”وَلَوْ قَضَى بَعْضَ الْفَوَائِتِ حَتَّى قَلَّ مَا بَقِيَ عَادَتِ التَّرْتِيبُ عِنْدَ الْبَعْضِ وَهُوَ الْأَظْهَرُ، فَإِنَّهُ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِيمَنْ تَرَكَ صَلَاةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَجَعَلَ يَقْضِي مِنَ الْغَدِ مَعَ كُلِّ وَقْتِيَّةٍ فَائِتَةً فَالْفَوَائِتُ جَائِزَةٌ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَالْوَقْتِيَّاتُ فَاسِدَةٌ“. يَرْحَمُكَ اللهُ.
فوت شدہ نمازوں کی قضا سے متعلقہ احکام بیان ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سبق میں صاحبِ ترتیب سے متعلقہ کچھ مسائل ذکر ہوئے تھے۔ آپ نے پڑھا کہ صاحبِ ترتیب وہ شخص ہے جس کی عمر بھر میں کوئی نماز قضا نہیں ہوئی، وہ صاحبِ ترتیب ہے۔ اور اس کی جب کوئی نماز قضا ہو جائے تو اس قضا نماز کو اگلی وقتی نماز سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ وقتی نماز پہلے پڑھے گا باوجود اس کے کہ وقت کے اندر گنجائش ہے، تو اس کی وہ وقتی نماز ہوگی ہی نہیں، بلکہ پہلے کیا کرنا ضروری ہے اس کے لیے؟ پہلے گزشتہ نماز جو باقی ہے اس کی قضا کرے، پھر اس کے بعد وقتی نماز پڑھے۔
البتہ تین صورتوں کے اندر جو ہے یہ ترتیب ساقط ہو جاتی ہے۔ ایک تو جب وقت تنگ ہو، اگر وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ اب اس میں وقتی نماز ہی کے پڑھنے کی گنجائش ہے، اب اگر وہ قضا نماز پڑھے گا تو یہ وقتی نماز بھی کیا ہو جائے گی؟ قضا ہو جائے گی۔ تو اس صورت میں پہلے وقتی نماز ہی پڑھے بھئی۔
اور اسی طرح اگر بھول جائے کہ میرے ذمے ایک نماز پچھلی باقی ہے تو اس صورت میں بھی وقتی نماز ہو جائے گی۔ اور تیسری صورت یہ کہ اگر فوت شدہ نمازیں کثیر ہو جائیں، اور کثیر کب ہوں گی؟ جب وہ حدِ کثرت میں داخل ہو جائیں۔ اور حدِ کثرت میں کب داخل ہوں گی؟ جب فوت شدہ نمازیں کتنی ہو جائیں؟ چھ ہو جائیں بھئی، چھ ہو جائیں۔
اس کے بعد گزشتہ سبق کے آخر میں ایک مسئلہ آیا تھا کہ ایک شخص جو ہے اس کے ذمے فوت شدہ نمازیں قدیم بھی ہیں اور کچھ جدید ہیں۔ پہلے اس کے ذمے کچھ نمازیں کافی نمازیں باقی تھیں، پھر اس کے بعد باقاعدگی سے اس نے نماز پڑھنا شروع کر دی۔ پھر اس کے بعد چند اور نمازیں اس کی قضا ہوئیں، لیکن یہ نمازیں حدِ کثرت تک نہیں پہنچیں اس سے کم کم ہیں۔ تو کیا اس صورت میں بھی ترتیب اب ضروری ہے یا وہ پچھلی کا اعتبار کریں گے اور ترتیب اس کے ذمے نہیں؟
تو بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ اس صورت میں گزشتہ نمازوں کو شمار ہی نہیں کریں گے ترتیب کے حق میں اور صرف یہ سمجھیں گے یہ والی چند نئی نمازیں ہی صرف قضا ہوئی ہیں، اور یہ تو کثرت کی حد تک نہیں پہنچی لہٰذا ترتیب ساقط نہیں، پہلے کیا کرنا پڑے گا؟ ان نئی قضا نمازوں کو پڑھنا پڑے گا اور پھر اس کے بعد وقتی نماز ہوگی ورنہ نہیں ہوگی۔ جبکہ دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، گزشتہ نمازوں کا اعتبار کریں گے اور ترتیب اب بھی اس کے ذمے نہیں ہے کیونکہ گزشتہ یعنی پرانی قضا نمازیں ملائیں تو یہ حدِ کثرت کو پہنچ جاتی ہیں بھئی، پہنچ جاتی ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ اور یاد رکھیے فتویٰ بھی اسی پر ہے کہ قدیم نمازیں اگر ہوں تو جدید کے ساتھ ان کو ملا کر دیکھا جائے گا کہ حدِ کثرت کو پہنچ رہی ہیں کہ نہیں بھئی۔
جی، آج اب آگے مسئلہ بتلا رہے ہیں: ”وَلَوْ قَضَى بَعْضَ الْفَوَائِتِ“. صورت یہ، ایک شخص کے ذمے قضا نمازیں کافی زیادہ تھیں اور وہ حدِ کثرت کو پہنچ رہی تھیں، تو آپ نے پڑھا اس سے ترتیب ساقط ہو جاتی ہے۔ اب اس شخص نے گزشتہ نمازوں کو ادا کرنا شروع کر دیا، آہستہ آہستہ وہ ادا کرتا رہا یہاں تک کہ فوت شدہ نمازیں اب چھ سے کم رہ گئیں، چھ سے کم رہ گئیں، تو اب تو وہ حدِ کثرت کو نہیں پہنچ رہیں، کم رہ گئیں، تو کیا پھر ترتیب لوٹ آئے گی یا ترتیب نہیں لوٹے گی؟
تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ ترتیب لوٹ آئے گی کیونکہ ترتیب کے ساقط ہونے کی وجہ کیا تھی؟ وہ حدِ کثرت تک پہنچ رہی تھیں اور اب تو یہ حدِ کثرت تک نہیں پہنچ رہیں لہٰذا ترتیب لوٹ آئے گی بھئی ترتیب۔ جبکہ دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، ابھی بھی ترتیب واپس جب تک ساری ادا نہیں کر لے گا، ایک دفعہ جب ترتیب ساقط ہو گئی ہے جب تک ساری ادا نہیں کر لے گا اس وقت تک ترتیب واپس لازم نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَضَى بَعْضَ الْفَوَائِتِ“، اور اگر قضا کر لیا بعض فوت شدہ نمازوں کو یعنی ان کو پڑھ لیا، ”حَتَّى قَلَّ مَا بَقِيَ“، یہاں تک کہ تھوڑی رہ گئیں وہ جو باقی ہیں، ”عَادَتِ التَّرْتِيبُ عِنْدَ الْبَعْضِ“، تو ترتیب لوٹ آئے گی بعض کے نزدیک، ”وَهُوَ الْأَظْهَرُ“، اور یہی قول زیادہ ظاہر ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ بعض فقہاء نے جو فرمایا کہ ترتیب پھر لوٹ آئے گی یہ قول زیادہ ظاہر ہے، ”فَإِنَّهُ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اس لیے کیونکہ روایت کیا گیا ہے امام محمد رحمہ اللہ سے، آگے ایک مسئلہ ذکر کریں گے، کہتے ہیں یہ مسئلہ امام محمد رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے۔ یہ مسئلہ امام محمد، اور اس مسئلے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترتیب کیا ہے؟ واپس لوٹ آئے گی بھئی، ترتیب واپس لوٹ آئے گی۔
”فَإِنَّهُ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِيمَنْ تَرَكَ صَلَاةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ“، کیونکہ روایت کیا گیا ہے امام محمد رحمہ اللہ سے فیمن اس شخص کے بارے میں ”تَرَكَ صَلَاةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ“ کہ جس نے چھوڑ دیا ایک دن اور ایک رات کی نمازوں کو، ”وَجَعَلَ يَقْضِي مِنَ الْغَدِ“، اور وہ قضا کرنے لگا یعنی ان کو پڑھنے لگا ”مِنَ الْغَدِ“ اگلے دن سے، ”مَعَ كُلِّ وَقْتِيَّةٍ فَائِتَةً“، ہر وقتی نماز کے ساتھ ایک فوت شدہ نماز۔ وہ قضا کرنے لگا اگلے دن ہر وقتی نماز کے ساتھ ”فَائِتَةً“ ایک فوت شدہ نماز بھئی، ”فَالْفَوَائِتُ جَائِزَةٌ عَلَى كُلِّ حَالٍ“، تو فوت شدہ نمازیں جائز ہو جائیں گی ہر حال میں، یعنی چاہے ان کو وقتی پر مقدم کرے چاہے وقتی سے مؤخر کرے، ”وَالْوَقْتِيَّاتُ فَاسِدَةٌ“، اور وقتی نمازیں فاسد ہوں گی بھئی، فاسد ہوں گی۔
اچھا، تو کہتے ہیں: ”فَالْفَوَائِتُ جَائِزَةٌ عَلَى كُلِّ حَالٍ“، تو فوت شدہ نمازیں ہر حال میں جائز ہیں۔ ہر حال میں جائز ہونے کا کیا معنی؟ یعنی وقتی نمازوں پر چاہے ان کو مقدم کرے اور چاہے مؤخر کرے۔ ”وَالْوَقْتِيَّاتُ فَاسِدَةٌ“، اور وقتی نمازیں فاسد ہیں۔ ”إِنْ قَدَّمَهَا“، اگر وقتی نمازوں کو کیا کرے؟ مقدم کرے تو بھی وقتی فاسد، ”لِدُخُولِ الْفَوَائِتِ فِي حَدِّ الْقِلَّةِ“، اس لیے کیونکہ فوت شدہ نمازیں کس میں داخل ہیں؟ حدِ قلت کے اندر داخل ہیں، ”وَإِنْ أَخَّرَهَا“، اور اگر وقتی نمازوں کو مؤخر کرے، ”فَكَذَلِكَ“، تو بھی اسی طرح ہیں یعنی وہ فاسد ہیں، ”إِلَّا الْعِشَاءَ الْأَخِيرَةَ“، سوائے عشاءِ اخیرہ کے۔
عشاءِ اخیرہ سے مراد عشاء کی نماز ہے بھئی۔ عشاءِ اولیٰ مغرب کو کہتے ہیں اور عشاءِ اخیرہ عشاء کو کہتے ہیں۔ سوائے عشاءِ اخیرہ کے، مگر عشاءِ اخیرہ یعنی عشاء کی نماز کے علاوہ کہ وہ ہو جائے گی کس صورت میں؟ جب وقتی نماز کو مؤخر کرے گا۔ ”لِأَنَّهُ لَا فَائِتَةَ عَلَيْهِ فِي ظَنِّهِ حَالَ أَدَائِهَا“، اس لیے کیونکہ کوئی فوت شدہ نماز اس کے ذمے باقی نہیں ”فِي ظَنِّهِ“ اس نماز پڑھنے والے کے اپنے گمان میں ”حَالَ أَدَائِهَا“ اس نماز کو ادا کرتے وقت یعنی عشاءِ اخیرہ کو ادا کرتے وقت۔
بھئی، یہ امام محمد رحمہ اللہ نے مسئلہ ذکر فرمایا۔ وہ فرماتے ہیں اگر ایک شخص کی ایک دن اور رات کی نمازیں فوت ہو گئیں، مثلاً ایک دن کی فجر سے لے کر عشاء تک ساری نمازیں اس کی فوت ہو گئیں۔ اگلے دن وہ ہر وقتی نماز کے ساتھ ایک فوت شدہ نماز ادا کرتا ہے۔ یعنی فجر کے ساتھ فجر کی قضا کرتا ہے، ظہر کے ساتھ ظہر کی قضا کرتا ہے، عصر کے ساتھ عصر کی، مغرب کے ساتھ مغرب کی اور عشاء کے ساتھ عشاء کی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قضا نمازیں تو ہر حال میں صحیح ہو جائیں گی، چاہے اس وقتی نماز پر اس کو مقدم کرے اور چاہے مؤخر کرے۔ اور وقتی نمازیں اگر ان کو مقدم کرے یا مقدم کرے یا مؤخر کرے وہ کیا ہو جائیں گی؟ فاسد۔ مقدم کرنے کی صورت میں اس لیے کیونکہ فوت شدہ نمازیں حدِ قلت کے اندر داخل ہیں۔
