Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-047

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. و اقسموا بالله جهد ایمانھم لئن جاءھم نذیر لی کونن اھدی من احدی الامم. فلما جاءھم نذیر ما زادھم الا نفورا. واقسموا بالله جهد ایمانھم اور قسمیں اٹھائیں انہوں نے اللہ کی یہ مشرکین مکہ قریش وغیرہ یہ مراد ہیں بھئی۔ واقسموا بالله جهد ایمانھم اور قسمیں اٹھائیں انہوں نے اللہ کی جهد ایمانھم پختہ قسمیں اپنی زوردار قسمیں اپنی سخت قسمیں جو بھی ترجمہ اپ کر لیں۔ واقسموا بالله جهد ایمانھم اور قسمیں اٹھائیں اٹھائیں انہوں نے اللہ کی جهد ایمانھم پختہ قسمیں اپنی پختہ قسمیں یہ تھا لفظی ترجمہ با محاورہ کیسے کریں گے؟ اور انہوں نے اللہ کی زوردار قسمیں اٹھائیں۔ انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں اٹھائیں۔ لئن جاءھم نذیر کہ البتہ اگر آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا یعنی کوئی پیغمبر۔ ان مشرکین مکہ نے پکی قسمیں اٹھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا یعنی پیغمبر آیا ليكوننا تو البتہ یہ ہوں گے اہدی زیادہ ہدایت پر من احدی الامم ہر ایک امت سے۔ ہر ایک امت سے۔ اور انہوں نے قسمیں اٹھائیں اللہ کی پختہ اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں اٹھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا تو البتہ یہ ہوں گے زیادہ ہدایت پر ہر ایک امت سے یعنی یہ ہر ایک امت سے زیادہ ہدایت پر ہوں گے۔ فلما جاءھم نذیر پس جب آیا ان کے پاس ڈرانے والا یعنی پیغمبر یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ما زادھم تو نہیں بڑھایا ان کے الا نفورا مگر بغض کو، نفرت کو۔ یہ مشرکین مکہ یہ قریش والے یہ جب سنتے تھے کہ یہودیوں نے اور عیسائیوں نے اپنے پیغمبروں کو تک کی تکذیب کی ہے، ان کو جھٹلایا ہے تو بڑے تعجب کا اظہار کرتے تھے۔ حیرت کی بات ہے ان لوگوں کے پاس اللہ نے پیغمبر بھیجے تھے اور انہوں نے ان کو جھٹلایا، تکذیب کی ان کی۔ اور بڑی پختہ قسمیں کھاتے تھے۔ کہ اگر ہمارے پاس کسی اللہ نے کوئی پیغمبر ہم بھیجا تو ہم حد سے بڑھ کر اس کی اطاعت کریں گے۔ تمام امتوں سے زیادہ ہم ہدایت پر ہوں گے بھئی۔ سب سے زیادہ بڑھ کر ہم ان کی اطاعت کریں گے۔ یہ کیا قسمیں اٹھایا کرتے تھے؟ کہ اگر ہمارے پاس اللہ نے کسی پیغمبر کو بھیجا تو ہم تمام امتوں سے بڑھ کر ان کی فرمانبرداری اور اطاعت کریں گے اور ان کے احکامات پر چلیں گے۔ ان قوموں پر حیرت ہوتی ہے، ان کے پاس پیغمبر آئے تھے اور انہوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے راستے پر نہیں چلے۔ تو وہ وہ قسمیں اٹھایا کرتے تھے۔ لیکن اللہ فرما رہے ہیں جب ان کے پاس جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو پھر ما زادھم الا نفورا مگر تو نہیں بڑھایا اس نے مگر ان کی نفرت ہی کو۔ یعنی ان کی صرف نفرت ہی بڑھی بھئی۔ ان کے پاس بھی ہم نے پھر پیغمبر بھیج دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، یہ تو بڑی بڑی پختہ قسمیں اٹھایا کرتے تھے کہ ہم سب سے بڑھ کر ان کی اطاعت کریں گے۔ لیکن جب پیغمبر ہم نے بھیج دیا تو ان کی نفرت ہی بڑھی۔ کوئی اطاعت دیکھنے میں نہیں آئی۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا۔ واقسموا بالله جهد ایمانھم اور انہوں نے یہ انھوں نے قسمیں اٹھائیں اللہ کی بڑی زوردار قسمیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا تو یہ البتہ زیادہ ہدایت پر اور ہوں گے ہر ایک امت سے۔ فلما جاءھم نذیر پس جب آیا ان کے پاس ڈرانے والا یعنی پیغمبر ما زادھم الا نفورا تو نہیں بڑھایا اس نے ان کا مگر نفرت ہی کو نہیں تو نہیں بڑھایا مگر ان کی نفرت ہی کو۔ یعنی ان کی نفرت ہی بڑھی۔ استکبار فی الارض و مکر السئی۔ استکبار یہ مفعول لہ ہے بھئی۔ علت بیان کر رہا ہے ما قبل کی۔ جیسے آپ کہتے ہیں ضربتہ تادیبا میں نے اس کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے۔ تو جیسے تادیبا مفعول لہ ہوتا ہے، مفعول لہ ہے، ما قبل کی علت بیان کرتا ہے۔ اسی طرح استکبار یہاں مفعول لہ ہے۔ استکبار فی الارض زمین میں تکبر کرنے کی وجہ سے و مکر السئی اور بری تدبیریں کرنے کی وجہ سے۔ جب پیغمبر آیا تو ان کی صرف نفرت ہی بڑھی۔ کیوں بڑھی؟ زمین میں تکبر کرنے کی وجہ سے اور بری تدبیریں کرنے کی وجہ سے۔ یہ بہت بڑے بہت تکبر کرتے ہیں زمین میں۔ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور بری بری تدبیریں کرتے ہیں۔ پیغمبر کے خلاف، دین حق کے خلاف۔ فلما جاءھم نذیر ما زادھم الا نفورا پس جب آیا ان کے پاس ڈرانے والا تو نہیں بڑھی مگر ان کی نفرت ہی کی نہیں۔ تو نہیں بڑھایا مگر ان کی نفرت ہی کو۔ یعنی ان کی نفرت ہی بڑھی استکبار فی الارض زمین میں تکبر کرنے کی وجہ سے اور بری تدبیریں کرنے کی وجہ سے۔ مکر السئی اس کا عطف بھی استکبار پر ہے۔ تو جیسے وہ مفعول لہ ہے، یہ بھی مفعول لہ ہے۔ زمین میں تکبر کرنے کی وجہ سے اور بری تدبیریں کرنے کی وجہ سے۔ ولا یحیق المکر السئی الا باہلہ۔ اور ولا یحیق اور نہیں گھیرتا، نہیں گھیرتی المکر السئی بری تدبیر الا باہلہ مگر اپنے ہی اہل کو یعنی اپنے ہی کرنے والے کو۔ بری تدبیر تو صرف اپنے کرنے والے ہی کو گھیرتی ہے۔ ولا یحیق المکر السئی الا باہلہ اور نہیں گھیرتی بری تدبیر مگر اپنے کرنے والے ہی کو۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ با محاورہ کیا ہو گا کہ بری تدبیر کا وبال تو اب کرنے والے پر ہی ہوتا ہے۔ بری تدبیر کا وبال تو کرنے والے پر ہی ہوتا ہے۔ فھل ینظرون الا سنت الاولین۔ حل بھئی، یہاں نفی کے لیے ہے۔ پس نہیں انتظار کرتے یہ لوگ الا سنت الاولین مگر پہلے لوگوں کے طریقے کا۔ پس یہ لوگ انتظار نہیں کرتے مگر پہلے لوگوں کے طریقے کا۔ یعنی یہ لوگ پہلے لوگوں کے طریقے ہی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جس طرح ہم نے پہلے لوگوں کو جو تکبر کرنے والے تھے، سرکشی کرنے والے تھے اور پیغمبروں کی تکذیب کرنے والے تھے جیسے ہم نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا اور ان کو تباہ و برباد کر کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا اسی طرح یہ لوگ بھی انہی کے طریقے کے انتظار کر رہے ہیں کہ ان پر بھی کیا کیا جائے؟ عذاب کو نازل کیا جائے۔ فھل ینظرون الا سنت الاولین پس نہیں انتظار کرتے یہ لوگ مگر پہلے لوگوں کے طریقے کا۔ با محاورہ کیسے کریں گے؟ پس یہ لوگ پہلے لوگوں کے طریقے ہی کا انتظار کرتے کر رہے ہیں۔ فلن تجد لسنت اللہ تبدیلا۔ پس ہرگز تو نہیں پائے گا اللہ کی سنت میں، اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔ فلن تجد پس ہرگز تو نہیں پائے گا لسنت اللہ اللہ کی سنت میں، اللہ کے طریقے میں، اللہ کی عادت میں، تبدیلی کوئی تبدیلی۔ پس تو اللہ کی عادت میں، اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا، ولن تجد لسنت اللہ تحویلا۔ اور تو ہرگز نہیں پائے گا اللہ کے طریقے میں منتقل ہونا۔ متحویل کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانا۔ ولن تجد لسنت اللہ تحویلا اور تو ہرگز نہیں پائے گا اللہ کے طریقے میں منتقل ہونا۔ بھئی اللہ کی سنت ہے، اللہ کا طریقہ ہے کہ جو تکبر کرنے والے ہوتے ہیں، زمین میں فساد مچانے والے ہوتے ہیں، کفر و شرک پر چلنے والے ہوتے ہیں، پیغمبروں کو جھٹلانے والے ہوتے ہیں، اللہ ان پر اپنا عذاب نازل کرتے ہیں، اللہ ان پر گرفت فرماتے ہیں، یہ اللہ کی سنت ہے۔ اور اللہ فرما رہے ہیں، فلن تجد لسنت اللہ تبدیلی پس تو ہرگز نہیں پائے گا اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔ یعنی اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ کفر و شرک کرنے والوں پر کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، تو اللہ کا طریقہ یہی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے کہ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یعنی اللہ کے سنت طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا یہ اللہ کا طریقہ یہی ہے کہ وہ مجرموں پر گرفت فرماتے ہیں تو ایسا نہیں کہ آپ اللہ کے طریقے میں تبدیلی آ جائے اور مجرموں پر گرفت فرمانے کے بجائے ان کو انعام و اکرام سے نوازیں، ایسا نہیں ہوگا، آپ ایسا نہیں پائیں گے۔ اللہ کا جو طریقہ ہے، وہ اسی طرح ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ ولن تجد لسنت اللہ تحویلا اور آپ ہرگز نہیں پائے گا اللہ کے طریقے میں منتقل ہونا۔ یعنی یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ جو عذاب اور گرفت ہے ان مجرموں سے ہٹا کر کسی اور پر کی طرف منتقل کر دی جائے، کسی اور کو سزا دے دی جائے، ایسا بھی نہیں۔ سزا، اللہ کا طریقہ یہی ہے کہ وہ سزا دیتے ہیں اور مجرموں ہی کو دیتے ہیں، کسی اور کو نہیں دیتے تو اس میں تبدیلی بھی نہیں کہ سزا کے بجائے کیا دے دیں؟ انعام۔ اور اس میں تحویلی تحویل بھی نہیں، منتقل ہونا بھی نہیں کہ سزا مجرموں کے بجائے کسی اور کو دے دی جائے بھئی! کسی اور کو دے دی جائے تو یہ کیا ہوا؟ منتقل ہو گئی نا تو یہ منتقل ہونا بھی نہیں ہے بھئی۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا۔ اولم یسیرو فی الارض اولم یسیرو فی الارض کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں فی الارض زمین کے اندر فینظرو پس یہ دیکھتے کیف کان عاقبت الذین من قبلہم کیسا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ اولم یسیرو فی الارض کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں زمین کے اندر فینظرو پس یہ دیکھتے کیف کان عاقبت الذین من قبلہم کیسا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے۔ وکانوا اشد منہم قوۃ اور تھے وہ زیادہ سخت ان سے باعتبار قوت کے۔ اللہ فرما رہے ہیں کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے؟ کیا یہ اولم یسیرو فی الارض کیا یہ گھومے نہیں زمین کے اندر؟ پس دیکھتے کیسا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں؟ وکانوا اشد منہم قوۃ اور وہ زیادہ شدید تھے، زیادہ سخت تھے ان سے قوت باعتبار قوت۔ ان کو تو ہم نے بڑی قوتیں دی تھیں ان کا انجام دیکھ کر ان کو عبرت نہیں ہوتی؟ شام وغیرہ کا یہ سفر کرتے ہیں ان کھنڈرات کے پاس سے گزرتے ہیں ان بستیوں پر جن پر ہم نے اپنا عذاب نازل کیا تھا تو وہ لوگ ان سے جو پہلی قومیں جن کو ہم نے تباہ کیا وہ ان سے زیادہ قوت والے تھے لیکن اس کے باوجود جب ہمارا عذاب آیا تو ان کی وہ قوت ان کے کسی کام نہ آئی۔ تو یہ لوگ تو ان سے قوت میں بہت کم ہیں پھر یہ کس طرح تکبر کرتے ہیں اور پیغمبر کو جھٹلاتے ہیں؟ معنی سمجھ میں آ گیا؟ کون زیادہ تھے باعتبار قوت کے؟ وہ لوگ جو وہ قومیں جو پہلے گزریں۔ اولم یسیرو فی الارض کیا یہ لوگ گھومے نہیں زمین کے اندر فینظرو کیف کان عاقبت الذین من قبلہم پس یہ دیکھتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں وکانوا اشد منہم قوۃ اور وہ زیادہ سخت تھے ان سے باعتبار قوت کے۔ اور جی تو بامحاورہ کیا ترجمہ کر لیں گے؟ وکانوا اشد منہم قوۃ اور وہ ان وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے وہ ان سے قوت میں بڑھے ہوئے تھے۔ وما کان اللہ لیعجزہ اور نہیں ہے اللہ لیعجزہ کہ اسے عاجز کر دے من شئی کوئی چیز اور اللہ نہیں ہے یعنی اللہ ایسے نہیں ہے کہ لیعجزہ من شئی کہ اسے عاجز کر دے، اسے ہرا دے من شئی کوئی چیز فی السموات آسمانوں میں ولا فی الارض اور نہ زمین میں۔ یعنی اللہ کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی آسمانوں میں اور زمین میں۔ وما کان اللہ لیعجزہ من شئی فی السموات ولا فی الارض اور اللہ کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی آسمانوں اور زمین میں۔ انہ کان علیما قدیرا یقیناً وہ اللہ خوب جاننے والے ہیں، قادر ہیں۔ انہ کان علیما قدیرا یقیناً وہ اللہ خوب جاننے والے ہیں، قدرت والے ہیں۔ ولو یواخذ اللہ الناس اور اگر اللہ مواخذہ فرمائیں لوگوں کا اگر اللہ مواخذہ فرمائیں لوگوں کا یا اللہ پکڑ فرمائیں لوگوں کی ولو یواخذ اللہ الناس اور اگر اللہ پکڑ فرمائیں لوگوں کی بما کسبو بوجہ اس کے جو انہوں نے عمل کیے۔ ان کے اگر اللہ لوگوں کی پکڑ فرما لوگوں کی گرفت فرمائیں ان کے عمل کی وجہ سے ما ترک علی ظہرہا تو نہ چھوڑتے علی ظہرہا ای علی ظہر الارض زمین کی پشت پر یعنی زمین پر۔ اللہ نہ چھوڑ اگر اللہ لوگوں کی گرفت فرماتے ان کے عمل کی وجہ سے تو نہ چھوڑتے زمین کی پشت پر یعنی زمین کی سطح پر من دابۃ کوئی چلنے والا، یعنی کوئی جاندار۔ اور اگر اللہ گرفت فرماتے لوگوں کی ان کے عمل کی وجہ سے تو نہ چھوڑتے زمین کی پشت پر کوئی [unclear] کوئی جاندار۔ ولکن یؤخرہم لیکن اللہ جو ہیں یؤخرہم ان کو مہلت دیتے ہیں، ان کو مؤخر کرتے ہیں یعنی ان کو مہلت دیتے ہیں الی اجل مسمی ایک مقررہ مدت تک ولکن یؤخرہم الی اجل مسمی لیکن اللہ ان کو مہلت دیتے ہیں ایک وقت مقررہ تک۔ فاذا جاء اجلہم پس جب آ جائے گا ان کا وہ وقت پس ان کے جب وہ وقت وقت آ جائے گا فانہ کان لعبادہ بصیرا پس یقیناً اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا۔ پس یقیناً اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا۔ یعنی اللہ لوگوں کے عمل کی وجہ سے فورا اس دنیا میں گرفت نہیں فرماتے، فورا ان پر اپنا عذاب نازل نہیں فرماتے، اگر ایسا ہوتا تو زمین پر کوئی ایک جاندار بھی اللہ نہ چھوڑتے بھئی! ایک جاندار۔ تو اللہ فورا گرفت نہیں فرماتے بلکہ اللہ مہلت دے رہے ہیں ایک وقت مقررہ تک ہر ایک کو اور پھر جس وقت وقت مقررہ آ جائے گا تو اللہ فرماتے ہیں اس وقت میں خود اپنے بندوں کو دیکھ لوں گا۔ پھر خود میں کیا کر لوں گا اپنے بندوں کو؟ دیکھ لوں گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق میں جزا دوں گا۔ دعا کرو اللہ ہم سب کو بلا حساب کتاب کے جنت الفردوس نصیب فرمائے بھئی! ولؤ یواخذ اللہ الناس اور اگر اللہ گرفت فرمائیں لوگوں کی بما کسبو بوجہ ان کے اعمالوں کے ما ترک علی ظہر بوجہ اس کے جو انہوں نے عمل کیے ما ترک علی ظہرہا من دابۃ تو نہ چھوڑتے اللہ زمین کی پشت پر کوئی جاندار ولکن یؤخرہم الی اجل مسمی لیکن اللہ ان کو مہلت دیتے ہیں ایک وقت مقررہ تک فاذا جاء اجلہم پس جب آ جائے گی جب ان کی وہ مدت فانہ کان لعبادہ بصیرا تو یقیناً اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لیں گے۔ چلیے بس بھئی ہذا وفصلہ واما ہو اعلم بحقیقۃ الکلام۔
131 approved lectures · 47 of 131