Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-052

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 10 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. والقمر قدرناه منازل حتى عاد كالعرجون القديم. لا الشمس ينبغي لها أن تدرك القمر ولا الليل سابق النهار وكل في فلك يسبحون. وآية لهم أنا حملنا ذريتهم في الفلك المشحون. والقمر قدرناه منازل، اور چاند، قدرناه، ها ضمیر قمر کو راجع، اور چاند مقرر کر دیں ہم نے اس کے لیے منازل، منزلیں، حتى عاد، عاد، یہ عادا بمعنی فارق ہے بھئی۔ افعال ناقصہ آپ نے پڑھے ہیں یا نہیں بھئی؟ ان میں سے ایک عادا ہے بھئی۔ حتى عاد كالعرجون القديم، عرجون کہتے ہیں کھجور کی شاخ کو بھئی، کھجور کی شاخ۔ حتى عاد كالعرجون القديم، ای حتى فارق كالعرجون القديم، یہاں تک کہ یہ ہو جاتا ہے پرانی کھجور کی شاخ کی طرح۔ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح یہ ہو جاتا ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں، یہاں تک کہ یہ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے۔ بھئی چاند کی ہر مہینے کے اندر 28 منزلیں ہیں بھئی، 28 منزلیں۔ شروع میں یہ باریک دکھائی دیتا ہے اور پھر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پہلے تین دن جو ہے اس کو جو باریک حالت میں ہوتا ہے اس کو ہلال کہا جاتا ہے، اور پھر اس کے بعد اس کو قمر کہتے ہیں، قمر۔ پھر جب چودہویں رات کو پورا چاند ہو تو اس کو بدر کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد یہ چھوٹا ہونا شروع ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ہوتے ہوتے پھر باریک سا بن جاتا ہے، 28 منزلیں پوری کر لیتا ہے، اور پھر اگر مہینہ 29 کا ہو تو ایک دن یہ دکھائی نہیں دیتا، اگلے دن پھر دکھائی دیتا ہے، اور اگر مہینہ 30 کا ہو تو پھر دو دن دکھائی نہیں دیتا اور پھر تیسرے دن دکھائی دیتا ہے؛ تو چاند کی 28 منزلیں ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اللہ ذکر فرما رہے ہیں والقمر قدرناه منازل اور چاند مقرر کی ہیں ہم نے اس کے لیے منزلیں حتی عاد كالعرجون القديم یہاں تک کہ یہ ہو جاتا ہے کھجور کی پرانی شاخ کی طرح۔ بھئی کھجور کی شاخ اگر آپ نے دیکھی ہو بھئی، اس میں بھی چاند کی طرح خم ہوتا ہے بھئی، گولائی ہوتی ہے، مڑی ہوتی ہے۔ جیسے کمان نہیں، کمان دیکھی ہے بھئی تیر کمان؟ جیسے کمان مڑی ہوتی ہے اسی طرح وہ کھجور کی شاخ بھی ہر شاخ اسی طرح مڑی ہوتی ہے۔ اور پھر کیا فرمایا اللہ نے کہ یہ ہو جاتا ہے کس کی طرح؟ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح۔ تو یہ کھجور کی پرانی شاخ کے ساتھ اس کو تشبیہ دی گئی بھئی۔ تو کھجور کی شاخ جب پرانی ہو گئی تو پتے ختم ہوئے اور خم دار بھی ہے جس تو چاند بھی اسی کی طرح تو تشبیہ تین اعتبار سے ہے بھئی۔ ایک تو باریک ہونے میں، ایک یہ خم دار یہ ٹیڑھا ہونے کے اندر، اور تیسرا زرد ہونے کے اندر بھئی۔ اسی طرح چاند بھی بھئی، اس کی بھی روشنی کم ہو جاتی ہے، اور یہ کھجور کی شاخ جب خشک ہو جائے تو زرد ہو جاتی ہے؛ تو تین اعتبار سے تشبیہ ہے بھئی۔ ایک کس اعتبار سے؟ باریک ہونے میں، دوسرا خم دار ہونے میں اور تیسرا زرد ہونے میں؛ تو یہ چاند بھی اسی کی طرح ہو جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آگیا۔ والقمر، قمر منصوب ہے، اور قدرناه، اس کے بعد فعل آیا۔ یہ فعل اس کو نصب نہیں دے سکتا کیونکہ یہ ہا ضمیر جو فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے مفعول کی، یہ قمر ہی کو راجع ہے؛ تو فعل اسی کی ضمیر میں مشغول ہے بھئی، وہ اس کو نصب دے رہا ہے، اس قمر کے لفظ کو وہ نصب نہیں دے سکتا۔ تو پھر اس کو کیا چیز نصب دے رہی ہے، عامل کون؟ تو جواب یہ، یہ وہی ما أضمر عامله علی شریعت التفسیر کی قبیل سے ہے، اس قمر سے پہلے ایک اور قدرنا محذوف ہے، و قدرنال القمر قدرناه؛ تو اس کو حذف کیا گیا، یہ آگے آنے والا قدرنا اس کی تفسیر کر رہا ہے؛ تو ما أضمر عامله، وہ جس کے عامل کو مقدر کر لیا جائے علی شریعت التفسیر، تفسیر کی شرط پر۔ والقمر قدرناه منازل اور چاند کے مقرر کی ہیں ہم نے اس کے لیے منزلیں حتی عاد كالعرجون القديم یہاں تک کہ یہ ہو جاتا ہے کھجور کی پرانی شاخ کی طرح۔ تو کھجور کی شاخ پرانی ہو جائے، اس سے پتے وغیرہ اتر گئے بھئی؛ تو یہ بھی چاند اسی کی طرح ہے، باریک ہونے میں، خم دار ہونے میں اور زرد ہونے میں۔ لا الشمس ينبغي لها أن تدرك القمر، نہ تو سورج کے لیے مناسب ہے، لا الشمس، نہ تو سورج، ينبغي لها، کہ مناسب ہو لہا، ہا ضمیر شمس کو راجع، مناسب ہو اس کے لیے۔ کیا مناسب نہیں؟ سورج، لا الشمس ينبغي لها، نہ تو سورج کے لیے مناسب ہے ان تدرک القمر، کہ وہ چاند کو پا لے، ادراک یدرک کو کہا کیا معنی؟ پا لینا، یعنی مراد ہے پکڑ لینا، نہ تو سورج کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے۔ یہ لفظی ترجمہ ہوا۔ یعنی اللہ فرما رہے ہیں لا الشمس ينبغي لها أن تدرك القمر، نہ تو سورج کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے، نہ تو سورج کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے، ولا الليل سابق النهار، اور نہ رات مقدم ہو سکتی ہے دن پر۔ اور نہ رات مقدم ہو سکتی ہے دن پر۔ سورج کو بھی ہم طلوع اور غروب ہوتا دیکھتے ہیں دن میں، اور چاند کو بھی ہم طلوع و غروب ہوتا دیکھتے ہیں کس وقت؟ تو سورج دن کے وقت ہوتا ہے، چاند رات کے وقت؛ اور اللہ فرما رہے ہیں سورج کی مجال نہیں کہ چاند کو جا پکڑے، کہ چاند کو جا پکڑے، ہر ایک کے ذمے جو ہم نے کام لگایا ہے وہ اس کو سرانجام دے رہا ہے، سورج کے ذمے ہم نے دن کا میں اجالے کا کام لگایا، تو چاند کے ذمے ہم نے رات میں اجالے کا کام اور کام لگایا، اور نیز اسی طرح چاند کے ذریعے تم لوگ مہینوں وغیرہ کا حساب رکھتے ہو، تو ہر ایک کو جس کام کے لیے بنایا گیا وہ اس کو سرانجام دے رہا ہے، اور سورج کی مجال نہیں کہ چاند کو جا پکڑے؛ وجہ، بھئی سورج کی مجال نہیں کہ چاند کو جا پکڑے، اور یہ بھی ذکر کیا گیا کہ چاند کی مجال نہیں کہ سورج کو جا پکڑے، علماء لکھتے ہیں، قدیم ہیئت کے مطابق، کہتے ہیں کہ دراصل سورج کی حرکت آہستہ ہے، چاند کی حرکت تیز ہے، سورج سال میں اپنا دورہ مکمل کرتا ہے، گزشتہ سبق میں بیان ہو چکا، سورج 365 دن میں بھئی اپنا دورہ مکمل کرتا ہے، میں نے بتایا تھا ہر روز طلوع کی جگہ بدلتی ہے، اور پھر 365 دن جب پورے ہو جاتے ہیں تو پھر بعینہ اسی مقام سے پھر سورج طلوع ہوتا ہے جہاں 365 دن پہلے طلوع ہوا تھا، ہر روز معمولی معمولی فرق پڑتا چلا جاتا ہے۔ جی تو سورج کی رفتار ہوئی آہستہ، اور چاند، چاند تو مہینے کے اندر اپنا دورہ مکمل کر لیتا ہے، تو چاند کی رفتار کہتے ہیں بڑی تیز ہے، تو اس وجہ سے سورج جو ہے وہ چاند کو نہیں پکڑ سکتا، چاند کو نہیں پکڑ سکتا۔ میرے ذہن میں اس کی اور وجہ آتی ہے مولانا، جدید سائنس، میں نے بتایا کہ بہت سی چیزیں جدید سائنس نے جو بیان کیں، اور قدیم سائنس کی، قدیم فلسفے کی باتیں، بہت سی باتیں غلط ثابت ہوئیں، انہی میں سے ایک یہ کہ زمین اپنی جگہ ساکن ہے، اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے، لیکن اب سائنس نے بتلایا کہ یہ زمین جو ہے اپنے محور پر یعنی اپنی جگہ پر بھی لڈو کی طرح گھوم رہی ہے اور سورج کے گرد بھی گھوم رہی ہے، اور یہ چاند جو ہے یہ زمین کے گرد گھوم رہا ہے بھئی، جس طرح زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے اسی طرح چاند زمین کے گرد گھوم رہا ہے، اور چاند جو ہے، یہ زمین کا تقریبا جتنا زمین کا، کی، مطلب گولائی ہے، چاند اس کے نصف کے برابر ہے بھئی۔ چاند اس کے نصف کے برابر ہے۔ زمین جیسے بھئی، گیند ہوتی ہے اس شکل کی ہے، تھوڑی سی دبی ہوئی ہے، جیسے مالٹا بھئی، مالٹا بالکل گول نہیں ہوتا دبا ہوتا ہے، لیکن خیر وہ تو زیادہ دبا ہوا ہے، زمین معمولی سا فرق ہے، ایک طرف اس کی گولائی زیادہ ہے تو کونوں جو قطبین ہیں اس کی طرف گولائی تھوڑی سی کم ہے، چاند کا قطر جو ہے زمین سے نصف ہے بھئی، چاند کا قطر زمین سے نصف ہے بھئی۔ کہتے ہیں چار چاند ملیں تو یہ زمین جتنے بنیں گے بھئی، چار چاند ملیں، قطر نصف ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس سے چار گنا چھوٹا ہے بھئی، چار گنا۔ چوڑائی میں تو نصف ہے، ٹھیک ہے، چوڑائی میں نصف، لیکن مجموعی اعتبار سے دیکھو، چاند چوڑائی میں نصف ہے، دو چاند اوپر تلے رکھیں گے تو زمین جتنی چوڑائی بن گئی، لیکن یہ تو ایک طرف ہوئی، اوپر اور نیچے کی طرف بھی تو اتنا ہی فرق ہوگا، سمجھ میں آیا؟ تو وہ چار چاند ہوں تو پھر زمین جتنے بنتے ہیں، یہ زمین سے چھوٹا ہے بھئی، اتنا چھوٹا ہے۔ اور سورج، سورج زمین سے غالباً غالباً 13 لاکھ گنا بڑا ہے، 13 لاکھ گنا، تصور تو کریں، اور آگ کا گولا ہے، بالصاری، آگ ہی آگ ہے سورج بھئی، آگ ہی آگ۔ سمجھ میں آیا یہ زمین کی طرح سخت نہیں ہے، صرف آگ ہی آگ ہے، کوئی چیز اس کی سطح پہ رکھی جائے اور وہ پگھلے نہ، ورنہ تو اول اول اس تک پہنچنے سے پہلے ہی، لاکھوں میل پہلے ہی وہ چیز بخارات بن جائے گی اور ختم ہو جائے گی، لیکن اگر کوئی چیز فرض کرو ایسی ہو جو اسے جلا نہ سکے، اس کی سطح پہ رکھی جائے، تو وہ اندر تک چلی جائے گی، کیونکہ ٹھوس ہے ہی نہیں یہ، آگ ہی آگ ہے بھئی، اور یہ زمین سے 13 لاکھ گنا بڑا، تو جب زمین سے 13 لاکھ گنا بڑا ہے، تو چاند تو زمین سے چار گنا چھوٹا ہے، تو اس سے چار گنا اور بڑا ہو گیا، چار سے اور ضرب دینی پڑے گی پھر اس کو، تو اتنا بڑا ہے سورج۔ اور یہ جو کائنات میں اللہ نے سیارے وغیرہ بنائے، بڑے بڑے جسم، یہ اور یہ اپنی جگہ پر گھومتے ہیں، ان میں کشش ثقل ہے، یہ چیزوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، نیوٹن کا قانون آپ نے پڑھا ہوگا بھئی اسکول کی کتابوں میں، کہ یہ چیزیں نیچے کو کیوں گرتی ہیں، اوپر کو کیوں نہیں جاتیں؟ تو وجہ یہ، اس میں کشش ثقل ہے، یہ جو اپنے محور پر گھوم رہی ہے اور اس کا سائز اتنا بڑا ہے اور محور پر گھوم رہی ہے جس کی وجہ سے اس میں کشش ثقل پیدا ہو جاتی ہے یہ چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ تو سورج اتنا جتنا بڑا ہے اس کی اتنی ہی کشش ثقل ہے، چنانچہ اس کی کشش ثقل ہی ہے جس نے زمین کو قابو کیا ہوا ہے، زمین کو جانے نہیں دے رہا بھئی، جیسے ایک، ایک پتھر آپ رسی سے باندھ کر گھمائیں، تو وہ آپ کے ارد گرد گھومے گا، کیوں؟ کیونکہ آپ نے رسی سے باندھا ہوا ہے وہ جا نہیں سکتا، اگر رسی ٹوٹے تو وہ سیدھا ایک طرف کو چلا جائے، اسی طرح سورج جو ہے اس نے اپنی کشش کے ذریعے ان چیزوں کو اپنے ساتھ باندھ رکھا ہے، اور وہ ان کو اپنے ارد گرد گھما رہا ہے، تو سورج اتنا بڑا ہے وہ تو چاند کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے بھئی، لیکن چاند تو چھوٹا سا ہے بھئی، سورج کے سامنے اس کی کیا حیثیت بھئی کہ وہ سورج کو اپنی طرف کھینچ لے بھئی۔ سمجھ، ایک پہلوان ہو بہت بڑا، اور ایک طرف ایک چھوٹا سا ایک سال کا بچہ ہو، تو بچہ کبھی کھینچ سکتا ہے پہلوان کو اپنی طرف بھئی؟ سورج تو اس کے سامنے دیو ہیکل، دیو ہیکل بلا کی طرح ہے، تو اس لیے اللہ نے اسی کا ذکر کیا کہ سورج کی مجال نہیں کہ چاند کو جا پکڑے بھئی، اتنی کشش ثقل ہے اس کی، لیکن اس کی یہ مجال نہیں کہ چاند کو جا پکڑے، ہم نے اس کو اپنے کام میں لگایا ہے، چاند کو اپنے کام میں لگایا ہے، اور اس کو اس بات کی اجازت نہیں کہ چاند کو کیا کرے؟ اپنی طرف کھینچ لے بھئی۔ سورج سمجھ معنی ہے بھئی۔ لَّ الشمس ينبغي لها أن تدرك القمر نہ تو سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے، ولا الليل سابق النہارِ اور نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے، نہ رات دن پر سبقت کر سکتی ہے. یعنی یہ نہیں کہ دن ابھی پورا گزرا نہ ہو اور پہلے ہی رات آ جائے، ایسا بھی نہیں بھئی. سمجھ میں آیا، ہر چیز کو ہم نے، اللہ فرماتے ہیں ہم نے ہر چیز کا اندازہ کر رکھا ہے، اور اللہ کا اندازہ کتنا بہترین، کہ ہر چیز پورا نظام جو ہے ایک پورا نظام صحیح طریقے سے چل رہا ہے بھئی، بہترین طریقے سے. معنی سمجھ میں آگیا کہ رات دن سے پہلے نہیں آ سکتی، کیا معنی؟ کہ دن ابھی پورا نہ گزرا ہو دن کے کسی حصے میں رات آ جائے کچھ حصے کو اپنے اندر سمیٹ لے، نہیں ایسا بھی نہیں ہو سکتا. وكل في فلك يسبحون. اور سب، کل، کل جو ہے، یہ ہمیشہ مضاف الیہ چاہتا ہے، کل کا معنی ہے پورا، بھئی کس چیز کا پورا؟ تو وہ مضاف الیہ چاہتا ہے. تو اس پر جب بھی تنوین آئے یاد رکھیں، یہ عوض ہوتی ہے مضاف الیہ سے بھئی. تو کل کی تنوین عوض ہے مضاف الیہ سے. وكلھما، دونوں بھئی، کون؟ سورج اور چاند، بھئی. في فلكِ، یا بعض علماء نے کہا ستارے بھی ہیں اس میں آ گئے بھئی. کہ وكلھا، یہ سب کے سب سورج چاند اور ستارے اس پر اشکال ہوتا ہے ستاروں کا تو پیچھے ذکر نہیں، جواب بھئی سورج اور چاند کا ذکر آ گیا تو ستارے اس کا ستارے خود بخود وہاں گویا کہ مذکور ہو گئے بھئی، ان کا بھی ذکر آ گیا. کہ وكل، اور سب کے سب جو ہیں، في فلك يسبحون. فلک، بھئی، وہ راستہ جس پر زمین، سورج، چاند وغیرہ چل رہے ہیں، بھئی. بھئی زمین کیا ہے؟ سورج کے گرد گھوم رہی ہے، تو وہ راستہ، وہ فضا جس پر وہ گھومتی ہے اور سورج کے گرد ایک چکر لگاتی ہے، یہ اس کو اس دائرے کی شکل کا یہ جو راستہ ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ فلک، بھئی. اسی طرح چاند زمین کے گرد گھوم رہا ہے فضا میں، بھئی، تو یہ جو چاند کا راستہ ہے، یہ کیا ہے؟ فلک، اور سورج جو ہے وہ کیا کہکشاں کے ساتھ کے مرکز کے میں کے گرد گھوم رہا ہے اور کہکشاں بھی ایک طرف کو رواں دواں، تو یہ سب، جو ہیں یہ اپنے اپنے راستے پر چل رہے ہیں، بھئی. تو فلک، وہ راستہ، بھئی، فضائی راستہ. يسبحون، بھئی، يسبحون، سبح يسبح کے معنی ہوتے ہیں تیرنا، تیرنا. جیسے انسان پانی میں تیرتا ہے، بھئی. وكل في فلك يسبحون اور سب کے سب ایک دائرے میں تیر رہے ہیں. سب کے سب ایک دائرے میں تیر رہے ہیں، یعنی ایک دائرے میں چل رہے ہیں، سب. دیکھیے، بھئی، یہ چیز آج سائنس نے آ کر دریافت کی، قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دی، بھئی، کہ یہ سب کیا ہیں؟ ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں، ایک ایک دائرے، ایک دائرے میں چل رہے ہیں. یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی سب کو، بھئی؟ اب دیکھیے، یاد رکھیے، وكل في فلكِ، اس کے اندر صنعتِ قلب ہے، قلب. صنعتِ قلب اس کو کہتے ہیں کہ کلام کو شروع سے پڑھا جائے یا آخر کی طرف سے پڑھا جائے، وہی کلام رہتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، بھئی. اور صنعتِ قلب جو ہے، اس کے ذریعے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے. کلام میں کیا پیدا ہوتا ہے؟ کلام میں بڑا حسن پیدا ہو جاتا ہے، تو وكل في فلك کے اندر صنعتِ قلب ہے. جیسے دیکھیے، بھئی، پینسل سے ذرا اپنی کاپی پر لکھیں، بھئی. کلامُک، کلامُک، کمالُک. کلامُک، کلامُک، کمالُک. لکھ لیا، بھئی؟ کیا معنی؟ کلامُک، کمالُک، آپ کا کلام آپ کا کمال ہے. اب دیکھیے، بھئی، سب سے آخر میں کیا آیا؟ کاف، نیچے اس کے ذرا لکھیں، کاف. اچھا، اس کے بعد کیا تھا؟ پیچھے سے، سب سے آخر میں کاف تھا، اس سے پہلے کیا ہے؟ کلامک کمالک، سب سے آخر میں کاف آیا، کاف سے پہلے کیا ہے؟ لام، ہاں اب کاف کے ساتھ لام لکھو. پھر، بھئی، اس کمالُک، لام سے پہلے کیا؟ الف، اب الف لکھو، اب ہم پیچھے کی طرف سے ایک ایک لفظ جوڑ رہے ہیں. پھر، اس سے پہلے کیا؟ میم، میم ہے، میم لکھو، اس سے پہلے کیا؟ کاف. میم سے پہلے کیا ہے؟ کاف لکھا. کیا بن گیا؟ کلامُک، اچھا. اور پیچھے چلیں. اس سے پہلے کیا؟ کاف، پھر اس سے پیچھے کیا؟ میم. پھر اس سے پیچھے، الف، پھر اس سے پیچھے، لام، پھر اس سے پیچھے، کاف، کیا بن گیا؟ کما کلام، پھر وہی بن گیا، کلامُک کمالُک، تو اس کو شروع کی طرف سے پڑھیں یا آخر کی طرف سے پڑھیں دونوں طرف کیا ہے؟ ایک ایک لفظ جملہ بنتا ہے، کلامُک کمالُک، اسی طرح ہے یہاں پر، بھئی، وكل في فلك. اب دیکھیے، وكل في فلكِ، آخر میں کیا آیا؟ کاف، کاف سے پہلے کیا ہے؟ لام، دیکھو وكل، پھر کیا ہے؟ فا، پھر اس سے پہلے کیا ہے؟ یا، وكل في، پھر کیا ہے؟ فا، پھر کیا ہے؟ لام، اس کے بعد کاف، وكل في فلكِ، بھئی. سورج سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ یہ ہے صنعتِ قلب، اس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے، بھئی. وكل في فلك يسبحون اور سب کے سب ایک دائرے میں تیر رہے ہیں. وآية لهم أنا حملنا ذريتهم في الفلك المشحون. اور ایک نشانی ان کے لیے، ان مکہ والوں کے لیے، یہ ہے کہ أنا حملنا ذريتهم. حمل يحمل کے معنی ہوتے ہیں سوار کرنا، بھئی. ذریت، اولاد کو کہتے ہیں، اولاد کو. فلک، کشتی، بھئی. مشحون، بھری ہوئی. وآية لهم، اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ أنا حملنا ذريتهم، کہ ہم نے سوار کیا ان کی اولاد کو فی الفلك المشحون، بھری ہوئی کشتی میں. اور ایک نشانی ان مکہ والوں کے لیے، بھئی نشانیاں اللہ بیان فرما رہے ہیں کہ اے مکہ والو! تم ایمان نہیں لاتے، تم اگر ذرا غور و فکر کر لو کتنی ہی چیزیں ہیں جو تم تمہیں، توحید کی دعوت دے رہی ہیں، تم ان میں ذرا غور تو کرو. وآية لهم، اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ أنا حملنا ذريتهم، کہ بے شک ہم نے سوار کیا ان کی اولاد کو فی الفلك المشحون، بھری ہوئی کشتی میں. مراد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہے، بھئی. حضرت نوح علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں جو انسان سوار تھے، انہی سے آگے پھر یہ انسانوں کی نسل چلی، باقی سب لوگ ختم ہو گئے، اور ان کشتی والوں میں سے بھی باقی سب ختم ہو گئے، ان کی نسلیں آگے نہیں چلیں، صرف حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے جو تھے، حام، سام، اور یافث، ان سے تمام انسانوں کی نسل آگے چلی؛ تو اسی لیے حضرت نوح علیہ السلام کو آدمِ ثانی کہا جاتا ہے، بھئی. آدمِ ثانی۔ تو بھئی، جب یہ مکہ والوں کی اولاد تو اس کشتی میں سوار نہیں تھی، اللہ فرما رہے ہیں اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ ہم نے سوار کیا ان کی اولاد کو اس بھری ہوئی کشتی میں، بھئی. یہ تو اس وقت تھے ہی نہیں، تو جواب یہ کہ ان کے آباء و اجداد تو اس میں تھے، اور آباء و اجداد کی پشت میں سب موجود تھے یہ، بھئی. اگرچہ دنیا میں ان کی پیدائش ابھی نہیں ہوئی تھی، لیکن اپنے آبا کی پشت میں تو یہ سب موجود تھے، یہ بھی موجود تھے اور ان کے، طبعاً ان کی اولاد بھی موجود تھی، بھئی. اولاد بھی موجود تھی، اور یہاں پر صرف، اگرچہ یہ بھی اس میں موجود تھے، یہ بھی اس میں داخل تھے، لیکن یہ مقام جہاں پر اللہ احسان کو ذکر فرما رہے ہیں، تو یہاں زیادہ مناسب کہ اولاد کو ذکر کیا، اسی لیے اللہ نے کہ تمہاری اولاد جو تمہاری دنیا میں بقا کا ذریعہ ہے اور تمہاری نسل ہے، اس کو بھی اللہ نے کیا کیا تھا؟ اس بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کی حفاظت کی. وآية لهم أنا حملنا ذريتهم في الفلك المشحون اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ یقیناً ہم نے سوار کیا ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں، و خلقنا لهم من مثله ما يركبون. اور پیدا کیا ہم نے ان کے لیے من مثله، أي من مثل الفلکی، ہا ضمیر کس کو راجع؟ فلک کو، اس کشتی کے مثل میں سے، ما، پیدا کیا، کیا چیز پیدا کی کشتی کے مثل میں سے؟ ما وہ چیز يركبون، جس پر یہ سوار ہوتے ہیں. اللہ فرما رہے ہیں ہم نے ان کے لیے کشتی جیسی اور چیزیں بھی بنائیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں، ہم نے ان کے لیے کشتی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کیں جس میں یہ سوار ہوتے ہیں، بھئی. بھئی، مختلف قسم کی کشتیاں، چھوٹی، بڑی، جہاز، وغیرہ، اور اگر اس کو عام لیا جائے، تو پھر تمام سواریاں اس کے اندر آ گئیں، بھئی، جو آج ہم دیکھتے ہیں، جن کا پہلے وجود بھی نہیں تھا، گاڑیاں بھی اس میں آ گئیں، موٹر سائیکل بھی، سائیکل بھی، جہاز بھی، بھئی، ہوائی جہاز، بحری جہاز، اور کتنی ہی قسم کی سواریاں