Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-055

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 10 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم وامتازوا اليوم ايها المجرمون ألم أعهد إليكم يا بني آدم أن لا تعبدوا الشيطان إنه لكم عدو مبين وأن اعبدوني هذا صراط مستقیم وامتازوا اليوم أيها المجرمون اور جدا ہو جاؤ آج کے دن اے مجرموں وامتازوا اليوم امتدا کا کیا معنی جدا ہو وامتازوا اليوم اور جدا ہو جاؤ آج کے دن ایھا المجرمون اے مجرموں یعنی مومنوں سے جدا ہو جاؤ بھئی مومنوں سے جدا ہو جاؤ الم عهد اليکم کیا میں نے تم سے عہد نہیں کر رکھا تھا یعنی کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دے رکھا تھا الم عهد اليکم کیا میں نے تمہیں نہیں کہہ رکھا تھا یا بنی ادم اے آدم کی اولاد اللہ تعبدوا الشیطانہ یہ کہ تم عبادت نہ کرو شیطان کی انہ لكم عدو مبین بے شک وہ تمہارا واضح دشمن ہے کھلا دشمن ہے ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی الم عهد اليکم کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دے رکھا تھا یہ یہ ترجمہ کر لیں الم عهد اليکم کیا میں نے تمہیں نہیں کہہ رکھا تھا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا اور ہمارے بعض علماء نے اس کا ترجمہ الم عهد اليکم کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کر رکھی تھی کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کی تھی یا بنی ادم اے آدم کی اولاد اللہ تعبدوا الشیطانہ کے کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو انہ لكم عدو مبین بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے تو جو بھی ترجمہ آپ کو مناسب لگے کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دے رکھا تھا یا کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا یہ یہ کر لیں یا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا یا کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کی تھی یا بنی ادم اے آدم کی اولاد کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے وان عبدونی اور یہ کہ تم میری عبادت کرو اور یہ کہ تم میری عبادت کرو هذا صراط مستقیم یہ سیدھا راستہ ہے اللہ تعالی فرما رہے ہیں اس دن اللہ فرمائیں گے مجرموں سے کہا جائے گا کہ مومنوں سے جدا ہو جاؤ اور ان سے کہا جائے گا اللہ ان سے فرمائیں گے کہ اے اولاد آدم کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری عبادت کرنا هذا صراط مستقیم یہ سیدھا راستہ ہے کہ شیطان کی عبادت نہ کرو اور میری عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے بھئی شیطان کی عبادت مراد ہے شیطان کی عبادت تو نہیں کرتے وہ تو بتوں کی عبادت کرتے ہیں یا اور معبود بنا رکھے ہیں مراد یہ ہے کہ شیطان کے کہنے پر چلتے ہیں تو جب شیطان کے کہنے پر اور معبود بنا رکھے ہیں تو گویا کہ شیطان ہی کی کیا کرتے ہیں عبادت کرتے ہیں ولقد اضل منكم جبلا كثيرا اور البتہ تحقیق گمراہ کیا اس نے منکم تم میں سے جبلا کثیرا اے کثیر خلقت کو کثیر خلقت کو جبلا جمع ہے جبیل کی بھئی جبیل کی جبیل خلقت کو کہتے ہیں اسی طرح جماعت کو کہتے ہیں اور البتہ تحقیق اس نے گمراہ کیا تم میں سے بہت سی جماعتوں کو یا کثیر خلقت کو جو بھی آپ ترجمہ کر لیں ولقد اضل منكم جبلا كثيرا اور تحقیق اس نے گمراہ کیا تم میں سے کثیر خلقت کو افلم تکونوا تعقلون پس کیا تم سمجھتے نہیں افلم تکونوا تعقلون پس کیا تم سمجھتے نہیں تھے کیا تمہیں افلم تکونوا تعقلون کیا پس تم عقل نہیں رکھتے تھے وہ تمہیں غلط راستہ دکھاتا تھا تو تمہیں بھی تو میں نے عقل دے رکھی تھی کیا تمہیں خود نہیں عقل کے ذریعے پتہ چل جاتا کہ یہ جو شیطان جس راستے پر ہمیں ڈال رہا ہے یہ راستہ سیدھا نہیں ہے افلم تکونوا تعقلون کیا پس تم سمجھتے نہیں تھے هذه جهنم الٹی کنتم توعدون یہ ہے وہ یہی ہے وہ جہنم الٹی کنتم توعدون جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا هذه جهنم جهنم الٹی کنتم توعدون یہی ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا یہ ایک ترجمہ بھئی وعد یعید کے معنی وعدہ کرنا وعدہ کرنا اور اسی طرح وعد یعید کا ایک معنی ہے ڈرانا بھئی دھمکانا تو یہ یا تو وعد یعید سے تو اس کے معنی وعدہ کرنے کے کر لیں یا ڈرانے اور دھمکانے کے یا یہ اود یعید سے ہے باب افعال ہے تو اس کا معنی بھی وعدہ کرنے کے بھی آتے ہیں اور ڈرانے دھمکانے کے بھی آتے ہیں جو جو بھی آپ ترجمہ کر لیں تو پہلا ترجمہ کیا ہوا هذه جهنم الٹی کنتم توعدون هذه مبتدا ہے جہنم جو ہے یہ اس کی خبر ہے اور یہ بھی معرفہ مبتدا تو ہے ہی معرفہ هذه آگے جہنم یہ خبر یہ بھی معرفہ اور مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں تو پھر یہ حصر کا فائدہ دیتے ہیں بھئی هذه جهنم اگر یہ نکرہ ہوتا تو پھر یہ معنی ہوتا یہ جہنم ہے اب یہ معرفہ ہے هذه جهنم یہی جہنم ہے یہی جہنم ہے قیامت کے دن ان کو جہنم میں ڈالتے ہوئے کہا جائے گا هذه جهنم الٹی کنتم توعدون یہی جہن وہ یہی وہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا یہ ایک ترجمہ دوسرا بھئی یہی وہ جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا تھا ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی دونوں معنی بھئی اصلوا اليوما داخل ہو جاؤ اس کے اندر آج کے دن بما کنتم تکفرون بوجہ اس کے جو تم کفر کیا کرتے تھے وہ جو تم کفر کیا کرتے تھے اس کی وجہ سے آج اس میں داخل ہو جاؤ ها ضمیر اصلوا ہا ضمیر راجع ہے جہنم کو بھئی اور وہ جہنم مونث سماعی لہذا اس کی طرف مونث کی ضمیر بھئی اصلوا بظاہر لگے گا شاید یہ وصل یصل سے ہے بھئی وصل یصل سے نہیں ہے یہ صلی یصلی بھئی یعنی یہ مثال نہیں ہے بلکہ ناقص ہے بھئی صلی یصلی صلن وصلیا صلی یصلی صلن وصلیا کے معنی ہیں آگ میں جلنا آگ میں داخل ہونا اصلوا اليوما داخل ہو جاؤ اس جہنم کے اندر تم لوگ آج کے دن بوجہ اس کے جو تم کفر کیا کرتے تھے اليوم نختم على افواههم اليوم نختم على افواههم اس دن نختم ختم یختم کے معنی مہر لگانا یا الیوم کا معنی آج کے کر لیں جی تو اس دن نختم على افواههم ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر افواہ جمع ہے فم کی بھئی اور نحب کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ فم یہ میم جو ہے یہ واو سے بدل کر آیا ہے بھئی اور اس کی اصل کیا تھی فوہ یا فواہ اس کی اصل ہے بھئی فواہ جی تو آج کے اس دن ہم اس دن ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر وكلمنا ايديهم اور بات کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ وتشهد ارجلهم اور گواہی دیں گے ان کے پاؤں ارجل جمع ہے رجل کی ایدی جمع ہے ید کی بھئی اور بات کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پاؤں بما كانوا يكسبون اس چیز کی جو وہ عمل کرتے تھے کسب یکسبو کے معنی ہیں کمانا یعنی عمل کرنا بھئی قیامت کے دن مومنین کو اللہ کے سامنے مومن کو پیش کیا جائے گا اللہ فرمائیں گے بھئی تم نے یہ گناہ کیا یہ گناہ کیا یہ گناہ کیا وہ اقرار کرتا چلا جائے گا کہ ہاں اے اللہ واقعی میں نے یہ بھی گناہ کیا یہ بھی گناہ کیا پھر اللہ تعالی اس کو معاف فرما دیں گے بھئی اس دن اللہ کی رحمت اللہ نے روایات میں آتا ہے اللہ نے سو رحمتیں پیدا فرمائیں اور سو میں سے ایک رحمت اس دنیا کے اندر تقسیم فرما دی اور اس ایک رحمت کا نتیجہ ہے کہ انسان انسان سے محبت کرتا ہے انسان جانوروں کا بھی خیال رکھتا ہے سمجھ میں آیا ماں اپنے بیٹے سے محبت کرتی ہے جان تک اس کے لیے دے دیتی ہے اور تمام چیزوں کا یہ جتنے محبت کے آثار نظر آتے ہیں تعلق والے انس والے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا وغیرہ یہ سارے وہ ایک رحمت کا اثر ہے اور ننانوے رحمتیں اللہ نے سنبھال لیں وہ قیامت کے دن ان کا ظہور ہوگا بھئی ننانوے رحمتیں اندازہ لگائیے کتنی رحمت ہوگی اس دن اللہ تعالی کی یقینا اس قسم کی احادیث سے انسان کا حوصلہ ہو جاتا ہے کہ امید ہے انشاءاللہ اللہ تعالی ہمیں بھی جنت میں بغیر حساب کتاب کے داخل فرمائیں گے انشاءاللہ جس کا حساب کتاب ہو گیا بس وہ پھنس گیا بھئی جس کا حساب کتاب ہو گیا تو سمجھ میں آیا بھئی کیونکہ میں بیان کر چکا ہوں پہلے بھی کہ اگر اللہ حساب کتاب لینے پر آئے تو پھر تو انسان کی تمام زندگی کی عبادتیں وہ اللہ نے جو نعمتیں دے رکھی ہیں ان نعمتوں کا بدل بھی نہیں ہو سکتی بلکہ صرف آنکھوں کی جو نعمت دی ہے اللہ نے جس کے لیے ہم دیکھتے ہیں اور صرف اسی کے حساب میں ہی تمام نیکیاں ختم ہو جائیں بھئی کہ اللہ نے باقی نعمتیں تو الگ ہیں ایک ہی نعمت کا اگر حساب لیا جائے کہ یہ اتنی بڑی نعمت میں نے دی تھی تمہیں اور تم نے کیا شکر ادا کیا اس کا ذرا مجھے بتاؤ تو سہی تو مومن کو پھر اللہ معاف فرما دیں گے اور بلکہ گناہ کے بدلے اس کو نیکیاں دے دی جائیں گی اور کفار اور جو منافقین ہیں وہ اس روز بھی اللہ کے جب اتنی عظیم اللہ کی بادشاہی اور اللہ کی اس عظیم قدرت کا اپنی آنکھوں سے وہ مشاہدہ کر لیں گے لیکن پھر بھی ان کی کیفیت دیکھیے وہی رہے گی اللہ کے سامنے انکار کر دیں گے ہر چیز کا کہ ہم نے کچھ کیا ہی نہیں وہ سمجھیں گے یہ بھی دنیا کا مسئلہ ہے دنیا میں ہر چیز سے ہم مکر جاتے تھے کسی کے پاس ثبوت ہی نہیں ہوتا تھا بھئی تو کہیں گے اے اللہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیے ان چیزوں میں سے یہ سب ویسے ہی فرشتوں نے ہمارے نامہ اعمال میں لکھ دیے ہیں ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا ان میں سے ہمیں تو گواہ چاہیے ہمارے اپنی ذات میں سے کوئی گواہ ہو پتہ چلے پھر کہ ہم نے کوئی کیا ہے تو اللہ جو ہیں ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور پھر ان کے ہاتھوں پاؤں کو آنکھوں کو کانوں کو کھال وغیرہ کو حکم ہوگا اور پھر ہر چیز گواہی دے گی ان کے ایک ایک گناہ کی بھئی ان کی زبان بند ہے یہ بول ہی نہیں سکتے وہ گواہی پر گواہی دیتے چلے جا رہے ہیں اس کے گناہ شمار کروا رہے ہیں پھر اس کو زبان دی جائے گی تو یہ انہی پر برس پڑے گا اپنے پاؤں اور ہاتھوں اور کھالوں اور آنکھوں اور کانوں پر ہی کہ تمہارے لیے ہی تو میں لڑ رہا تھا جھگڑ رہا تھا کہ تمہیں جہنم سے بچا لوں تم آج