Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-161

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 4
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”فَإِنْ دَخَلَ الْبُسْتَانَ لِحَاجَتِهِ فَلَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ، وَوَقْتُهُ الْبُسْتَانُ، وَهُوَ وَصَاحِبُ الْمَنْزِلِ سَوَاءٌ، لِأَنَّ الْبُسْتَانَ غَيْرُ وَاجِبِ التَّعْظِيمِ فَلَا يَلْزَمُهُ الْإِحْرَامُ بِقَصْدِهِ“ بھئی گزشتہ سبق میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اہلِ حِل جو ہیں، حِل میں رہنے والے، وہ بغیر احرام کے بھی مکہ آ جا سکتے ہیں۔ اور اسی طرح اگر کوئی شخص باہر سے آیا تھا اور حِل میں کسی جگہ کا اس نے ارادہ کیا تو اس کے بعد پھر حِل کے اندر اس کا ارادہ بن گیا عمرہ یا حج کرنے کا، تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو اہلِ حِل کا ہے۔ اہلِ حِل کا ہے۔ یعنی جب وہ آیا اور ابھی اس کا حج اور عمرے کا ارادہ نہیں تھا، تو جب حِل آ گیا تو حِلّیوں والا حکم ہو گیا۔ اور اہلِ حِل جو ہیں وہ تو بغیر احرام کے مکہ آ جا سکتے ہیں، تو یہ بھی بغیر احرام کے مکہ آ جا سکتا ہے۔ اور اہلِ حِل کا اگر عمرے یا حج کا ارادہ بنتا ہے تو ان کا میقات یہی حِل ہے۔ وہ حِل میں سے جہاں سے بھی چاہیں احرام باندھ کر حرم جا سکتے ہیں۔ تو یہ جو شخص باہر سے آیا اور کہاں رہنے لگا؟ حِل میں۔ یہ بھی انہی کے حکم میں ہے، لہٰذا اس کا بعد میں یہاں حِل کے اندر عمرے یا حج کا ارادہ بنا، تو اس کا میقات بھی یہی حِل ہے، وہ یہاں جہاں سے بھی چاہے احرام باندھ سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی ذکر کر رہے ہیں۔ ”فَإِنْ دَخَلَ الْبُسْتَانَ لِحَاجَتِهِ“ اگر وہ کوفی شخص یعنی کوفہ کا رہنے والا—مراد کیا ہے؟ آفاقی—تو اگر وہ آفاقی شخص بستان میں داخل ہوا ”لحاجته“ کس لیے؟ اپنی حاجت، اپنی ضرورت کے لیے۔ یعنی مکہ جانے کا ارادہ نہیں، وہ آیا ہی کدھر ہے؟ بستان میں آیا ہے یعنی حِل میں آیا ہے۔ ”فَلَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ“ تو اس کے لیے جائز ہے کہ یہ مکہ داخل ہو جائے بغیر احرام کے۔ ”وَوَقْتُهُ الْبُسْتَانُ“ اور اس کا میقات بستان ہے۔ بستان سے مراد حِل ہے، یعنی اس کا میقات کیا ہے؟ حِل ہے۔ اب جب یہ عمرہ یا حج کا ارادہ کرتا ہے تو جہاں سے بھی چاہے احرام باندھ سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ووقتہ البستان“ اور اس کا میقات جو ہے وہ بستان ہے۔ ”وَهُوَ وَصَاحِبُ الْمَنْزِلِ سَوَاءٌ“ وہ اور گھر والا دونوں برابر ہیں۔ وہ بھئی جو باہر سے آیا ہے اور کہاں رہنے لگا؟ حِل میں۔ اور صاحبِ منزل، گھر والا، یعنی وہ جو بستان کا رہنے والا ہے، یہ دونوں کیا ہیں؟ سواءٌ، برابر ہیں بھئی۔ ”لِأَنَّ الْبُسْتَانَ غَيْرُ وَاجِبِ التَّعْظِيمِ فَلَا يَلْزَمُهُ الْإِحْرَامُ بِقَصْدِهِ“ بھئی وہ شخص آفاقی تھا اور کہاں آیا؟ حِل میں آیا یعنی بستان میں آیا، تو حِل تو کوئی واجب التعظیم جگہ نہیں، اس وجہ سے اس پر احرام کا باندھنا واجب نہیں تھا بھئی۔ یہی ذکر کر رہے ہیں: ”لأن البستان غير واجب التعظيم“ اس لیے کیونکہ بستان جو ہے وہ تو واجب التعظیم نہیں ہے، ”فلا يلزمه الإحرام بقصده“ لہٰذا اس پر احرام لازم نہیں ہے بستان کا ارادہ کرنے کی وجہ سے۔ یعنی حِل میں کوئی آتا ہے تو بغیر احرام کے آ سکتا ہے کیونکہ جو مکہ جانا چاہتا ہے اس کے لیے احرام ضروری ہے اس کی عظمت کی وجہ سے، اس کی تعظیم کے لیے، لیکن حِل تو کوئی تعظیم کی جگہ نہیں ہے لہٰذا وہاں بغیر احرام کے بھی آ سکتا ہے۔ ”وَإِذَا دَخَلَهُ الْتَحَقَ بِأَهْلِهِ“ اور جب یہ شخص بستان میں داخل ہو گیا یعنی حِل میں داخل ہو گیا، ”التحق بأهله“ تو یہ بھی مل گیا اس کے رہنے والوں کے ساتھ، اس کا بھی وہی حکم ہو گیا جو حِل والوں کا تھا۔ ”وَلِلْبُسْتَانِيِّ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ لِلْحَاجَةِ فَكَذَلِكَ لَهُ“ اور بستانی کے لیے تو جائز ہے کہ وہ مکہ داخل ہو بغیر احرام کے ”للحاجة“ کس وجہ سے؟ حاجت کی وجہ سے، ”فكذلك له“ تو اسی طرح اس شخص کے لیے بھی ہے جو باہر سے آیا ہے۔ ”وَالْمُرَادُ بِقَوْلِهِ: وَوَقْتُهُ الْبُسْتَانُ جَمِيعُ الْحِلِّ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَرَمِ، وَقَدْ مَرَّ مِنْ قَبْلُ“ اور کہتے ہیں متن میں جو ماتن کا قول آیا تھا: ”ووقتہ البستان“، اور اس کا میقات کیا ہے؟ بستان ہے۔ میں نے کیا معنی بیان کیا تھا کہ اس کا میقات یعنی حِل ہے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”والمراد بقوله“ اور ماتن کا قول جو ہے ”ووقتہ البستان“ اس سے مراد جو ہے ”جميع الحل الذي بينه وبين الحرم“ اس سے وہ سارا حِل مراد ہے جو اس میقات اور حرم کے درمیان ہے، ”وقد مر من قبل“ اور تحقیق یہ بات پہلے گزر چکی ہے۔ ”فَكَذَا وَقْتُ الدَّاخِلِ الْمُلْحَقِ بِهِ“ تو اسی طرح میقات ہے اس شخص کا جو داخل ہونے والا ہے ”الملحق به“ جس کو اس کے ساتھ ملایا گیا۔ جیسے اہلِ حِل کے لیے میقات کیا ہے؟ سارا حِل ہے، تو ان کے ساتھ جو جس شخص کو ملایا گیا وہ جو داخل ہوا ہے حِل میں، تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ یہ معنی ہے: ”فكذا وقت الداخل الملحق به“ تو اسی طرح میقات اس شخص کا ہے جو حِل میں داخل ہونے والا ہے ”الملحق به“ جس کو اس ان اہلِ حِل کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ ”فَإِنْ أَحْرَمَا مِنَ الْحِلِّ وَوَقَفَا بِعَرَفَةَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمَا شَيْءٌ“ صورت یہ کہ یہ شخص باہر سے آیا اور کہاں آیا؟ بستانِ بنی عامر میں، یعنی حِل میں آیا۔ تو یہ شخص یا حِل کا کوئی رہنے والا شخص، ان کا ارادہ حج کا بنا، تو انہوں نے اس حِل سے ہی احرام باندھ لیا ان دونوں نے اور وقوفِ عرفات کر لیا، تو کیا ان پر کوئی دم لازم ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، ان پر کوئی دم لازم نہیں کیونکہ ان کا میقات تھا ہی کیا؟ حِل تھا، اور یہ وہیں سے احرام باندھ کر آئے ہیں۔ یہ معنی ہے: ”فإن أحرما“ تو اگر ان دونوں نے احرام باندھ لیا، کون دونوں؟ ایک حِل کا رہنے والا اور ایک وہ جو باہر سے آیا ہے۔ تو اگر ان دونوں نے احرام باندھ لیا ”من الحل“ حِل سے ہی، ”ووقفا بعرفة“ اور ان دونوں نے وقوف کر لیا عرفات میں، ”لم يكن عليهما شيء“ تو ان پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ ”يُرِيدُ بِهِ الْبُسْتَانِيَّ وَالدَّاخِلَ فِيهِ“ بھئی یہ دونوں جنہوں نے احرام باندھا اور وقوف کیا، اس سے کون دونوں مراد ہیں؟ وہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”يريد به البستاني“ ارادہ کیا اس کے ذریعے ماتن نے بستانی کا، ”والداخل فيه“ اور وہ شخص جو بستان میں داخل ہوا ہے، ان دونوں نے اگر احرام باندھا اور وقوف کیا تو یہ دونوں مراد ہیں۔ ”لِأَنَّهُمَا أَحْرَمَا مِنْ مِيقَاتِهِمَا“ اس لیے کیونکہ ان دونوں نے احرام باندھا ہے اپنے میقات سے۔ ”وَمَنْ دَخَلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عَامِهِ ذَلِكَ إِلَى الْوَقْتِ وَأَحْرَمَ بِحَجَّةٍ عَلَيْهِ أَجْزَأَهُ ذَلِكَ مِنْ دُخُولِهِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص جو ہے مکہ آیا، اور مکہ آنے والے پر تو کیا لازم تھا؟ احرام باندھنا لازم تھا، لیکن وہ بغیر احرام کے مکہ آ گیا۔ پھر اسی سال وہ نکلا اور میقات تک آیا اور پھر اس نے حج کا احرام باندھ لیا، وہ حج جو اس پر واجب تھا، جو فرض تھا، اس حج کا احرام باندھ لیا اور پھر آ کر اس نے حج کر لیا۔ کیا صورت؟ پہلے وہ گزرا تھا بغیر احرام کے اور پھر اسی سال میقات پہ آ کر اس نے ہاں اپنے فرض حج کا احرام باندھ لیا، تو کہتے ہیں یہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا اور اس سے وہ دم ساقط ہو جائے گا۔ دم کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، کیونکہ اس پر بھی میقات سے احرام کا باندھنا ضروری تھا بیت اللہ کی تعظیم کی وجہ سے، اور اس نے اس کو ادا کر دیا ہے، اسی سال میقات تک آیا اور پھر احرام باندھ کر کیا کیا؟ پھر حج ادا کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ومن دخل مكة بغير إحرام“ اور جو شخص مکہ میں داخل ہوا بغیر احرام کے یعنی جو آفاقی تھا وہ داخل ہوا مکہ میں بغیر احرام کے، ”ثم خرج من عامه ذلك إلى الوقت“ پھر وہ نکل آیا اپنے اسی سال میں میقات تک، ”وأحرم بحجة عليه“ اور اس نے احرام باندھا ایسے حج کا جو اس پر واجب تھا یعنی فرض تھا، ”أجزأه ذلك من دخوله مكة بغير إحرام“ تو اس کا یہ احرام کافی ہو جائے گا اس کے وہ جو مکہ میں داخل ہوا تھا بغیر احرام کے، اس سے یہ کافی ہو جائے گا۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُجْزِيهِ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس کے لیے یہ احرام، یہ حج والا احرام اس کے اس احرام سے کافی نہیں جو اس نے چھوڑ دیا تھا۔ ”وَهُوَ الْقِيَاسُ، اعْتِبَارًا بِمَا لَزِمَهُ بِسَبَبِ النَّذْرِ“ اور یہی قیاس بھی ہے، قیاس کرتے ہوئے اس احرام پر جو اس پر لازم ہوا ہو منت کی وجہ سے۔ صورت یہ کہ ایک شخص جو ہے وہ بغیر احرام کے مکہ چلا گیا تو اس پر کیا لازم ہوا؟ دم۔ پھر یہ نکل آیا اور اس نے احرام باندھا ایک حج کا جو اس نے منت کے ذریعے اپنے اوپر لازم کیا تھا، منت مانی تھی کہ اگر میرا یہ کام ہوا تو میں حج کروں گا۔ اب اس نے وہ منت والے حج کا احرام باندھ لیا، تو بالاتفاق اس صورت میں یہ احرام اس وہ جو احرام رہ گیا تھا اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتا، یہ اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ تو جیسے یہ اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتا، اس سے وہ احرام ادا نہیں ہوگا، اسی طرح امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اگر اپنے فرض حج کا احرام باندھے گا تو اس سے بھی وہ والا احرام جو رہ گیا تھا وہ ادا نہیں ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”اعتباراً بما لزمه بسبب النذر“ قیاس کرتے ہوئے اس احرام پر جو اس شخص پر لازم ہوا تھا منت کی وجہ سے، ”فَصَارَ كَمَا إِذَا تَحَوَّلَتِ السَّنَةُ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ سال پلٹ گیا ہو، سال بدل گیا ہو۔ بھئی متن میں مسئلہ ذکر ہو گیا کہ اگر بغیر احرام کے مکہ گیا تو اس پر کیا واجب؟ دم۔ اور اسی سال آ کر پھر حج کا فرض حج کا احرام باندھتا ہے تو اس سے وہ دم ساقط ہو جائے گا اور یہ احرام اس احرام سے کافی ہو جائے گا۔ لیکن وہاں قید تھی: اسی سال، کیا کرے؟ اسی سال وہ فرض حج کرتا ہے تو پھر کافی ہوگا۔ اگلے سال اگر اگلا سال آتا ہے اور پھر وہ حج کا احرام باندھتا ہے تو پھر بالاتفاق وہ والا حج کا احرام اس احرام سے کافی نہیں ہوگا اور اس سے وہ دم ساقط نہیں ہوگا۔ تو یہاں بھی امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”فصار كما إذا تحولت السنة“، تو یہ بھی اسی طرح ہو گیا جیسے کہ سال بدل گیا ہو، اور اس کے اندر تو وہ احرام اس احرام کے قائم مقام نہیں ہوتا تھا تو یہاں پر بھی یہ اس کے قائم مقام نہیں ہوگا۔ ”وَلَنَا: أَنَّهُ تَلَافَى الْمَتْرُوكَ فِي وَقْتِهِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے، ہم نے کیا کہا تھا؟ اسی سال اگر فرض حج کرے گا تو یہ اس احرام کے قائم مقام ہو جائے گا، یہ اس سے کافی ہو جائے گا۔ ”ولنا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اس نے چھوڑی ہوئی چیز کی تلافی کر لی اپنے وقت میں یعنی اسی سال میں، ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ تَعْظِيمُ هَذِهِ الْبُقْعَةِ بِالْإِحْرَامِ، كَمَا إِذَا أَتَاهُ مُحْرِمًا بِحَجَّةِ الْإِسْلَامِ فِي الِابْتِدَاءِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص پر واجب تھا کہ وہ زمین کے اس حصے کی تعظیم کرتا احرام کے ذریعے، اور وہ اس نے چھوڑی تھی اور دوبارہ کیا کر لی؟ احرام باندھ کر جب اسی سال حج کو آیا تو تعظیم کر لی یا نہیں کر لی اس نے؟ اس کو ادا کر دیا۔ تو ”كما إذا أتاه محرماً بحجة الإسلام في الابتداء“، تو جیسے کہ وہ آیا ہو احرام کی حالت میں اپنے فرض حج کے لیے ابتدا کے اندر، کس میں؟ شروع میں، تو یہ اسی طرح ہو جائے گا۔ تو بھئی جیسے کوئی شخص شروع سے احرام باندھ کر حج کا احرام حج کے لیے آتا ہے پہلی مرتبہ اور وہ حج ادا کرتا ہے، تو اس کے لیے بھی میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں، اور جب وہ اپنے فرض حج کا احرام باندھے گا تو یہ میقات کا حق بھی ادا ہو جائے گا یا نہیں ہو جائے گا؟ میقات کا حق بھی ادا ہو جائے گا۔ تو ہم کہتے ہیں یہاں بھی اسی طرح ہے، اس پر کیا لازم تھا؟ میقات کا حق لازم تھا کہ وہ مکہ جا رہا ہے تو کیا کرے؟ احرام باندھ کر جائے۔ تو اسی سال جب وہ اپنا فرض حج ادا کر رہا ہے تو جیسے پہلی مرتبہ فرض حج فرض حج کے لیے آنے والے سے اس میقات کا حق ادا ہو جاتا تھا اور بیت اللہ کی تعظیم کے لیے وہ احرام کافی ہو جاتا تھا، تو اس کے لیے بھی جب اسی سال یہ حج کرتا ہے یہ احرام اس احرام سے کافی ہو جائے گا جو رہ گیا تھا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”كما إذا أتاه محرماً بحجة الإسلام في الابتداء“ جیسے کہ وہ آیا ہو اپنے فرض حج کا محرم ہو کر ابتدا کے اندر، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا تَحَوَّلَتِ السَّنَةُ“ امام زفر رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ یہ اسی طرح ہو جائے گا جیسے کہ سال بدل چکا ہو، بدل چکا، ہم کہتے ہیں نہیں! سال کے بدلنے کی صورت ہی الگ ہے، اس پر آپ قیاس نہیں کر سکتے۔ کیونکہ سال جب بدل جائے گا، سال جب بدل جائے گا تو وہ احرام اس کے ذمے دین ہو کر باقی رہ گیا۔ جب دین ہو کر باقی رہ گیا تو دین کی علیحدہ سے ادائیگی ضروری ہوگی، فرض حج اگلے سال جب وہ ادا کرے گا تو اس سے اس دین کی ادائیگی نہیں ہوگی۔ جیسے کوئی شخص منت مان لیتا ہے تو منت اس کے ذمے دین ہو جاتی ہے، اس کو پورا کرنا اس پر ضروری ہے، لہٰذا اگر وہ فرض حج اپنا ادا کرے گا تو اس سے وہ منت ادا نہیں ہوگی، اس کے لیے علیحدہ سے اس کو حج کرنا پڑے گا۔ تو یہاں بھی جب سال بدل جائے گا تو وہ احرام اس کے ذمے دین بن گیا، لہٰذا اب وہ فرض حج سے ادا نہیں ہوگا۔ اسی سال کرتا، اسی سال وہ فرض حج ادا کرتا تو اس سے تو وہ احرام ادا ہو جاتا لیکن اگلے سال اس سے ادا نہیں ہوگا، وجہ سمجھ میں آ گئی؟ ”بخلاف ما إذا تحولت السنة“ بخلاف اس کے کہ جب سال پلٹ جائے، سال بدل جائے، ”لِأَنَّهُ صَارَ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهِ فَلَا يَتَأَدَّى إِلَّا بِإِحْرَامٍ مَقْصُودٍ كَمَا فِي الِاعْتِكَافِ الْمَنْذُورِ“ اس لیے کیونکہ وہ جو احرام رہ گیا تھا وہ دین ہو گیا اس کے ذمے میں، ”فلا يتأدى إلا بإحرام مقصود“ تو لہٰذا وہ ادا نہیں ہوگا مگر ایسے احرام کے ساتھ جس کا ارادہ کیا جائے، ”كما في الاعتكاف المنذور“ جیسے کہ وہ اعتکاف ہے جس کی منت مانی گئی ہو، ”فَإِنَّهُ يَتَأَدَّى بِصَوْمِ رَمَضَانَ مِنْ هَذِهِ السَّنَةِ دُونَ الْعَامِ الثَّانِي“ اس لیے کیونکہ وہ تو ادا ہو جائے گا اس سال کے رمضان کے روزوں کے ساتھ، نہ کہ دوسرے سال کے۔ صورت یہ: ایک شخص نے منت مانی کہ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں اس رمضان کے اندر اعتکاف کروں گا، کیا کروں گا؟ مثلاً آخری دس دن کی منت مان لیتا ہے، وہ تو واجب تو نہیں ہے لیکن اس نے کیا کر دیا منت کے ذریعے اپنے اوپر؟ واجب کر دیا، تو میں آخری عشرے میں اعتکاف کروں گا۔ اور آپ مسئلہ پڑھ چکے ہیں کہ جب کوئی شخص اعتکاف کی منت مانے تو اس کے ساتھ خود بخود روزے بھی واجب ہو جاتے ہیں، خود بخود روزے بھی واجب ہو جاتے ہیں۔ لیکن اسی سال اگر یہ شخص اسی سال اگر یہ اعتکاف کرتا ہے، تو وہی رمضان کے روزے اعتکاف کے روزوں سے بھی کافی ہو جائیں گے، یعنی رمضان کے اندر اس کا بیٹھنا کافی ہو جائے گا، حالانکہ ہونا تو کیا چاہیے تھا؟ الگ سے دس روزے بھی اس پر آئیں، لیکن وہی رمضان کے روزے اس کے اعتکاف کے روزوں سے بھی کافی ہو جائیں گے۔ لیکن اگر وہ اس سال اعتکاف نہ بیٹھ سکا اور اگلے سال وہ اعتکاف کرنا چاہتا ہے، تو پھر وہ رمضان کے روزوں کے ضمن میں وہ اعتکاف نہیں ہو سکے گا، بلکہ اس کے لیے اس کو علیحدہ سے دس روزے رکھنا پڑیں گے اور ان میں اعتکاف کرنا پڑے گا۔ اس لیے کیونکہ اس سال تو وہ اس سال جب اس نے اعتکاف نہیں کیا تو یہ اعتکاف اس کے ذمے دین ہو گیا، اور اعتکاف تو ہوتا ہی کس کے ساتھ ہے؟ روزوں کے ساتھ، تو اس کے ذمے دس روزے بھی کیا ہو گئے؟ دین ہو گئے، تو لہٰذا اب وہ دین والے روزے وہ رمضان کے جو فرض روزے ہیں ان سے ادا نہیں ہوں گے، ان کو علیحدہ کرنا پڑے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”كما في الاعتكاف المنذور“ جیسے کہ اس اعتکاف میں ہوتا ہے جس کی منت مانی گئی ہو، ”فإنه يتأدى بصوم رمضان من هذه السنة“ اس لیے کیونکہ وہ تو ادا ہو جائے گا اس سال کے رمضان کے روزوں کے ساتھ، ”دون العام الثاني“ دوسرے سال کے روزوں کے ساتھ ادا نہیں ہوگا یعنی دوسرے سال کے رمضان کے روزوں کے ساتھ ادا نہیں ہوگا، الگ روزے رکھنا پڑیں گے۔ ”وَمَنْ جَاوَزَ الْوَقْتَ فَأَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَفْسَدَهَا مَضَى فِيهَا وَقَضَاهَا“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص میقات سے آگے بڑھ گیا بغیر احرام کے، اور اس کا ارادہ عمرہ کرنے کا تھا یعنی مکہ جانے کا تھا، تو اس پر کیا لازم؟ دم لازم ہو گیا۔ اور پھر اس نے احرام باندھا، اس نے احرام باندھا اندر جا کر حِل کے اندر اور عمرہ شروع کر دیا۔ اور پھر عمرے کو فاسد کر دیا، یعنی یعنی چار چکروں سے پہلے ہی اس نے کیا کیا؟ بیوی کے ساتھ صحبت کر لی، تو اس صورت میں عمرہ فاسد ہو جاتا ہے۔ اور جب عمرہ فاسد ہو جائے آپ پڑھ چکے ہیں اس کو چھوڑنا نہیں درمیان میں، پھر بھی کیا کرنا ہے؟ اس میں چلتے رہنا ہے، اس کے افعال پورے کرنے ہیں۔ چنانچہ اس نے افعال پورے کر لیے اور پھر حلق یا قصر کروایا اور حلال ہو گیا۔ بعد میں اس نے پھر اس عمرے کی قضا کی، عمرے کی قضا کی، تو یاد رکھیے جب یہ عمرے کی قضا کرے گا تو اس سے وہ دم ساقط ہو جائے گا، دم کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے کیونکہ جب یہ اس عمرے کی قضا کرے گا تو وہ جو میقات سے بغیر احرام کے گزرا تھا اس کی بھی تلافی ہو جائے گی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور اس سے نماز کے اندر غلطی ہوئی، کوئی واجب چھوٹ گیا بھولے سے، تو اس پر سجدۂ سہو واجب ہو گیا، لیکن اس نے نماز کو درمیان میں ہی پھر فاسد کر دیا، تو اس پر کیا لازم ہے؟ نماز کی قضا لازم ہے، اور جب یہ قضا کرے گا تو پچھلی نماز میں تو ایک غلطی ہوئی تھی، اس میں سجدۂ سہو واجب ہوا تھا، تو کیا سجدۂ سہو یہاں اس پر لازم ہوگا یا یہ قضا کر لے گا تو وہ اس سب کی تلافی ہو جائے گی؟ اس سارے کی تلافی ہو جائے گی جب دوبارہ ادا کرے گا۔ تو یہاں پر بھی جو جنایت ہوئی تھی اس سارے کی کیا ہو جائے گی قضا کے اندر؟ تلافی ہو جائے گی اور اس پر دم واجب نہیں ہوگا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: ”ومن جاوز الوقت“ اور جو شخص میقات سے آگے نکل گیا آگے بڑھ گیا، ”فأحرم بعمرة“ پھر اس نے عمرے کا احرام باندھا، ”وأفسدها“ اور پھر اس عمرے کو فاسد کر دیا، ”مضى فيها“ تو اس میں چلتا رہے گا ”وقضاها“ اور اس کی قضا کرے گا، ”لِأَنَّ الْإِحْرَامَ يَقَعُ لَازِمًا“ اس لیے کیونکہ احرام جو ہے وہ لازم ہو کر واقع ہو گیا، ”فَصَارَ كَمَا إِذَا أَفْسَدَ الْحَجَّ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ اس نے حج کو فاسد کیا ہو۔ اور حج کو فاسد کرنے کی صورت میں تو حج کے افعال پورے کرنا پڑتے تھے، تو یہاں پر بھی افعال پورے کرنا پڑیں گے کیونکہ جب ایک دفعہ احرام باندھ لیا تو یہ احرام لازم ہو گیا اس کے ساتھ، اور احرام کس لیے باندھا ہے؟ عمرے کے افعال ادا کرنے کے لیے، تو جب تک وہ افعال نہیں کرے گا وہ اس سے حلال نہیں ہو سکتا، لہٰذا بے شک عمرہ اس نے فاسد کر دیا لیکن یہ اس کے اعمال پورے کرے گا اور پھر کیا ہوگا؟ احرام سے حلال ہوگا، اس لیے کہا: ”لأن الإحرام يقع لازماً“ کیونکہ احرام کیا ہوا؟ لازم ہو گیا اس پر، ”فصار كما إذا أفسد الحج“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ اس نے حج کو فاسد کیا ہو۔ ”وَلَيْسَ عَلَيْهِ دَمٌ لِتَرْكِ الْوَقْتِ“ اور اس پر میقات کو چھوڑنے کی وجہ سے اب دم بھی واجب نہیں جب قضا کر لے گا۔ ”وَعَلَى قِيَاسِ قَوْلِ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَسْقُطُ عَنْهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ کے قول کے قیاس کے مطابق اس پر سے یہ دم ساقط نہیں ہوگا۔ جیسے امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے جو شخص میقات سے بغیر احرام کے آگے بڑھ جائے تو اس پر کیا لازم ہوتا ہے؟ دم، اور پھر واپس آ کر بے شک چاہے وہ تلبیہ کہے یا نہ کہے، کسی صورت میں بھی وہ دم ساقط نہیں ہوتا، تو یہاں بھی ان کے قول پر قیاس کیا تقاضا کرتا ہے کہ اس سے دم ساقط نہ ہو بھئی، لیکن بہرحال ہمارے نزدیک دم ساقط ہو جائے گا۔ ”وَهُوَ نَظِيرُ الِاخْتِلَافِ فِي فَائِتِ الْحَجِّ إِذَا جَاوَزَ الْوَقْتَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ“ توجہ سے یہ جگہ سمجھ لینا بھئی، مختصر سی مختصر سے لفظوں میں صاحبِ ہدایہ نے بڑی لمبی بات کہہ دی بھئی۔ ”وهو نظير الاختلاف“ اور یہ مثال ہے اس اختلاف کی ”في فائت الحج“ جو حج کو فوت کر دینے والے شخص میں ہے ”إذا جاوز الوقت بغير إحرام“ جب وہ میقات سے آگے بڑھ جائے بغیر احرام کے۔ یہی صورت اب بنا لیں بھئی: ایک شخص حج کے لیے آیا، آفاقی تھا، اور آفاقی کے لیے کیا ضروری؟ میقات سے احرام باندھے، لیکن یہ بغیر احرام کے آگے چلا گیا، پھر اس نے حج کا حِل کے اندر جا کر حج کا احرام باندھا اور پھر اس کا حج فوت ہو گیا، یعنی وقوفِ عرفہ اس سے رہ گیا، وقوفِ عرفہ اس سے رہ گیا۔ جب وقوفِ عرفہ رہ گیا تو یہ احرام باندھ چکا ہے ایک دفعہ، لہٰذا اس پر اس حج کی قضا ہوگی۔ اور جب یہ اس حج کی قضا کرے گا تو اس پر جو دم لازم آیا تھا میقات سے تجاوز کرنے کی وجہ سے بغیر احرام کے، وہ دم بھی اس پر سے کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آئی؟ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک ساقط نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے: ”وهو نظير الاختلاف في فائت الحج“ اور یہ مثال ہے اس اختلاف کی جو حج کو فوت کر دینے والے شخص کے بارے میں ہے ”إذا جاوز الوقت بغير إحرام“ جب وہ تجاوز کر جائے میقات سے بغیر احرام کے۔ ”وَفِيمَنْ جَاوَزَ الْوَقْتَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ وَأَحْرَمَ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَفْسَدَ حَجَّتَهُ“ یہ دوسری صورت آ گئی، ”في من“ کا عطف ہے ”في فائت الحج“ پر۔ اور یہ مثال ہے اس اختلاف کی ”في من“ جو اس شخص کے بارے میں ہے ”جاوز الوقت“ جو میقات سے تجاوز کر گیا ”بغير إحرام“ بغیر احرام کے ”وأحرم بالحج“ اور پھر اس نے کیا کیا؟ حج کا احرام باندھا ”ثم أفسد حجته“ پھر اس نے اپنے حج کو فاسد کر دیا۔ وہی صورت، البتہ پہلے کیا صورت تھی؟ حج فوت ہوا تھا، اب حج کو وہ فاسد کر دیتا ہے۔ صورت یہ: ایک آدمی حج کے ارادے سے آیا، آفاقی آدمی ہے، اور وہ میقات سے بغیر احرام کے آگے نکل گیا تو اس پر کیا لازم ہوا؟ دم لازم ہوا۔ پھر اس نے میقات کے اندر سے ہی حج کا احرام باندھا اور وقوفِ عرفہ سے پہلے ہی کیا کر لیا؟ بیوی سے صحبت کر لی، تو اس کا حج فاسد ہو گیا، حج فاسد ہو گیا، تو پھر یہ اس حج کی قضا کرے گا، حج کے اس حج کے تو افعال کرتا چلا جائے گا لیکن پھر اس کو اس حج کی قضا کرنا پڑے گی۔ اور جب حج کی قضا کرے گا تو یہ جو میقات سے بغیر احرام کے گزرا تھا اس کی بھی تلافی ہو جائے گی کیونکہ جب حج کی قضا کرے گا تو کہاں سے احرام باندھ کر آئے گا؟ میقات سے احرام باندھ کر آئے گا، تو لہٰذا اس سے اس وہ دم بھی ساقط ہو جائے گا جو بغیر احرام کے گزرنے کی وجہ سے اس پر لازم ہوا تھا۔ تو ہمارے نزدیک وہ دم ساقط ہو جائے گا جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ ساقط نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں یہ مثال ہے اس اختلاف کی ”فيمن جاوز الوقت بغير إحرام“ جو اس شخص کے بارے میں ہے جو میقات سے بڑھ جائے بغیر احرام کے ”وأحرم بالحج“ اور پھر حج کا احرام باندھے ”ثم أفسد حجته“ پھر وہ اپنے حج کو فاسد کر دے، ”هُوَ يَعْتَبِرُ الْمُجَاوَزَةَ هَذِهِ بِغَيْرِهَا مِنَ الْمَحْظُورَاتِ“ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو میقات سے آگے بڑھنا ہے بغیر احرام کے، یہ جنایت ہے، یہ کیا ہے؟ جنایت ہے، اور جنایت کی وجہ سے دم واجب ہوتا ہے، اور جب جنایت کی وجہ سے ایک دفعہ دم واجب ہو جائے تو وہ ساقط نہیں ہوتا۔ جیسے ایک شخص محرم تھا اور اس نے خوشبو لگا لی تو اس پر کیا واجب؟ دم واجب ہے، وہ اب دم بعد میں چاہے وہ قضا کرے بھی وہ دم اس پر سے ساقط نہیں ہوگا۔ یا کسی نے حالتِ احرام میں کیا کیا؟ حلق کروا دیا تو اس پر کیا واجب؟ دم، بے شک یہ حج وہ فاسد کر دے، اگلے سال پھر بھی اس پھر اسی حج کی کیا کرتا ہے وہ؟ قضا، تو بھی یہ دم اس سے ساقط نہیں، تو جنایت کی وجہ سے جب ایک دفعہ دم آ جائے تو وہ ساقط نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا اس میقات سے آگے نکلنا بغیر احرام کے، اس جنایت کو وہ قیاس کرتے ہیں باقی احرام کی ممنوعہ چیزوں پر، ان میں جب ایک دفعہ دم آ جائے تو ساقط نہیں ہوتا تو اس میں بھی جو دم آئے گا وہ ساقط نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے: ”هو يعتبر المجاوزة هذه“ وہ اعتبار کرتے ہیں، وہ قیاس کرتے ہیں ”مجاوزة هذه“ اس مجاوزت کو، اس آگے بڑھنے کو، وہ قیاس کرتے ہیں ”بغيرها من المحظورات“ اس کے علاوہ جو ممنوعہ چیزیں ہیں ان پر۔ ”وَلَنَا: أَنَّهُ يَصِيرُ قَاضِيًا حَقَّ الْمِيقَاتِ بِالْإِحْرَامِ مِنْهُ فِي الْقَضَاءِ، وَهُوَ يَحْكِي الْفَائِتَ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ شخص جو ہے یہ ادا کرنے والا ہو گیا میقات کے حق کو، یا یوں کہیں یہ شخص میقات کے حق کی قضا کرنے والا ہو گیا ”بالإحرام منه“ اسی میقات سے احرام کے ذریعے ”في القضاء“ کس کے اندر؟ قضا حج کے اندر۔ ”وهو يحكي الفائت“ اور یہ قضا حج جو ہوتا ہے، یہ بھی اسی فوت شدہ حج کی حکایت کرتا ہے۔ اس سال تو حج کیا ہوا اس کا؟ فوت ہوا یا فاسد ہو گیا، جو بھی ہو گیا، بعد میں جب کیا کرے گا؟ قضا، تو یہ قضا حج بھی کیا کرتا ہے؟ اسی فوت شدہ حج کی حکایت کرتا ہے، یعنی یہ اسی کے قائم مقام ہے اور اس میں دم آیا تھا بغیر احرام کے گزرنے سے، تو یہ جب اسی کے قائم مقام ہے تو اس میں جو کمی آئی تھی بغیر احرام کے گزرنے کی اس کی تلافی اس دفعہ ہو گئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وهو يحكي الفائت“ اور یہ قضا حج جو ہے، یہ بھی اسی فوت شدہ حج کی حکایت بیان کرتا ہے۔ ”وَلَا يَنْعَدِمُ بِهِ غَيْرُهُ مِنَ الْمَحْظُورَاتِ فَوَضَحَ الْفَرْقُ“ اور امام زفر نے کیا کیا تھا؟ اس مجاوزت کو کس پر قیاس کیا تھا؟ اور ممنوعہ چیزوں پر۔ ہم کہتے ہیں نہیں! اور ممنوعہ چیزیں جو ہیں ان کی تو تلافی نہیں ہو سکتی لیکن اس کی تو تلافی ہو گئی، یہ جو احرام کے بغیر میقات سے آگے گزرا تھا اس کی تلافی تو ہو گئی کہ اب جب قضا کر رہا ہے تو اب باقاعدہ احرام کے ساتھ وہاں سے گزر رہا ہے، جبکہ اور ممنوعہ چیزوں کی تو تلافی نہیں ہو سکتی، ایک دفعہ اس نے خوشبو لگا لی تھی اور وہ نفع اٹھا لیا تھا، اس کی تو تلافی نہیں ہو سکتی، ایک دفعہ اگر اس نے حلق کروا لیا تھا، نفع تو اس نے اٹھا لیا تھا، اس کی تو تلافی نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”ولا ينعدم به“ اور اس قضا حج کی وجہ سے معدوم نہیں ہوتا ”غيره من المحظورات“ اس کے علاوہ جو ممنوعہ چیزیں ہیں۔ یہ جو قضا حج جو ادا کرے گا اس کی وجہ سے اس کے علاوہ اور جو ممنوعہ چیزیں ہیں ان وہ معدوم نہیں ہوتیں، ان کی تلافی نہیں ہو سکتی، ”فوضح الفرق“ تو فرق واضح ہو گیا۔ ”وَإِذَا خَرَجَ الْمَكِّيُّ يُرِيدُ الْحَجَّ فَأَحْرَمَ وَلَمْ يَعُدْ إِلَى الْحَرَمِ وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ فَعَلَيْهِ شَاةٌ“ بھئی آپ مسئلہ پڑھ چکے ہیں کہ حج کی تین قسمیں ہیں: حجِ قِران، حجِ تمتع، اور حجِ افراد۔ اور آفاقی کے لیے حج کے یہ تین طریقے ہیں، لیکن جو شخص مکہ کا رہنے والا ہے اس کے لیے حج کا صرف ایک ہی طریقہ ہے: حجِ افراد۔ وہ حجِ تمتع بھی نہیں کر سکتا اور حجِ قِران بھی نہیں کر سکتا۔ اب صورت یہ کہ ایک مکہ کا رہنے والا آدمی ہے، اس کا حج کرنے کا ارادہ ہے، کس کا ارادہ ہے؟ یہ قید یاد رکھنا، اس کا حج کرنے کا ارادہ ہے، چنانچہ اس کو کیا چاہیے؟ حرم ہی سے احرام باندھے، کیونکہ مکہ والوں کا میقات کیا ہے؟ حرم ہی ہے حج کے لیے۔ عمرے کے لیے تو ان کو حرم سے باہر نکلنا پڑے گا لیکن حج میں ان کا میقات حرم ہی ہے۔ تو اس مکہ والے کا ارادہ حج کرنے کا ہے، اس کو حرم سے احرام باندھنا چاہیے تھا، لیکن یہ حرم سے باہر نکل آیا اور باہر آ کر اس نے احرام باندھا، اور پھر جا کر اس نے حج ادا کیا، تو یاد رکھیے اس صورت میں اس پر دم واجب ہوگا اس لیے کیونکہ اس کا میقات کیا تھا؟ حرم تھا، اور یہ اپنے میقات سے تجاوز کر گیا بغیر احرام کے، اور میقات سے بغیر احرام کے کوئی تجاوز کرے تو اس پر دم واجب ہوتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وإذا خرج المكي يريد الحج“ اور جب نکلا ایک مکہ والا اس حال میں کہ وہ حج کا ارادہ کرتا ہے، ”فأحرم“ پھر اس نے احرام باندھ لیا یعنی حرم سے باہر نکل کر احرام باندھ لیا، ”ولم يعد إلى الحرم“ اور حرم واپس نہیں لوٹا—حرم پھر واپس نہیں گیا بلکہ سیدھا کہاں چلا گیا؟ عرفات چلا گیا، عرفات چلا گیا—تو کہتے ہیں: ”ولم يعد إلى الحرم“ اور وہ حرم واپس نہیں لوٹا، ”ووقف بعرفة“ اور اس نے عرفات میں وقوف کر لیا، ”فعليه شاة“ تو اس پر بھیڑ بکری واجب ہے۔ اب مجھے مسئلہ بتائیے: یہ مکہ والا جس نے حِل میں آ کر احرام باندھ لیا ہے اور پھر یہ حرم چلا جاتا ہے، اور پھر جا کر وقوفِ عرفات کرتا ہے، تو کیا اس سے یہ دم ساقط ہوگا یا ساقط نہیں ہوگا؟ جی؟ کیوں؟ ہاں یاد رکھیے تفصیل: صاحبین کے نزدیک میقات سے جو آگے نکل جاتا تھا پھر میقات احرام کے ساتھ آتا تھا تو اس کی تلافی ہو جاتی تھی، لہٰذا صاحبین کے نزدیک یہاں پر یہ شخص بھی جب حرم پھر آ گیا تو اس نے تلافی کر دی، میقات آ گیا، احرام کے ساتھ آیا لہٰذا تلافی ہو گئی دم کیا ہو جائے گا؟ ساقط۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف واپس آنا کافی نہیں بلکہ کیا کرے؟ تلبیہ بھی کہے، تو پھر تلافی ہوگی اور دم ساقط ہوگا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب تلافی کی کوئی گنجائش نہیں، اب یہ ہر حال میں دم دینا ہی پڑے گا، تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ ”لأن وقته الحرم“ اس لیے کیونکہ مکہ والے کا میقات جو ہے وہ حرم ہے، ”وقد جاوزه بغير إحرام“ اور تحقیق یہ اس میقات سے بڑھ گیا ہے بغیر احرام کے، ”فإن عاد إلى الحرم“ پس اگر یہ حرم لوٹ آیا ”ولبى“ اور تلبیہ کہا ”أو لم يلب“ یا تلبیہ نہیں کہا، ”فهو على الاختلاف الذي ذكرناه في الآفاقي“ تو یہ اسی اختلاف پر ہے جس کو ہم نے ذکر کیا تھا آفاقی میں، جو ابھی میں نے ذکر کر دی تفصیل بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ یاد رکھنا، یہ جو قید لگائی کہ یہ اس مکی کا حج کا باقاعدہ ارادہ ہو اور پھر یہ باہر نکل کر کیا کرتا ہے؟ احرام باندھتا ہے۔ اگر حج کا ارادہ نہیں تھا اس کا ابھی، یہ ویسے ہی حرم سے باہر نکل آیا اور پھر اس کا ارادہ کس کا بنا؟ حج کا بنا، تو پھر اس صورت میں احرام باہر سے بھی بے شک حِل سے باندھ کر آ جائے تو بھی اس پر دم نہیں ہے، کیونکہ جب یہ حِل میں آ گیا یہ حِلّیوں کے حکم میں ہو گیا اور اہلِ حِل کے لیے میقات کیا ہے حج کا؟ حِل ہے، تو یہ بھی حِل سے ہی احرام باندھ کر آیا ہے۔ ”وَالْمُتَمَتِّعُ إِذَا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ فَأَحْرَمَ وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ فَعَلَيْهِ دَمٌ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص حجِ تمتع کر رہا ہے۔ حجِ تمتع کا کیا طریقہ تھا؟ حجِ تمتع میں آپ نے پڑھا کہ آفاقی شخص حجِ تمتع کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ میقات سے احرام باندھ کر آئے گا اور آ کر عمرہ ادا کرے گا اور پھر اس کے بعد حلال ہو جائے گا، احرام کی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ اور پھر وہ آٹھویں ذوالحجہ کو کیا کرے گا؟ حج کا احرام مکہ ہی سے باندھے گا، مکہ ہی سے باندھے گا۔ اب صورت یہ کہ ایک حجِ تمتع کرنے والا ہے، یہ عمرے سے فارغ ہو گیا اور پھر حج کے دنوں میں یہ حرم سے باہر نکلا اور اور حِل سے کیا کر لیا اس نے؟ حج کا احرام باندھ لیا، حج کا احرام باندھ لیا اور پھر حرم گیا ہی نہیں، سیدھا کدھر چلا گیا؟ عرفات چلا گیا، تو کہتے ہیں اس پر بھی دم لازم ہے بھئی، اس پر بھی دم لازم ہے۔ ہاں اگر یہ حرم آ گیا وقوفِ عرفات سے پہلے، تو حالتِ احرام میں ہے لہٰذا صاحبین کے نزدیک وہ اس نے تلافی کر دی، لہٰذا اس سے دم کیا ہو جائے گا؟ ساقط۔ امام صاحب فرماتے ہیں احرام میں صرف آنا کافی نہیں بلکہ کیا کرے؟ تلبیہ بھی کہے۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب تلافی نہیں ہو سکتی۔ ”والمتمتع إذا فرغ من عمرته“ اور حجِ تمتع کرنے والا جب اپنے عمرے سے فارغ ہوا ”ثم خرج من الحرم“ پھر وہ حرم سے نکلا ”فأحرم“ تو پھر اس نے احرام باندھا یعنی حِل کے اندر احرام باندھا، ”ووقف بعرفة“ اور پھر وقوف کیا اس نے عرفات میں یعنی حرم واپس نہیں گیا، ”فعليه دم“ تو اس پر دم واجب ہے، دم واجب ہے، ”لِأَنَّهُ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ وَأَتَى بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ صَارَ بِمَنْزِلَةِ الْمَكِّيِّ، وَإِحْرَامُ الْمَكِّيِّ مِنَ الْحَرَمِ لِمَا ذَكَرْنَا، فَيَلْزَمُهُ الدَّمُ بِتَأْخِيرِهِ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ یہ شخص جب مکہ میں داخل ہو گیا اور اس نے ادا کر دیے عمرے کے افعال، تو یہ بھی کس کے درجے میں ہو گیا؟ مکہ والے کے درجے میں ہو گیا۔ ”وإحرام المكي من الحرم لما ذكرنا“ اور مکہ والے کا حج کا احرام تو کہاں سے ہوتا ہے؟ حرم سے ہی ہوتا ہے اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، پیچھے ذکر ہوا تھا بھئی، ”فيلزمه الدم بتأخيره عنه“ تو اس پر دم لازم ہوگا ”بتأخيره“ ای بتأخیر الإحرام ”عنه“ ای عن الحرم، کہ اس نے احرام کو مؤخر کر دیا کس سے؟ وقت سے، یعنی میقات سے۔ اس نے اپنے میقات سے احرام کو مؤخر کر دیا، اس کا میقات تو کیا تھا؟ حرم تھا، اور اس نے کہاں جا کر باندھا؟ حِل میں، تو اس نے تو اس نے احرام کو اپنے میقات سے مؤخر کر دیا، اس وجہ سے اس پر دم لازم ہوگا۔ ”فَإِنْ رَجَعَ إِلَى الْحَرَمِ وَأَهَلَّ فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَهُوَ عَلَى الْخِلَافِ الَّذِي تَقَدَّمَ فِي الْآفَاقِيِّ“ اگر یہ شخص جو ہے متمتع حرم لوٹ آیا ”وأهل فيه“ اور اس نے تلبیہ کہا، ”أهلّ“ کے معنی آواز بلند کرنا، مراد تلبیہ کے ساتھ آواز بلند کرنا، ”وأهل فيه“ اور اس نے حرم کے اندر تلبیہ کہا ”قبل أن يقف بعرفة“ عرفات میں وقوف کرنے سے پہلے ہی، اس سے پہلے ہی وہ حرم آیا اور حرم میں تلبیہ بھی کہہ دیا، ”فلا شيء عليه“ تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے، یعنی اس سے وہ دم ساقط ہو جائے گا۔ ”وهو على الخلاف الذي تقدم في الآفاقي“ اور یہ اسی اختلاف پر ہے جو آفاقی میں گزر چکا ہے، یعنی امام صاحب کے نزدیک تلبیہ کہے گا تو دم ساقط ہوگا، صاحبین کے نزدیک احرام کافی ہے، تلبیہ کہنا ضروری نہیں، اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک اب دم ساقط ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ”هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام“۔
16 approved lectures · 13 of 16