ہیں. سمجھ میں آیا، تو بعض علماء نے اس کا معنی کیا، کہ اسی کے مثل، یعنی جو پانی پر ہی چلتی ہیں، اور اس میں بھی بڑی قسم کی کشتیاں آ گئیں، بعضوں نے کہا کہ اسی کے مثل سے مراد ہے خشکی میں، خشکی میں. جیسے کہ اونٹ، بھئی. عرب ریگستانی علاقہ تھا، اور ان کے ہاں ان کی سب سے بہترین سواری جو تھی سفر کے لیے وہ اونٹ تھے، بھئی. کیونکہ ریت کے اندر سفر کیا جائے تو پاؤں دھنستے ہیں، سفر بڑا مشکل ہوتا ہے، اور مشقت ہوتی ہے، اونٹ کے اللہ نے پاؤں ایسے بنائے چوڑے چوڑے کہ وہ ریت میں دھنستے نہیں زیادہ، بھئی. تو اس اونٹ کو وہ سفينت البر کہتے تھے، بھئی، سفينت البر، خشکی کی، خشکی کا سفینہ، خشکی کی کشتی، بھئی. تو بعضوں نے کہا یہ مراد ہیں، بھئی. وخلقنا لهم من مثله ما يركبون اور پیدا کیا ہم نے ان کے لیے اس کشتی جیسے ما وہ چیزیں يركبون، جس میں وہ سوار ہوتے ہیں. وإن نشأ نغرقهم فلا صريح لهم ولا هم ينقذون. وإن نشأ، اور اگر ہم چاہتے، اور اگر وإن نشأ، اور اگر ہم چاہیں، نغرقهم، تو ہم ان کو غرق کر دیں، اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کر دیں، فلا صريح لهم، صريح کہتے ہیں فریاد رس، بھئی. فریاد رس، مددگار، مددگار، جو بھی آپ ترجمہ کر لیں، فریاد رس یا مددگار، بھئی. وإن نشأ نغرقهم اور اگر ہم چاہیں تو ہم ان کو غرق کر دیں فلا صريح لھم، تو نہ تو ان کا کوئی مددگار ہو، ولا هم ينقذون، اور نہ یہ چھڑائے جائیں، انقذ ينقذ کے کیا معنی؟ چھڑانا، اور مجہول کا صیغہ آیا ولا هم ينققون، اور نہ یہ چھڑائے جائیں، وإن نشأ نغرقهم اور اگر چاہیں تو ہم ان کو غرق کر دیں فلا صريح لھم تو نہ ان کا کوئی مددگار ہو ولا هم ينقذون اور نہ یہ چھڑائے جائیں، إلا رحمة منا ومتاعاً إلى حين، مگر بطور رحمت کے ہماری طرف سے ومتاعاً، اور نفع اٹھانا إلى حين، ایک وقت تک. مگر ہم ہر ایک طرف سے رحمت کے طور پر اور ایک، ایک مقررہ وقت تک نفع اٹھانے کے لیے، اس لیے ہم، ہم اپنے طرف سے رحمت کرتے ہوئے اور ایک مقررہ وقت تک ان کے نفع اٹھانے کے لیے ہم ان کو غرق نہیں کرتے، بھئی. تو یہ ہماری مہربانی ہے، ہماری رحمت ہے کہ ہم ان کو غرق نہیں کرتے تاکہ یہ اس دنیا میں کچھ نفع اٹھا لیں، بھئی، موت تک کیا کر لیں؟ نفع اٹھا لیں، پھر بالاخر انہوں نے لوٹ کر ہماری ہی طرف تو آنا ہے، پھر ہم ان کے اچھے برے اعمال سب کو دیکھ لیں گے، بھئی، اس کے مطابق جزا و سزا دیں گے. معنی سمجھ میں آگیا، بھئی؟ وإن نشأ نغرقهم فلا صريح لهم ولا هم ينقذون إلا رحمة منا ومتاعاً إلى حين، اور اگر ہم چاہیں تو ہم ان کو غرق کر دیں تو نہ تو ان کا کوئی فریاد رس اور نہ یہ چھڑائے جائیں، مگر رحمتہً منا، مگر ہماری طرف سے رحمت کے طور پر ومتاعاً إلی حين، اور نفع اٹھانے کے لیے ایک وقت مقررہ تک. چلیے بس، بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام.
131 approved lectures · 52 of 131