اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
وآية لهم الأرض الميتة أححيناها وأخرجنا منها حبا فمنه يأكلون
وجعلنا فيها جنات من نخيل وأعناب وفجرنا فيها من العيون
ليأكلوا من ثمره وما عملت أيديهم أفلا يشكرون
وآية لهم الأرض الميتة
وآية آية و آية اور ایک نشانی لہم ان مکہ والوں کے لیے الأرض الميتة مردہ زمین ہے
یہ مکہ والے ایمان نہیں لاتے
اور
شرک اور بت پرستی کو اختیار کیے ہوئے ہیں
یہ اللہ کی نشانیوں میں کیوں غور نہیں کرتے
تو اللہ چند نشانیاں بیان فرما رہے ہیں کہ اگر یہ ان میں غور و فکر کر لیں تو خود ہی ان پر ساری بات واضح ہو جائے گی
وآية لهم الأرض الميتة اور ایک نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے
احیی احیی زندہ زمین سے کیا مراد ہے بھئی؟
بنجر خشک زمین بھئی جس پر نباتات پودے وغیرہ نہ ہوں بھئی
احییناها
ہم نے اس کو زندہ کیا
وأخرجنا منها حبا
اور نکالا منہا اس میں سے حبا
دانے
اور نکالے اس میں سے دانے
یعنی اناج بھئی اناج غلے
وأخرجنا منها حبا اور نکالے ہم نے اس میں سے غلے فمنه يأكلون پس اس میں سے یہ لوگ کھاتے ہیں
فمنه يأكلون پس اسی میں سے یہ لوگ کھاتے ہیں
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
وآية لهم الأرض الميتة احیییناها وأخرجنا منها حبا فمنه يأكلون اور ایک نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے ہم نے اس کو زندہ کیا اور نکانے اس میں سے غلے فمنه يأكلون پس اسی سے یہ کھاتے ہیں
زندہ کرنے سے کیا مراد ہے؟
سر سبز کیا بھئی
یعنی بارش کے لیے اس کو ہم سر سبز کر دیتے ہیں اور پھر اس میں سے مختلف قسم کے غلے نکلتے ہیں فصلیں ہیں
جو اسے پھر اسی کو یہ کھاتے ہیں بطور غذا کے استعمال کرتے ہیں
وجعلنا فيها اور بنائے ہم نے اس کے اندر اس زمین کے اندر جنات من من نخیل واعناب جنات باغات من نخیل
نخیل جمع ہے نخل کی بھئی
نخل کہتے ہیں کھجور کے درخت کو
تو نخیل جمع ہے نخل کی جیسے عبید جمع ہے عبد کی بھئی
اور بعض علماء کہتے ہیں کہ نخیل اور نخلن
یہ ایک ہی معنی میں ہے بھئی یہ اس کی جمع نہیں ہے بلکہ نخلن بھی کھجور کے درخت کو کہتے ہیں اور نخیل بھی کسے کہتے ہیں؟ کھجور کے درخت کو بھئی
وجعلنا فيها اور بنائے اس زمین میں جنات باغات من نخیل
کھجور کے واعناب
اعناب جمع ہے عنب کی بھئی انگور کو کہتے ہیں
عنب
انگور کے
جو پھل ہے اسے بھی کہا جاتا ہے
اور انگور کا انگور کی جو بیل ہے اس کو بھی عنب ہی کہتے ہیں بھئی
انگور کی جو بیل ہے اسے بھی کیا کہتے ہیں؟ عنب ہی کہتے ہیں تو یہ اس کی جمع اعناب ہے
اور بنائے ہم نے اس میں باغات کھجور کے واعناب اور انگور کے وفجرنا فيها
فجر یفجر تفجیر کے معنی ہوتے ہیں جاری کرنے کے
جاری کرنا بہا دینا
وفجرنا فيها اور جاری کیے زمین میں من العيون چشمے عيون جمع ہے عین کی بھئی
چشمے کو کہتے ہیں
اور جاری کیے زمین میں چشمے یا وفجرنا فيها من العيون یہ ترجمہ کر لیں اور بہا دیے ہم نے اس زمین کے اندر چشمے
وجعلنا فيها جنات من نخيل واعناب وفجرنا فيها من العيون اور بنا دیے ہم نے اس زمین کے اندر باغات انگور کھجور کے اور انگور کے اور بہا دیے اس کے اندر چشمے