ہی تم تم ہی آج میرے خلاف بولنے لگ پڑے تو کہیں گے ہمیں اللہ نے بلوایا تھا اور چنانچہ پھر اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا بھئی تو اسی کو اللہ ذکر فرما رہے ہیں اليوم نختم على افواههم آج کے دن ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر وكلمنا ايديهم اور بات کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ وتشهد ارجلهم اور گواہی دیں گے ان کے پاؤں بما كانوا يكسبون اس چیز کی جو یہ عمل کرتے تھے ولو نشاء لطمسنا على اعينهم اور اگر ہم چاہیں تو مٹا دیں ان کی آنکھیں پمس کا معنی ہے اس طرح مٹانا کہ چیز کا نشان ہی نہ رہے اللہ فرما رہے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں یعنی اس طرح مٹ دیں کہ چہرے پر آنکھ کا نشان ہی نہ رہے برابر ہو جائے بالکل چہرہ بھئی سمجھ میں آیا معنی بھئی یہ ہے طمس بھئی اللہ فرما رہے ہیں ولو نشاء اور اگر ہم چاہیں یہ تو قیامت کے دن کے احوال ہیں اللہ فرما رہے ہیں آج بھی دنیا کے اندر بھی اگر ہم چاہیں ولو نشا اگر ہم چاہیں لطمسنا على اعينهم تو البتہ ہم مٹا دیں ان کی آنکھیں فاستبقوا الصراط پس یہ دوڑیں راستے کی طرف فانا يبصرون پس کہاں سے یہ دیکھ پائیں कहां से ये देखें فاستبقو بھئی آنکھیں ہم ان کی مٹا دیں پھر یہ راستے کی طرف دوڑیں کس طرف راستہ ہے آنکھیں مٹ گئیں پھر کہاں اللہ فرماتے ہیں اللہ فرماتے ہیں پھر کہاں कहां ये देख सकेंगे कहां इनको रास्ता नजर आएगा ولو نشاء لطمسنا على اعينهم اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹم مٹ کر دیں ان کی آنکھیں فاستبقوا الصراط پس یہ دوڑیں راستے کی طرف تیزی سے چلیں راستے کی طرف فانا يبصرون پس کہاں یہ دیکھ سکیں ولونا نشاء لما مسخناهم على مكانتهم اللہ فرما رہے ہیں یہ تو قیامت کے دن پہ حال احوال ہم سنا رہے ہیں ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے بارے میں گواہی دیں گے اگر ہم چاہیں تو دنیا ہی میں ان کی آنکھیں ملیا میٹ کر دیں اور یہ پھر راستے وغیرہ کی طرف دوڑیں لیکن انہیں کچھ دکھائی ہی نہیں دے گا کہاں جا سکیں گے اور اگر ہم اسی کا اسی طرح ذکر اللہ فرما رہے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو دنیا میں ان کی اپنی جگہ پر ہی مسخ کر دیں ولو نشاء اور اگر ہم چاہیں لماس اب اللہ مسخناہم تو البتہ ان کو مسخ کر دیں علی مکانتهم ان کی جگہ پر ہی اگر ہم چاہیں تو ان کو جہاں ہیں یہ وہیں پر ہم ان کو مسخ کر دیں مسخ کا معنی ہے صورت بگاڑنا اعلی سے ادنی صورت بکر دینا اعلی سے ادنی صورت کر دینا مسخ کر دیں ان کی جگہوں پر ہی یعنی ان سے خنزیر بنا دیں یا بندر بنا دیں یا ان کو پتھر بنا دیں بھئی ولونا شاء علماء سخناهم على مكانتهم و اور ہم چاہیں تو البتہ مسخ کر دیں ان کو ان کی جگہوں پر ہی فمسطاعو مضیا و لا یرجعون تو یہ استطاعت نہ رکھیں مضئ مضایم سی کے معنی ہیں گزرنا گزرنا و لا یرجعون اور نہ لوٹ سکیں تو یہ استطاعت نہ رکھیں گزرنے کی اور نہ واپس لوٹنے کی یعنی گزرنے کی یعنی آگے جانے کی نہ آگے جا سکیں اور نہ پیچھے جا سکیں بھئی اور اگر ہم چاہیں تو مسخ کر دیں ان کو ان کی جگہوں پر جگہ پر ہی فمسطاعو مضیا و لا یرجعون تو یہ نہ تو آگے جا سکیں اور نہ واپس لوٹ سکیں ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی فمسطاعو مضیا تو یہ نہ آگے جا سکیں استطاعت نہ رکھیں آگے جانے کی یعنی آگے نہ جا سکیں فمسطاعو مضیا تو یہ نہ آگے جا سکیں و لا یرجعون اور نہ واپس لوٹ سکیں و من نعمہ ننتکسہ فی الخلق عمر یعمر کے معنی ہیں لمبی عمر دینا و من نعمہ اور وہ جس کو ہم لمبی عمر دیں ننتکسہ فی الخلق اس کو ہم اوندھا کر دیتے ہیں فی الخلق پیدائش میں بھئی برتن سیدھا پڑا ہو اس کو الٹا کر کے رکھ دیں تو اس کو کیا کہتے ہیں برتن کو اوندھا کر دیا بھئی اللہ فرما رہے ہیں جس کو ہم و من نعمہ کہ جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں ننتکسہ فی الخلق اس کو الٹا کر دیتے ہیں پیدائش میں الٹا کر دیتے ہیں اوندھا کر دیتے ہیں یعنی بھئی جس طرح ابتداء کے اندر انسان چھوٹا تھا ہر چیز میں دوسروں کا محتاج تھا نہ چل سکتا ہے نہ پھر سکتا ہے نہ کوئی چیز پکڑ سکتا ہے حتی کہ اتنا کمزور کروٹ بھی نہیں بدل سکتا ہر چیز میں ماں کا باپ کا محتاج ہے بھئی پھر ماں پرورش کرتی ہے اور آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر جوانی کے اندر اس کی طاقتیں عروج پر ہوتی ہیں اس وقت اس وقت اس کی مستی کا کوئی عالم نہیں ہوتا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا جو اس کے زور بازو کے تحت آتا ہے ہر ایک پر ظلم کرتا چلا جاتا ہے بھئی اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ پھر بڑھاپا شروع ہوتا ہے اور پھر ہم اس کی اسی حالت کی طرف اس کو لوٹا دیتے ہیں جس پر پہلے تھا اسی طرح الٹا دیتے ہیں ہم ایک وقت آتا ہے پہلے بھئی یہی جوانی کے اندر بھئی بڑے سے بڑا بوجھ اٹھا لیتا تھا دوسروں کو بھی سہارا دے دیتا تھا ہر کام کر لیتا تھا ایسے ایسے کام کہ انسان دیکھ کر حیران ہوتا وہ کر لیا کرتا تھا اور پھر جب بڑھاپا آتا ہے وہی شخص ہے بھئی وہی شخص جس کے