قَالَ: ”ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ“، ”وَفِي الجَامِعِ الصَّغِيرِ: وَيُكَبِّرُ مَعَ الِانْحِطَاطِ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ، وَيَحْذِفُ التَّكْبِيرَ حَذْفًا لِأَنَّ المَدَّ فِي أَوَّلِهِ خَطَأٌ مِنْ حَيْثُ الدِّينُ لِكَوْنِهِ اسْتِفْهَامًا، وَفِي آخِرِهِ لَحْنٌ مِنْ حَيْثُ اللُّغَةُ“.
نماز کا طریقہ بیان ہو رہا ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ نیت کرنے کے بعد تکبیر کہیں گے اور تکبیر کے ساتھ دونوں ہاتھ اٹھائے جائیں گے، پھر اس کے بعد ہاتھ باندھ لیے جائیں گے اور ثنا پڑھی جائے گی ”سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ“، اور اس کے بعد اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھی جائے گی، اور اس کے بعد سورۂ فاتحہ پڑھیں گے اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت یا تین آیتیں ملائی جائیں گی۔ سورۂ فاتحہ کے بعد کیا کہیں گے؟ آمین۔ ہاں، یہ سورۂ فاتحہ کے اختتام پر امام جب ”وَلَا الضَّالِّينَ“ کہے تو امام بھی آمین کہے گا اور مقتدی بھی آمین کہے گا۔
اب اس کے بعد آگے بھئی، سورۂ فاتحہ بھی پڑھ لی، اس کے آخر پر آمین بھی آگیا اور اس کے ساتھ کوئی چھوٹی سورت یا تین آیتیں بھی ملا لیں، اب رکوع کرنا ہے، اس کا طریقہ بیان کر رہے ہیں۔
”قَالَ: ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ“ پھر اس کے بعد نماز پڑھنے والا تکبیر کہے ”وَيَرْكَعُ“ اور رکوع کرے۔ ”وَفِي الجَامِعِ الصَّغِيرِ: وَيُكَبِّرُ مَعَ الِانْحِطَاطِ“ اور جامع صغیر میں ہے کہ تکبیر کہے گا مع الانحطاط، جھکنے کے ساتھ ہی۔ یعنی جھکتے ہوئے ہی کیا کرے گا؟ تکبیر۔
بھئی صاحبِ ہدایہ کا طریقہ، جیسے پہلے چند باتیں میں ذکر کر چکا، ایک تو یہ کہ جب وہ اقوال ذکر کرتے ہیں تو جو قوی قول ہوتا ہے، جو مضبوط قول ہوتا ہے، اس کو پہلے ذکر کرتے ہیں اور باقی اقوال کو اس کے بعد ذکر کرتے ہیں۔ اور پھر جب وہ دلائل ذکر کرتے ہیں مذاہب کے، تو جو مذہب راجح ہوتا ہے، اس کی دلیل سب سے آخر میں لاتے ہیں تاکہ یہ اس مذہب کی دلیل بھی ہوجائے اور باقیوں کی دلیلوں کا جواب بھی ہوجائے بھئی، جواب بھی ہوجائے۔
نیز اسی طرح آپ نے پڑھا شروع میں آپ کو بتلایا تھا کہ صاحبِ ہدایہ نے یہ جو متن ترتیب دیا ہے، یہ جامع صغیر اور قدوری سے ترتیب دیا انہوں نے، جامع صغیر اور قدوری۔ تو اس میں اکثر عبارات جو آپ کو نظر آئیں گی وہ قدوری کی ہیں، البتہ جہاں جہاں جامع صغیر میں عبارت ذرا مختلف ہے تو اس پر بھی صاحبِ ہدایہ متنبہ کرتے ہیں، اس کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، قدوری کے اندر صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ“، جبکہ جامع صغیر کے اندر جو ہے وہاں عبارت ذرا مختلف تھی تو اس کو بھی ذکر کر دیا۔
اور دونوں میں فرق ہے بھئی۔ صاحبِ قدوری کی عبارت ”ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ“ پھر تکبیر کہے اور رکوع کرے، اس میں ہو سکتا ہے یہ صورت بھی ممکن ہے کہ تکبیر کہتے ہوئے ہی رکوع میں رکوع کرے انسان، تکبیر کہتے ہوئے رکوع کی طرف جھکے بھئی، ایک یہ صورت۔ یا جو لفظوں میں ترتیب ہے یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے تکبیر کہی جائے پھر اس کے بعد انسان رکوع میں چلا جائے۔ تو صاحبِ قدوری کی عبارت میں دونوں احتمال ہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر کے اندر جو عبارت ذکر کی ہے اس کے مطابق جھکتے وقت یعنی جھکنے کے ساتھ ہی ساتھ کیا کہی جائے گی؟ تکبیر کہی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دونوں میں چونکہ یہ فرق تھا اس لیے صاحبِ ہدایہ نے جامع صغیر کی بھی عبارت ذکر کر دی۔
تو صاحبِ قدوری نے کیا فرمایا تھا؟ ”ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ“ پھر تکبیر کہے اور رکوع کرے۔ اس میں دونوں احتمال: پہلے تکبیر کہے پھر کیا کرے؟ رکوع کرے۔ یا رکوع کرتے ہوئے ساتھ ساتھ ہی کیا کہہ دے؟ جھکتے ہوئے، جھکنے کے ساتھ ہی تکبیر کہہ دے، یہ بھی احتمال تھا، دونوں صورتیں ہیں۔ جبکہ جامع صغیر میں بتلایا ”وَفِي الجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اور جامع صغیر میں ہے ”وَيُكَبِّرُ مَعَ الِانْحِطَاطِ“ اور تکبیر کہے جھکنے کے ساتھ۔
”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تھے ”عِنْدَ كُلِّ خَفْضٍ“، خفض کا معنی ہے جھکنا، رفع کا معنی ہے اٹھنا، کہ حضور علیہ السلام تکبیر کہتے تھے ”عِنْدَ كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ“ ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت، ہر جھکتے اور اٹھتے وقت حضور علیہ السلام نماز میں تکبیر کہتے تھے۔ تو اس سے معلوم ہوا جھکنے کے ساتھ تکبیر کہی جائے گی۔ ادھر جھک رہا ہو اور ساتھ ہی کیا کہہ رہا ہو؟ تکبیر کہہ رہا ہو۔
”وَيَحْذِفُ التَّكْبِيرَ حَذْفًا لِأَنَّ المَدَّ فِي أَوَّلِهِ خَطَأٌ مِنْ حَيْثُ الدِّينُ“ اور حذف کرے تکبیر میں بھئی۔ ”وَيَحْذِفُ التَّكْبِيرَ حَذْفًا“ اور نماز پڑھنے والا تکبیر میں حذف کرے گا۔ حذف کا معنی یہ ہے: قصر کرے گا، یعنی مد نہیں کرے گا، مد نہیں کرے گا۔ اب آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں، تشریح کر رہے ہیں کہ مد جو ہے وہ شروعِ تکبیر میں بھی ہو سکتا ہے اور آخر میں بھی ہو سکتا ہے، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ المَدَّ فِي أَوَّلِهِ خَطَأٌ مِنْ حَيْثُ الدِّينُ“ اس لیے کیونکہ مد کرنا یعنی حرف کو لمبا کرنا ”فِي أَوَّلِهِ“ أَيْ فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرِ، تکبیر کے ابتدا میں، ”خَطَأٌ مِنْ حَيْثُ الدِّينُ“ یہ خطا ہے کس اعتبار سے؟ دین کے اعتبار سے خطا ہے بھئی، دین کے اعتبار سے۔
تو دیکھیے بھئی، ”اللهُ أَكْبَرُ“، ”اللهُ أَكْبَرُ“ شروع میں یہ لفظِ اللہ کا جو ہمزہ ہے، اس ہمزہ کو اگر کوئی لمبا کر دے اور یوں پڑھے ”آللهُ أَكْبَرُ“، ”آللهُ أَكْبَرُ“ تو یاد رکھیے یہ غلطی ہے اور دینی اعتبار سے غلطی۔ کیونکہ عربی زبان کے اعتبار سے ”آللهُ أَكْبَرُ“ کا معنی ہوا: کیا اللہ سب سے بڑے ہیں؟ یعنی سوال بن گیا۔ کیا بن گیا؟ سوال۔ تو اصل میں تو تھا ”اللهُ أَكْبَرُ“، اور جس نے پڑھا ”آللهُ أَكْبَرُ“، معلوم ہوا یہاں ایک اور ہمزہ لے آیا، ”أَاللهُ أَكْبَرُ“ ہوا۔ ایک ہمزہ آگیا، اور ہمزہ عربی میں سوال کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پھر ”أَاللهُ أَكْبَرُ“ دو ہمزے آئے، پھر اس میں سے جب دو ہمزے اکٹھے ہوتے ہیں تو دوسرے ہمزہ کو پہلے کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدل دیتے ہیں۔ تو پہلے ہمزہ پر کیا ہے؟ فتحہ، اور فتحہ کے مناسب کیا ہے؟ الف۔ تو دوسرے ہمزہ کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، تو کیا بن گیا؟ ”آللهُ أَكْبَرُ“۔ تو یعنی تکبیر کے شروع میں اگر کوئی ہمزہ کو لمبا کرتا ہے اور یوں کہتا ہے ”آللهُ أَكْبَرُ“، تو یہ گویا استفہام کر رہا ہے، سوال کر رہا ہے کہ کیا اللہ سب سے بڑے ہیں؟ تو یہ دینی اعتبار سے غلطی ہے۔ اگر جان بوجھ کر کہا ہے پھر تو یاد رکھیے یہ کفر ہے بھئی، کیا ہے؟ کفر ہے بھئی۔ اور اگر جان بوجھ کر نہیں کہا، غلطی سے ہو گیا، تو بھی اس صورت میں یاد رکھیے نماز فاسد ہو جائے گی بھئی، نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی کیونکہ دینی اعتبار سے وہ غلطی کر رہا ہے، وہ استفہام کر رہا ہے۔ کہنا تو یہ چاہیے تھا ”اللهُ أَكْبَرُ“ اللہ سب سے بڑے ہیں، لیکن وہ کیا کر رہا ہے؟ وہ سوال کر رہا ہے کہ کیا اللہ سب سے بڑے ہیں۔ لہٰذا اگر تکبیر کے شروع میں مد لائیں گے تو یہ دینی اعتبار سے غلطی اور اس شخص کی نماز کیا ہوگی؟ فاسد ہوگی، فاسد ہوگی۔
