Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-163

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 4
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَمَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ لَزِمَاهُ، لِأَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا مَشْرُوعٌ فِي حَقِّ الْآفَاقِيِّ، وَالْمَسْأَلَةُ فِيهِ، فَيَصِيرُ بِذَلِكَ قَارِنًا، لَكِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ فَيَصِيرُ مُسِيئًا، فَلَوْ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ وَلَمْ يَأْتِ بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ فَهُوَ رَافِضٌ لِعُمْرَتِهِ“ ”وَمَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ لَزِمَاهُ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے حج کا تلبیہ کہا—یعنی حج کا احرام باندھ لیا—پھر اس کے بعد اس نے عمرے کا احرام باندھا، تو دونوں چیزیں اس پر لازم ہو جائیں گی یعنی حج بھی اور عمرہ بھی لازم ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ اب آفاقی کا بیان ہے اور آفاقی جو ہے اس کے بارے میں آپ پڑھ چکے کہ وہ حج اور عمرے کے احرام کو جمع کر سکتا ہے جیسے حجِ قران میں ہوتا ہے بھئی، حجِ قران میں۔ تو کہتے ہیں: ”ومن أھل بالحج“ اور جس نے حج کا حج کا تلبیہ کہا ”ثم أحرم بعمرة“ پھر اس نے عمرے کا احرام باندھا ”لـزماه“ تو یہ دونوں اس پر لازم ہو جائیں گے۔ ”أھل بالحج“ کیا معنی کیا میں نے؟ جس نے حج کا تلبیہ کہا۔ فقہائے کرام جو ہیں عموماً جو ہے تلبیہ کہنے کے بجائے ”أھلّ“ کا لفظ ذکر کرتے ہیں، اور ”أھلّ“ کا معنی ہے آواز بلند کرنا۔ تو اس میں دراصل اشارہ ہوتا ہے اس بات کی طرف کہ تلبیہ کے اندر مسنون طریقہ یہ ہے کہ بلند آواز سے کہا جائے بھئی۔ تو ”من أھل بالحج“ جس نے بلند آواز سے حج کا تلبیہ کہا، مراد وہی احرام باندھنا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ومن أھل بالحج“ اور جس نے حج کا احرام باندھا ”ثم أحرم بعمرة“ پھر اس کے بعد اس نے عمرے کا احرام باندھ لیا ”لـزماه“ تو یہ دونوں اس پر لازم ہو جائیں گے یعنی حج اور عمرہ، ”لِأَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا مَشْرُوعٌ فِي حَقِّ الْآفَاقِيِّ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں کو جمع کرنا یہ جائز ہے آفاقی کے حق میں۔ آفاقی بھی جب حجِ قران کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ عمرے اور حج کے احرام کو جمع کر دیتا ہے، تو یہ اس کے لیے جائز ہے۔ ”وَالْمَسْأَلَةُ فِيهِ“ اور مسئلہ بھی اسی کے بارے میں ہے یعنی آفاقی کے بارے میں ہے۔ ”فَيَصِيرُ بِذَلِكَ قَارِنًا“ تو اس سے وہ شخص جو ہے قارن بن جائے گا۔ جب دونوں دونوں احراموں کو جمع کر دیا حج اور عمرے کے، تو وہ کیا ہوا؟ قارن یعنی حجِ قران ادا کرنے والا ہوا۔ ”لَكِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ“ لیکن اس نے سنت میں غلطی کی، ”فَيَصِيرُ مُسِيئًا“ تو وہ برا عمل کرنے والا ہوا۔ خلافِ سنت کرنے کی وجہ سے برا عمل کرنے والا ہوا، ہاں البتہ دم وغیرہ تو نہیں آئے گا، البتہ برا عمل کرنے والا ہے کہ اس نے سنت میں غلطی کی۔ کیونکہ سنت تو یہ تھی کہ یا تو وہ دونوں کا احرام اکٹھا باندھتا، جیسے حجِ قران والا کیا کرتا ہے؟ دونوں کا احرام اکٹھا باندھتا ہے۔ یا پھر یہ کرتا کہ عمرے پر کیا کرتا؟ حج کو داخل کرتا، کیونکہ حجِ قران میں عمرے کے افعال پر حج کے افعال کو داخل کیا جاتا ہے، حالانکہ یہاں اس نے پہلے حج کا احرام باندھا اور پھر اس کے بعد عمرے کا احرام باندھا، اس لیے سنت میں غلطی کی، ”فيصير مسيئاً“ تو یہ برا عمل کرنے والا ہوا۔ ”فَلَوْ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ وَلَمْ يَأْتِ بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ فَهُوَ رَافِضٌ لِعُمْرَتِهِ“ تو اگر اس شخص نے وقوفِ عرفات کر لیا، بھئی یہ قارن بن گیا، حجِ قران والا، تو وہی حکم آئے گا۔ تو صورت یہ کہ یہ حجِ قران کرنے والا یا یہ شخص جس نے پہلے حج کا احرام باندھا اور پھر عمرے کا احرام باندھا، تو یہ بھی قارن بن گیا، تو اس نے وقوفِ عرفات کر لیا اور حال یہ ہے کہ اس سے پہلے اس نے عمرہ نہیں کیا، حالانکہ اس نے احرام تو عمرے کا بھی باندھا تھا، تو اس صورت میں یہ عمرے کو چھوڑنے والا ہے جب کیا کر لیا؟ وقوفِ عرفات کر لیا۔ اس لیے کیونکہ حجِ قران کے اندر بھی پہلے عمرہ کیا جاتا ہے اور پھر عمرے پر حج کے افعال کی بنیاد رکھی جاتی ہے، جبکہ اس نے پہلے کیا کر لیا؟ اس نے حج کا رکنِ اعظم یعنی وقوفِ عرفات کر لیا، اب عمرہ کرے گا تو حج پر عمرے کی بنیاد رکھنے والا ہوگا، اور یہ تو جائز نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا جب یہ وقوفِ عرفات کر لے اور ابھی عمرہ نہیں کیا تو کیا کہیں گے؟ یہ عمرے کو چھوڑنے والا ہے۔ اور یاد رکھیے عمرہ چھوڑنے کی صورت میں اس پر دم لازم آئے گا بھئی، دم لازم آئے گا۔ لیکن اگر یہ عمرے کو نہیں چھوڑتا، پھر بھی کر لیتا ہے، حج بھی کر لیتا ہے اور ساتھ پھر عمرہ بھی کر لیتا ہے، تو اس صورت میں بھی وہ دم اس پر آئے گا کیونکہ اس نے کیا کیا؟ حج کے افعال پر عمرے کی بنیاد رکھی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ ”فلو وقف بعرفات“ اگر اس شخص نے وقوفِ عرفات کر لیا ”ولم يأت بأفعال العمرة“ اس حال میں کہ اس نے ادا نہیں کیے عمرے کے افعال ”فهو رافض لعمرته“ تو یہ عمرے کو چھوڑنے والا ہے، ”لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ عَلَيْهِ أَدَاؤُهَا“ اس لیے کیونکہ اس پر عمرے کی ادائیگی متعذر ہو گئی، ”إِذْ هِيَ مَبْنِيَّةً عَلَى الْحَجِّ غَيْرُ مَشْرُوعَةٍ“ یہ یاد رکھیے بھئی ”مبنيةً على الحج“ یہ حال ہے ”هي“ ضمیر جو مبتدا ہے اس سے، اور ”غير مشروعة“ یہ ہے ”هي“ کی خبر۔ ”إذ هي غير مشروعة“ اس لیے کیونکہ یہ عمرہ کیا ہے؟ غیر مشروع ہے، کب؟ ”مبنيةً على الحج“ اس حال میں کہ اس کی بنیاد کس پر ہو؟ حج پر ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إذ هي مبنيةً على الحج غير مشروعة“ اس لیے کیونکہ یہ عمرہ جو ہے اس حال میں کہ اس کی بنیاد حج پر ہو یہ غیر مشروع ہے یعنی جائز نہیں ہے۔ ”فَإِنْ تَوَجَّهَ إِلَيْهَا لَمْ يَكُنْ رَافِضًا حَتَّى يَقِفَ“ اگر یہ شخص عرفات کی طرف متوجہ ہوا تو یہ عمرے کو چھوڑنے والا نہیں ہے حتیٰ کہ وقوف کر لے۔ بھئی آپ پڑھ چکے، پیچھے صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ امام صاحب کا جو زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ جب تک وقوفِ عرفات نہیں کر لے گا اس وقت تک یہ عمرہ چھوڑنے والا نہیں ہے۔ بے شک عرفات کی طرف چل پڑے، پھر بھی یہ آ کر واپس آ کر عمرہ کر سکتا ہے، لیکن اگر وقوف کر لیا اس کے بعد اب یہ عمرہ نہیں، یہ عمرے کو چھوڑنے والا ہے۔ یہ معنی ہے: ”فإن توجه إليها لم يكن رافضاً حتى يقف“ اگر یہ عرفات کی طرف متوجہ ہوا یعنی عرفات کی طرف یہ چل پڑا تو لم یکن رافضاً تو یہ عمرہ چھوڑنے والا نہیں ہے یعنی ابھی بھی کر سکتا ہے، ”حتى يقف“ یہاں تک کہ وہ وقوف یہ وقوف کر لے، پھر نہیں کر سکتا۔ ”وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ اور تحقیق یہ بات ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں یعنی قران کے بیان میں۔ ”فَإِنْ طَافَ لِلْحَجِّ ثُمَّ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فَمَضَى عَلَيْهِمَا لَزِمَاهُ وَعَلَيْهِ دَمٌ“ ”فإن طاف“، اگر ایک شخص ہے اس نے حج کا احرام باندھا اور طواف بھی حج کا کر لیا، ایک شخص نے کیا کیا تھا؟ حج کا احرام باندھا تھا اور حرم پہنچ گیا اور طواف کرنے کے بعد پھر اس نے عمرے کا احرام باندھ لیا اور پھر ان پر چلتا رہا، تو اس پر یہ دونوں لازم ہو جائیں گے، یعنی یہ جو حج ہے اور ساتھ ساتھ یہ عمرہ، یہ دونوں، اور نیز اس پر دم لازم ہوگا بھئی، دم لازم ہوگا۔ کیونکہ اس نے پہلے کس کا احرام باندھا؟ حج کا، اور حج کا احرام باندھنے کے بعد ہی عمرے کا احرام باندھ لیتا تو صرف برا عمل کرنے والا ہوتا، یعنی خلافِ سنت کرنے والا ہوتا۔ لیکن اب تو اس نے کیا کر لیا تھا؟ حج کا طواف بھی کر لیا تھا یعنی وہ طوافِ قدوم جو شروع میں حاجی جاتے ہی کرتا ہے، اور وہ افعالِ حج میں سے ہے، لہٰذا اس نے جب وہ طوافِ قدوم کر لیا تو اب عمرہ کرے گا تو بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو عمرے کی بنیاد کس پر رکھ رہا ہے؟ حج کے افعال پر، من کل الوجہ ہر اعتبار سے تو نہیں کیونکہ حج کے رکن وغیرہ تو ابھی باقی ہیں، لیکن بہرحال طوافِ قدوم کر لیا یا نہیں؟ تو بایں اعتبار یہ کیا کر رہا ہے؟ حج پر عمرے کی بنیاد رکھ رہا ہے، حالانکہ ہوتا کیا ہے حجِ قران میں؟ عمرے پر حج کی بنیاد رکھی جاتی ہے نہ کہ حج پر عمرے کی، لہٰذا اس صورت میں اس پر دم لازم آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فإن طاف للحج ثم أحرم بعمرة“ اگر اس شخص نے طواف کر لیا حج کا، پھر اس نے عمرے کا احرام باندھا، ”فمضى عليهما“ تو ان دونوں پر یہ چلتا رہا یعنی عمل کرتا رہا، ”لـزماه“ تو اس پر یہ دونوں لازم ہو جائیں گے یعنی حج بھی اور عمرہ بھی، ”وعليه دم“ اور اس پر دم واجب ہے ”لِجَمْعِهِ بَيْنَهُمَا“ بوجہ ان دونوں کے جمع، حج اور عمرے کو جمع کرنے کی وجہ سے، ”لِأَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا مَشْرُوعٌ عَلَى مَا مَرَّ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں کے درمیان جمع کرنا یہ جائز ہے بوجہ اس کے جو گزر گیا، کیونکہ یہ کیا ہے؟ آفاقی ہے، اور آفاقی کے لیے حج اور عمرے کو جمع کرنا جائز ہے، ”فَصَحَّ الْإِحْرَامُ بِهِمَا“ تو ان دونوں کا احرام صحیح ہو جائے گا۔ ”وَالْمُرَادُ بِهَذَا الطَّوَافِ طَوَافُ التَّحِيَّةِ“ بھئی متن میں آیا تھا: ”فإن طاف للحج“، اگر اس نے حج کا طواف کر لیا، اس طواف سے کہتے ہیں: ”المراد بهذا الطواف طواف التحية“ اس طواف سے طوافِ تحیت یعنی طوافِ قدوم مراد ہے، ”وَإِنَّهُ سُنَّةٌ وَلَيْسَ بِرُكْنٍ حَتَّى لَا يَلْزَمَهُ بِتَرْكِهِ شَيْءٌ“ اور وہ طوافِ قدوم کیا ہے؟ سنت ہے اور یہ رکن نہیں ہے، ”حتى لا يلزمه بتركه شيء“ یہاں تک کہ حاجی پر لازم نہیں ہوتا اس کو چھوڑنے کی وجہ سے کوئی چیز، اس پر واجب نہیں ہوتی۔ اگر یہ واجب ہوتا پھر تو دم لازم آتا چھوڑنے سے، لیکن اس کے چھوڑنے سے کوئی چیز لازم نہیں آتی، معلوم ہوا یہ سنت ہے۔ ”وَإِذَا لَمْ يَأْتِ بِمَا هُوَ رُكْنٌ يُمْكِنُهُ أَنْ يَأْتِيَ بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ ثُمَّ بِأَفْعَالِ الْحَجِّ“ اور جب اس نے ابھی ادا نہیں کیا اس چیز کو جو کہ رکن ہے، ابھی جب اس نے کوئی رکن ادا نہیں کیا تو ”يمكنه“ تو اس کے لیے ممکن ہے ”أن يأتي بأفعال العمرة ثم بأفعال الحج“ کہ یہ عمرے کے افعال ادا کر لے، پھر اس کے بعد کیا کر لے؟ حج کے افعال ادا کر لے۔ ”فَلِهَذَا لَوْ مَضَى عَلَيْهِمَا جَازَ“ پس اسی وجہ سے اگر یہ ان دونوں پر چلتا رہا یعنی عمل کرتا رہا تو جاز، تو جائز ہے، ”وَعَلَيْهِ دَمٌ لِجَمْعِهِ بَيْنَهُمَا“ اور اس پر دم واجب ہے ان دونوں کو جمع کرنے کی وجہ سے۔ اور آگے بتلا رہے ہیں کہ یہ دم جو ہے یہ دمِ شکر نہیں ہے، یہ نہ سمجھنا کہ عمرہ اور حج دونوں کر رہا ہے تو شکرانے کے طور پر یہ دم ہے، بلکہ: ”وَهُوَ دَمُ كَفَّارَةٍ وَجَبْرٍ، هُوَ الصَّحِيحُ“ بلکہ یہ کفارے اور تلافی کا دم ہے، ”هو الصحيح“ یہی قول صحیح ہے۔ جب یہ کفارے اور تلافی کا دم ہے، معلوم ہوا یہ شخص اس میں سے خود نہیں کھا سکتا بلکہ سارا کس کو دینا پڑے گا؟ سارا فقراء کو۔ تو کہتے ہیں یہی قول صحیح ہے کہ یہ کفارے اور تلافی کا دم ہے، ”لِأَنَّهُ بَانٍ أَفْعَالَ الْعُمْرَةِ عَلَى أَفْعَالِ الْحَجِّ مِنْ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ یہ بنیاد رکھنے والا ہے افعالِ عمرہ کی افعالِ حج پر ”من وجه“ بعض اعتبارات سے۔ بعض اعتبارات سے افعالِ حج پر کیا کر رہا ہے؟ افعالِ عمرہ کی بنیاد رکھ رہا ہے، حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ افعالِ عمرہ پر افعالِ حج کی بنیاد رکھتا۔ ”وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَرْفُضَ عُمْرَتَهُ“ اور مستحب ہے اس کے لیے کہ یہ اپنا عمرہ چھوڑ دے، ”لِأَنَّ إِحْرَامَ الْحَجِّ قَدْ تَأَكَّدَ بِشَيْءٍ مِنْ أَعْمَالِهِ“ اس لیے کیونکہ حج کا احرام جو ہے وہ پکا ہو چکا ہے اس کے اعمال میں سے کچھ کرنے کی وجہ سے۔ اس کے اعمال میں سے ایک عمل اس نے کر لیا تو حج کا احرام کیا ہو چکا؟ پکا ہو چکا، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا لَمْ يَطُفْ لِلْحَجِّ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب اس نے حج کا طواف نہ کیا ہوتا۔ جب اس نے نہ کیا ہو حج کا طواف پھر تو عمرہ نہ چھوڑے گا، لیکن اگر حج کا طواف کر چکا ہے تو پھر عمرہ چھوڑ دے۔ ”وَإِذَا رَفَضَ عُمْرَتَهُ يَقْضِيهَا لِصِحَّةِ الشُّرُوعِ فِيهَا“ اور جب یہ عمرے کو اپنے عمرے کو چھوڑ دے گا تو ”يقضيها“ تو اس کی قضا کرے گا ”لصحة الشروع فيها“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر شروع ہونا صحیح تھا۔ اس عمرے کے اندر شروع ہونا صحیح تھا، کیونکہ یہ آفاقی تھا اور آفاقی کے لیے عمرے اور حج کے احرام کو جمع کرنا جائز ہے، تو احرام جب باندھ لیا تھا تو عمرہ شروع ہو گیا تھا، اور جب اس نے اس کو ختم کیا ہے تو اب ایک عمل کو جب شروع کر دیا جائے وہ انسان پر لازم ہو جاتا ہے، یہ معنی ہے: تو اس کی قضا کرے گا ”لصحة الشروع فيها“ اس میں شروع کے صحیح ہونے کی وجہ سے، ”وَعَلَيْهِ دَمٌ لِرَفْضِهَا“ اور اس پر دم واجب ہوگا اس کو چھوڑنے کی وجہ سے۔ عمرے کو چھوڑ دے گا تو اس کی قضا بھی کرے گا اور چھوڑنے کی وجہ سے دم بھی واجب ہوگا۔ ”وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فِي يَوْمِ النَّحْرِ أَوْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ لَزِمَتْهُ كُلُّ مَا قُلْنَا وَيَرْفُضُهَا“ ”ومن أھل بعمرة“ اور جس نے عمرے کا تلبیہ کہا یعنی عمرے کا احرام باندھا ”في يوم النحر“ کس دن؟ یوم النحر والے دن، ”أو في أيام التشريق“ یا ایامِ تشریق۔ یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ، وقوفِ عرفات ہو چکا ہے اور یوم النحر دس ذوالحجہ یعنی قربانی والے دن یہ عمرے کا احرام بھی باندھ لیتا ہے، یا ایامِ تشریق کے اندر یعنی گیارہ، بارہ، اور تیرہ ذوالحجہ ان میں کسی کے اندر وہ عمرے کا احرام باندھ لیتا ہے، ”لـزمته“ تو یہ اس پر لازم ہو جائے گا، ”كل ما قلنا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہی، کیونکہ یہ آفاقی ہے اور آفاقی کے لیے حج اور عمرے کے احرام کو جمع کرنا جائز ہے، تو یہ تو یہ صحیح ہے تو اس پر لازم ہو جائے گا، ”ويرفضها“ اور یہ اس کو چھوڑ دے گا، یعنی اس پر چھوڑنا لازم ہے، اس پر اس عمرے کو چھوڑنا لازم ہے، ”لِأَنَّهُ قَدْ أَدَّى رُكْنَ الْحَجِّ فَيَصِيرُ بَانِيًا أَفْعَالَ الْعُمْرَةِ عَلَى أَفْعَالِ الْحَجِّ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ تحقیق یہ حج کے رکن کو ادا کر چکا ہے، کیونکہ وقوفِ عرفات کر چکا ہے، ”فيصير بانياً أفعال العمرة على أفعال الحج من كل وجه“ تو یہ بنیاد رکھنے والا ہوا افعالِ عمرہ کی، کس پر؟ افعالِ حج پر، ”من كل وجه“ ہر اعتبار سے۔ جس اعتبار سے بھی دیکھا جائے یہ کیا کر رہا ہے؟ افعالِ حج پر افعالِ عمرہ کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ ”وَقَدْ كُرِهَتِ الْعُمْرَةُ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ أَيْضًا عَلَى مَا نَذْكُرُ“ اور نیز عمرہ مکروہ بھی ہے ان دنوں کے اندر، آگے یہ بیان کریں گے کہ ان پانچ دنوں کے اندر عمرہ ادا کرنا مکروہ ہے، حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ ان دنوں میں عمرہ کرنا مکروہ ہے۔ اور اس لیے کہ یہ دن جو ہیں یہ حج کے ایام ہیں تو یہ وقت سارا کس کے لیے خالص کرنا چاہیے؟ حج کے لیے خالص کرنا چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وقد كرهت العمرة في هذه الأيام أيضاً على ما نذكر“ اور تحقیق عمرہ مکروہ ہے ان دنوں کے اندر بوجہ اس کے جو ہم ذکر کریں گے، ”فَلِهَذَا يَلْزَمُهُ رَفْضُهَا“ اور اسی وجہ سے اس شخص پر لازم ہے اس عمرے کو چھوڑ دینا۔ ”فَإِنْ رَفَضَهَا فَعَلَيْهِ دَمٌ لِرَفْضِهَا، وَعُمْرَةٌ مَكَانَهَا لِمَا بَيَّنَّا“ پس اگر یہ اس عمرے کو چھوڑ دیتا ہے تو اس پر دم واجب ہے اس کو چھوڑنے کی وجہ سے، ”وعمرة مكانها“ اور اس پر ایک عمرہ لازم ہے، اس عمرے کی جگہ یہ جس کو اس نے چھوڑ دیا اس کی جگہ ایک عمرہ لازم ہے یعنی اس کی قضا لازم ہے، ”لما بينا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ اس کا شروع کرنا صحیح تھا، تو جب صحیح تھا تو اب اس پر لازم ہو گیا ہے، اب چھوڑے گا تو اس کی قضا کرے گا۔ ”فَإِنْ مَضَى عَلَيْهَا أَجْزَأَهُ“ بھئی اس پر چھوڑنا لازم تھا لیکن یہ عمرے کو چھوڑتا نہیں بلکہ اس کو ادا کر دیتا ہے، اس پر عمل کرتا چلا جاتا ہے تو کیا ہو جائے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، ہو جائے گا، عمرہ کیا ہے؟ ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فإن مضى عليها أجزأه“ اگر یہ اس پر چلتا رہا یعنی اس عمرے پر عمل کرتا رہا تو یہ اس کے لیے کافی ہے، ”لِأَنَّ الْكَرَاهَةَ لِمَعْنًى فِي غَيْرِهَا“ وجہ اس کی یہ کہ اس وقت یہ عمرہ کرتا ہے تو خود عمرے کی اپنی ذات میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ کیونکہ عمرہ تو کس چیز کا نام ہے؟ طواف اور سعی کا نام ہے، تو طواف اور سعی کرتا ہے اس میں تو کوئی خرابی نہیں ہے، لیکن خرابی جو اس میں آئی وہ کس وجہ سے آئی؟ کہ یہ وقت کس کا ہے؟ حج کا ہے، تو یہ سارا وقت کس کے لیے ہونا چاہیے؟ حج کے لیے ہونا چاہیے، اس وجہ سے اس میں خرابی آئی۔ تو یہ خرابی اس کی اپنی ذات میں ہے یا غیر کی وجہ سے آئی؟ غیر کی وجہ سے آئی، اس لیے ادا کرے گا تو ہو جائے گا بھئی۔ ”لأن الكراهة لمعنى في غيرها“ اس لیے کیونکہ کراہت جو ہے ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے، معنی کا کیا ترجمہ کریں یہاں؟ سبب۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ معنی کا لفظ سبب کے معنی میں ہماری پرانی کتابوں میں عام استعمال ہوتا ہے، سبب کہیں یا علت کہیں، علت کے معنی میں۔ یہ علت کا لفظ جو ہے ہمارے فقہاء اور بزرگ اس کو استعمال کرنا پسند نہیں کرتے تھے، وجہ یہ کہ یہ لفظ علت کا لفظ مناطقہ اور فلاسفہ زیادہ استعمال کرتے تھے۔ یہ زیادہ استعمال کرتے تھے تو ہمارے بزرگ اس لفظ کو پسند نہیں کرتے تھے بھئی، تو اس کے بجائے وہ معنی کا لفظ استعمال کرتے بھئی۔ لیکن پھر بعد میں آہستہ آہستہ اس کو بھی استعمال کرنے لگے، سمجھ میں آیا؟ بعد میں پھر آہستہ آہستہ علت کے لفظ کو بھی استعمال کرنے لگے لیکن ناپسند کرتے تھے بھئی۔ ”لأن الكراهة لمعنى في غيرها“ اس لیے کیونکہ کراہت جو ہے ایک ایسے علت کی وجہ سے ہے، ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے ”في غيرها“ جو اس عمرے کے علاوہ میں ہے، ”وَهُوَ كَوْنُهُ مَشْغُولًا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ بِأَدَاءِ بَقِيَّةِ أَعْمَالِ الْحَجِّ، فَيَجِبُ تَخْلِيصُ الْوَقْتِ لَهُ تَعْظِيمًا“ اور وہ اس شخص کا مشغول ہونا ہے ان دنوں کے اندر حج کے باقی اعمال کی ادائیگی کے اندر، تو واجب ہوا وقت کو خالص کرنا حج کے لیے تعظیماً، بطورِ تعظیم کے، ”وَعَلَيْهِ دَمٌ لِجَمْعِهِ بَيْنَهُمَا إِمَّا فِي الْإِحْرَامِ أَوْ فِي الْأَعْمَالِ الْبَاقِيَةِ“ اور اس شخص پر دم واجب ہے ان دونوں کو جمع کرنے کی وجہ سے، ”إما في الإحرام“ یا تو یہ جمع کرنا کس اعتبار سے ہے؟ احرام کے اندر ہے۔ اگر یہ حلق سے پہلے کروائے گا، حلق سے پہلے کروائے گا تو احرام کے اعتبار سے دونوں جمع ہو گئے، ابھی حج کا بھی احرام چل رہا تھا کہ کس کا احرام شروع ہو گیا؟ عمرے کا شروع ہو گیا۔ اور اگر یہ حلق کے بعد عمرے کا احرام باندھتا ہے تو بھی جمع کرنا پایا گیا، اب اگرچہ احرام کے اعتبار سے جمع کرنا نہیں کیونکہ حلق کروا لیا تو حج کا احرام ختم ہو گیا، اب صرف کس کا احرام ہے؟ عمرے کا، لیکن افعال کے اعتبار سے جمع کرنا ہے کیونکہ حج کے ابھی افعال باقی ہیں، رمی جمرات وغیرہ باقی ہیں اور ساتھ کس کے افعال بھی آ گئے؟ عمرے کے بھی، تو افعال کے اعتبار سے جمع کرنا ہے۔ تو قبل الحلق عمرے کا احرام باندھا ہے تو احرام کے اعتبار سے دونوں کا جمع کرنا، اور بعد الحلق عمرے کا احرام باندھا ہے تو افعال کے اعتبار سے دونوں کا جمع کرنا ہے، تو لہٰذا دم اس پر لازم ہوگا۔ یہ معنی ہے: ”وعليه دم لجمعه بينهما إما في الإحرام أو في الأعمال الباقية“ اور اس پر دم واجب ہے ان دونوں کو جمع کرنے کی وجہ سے، یا تو احرام میں ہے یعنی یہ جمع کرنا یا باقی اعمال کے اندر ہے۔ ”قَالُوا: وَهَذَا دَمُ كَفَّارَةٍ أَيْضًا“ فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ بھی دمِ کفارہ ہے، دمِ شکر نہیں بلکہ دمِ کفارہ ہے۔ کیونکہ دمِ کفارہ کیوں ہے؟ کیونکہ یہ عمرے کی بنیاد کس پر رکھ رہا ہے؟ حج پر، حالانکہ ہونا کیا چاہیے تھا؟ حج کی بنیاد عمرے پر ہوتی۔ ”وَقِيلَ: إِذَا حَلَقَ لِلْحَجِّ ثُمَّ أَحْرَمَ لَا يَرْفُضُهَا عَلَى ظَاهِرِ مَا ذُكِرَ فِي الْأَصْلِ، وَقِيلَ: يَرْفُضُهَا احْتِرَازًا عَنِ النَّهْيِ“ اور کہا گیا ہے کہ جب یہ حج کا حلق کروا لے پھر اس کے بعد احرام باندھے عمرے کا، ”لا يرفضها“ تو پھر اس کو نہ چھوڑے ”على ظاهر ما ذكر في الأصل“، بوجہ اس کے ظاہر کے جو ذکر کیا گیا ہے اصل یعنی مبسوط میں۔ مبسوط کے اندر جو ذکر کیا گیا ہے اس سے یہ اس کا ظاہر یہ ہے کہ جب حج کا حلق کروا لے تو اس کے بعد عمرے کا احرام باندھے تو پھر عمرے کو نہ چھوڑے، ”وقيل يرفضها“ اور کہا گیا ہے کہ پھر بھی اس کو چھوڑ دے۔ چاہے حج کا حلق کروا لیا ہے پھر بھی کیا کر دے؟ عمرے کو چھوڑ دے، ”احترازاً عن النهي“ نہی سے بچنے کے لیے، کس سے؟ کیونکہ ان پانچ ایام میں عمرہ کرنے سے منع کیا گیا ہے تو نہی سے بچنے کے لیے اس کو پھر بھی چھوڑ دے۔ ”قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو جَعْفَرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَشَايِخُنَا عَلَى هَذَا“ فقیہ ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے فقہاء اسی پر ہیں، ہمارے فقہاء اسی پر ہیں کہ حلق کے بعد بھی اگرچہ عمرے کا احرام باندھا ہو، پھر بھی کیا کرنا چاہیے؟ عمرے کو چھوڑ دینا چاہیے نہی سے بچنے کے لیے، کیونکہ ان ایام میں عمرے سے منع کیا گیا ہے بھئی۔ اور ابو جعفر رحمہ اللہ یہ بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں بھئی، بہت بڑے فقیہ، باسٹھ سال کی عمر میں کہتے ہیں ان کا انتقال ہوا تھا اور یہ 332 ہجری کے اندر بھئی، 332 ہجری میں۔ ”فَإِنْ فَاتَهُ الْحَجُّ ثُمَّ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ أَوْ بِحَجَّةٍ فَإِنَّهُ يَرْفُضُهَا“ ”فإن فاته الحج“، بھئی صورت یہ: ایک شخص نے حج کا احرام باندھا لیکن حج اس سے فوت ہو گیا، کیا معنی حج فوت ہو گیا؟ وقوفِ عرفات اس سے رہ گیا، وقوفِ عرفات۔ پھر اس نے عمرے کا یا حج کا احرام باندھ لیا، عمرے یا حج کا احرام باندھ لیا، تو لہٰذا یہ اس جو دوسرے عمرے یا دوسرے حج کا احرام جو اس نے باندھا ہے اس کو چھوڑ دے گا اور اس کو چھوڑنے کی وجہ سے اس پر دم واجب ہوگا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ حج کا احرام باندھا اور حج اس سے فوت ہو گیا، پھر اس نے کیا کیا؟ عمرے یا حج کا احرام باندھا، تو کیا کرے ان کو؟ چھوڑ دے، چھوڑ دے گا اور ان کو چھوڑنے کی وجہ سے اس پر دم واجب ہوگا۔ اب دونوں صورتیں الگ الگ ذکر کریں گے: عمرے کی صورت الگ، حج کی صورت الگ۔ پہلی صورت کیا؟ حج کا احرام باندھا تھا اور حج فوت ہو گیا اور اس نے اگلا احرام کون سا باندھ لیا؟ عمرے کا احرام باندھ لیا، تو پھر یہ عمرے کو چھوڑ دے گا۔ بھئی اس لیے کیونکہ جس شخص کا حج فوت ہو جائے وہ کیا کرتا ہے؟ وہ حج کی قضا بعد میں کرے گا اور اس وقت کیا کرے گا؟ حج تو فوت ہو گیا لیکن یہ حالتِ احرام میں ہے ابھی، ہاں یہ حلال ہونے کے لیے عمرہ کرے گا، طواف اور سعی کرے گا اور پھر کیا ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا۔ لہٰذا اس کا یہ احرام ہے تو حج ہی کا احرام، عمرے کا احرام نہیں بنے گا، یہ ہے تو کون سا احرام؟ حج ہی کا احرام ہے لیکن افعال اب کون سے کرنے ہیں اس نے؟ عمرے والے، تو یہ جب اگلے عمرے کا بھی احرام باندھ لے گا تو دو عمرے جمع ہو گئے باعتبار افعال کے، دو عمرے جمع ہو گئے باعتبار افعال کے۔ بھئی پہلا احرام کس کا ہے؟ حج کا ہے، اعمال بے شک اب اس نے عمرے والے کرنے ہیں لیکن احرام تو کون سا ہے؟ حج کا ہے، اور دوسرا احرام جو ہوگا وہ عمرے کا ہوگا، تو دونوں احرام تو عمرے کے نہیں یا دونوں احرام تو حج کے نہیں، تو دو عمرے یا دو حج کے احراموں کو تو یہ جمع کرنے والا نہیں۔ لیکن افعال اس نے اس حج کے احرام سے حلال ہونے کے لیے بھی کیا کرنے ہیں؟ عمرے، اور اگلے عمرے کا احرام ہے اس میں بھی افعال کون سے ہیں؟ عمرے کے، تو دو عمرے کے افعال جمع ہو گئے۔ تو کہتے ہیں یہ بھی اسی طرح ہو گیا جیسے دو عمروں کے احرام جمع کرنا کرنے میں ہوتا ہے اور جیسے وہ درست نہیں تو یہ بھی درست نہیں، لہٰذا اس عمرے کو وہ چھوڑ دے اور چھوڑنے کی وجہ سے اس پر دم لازم ہوگا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: ”فإن فاته الحج“ اگر اس شخص سے حج فوت ہو گیا ”ثم أحرم بعمرة أو بحجة“ پھر اس نے احرام باندھ لیا عمرے کا یا حج کا ”فإنه يرفضها“ تو یہ اس کو چھوڑ دے گا یعنی اس اگلا عمرہ یا حج جس کا احرام باندھا ہے اس کو چھوڑ دے گا، ”لِأَنَّ فَائِتَ الْحَجِّ يَتَحَلَّلُ بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقَلِبَ إِحْرَامُهُ إِحْرَامَ الْعُمْرَةِ عَلَى مَا يَأْتِيكَ فِي بَابِ الْفَوَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ اس لیے کیونکہ وہ شخص جس کا حج فوت ہو گیا ہو وہ حلال ہوتا ہے عمرے کے افعال کے ذریعے ”من غير أن ينقلب إحرامه إحرام العمرة“ بغیر اس کے کہ اس کا احرام پلٹ جائے عمرے کے احرام کی طرف، یعنی احرام تو حج والا ہی رہے گا، احرام تو عمرے کا نہیں بنے گا لیکن حلال کس سے ہوگا؟ عمرے کے افعال سے ہوگا۔ ”على ما يأتيك في باب الفوات إن شاء الله“ بوجہ اس کے جو باب الفوات کے اندر آگے آئے گا ان شاء اللہ اگر اللہ نے چاہا۔ ”فَيَصِيرُ جَامِعًا بَيْنَ الْعُمْرَتَيْنِ مِنْ حَيْثُ الْأَفْعَالُ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَرْفُضَهَا كَمَا لَوْ أَحْرَمَ بِعُمْرَتَيْنِ“ تو یہ شخص جمع کرنے والا ہوا دو عمروں کو افعال کے اعتبار سے، ”فعليه أن يرفضها“ تو اس پر واجب ہے کہ اس دوسرے عمرے کو چھوڑ دے ”كما لو أحرم بعمرتين“ جیسے کہ اس نے احرام باندھا ہو دو عمروں کا، تو اس میں جیسے ایک کو چھوڑنا واجب ہوتا ہے اس میں بھی ایک کو چھوڑ دے گا۔ ”وَإِنْ أَحْرَمَ بِحَجَّةٍ فَيَصِيرُ جَامِعًا بَيْنَ الْحَجَّتَيْنِ إِحْرَامًا فَعَلَيْهِ أَنْ يَرْفُضَهَا كَمَا لَوْ أَحْرَمَ بِحَجَّتَيْنِ، وَعَلَيْهِ قَضَاؤُهَا لِصِحَّةِ الشُّرُوعِ فِيهَا، وَدَمٌ لِرَفْضِهَا بِالتَّحَلُّلِ قَبْلَ أَوَانِهِ“ اور اگر اس نے دوسرا احرام کس کا باندھا ہے؟ حج کا، ”فيصير جامعاً بين الحجتين إحراماً“ تو یہ جمع کرنے والا ہوا دو حجوں کو باعتبار احرام کے۔ صورت کیا؟ وہی صورت: اس نے حج کا احرام باندھا تھا اور حج اس سے فوت ہو گیا اور اب یہ کس کے ذریعے حلال ہوگا؟ عمرے کے ذریعے، تو بے شک یہ عمرے کے ذریعے حلال ہو لیکن احرام تو کون سا ہے؟ حج ہی کا ہے، اور اگلے حج کا احرام باندھ لے گا تو اس شخص نے دو حج کے احرام کیا کر دیے؟ جمع کر دیے اور یہ تو بدعت ہے، لہٰذا ایک کو کیا کرے گا؟ چھوڑ دے گا، یہ جو دوسرا احرام باندھا ہے اس کو چھوڑ دے گا اور چھوڑنے کی وجہ سے اس پر دم لازم ہوگا۔ تو یہ معنی ہے: ”وإن أحرم بحجة“ اور اگر اس نے احرام باندھا حج کا ”فيصير جامعاً بين الحجتين إحراماً“ تو یہ جمع کرنے والا ہوا دو حجوں کو باعتبار احرام کے، ”فعليه أن يرفضها“ تو اس پر واجب ہے کہ اس دوسرے حج کو چھوڑ دے ”كما لو أحرم بحجتين“ جیسے کہ اس نے احرام باندھا ہو دو حجوں کا، تو اس میں جیسے ایک کو چھوڑنا واجب ہوتا ہے اس میں بھی ایک کو چھوڑ دے گا، ”وعليه قضاؤها“ اور اس پر اس کی قضا واجب ہے—یہ جو حج کو اس نے چھوڑ دیا اس کی قضا واجب ہے—”لصحة الشروع فيها“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر شروع ہونا صحیح تھا، ”ودم لرفضها“ اور اس پر دم واجب ہے اس حج کو چھوڑنے کی وجہ سے ”بالتحلل قبل أوانه“ بوجہ حلال ہونے کے اس کے وقت سے پہلے ہی، اپنے وقت سے پہلے ہی حلال ہونے کے وقت سے پہلے ہی حلال ہونے کی وجہ سے اس پر دم واجب ہوگا۔ یہ حلال ہونے کے وقت سے پہلے حلال، بھئی جب چھوڑ دے گا تو حلال ہو گیا یا نہیں اس سے؟ اس کو جب چھوڑ دے گا تو جب ایک ہی عمرہ کرے گا تو دوسرے کو چھوڑ دیا اس نے تو اس سے بھی حلال ہو گیا اور وقت سے پہلے حلال ہوا، لہٰذا اس پر دم لازم ہو گیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھیے بھئی، اس شخص پر اب دو حج ہوں گے، دو حج بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کیونکہ پہلا حج اس کا فوت ہو چکا ہے، اس کی بھی قضا اس کے ذمے ہے، اور دوسرے حج کا اس نے احرام کو اس نے شروع کر دیا تھا اور پھر اس کو چھوڑ دیا ہے تو اس کی بھی قضا اس پر تو ان دونوں کی قضا اس پر آئے گی بھئی، قضا آئے گی۔ ”بَابُ الْإِحْصَارِ“ یہ باب ہے احصار کے بیان میں۔ أَحْصَرَ يُحْصِرُ إِحْصَار کے معنی ہیں روکنے کے، قید کرنے کے، بند کرنے کے بھئی۔ روکنا، بند کرنا، قید کرنا۔ تو یہ باب ہے احصار کے بیان میں۔ مثلاً ایک شخص تھا اور اس نے حج یا عمرے کا احرام باندھا اور پھر بیماری یا دشمن کی وجہ سے جا نہ سکا، یا راستے میں ہی رکنا پڑا اس کو، تو یہ محصَر کہلاتا ہے، یہ شخص کیا کہلاتا ہے؟ محصَر، یعنی جس کو روکا گیا ہے۔ اور محصَر کے بارے میں اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”﴿فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾“ اگر تمہیں تم محصَر ہو جاؤ یعنی تمہیں روک دیا جائے تو جو تمہیں میسر ہو ہدی میں سے یعنی قربانی کے جانور میں سے۔ یعنی قربانی بھیج دے گا یہ وہ شخص اور پھر اس کے ذریعے حلال ہو جائے گا بھئی۔ صورت یاد رکھیے: اگر کوئی شخص محصَر ہو جاتا ہے یعنی حج کا یا عمرے کا احرام باندھ لیا اور پھر جا نہ سکا، جا نہ سکا، اب یہ حالتِ احرام میں ہے تو اب احرام کی پابندیاں اس پر رہیں گی، اور احرام کی پابندیاں لمبے عرصے تک رہیں گی، مثلاً حج ہے تو حج تو ایک دفعہ اب نکل گیا، اب اگلے سال آئے گا اور پورے سال احرام کی پابندیاں، یہ تو بڑا ہی مشکل کام ہو جائے گا تو شریعت نے آسانی کر دی کہ کیا کرو؟ ایک قربانی کا جانور حرم بھیج دو اور جس کے ہاتھ بھیجو اس سے وعدہ لے لو کہ فلاں دن کو تم نے اس کو ذبح کرنا ہے، سمجھ میں آیا؟ آج کل تو آسانی ہو گئی، فون وغیرہ کے ذریعے ہر وقت انسان کا رابطہ ہو سکتا ہے، پہلے تو رابطے کی کوئی صورت نہیں تھی اس لیے کیا کر لے؟ اس سے کسی معین دن کا وعدہ لے لے اور پھر اس دن یہ حلال ہو جائے، حلال ہو جائے بھئی، اور یاد رکھیے اس میں حلق یا قصر کی بھی پھر ضرورت نہیں ہوگی، سمجھ میں آیا؟ بس جب وہ جانور ادھر قربانی کر دے گا اس جانور کی، تو یہ شخص ادھر کیا ہو جائے؟ حلال ہو جائے، بس احرام کی پابندیاں ختم ہو گئیں بھئی، احرام کی پابندیاں۔ اور یہ بھی یاد رکھیے جانور ہی کو یہاں سے بھیجنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کی قیمت دے دے، جانور بھجوا دے یہاں سے یا اس کی قیمت دے دے کہ وہاں ایک جانور خرید کر ذبح کر دینا میری طرف سے بھئی، صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”باب الإحصار“ یہ باب ہے احصار کے بیان میں۔ ”وَإِذَا أُحْصِرَ الْمُحْرِمُ بِعَدُوٍّ أَوْ أَصَابَهُ مَرَضٌ فَمَنَعَهُ مِنَ الْمُضِيِّ جَازَ لَهُ التَّحَلُّلُ“ اور جب محصَر ہو گیا محرم ”بعدوٍّ“ کسی دشمن کی وجہ سے ”أو أصابه مرض“ یا اس کو کوئی مرض پہنچا یعنی وہ بیمار ہو گیا ”فمنعه من المضي“ تو اس مرض نے اس کو روک دیا جانے سے، چلنے سے، ”جاز له التحلل“ تو اس کے لیے جائز ہے حلال ہونا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَكُونُ الْإِحْصَارُ إِلَّا بِالْعَدُوِّ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احصار جو ہے وہ صرف دشمن کی وجہ سے ہو سکتا ہے، مرض کی وجہ سے نہیں۔ احصار صرف کس کی وجہ سے ہوگا؟ دشمن کی وجہ سے ہو سکتا ہے اور مرض کی وجہ سے نہیں۔ اور وہ دلیل ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں احصار کا جو حکم بیان ہوا قرآن کے اندر: ﴿فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾، یہ محصَر بعدوٍّ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، کیونکہ حضور علیہ السلام صلح حدیبیہ کے موقع پر عمرے کا احرام عمرے کا احرام باندھ کر تشریف لے گئے تھے اور وہاں مشرکینِ مکہ نے عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی، تو یہ محصَر ہوئے، اور کس کی وجہ سے محصَر ہوئے؟ دشمن کی وجہ سے محصَر ہوئے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا کہ محصَر جو ہے وہ صرف کس کی وجہ سے ہوگا؟ دشمن، یعنی احصار صرف دشمن کی وجہ سے ثابت ہوگا اور پھر اس صورت میں ہدی کا جانور بھیج کر حلال ہونا جائز ہے، بیماری کی وجہ سے احصار ثابت نہیں ہوگا لہٰذا بیماری کی صورت میں جانور بھیج کر کوئی حلال نہیں ہو سکتا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو ایک دلیل تو امام شافعی رحمہ اللہ کی یہ کہ یہ آیتِ احصار کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ دشمن کے ذریعے جو احصار تھا اس کے بارے میں نازل ہوئی، اور نیز وہ فرماتے ہیں وجہ یہ کہ ہدی کے ذریعے جو حلال ہونا ہے یہ صرف محصَر کے لیے جائز ہے یعنی جس کو جو دشمن کی وجہ سے جس کو روکا گیا ہے، جو رکا ہے۔ اس لیے کیونکہ جب یہ ہدی بھیج کر حلال ہو جائے گا تو دشمن سے نجات پا لے گا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ جب یہ ہدی بھیج کر حلال ہوگا تو دشمن سے نجات پا لے گا۔ مثلاً یہ حج کے لیے جا رہا تھا اور آگے کون آ گیا؟ دشمن، اب آگے جاتا ہے تو دشمن ہے سامنے، لہٰذا یہ ہدی بھیج کر یہیں حلال ہو جاتا ہے تو دشمن سے نجات مل گئی یا نہیں مل گئی؟ تو وہ فرماتے ہیں یہ ہدی کے ذریعے حلال ہونا کس لیے مشروع ہے تاکہ اس کے ذریعے نجات حاصل کر لے، لیکن اگر کوئی بیمار ہے اور بیماری کی وجہ سے آگے نہ جا سکا اور وہ قربانی کا جانور بھیج کر حلال ہوتا ہے، تو یہ قربانی کا جانور بھیج کر حلال ہونا تو کس لیے تھا تاکہ اس کے ذریعے نجات حاصل کر لے کس سے؟ دشمن سے، تو یہاں اب اگر وہ حلال ہوگا تو کیا بیماری سے نجات ملے گی؟ بیماری سے تو نجات پھر بھی نہیں ملے گی، تو یہ تو نجات کے لیے تھا یہ حلال ہونا اس طریقے پر، اور وہ صرف دشمن کی صورت میں تو نجات ملتی ہے، بیماری کی صورت میں بیماری سے نجات نہیں ملتی، لہٰذا اس شخص کے لیے جو بیمار ہے اس طریقے پر حلال ہونا جائز ہی نہیں، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وقال الشافعي رحمه الله لا يكون الإحصار إلا بالعدو“ کہ احصار جو ہے وہ نہیں ہوتا مگر دشمن کی وجہ سے ہی، ”لِأَنَّ التَّحَلُّلَ بِالْهَدْيِ شُرِعَ فِي حَقِّ الْمُحْصَرِ لِتَحْصِيلِ النَّجَاةِ، وَبِالْإِحْلَالِ يَنْجُو مِنَ الْعَدُوِّ لَا مِنَ الْمَرَضِ“ اس لیے کیونکہ ہدی کے ذریعے حلال ہونا ”شرع في حق المحصر“ جو یہ مشروع ہے کس کے حق میں؟ محصَر کے حق میں مشروع ہے، اس کے حق میں جائز ہے، کس لیے؟ ”لتحصيل النجاة“ نجات حاصل کرنے کے لیے، ”وبالإحلال ينجو من العدو“ اور حلال ہونے کے ذریعے یہ کیا کر لے گا؟ دشمن سے تو نجات حاصل کر لے گا، ”لا من المرض“ مرض سے نجات حاصل نہیں کرے گا اور یہ تو تھا ہی کس لیے؟ نجات حاصل کرنے کے لیے، لہٰذا دشمن کے معاملے میں تو یہ جائز ہے اس طرح حلال ہونا، مرض کے معاملے میں اس طرح حلال ہونا جائز نہیں۔ ”وَلَنَا: أَنَّ آيَةَ الْإِحْصَارِ وَرَدَتْ فِي الْإِحْصَارِ بِالْمَرَضِ بِإِجْمَاعِ أَهْلِ اللُّغَةِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ آیت کے اندر آیا: ”فإن أُحصرتم“، یعنی یہ بابِ احصار ہے، بابِ افعال بھئی، ثلاثی مزید فیہ۔ اور اسی طرح یاد رکھیے ایک ہے حصر بھئی، حَصَرَ يَحْصُرُ حَصْرًا، ثلاثی مجرد سے، حصر کا معنی بھی روکنا، احصار کا معنی بھی روکنا۔ تو حَصَرَ يَحْصُرُ حَصْرًا یہ استعمال ہوتا ہے جب کسی کو کوئی دشمن روکے، تو اس کے لیے کیا لفظ عربی میں استعمال ہوتا ہے؟ حصر حصر کا لفظ استعمال ہوتا ہے، سمجھ میں آیا؟ چنانچہ دشمن کی وجہ سے دشمن اگر کسی کو قید کر دے یا روک دے تو عربی میں کہتے ہیں: ”حصره العدو“، اس کو دشمن نے روک دیا، ”حصره العدو“، یا اسی طرح اگر کوئی دشمن کی وجہ سے قید میں ہے تو کہتے ہیں: ”هو محصور بالعدو“، وہ محصور ہے کس کی وجہ سے؟ دشمن کی وجہ سے، تو دیکھو محصور اور حصر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے عربی زبان میں کس کے لیے؟ جب یہ روکنے والا کون ہو؟ دشمن ہو بھئی، دشمن ہو۔ کیا لفظ استعمال کرتے ہیں؟ محصور، اور محصور مفعول یہ کس باب سے ہے؟ ثلاثی مجرد سے ہے، ثلاثی مزید فیہ سے نہیں ہے یہ، تو یہ اسی حصر سے ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو معلوم ہوا دشمن کے روکنے کے لیے کیا لفظ عربی میں استعمال ہوتا ہے؟ محصور کا، اور باب کون سا؟ حصر یعنی ثلاثی مجرد والا۔ اور قرآن میں جو آیا ہے وہ ہے احصار، اور احصار کا لفظ عربی زبان میں مرض کی وجہ سے اگر کسی کو روکا جائے جو شخص روکا جائے اس کو اس کے لیے احصار کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مرض کسی شخص کو کسی کام سے روک دے تو اس کے لیے محصَر کا لفظ استعمال کرتے ہیں، محصور کا لفظ استعمال نہیں کرتے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہم کہتے ہیں کہ دشمن کے روکے جانے کے لیے حصر کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور مرض کے روکے جانے کے لیے احصار کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اور قرآن کے اندر احصار کا لفظ ذکر ہے، احصار کا لفظ۔ تو یہ آیت اگرچہ نازل ہوئی ہے دشمن سے روکے جانے والوں کے بارے میں—یعنی حضور علیہ السلام کو کس نے روکا تھا؟ دشمن نے—اگرچہ نازل تو ان کے بارے میں ہوئی ہے، لیکن آیت کے اندر احصار کا لفظ استعمال کر کے بتلا دیا گیا کہ مرض کی حالت میں بھی یہی حکم ہے، مرض کی حالت میں بھی یہی حکم ہے۔ تو آیت کا شانِ نزول بتلاتا ہے کہ دشمن کے معاملے میں بھی احصار ہوگا، اور آیت کے لفظ بتلاتے ہیں کہ مرض کی صورت میں بھی احصار ہوگا اور دونوں کے اندر پھر ”فما استيسر من الهدي“ ہدی میں سے جو میسر ہو اس کے ذریعے انسان حلال ہوگا، تقریر سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ”ولنا“ اور ہماری دلیل یہ ہے: ”أن آية الإحصار وردت في الإحصار بالمرض بإجماع أهل اللغة“ کہ آیتِ احصار جو ہے وہ نازل ہوئی ہے احصار بالمرض کے بارے میں ”بإجماع أهل اللغة“ اہلِ لغت کے اجماع سے، تمام اہلِ لغت کہتے ہیں کہ بھئی یہ احصار کا لفظ مرض کے لیے استعمال ہوتا ہے دشمن کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ ”فَإِنَّهُمْ قَالُوا: الْإِحْصَارُ بِالْمَرَضِ وَالْحَصْرُ بِالْعَدُوِّ“ کیونکہ اہلِ لغت جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ احصار جو ہے وہ مرض کی وجہ سے ہوگا اور حصر جو ہے وہ دشمن کی وجہ سے ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں پر نازل تو کس کے بارے میں ہوئی تھی؟ دشمن کے بارے میں، تو لہٰذا معلوم ہوا اس صورت میں بھی ہدی بھیج کر حلال ہو سکتا ہے وہی تو حکم بیان ہو رہا ہے، لیکن لفظ لا کر اشارہ اس بات کی طرف کر دیا گیا، احصار کا لفظ لا کر اشارہ اس بات کی طرف کر دیا گیا کہ مرض کے معاملے میں بھی یہی حکم ہے بھئی۔ ”وَالتَّحَلُّلُ قَبْلَ أَوَانِهِ لِدَفْعِ الْحَرَجِ الْآتِي مِنْ قِبَلِ امْتِدَادِ الْإِحْرَامِ“ اور حلال ہونا—امام شافعی رحمہ اللہ نے تو کیا فرمایا تھا؟ یہ حلال ہونا کس لیے ہے تاکہ نجات مل جائے، اور دشمن سے تو نجات ملے گی لیکن مرض سے نجات نہیں ملے گی اس لیے اس طرح حلال ہونا جائز نہیں—ہم کہتے ہیں: ”والتحلل قبل أوانه“ یہ حلال ہونا جو ہے حلال ہونے کے وقت سے پہلے ہی، ”لدفع الحرج الآتي“ اس حرج کو دور کرنے کے لیے ہے جو حرج آ رہا ہے ”من قبل امتداد الإحرام“ جو احرام کے لمبا ہونے کی جانب سے آ رہا ہے۔ اگر حلال نہیں ہوگا پھر تو احرام بڑا لمبا ہو جائے گا، تو یہ احرام کے لمبا ہونے کی جانب سے جو حرج آ رہا ہے اس کو دور کرنے کے لیے یہ حلال ہونا ہے، ”وَالْحَرَجُ فِي الِاصْطِبَارِ عَلَيْهِ مَعَ الْمَرَضِ أَعْظَمُ“ اور حرج جو ہے ”في الاصطبار“، اصطبار بمعنی صبر کے، ”عليه“ ای علی الإحرام، اور احرام پر صبر کرنے میں جو حرج ہے ”مع المرض“ کس کے ساتھ؟ مرض کے ساتھ، مرض کے ساتھ ساتھ احرام پر صبر کرنا اس میں جو حرج ہے ”أعظم“ وہ زیادہ بڑا ہے۔ ایک احرام پر صبر کرتا ہے انسان دشمن کی وجہ سے، مثلاً آگے دشمن آ گیا وہ آگے نہیں جا سکتا، اب اگر ابھی حلال نہیں ہوگا تو احرام لمبا ہوگا، احرام لمبا ہوگا، لیکن اس وقت صرف احرام کے لمبا ہونے کی کی مشقت ہے اور کوئی مشقت نہیں۔ لیکن اگر مرض ہوگا تو پھر تو احرام کی بھی مشقت اور مرض کی بھی تکلیف ہے، تو اس میں زیادہ تکلیف اور مشقت ہے، لہٰذا دشمن کے معاملے میں اس طرح حلال ہونے کی شریعت نے اجازت دی ہے، تو مرض کے معاملے میں بطریقِ اولیٰ اس کی اجازت ہوگی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ اب ترجمہ دیکھیے بھئی: ”والتحلل قبل أوانه لدفع الحرج الآتي من قبل امتداد الإحرام“ اس لیے کیونکہ حلال ہونا حلال ہونے کے وقت سے پہلے ہی، وہ اس حرج کو دور کرنے کے لیے ہے جو آ رہا ہے احرام کے لمبا ہونے کی جانب سے، ”والحرج في الاصطبار عليه مع المرض أعظم“ اور حرج جو ہے احرام پر صبر کرنے میں مرض کے ساتھ، یہ زیادہ بڑا ہے یعنی اس میں مشقت زیادہ ہے، مشکل زیادہ ہے۔ ”وَإِذَا جَازَ لَهُ التَّحَلُّلُ يُقَالُ لَهُ: ابْعَثْ شَاةً تُذْبَحُ فِي الْحَرَمِ، وَوَاعِدْ مَنْ تَبْعَثُهُ بِيَوْمٍ بِعَيْنِهِ يُذْبَحُ فِيهِ ثُمَّ تَحَلَّلْ“ اور جب اس شخص کے لیے حلال ہونا جائز ہے، جو محصَر بالعدو ہے یا محصَر بالمرض ہے، جب اس کے لیے حلال ہونا جائز ہے تو ”يقال له“ تو اس سے کہا جائے گا یعنی اس محصَر سے کہا جائے گا: ”ابعث شاة“ کہ تم ایک بھیڑ بکری بھیج دو ”تذبح في الحرم“ ایسی بھیڑ بکری جس کو حرم میں ذبح کیا جائے، ”وواعد“ اور تم وعدہ لے لو ”من تبعثه“ اس شخص سے جس کو آپ بھیجیں ”بيوم بعينه“ کسی معین دن کا ”يذبح فيه“ کہ جس میں اس بھیڑ بکری کو ذبح کیا جائے گا اس سے معین دن کا وعدہ لے لو، ”ثم تحلل“ پھر اس دن میں حلال ہو جاؤ۔ ”وَإِنَّمَا يُبْعَثُ إِلَى الْحَرَمِ لِأَنَّ دَمَ الْإِحْصَارِ قُرْبَةٌ، وَالْإِرَاقَةُ لَمْ تُعْرَفْ قُرْبَةً إِلَّا فِي زَمَانٍ أَوْ مَكَانٍ عَلَى مَا مَرَّ، فَلَا يَقَعُ قُرْبَةً دُونَهُ فَلَا يَقَعُ بِهِ التَّحَلُّلُ“ بھئی یہ ہدی کو حرم ہی کیوں بھیجا جائے گا؟ یہاں کیوں نہیں ذبح کر لیا جاتا؟ تو وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وإنما يبعث إلى الحرم“ اس ہدی کو بھیجا جائے گا حرم، ”لأن دم الإحصار قربة“ اس لیے کیونکہ یہ جو احصار کا دم ہے یہ قربت ہے یہ عبادت ہے، ”والإراقة لم تعرف قربة إلا في زمان أو مكان على ما مر“ اور خون کا بہانا اس کو تو عبادت نہیں جانا گیا مگر کسی زمانے میں یا کسی جگہ میں، بوجہ اس کے جو گزر گئی، یہ دو تین جگہ پیچھے ذکر ہو چکا بھئی۔ ”فلا يقع قربة دونه“ لہٰذا یہ اس کے بغیر عبادت نہیں ہوگی، ”فلا يقع به التحلل“ تو اس سے حلال ہونا بھی واقع نہیں ہوگا یعنی اس کی وجہ سے حلال بھی نہیں ہوگا اگر کہیں اور کروا دیتا ہے۔ بھئی یہ جو دمِ احصار ہے نا یہ عبادت ہے، اور قربانی میں کیا کیا جاتا ہے؟ جانور کا خون بہایا جاتا ہے، تو یہ خون کا بہانا عبادت ہے، اور خون کا بہانا اس کا عبادت ہونا ہماری عقل میں نہیں آتا، تو یہ ایک غیر معقول ہے، عبادت ہے لیکن غیر معقول ہے عقل میں آنے والی نہیں۔ اور جو چیز غیر معقول ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، لہٰذا وہ یہ بھی اپنے مورد پر بند رہے گی اور خون کا بہانا یا تو وہ کسی زمانے کے اندر عبادت ہے یا کسی جگہ میں یعنی حرم کے اندر، اور ہر جگہ پر خون کا بہا دینا، جانور کا ذبح کر دینا یہ عبادت نہیں۔ اس کا گوشت صدقہ کرتا ہے وہ صدقہ تو ٹھیک ہے عبادت ہوگا لیکن بات صدقے کی نہیں چل رہی، بات کس کی چل رہی ہے؟ خون بہانے کی یعنی صرف ذبح کرنے کی، تو یہ ذبح کرنا بھی عبادت ہے لیکن اس کے لیے کوئی خاص زمانہ چاہیے جیسے عید کے ایام ہوتے ہیں یا خاص جگہ چاہیے جیسے کہ حرم ہے۔ اور اس کے لیے کوئی خاص زمانہ تو مقرر نہیں، جب زمانہ نہیں مقرر تو پھر لازمی بات ہے اس کے لیے جگہ متعین ہوگی اور وہ حرم ہے، لہٰذا اس کو حرم بھیجنا پڑے گا۔ تو اگر نہیں بھیجے گا تو پھر قربانی نہیں ہوگی اور حلال نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”فلا يقع قربة دونه“ تو یہ دم جو ہے قربت واقع نہیں ہوگا دونہ حرم کے بغیر، جب قربت نہیں ہوگا ”فلا يقع به التحلل“ تو اس کے لیے حلال ہونا بھی واقع نہیں ہوگا۔ ”وَإِلَيْهِ الْإِشَارَةُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾“ اور اسی کی طرف اشارہ ہے اللہ کے اس قول میں: اور تم حلق نہ کرواؤ اپنے سروں کا یہاں تک کہ پہنچ جائے قربانی کا جانور اپنی جگہ کو۔ تم حلق نہ کرواؤ اپنے سروں کا یہاں تک کہ قربانی کا جانور اپنی جگہ کو پہنچ جائے بھئی، تو دیکھیے اس میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ قربانی جو ہے یہ کیا ہے؟ دمِ احصار، یہ قربت ہے، عبادت ہے بھئی، عبادت ہے، اور نیز اس کے اندر کیا آ رہا ہے؟ یہاں تک کہ وہ قربانی کا جانور اپنی جگہ کو یعنی حرم کو پہنچ جائے۔ ”فَإِنَّ الْهَدْيَ اسْمٌ لِمَا يُهْدَى إِلَى الْحَرَمِ“ کیونکہ بے شک ہدی جو ہے وہ نام ہے اس جانور کا جس کو قربانی کے لیے حرم بھیجا جائے، اور آیت میں کیا لفظ آیا؟ ہدی کا لفظ آیا، تو معلوم ہوا اس کو بھی حرم بھیجا جائے گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَتَوَقَّتُ بِهِ لِأَنَّهُ شُرِعَ رُخْصَةً، وَالتَّوْقِيتُ يُبْطِلُ التَّخْفِيفَ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، حرم کے ساتھ یہ ہدی مقید نہیں، اس قربانی کے جانور کو حرم بھیجنا ضروری نہیں بلکہ جہاں کہیں بھی ذبح کروا دے تو اس سے وہ حلال ہو جائے گا، حلال ہو جائے گا۔ تو یہ حرم کے ساتھ مقید نہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو دم مشروع ہوا یہ کس لیے ہے؟ یہ بطورِ رخصت کے ہے، آسانی کے لیے ہے کہ یہیں پر کیا ہو جائے؟ جانور ذبح کر کے حلال۔ تو یہ رخصت کے طور پر ہے یہ قربانی کا جانور جو اس پر واجب ہوا ہے، اور اگر اس پر یہ لازم کر دیا جائے کہ یہ جانور کہاں ذبح کروانا پڑے گا؟ حرم میں، تو پھر تو یہ مشکل میں پڑ جائے گا، حالانکہ یہ دم واجب کیا گیا ہے یہ کس لیے ہے؟ رخصت اور آسانی کے لیے ہے بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وقال الشافعي رحمه الله لا يتوقت به“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دم جو ہے حرم کے ساتھ مقید نہیں ہوگا، ”لأنه شرع رخصة“ اس لیے کیونکہ یہ مشروع ہوا ہے بطورِ رخصت کے، ”والتوقيت يبطل التخفيف“ اور مقید کرنا یعنی حرم کی قید لگانا یہ تو تخفیف یعنی آسانی کو باطل کر دیتا ہے۔ ”قُلْنَا: الْمُرَاعَى أَصْلُ التَّخْفِيفِ لَا نِهَايَتُهُ“ ہم کہتے ہیں کہ وہ جس کی رعایت رکھی گئی ہے وہ اصلِ تخفیف ہے نہ کہ انتہائے تخفیف بھئی، ”نهايته“ ای نهایة التخفیف، یہ ضمیر تخفیف کو راجع ہے۔ ہم کہتے ہیں ایک ہے نفسِ تخفیف اور ایک ہے کامل تخفیف۔ کامل تخفیف تو یہ ہے، کامل آسانی تو یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی اس جانور کی قربانی کر دے اور پھر کیا ہو جائے؟ حلال ہو جائے۔ اور نفسِ تخفیف کس کے اندر ہے کہ قربانی حرم بھیج کر حلال ہو جائے۔ بھئی اگر قربانی حرم بھیج کر بھی حلال نہ ہو سکتا پھر تو احرام بڑا لمبا ہو جاتا، مشکل میں پڑ جاتا یا نہ پڑ جاتا؟ تو حرم بھیج کر بھی قربانی کروائے گا اور پھر حلال ہو جائے گا تو نفسِ آسانی آ گئی یا نہیں آ گئی؟ نفسِ آسانی آ گئی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہاں نفسِ آسانی جو ہے وہ اس کی رعایت رکھی گئی ہے، کامل درجے کی آسانی کی رعایت ملحوظ نہیں ہے یہاں پر، بلکہ کون سی؟ چاہے حرم میں قربانی کروائے اور حلال ہو جائے، پھر بھی نفسِ آسانی آ گئی۔ ”قلنا“ ہم کہتے ہیں: ”المراعى أصل التخفيف لا نهايته“ کہ وہ جس کی رعایت رکھی گئی ہے وہ اصلِ تخفیف ہے، ”لا نهايته“ نہ کہ نہ کہ کامل تخفیف بھئی، یعنی اصلِ تخفیف کی رعایت رکھی گئی ہے تخفیف کی انتہا کی رعایت نہیں رکھی گئی بھئی۔ چلیے بس بھئی، ”هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام“۔
16 approved lectures · 15 of 16