بھئی دیکھیے، صورت بنا لیں۔ ایک شخص کی نمازیں فوت ہوئیں فجر سے لے کر عشاء۔ اگلے دن اب وہ اس کی قضا ان کی شروع کرتا ہے۔ تو پہلے صورت بنائیں کہ قضا کو مقدم کرتا ہے اور وقتی نماز کو مؤخر کرتا ہے۔ تو اگلے دن فجر کے وقت پہلے اس نے گزشتہ دن کی قضا فجر کی قضا پڑھی، تو یہ ہو جائے گی یا نہیں ہوگی بھئی؟ یہ ہو جائے گی۔ اور پھر کون سی ادا کرتا ہے؟ فجر، اچھا، بھئی پہلے اس کے ذمے کتنی قضا تھیں؟ پانچ تھیں۔ اب اس نے فجر سے پہلے فجر کی نماز قضا پڑھ لی، کتنی رہ گئیں؟ چار رہ گئیں۔ پھر اس نے فجر کی وقتی نماز پڑھی، جی یہ نماز ہوگی یا نہیں ہوگی؟ یہ نماز نہیں ہوگی کیونکہ چار نمازیں اس کے ذمے باقی ہیں اور وہ حدِ کثرت کو نہیں پہنچ رہیں، تو ترتیب ساقط نہیں۔ ترتیب اس کے ذمے ضروری ہے، پہلے ان سب کو پڑھے پھر فجر کی پڑھے، اور اس نے تو پہلے ہی فجر کی پڑھ لی لہٰذا فجر کی نماز نہیں ہوئی اس کی، تو قضا کتنی ہو گئیں؟ پھر پانچ ہو گئیں۔ پہلے فجر کی قضا پڑھ لی تھی چار رہ گئی تھیں لیکن پھر فجر کی جب وہ ادا پڑھ رہا ہے وہ تو ہوئی نہیں، تو یہ بھی کیا ہوئی اس کے ذمے رہ گئیں تو کتنی رہ گئیں؟ پانچ رہ گئیں۔
پھر ظہر کا وقت آیا، اس نے پہلے کیا کیا؟ گزشتہ دن کی ظہر کی پڑھی، وہ تو ہو گئی۔ کتنی رہ گئیں نمازیں؟ چار رہ گئیں۔ پھر ظہر کی وقتی نماز پڑھی لیکن اس کے ذمے تو چار نمازیں ہیں، وہ وقتی نماز نہیں ہوئی، کتنی ہو گئیں؟ پھر پانچ ہو گئیں۔ پھر اسی طرح عصر سے پہلے اس نے عصر کی قضا پڑھی تو وہ ہو گئی۔ کتنی رہ گئیں؟ چار رہ گئیں۔ پھر عصر کی وقتی نماز پڑھی، وہ نہیں ہوئی کیونکہ اس کے ذمے کتنی نمازیں ہیں؟ چار۔ تو پھر پانچ ہو گئیں قضا نمازیں۔
مغرب میں پھر اس نے اسی طرح کیا، پہلے قضا نماز گزشتہ دن کی مغرب کی پڑھی اور پھر وقتی پڑھی، قضا نماز ہو گئی۔ کتنی رہ گئیں؟ چار۔ پھر مغرب کی وقتی پڑھی، وہ نہیں ہوئی، کتنی رہ گئیں نمازیں؟ پانچ۔ پھر عشاء کا وقت آیا، اس نے پہلے گزشتہ دن کی عشاء کی نماز قضا کی، وہ ہو گئی، کتنی نمازیں رہ گئیں؟ چار۔ پھر عشاء کی وقتی نماز پڑھی، وہ، ہاں پہلے قضا پڑھی اور پھر کون سی وقتی پڑھ رہا ہے؟ عشاء۔ تو جب اس نے عشاء سے پہلے گزشتہ دن کی عشاء کی بھی قضا کر لی تو اس شخص کا اپنا خیال یہ ہے کہ میں نے پانچوں نمازیں پڑھ لیں، پانچوں نمازیں پڑھ لیں اور اب کون سی پڑھ رہا ہوں؟ اب وقتی نماز پڑھ رہا ہوں، اب میرے ذمے کوئی نماز نہیں۔ جب کوئی نماز نہیں تو اس کا اپنا یہ گمان ہے اگرچہ اس کے ذمے کتنی نمازیں باقی ہیں ابھی بھی؟ عشاء پڑھتے ہوئے پہلے کون سی پڑھی؟ قضا پڑھی تو کتنی رہ گئی تھیں؟ چار۔ اب یہ عشاءِ اخیرہ پڑھ رہا ہے لیکن اس کا اپنا کیا گمان ہے، میرے ذمے کوئی نماز ہے یا نماز نہیں ہے؟ اس کا گمان ہے کہ میرے ذمے کوئی نماز نہیں ہے لہٰذا اس کی یہ عشاء کی نماز ہو جائے گی، عشاء کی نماز ہو جائے گی بھئی عشاء کی نماز۔ اس لیے کیونکہ نماز بھولنے کی صورت آپ نے پڑھا تھا کہ کوئی شخص اگر بھول جائے کہ اس کے ذمے کوئی نماز باقی ہے تو اس سے بھی ترتیب کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے اور وقتی نماز ہو جائے گی۔ تو جب بھولنے والے کا بھی کیا خیال ہوتا ہے کہ میرے ذمے کوئی نماز نہیں، لہٰذا یہ شخص بھی جب عشاء کی نماز پڑھ رہا ہے اس کا کیا خیال ہے؟ میرے ذمے کوئی نماز نہیں، تو یہ بھولنے والے کی طرح ہو گیا اور بھولنے والے کی جو ہوتا ہے اس کی صورت میں تو وقتی نماز ہو جاتی ہے لہٰذا اس کی بھی عشاء کی نماز ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ کون سی صورت تھی؟ جب اس نے وقتی کو مؤخر کیا تھا، کس پر؟ قضا پر مؤخر کیا تھا تو عشاءِ اخیرہ ہو جائے گی، باقی نمازیں نہیں ہوں گی۔ ہاں، اب دوسری صورت بنائیں کہ وقتی نماز کو مقدم کرتا ہے کس پر؟ قضا نماز پر، قضا نماز پر۔ تو دیکھیے، اب اس صورت میں اس کے ذمے کتنی نمازیں باقی؟ دوبارہ اب ساری نمازیں پھر اسی ترتیب سے ہم دیکھتے ہیں بھئی۔ گزشتہ دن کی کتنی نمازیں باقی ہیں؟ پانچ نمازیں۔ اگلے دن اب یہ ہر نماز کے ساتھ ایک قضا کرنے لگا ہے لیکن پہلے کون سی پڑھتا ہے؟ وقتی اور پھر کون سی پڑھتا ہے؟ قضا، تو وقتی کو وہ مقدم کرتا ہے۔ تو اس نے اگلے دن اس کے ذمے پانچ نمازیں باقی اس کے ذمے تھیں اور اس نے اگلے دن فجر کی پہلے پڑھی، فجر کی نماز ہوئی؟ نہیں ہوئی، تو کتنی ہو گئیں نمازیں؟ چھ ہو گئیں۔ پھر اس نے کون سی نماز پڑھی؟ فجر کی گزشتہ دن کی قضا پڑھی، یہ ہو جائے گی یا نہیں ہوگی؟ یہ ہو جائے گی بھئی، تو پھر کتنی؟ ہاں، تو چھ جب دیکھو جب چھ ہو گئیں فجر کی نہیں ہوئی تو کتنی ہو گئی قضا؟ چھ۔ ترتیب ساقط ہو گئی یا نہیں؟ جب ترتیب ساقط ہو جائے وقت گزر جائے تو ترتیب ساقط ہو جاتی ہے، ترتیب ساقط ہو جانی چاہیے تھی آگے، لیکن اس نے پھر فوراً ہی کیا کر لیا؟ قضا نماز پڑھ لی تو پھر کیا آ گئی اس پر؟ ترتیب آ گئی، پھر پانچ رہ گئیں۔
اگلے وقت میں پھر اس نے کیا کیا؟ پہلے ظہر، پانچ نمازیں اس کے ذمے باقی ہیں اور اس نے پھر کیا کیا؟ ظہر کی پہلے پڑھی اور قضا بعد میں۔ تو جب ظہر کی پہلے پڑھے گا وہ نہیں ہوگی، پھر نمازیں کتنی ہو گئیں؟ چھ، تو ترتیب اس سے کیا ہو جانی تھی آگے چل کر ساقط ہونی تھی لیکن ساتھ ہی اس نے کیا کر دیا؟ قضا نماز بھی ساتھ پڑھ لی تو کتنی رہ گئیں؟ پھر پانچ رہ گئیں، تو ترتیب ابھی بھی اس کے ذمے ہے، لہٰذا اسی طرح آخر تک سلسلہ چلے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
معلوم ہوا کہ اگر وہ وقتی نماز کو مقدم کرے گا تو اس صورت میں وقتی نمازیں ساری فاسد، وقتی نمازیں عشاء تک ہر ایک نماز کیا ہوتی جائے گی؟ کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ وقتی نماز کو مقدم کرتا ہے اور اس کے بعد ایک قضا بھی پڑھ لیتا ہے، تو یہ وقتی نماز مقدم کرنے کی وجہ سے ہوتی نہیں، نمازیں چھ ہو جاتی ہیں لیکن جب وہ اس کے ساتھ ہی اگلی قضا پڑھ لیتا ہے تو پھر کتنی رہ جاتی ہیں؟ پانچ رہ جاتی ہیں، ترتیب اسی طرح پھر باقی رہتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو امام محمد رحمہ اللہ نے، بھئی متن میں یہ مسئلہ آیا کہ کسی کی فوت شدہ نمازیں وہ پڑھتے پڑھتے کم رہ گئیں تو پھر ترتیب واپس لوٹ آئے گی، اور صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں یہ قول زیادہ ظاہر ہے، اور اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ نے ایک اور مسئلہ ایک مقام پر ذکر فرمایا ہے کہ اس طرح ایک شخص کی ایک دن رات کی نمازیں فوت ہو جائیں اور پھر وہ اگلے دن ہر وقتی نماز کے ساتھ کیا کرنے لگے؟ ایک ایک نماز کی قضا کرنے لگے، تو وہاں انہوں نے فرمایا ہے کہ اس کی فوت شدہ نمازیں جائز ہو جائیں گی اور وقتی نمازیں فاسد ہو جائیں گی اگر مقدم کرے گا، کیا کرے گا ان کو فوت شدہ نمازوں پر؟ مقدم کرے گا تو وہ فاسد ہو جائیں گی، اور اگر مؤخر کرے گا تو عشاءِ اخیرہ ہوگی، عشاءِ اخیرہ ہو جائے گی کیونکہ اس وقت اس کے خیال میں اس کے ذمے کوئی نماز نہیں ہے بھئی۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
تو دوبارہ دیکھیے ترجمہ: ”وَهُوَ الْأَظْهَرُ“، اور یہ قول زیادہ ظاہر ہے، ”فَإِنَّهُ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِيمَنْ تَرَكَ صَلَاةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ“، کیونکہ روایت کیا گیا ہے امام محمد رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں جس نے ایک دن رات کی نمازیں چھوڑ دیں، ”وَجَعَلَ يَقْضِي مِنَ الْغَدِ مَعَ كُلِّ وَقْتِيَّةٍ فَائِتَةً“، اور وہ قضا کرنے لگا اگلے دن ہر وقتی نماز کے ساتھ ایک فوت شدہ نماز، ”فَالْفَوَائِتُ جَائِزَةٌ عَلَى كُلِّ حَالٍ“، تو فوت شدہ نمازیں جائز ہیں ہر حال میں۔ ہر حال میں کیا معنی؟ چاہے اس کو وقتی پر مقدم کرے چاہے وقتی سے مؤخر، ”وَالْوَقْتِيَّاتُ فَاسِدَةٌ إِنْ قَدَّمَهَا“، اور وقتی نمازیں فاسد ہیں اگر ان کو مقدم کرے، ”لِدُخُولِ الْفَوَائِتِ فِي حَدِّ الْقِلَّةِ“، اس لیے کیونکہ فوت شدہ نمازیں کس میں داخل ہیں؟ حدِ قلت میں داخل ہیں، ”وَإِنْ أَخَّرَهَا فَكَذَلِكَ“، اور اگر وقتی نمازوں کو مؤخر کیا تو بھی اسی طرح ہیں یعنی وہ فاسد ہیں، ”إِلَّا الْعِشَاءَ الْأَخِيرَةَ“، سوائے عشاءِ اخیرہ کے، وہ ہو جائے گی، ”لِأَنَّهُ لَا فَائِتَةَ عَلَيْهِ فِي ظَنِّهِ حَالَ أَدَائِهَا“، اس لیے کیونکہ کوئی فوت شدہ نماز نہیں اس شخص پر ”فِي ظَنِّهِ“ اس کے اپنے گمان کے مطابق ”حَالَ أَدَائِهَا“ اس عشاءِ اخیرہ کو ادا کرنے کی حالت میں، اس وقت اس کا یہ خیال ہے کہ اب میرے ذمے کوئی نماز نہیں تو وہ بھولنے والے کی طرح ہوا اور بھولنے کی صورت میں تو وقتی نماز ہو جاتی ہے قضا سے پہلے بھی، ترتیب ساقط ہو جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