اور اگر آخر میں مد کرتا ہے، یا تو اس سے مراد آگے صاحبِ ہدایہ کہیں گے کہ آخر میں جب غلطی کرتا ہے تو یہ عربی زبان کے اعتبار سے غلط پڑھ رہا ہے۔ اگر اکبر کے بجائے ”آكْبَرُ“ پڑھتا ہے تو یہ عربی زبان کے اعتبار سے غلط، یہاں بھی وہی ہمزۂ استفہام والی صورت بھی بن سکتی ہے اور ویسے بھی یہ اکبر ”أَفْعَلُ“ وزن ہے، اسمِ تفضیل ہے اور اسمِ تفضیل کے شروع میں جو ہمزہ ہے اس میں مد نہیں ہے، ہمزہ کے اندر مد نہیں، ہمزہ کو لمبا نہیں کرتے، ”أَفْعَلُ“ ہے ”آفْعَلُ“ وزن تو نہیں۔ تو لہٰذا یہ عربی زبان کے اعتبار سے غلط بھئی۔
اور یا پھر آخر سے مراد یہ ہے کہ اکبر کی با کو لمبا کرنا مراد ہے، اکبر کی با۔ اور اکبر کے بجائے اگر کوئی یوں کہتا ہے: ”أَكْبَارُ“، ”أَكْبَارُ“، تو تو بھی یہ کیا ہے؟ عربی زبان کے اعتبار سے غلطی ہے۔ اور یاد رکھیے بھئی، اگر ”اللهُ أَكْبَرُ“ شروع میں ہمزہ کو لمبا کیا تو یہ استفہام بن گیا، نماز ہوگی ہی نہیں۔ اسی طرح اگر اکبر کے ہمزہ کو لمبا کر دیا تو بھی یہ اسی طرح عربی زبان کے اعتبار سے بھی غلطی اور نیز پھر یہاں بھی استفہام بن گیا تو اس صورت میں بھی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ اور اگر ”أَكْبَارُ“ با کو لمبا کرتا ہے تو اس صورت میں بعض علماء فرماتے ہیں نماز فاسد ہوگی، بعض فرماتے ہیں ہے تو غلطی لیکن نماز فاسد نہیں ہوگی، بعض علماء فرماتے ہیں۔ تفصیل سمجھ میں آگئی بھئی؟
یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ المَدَّ فِي أَوَّلِهِ خَطَأٌ مِنْ حَيْثُ الدِّينُ“ اس لیے کیونکہ مد کرنا یعنی حرف کو لمبا کرنا ”فِي أَوَّلِهِ“ أَيْ فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرِ، ”خَطَأٌ مِنْ حَيْثُ الدِّينُ“ یہ غلطی ہے دین کی حیثیت سے یعنی دینی اعتبار سے، ”لِكَوْنِهِ اسْتِفْهَامًا“ اس وجہ سے کہ یہ کیا ہو جائے گا؟ اس لیے کیونکہ یہ استفہام ہے یعنی حرف کو لمبا کرنا، ”وَفِي آخِرِهِ لَحْنٌ مِنْ حَيْثُ اللُّغَةُ“ اور تکبیر کے آخر میں مد کرنا یعنی حرف کو کھینچنا یہ غلطی ہے عربی زبان کے اعتبار سے۔ تو بعض علماء، تو انہوں نے صاحبِ ہدایہ نے یہ نہیں کہا کہ کس کے شروع میں اور کس کے آخر میں، بس اتنا کہا تکبیر کے شروع میں اور تکبیر کے آخر میں۔ تکبیر کے شروع میں مد کریں گے تو یہ دینی اعتبار سے غلطی ہے اور تکبیر کے آخر میں مد کریں گے تو یہ عربی زبان کے اعتبار سے غلطی ہے۔ تو بعض شارحین اس طرف گئے کہ شروع اور آخر سے مراد لفظِ اکبر ہے، یعنی اکبر کے شروع میں بھی مد نہ کرے ورنہ یہ سوال بن جائے گا، اور اکبر کے آخر میں یعنی با کو بھی لمبا نہ کرے ورنہ یہ عربی زبان کے اعتبار سے غلط۔ جبکہ دیگر شارحین لکھتے ہیں جو زیادہ صحیح ہے کہ شروع میں مد کرنے سے مراد لفظِ اللہ کے ہمزہ میں مد کرنا ہے اور آخر میں مد کرنے سے مراد اکبر کی با کو لمبا کرنا مراد ہے بھئی۔ شروع میں مد سے کیا مراد ہے؟ لفظِ اللہ کے ہمزہ کو لمبا کرنا اور ”آللهُ أَكْبَرُ“ کہنا۔ اور آخر میں مد لانے سے مراد ہے اکبر کی با کو لمبا کرنا، تو اکبر کے بجائے ”أَكْبَارُ“ کہنا۔ تو یہ شروع میں مد کریں گے تو یہ استفہام ہے، دینی اعتبار سے غلطی، اور آخر میں مد کریں گے تو یہ عربی زبان کے اعتبار سے غلطی ہے۔
”وَيَعْتَمِدُ بِيَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُفَرِّجُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ“ اور رکھے اپنے دونوں ہاتھ ”عَلَى رُكْبَتَيْهِ“ اپنے دونوں گھٹنوں پر۔ رکوع میں کیا کرے؟ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے، ”وَيُفَرِّجُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ“ اور کشادگی کرے اپنی انگلیوں کے درمیان۔ رکوع کے اندر جب گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے ہیں تو انگلیوں کو کھول کر رکھنا ہے تاکہ اچھی طرح گھٹنے کو پکڑ سکے بھئی۔
”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ“ دلیل ذکر کر رہے ہیں بوجہ حضور علیہ السلام کے، جو آپ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: ”إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ“ کہ جب تو رکوع کرے تو تو رکھ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر، ”وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ“ اور کشادگی کر اپنی انگلیوں کے درمیان۔ یہ حدیث ہے یہاں تک بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ جب تو رکوع کرے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھ اور اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی کرو یعنی انگلیاں کھلی رکھو۔
”وَلَا يُنْدَبُ إِلَى التَّفْرِيجِ إِلَّا فِي هَذِهِ الحَالَةِ“ اور مندوب نہیں ہے بھئی انگلیوں کا کھولنا، انگلیوں کا کشادہ کرنا مگر اس حالت میں۔ اور مندوب نہیں ہے انگلیوں کا کھولنا یعنی مستحب نہیں ہے انگلیوں کو کھولنا مگر اس حالت میں۔ لیکن یہاں ”يُنْدَبُ“ کا صلہ ”إِلَى“ آرہا ہے، ”إِلَى“۔ اور ”يُنْدَبُ“ کے ساتھ ”إِلَى“ آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی کو بلانا، دعوت دینا، دعوت دینا۔ تو ”يُنْدَبُ إِلَى التَّفْرِيجِ“ کا معنی یہ ہے: انگلیوں کے کھلا رکھنے کی طرف دعوت نہیں دی جائے گی، یعنی انگلیاں کھلا رکھنے کا نہیں کہا جائے گا ”إِلَّا فِي هَذِهِ الحَالَةِ“ مگر اسی حالت میں۔ یعنی نماز، پوری نماز میں صرف یہ حالت ہے رکوع کے اندر جب گھٹنوں پر ہاتھ رکھے ہوں اس وقت انگلیوں کو کھلا رکھنا ہے، اور کسی حالت میں انگلیوں کو کھلا... تفصیل آگے یہ بتلائیں گے کہ جب گھٹنے پکڑ رہے ہیں رکوع کے اندر، اس وقت انگلیوں کو کھلا رکھیں، خوب کھلا، تاکہ گھٹنے اچھی طرح پکڑ سکیں۔ اور سجدہ کرتے ہوئے انگلیوں کو ملانا ہے، اس لیے کیونکہ جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء سجدہ کرتے ہیں تو تاکہ انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف ہو جائے، اور انگلیوں کا رخ پوری طرح قبلے کی طرف کب ہوگا، جب ملی ہوئی ہوں یا کھلی کھلی ہوں؟ جب ملی ہوئی ہوں۔ تو سجدے کی حالت میں انگلیوں کو اس لیے ملایا جائے گا۔ جبکہ نماز کی باقی جو حالتیں ہیں ان میں ہاتھوں کو اعتدال پر جس طرح ہاتھ ہوتا ہے اسی طرح، یعنی تکبیرِ تحریمہ کہتے ہوئے جب ہاتھ اٹھائے ہیں تو نہ انگلیاں بالکل ملا کر رکھنا ہے اور نہ بالکل کھول کر رکھنا ہے بلکہ اپنی حالت پر رکھنا ہے جیسے عام حالت میں ہوتی ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُنْدَبُ إِلَى التَّفْرِيجِ إِلَّا فِي هَذِهِ الحَالَةِ“ اور انگلیاں کھلا رکھنے کی طرف دعوت نہیں دی جائے گی مگر اسی حالت میں ہی، ”لِيَكُونَ أَمْكَنَ مِنَ الأَخْذِ“ تاکہ وہ نماز پڑھنے والا قادر ہو ”مِنَ الأَخْذِ“ پکڑنے پر، یعنی گھٹنے کو پکڑنے پر قادر ہو، ”وَلَا إِلَى الضَّمِّ إِلَّا فِي حَالَةِ السُّجُودِ“ اور نہ انگلیوں کے ملانے کی طرف بلایا جائے گا اس کی دعوت دی جائے گی ”إِلَّا فِي حَالَةِ السُّجُودِ“ مگر کس حالت میں؟ سجدے کی حالت میں، یعنی سجدے کی حالت میں ملایا جائے گا۔ ”وَفِيمَا وَرَاءَ ذَلِكَ يَتْرُكُ عَلَى العَادَةِ“ اور اس کے علاوہ جو ہیں اور حالتوں کے اندر، ”يَتْرُكُ“ چھوڑ دے وہ نماز پڑھنے والا یعنی اپنی انگلیوں کو چھوڑ دے گا ”عَلَى العَادَةِ“ کس پر؟ عادت کے موافق، یعنی عادت کے مطابق جیسے ہاتھ ہے اسی طرح چھوڑ دے گا۔
”وَيَبْسُطُ ظَهْرَهُ“ اور اپنی کمر کو اپنی پشت کو بچھائے۔ جب رکوع کرے تو دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑ لے، انگلیوں کو کھلا رکھے اور کمر کو پھیلا دے۔ ”بَسَطَ يَبْسُطُ“ کے معنی پھیلانے کے، مراد ہے سیدھا رکھنا یعنی ہموار رکھے۔ رکوع کرنے والا کیا کرے؟ رکوع میں اپنی کمر ہموار... بھئی بعض لوگ رکوع کرتے ہیں وہ سر زیادہ نیچے جھکا دیتے ہیں اور بعض پوری طرح جھکتے ہی نہیں ہیں، تھوڑا سا جھکتے ہیں۔ تو صحیح طریقہ رکوع کا کہ کمر بالکل ہموار ہو بھئی، کمر بالکل کیا ہو؟ ہموار۔ تو سر، کمر اور پچھلا دھڑ یہ سارے برابر ہوں، سارے برابر۔ حتیٰ کہ روایات میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام رکوع کے اندر کمر کو اتنا ہموار رکھتے تھے کہ اگر اس پر پانی سے بھرا ہوا پیالہ رکھ دیا جاتا تو وہ پانی نہ گرتا اس میں سے، اتنا ہموار رکھتے تھے۔
نیز اسی طرح یاد رکھیے، رکوع کے اندر بعض لوگ گھٹنوں کو موڑ دیتے ہیں، گھٹنے بھی تھوڑے سے جھکا لیتے ہیں، نہیں بھئی، گھٹنوں کو بالکل سیدھا رکھنا ہے، گھٹنوں کو نہیں موڑنا اور کمر کو بھی اسی طرح بالکل سیدھا رکھنا ہے۔ ”وَيَبْسُطُ ظَهْرَهُ“ اور ہموار رکھے اپنی کمر کو، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ إِذَا رَكَعَ بَسَطَ ظَهْرَهُ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع فرماتے تھے تو اپنی کمر کو ہموار رکھتے تھے۔
”وَلَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَلَا يَنْكُسُهُ“ اور نہ اپنے سر کو اوپر کو اٹھائے، ”وَلَا يَنْكُسُهُ“ اور نہ اس کو جھکائے۔ سر بھی کیا ہو؟ کمر کے ساتھ برابر ہونا چاہیے، نہ اوپر کو اٹھا ہوا ہو اور نہ نیچے کو جھکا ہوا ہو، اور اس کا طریقہ یہ بھئی کہ اگر انسان رکوع کے اندر اپنی نظر اپنے پاؤں پر، اپنے قدموں پر رکھے تو سر بالکل ہموار برابر ہو جاتا ہے کمر کے ساتھ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو بہرحال سر کو برابر ہونا چاہیے بالکل بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ“ اور نہ اپنے سر کو اٹھائے، ”وَلَا يَنْكُسُهُ“ اور نہ اس کو جھکائے، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ إِذَا رَكَعَ لَا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُهُ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع فرماتے تھے ”لَا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ“ تو وہ نہ اپنے سر کو جھکاتے تھے ”وَلَا يُقْنِعُهُ“ اور نہ اس کو اوپر اٹھاتے تھے بلکہ سر بھی کمر کے ساتھ برابر ہوتا تھا۔
”وَيَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ ثَلَاثًا“ اور نماز پڑھنے والا رکوع میں تین مرتبہ ”سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ“ کہے، ”وَذَلِكَ أَدْنَاهُ“ اور یہ اس کی کم سے کم مقدار ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ ثَلَاثًا، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے کہ جب رکوع کرے تم میں سے کوئی ایک تو اسے چاہیے کہ اپنے رکوع میں تین مرتبہ ”سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ“ کہے ”وَذَلِكَ أَدْنَاهُ“ اور یہ اس کی کم سے کم مقدار ہے۔ ”أَيْ أَدْنَى كَمَالِ الجَمْعِ“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: یعنی جمع کے کامل ہونے کی ادنیٰ مقدار ہے یہ۔ یعنی ادنیٰ، کامل جمع کی یہ ادنیٰ مقدار ہے تین۔ بھئی جمع کا اطلاق کتنے پر ہوتا ہے؟ تین یا تین سے زیادہ پر جمع کا اطلاق ہوتا ہے۔ دو پر بھی جمع کا اطلاق کر دیتے ہیں عربی زبان میں، لیکن کامل جمع کا کم سے کم عدد کون سا ہے؟ تین ہے، تو یہ اس لیے کہا: ”أَيْ أَدْنَى كَمَالِ الجَمْعِ“ کہ یہ جمع کے کامل ہونے کی کم سے کم مقدار ہے۔
”ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ پھر رکوع کرنے والا اپنے سر کو اٹھائے گا اور کہے گا: ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“۔ ”وَيَقُولُ المُؤْتَمُّ: رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ اور یہ تو امام کہے گا ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“، ”وَيَقُولُ المُؤْتَمُّ“ اور مقتدی کہے گا: ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“۔ مقتدی کیا کہے گا؟ تو ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ یہ کہنا یہ امام کا کام ہے اور ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہنا یہ مقتدی کا کام ہے۔
”وَلَا يَقُولُهَا الإِمَامُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام یہ نہیں کہے گا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ صرف مقتدی کہے گا، امام صاحب فرماتے ہیں یہ امام نہیں کہے گا۔ امام صرف کیا کہے گا؟ ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہے گا، ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ نہیں کہے گا۔
”وَقَالَا: يَقُولُهَا فِي نَفْسِهِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں ”يَقُولُهَا فِي نَفْسِهِ“ امام بھی یہ لفظ کہے گا فی نفسہ اپنے دل میں۔ فی نفسہ اپنے دل میں، دل کا یہ معنی نہیں کہ دل کے اندر ہے زبان سے نہیں، مراد ہے آہستہ۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ بھئی امام ہے، امام ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ یہ تو اونچی آواز سے کہے گا لیکن ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ آہستہ کہے گا صاحبین کے نزدیک۔