سامنے کوئی اونچے لہجے میں بات نہیں کر سکتا تھا آج اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ چلنے کے لیے بھی دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے ایک قدم اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہتا بھئی اور ہر چیز میں دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے بھئی ہاتھ پیر جواب دے جاتے ہیں آنکھیں کان جواب دے جاتے ہیں اور عقل جواب دی جاتی ہے بھئی تو یہ دیکھیے اسی طرح اللہ اس کو کیا کر دیتے ہیں الٹا کر دیتے ہیں جس طرح ابتدائی وقت کے اندر تھا معنی سمجھ میں آگیا بھئی و من نعمہ ننتکسہ فی الخلق اور وہ اور جس کو ہم عمر دیتے ہیں ہم اس کو الٹا کر دیتے ہیں پیدائش میں افلا یعقلون پس یہ سمجھتے کیوں نہیں پس یہ سمجھتے کیوں نہیں ان کو عقل نہیں ہے بھئی وہ اللہ جو بڑھاپے پر پھر اسی طرح ساری قوتیں سلب کر لیتا ہے اور ختم کر دیتا ہے کیا وہ اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ جوانی کے اندر ہی ان کی ساری قوتیں ختم کر دیں جس پر یہ اس وقت اتراتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں و ما علمناہ الشعر و ما ینبغی لہ اور نہیں سکھایا اس پیغمبر کو ہم نے نہیں سکھائی ہم نے اس پیغمبر کو شاعری و ما ینبغی لہ اور مناسب بھی نہیں ان کے و ما ینبغی اور نہیں مناسب ان کے لیے یعنی ان کے شایان شان نہیں ہے اس پیغمبر کو ہم نے شاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کے شایان شان ہے نہ وہ ان کے مناسب ہے عرب کہتے تھے نا مشرکین مکہ بھئی قرآن سنتے تھے تو جو جس کے جیم میں آتا وہ کہہ دیا کرتا کوئی کہتا یہ جادو ہے کوئی کہتا یہ شاعری ہے وغیرہ مختلف باتیں کرتے تھے اللہ فرما رہے ہیں و ما علمناہ الشعر اور ہم نے ان کو شاعری نہیں سکھائی و ما ینبغی لہ اور نہیں ہے ان کے مناسب وہ شاعری ان کے مناسب بھی نہیں ان کے شایان شان نہیں تو یہ جو کلام کرتے ہیں یہ اللہ کا کلام ہے یہ کوئی شاعری نہیں ہے شاعری تو ہم نے ان کو سکھائی ہی نہیں ہے اور شاعری ان کے شایان شان نہیں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق قریش قبیلے سے جو عرب کا سب سے معزز قبیلہ تھا اور اس قبیلے کی فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ ان کے ادنی درجے کی باندیاں بھی شعر کہنے کی شعر کہا کرتی تھیں بھئی ادنی درجے کی باندیوں کا یہ حال تھا اور لیکن ان کو ہم نے شعر نہیں سکھایا یہ جو فصیح و بلیغ اور مؤثر کلام کرتے ہیں یہ کوئی شاعری نہیں ہے یہ اللہ کا کلام ہے سمجھ میں آیا شعر و شاعری کے اندر ایک دو موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر مقف شعر جیسا کلام آیا لیکن ایک آدھ موقع پر کوئی مقف کلام کرنے زندگی بھر میں ایک دو مرتبہ صرف زبان پر اگر کوئی ایک آدھا مقف شعر جیسا کلام آ جائے تو اس کو کہنے والے کو شاعر نہیں کہا جاتا بھئی سمجھ میں آیا بات تو یہ اس کہنے والے کو شاعر نہیں کہا جاتا بھئی جیسے غزوہ حنین کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ کلمات آئے انا النبی لا کذب انا ابن عبد المطلب انا النبی لا کذب انا ابن عبد المطلب تو اسی طرح ایک آدھ اور موقع پر تو یہ ایک آدھ موقع پر اگر زبان پر کوئی مقف عبارت آ جائے تو کہنے والے کو شاعر نہیں کہا جاتا اور کیونکہ شاعر شعر اس میں تو سوچنا پڑتا ہے بنانا پڑتے ہیں شعر سمجھ میں آیا تو ایک آدھ دفعہ کوئی کی زبان پر ایسا لفظ آ جائے کلام آ جائے تو اس کو نہ اسے شاعری کہتے ہیں اور نہ کہنے والے کو شاعر کہا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تمام زندگی میں ایک دو موقع پر اس طرح کا کلام ان سے ثابت ہے جیسے یہ ایک یہ مثال ذکر کر دی ایک آدھ مثال اور ہے بھئی اور اور شعراء کے کلام بھی آپ نہیں پڑھتے تھے بھئی تمام زندگی میں صرف دو چار موقع پر ہی اور کسی شاعر کا کلام ایک آدھ شعر آپ نے پڑھا ایک آدھ اور اس میں بھی ایسی تبدیل فرما دیا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ وہ شعر ہی نہ رہے بھئی شعر ہی نہ رہے تو اللہ فرما رہے ہیں و ما علمناہ الشعر و ما ینبغی لہ اور ہم نے نہیں سکھائی ان کو شاعری اور نہ وہ ان کے شایان شان ہے ان ہوا الا ذکر و قرآن مبین ان نفی کے لیے ان ہوا نہیں ہے وہ الا ذکر مگر نصیحت وہ تو نصیحت ہی ہے یہ جو قرآن ہے یہ کیا ہے یہ تو نصیحت ہی کی ایک بات ہے و قرآن مبین اور واضح قرآن ہے ان ہوا الا ذکر و قرآن مبین نہیں ہے وہ مگر نصیحت اور واضح قرآن کہ یہ تو نصیحت اور واضح قرآن ہی ہے بھئی یہ اللہ کی اس آخری کتاب کا نام قرآن ہے عالم لیکن یہاں یہ جو قرآن آیا یہ علم نہیں بھئی علم نہیں کیونکہ اس کی صفت مبین آ رہی ہے اور وہ نکرہ ہے بھئی اگر یہاں قرآن علم ہوتا تو اس کی صفت بھی معرفہ آنی چاہیے تھی بھئی تو یہاں اس کی صفت کیا آئی نکرہ بھئی تو یہاں قرآن بمعنی پڑھی جانے والی کتاب بھئی لغوی معنی کے اعتبار سے بھئی قرآن کو بھی قرآن اسی لیے کہا جاتا ہے نا کیونکہ اس کو پڑھا جاتا ہے اور یا قرنا اس کا مادہ ہے کہ اس کی آیتیں ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہیں بھئی ان میں اتصال ہے ربط ہے