Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-153

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 12 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 7
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”فَإِنْ أَخَذَ مِنْ شَارِبِ حَلَالٍ أَوْ قَلَمَ أَظَافِيرَهُ أَطْعَمَ مَا شَاءَ، وَالْوَجْهُ فِيهِمَا بَيَّنَّاهُ، وَلَا يَعْرَى عَنْ نَوْعِ ارْتِفَاقٍ لِأَنَّهُ يَتَأَذَّى بِتَفَثِ غَيْرِهِ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ التَّأَذِّي بِتَفَثِ نَفْسِهِ فَيَلْزَمُهُ الطَّعَامُ، وَإِنْ قَصَّ أَظَافِيرَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَعَلَيْهِ دَمٌ“ باب الجنایات ہم پڑھ رہے ہیں کہ حالتِ احرام میں مختلف قسم کی جو جنایتیں ہو جائیں تو اس صورت میں کیا کفارہ آئے گا۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ اگر ایک محرم جو ہے وہ دوسرے محرم کا حلق کر دے—یعنی استرے سے اس کے بال صاف کر دے—تو اس صورت میں حلق کرنے والے پر صدقہ آئے گا اور محلوق یعنی جس کا حلق کیا گیا اس پر دم واجب ہوگا، اس لیے کیونکہ اس نے راحت حاصل کر لی۔ کیا حاصل کر لی؟ راحت حاصل کر لی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکراہ کی صورت میں مکمَرَہ جو ہے نہ اس کا دنیاوی مؤاخذہ ہے نہ اخروی مؤاخذہ ہے۔ دنیاوی مؤاخذہ نہیں لہٰذا دنیاوی سزا اس پر نہیں آئے گی، کس پر؟ مکمَرَہ جس پر زبردستی کی گئی۔ تو اس پر دم وغیرہ نہیں آئے گا، اور اخروی مؤاخذہ بھی نہیں یعنی گناہ بھی اس کو نہیں ہوتا۔ اور نیند تو اس سے بڑھ کر ہے، اکراہ سے بھی بڑھ کر۔ تو جب مکمَرَہ کا مؤاخذہ نہیں تو جو سویا ہوا شخص ہے اس کا بطریقِ اولیٰ مؤاخذہ نہیں ہوگا بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک اس شخص کا یہ جس یہ جو مکمَرَہ ہے، اس نے زینت حاصل کر لی، راحت حاصل کر لی، تو سبب پایا گیا لہٰذا اس پر دم واجب ہوگا بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جو مجبور شخص ہے، مجبور یعنی کسی بیماری وغیرہ کسی عذر کی وجہ سے اس کو اپنے سر کا حلق کروانا پڑا دورانِ احرام، تو اس کو اختیار ہے چاہے تو وہ ایک قربانی کر دے، چاہے تو چھ مسکینوں کو ان پر تین صاع جو ہے گندم صدقہ کر دے اور چاہے تو تین روزے رکھ لے۔ تو یہ جو مجبور ہے جس کا عذر ہے اس کو اختیار ہے کیونکہ یہاں پر آفت آسمانی ہے، یعنی یہ تکلیف اس پر اللہ کی جانب سے آئی ہے، اس میں بندوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔ جبکہ یہاں پر جو تکلیف آئی ہے اور آفت آئی ہے وہ بندوں کی طرف سے آئی ہے، لہٰذا اس کا حکم اس کی طرح نہیں ہوگا، اس میں اختیار نہیں ہوگا بلکہ یہاں کیا آئے گا؟ دم آئے گا ہر حال کے اندر بھئی، دم آئے گا۔ تو اب آگے آپ کو مسئلہ بتلا رہے ہیں: ”فَإِنْ أَخَذَ مِنْ شَارِبِ حَلَالٍ أَوْ قَلَمَ أَظَافِيرَهُ أَطْعَمَ مَا شَاءَ“ اگر محرم نے کاٹ لیں کسی حلال شخص کی مونچھیں بھائی—حلال تھا یعنی غیر محرم تھا اس کی مونچھیں، اس کی مونچھوں کو کتر لیا کاٹ لیا، کس نے کاٹا؟ محرم نے۔ ”أَوْ قَلَمَ أَظَافِيرَهُ“ اس کو چاہے ”قَلَمَ“ پڑھیں چاہے ”قَلَّمَ“ پڑھیں، دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے بھئی۔ لیکن زیادہ مناسب ”قَلَمَ“ پڑھا جائے۔ ”قَلَمَ“ کے معنی کاٹنے کے، کاٹنے کے۔ اور ”قَلَّمَ“ اسی کے اندر مبالغہ ہے، اسی کے اندر مبالغہ ہے یعنی خوب کاٹنا۔ تو مناسب یہ ہے اس کو مجرد سے پڑھیں: ”قَلَمَ“ بھئی۔ تو اگر محرم نے کسی حلال شخص کی مونچھیں کاٹیں، ”أو قلم أظافيره“ یا اس حلال شخص کے ناخنوں کو کاٹا—کس نے کاٹا؟ محرم نے—”أَطْعَمَ مَا شَاءَ“ تو وہ کھلائے جو وہ چاہے، یعنی جو جس قدر جی چاہے وہ کیا کر دے؟ کچھ یعنی کچھ صدقہ کر دے، کیا کر دے؟ کچھ صدقہ کر دے بھئی، صدقہ کر دے۔ ”وَالْوَجْهُ فِيهِمَا بَيَّنَّاهُ“ اور وجہ اس کے اندر وہ ہے جو ہم نے بیان کر دی۔ کیا وجہ ہے؟ کیونکہ محرم نے بالوں کو یا ناخنوں کو کاٹا ہے اور یہ بدنِ انسانی میں سے وہ چیزیں ہیں جو بڑھنے والی ہیں، جو بڑھنے والی ہیں۔ اور ان کو تو امان حاصل تھا، جس طرح حرم کے گھاس اور پودے جو ہیں ان کو امان حاصل ہوتا ہے ان کو کاٹنا درست نہیں، تو یہ ان چیزوں کو بھی امان حاصل تھا تو چونکہ اس نے ان کا امان ختم کیا ہے ان کو کاٹا ہے، لہٰذا اس یہ کیا کر دے؟ کوئی کچھ صدقہ کر دے۔ ”وَلَا يَعْرَى عَنْ نَوْعِ ارْتِفَاقٍ“ اور نیز یہ ایک قسم کے نفع سے خالی بھی نہیں، اس میں بھی اس نے کچھ نہ کچھ فائدہ اور راحت حاصل کر لی۔ محرم نے کس کے بال یا ناخن کاٹے؟ حلال کے۔ لیکن اگرچہ بال یا ناخن دوسرے کے کاٹے ہیں لیکن کاٹنے والے نے بھی ایک قسم کا نفع ایک قسم کی راحت حاصل کر لی۔ اور وہ میں نے گزشتہ سبق میں بیان کیا تھا، کیا راحت حاصل کی؟ کہ دوسرے کے بال وغیرہ اگر وہ بری حالت میں ہو دوسرا، تو اس ساتھی کو اور دیکھنے والے کو بھی اس سے کیا ہوتی ہے؟ تکلیف ہوتی ہے۔ تو لہٰذا جب ساتھی کی پراگندگی دور ہو گئی، اس کا میل کچیل دور ہوا، تو دوسرے نے کیا حاصل کر لی؟ راحت حاصل۔ اگرچہ یہ راحت کم درجے کی ہے، اپنی پراگندگی دور ہوگی تو راحت کامل درجے کی ہے، دوسرے کی پراگندگی دور ہوئی اس میں بھی راحت حاصل ہوئی اگرچہ کم درجے کی، اور جب کم درجے کی راحت حاصل کی ہے تو لہٰذا اس لیے دم تو واجب نہیں ہوگا البتہ کچھ نہ کچھ کیا کر دے؟ صدقہ کر دے۔ یہ معنی ہے: ”ولا يعرى عن نوع ارتفاق“ اور یہ بھی خالی نہیں ہے ایک قسم کے نفع سے، ”لِأَنَّهُ يَتَأَذَّى بِتَفَثِ غَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ محرم جو ہے یہ بھی تکلیف اٹھاتا ہے دوسرے کے میل کچیل سے، ”وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ التَّأَذِّي بِتَفَثِ نَفْسِهِ“ اگرچہ یہ تکلیف جو ہے کم ہے ”من التأذي بتفث نفسه“ اپنے ذاتی میل کچیل کی تکلیف سے۔ اگرچہ ہاں اپنا میل کچیل ہے اس سے انسان زیادہ تکلیف میں ہوتا ہے بنسبت دوسرے کے میل کچیل سے، تو بہرحال تو کچھ اس نے راحت حاصل کر لی۔ ”فَيَلْزَمُهُ الطَّعَامُ“ تو اس پر طعام لازم ہوگا بھئی، یعنی کچھ گندم جو ہے وہ صدقہ کر دے۔ ”وَإِنْ قَصَّ أَظَافِيرَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَعَلَيْهِ دَمٌ“ اور اگر محرم نے کاٹے اپنے دونوں ہاتھوں کے ناخن اور دونوں پاؤں کے، تو اس پر دم واجب ہے۔ محرم نے کیا کیا؟ اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے ناخن کاٹ دیے، ”فعليه دم“ تو اس پر دم واجب ہے۔ ”لِأَنَّهُ مِنَ الْمَحْظُورَاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ ممنوعہ چیزوں میں سے ہے یعنی احرام کے اندر اس سے منع کیا گیا ہے، ”لِمَا فِيهِ مِنْ قَضَاءِ التَّفَثِ وَإِزَالَةِ مَا يَنْمُو مِنَ الْبَدَنِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر میل کچیل کو دور کرنا ہے اور اس کے اندر دور کر کرنا ہے اس چیز کو جو بڑھنے والی ہے انسانی بدن میں سے۔ ”فَإِذَا قَلَمَهَا كُلَّهَا فَهُوَ ارْتِفَاقٌ كَامِلٌ فَيَلْزَمُهُ الدَّمُ“ تو جب اس نے ان ساروں کو کاٹ دیا—سارے ناخن ہیں نا دونوں ہاتھوں کے بھی اور دونوں پاؤں کے—تو جب اس نے ان سب کو کاٹ لیا ”فهو ارتفاق كامل“ تو یہ کامل نفع اٹھانا ہے، ”فيلزمه الدم“ تو اس پر دم لازم ہوگا۔ ”وَلَا يُزَادُ عَلَى دَمٍ إِنْ حَصَلَ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ“ بھئی آگے آپ کو بتلائیں گے کہ ایک ہاتھ کے ناخن کاٹ لے تو بھی دم واجب ہے، یا صرف ایک پاؤں کے ناخن سارے یعنی پانچوں ناخن ایک پاؤں کے یا پانچوں ناخن ایک ہاتھ کے کاٹ دیے تو کیا لازم ہوگا؟ دم۔ تو یہاں جب اس نے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے ناخن کاٹے ہیں، تو ایک ہاتھ میں دم تھا دوسرے میں بھی کیا آنا چاہیے؟ دم، ایک پاؤں میں دم تھا دوسرے میں بھی کیا آنا چاہیے؟ دم آنا چاہیے، تو کل کتنے دم اس پر ہونے چاہییں؟ چار دم واجب ہونے چاہییں۔ لیکن یہ چونکہ جنایت ایک ہی جنس کی ہے، ایک ہی قسم کی ہیں، اور ایک ہی قسم کی جنایتیں ہوں تو ان میں تداخل ہوتا ہے بشرطیکہ ایک ہی مجلس کے اندر ہوں، کس کے اندر؟ ایک ہی مجلس کے اندر۔ لہٰذا اگر اس نے یہ دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کے ناخن ایک ہی مجلس میں کاٹے ہیں تو ان میں تداخل ہوگا کفارے کے اندر، تداخل ہوگا اور ایک ہی دم واجب ہوگا، جیسے ایک ہی مجلس کے اندر جتنی مرتبہ بھی آیتِ سجدہ کو پڑھا جائے ایک ہی سجدہ واجب ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس نے یہ ناخن جو کاٹے مختلف مجلسوں میں ہے، یعنی ایک مجلس میں ایک ہاتھ کے ناخن کاٹے، دوسری مجلس میں دوسرے ہاتھ کے ناخن کاٹے، تیسری مجلس میں ایک پاؤں کے اور چوتھی مجلس میں دوسرے پاؤں کے، تو یاد رکھیے اس صورت میں چار دم اس پر آئیں گے کیونکہ مجلسیں مختلف ہو گئیں لہٰذا اب تداخل کی بھی صورت نہ ہو ممکن نہ رہی، تو کتنے دم آئیں گے؟ چار آئیں گے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں ہر صورت میں ایک ہی دم آئے گا، وہ اتحادِ مجلس کا بھی اعتبار نہیں کرتے بلکہ فرماتے ہیں جب ایک نوع کی ہیں تو ان میں تداخل ہوگا، چاہے مجلس ایک ہو چاہے مجلس ایک نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ولا يزاد على دم إن حصل في مجلس واحد“ اور بڑھایا نہیں جائے گا ایک دم پر یعنی کفارے کو ایک دم پر زائد نہیں کیا جائے گا اگر یہ حاصل ہوا ہے ایک ہی مجلس میں، ”لِأَنَّ الْجِنَايَةَ مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ“ اس لیے کیونکہ جنایت جو ہے ایک ہی قسم کی ہے۔ ”فَإِنْ كَانَ فِي مَجَالِسَ فَكَذَلِكَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو اگر یہ کئی مجلسوں میں ہوا تو بھی حکم اسی طرح ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یعنی ایک ہی دم آئے گا، ”لِأَنَّ مَبْنَاهَا عَلَى التَّدَاخُلِ“ اس لیے کیونکہ اس کی بنیاد تداخل پر ہے، کس پر ہے؟ تداخل پر ہے، یعنی جب ایک ہی جنس کی جنایتیں ہوں تو ان میں کیا ہوتا ہے؟ تداخل ہوتا ہے۔ ”فَأَشْبَهَ كَفَّارَةَ الْفِطْرِ“ تو یہ مشابہ ہو گیا کفارۂ فطر کے۔ کس سے مشابہ ہوا؟ کفارۂ فطر کے مشابہ ہو گیا، اور کفارۂ فطر کے اندر جیسے تداخل آتا ہے یہاں بھی تداخل آئے گا۔ کفارۂ فطر کیا؟ فطر روزہ توڑنا، کفارۂ فطر ایک شخص جان بوجھ کر روزہ توڑ دیتا ہے تو کیا کفارہ آئے گا؟ ایک غلام یا باندی آزاد کرنا پڑے گی۔ اگر وہ میسر نہ ہو یا اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے، اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ اب ایک شخص نے ایک ہی رمضان کے کئی روزے توڑ دیے تو ان کے اندر تداخل آئے گا اور اس پر ایک ہی کفارہ واجب ہوگا، ایک ہی کفارہ، تو کفارات میں کیا آئے گا؟ تداخل آئے گا۔ لیکن یہ ضروری ہے اس میں کہ اس نے ابھی پہلے پہلا کفارہ ادا نہ کیا ہو کہ دوسرا کفارہ بھی اس پر آیا تو پھر تداخل ہوگا۔ اگر پہلا ادا کر چکا ہے پھر تداخل ہونے کی صورت ممکن نہیں۔ ایک روزہ توڑ دیا، کفارہ ابھی نہیں ادا کیا، دوسرا بھی توڑ دیا، تو اب کیا آئے گا دونوں میں؟ تداخل۔ لیکن ایک روزہ توڑ دیا تھا، اس کا کفارہ ادا کر دیا ایک غلام یا باندی آزاد کر دی، اور پھر اگلے دن دوسرا روزہ توڑ دیا، اب تداخل نہیں ہو سکتا۔ کیوں نہیں ہو سکتا؟ کیونکہ کفارہ کب آئے گا؟ جب روزہ توڑے گا، اور پہلے روزے کا تو وہ کفارہ ادا کر چکا ہے اور اب اگلا اس کے بعد توڑ رہا ہے تو اب کیا آ رہا ہے؟ کفارہ، تو اب یہ نہیں کہا جا سکتا کفارہ آج آ رہا ہے اور ادا یہ ایک دن پہلے کر چکا ہے، وہ تو سبب سے پہلے پھر پایا جائے گا اور سبب سے پہلے تو حکم نہیں پایا جا سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے اگر کفارہ مؤخر ہوا پھر تو تداخل ہوگا، اور اگر کفارہ مقدم ہو گیا تو پھر تداخل کی صورت نہ رہے گی۔ یہ معنی ہے: ”فأشبه كفارة الفطر“ تو یہ مشابہ ہو گیا کفارۂ فطر کے، ”إِلَّا إِذَا تَخَلَّلَتِ الْكَفَّارَةُ“ مگر یہ کہ جب بیچ میں کفارہ آ جائے، کیا آ جائے بیچ میں؟ پھر تداخل نہیں ہوگا۔ ”لِارْتِفَاعِ الْأُولَى بِالتَّكْفِيرِ“ اس لیے کیونکہ پہلا جو ہے بالتکفیر کفارہ دینے سے وہ کفارہ کیا ہو گیا؟ پورا ہو گیا، ختم ہو گیا، تو اب دوسرا آیا ہے تو اب تداخل نہیں ہو سکتا۔ ”وَعَلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ يَجِبُ أَرْبَعَةُ دِمَاءٍ إِنْ قَلَمَ فِي كُلِّ مَجْلِسٍ يَدًا أَوْ رِجْلًا“ اور شیخین رحمہما اللہ کے قول پر چار دم واجب ہوں گے اگر کاٹا ہر مجلس میں ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کو یعنی ان کے ناخنوں کو۔ ”لِأَنَّ الْغَالِبَ فِيهِ مَعْنَى الْعِبَادَةِ“ اس لیے کیونکہ اس کفارے کے اندر غالب جو ہے وہ عبادت والا معنی ہے، ”فَيَتَقَيَّدُ التَّدَاخُلُ بِاتِّحَادِ الْمَجْلِسِ كَمَا فِي آيِ السَّجْدَةِ“ تو لہٰذا تداخل کو مقید کیا جائے گا اتحادِ مجلس کے ساتھ۔ اتحادِ مجلس ہوگا تو تداخل ہوگا، اتحادِ مجلس نہیں تو تداخل بھی نہیں، جیسے کہ سجدے کی آیتوں میں ہوتا ہے۔ ایک ہی مجلس میں ہو تو ان میں تداخل ہوتا ہے، ایک مجلس میں نہ ہو تو ان میں تداخل نہیں ہوتا۔ ”وَإِنْ قَصَّ يَدًا أَوْ رِجْلًا فَعَلَيْهِ دَمٌ“ اور اگر محرم نے کاٹا ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کو—یعنی ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کے ناخنوں کو—”فعليه دم“ تو اس پر دم واجب ہے۔ ”إِقَامَةً لِلرُّبُعِ مَقَامَ الْكُلِّ كَمَا فِي الْحَلْقِ“ ربع کو کل کے قائم مقام کرتے ہوئے جیسے حلق میں تھا۔ حلق کے اندر چوتھائی سر کا حلق کروا لے تو دم واجب ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی دو ہاتھ ہیں دو پاؤں ہیں تو ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کیا ہوا؟ چوتھائی حصہ ہوا، تو یہاں بھی چوتھائی کے اندر دم واجب ہوگا جیسے حلق میں تھا۔ ”وَإِنْ قَصَّ أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَظَافِيرَ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ“ اور اگر اس نے کاٹے پانچ سے کم ناخن تو اس پر صدقہ واجب ہے۔ پانچ ناخن نہیں کاٹے، دو، تین، یا چار ناخن کاٹ لیے تو اب کیا حکم ہے؟ تو بتلایا کہ اس پر صدقہ واجب ہے، کیا واجب ہے؟ اور صدقہ کتنا ہے آپ نے پڑھا تھا جنایتوں کے اندر؟ نصف صاع گندم صدقہ کرنا پڑے گا۔ لیکن یاد رکھنا، یہاں اب یہ معنی نہیں کہ دو یا تین یا چار ناخن کاٹے ہیں تو بس نصف صاع گندم دے دے، نہیں! ہر ناخن کے اندر الگ صدقہ آئے گا۔ جتنے ناخن کاٹے، ایک کاٹا ہے تو ایک صدقہ یعنی نصف صاع، دو کاٹے ہیں تو ایک صاع پورا آ جائے گا، تین کاٹے ہیں تو ڈیڑھ صاع آ جائے گا، اور چار کاٹے ہیں تو دو صاع آ جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وإن قص أقل من خمسة أظافير فعليه صدقة“ اور اگر کاٹے پانچ سے کم ناخن تو اس پر صدقہ واجب ہے، ”مَعْنَاهُ يَجِبُ بِكُلِّ ظُفُرٍ صَدَقَةٌ“ ظُفُر اور ظُفْر، فا کو ساکن پڑھنا بھی صحیح اور فا پر پیش پڑھنا بھی صحیح بھئی۔ معنی اس کا یہ ہے کہ واجب ہوگا ہر ناخن کے بدلے میں صدقہ بھئی، صدقہ واجب ہوگا۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَجِبُ الدَّمُ بِقَصِّ ثَلَاثَةٍ مِنْهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ الْأَوَّلُ“ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک ہاتھ میں دم واجب تھا، ایک ہاتھ کے ناخن کاٹنے میں دم واجب تھا، تو اگر ایک ہاتھ کے تین ناخن کسی نے کاٹ لیے تو یہ اکثر ناخن کاٹ لیے ایک ہاتھ کے، اور ”للأکثر حکم الکل“، اور کل ہاتھ میں تو آتا تھا دم، تو اکثر میں بھی کیا آئے گا؟ دم ہی آئے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ”وقال زفر رحمه الله“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يجب الدم بقص ثلاثة منها“ کہ دم واجب ہوگا ان میں سے تین ناخن کاٹنے سے، ”وهو قول أبي حنيفة الأول“ اور یہی قول ہے امام صاحب کا پہلا، یعنی امام صاحب کا پہلا قول بھی یہی تھا۔ ”لِأَنَّ فِي أَظَافِيرِ الْيَدِ الْوَاحِدَةِ دَمًا وَالثَّلَاثُ أَكْثَرُهَا“ اس لیے کیونکہ ایک ہاتھ کے ناخنوں میں دم واجب ہے—امام زفر کی دلیل چل رہی ہے—ایک ہاتھ کے ناخنوں میں دم واجب ہے اور تین کیا ہے ان کا؟ اکثر ہیں، اور ”للأکثر حکم الکل“، تو تین ناخن کاٹے گویا کل ناخن ہی ایک ہاتھ کے کاٹ لیے تو دم آئے گا۔ ”وَجْهُ الْمَذْكُورِ فِي الْكِتَابِ“ وجہ اس کی جس کو ذکر کیا گیا کتاب میں—کتاب میں کیا ذکر ہوا تھا اوپر متن میں؟ کہ پانچ سے کم ہوئے تو صدقہ، امام زفر تو فرماتے ہیں تین کاٹ لیے تو دم واجب ہے، لیکن متن میں کیا آیا کہ پانچ سے کم ہوں تو صدقہ ہے دم نہیں ہے، اس کی اب وجہ ذکر کر رہے ہیں—کہتے ہیں: ”وجه المذكور في الكتاب“ وجہ اس کی جس کو ذکر کیا گیا کتاب کے اندر وہ یہ ہے: ”أَنَّ أَظَافِيرَ كَفٍّ وَاحِدٍ أَقَلُّ مَا يَجِبُ الدَّمُ بِقَلْمِهِ“ خلاصہ یہ، کہتے ہیں بھئی جو کتاب میں ذکر ہوا کہ پانچ سے کم ناخنوں کے اندر صدقہ واجب ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہاتھ کے یا ایک پاؤں کے ناخن جو ہیں یہ وہ کم سے کم ناخنوں کی تعداد ہے جس میں کیا واجب کر دیا ہم نے؟ دم واجب کر دیا۔ اور کیوں؟ ایک ہاتھ میں ہم نے دم کیوں واجب کیا؟ ہاں شاباش! کیونکہ کل ناخن ہیں بیس، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کے، اور اس میں سے چوتھائی کو کیا کر دیا گیا؟ کل کے قائم مقام کر دیا۔ جب ایک دفعہ چوتھائی کو کل کے قائم مقام کر دیا تو اب بار بار بعض کو کل کا قائم مقام نہیں کریں گے، ورنہ تو یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا کبھی رکے گا ہی نہیں۔ مثلاً کیسے؟ ایک ہاتھ کو کس کے قائم مقام کر دیا ہم نے؟ کل کے، تو اس میں دم آتا ہے۔ اب اگر تین کو بھی کیا کہا جائے؟ یہ ایک ہاتھ کا اکثر ہے، اور ایک میں تو کیا آتا تھا؟ دم، تو تین میں بھی کیا آئے گا؟ دم آئے گا۔ تو پھر کہنا پڑے گا تین کے اندر دم آ رہا ہے، لہٰذا اگر کوئی اپنے دو ناخنوں کو کاٹ لے گا تو یہ بھی کیا ہوئے تین کا؟ اکثر، اور تین میں تو کیا آ رہا تھا؟ دم، تو اس میں بھی کیا آنا چاہیے؟ دم۔ پھر اسی طرح اس سے آگے سلسلہ چلے گا کہ دو کے اندر دم آ رہا ہے تو لہٰذا دو کا اگر کوئی اکثر کاٹ لے یعنی ایک ناخن اور دوسرا بھی تھوڑا سا، تو یہ یہ کیا ہوا؟ دو ناخنوں کا اکثر، اور دو میں کیا آ رہا تھا؟ دم، تو اس میں بھی کیا آئے گا؟ دم۔ پھر اس سے آگے سلسلہ چلے گا کہ مثلاً سوا ناخن کے اندر یا ڈیڑھ ناخن کے اندر آ رہا تھا دم، تو پونا ناخن اگر کسی نے کاٹ لیا اس میں بھی کیا آئے گا؟ دم، کیونکہ یہ کیا ہے اس ڈیڑھ کا اکثر ہے یعنی نصف سے زائد شمار کر لیں جتنا بھی بنتا ہے۔ پھر اس سے بھی سلسلہ آگے چلے گا، پونے ناخن یا پونے ناخن سے تھوڑا سا زیادہ کاٹنے میں تھا دم، تو لہٰذا اگر کوئی آدھے کے قریب بھی کاٹ لے گا تو اس میں کیا آئے گا؟ دم، کیونکہ یہ پونے ناخن کا اکثر ہے۔ پھر اس تو یہ سلسلہ اسی طرح چلتا ہی رہے گا بھئی۔ صورت لہٰذا جب ایک ہی دفعہ ہم نے ایک ہاتھ کو کل کے قائم مقام کر دیا تو اب پھر باقیوں کو کل کے قائم مقام نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وجه المذكور في الكتاب“ اور وجہ اس کی جس کو ذکر کیا گیا کتاب کے اندر وہ یہ ہے: ”أن أظافير كف واحد أقل ما يجب الدم بقلمه“ کہ ایک ہتھیلی کے ناخن جو ہیں وہ کم سے کم تعداد ہے کہ دم واجب ہوتا ہے ان کے کاٹنے سے، ”وَقَدْ أَقَمْنَاهَا مَقَامَ الْكُلِّ فَلَا يُقَامُ أَكْثَرُهَا مَقَامَ كُلِّهَا، لِأَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى مَا لَا يَتَنَاهَى“ اور تحقیق ہم نے اس کو کل کا قائم مقام کر دیا—یعنی ایک ہاتھ کے ناخنوں کو کل کے قائم مقام کر دیا کہ یہ اس کا چوتھائی بنتا ہے—”فلا يقام أكثرها مقام كلها“ تو اب اس کے اکثر کو کل کا قائم مقام نہیں کریں گے، ”لأنه يؤدي إلى ما لا يتناهى“ اس لیے کیونکہ یہ پہنچا دے گا، یہ لے جائے گا اس چیز کی طرف جس کی کوئی انتہا نہیں ہے یعنی یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔ ”وَإِنْ قَصَّ خَمْسَةَ أَظَافِيرَ مُتَفَرِّقَةً مِنْ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ“ بھئی ایک ہاتھ کے پانچ ناخن یعنی سارے ایک ہاتھ کے سارے ناخن کوئی کاٹ لیتا تھا تو اس میں کیا واجب ہوتا تھا؟ دم۔ اب اگر کوئی پانچ متفرق ناخن کاٹ لیتا ہے—یعنی ایک ہاتھ کے پانچ نہیں کاٹتا بلکہ متفرق پانچ ناخن کاٹ لیتا ہے، ایک ہاتھ کے دو یا تین کاٹ لیے اور دوسرے ہاتھ کے بھی دو کاٹ لیے، یا ایک ہاتھ کے دو کاٹ لیے اور دوسرے ہاتھ میں سے ایک کاٹ دیا اور ایک دو کس میں سے کاٹ لیے؟ پاؤں میں سے—تو متفرق اگر پانچ ناخن کاٹے تو کیا پھر اس میں بھی دم آئے گا یا نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس میں دم نہیں آئے گا اس میں صدقہ ہی آئے گا۔ بلکہ پانچ سے زیادہ کاٹ لیے پھر بھی صدقہ ہی آئے گا۔ یعنی صدقہ آنے کا کیا معنی؟ ہر ناخن کے بدلے کیا آئے گا؟ صدقہ آئے گا، نصف صاع گندم آتی جائے گی۔ وہ حساب لگاتے جائیں گے جتنے ناخن کاٹے ہیں، جبکہ یہ ناخن متفرق ہوں۔ اور پھر اگر ان کی قیمت ایک دم تک پہنچ رہی ہو—مثلاً اس نے دس ناخن کاٹے اور دس ناخن کس قسم کے ہیں؟ متفرق ہیں، ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کے کاٹے گا پھر تو دم آ جائے گا، لیکن اس نے متفرق کاٹے ہیں اور مثلاً کتنے کاٹے؟ دس ناخن کاٹے، تو ہر ناخن میں کیا آئے گا؟ صدقہ۔ ہم نے ان کی قیمت کا حساب لگایا تو دیکھا یہ تو دم تک قیمت پہنچ رہی ہے، جب دم تک قیمت پہنچ رہی ہو تو پھر اس میں سے کچھ کم کر دیں گے، کیا کر دیں گے؟ کیونکہ جنایت اتنی بڑی نہیں ہے۔ جنایت اتنی بڑی بھئی کیوں نہیں جنایت بڑی؟ پانچ ناخنوں کے اندر دم آتا تھا، اس نے دس کاٹے ہیں، صرف فرق اتنا ہے کہ متفرق کاٹے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی، ایک ہاتھ کے سارے ناخن کاٹے تو انسان کو راحت حاصل ہوتی ہے اور اچھا لگتا ہے، وہ پورے ہاتھ کے ناخن ایک جیسے ہیں۔ لیکن جب متفرق کاٹے جائیں تو انسان خود تکلیف میں پڑ جاتا ہے اور بڑے بدنما معلوم ہوتے ہیں، تو اس وجہ سے اس صورت میں کیا ہے؟ جنایت کم ہے، لہٰذا اس کو دم سے کم ہی رکھیں گے، تو دم تک اگر ان کی قیمت پہنچ بھی جائے پھر بھی اس میں سے کیا کر دیا جائے گا؟ کچھ کم کر دیا جائے گا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وإن قص خمسة أظافير متفرقة“ اور اگر کاٹے پانچ متفرق ناخن ”من يديه ورجليه“ دونوں ہاتھوں اور پاؤں میں سے، ”فعليه صدقة عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله“ تو اس پر صدقہ واجب ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: دَمٌ اعْتِبَارًا بِمَا لَوْ قَصَّهَا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ، وَبِمَا إِذَا حَلَقَ رُبُعَ الرَّأْسِ مِنْ مَوَاضِعَ مُتَفَرِّقَةٍ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانچ مختلف ناخن چاہے کاٹ لے پھر بھی دم آئے گا۔ وہ قیاس کرتے ہیں ایک ہاتھ کے پانچ ناخنوں پر، ایک ہاتھ کے پانچوں ناخن کاٹیں تو کیا آتا ہے؟ دم، تو لہٰذا چاہے مختلف جگہوں سے بھی کاٹ لے یہ بھی کتنے ناخن ہیں؟ پانچ ہی ہیں، تو جب ان پانچ میں دم تھا تو ان میں بھی کیا آئے گا؟ دم آئے گا۔ اور نیز قیاس کرتے ہوئے ربع رأس پر، اگر اپنے کوئی چوتھائی سر کا حلق کروا لے محرم، چاہے ایک جگہ سے کروائے چاہے مختلف جگہوں سے سر کے کروائے لیکن کتنا بنتا ہو وہ حلق؟ چوتھائی سر، تو اس میں کیا آتا ہے؟ دم، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، پانچ ناخن چاہے ایک ہاتھ کے ہوں ایک ہی جگہ کے ہیں یا الگ الگ ہیں تو اس میں بھی کیا آنا چاہیے؟ دم آنا چاہیے بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی ان کی؟ تو ”وقال محمد رحمه الله دم“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر دم واجب ہوگا، ”اعتباراً بما لو قصها من كف واحد“ قیاس کرتے ہوئے اس پر کہ جب اگر اس نے کاٹا ہو اس کو ایک ہی ہتھیلی میں سے، ”وبما إذا حلق ربع الرأس من مواضع متفرقة“ اور قیاس کرتے ہوئے جب اس نے حلق محرم نے حلق کروایا ہو چوتھائی سر کا مختلف جگہوں سے، تو ان دونوں پر قیاس کرتے ہوئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ایک ہی ہتھیلی پر اور چوتھائی سر مختلف جگہوں سے حلق کروایا تو اس پر قیاس کرتے ہوئے۔ ”وَلَهُمَا: أَنَّ كَمَالَ الْجِنَايَةِ بِنَيْلِ الرَّاحَةِ وَالزِّينَةِ، وَبِالْقَلْمِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ يَتَأَذَّى وَيَشِينُهُ ذَلِكَ“ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ جنایت یعنی جرم کامل کب ہوگا؟ راحت اور زینت حاصل ہو۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ کامل جرم جو ہے وہ راحت اور زینت حاصل کرنے سے ہے، اور کاٹنا اس طریقے پر جو ذکر ہوئی، اس طریقے پر کون سا طریقہ؟ یعنی متفرق طریقے پر کاٹنے کے کاٹنے سے جو ہے ”يتأذى“ یہ محرم کیا ہوگا؟ تکلیف اٹھائے گا، اس کو تکلیف ہوگی، ”ويشينه ذلك“ اور یہ چیز اس کو عیب دار کرے گی، بدنما کرے گی۔ ”شان يشين“ کے کیا معنی ہے؟ بدنما کرنا، عیب دار کرنا۔ تو یہ چیز اس کو عیب دار کرے گی لہٰذا اس لیے جنایت کم درجے کی ہے۔ ”بِخِلَافِ الْحَلْقِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے کس پر قیاس کیا تھا؟ حلق پر کہ سر کے مختلف جگہوں سے بھی چوتھائی سر کے برابر حلق کروا لیں تو کیا واجب ہوتا ہے؟ دم، تو یہاں بھی کیا ہونا چاہیے؟ دم۔ تو کہتے ہیں بھئی اس کا جواب پیچھے گزر چکا کہ بعض لوگوں کو عادت ہی کیا ہوتی ہے؟ کہ وہ متفرق جگہوں سے حلق کرواتے ہیں، معلوم ہوا وہ مقصودی نفع ہے۔ بھئی آپ دیکھتے ہیں، آج کل بھی دیکھتے ہیں، بعض لوگ کیا کرتے ہیں؟ بس یہ دونوں اطراف میں کانوں کے اوپر سے بال صاف کروا لیے استرے سے اور گردن کی طرف سے صاف کروا لیے، تو دیکھو مختلف طرف سے، دائیں بائیں اور پیچھے کی طرف سے، اور یہ سارا مل کر جب کتنا پہنچ جائے؟ چوتھائی، تو اس میں بھی اگر محرم نے ایسا کیا تو دم واجب ہوگا کیونکہ یہ لوگ اس طرح عادۃً اس طرح یہ مقصود ہی ان کا یہ ہوتا ہے اس طرح وہ حلق کرواتے ہیں، جبکہ ناخن مختلف جگہوں سے کاٹنا اس میں ایسا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بخلاف الحلق لأنه معتاد على ما مر“ بخلاف حلق کے اس لیے کیونکہ وہ تو معتاد ہے یعنی لوگوں کو اس کی عادت ہوتی ہے بوجہ اس کے جو گزر گیا، ”وَإِذَا تَقَاصَرَتِ الْجِنَايَةُ تَجِبُ فِيهَا الصَّدَقَةُ“ تو معلوم ہوا یہ جنایت کامل ہوئی یا کم ہوئی جب اس نے متفرق ناخن کاٹے ہیں؟ کم ہوئی، تو کہتے ہیں جب کم ہو گئی جنایت تو اس کے اندر صدقہ واجب ہوگا، ”فَيَجِبُ بِقَلْمِ كُلِّ ظُفُرٍ طَعَامُ مِسْكِينٍ“ تو واجب ہوگا ہر ناخن کے کاٹنے میں ایک مسکین کا طعام، ایک مسکین کا طعام واجب ہوگا۔ ”وَكَذَلِكَ لَوْ قَلَمَ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسَةٍ مُتَفَرِّقًا“ اور اسی طرح اگر اس نے کاٹے پانچ سے زیادہ متفرق ناخن تو بھی حکم اسی طرح ہے، یعنی اس میں بھی کیا آئے گا؟ ہر ناخن میں صدقہ ہی آئے گا۔ ”إِلَّا أَنْ يَبْلُغَ ذَلِكَ دَمًا، فَحِينَئِذٍ يَنْقُصُ عَنْهُ مَا شَاءَ“ مگر یہ کہ جب وہ صدقہ کس کو پہنچ جائے؟ ایک دم کو پہنچ جائے، تو پھر اس وقت اس میں سے کم کر دے جو چاہے بھئی۔ یہاں تک مسائل سمجھ میں آ گئے؟ ”قَالَ: وَإِنِ انْكَسَرَ ظُفُرُ الْمُحْرِمِ فَتَعَلَّقَ فَأَخَذَهُ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ“ بھئی مسئلہ یاد رکھیے، اگر ناخن اکھڑ گیا لیکن جلد کے ساتھ ابھی بھی کچھ لگا ہوا ہے، لٹک گیا ہے، تو اس کو کاٹنا اور الگ کرنا جائز ہے اور اس کے اندر کوئی صدقہ وغیرہ بھی واجب نہیں ہوگا بھئی، واجب نہیں۔ بھئی کیا وجہ؟ صدقہ کیوں نہیں واجب؟ کہتے ہیں بھئی یہ ناخن اور بال یہ بدنِ انسانی میں سے بڑھنے والی چیزیں ہیں، لہٰذا ان کو امان حاصل ہے، جیسے حرم کے گھاس اور پودوں کو امان حاصل۔ لیکن جب یہ ٹوٹ گئے اب یہ بڑھیں گے نہیں، تو یہ حرم کے خشک پودوں کی طرح ہو گئے اور خشک پودوں کے کاٹنا تو منع نہیں، تو لہٰذا ان کا بھی کاٹنا منع نہیں ہوگا۔ تو ”قال وإن انكسر“ اور اگر ٹوٹ گیا، ”انكسر“ کے معنی ٹوٹنے کے، اور اگر ٹوٹ گیا ”ظفر المحرم“ محرم کا ناخن، ”فتعلق“ تو وہ لٹک گیا، ”فأخذه“ تو اس نے اس کو کاٹ لیا، ”فلا شيء عليه“ تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں، ”لِأَنَّهُ لَا يَنْمُو بَعْدَ الِانْكِسَارِ فَأَشْبَهَ الْيَابِسَ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ“ اس لیے کیونکہ یہ ناخن جو ہے یہ بڑھتا نہیں ہے ٹوٹ جانے کے بعد، تو یہ مشابہ ہو گیا وہ جو خشک ہے حرم کے درختوں میں سے اس کے مشابہ ہوا۔ ”وَإِنْ تَطَيَّبَ أَوْ لَبِسَ أَوْ حَلَقَ مِنْ عُذْرٍ“ اور اگر محرم نے خوشبو لگا لی، یا سلے ہوئے کپڑے پہن لیے، یا حلق کروایا کسی عذر کی وجہ سے—یعنی آسمانی آفت کی وجہ سے اللہ کی طرف سے بیماری یا تکلیف وغیرہ اس پر آئی اور اس کی وجہ سے اس کو یہ ممنوعہ افعال میں سے کوئی فعل کرنا پڑا، خوشبو لگانی پڑی یا سلے ہوئے کپڑے پہننا پڑے یا حلق کروانا پڑا—”فَهُوَ مُخَيَّرٌ إِنْ شَاءَ ذَبَحَ شَاةً، وَإِنْ شَاءَ تَصَدَّقَ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ بِثَلَاثَةِ أَصْوُعٍ مِنَ الطَّعَامِ، وَإِنْ شَاءَ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ تو اس کو اختیار ہے اگر چاہے تو وہ ایک بھیڑ بکری ذبح کر دے، اور اگر چاہے تو صدقہ کر دے چھ مسکینوں پر تین صاع گندم میں سے۔ گندم میں سے تین، کیونکہ ایک مسکین پر کتنا ہے؟ نصف صاع، تو چھ پر کتنا بنے گا؟ تین صاع بنے گا، تو چاہے یہ صدقہ کر دے، اور چاہے تو تین روزے رکھ لے۔ بھئی اگر کسی عذر کی وجہ سے یہ ممنوعہ افعال میں سے کوئی فعل کرنا پڑا تو پھر محرم کو اختیار ہے تین چیزوں میں سے: چاہے کیا کر لے؟ قربانی کر دے، چاہے چھ مسکینوں پر صدقہ کر دے نصف صاع ہر ایک پر، اور چاہے تو تین روزے رکھ لے۔ دلیل کیا اس کی؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: تو فدیہ دینا ہے روزے، یا صدقہ، یا عبادت—مراد ہے قربانی، کیا مراد ہے؟ قربانی، یا قربانی ہے—تو روزے یا صدقہ یا قربانی، ان تین چیزوں میں سے جو بھی کرنا چاہے۔ اور یہ جو تین چیزیں ہیں: صیام، صدقہ، اور نسک، ان میں لفظِ ”أَوْ“ ذکر ہے اور ”أو“ کا اردو میں کیا ترجمہ ہے؟ یا۔ یعنی کہ صدقہ، یعنی کہ روزے، یا صدقہ، یا قربانی، معلوم ہوا اختیار ہے۔ ”أو“ تو کس لیے آتا ہے؟ اختیار کے لیے، تو یہاں بھی اختیار ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَلِمَةُ أَوْ لِلتَّخْيِيرِ“ اور کلمۂ ”أو“ جو ہے وہ اختیار دینے کے لیے ہے۔ ”وَقَدْ فَسَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِمَا ذَكَرْنَا“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں ایک سوال کا، سوال یہ کہ قرآن میں تو صرف روزوں کا ذکر ہے آپ نے تو تین روزے ذکر کیے، قرآن میں صرف صدقے کا ذکر ہے آپ نے چھ مسکینوں پر صدقے کا ذکر کیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو آپ نے چھ مسکینوں کی قید لگا دی اور یہ جو آپ نے تین روزوں کی قید لگا دی یہ تو آپ نے اس پہ زیادتی کی! کہتے ہیں بھئی یہ ہم نے اپنی طرف سے زیادتی نہیں کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے جو ہم نے متن میں ذکر کر دی، کہ روزوں سے مراد کتنے ہیں؟ تین روزے، اور صدقے سے مراد کتنے مسکینوں پر صدقہ ہے؟ چھ مسکینوں پر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وقد فسرها رسول الله عليه السلام بما ذكرنا“ اور تحقیق تفسیر کی ہے اس آیت کی حضور علیہ السلام نے انہی چیزوں کے ساتھ جو ہم نے ذکر کر دیں۔ ”وَالْآيَةُ نَزَلَتْ فِي الْمَعْذُورِ“ اور یہ آیت نازل ہوئی معذور کے بارے میں، ایک معذور صحابی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی ایک معذور کے بارے میں نازل ہوئی ہے، کہتے ہیں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہ جو ہیں ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ وہ ایک ہانڈیا کے نیچے آگ جلانے میں مصروف تھے اور ان کے سر اور داڑھی وغیرہ پر بہت جوئیں چل رہی تھیں کہ حضور علیہ السلام ان کے پاس سے گزرے، تو حضور علیہ السلام نے ان سے پوچھا: کیا یہ حشرات یہ جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ تو فرمانے لگے: ہاں یا رسول اللہ! تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور پھر حضور علیہ السلام نے اس آیت کی یہی تفسیر بیان فرمائی بھئی۔ تو حضور علیہ السلام ان سے فرمانے لگے کہ اپنے سر کا حلق کروا لو، اور چھ مسکینوں پر صدقہ کرو، یا تین روزے رکھ لو، یا ایک قربانی کر لو بھئی۔ ”ثُمَّ الصَّوْمُ يُجْزِيهِ فِي أَيِّ مَوْضِعٍ شَاءَ“ بھئی جس کا کوئی عذر ہو اور اس کو حلق وغیرہ کروانا پڑ جائے، تو اس کو اختیار دیا گیا وہ چاہے کیا کرے؟ تین روزے رکھے، یا ایک قربانی کر لے، یا چھ مسکینوں کو چھ مسکینوں پر صدقہ کر دے۔ تو یہ روزے کیا مکہ ہی میں رکھنا ضروری ہیں یا کہیں اور بھی رکھ سکتا ہے؟ اور یہ صدقہ کیا حرم یا مکہ ہی میں کرنا ضروری ہے یا کہیں اور بھی صدقہ کر سکتا ہے؟ اور یہ قربانی کیا مکہ ہی میں ضروری ہے یا کہیں اور بھی کر سکتا ہے؟ تو یاد رکھیے کہ یہ روزے جہاں پر بھی وہ رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے، چاہے مکہ میں رکھے چاہے گھر واپس آ کر رکھے۔ اور اسی طرح صدقہ کرنا چاہتا ہے، چاہے مکہ ہی میں کرے چاہے گھر آ کر صدقہ کر دے کسی اور جگہ صدقہ کر دے۔ لیکن اگر قربانی کرنا چاہتا ہے تو قربانی وہیں حرم ہی میں کرنا پڑے گی، کسی اور جگہ قربانی کرے گا تو وہ کافی نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”ثم الصوم يجزيه في أي موضع شاء“ پھر روزہ جو ہے وہ اس کے لیے کافی ہے جس مقام میں بھی وہ چاہے، ”لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ فِي كُلِّ مَكَانٍ“ اس لیے کیونکہ روزہ رکھنا یہ تو عبادت ہے ہر جگہ میں، ”وَكَذَلِكَ الصَّدَقَةُ عِنْدَنَا لِمَا بَيَّنَّا“ اور اسی طرح صدقہ بھی ہے ہمارے نزدیک اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ کیا وجہ بیان کی؟ کہ صدقہ جہاں بھی کرے گا وہ صدقہ تو کیا ہے؟ عبادت ہے، چاہے حرم میں کرے چاہے حرم سے باہر کرے۔ ہاں البتہ قربانی کرنا، قربانی حرم ہی میں کرنا پڑے گی، اس لیے کیونکہ خون کا بہانا—قربانی میں کیا کیا جاتا ہے؟ جانور کا خون بہایا جاتا ہے—تو جانور کو کی قربانی کرنا اور اس کا خون بہا دینا یہ اس کو عبادت نہیں جانا گیا مگر کسی مخصوص زمانے میں یا مخصوص جگہ میں۔ مخصوص زمانے میں یعنی عید والے دن، قربانی کی جو عید ہوتی ہے۔ بھئی یہ جانور کا ذبح کرنا، یہ عید کے دن اگر جانور کو ذبح کرے گا پھر تو عبادت ہے، عید سے پہلے یا بعد کے زمانے میں اگر وہ جانور کو ذبح کرے گا تو یہ ذبح کرنا کوئی عبادت ہے؟ نہیں، ذبح کرنا عبادت نہیں۔ جانور کا گوشت صدقہ کرے گا میں صدقے کی بات نہیں کر رہا، جانور کو ذبح کرنے کی بات کر رہا ہوں، عید کے دنوں میں جانور کو ذبح کرنا کیا ہے؟ عبادت ہے، لیکن اس سے آگے پیچھے دنوں میں عبادت نہیں۔ معلوم ہوا یہ قربانی جو ہے یعنی خون کا بہانا ایک مخصوص زمانے کے اندر یہ عبادت ہے، یا اسی طرح قربانی اگر حرم میں کرتا ہے جیسے حج کی قربانی ہے، یا اسی طرح جنایتیں، حج میں کوئی جنایت ہو جائے اور دم واجب ہو جائے تو وہ قربانی کہاں کرنا پڑتی ہے؟ حرم کے اندر۔ اگر حرم سے باہر کرے گا یہ قربانی تو یہ اس کے لیے کافی نہیں، کیوں نہیں کافی؟ کیونکہ قربانی کرنا یعنی جانور کا خون بہانا یہ یا تو کسی مخصوص زمانے کے اندر عبادت شمار کیا جاتا ہے یا کسی مخصوص جگہ پر جیسے کہ حرم ہے، جیسے کہ حرم ہے۔ تو دو چیزوں میں سے ایک ضرور ہونی چاہیے: یا مخصوص جگہ ہونی چاہیے قربانی کے اندر یعنی حرم، یا کیا ہونا چاہیے؟ مخصوص زمانہ ہونا چاہیے۔ یہ جو اختیار دیا گیا معذور کو کہ وہ تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا کیا کر دے؟ قربانی کر دے، تو یہ قربانی کسی وقت کے ساتھ کسی زمانے کے ساتھ مقید ہے؟ جب زمانے کے ساتھ مقید نہیں تو جگہ کے ساتھ مقید کرنا پڑے گا۔ معلوم ہوا یہ قربانی صرف کہاں ہو سکتی ہے؟ حرم ہی میں ہو سکتی ہے، حرم سے باہر نہیں ہو سکتی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا النُّسُكُ فَيَخْتَصُّ بِالْحَرَمِ بِالِاتِّفَاقِ“ اور باقی قربانی جو ہے تو یہ خاص ہے حرم کے ساتھ بالاتفاق یعنی تمام ائمہ کا اس میں اتفاق ہے، ”لِأَنَّ الْإِرَاقَةَ لَمْ تُعْرَفْ قُرْبَةً إِلَّا فِي زَمَانٍ أَوْ مَكَانٍ“ اراق یریق اراقۃً کے معنی ہوتے ہیں خون کا بہانا، خون کا بہا دینا۔ اس لیے کیونکہ خون کا بہانا یہ اس کو عبادت نہیں جانا گیا مگر کسی زمانے میں یا کسی جگہ میں، ”وَهَذَا الدَّمُ لَا يَخْتَصُّ بِزَمَانٍ فَتَعَيَّنَ اخْتِصَاصُهُ بِالْمَكَانِ“ اور یہ دم تو کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں، حالانکہ دم کے اندر کیا ضروری؟ قربانی میں کیا ضروری؟ کسی مخصوص زمانے یا مخصوص جگہ یعنی مکہ کا ہونا ضروری، تو دو میں سے ایک چیز ہونی چاہیے اور زمانہ تو یہاں نہیں تو معلوم ہوا کیا ائے گا؟ مخصوص جگہ یعنی حرم کی قید لگانا پڑے گی۔ تو ”وهذا الدم لا يختص بزمان فتعين اختصاصه بالمكان“ اور یہ دم کسی زمانے کے ساتھ تو خاص نہیں ہے تو متعین ہو گیا اس کا اختصاص جگہ کے ساتھ یعنی حرم کے ساتھ۔ ”وَلَوِ اخْتَارَ الطَّعَامَ أَجْزَأَهُ فِيهِ التَّغْدِيَةُ وَالتَّعْشِيَةُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اچھا صورت یہ بھئی کہ یہ جو صدقہ اس شخص پر آیا، کیا اس کے اندر صدقہ کرنا ہی ضروری ہے یا مسکین کو صبح اور شام کا کھانا کھلا دینا بھی کافی ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ تین صاع ہی مسکینوں پر صدقہ کیے جائیں، یا ان کو صبح اور شام کا کھانا کھلا دیا جائے تو وہ بھی کافی ہو جائے گا؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صبح اور شام کا کھانا ان کو کھلا دیا جائے تو بھی کافی ہو جائے گا۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں کفارۂ یمین پر، جو قسم کا کفارہ ہے۔ اور کفارۂ یمین کے اندر وہاں پر صبح اور شام کا کھانا کھلا دینا کافی ہو جاتا ہے، تو وہ فرماتے ہیں یہاں پر بھی صبح اور شام کا کھانا کھلانا کافی ہو جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں صبح اور شام کا کھانا کھلانا کافی نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ یہاں پر قرآن میں کیا ذکر ہے؟ صدقہ کا لفظ ذکر ہے، اور صدقہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں فقیر کو اور محتاج کو ایک چیز کا مالک بنا دیا جائے تو اس کو صدقہ کہتے ہیں۔ اور کھانا کھلانا، کھانا کھلانے میں تو مالک بنانا نہیں ہوتا، آپ کھانا لا کر رکھ دیتے ہیں اور مسکین کو کیا کہتے ہیں؟ اس میں سے کھا لو، تو آپ نے تو اس کو صرف اجازت دی ہے کھانا کھانے کی، اس چیز کا مالک نہیں بنایا۔ حالانکہ قرآن میں یہاں کیا ذکر ہے؟ صدقہ کا ذکر ہے اور صدقہ کے اندر مالک بنانا ضروری ہے، حالانکہ کھانا کھلانے کے اندر مالک بنانا نہیں ہے بلکہ وہاں تو اباحت ہوتی ہے مباح کر دینا ہوتا ہے کہ اس میں سے کھا لیں جتنا کھانا چاہتے ہیں بھئی۔ تو اور فرماتے ہیں کہ اس کو کفارۂ یمین پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ کفارۂ یمین کے اندر وہاں اطعام کا لفظ ذکر ہے، اطعام کا معنی کھانا کھلانا، تو وہاں پر کھانا کھلانا کافی ہے کفارۂ یمین میں، لیکن یہاں پر اطعام کا ذکر نہیں ہے قرآن میں بلکہ کس چیز کا ذکر ہے؟ صدقے کا ذکر ہے اور صدقے میں کیا ضروری ہے؟ مالک بنانا ضروری ہے۔ تو ”ولو اختار الطعام أجزأه فيه التغدية والتعشية عند أبي يوسف رحمه الله“ اور اگر محرم نے طعام کو اختیار کیا—تین چیزوں کا اختیار تھا نا اس میں سے اس نے کس کو اختیار کر لیا؟ طعام کہ گندم دے گا—تو کافی ہو جائے گا اس کے اندر چاشت کا کھانا کھلانا اور رات کا کھانا کھلانا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، ”اعْتِبَارًا بِكَفَّارَةِ الْيَمِينِ“ قیاس کرتے ہوئے کفارۂ یمین پر، ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يُجْزِيهِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ اس کے لیے کافی نہیں، ”لِأَنَّ الصَّدَقَةَ تُنْبِئُ عَنِ التَّمْلِيكِ“ اس لیے کیونکہ صدقہ کا لفظ جو ہے وہ خبر دیتا ہے تملیک کی یعنی مالک بنانے کی، کہ کیا ضروری ہے اس میں؟ مالک بنانا ضروری ہے، ”وَهُوَ الْمَذْكُورُ“ اور یہاں صدقہ کا لفظ ہی تو مذکور ہے، تو اس میں معلوم ہوا مالک بنانا ضروری ہے اور مالک بنانا وہ اطعام کے اندر نہیں پایا جاتا لہٰذا وہ کافی نہیں بھئی۔ ”فَصْلٌ: فَإِنْ نَظَرَ إِلَى فَرْجِ امْرَأَتِهِ بِشَهْوَةٍ فَأَمْنَى لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“ بھئی حالتِ احرام میں انسان پر جہاں بہت سی پابندیاں لگتی ہیں، ان میں سے ایک پابندی جو ہے وہ یہ کہ محرم جو ہے وہ اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتا۔ اب صورت یہ کہ ایک شخص نے بیوی سے صحبت تو نہیں کی، لیکن بیوی کی شرمگاہ کی طرف دیکھا شہوت سے اور اس کو انزال ہو گیا، تو کیا اس پر بھی کوئی کفارہ آئے گا یا نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس صورت میں اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فإن نظر إلى فرج امرأته بشهوة“ پس اگر دیکھا محرم نے اپنی بیوی کی شرمگاہ کی طرف شہوت کے ساتھ، ”فأمنى“ تو اس کو انزال ہو گیا، ”لا شيء عليه“ تو اس پر کوئی چیز نہیں یعنی کوئی کفارہ نہیں، ”لِأَنَّ الْمُحَرَّمَ هُوَ الْجِمَاعُ وَلَمْ يُوجَدْ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ جماع ہے احرام میں، جس چیز کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ کیا ہے؟ جماع ہے، اور وہ تو نہیں پایا گیا یہاں پر، ”فَصَارَ كَمَا لَوْ تَفَكَّرَ فَأَمْنَى“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس نے سوچا اور اس سے کیا ہو گیا اس کو؟ انزال ہو گیا، تو یہ بھی اسی کی طرح ہے اور جب اس کے اندر تو کفارہ وغیرہ نہیں تو اس صورت میں بھی کفارہ نہیں۔ ”وَإِنْ قَبَّلَ أَوْ لَمَسَ بِشَهْوَةٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ“ اور اگر محرم نے بیوی کا بوسہ لیا یا اس کو شہوت سے ہاتھ لگایا تو اس پر دم واجب ہے۔ بیوی کا شہوت سے اگر بوسہ لیا یا ہاتھ لگایا تو اس صورت میں بھی کیا واجب ہے؟ دم واجب ہے۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: إِذَا مَسَّ بِشَهْوَةٍ فَأَمْنَى“ تو یہاں سے جامع صغیر، قدوری، اور مبسوط وغیرہ کی جو عبارت ہے اس میں جو تھوڑا سا فرق آیا اس کو بیان کرنے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ متن میں تو کیا آیا، قدوری میں کیا آیا؟ ”وإن قبل أو لمس بشهوة فعليه دم“، اگر بوسہ لے لیا یا شہوت سے چھو لیا بیوی کو تو اس صورت میں بھی محرم پر کیا واجب؟ دم۔ اور جامع صغیر میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”إذا مس بشهوة فأمنى“ اگر شہوت سے ہاتھ لگایا بیوی کو، شہوت سے چھوا اس کو، ”فأمنى“ تو انزال ہو گیا۔ معلوم ہوا قدوری میں تو انزال کی قید نہیں، صرف بوسہ لینے یا ہاتھ لگانے سے ہی دم واجب ہوگا جب یہ شہوت سے ہاتھ لگایا ہو یا بوسہ لیا۔ جبکہ جامع صغیر میں امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا اور پھر انزال بھی ہو گیا تو انہوں نے انزال کی قید بڑھائی ہے۔ ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَهُمَا إِذَا أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ، ذَكَرَهُ فِي الْأَصْلِ“ اور کوئی فرق نہیں ہے اس کے درمیان کہ انزال ہو یا انزال نہ ہو، اس کو امام محمد رحمہ اللہ نے اصل یعنی مبسوط میں ذکر فرمایا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں جامع صغیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے انزال کی قید لگائی ہے، لیکن اصل کے اندر انہوں نے کوئی فرق نہیں کیا چاہے انزال ہو یا نہ ہو، جیسے یعنی قدوری میں آیا ہے۔ بوسہ لیا یا چھوا شہوت سے تو کیا واجب ہے؟ دم واجب ہے، تو انزال کی قید ضروری نہیں۔ ”وَكَذَا الْجَوَابُ فِي الْجِمَاعِ دُونَ الْفَرْجِ“ اور اسی طرح ہے جواب اس جماع کے اندر جو شرمگاہ کے علاوہ میں ہو۔ تو اس صورت میں بھی شرمگاہ کے علاوہ میں جماع کیا تو اس صورت میں بھی انزال ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں کیا ہے؟ دم لازم ہوگا۔ ”وَعَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَفْسُدُ إِحْرَامُهُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ إِذَا أَنْزَلَ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ محرم جو ہے اس کا احرام فاسد ہو جائے گا ان تمام صورتوں میں یعنی بوسہ لیا ہو یا شہوت سے ہاتھ لگایا ہو، ”إذا أنزل“ جب اس کو انزال۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر اس وجہ سے اس شخص محرم کو انزال ہو گیا تو اس کا احرام ہی فاسد ہو گیا، احرام ہی کیا ہو گیا؟ فاسد ہو گیا، یعنی حج ہی کیا ہو گیا؟ فاسد ہو جائے گا ان کے نزدیک بھئی۔ ”وَاعْتَبَرَهُ بِالصَّوْمِ“ اور انہوں نے اس کو قیاس کیا ہے روزے پر، جیسے روزے کے اندر بھئی ان چیزوں سے روزہ کیا ہو جاتا ہے؟ فاسد ہو جاتا ہے، انزال ہو جائے جب شہوت کے ساتھ اس یہ جو صورتیں ذکر ہوئیں تو انزال بھی ہو جائے تو اس سے کیا ہو جاتا ہے روزہ؟ فاسد ہو جاتا ہے، آپ تفصیل پیچھے پڑھ چکے۔ روزہ فاسد ہو جاتا ہے اگرچہ کفارہ واجب نہیں، کفارہ تو جب جماع کرے گا، صحبت کرے گا تب تو کفارہ واجب ہوگا باقی صورتوں میں کفارہ تو بے شک نہیں واجب لیکن روزہ کیا ہو جاتا ہے؟ فاسد ہو جاتا ہے، تو یہاں پر بھی اس کا احرام وہ فرماتے ہیں فاسد ہو جائے گا۔ ”وَلَنَا: أَنَّ فَسَادَ الْحَجِّ يَتَعَلَّقُ بِالْجِمَاعِ، وَلِهَذَا لَا يَفْسُدُ بِسَائِرِ الْمَحْظُورَاتِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ حج کے فاسد ہونے کا تعلق جماع کے ساتھ ہے، اور لہٰذا حج فاسد نہیں ہوتا تمام ممنوعہ چیزوں سے۔ یعنی باقی کی ممنوعہ چیزوں سے حج نہیں فاسد ہوتا، بلکہ کس سے فاسد ہوتا ہے صرف؟ صرف جب جماع کرے گا۔ ”وَهَذَا لَيْسَ بِجِمَاعٍ مَقْصُودٍ فَلَا يَتَعَلَّقُ بِهِ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْجِمَاعِ“ اور یہ تو جماعِ مقصود نہیں، لہٰذا اس کے ساتھ متعلق نہیں ہوگی وہ چیز جس کا تعلق جماع کے ساتھ ہے۔ جماع کے ساتھ کس کا تعلق تھا؟ فسادِ حج کا۔ حج صرف کس وجہ سے فاسد ہوتا ہے؟ جماع کی صورت میں، اور یہ چیزیں تو جماعِ مقصودی نہیں، تو جماع کے ساتھ کس چیز کا تعلق ہے؟ فساد، تو فسادِ حج کا تعلق جماع کے ساتھ ہے تو اب باقی چیزوں کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہوگا یعنی باقی چیزیں وہ فسادِ حج کے ساتھ متعلق نہیں ہوں گی ان سے حج فاسد نہیں ہوگا۔ باقی چیزیں کیا؟ یہ جو بوسہ لینا ہے یا شہوت سے چھونا ہے، ٹھیک ہے یہ احرام کی ممنوعہ چیزیں ہیں، احرام کے اندر یہ منع ہیں، اسی لیے ہم نے کہا اس صورت میں دم واجب ہوگا لیکن حج فاسد نہیں ہوگا کیونکہ حج تو صرف کس سے فاسد ہوتا ہے؟ جماع سے فاسد ہوتا ہے، اور یہ یہ چیزیں جو ہیں جماعِ مقصودی نہیں بھئی، جماعِ مقصودی نہیں بھئی۔ تو ہماری دلیل یہ ہے کہ حج کے فاسد ہونے کا تعلق جو ہے وہ جماع کے ساتھ ہے، اسی لیے حج فاسد نہیں ہوتا باقی ممنوعہ چیزوں سے، اور یہ مقصودی جماع نہیں ہے یعنی چھونا اور بوسہ وغیرہ لینا، لہٰذا اس کے ساتھ متعلق نہیں ہوگی وہ چیز جس کا تعلق جماع سے ہے یعنی فسادِ حج، یعنی فسادِ حج کا تعلق ان کے ساتھ نہیں ہوگا۔ ”إِلَّا أَنَّ فِيهِ مَعْنَى الِاسْتِمْتَاعِ وَالِارْتِفَاقِ بِالْمَرْأَةِ، وَذَلِكَ مَحْظُورُ الْإِحْرَامِ فَيَلْزَمُهُ الدَّمُ“ مگر اس کے اندر چونکہ استمتاع اور ارتفاق ہے عورت سے—استمتاع اور ارتفاق کا ایک معنی یعنی نفع اٹھانا—لیکن یہ کہ اس کے اندر یہ بوسہ لینے اور شہوت کے ساتھ چھونے میں چونکہ نفع اٹھانا ہے، فائدہ اٹھانا ہے عورت سے، اور یہ تو احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے، محرم کو تو کیا کیا گیا ہے؟ بیوی سے نفع اٹھانے سے روکا گیا ہے، لہٰذا اس پر دم لازم ہوگا اگر اس نے بوسہ لیا یا شہوت سے چھوا۔ ”بِخِلَافِ الصَّوْمِ“ یہاں سے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا کہ جس طرح بوسہ لینے یا چھونے سے انزال اگر ہو جائے تو اس سے جیسے روزہ فاسد ہو جاتا ہے اسی طرح اس سے احرام بھی فاسد ہو جائے گا، تو ان کے اس قیاس کا جواب دے رہے ہیں کہ بخلاف روزے کے، ”لِأَنَّ الْمُحَرَّمَ فِيهِ قَضَاءُ الشَّهْوَةِ، وَلَا يَحْصُلُ بِدُونِ الْإِنْزَالِ فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ“ اس لیے کیونکہ روزے کے اندر حرام جو چیز کو قرار دیا گیا ہے وہ شہوت کو پورا کرنا ہے، اور یہ قضائے شہوت جو ہے یہ حاصل نہیں ہوتا بغیر انزال کے شرمگاہ کے علاوہ میں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں کہ روزہ تو جو ہے روزہ، وہ انزال سے اس وجہ سے فاسد ہو جاتا ہے اس لیے کیونکہ اس سے شہوت پوری ہو جاتی ہے اور روزے کے اندر شہوت پوری کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے، تو وہاں پر جب انزال ہو گیا تو شہوت پوری ہو گئی لہٰذا اس اس وجہ سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ جبکہ جبکہ حج کے فساد کا تعلق جو ہے وہ تو صرف جماع کے ساتھ ہے، جماع کی صورت میں تو فاسد ہوگا لیکن باقی ممنوعہ چیزوں میں سے اگر کوئی کر لے گا تو اس سے حج فاسد نہیں ہوتا، ہاں البتہ چونکہ جنایت کی ہے تو اس صورت میں اس کے مطابق جو ہے وہ کفارہ اس پر آتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”بخلاف الصوم لأن المحرم فيه قضاء الشهوة ولا يحصل بدون الإنزال فيما دون الفرج“ اس لیے کیونکہ روزے کے اندر حرام جو ہے وہ تو قضائے شہوت ہے اور وہ تو شرمگاہ کے علاوہ میں بغیر انزال کے حاصل نہیں ہوتا، یعنی وہ قضائے شہوت شرمگاہ کے علاوہ میں بغیر انزال کے حاصل نہیں ہوتی، تو لہٰذا انزال کی صورت میں قضائے شہوت پایا جائے گا اس وجہ سے روزہ تو کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا، لیکن حج جو ہے اس کے فساد کا تعلق تو صرف کس سے ہے؟ جماع کے ساتھ ہے، لہٰذا اور صورتوں کے اندر چاہے شہوت سے ہاتھ لگایا ہے یا شہوت سے بوسہ لیا ہے تو چاہے انزال ہو یا انزال نہ ہو، اس سے حج فاسد نہیں ہوگا، ہاں البتہ چونکہ احرام کے ممنوع کاموں میں سے کام کیا ہے تو اس صورت میں کفارہ واجب ہوگا یعنی دم یہاں پر لازم ہوگا بھئی۔ اچھا بھئی! یہاں انہوں نے یہ ذکر کیا اور نسبت کی امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف کہ ان کے نزدیک اگر بوسہ لینے یا شہوت سے چھونے کی وجہ سے انزال ہو جائے تو اس صورت میں اس شخص کا احرام ہی فاسد ہو جائے گا، لیکن علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نسبت امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف صحیح نہیں ہے بلکہ ان کا مذہب بھی ہمارے مذہب کی طرح ہے یعنی اس سے احرام فاسد نہیں ہوتا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ”هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام“۔
16 approved lectures · 5 of 16