دلیل کیا ان کی؟ کہتے ہیں: ”لِمَا رَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الذِّكْرَيْنِ“ بوجہ اس حدیث کے جو روایت کیا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ جمع فرماتے تھے ان دونوں ذکروں کے درمیان، حضور علیہ السلام ان دونوں ذکروں کو جمع فرماتے تھے، یعنی حضور علیہ السلام ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ بھی کہتے تھے اور ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ بھی کہتے تھے۔ یہ صاحبین کی دلیل ہے، لہٰذا وہ فرماتے ہیں امام دونوں کہے گا۔
دوسری عقلی دلیل بھئی، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ حَرَّضَ غَيْرَهُ فَلَا يَنْسَى نَفْسَهُ“ اور نیز اس لیے کیونکہ امام نے ابھارا ہے، ”حَرَّضَ يُحَرِّضُ تَحْرِيضٌ“ کا معنی ابھارنا، امام نے ابھارا ہے ”غَيْرَهُ“ اپنے علاوہ کو یعنی دوسروں کو، امام نے دوسروں کو ابھارا ہے ”فَلَا يَنْسَى نَفْسَهُ“ لہٰذا اپنے تو اپنے آپ کو نہ بھولے بھئی۔ بھئی جب امام نے کہا ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ اس کا معنی ہے ”سَمِعَ اللهُ“ اللہ نے سن لیا ”لِمَنْ“ اس شخص کو ”حَمِدَهُ“ جس نے اللہ کی حمد بیان کی۔ اللہ نے سن لیا اس شخص کو جس نے اس کی حمد بیان کی، یعنی اللہ نے قبول کر لیا۔ اللہ نے قبول کر لیا جس نے اس کی حمد بیان کی تھی، یعنی جس نے اللہ کی حمد بیان کی ہے اللہ نے اس کی حمد کو قبول کر لیا۔ اللہ نے اس کی حمد کو قبول کر لیا۔ یوں کہیے معنی ماضی کا ہے لیکن دراصل یہ دعا ہے۔ دراصل کیا ہے؟ یعنی جو اللہ کی حمد بیان کرے اللہ اس کو قبول فرما لیں۔ تو دوسروں کو ابھار رہا ہے یعنی اللہ کی حمد بیان کرو۔ یا یوں کہیں، جس نے اللہ کی حمد کی اللہ نے اس کو قبول کر لیا یعنی تم بھی حمد کہو، اللہ کیا کر لیں گے اس کو؟ قبول کر لیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو امام دوسروں کو ابھار رہا ہے۔ چنانچہ جب اس نے کہا ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ جس نے حمد کہی اللہ نے اس کو قبول کر لیا، تو مقتدی فوراً پھر کیا کہتا ہے؟ ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ امام نے ابھارا مقتدیوں کو، وہ انہوں نے پھر کیا کہا ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“۔ اور امام جس وقت کہہ رہا ہے ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ یہ رکوع سے اٹھتے وقت کہہ رہا ہے، عین اسی وقت مقتدی بھی کہے گا، ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہے گا۔ یہ نہیں کہ امام جب کہہ چکے اور قومے میں کھڑا ہو جائے اس کے بعد کیا کرے گا مقتدی کہے گا، نہیں، بلکہ امام جب کہہ رہا ہے ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ اٹھتے ہوئے، تو مقتدی بھی کیا کرے گا؟ اٹھتے ہوئے ہی اس کے ساتھ ہی ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہے گا۔ تفصیل سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ امام ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ بھی کہے گا اور ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ بھی کہے گا۔ اس لیے کیونکہ امام نے جب ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہا تو یہ دوسرے دوسروں کو یعنی مقتدیوں کو ابھار رہا ہے حمد کرنے پر کہ اللہ کی حمد بیان کرو۔ جب دوسروں کو ابھار رہا ہے تو خود اپنے آپ کو نہیں بھولنا چاہیے، خود بھی اس پر عمل کرنا چاہیے اور کیا کہنا چاہیے؟ ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“، تو یہ عقلی دلیل ہوئی، یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّهُ حَرَّضَ غَيْرَهُ فَلَا يَنْسَى نَفْسَهُ“ اور اس لیے کیونکہ امام نے دوسروں کو ابھارا ہے تو اپنے آپ کو نہ بھولے، یہ صاحبین کی دلیل تھی۔
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ ”إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“، حدیث میں آگیا ہے بھئی، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب امام ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہے ”فَقُولُوا“ تو تم لوگ کہو ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ بھئی۔ ”هَذِهِ قِسْمَةٌ“ یہ، حدیث ختم ہوئی بھئی، ”هَذِهِ قِسْمَةٌ“ یہ تقسیم ہے۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ حدیث میں تقسیم ہے، حدیث میں آیا جب امام کہے ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ تو تم لوگ تم لوگ کہو یعنی مقتدی جو ہیں وہ کہیں ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“۔ اس حدیث سے کیا پتہ چل رہا ہے کہ ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہنا امام کا کام ہے اور ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہنا کس کا کام ہے؟ مقتدی۔ تو اس حدیث میں تقسیم بیان ہو رہی ہے، کیا بیان ہو رہی ہے؟ تقسیم ہے، یعنی ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہنا امام کا کام اور ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہنا مقتدی کا کام۔ اور اگر آپ کا قول لیا جائے کہ امام بھی کیا کرے گا؟ ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہے گا، تو اس صورت میں تو شرکت آ جائے گی۔ یہاں تو تقسیم تھی، ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہے گا امام اور ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہے گا مقتدی، یہ ہے تقسیم۔ اور اگر امام کیا کہے؟ سمیع اللہ کے ساتھ ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ بھی کہے تو اس میں تو شرکت آگئی۔ ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ میں کیا آگئی؟ شرکت آگئی، مقتدی بھی کہہ رہا ہے، امام بھی کہہ رہا ہے، تو شرکت آگئی۔ تو حدیث میں تو تقسیم آئی ہے اور اگر شرکت کا قول کیا جائے تو وہ تو تقسیم کے منافی ہے شرکت۔ جہاں شرکت ہے وہاں تقسیم نہیں، جہاں تقسیم ہے وہاں شرکت نہیں۔ اگر شرکت ہے تو تقسیم نہیں ہو سکتی، اور اگر تقسیم ہے تو شرکت نہیں۔ اور حدیث میں کیا آیا؟ حدیث سے کیا پتہ چلا؟ تقسیم، اور اگر امام بھی ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہے گا پھر تو کیا آ جائے گی؟ شرکت، اور شرکت تو تقسیم کے منافی ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے ”هَذِهِ قِسْمَةٌ“ یہ تقسیم ہے، ”وَإِنَّهَا تُنَافِي الشَّرِكَةَ“ تقسیم جو ہے یہ تو شرکت کے منافی ہے لہٰذا شرکت نہیں ہوگی یہاں پر۔ ”وَلِهَذَا لَا يَأْتِي المُؤْتَمُّ بِالتَّسْمِيعِ عِنْدَنَا“ اور اسی وجہ سے مقتدی جو ہے وہ تسمیع... یاد رکھیے یہ جو ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتا ہے امام، اس کو کہتے ہیں تسمیع، کیا کہتے ہیں؟ تسمیع۔ اور یہ جو مقتدی کہتا ہے ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“، اس کو کہتے ہیں تحمید۔ تو کہتے ہیں اور اسی وجہ سے ”لَا يَأْتِي المُؤْتَمُّ بِالتَّسْمِيعِ“ کہ مقتدی جو ہے وہ تسمیع نہیں کہے گا، مقتدی ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ نہیں کہے گا کیونکہ وہ وہاں اس میں تقسیم ہے، ”عِنْدَنَا“ ہمارے نزدیک، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں کہ نہیں، مقتدی بھی کہے گا، ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہے۔
