Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-010

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ فِي نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ اَلْمَعَانِي النَّاقِضَةُ لِلْوُضُوءِ كُلُّ مَا يَخْرُجُ مِنَ السَّبِيلَيْنِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ﴾ [الآيَةَ]، وَقِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا الْحَدَثُ؟ قَالَ: ”مَا يَخْرُجُ مِنَ السَّبِيلَيْنِ“، وَكَلِمَةُ ”مَا“ عَامَّةٌ فَتَتَنَاوَلُ الْمُعْتَادَ وَغَيْرَهُ۔ گزشتہ سبق میں وضو کا بیان مکمل ہوا تھا، وضو کے فرائض بھی پڑھ لیے آپ نے، وضو کی سنتیں بھی پڑھ لیں، مستحبات بھی پڑھ لیے۔ بھئی وضو سے پہلے کیا دعا پڑھی جائے گی بھئی؟ ”بِسْمِ اللهِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى دِينِ الْإِسْلَامِ“ اور وضو کے بعد کیا پڑھیں گے؟ ”اَللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ“ اور اسی طرح میں نے ذکر کیا تھا کہ وضو کے بعد سورۂ ”إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ“ یعنی سورۂ قدر جو پڑھے گا، حدیث میں آتا ہے وہ صدیقین میں سے ہے بھئی۔ تو کس نے ان کو اپنا معمول بنا لیا بھئی؟ جی؟ ہاں، شاباش بھئی! باقی بھی، بھئی باقی ان کو اپنا معمول بناؤ بھئی معمول بھئی۔ میں نے بتایا جو جو سنتیں پڑھتے جا رہے ہیں اور ان کو اپنا معمول بنائیں بھئی، بے انتہا برکات اور رحمتیں آپ کا احاطہ کر لیں گی جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے، اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ چیز بڑھتی چلی جاتی ہے بھئی۔ جی، تو آج ہم نواقضِ وضو کے بارے میں پڑھیں گے۔ ”فَصْلٌ فِي نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ“، أَيْ: هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے نواقضِ وضو کے بیان میں۔ نواقض جمع ہے ناقض کی اور وہ چیز جو وضو کو توڑنے والی ہے، توڑنے والی، تو نواقضِ وضو وضو کو توڑنے والی چیزیں، ان کا بیان کریں گے اس فصل میں صاحبِ ہدایہ بھئی۔ جی، تو فرماتے ہیں: ”اَلْمَعَانِي النَّاقِضَةُ لِلْوُضُوءِ كُلُّ مَا يَخْرُجُ مِنَ السَّبِيلَيْنِ“۔ المعانی کا لفظ آیا بھئی، یہاں ایک قیمتی نکتہ یاد رکھیے گا۔ فقہ کی کتابوں میں معنی کا لفظ آئے تو عموماً عموماً اکثر جو ہے وہ سبب اور علت کے معنی میں ہو گا۔ کس معنی میں ہو گا؟ سبب اور علت کے معنی میں ہو گا۔ تو المعنی کی جمع آئی المعانی، وہ اسباب، ”اَلنَّاقِضَةُ لِلْوُضُوءِ“ جو توڑنے والے ہیں وضو کو بھئی۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے: وہ چیزیں جو وضو کو توڑنے والی ہیں وہ کیا کیا ہیں؟ فرماتے ہیں: ”كُلُّ مَا يَخْرُجُ مِنَ السَّبِيلَيْنِ“، ہر وہ چیز جو نکلے ”مِنَ السَّبِيلَيْنِ“ ان دو راستوں سے، یعنی پیشاب پاخانے کے راستے سے جو کچھ نکلے وہ چیز وضو کو توڑنے والی ہے۔ دلیل اس کی کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ﴾ یا آئے تم میں سے کوئی ایک ”مِنَ الْغَائِطِ“ قضائے حاجت سے بھئی۔ تم میں سے کوئی ایک قضائے حاجت سے آئے بھئی۔ آگے اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ یا تم ملامست کر لو عورتوں کے ساتھ، اپنی بیویوں سے صحبت کر لو، ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ پھر تم کو پانی نہ ملے تو کس سے وضو کا... تیمم کر لو؟ پاک مٹی سے تیمم۔ پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ معلوم ہوا پانی ملے تو پھر کیا ہو گا؟ وضو یا غسل بھئی۔ قضائے حاجت سے آئے تو اس صورت میں وضو آئے گا، اور بیوی سے صحبت کی ہے تو اس صورت میں غسل بھئی۔ تو یہ آیت دلیل ہے اس بات کی کہ جو شخص قضائے حاجت سے آئے اس کو کیا کرنا چا... کیا کرنا چاہیے؟ وضو کرنا چاہیے بھئی، وضو کرنا چاہیے۔ معلوم ہوا اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، اور قضائے حاجت میں انہی دو راستوں سے جو پیشاب اور پاخانے کا خروج ہوا، معلوم ہوا اس سے وضو ٹوٹ گیا ہے بھئی۔ یہاں غائط کا لفظ آیا بھئی، غائط یہ کنایہ ہے قضائے حاجت سے بھئی قضائے حاجت سے۔ غائط اصل میں پست اور نشیبی زمین کو کہتے ہیں، وہ زمین جو ذرا نیچی ہو نیچی، تو چونکہ انسان قضائے حاجت کے لیے بھی ایسی جگہ کا انتخاب کرتا ہے جو نیچی ہو، پست ہو، دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل ہو، اس لیے غائط کے ذریعے کنایہ کیا گیا قضائے حاجت سے بھئی، قضائے حاجت۔ تو ایک یہ دلیل ہوئی بھئی، یہ آیت بھئی۔ اور نیز آگے حدیث بھی دلیل کے طور پر ذکر فرما رہے ہیں: ”وَقِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”وَمَا الْحَدَثُ؟“ کہ حدث کیا چیز ہے؟ ”قَالَ: مَا يَخْرُجُ مِنَ السَّبِيلَيْنِ“، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمانے لگے: ”مَا يَخْرُجُ مِنَ السَّبِيلَيْنِ“، وہ چیز جو سبیلین سے نکلے وہ حدث ہے یعنی وہ وضو کو توڑ دے گی۔ ”وَكَلِمَةُ مَا عَامَّةٌ فَتَتَنَاوَلُ الْمُعْتَادَ وَغَيْرَهُ“ اور کلمۂ ما عام ہے، یہ شامل ہے معتاد کو بھی اور غیرہ، أَيْ: غَيْرَ الْمُعْتَادِ، اور غیر معتاد کو بھی شامل ہے۔ یہ دراصل رد کر رہے ہیں، جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام مالک رحمہ اللہ کو۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”كُلُّ مَا يَخْرُجُ مِنَ السَّبِيلَيْنِ“ یہ ناقض نہیں بلکہ صرف وہ چیز ناقض ہے جو معت... جس کا خروج معتاد ہے، جس کا خروج کیا ہے؟ معتاد۔ یعنی جو چیز ان دو راستوں سے عادتاً نکلتی ہے وہ تو ناقضِ وضو ہے، جو چیز نکلی ان دو راستوں سے لیکن عادتاً نہیں نکلتی وہ، تو وہ ناقضِ وضو نہیں، ناقضِ وضو نہیں۔ مثلاً خون نکل آیا بھئی، اب خون تو عادتاً ان راستوں سے نہیں نکلتا بھئی، تو یہ ناقضِ وضو نہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں بھئی کہ دمِ استحاضہ جو ہے یہ ناقض للوضوء نہیں کیونکہ یہ معتاد نہیں ہے، معتاد نہیں ہے، یہ تو کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ہو گا، تو جب معتاد نہیں اور ان کے نزدیک تو معتاد کی شرط ہے لہٰذا ان کے نزدیک دمِ استحاضہ ناقض للوضوء نہیں ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ جواب فرما رہے ہیں: ”وَكَلِمَةُ مَا عَامَّةٌ“، کہ حدیث میں کیا آیا؟ ”مَا يَخْرُجُ مِنَ السَّبِيلَيْنِ“، ”مَا“ آیا، وہ چیز جو، تو یہ عام ہے۔ یہ معتاد کو بھی شامل ہے اور غیر... یہاں کوئی یہ قید نہیں ہے کہ معتاد چیز نکلے بھئی، بلکہ ”مَا“ کا لفظ آیا اور ”مَا“ عام ہے، وہ معتاد کو بھی شامل اور غیر معتاد کو بھی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَلِمَةُ مَا عَامَّةٌ فَتَتَنَاوَلُ الْمُعْتَادَ وَغَيْرَهُ“، غیرہ کی ہا ضمیر معتاد کو راجع ہے، تو یہ شامل ہے معتاد کو بھی اور غیر معتاد کو بھی۔ ”وَالدَّمُ وَالْقَيْحُ إِذَا خَرَجَا مِنَ الْبَدَنِ فَتَجَاوَزَا إِلَى مَوْضِعٍ يَلْحَقُهُ حُكْمُ التَّطْهِيرِ، وَالْقَيْءُ مِلْءَ الْفَمِ“۔ ”وَالدَّمُ“، اور خون، ”وَالْقَيْحُ“، قیح کہتے ہیں وہ زخم سے جو مواد نکلے، پیپ وغیرہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیح کہتے ہیں۔ اور خون اور پیپ، ”إِذَا خَرَجَا مِنَ الْبَدَنِ“، جب یہ دونوں نکلیں بدن سے، ”فَتَجَاوَزَا“، دیکھو تثنیہ کا صیغہ آ رہا ہے، پس یہ دونوں تجاوز کر جائیں، ”إِلَى مَوْضِعٍ“، ایسی جگہ کی طرف، ”يَلْحَقُهُ حُكْمُ التَّطْهِيرِ“، کہ ملا ہوا ہو اس جگہ کے ساتھ حکمِ تطہیر، پاک کرنے کا حکم۔ یعنی زخم سے خون نکلا یا پیپ نکلی، بدن سے خون یا پیپ نکلے اور وہ تجاوز کر گئے، بڑھ گئے زخم کے منہ سے اس جگہ کی طرف جس کے دھونے کا شریعت نے حکم دیا ہے، جس کے ساتھ پاکی کا حکم ملا ہوا ہے، یعنی جس کے شریعت نے دھونے اور پاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو جب یہ خون اور پیپ اپنی جگہ سے بڑھ جائیں، زخم وغیرہ کے منہ سے بڑھ جائیں، بھئی زخم لگ گیا کسی کو، زخم سے خون نکلا، اب زخم کے مقام کے ساتھ جو جلد ہے، جو کھال ہے، اس کے بھی پاک کرنے کا حکم دیا ہے شریعت نے یا نہیں دیا بھئی؟ وضو میں یا غسل میں، کسی ایک میں تو یہ ضرور داخل ہو گا بھئی یا دونوں میں داخل ہو گا۔ تو زخم سے خون نکل آیا اور وہ خون بڑھ گیا، ساتھ والی کھال پر لگ گیا، اور وہ کھال وہ ایسی جگہ ہے جس کے شریعت نے پاک کرنے کا حکم دیا ہے، پاک کرنے کا حکم دیا ہو، تو اگر ایسی جگہ پر لگ جائے وہ خون یا پیپ بڑھ کر تجاوز کر جائے جس کے شریعت نے پاک کرنے کا حکم دیا ہو، چاہے وضو میں دیا ہو چاہے غسل میں دیا ہو، تو اس صورت میں یہ خون اور یہ پیپ جو ہے ناقض للوضوء ہو گی بھئی۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے: قلیل خون جو ہے یا قلیل پیپ جو ہے وہ ناقض للوضوء نہیں، لیکن کثیر ہو جائے جو اس کے اتنی ہو کہ اس جگہ کی طرف کیا کر جائے؟ تجاوز کر جائے، یعنی یوں کہیے بہہ جائے بھئی۔ زخم یا خون یا پیپ کیا ہو؟ بہے۔ تو صرف ان کا نکلنا اس یہ ناقض للوضوء نہیں، بلکہ ان کا بہنا ضروری ہے۔ اتنی اتنی ہو یعنی بہہ جائے، بہہ جائے بھئی۔ تو وہ اس ساتھ والی کھال پر لگے گی اور کھال کے تو شریعت نے کھال کو تو پاک کرنے کا حکم دیا ہے سارے بدن کی جلد کو بھئی، وضو میں یا غسل میں، جس میں بھی دیا ہو لیکن پاکی کا حکم اس کے ساتھ ملا ہوا ہے شریعت کی جانب سے۔ تو اس صورت میں یہ جو خون نکلا یا پیپ نکلی اور جس میں بہنا بھی پایا گیا، یہ ناقض للوضوء ہو گی بھئی۔ اور اگر خون اور پیپ جو ہے وہ زخم کے منہ پر ہی ہے بھئی، قلیل ہے، تو پھر اس صورت میں یہ ناقض للوضوء نہیں بھئی۔ کسی شک اور وہم میں پڑنے کی ضرورت نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کیا شرط ذکر ہوئی؟ بہنا خون اور پیپ کا، اور کس جگہ کی طرف؟ جس کے ساتھ جس کے بارے میں شریعت کا حکم ہو دھونے کا اور پاک کرنے کا، اس جگہ کی طرف تجاوز کر جائے، تجاوز کر جائے۔ یہ ضروری نہیں، تجاوز کرنا ضروری نہیں، اتنی مقدار نکل آئے... اب ایک آدمی ہے زخم سے خون نکل رہا ہے وہ اس کو صاف کرتا جا رہا ہے، صاف کرتا جا رہا ہے، اب وہ ساتھ والی کھال تک بہہ کر نہیں پہنچا، تو آپ یہ نہ کہیں کہ اس کا وضو نہیں ٹوٹا۔ اگر وہ اس کو صاف نہ کرتا تو بہہ جاتا یا نہ بہہ جاتا؟ تو وہ تجاوز کر جاتا، بس اتنی مقدار نکلی ہے تو یہ ناقض للوضوء ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب آپ اس مسئلے کے مفتی بن گئے بھئی۔ اب آپ کسی کو بھی بتا سکتے ہیں کہ خون یا پیپ نکلی ہو تو کہ وضو ٹوٹا ہے یا نہیں۔ لہٰذا مجھے مسئلہ بتائیے بھئی: ایک آدمی ہے اور وہ گرا اور ہاتھ پر اچھی خاصی بڑی خراش آ گئی، خراش آ گئی۔ اور خون ظاہر ہوا، پوری خراش پر، لیکن بہا نہیں، آپ کیا حکم لگائیں گے؟ وضو نہیں ٹوٹا، شاباش بھئی! کیونکہ کھا... یہاں صرف ظہور ہوا ہے، خون ظاہر ہوا ہے، کھال کے نیچے ساری کھال کے نیچے خون تو موجود ہے وہ ابھی بھی اپنی جگہ پر ہے خون بھئی، اپنی جگہ پر ہے اور اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ ہاں لیکن اگر یہ ذرا زیادہ ہوا تو اس سے کیا ہو گا یعنی بہنے والا، بہنے کے قابل ہوا اتنا زیادہ ہوا، تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا بھئی ٹوٹ جائے گا۔ اب ایک اور مسئلہ مجھے بتائیے۔ ایک آدمی ہے اس کی آنکھ کے اندر کوئی دانہ وغیرہ تھا بھئی کوئی، اور اس سے خون یا پیپ نکلی دانے سے اور وہ خون یا پیپ آنکھ کے اندر ہی ہے، آنکھ سے باہر نہیں نکلی، آپ کیا حکم لگائیں گے بھئی؟ وہ پیپ یا خون آنکھ میں پھیل گیا لیکن آنکھ سے باہر نہیں نکلا، آپ کیا حکم لگائیں گے؟ وضو نہیں ٹوٹا۔ کیوں نہیں ٹوٹا؟ کیونکہ آنکھ کے اندر کا حصہ اس کے دھونے کا حکم شریعت کی طرف سے نہ وضو میں ہے اور نہ غسل میں ہے، لہٰذا اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور صورت مجھے بتلائیے بھئی۔ ایک آدمی ہے اس کے ناک میں کوئی دانہ وغیرہ تھا اس سے خون نکلا اور خون بہہ کر... خون اس سے نکل کر بہا لیکن ناک کے اندر ہی رہا، ناک سے باہر نہیں نکلا، آپ کیا حکم لگائیں گے؟ جی؟ شاباش، وضو ٹوٹ گیا! کیونکہ اگرچہ وضو کے اندر تو ناک کے اندر کا حصہ اس کو پانی پہنچانا ضروری نہیں لیکن غسل کے اندر شریعت نے حکم دیا ہے اور اس میں ناک کے اندر پانی پہنچانا اور اس کا دھونا ضروری ہے بھئی۔ تو خون دیکھو تجاوز کر گیا ایسی جگہ کی طرف جس کے ساتھ پاک کرنے اور دھونے کا حکم ملا ہوا تھا۔ اب مسئلہ اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو معلوم ہوا عند الاحناف بھئی خون اور پیپ جو ہیں ان میں صرف خروج نہیں کافی بلکہ سیلان بھی ضروری ہے کہ وہ بہے بھی بھئی بہے بھی۔ معلوم ہوا خون ایک دو قطرے کے لگ بھگ ہو بہے بھئی، تو پھر وضو ٹوٹے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالدَّمُ وَالْقَيْحُ إِذَا خَرَجَا مِنَ الْبَدَنِ فَتَجَاوَزَا إِلَى مَوْضِعٍ يَلْحَقُهُ حُكْمُ التَّطْهِيرِ“، اور خون اور پیپ جب یہ دونوں نکلیں بدن سے پس یہ دونوں تجاوز کر جائیں ایسی جگہ کی طرف کہ اس جگہ کے ساتھ ملا ہوا ہو پاک کرنے کا حکم، ”وَالْقَيْءُ مِلْءَ الْفَمِ“، اور قے، یہ ”مِلْءَ الْفَمِ“ یہ حال ہے، اس حال میں کہ وہ منہ بھر ہو بھئی۔ قے سے بھی وضو ٹوٹے گا جبکہ وہ کتنی ہو؟ منہ بھر ہو بھئی، منہ بھر ہو۔ تو عند الاحناف بھئی قئِ قلیل جو ہے وہ ناقض للوضوء نہیں، ہاں قئِ کثیر جو ہے وہ ناقض للوضوء ہے بھئی، ناقض للوضوء، اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور کتنی قے ناقض للوضوء ہے؟ انہوں نے ابھی آپ کو کیا بتلایا؟ ”مِلْءَ الْفَمِ“، منہ بھر ہو۔ منہ بھر کا یہ معنی نہیں کہ اتنی مقدار ہو منہ کو بھر دے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں منہ کو بھر دے یہ معنی مراد نہیں بھئی۔ جی آگے تفصیل آئے گی شرح کے اندر بھئی کہ منہ بھر وہ مقدار ہے کہ جس کو ممکن نہ ہو انسان کے لیے روکنا مگر تکلف کے ساتھ بھئی، تکلف کے ساتھ۔ انسان کو قے آتی ہے وہ اس کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ جی تو اگر بہت تھوڑی مقدار ہوئی، منہ تک آئی، تو یہ ناقض للوضوء نہیں۔ لیکن اگر ذرا زیادہ ہوئی، منہ سے نکل آئی، تو یہ کیا ہے؟ ناقض للوضوء ہے۔ تو ”مِلْءَ الْفَمِ“ کا یہ معنی نہیں کہ منہ بھر ہو، وہ تو بہت زیادہ مقدار ہے بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: الْخَارِجُ مِنْ غَيْرِ السَّبِيلَيْنِ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ، لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَاءَ فَلَمْ يَتَوَضَّأْ“۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”الْخَارِجُ مِنْ غَيْرِ السَّبِيلَيْنِ“، وہ چیز جو نکلے سبیلین کے علاوہ سے بھئی، ”لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ“، وہ وضو کو نہیں توڑے گی۔ بھئی ہمارے نزدیک تو بدن سے جو بھی نجاست نکلے اور وہ جیسے خون اور پیپ اور وہ بہنے کے قابل ہو اتنی مقدار ہو کہ بہنے والی ہو تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ صرف خروجِ نجاست سے وضو نہیں ٹوٹتا، وہ فرماتے ہیں، بلکہ بلکہ خروجِ نجاست ہو سبیلِ معتاد سے۔ خروجِ نجاست کس سے ہو؟ خروجِ نجاست ہو اور سبیلِ معتاد سے ہو جس سے عادتاً نجاست نکلتی ہے، یعنی وہ جو دو سبیلین ہیں بھئی، پیشاب پاخانے کا جو راستے ہیں جن سے عادتاً نجاست نکلتی ہے ان سے اگر نجاست نکلے گی تو وضو ٹوٹے گا۔ سبیلین کے علاوہ باقی بدن سے اگر نجاست نکلے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، نہیں ٹوٹے گا۔ لہٰذا اگر کہیں زخم لگ گیا، خون نکل آیا، تو خون اگرچہ نجس ہے ہمارے نزدیک بھی، ان کے نزدیک بھی، لیکن یہ سبیلِ معتاد سے نکلا ہے یا غیر معتاد سے نکلا؟ غیر معتاد سے، لہٰذا اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ قے آئی کسی کو، اب قے نجس ہے بھئی، لیکن یہ سبیلِ معتاد سے نکلی ہے یا غیر معتاد سے؟ غیر معتاد سے، تو لہٰذا اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، وہ فرماتے ہیں۔ تو یاد رکھیے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی خون جو ہے وہ نجس ہے، لیکن اس کے نکلنے سے وہ فرماتے ہیں وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ وہ کیا قید لگاتے ہیں کہ نجاست نکلے اور کہاں سے نکلے؟ سبیلِ معتاد سے نکلے بھئی، سے۔ لہٰذا اصول الشاشی وغیرہ کتابوں میں جو امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ لکھا گیا ہے کہ ان کے نزدیک خون نجس نہیں ہے بھئی، نجس نہیں ہے، اور اس لیے اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، یہ درست نہیں ہے بھئی۔ خون تو وہ بھی نجس خون کو کہتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک کون سی قید کا اعتبار ہے؟ سبیلِ معتاد کی قید ہے، اس لیے اس سے وضو نہیں ٹوٹتا بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الْخَارِجُ مِنْ غَيْرِ السَّبِيلَيْنِ“، وہ چیز جو نکلے سبیلین کے علاوہ سے، ”لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ“، وہ وضو کو نہیں توڑتی، ”لِمَا رُوِيَ“، ما سے کیا مراد ہے؟ ما سے مراد حدیث ہے۔ ”لِمَا“، بوجہ اس حدیث کے ”رُوِيَ“ جو روایت کی گئی ہے: ”أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَاءَ فَلَمْ يَتَوَضَّأْ“، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی ”فَلَمْ يَتَوَضَّأْ“ تو آپ نے وضو نہیں فرمایا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قے ناقض للوضوء نہیں بھئی۔ ”وَلِأَنَّ غَسْلَ غَيْرِ مَوْضِعِ الْإِصَابَةِ أَمْرٌ تَعَبُّدِيٌّ فَيَقْتَصِرُ عَلَى مَوْرِدِ الشَّرْعِ، وَهُوَ الْمَخْرَجُ الْمُعْتَادُ“۔ ”وَلِأَنَّ“، دوسری دلیل بھئی، عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ غَسْلَ غَيْرِ مَوْضِعِ الْإِصَابَةِ أَمْرٌ تَعَبُّدِيٌّ“۔ امام شافعی رحمہ اللہ عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ بدن سے نجاست خارج ہو سبیلین کے اندر بھی، تو عقل تو یہ کہتی ہے صرف اس مقام کو دھونا چاہیے اور صاف کرنا چاہیے۔ عقل کیا کہتی ہے؟ جہاں سے نجاست نکلی ہے، جہاں نجاست لگی ہے، صرف اس مقام کو دھونا چاہیے اور اس کو صاف کر لینا چاہیے اور اس سے طہارت حاصل ہو جانی چاہیے۔ لیکن شریعت نے اس صورت میں حکم دیا ہے کہ نہیں، چار اعضاء کو دھونا پڑے گا، چہرہ، ہاتھ اور پاؤں جو ہیں ان کو دھونا پڑے گا اور سر کا مسح کرنا پڑے گا۔ تو شریعت نے ان چیزوں کو دھونے اور مسح کرنے کا حکم دیا یہ بات عقل میں نہیں آتی۔ عقل میں نہیں، عقل تو کیا کہتی ہے کہ صرف اس جگہ کو دھونا چاہیے جہاں سے نجاست نکلی ہے اور جہاں پر نجاست لگی ہے، پھر شریعت نے ان چار جگہوں کے دھونے کا حکم کیوں دیا؟ یہ نجاست یہ کس طرح ان اعضاء کی طرف سرایت کر گئی بھئی؟ زوالِ طہارت کا حکم کیسے ان کی طرف سرایت کر گیا؟ یہ بات ہمیں سمجھ میں نہیں آتی، لیکن شریعت نے حکم دیا ہے لہٰذا ہم اس پر عمل کرتے ہیں، تو یہ امرِ تعبدی ہے۔ یہ کیا ہے؟ امرِ تعبدی ہے۔ امرِ تعبدی بھئی جس کو بطورِ عبادت کے کیا جائے بھئی۔ بھئی شریعت شریعت کا کوئی حکم ہو اور ہمیں اس کی علت اور وجہ ہماری عقل میں نہ آئے تو اس کو کہتے ہیں یہ امرِ تعبدی ہے۔ ہمیں تو اس کی علت سمجھ میں نہیں آ رہی، ہماری عقل میں نہیں آ رہی، لیکن شریعت نے حکم دیا ہے تو اس پر عمل کیا جائے گا، یہ امرِ تعبدی ہے بطورِ عبادت کے، بس شریعت نے جیسا حکم دے دیا ویسا ہی کرنا پڑے گا، عقل میں آئے یا عقل میں نہ آئے بھئی۔ تو یہ ہے امرِ تعبدی بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَلِأَنَّ غَسْلَ غَيْرِ مَوْضِعِ الْإِصَابَةِ“، اور اس لیے کیونکہ دھونا اس جگہ کے علاوہ، الاصابۃ کا معنی پہنچنا، أَيْ: إِصَابَةِ النَّجَاسَةِ، جہاں کیا ہے؟ نجاست پہنچی ہے، نجاست پہنچنے کے علاوہ جگہ کا دھونا، ”أَمْرٌ تَعَبُّدِيٌّ“، یہ کیا ہے؟ امرِ تعبدی ہے، ”فَيَقْتَصِرُ عَلَى مَوْرِدِ الشَّرْعِ“، تو یہ حکم بند رہے گا ”عَلَى مَوْرِدِ الشَّرْعِ“، کس پر؟ شریعت کے وارد ہونے کی جگہ پر بھئی۔ تو یہ حکم بند رہے گا۔ ”وَهُوَ الْمَخْرَجُ الْمُعْتَادُ“۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! آپ بھی کہتے ہیں جو حکم خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے، اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ قیاس کس چیز کا نام ہے؟ عقلی دلیل کا نام، رائے کا نام ہے رائے کا بھئی۔ آپ نے مثلاً ہیروئن کو کس پر قیاس کیا؟ شراب پر قیاس کیا، تو دیکھیے یہاں پر وجہ آپ کی عقل میں آ رہی تھی کہ شراب کو کیوں حرام قرار دیا گیا ہے؟ نشے کی وجہ سے۔ اور تو جو چیز عقل میں آئے گی وہیں پر آپ کیا کریں گے؟ قیاس کریں گے۔ ایک چیز کی علت عقل میں ہی نہیں آتی تو اس پر کیسے دوسری چیز کو قیاس کریں گے؟ تو یہاں پر بھی شریعت نے خارج من السبیلین کی صورت میں وضو کا حکم دیا یعنی چار اعضاء کے دھونے اور مسح کرنے کا حکم دیا، اس کی وجہ کیا ہے؟ علت کیا ہے؟ یہ نجاست یا یہ زوالِ طہارت کس طرح ان چار اعضاء کی طرف سرایت کر گیا؟ کیسے وہاں تک یہ زوالِ طہارت پہنچ گئی بھئی؟ طہارت تو صرف اس مقام کی زائل تھی، صرف اسی کو دھونا چاہیے تھا، لیکن شریعت ان اعضاء کے بھی دھونے کا حکم دے رہی ہے، معلوم ہوا وہ زوالِ طہارت جو ہے وہ سرایت کر گیا ہے، ان اعضاء تک بھی پہنچ گیا ہے، ان کی طہارت بھی زائل ہو گئی ہے، لیکن کیسے یہ سرایت ہوئی؟ یہ بات ہماری عقل میں نہیں آتی بھئی۔ تو یہ حکم خلافِ قیاس ہوا، ہماری عقل میں نہیں آ رہا، اور آپ کا ضابطہ ہے کہ جو حکم خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے، جب وہ عقل میں ہی نہیں آ رہا تو اس پر کسی دوسری چیز کو کیسے قیاس کیا جائے گا؟ تو سبیلین کے اندر خروجِ نجاست کی صورت میں جو وضو کا حکم دیا گیا یہ بات ہماری عقل میں نہیں آتی، تو لہٰذا اس پر باقی بدن کے کسی حصے سے اگر نجاست خارج ہو اس کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ قیاس تو آپ تب کرتے جب یہ پہلی بات کی علت اور وجہ ہماری عقل میں آتی بھئی۔ اصل کے اندر علت ہمیں سمجھ میں آئے گی تو فرع یعنی دوسری چیز کو اس پر قیاس کیا جائے گا۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ ”لِأَنَّ غَسْلَ غَيْرِ مَوْضِعِ الْإِصَابَةِ“، نجاست پہنچنے کے علاوہ اور جگہ کا جو دھونا ہے، ”أَمْرٌ تَعَبُّدِيٌّ“، یہ امرِ تعبدی ہے، ”فَيَقْتَصِرُ عَلَى مَوْرِدِ الشَّرْعِ“، تو یہ حکم جو ہے بند رہے گا شریعت کے وارد ہونے کی جگہ کے پر، یعنی جس بارے میں شریعت نے حکم دیا ہے وہیں تک بند رہے گا، اور شریعت نے کس وقت حکم دیا ہے؟ کس مخرجِ معتاد کے اندر جہاں سے عادتاً، یعنی وہ سبیلین جو ہیں، ان میں شریعت نے وضو کرنے کا حکم دیا ہے، تو یہ وضو کرنے کا حکم اسی مقام کے ساتھ بند رہے گا۔ وہاں سے جب کوئی نجاست نکلے گی تو وضو کا حکم دیا جائے گا، باقی وضو کا حکم کیوں دیا ہمیں ہماری عقل میں یہ بات آ ہی نہیں رہی، لہٰذا اس پر ہم بدن کے باقی حصوں سے اگر نجاست نکلے اس کو اس پر قیاس نہیں کریں گے اور اس صورت میں وضو توڑنے کا حکم نہیں لگائیں گے۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ تو کہتے ہیں یہ حکم بند رہے گا شریعت کے وارد ہونے کی جگہ پر، ”وَهُوَ الْمَخْرَجُ الْمُعْتَادُ“، اور شریعت وارد ہونے کی جگہ کون سی ہے؟ مخرجِ معتاد جہاں سے عادتاً نجاست نکلتی ہے یعنی سبیلین۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ، وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَنْ قَاءَ أَوْ رَعَفَ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ“۔ ”وَلَنَا“، اب ہماری دلیلیں شروع ہوئیں بھئی۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اور ہماری دلیل جو ہے حضور علیہ السلام کا قول ہے: ”الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ“، وضو جو ہے وہ واجب ہو گا ہر بہنے والے خون سے۔ وضو ہر بہنے والے خون سے وضو واجب ہو گا، یہ حدیث ہماری دلیل ہے، یہ ایک نقلی دلیل آ گئی۔ ”وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اور دوسری دلیل ہماری حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”مَنْ قَاءَ أَوْ رَعَفَ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ“۔ حدیث میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مَنْ قَاءَ“، جس کو قے آئی، ”أَوْ رَعَفَ“، رعاف کہتے ہیں بھئی ناک سے خون کا نکلنا، نکسیر جس کو کہتے ہیں نکسیر پھوٹنا، کہ جس شخص کو قے آئی یا اس کی نکسیر پھوٹی، ”فِي صَلَاتِهِ“، کس حالت میں؟ نماز میں، نماز کے اندر، ”فَلْيَنْصَرِفْ“، تو اس کو چاہیے کہ پلٹ جائے، لوٹ جائے، ”وَلْيَتَوَضَّأْ“، اور اسے چاہیے کہ وضو کرے، ”وَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ“، اور اسے چاہیے کہ وہ بنا کرے اپنی نماز پر، ”مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ“، جب تک اس نے کلام نہیں کیا۔ بھئی بناءِ صلاۃ جانتے ہیں یا نہیں جانتے؟ بناءِ صلاۃ، آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور نماز کے اندر آپ کا وضو ٹوٹ گیا، دو رکعتیں مثلاً پڑھ چکے ہیں، دو رکعتیں باقی ہیں، آپ کا وضو ٹوٹ گیا، تو اب بہتر تو یہ ہے کہ آپ وضو کر کے نئے سرے سے نماز پڑھیں، لیکن اگر آپ اسی پر بنا کرنا چاہتے ہیں تو اس کی بھی شریعت نے اجازت دی ہے کہ آپ کا وضو ٹوٹا آپ فوراً پلٹ جائیں اور جا کر وضو کر کے آئیں، جا کر وضو کر کر آئیں اور پھر آ کر اسی جگہ سے نماز پڑھنا شروع کر دیں جہاں سے وضو ٹوٹا تھا بھئی۔ یعنی دو رکعتیں پڑھ چکے تھے اب اگلی دو رکعتیں پڑھ لیجیے، آپ کی نماز مکمل ہو گئی بھئی۔ تو یہ ہے بنا کرنا، اسی پر باقی حصے کی بنیاد رکھی، بنا کی بھئی۔ لیکن اس میں یاد رکھیے بھئی، یہ جو انسان کا وضو ٹوٹا اور واپس پلٹا اور جا کر اس نے وضو کیا اور پھر آ کر نماز شروع کی وہیں سے پڑھنا شروع کی، تو یہ جو واپس پلٹنے، وضو کرنے اور واپس آنے کی صورت ہے اس میں وہ شخص ابھی بھی من وجہ نماز ہی کے اندر ہے۔ لہٰذا اس میں بھی کوئی منافیِ صلاۃ عمل کرنے کی اجازت نہیں۔ نماز میں جیسے کسی سے کلام کرنے کی اجازت نہیں، تو اب یہ جو واپس جا رہا ہے، واپس جاتے ہوئے اگر اس نے کسی کے ساتھ کلام کر لیا، کسی نے اس کو سلام کیا یا اس نے کسی کو سلام کر دیا، بس بھئی نماز ٹوٹ گئی، اب بنا نہیں کر سکتے، کیونکہ کون سا عمل کر لیا؟ منافیِ صلاۃ۔ یا کوئی چیز کھا لی پی لی بھئی، یہ بھی اس نے منافیِ صلاۃ عمل کیا، اب بنا نہیں کر سکتا۔ تو اس حالت میں صرف شریعت نے اتنی اجازت دی کہ سیدھا جائے، وضو کرے اور پھر سیدھا آ کر کیا کر لے؟ اسی پر بنا کر لے، درمیان میں کوئی منافیِ صلاۃ عمل کرنے کی اجازت نہیں ہے بھئی، ورنہ نماز پر بنا درست نہیں بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی، تو یہ بات ذکر ہوئی اس حدیث کے اندر، اور اس حدیث میں آیا: ”مَنْ قَاءَ أَوْ رَعَفَ“، جس نے قے کی، معلوم ہوا قے سے وضو ٹوٹ گیا جبھی تو واپس لوٹنے اور وضو کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ ناک سے خون نکلا، معلوم ہوا خون نکلنے سے وضو ٹوٹ گیا ہے۔ اب قے کے اندر بھی خروجِ نجاست، نکسیر کے اندر بھی خروجِ نجاست، ناک سے خون نکلا، اور یہ سبیلِ معتاد سے ہے یا غیر معتاد سے؟ یہ تو سبیلِ غیر معتاد سے ہے بھئی۔ ناک سے تو عموماً نجاست نہیں نکلتی، منہ سے تو عموماً نجاست نہیں نکلتی، تو لہٰذا سبیلِ غیر معتاد سے نجاست خارج ہوئی پھر بھی معلوم ہوا وضو ٹوٹ جائے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”فَلْيَنْصَرِفْ“، اس کو چاہیے کہ پلٹ جائے، ”وَلْيَتَوَضَّأْ“، اور اسے چاہیے کہ وضو کرے، ”وَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ“، اور اسے چاہیے کہ اپنی نماز پر بنا کرے، ”مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ“، جب تک اس نے کلام نہیں کیا۔ ”وَلِأَنَّ خُرُوجَ النَّجَاسَةِ مُؤَثِّرٌ فِي زَوَالِ الطَّهَارَةِ“، یہاں سے امام شافعی رحمہ اللہ کی عقلی دلیل کا جواب دے رہے ہیں بھئی، اور یہ ہماری عقلی دلیل بھی ہے بھئی۔ تو ان کا جواب بھی ہو جائے گا اور ہماری عقلی دلیل بھی ہو جائے گی یہی بھئی۔ جواب سمجھ لیجیے بھئی: ہم کہتے ہیں کہ خارج من السبیلین جو ہے، یہ ہے مقیس علیہ، اس پر قیاس کریں گے ہم، یہ اصل ہے، خارج من السبیلین، جو سبیلین سے جو چیز خارج ہوئی۔ وہ ہے مقیس علیہ، اور خارج من غیر السبیلین، یعنی جو خون نکلا ہے یا پیپ نکلی ہے بدن سے یا قے آئی ہے، یہ خارج ہے نجس اور من غیر السبیلین ہے۔ تو خارج من السبیلین وہ کیا ہے؟ اصل ہے، مقیس علیہ ہے، اس پر قیاس کر رہے ہیں، اور کس کو قیاس کر رہے ہیں؟ خارج من غیر السبیلین، یہ ہے مقیس بھئی، یعنی فرع ہے بھئی۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں پر جو ہے خارج من السبیلین جو ہے وہ ہے مقیس علیہ، وہ ہے اصل، اس پر ہم قیاس کرتے ہیں، اور کس کو قیاس کرتے ہیں؟ خارج من غیر السبیلین، سبیلین کے علاوہ بدن سے کوئی نجاست نکلی جیسے خون ہے، پیپ ہے، قے ہے وغیرہ بھئی، تو وہ وہ ہیں مقیس بھئی، یعنی فرع ہیں بھئی۔ ہم کہتے ہیں کہ خارج من السبیلین کی صورت میں زوالِ طہارت ہوا، اتنی بات تو عقل میں آتی ہے۔ یعنی خروجِ نجاست، خروجِ نجاست وہ مزیلِ طہارت ہے۔ بھئی سبیلین سے جب کوئی نجاست خارج ہوئی تو شریعت نے کیا حکم دیا تھا؟ وضو کرنے کا حکم دیا تھا، تو اس سے اتنی بات تو عقل میں آ رہی ہے کہ خروجِ نجاست سے طہارت زائل ہو جاتی ہے۔ جبھی طہارت زائل ہوئی ہے جبھی تو شریعت نے کس چیز کا حکم دیا؟ وضو کے کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو خروجِ نجاست سے طہارت زائل ہو جاتی ہے، یہ بات تو عقل میں آ رہی ہے۔ کس کے اندر؟ اصل کے اندر۔ اصل کیا ہے؟ خارج من السبیلین۔ تو خارج من السبیلین جو اصل ہے اس کے اندر اتنی بات تو ہمیں سمجھ میں آ رہی ہے کہ خروجِ نجاست سے کیا ہوا ہے؟ زوالِ طہارت۔ یہ بات عقل کے مطابق ہے، خروجِ نجاست سے کیا ہونا چاہیے؟ زوالِ طہارت ہونا چاہیے بھئی۔ عقل بتلاتی ہے یا نہیں بتلاتی؟ یہ بات تو عقل کے مطابق ہے اور اتنی بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ خروجِ نجاست کا اثر پڑتا ہے اور طہارت کیا ہو جاتی ہے؟ زائل ہو جاتی ہے۔ اتنی بات عقل میں آ جاتی ہے، ایک بات یہ عقل میں آتی ہے، ہاں دوسری بات عقل میں نہیں آتی کہ چار اعضاء کو دھونے کا حکم کیوں دیا گیا؟ چار اعضاء کو... امام شافعی رحمہ اللہ نے یہی ذکر فرمایا تھا نا کہ چار اعضاء کو دھونے کا حکم کیوں دیا گیا؟ دھونا تو صرف اسی مقام کو چاہیے تھا جہاں پر نجاست جہاں لگی ہے، جہاں سے نکلی ہے، لیکن شریعت نے وضو کرنے کا حکم دیا، چار اعضاء کو دھونے اور مسح کرنے کا حکم دیا، وہ وجہ ہمیں سمجھ میں نہیں آتی۔ ہم کہتے ہیں ہاں، آپ کی بات ٹھیک ہے، یہ بات واقعی عقل میں نہیں آتی کہ ان چار اعضاء کے دھونے کا حکم کیوں دیا، لیکن ایک بات تو یہاں سے اصل کے اندر عقل میں آ جاتی ہے کہ خروجِ نجاست جو ہے اس کا اثر پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے طہارت زائل ہو جاتی ہے، طہارت زائل ہو جاتی ہے۔ تو اتنی بات عقل میں آتی ہے، اتنی بات عقل میں آتی ہے۔ اور یہی خارج من غیر السبیلین کی صورت میں بھی، خروجِ نجاست ہوا یا نہیں ہوا بھئی؟ یہ فرع ہے، یہاں بھی خروجِ نجاست ہے، اور ابھی ہم نے بتلایا کہ خروجِ نجاست کیا ہے؟ مؤثر ہے، کس چیز کے اندر؟ زوالِ طہارت کے اندر، تو لہٰذا بدن کے کسی اور حصے سے بھی اگر نجاست نکلے گی، خون، پیپ یا قے وغیرہ، تو یہ بھی مؤثر ہوں گے کس چیز کے اندر؟ زوالِ طہارت کے اندر۔ تو جیسے سبیلین کے اندر خروجِ نجاست کی صورت میں زوالِ طہارت کا حکم آ جاتا تھا، یہاں پر بھی کیا آ جائے گا؟ زوالِ طہارت کا حکم آ جائے گا۔ اور جب وہاں زوالِ طہارت کا حکم آیا تھا سبیلین کے اندر تو ساتھ ایک اور حکم بھی آ گیا تھا کہ اب وضو کر لو۔ کیا کر لو؟ طہارت زائل ہو چکی ہے، وضو کر لو۔ تو یہاں پر بھی جب زوالِ طہارت آئے گی تو اس کے ساتھ یہ حکم آ جائے گا کہ کیا کر لو؟ وضو کر لو۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ یہاں کتنی چیزیں ہیں؟ دو چیزیں۔ ایک چیز یہ کہ خروجِ نجاست کی وجہ سے طہارت زائل ہو جاتی ہے، سبیلین کے اندر خروجِ نجاست ہوا تو طہارت زائل ہو گئی۔ اتنا تو پتہ چل رہا ہے یہ تو عقل تسلیم کر رہی ہے، لیکن پھر چار اعضاء کو دھونے کا حکم کیوں دیا گیا، وضو کرنے کا حکم کیوں دیا گیا، یہ بات عقل میں نہیں آتی۔ تو جو پہلی بات سمجھ میں آ رہی ہے وہ تو متعدی ہو جائے گی بھئی۔ باقی بدن سے خون، پیپ یا قے نکلے تو اس صورت میں کیا حکم آ جائے گا؟ زوالِ طہارت۔ اور جہاں زوالِ طہارت کا حکم آیا تھا وہاں شریعت نے کیا حکم دیا تھا؟ وضو کرنے کا حکم دیا تھا، تو وہاں جب وضو کا حکم آ رہا تھا تو یہاں بھی یقینی طور پر کیا آ جائے گا؟ وضو کا حکم آ جائے گا اور کہا جائے گا خون، پیپ اور قے کی صورت میں کہ وضو ٹوٹ چکا ہے، طہارت زائل ہو چکی ہے، اب کیا کر لیجیے؟ وضو کر لیجیے۔ معلوم ہوا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ اب دیکھیے کتاب پر: ”وَلِأَنَّ خُرُوجَ النَّجَاسَةِ مُؤَثِّرٌ فِي زَوَالِ الطَّهَارَةِ“، اور اس لیے کیونکہ نجاست کا نکلنا یہ مؤثر ہے زوالِ طہارت کے اندر، ”وَهَذَا الْقَدْرُ فِي الْأَصْلِ مَعْقُولٌ“، اور اتنی مقدار یعنی یہ والی جو بات ہے، دو باتیں ہو گئی تھیں نا کل، تو اتنی مقدار جو ہے ”فِي الْأَصْلِ“، کس کے اندر؟ اصل کے اندر، اصل کون ہے؟ وہ مقیس علیہ یعنی خارج من السبیلین، تو اتنی بات تو اصل یعنی خارج من السبیلین کے اندر معقولٌ، یہ عقل میں آنے والی ہے، ”وَالِاقْتِصَارُ عَلَى الْأَعْضَاءِ الْأَرْبَعَةِ غَيْرُ مَعْقُولٍ“، اور اکتفاء کرنا چار اعضاء پر، یہ عقل میں بات آنے والی نہیں، یعنی وضو جو ہے اس کا جو حکم دیا گیا ہے یہ عقل میں آنے والا نہیں، ”لَكِنَّهُ يَتَعَدَّى“، لیکن یہ جو حکم ہے یعنی ہا ضمیر راجع ہے اقتصار علی الاعضاء الاربعۃ کو، لیکن یہ جو چار اعضاء پر اکتفاء کرنے کا حکم دیا گیا، چار اعضاء پر اکتفاء کرنے کا حکم، چار اعضاء پر اکتفاء کرنے کا کیا معنی؟ یعنی وضو، وضو۔ لیکن یہ جو چار اعضاء پر اکتفاء کرنے کا حکم ہے، ”يَتَعَدَّى“، یہ بھی متعدی ہو گا ”ضَرُورَةَ تَعَدِّي الْأَوَّلِ“، یہاں ضرورت کے معنی ہوں گے بدیہی اور یقینی کے بھئی۔ ضرورت کا کیا معنی کریں گے یہاں؟ بدیہی اور یقینی بھئی۔ تو یہ جو چار اعضاء پر اکتفاء کرنے کا حکم ہے یہ بھی متعدی ہو جائے گا، یعنی اصل سے کس کی طرف جائے گا؟ فرع کی طرف، یعنی خارج من غیر السبیلین کی طرف یہ حکم متعدی ہو جائے گا، ”ضَرُورَةَ تَعَدِّي الْأَوَّلِ“، پہلے حکم کے متعدی ہونے کے یقینی ہونے کی وجہ سے۔ یعنی پہلا حکم کا متعدی ہونا تو یقینی ہے، پہلا حکم کیا تھا؟ کہ خروجِ نجاست مؤثر ہے کس کے اندر؟ زوالِ طہارت کے اندر، وہ تو یقینی طور پر متعدی ہوا، کیونکہ سبیلین کے اندر بھی خروجِ نجاست تھا اور اس سے طہارت زائل ہوئی تھی، تو یہاں پر بھی خروجِ نجاست ہے تو طہارت زائل۔ تو یہ طہارت زائل ہونے کا حکم یہ تو یقینی طور پر متعدی ہو گا، اور جب یہ یقینی طور پر متعدی ہو گا تو اس کے ساتھ ہی دوسرا حکم، اقتصار علی الاعضاء الاربعۃ، وہ حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ متعدی ہو جائے گا بھئی، متعدی ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اول سے کیا مراد ہے؟ ”ضَرُورَةَ تَعَدِّي الْأَوَّلِ“، کیونکہ پہلی بات کا متعدی ہونا یقینی ہے، اس لیے یہ اقتصار علی الاربعۃ کا حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ متعدی ہو گا۔ ترجمہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں بھئی؟ خلاصہ یہ، خلاصہ یہ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے، عقلی دلیل انہوں نے ذکر فرمائی تھی کہ خروجِ نجاست جو ہے اس کے اندر شریعت نے وضو کرنے کا حکم دیا حالانکہ صرف اس مقام کو دھونے کا حکم دینا چاہیے تھا لیکن باقی اعضاء کے دھونے کا حکم دیا گیا، یہ بات ہماری عقل میں نہیں آتی۔ معلوم ہوا یہ بات خلافِ عقل ہے، امرِ تعبدی ہے، اور ضابطہ ہے کہ جو چیز خلافِ عقل ہوتی ہے وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، یعنی شریعت میں جیسی وارد ہوئی ہے وہیں پر حکم رہے گا، دوسری جگہ کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تو لہٰذا یہ بھی جو وضو کرنے کا حکم ہے اپنے مورد پر بند رہے گا، اور وضو کرنے کا حکم شریعت نے کس وقت دیا ہے جو نصوص میں آیا ہے؟ جب سبیلین سے کوئی چیز خارج ہو تب شریعت کہتی ہے وضو ٹوٹ چکا ہے، کیا کر لو؟ وضو کر لو۔ اور اے احناف! آپ قیاس کر رہے ہیں خارج من غیر السبیلین کو خارج من السبیلین پر، حالانکہ یہاں تو وجہ ہی عقل میں نہیں آتی، تو لہٰذا اس پر قیاس کرنا بھی صحیح نہیں۔ صاحبِ ہدایہ نے جواب دیا کہ یہاں پر دو چیزیں ہیں اصل کے اندر، یعنی خارج من السبیلین کے اندر دو چیزیں ہیں: ایک چیز ہے کہ خروجِ نجاست سے طہارت زائل ہو گئی، ایک یہ بات۔ دوسری بات: اب چار اعضاء کو دھو لو، یہ دوسری بات۔ پہلی بات تو عقل میں آنے والی ہے، خروجِ نجاست کی وجہ سے طہارت زائل ہو جاتی ہے، عقل بھی کہتی ہے خروجِ نجاست کی صورت میں کیا ہونا چاہیے؟ طہارت کو زائل ہو جانا چاہیے، لیکن پھر یہ چار اعضاء کو دھونے اور مسح کرنے کا حکم کیوں دیا گیا؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ لیکن پہلی بات تو کم از کم سمجھ میں آتی ہے، اور جب پہلی بات عقل کے مطابق ہے تو پھر یہاں پر قیاس کرنا صحیح ہو گا بھئی، کیا کرنا؟ قیاس کرنا۔ اور وہاں پر سبیلین کے اندر خروجِ نجاست کی وجہ سے کیا ہوا تھا؟ زوالِ طہارت، تو یہاں پر بھی بدن سے جب نجاست نکلے تو خروجِ نجاست ہے اور خروجِ نجاست کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟ زوالِ طہارت ہوتا ہے تو یہاں بھی زوالِ طہارت ہو گا۔ باقی چار اعضاء پر اکتفاء کرنے کا حکم دیا گیا وہ اگرچہ عقل میں نہیں آتا، لیکن جہاں زوالِ طہارت کا حکم آتا ہے وہیں پر کون سا حکم آ جاتا ہے؟ وضو کا، یعنی چار اعضاء پر اکتفاء کرنے... سبیلین کے اندر زوالِ طہارت کے بعد پھر کیا حکم آیا تھا؟ وضو کا حکم آیا تھا، تو یہاں پر بھی جب زوالِ طہارت کا حکم متعدی ہو گیا تو اس کے ساتھ وضو کا حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ متعدی ہو جائے گا اور کہا جائے گا کہ وضو کر لیا جائے، وضو ٹوٹ چکا ہے۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ اب ذرا لفظ ترجمہ صرف دیکھ لیجیے: ”وَلِأَنَّ خُرُوجَ النَّجَاسَةِ مُؤَثِّرٌ فِي زَوَالِ الطَّهَارَةِ“، اور اس لیے کیونکہ خروجِ نجاست جو ہے وہ مؤثر ہے زوالِ طہارت کے اندر، ”وَهَذَا الْقَدْرُ فِي الْأَصْلِ مَعْقُولٌ“، اور اتنی مقدار جو ہے اتنی بات جو ہے اصل یعنی مقیس علیہ کے اندر، اور وہ کیا ہے؟ وہ خارج من السبیلین کے اندر معقولٌ، عقل میں آنے والی ہے، ”وَالِاقْتِصَارُ عَلَى الْأَعْضَاءِ الْأَرْبَعَةِ غَيْرُ مَعْقُولٍ“، اور اکتفاء کرنا اعضاءِ اربعہ پر یہ بات عقل میں آنے والی نہیں ہے، ”لَكِنَّهُ يَتَعَدَّى“، لیکن یہ بھی کیا ہو جائے گا؟ یہ بھی متعدی ہو جائے گا ”ضَرُورَةَ تَعَدِّي الْأَوَّلِ“، کیونکہ پہلے کا متعدی ہونا یقینی ہے، پہلی بات تو یقیناً متعدی ہو گی، خروجِ نجاست کی صورت میں زوالِ طہارت تو پایا جائے گا، جب زوالِ طہارت ہو تو پھر کیا حکم دیا جائے گا؟ وضو کا حکم دیا جائے گا، تو وضو کا حکم بھی متعدی ہو جائے گا اس کی طرف بھئی۔ چلیے، بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 10 of 82