یا یہ ترجمہ اور جاری کر دیے ہم نے اس کے اندر چشمے
ليأكلوا من ثمره
تاکہ کھائیں یہ لوگ من ثمره اس کے پھل میں سے
تاکہ یہ لوگ کھائیں من ثمره اس کے پھل میں سے
ليأكلوا من ثمره
ها ضمیر راجع ہے
یہ نخيل اور اعناب کی طرف
نخیل اور اعناب
تاکہ یہ کھائیں ان کے پھلوں میں سے
اور وہ جمع ہیں آپ کہیں گے مفرد کی ضمیر جمع کی طرف کیسے راجع؟
جواب مذکور کی تاویل میں کس کی تاویل میں؟
ليأكلوا من ثمر المذكور تاکہ وہ کھائیں کس میں سے؟
وہ جس کا ذکر کیا گیا اس کے پھلوں میں سے اور مذکور کا لفظ تو کیا ہے؟
مفرد مذکر ہے بھئی تو ہا ضمیر بھی کیا ہوئی مفرد مذکر
وما عملته أيديهم
اور
ما
نفی کے لیے وما عملت أيديهم
اور نہیں بنایا ان کو ايديهم ان کے ہاتھوں نے
ہم نے ان کے لیے بھئی کھجور کے باغات لگا دیے اور انگوروں کے باغات لگا دیے اور اس میں چشمے بنا دیے تاکہ یہ اس کے پھلوں میں سے کھائے پھلوں میں سے کھائے وما عملت أيديهم اور ان کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا
یہ تو انار کا یا انگور کا ایک دانہ نہیں بنا سکتے یہ چیزیں ہم ان کے لیے اگاتے ہیں زمین میں سے
معنی سمجھ میں آگیا؟
وما عملته أيديهم اور نہیں بنایا ان کو ان کے ہاتھوں نے
یرحمك الله
أفلا يشكرون
ہمزہ استفهام کے لیے
سو کیا یہ شکر نہیں کرتے
پس کیا یہ شکر نہیں کرتے
أفلا يشكرون
پس کیا یہ شکر نہیں کرتے
بعض علماء نے اس کا اور بڑا بہترین ترجمہ کیا أفلا يشكرون
یہ کیوں شکر نہیں کرتے؟
أفلا يشكرون
ہم نے ان کے لیے باغات بنا دیے
کھجور کے انگور کے چشمے بہا دیے تاکہ یہ اس کے پھلوں میں سے کھائیں اور انہیں ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا أفلا يشكرون
یہ کیوں شکر نہیں کرتے؟
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
سبحان الذي خلق الأزواج كلها
پاک ہے وہ ذات
جس نے خلق پیدا کیا الأزواج جوڑوں کو كلها سب کے سب
كلها تاکید ہے
ازواج کے لیے بھئی
كلها سب کے سب جوڑے ہا ضمیر ازواج کو راجع
سبحان الذي خلق الأزواج كلها پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیا تم ہر قسم کے جوڑوں کو مِمَّا تنبت الأرض
مِمَّا اس میں سے تنبت الأرض
जिसे जमीन उगाती है
ان چیزوں میں سے جنہیں زمین اگاتی ہے یعنی نباتات کے اندر بھئی
ومن أنفسهم اور ان کے اپنے نفسوں میں بھی
ان کی اپنی ذاتوں میں بھی
وہ چیزیں جو زمین سے اگتی ہیں ان میں بھی جوڑے بنائے ومن أنفسهم اور ان کی اپنی ذاتوں میں بھی جوڑے بنائے
ومِمَّا اور ان چیزوں میں سے بھی لا یعلمون جسے یہ نہیں جانتے
سبحان الذي پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیا تمام جوڑوں کو ان چیزوں میں سے بھی جن کو زمین اگاتی ہے اور ان کی اپنی ذاتوں میں سے بھی اور ان چیزوں میں سے بھی جنہیں یہ نہیں جانتے
ان چیزوں میں سے جن کو زمین اگاتی ہے ان میں بھی اللہ نے جوڑے بنائے
اور ان کی اپنی ذاتوں میں یعنی انسانوں کے اندر بھی اللہ نے
انسانوں میں بھی اللہ نے جوڑے بنائے بھئی مذکر اور مونث