”وَلِأَنَّهُ يَقَعُ تَحْمِيدُهُ بَعْدَ تَحْمِيدِ المُؤْتَمِّ“ یہ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے۔ پہلی دلیل کیا ہوئی؟ حدیث، کہ حدیث کے اندر تقسیم ہے شرکت نہیں۔ لہٰذا امام ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ نہیں کہے گا۔ اور دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں بھئی دیکھیے اگر امام بھی کہے ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“، تو امام کی تحمید مقتدی کی تحمید کے بعد ہو جائے گی۔ مقتدی کی تحمید پہلے ہو جائے گی اور امام کی تحمید بعد میں ہو جائے گی، اور یہ وضعِ امامت کے خلاف ہے، امام مقرر کرنے کا معنی یہ ہے کہ امام آگے ہوگا باقی اس سے پیچھے ہوں گے، لیکن یہاں پر کیا لازم آئے گا؟ امام پیچھے رہ جائے گا اور مقتدی آگے ہو جائے گا تحمید کے اندر بھئی۔ کس طرح؟ بھئی جس وقت امام کہے گا ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“، عین اسی وقت مقتدی بھی کیا کہے گا؟ ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“۔ تو امام جب ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہہ کر فارغ ہوگا پھر کہے گا ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“، تو لازمی بات ہے مقتدی سے تو پیچھے رہ جائے گا، مقتدی کے برابر تو کبھی بھی نہیں ہو سکے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّهُ يَقَعُ تَحْمِيدُهُ بَعْدَ تَحْمِيدِ المُؤْتَمِّ“ اور نیز اس لیے کیونکہ امام کی تحمید جو ہے وہ مقتدی کی تحمید کے بعد واقع ہوگی، ”وَهُوَ خِلَافُ مَوْضُوعِ الإِمَامَةِ“ اور یہ وضعِ امامت کے خلاف ہے۔
”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى حَالَةِ الِانْفِرَادِ“ صاحبین نے حدیث بھی ذکر کی تھی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی، اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں وہ حدیث جس کو روایت کیا انہوں نے وہ محمول ہے حالتِ انفراد پر، کس پر؟ یعنی حدیث میں آیا حضور علیہ السلام دونوں کہتے تھے، تو وہ انفرادی حالت پر محمول ہے، یعنی جب حضور علیہ السلام اکیلے نماز پڑھتے تھے تو پھر دونوں کہا کرتے تھے، ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ بھی اور ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ بھی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى حَالَةِ الِانْفِرَادِ“ اور وہ حدیث جس کو روایت کیا وہ محمول ہے منفرد ہونے کی حالت پر، ”وَالمُنْفَرِدُ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا فِي الأَصَحِّ“ اور منفرد جو ہے وہ جمع کرے گا ان دونوں کو اصح قول کے مطابق۔ ہمارے نزدیک بھی اکیلا کوئی نماز پڑھ رہا ہے اسے دونوں کہنے پڑیں گے، ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ بھی اور ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ بھی، یہ اصح قول یہی ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ يُرْوَى الِاكْتِفَاءُ بِالتَّسْمِيعِ وَيُرْوَى بِالتَّحْمِيدِ“ اگرچہ روایت کیا گیا ہے ایک قول کہ اکتفاء کرے گا کس پر؟ تسمیع، تسمیع پر اکتفاء کو بھی اگرچہ روایت کیا گیا ہے ”وَيُرْوَى بِالتَّحْمِيدِ“ اور تحمید پر اکتفاء کرنے کو بھی روایت کیا گیا ہے، یعنی یہ بھی ایک قول آیا ہے۔ ایک قول میں کیا آیا؟ صرف ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہے۔ ایک قول کیا آیا؟ صرف ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہے گا، لیکن اصح قول کیا ہے؟ دونوں کہے گا۔
باقی صاحبین نے کہا تھا، عقلی دلیل ذکر کی تھی کہ امام دوسروں کو ابھار رہا ہے تحمید پر تو اپنے آپ کو نہ بھولے، خود بھی کیا کرے؟ تحمید کہے۔ اس کا بھی جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالإِمَامُ بِالدَّلَالَةِ عَلَيْهِ أَتَى بِهِ مَعْنًى“ اور امام اس تحمید پر دلالت کرنے کی وجہ سے ”أَتَى بِهِ مَعْنًى“ بطورِ معنی کے، یعنی معنوی اعتبار سے گویا امام نے بھی کہہ لیا۔ امام نے جب اس پر دلالت کی ہے تو گویا امام نے بھی کہہ لیا، کیونکہ حدیث میں کیا آتا ہے: ”الدَّالُّ عَلَى الخَيْرِ كَفَاعِلِهِ“ وہ شخص جو رہنمائی کرنے والا ہے کسی نیک کام پر، وہ وہ بھی اسی طرح ہے جیسے کرنے والا، جیسے کرنے والا۔ تو جو کسی کی نیک کام پر رہنمائی کرتا ہے، نیک راستہ کسی کو دکھاتا ہے، تو اس کو بھی اسی طرح اجر ملے گا جس طرح اس راستے پر عمل کرنے والے کو اجر ملتا ہے۔ تو حدیث میں کیا آیا ”الدَّالُّ عَلَى الخَيْرِ كَفَاعِلِهِ“۔ تو یہاں پر بھی امام نے جب دوسروں کو ابھارا تو یہ دوسروں کی رہنمائی کرنے والا ہوا، کس چیز پر؟ تحمید پر۔ جب دوسروں کی تحمید پر رہنمائی کرنے والا ہوا تو گویا معنوی طور پر اس نے بھی کہہ لیا، اس کو بھی اس کا اجر مل جائے گا۔ یہ معنی ہے ”وَالإِمَامُ بِالدَّلَالَةِ عَلَيْهِ أَتَى بِهِ مَعْنًى“ اور امام جو ہے اس پر دلالت کرنے کی وجہ سے اس پر رہنمائی کرنے کی وجہ سے معنوی طور پر اس کو کہنے والا ہے، یعنی اس نے بھی اس کو گویا کہہ لیا۔
”قَالَ: ثُمَّ إِذَا اسْتَوَى قَائِمًا كَبَّرَ وَسَجَدَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: پھر جب سیدھا کھڑا ہو جائے تکبیر کہے ”وَسَجَدَ“ اور سجدہ کرے۔ رکوع کر لیا اور رکوع کے بعد امام نے ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہا، مقتدی نے ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہا اور سیدھے کھڑے ہو گئے۔ پھر تکبیر کہے پھر امام تکبیر کہے گا اور سجدے میں چلا جائے گا، سجدہ کرے گا۔
اچھا بھئی، پیچھے ایک بات ذکر ہوئی تھی کہ جس قیام میں کوئی ذکر مسنون ہے اس میں ہاتھ باندھے جائیں گے اور جس قیام میں کوئی ذکر مسنون نہیں تو اس میں ہاتھ بھی نہیں باندھے جائیں گے۔ اور وہاں ذکر ہوا تھا کہ قومہ جو ہے، یعنی یہ جو رکوع کے بعد انسان سیدھا کھڑا ہوتا ہے، اس میں ہاتھ کھلے چھوڑ دیے جائیں گے کیونکہ قومے کے اندر ذکر نہیں ہے۔ اب آپ کو تفصیل سمجھ میں آگئی کہ یہ جو قومہ ہے اس کے اندر کوئی ذکر نہیں ہے، یہ جو ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ اور ”رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ“ کہا جاتا ہے یہ اٹھتے ہوئے کہا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ اٹھنے کی حالت میں ہے، رکوع سے جب انسان اٹھ رہا ہو، تو اس لیے معلوم ہوا قومے کے اندر کوئی ذکر مسنون نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِذَا اسْتَوَى قَائِمًا“ پھر جب سیدھا کھڑا ہو جائے ”كَبَّرَ“ تو تکبیر کہے ”وَسَجَدَ“ اور سجدہ کرے، یعنی تکبیر کہتا ہوا سجدے میں جائے۔ ”أَمَّا التَّكْبِيرُ وَالسُّجُودُ فَلِمَا بَيَّنَّا“ باقی تکبیر اور سجدے جو سجدہ جو ہے تو اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ تکبیر کیوں کہے گا؟ اس کی کیا وجہ؟ سجدہ کیوں کہے گا کرے سجدہ کیوں کرے گا؟ اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں وہ جو ہم نے بیان کر دی۔ تکبیر کی وجہ کیا ہے کہ حضور علیہ السلام ہر اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر کہتے تھے بھئی۔ اور نیز سجدہ کر لے اس کی کیا دلیل گزری تھی؟ ”وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا“ معلوم ہوا سجدہ اور رکوع فرض ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الِاسْتِوَاءُ قَائِمًا فَلَيْسَ بِفَرْضٍ“ اور باقی سیدھا کھڑا ہونا تو یہ فرض نہیں ہمارے نزدیک، یعنی یہ قومہ ہمارے نزدیک فرض نہیں ہے۔ ”وَكَذَا الجَلْسَةُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ“ اور اسی طرح جلسہ کرنا دو سجدوں کے درمیان، یعنی انسان ایک سجدے سے اٹھ کر جو بیٹھتا ہے اور پھر دوسرے سجدے میں جاتا ہے، تو یہ جو دو سجدوں کے درمیان بیٹھتا ہے اس کو جلسہ کہتے ہیں، یہ بھی ہمارے نزدیک فرض نہیں ہے۔
”وَالطُّمَأْنِينَةُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ“ طمانینہ، طا پر ضمہ پڑھنا بھئی، اور طمانینت یعنی اطمینان سے کرنا۔ ”وَالطُّمَأْنِينَةُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ“ رکوع اور سجدے میں، رکوع اور سجدہ بھئی سجود کا لفظ آرہا ہے اس کو جمع نہ سمجھنا بھئی، عربی زبان میں سجدے کو کیا کہتے ہیں؟ سجود کہتے ہیں۔ اور اطمینان رکھنا رکوع اور سجدے میں، یعنی رکوع اور سجدہ اطمینان سے کرنا یہ بھی ہمارے نزدیک فرض نہیں ہے۔
”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ“ یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، یہ چیزیں فرض نہیں۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: يَفْتَرِضُ ذَلِكَ كُلُّهُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب چیزیں فرض ہیں، قومہ بھی فرض، دو سجدوں کے درمیان جلسہ بھی فرض اور رکوع سجدے وغیرہ کا اطمینان سے کرنا، سکون سے کرنا، تیزی نہ کرنا اس میں یہ بھی کیا ہے؟ فرض ہے۔ یہ سب فرض ہیں۔ ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، وہ بھی فرماتے ہیں یہ سب چیزیں فرض ہیں۔
دلیل کیا؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: قُمْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”قُمْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ“۔ بھئی یہ حضور علیہ السلام ایک مرتبہ مسجد میں تھے یا مسجد کے اندر تشریف لائے اور پھر ایک دیہاتی شخص بھی آیا اور اس نے آ کر مسجد میں وہ داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی بھئی، یہ ان کا نام حضرت خلاد ابن رافع تھا بھئی، نام کیا تھا؟ خلاد ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ۔ یہ بھی مسجد میں تشریف لائے اور انہوں نے نماز پڑھی اور جلدی جلدی نماز پڑھی بھئی، رکوع سجدہ وغیرہ بڑی تیزی سے کیا۔ نماز سے فارغ ہو کر حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائے، حضور علیہ السلام نماز اس کی دیکھ رہے ہوں گے، تو حضور کے پاس آ کر سلام کیا تو حضور علیہ السلام نے جواب دیا اور فرمانے لگے: ”قُمْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ“ اٹھو نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ وہ پھر گئے، صحابہ بھی عجیب لوگ تھے، وجہ بھی نہیں پوچھی کیا ہوا یا رسول اللہ، گئے پھر جا کر دوبارہ نماز ادا کی۔ پھر آئے سلام کیا، پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی، پھر خاموشی سے گئے پھر دوبارہ نماز پڑھ کر آئے، پھر حضور کے پاس آئے تو پھر حضور نے فرمایا ”قُمْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ“۔ تو اب عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ، مجھے سکھا دیجیے جو اچھا طریقہ ہے اس سے بہتر تو میں نہیں جانتا، جو تو بہتر طریقہ ہے وہ مجھے آپ سکھا دیجیے۔ تو حضور علیہ السلام نے پھر ان کو نماز کا طریقہ سکھایا، نماز کا طریقہ سکھایا۔ تو حضور علیہ السلام اس سے فرمانے لگے، دیکھیے بھئی یہ حاشیے میں حدیث پر نظر رکھیے بھئی، حضور علیہ السلام اس سے فرمانے لگے: ”إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ“ جب تو نماز کے لیے اٹھے تو تکبیر کہہ، ”ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ“ پھر تو قرات کر وہ جو تجھے میسر ہو قرآن میں سے، جو قرآن میں سے آسان لگے اس کی قرات کر لے، ”ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا“ پھر اس کے بعد رکوع کر یہاں تک کہ تو اطمینان سے رکوع کر لے، ”ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا“ پھر اٹھو یعنی رکوع سے اٹھو یہاں تک کہ تو سیدھا کھڑا ہو جائے اعتدال کے ساتھ اطمینان کے ساتھ، ”ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا“ پھر اس کے بعد سجدہ کر یہاں تک کہ تو اطمینان سے سجدہ کر لے، ”ثُمَّ اجْلِسْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا“ پھر اس کے بعد بیٹھ جا یہاں تک کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے، ”ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا“ پھر اسی طرح کر اپنی ساری نماز میں، اسی طرح کر اپنی ساری نماز میں۔ تو دیکھیے اس حدیث کے اندر بھئی، اس حدیث کے اندر ایک تو اطمینان کے ساتھ ارکان کا ادا کرنا آگیا، کہ ارکان کو کیا کیا جائے گا؟ اطمینان سے ادا کیا جائے گا۔ حضور علیہ السلام اس سے کیا فرما رہے ہیں؟ یہاں تک کہ تو اطمینان سے رکوع کر لے، پھر رکوع سے اٹھ جائے یہاں تک کہ اعتدال کے ساتھ سیدھا کھڑا ہو جائے، تو اس میں قومے کا ذکر بھی آگیا۔ معلوم اس لیے یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ قومہ بھی فرض ہے، رکوع سے جو انسان اٹھتا ہے جس کو قومہ کہتے ہیں تو وہ فرماتے ہیں یہ بھی اس حدیث میں ذکر ہے وہ بھی معلوم ہوا فرض ہے۔ نیز اطمینان کے ساتھ ارکان کو ادا کرنا اس حدیث میں ذکر ہے، معلوم ہوا وہ بھی کیا ہے؟ نماز کے اندر فرض ہے۔ اسی طرح دو سجدوں کے اندر بیٹھنے کا ذکر آیا تو اطمینان کے ساتھ بیٹھنے کا ذکر آیا، معلوم ہوا یہ جلسہ بھی کیا ہے؟ فرض ہے، اور اس کے اندر بھی تعدیل یعنی اطمینان کے ساتھ کیا جائے گا۔ تو اس یہ حدیث دلیل ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کی، وہ فرماتے ہیں کہ قومہ بھی فرض ہے، دو سجدوں کے درمیان جلسہ بھی فرض ہے اور رکوع اور سجدے وغیرہ میں طمانینت یعنی اطمینان سے کرنا بھی فرض ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: قُمْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے: ”قُمْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ“ اٹھو نماز پڑھو، ”فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ“ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ فا کا ترجمہ میں کیونکہ کے ساتھ کر رہا ہوں، ”فَإِنَّكَ“، ترجمے پہ نظر ہے؟ ہاں، نور الانوار پڑھ رہے ہیں یا نہیں؟ ہاں، نور الانوار میں آپ نے پڑھا ہوگا فا تعلیل کے لیے آتی ہے، یعنی کس پر کبھی داخل ہوتی ہے؟ علت پر، ما قبل کی علت بیان کرتے ہیں، تو یہاں بھی علت، ”قُمْ فَصَلِّ“ اٹھو، نماز پڑھو، ”فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ“ کیونکہ تم نے نماز کیونکہ بے شک تم نے نماز نہیں پڑھی۔ تو دیکھو علت بیان کر دی، نماز پڑھو، کیوں؟ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ ”قَالَهُ لِلْأَعْرَابِيِّ حِينَ أَخَفَّ الصَّلَاةَ“ حضور علیہ السلام نے یہ ایک دیہاتی سے فرمایا ”حِينَ أَخَفَّ الصَّلَاةَ“ جس وقت کہ اس نے خفیف کیا نماز کو یعنی ہلکا پڑھا نماز، ہلکی جب انہوں نے ہلکی نماز پڑھی یعنی جلدی جلدی پڑھی۔
