Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-040

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: وَيُسْتَحَبُّ الْإِسْفَارُ بِالْفَجْرِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ“. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: يُسْتَحَبُّ التَّعْجِيلُ فِي كُلِّ صَلَاةٍ. وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَاهُ وَمَا نَرْوِيهِ. نمازوں کے اوقات کا بیان چل رہا ہے۔ سب سے پہلے صاحبِ ہدایہ نے نمازوں کے مطلقاً اوقات بیان فرمائے۔ اب مستحب اوقات بیان فرما رہے ہیں نمازوں کے بھئی، کہ جن میں نمازوں کا ادا کرنا افضل ہے، ثواب زیادہ ہے، تو وہ مستحب اوقات بھئی۔ اس کے بعد آگے پھر وہ جن اوقات میں نمازوں کا ادا کرنا مکروہ ہے اس کو ذکر کریں گے۔ تو گویا پہلے، پہلے انہوں نے مطلق اوقات بیان کیے، اور اب کامل اوقات بیان کریں گے، اور آخر میں پھر ناقص اوقات کو بیان کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصْلٌ: وَيُسْتَحَبُّ الْإِسْفَارُ بِالْفَجْرِ“ اور مستحب ہے روشن کرنا فجر کو، یعنی فجر کی نماز کو روشنی کر کے پڑھنا مستحب ہے۔ اسفار کا معنی، أَسْفَرَ يُسْفِرُ کے معنی روشن ہو جانا۔ إِسْفَارٌ بِالْفَجْرِ کا معنی ہے فجر کو روشن کرنا، یعنی فجر کی نماز کو روشنی کر کے پڑھنا، یعنی جب کچھ تھوڑی سی روشنی ہو جائے تو پھر اس وقت فجر کا ادا کرنا مستحب ہے۔ یعنی اتنا وقت ہو جس میں مسنون طریقے سے فجر کی نماز ادا ہو جائے، یعنی خوب روشنی ہو جائے، اور ابھی سورج طلوع ہونے میں اتنا وقت باقی ہو کہ انسان مسنون طریقے سے مسنون قراءت کے ساتھ باجماعت جو نماز ادا کی جاتی ہے وہ ادا ہو جائے، اور پھر اگر فرض کریں اعادے کی ضرورت پیش آ جائے، پتہ چلے کہ وضو ہی نہیں تھا، بغیر وضو نماز پڑھ لی ہے، تو پھر بھی اتنا وقت ہو کہ اس میں کیا کیا جا سکے؟ آرام سے اعادہ کیا جا سکے، بس اتنا وقت پہلے بھئی سورج نکلنے سے پہلے یعنی روشن کر کے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُسْتَحَبُّ الْإِسْفَارُ بِالْفَجْرِ“ اور مستحب ہے فجر کی نماز کو روشن کر کے پڑھنا۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ“ کہ تم فجر کو روشن کر کے پڑھو، فجر کی نماز کو، ”فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ“ کیونکہ یہ کیا ہے؟ اجر کے اعتبار سے زیادہ عظیم ہے، افضل ہے بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُسْتَحَبُّ التَّعْجِيلُ فِي كُلِّ صَلَاةٍ“ تو ہمارے نزدیک فجر کی نماز میں اسفار کرنا مستحب ہے بھئی، اس میں زیادہ اجر ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحب ہے تعجیل، بھئی جلدی کرنا، ”فِي كُلِّ صَلَاةٍ“ ہر نماز کے اندر۔ ہر نماز میں جلدی کرنا افضل ہے، تو لہٰذا فجر کی نماز بھی جلدی ادا کی جائے، یعنی تاریکی کے اندر ہی، جب فجر طلوع ہو جائے اور ابھی تاریکی ہی ہو تو نماز کو ادا کر لیا جائے، جبکہ ہمارے نزدیک مستحب ہے کہ تاخیر ذرا کی جائے، روشنی ہو جائے۔ ”وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَاهُ“ اور دلیل جو ہے، حجت جو ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف، ”مَا“ وہ حدیث ہے ”رَوَيْنَاهُ“ جس کو ہم نے روایت کیا۔ یہ حدیث جو ہم نے روایت کی یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف حجت اور دلیل ہے ہماری۔ اس میں سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدہ امر فرما رہے ہیں، حکم دے رہے ہیں: ”أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ“ بھئی، اور امر کا کم از کم درجہ کیا ہے؟ کہ مستحب ہو بھئی، مستحب ہو۔ تو ایک وہ دلیل ہے جس کو ہم نے روایت کیا، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف ہماری دلیل ہے، ”وَمَا نَرْوِيهِ“ اور ایک وہ حدیث جس کو ہم روایت کریں گے، جو آگے آ رہی ہے بھئی اسی سطر کے آخر میں بھئی، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَالْإِبْرَادُ بِالظُّهْرِ فِي الصَّيْفِ“ اس کا عطف ”وَالْإِبْرَادُ“ اسی اسفار پر ہے: ”وَيُسْتَحَبُّ الْإِبْرَادُ بِالظُّهْرِ فِي الصَّيْفِ“ أَبْرَدَ يُبْرِدُ کے معنی ٹھنڈا کرنا۔ ”وَالْإِبْرَادُ بِالظُّهْرِ“ اور مستحب ہے ظہر کو ٹھنڈا کرنا ”فِي الصَّيْفِ“ کس کے اندر؟ گرمیوں کے اندر بھئی۔ گرمیوں کے اندر ذرا گرمی کچھ کم ہو جائے پھر ظہر کی نماز ادا کی جائے۔ ”وَتَقْدِيمُهُ فِي الشِّتَاءِ“ اور مستحب ہے ظہر کی نماز کو مقدم کرنا ”فِي الشِّتَاءِ“ کس میں؟ سردیوں کے موسم میں۔ ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی۔ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی، بھئی یاد رکھیے اس سے مراد وہ حدیث ہے جو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب بیان کرتے ہوئے ذکر ہوئی تھی مطلق اوقات کے اندر کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ ظہر کا آخری وقت کیا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے سایۂ اصلی کے علاوہ دو مثل ہو جائے، اور دلیل کیا ذکر کی تھی؟ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ“ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو، ”فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ“ کیونکہ گرمی کی شدت جو ہے وہ جہنم کی شدت کی وجہ سے ہوتی ہے اس کے جوش مارنے کی وجہ سے، تو وہ حدیث مراد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں دلیل اس کی: ”لِمَا رَوَيْنَا“ وہ حدیث جو ہم نے روایت کی۔ ”وَلِرِوَايَةِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي الشِّتَاءِ بَكَّرَ بِالظُّهْرِ، وَإِذَا كَانَ فِي الصَّيْفِ أَبْرَدَ بِهَا“ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ”إِذَا كَانَ فِي الشِّتَاءِ“ سردیوں میں ہوتے ”بَكَّرَ بِالظُّهْرِ“ تو جلدی کرتے ظہر میں یعنی جلدی نماز پڑھاتے، ”وَإِذَا كَانَ فِي الصَّيْفِ“ اور جب گرمیوں میں ہوتے ”أَبْرَدَ بِهَا“ تو اس کو ٹھنڈا کرتے، یعنی کچھ گرمی جب کم ہو جاتی تو پھر ظہر کی نماز پڑھاتے گرمیوں میں۔ جی تو یہ حدیث ہے بھئی۔ وہ جو پیچھے آیا تھا نا ”وَمَا نَرْوِيهِ“ وہ حدیث جو ہم روایت کریں گے، اس سے مراد یہ حدیث ہے۔ تو دیکھیے اس کے اندر پتہ چلا کہ گرمیوں میں ظہر کی نماز کو کیا کیا جائے گا؟ ٹھنڈا کر کے، یعنی تاخیر کے ساتھ کچھ ادا کی جائے گی۔ اسی طرح پچھلی حدیث سے پتہ چلا تھا کہ فجر کو بھی روشن کر کے کچھ پڑھا جائے گا یعنی تاخیر کے ساتھ۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف ہوئیں یہ دونوں دلیلیں، کیونکہ وہ کیا فرماتے ہیں کہ سب نمازوں میں جلدی کرنا مستحب ہے۔ ”وَتَأْخِيرُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَتَغَيَّرِ الشَّمْسُ فِي الصَّيْفِ وَالشِّتَاءِ“ اس کا عطف بھی اسی پر ہے: ”وَيُسْتَحَبُّ تَأْخِيرُ الْعَصْرِ“ اور مستحب ہے عصر کی نماز کو مؤخر کرنا ”مَا لَمْ تَتَغَيَّرِ الشَّمْسُ“ جب تک کہ سورج بدل نہ جائے ”فِي الصَّيْفِ وَالشِّتَاءِ“ گرمیوں میں اور سردیوں میں، یعنی دونوں موسموں میں۔ دونوں میں عصر کو مؤخر کیا جائے گا جب تک سورج بدل نہ جائے، یعنی سورج کے بدلنے سے پہلے پہلے۔ بھئی دیکھیے، صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ اس کی روشنی ہلکی ہوتی ہے اور اس کی ٹکیا باقاعدہ دکھائی دیتی ہے، اس پر نظر ٹھہرتی ہے، جمتی ہے۔ پھر جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے اس کی چمک بڑھتی جاتی ہے اور پھر اس پر نظر جمانا مشکل ہو جاتا ہے کچھ دیر کے بعد۔ پھر زوال کے بعد سورج ڈھلنا شروع ہوتا ہے، پھر اس کی روشنی کم ہونے لگتی ہے، اور مغرب سے کچھ دیر پہلے بھئی، آپ دیکھتے ہیں کہ سورج کی ٹکیا واضح نظر آنے لگتی ہے اور اس پر نظر ٹھہرنے لگتی ہے۔ تو بس یہ جب سورج کی ٹکیا پر نظر جمنے لگے تو یہ مکروہ وقت شروع ہو گیا۔ اس سے پہلے پہلے کیا ہے؟ ادا کی جائے۔ مؤخر کی جائے عصر کی نماز لیکن اس وقت سے پہلے پہلے ادا کر لی جائے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَتَأْخِيرُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَتَغَيَّرِ الشَّمْسُ فِي الصَّيْفِ وَالشِّتَاءِ“ اور عصر کو مؤخر کرنا گرمیوں میں اور سردیوں میں جب تک کہ سورج متغیر نہ ہو جائے۔ ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَكْثِيرِ النَّوَافِلِ“ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کیوں مؤخر کیا جائے گا عصر کی نماز کو؟ کہتے ہیں بوجہ اس میں جو ہے نوافل کی تکثیر ہے ”لِكَرَاهَتِهَا بَعْدَهُ“ اس وجہ سے کہ نوافل مکروہ ہیں ”بَعْدَهُ“ عصر کی نماز کے بعد۔ بھئی آپ جانتے ہیں فقہ کا مسئلہ، پڑھا ہوگا سنا ہوگا کہ عصر کی نماز کے بعد نوافل کا پڑھنا مکروہ ہے بھئی۔ تو عصر سے پہلے پہلے نوافل پڑھے جا سکتے ہیں، تو لہٰذا عصر کی نماز ذرا مؤخر کی جائے گی تو نوافل زیادہ پڑھنے کا موقع مل جائے گا بھئی۔ اور اگر جلدی ادا کر لیں گے پھر تو عصر کی نماز کے بعد نوافل کا ادا کرنا مکروہ ہے، تو اس لیے تاخیر کی جائے گی تاکہ نوافل زیادہ سے زیادہ کوئی پڑھنا چاہے پڑھ سکے بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَكْثِيرِ النَّوَافِلِ“ بوجہ اس کے کہ اس کے اندر نوافل کی تکثیر ہے ”لِكَرَاهَتِهَا بَعْدَهُ“ بوجہ نوافل کے مکروہ ہونے کے ”بَعْدَهُ“ أَيْ بَعْدَ الْعَصْرِ أَيْ صَلَاةِ الْعَصْرِ کہ عصر کی نماز کے بعد مکروہ ہیں۔ ”وَالْمُعْتَبَرُ تَغَيُّرُ الْقُرْصِ“ اچھا بھئی، جب تک سورج نہ بدل جائے متن میں آیا، اس سے کیا مراد ہے؟ بعض فقہاء نے لکھا اس کا کہ سورج جب ایک دو نیزے کی مقدار بلند رہ جائے تو یہ اب تغیرِ شمس ہو گیا، اس سے پہلے پہلے ادا کی جائے۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ نہیں، صحیح قول یہ ہے کہ جب سورج پر نظر جمنے لگے تو بس اب کہا جائے گا سورج متغیر ہو گیا، ایک دو نیزوں کا اعتبار نہیں بلکہ جب اس پر نظر ٹھہرنے لگے تو کہا جائے گا متغیر ہو گیا، اس سے پہلے پہلے ادا کی جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُعْتَبَرُ تَغَيُّرُ الْقُرْصِ“ اور معتبر جو ہے اس کے اندر، قرص کہتے ہیں ٹکیا کو، ٹکیا۔ ”تَغَيُّرُ الْقُرْصِ“ سورج کی ٹکیا کا بدلنا معتبر ہے، یعنی وہ ایک دو نیزوں کا اعتبار نہیں ہے۔ سورج کی ٹکیا کا بدلنا معتبر ہے ”وَهُوَ أَنْ يَصِيرَ بِحَالٍ“ اور وہ یہ کہ سورج کی ٹکیا ہو جائے اس حال پر ”لَا تَحَارُ فِيهِ الْأَعْيُنُ“ کہ نہ چندھیاتی ہوں اس میں ”الْأَعْيُنُ“ آنکھیں، نگاہیں۔ نظریں اس سے چندھیاتی نہ ہوں بھئی۔ سورج جب روشن ہو دوپہر کو یا اس سے پہلے عصر کو جب متغیر ہوتا ہے اس سے پہلے سورج کی ٹکیا پر نظر نہیں جمتی، آنکھیں چندھیا جاتی ہیں بھئی، نظر لوٹ آتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کہتے ہیں: ”أَنْ يَصِيرَ بِحَالٍ لَا تَحَارُ فِيهِ الْأَعْيُنُ“ کہ اس حال پر ہو جائے کہ اس میں آنکھیں نہ چندھیائیں ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ ”وَالتَّأْخِيرُ إِلَيْهِ مَكْرُوهٌ“ اور اس وقت تک مؤخر کرنا مکروہ ہے، یعنی اس سے پہلے پہلے کیا کر لے؟ عصر کی نماز ادا کر لی جائے، اور اس وقت تک مؤخر کرنا کہ یہ وقت آ جائے کہ نظر جمنے لگے سورج کی ٹکیا پر، یہ مکروہ ہے بھئی۔ ”وَيُسْتَحَبُّ تَعْجِيلُ الْمَغْرِبِ“ اور مستحب ہے مغرب میں جلدی کرنا۔ مغرب میں جلدی کرنا مستحب ہے۔ ”لِأَنَّ تَأْخِيرَهَا مَكْرُوهٌ“ اس لیے کیونکہ اس کو مؤخر کرنا مکروہ ہے ”لِمَا فِيهِ مِنَ التَّشَبُّهِ بِالْيَهُودِ“ بوجہ اس کے اندر جو اس کے اندر ہے یعنی، بھئی میں نے پہلے بھی ذکر کیا جگہ جگہ ”مَا“ کا بیان ”مِنْ“ کے ساتھ آتا ہے، ما کا بیان۔ ”لِمَا فِيهِ“ بوجہ اس کے ”فِيهِ“ أَيْ ثَبَتَ فِيهِ جو اس کے اندر ہے، بھئی وہ کیا چیز ہے؟ من سے بیان آیا: ”مِنَ التَّشَبُّهِ بِالْيَهُودِ“ یعنی یہودیوں کے ساتھ مشابہت ہے بھئی، یہودیوں کے ساتھ مشابہت۔ اور اس کا میں نے، تو اس کا ”مِنْ“ کا ترجمہ 'یعنی' سے کرتے ہیں۔ تو لفظی ترجمہ یوں ہوا: ”لِأَنَّ تَأْخِيرَهَا مَكْرُوهٌ“ اس لیے کیونکہ مغرب کی نماز کو مؤخر کرنا مکروہ ہے ”لِمَا فِيهِ“ اس چیز کی وجہ سے ”فِيهِ“ جو اس کے اندر ہے، جو اس تاخیر کے اندر ہے، وہ کیا ہے؟ ”مِنَ التَّشَبُّهِ بِالْيَهُودِ“ یعنی یہودیوں کے ساتھ تشبیہ۔ با محاورہ ترجمہ کرنے کا طریقہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو من کے ذریعے جو بیان آیا ہے، اس بیان کو، یہ کس کا بیان ہے؟ ما کا، ما موصولہ کا، تو اس کو اٹھا کر ما موصولہ کی جگہ پر لے جائیں اور پھر ترجمہ کیجیے: ”لِمَا فِيهِ“ اس وجہ سے جو اس میں یہودیوں کے ساتھ مشابہت ہے، اس میں کیا ہے؟ یہودیوں کے ساتھ مشابہت ہے۔ تو یہودی جو ہیں وہ مغرب کی جو اپنی عبادت ہے اس کو تاخیر کے ساتھ ادا کرتے ہیں، تو ان کی مشابہت سے بچنا ضروری ہے، اس لیے اس کو مکروہ قرار دیا گیا۔ یہ ایک عقلی دلیل ذکر کر دی کہ مستحب ہے مغرب کی نماز کو جلدی ادا کرنا۔ دوسری دلیل: ”وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْمَغْرِبَ وَأَخَّرُوا الْعِشَاءَ“ کہ ہمیشہ میری امت جو ہے ”بِخَيْرٍ“ وہ خیر پر رہے گی ”مَا عَجَّلُوا الْمَغْرِبَ“ جب تک کہ وہ جلدی کرتے رہیں گے مغرب میں ”وَأَخَّرُوا الْعِشَاءَ“ اور مؤخر کرتے رہیں گے عشاء۔ میری امت ہمیشہ خیر پر، بھلائی پر رہے گی جب تک وہ مغرب میں جلدی کریں اور جب تک وہ عشاء میں تاخیر کریں۔ تو یہ دیکھیے یہاں سے بھی پتہ چلا کہ مغرب کی نماز میں جلدی کی جائے گی بھئی۔ یہاں پر اعتراض ہوتا ہے صاحبِ ہدایہ پر بھئی کہ دو دلیلیں ذکر کیں، ایک عقلی دلیل اور ایک حدیث ذکر کی، ہونا حدیث جو ہے اس کو پہلے ذکر کرنا چاہیے تھا اور عقلی دلیل کو بعد میں ذکر کرنا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے عقلی دلیل کو پہلے ذکر کیا اور حدیث کو بعد، یعنی نقلی دلیل کو بعد میں ذکر کیا۔ تو جواب اس کا یہ کہ حدیث کے آخر میں آ رہا ہے ”وَأَخَّرُوا الْعِشَاءَ“ اور عشاء کو کیا کریں؟ مؤخر کریں، اور آگے متن میں آ رہا ہے ”وَتَأْخِيرُ الْعِشَاءِ“ تو آگے تاخیرِ عشاء کا ذکر تھا، تو لہٰذا حدیث کے اندر جو بات ذکر ہوئی تھی وہ آگے آنے والی بات کے ساتھ مل جائے بھئی، اس لیے اس کو کیا کیا؟ کیونکہ حدیث میں بھی آخر میں کس کا ذکر؟ عشاء کی تاخیر کا، اور آگے متن میں بھی کس کا ذکر؟ عشاء کی تاخیر کا، اس لیے اس کے قریب کرنے کے لیے، ساتھ ملانے کے لیے حدیث کو مؤخر ذکر کیا بھئی۔ ”وَتَأْخِيرُ الْعِشَاءِ إِلَى مَا قَبْلَ ثُلُثِ اللَّيْلِ“ اور عشاء کو مؤخر کرنا، یعنی أَيْ يُسْتَحَبُّ تَأْخِيرُ الْعِشَاءِ اور مستحب ہے عشاء کی نماز کو مؤخر کرنا ”إِلَى مَا قَبْلَ ثُلُثِ اللَّيْلِ“ ثلثِ لیل سے پہلے تک، یعنی ایک تہائی رات کے گزرنے سے پہلے تک مؤخر کرنا، یعنی ایک تہائی رات گزرنے کے لگ بھگ کیا کر دینا ہے اس کو؟ مؤخر کر دینا ہے، اس سے پہلے بس اس کے قریب۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے: ”لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ“ ”لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي“ اگر میں یہ دشوار نہ پاتا اپنی امت پر ”لَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ“ تو البتہ میں مؤخر کر دیتا عشاء کی نماز کو ”إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ“ ایک تہائی رات تک۔ اگر میں یہ اپنی امت پر دشوار نہ پاتا اس بات کو کہ میری امت اس کو مشکل سمجھے گی، دشوار سمجھے گی، تو میں عشاء کے بارے میں کیا حکم دیتا؟ کب تک اس کو مؤخر کرو؟ ثلثِ لیل تک بھئی۔ معلوم ہوا ثلثِ لیل تک مؤخر کرنا کیا ہے؟ افضل ہے جبھی حضور علیہ السلام یہ فرما رہے ہیں۔ جی، یہ ایک نقلی دلیل۔ اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”وَلِأَنَّ فِيهِ قَطْعَ السَّمَرِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ بَعْدَهُ“ سَمَرٌ اور سَمْرٌ، سمر کا معنی ہے رات کو باتیں کرنا، رات کی قصہ گوئی بھئی، رات کو گپ شپ لگانا، باتیں کرنا۔ اور آگے ”بَعْدَهُ“ اس کو ظرف بنائیں سمر کے لیے، أَيْ بَعْدَهُ أَيْ بَعْدَ الْعِشَاءِ عشاء کے بعد باتیں کرنا، ”اَلسَّمَرُ بَعْدَهُ“ عشاء کے بعد باتیں کرنا۔ جی، ”الْمَنْهِيُّ عَنْهُ“ یہ صفت ہے سمر کی، عشاء کے بعد باتیں کرنا ”الْمَنْهِيُّ عَنْهُ“ جس سے منع کیا گیا ہے۔ عشاء کے بعد بیٹھ کر باتیں کرنے اور قصہ گوئی سے حدیث کے اندر منع کیا گیا ہے، اس لیے کیونکہ اگر اس کے بعد عشاء کے بعد بیٹھ کر گپ شپ لگائے گا، باتیں کرے گا تو پھر نیند پوری نہیں ہوگی اور پھر فجر کے اندر مشکل پیش آئے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس لیے، تو یہاں پر دلیل ذکر ہو رہی ہے: ”وَلِأَنَّ فِيهِ قَطْعَ السَّمَرِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ بَعْدَهُ“ اور اس لیے کیونکہ اس کے اندر، کس کے اندر؟ تاخیرِ عشاء میں، ھا ضمیر کس کو راجع؟ تاخیرِ عشاء۔ اس لیے کیونکہ تاخیرِ عشاء کے اندر قطع کرنا ہے، کاٹنا ہے یعنی ختم کرنا ہے۔ کس چیز کو ختم کرنا ہے؟ ”اَلسَّمَرَ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ بَعْدَهُ“ عشاء کے بعد جو باتیں کرنا ہے جس سے منع کیا گیا ہے اس کو ختم کرنا ہے۔ جب عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی جائے گی، بھئی اگر جلدی ادا کر لی جائے گی پھر تو کافی وقت ہوگا تو ہو سکتا ہے بعض لوگ پھر بھی کیا کر لیں؟ باتوں میں مشغول نہ ہو جائیں، لیکن جب عشاء کی نماز مؤخر کر کے ادا کی جائے گی تو اب تو رات کافی گزر چکی، اب لوگ کیا کریں گے؟ عشاء کے بعد بیٹھنے سے اور باتیں کرنے سے بچیں گے کہ پھر صبح نیند پوری نہیں ہوگی، تو اس وجہ سے عشاء کو مؤخر کرنا مستحب ہے تاکہ عشاء کے بعد کی باتیں ختم ہو جائیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے ”وَلِأَنَّ فِيهِ قَطْعَ السَّمَرِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ بَعْدَهُ“ اس لیے کیونکہ تاخیرِ عشاء کے اندر عشاء کے بعد قصہ گوئی جس سے منع کیا گیا ہے اس کا ختم کرنا ہے۔ ”وَقِيلَ فِي الصَّيْفِ تُعَجَّلُ كَيْ لَا تَتَقَلَّلَ الْجَمَاعَةُ“ اور کہا گیا ہے بھئی کہ گرمیوں کے اندر ”تُعَجَّلُ“ جلدی کی جائے گی عشاء کے اندر ”كَيْ لَا تَتَقَلَّلَ الْجَمَاعَةُ“ تاکہ کہیں جماعت کم نہ ہو جائے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ گرمیوں میں عشاء کے اندر جلدی کی جائے گی تاکہ کہیں جماعت کم نہ ہو جائے، لوگ تھوڑے نہ آئیں۔ اس لیے کیونکہ گرمیوں کے اندر رات چھوٹی ہوتی ہے، تو اگر عشاء تاخیر سے ادا کی جائے گی تو لوگ سستی کریں گے کہ بھئی رات تو چھوٹی سی ہے، عشاء میں ابھی جماعت میں تو بڑی دیر ہے، تو خود ہی اکیلے ہی پڑھ کر جلدی سونے کی کوشش کریں گے اور اس کی وجہ سے جماعت چھوٹی ہو جائے گی، حالانکہ جماعت تو جتنی بڑی ہو اتنی ہی زیادہ اس کی فضیلت اور ثواب زیادہ ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ فِي الصَّيْفِ تُعَجَّلُ“ اور کہا گیا ہے گرمیوں میں جلدی کی جائے گی، جلدی پڑھی جائے گی ”كَيْ لَا تَتَقَلَّلَ الْجَمَاعَةُ“ تاکہ کہیں جماعت قلیل نہ ہو جائے۔ ”وَالتَّأْخِيرُ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ مُبَاحٌ“ اور مؤخر کرنا عشاء کو نصفِ لیل تک، آدھی رات تک، ”مُبَاحٌ“ یہ مباح ہے، جائز ہے۔ آدھی رات تک یاد رکھیے عشاء کو مؤخر کرنا جائز ہے۔ عشاء کا وقت تو فجر تک ہے بھئی طلوعِ فجر تک، فجرِ صادق تک بھئی، لیکن آدھی رات تک مؤخر، ثلثِ لیل کس تک مؤخر کرنا مستحب، اور آدھی رات تک مؤخر کرنا جائز ہے، مباح ہے، اور آدھی رات کے بعد پڑھنا یہ مکروہ ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّأْخِيرُ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ مُبَاحٌ“ اور مؤخر کرنا عشاء کی نماز کو آدھی رات تک ”مُبَاحٌ“ یہ جائز ہے ”لِأَنَّ دَلِيلَ الْكَرَاهَةِ وَهُوَ تَقْلِيلُ الْجَمَاعَةِ عَارَضَهُ دَلِيلُ النَّدْبِ وَهُوَ قَطْعُ السَّمَرِ بِوَاحِدٍ فَيَثْبُتُ الْإِبَاحَةُ إِلَى النِّصْفِ“۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی نصفِ لیل تک مؤخر کرنا جائز کیوں ہے؟ کہتے ہیں دیکھیے یہاں دو دلیلیں ہیں اور ان دونوں میں ٹکراؤ آیا، تعارض آ رہا ہے۔ ایک دلیل ہے کراہت کی، ایک دلیل ہے استحباب کی، کس چیز کی؟ استحباب کی۔ کراہت کی دلیل یہ ہے کہ اگر آدھی رات تک اس سے زیادہ یعنی ثلثِ لیل سے زیادہ آدھی رات کے لگ بھگ تک اگر عشاء کی نماز کو مؤخر کیا جائے گا تو جماعت چھوٹی ہو جائے گی کیونکہ لوگ سستی کریں گے اور گھر پر ہی نماز پڑھ کر سو جائیں گے کہ اس سے زیادہ تاخیر ہو گئی نیند پوری نہیں ہوگی، اور تو یہ دلیل کس چیز کی؟ کراہت کی، معلوم ہوا اس سے زیادہ ثلث سے زیادہ مؤخر کرنا مکروہ ہے، مکروہ ہے۔ اور یعنی آدھی رات تک، آدھی رات تک مؤخر کرنا مکروہ ہے۔ یہ دلیل ہوئی کراہت کی۔ اور ایک ہے دلیل ندب کی کہ مؤخر کریں گے تو وہ رات کی قصہ گوئی وہ ختم ہو جائے گی، کیونکہ جتنی مؤخر ہوگی پھر اس کے بعد کوئی باتوں کے لیے نہیں بیٹھے گا کیونکہ اب وقت ہی تھوڑا رہ گیا۔ تو ایک دلیل مؤخر کرنے میں، ایک دلیل کس چیز کی؟ کراہت کی، اور دوسری دلیل ندب کی، اور تو دو دلیلیں آ گئیں تو ”وَإِذَا تَعَارَضَا تَسَاقَطَا“ جب دونوں میں تعارض آیا تو دونوں کیا ہو گئیں؟ ساقط ہو گئیں دونوں دلیلیں بھئی، ایک ٹکراؤ آیا اور ختم ہوئیں تو لہٰذا نصف تک جائز ہو جائے گا، باقی کیا رہ جائے گی؟ اباحت۔ معلوم ہوا ندب کے مقابلے میں کون سی دلیل آ گئی؟ کراہت والی، تو معلوم ہوا مندوب بھی نہیں، اور کراہت والی بھی ختم ہوئی دلیل، معلوم ہوا مکروہ بھی نہیں، تو باقی کیا رہ گئی؟ اباحت رہ گئی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ دَلِيلَ الْكَرَاهَةِ وَهُوَ تَقْلِيلُ الْجَمَاعَةِ“ اس لیے کیونکہ کراہت کی جو دلیل ہے اور وہ جماعت کا کم کرنا ہے ”عَارَضَهُ دَلِيلُ النَّدْبِ“ تو یہ جو کراہت والی دلیل ہے اس کے معارض ہو گئی اس کے مقابل ہو گئی ندب کی دلیل، مستحب ہونے کی دلیل ”وَهُوَ قَطْعُ السَّمَرِ بِوَاحِدٍ“ اور وہ کسی ایک کے ساتھ قصہ گوئی جو ہے اس کو ختم کرنا ہے، یہ ندب کی دلیل ہے۔ تقلیلِ جماعت یہ کون سی دلیل تھی؟ کراہت، اور قطعِ سمر بواحد یہ کون سی دلیل ہے؟ یہ استحباب کی دلیل ہے، یہ اس کراہت والی دلیل کے مقابل ہو گئی ”فَيَثْبُتُ الْإِبَاحَةُ إِلَى النِّصْفِ“ تو اباحت مباح ہونا ثابت ہو گیا نصفِ لیل تک۔ ”وَإِلَى النِّصْفِ الْأَخِيرِ مَكْرُوهٌ“ اور آخری نصف رات تک، یعنی پہلا حصہ نصف نہیں بلکہ دوسرا نصف حصہ جو ہے نصفِ اخیر جو ہے اس تک مؤخر کرنا عشاء کی نماز کو ”مَكْرُوهٌ“ یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے۔ بھئی اس کی کیا دلیل ہے کہ آدھی رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھنا مکروہ ہے؟ بھئی دیکھیے، یہاں اب دلیلِ کراہت تو ہے، دلیلِ ندب کوئی نہیں۔ دلیلِ کراہت کیا؟ آدھی رات کے بعد پڑھیں گے، آخری نصف حصے میں رات کے پڑھیں گے تو کیا ہوگی؟ جماعت کم ہوگی، لوگ سستی کر کے گھر پر ہی پڑھ کر سونے کی کوشش کریں گے کہ جلدی سو جائیں بھئی، تو تقلیلِ جماعت تو ہوگی یعنی کراہت والی دلیل تو آ گئی، لیکن ندب والی کیا دلیل تھی؟ رات کی قصہ گوئی کا خاتمہ ہوگا؟ کہتے ہیں رات کی قصہ گوئی تو پہلے ہی ختم ہو چکی، اتنی تاخیر کے بعد تو کوئی پھر بیٹھ کر باتیں نہیں کرے گا تو وہ قصہ گوئی تو ختم ہو ہی چکی، اب صرف کون سی دلیل رہ گئی؟ کراہت والی دلیل رہ گئی، تو لہٰذا اب نصفِ اخیر میں نماز عشاء کی پڑھنا مکروہ ہوگا، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَقْلِيلِ الْجَمَاعَةِ“ بوجہ اس میں جماعت کے تقلیل ہونے کے، ”وَقَدِ انْقَطَعَ السَّمَرُ قَبْلَهُ“ اور تحقیق سمر تو یعنی رات کی قصہ گوئی وہ تو ختم ہو چکی ہے ”قَبْلَهُ“ اس سے پہلے ہی بھئی، اتنی تاخیر ہو چکی ہے تو اب اس کے بعد تو کوئی ویسے بھی نہیں بیٹھے گا۔ ”وَيُسْتَحَبُّ فِي الْوِتْرِ لِمَنْ يَأْلَفُ صَلَاةَ اللَّيْلِ آخِرُ اللَّيْلِ“ اور مستحب ہے وتر کے اندر ”لِمَنْ يَأْلَفُ صَلَاةَ اللَّيْلِ“، أَلِفَ يَأْلَفُ کے معنی ہوتے ہیں محبت کرنے کے اور اسی طرح اس کے معنی ہوتے ہیں عادت ہونے کے، تو مستحب ہے وتروں میں ”لِمَنْ يَأْلَفُ صَلَاةَ اللَّيْلِ“ جس کو عادت ہے رات کی نماز کی یعنی تہجد کی جس کو عادت ہے یا یوں کہیں جس کو محبت ہے تہجد کی نماز سے، اس کے لیے مستحب ہے وتروں میں ”آخِرُ اللَّيْلِ“ رات کا آخر، آخری حصے میں وتر پڑھے یہ اس کے لیے مستحب ہے جس کو تہجد کی عادت ہے۔ صلاۃ اللیل سے کیا مراد؟ تہجد بھئی۔ ”فَإِنْ لَمْ يَثِقْ بِالِانْتِبَاهِ أَوْتَرَ قَبْلَ النَّوْمِ“ اور اگر اس کو بھروسا نہ ہو، اعتماد نہ ہو ”بِالِانْتِبَاهِ“ جاگنے کا، کہ رات کے آخری حصے میں جاگنے کا بھروسا اور اعتماد نہ ہو کہ اس وقت آنکھ نہیں کھلے گی تو ”أَوْتَرَ قَبْلَ النَّوْمِ“ تو وتر پڑھ لے ”قَبْلَ النَّوْمِ“ سونے سے پہلے۔ مستحب تو یہ ہے کہ آخری حصے میں پڑھے لیکن اگر جاگنے کا یقین نہ ہو تو پھر کیا کر لے؟ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ آخِرَ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ“ بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ آخِرَ اللَّيْلِ“ جس کو یہ خوف ہے کہ وہ نہیں اٹھے گا آخرِ لیل میں، رات کے آخری حصے میں ”فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ“ تو اس کو وتر پہلے حصے میں پہلے پڑھ لینے چاہییں، ”وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَ اللَّيْلِ“ اور جس کو توقع ہو کہ وہ آخرِ لیل میں رات کے آخری حصے میں اٹھ جائے گا ”فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ“ تو اس کو آخرِ لیل میں وتر پڑھنے چاہییں۔ ”وَإِذَا كَانَ يَوْمُ غَيْمٍ فَالْمُسْتَحَبُّ فِي الْفَجْرِ وَالظُّهْرِ وَالْمَغْرِبِ تَأْخِيرُهَا، وَفِي الْعَصْرِ وَالْعِشَاءِ تَعْجِيلُهَا“۔ غَيْمٌ کہتے ہیں بادل کو، بادل۔ ”وَإِذَا كَانَ يَوْمُ غَيْمٍ“ اور جب بادل والا دن ہو، یعنی ابر آلود دن ہو، ابر چھایا ہوا ہو آسمان پر، بادل چھائے ہوں، ”فَالْمُسْتَحَبُّ فِي الْفَجْرِ وَالظُّهْرِ وَالْمَغْرِبِ تَأْخِيرُهَا“ تو مستحب ہے فجر کی نماز میں اور ظہر کی نماز میں اور مغرب کی نماز میں ”تَأْخِيرُهَا“ نماز کو مؤخر کرنا، ”وَفِي الْعَصْرِ وَالْعِشَاءِ تَعْجِيلُهَا“ عصر اور عشاء کی نماز میں ”تَعْجِيلُهَا“ نماز کو جلدی پڑھنا بھئی جلدی کرنا اس میں۔ اچھا، تین نمازوں میں مستحب ہے بادل والے دن تاخیر کرنا، تاخیر کرنا۔ اور دو نمازوں میں مستحب ہے جلدی کرنا۔ اب یہ عموماً یاد نہیں رہتا کہ کون سی نمازوں میں تاخیر مستحب اور کن میں تعجیل مستحب، تو اس کے لیے یاد رکھنے کے لیے بھئی علماء نے ضابطہ ذکر کیا ہے، ضابطہ ہے: ”اَلْعَيْنُ مَعَ الْغَيْنِ“۔ ”اَلْعَيْنُ مَعَ الْغَيْنِ“، عین کس کے ساتھ ہے؟ عین غین کے ساتھ ہے بھئی، ”اَلْعَيْنُ مَعَ الْغَيْنِ“۔ عین سے بھئی وہ نمازیں جن کے شروع میں عین آ رہا ہے، اور وہ کون کون سی ہیں؟ عصر اور عشاء، عصر اور عشاء۔ اور ان میں عجلت کی جائے گی، جلدی کی جائے گی، عجلت کا لفظ بھی کس سے بنتا ہے؟ عین سے، تو جن نمازوں کے شروع میں عین ہے ان میں عجلت کی جائے گی، ”مَعَ الْغَيْنِ“، غین سے ہے غیم بھئی، غین سے کیا بنتا ہے؟ متن میں آیا غیم، بادل۔ ”اَلْعَيْنُ مَعَ الْغَيْنِ“ یعنی عین والی نمازوں میں عجلت ہوگی ”مَعَ الْغَيْنِ“ أَيْ مَعَ الْغَيْمِ کس کے ساتھ؟ بادلوں کے ساتھ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب یہ ضابطہ ذہن میں انسان رکھے پھر نہیں بھولتا بھئی غلطی نہیں ہوتی۔ لیکن یہ یاد رکھیے بھئی، یہ تو وہ زمانہ تھا جب گھڑیاں نہیں تھیں بھئی، اوقات کا پتہ نہیں چلتا تھا بھئی، اوقات کا پتہ نہیں چلتا تھا، تو لہٰذا بادل ہیں وقت کا پتہ نہیں، تو یہ نہ ہو کہیں وقت سے پہلے نماز نہ پڑھ لیں یا یہ نہ ہو کہ وقت نکل جائے پھر جا کر کیا کر رہے ہیں؟ نماز پڑھ رہے ہیں وغیرہ۔ یہ ابھی دلیلیں آ رہی ہیں، یہ ویسے میں ذکر کر رہا ہوں تفصیل وہ ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ، تو اس وجہ سے کیا کیا گیا؟ بعض نمازوں میں تعجیل کو مستحب قرار دیا گیا بادلوں کی وجہ سے اور بعضوں میں تاخیر۔ لیکن اب تو گھڑیاں موجود ہیں، اب وقت کا پتہ چل جاتا ہے، تو لہٰذا جب گھڑی موجود تو ایسا کوئی خطرہ نہیں لہٰذا اپنے وقت پر ادا کی جائیں گی۔ ہاں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں گھڑی وغیرہ نہیں پھر اسی پر اسی طرح عمل کیا جائے گا جیسے بیان ہو رہا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دلیل ذکر کرنے لگے ہیں بھئی، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِي تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ تَقْلِيلَ الْجَمَاعَةِ عَلَى اعْتِبَارِ الْمَطَرِ“۔ بھئی عشاء میں کیوں تاخیر کی جاتی کی جائے گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ عشاء کے مؤخر کرنے میں ”تَقْلِيلَ الْجَمَاعَةِ“ جماعت کو کم کرنا ہے ”عَلَى اعْتِبَارِ الْمَطَرِ“ بارش کے اعتبار سے۔ بادل ہیں تو بارش کا احتمال ہے، بارش کا خطرہ ہے یا بارش ہلکی ہو رہی ہے تو پھر اس صورت میں اگر دیر کریں گے تو بارش کی وجہ سے لوگ کیا کریں گے؟ سستی کریں گے، گھروں پر ہی نماز پڑھ لیں گے اور جماعت قلیل ہو جائے گی بھئی، لہٰذا اس وجہ سے کیا کیا جائے؟ عشاء کی نماز میں جلدی کی جائے۔ ”وَفِي تَأْخِيرِ الْعَصْرِ تَوَهُّمَ الْوُقُوعِ فِي الْوَقْتِ الْمَكْرُوهِ“ اور عصر کو مؤخر کرنے میں، عصر میں انہوں نے کیا کہا جلدی کی جائے، تو مؤخر کرنے میں ”تَوَهُّمَ الْوُقُوعِ فِي الْوَقْتِ الْمَكْرُوهِ“ مکروہ وقت میں اس کے واقع ہونے کا وہم ہوگا۔ وہم پڑے گا بھئی کہیں ایسا نہ ہو عصر کی نماز کس وقت میں ادا ہو جائے؟ مکروہ، لہٰذا اس میں تاخیر نہیں کی جائے گی بلکہ تعجیل۔ تو عشاء میں تعجیل کی جائے گی، جلدی کی جائے گی تاکہ جماعت کم نہ ہو جائے، اور عصر میں جلدی کی جائے گی تاکہ کہیں مکروہ وقت میں ادا نہ ہو جائے بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَا تَوَهُّمَ فِي الْفَجْرِ“ اور فجر کی نماز میں کوئی وہم نہیں، باقی نمازوں میں تو تاخیر مستحب تھی بادل والے دن، کہتے ہیں فجر میں کوئی وہم نہیں ”لِأَنَّ تِلْكَ الْمُدَّةَ مَدِيدَةٌ“ اس لیے کیونکہ وہ مدت، وہ وقت جو ہے مدیدہ ہے، لمبا ہے۔ فجر کا وقت لمبا ہے، اس میں اگر تاخیر بھی کی جائے گی گزرنے کا خطرہ نہیں ہے بھئی۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ التَّأْخِيرُ فِي الْكُلِّ لِلِاحْتِيَاطِ“ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ تاخیر کرنا ”فِي الْكُلِّ“ سب نمازوں میں ”لِلِاحْتِيَاطِ“ یہ بطورِ احتیاط، کہ احتیاط کے طور پر، بطورِ احتیاط کے تمام نمازوں میں پانچوں میں تاخیر کی جائے گی، یہ روایت آئی ہے امام صاحب سے۔ ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں؟ دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”أَنَّهُ يَجُوزُ الْأَدَاءُ بَعْدَ الْوَقْتِ لَا قَبْلَهُ“ کہ ادا جائز ہے وقت کے بعد، اس سے پہلے جائز نہیں بھئی۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ یہ روایت آئی ہے کہ بادل والے دن تمام نمازوں میں تاخیر مستحب ہے، کیوں مستحب ہے؟ صاحبِ ہدایہ دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وقت سے پہلے کوئی نماز ادا کرنا جائز نہیں، ظہر کا وقت ابھی ہوا نہیں آپ جلدی کریں، بادل ہیں کہیں ایسا نہ ہو وقت ہونے سے پہلے ہی ظہر کی نماز پڑھ لیں، اور وقت سے پہلے پڑھیں گے تو نماز ہی نہیں ہوگی، اور اگر تاخیر کسی نماز میں کرتے ہیں اور تاخیر کرنے کی صورت میں اگرچہ وقت نکل بھی گیا ہو فرض کریں، وقت نکل بھی جائے پھر بھی نماز بہرحال ہو جائے گی، ادا نہ ہوئی قضاء تو ہو گئی بہرحال، قضاء ہو جائے گی یا نہیں بھئی؟ تو پھر ہو تو جائے گی، تو تاخیر کے اندر احتیاط زیادہ ہے، تعجیل کے اندر خطرہ ہے کہیں وقت سے پہلے ہی ادا نہ ہو جائے بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَجُوزُ الْأَدَاءُ بَعْدَ الْوَقْتِ لَا قَبْلَهُ“ کہ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ادا جائز ہے وقت کے بعد بھی، ”لَا قَبْلَهُ“ اس سے پہلے جائز نہیں ہے بھئی۔ اچھا بھئی، ایک مسئلہ یاد رکھیے، یہاں انہوں نے ذکر کیا کہ آدھی رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھنا مکروہ ہے، آدھی رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ اب یہ مکروہِ تحریمی ہے یا مکروہِ تنزیہی ہے؟ تو یاد رکھیے بعض علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ مکروہِ تحریمی ہے، مکروہِ تحریمی۔ اور یاد رکھیے جو نماز کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے وہ واجب الاعادہ ہوتی ہے، اس کا اعادہ بندے کے ذمے واجب ہوتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا جن کے نزدیک، جن کے نزدیک عشاء کی نماز آدھی رات کے بعد مکروہِ تحریمی ہے تو ان کے نزدیک وہ نماز اگر کوئی پڑھ لیتا ہے وہ واجب الاعادہ ہے، اس کو پھر بعد میں کیا کرنا چاہیے؟ اس کو لوٹانا چاہیے بھئی لوٹانا چاہیے۔ اور لیکن زیادہ اظہر یہ ہے کہ یہ مکروہِ تحریمی نہیں ہے، مکروہِ تنزیہی ہے، تو یہ قول زیادہ صحیح ہے اور اسی کی طرف زیادہ علماء گئے ہیں کہ مکروہِ تنزیہی ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ یہاں کراہت کی دلیل وقت کے اندر کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ مکروہ صرف کس وجہ سے ہے؟ تقلیلِ جماعت، کہ اس وجہ سے جماعت کیا ہو جائے گی؟ کم ہوگی، اس وجہ سے کراہت ہے بھئی، تو یہ مکروہِ تنزیہی ہے مکروہِ تحریمی نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
82 approved lectures · 40 of 82