معلوم ہوا کہ یہ شخص، اس طرح کا کوئی شخص اگر وقتی نماز کو مقدم کرے گا تو پھر اس صورت میں وقتی نمازیں اس کی نہیں ہوں گی، لیکن اگر وقتی نماز کو مؤخر کرتا ہے تو اس صورت میں آخری عشاء کی اس کی نماز ہو جائے گی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، لیکن آپ حضرات کی نہیں ہوگی بھئی۔ کسی اور کو یہ مسئلہ پیش آیا اس کی عشاءِ اخیرہ ہو جائے گی کب؟ جب وہ کیا کر رہا ہو؟ قضا کو پہلے پڑھ رہا ہو اور وقتی کو بعد میں، اسی ترتیب سے پڑھتا جا رہا تو اس کی عشاءِ اخیرہ ہو جائے گی، آپ لوگوں کی نہیں ہوگی اس لیے کیونکہ آپ کو مسئلے کا پتہ چل گیا بھئی، وہ اور وہ ایسا شخص تھا جس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اس کا تو یہ خیال تھا میرے ذمے اب کوئی نماز ہی باقی نہیں ہے اور آپ کو تو مسئلے کا علم ہو گیا بھئی۔
”وَمَنْ صَلَّى الْعَصْرَ وَهُوَ ذَاكِرٌ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ الظُّهْرَ فَهِيَ فَاسِدَةٌ إِلَّا إِذَا كَانَ فِي آخِرِ الْوَقْتِ“، اور جس شخص نے عصر کی نماز پڑھی اس حال میں ”وَهُوَ ذَاكِرٌ“ کہ اس کو یاد ہے ”أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ الظُّهْرَ“ کہ اس نے ظہر کی نماز نہیں پڑھی، ”فَهِيَ فَاسِدَةٌ“، تو اس کی یہ عصر کی نماز فاسد ہے یعنی نہیں ہوگی، ”إِلَّا إِذَا كَانَ فِي آخِرِ الْوَقْتِ“، مگر یہ کہ یہ کس وقت میں ہو؟ آخرِ وقت میں ہو، یعنی اس آخرِ وقت میں اس نے عصر پڑھی ہے تو پھر عصر کی ہو جائے گی ورنہ اس کے ذمے ظہر کی نماز باقی ہے، وقت میں گنجائش ہو تو پھر عصر کی نہیں ہوگی، ”وَهِيَ مَسْأَلَةُ التَّرْتِيبِ“، اور یہ مسئلۂ ترتیب ہی ہے بھئی۔
”وَإِذَا فَسَدَتِ الْفَرْضِيَّةُ لَا يَبْطُلُ أَصْلُ الصَّلَاةِ“. اچھا بھئی، فرضیت تو باطل ہو گئی۔ مثلاً ایک شخص کے ذمے ہے، جیسے یہ جو ابھی ہم نے مثال پڑھی، قضا نماز کو چاہے مقدم کرے چاہے مؤخر کرے وقتی نماز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ وقتی نماز بالکل ہی باطل ہو گئی ختم ہو گئی یا نفل ہو کر باقی رہ جائے گی اور اس کو نفلوں کا ثواب مل جائے گا؟ نفلوں کا ثواب۔ تو یاد رکھیے امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہ نفل ہو کر بھی نہیں باقی۔ یہ تحریمہ اس نے کس لیے باندھی تھی؟ فرضوں کے لیے، اور فرض تو ہوئے نہیں لہٰذا تحریمہ ہی باطل ہو گئی لہٰذا نماز ہے ہی نہیں سرے سے۔ اور جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ فرضیت تو باطل ہو جائے گی لیکن اصلِ صلاۃ باطل نہیں ہوگی، یہ نفل ہو کر باقی رہ جائے گی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
یہ معنی ہے: ”وَإِذَا فَسَدَتِ الْفَرْضِيَّةُ“، اور جب فرضیت یعنی فرض ہونا فاسد ہو جائے، ”لَا يَبْطُلُ أَصْلُ الصَّلَاةِ“، تو اصلِ صلاۃ باطل نہیں ہوگی بلکہ کیا بن کر باقی رہ جائے گی؟ نفل بن کر۔ ”لَا يَبْطُلُ أَصْلُ الصَّلَاةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“، تو اصلِ صلاۃ باطل نہیں ہوگی شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ يَبْطُلُ“، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اصلِ صلاۃ ہی باطل ہو جائے گی، ”لِأَنَّ التَّحْرِيمَةَ عُقِدَتْ لِلْفَرْضِ“، اس لیے کیونکہ یہ تحریمہ جو ہے اس کو باندھا گیا تھا فرض کے لیے، ”فَإِذَا بَطَلَتِ الْفَرْضِيَّةُ بَطَلَتِ التَّحْرِيمَةُ أَصْلًا“، پس جب فرضیت باطل ہو گئی فرضیت باطل ہو گئی تو تحریمہ بھی باطل ہو جائے گا اصلاً سرے سے ہی یعنی قطعی طور پر۔ ”وَلَهُمَا“، شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، بھئی امام محمد رحمہ اللہ کی کیا دلیل تھی؟ کہ یہ تحریمہ کس لیے باندھا گیا ہے؟ فرض کے لیے، اور جب فرض ہونا ہی باطل ہوا تو تحریمہ بھی کیا ہو گیا؟ باطل ہوا لہٰذا نماز ہوئی نہیں، نفل بھی نہیں کچھ بھی نہیں۔
