غَيْرَ أَنَّ الْخُرُوجَ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِالسَّيَلَانِ إِلَى مَوْضِعٍ يَلْحَقُهُ حُكْمُ التَّطْهِيرِ ، وَبِمِلْءِ الْفَمِ فِي الْقَيْءِ ، لِأَنَّ بِزَوَالِ الْقِشْرَةِ تَظْهَرُ النَّجَاسَةُ فِي مَحَلِّهَا فَتَكُونُ بَادِيَةً لَا خَارِجَةً ، بِخِلَافِ السَّبِيلَيْنِ ، لِأَنَّ ذَاكَ الْمَوْضِعَ لَيْسَ بِمَوْضِعِ النَّجَاسَةِ۔
گزشتہ سبق میں نواقض وضو کا بیان شروع ہوا تھا کہ کن کن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ سب سے پہلے آپ نے پڑھا کہ سبیلین سے کوئی چیز خارج ہو، اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ اسی طرح خون اور پیپ، جب یہ بدن سے نکلیں اور بڑھ جائیں اس جگہ کی طرف جس کے شریعت نے پاک کرنے کا حکم دیا ہے، تو اس سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔ اسی طرح اگر قے ہو منہ بھر تو اس سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا بھئی۔ اور پھر یہاں پر امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کا اختلاف ذکر ہوا تھا۔ امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں کہ صرف خروج نجاست جو ہے اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، بلکہ خروج نجاست ہو سبیل معتاد سے تو پھر وضو ٹوٹے گا بھئی۔ لہٰذا بدن کے کسی اور حصے سے خون نکلے، پیپ نکلے، یا اسی طرح قے آئے، اب اگرچہ یہاں خروج نجاست تو ہوا ہے لیکن یہ خروج نجاست سبیل معتاد سے نہیں یعنی سبیلین سے نہیں، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور اس کی دلیل ذکر کی تھی انہوں نے کہ نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے قے کی ”فَلَمْ يَتَوَضَّأْ“ تو آپ نے وضو نہیں فرمایا۔ اور نیز عقلی دلیل بھی ذکر کر دی، کہتے ہیں عقل تو یہ کہتی ہے کہ جہاں سے خروج نجاست ہوا ہے صرف اسی مقام کو دھونا چاہیے، لہٰذا سبیلین سے بھی نجاست خارج ہو تو صرف اسی مقام کو دھونا چاہیے، لیکن شریعت نے چار اعضاء کے دھونے کا، مسح کرنے کا، یعنی وضو کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ بات ہماری عقل میں نہیں آتی کہ ان اعضاء کو دھونے اور ان پر مسح کا حکم کیوں دیا؟ تو اکتفاء کرنا چار اعضاء پر، یہ ایک عقل میں آنے والی بات نہیں، امر تعبدی ہے، امر تعبدی۔ اور جب یہ خِلَافُ الْعَقْلِ ہے تو یہ حکم اپنے مورد پر بند رہے گا اور مورد کیا، شریعت کا حکم کس بارے میں آیا تھا؟ صرف سبیلین سے خارج ہونے کے بارے میں کہ اس صورت میں کیا کر لو؟ وضو کر لو۔ تو وہیں سے جب نجاست نکلے گی تب ہی وضو کیا جائے گا۔ اگر بدن کے کسی اور حصے سے نجاست نکلے تو اس کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ خود خِلَافُ الْعَقْلِ ہے اور قیاس وہاں کیا جاتا ہے جب کسی چیز کی علت اور وجہ عقل میں آ رہی ہو بھئی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی بھئی؟
اس کے جواب میں صاحب ہدایہ نے دلائل ذکر فرمائے۔ ایک حدیث ذکر فرمائی کہ حضور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں: ”الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ“ کہ وضو واجب ہوگا ہر بہتے خون کی وجہ سے، ہر اس خون کی وجہ سے جو بہنے والا ہو۔ اور اسی طرح حدیث میں آتا ہے: ”مَنْ قَاءَ أَوْ رَعَفَ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ“ تو اس کے اندر بھی قے اور ناک سے خون نکلنے کا ذکر ہے اور اس کے بعد وضو کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے، معلوم ہوا قے اور خون وغیرہ نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
اور پھر امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ نے جو عقلی دلیل ذکر کی تھی اس کا بھی جواب ذکر کیا جو ان کا جواب بھی ہے اور ہماری عقلی دلیل بھی ہے بھئی کہ ہم کہتے ہیں کہ سبیلین سے خروج نجاست کی صورت میں زوال طہارت ہوا ہے اور شریعت نے چار اعضاء پر اکتفاء کرنے کا حکم دیا یعنی وضو کرنے کا حکم دیا۔ تو یہاں دو چیزیں ہیں، دو باتیں ہیں: ایک پہلی بات تو یہ کہ خروج نجاست جو ہے، سبیلین میں، خروج نجاست جو ہے اس نے اپنا اثر دکھایا اور طہارت زائل ہو گئی۔ معلوم ہوا خروج نجاست مُزِيلُ الطَّهَارَةِ ہے، طہارت کو زائل کرنے والا ہے۔ اتنی بات تو سمجھ میں آ رہی ہے وہاں سے، عقل، یہ بات تو عقل کے مطابق ہے کہ خروج نجاست سے کیا ہوا؟ طہارت زائل ہوئی۔ باقی پھر یہ چار اعضاء پر اکتفاء کرنے کا حکم جو دیا گیا یعنی وضو کا جو حکم دیا گیا، وہ بات عقل میں آنے والی نہیں۔ لیکن بہرحال پہلی بات تو عقل کے مطابق ہے کہ خروج نجاست جو ہے وہ مُزِيلُ الطَّهَارَةِ ہے، وہ طہارت کو کیا کر دیتی ہے؟ زائل کر دیتی ہے۔ یہ کس کے اندر؟ اصل کے اندر، یعنی سبیلین کے اندر، جو خَارِجٌ مِنَ السَّبِيلَيْنِ ہے۔ تو اگر بدن کے کسی اور حصے سے خون یا پیپ نکلے یا اسی طرح انسان کو قے آئے، تو یہاں بھی خروج نجاست ہوا ہے۔ وہاں بھی خروج نجاست تھا، یہاں بھی خروج نجاست، اور وہاں خروج نجاست مؤثر تھا زوال طہارت کے اندر، اس سے طہارت ختم ہو جاتی تھی، تو یہاں پر بھی خون اور پیپ اور قے کی صورت میں یہ خروج نجاست ہے، یہ مؤثر ہوں گے اور طہارت کو زائل کر دیں گے۔ تو یہ زوال طہارت والا حکم تو متعدی ہوگا بھئی، ظاہری سی بات ہے بھئی۔ بدن سے اور کہیں سے بھی نجاست نکلے تو کون سا حکم لگ جائے گا؟ زوال طہارت والا حکم لگ جائے گا۔ اور باقی وہ جو چار اعضاء پر اکتفاء کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ اگرچہ عقل میں آنے والا نہیں لیکن جب پہلا حکم متعدی ہوا کہ طہارت زائل ہو گئی تو اس کے ساتھ یقینی طور پر دوسرا حکم بھی متعدی ہوگا کہ طہارت زائل ہو گئی ہے اب کیا کر لو؟ وضو کر لو۔ معلوم ہوا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