”وَلَهُمَا أَنَّ الرُّكُوعَ هُوَ الِانْحِنَاءُ، وَالسُّجُودَ هُوَ الِانْخِفَاضُ لُغَةً“ طرفین کی دلیل یہ ہے، طرفین فرماتے ہیں کہ بھئی قرآن میں آیا ہے ”وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا“ رکوع کرو اور سجدہ کرو، معلوم ہوا رکوع اور سجدہ فرض ہیں اور رکوع مطلقاً جھکنے کو کہتے ہیں، لہٰذا کوئی اطمینان سے نہ کرے، جھکا اور پھر اٹھ گیا تو کیا کہیں گے؟ اس نے رکوع کر لیا۔ عربی زبان کے اعتبار سے رکوع صرف جھکنے کا نام ہے، اس میں اطمینان سے ٹھہرے رہنا ضروری نہیں۔ اور قرآن میں صرف رکوع کا ذکر آیا ”وَارْكَعُوا“، معلوم ہوا رکوع تو فرض ہے اطمینان اس کے اندر فرض نہیں ہے۔ اسی طرح قرآن میں سجدے کا ذکر آیا ”وَاسْجُدُوا“ اور تم کیا کرو؟ سجدہ۔ معلوم ہوا سجدہ فرض ہے، اور سجدہ اپنے آپ کو خوب پست کر دینا، زمین پر اپنے ماتھے کو اپنے چہرے کو رکھ دینا یہ ہے سجدہ۔ تو قرآن میں مطلقاً سجدے کا ذکر ہے، تو کوئی زمین پر ماتھا رکھ دیتا ہے اور پھر فوراً اٹھا لیتا ہے تو عربی زبان میں کیا کہیں گے؟ اس نے کیا کیا ہے؟ سجدہ کیا، اس میں اطمینان سے کرنے کی شرط نہیں۔ لہٰذا ادنیٰ مقدار میں کوئی جھک جائے تو کہیں گے اس نے رکوع کر لیا، ادنیٰ مقدار میں کوئی پیشانی زمین پر رکھ دے تو کیا کہیں گے؟ اس نے سجدہ کر لیا۔ تو لہٰذا یہ تو فرض ہے، ادنیٰ مقدار میں جھکنا رکوع کے اندر ہو گئی رکوع تب، کیونکہ رکوع فرض ہے، اور سجدے میں ادنیٰ مقدار کیا ہے؟ پیشانی زمین پر رکھنا، چہرے کا زمین پر رکھنا فرض ہے تو وہ رکن ہیں، وہ رکن ہیں کیونکہ قرآن میں کیا ہے ”وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا“ رکوع اور سجدے کا ذکر ہے، لہٰذا اطمینان سے کرنے کی قید اس پر نہیں بڑھائی۔
ہاں پھر یہ اطمینان سے کرنا بعض ائمہ فرماتے ہیں یہ سنت ہے، بعض فرماتے ہیں کہ یہ واجب ہے واجب ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو امام صاحب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ انہوں نے اس کو فرض تو قرار نہیں دیا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے تو اطمینان سے کرنے کو فرض قرار دیا لیکن یاد رکھو بھئی جب رکوع نماز پڑھے انسان اطمینان سے پڑھے، بعض لوگ ماتھا زمین پہ رکھتے ہیں اور فوراً اٹھا لیتے ہیں اور پھر پوری طرح نہیں بیٹھے نہیں ہوتے پھر واپس دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اطمینان سے رکوع سجدہ وغیرہ نہیں کیا تو مجھے خوف ہے کہ اس کی نماز ہی نہیں ہوئی، مجھے خوف ہے کہ اس کی نماز ہی نہیں ہوئی، جبکہ بعض ائمہ تو اس کو واجب کہتے ہیں اور بعض نے تو ابھی گزرا فرض کہتے ہیں، تو لہٰذا انسان اس میں خوب احتیاط رکھے بھئی، اطمینان سے نماز ہونی چاہیے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الرُّكُوعَ هُوَ الِانْحِنَاءُ“ کہ رکوع جو ہے وہ جھکنا ہی ہے، ”وَالسُّجُودَ هُوَ الِانْخِفَاضُ“ اور سجدہ وہ پست ہونا ہے، یعنی چہرہ زمین پر رکھنا مراد ہے کیونکہ اس میں انسان پوری طرح پست ہو جاتا ہے بالکل زمین کے ساتھ اپنے چہرے کو لگا دیتا ہے، اور سجدہ وہ پست ہو جانا ہے ”لُغَةً“ عربی زبان کے اعتبار سے، ”فَيَتَعَلَّقُ الرُّكْنِيَّةُ بِالأَدْنَى فِيهِمَا“ تو رکن ہونے کا تعلق جو ہے ان دونوں میں سے جو ادنیٰ مقدار ہوگی اس کے ساتھ ہوگا، یعنی ادنیٰ جھکنا رکوع میں فرض ہوگا، ادنیٰ پیشانی اور چہرے کا زمین پر رکھنا فرض ہوگا۔
”وَكَذَا فِي الِانْتِقَالِ“ اور اسی طرح انتقال میں بھی ہوگا، کس میں؟ یعنی جیسے جیسے رکوع اور سجدے میں طمانینت اطمینان فرض نہیں اسی طرح انتقال کے اندر بھی اطمینان فرض نہیں بھئی، یہ جواب دے رہے ہیں نا کس کس کا؟ امام شافعی اور امام ابو یوسف کا۔ تو انتقال میں بھی اطمینان اور طمانینت فرض نہیں ہوگا، ”إِذْ هُوَ غَيْرُ مَقْصُودٍ“ کیونکہ یہ انتقال تو غیر مقصود ہے، بھئی انتقال ایک سجدے کے بعد دوسرا کرنا ہے تو اصل مقصود تو سجدے ہیں، انتقال تو مقصود نہیں، تو جب غیر مقصود ہے تو لہٰذا وہ بطریقِ اولیٰ فرض بھی نہیں ہوگا، تو یہ جو جلسہ ہے یہ فرض بھی نہیں۔ یہ جلسہ جو ہے یہ فرض بھی نہیں، اور اسی طرح یہ قومہ یہ فرض نہیں۔ قومہ رکوع کے بعد ہی شریعت نے سیدھا سجدے میں جانے کا حکم نہیں دیا بلکہ شریعت نے کیا حکم دیا؟ رکوع سے پہلے سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور پھر جاؤ کس میں؟ سجدے میں سجدے میں جاؤ، تاکہ جو اعلیٰ ترین حالت ہے تمہاری بلند ترین حالت یعنی قیام اس سے سیدھا کہاں پہنچو؟ پست ترین حالت تک اللہ کے سامنے تاکہ خوب عاجزی کا اظہار ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو لہٰذا قومہ بھی فرض نہیں ہمارے نزدیک، جلسہ بھی فرض نہیں کیونکہ یہ مقصود نہیں ہے، کیونکہ رکوع کے بعد مقصود ہے اب سجدہ، تو اس کے لیے سجدے کے لیے جانے کے لیے سب سے پہلے کس حالت میں آجاؤ؟ قیام کی حالت میں آجاؤ اور پھر سجدے کے اندر جاؤ بھئی تاکہ خوب عاجزی کا اظہار ہو جائے بھئی۔ اسی وجہ سے جس شخص جو شخص رکوع اور سجدہ نہیں کر سکتا مریض ہے کوئی عذر ہے وہ رکوع اور سجدہ نہیں کر سکتا تو اس سے قیام بھی ساقط ہو جاتا ہے۔ آپ نے مسائل میں پڑھا ہوگا، علماء کیا فرماتے ہیں؟ وہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، رکوع اور سجدے میں جب اشارہ کرنا ہے تو قیام بھی اس پر فرض نہ رہا۔ کیوں؟ کیونکہ قیام کا مقصد تو کیا تھا کہ قیام سے وہ سجدے میں جائے گا، قیام سے رکوع میں جائے گا، قیام سے سجدے میں جائے گا تاکہ خوب عاجزی کا اظہار ہو جائے، تو جب رکوع اور سجدہ وہ کر ہی نہیں سکتا تو لہٰذا قیام بھی اب اس پر فرض نہ رہا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ چیزیں یہ انتقالات ہیں لہٰذا یہ فرض نہیں بھئی، اور اسی طرح طمانینت یہ بھی فرض نہیں، البتہ میں نے بتلایا کہ یہ ہے بہت ضروری حتیٰ کہ امام صاحب بھی انہوں نے فرض تو نہیں قرار دیا، دلائل کو سامنے رکھا کیونکہ کسی چیز کو فرض قرار دینا ہے وہ دلائل کو دیکھ کر فرض قرار دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں کہ قرآن کے اندر رکوع اور سجدے کا ذکر ہے اور رکوع اور سجدہ صرف جھکنے اور زمین پر ماتھا رکھنے کو کہتے ہیں اس کے اندر طمانینت کی قید ہے ہی نہیں عربی زبان میں، کوئی تھوڑا سا بھی کر لے رکوع اور سجدہ ماتھا زمین پر رکھ دیا کہہ دیں گے اس نے سجدہ کر لیا، لہٰذا اس کو طمانینت کو فرض قرار نہیں دیا جا سکتا، اور جب یہ مقصود جو ہیں رکوع اور سجدے کے اندر طمانینت فرض نہیں ہے اطمینان سے کرنا فرض نہیں ہے تو انتقالات تو غیر مقصود ہیں ان کے اندر بطریقِ اولیٰ یہ طمانینت فرض نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے: ”وَكَذَا فِي الِانْتِقَالِ إِذْ هُوَ غَيْرُ مَقْصُودٍ“ اور اسی طرح انتقال کے اندر بھی ہوگا کیونکہ وہ غیر مقصود ہے۔