”وَلَهُمَا“، شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّهَا عُقِدَتْ لِأَصْلِ الصَّلَاةِ بِوَصْفِ الْفَرْضِيَّةِ“، کہ یہ تحریمہ اس کو باندھا گیا ہے اصلِ صلاۃ کے لیے ”بِوَصْفِ الْفَرْضِيَّةِ“ ساتھ فرضیت کے وصف کے۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں یوں نہ کہیں کہ یہ تحریمہ فرضوں کے لیے باندھا گیا تھا، یوں کہیں تحریمہ نماز کے لیے باندھا گیا تھا لیکن وہ نماز موصوف تھی کس چیز کے ساتھ؟ فرضیت کے ساتھ، تو فرض ہونا اس کا وصف تھا، اور جب فرض نہیں ہوئے تو وصف صرف فوت ہوا ہے اور وصف کے فوت ہونے سے اصلِ شے فوت نہیں ہوتی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو لَہُما شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّهَا عُقِدَتْ لِأَصْلِ الصَّلَاةِ“، کہ تحریمہ جو ہے اس کو اصلِ صلاۃ کے لیے باندھا گیا ہے ”بِوَصْفِ الْفَرْضِيَّةِ“ ساتھ فرض ہونے کے وصف کے، ”فَلَمْ يَكُنْ مِنْ ضَرُورَةِ بُطْلَانِ الْوَصْفِ بُطْلَانُ الْأَصْلِ“، پس وصف کے باطل ہونے کے ساتھ اصل کا باطل ہونا ضروری نہیں ہے، کہ وصف باطل ہو تو اس سے اصل بھی باطل ہو جائے ایسا ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو یہ تحریمہ کس لیے باندھا گیا تھا؟ اصلِ صلاۃ کے لیے یعنی یوں کہیں نماز کے لیے، اور نماز کے ساتھ ایک وصف زائد تھا کیا؟ فرضیت، فرض ہونے کا بھی وصف تھا، تو جب فرض ہونا فوت ہوا تو صرف وصف فوت ہوا ہے اس سے اصلِ نماز فوت نہیں ہوگی وہ فاسد نہیں۔
”ثُمَّ الْعَصْرُ يَفْسُدُ فَسَادًا مَوْقُوفًا حَتَّى لَوْ صَلَّى سِتَّ صَلَوَاتٍ وَلَمْ يُعِدِ الظُّهْرَ انْقَلَبَ الْكُلُّ جَائِزًا“. اوپر مسئلہ ذکر ہو رہا تھا کہ ایک شخص ہے اس کی ظہر کی نماز باقی ہے اور وہ کون سی نماز پڑھ لیتا ہے؟ عصر کی، تو آپ نے پڑھا کہ اس کی عصر کی نماز نہیں ہوگی کیونکہ اس کے ذمے ایک نماز باقی ہے، فاسد ہو جائے گی۔ تو کیا یہ فاسد ہوئی ہے موقوفاً یا قطعاً؟
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ موقوفاً فاسد ہوئی ہے، موقوفاً۔ یعنی اس کے یوں کہیں، اس کے صحیح ہونے کی بھی صورت یہ پھر واپس صحیح ہو جائے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ قطعی طور پر فاسد ہو گئی اب اس کے صحیح ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمے ظہر کی نماز تھی اس نے عصر کی نماز پڑھ لی، عصر کی نماز ہوئی کہ نہیں ہوئی بھئی؟ نہیں ہوئی۔ اس نے پھر اگلی کون سی پڑھ لی؟ مغرب کی پڑھ لی، وہ بھی نہیں ہوئی۔ پھر عشاء کی پڑھ لی، وہ بھی نہیں ہوئی۔ کتنی نمازیں ہو گئیں؟ ظہر سے شروع ہوا تھا سلسلہ بھئی، چار ہو گئیں اس کے ذمے۔ فجر کی اس نے پڑھی، وہ بھی نہیں ہوئی، کتنی ہو گئیں؟ پانچ۔ پھر اگلے دن ظہر کی پھر پڑھی اس نے، وہ بھی نہیں ہوئی اور ظہر کا وقت گزر گیا تو کتنی ہو گئیں اس کے ذمے؟ چھ، اور چھ جب ہوئیں تو ترتیب کیا ہو گئی؟ ساقط ہو گئی۔ جب ترتیب ساقط ہوئی تو اس کی باقی ساری نمازیں صحیح ہو گئیں، یعنی گزشتہ دن کی ظہر وہ تو اس نے ابھی پڑھی ہی نہیں ہے باقی عصر، مغرب، عشاء، فجر اور اگلے دن کی ظہر یہ ساری یہ ادا تو کرتا آیا تھا لیکن یہ کیوں نہیں ہوئی تھیں؟ کیونکہ ترتیب ضروری تھی اور اب تو نمازیں کتنی ہو چکیں؟ چھ، لہٰذا ترتیب کیا ہوئی؟ ساقط، اور وہ فساد موقوف تھا لہٰذا اب وہ ترتیب جب ساقط ہوئی وہ ساری نمازیں کیا ہو گئیں؟ درست ہو گئیں اور اب اس کے ذمے کتنی رہ گئیں؟ ایک نماز باقی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، وہ قطعی طور پر فاسد ہو گئیں بھئی۔
”ثُمَّ الْعَصْرُ يَفْسُدُ“، يَفْسُدُ، ”ثُمَّ الْعَصْرُ يَفْسُدُ فَسَادًا مَوْقُوفًا“، پھر عصر کی نماز جو ہے وہ فاسد ہوگی فسادِ موقوف کے طور پر، ”حَتَّى لَوْ صَلَّى سِتَّ صَلَوَاتٍ“، یہاں تک کہ اگر اس نے چھ نمازیں پڑھ لیں ”وَلَمْ يُعِدِ الظُّهْرَ“، اور اس ظہر کی نماز کا اعادہ نہیں کیا جو اس کے ذمے تھی اس کو لوٹایا نہیں، ”انْقَلَبَ الْكُلُّ جَائِزًا“، تو ساری کیا ہو جائیں گی؟ جائز ہو جائیں گی۔ ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، ”وَعِنْدَهُمَا يَفْسُدُ فَسَادًا بَاتًّا“، اور صاحبین کے نزدیک یہ فاسد ہوئی ہیں نمازیں ”فَسَادًا بَاتًّا“، باتًّا کے معنی ہیں قطعی، قطعی طور پر، کہ یہ قطعی طور پر فاسد ہوئی ہیں بھئی، فسادِ بات کے طور پر یعنی قطعی فساد کے طور پر، ”لَا جَوَازَ لَهَا بِحَالٍ“، ان کے لیے جواز نہیں ہے کسی بھی حال میں، یعنی یہ کسی صورت میں بھی اب جائز اور صحیح نہیں ہو سکتیں، ”وَقَدْ عُرِفَ ذَلِكَ فِي مَوْضِعِهِ“، اور تحقیق اس کو جانا گیا ہے اپنے مقام میں۔ اس مسئلے کو جانا گیا یعنی امام صاحب کے نزدیک جو نماز فاسد ہوتی ہے وہ فسادِ موقوف کے طور پر فاسد ہوتی ہے اور صاحبین کے نزدیک کس طریقے پر فاسد ہوتی ہے؟ قطعی طریقے پر فاسد ہو جاتی ہے، اس کو اس مسئلے کو اپنے مقام پر جانا گیا ہے یعنی مبسوط کے اندر کتاب الصلاۃ میں۔ امام محمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب مبسوط میں کتاب الصلاۃ کے اندر اس مسئلے کو ذکر فرمایا ہے، تو وہاں سے یہ تفصیل کا اس کا پتہ چلتا ہے کہ امام صاحب کے نزدیک فساد موقوف ہوتا ہے جبکہ صاحبین کے نزدیک فساد قطعی ہوتا ہے۔
”وَلَوْ صَلَّى الْفَجْرَ وَهُوَ ذَاكِرٌ أَنَّهُ لَمْ يُوتِرْ فَهِيَ فَاسِدَةٌ“، اور اگر ایک شخص نے فجر کی نماز پڑھی ”وَهُوَ ذَاكِرٌ“ اس حال میں کہ اس کو یاد ہے ”أَنَّهُ لَمْ يُوتِرْ“ کہ اس نے وتر نہیں پڑھے، ”فَهِيَ فَاسِدَةٌ“، تو یہ فجر کی نماز فاسد ہے ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، کس کے نزدیک؟ امام، امام صاحب کے نزدیک اس کی فجر کی نماز نہیں ہوگی، ”خِلَافًا لَهُمَا“، بخلاف صاحبین کے۔ بھئی وجہ یہ کہ امام صاحب کے نزدیک وتر واجب ہیں جبکہ صاحبین کے نزدیک وتر سنت ہیں سنت ہیں بھئی، اور ترتیب جو فرائض ہیں ان کے درمیان ہوتی ہے، فرضوں اور سنتوں کے درمیان ترتیب واجب نہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ سنتیں تو کیا ہوتی ہیں؟ فرضوں کے تابع ہوتی ہیں۔ تو ایک شخص نے وتر نہیں پڑھے اور فرضوں کے درمیان کیا ضروری؟ ترتیب ضروری، اور وتر بھی فرض ہیں یعنی فرضِ عملی ہے۔ آپ نے پڑھا، ایک ہے واجب، وتر کیا ہیں امام صاحب کے نزدیک؟ واجب۔ بھئی واجب بھی فرضِ عملی ہے۔ ایک ہے عام فرض بھئی۔ آپ نے پڑھا فرض اور واجب میں کیا فرق ہے؟ فرض اسے کہتے ہیں جس میں عمل بھی ضروری ہوتا ہے اور اس کا عقیدہ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر عقیدہ نہیں رکھے گا تو کافر ہو جائے گا اس کو کافر قرار دیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص فجر کی نماز پڑھنا بھی مثلاً جتنی پانچ نماز، نمازیں یہ پڑھنا بھی ضروری اور ان کا ان کے فرض ہونے کا اعتقاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ اللہ نے یہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ عام نمازیں جو ہیں ان میں عقیدہ بھی ضروری اور ان کا پڑھنا بھی ضروری۔ جبکہ واجب جو ہے اس میں عمل تو ضروری ہوتا ہے، عقیدہ ضروری نہیں۔ تو فرضوں کے اندر جو ہے اعتقاد بھی ضروری ہوتا ہے اور عمل بھی ضروری ہوتا ہے۔ عمل نہ کرے گا تو گناہگار ہوگا اور اعتقاد نہیں رکھے گا تو اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ کافر قرار، جبکہ وتر جو ہے وتر واجب ہے اس کے اندر عمل تو ضروری ہے لیکن اعتقاد ضروری نہیں ہے بھئی، اعتقاد ضروری نہیں۔ کیونکہ اس میں آپ نے اختلاف پڑھا فقہاء کا کہ جیسے صاحبین اس کو کیا قرار دیتے ہیں؟ سنت قرار دیتے ہیں، تو یہ تو بہرحال یہ فرضِ عملی ہوا، وتر کیا ہے؟ فرض، اور فرضوں کے درمیان کیا ضروری؟ ترتیب ضروری۔ لہٰذا ایک شخص کے ذمے وتر کی نماز باقی ہے اور وہ فجر پڑھنا چاہتا ہے حالانکہ پہلے کیا ضروری؟ گزشتہ نماز کی قضا کرے اور پھر کیا کرے؟ وقتی نماز پڑھے۔ تو لہٰذا ترتیب ضروری تھی اور اس نے ترتیب کا خیال نہیں رکھا، پہلے کون سی نماز پڑھ لی؟ فجر کی، تو اس کی فجر کی نماز فاسد ہوگی کس کے نزدیک؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، اور صاحبین کے نزدیک تو وتر کیا ہیں؟ سنت ہیں لہٰذا ان کے نزدیک تو فرض ہیں ہی نہیں لہٰذا ترتیب بھی نہیں ضروری۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ صَلَّى الْفَجْرَ“، اور فجر کی اگر نماز پڑھی، ”وَهُوَ ذَاكِرٌ أَنَّهُ لَمْ يُوتِرْ“، اس حال میں کہ اس کو یاد ہے کہ اس نے وتر نہیں پڑھے، ”فَهِيَ فَاسِدَةٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، تو فجر کی نماز اس کی فاسد ہے امام صاحب کے نزدیک، ”خِلَافًا لَهُمَا“، بخلاف صاحبین کے، ”وَهَذَا بِنَاءٌ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ عِنْدَهُ سُنَّةٌ عِنْدَهُمَا“، اور اس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ وتر جو ہیں امام صاحب کے نزدیک واجب ہیں اور صاحبین کے نزدیک سنت ہیں، ”وَلَا تَرْتِيبَ فِيمَا بَيْنَ الْفَرَائِضِ وَالسُّنَنِ“، اور ترتیب نہیں ہے فرضوں اور سنتوں کے درمیان یعنی فرض نہیں ہے۔