ومِمَّا لا یعلمون اور ان چیزوں میں سے بھی جن کو یہ لوگ نہیں جانتے
بھئی دیکھیے
اللہ فرما رہے ہیں
کہ اللہ نے
زمین سے جو چیزیں اگتی ہیں یعنی پودے
نباتات جو ہیں ان میں بھی اللہ نے جوڑے بنائے
علماء لکھتے ہیں کہ
تمام چیزوں میں
جوڑے ہیں بھئی
ہاں کسی میں جوڑا ہے مقابل کے اعتبار سے کسی میں مماثل کے اعتبار سے
کسی میں جوڑا ہے
مقابل کے اعتبار سے
اور کسی میں جوڑا ہے
مماثل
مماثل یعنی جو اس کے مثل ہو
مثلا دیکھیے
دن ہے تو اس کے ساتھ اللہ نے رات بنائی
سردی ہے تو اس کے ساتھ اللہ نے گرمی بنائی
صبح ہے تو اس کے ساتھ اللہ نے شام بنائی
مذکر ہے تو اس کے ساتھ اللہ نے مونث کو بنایا
تو یہ سب جوڑے ہیں اور مقابل ہیں ایک دوسرے کے کیا ہیں؟
مقابل ہیں کوئی مذکر ہے کوئی مونث ہے کبھی زمانہ دن کا ہے کبھی زمانہ رات کا ہے یہ سب ایک دوسرے کے کیا ہیں؟ مقابل ہیں تو یہ جوڑے ہیں بھئی
اور بعض جگہ مماثل ہونے کے اعتبار سے جوڑے ہیں ایک جانور جیسا ہے ویسا ہی دوسرا جانور ہے
ایک پھل کا جیسا رنگ ہے ویسا ہی دوسرے پھل کا رنگ ہوتا ہے بعض
سمجھ میں آیا بھئی تو ایک چیز جیسی ہے اسی طرح
دوسری چیز اللہ نے بنائی اس کے مثل بھئی
تو ہر چیز میں جوڑے ہیں بعضوں میں مقابل کے اعتبار سے اور بعضوں میں مماثل ہونے کے اعتبار سے
البتہ صرف خالق کی ذات ہے جس کا نہ کوئی مقابل ہے اور نہ کوئی مماثل ہے بھئی
تو اللہ فرما رہے ہیں سبحان الذي خلق الأزواج كلها پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیا تمام جوڑوں کو مِمَّا ان چیزوں میں سے تنبت الأرض جن کو زمین اگاتی ہے
ومن أنفسهم اور ان کی ذاتوں میں سے بھی ان کی ذاتوں میں جوڑے بنائے کیا معنی؟
مذکر مونث
بھئی مِمَّا تنبت الأرض ان چیزوں میں سے جن کو زمین اگاتی ہے
قدیم زمانے میں تو یہ علم نہیں تھا بھئی انسان کو
کہ پودوں میں بھی
مذکر اور مونث ہوتے ہیں
نر اور مادہ ہوتے ہیں
آج سائنس نے جب ترقی کر لی تو اب آ کر انسان کو پتہ چلا کہ بہت سے پودے بھی ایسے ہیں جن کے اندر مذکر پودا الگ ہوتا ہے اور مونث پودا الگ ہوتا ہے
مذکر سے
ہوا یا پھر
کیڑے مکوڑے جب ان کے پھولوں پر بیٹھتے ہیں تو ان کے بدن کے ساتھ ان کے ذرات لگ جاتے ہیں اور پھر یہی پودے یہی کیڑے مکوڑے جب مونث پودے کے پھولوں پر بیٹھتے ہیں تو وہ ذرات ان کے
پھولوں پر لگ جاتے ہیں اور پھر اس سے آگے جو ہے وہ
پھول وغیرہ یا ان کے پھل وغیرہ جو چیز ہوتی ہے وہ بنتی ہے یا ان کے بیج بنتے ہیں آگے جس سے آگے
پھر وہ دوسرے پودے بنیں گے بھئی
سمجھ میں آیا تو اس سے کیا ہوتے ہیں ان کے بیج وغیرہ پھر بنتے ہیں تو مذکر پودا الگ ہوتا ہے مونث پودا الگ
مذکر کے وہ
پھول کے ذرات وغیرہ ہوا کے ذریعے پہنچ جائیں یا پھر کسی کیڑے مکوڑے وغیرہ کے ذریعے پہنچ جائیں تو پھر بیج بنیں گے ورنہ ان کے بیج بنتے ہی نہیں بھئی
تو یہ آج سائنس نے دریافت کیا بھئی قرآن نے چودہ سو سال پہلے یہ حقیقت بتلا دی کہ مِمَّا تنبت الأرض ان چیزوں میں سے بھی جن کو زمین اگاتی ہے یعنی پودے ان کے اندر بھی اللہ نے جوڑے بنائے ہیں جوڑے بنائے
