نحت کے معنی ہوتے ہیں تراشنے کے تراشنے کے۔ سمجھ میں آیا بھئی لکڑی کو یا پتھر کو جو تراش کر اس سے چیز بنائی جاتی ہے تو یہ جو اس سے چیز بنائی گئی اس کو تراشا گیا یہ ہے نحت بھئی نحت۔ اسی سے آپ نے صرف میں بھی پڑھا ہے نحت بھئی۔ نحت صرف میں کسے کہتے ہیں۔ ایک پورے جملے کو مختصر کر کے اس سے ایک صیغہ بنا لیا جائے اسے نحت کہتے ہیں دیکھیے بھئی مثلا قال الرجل لا الہ الا اللہ یہ پورا ایک جملہ ہے۔ اسی کو مختصر کر لیا گیا حللہ۔ حللہ کا بھی وہی معنی جو قال الرجل لا الہ الا اللہ کا تھا حللہ کا کیا معنی۔ اس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا سبحا ای قال الرجل سبحان اللہ تو پورے جملے کو مختصر کرکے ایک صیغہ بنا لیا جاتا ہے اس کو نحت کہتے ہیں نحت کا کیا معنی ہے تراشنا یہاں بھی پورے جملے کو تراش تراش کر لفظوں کو ختم کر دیے گئے اور مختصر سی یہ صورت بنا لی گئی۔ قال اتعبدون ما تنحتون کیا تم عبادت کرتے ہو ان کی جن کو تم تراشتے ہو واللہ خلقکم وما تعملون اور اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تم کو وما تعملون اور جن کو تم بناتے ہو۔ اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور جو تم بناتے ہو یعنی یہ بت وغیرہ اور جو چیزیں بناتی ہیں ان سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے تمہیں اللہ کی عبادت کرنی چاہیے بھئی۔ واللہ خلقکم وما تعملون۔ خلق اللہ اور اللہ نے پیدا کیا ہے تم کو وماتعملون اور جو تم بناتے ہو قالو ابن لہ بنیان فالقوہ فی الجحیم قالو تو انہوں نے کہا آپس میں اب مشورہ کر رہے ہیں کیا کریں بھئی اس سے کس طرح بدلا لیں عبرت کا نشان کس طرح ان کو بنا دیں تاکہ آئندہ کبھی کسی کو اس طرح کرنے کی جرأت نہ ہو۔ قالو تو انہوں نے کہا قالو ابن لہ بنیان بنیا یہ بنی کے معنی بنانا تعمیر کرنا ابن لہ بنیان بناؤ ان کے لیے ایک عمارت بنیان عمارت کو کہتے ہیں فالقو القا یلقی کے معنی ہوتے ہیں ڈالنے کے بھئی ڈالنا قالو ابن لہ بنیان کہا انہوں نے کہ تعمیر کرو ان کے لیے ایک عمارت فالقوہ فی الجحیم پس ڈال دو ان کو فی الجحیم جحیم کہتے ہیں بھڑکتی ہوئی آگ کو اس لیے جہنم کو بھی کیا کہتے ہیں جحیم کہا جاتا ہے کہا انہوں نے ان کے لیے ایک عمارت بناؤ فالقوہ فی الجحیم پس ڈال دو ان کو بھڑکتی ہوئی آگ میں فاردو بہ کیدا پس ارادہ کیا انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیدا برائی کا کید کہتے ہیں بھئی بری تدبیر کو برائی کو کیدون کسے کہتے ہیں بری تدبیر برائی فاردو بہ کیدا پس ارادہ کیا انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ برائی کا فجعلناہم الاسفلین پس ہم نے ان کو نیچا کر دیا فجعلناہم پس ہم نے کر دیا ان کو الاسفلین نیچا بھئی ذلیل کر دیا ان کو یعنی ان کی تدبیر کو ہم نے ناکام کر دیا اسفل کہتے ہیں جو نیچے والا ہو بھئی اسفل جو سب سے نیچے اعلی جو سب سے اوپر بھئی تو ان کو اسفلین میں سے کر دیے نچلوں میں سے یعنی ان کو ذلیل کر دیا ان کی ترکیب جو مکر تھا وہ سارا ناکام ہوا بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی فاردو بہ کیدا پس انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا فجعلناہم الاسفلین پس ہم نے ان کو نیچا کر دیا وقال انی زاھب الی ربی