”وَعَلَى هَذَا إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَصَلَّى السُّنَّةَ وَالْوِتْرَ ثُمَّ تَبَيَّنَ أَنَّهُ“، اور اسی پر ہے کہ ایک شخص نے، صورت یہ کہ ایک شخص نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر بعد میں اس نے سنتوں اور وتر کے لیے پھر اس نے وضو کیا یعنی کچھ دیر ٹھہر گیا ہوگا اور پھر اس نے وضو کر کے سنتیں اور وتر ادا کر لیے۔ پھر اس کو یاد آیا خیال آیا پتہ چلا کہ بھئی میں نے تو عشاء کی نماز بغیر وضو کے پڑھی تھی، بغیر، اسی لیے وتر اور سنت سے پہلے وضو کی قید لگائی کہ اس سے پہلے وہ کیا کر لیتا ہے؟ دوبارہ وضو۔ اور تو ان کو تو اس نے قطعی طور پر وضو سے ہی ادا کیا ہے، البتہ عشاء کے بارے میں اس کو یاد آیا یا اس کو پتہ چلا بدن سے کہیں سے خون نکلا ہوا تھا پہلے کا، تو بہرحال اس کو پتہ چلا کہ میں نے عشاء کی نماز بغیر وضو کے پڑھی تھی۔ تو اب اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ عشاء کی نماز دوبارہ پڑھے گا یا نہیں؟ عشاء کی نماز دوبارہ پڑھے گا۔ تو کیا سنتیں اور وتر بھی دوبارہ پڑھے گا یا نہیں؟
تو صاحبین فرماتے ہیں سنتیں اور وتر دوبارہ پڑھے گا کیونکہ سنتیں اور وتر یہ وتر بھی سنت ہیں اور سنتیں کس کے تابع ہوتی ہیں؟ فرضوں کے تابع، تو یہ ان کا محل فرضوں کے بعد تھا، اگر ان کو نہیں لوٹاتا یہ تو فرضوں سے پہلے ہو جائیں گی، پہلے تو ان کا محل نہیں، لہٰذا فرض جب پڑھے تو پھر کیا کرے؟ سنتیں بھی لوٹائے اور وتر کو بھی لوٹائے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ سنتیں تو لوٹائے گا لیکن وتر نہیں، کیونکہ وتر واجب ہے، فرضِ عملی ہے ان کے نزدیک، اور وتر کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟ آپ نے کیا پڑھا تھا؟ وہی وقت ہے اس کا جو عشاء کا وقت ہے بھئی۔ تو اس نے وتر کو اپنے وقت کے اندر پڑھا ہے تو یہ واجب ہے، یہ فرضوں کے تابع نہیں ہے بھئی۔ وتر کا بھی وہی وقت ہے جو عشاء کا وقت ہے بھئی۔
”وَعَلَى هَذَا“، اور اسی بناء پر، ”إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ“، جب ایک شخص نے اس شخص نے عشاء کی نماز پڑھی، ”ثُمَّ تَوَضَّأَ وَصَلَّى السُّنَّةَ وَالْوِتْرَ“، پھر وضو کیا اور سنت اور وتر پڑھے، ”ثُمَّ تَبَيَّنَ“، پھر یہ بات ظاہر ہوئی ”أَنَّهُ صَلَّى الْعِشَاءَ بِغَيْرِ طَهَارَةٍ“، کہ اس نے عشاء کی نماز بغیر وضو کے پڑھی ہے، ”فَعِنْدَهُ“، تو امام صاحب کے نزدیک ”يُعِيدُ الْعِشَاءَ وَالسُّنَّةَ دُونَ الْوِتْرِ“، تو وہ عشاء اور سنت کا اس کو تو لوٹائے گا ان کا تو اعادہ کرے گا ”دُونَ الْوِتْرِ“ نہ کہ وتر کا، ”لِأَنَّ الْوِتْرَ فَرْضٌ عَلَى حِدَةٍ عِنْدَهُ“، اس لیے کیونکہ وتر جو ہیں وہ علیحدہ فرض ہیں یعنی فرضِ عملی ہیں امام صاحب کے نزدیک، ”وَعِنْدَهُمَا يُعِيدُ الْوِتْرَ أَيْضًا“، اور صاحبین کے نزدیک وتر کا بھی اعادہ کرے گا ”لِكَوْنِهِ تَبَعًا لِلْعِشَاءِ“، اس لیے کیونکہ وتر سنت ہیں اور سنت کیا ہوتی ہے؟ عشاء کے تابع۔ ”لِكَوْنِهِ تَبَعًا لِلْعِشَاءِ“، اس لیے کیونکہ وتر عشاء کے تابع ہیں، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔
سمجھے؟ ویسے تو ترتیب ضروری کہ اول عشاء فرض، فرض پڑھے جائیں گے پھر کیا ہوں گے؟ وتر ہوں گے۔ تو اس نے بھی تو یہاں ایسا ہی کیا تھا، پہلے کیا پڑھے تھے؟ فرض ہی پڑھے تھے، اس کے بعد اس نے وتر پڑھے ہیں تو لیکن پھر فرضوں کا پتہ لگا کہ وہ ہوئے نہیں، تو بہرحال وتر کو اب لوٹانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپنے وقت کے اندر پڑھے گئے ہیں تو عشاء کی نماز دوبارہ پڑھے گا۔
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