تو جن کو زمین اگاتی ہے ان میں بھی اللہ نے جوڑے بنائے ومن أنفسهم اور ان کی اپنی ذاتوں میں بھی جوڑے بنائے نر اور مادہ
انسانوں کے اندر ومِمَّا لا یعلمون اور ان میں سے بھی جن کو یہ لوگ نہیں جانتے بھئی اللہ کی کیا کیا مخلوقات ہیں
کہاں کہاں ہیں صرف اللہ ہی جانتے ہیں انسان کا علم بڑا محدود جیسے آپ دیکھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ جوں جوں ترقی ہو رہی ہے انسان کا علم بڑھتا جا رہا ہے بہت سی چیزیں جن کا اسے آج تک پتہ ہی نہیں تھا اب اسے پتہ چلنا شروع ہوا ہے بھئی
اب اسے ان کا پتہ چل رہا ہے
اور کتنی ہی ہوں گی جن کا علم ہی نہیں ہے آگے چل کر علم ہو جائے گا اور کتنی ہی ایسی چیزیں ہوں گی جن کا کبھی بھی علم نہیں ہو سکتا وہ اللہ کے علم میں ہے بھئی اللہ کے علم میں کہ اللہ نے کیا کیا مخلوقات پیدا کیں کس قسم کی مخلوقات پیدا کیں بھئی
معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا آیت کا بھئی
سبحان
والذی خلق الازواج كلها پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیا تمام جوڑوں کو مما تنبت الارض ان میں سے جن جو جن کو زمین اگاتی ہے ومن انفسهم اور ان کی اپنی ذاتوں میں سے بھی ومنما لا یعلمون اور ان چیزوں میں سے بھی جن کو یہ نہیں جانتے وایت لہم الليل اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے نسلخ منه النهار اتار دیتے ہیں ہم اس سے دن کو اتار دیتے ہیں ہم اس کے اس سے دن کو سلخ یسلخ کے معنی ہوتے ہیں
کھال اتارنا کھال اتارنا بکری وغیرہ کو جب ذبح کر دیا جائے ذبح کے بعد جو اس کی کھال اتاری جاتی ہے اس کو سلخ کہتے ہیں عربی میں بھئی سلخ الجلد کھال کا اتارنا
تو اللہ فرما رہے ہیں نسلخ منه النهار اتار دیتے ہیں منہ اس رات سے کس کو اتار لیتے ہیں ہم النہار دن کو بھئی اصل تو ہے تاریکی ہی بھئی سورج اتا ہے تو تاریکی ختم ہو جاتی ہے اور روشنی اجاتی ہے تو گویا کہ تاریکی پر نور کی یعنی روشنی کی چادر اجاتی ہے تاریکی اس میں چھپ جاتی ہے
پھر جب دن گزرتا ہے سورج ڈوبتا ہے تو اس دن پر سے وہ روشنی کی چادر اتار لی جاتی ہے اور پھر رات ظاہر ہو جاتی ہے سورج سمجھ میں ائی بھئی
تو وایت لہم الليل اور ان کے لیے ایک نشانی جو ہے وہ رات ہے نسلخ منه النهار اتار لیتے ہیں ہم اس سے دن کو فإذہ ہم مظلمون پس اچانک یہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں
دن چادر جب ہم اس سے اتار لیتے ہیں تو اچانک یہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں اظلم یظلم ظلام بھئی بھئی ظلمت کہتے ہیں تاریکی کو
ظلمت کسے کہتے ہیں اظلم یظلم ظلام کا معنی اندھیرا کرنا بھی اور اندھیرے میں ہو جانا بھی بھئی اندھیرے میں داخل ہو جانا بھی
تو یہاں مظلمون کا کیا معنی ہے اندھیرے میں ہو جاتے ہیں بھئی تو یہ اس کا معنی اتا ہے یہ نہیں کہ مظلمون کا اصل معنی ہے اندھیرا کرنے والے بلکہ اس کا معنی ہی کیا ہے اندھیرے میں ہو جاتے ہیں یعنی اندھیرے میں داخل ہو جاتے ہیں