سیہدیٖن اور کہا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ ابواسحاق کے بعد کا ذکر ہے جب انہوں نے ہجرت کی عراق سے شام کی طرف وقال انی زاھب الی ربی کہ اور فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہ بے شک میں جا رہا ہوں میں جا رہا ہوں الی ربی اپنے پروردگار کی طرف سیہدیٖن وہ مجھے ہدایت دے گا وہ میرے رہنما مجھے راستہ دکھا دے گا سمجھ میں آیا بھئی میں جا رہا ہوں میں جاتا ہوں کس کی طرف اپنے پروردگار کی طرف وہ مجھے راستہ دکھا دے گا چنانچہ اللہ نے انہیں آپ کو شام کا راستہ دکھا دیا بھئی کہ شام کی طرف آپ چلے جائیں وقال انی زاھب الی ربی اور کہا میں جانے والا ہوں اپنے پروردگار کی طرف سیہدیٖن وہ مجھے راستہ دکھا دے گا وھب لی من الصالحین وھب یہبو کے معنی عطا کرنے کے ربی اصل میں تھا ربی یا ربی اے میرے پروردگار ھب لی آپ مجھے عطا فرما دیجیے من الصالحین نیکو صالحین میں سے نیکو کاروں میں سے یعنی ایک بیٹا عطا فرما دیجیے جب چلے گئے بھئی اور ہجرت کرلی تو پھر اللہ سے یہ دعا کی کہ اے اللہ مجھے بیٹا عطا فرما دیجیے میں نے اپنے وطن کو چھوڑ دیا اپنے قوم والوں کو چھوڑ دیا تو اے اللہ یہاں پر میں اکیلا ہوں مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے ربی ھب لی من الصالحین اے میرے پروردگار مجھے نیکو کاروں میں سے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے اے میرے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے من الصالحین جی تو مفعول محذوف ہے مفعول کیا ہے محذوف ہے ھب لی ولدًا مجھے بیٹا عطا فرما دیجیے یا ھب لی ابنا ایک بیٹا عطا فرما دیجیے ربی ھب لی اے میرے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے من الصالحین جو نیکو کاروں میں سے ہو فبشرنہ بغلام حلیم پس ہم نے ان کو خوشخبری دی ایک غلام لڑکے کو بھی کہتے ہیں عربی میں بھئی غلام کو بھی کہتے ہیں اور لڑکے کو بھی بھئی اللہ فرماتے ہیں پس فبشرنہ ہم نے خوشخبری دی ان کو بغلام ایک لڑکے کی حلیم جو تحمل والا ہو بردبار ہو تحمل کرنے والا بردبار بھئی اللہ نے دیکھا ان کی دعا قبول فرمائی اور خوشخبری دے دی ایک بردبار لڑکے کی فبشرنہ بغلام حلیم پس خوشخبری دی ہم نے ان کو ایک تحمل والے لڑکے کی فلما بلغ معہ السعی قال یا بنی انی ارا فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا ترا فلما بلغ پس جب پہنچا وہ وہ لڑکا بھئی کہاں تک پہنچا السعی دوڑنے کو معہ ای مع ابراہیم کس کے ساتھ ابراہیم پس جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ دوڑنے کو پہنچے یعنی دوڑنے کے قابل ہو گیا پس جب وہ لڑکا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑنے کے قابل ہو گیا یعنی ان کے ساتھ دوڑنے لگا چلنے پھرنے لگا بھئی کچھ بڑے ہوگئے بھئی اللہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام پھر عطا فرمائے فلما بلغ معہ السعی پس جب وہ پہنچے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کو معنی سمجھ میں آگیا بھئی با محاورہ کیا ہوگا فلما بلغ معہ السعی پس جب وہ لڑکا ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا قال یا بنی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا یا بنی اے میرے پیارے بیٹے بنیہ ابن