”وَفِي آخِرِ مَا رَوَى تَسْمِيَتُهُ إِيَّاهُ صَلَاةً“ اور اسی حدیث کے آخر میں جس کو انہوں نے روایت کیا، جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے یا امام شافعی رحمہ اللہ نے جو روایت کیا، ”تَسْمِيَتُهُ إِيَّاهُ صَلَاةً“ حضور علیہ السلام کا نام رکھنا ہے اس کا نماز، حضور علیہ السلام نے اس کو نماز کہا، اس کو کیا کہا ہے؟ نماز کہا ہے۔ ”حَيْثُ قَالَ“ اس حیثیت سے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”وَمَا نَقَصْتَ مِنْ هَذَا شَيْئًا فَقَدْ نَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ“۔ بھئی حضور علیہ السلام نے خلاد ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ کو طریقہ پورا نماز کا سکھایا کہ اطمینان سے رکوع کر لو، اطمینان سے سجدہ وغیرہ کر لو، اور آخر میں فرمایا: ”وَمَا نَقَصْتَ مِنْ هَذَا شَيْئًا“ اور وہ جو تو نے کمی کر دی اس میں سے کسی چیز کی ”فَقَدْ نَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ“ تو تحقیق تو نے اپنی نماز میں کمی کر دی۔ حدیث کے آخر میں کیا فرمایا حضور علیہ السلام نے؟ اگر یہ جو چیزیں میں نے بیان کیں، یہ جو طریقہ میں نے بیان کیا، ان میں سے اگر کسی چیز کے اندر تو نے کمی کر دی تو تو نے اپنی نماز میں کمی کر دی۔ حضور علیہ السلام یہ نہیں فرما رہے اگر ان میں سے کسی چیز میں کمی کر دی تو تمہاری نماز ہی نہیں ہوگی، بلکہ اس کو پھر بھی نماز قرار دے رہے ہیں البتہ کیا کہہ رہے ہیں نماز میں پھر تمہاری کیا آ جائے گی؟ کمی آ جائے گی، معلوم ہوا یہ جو طمانینت وغیرہ ہیں اگر یہ رہ بھی جائے تو نماز بہرحال ہو جائے گی البتہ اس میں کیا آ جائے گی؟ کمی آ جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ امام طرفین کی دلیل ہے۔ یہ معنی ہے ”حَيْثُ قَالَ“ اس حیثیت سے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ”وَمَا نَقَصْتَ مِنْ هَذَا شَيْئًا فَقَدْ نَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ“ اور وہ جو تو نے کمی کر دی ان میں سے کسی چیز کی تو تحقیق تو نے کمی کر دی اپنی نماز میں۔
”ثُمَّ القَوْمَةُ وَالجَلْسَةُ سُنَّةٌ عِنْدَهُمَا“ پھر قومہ اور جلسہ سنت ہیں ”عِنْدَهُمَا“ کس کے نزدیک؟ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ ”وَكَذَا الطُّمَأْنِينَةُ فِي تَخْرِيجِ الجُرْجَانِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى“ اور اسی طرح طمانینت یعنی اطمینان سے کرنا یہ بھی سنت ہیں ”فِي تَخْرِيجِ الجُرْجَانِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى“ امام جرجانی کی تخریج میں۔ ”وَفِي تَخْرِيجِ الكَرْخِيِّ وَاجِبَةٌ“ اور امام کرخی رحمہ اللہ کی تخریج میں یہ طمانینت واجب ہے، ان کی تخریج میں واجب ہے۔ ”حَتَّى تَجِبَ سَجْدَتَا السَّهْوِ بِتَرْكِهَا عِنْدَهُ“ یہاں تک کہ واجب ہوں گے سہو کے دو سجدے ”بِتَرْكِهَا“ طمانینت کو چھوڑنے کی وجہ سے ”عِنْدَهُ“ امام کرخی کے نزدیک۔ بھئی امام جرجانی فرماتے ہیں کہ طمانینت سنت ہے لہٰذا اگر سنت رہ جائے تو سجدۂ سہو تو واجب نہیں، جبکہ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طمانینت یہ واجب ہے اور جس نے اطمینان سے رکوع سجدے وغیرہ نہیں کیے تو اس پر دو سہو کے سجدے واجب ہوں گے، اسے سجدۂ سہو کرنے پڑیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اچھا بھئی یہاں ذکر آیا امام جرجانی کا اور امام کرخی کا بھئی رحمہما اللہ تعالی۔ یاد رکھیے یاد رکھیے بھئی، تخریج کا لفظ آتا ہے، جگہ جگہ تخریج کا کیا معنی ہے؟ تو یاد رکھیے مذہبِ حنفی کے مخرجین دو ہیں بھئی، مذہبِ حنفی کے مخرجین جو ہیں وہ دو ہیں بھئی دو: ایک یہ امام ابو عبد اللہ جرجانی اور ایک یہ امام کرخی بھئی، امام امام کرخی، یہ دو مخرجین ہیں۔ اور تخریج اس کو کہتے ہیں کہ وہ مسئلہ جس کے بارے میں ائمۂ ثلاثہ سے یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ، جس مسئلے کے بارے میں ان ائمۂ ثلاثہ سے کوئی تشریح وغیرہ نہ ہو زیادہ، تو انہی کے اسی انہی قواعد و ضوابط کے مطابق اس مسئلے کی تشریح کرنا یہ ہے تخریج بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو دو ائمہ ہیں یہ دو تخریج کرتے ہیں مسائل کی، وہ مسائل جن کی تشریح ائمۂ ثلاثہ سے زیادہ نہیں نہیں آئی زیادہ تفصیل اس کے بارے میں نہیں ہے، تو انہی کے قواعد و ضوابط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس مسئلے کی تشریح کرنا یہ ہے تخریج بھئی، یہ کیا ہے؟ تخریج ہے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ تخریج کا لفظ جگہ جگہ آئے گا، یہ تفصیل یاد رکھنا بھئی۔
تو مذہبِ حنفی کے مخرجین کتنے ہیں؟ دو ہیں بھئی: امام ابو عبد اللہ جرجانی اور امام کرخی۔ امام کرخی کے احوال تو پہلے بھی گزر چکے ہیں کہ 260 ہجری میں ان کی پیدائش ہوئی ہے اور 340 ہجری میں ان کا انتقال ہوا ہے، 340 ہجری میں ان کا انتقال۔ جبکہ یہ جو امام ابو عبد اللہ جرجانی جو ہیں یاد رکھیے یہ استاد ہیں امام قدوری رحمہ اللہ کے، یہ ان کے شیخ ہیں بھئی، اور یہ شاگرد ہیں ابو بکر رازی کے بھئی، اور ان کی وفات ہوئی ہے 398 ہجری میں۔ امام کرخی کی وفات ہوئی ہے 340 ہجری میں جبکہ امام جرجانی کی وفات ہوئی ہے 398 ہجری میں، 398، اور یہ جو امام جرجانی رحمہ اللہ ہیں یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قریب ہی دفن ہیں ان کے پڑوس میں ساتھ ہی دفن ہیں ان کے بھئی۔ تو یہ دو مخرجین ہیں مذہبِ حنفی کے۔ لہٰذا اس مسئلے کے بارے میں ائمہ سے تفصیل نہیں تھی تو انہوں نے تخریج کی۔ امام جرجانی کی تخریج کے مطابق طمانینت کیا ہے؟ انہوں نے سنت قرار دیا سنت قرار دیا، اور امام کرخی نے واجب قرار دیا واجب قرار دیا۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟
”وَيَعْتَمِدُ بِيَدَيْهِ عَلَى الأَرْضِ“ اور رکھے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر۔ جی اب سجدہ کر رہے ہیں نا، سجدے کی طرف جا رہے ہیں تکبیر کہتے ہوئے، تو کہتے ہیں ”وَيَعْتَمِدُ بِيَدَيْهِ عَلَى الأَرْضِ“ اور رکھے۔
چلیے بس کرتے ہیں، بس بھئی، هَذَا هُوَ المَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