آگے دیکھیے آج کا سبق بھئی اب:
”غَيْرَ أَنَّ الْخُرُوجَ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِالسَّيَلَانِ“
سَيَلَان، یہاں یاد رکھیے سین پر بھی فتحہ ہے، یا پر بھی فتحہ ہے، تو یا متحرک ہے ساکن نہیں بھئی۔
”إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِالسَّيَلَانِ إِلَى مَوْضِعٍ يَلْحَقُهُ حُكْمُ التَّطْهِيرِ“
یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں صاحب ہدایہ، صاحب ہدایہ۔ سوال اور اشکال یہ ہوتا ہے کہ سبیلین کے اندر خروج نجاست سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن یہ جو خون اور پیپ اور قے کا آپ نے ذکر کیا، اس میں آپ خروج کے ساتھ ایک زائد قید کا اعتبار کرتے ہیں۔ خون اور پیپ میں کہتے ہیں کہ وہ بہنے کے قابل ہو، صرف خروج سے وضو نہیں ٹوٹتا آپ کے نزدیک بلکہ بہنا بھی اس میں ضروری ہے کہ اتنی مقدار ہو کہ اس جگہ کی طرف وہ بڑھ جائے جس کے دھونے کا شریعت نے حکم دیا۔ معلوم ہوا آپ سَيَلَان، بہنے کی بھی شرط لگاتے ہیں۔ اور قے کے اندر صرف خروج قے کا اعتبار نہیں کرتے بلکہ مِلْءُ الْفَمِ کی قید بڑھاتے ہیں کہ منہ بھر ہونی چاہیے بھئی، پھر وضو ٹوٹے گا بھئی۔ تو اگر آپ اس کو کس پر قیاس کر رہے ہیں؟ سبیلین سے جو خارج ہوا اس پر، تو وہاں تو صرف خروج کا اعتبار تھا، یہاں آپ نے سَيَلَان اور مِلْءُ الْفَمِ کی قید اپنی طرف سے بڑھا دی بھئی۔ تو صاحب ہدایہ اس کا جواب دے رہے ہیں، جواب دے رہے ہیں۔
کہتے ہیں بھئی، ہم نے کوئی قید زائد نہیں بڑھائی، زائد نہیں بڑھائی، اصل اعتبار تو خروج ہی کا ہے۔ جہاں خروج پایا جائے گا وہاں، خروج نجاست، وہاں وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور جو آپ ہمیں کہہ رہے ہیں سَيَلَان کی قید ہم نے بڑھائی، بھئی دیکھیے یہ جو انسانی کھال ہے، جلد ہے، اس ساری کے نیچے خون موجود ہے۔ اس ساری کے نیچے خون موجود ہے، کھال کے ایک ایک حصے کے نیچے خون موجود ہے۔ کھال کے نیچے خون اپنی جگہ پر ہے، تو جب تک یہ خون کھال کے نیچے ہے اپنی جگہ پر ہے اب اگرچہ نجاست موجود ہے لیکن اپنے محل کے اندر موجود ہے اور اس کے باوجود شریعت نے اجازت دی ہے وضو وغیرہ کیا ہے تو کیا کر سکتے ہو؟ نماز پڑھ سکتے ہو، نماز پڑھ لو۔ حالانکہ کھال کے نیچے خون ہے اور خون کیا ہے؟ نجس، نجاست موجود ہے لیکن کہاں پر ہے؟ اپنے محل کے اندر موجود ہے۔ معلوم ہوا جب تک نجاست اپنے محل کے اندر موجود ہو شریعت طہارت کے ٹوٹنے کا حکم نہیں لگاتی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟
لہٰذا جب ایک آدمی کو خراش وغیرہ بدن پر آئی، باریک کھال اتر گئی، خون اپنی جگہ پر اب دکھائی دینے لگا بھئی، وہ باریک کھال اوپر سے اتر گئی، خون ظاہر ہو گیا۔ تو یہ جو خون ہے، یہ ابھی بھی اپنی جگہ پر ہی ہے، صرف ظہور ہوا ہے، خروج ہوا ہی نہیں بھئی۔ ہاں، یہ خون جب بہے گا تو معلوم ہوا اپنی جگہ سے منتقل ہو گیا ہے۔ کیا ہوا ہے؟ منتقل ہو گیا ہے۔ اب ہم کہیں گے خروج ہوا ہے۔ اس سے پہلے خروج ہے ہی نہیں، صرف کیا چیز ہے؟ ظہور ہے بھئی، ظہور ہے بھئی۔ ظہور ہے۔ تو ظہور کی صورت میں نہیں وضو ٹوٹتا بلکہ معتبر خروج ہی ہے جیسے سبیلین کے اندر خروج معتبر ہے، خروج نجاست، تب ہی وضو ٹوٹے گا۔ تو یہاں باقی جگہ بھی خروج ہی کا اعتبار ہے لیکن خروج ہوگا کب؟ کب کہیں گے کہ وہ خون خارج ہوا ہے؟ جب وہ اپنی جگہ چھوڑ دے، آگے بڑھ جائے، ایک دو قطرے کے برابر ہے، بہنے کے قابل ہے، اب ہم کیا کہیں گے؟ کہ خارج ہوا ہے، خروج پایا گیا، اور خروج ہی معتبر تھا تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔ لہٰذا اگر وہ اپنی جگہ پر ہے آگے نہیں بڑھا تو پھر خروج ہوا ہی نہیں بلکہ کیا ہوا ہے؟ ظہور ہوا۔ ظہور سے تو وضو نہیں ٹوٹے گا بلکہ کس سے ٹوٹے گا؟ خروج، خروج نجاست معتبر ہے، ظہور نجاست نہیں۔ کہ وہ اپنی جگہ کو چھوڑ دے، محل کو چھوڑ دے۔
اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی کہ سبیلین کے اندر ظہور بھی ہو جائے تو آپ کہتے ہیں وضو ٹوٹ گیا۔ پیشاب کا قطرہ ظاہر ہوا، ابھی بہا نہیں، تھوڑا سا بس ظاہر ہوا، لیکن آپ کیا حکم لگاتے ہیں؟ وضو، تو خروج تو وہاں بھی نہیں، وہاں تو صرف ظہور ہے۔ اور تو آپ کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ پیشاب کے قطرے کا ظہور بھی ہو گیا، وہ ظاہر ہو گیا اپنے مقام پر، تو بس وضو ٹوٹ گیا، وضو کرنا پڑے گا بھئی۔ تو وہ بھی بتلائیں گے صاحب ہدایہ آپ کو کہ بھئی پیشاب کا قطرہ جب ظاہر ہوا تو جہاں ظاہر ہوا ہے پیشاب کا محل یہ ہے یا یہ پیچھے سے آیا ہے؟ پیچھے، اس کا محل یہ نہیں ہے، پیشاب تو اپنے مقام پر تھا، وہاں سے یہاں آیا۔ معلوم ہوا انتقال پایا گیا، منتقل ہو گیا، اپنی اصل جگہ سے منتقل ہو گیا ہے۔ تو لہٰذا وہاں پر، وہاں پر ظہور بھی دراصل خروج ہے کہ اس نجاست نے اپنے محل کو چھوڑ دیا ہے، اپنے محل سے کیا ہوئی ہے؟ منتقل ہوئی ہے۔ تو وہاں پر اس لیے ہم ظہور ہی کیا چیز ہے دراصل؟ خروج ہے، لیکن کھال پر اگر پیپ یا زخم ہو، خون ہو تو وہ جب تک وہ بہے گا نہیں وہ اس میں انتقال نہیں بھئی۔ تو انتقال ضروری ہے، منتقل ہونا، تب ہی ہم کیا کہیں گے؟ خروج ہوا ہے۔ تو پیشاب، پاخانے وغیرہ کے وہاں پر تو ظہور ہو جائے تو وہاں گویا خروج ہو چکا ہے کہ نجاست اپنے محل کو چھوڑ کر آگے بڑھ گئی ہے بھئی۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب دیکھیے کتاب پر بھئی:
”غَيْرَ أَنَّ الْخُرُوجَ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِالسَّيَلَانِ إِلَى مَوْضِعٍ يَلْحَقُهُ حُكْمُ التَّطْهِيرِ“
علاوہ اس کے کہ خروج جو ہے یہ تو متحقق ہوگا ”بِالسَّيَلَانِ“، بہنے سے ہی۔ انما آیا، خروج کب پایا جائے گا؟ بہنے سے ہی خروج پایا جائے گا۔ ”إِلَى مَوْضِعٍ“ ایسی جگہ کی طرف ”يَلْحَقُهُ حُكْمُ التَّطْهِيرِ“ کہ جس کے ساتھ پاک کرنے کا حکم ملا ہوا ہو اس جگہ تک۔
”وَبِمِلْءِ الْفَمِ فِي الْقَيْءِ“
اور منہ بھر ہونے سے قے کے اندر بھئی۔
”لِأَنَّ بِزَوَالِ الْقِشْرَةِ“
قِشْرَة کہتے ہیں چھلکے کو بھئی، قِشْرَةٌ کسے کہتے ہیں؟ چھلکے کو۔ یہاں مراد کھال ہے، باریک کھال بھئی جسم کی جو اوپر کی ہے۔
”لِأَنَّ بِزَوَالِ الْقِشْرَةِ“ اس لیے کیونکہ جلد کے اور کھال کے زائل ہو جانے سے
”تَظْهَرُ النَّجَاسَةُ فِي مَحَلِّهَا“ نجاست جو ہے وہ اپنے محل میں ظاہر ہوگی
”فَتَكُونُ بَادِيَةً لَا خَارِجَةً“
بَدَا يَبْدُو کے معنیٰ ہیں ظاہر ہونے کے، تو وہ نجاست ظاہر ہوئی ہے، ظاہر ہونے والی ہے ”لَا خَارِجَةً“ خارج ہونے والی، تو وہ ظاہر تو ہے خارج نہیں،
”بِخِلَافِ السَّبِيلَيْنِ“ بخلاف کس کے؟ سبیلین کے، جو پیشاب وغیرہ کے جو راستے ہیں۔
”لِأَنَّ ذَاكَ الْمَوْضِعَ لَيْسَ بِمَوْضِعِ النَّجَاسَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ مقام جو ہے وہ نجاست کا مقام نہیں ہے۔ وہاں پر نجاست ظاہر ہو تو وہ تو نجاست کا مقام نہیں، معلوم ہوا نجاست پیچھے سے منتقل ہو کر اب اس حصے تک پہنچ گئی ہے۔
”فَيُسْتَدَلُّ بِالظُّهُورِ عَلَى الِانْتِقَالِ وَالْخُرُوجِ“ تو استدلال کیا جائے گا ظہور سے ہی، کس پر؟ انتقال اور خروج پر۔ تو سبیلین کے اندر ظہور ہی انتقال اور خروج ہے لیکن باقی بدن کے اندر ظہور جو ہے وہ خروج نہیں ہے، وہاں انتقال نہیں جب تک وہ بہنے کے قابل نہ ہو بھئی۔ یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
جی، یہاں ایک عبارت کی بات آپ کو بتلا دوں بھئی:
”بِالظُّهُورِ عَلَى الِانْتِقَالِ“
یاد رکھیے سب اسی طرح پڑھتے ہیں: ”عَلَى الِانْتِقَالِ، عَلَى الِانْتِقَالِ“، حالانکہ یہ درست نہیں، یہ رائج غلطی ہے ہمارے ہاں عبارتوں میں بھئی۔ ”عَلَى الِانْتِقَالِ“، دیکھیے انتقال کا ہمزہ میں پڑھ رہا ہوں، عام طور پر سب اسی طرح پڑھتے ہیں۔ حالانکہ انتقال کون سا باب ہے؟ جی، بابِ افتعال ہے اور آپ نے پڑھا ہے بابِ افتعال کا ہمزہ وصلی ہوتا ہے، اور ہمزۂ وصلی آپ پڑھ چکے ہمیشہ درجِ عبارت میں گر جاتا ہے، اس کو کبھی بھی درجِ عبارت کے بیچ میں روانی سے پڑھتے ہوئے کبھی بھی اس کو برقرار نہیں رکھا جاتا۔ لیکن پڑھا اس کو، سب پڑھتے اسی طرح ہیں ”عَلَى الِانْتِقَالِ، عَلَى الِانْتِقَالِ“۔ اب اس کو پڑھ رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے؟ حالانکہ انتقال کا ہمزہ شروع کا وصلی ہے، اس کو کیا ہونا چاہیے؟ گر جانا چاہیے، تو یہ درست نہیں ہے اس طرح پڑھنا۔ پھر کس طرح پڑھیں گے؟ یاد رکھیے اس طرح پڑھیں گے: ”عَلَى لِنْتِقَالِ“۔ کس طرح؟ دیکھیے ”اَلِانْتِقَال“، ال، الف لام آیا شروع میں، اس کا ہمزہ وصلی وہ گر جائے گا، صرف لام رہ گیا۔ آگے انتقال کا ہمزہ بھی وصلی وہ بھی گر جائے گا۔ تو کیا رہ گیا؟ لام، اور آگے نون ہے۔ لام بھی ساکن، ال تھا نا ال، لام بھی ساکن آگے نون بھی ساکن، تو اب لام کو کسرہ دیں گے کیونکہ ”اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“، تو کیا بن جائے گا؟ ”لِنْتِقَال، لِنْتِقَال“۔ ہمیشہ یاد رکھنا، تو یہ اس طرح کے لفظ جگہ جگہ آتے ہیں جہاں مصدر وغیرہ ہوتا ہے اور اس کے شروع میں ہمزۂ وصل ہوتا ہے لیکن اس کو گرایا نہیں جاتا۔ ہاں صرف بابِ افعال کا ہمزہ قطعی ہے، اس کو پڑھا جائے گا وہ نہیں گرے گا کیونکہ وہ ہمزۂ وصل ہے ہی نہیں۔ باقی سارے باب کے جو ہیں ان کے شروع میں جو ہمزۂ وصل آتا ہے وہ درجِ عبارت میں گر جاتا ہے۔
اب مسئلہ ہے کہ اس سے پچھلے لفظ کو کیسے پڑھا جائے گا ملا کر بھئی؟ ملا کر۔ تو ایک بات تو طے ہو گئی ”لِنْتِقَال“، لام کے کسرہ کے ساتھ آپ نے ہمیشہ اس طرح کا لفظ آئے تو اسی طرح پڑھنا ہے۔ پچھلے لفظ کو کیسے ملانا ہے؟ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ذرا اس کو ملا کر پڑھیں لام کے ساتھ۔ پہلے جیسے پڑھتے تھے جو رائج پڑھنا ہے اس طرح ذرا پڑھیں: ”عَلَلْ، عَلَلْ“۔ اصل میں تھا عَلَی، لام عَلَی عین لام اور اس کے بعد الف پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے آپ؟ عَلَی۔ تو جب لام کے ساتھ اس کو ملایا تھا آپ نے ”عَلَلْ“، معلوم ہوا وہ الف گر گیا۔ لام کے بعد جو الف تھا عَلَی کا وہ گر گیا، اور اب صرف لام پر فتحہ پڑھ رہے ہیں ”عَلَلْ“۔ بلکہ ذرا اس کو ملاؤ، الاسلام لفظ کے ساتھ ملا دو، اسلام کا ہمزہ تو وصلی ہے وہ تو نہیں گرے گا، وہاں عَلَی کو ذرا ملائیں کیسے پڑھیں گے؟ ”عَلَى الْإِسْلَامِ، عَلَى الْإِسْلَامِ“۔ تو اس کے ساتھ جوڑ کر دیکھ لیا کریں، وہاں سے آپ کو ہمیشہ پتہ چل جائے گا کہ اس ماقبل والے لفظ کو کیسے پڑھنا ہے۔ تو ”عَلَى الِانْتِقَالِ“ میں عَلَی کا الف کیا ہوا؟ گر گیا۔ صرف لام پر فتحہ رہ گیا ”عَلَلْ“، اگر الف ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ ”عَلَالْ، عَلَالْ“، لیکن آپ تو الف نہیں پڑھ رہے، ”عَلَى الْإِسْلَامِ، عَلَى الْإِسْلَامِ“۔ معلوم ہوا صرف ماقبل میں لام رہ گیا ہے اور اس پر فتحہ پڑھا جا رہا ہے اور اگلے لام کے ساتھ اس کو ملا رہے ہیں ”عَلَلْ“۔ لیکن اگلے لام کو چھوڑو، عَلَی میں کیا رہ گیا؟ الف گر گیا، صرف آخر میں لام پر فتحہ رہ گیا۔ تو ملاتے ہوئے معلوم ہوا اس کا الف، عَلَی کا الف گر جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح کریں گے، عَلَی کا الف گر جائے گا۔ بھئی کیوں گرے گا؟ وجہ کیا؟ اگلے، بھئی وجہ یہ کہ ہم نے ”لِنْتِقَال“، لام کو تو کسرہ دے دیا۔ لیکن یہ کسرہ مستقل لام کی حرکت ہے یا عارضی طور پر ہم نے دیا؟ عارضی طور پر، اور عارضی حرکت کا کوئی اعتبار نہیں، ابھی بھی یوں سمجھا جائے گا گویا لام ساکن ہے۔ لام بھی ساکن، پیچھے عَلَی کا الف بھی ساکن، تو اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ آیا، اور اس صورت میں کیا کرتے ہیں؟ اول حرفِ مدہ جو ہوتا ہے اس کو گراتے ہیں، تو یہاں الف گر جائے گا۔ الف گر، جیسے ”عَلَى الْإِسْلَامِ“ میں الف گر گیا تھا۔ تو کیسے پڑھیں گے؟ ”عَلَى لِنْتِقَالِ، عَلَى... عَلَى لِنْتِقَالِ“۔ تیزی سے پڑھیں گے پتہ بھی نہیں چلے گا ”عَلَى لِنْتِقَالِ“، سننے والا سمجھے گا شاید ”عَلَى الِانْتِقَالِ“ پڑھ رہا ہے کیونکہ رائج تو یہی ہے، سب پڑھتے بھی اسی طرح ہیں لیکن وہ درست نہیں بلکہ کس طرح پڑھا جائے گا؟ ”عَلَى لِنْتِقَالِ، عَلَى لِنْتِقَالِ“۔
بھئی یہاں پر اگر مِنْ آ جائے، مِنْ، کیسے پڑھیں گے؟ جس لفظ کو بھی جوڑنا ہے ذرا آسان طریقہ ہے، الاسلام کے شروع میں لے جاؤ: ”مِنَ الْإِسْلَامِ“۔ معلوم ہوا مِنْ میں نون پر کیا آ چکا؟ فتحہ، ملاتے ہوئے آپ فتحہ لے آتے ہیں: ”مِنَلْ“۔ بس یہاں پر بھی اسی طرح پڑھو فتحہ، لیکن اب ملانا نہیں کیونکہ ”لِنْتِقَالِ“ کے لام کے نیچے تو کسرہ ہے وہ تو ساکن نہیں، نون پر صرف البتہ فتحہ پڑھو: ”مِنَ لِنْتِقَالِ، مِنَ... مِنَ لِنْتِـ“، تیز پڑھیں گے پتہ بھی نہیں چلے گا بھئی: ”مِنَ لِنْتِقَالِ“۔ اچھا، فِي ملائیں گے تو کیسے پڑھیں گے؟ الاسلام کے شروع میں ذرا فِي لے جاؤ: ”فِي الْإِسْلَامِ، فِلْ“، فا کے بعد یا گر چکی ہے۔ اگر یا ہوتی کیسے پڑھتے؟ ”فِيلْ... فِيلْ إِسْلَام“، لیکن ”فِيلْ إِسْلَام“ پڑھتے ہیں یا ”فِلْ إِسْلَام“ پڑھتے ہیں؟ معلوم ہوا یا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر جاتی ہے، صرف فا کے نیچے کسرہ پڑھتے ہیں بس۔ تو یہاں پر بھی ”لِنْتِقَالِ“ سے پہلے فِي آ گیا تو یا کو گرا دیں، فا کے نیچے صرف کسرہ پڑھیں، کیسے پڑھیں گے؟ ”فِـ لِنْتِقَالِ، فِلِنْتِقَالِ“۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن پڑھا ویسے ہر جگہ ہمزۂ وصل کو پڑھتے ہیں حالانکہ تو یہ رائج غلطیوں میں سے ہے بھئی۔
جی، تو کہتے ہیں:
”فَيُسْتَدَلُّ بِالظُّهُورِ عَلَى الِانْتِقَالِ وَالْخُرُوجِ“
تو استدلال کیا جائے گا ظہور سے انتقال اور خروج پر کہ ظہور بھی کیا ہے دراصل؟ انتقال اور خروج ہی ہے سبیلین کے اندر۔ یہاں تک پوری بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے:
”وَمِلْءُ الْفَمِ أَنْ يَكُونَ بِحَالٍ لَا يُمْكِنُ ضَبْطُهُ إِلَّا بِتَكَلُّفٍ“
اب مِلْءُ الْفَمِ کا معنیٰ بیان کر رہے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ مِلْءُ الْفَمِ کا ظاہری معنیٰ کیا ہے؟ منہ بھر ہو، اتنی مقدار جو منہ کو بھر دے۔ لیکن میں نے بتایا یہ تو بہت زیادہ مقدار ہے قے کا، اتنی مقدار کثیر نہیں اس سے بہت کم مقدار ہو وہ بھی ناقض للوضوء ہے۔ تو احناف فرق کرتے ہیں: قلیل قے ناقض للوضوء نہیں، کثیر قے کیا ہے؟ ناقض للوضوء ہے۔ اب قلیل اور کثیر میں فرق کیسے کیا گیا؟ کہتے ہیں کثیر وہ ہے جو مِلْءُ الْفَمِ ہو اور قلیل وہ ہے جو مِلْءُ الْفَمِ نہ ہو۔ لیکن مِلْءُ الْفَمِ کا یہ معنیٰ نہیں کہ منہ کو بھر دے، بلکہ مِلْءُ الْفَمِ کا کیا معنیٰ ہے؟ وہ اب بیان کر رہے ہیں:
”وَمِلْءُ الْفَمِ“ اور منہ بھر ہونے کا معنیٰ یہ ہے ”أَنْ يَكُونَ بِحَالٍ“ کہ وہ اس طور پر ہو ”لَا يُمْكِنُ ضَبْطُهُ إِلَّا بِتَكَلُّفٍ“ کہ روکنا، اس کو ضبط کرنا یعنی اس کو روکنا ممکن نہ ہو مگر کس کے ساتھ؟ تکلف کے ساتھ۔
”لِأَنَّهُ يَخْرُجُ ظَاهِرًا“ اس لیے کیونکہ وہ ظاہراً نکلی ہے ”فَاعْتُبِرَ خَارِجًا“ تو اس کو خارج معنیٰ تسلیم کیا جائے گا، اس کا اعتبار کیا جائے گا بھئی۔
بھئی دیکھیے، قے انسان کو آتی ہے انسان اس کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی صرف بمشکل حلق تک کچھ آئی روک لی، کبھی کچھ منہ تک آ گئی روک لی، اور کبھی زیادہ قے آئی تو اس کو روک نہ سکا بھئی، روک نہ سکا۔ اور قلیل قے وہ ناقض للوضوء نہیں احناف کے نزدیک، کثیر قے ناقض للوضوء ہے۔ اور کثیر کے لیے انہوں نے بتلایا وہ مِلْءُ الْفَمِ ہونی چاہیے بھئی، مِلْءُ الْفَمِ۔ اور مِلْءُ الْفَمِ وہ مقدار ہے جسے انسان بغیر تکلف کے نہ روک سکے، نہ روک سکے۔
بھئی دیکھیے یہ منہ جو ہے منہ انسان کا، منہ کا اندر والا حصہ، یہ مِنْ وَجْهٍ خارج کا حکم ہے اس کا، مِنْ وَجْهٍ داخل کا حکم ہے۔ بعض اعتبارات سے شریعت نے اس کو داخل کا حکم دیا، بعض جگہ پر شریعت نے اس کو خارج کا حکم دیا منہ کا جو اندر والا حصہ ہے۔ جیسے دیکھیے، روزے کی حالت میں کوئی انسان اگر اپنے منہ میں لقمہ رکھے اور منہ بند کر لے، پھر نکال لے، ویسے سمجھانے کے لیے ایک بات کر رہا ہوں بھئی، پھر اس لقمے کو نکال لے آپ کیا حکم لگائیں گے؟ روزہ ٹوٹ گیا کہ نہیں ٹوٹا؟ جی؟ روزہ نہیں ٹوٹا بھئی۔ کراہت وغیرہ کی بات نہیں کر رہا ویسے ایک بات کر رہا ہوں کہ روزہ ٹوٹے گا یا نہیں یہ بتائیں؟ روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ وہ لقمہ وہ پیٹ میں نہیں گیا، اندر نہیں گیا، اور بھئی منہ میں تو رکھا تھا معلوم ہوا منہ کو شریعت نے خارج والا حکم دیا ہے۔ منہ کو کون سا حکم دیا ہے؟ خارج والا حکم دیا ہے۔ اور اسی طرح بعض اعتبارات سے منہ کا حکم داخل والا ہے۔ بھئی روزے کے اندر آپ اپنا لعاب نگل لیں تو روزہ ٹوٹ جائے گا؟ نہیں، اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا حالانکہ منہ سے لعاب گیا ہے پیٹ تک، معلوم ہوا منہ کا حکم داخل والا ہی ہے گویا لعاب پہلے ہی اندر تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اسی طرح آپ وضو کرتے ہیں۔ وضو کے اندر چہرے کا دھونا فرض ہے بھئی، تو منہ کا اندر کا حصہ اس میں داخل ہے؟ اس کا دھونا فرض ہے؟ نہیں، آپ نے پڑھا کلی کرنا یہ سنت ہے بھئی۔ معلوم ہوا یہاں پر منہ کو شریعت نے کون سا حکم دیا؟ داخل والا حکم دیا ہے بھئی، داخل والا۔ اور اسی طرح غسل میں دیکھیں غسل میں خارج والا حکم ہے منہ کے اندر والے حصے کا، غسل میں کلی کرنا فرض ہے، کلی کرنا فرض ہے، اور معلوم ہوا یہاں اس کو شریعت نے کون سا حکم دیا ہے؟ ظاہر والا، خارج والا حکم دیا ہے۔ تو منہ بعض اعتبار، مِنْ وَجْهٍ جو ہے اس کا حکم خارج کی طرح ہے اور مِنْ وَجْهٍ اس کا حکم کس کی طرح ہے؟ داخل کی طرح ہے بھئی داخل کی طرح۔
تو لہٰذا وہ قے جو إِلَى الْفَمِ ہو، منہ تک آئے منہ سے نہ نکلے، تھوڑی سی مقدار منہ تک آئی اور روک لی، تو قے کی وہ قلیل تھوڑی سی مقدار جو خارج إِلَى الْفَمِ ہو، منہ تک آئے، وہ ناقض للوضوء نہیں۔ اور قے کی وہ مقدار جو خارج مِنَ الْفَمِ ہو، منہ سے نکل آئے روک ہی نہ سکا، وہ ناقض للوضوء ہے بھئی۔ منہ کا حکم بھی مِنْ وَجْهٍ داخل کا تھا مِنْ وَجْهٍ خارج کا تھا، لہٰذا یہاں پر بھی وہ قلیل قے آئی إِلَى الْفَمِ، منہ تک آئی روک لی، تو گویا ہوئی ہی نہیں یوں سمجھا جائے گا بھئی، منہ کا حکم داخل والا ہے۔ اور اگر قے منہ سے نکل آئی، تھوڑی سی تھی لیکن نکل آئی روک نہ سکا، تو یہ خارج مِنَ الْفَمِ ہو گئی تو ظاہراً نکلی ہے یا نہیں بھئی؟ نجاست ظاہراً خارج ہوئی ہے، جب ظاہراً خارج ہوئی ہے تو اس کو خارج ہی شمار کیا جائے گا، جب خارج ہے تو خروج پایا گیا اور خروج نجاست کی صورت میں تو کیا حکم لگتا تھا؟ کہ وضو ٹوٹ جاتا تھا، لہٰذا اب اس میں بھی وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ معلوم ہوا تھوڑی سی مقدار ہو جسے روک لیا منہ تک ہی انسان نے روک لیا بھئی، تو منہ بھر سے اس کا حقیقی معنیٰ پورا منہ کو بھر دے اتنی مقدار نہیں مراد بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ قے جو خارج إِلَى الْفَمِ ہو وہ ناقض للوضوء نہیں، اور اگر منہ تک آئی وہ روک نہ سکا اور منہ سے نکل آئی تھوڑی سی بھی ذرا مقدار تھی تو کیا ہوا؟ وہ خارج مِنَ الْفَمِ ہوئی، وہ کیا ہو جائے گی؟ ناقض للوضوء ہوگی۔ مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں:
”وَمِلْءُ الْفَمِ أَنْ يَكُونَ بِحَالٍ لَا يُمْكِنُ ضَبْطُهُ إِلَّا بِتَكَلُّفٍ“
اور مِلْءُ الْفَمِ جو ہے وہ قے ہے کہ وہ اس حال میں ہو کہ ممکن نہ ہو اس کو روکنا مگر تکلف سے۔
”لِأَنَّهُ يَخْرُجُ ظَاهِرًا“
اس لیے کیونکہ وہ نکلی ہے ظاہراً، کون سی قے؟ خارج مِنَ الْفَمِ یا خارج إِلَى الْفَمِ؟ خارج مِنَ الْفَمِ، جو خارج ہوئی ہے منہ سے نکلی ہے۔ ”لِأَنَّهُ يَخْرُجُ ظَاهِرًا“ تو کیونکہ وہ ظاہراً نکلی ہے ”فَاعْتُبِرَ خَارِجًا“ تو اس کو خارج ہی اس کا اعتبار کیا جائے گا کہ یہ خارج ہوئی ہے اور خروج پایا گیا اور اس سے کیا ہوگا؟ وضو ٹوٹ جائے گا۔
”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى قَلِيلُ الْقَيْءِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ“
اور امام زفر رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں کہ تھوڑی قے اور زیادہ قے سَوَاءٌ یہ برابر ہیں۔
ہم نے تو فرق کیا تھا: قلیل قے یا قلیل خون یا قلیل پیپ یہ ناقض للوضوء نہیں، کثیر ہے تو وہ ناقض للوضوء ہیں۔ امام زفر رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں کہ نہیں، خروج نجاست مطلقاً ناقض للوضوء ہے بھئی، مطلقاً ناقض للوضوء۔ خون اور پیپ زخم کے منہ پر ہی کیوں نہ ظاہر ہو جائے، یہ وضو کو توڑ دیں گے۔ قے قلیل ہی کیوں نہ ہو، وہ کیا کرے گی؟ وضو کو توڑ دے گی۔
”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ قَلِيلُ الْقَيْءِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ“ کہ امام زفر رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں کہ تھوڑی قے اور کثیر قے سَوَاءٌ یہ برابر ہیں، یعنی ان سب سے وضو ٹوٹ جائے گا۔
”وَكَذَا لَا يَشْتَرِطُ السَّيَلَانَ“
اور اسی طرح وہ بہنے کی شرط بھی نہیں لگاتے کس کے اندر؟ خون اور پیپ میں۔
”اعْتِبَارًا بِالْمَخْرَجِ الْمُعْتَادِ“
قیاس کرتے ہوئے، اعتبار کا کیا معنیٰ؟ قیاس کرتے ہوئے بِالْمَخْرَجِ الْمُعْتَادِ، مخرج معتاد پر یعنی سبیلین پر۔ سبیلین کے اندر بھئی، سبیلین کے اندر ظہور نجاست بھی ہوتا ہے تو کیا حکم لگا دیا جاتا ہے؟ وضو کے ٹوٹنے کا۔ تو یہاں پر بھی ظہور سے ہی، خون اور پیپ میں بھی بہنے کی شرط نہیں ہے بلکہ ظہور سے ہی وضو ٹوٹ جائے گا۔ تو وہ شرط نہیں لگاتے بہنے کی، قیاس کرتے ہوئے مخرج معتاد پر۔
”وَلِإِطْلَاقِ قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“
اور نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے اس قول کے مطلق ہونے کی وجہ سے کہ حدیث میں آیا ہے:
”الْقَلْسُ حَدَثٌ“
قَلْس کا لفظ آیا بھئی، قَلْس۔ قَلْس قے کو کہتے ہیں، قے۔ ”الْقَلْسُ حَدَثٌ“ حدیث میں آیا کہ قے یہ حدث ہے۔ یعنی یہ ناقض للوضوء ہے۔ اور ”الْقَلْسُ“ کا لفظ حدیث میں مطلق آیا، اس میں مِلْءُ الْفَمِ یا غیر مِلْءُ الْفَمِ کی کوئی قید وغیرہ موجود نہیں، معلوم ہوا مطلقاً قے، چاہے مِلْءُ الْفَمِ ہو یا نہ ہو، وہ ہر صورت میں کیا کرے گی؟ وضو کو توڑ دے گی۔ تو یہ قول مطلق ہے اس سے معلوم ہوا ہر حال میں وضو ٹوٹ جائے گا، یہ امام زفر رَحِمَهُ اللهُ کی دلیل ہے۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل بھئی، امام زفر رَحِمَهُ اللهُ کو جواب دے رہے ہیں بھئی ہماری دلیلیں ذکر ہو رہی ہیں اب:
”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور ہماری دلیل حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ کا قول ہے:
”لَيْسَ فِي الْقَطْرَةِ وَالْقَطْرَتَيْنِ مِنَ الدَّمِ وُضُوءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَائِلًا“
نہیں ہے ایک یا دو قطرے خون کے ان میں وضو ”إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَائِلًا“ مگر یہ کہ وہ خون بہنے والا ہو۔ یہ حدیث ہے اور اس سے پتہ چلا کہ ایک دو قطرے جن کا ظہور ہوا ہے وہ ناقض للوضوء نہیں ہیں۔
اور دوسری دلیل ہماری:
”وَقَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ حِينَ عَدَّ الْأَحْدَاثَ جُمْلَةً أَوْ دَفْعَةً تَمْلَأُ الْفَمَ“
اور دوسری دلیل ہماری حضرت علی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ کا قول ہے: ”حِينَ عَدَّ الْأَحْدَاثَ جُمْلَةً“ جب آپ نے شمار کروایا، عَدَّ يَعُدُّ کے معنیٰ شمار، جب آپ نے شمار کروایا الْأَحْدَاثَ، حدثوں کو یعنی وضو کو توڑنے والی چیزوں کو جُمْلَةً اکٹھا، حضرت علی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ نے جب وضو کو توڑنے والی چیزوں کو اکٹھا شمار کروایا اور گنوایا، تو اس میں فرمایا: ”أَوْ دَفْعَةً تَمْلَأُ الْفَمَ“، دَفْعَةً، دَفْعَةٌ قے کو کہتے ہیں، قے۔ اور قے ایسی قے، دیکھو دَفْعَةً نکرہ آیا، نکرہ بھئی، اور تَمْلَأُ اس کے بعد فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنتا ہے؟ موصوف صفت بھئی، اور موصوف سے پہلے پھر کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا یا ایسی۔ ”أَوْ دَفْعَةً تَمْلَأُ الْفَمَ“ یا ایسی قے جو منہ کو بھر دے۔ معلوم ہوا کہ قے قلیل ناقض للوضوء نہیں ہے۔ یہ امام زفر رَحِمَهُ اللهُ کا جواب ہوا بھئی۔
”وَإِذَا تَعَارَضَتِ الْأَخْبَارُ“
اب یہاں احادیث کے اندر تعارض آیا۔ اخبار یہ یاد رکھیے اخبار جمع ہے خبر کی، اور حدیث کا ایک نام خبر بھی ہے۔ آپ اصول الشاشی اور نور الانوار میں پڑھ چکے کہ حدیث کے کئی نام ہیں بھئی: اثر، اثر بھی کہتے ہیں ثا کے ساتھ، خبر بھی، حدیث بھی، سنت بھی، یہ سب حدیث کے نام ہیں بھئی۔ تو یہاں پر احادیث میں تعارض آیا بھئی۔ امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ نے حدیث ذکر کی تھی: ”أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَاءَ فَلَمْ يَتَوَضَّأْ“، اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ قے ناقض للوضوء نہیں۔ اور امام زفر رَحِمَهُ اللهُ نے حدیث ذکر کی: ”الْقَلْسُ حَدَثٌ“، اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ قے ناقض للوضوء ہے، وہ حدث ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحب ہدایہ، فرماتے ہیں کہ ہم ان احادیث میں تطبیق دے دیتے ہیں، ہمارے قول کی صورت میں ان میں تطبیق آ جاتی ہے۔ ہم نے کیا کہا کہ قلیل قے ناقض للوضوء نہیں اور کثیر قے وہ ناقض للوضوء ہے۔ تو جو امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ نے حدیث ذکر کی ”قَاءَ فَلَمْ يَتَوَضَّأْ“، اس میں قے سے مراد قے قلیل ہے، اور امام زفر رَحِمَهُ اللهُ کی جو حدیث ہے ”الْقَلْسُ حَدَثٌ“، قے حدث ہے، اس میں قے سے مراد قے کثیر ہے۔ اب دیکھیے احادیث میں تعارض نہ رہا، ورنہ تو بظاہر کیا تھا؟ دونوں میں تعارض اور تقابل تھا بھئی۔
”وَإِذَا تَعَارَضَتِ الْأَخْبَارُ“ اور جب متعارض ہو گئیں خبریں
”يُحْمَلُ مَا رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَلَى الْقَلِيلِ“ تو محمول کیا جائے گا وہ جس کو روایت کیا امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ نے اس کو ”عَلَى الْقَلِيلِ“ کس پر؟ قلیل قے پر۔
”وَمَا رَوَاهُ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ عَلَى الْكَثِيرِ“ اور وہ حدیث جس کو روایت کیا امام زفر رَحِمَهُ اللهُ نے اس کو محمول کیا جائے گا کثیر پر۔ یعنی محمول کرنے کا کیا معنیٰ؟ یہ اس سے مراد ہوں گے کہ یہ اس بارے میں ہے۔ تو امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کی حدیث کو محمول کیا جائے گا قلیل قے پر اور امام زفر رَحِمَهُ اللهُ کی حدیث کو محمول کیا جائے گا کثیر قے پر۔
”وَالْفَرْقُ بَيْنَ الْمَسْلَكَيْنِ مَا قَدَّمْنَاهُ“
اور فرق دونوں مسلکوں یعنی دونوں مذہبوں کے درمیان ”مَا“ وہ ہے ”قَدَّمْنَاهُ“ جس کو ہم نے مقدم کر دیا یعنی پہلے ذکر کر دیا۔ دونوں مسلکوں میں، دونوں مذہبوں میں فرق جو ہے ہم نے مقدم ذکر کر دیا۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک بھئی، صرف خروج نجاست جو ہے اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا بلکہ خروج نجاست کہاں سے ہو؟ سبیلین سے ہو بھئی، پھر وضو ٹوٹے گا۔ یا یوں کہو کہ خون، پیپ اور قے، جب یہ سبیلین کے علاوہ بدن سے کہیں سے نکلیں تو مطلقاً امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک یہ ناقض للوضوء نہیں ہیں، ان سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور امام زفر رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک مطلقاً ان سے وضو ٹوٹ جائے گا چاہے قلیل ہی کیوں نہ ہوں۔ اور ہمارے نزدیک ان میں قلیل اور کثیر کا فرق کیا گیا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”وَلَوْ قَاءَ مُتَفَرِّقًا بِحَيْثُ لَوْ جُمِعَ يَمْلَأُ الْفَمَ فَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ يُعْتَبَرُ اتِّحَادُ الْمَجْلِسِ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ يُعْتَبَرُ اتِّحَادُ السَّبَبِ وَهُوَ الْغَثَيَانُ“