تو یہاں قرآن کس معنی میں ہے پڑھی جانے والی کتاب بھئی قرآن اسم جنس ہے بھئی قرآن کیا ہے اسم جنس ہے اس کا مادہ قرآ ہے یا قرنا قاف را اور حمزہ تو یہ قرآ سے ہے یا قرنا سے قرآ سے ہو تو قرآ کے معنی ہوتے ہیں پڑھنے کے اور قرنا سے ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ملانے کے تو قرآن کو بھی قرآن اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کو پڑھا جاتا ہے یا قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی آیتیں ملی ہوئی ہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھئی تو قرآن اسم جنس ہے بھئی اور اس پر اگر الف لام آ جائے القران تو پھر یہ علم ہے اس کتاب کا بھئی سمجھ میں آیا بھئی تو لہٰذا قرآن کا معنی قرآن اسم جنس ہے اس کا معنی ہوا پڑھی جانے والی کتاب وہ کتاب جس کو پڑھا جاتا ہو پڑھا جاتا ہو تو یہ نہیں ہے الا ذکر مگر نصیحت و قرآن مبین اور واضح قرآن و واضح پڑھی جانے والی کتاب یا پھر اس کا ترجمہ آسمانی کتاب کے کر لیں کہ آسمانی کتابیں جو ہیں ان کو پڑھا جاتا ہے بار بار و قرآن مبین اور یہ کیا ہے واضح آسمانی کتاب ہے واضح پڑھی جانے والی آسمانی کتاب ہے ان ہوا الا ذکر و قرآن مبین یہ تو نصیحت ہی ہے اور واضح پڑھی جانے والی واضح کتاب ہے واضح ہے یعنی اس کے احکامات اس کی باتیں بڑی ہی واضح ہیں بھئی ان میں کوئی ابہام وغیرہ نہیں یا اس کے احکامات بڑے واضح ہیں معنی سمجھ میں آگیا بھئی ان ہوا الا ذکر و قرآن مبین نہیں ہے یہ مگر ذکر اور نہیں ہے یہ مگر نصیحت اور واضح قرآن بھئی قرآن کا معنی سمجھ میں اگیا بھئی اسی لیے آپ تراجم اٹھائیں گے تو وہاں پر آپ کو اس کے وہ معنی کرتے ہیں بھئی عموما بھئی پڑھی جانے والی کتاب یا آسمانی کتاب کے ساتھ اس کا ترجمہ ملے گا بھئی عموما لیذر من کان حیا و یحق القول علی الکافرین تاکہ ڈرائے بھئی تاکہ وہ ڈرائے کون ضمیر راجع ہے قرآن کو یہ ذکر کو یا ضمیر راجع ہے پیغمبر کو تاکہ یہ قرآن ڈرائے یا یہ پیغمبر ڈرائے بھئی تاکہ یہ ڈرائے من کان حیا اس شخص کو جو زندہ ہے و یحق اس کا عطف لیذر پر ہے بھئی جیسے وہ لام کی یہ لام کی وجہ سے کیا تھا منصوب تھا بھئی لی انذر اسی طرح یہ بھی منصوب ہے بھئی تاکہ وہ ڈرائے اس شخص کو جو زندہ ہے و یحق القول اور تاکہ ثابت ہو جائے بات علی الکافرین کافروں پر تاکہ بات ثابت ہو جائے کافروں پر بات یعنی القول یعنی عذاب کی بات بھئی کون سی بات عذاب کی بات لیذر من کان حیا و یحق القول علی الکافرین تاکہ ڈرائے اس شخص کو تاکہ ڈرائے اس شخص کو جو زندہ ہے اور تاکہ ثابت ہو جائے بات عذاب کی اور تاکہ عذاب کی بات ثابت ہو جائے علی الکافرین کافروں پر جو تاکہ ڈرائے اس کو جو شخص زندہ ہے بھئی یعنی جس میں جس میں حقیقت تک پہنچنے کی طلب ہے وہ شخص زندہ ہے اور جو جس میں طلب ہے حق تک پہنچنے کی جس میں طلب ہے تو گویا وہ زندہ ہے اور جس میں یہ طلب ہی نہیں ہے گویا کہ وہ مردہ ہیں بھئی تاکہ ڈرائے اس شخص کو جو زندہ ہے اور تاکہ ثابت ہو جائے بات کافروں پر اولم یروا انا خلقنا لہم مما عملت ایدینا انعام فہم لہا مالکون اولم یروا کیا انہوں نے دیکھا نہیں انا خلقنا لہم کہ بے شک پیدا کیا ہم نے ان کے لیے مما ان چیزوں میں سے عملت ایدینا جن کو بنایا ہمارے ہاتھوں نے جن کو بنایا ہمارے ہاتھ کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے پیدا کیا ان کے لیے ان چیزوں میں سے جن کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا کیا کیا پیدا کیا ہم نے ان کے لیے انعام چوپاۓ مویشی بھئی مویشی انعام مویشی بھئی سمجھ میں آیا بھئی مویشی گائے بھینس بکری بھیڑ ہے اونٹ ہیں گھوڑے خچر وغیرہ یہ سب ہم نے ان کے لیے بنائے فہم لہا مالکون پس یہ ان کے مالک ہیں پس یہ ان کے پس یہ اب ان کے مالک بن رہے ہیں ہم نے ان کے لیے پیدا کی ہیں یہ چیزیں انہوں نے خود نہیں بنائیں اور اب یہ ان کے مالک بن رہے ہیں بھئی مالک بنے ہوئے ہیں ہم نے ان کو ان کے لیے یہ چیزیں بنا دیں جن کے یہ مالک ہیں اولم یروا کیا دیکھا نہیں ان لوگوں نے کہ بے شک ہم نے پیدا کیا ان کے لیے مما عملت ایدینا انعام کیا پیدا کیے مویشی کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ بے شک ہم نے پیدا کیا ان کے لیے مما عملت ایدینا ان چیزوں میں سے جن کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اپنے ہاتھوں سے بنایا یعنی اپنی قدرت سے بنایا بھئی جن کو ہم نے اپنی قدرت سے بنایا بھئی سمجھ میں آیا اپنے ہاتھوں سے تو یہ حقیقی معنی نہیں بھئی کیونکہ اللہ تعالی کے لیے ہاتھ پاؤں وغیرہ یا اور مخلوقات اللہ لیس کمثلہ شیء اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے تو اللہ کے لیے ہاتھ پاؤں وغیرہ ثابت کرنا درست نہیں بھئی اللہ جسم سے پاک ہیں بھئی جسم سے پاک بھئی اولم یروا انا خلقنا لہم مما عملت ایدینا انعام فہم لہا مالکون کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ بے شک ہم نے پیدا کیا ان کے لیے ان چیزوں میں سے جن کو ہمارے ہاتھوں نے بنایا چو مویشی مویشی پیدا کیے ان کے لیے فہم لہا مالکون پس یہ ان کے مالک بنے ہوئے ہیں و ذللناها لہم اور ہم نے ان کو عاجز ایک