فإذہ ہم مظلمون پس اچانک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں وایت لہم الليل اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے نسلخ منه النهار ہم کھینچ لیتے ہیں اس سے دن کو فإذہ ہم مظلمون پس اچانک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں والشمس تجري لمستقر لھا اور سورج الشمس کا عطف ہے اللیل پر بھئی اي وایت لہم الشمس اور ان کے لیے ایک نشانی کیا ہے سورج ہے
تو شمس کا عطف ہوا اللیل پر بھئی اور اللیل مبتدا مؤخر ہے اور ایت لہم یہ کیا ہے خبر مقدم
یا بعضوں نے کہا کہ الشمس کا عطف لیل پر نہیں ہے یہ اسی طرح یہ مبتدا ہے اور تجري لمستقر لھا یہ اس کی خبر ہے بھئی والشمس اور سورج جو ہے تجري چل رہا ہے لمستقر لھا مستقر کہتے ہیں ٹھکانے کو بھئی
لھا حا ضمیر شمس کو راجع تو کیا ترجمہ کریں گے سورج چل رہا ہے لمستقر لھا ہاں جو اس کا ٹھکانہ ہے تو اس کا اردو میں پھر ترجمہ جب ضمیر اسی چیز کی طرف راجع ہو تو اپنے کے ساتھ ترجمہ کرتے ہیں اور سورج چل رہا ہے لمستقر لھا اپنے ٹھکانے کی طرف بھئی
سورج چل رہا ہے اپنے ٹھکانے کی طرف سمجھ میں آیا بھئی ضمیر جب اسی چیز کی طرف راجع ہے جس کا ذکر ہے
جو مبتدا وغیرہ ہے تو اس کو اپنے کے ساتھ ذکر کرتے ہیں مثلا میں آپ سے کہتا ہوں ذہب زید مع اخیہ
زید گیا مع اخیہ اب حا ضمیر ہے آپ یہ لیکن راجع کس کو ہے زید کو تو یہ ترجمہ نہ کریں زید گیا اس کے بھئی کے ساتھ یہ تو معنی ہی بدل گیا بھئی بلکہ کیا ترجمہ کریں گے اپنے زید گیا اپنے بھئی کے ساتھ بھئی
الشمس تجري لمستقر لھا اور سورج چل رہا ہے لمستقر لھا اپنے ٹھکانے کی طرف علماء لکھتے ہیں کہ
روزانہ سورج طلوع ہوتا ہے مشرق سے اور غروب ہوتا ہے مغرب میں اور یہ مسلسل حرکت میں ہے
اور سال میں یعنی 365 دنوں میں اس کا دورہ پورا ہوتا ہے 365 دنوں میں کیا ہوتا ہے اس کا دورہ پورا ہوتا ہے پھر اسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں ایک سال پہلے تھا وہ بھئی ایک سال پہلے تھا
اور ہر روز مشرق اور مغرب ان میں تبدیلی آتی ہے یعنی جہاں سے ایک دن سورج طلوع ہوتا ہے بعينه اسی جگہ سے اگلے دن طلوع نہیں ہوتا معمولی سا فرق ہوتا ہے
سمجھ میں آیا بھئی پھر یہ فرق چلتا رہے گا چلتا رہے گا تو یہاں تک کہ 365 دن جب پورے ہو جائیں گے یعنی پورا سال ہو جائے گا اب پھر وہ جو پہلے دن جہاں سے طلوع ہوا تھا بعينه اسی جگہ سے طلوع ہوگا بھئی
آپ بھی دیکھتے ہیں مشاہدہ کرتے ہیں یہ تو مشاہدے کی بات ہے بھئی دیکھیے گرمیوں کے اندر سورج طلوع ہوتا ہے اور عین تقریبا سر کے اوپر سے گزرتا ہوا غروب ہوتا ہے
اور پھر جوں جوں سردیاں آتی ہیں آپ دیکھتے ہیں سورج دوپہر کے وقت پہلے عین سر پہ ہوتا تھا اب ایک جانب کو ہوتا ہے بھئی ایک جانب کو ہوتا ہے
یہ وہ اس کے اندر تبدیلی آتی جا رہی ہے بھئی تو جہاں سے طلوع ہوتا ہے وہاں بھی معمولی سا فرق پڑتا ہے جو گہرے مشاہدے سے اور آلات کے ذریعے واضح پھر معلوم ہو جاتا ہے بھئی
تو یہ کہتے ہیں حرکت ہے اس آفتاب کی یہ کیا ہے اس آفتاب کی حرکت ہے مولانا لیکن یہ قدیم ہیئت کے مطابق بھئی قدیم ہیئت کے مطابق