بھئی، صورت یہ ہے: ایک آدمی ہے اس کو متلی محسوس ہوئی، متلی آئی، اور اس نے تھوڑی تھوڑی نہایت تھوڑی تھوڑی اس کو قے آئی بھئی، تھوڑی تھوڑی کئی مرتبہ میں۔ لیکن اس تھوڑی تھوڑی کو جمع کیا جائے تو وہ منہ بھر بن جاتی ہے، یہ کچھ مقدار پھر بن جاتی ہے، مِلْءُ الْفَمِ بن جاتی ہے۔ تو کیا اب اس کا وضو ٹوٹے گا یا وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی؟ تو امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں کہ اس کو تھوڑی تھوڑی قے آئی، اس کو جمع کیا جائے گا بشرطیکہ مجلس ایک ہی ہو۔ ایک ہی مجلس کے اندر اگر اس کو کئی مرتبہ تھوڑی تھوڑی قے آئی ہے تو اس کو جمع کریں گے اور یہ مقدار مِلْءُ الْفَمِ تک پہنچ گئی تو اس صورت میں وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے ورنہ وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں۔ تو امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللهُ اتحاد مجلس کا اعتبار کرتے ہیں۔ کیونکہ اتحاد مجلس کا اعتبار اور بھی کئی شرعی معاملات میں ہوتا ہے۔ آپ بھی پڑھتے ہیں کہ ایک ہی مجلس کے اندر اگر کسی شخص نے ایک ہی آیتِ سجدہ کو کئی مرتبہ پڑھ لیا تو بھئی آیتِ سجدہ پڑھنے سے تو سجدہ واجب ہوتا ہے اور اگر ایک مرتبہ یہاں بیٹھ کر وہ آیت پڑھی، دوسری مرتبہ دوسری جگہ بیٹھ کر وہی آیت پڑھی، تو مجلس ایک نہیں لہٰذا کتنے سجدے کرنے پڑیں گے؟ دو سجدے۔ لیکن اگر مجلس ایک ہی تھی اس میں پھر چاہے اس ایک آیت کو وہ دس مرتبہ پڑھ لے، تو اتحاد مجلس کی وجہ سے اب ایک ہی سجدہ اس پر آئے گا۔ معلوم ہوا شریعت بعض معاملات میں کس کا اعتبار کرتی ہے؟ اتحاد مجلس۔ اسی طرح بیع بھئی ایجاب و قبول کا نام ہے، اس میں بھی اتحاد مجلس کا اعتبار ہے کہ جس مجلس میں ایجاب ہو اسی میں قبول ہونا چاہیے بھئی۔ مثلاً میں آپ سے قلم خریدتا ہوں تو جو پہلے کلام کرے اس کو ایجاب کہا جاتا ہے چاہے وہ مشتری کرے چاہے بائع کرے۔ میں نے قلم خریدنا ہے، میں آپ سے کہتا ہوں: یہ آپ کا قلم میں نے سو روپے میں خرید لیا، یہ ہوا ایجاب۔ تو یہ مشتری، بائع کی طرف سے بھی ایجاب ہو سکتا ہے، وہ پہلے بات شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے: یہ قلم میں نے آپ کو سو روپے میں بیچ دیا، تو جو بھی پہلے کلام کرے وہ کیا ہوتا ہے؟ ایجاب۔ اور دوسرے کی طرف سے پھر قبول ہوتا ہے کہ مجھے منظور ہے۔ تو یہ ایجاب اور یہ قبول یہ ایک ہی مجلس میں ہونا ضروری ہیں پھر ہی بیع تام ہوگی۔ لہٰذا اگر ایک شخص آج ایجاب کرتا ہے اور دوسرا اگلے دن آ کر کہتا ہے مجھے قبول ہے تو اس سے بیع منعقد نہیں ہوئی کیونکہ مجلس متحد نہیں۔ ایجاب جس مجلس میں ہوا تھا اسی کے اندر قبول کا ہونا ضروری تھا۔ معلوم ہوا شریعت بعض مسائل میں کس کا اعتبار کرتی ہے؟ اتحاد مجلس کا اعتبار کرتی ہے۔ لہٰذا یہاں قے کے اندر بھی مجلس کا اعتبار کیا جائے گا، مجلس ایک ہوئی تو اس متفرق قے کو جمع کریں گے اور دیکھیں گے مِلْءُ الْفَمِ تک اس کی مقدار پہنچ رہی ہے تو وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا، اور اگر مجلس بدل رہی ہے تو پھر اس قلیل قے کو جمع نہیں کیا جائے گا۔
جبکہ امام محمد رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں کہ اعتبار کیا جائے گا اتحاد سبب کا۔ جس سبب سے یہ قے آ رہی ہے یعنی جس متلی کی وجہ سے یہ قے آ رہی ہے، اگر ایک ہی متلی سے تھوڑی تھوڑی قے آئی ہے تو اس کو جمع کریں گے، اور اگر ایک متلی سے تھوڑی سی قے آئی بہت معمولی سی، پھر متلی ختم ہو گئی، پھر اور سبب سے متلی ہوئی اور پھر تھوڑی سی قے آئی، اب اس قے کو اور وہ پچھلی قے کو جمع نہیں کریں گے کیونکہ دونوں کا سبب کیا ہے؟ ایک نہیں ہے، الگ الگ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کیونکہ شریعت میں بھی سبب کا اعتبار کیا جاتا ہے، نماز ظہر کی آپ پر، ظہر کی نماز کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے۔ تو جب تک ظہر کا وقت نہیں آیا، سبب نہیں پایا گیا تو آپ پر ظہر کی نماز بھی واجب نہیں، ہاں جب وقت آ جائے گا تو سبب پایا گیا تو آپ پر ظہر کی نماز بھی واجب ہو جائے گی۔
”وَلَوْ قَاءَ مُتَفَرِّقًا“ اور اگر قے کی کسی نے متفرق طور پر یعنی تھوڑی تھوڑی ”بِحَيْثُ لَوْ جُمِعَ يَمْلَأُ الْفَمَ“ اس حیثیت سے کہ اگر اس تھوڑی تھوڑی کو جمع کیا جائے ”يَمْلَأُ الْفَمَ“ تو وہ منہ کو بھر دے ”فَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ يُعْتَبَرُ اتِّحَادُ الْمَجْلِسِ“ تو امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک اعتبار کیا جائے گا اتحاد مجلس کا ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ يُعْتَبَرُ اتِّحَادُ السَّبَبِ“ امام محمد رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک اعتبار کیا جائے گا اتحاد سبب کا ”وَهُوَ الْغَثَيَانُ“ اور سبب کیا ہے؟ ”وَهُوَ الْغَثَيَانُ“، غین پر بھی فتحہ، ثا پر بھی فتحہ، غَثَيَان۔ غَثَيَان کہتے ہیں متلی کو بھئی، متلی۔ ”وَهُوَ الْغَثَيَانُ“ اور وہ متلی ہے۔
”ثُمَّ مَا لَا يَكُونُ حَدَثًا لَا يَكُونُ نَجِسًا“
پھر جو چیز حدث نہیں ہے وہ نجس بھی نہیں ہے۔ یہ فقہ کا مشہور ضابطہ ہے بھئی:
”مَا لَيْسَ بِحَدَثٍ لَيْسَ بِنَجِسٍ، مَا لَيْسَ بِحَدَثٍ لَيْسَ بِنَجِسٍ“