یہ کر دیا ان کے لیے و ذللناها ان ہا ضمیر انعام کو راجع ہے جیسے پیچھے لہا مالکون یہ لہا کی ہا ضمیر کس کو راجع انعام کو کہ یہ پس اس کے مالک بن رہے مالک بنے ہوئے ہیں و ذللناها لہم اور ہم نے تابع کر دیا ہا ان ہا ضمیر انعام کو راجع ان مویشیوں کو لہم ان کے لیے و ذللناها لہم اور ہم نے ان مویشیوں کو تابع کر دیا ان کے لیے یعنی ان کے قابو میں دے دیا وہ مویشی ہم نے پیدا کیے اور پھر ان کے قابو میں دے دیے بھئی ان کے قابو میں دے دیے و ذللناها لہم اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کے قابو میں دے دیا فمنھا رکوبھم پس ان میں سے بعض جو ہیں رکوبھم ان کی سواریاں ہیں ان میں سے بعض ان کی کیا ہیں سواریاں ہیں بھئی اونٹ پر اونٹ پر اور اسی طرح گھوڑے اور خچر وغیرہ ان چیزوں پر یہ سوار ہوتے ہیں فمنھا رکوبھم تو بعض ان میں سے ان کی سواریاں ہیں و منھا یاکلون اور ان میں سے بعض جو ہیں یاکلون ان کو یہ کھاتے ہیں گائے بیل بکری بھیڑ وغیرہ ان کو وہ ذبح کرتے کے پھر کھاتے ہیں۔ و ذللناها لہم اور ہم نے ان کو ان کے قابو میں دے دیا فمنھا رکوبھم پس ان میں سے بعض جو ہیں ان کی سواریاں ہیں و منھا یاکلون اور ان میں سے بعض کو یہ کھاتے ہیں و لہم فیھا منافع و مشارب اور ان کے لیے ان میں منافع اور بھی منافع ہیں اور مشارب اور پینے کی چیزیں ہیں۔ مشارب جمع ہے مشرب کی اور مشرب یا تو مصدر ہے یا ظرف کا صیغہ ہے بھئی۔ یا کیا ہے؟ مصدر یا ظرف کا صیغہ ہے۔ مصدر ہو تو معنی کیا؟ پینا۔ اور ظرف ہو تو اس کا کیا معنی؟ پینے کی جگہ۔ تو اس میں ان کے اور منافع بھی ہیں اور پینا بھی ہے یعنی پینے کی چیزیں دودھ ہے بھئی۔ جو اس سے انسان اور بھی نفع اٹھاتا ہے اور دودھ بھی بھئی۔ یا مشارب کا معنی ظرف کے کریں پینے کی جگہیں ہیں بھئی ان کے تھن جو ہیں وہ دیکھو وہاں سے اللہ نے دودھ کے چشمے جاری کر دیے بھئی۔ تو اس کا مشارب اگر ظرف کا صیغہ ہو تو اس کا ترجمہ کیا گیا بھئی پینے کے گھاٹ بھئی کس کے ساتھ؟ پینے بھئی وہی جو تھن ہیں جہاں سے دودھ نکالا جاتا ہے تو پینے کے گھاٹ یعنی دودھ کے چشمے وہاں ہیں بھئی۔ و لہم فیھا منافع اور ان کے لیے ان میں اور بھی نفع ہیں و مشاربو اور پینے کے گھاٹ ہیں یا پینے کی چیزیں ہیں یعنی دودھ بھئی۔ بھئی منافع کے اندر مشارب بھی داخل تھا دودھ بھی تو ایک نفع ہی ہے بھئی تو جب منافع کہا تھا تو اس میں یہ بھی داخل تھا لیکن پھر اس کو اہمیت کی وجہ سے دوبارہ اللہ نے ذکر فرمایا۔ اس کو کہتے ہیں تخصیص بعد التعمیم۔ پہلے ایک چیز ذکر کی منافع وہ عام تھی اس میں یہ بھی داخل تھے پھر اس کو کیا کر دیا اہمیت کی وجہ سے الگ ذکر کیا تو یہ ہے تخصیص۔ پہلے تھی تعمیم پھر کیا کی گئی تخصیص তো اس کو کیا کہتے ہیں تخصیص بعد التعمیم بھئی۔ جیسے بھئی وہ سورہ قدر میں اتا ہے تنزل الملائکۃ والروح۔ روح سے مراد جبرائیل علیہ السلام، ملائکہ کا ذکر ایا تو اس میں حضرت جبرائیل امین بھی داخل تھے لیکن پھر ان کی اہمیت کے طور پر ان کو دوبارہ الگ ذکر کیا گیا تو اس کو کہتے ہیں تخصیص بعد التعمیم۔ تو اس میں اور بھی نفع ہیں بھئی۔ ان جانوروں کی کھال بھی انسان کام میں لاتا ہے اس کے لیے گرم چیزیں بناتا ہے ان کے بال بھی بھئی ان کی ہڈیاں بھی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ان میں بہت سے نفع اللہ نے رکھے بھئی۔ سوار ہوتا ہے جیسے پیچھے ذکر ہو گیا کھاتے ہیں بھئی۔ و لہم فیھا منافع و مشاربو اور ان کے لیے ان میں اور بھی نفع ہیں اور پینے کی جگہیں ہیں افلا یشکرون پس یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟ و اتخذوا من دون اللہ الھۃ اور بنایا انہوں نے اللہ کے علاوہ اور معبودوں کو۔ اور بنا رکھا ہے انہوں نے اللہ کے علاوہ اور معبودوں کو لعلھم ینصرون تاکہ ان کی مدد کی جائے۔ ینصرون مجہول کا صیغہ ہے بھئی تاکہ ان کی مدد کی جائے۔ بھئی یہ اور معبود انہوں نے کیوں بنا رکھے ہیں تاکہ یہ معبود کیا کریں ان کی؟ مدد کریں اللہ کے پاس ان کی سفارش کریں بھئی۔ و اتخذو اتخذ کا معنی پکڑنا یعنی بنانا مراد ہے۔ و اتخذو من دون اللہ الھۃ اور بنا رکھے ہیں انہوں نے اللہ کے علاوہ اور معبود لعلھم ینصرون تاکہ ان کی مدد کی جائے۔ لا يستطيعون نصرھم وہ استطاعت نہیں رکھیں گے وہ جو معبود ہیں اللہ آگے فرما رہے ہیں بھئی انہوں نے تو معبود بنائے ہیں تاکہ وہ ان کی مدد کریں لا يستطيعون نصرھم وہ استطاعت نہ رکھیں گے ان کی مدد کی یعنی وہ ان کی مدد نہ کر سکیں گے۔ لا يستطيعون نصرھم وہ ان کی مدد نہ کر سکیں گے و ھم لہم جند محضرون اور وہ وہ جو اور معبود ہیں لہم ان کے لیے جنہوں نے ان کو بنا رکھا ہے معبود وہ معبود ان کے لیے جند، جند کہتے ہیں لشکر کو، محضرون حاضر کیے گئے۔ اور وہ جو معبود ہیں وہ ان کے لیے حاضر کیے ہوئے لشکر ہوں گے۔ حاضر کیے ہوئے بھئی یہ تو ان کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے تاکہ وہ ان کی مدد کریں لیکن قیامت کے دن وہ انہی کے لیے حاضر کیے ہوئے لشکر ہوں گے یعنی انہی کے خلاف گواہی دیں گے سارے بھئی سب کے سب۔ کہ اللہ ہم نے تو نہیں کہا تھا ان کو کہ یہ ہماری عبادت کریں۔ اور گواہی دیں گے کہ اللہ یہ آپ کی عبادت نہیں کرتے تھے یہ تو ہماری عبادت کرتے تھے لیکن ہم نے ان کو عبادت کا نہیں کہا تھا۔ تو وہ لشکروں کی صورت میں ہوں گے اور ان کے خلاف گواہی دیں گے تو ان کو نفع کیا پہنچاتے الٹا ان کے لیے خسارے اور نقصان ہی کا باعث بنیں گے۔ و اتخذوا من اور بنا رکھے ہیں انہوں نے اللہ کے علاوہ اور معبود تاکہ وہ ان کی مدد کی جائے لا يستطيعون نصرھم وہ ان کی مدد نہ کر سکیں گے۔ و ھم لہم جند محضرون اور وہ ان کے لیے حاضر کیے ہوئے لشکر ہوں گے۔ فلا يحزنک قولھم فلا يحزنک پس اپ کو غم زدہ نہ کرے اے پیغمبر قولھم ان کا قول۔ اے پیغمبر ان کی باتیں اپ کو غم زدہ نہ کریں یعنی اپ ان کی باتوں پر غم زدہ نہ ہوں اے پیغمبر یہ اپ کے طرح طرح کی تکلیفیں دیتے ہیں طرح طرح کی باتیں دیتے ہیں کرتے ہیں آپ کے خلاف اپ ان کی باتوں پر غم زدہ اور رنجیدہ نہ ہوں۔ یہ تو اپنے معبود کے خلاف جو ہیں یہ اس کے احکامات پر نہیں چلتے اور اس کا دیکھو اللہ نے انعامات گنواد دیے کہ دیکھو میں نے کے لیے یہ یہ نعمتیں دی ہیں یہ جو ظاہری ہر ایک کو سمجھ میں آ سکتی ہیں یہ باتیں میں نے ان کو اتنے اتنے انعامات دیے اتنی نعمتیں دیں پھر بھی بجائے اس کے کہ میرا شکر ادا کرتے اور میری عبادت کرتے یہ مجھے چھوڑ کر اور معبودوں کی عبادت کرتے ہیں تو میرے ساتھ جب ان کا یہ معاملہ ہے تو آپ بھی ان کی باتوں پر غم زدہ نہ ہوں اے پیغمبر۔ فلا يحزنک قولھم پس غم زدہ نہ کریں آپ کو ان کے ان کی بات رنجیدہ نہ کرے آپ کو ان کی باتیں انا دیکھیے یہاں قولہم کے بعد میم آیا بھئی میں نے بتلایا تھا بھئی کنارے پر بھی دیکھ لیجیے وقف لازم لکھا ہے یہاں وقف ضروری ہے ورنہ معنی خراب ہو جائے گا بھئی۔ آگے اللہ فرما رہے ہیں انا نعلم ما يسرون وما يعلنون بے شک ہم جانتے ہیں ما وہ جو يسرون جسے چھپاتے ہیں وما يعلنون اور جسے یہ ظاہر کرتے ہیں۔ اعلن يعلن کے معنی ظاہر کرنا، اعلان کرنا۔ بے شک ہم جانتے ہیں وہ جو چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ فلا يحزنک قولھم پس اپ کو ان کا قول غم زدہ نہ کرے اے پیغمبر بے شک ہم جانتے ہیں جو یہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر آپ یہاں وقف نہیں کریں گے تو انا نعلم ما يسرون وما يعلنون پیچھے اسی کے ساتھ جڑ جائے گا اور یوں لگے گا ان کفار کا ہے یہ قول۔ اے پیغمبر پھر تو معنی کیا ہو جائے گا اے پیغمبر آپ کو ان کی یہ بات غم زدہ نہ کرے کہ ہم جانتے ہیں حالانکہ آگے وہ ان کا قول تو نہیں ذکر آگے تو اللہ ہی فرما رہے ہیں اللہ ہی کی بات ہے بھئی۔ خرابی سمجھ میں آئی بھئی؟ جی ورنہ تو اگلا یہ انہی کا مقولہ بن جائے گا بھئی حالانکہ وہ ان کا مقولہ نہیں ہے بھئی۔ اولم ير الانسان انا خلقناه من نطفة کیا دیکھتا کیا دیکھا نہیں انسان نے کہ بے شک پیدا کیا ہے ہم نے اس کو من نطفة نطفے سے۔ فاذا هو خصيم مبین پس اچانک وہ خصیم کہتے ہیں شدید جھگڑالو بھئی۔ شدید جھگڑنے والا۔ مبین واضح۔ فاذا هو خصيم مبین پس اچانک وہ واضح شدید جھگڑنے والا ہوتا ہے۔ جھگڑنے والا یعنی حجت بازی کرتا ہے، طعن و تشنیع کرتا ہے، اعتراضات کرتا ہے بھئی۔ اتنی واضح دلیلیں ہم ذکر کرتے ہیں ہم ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ایک پانی کے قطرے سے پیدا کیا ایک بوند سے پھر اس کی کیا حقیقت تھی اس نے اپنی ابتدا پر یہ ذرا غور تو کرے اور پھر یہی انسان پھر کیا کرنے لگتا ہے؟ حجت بازی کرنے لگتا ہے، اعتراضات کرنے لگتا ہے بھئی۔ اگر یہ اپنی پیدائش پر ہی غور کر لے تو اس یہی اس کے لیے کافی ہے سمجھنے کے لیے۔ اولم ير الانسان کیا دیکھ دیکھا نہیں انسان نے کہ بے شک خلقن انا بے شک ہم نے خلقناه پیدا کیا اس کو من نطفة نطفے سے فاذا هو خصيم مبین تو یہ اچانک واضح جھگڑنے والا ہے یعنی یہ اب واضح جھگڑتا ہے۔ و ضرب لنا مثلا و نسی خلقہ بھئی ایک مرتبہ عاص بن وائل عاص بن وائل ع ص واد عاص بن وائل یہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ گلی ہوئی ہڈی تھی اونٹ وغیرہ کی بھئی۔ وہ ہڈی اس کو کہیں ملی اٹھا کر لے آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور وہ ہڈی سامنے کی کہ کیا اللہ ہاں ہڈی سامنے کی اور پھر اس ہڈی کو ہاتھ سے مسلا تو وہ ریزہ ریزہ ہو گئی بھئی بالکل گلی ہوئی ہڈی تھی۔ وہ ریزہ ریزہ ہوئی اس کو ریزہ ریزہ کر کے پھر پیغمبر کی طرف متوجہ ہوا کہنے لگا کہ کیا اللہ ان کو بھی دوبارہ زندہ کرے گا؟ بالکل دیکھو ہڈیاں گل گئیں ذرہ ذرہ ہو گئیں کیا ان کو بھی اللہ دوبارہ زندہ کرے گا؟ مذاق اڑانے کے لیے آیا تھا بھئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے ہاں اللہ ان کو بھی دوبارہ زندہ کریں گے اور تمہیں بھی دوبارہ زندہ کریں گے اور پھر تمہیں جہنم میں داخل کر دیں گے بھئی۔ تو اسی کو اللہ بیان فرما رہے ہیں بھئی۔ تو یہ کس کا کس کا کافر کا نام کیا تھا جو آیا تھا؟ عاص بن وائل بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں و ضرب لنا مثلا و نسی خلقہ اور بیان کی ہمارے لیے ایک مثال و نسی خلقہ اور بھول گیا اپنی پیدائش کو۔ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے مثال بیان کر رہا ہے کہ اللہ ان ہڈیوں کو گلی ہوئی ہڈیوں کو کیسے اللہ زندہ کرے گا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ہم نے اس کے قطرے سے ہی تو پیدا کیا اس کی کیا حقیقت تھی؟ تو جو اللہ ایک قطرے سے ایک انسان کو پیدا کر سکتا ہے وہ دوبارہ اس کے لیے پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ و ضرب لنا مثلا اور بیان کی ہمارے لیے ایک مثال و نسی خلقہ اور بھول گیا اپنی پیدائش کو۔ قال من يحي العظام وھی رمیم کہا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو؟ من يحي العظام کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو وھی رمیم اس حال میں کہ یہ بوسیدہ ہوں، رمیم کا معنی بوسیدہ گلی ہوئی گلی ہوئی قال من يحي العظام وھی رمیم کہتا ہے کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو اس حال میں کہ وہ گلی ہوئی ہوں؟ قل يحيھا الذي انشاھا اول مرة قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے يحيھا کہ زندہ کرے گا ان ہڈیوں کو الذي انشاھا وہ ذات جس نے پیدا کیا ان کو اول مرة پہلی مرتبہ۔ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ ان ہڈیوں کو وہی ذات زندہ کرے گی جس نے ان کو پہلی مرتبہ بنایا تھا، پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ وهو بكل خلق علیم اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا جاننے والا ہے، وہ ہر طرح کا پیدا کرنا جانتا ہے۔ وهو بكل خلق علیم اور وہ ہر پیدائش کو یعنی ہر طرح کے پیدا کرنے کو علیم جانتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وہ ہر طرح کا پیدا کرنا جانتا ہے الذي جعل لكم من الشجر الاخبر نار وہ ذات جس نے بنایا تمہارے لیے من الشجر الاخبر نار سرسبز درخت سے آگ کو۔ وہ ذات جس نے بنائی تمہارے لیے سرسبز درخت سے آگ۔ فإذا انتم منه توقدون پس اب تم منہ اس سے توقدون اس سبز درخت سے توقدون آگ جلاتے ہو۔ پس اب تم کیا ہو اس سے آگ جلاتے ہو۔ ترجمہ آ رہا ہے سمجھ میں بھئی؟ کوئی مشکل لفظ تو نہیں الذي جعل لكم من الشجر الاخبر نار وہ ذات جس نے پیدا کی تمہارے لیے سرسبز درخت سے آگ فإذا انتم منه توقدون پس اب تم اس سے آگ جلاتے ہو اوقدوق اوقدوق کے معنی آگ جلانا پس اب تم اس سے آگ جلاتے ہو۔ بھئی سرسبز درخت دیکھو پانی سے اللہ درخت پیدا فرماتے ہیں سرسبز درخت اور پھر وہی درخت جب خشک ہو جاتا ہے اسی کی لکڑیاں پھر جلائی جاتی ہیں بھئی۔ تو سرسبز درخت دیکھو وہ جو آگ کے ضد یعنی کہ پانی سے پیدا کیا گیا تھا اسی سے پھر انسان کیا کرتا ہے؟ آگ جلاتا ہے۔ آگ جلاتا ہے یہ ہے ایک معنی بھئی۔ دوسرا معنی تمام تفاسیر میں اپ کو اس کا ذکر ملے گا کہ عرب میں دو درخت تھے بھئی دو قسم کے ایک کا نام مرخ تھا میم را خا مرخ بھئی مرخ میم را خا اور ایک کا نام تھا عفار عفار عین فا الف را مرخ اور عفار یہ دو قسمیں تھیں دو درختوں کی بھئی۔ یرحمك اللہ دو قسم کے یہ درخت تھے اور ان سے وہ آگ جلایا کرتے تھے بھئی۔ جیسے وہ چکما پتھر بھئی دو پتھر تھے ہوتے تھے خاص قسم کے ان کو آپس میں ٹکراتے تھے تو اس سے آگ نکلتی تھی اس سے پھر وہ آگ جلایا کرتے تھے اب تو اللہ نے بڑی اسانیاں فرما دیں بھئی آپ ماچس کی تیلی کے ذریعے اس وقت بڑی آسانی سے آگ جلا لیتے ہیں پہلے اتنا اسان نہیں تھا بھئی بڑی مشکل ہے اگرچہ وہ پتھر وغیرہ کے ذریعے بھی آگ جلاتے تھے لوگ لیکن بڑا مشکل طریقہ ہوتا تھا بھئی بڑی دیر لگتی تھی چنانچہ آگ جلا لیتے تھے تو پھر کوشش کرتے تھے کہ بند نہ ہو جلدی ختم نہ ہو بھئی جلتی ہی رہے کچھ نہ کچھ اور عموماً بھئی ہمسائے وغیرہ قریب والے ایک نے جلائی ہوئی ہے وہیں سے جاتے آگ لے کر آتے بھئی آسان کام نہیں تھا اب تو بالکل بہت ہی اللہ نے اسانیاں فرما دی ہیں۔ تو عرب میں یہ دو درخت تھے مرخ اور عفار یہ دو قسم کی ان کی شاخوں کو آپس میں رگڑتے تھے یہ ٹکراتے تھے کوئی خاص طریقہ ہوگا اس سے بھی آگ نکلتی تھی بھئی۔ تو ان کے ذریعے بھی وہ آگ جلاتے تھے سرسبز درخت ہوتے تھے سرسبز شاخیں ہوتی تھیں اسی سے وہ آگ جلا لیا کرتے تھے بھئی۔ پہلے معنی کے مطابق تو کیا ہے لکڑی خشک ہوتی ہے اور پھر اس کے ذریعے کیا کرتے ہیں انسان اس سے ایندھن بناتا ہے آگ جلاتا ہے دوسرے معنی کے مطابق وہ سرسبز درخت تھی بھئی انہی کی شاخوں سے آگ جلاتے تھے لیکن دو مخصوص درخت تھے ہر درخت نہیں۔ اب نیا معنی مولانا قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے تا قیامت بھئی نئی نئی باتیں قرآن کی ظاہر ہوتی ہیں۔ سرسبز درخت سے آگ جلاتے ہیں۔ بھئی یاد رکھیے یہ جو آگ جلائی جاتی ہے اس کے لیے اکسیجن گیس کی ضرورت ہوتی ہے اکسیجن یہ جو ہم سانس بھی لیتے ہیں یہ اکسیجن گیس ہے بھئی۔ اس کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے بدن کو اگر ہم کہیں ایسی جگہ جائیں جہاں اکسیجن کم ہو تو ہمارا سانس پھولنے لگتا ہے اور اکسیجن نہ ہو ہوا بے شک ہو وہاں پر لیکن اکسیجن ہوا میں نہ ہو خاص قسم کی گیس تو پھر ہم اسی وقت وہیں پر ختم ہو جائیں گے سانس نہیں لے سکیں گے سانس رک جائے گا اور ختم ہو جائیں گے بھئی۔ چلیے کل پھر اس کی باقی تفصیل کر لیں گے چلیے بس واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 55 of 69