جدید سائنس کے مطابق یہ جو سورج کا طلوع اور غروب ہے یہ دراصل زمین کی حرکت کی وجہ سے ہے بھئی سورج زمین کے گرد نہیں گھوم رہا زمین جو ہے وہ سورج کے گرد گھومتی ہے سال بھر میں بھئی ایک چکر پورا کرتی ہے
اور یہ جو دن اور رات بنتے ہیں یہ زمین سورج کے گرد جو دائرے میں چکر لگا رہی ہے تو ساتھ ساتھ اپنی جگہ پر چلتے ہوئے زمین لٹو کی طرح گھومتی ہوئی جا رہی ہے بھئی
جیسے ایک لٹو کو گھما دیا جائے اور پھر یہ ایک اس کی گھومنا ہے اور ساتھ ساتھ وہ ایک طرف کو بھی چلتا چلا جائے تو زمین بھی اسی طرح گھومتی ہوئی اپنی جگہ پر سورج کے گرد رما دماں ہے اور
ایک سیکنڈ کے اندر ایک سیکنڈ کے اندر یہ 18 میل کا فاصلہ طے کرتی ہے بھئی 18 میل رفتار کا اندازہ لگائیں بھئی
ایک سیکنڈ کے اندر اور یہ جو گھوم رہی ہے سورج کے سامنے اس سے دن رات بنتے ہیں بھئی سمجھ میں آیا بھئی جیسے آپ ایک آپ خود بھی تجربہ اس کا کر سکتے ہیں کہ ایک طرف سے ایک اندھیرے کمرے کے اندر ٹارچ روشن کریں یہ ہے مثلا سورج اور اس کے سامنے ایک گیند کو رکھیں
اور گیند پر ایک نقطہ لگا دیں فرض کریں یہ ہے آپ کا علاقہ بھئی جہاں آپ نے نقطہ لگایا اب اس گیند کو آہستہ آہستہ گھمائیں دیکھیں گے یہی نقطہ چلتے چلتے اندھیری جانب آ جائے گا
جس طرف روشنی نہیں پڑ رہی پھر گھومتے گھومتے پھر روشنی کی طرف آ جائے گا تو یہ جو زمین گھوم رہی ہے اس کی وجہ سے سورج ہمیں مشرق سے طلوع ہوتا ہوا اور مغرب میں غروب ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے تو دراصل یہ زمین گھوم رہی ہے
اور یہاں تو کیا آیا قرآن میں سورج چل رہا ہے اپنے ٹھکانے کی طرف یاد رکھیے سورج بھی اپنی جگہ پر اسی طرح گھوم رہا ہے جس طرح لٹو گھومتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ساتھ سیاروں کو لیے ہوئے
حرکت کے اندر ہے سب کو یہ نو دس سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں ان میں ایک زمین بھی ہے ان سب کو لیے ہوئے سورج تیزی سے
جو کہکشاں ہے اس کے اندر حرکت کر رہا ہے کیا کر رہا ہے حرکت کر رہا ہے کہکشاں کے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے بھئی
اور پھر یہ کہکشاں بھی حرکت میں ہے تو سورج کی گویا تین حرکتیں ہیں اپنی جگہ پر بھی گھوم رہا ہے کہکشاں کے ساتھ کے اندر بھی گھوم رہا ہے اور جب کہکشاں گھوم رہی ایک طرف کو جا رہی ہے تو یہ بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتا جا رہا ہے
تو سورج اپنے ٹھکانے کی طرف جا رہا ہے کون سا ٹھکانہ بھئی مراد کہ
جب قیامت قائم ہوگی تو یہ سورج کیا ہو جائے گا سب چیزیں ختم ہو جائیں گی تو وہ کوئی ٹھکانہ وہ اللہ ہی جانتے ہیں جو اللہ نے اس کے لیے متعین کر دیا ہے یہ تیزی سے اس طرف رواں دواں ہے اپنے سیاروں کو لیے ہوئے بھئی
سورج سمجھ میں آگئی بھئی بعض احادیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج غروب ہوتا ہے جانتے ہو یہ کہاں جاتا ہے فرمایا نہیں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ یہ عرش الہی کے نیچے جاتا ہے اور وہاں یہ سجدہ کرتا ہے اور اگلے اور پھر جانے کی اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت دے دی جاتی ہے