جو چیز حدث نہیں وہ نجس یعنی ناپاک بھی نہیں ہے۔
یاد رکھیے یہاں دو لفظ ہیں، دو: ایک ہے نَجَس، ایک ہے نَجِس۔ نَجَس کا معنیٰ ہے نجس ہونا، مصدر ہے مصدر۔ کیا معنیٰ ہے؟ ناپاک ہونا۔ اور نَجِس اس کا معنیٰ ہے ناپاک۔ ناپاک، جو چیز ناپاک ہے بھئی اس کو نجس کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ معنیٰ سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ نَجَس کا معنیٰ ناپاک ہونا، اور نَجِس: ناپاک، جس پر نجاست لگ گئی بھئی۔
تو ضابطہ کیا ہوا؟ ”مَا لَا يَكُونُ حَدَثًا لَا يَكُونُ نَجِسًا“، جو چیز حدث نہیں، ”لَا يَكُونُ نَجِسًا“ وہ ناپاک بھی نہیں۔ جو حدث نہیں وہ ناپاک بھی نہیں۔ ضابطہ پتہ چل گیا؟
اب مجھے مسئلہ بتائیے بھئی: ایک آدمی ہے، اس کے بدن پر ایک جگہ زخم ہے اور اس زخم سے خون تو نہیں بہہ رہا، ہاں البتہ وہ تر رہتا ہے، گیلا رہتا ہے، کچھ نہ کچھ تھوڑا مواد اس پر نکل کے جما رہتا ہے، جیسا آپ دیکھتے بھی ہیں کچھ نہ کچھ پانی وغیرہ یا تھوڑا سا خون سا وہ معمولی سا نکلتا ہے اس کے اوپر ہی اوپر رہتا ہے، بہتا نہیں ہے آگے بھئی، بہتا نہیں ہے۔ تو اس کی وجہ سے وضو ٹوٹا؟ جی؟ اس سے وضو نہیں ٹوٹا، تو یہ حدث نہیں۔ جب حدث نہیں تو یہ نجس بھی نہیں، ناپاک بھی نہیں۔ لہٰذا یہ اگر کپڑے کو لگ جائے تو وہ کپڑا نجس نہیں بھئی، اور کسی وہم میں اور شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ”مَا لَيْسَ بِحَدَثٍ لَيْسَ بِنَجِسٍ“ بھئی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
”ثُمَّ مَا لَا يَكُونُ حَدَثًا لَا يَكُونُ نَجِسًا“ کہ جو چیز حدث نہیں ہے وہ نجس یعنی ناپاک بھی نہیں ہے ”يُرْوَى ذَلِكَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“ یہ روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللهُ سے، وہ فرماتے ہیں ”مَا لَا يَكُونُ حَدَثًا لَا يَكُونُ نَجِسًا“۔
”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں یہی صحیح قول ہے، جو چیز حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں۔
”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِنَجِسٍ حُكْمًا“ کیونکہ یہ ناپاک نہیں ہے حکماً، باعتبار حکم، حکم کے اعتبار سے ناپاک نہیں ہے ”حَيْثُ لَمْ يَنْتَقِضْ بِهِ الطَّهَارَةُ“ کیونکہ اس سے طہارت نہیں ٹوٹتی، طہارت اس سے ختم نہیں ہوتی۔ جب اس سے طہارت ختم نہیں ہوتی معلوم ہوا یہ نجس نہیں ہے کیونکہ خروج نجاست کی صورت میں تو کیا ہوتا تھا؟ زوال طہارت کا حکم آتا تھا لیکن زوال طہارت کا حکم نہیں آ رہا معلوم ہوا یہ ناپاک بھی نہیں ہے کیونکہ اگر ناپاک ہوتا تو ناپاک کے خروج کی صورت میں تو طہارت زائل ہو جایا کرتی ہے، معلوم ہوا یہ نجس ہی نہیں ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِنَجِسٍ حُكْمًا“ کیونکہ یہ ناپاک نہیں ہے باعتبار حکم کے ”حَيْثُ لَمْ يَنْتَقِضْ بِهِ الطَّهَارَةُ“ کیونکہ اس سے طہارت نہیں ٹوٹتی یعنی وضو نہیں ٹوٹتا۔
اچھا بھئی، یہاں پر آیا:
”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِنَجِسٍ حُكْمًا حَيْثُ لَمْ يَنْتَقِضْ بِهِ الطَّهَارَةُ“
اس لیے کیونکہ یہ حکم کے اعتبار سے ناپاک نہیں ہے، ”حَيْثُ لَمْ يَنْتَقِضْ بِهِ الطَّهَارَةُ“ کیونکہ اس کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
تو دیکھیے حَيْثُ کا ترجمہ بھئی، توجہ سے سنیے بھئی، حَيْثُ کا ترجمہ میں نے یہاں ”کیونکہ“ کے ساتھ کیا بھئی: ”حَيْثُ لَمْ يَنْتَقِضْ بِهِ الطَّهَارَةُ“ کیونکہ اس کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا، تو اس لیے یہ حکم کے اعتبار سے بھی ناپاک نہیں ہے بھئی۔ یاد رکھیے بھئی حَيْثُ جو ہے حَيْثُ، یہ دو تین معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور ایک معنیٰ جو ہے کہ یہ کبھی تعلیل کے لیے آئے گا، علت بیان کرنے کے لیے، کسی چیز کی علت اور سبب بیان کرے گا، اور اس وقت اس کا معنیٰ ”کیونکہ“ کے ساتھ کیا جائے گا یا اس کا ترجمہ ”اس وجہ سے“ یوں کیا جائے گا۔ یہاں یہ حَيْثُ تعلیل کے لیے ہے: ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِنَجِسٍ حُكْمًا حَيْثُ لَمْ يَنْتَقِضْ بِهِ الطَّهَارَةُ“، تو یہاں حَيْثُ کا ترجمہ چاہے ”کیونکہ“ کے ساتھ کر لیں یا ”اس وجہ سے“: ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِنَجِسٍ حُكْمًا“ اس لیے کیونکہ یہ حکم کے اعتبار سے ناپاک نہیں ہے ”حَيْثُ لَمْ يَنْتَقِضْ بِهِ الطَّهَارَةُ“ اس وجہ سے کہ اس کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ تو یہ حَيْثُ تعلیل کے لیے کبھی آتا ہے اور اس کا کیا معنیٰ کیا جاتا ہے؟ ”کیونکہ“ یا ”اس وجہ سے“۔ اور اسی طرح کبھی حَيْثُ کا لفظ جگہ کے لیے بھی آئے گا، جگہ اور مکان کے معنیٰ میں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”جَلَسْتُ حَيْثُ ضَرَبْتَ زَيْدًا“، ”جَلَسْتُ“ میں بیٹھ گیا ”حَيْثُ“ اس جگہ ”ضَرَبْتَ زَيْدًا“ جہاں آپ نے زید کی پٹائی کی تھی۔ ”جَلَسْتُ حَيْثُ ضَرَبْتَ زَيْدًا“ میں بیٹھ گیا اس جگہ جہاں آپ نے زید کی پٹائی کی تھی، تو دیکھو حَيْثُ کا کیا ترجمہ میں نے کیا؟ ”جہاں“ یا اس کا ترجمہ کر لیں ”اس جگہ“، تو یہ جگہ کے معنیٰ میں بھی آئے گا۔ تو حَيْثُ کبھی حیثیت کے لیے آئے گا حیثیت کے معنیٰ میں، اور کبھی تعلیل کے لیے آئے گا علت اور وجہ بیان کرنے کے لیے، اور کبھی جگہ کے معنیٰ میں آئے گا مکان کے معنیٰ میں آئے گا، تو آپ نے خیال رکھنا ہے بھئی یہ تینوں طرح استعمال ہوتا ہے بھئی۔ تو یہاں پر یہ تعلیل کے لیے ہے بھئی۔
چلیے، بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