”وَإِنْ جَامَعَ فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ قَبْلَ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ فَسَدَ حَجُّهُ وَعَلَيْهِ شَاةٌ، وَيَمْضِي فِي الْحَجِّ كَمَا يَمْضِي مَنْ لَمْ يُفْسِدْهُ، وَالْأَصْلُ فِيهِ مَا رُوِيَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ سُئِلَ عَمَّنْ وَاقَعَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا مُحْرِمَانِ بِالْحَجِّ فَقَالَ: يُرِيقَانِ دَمًا وَيَمْضِيَانِ فِي حَجَّتِهِمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ“ بھئی یہ مسئلہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ وقوفِ عرفہ سے پہلے اگر محرم نے بیوی سے صحبت کر لی، تو اس کا احرام ابھی پختہ نہیں ہوا تھا تو اس کا حج ہی فاسد ہو جائے گا۔ اور اس صورت میں اس پر ایک قربانی واجب ہوگی، ایک بھیڑ بکری کی قربانی کرنا پڑے گی۔ اور نیز اس حج کی قضا کرنا پڑے گی، تو اگلے سال کیا کر لے پھر اس حج کی قضا کر لے، قضا کر لے۔ اور اسی طرح عمرے کے اندر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر چار چکر پورے ہونے سے پہلے اس نے کسی محرم نے بیوی سے صحبت کر لی، تو اس کا عمرہ فاسد ہو جائے گا۔ اس پر بھی ایک قربانی واجب ہوگی اور اس عمرے کی قضا اسے کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ بڑا رکن ادا کرنے سے پہلے جنایت پائی گئی، بڑی جنایت پائی گئی، اور اس سے وہ حج یا عمرہ کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا۔ ہاں اگر بڑا رکن کر لے گا اس کے بعد اگر صحبت کرتا ہے تو اب چونکہ بڑا رکن ادا کر لیا ہے—مثلاً حج میں وقوفِ عرفہ کر لیا ہے یا عمرے کے اندر چار چکر پورے کر چکا ہے—تو اب احرام پختہ ہو گیا۔ اب بیوی کے ساتھ صحبت کر لے گا تو بھی حج یا عمرہ فاسد نہیں ہوگا۔ البتہ چونکہ جنایت کی ہے اور تو حج کے اندر اس پر بدنہ واجب ہوگا، یعنی ایک گائے یا اونٹ کی قربانی کرنا پڑے گی، جبکہ عمرے کا درجہ چونکہ حج سے کم ہے تو عمرے کے اندر یہاں بھیڑ بکری واجب ہوگی بھئی، البتہ اس کا حج یا عمرہ فاسد نہیں ہوگا۔ اور یہ بھی میں بیان کر چکا ہوں کہ حج یا عمرہ فاسد ہو جائے، اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کو وہیں پر درمیان میں چھوڑ دیا جائے گا، بلکہ وہ حاجی یا جو عمرہ کرنے والا ہے وہ باقی اعمال بھی کرتا چلا جائے گا آخر تک۔ اس لیے کیونکہ اس نے ان افعال کے لیے احرام باندھا تھا، تو یہ جب پورے کر لے گا تو پھر جیسے اور حاجی جو ہیں وہ حلال ہوتے ہیں احرام سے، یہ بھی اسی طرح احرام سے حلق وغیرہ کروا کر حلال ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ عمرہ جس کا فاسد ہوا وہ بھی عمرے کے افعال کرتا جائے گا، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کا یہ عمرہ ہو گیا، یہ عمرہ تو فاسد ہو چکا ہے لیکن اعمال کرنے پڑیں گے، پھر قضا کرنا پڑے گی۔ اسی طرح حج اگر فاسد ہو گیا تو حج کے افعال کرتا چلا جائے گا، لیکن یہ حج کیا ہو چکا؟ فاسد ہو چکا ہے، تو پھر اگلے سال پھر اس کو اس کی قضا کرنا پڑے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَإِنْ جَامَعَ فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ قَبْلَ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ فَسَدَ حَجُّهُ“ اور اگر محرم نے صحبت کر لی بیوی سے فی احد السبیلین دو راستوں میں سے کسی ایک میں قبل الوقوف بعرفۃ وقوفِ عرفہ سے پہلے ہی، فسد حجہ تو اس کا حج فاسد ہو گیا۔ ”وَعَلَيْهِ شَاةٌ“ اور اس پر ایک بھیڑ بکری واجب ہے، ”وَيَمْضِي فِي الْحَجِّ كَمَا يَمْضِي مَنْ لَمْ يُفْسِدْهُ“ اور یہ چلتا رہے گا حج کے اندر جیسے کہ چلتا ہے وہ شخص جس نے حج کو فاسد نہیں کیا، یعنی جیسے وہ اعمال سرانجام دیتا رہتا ہے حج کے، یہ بھی کیا کرتا رہے گا؟ حج کے سارے افعال سرانجام دیتا رہے گا۔ ”وَالْأَصْلُ فِيهِ مَا رُوِيَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ سُئِلَ عَمَّنْ وَاقَعَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا مُحْرِمَانِ بِالْحَجِّ“ اور اصل اس کے اندر وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا اس شخص کے بارے میں جس نے صحبت کر لی اپنی بیوی سے، اس حال میں کہ وہ دونوں میاں بیوی جو تھے وہ کیا تھے؟ محرم بالحج تھے، حج کا احرام باندھے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے اگر بیوی سے صحبت کر لی تو کیا حکم ہے؟ یہ حضور علیہ السلام سے پوچھا گیا۔ ”قَالَ: يُرِيقَانِ دَمًا وَيَمْضِيَانِ فِي حَجَّتِهِمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ“ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: یریقان دماً یہ دونوں خون بہائیں گے، یعنی کیا کریں گے؟ قربانی کریں گے، دونوں پر قربانی واجب ہے، خاوند پر بھی اور بیوی پر بھی، ویمضیان فی حجتھما اور یہ دونوں چلتے رہیں گے اپنے حج کے اندر، وعلیھما الحج من قابل اور ان دونوں پر حج واجب ہے من قابل، ای من عام قابل، اگلے آنے والے سال میں، یعنی اس کی قضا ان کو کرنا پڑے گی۔ ”وَهَكَذَا نُقِلَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ“ اور اسی طرح نقل کیا گیا ہے صحابہ کی ایک جماعت سے بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: تَجِبُ بَدَنَةٌ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس شخص پر بدنہ واجب ہوگا، یعنی اونٹ یا گائے اس پر واجب ہوگی، ہم نے تو کیا کہا؟ بھیڑ بکری واجب ہوگی۔ وقوفِ عرفہ سے پہلے صحبت کی ہے تو حج فاسد ہو گیا اور کیا کرنا پڑے گی؟ بھیڑ بکری کی قربانی، جبکہ وقوفِ عرفہ کے بعد طوافِ زیارت سے پہلے صحبت کی تو بدنہ ہمارے نزدیک واجب ہوگا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقوفِ عرفہ کے بعد جیسے بدنہ واجب ہوتا ہے صحبت کرنے کی صورت میں، تو اس سے پہلے بھی کیا واجب ہوگا؟ بدنہ ہی واجب ہوگا یعنی ایک اونٹ یا گائے کی قربانی کرنا پڑے گی۔ تو ”وقال الشافعي رحمه الله تجب بدنة“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بدنہ واجب ہوگا، ”اعْتِبَارًا بِمَا لَوْ جَامَعَ بَعْدَ الْوُقُوفِ“ قیاس کرتے ہوئے اس پر کہ اگر جماع کیا ہو وقوف کے بعد، وہ اس پر قیاس کرتے ہیں۔ ”وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ إِطْلَاقُ مَا رَوَيْنَا“ اور دلیل جو ہے ان کے خلاف، وہ مطلق ہونا ہے اس حدیث کا جس کو ہم نے روایت کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف حجت جو ہے اور دلیل جو ہے وہ اس حدیث کا اطلاق ہے جو ہم نے روایت کر دی۔ وہ یہ حدیث مطلق ہے یہ جو ابھی ہم نے روایت کی، اس حدیث میں کیا آیا؟ حضور علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟ ”یریقان دماً“ یہ خون بہائیں گے یعنی قربانی کریں گے، یہاں کوئی بدنہ کی قید نہیں ہے، یہ مطلق ہے، معلوم ہوا کوئی بھی قربانی کر دے، کوئی بھی قربانی کر دے تو یہ کافی ہو جائے گا، معلوم ہوا بھیڑ بکری کی قربانی بھی کافی ہے، اسی لیے ہم نے کہا کہ ان پر کیا واجب ہے؟ بھیڑ بکری کی قربانی واجب ہے بھئی۔ ”وَلِأَنَّ الْقَضَاءَ لَمَّا وَجَبَ، وَلَا يَجِبُ إِلَّا لِاسْتِدْرَاكِ الْمَصْلَحَةِ، خَفَّ مَعْنَى الْجِنَايَةِ فَيُكْتَفَى بِالشَّاةِ“ اور نیز بھئی ایک دلیل تو ہماری یہ ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف کہ یہ جو حدیث تھی یہ مطلق تھی، اس میں بدنہ کی قید نہیں تھی۔ اور نیز اس لیے کیونکہ اس میں قضا بھی واجب ہو رہی ہے۔ اگر وقوفِ عرفہ سے پہلے کیا کر لیتا ہے؟ صحبت کر لیتا ہے، تو اس صورت میں حج فاسد ہو گیا اور کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ جب قضا کرنا پڑے گی تو جنایت میں کمی آ گئی، جنایت میں کیا آ گئی؟ کمی آ گئی، لہٰذا بھیڑ بکری بھی کافی ہے کیونکہ پھر اس نے دوبارہ کیا کرنا ہے اسی حج کو؟ دوبارہ اس حج کو کرنا ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ لیکن وقوفِ عرفہ کے بعد اگر کیا کرتا ہے؟ صحبت کرتا ہے، پھر تو حج کی قضا نہیں، لہٰذا جنایت میں کوئی کمی نہیں آئی، جب جنایت میں کمی نہیں آئی تو حکم اسی طرح سخت رہے گا اور کیا واجب ہوگا؟ بدنہ واجب ہوگا۔ ”ولأن القضاء لما وجب“ اور نیز اس لیے کیونکہ قضا جب واجب ہو گئی—یہ ہے شرط—”ولا يجب إلا لاستدراك المصلحة“ اور قضا تو واجب نہیں ہوتی مگر مصلحت کی تلافی کے لیے، کس لیے واجب ہوتی ہے قضا؟ مصلحت کی تلافی کے لیے، کیونکہ کہ جو حج وغیرہ میں جو خرابی آئی ہے اس کی کیا ہو جائے؟ تلافی ہو جائے، تو اس کے لیے یہ واجب ہوتی ہے—”خف معنى الجناية“ آگے آ رہا ہے دو تین لفظوں کے بعد، تو جنایت کا معنی ہلکا ہو گیا، ”فيكتفى بالشاة“ تو اکتفا کیا جائے گا بھیڑ بکری پر ہی۔ ”بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الْوُقُوفِ لِأَنَّهُ لَا قَضَاءَ“ بخلاف کس کے بعد؟ وقوف کے بعد جب اس نے کیا کیا؟ صحبت کی ہے، تو اس صورت میں ”لأنه لا قضاء“ کیونکہ وہاں قضا واجب نہیں ہے، قضا واجب نہیں تو وہ جرم اسی طرح سخت رہا، تو لہٰذا حکم بھی سخت رہے گا۔ ”ثُمَّ سَوَّى بَيْنَ السَّبِيلَيْنِ“ پھر بھئی صاحبِ قدوری نے برابری کی دونوں سبیلین میں۔ متن میں کیا آیا تھا؟ ”وإن جامع في أحد السبيلين“، دونوں راستوں میں سے کسی ایک میں بھی جماع کر لیا تو دونوں کا یہی حکم ہے۔ آگے بیان کریں گے کہ امام صاحب سے ایک اور روایت بھی آئی ہے اس سلسلے میں۔ ایک روایت تو یہ جو متن میں ذکر ہو گئی کہ احد السبیلین میں سے کسی میں بھی جماع کرے گا تو وقوف سے پہلے تو کیا ہوگا؟ حج فاسد ہوگا۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ دوسری روایت یہ ہے کہ اگر قُبُل کے علاوہ کے اندر صحبت کی وقوفِ عرفہ سے پہلے، تو پھر جنایت کم درجے کی ہے، پھر حج فاسد نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں معلوم ہوا امام صاحب سے دو روایتیں ہیں اس سلسلے میں۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ فِي غَيْرِ الْقُبُلِ مِنْهُمَا لَا يُفْسِدُهُ لِتَقَاصُرِ مَعْنَى الْوَطْءِ، فَكَانَ عَنْهُ رِوَايَتَانِ“ اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ قُبُل کے علاوہ میں یعنی اگلے مقام کے علاوہ میں ”لا يفسده“ یہ جماع جو ہے یہ حج کو فاسد نہیں کرتا ”لتقاصر معنى الوطء“ وطی کے معنی میں کمی کی وجہ سے، ”فكان عنه روايتان“ تو امام صاحب سے دو روایتیں ہیں۔ ”وَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ فِي قَضَاءِ مَا أَفْسَدَاهُ عِنْدَنَا“ بھئی صورت یہ کہ ایک شخص نے بیوی سے صحبت کر لی تھی وقوفِ عرفہ سے پہلے، حج اس کا فاسد ہو گیا تھا، تو اگلے سال اب یہ جب حج کرنے آئے میاں اور بیوی دونوں، تو کیا یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ رہیں گے یا اکٹھے بھی رہ سکتے ہیں؟ تو یاد رکھیے ہمارے نزدیک الگ رہنے کی کوئی ضرورت نہیں، الگ رہنے کی ضرورت نہیں، جبکہ باقی ائمہ فرماتے ہیں نہیں بالکل ایک دوسرے سے الگ رہیں گے، الگ رہیں گے۔ چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے ہی گھر سے نکلیں گے، جیسے ہی یہ حج کے لیے روانہ ہوئے اگلے سال، تو گھر سے نکلتے ہی سفر شروع، لہٰذا ابتدا سے ہی کیا ہو جائیں گے؟ علیحدہ، گھر سے چلتے ہی ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں گے سفر کے اندر۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب احرام باندھ لیں گے، چاہے میقات پر احرام باندھیں چاہے میقات سے پہلے، جب احرام باندھ لیں گے تو کیا کریں گے؟ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب اس مقام پر پہنچیں گے جہاں پر یہ خاوند نے بیوی سے صحبت کی تھی، تو اس مقام پر جا کر اب ایک دوسرے سے کیا ہو جائیں گے؟ علیحدہ ہو جائیں گے، جبکہ ہمارے نزدیک نہیں، علیحدہ رہنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ دیکھیے اب تفصیل کتاب میں: ”وليس عليه أن يفارق امرأته في قضاء ما أفسداه عندنا“ اور واجب نہیں ہے اس شخص پر کہ وہ جدا رہے اپنی بیوی سے اس حج کی قضا کے اندر جس کو ان دونوں نے فاسد کر دیا تھا ہمارے نزدیک، ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ إِذَا خَرَجَا مِنْ بَيْتِهِمَا“ بخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے جب یہ دونوں اپنے گھر سے نکلیں، ”وَلِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِذَا أَحْرَمَا“ اور بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے جب یہ دونوں احرام باندھ لیں، ”وَلِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ إِذَا انْتَهَيَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي جَامَعَهَا فِيهِ“ اور بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے کہ جب وہ پہنچ جائیں اس جگہ تک جہاں پر خاوند نے صحبت کی تھی بیوی سے، فیہ اس جگہ میں۔ ”إذا انتهيا إلى المكان الذي جامعها فيه“ جب یہ دونوں پہنچ جائیں اس جگہ پر جہاں پر کہ خاوند نے صحبت کی تھی بیوی سے فیہ اس جگہ میں، تو جب وہاں پہنچ جائیں تو دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے۔ ”لَهُ: أَنَّهُمَا يَتَذَاكَرَانِ ذَلِكَ فَيَقَعَانِ فِي الْمُوَاقَعَةِ فَيَفْتَرِقَانِ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ یہ دونوں یاد کریں گے اس بات کو، کن دونوں کو وہ بات پھر یاد آئے گی، ”فيقعان في المواقعة“ تو یہ دونوں واقع ہو جائیں گے صحبت کے اندر، جماع کے اندر یہ دونوں پڑ جائیں گے، ”فيفترقان“ تو دونوں جدا رہیں گے، دونوں کیا ہو جائیں گے؟ جدا ہو جائیں گے، یعنی اس مقام پر آ کر ان کو وہ پچھلا واقعہ یاد آئے گا تو یہ پھر صحبت میں واقع ہو سکتے ہیں، لہٰذا اب کیا کر لیں گے؟ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الْجَامِعَ وَهُوَ النِّكَاحُ بَيْنَهُمَا قَائِمٌ فَلَا مَعْنَى لِلِافْتِرَاقِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ جدائی جدا ہونا یا تو قبل الاحرام ہوگا یا بعد الاحرام ہوگا۔ قبل الاحرام تو جدا رہنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں کیونکہ صحبت کرنا جائز ہے، اور بعد الاحرام بھی جدا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے کیونکہ نکاح تو پھر بھی موجود ہے ان دونوں کے درمیان، ان دونوں کو جمع کرنے والی چیز کیا ہے؟ نکاح، نکاح تو پھر بھی موجود ہے۔ اور نیز یہ آپ نے کیا کہا کہ اس مقام پر جب پہنچیں گے تو ان کو وہ بات یاد آئے گی پھر کہیں صحبت میں نہ پڑ جائیں، ہم کہتے ہیں نہیں! اب صحبت میں بالکل نہیں پڑیں گے، کیونکہ اب ان کو نصیحت حاصل ہو چکی ہے، ایک تھوڑی سی لذت کی وجہ سے اتنی مشقت ان کو اٹھانا پڑی کہ اب دوبارہ ایسی غلطی یہ نہیں کریں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ”ولنا“ اور ہماری دلیل یہ ہے: ”أن الجامع وهو النكاح بينهما قائم فلا معنى للافتراق“ کہ جو جمع کرنے والی چیز ہے اور وہ نکاح ہے وہ ان دونوں کے درمیان قائم ہے یعنی موجود ہے، لہٰذا کوئی سبب نہیں ہے جدا رہنے کا، ”قَبْلَ الْإِحْرَامِ لِإِبَاحَةِ الْوِقَاعِ“ احرام سے پہلے اس وجہ سے کہ صحبت مباح ہے، احرام سے پہلے تو صحبت مباح ہے، ”وَلَا بَعْدَهُ لِأَنَّهُمَا يَتَذَاكَرَانِ مَا لَحِقَهُمَا مِنَ الْمَشَقَّةِ الشَّدِيدَةِ بِسَبَبِ لَذَّةٍ يَسِيرَةٍ“ اور احرام کے بعد بھی جدا رہنے کی کوئی سبب نہیں، اس لیے کیونکہ یہ دونوں یاد کریں گے وہ جو ان کو جو چیز جو ان کے ساتھ مل گئی تھی جو ان کو پیش آئی تھی، یعنی کہ سخت مشقت، تھوڑی سی لذت کی وجہ سے، ”فَيَزْدَادَانِ نَدَمًا وَتَحَرُّزًا فَلَا مَعْنَى لِلِافْتِرَاقِ“ تو یہ دونوں بڑھ جائیں گے باعتبار ندامت کے بھی اور بچنے کے بھی، یعنی ان کا ان کی ندامت بھی بڑھ جائے گی اور ان کا اس چیز سے بچنا بھی بڑھ جائے گا، لہٰذا کوئی سبب نہیں ہے جدا رہنے کا۔ ”وَمَنْ جَامَعَ بَعْدَ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ لَمْ يَفْسُدْ حَجُّهُ وَعَلَيْهِ بَدَنَةٌ“ اور جس نے صحبت کی وقوفِ عرفہ کے بعد ”لم يفسد حجه“ تو اس کا حج فاسد نہیں، ”وعليه بدنة“ اور اس پر بدنہ واجب ہے بھئی، مسئلہ میں پہلے میں نے ابھی پہلے ذکر کر دیا بھئی۔ اور یہ بدنہ لفظ ہے، بدنۃ یہ اعراب غلط لگے ہوئے ہیں، مفرد جو ہے وہ بَدَنَةٌ ہے اور جمع اس کی کیا ہے؟ بُدْنٌ اور بُدُنٌ، دال ساکن بھی صحیح اور دال پر پیش بھی صحیح۔ ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا إِذَا جَامَعَ قَبْلَ الرَّمْيِ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے اس صورت میں جب اس نے صحبت کی ہو رمی سے پہلے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے وقوفِ عرفہ سے پہلے بیوی سے کوئی صحبت کر لے تو اس کا حج فاسد ہو جاتا ہے، اسی طرح وقوفِ عرفہ کے بعد بھی اگر کوئی صحبت کرے گا بیوی سے تو اس کا حج فاسد ہو جائے گا، جبکہ یہ صحبت رمی جمار سے پہلے ہو۔ یوم النحر والے دن جمرہ عقبہ کی کیا کرتے ہیں؟ رمی، اس سے پہلے پہلے اگر کیا کر لی؟ صحبت کر لی تو اس کا حج کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا، ہاں رمی جمرات کے بعد تو اب حلق کا وقت آ جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ قربانی کی جاتی ہے اور پھر حلق کیا جاتا ہے، تو رمی کے بعد تو حلق کا وقت آ گیا لہٰذا اس کے بعد پھر صحبت کر لے گا تو حج فاسد نہیں، لیکن اس سے پہلے پہلے بھی اگر صحبت کر لی تو حج کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”خلافاً للشافعي رحمه الله فيما إذا جامع قبل الرمي“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے اس صورت میں جب جماع کیا رمی سے پہلے۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ“ یہاں سے ہماری دلیل آ رہی ہے، ہم نے کیا کہا؟ وقوف کے بعد اگر جماع کیا تو حج فاسد نہیں اور اس پر کیا واجب ہے؟ بدنہ، تو اس کا حج فاسد نہیں ہوتا اس کی دلیل، کہتے ہیں: ”لقوله عليه السلام“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: ”من وقف بعرفة فقد تم حجه“، جس نے وقوفِ عرفہ کر لیا تو اس کا حج پورا ہو گیا، کیا ہو گیا؟ اس کا حج پورا ہو گیا۔ یہ معنی نہیں ہے حاجی باقی افعال اب کرنے ہی نہیں پڑیں گے، حج پورا ہو گیا، حالانکہ ابھی فرض طوافِ زیارت باقی ہے یا نہیں باقی؟ ہاں، حج کے افعال بھی باقی ہیں اور ایک فرض بھی باقی ہے طوافِ زیارت، تو بالاتفاق اس حدیث کا یہ معنی نہیں کہ اب باقی افعال نہیں کرنا پڑیں گے، حج پورا ہو گیا۔ تو پھر کیا معنی؟ معنی یہ ہے حج پورا ہونے کا کہ اب اس کا حج فساد سے محفوظ ہو گیا، اب فاسد ہونے کی صورت نہیں ہے، اب باقی افعال کر لے تو حج مکمل ہو جائے، حالانکہ اس سے پہلے تو کیا احتمال تھا؟ حج کے فاسد ہونے کا بھئی۔ تو یہ معنی ہے حضور علیہ السلام کا، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”من وقف بعرفة فقد تم حجه“ جس نے وقوفِ عرفہ کر لیا تو تحقیق اس کا حج پورا ہو گیا یعنی فساد سے محفوظ ہو گیا۔ ”وَإِنَّمَا تَجِبُ الْبَدَنَةُ لِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا“ بھئی متن میں تو آیا تھا اس پر بدنہ بھی واجب ہے، کیا واجب ہے؟ بدنہ واجب ہے، اس کی کیا دلیل ہے؟ وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وإنما تجب البدنة“ اور بدنہ واجب ہوگا ”لقول ابن عباس رضي الله عنهما“ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے قول کی وجہ سے، ان سے پوچھا گیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے اس بارے میں، تو آپ نے اس صورت میں کیا حکم دیا تھا؟ بدنہ کا حکم دیا تھا، تو اس وجہ سے ہم بھی کس کے قائل ہیں؟ بدنہ کے قائل ہیں۔ ”أَوْ لِأَنَّهُ أَعْلَى أَنْوَاعِ الِارْتِفَاقِ فَيَتَغَلَّظُ مُوجَبُهُ“ یا اس وجہ سے کہ یہ اس لیے کیونکہ یہ نفع کی اقسام میں سے اعلیٰ ترین قسم ہے، ”لأنه أعلى أنواع الارتفاق“ اس وجہ سے کیونکہ یہ نفع نفع کی اقسام میں سے اعلیٰ ہے، سب سے بڑھ کر صورت ہے، ”فيتغلظ موجبه“ لہٰذا سخت ہوگا موجبہ اس کا حکم بھئی۔ چونکہ یہ سب سے بڑھ کر اس شخص نے کیا کیا ہے؟ نفع اٹھایا ہے، بیوی سے صحبت کر لی، تو نفع کی اعلیٰ ترین صورت اس نے اختیار کر لی، لہٰذا اس کا حکم بھی سخت ہوگا، اب بھیڑ بکری اس کے اندر کافی نہیں بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ بدنہ کرنا پڑے گا بھئی۔ تو موجب کا معنی ہے مقتضیٰ اور اسی طرح حکم، ”فيتغلظ موجبه“ تو اس کا حکم سخت ہوگا۔ ”وَإِنْ جَامَعَ بَعْدَ الْحَلْقِ فَعَلَيْهِ شَاةٌ“ اور اگر صحبت کر لی بعد الحلق، حلق کروانے کے بعد، فعلیہ شاۃ تو اس پر بھیڑ بکری واجب ہے۔ صورت یہ: ایک شخص نے یوم النحر والے دن رمی بھی کر لی اور قربانی بھی کر لی، ابھی طوافِ زیارت نہیں کیا، اور جب تک طوافِ زیارت نہیں کیا تو احرام کی باقی پابندیاں تو ختم لیکن بیوی ابھی تک حلال نہیں، لیکن اس نے اس سے پہلے ہی بیوی سے صحبت کر لی، تو اس صورت میں اس پر بھیڑ بکری واجب ہوگی، بھیڑ بکری۔ وجہ یہ کیونکہ بیوی کے حق میں احرام باقی ہے اور جبکہ باقی چیزیں کیا ہو گئیں؟ احرام کی باقی پابندیاں ختم ہو گئیں، اس وجہ سے جنایت میں کمی آ گئی کہ باقی پابندیاں کیا ہو چکی ہیں؟ کم ہو چکی ہیں، البتہ چونکہ بیوی کی پابندی ابھی بھی تھی تو لہٰذا اس وجہ سے دم واجب ہوگا اور بھیڑ بکری کافی ہے، اب بدنہ کی قربانی کی بدنہ کی قربانی یہاں ضروری نہیں ہے۔ ”وإن جامع بعد الحلق فعليه شاة“ اور اگر صحبت کی حلق کروانے کے بعد تو اس پر بھیڑ بکری واجب ہے، ”لِبَقَاءِ إِحْرَامِهِ فِي حَقِّ النِّسَاءِ دُونَ لُبْسِ الْمَخِيطِ وَمَا أَشْبَهَهُ“ اس لیے کیونکہ اس کا احرام باقی ہے عورتوں کے حق میں، نہ کہ سلے ہوئے کپڑے پہننے کے بارے میں اور جو اس کے مشابہ چیزیں ہیں، یعنی اور احرام کی پابندیوں کے بارے میں تو اس کا احرام باقی نہیں لیکن بیوی کے حق میں اس کا احرام باقی ہے، ”فَخَفَّتِ الْجِنَايَةُ فَاقْتُفِيَ بِالشَّاةِ“ تو جنایت ہلکی ہو گئی، فاقتفی بالشاۃ تو اکتفا کر لیا جائے گا بھیڑ بکری پر۔ ”وَمَنْ جَامَعَ فِي الْعُمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ فَسَدَتْ عُمْرَتُهُ“ اور جس نے صحبت کر لی عمرے کے اندر قبل ان یطوف اربعۃ اشواط قبل اس کے کہ وہ چکر لگائے چار چکر، فسدت عمرتہ تو اس کا عمرہ فاسد ہو گیا۔ اور عمرہ فاسد ہوا تو باقی افعال کرے گا یا نہیں کرے گا؟ کرے گا، یہی بیان کر رہے ہیں: ”فَيَمْضِي فِيهَا وَيَقْضِيهَا وَعَلَيْهِ شَاةٌ“ تو وہ شخص اس عمرے کے اندر چلتا رہے یعنی اس کے اعمال کرتا رہے، ویقضیھا اور پھر کیا کرے؟ اس عمرے کی قضا بھی کرے، وعلیہ شاۃ اور اس پر ایک بھیڑ بکری بھی واجب ہے۔ ”وَإِذَا جَامَعَ بَعْدَمَا طَافَ أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ أَوْ أَكْثَرَ فَعَلَيْهِ شَاةٌ وَلَا تَفْسُدُ عُمْرَتُهُ“ اور اگر صحبت کر لی چار چکر یا اس سے زیادہ لگانے کے بعد، تو اس پر بھیڑ بکری واجب ہے ولا تفسد عمرتہ اور اس کا عمرہ بھی فاسد نہیں۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: تَفْسُدُ فِي الْوَجْهَيْنِ وَعَلَيْهِ بَدَنَةٌ، اعْتِبَارًا بِالْحَجِّ إِذْ هِيَ فَرْضٌ عِنْدَهُ كَالْحَجِّ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا عمرہ فاسد ہو جائے گا دونوں صورتوں میں، چاہے چار چکروں سے کم لگائے ہوں چاہے زیادہ، دونوں صورتوں میں۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں اس شخص پر کیا واجب ہے؟ بدنہ واجب ہے، قیاس کرتے ہوئے حج پر، اس لیے کیونکہ عمرہ بھی فرض ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کالْحَجِّ جیسے کہ حج فرض ہے۔ ”وَلَنَا: أَنَّهَا سُنَّةٌ فَكَانَتْ أَحَطَّ رُتْبَةً مِنْهُ، فَتَجِبُ الشَّاةُ فِيهَا وَالْبَدَنَةُ فِي الْحَجِّ إِظْهَارًا لِلتَّفَاوُتِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ عمرہ فرض نہیں، عمرہ کیا ہے؟ سنت ہے، لہٰذا اس کا رتبہ کمتر ہے حج سے، حج کے مقابلے میں اس کا رتبہ کم، اور حج کے اندر بدنہ آتا ہے تو عمرے کے اندر اس سے کم آئے گا تاکہ فرق کا پتہ چل جائے دونوں میں، اور تو اس میں کیا کافی ہو جائے گی؟ بھیڑ بکری کافی ہو جائے گی۔ ”ولنا“ ہماری دلیل یہ ہے: ”أنها سنة“ کہ عمرہ جو ہے وہ سنت ہے، ”فكانت أحط رتبة منه“ تو لہٰذا یہ کمتر رتبے والا ہوا حج کے مقابلے میں، ”فتجب الشاة فيها والبدنة في الحج إظهاراً للتفاوت“ تو اس کے اندر بھیڑ بکری واجب ہوگی اور بدنہ واجب ہوگا حج کے اندر، اظہاراً للتفاوت فرق ظاہر کرنے کے لیے تاکہ دونوں میں فرق ظاہر کر دیا جائے۔ ”وَمَنْ جَامَعَ نَاسِيًا كَانَ كَمَنْ جَامَعَ مُتَعَمِّدًا“ صورت یہ: ایک شخص نے جان بوجھ کر صحبت کی ہے اور ایک نے بھولے سے کی ہے، تو کیا دونوں کے حکم میں کوئی فرق ہوگا؟ تو یاد رکھیے ہمارے نزدیک کوئی فرق نہیں۔ چاہے صحبت بھولے سے کرے چاہے جان بوجھ کر کرے، دونوں کا حکم یہی ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، بھولے سے اگر صحبت کی ہے، احرام یاد ہی نہیں تھا اور اس نے صحبت کر لی، تو پھر اس صورت میں اس سے حج فاسد نہیں ہوگا۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں روزے پر، جیسے روزے کے اندر بھولے سے صحبت کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، اسی طرح وہ فرماتے ہیں یہاں حج بھی فاسد نہیں ہوگا۔ ہم کہتے ہیں نہیں! روزے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ روزے کے اندر تو کوئی عمل نہیں کرنا پڑتا لہٰذا وہاں یاد کروانے والی چیز کوئی نہیں، تو انسان بھول سکتا ہے روزے کو۔ لیکن یہاں پر تو وہ حالتِ احرام میں ہے اور یہ احرام جو اس نے جو چادریں پہنی ہوئی ہیں یا اسی طرح جو حج کے افعال وغیرہ کر رہا ہے، یہ سب چیزیں اس کو یاد کروانے کروانے والی ہیں، لہٰذا یہاں وہ حکم نہیں ہوگا جو کس میں تھا؟ روزے میں تھا، کیونکہ یہاں یاد کروانے والی چیزیں موجود ہیں جو اسے لمحہ لمحہ اسے بتلا رہی ہیں کہ وہ اس وقت حالتِ احرام میں ہے اور اس پر بہت سی پابندیاں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ومن جامع ناسياً كان كمن جامع متعمداً“ اور جس نے صحبت کر لی بھول کر یہ اسی شخص کی طرح ہے جس نے صحبت کی ہو جان بوجھ کر، ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: جِمَاعُ النَّاسِي غَيْرُ مُفْسِدٍ لِلْحَجِّ“ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھولنے والے کی صحبت جو ہے وہ حج کو فاسد کرنے والی نہیں ہے۔ ”وَكَذَلِكَ الْخِلَافُ فِي جِمَاعِ النَّائِمَةِ وَالْمُكْرَهَةِ“ اور اسی طرح اختلاف ہے سوئی ہوئی اور زبردستی کی ہوئی عورت سے صحبت میں بھی۔ وہ فرماتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ، اگر کوئی بیوی سوئی ہوئی تھی اور خاوند نے اس سے صحبت کر لی، یا خاوند نے اس سے زبردستی صحبت کر لی، تو ان دونوں صورتوں میں بھی خاوند کا احرام تو فاسد ہوگا لیکن بیوی کا تو کوئی عمل دخل اس میں نہیں، لہٰذا اس کا احرام فاسد نہیں ہوگا، اس کا احرام فاسد نہیں ہوگا۔ جبکہ ہمارے نزدیک بھئی دونوں صورتوں میں کیا ہوگا؟ اس کا احرام یعنی حج عمرہ اس کا فاسد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وكذلك الخلاف في جماع النائمة والمكرهة“ اور اسی طرح اختلاف ہے سوئی ہوئی اور زبردستی کی ہوئی کے جماع میں بھی، ”هُوَ يَقُولُ: الْحَظْرُ يَنْعَدِمُ بِهَذِهِ الْعَوَارِضِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ممانعت جو ہے وہ معدوم ہو جاتی ہے ان عوارض کی وجہ سے۔ ممانعت کیا ہے؟ بھئی محرم کو صحبت کرنے سے منع کیا گیا، لیکن اگر وہ بھول گیا تو یوں سمجھا جائے گا گویا اس کو منع کیا ہی نہیں گیا۔ گویا کہ اس کو منع کیا ہی نہیں گیا، اور جب منع ہی نہیں کیا گیا تو جرم تو پایا ہی نہیں گیا۔ منع کیا گیا ہوتا اور پھر وہ ایک فعل کرتا تو کیا کہتے؟ اس نے جنایت کی ہے، لیکن یہاں تو وہ صحبت کر رہا ہے کس طریقے پر؟ بھول کر کر رہا ہے، اور جب بھول کر کر رہا ہے تو گویا اس کو روکا ہی نہیں گیا اور جب روکا ہی نہیں گیا تو کوئی جرم بھی نہیں پایا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”الحظر ينعدم بهذه العوارض“ کہ ممانعت جو ہے معدوم ہو جاتی ہے ان عوارض کی وجہ سے، کون سے عوارض؟ یہ بھولنے کی وجہ سے، یا وہ عورت کیا تھی؟ سوئی ہوئی تھی اس کا تو کوئی ارادہ نہیں تھا، ”والمكرهة“ یا وہ عورت کیا تھی؟ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی، تو لہٰذا ان عوارض کی وجہ سے یوں سمجھا جائے گا گویا ان کے حق میں ممانعت ہے ہی نہیں، ”فَلَمْ يَقَعِ الْفِعْلُ جِنَايَةً“ تو لہٰذا فعل جو ہے وہ جنایت ہو کر واقع نہیں ہوگا۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الْفَسَادَ بِاعْتِبَارِ مَعْنَى الِارْتِفَاقِ فِي الْإِحْرَامِ ارْتِفَاقًا مَخْصُوصًا، وَهَذَا لَا يَنْعَدِمُ بِهَذِهِ الْعَوَارِضِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ فساد جو آتا ہے وہ احرام کے اندر وہ مخصوص نفع اٹھانے کے معنی کے اعتبار سے ہے، اور وہ معدوم نہیں ہوتا ان عوارض کی وجہ سے۔ وہ ان عوارض کی وجہ سے معدوم نہیں ہوتا، چاہے وہ عورت سوئی ہوئی تھی، چاہے زبردستی کی گئی اس کے ساتھ، یا وہ شخص بھولنے والا تھا، لیکن ان تمام حالتوں میں انہوں نے کامل نفع اٹھایا ہے یا نہیں؟ لذت اٹھائی ہے یا نہیں اٹھائی؟ جب لذت اٹھائی ہے، ایک ممنوع فعل کا ارتکاب کیا ہے، تو لہٰذا اب فساد ضرور آئے گا ان کی وجہ سے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”وَالْحَجُّ لَيْسَ فِي مَعْنَى الصَّوْمِ لِأَنَّ حَالَاتِ الْإِحْرَامِ مُذَكِّرَةٌ بِمَنْزِلَةِ حَالَاتِ الصَّلَاةِ، بِخِلَافِ الصَّوْمِ“ اور حج جو ہے وہ روزے کے معنی میں نہیں ہے، اس لیے کیونکہ احرام کے احوال جو ہیں وہ یاد کروانے والے ہیں نماز کی حالتوں کے درجے میں۔ جیسے نماز کی حالتیں انسان کو یاد کرواتی رہتی ہیں کہ وہ کبھی قیام میں ہے کبھی رکوع میں ہے کبھی سجدے میں ہے، یہ اسے یاد کرواتی رہتی ہیں کہ وہ اس وقت کیا کر رہا ہے؟ نماز ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح احرام کی جو حالتیں ہیں وہ بھی انسان کو یاد کرواتی رہتی ہیں کہ وہ حالتِ احرام میں ہے، بخلاف روزے کے کہ وہاں کوئی چیز یاد کروانے والی نہیں ہے، تو لہٰذا دونوں کا حکم ایک نہیں ہوگا۔ حج کا وہ حکم ہوگا جو جو نماز کا حکم ہے، اور نماز کے اندر تو جیسے کوئی جان بوجھ کر کلام کرے یا بھولے سے کلام کرے، دونوں صورتوں میں نماز فاسد ہو جاتی ہے، تو یہاں پر بھی جب ایک یاد کروانے والی چیز موجود ہے تو جان بوجھ کر وہ جنایت کرے یا بھولے سے کرے، دونوں صورتوں میں اس کو کیا شمار کیا جائے گا؟ جنایت ہی شمار کیا جائے گا، واللہ اعلم اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ ”فَصْلٌ: وَمَنْ طَافَ طَوَافَ الْقُدُومِ مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ“ اب یہاں وہ جنایتیں بیان کر رہے ہیں جن کا تعلق بالخصوص طواف کے ساتھ ہے، طواف کے ساتھ۔ مثلاً کسی نے طواف بے وضو ہونے کی حالت میں کیا، طوافِ قدوم بے وضو ہونے کی حالت میں کیا، یا طوافِ زیارت کیا، یا طوافِ وداع کیا تو کیا حکم ہے؟ یا بعض صورتوں میں طواف پورا نہیں کیا، کچھ چکر رہ گئے، تو ان سب میں صورتوں میں کیا کیا حکم ہوگا وہ بیان کریں گے اس فصل کے اندر۔ تو پہلا مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں کہ جس شخص نے طوافِ قدوم جو ہے حالتِ حدث میں کیا یعنی بے وضو ہونے کی حالت میں، طوافِ قدوم کیا اور اس کا وضو نہیں تھا، تو اس پر صدقہ واجب ہے۔ یعنی بھیڑ بکری واجب نہیں بلکہ صرف کیا ہے؟ صدقہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ومن طاف طواف القدوم محدثاً فعليه صدقة“ اور جس شخص نے طوافِ قدوم کیا بے وضو ہونے کی حالت میں تو اس پر صدقہ واجب ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُعْتَدُّ بِهِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے یعنی بے وضو کے طواف کا کوئی اعتبار نہیں، یوں سمجھا جائے گا اس نے طواف کیا ہی نہیں، طواف کیا ہی نہیں۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: الطَّوَافُ صَلَاةٌ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَبَاحَ فِيهِ الْمَنْطِقَ، فَتَكُونُ الطَّهَارَةُ مِنْ شَرْطِهِ“ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے، وہ فرماتے ہیں حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”الطواف صلاة إلا أن الله تعالى أباح فيه المنطق“ کہ طواف جو ہے وہ نماز ہے مگر یہ کہ اللہ نے اس میں مباح فرما دیا ہے بولنے کو۔ حدیث میں کیا آیا، حضور علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟ کہ طواف بھی نماز ہے مگر یہ کہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے بولنے کی اجازت دے دی ہے۔ عام نماز جو ہے اس میں تو بولنے کی اجازت نہیں، یہ طواف بھی نماز ہے لیکن اس کے اندر بولنے کی اجازت ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل آگے چل رہی ہے ابھی، وہ فرماتے ہیں—یہاں تک تو حدیث تھی—آگے: ”فتكون الطهارة من شرطه“ تو لہٰذا طہارت اس کی شرط میں سے ہوگا۔ اس حدیث سے کیا پتہ چلا کہ بیت اللہ کا طواف بھی کیا ہے؟ نماز، اور نماز کے لیے طہارت شرط ہے، تو لہٰذا طواف کے لیے بھی طہارت شرط ہوگی۔ ”وَلَنَا: قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ مِنْ غَيْرِ قَيْدِ الطَّهَارَةِ فَلَمْ تَكُنْ فَرْضًا“ اور ہماری دلیل جو ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: اور چاہیے کہ وہ حج کرنے والے بیتِ عتیق کا طواف کریں، اللہ تعالیٰ کے اس قدیم گھر کا کیا کریں؟ طواف کریں۔ ہم کہتے ہیں اس آیت کے اندر صرف طواف کا حکم دیا جا رہا ہے، اس میں کوئی طہارت وغیرہ کی قید نہیں ہے بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ جو قول ہے یہ ہماری دلیل ہے: ”وليطوفوا بالبيت العتيق من غير قيد الطهارة“ یہ طہارت کی قید کے بغیر ہے، ”فلم تكن فرضاً“ لہٰذا طہارت فرض نہیں ہوگی۔ پھر طہارت یعنی وضو کا کیا حکم ہے طواف میں؟ کیا واجب ہے یا سنت ہے؟ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ قِيلَ: هِيَ سُنَّةٌ، وَالْأَصَحُّ أَنَّهَا وَاجِبَةٌ“ پھر کہا گیا ہے کہ یہ طہارت جو ہے یہ سنت ہے یعنی کس کے لیے؟ طواف کے لیے۔ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ طہارت واجب ہے، کیا ہے؟ واجب ہے۔ ”لِأَنَّهُ يَجِبُ بِتَرْكِهَا الْجَابِرُ“ اس لیے کیونکہ اس کو چھوڑنے کی وجہ سے جابر یعنی تلافی کرنے والی چیز واجب ہوتی ہے، کیا واجب ہوتی ہے؟ تلافی کرنے والی چیز۔ ابھی اوپر انہوں نے مسئلہ بتلایا کہ اگر طوافِ قدوم بے وضو ہونے کی حالت میں کیا تو کیا واجب ہوگا؟ صدقہ واجب ہوگا۔ یہ صدقے کا وجوب بتلا رہا ہے کہ اس نے کوئی واجب چیز چھوڑی ہے، اگر سنت چیز چھوڑی ہو تو پھر اس صورت میں تو کوئی کوئی چیز واجب نہ ہوتی۔ تو ”لأنه يجب بتركها الجابر“ اس لیے کیونکہ اس کو چھوڑنے کی وجہ سے تلافی کرنے والی چیز واجب ہوتی ہے۔ ”وَلِأَنَّ الْخَبَرَ يُوجِبُ الْعَمَلَ فَيَثْبُتُ بِهِ الْوُجُوبُ“ اور دوسری دلیل: اور نیز اس لیے کیونکہ خبر جو ہے یعنی حدیث جو ہے یوجب العمل یہ عمل کو واجب کرتی ہے۔ بھئی ”الطواف صلاة“ یہ کیا ہے؟ خبرِ واحد ہے، اور خبرِ واحد کے ذریعے فرضیت تو ثابت نہیں ہوتی البتہ وجوب ثابت ہو سکتا ہے، تو ہم نے بھی ہم بھی کس کے قائل ہوئے؟ وجوب کے قائل ہوئے کہ طہارت جو ہے وہ واجب ہے۔ تو ”ولأن الخبر يوجب العمل فيثبت به الوجوب“ اور نیز اس لیے کیونکہ حدیث جو ہے وہ عمل کو واجب کرتی ہے تو اس سے وجوب ثابت ہوگا۔ ”فَإِذَا شَرَعَ فِي هَذَا الطَّوَافِ وَهُوَ سُنَّةٌ يَصِيرُ وَاجِبًا بِالشُّرُوعِ“ اب کہتے ہیں کہ یہ طواف جو ہے، یہ طوافِ قدوم آپ پڑھ چکے ہمارے نزدیک سنت ہے، سنت ہے، لیکن ایک مرتبہ جب ایک عمل شروع کر دیا جائے پھر وہ کیا بن جاتا ہے؟ واجب بن جاتا ہے۔ تو لہٰذا یہ طواف تو سنت تھا لیکن جب شروع کر دیا تو یہ کیا بن گیا؟ واجب بن گیا، اور اس واجب کے اندر کمی آ گئی اس نے اس کو بے وضو کیا ہے، لہٰذا اس کی تلافی کے لیے اب کیا کرنا پڑے گا؟ صدقہ کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فإذا شرع في هذا الطواف“ جب وہ بے وضو شخص شروع ہو گیا اس طواف کے اندر، ”وهو سنة“ اس حال میں کہ یہ طواف سنت ہے، تو اس سنت طواف میں جب وہ شروع ہو گیا ”يصير واجباً بالشروع“ تو یہ طواف کیا بن گیا؟ واجب ہو گیا شروع کرنے کی وجہ سے، ”وَيَدْخُلُهُ نَقْصٌ بِتَرْكِ الطَّهَارَةِ فَيُجْبَرُ بِالصَّدَقَةِ“ اور اس میں کمی آ گئی طہارت چھوڑنے کی وجہ سے، تو لہٰذا اس کی تلافی کی جائے گی صدقے کے ذریعے، ”إِظْهَارًا لِدُنُوِّ رُتْبَتِهِ عَنِ الْوَاجِبِ بِإِيجَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَهُوَ طَوَافُ الزِّيَارَةِ“ بھئی ایک وہ چیز ہے جس کو اللہ نے واجب کیا ہے فرض قرار دیا ہے، اور ایک وہ چیز ہے جو بندے کے شروع کرنے کی وجہ سے واجب ہو جاتی ہے۔ تو یہ طوافِ قدوم کیا تھا؟ سنت، لیکن جب شروع کر دیا کیا بن گیا؟ واجب۔ اور ایک وہ طواف ہے جس کو اللہ نے واجب کیا ہے اور وہ کیا ہے؟ طوافِ زیارت ہے، تو طوافِ زیارت کے اندر اگر وہ کسی نے بے وضو کیا تو اس میں بھیڑ بکری واجب ہے۔ تو وہ اللہ کے واجب کرنے کی وجہ سے وہ طواف واجب ہے لہٰذا اس کا درجہ ہوا اعلیٰ، اور یہ بندے کے شروع کرنے کی وجہ سے واجب ہوا اس کا درجہ ہوا اس سے کم۔ جب اس کے اندر بھیڑ بکری واجب ہے تو اس کا درجہ اس سے کم ہے، اس میں اس سے کم چیز واجب ہوگی یعنی صدقہ واجب ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”ويدخله نقص بترك الطهارة فيجبر بالصدقة إظهاراً لدنو رتبته“ تو لہٰذا اس کی تلافی کی جائے گی صدقے کے ذریعے اس کے رتبے کی کمی کو، اس کے رتبے کے کم ہونے کو ظاہر کرنے کے لیے، کس سے اس کا رتبہ کم ہے؟ ”عن الواجب بإيجاب الله تعالى وهو طواف الزيارة“ اس واجب سے جو اللہ کے واجب کرنے کی وجہ سے ہے اور وہ طوافِ زیارت ہے۔ ”وَكَذَا الْحُكْمُ فِي كُلِّ طَوَافٍ هُوَ تَطَوُّعٌ“ اور اسی طرح ہے حکم ہر اس طواف کے اندر جو نفل ہے، جو بھی نفلی طواف ہے اس کا یہی حکم ہے اگر بے وضو کیا تو کیا کرنا پڑے گا؟ صدقہ کرنا پڑے گا۔ ”وَلَوْ طَافَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ شَاةٌ“ اور اگر طواف کیا کسی نے طوافِ زیارت جو ہے بے وضو ہونے کی حالت میں، تو اس پر بھیڑ بکری واجب ہے۔ ”لِأَنَّهُ أَدْخَلَ النَّقْصَ فِي الرُّكْنِ فَكَانَ أَفْحَشَ مِنَ الْأَوَّلِ فَيُجْبَرُ بِالدَّمِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص نے جو ہے نقصان داخل کر دیا فی الرکن رکن کے اندر، وہ طواف جو حج کا رکن ہے اس میں اس نے نقصان داخل کر دیا اس میں کمی کر دی، ”فكان أفحش من الأول“ تو یہ پہلے سے زیادہ برا ہے۔ تو یہ پہلے سے زیادہ برا ہے، پہلا کون سا تھا؟ طوافِ قدوم، اس میں صدقہ آیا تھا، اور یہ تو رکن ہے باقاعدہ، اس کے اندر جب کمی اس نے کر دی تو یہ پہلے سے زیادہ برا ہے، ”فيجبر بالدم“ تو اس کی تلافی کس سے کی جائے گی؟ دم کے ساتھ کی جائے گی۔ ”وَإِنْ كَانَ جُنُبًا فَعَلَيْهِ بَدَنَةٌ“ اور اگر یہ شخص حالتِ جنابت میں تھا—کون سا طواف کر رہا ہے؟ طوافِ زیارت—تو اس پر بدنہ واجب ہوگا۔ یہ میں نے آپ کو پہلے بتایا تھا کہ بدنہ صرف دو جگہ آتا ہے: اگر طوافِ زیارت سے پہلے کیا کر لے؟ وقوف کے بعد وقوفِ عرفہ کے بعد اور طوافِ زیارت سے پہلے بیوی سے صحبت کر لے تو کیا واجب ہوگا؟ بدنہ۔ اور دوسرا اگر طوافِ زیارت کو کس حالت میں کر لے؟ جنابت کی حالت میں، تو اس صورت میں بدنہ واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وإن كان جنباً فعليه بدنة“ اور اگر یہ شخص حالتِ جنابت میں تھا تو اس پر بدنہ واجب ہے، ”كَذَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا“ اسی طرح روایت کیا گیا ہے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے، ”وَلِأَنَّ الْجَنَابَةَ أَغْلَظُ مِنَ الْحَدَثِ فَيَجِبُ جَبْرُ نُقْصَانِهَا بِالْبَدَنَةِ إِظْهَارًا لِلتَّفَاوُتِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ جنابت جو ہے وہ زیادہ سخت ہے بے وضو ہونے کے مقابلے میں، تو واجب ہوگا کہ اس کے نقصان کی تلافی کی جائے بدنہ کے ساتھ، اظہاراً للتفاوت فرق ظاہر کرنے کے لیے، فرق ظاہر کرنے کے لیے تاکہ بے وضو اور جنابت والے کا فرق ظاہر ہو جائے۔ ”وَكَذَا إِذَا طَافَ أَكْثَرَهُ جُنُبًا أَوْ مُحْدِثًا لِأَنَّ أَكْثَرَ الشَّيْءِ لَهُ حُكْمُ كُلِّهِ“ بھئی طوافِ زیارت اگر بے وضو ہونے کی حالت میں کیا تو بھیڑ بکری، اور جنابت کی حالت میں کیا تو بدنہ واجب ہے۔ تو یہ تو کل طواف کی بات تھی، اگر اکثر طواف کو اس حالت میں کر لیا تو بھی یہی حکم ہے، ”لأن للأكثر حكم الكل“، یعنی ایک شخص نے اکثر طوافِ زیارت بے وضو ہونے کی حالت میں کیا یعنی چار چکر یا زیادہ، کچھ وضو کے ساتھ کیے لیکن زیادہ چکر بے وضو، تو اس صورت میں بھی بھیڑ بکری واجب ہوگی۔ اور اگر اکثر جو ہے وہ جنابت کی حالت میں کیا تو بھی کیا واجب ہوگا؟ بدنہ واجب ہوگا۔ ”وَالأَفْضَلُ أَنْ يُعِيدَ الطَّوَافَ مَا دَامَ بِمَكَّةَ وَلَا ذَبْحَ عَلَيْهِ“ اچھا اور یہ بھی یاد رکھیے، اگر وہ شخص پھر وضو کے ساتھ اس طواف کا اعادہ کر لیتا ہے انہی ایامِ نحر کے اندر اندر، تو پھر وہ قربانی اس سے ساقط ہو جائے گی، یعنی بھیڑ بکری تھی یا بدنہ تھا وہ کیا ہو جائیں گے؟ ساقط ہو جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وكذا إذا طاف أكثره جنباً أو محدثاً لأن أكثر الشيء له حكم كله، والأفضل أن يعيد الطواف ما دام بمكة ولا ذبح عليه“ اور اسی طرح حکم ہے جب اس نے طواف کیا اس کا اکثر حالتِ جنابت میں یا بے وضو ہونے کی حالت میں، اس لیے کیونکہ اکثر شے جو ہے اس کے لیے کل کا حکم ہے، اور افضل یہ ہے کہ وہ اس طواف کا اعادہ کرے اس کو پھر لوٹا لے جب تک کہ یہ مکہ میں ہے، اور پھر اس پر ذبح بھی نہیں ہے۔ ”وَفِي بَعْضِ النُّسَخِ: وَعَلَيْهِ أَنْ يُعِيدَ“ اور بعض نسخوں میں ہے—بھئی قدوری کے اس نسخے میں تو یہ آیا ”والأفضل أن يعيد“، افضل یہ ہے کہ کیا کر لے؟ طواف کا اعادہ کر لے، بعض قدوری کے نسخوں میں آیا کہ اس پر طواف کا اعادہ واجب ہے، کیا ہے؟ واجب، تو وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وفي بعض النسخ“ اور قدوری کے بعض نسخوں میں آیا ہے: ”وعليه أن يعيد“ اور اس پر واجب ہے اعادہ کرنا—”وَالأَصَحُّ أَنَّهُ يُؤْمَرُ بِالإِعَادَةِ فِي الْحَدَثِ اسْتِحْبَابًا، وَفِي الْجَنَابَةِ إِيجَابًا، لِفُحْشِ النُّقْصَانِ بِسَبَبِ الْجَنَابَةِ وَقُصُورِهِ بِسَبَبِ الْحَدَثِ“ یہاں سے آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ زیادہ صحیح قول یہ ہے، زیادہ صحیح کہ اگر بے وضو ہونے کی حالت میں طوافِ زیارت کیا تھا تو پھر اس کو استحباباً حکم دیا جائے گا، یعنی اس کے لیے مستحب ہے کیا کر لے؟ اعادہ کر لے۔ اور اگر جنابت کی حالت میں اس نے طوافِ زیارت کیا تھا تو پھر اس پر واجب ہے کیا کر لے؟ اعادہ کر لے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”والأصح“ اور زیادہ صحیح یہ ہے ”أنه يؤمر بالإعادة“ کہ اس شخص کو لوٹانے کا حکم دیا جائے گا ”في الحدث“ حدث کی صورت میں یعنی بے وضو ہونے کی صورت میں استحباباً، کس طریقے پر؟ استحباباً اس کو یہ حکم دیا جائے گا، ”وفي الجنابة إيجاباً“ اور جنابت کی صورت میں ایجاباً اس کو یہ حکم دیا جائے گا یعنی واجب کرتے کے طریقے پر۔ کس وجہ سے؟ ”لفحش النقصان“ نقصان کے فاحش ہونے کی وجہ سے، زیادہ بد بدتر ہونے کی وجہ سے، ”بسبب الجنابة“ جنابت کی وجہ سے، ”وقصوره بسبب الحدث“ اور اس میں کمی ہونے کی اس میں کمی ہونے کی وجہ سے بسبب حدث، بوجہ حدث۔ بھئی دیکھیے نا دو باتیں یہاں ذکر کر رہے ہیں تو ان کو صاحبِ ہدایہ نے اکٹھا ذکر کر دیا۔ ایک صورت کیا؟ اگر اس نے بغیر وضو کے کیا ہے تو اس کو استحباباً حکم دیا جائے گا کہ یہ طواف پھر کر لو، کیوں؟ ”لقصوره بسبب الحدث“ اس لیے کیونکہ اس میں کیا آ گئی؟ کمی آ گئی حدث کی وجہ سے، تو یہ ”قصوره بسبب الحدث“ اس کا تعلق کس سے ہے؟ استحباباً کے ساتھ ہے۔ اور جو ایجاباً آیا تھا اس کے ساتھ تعلق ہے ”لفحش النقصان بسبب الجنابة“، اگر جنابت کی حالت میں اس نے یہ طوافِ زیارت کیا تھا تو اس کو ایجاباً یہ حکم دیا جائے گا کہ طواف کا کیا کر لو؟ اعادہ، ایجاب کے طریقے پر یعنی واجب کرتے ہوئے۔ بھئی یہ ایجاب کے طریقے پر کیوں؟ ”لفحش النقصان“ نقصان کے فاحش ہونے کی وجہ سے کہ بڑا خراب یعنی بڑا برا نقصان اس میں آیا ہے جنابت کی وجہ سے، عبارت سمجھ میں آ گئی؟ ”ثُمَّ إِذَا أَعَادَهُ وَقَدْ طَافَهُ مُحْدِثًا لَا ذَبْحَ عَلَيْهِ وَإِنْ أَعَادَهُ بَعْدَ أَيَّامِ النَّحْرِ“ صورت یہ، دو صورتیں یہاں ذکر ہوئیں: ایک صورت یہ تھی کہ طوافِ زیارت کو ایک شخص نے بے وضو ہونے کی حالت میں کیا ہے، تو اس پر کیا واجب تھی؟ بھیڑ بکری۔ اور ایک صورت یہ تھی کہ ایک شخص طوافِ زیارت کو جنابت کی حالت میں کر لیتا ہے، تو اس صورت میں اس پر بدنہ واجب تھا۔ اور آپ نے پڑھ لیا کہ ان کو اعادے کا حکم دیا جائے گا، بے وضو جو تھا اس کو استحباباً حکم دیا جائے گا یعنی اس کے لیے مستحب ہے اس کا اعادہ کر لے، اور جو جنابت کی حالت میں جس نے کیا تھا اس پر واجب ہے کہ اس طواف کا اعادہ کر لے، طواف کا اعادہ کر لے۔ تو جب یہ اعادہ کر لے گا، اعادہ کر لے گا تو یہ جو بھیڑ بکری یا بدنہ اس پر واجب تھا، یہ اس سے ساقط ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں البتہ جنابت کی حالت میں کیا تھا طواف، اس پر کیا واجب ہوا تھا؟ بدنہ واجب ہوا تھا، پھر اس نے اعادہ کر لیا، تو جب اعادہ کر لے گا تو بدنہ ساقط ہو جائے گا، بدنہ ساقط ہو جائے گا۔ لیکن پھر دیکھیں گے کہ اس نے یہ ایامِ نحر جو ہیں تین دن عید کے، انہی کے اندر اگر اس نے اعادہ کیا ہے تو پھر تو اپنے وقت کے اندر ہی اس نے اعادہ کر لیا، کیونکہ طوافِ زیارت کا وقت بھی کب ہے؟ یہ عید کے تین دن ہیں، انہی میں اس نے دوبارہ اعادہ بھی کر لیا اپنے وقت کے اندر کر لیا، تو اب اس سے بدنہ بھی ساقط اور بھی کوئی چیز اس پر واجب نہیں، وہ طواف صحیح ہو گیا۔ اور اگر ایامِ نحر کے بعد کرتا ہے اس طواف کو—کون سی صورت میں جب پہلے کیا کیا تھا؟ پہلے جنابت کی حالت میں کیا تھا—تو بعد میں اگر کرے گا تو اس صورت میں اس پر دم لازم ہوگا، بدنہ تو ساقط ہو گیا لیکن تاخیر کی وجہ سے امام صاحب کے نزدیک چونکہ ان افعالِ حج کے کو اگر اپنے وقت سے مؤخر کر دیا جائے تو دم واجب ہوتا ہے، لہٰذا جو بدنہ تھا وہ تو ساقط ہو جائے گا کیونکہ اس نے اعادہ کر لیا، لیکن تاخیر کی وجہ سے دم آئے گا۔ کب؟ جب جب پہلے کیا تھا جنابت کی حالت میں اور پھر اعادہ کب کیا ہے؟ ایامِ نحر کے بعد، تو وہ بدنہ تو ساقط لیکن تاخیر کی وجہ سے دم ہوگا، ایک بھیڑ بکری کی قربانی کرنا پڑے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر بے وضو کیا تھا تو اس کو کے لیے بھی مستحب ہے کیا کر لے؟ اعادہ کر لے، اور وہ جب اعادہ کر لے گا تو اس پر جو بھیڑ بکری کی قربانی واجب تھی وہ ساقط ہو جائے گی۔ چاہے وہ اعادہ ایامِ نحر کے اندر کرے چاہے ایامِ نحر کے بعد۔ ایامِ نحر کے اندر اگر کر لیتا ہے تو پھر تو اپنے وقت کے اندر اعادہ کر لیا، لہٰذا پھر تو وہ دم جو تھا اس پر پہلے وہ ساقط ہو جائے گا اور تاخیر تو اس نے کی نہیں تاخیر کی وجہ سے کوئی دم نہیں آئے گا۔ لیکن اگر اس نے کیا کیا؟ ایامِ نحر کے بعد اگر اس نے اعادہ کیا تو بھی اس صورت میں اس پر دم واجب نہیں ہوگا، کیونکہ صرف نقصان کا اور کمی کا شبہ یہاں رہ گیا اور صرف شبہے کی وجہ سے اس پر دم کو واجب قرار نہیں دیا جا سکتا، تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے آگے صاحبِ ہدایہ اور اچھے انداز میں اسی کو بیان کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثم إذا أعاده وقد طافه محدثاً لا ذبح عليه“ پھر جب اس شخص نے اس طواف کا اعادہ کر لیا اس حال میں کہ اس نے اس کو بے وضو ہونے کی حالت میں کیا تھا، تو اس پر کوئی ذبح نہیں، کوئی ذبح اس پر نہیں، ”وإن أعاده بعد أيام النحر“ اگرچہ وہ اس کا اعادہ کرے ایامِ نحر کے بعد، ”لِأَنَّ بَعْدَ الإِعَادَةِ لَا تَبْقَى إِلَّا شُبْهَةُ النُّقْصَانِ“ اس لیے کیونکہ اعادے کے بعد تو باقی نہیں رہا مگر صرف نقصان کا ایک شبہ، صرف نقصان کا کیا رہ گیا؟ ایک شبہ ہی رہ گیا اور اس سے وہ کوئی نقصان نہیں دیتا بھئی، اس کی وجہ سے دم واجب نہیں ہوگا۔ ”وَإِنْ أَعَادَهُ وَقَدْ طَافَهُ جُنُبًا فِي أَيَّامِ النَّحْرِ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ أَعَادَهُ فِي وَقْتِهِ“ اور اگر اس شخص نے اس طواف کا اعادہ کیا اس حال میں کہ پہلے کس طرح کیا تھا؟ پہلے جنابت کی حالت میں یہ طواف کیا تھا، تو اس نے اس کا اعادہ کیا فی ایام النحر، کس میں؟ ایامِ نحر میں، تو اس پر کوئی چیز نہیں اس لیے کیونکہ اس نے اس کا اعادہ کر لیا اپنے وقت کے اندر۔ ”وَإِنْ أَعَادَهُ بَعْدَ أَيَّامِ النَّحْرِ لَزِمَهُ الدَّمُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِالتَّأْخِيرِ عَلَى مَا عُرِفَ مِنْ مَذْهَبِهِ“ اور اگر اس نے اس کا اعادہ کیا ایامِ نحر کے بعد، لزمہ الدم تو اس پر دم لازم ہے امام صاحب کے نزدیک تاخیر کی وجہ سے، ”على ما عرف من مذهبه“ بوجہ اس کے جو معلوم ہے ان کا مذہب، یعنی جو امام صاحب کا مذہب معلوم ہے اس کی وجہ سے اس پر دم واجب ہوگا کیونکہ امام صاحب کا کیا مذہب ہے کہ افعالِ حج کو اگر اپنے وقت سے مؤخر کر دیا جائے تو اس صورت میں دم واجب ہوتا ہے، تو یہاں بھی اس نے مؤخر کیا ہے تو اس پر دم واجب ہوگا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ”هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام“۔