اور قیامت کے قریب یہ سجدہ کرے گا تو وہ سجدہ قبول نہیں ہوگا اور یہ جانے کی اجازت طلب کرے گا تو اسے اللہ کی طرف سے اجازت نہیں ملے گی اور حکم ہوگا جہاں سے آیا ہے ادھر ہی کو لوٹ جا
چنانچہ واپس چلے گا اور پھر اس وقت مغرب سے سورج طلوع ہوگا بھئی اور یہ علامات قیامت میں سے ہیں علامات قیامت میں سے اور پھر اس جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا بھئی
اس کے بعد توبہ کی گنجائش نہیں ہوگی بھئی اب اس حدیث کا کیا معنی بھئی حدیث جو ہے یہ متشابہات میں سے ہے بھئی اللہ اور اس کے رسول ہی اس کا معنی جانتے ہیں کہ آپ کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے کیا مراد ہے بھئی کیا مراد ہے
سمجھ میں آیا سورج غروب ہوتا ہے بھئی دیکھیے سورج زمین جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی ایک ٹارچ آپ نے روشن کی ہے اس کے سامنے آپ ایک گیند کو گھما رہے ہیں آہستہ آہستہ تو دیکھیے
ایک حصہ آپ نے جو نقطہ لگایا تھا وہ فرض کریں آپ کا علاقہ ہے یہ ٹارچ کے سامنے ہے تو روشن ہے یعنی یہاں دن ہے اور جب یہ اندھیرے میں جائے گا تو گویا سورج ڈوب گیا اندھیرا آ گیا لیکن دوسری جانب تو سورج نکلا ہوا ہے دوسرا حصہ روشنی میں ہے یا نہیں
کسی نہ کسی حصے میں ہر وقت دن ہے اور کسی میں رات بھئی تو لہذا اس حدیث کا معنی بھئی یہ متشابہات میں سے ہے اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں بھئی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں
الشمس تجري لمستقر لھا اور سورج چل رہا ہے اپنے ٹھکانے کی طرف ذلک تقدیر العزیز العلیم یہ اندازہ ہے العزیز العلیم زبردست علم والے کا
یہ اندازہ باندھا ہوا ہے العزیز العلیم زبردست علم والے کا تو یہ سورج جو چل رہا ہے یہ اندازہ باندھا ہوا ہے زبردست علم والے کا بھئی سمجھ میں آیا بھئی
ایک خاص انداز سے اور خاص رفتار سے یہ طلوع ہوتا ہے اور اسی طرح غروب ہوتا ہے
اور یہ جس کی وجہ سے یہ دن رات ہوتے ہیں اور یہ نظام چل رہا ہے یہ اندازہ باندھا ہوا ہے کس کا زبردست علم والے کا
یہ اندازہ باندھا ہوا ہے کس کا زبردست علم والے کا یا تقدیر کا معنی تقدیر کا معنی
مقرر کرنے کے بھئی قدر یقدر تقدیر کا ایک معنی اندازہ کرنا ہے تو اس کا ایک معنی مقرر کرنا بھی ہے ذلک تقدیر العزیز العلیم یہ مقرر کیا ہوا ہے زبردست علم والے کا
یہ جو مقرر کیا ہوا ہے یہ جو سورج کیا چیز بھئی ذلک کہیے کس چیز کی طرف اشارہ یہ جو سورج کا چلنا ہے چلنا یہ کس کا مقرر کیا ہوا ہے زبردست حکمت زبردست علم والے کا
زبردست علم والے کا
تو مستقر کا کیا معنی میں نے بیان کیا بھئی ٹھکانہ یہ تو اللہ ہی جانتے ہیں کہ کیا مراد ہے معلوم ہوا جہاں قیامت کے نزدیک بھئی جب یہ سب کچھ ختم ہوگا تو وہ ٹھکانہ وہ مقام جہاں جا کر پھر یہ
یہ ختم ہو جائیں گی سب چیزیں بھئی والشمس تجري لمستقر لھا اور سورج چل رہا ہے اپنے ٹھکانے کی طرف ذلک تقدیر العزیز العلیم یہ مقرر کیا ہوا ہے زبردست علم والے کا
چلیے بس بھئی واللہ اعلم بحقيقة الكلام