ان کی تصغیر ہے اور یا ساتھ ملائی گئی اضافت کے لیے بھئی اے میرے پیارے تو تصغیر ہے شفقت کے طور پر بھئی یا بنی اے میرے پیارے بیٹے انی ارا بے شک میں دیکھتا ہوں فی المنام خواب میں انی ارا فی المنام میں دیکھتا ہوں خواب میں تو میں دیکھتا ہوں خواب میں انی اذبحک کہ یہ بے شک میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں اے بیٹے میں خواب دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں فانظر ماذا ترا فانظر پس تو غور کر لے تو سوچ لے ماذا ترا تیری کیا رائے ہے ماذا ترا تمہارا تم کیا رائے رکھتے ہو فانظر تم سوچ لو ماذا ترا تم کیا رائے رکھتے ہو یعنی تمہاری کیا رائے ہے تمہاری کیا رائے ہے کہ میں اے بیٹے میں خواب دیکھ میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں فانظر ماذا ترا پس تم سوچ لو تمہاری کیا رائے ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین رات تک مسلسل خواب دیکھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں بیٹے کی عمر اس وقت بھئی ابھی ذکر آیا وہ جب چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ جی یعنی کہ سات سال کی عمر تک پہنچ گئے سات سال کے ہو گئے تھے ان کے بیٹے بعضوں نے لکھا تیرہ سال کے ہو گئے تھے بھئی تیرہ سال کے تو جب ان کے ساتھ چلنے پھرنے کے دوڑنے کے قابل ہوئے تو کہنے لگے تین دن وہ پھر خواب دیکھا بھئی پہلے دن خواب دیکھا بھئی آٹھ ذی الحجہ کی رات کو خواب دیکھا کہ بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں تو آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کی تعبیر پر غور کرتے رہے کہ اس کی کیا تعبیر ہوگی کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں دوسرے دن پھر وہی خواب دیکھا نویں کو بھی نویں ذی الحجہ کو بھی پھر بھی یہی سوچتے رہے کہ کیا تعبیر ہوگی اس خواب کی تیسرے دن پھر جب یہی خواب دیکھا تو سمجھ گئے کہ اس سے یہی مراد ہے کہ میں کیا کروں اپنے بیٹے کو ذبح کروں بھئی یہی حکم دیا جا رہا تھا تھا تو یہ خواب ہی لیکن انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں بھئی آپ جانتے ہیں پڑھ چکے ہوں گے انبیاء کے خواب بھی کیا ہوتے ہیں وحی ہوتے ہیں تو جب تین دن تک متواتر یہ خواب دیکھا تو سمجھ گئے کہ اس سے یہی مراد ہے کہ میں کیا کروں اپنے بیٹے کو قربان کردوں ذبح کردوں چنانچہ اب اپنے بیٹے سے بھی اس بات کا ذکر کیا کہ بھئی میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تم سوچ لو تمہاری کیا رائے ہے بیٹا بھی اللہ نے کیسا دیا تھا انسان حیران ہوتا ہے اللہ نے جن کی خود تعریف فرمائی بغلام حلیم بھئی کس قسم کا بیٹا تحمل والا برداشت والا دیکھیے بیٹے کا جواب اگیا آ رہا ہے قال یا ابتی کہا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہ لڑکے نے کہا یا ابتی اے ابا جان افعال آپ کر لیجیے ما وہ چیز توءمر جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اے ابا جان جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے وہ کر لیجیے ستجدنی عن قریب انشاءاللہ تجدو آپ پائیں گے وجد یجد کا معنی پانا ستجدنی آپ پائیں گے مجھے ستجدنی عن قریب آپ مجھے پائیں گے انشاءاللہ اگر اللہ نے چاہا من الصابرین صبر کرنے والوں میں سے آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اللہ کی طرف سے اے ابا جان اس پر عمل کر لیجیے مجھے ذبح کر دیجیے آپ مجھے بھی انشاءاللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے یا ابتی یہ اصل میں تھا یا ابی بھئی یا ابی اور پھر قافیہ میں آپ پڑھیں گے آگے چل کر کہ کبھی یہ جو یا ہے اس کو تا سے بدل دیا جاتا ہے یا ابی کا کیا معنی اے میرے ابا اور یا ابتی کا بھی کیا معنی اے میرے ابا یہ وہی یا سے بدل کر تا آ جاتی ہے کبھی کبھار بھئی قال یا ابتی فعمل ما توامر کہا انہوں نے کہ اے ابا جان آپ کر لیجیے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ستجدنی انشاءاللہ من الصابرین انشاءاللہ آپ پائیں گے مجھے صبر کرنے والوں میں سے فلما اسلما تثنیہ کا صیغہ ہے فلما اسلما پس جب دونوں نے فرمانبرداری کی وٹلہ للجبین وٹلہ تلوں کے معنی ہیں لٹانے پچھاڑنے گرانا بھئی کسی کو زمین پر گرانا مراد ہے یہاں لٹانا بھئی لٹانا وٹلہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو لٹا دیا للجبین للجبین پہلو پر بھئی پہلو پر بھئی یاد رکھیے جبین جبین جو ہے پیشانی کو کہتے ہیں لیکن یہ پیشانی کا وہ حصہ جو اطراف میں ہے سامنے پیشانی کا جو حصہ ہے اس کو جبھتون کہتے ہیں پیشانی کا جو سامنے والا حصہ ہے اسے کیا کہتے ہیں جبھتون اور پیشانی کا وہ حصہ جو اس دونوں طرف آتا ہے بھئی یوں سمجھیں اردو میں جیسے کنپٹی ہے بھئی یہ پیشانی کا جو حصہ ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں جبین تو ہر انسان کی دو جبینیں ہیں بھئی کتنی ہیں دو کنپٹیاں ہیں نا دونوں طرف ایک دائیں اور ایک بائیں تو جبین اس کو کہتے ہیں بھئی تو کنپٹی پر لٹا دیا ان کو یعنی کہ پہلو پر معنی کیا ہوا ایک پہلو پر لٹا دیا بعضوں نے کہا بعضوں نے جبین کو جبین کہ ماتھے ہی کے معنی میں رکھا اور یعنی ان کو الٹا لٹا دیا ان کا منہ زمین کی طرف کر دیا بعضوں نے کہا کہ پہلو کے بل لٹا دیا کیونکہ جبین کس کو کہتے ہیں ماتھے کے ایک طرف والے حصے کو تو ایک پہلو پر لٹایا معنی سمجھ میں آگیا تو بعضوں نے کہا کس طرح لٹایا بعض مفسرین کیا لکھتے ہیں جبین سے عام پیشانی والا معنی کیا پیشانی کے بل لٹا دیا یعنی بالکل پیشانی زمین کی طرف کر دی الٹا لٹایا اور بعضوں نے کیا کیا جبین کے معنی پہلو پر کیونکہ وہ جبھی یعنی جبین پر لٹا دیا یعنی ایک طرف کو رخسار زمین پر لگا کر لگاتے ہوئے لٹا دیا بھئی سمجھ میں آیا تو یہ معنی ہے بھئی اور یہ اس لیے تاکہ ان کا چہرہ بیٹے کا چہرہ میری طرف نہ رہے کہیں یہ نہ ہو میری محبت جوش میں آجائے اور اللہ کے حکم پر میں پوری طرح عمل نہ کر سکوں بھئی سمجھ میں آیا بھئی تو بیٹے کا چہرہ ایک رخ پر کر دیا ایک طرف کو دوسری طرف کو یا زمین کی طرف کر دیا اور کہتے ہیں کہ یہ ترکیب بھی بیٹے نے سکھلائی کہ ابا جان یوں لٹائیے مجھے تاکہ میرا رخ آپ کی طرف نہ ہو معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی فلما اللہ فرماتے ہیں فلما اسلما پس جب ان دونوں نے فرمانبرداری کی وٹلہ للجبینی اور لٹا دیا ان کو پہلو پر ونادیناہ ان یا ابراہیم چلیے بس کرتے ہیں بھئی بس چلیے بس یہی ہے والامر واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
131 approved lectures · 61 of 131