وَيَجُوزُ الشَّاةُ لِأَنَّ الْمَنْصُوصَ عَلَيْهِ الْهَدْيُ وَالشَّاةُ أَدْنَاهُ، وَتُجْزِيهِ الْبَقَرَةُ وَالْبَدَنَةُ كَمَا فِي الضَّحَايَا، وَلَيْسَ الْمُرَادُ بِمَا ذَكَرْنَا بَعْثَ الشَّاةِ بِعَيْنِهَا لِأَنَّ ذٰلِكَ قَدْ يَتَعَذَّرُ بَلْ لَهُ أَنْ يَبْعَثَ بِالْقِيمَةِ حَتَّى تُشْتَرَى الشَّاةُ هُنَالِكَ وَتُذْبَحَ عَنْهُ۔ باب الاحصار چل رہا ہے بھئی۔ کوئی شخص جو ہے وہ کسی دشمن یا مرض کی وجہ سے حج پر نہ جا سکا، احرام باندھ چکا ہے اور پھر مرض یا دشمن کی وجہ سے حج پر نہ جا سکا، تو وہ ایک بھیڑ بکری بھیج دے گا حرم اور جس کے ہاتھ بھیجے اس سے وعدہ لے لے گا کہ فلاں معین دن اس کو ذبح کر دینا۔ اور پھر اس دن یہ کیا ہو جائے یہاں پر؟ حلال ہو جائے بھئی۔ تو اب اس کے اندر کون سا جانور بھیجنا جائز ہے اور کون سا بھیجنا جائز نہیں؟ تو کہتے ہیں: "وَيَجُوزُ الشَّاةُ" اور اس ہدی کے اندر بھیڑ بکری کا بھیجنا جائز ہے بھئی۔ بھیڑ بکری کا بھیجنا بھی جائز ہے، "لِأَنَّ الْمَنْصُوصَ عَلَيْهِ الْهَدْيُ" اس لیے کیونکہ وہ جس پر نص لائی گئی ہے وہ ہدی ہے۔ نص کے اندر کیا لفظ آیا تھا؟ ہدی: حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ۔ تو نص میں یعنی آیت کے اندر ہدی کا لفظ آیا تھا، "وَالشَّاةُ أَدْنَاهُ" اور بھیڑ بکری جو ہے یہ اس ہدی کا... میں کم سے کم ہے۔ تو ہدی کا لفظ آیا تو ہدی کا لفظ تو بھیڑ بکری کو بھی شامل، گائے بیل کو بھی شامل اور اونٹ کو بھی شامل ہے، تو ان میں سب سے کم تر کیا ہے؟ بھیڑ بکری ہے، تو ہدی کا لفظ جب ان پر بولا جاتا ہے تو بھیڑ بکری بھیجنا بھی جائز ہو گا۔ تو کہتے ہیں: "وَالشَّاةُ أَدْنَاهُ" اور بھیڑ بکری اس میں کم سے کم ہے، "وَتُجْزِيهِ الْبَقَرَةُ وَالْبَدَنَةُ كَمَا فِي الضَّحَايَا" اور کافی ہے اس کے لیے گائے بیل، "وَالْبَدَنَةُ" اور اونٹ، "كَمَا فِي الضَّحَايَا" جیسے کہ قربانی میں ہوتا ہے۔ جیسے قربانیوں کے اندر یہ جائز ہیں اسی طرح یہاں بھی یہ جائز ہیں۔ اور "وَتُجْزِيهِ الْبَقَرَةُ وَالْبَدَنَةُ" آگے عبارت ہے کسی کی کتاب میں: "وَسُبْعُهُمَا"؟ چلیے، بہرحال یاد رکھیے بعض... ہدایہ کے بعض نسخوں میں "وَسُبْعُهُمَا" کا لفظ بھی ہے کہ بقرہ یا بدنہ یا ان کا ساتواں حصہ بھی کافی ہے جیسے کس میں ہے؟ ضحایا یعنی قربانی کے جانوروں میں ہے بھئی۔ "وَلَيْسَ الْمُرَادُ بِمَا ذَكَرْنَا..." آگے یہ ذکر کر رہے ہیں کہ متن میں تو آیا تھا کہ اس آدمی سے کہا جائے گا ایک بھیڑ بکری بھیج دو، تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ عینِ بھیڑ بکری کو ہی بھیجے گا اور یہ اس پر لازمی ہے، بلکہ بھیڑ بکری کو بھی بھیج سکتا ہے اور اس کی قیمت بھی بھیج سکتا ہے۔ کہتے ہیں: "وَلَيْسَ الْمُرَادُ بِمَا ذَكَرْنَا بَعْثَ الشَّاةِ بِعَيْنِهَا" اور وہ جو ہم نے ذکر کیا اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ بعث الشاۃ بعینھا کہ وہ معین طور پر بھیڑ بکری کو بھیجے، "لِأَنَّ ذٰلِكَ قَدْ يَتَعَذَّرُ" اس لیے کیونکہ کبھی کبھار یہ مشکل ہو جاتا ہے، "بَلْ لَهُ أَنْ يَبْعَثَ بِالْقِيمَةِ" بلکہ اس کے لیے جائز ہے کہ وہ قیمت بھیج دے، "حَتَّى تُشْتَرَى الشَّاةُ هُنَالِكَ" یہاں تک کہ اسے بھیڑ بکری وہاں پر خرید لی جائے، "وَتُذْبَحَ عَنْهُ" اور اس کی طرف سے ذبح کر لی جائے۔ تو معلوم ہوا قیمت بھیجنا بھی جائز ہے۔ "وَقَوْلُهُ: ثُمَّ تَحَلَّلَ" اور ماتن کا قول جو ہے، متن میں جو آیا تھا: "ثُمَّ تَحَلَّلَ" پھر تم حلال ہو جاؤ، کہتے ہیں: اشارہ یہ قول جو ہے اشارہ ہے اس بات کی طرف "إِلَى أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ الْحَلْقُ أَوِ التَّقْصِيرُ" کہ اس شخص پر، یہ جو حلال ہونے والا ہے، یہ جو محصر ہے، اس پر حلق یا تقصیر واجب نہیں۔ سر منڈوانا یا سر کے بال چھوٹے... چھوٹے کروانا اس پر واجب نہیں ہے بھئی۔ "وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى" اور یہی قول ہے طرفین رحمہما اللہ کا۔ "وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: عَلَيْهِ ذٰلِكَ" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس پر حلق یا تقصیر واجب ہے، "وَلَوْ لَمْ يَفْعَلْ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ" اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو بھی اس پر کچھ نہیں ہے، ہے اس پر واجب لیکن اگر وہ نہ بھی کرے تو اس پر کوئی دم وغیرہ واجب نہیں ہے۔ دلیل ان کی، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی، وہ فرماتے ہیں: "لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَلَقَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ وَكَانَ مُحْصَرًا بِهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذٰلِكَ" وہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے حدیبیہ کے سال حلق کروایا تھا جب آپ محصر ہو گئے تھے، مشرکین نے عمرے کی اجازت نہیں دی تھی تو آپ نے حلق کروایا تھا، "وَكَانَ مُحْصَرًا بِهَا" اور آپ حدیبیہ میں محصر تھے، "وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذٰلِكَ" اور آپ نے اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا۔ "وَلَهُمَا" اور طرفین کی دلیل یہ ہے: "أَنَّ الْحَلْقَ إِنَّمَا عُرِفَ قُرْبَةً مُرَتَّبًا عَلَى أَفْعَالِ الْحَجِّ فَلَا يَكُونُ نُسُكًا قَبْلَهَا" طرفین فرماتے ہیں کہ حلق یا قصر جو ہے یہ عبادت ہے، لیکن یہ عبادت اس وقت ہے جب یہ حج کے افعال پر مرتب ہو، یعنی حج کے افعال کے بعد کوئی شخص کیا کر... کوئی شخص کیا کرے؟ حلق یا قصر کروائے، تو تب تو اس کو عبادت جانا گیا ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے اگر کوئی حلق یا قصر کرواتا ہے تو وہ عبادت نہیں، اور یہاں پر تو یہ شخص محصر ہے، اس نے تو حج یا عمرے کے افعال نہیں کیے، لہٰذا اس کے لیے حلق یا قصر عبادت نہیں تو اس پر لازم نہیں ہے بھئی۔ تو "وَلَهُمَا" اور طرفین کی دلیل یہ ہے: "أَنَّ الْحَلْقَ إِنَّمَا عُرِفَ قُرْبَةً مُرَتَّبًا عَلَى أَفْعَالِ الْحَجِّ" کہ حلق جو ہے اس کو جانا گیا ہے ایسی عبادت کے طور پر جو مرتب ہوتی ہے حج کے افعال پر، "فَلَا يَكُونُ نُسُكًا قَبْلَهَا" تو لہٰذا یہ ان افعالِ حج سے پہلے عبادت نہیں ہو گی۔ "وَفَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِيُعْرَفَ اسْتِحْكَامُ عَزِيمَتِهِمْ عَلَى انْصِرَامِي" اور آپ آگے جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل کا۔ انہوں نے کیا ذکر کیا کہ حضور علیہ السلام اور صحابہ نے حلق کروایا تھا، تو کہتے ہیں اور حضور علیہ السلام اور آپ کے صحابہ نے حلق کروایا: "لِيُعْرَفَ اسْتِحْكَامُ عَزِيمَتِهِمْ عَلَى انْصِرَامِي" انصرام ہے آپ کی کتابوں میں؟ انصراف نہیں ہے کسی کی کتاب میں؟ انصراف ہے؟ ہاں، یہ انصراف ہونا چاہیے، میم نہیں ہے بلکہ فا ہے۔ انصراف کا معنی پلٹنا، پلٹنا بھئی، پھر جانا، واپس ہونا۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے یہ حلق اس لیے کروایا تھا تاکہ مشرکین کو بھی پتہ چل جائے کہ انہوں نے حلق کروا لیا ہے، معلوم ہوا ان کا واپس جانے کا پکا ارادہ ہے۔ ویسے تو حلق کب کرواتے تھے؟ عمرے کے بعد کرواتے ہیں، لیکن یہاں حضور علیہ السلام نے خود بھی کیا اور صحابہ کو بھی حکم دیا کس لیے؟ تاکہ ان کو پتہ چل جائے، ان کو خبر مل جائے کہ انہوں نے حلق بھی کروا دیا ہے، تاکہ ان کو یقین ہو جائے کہ اب مسلمان واقعی واپس جا رہے ہیں، اب ان کا عمرے کا ارادہ نہیں ہے۔ اگر عمرے کا ارادہ ہوتا تو یہ پہلے حلق نہ کرواتے۔ اور یہ اس لیے کیا تاکہ ان کو خبر مل جائے اور وہ کہیں پھر کوئی تکلیف وغیرہ نہ پہنچائیں بھئی مسلمانوں کو، سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: "وَفَعَلَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَصْحَابُهُ" اور کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے، "لِيُعْرَفَ اسْتِحْكَامُ عَزِيمَتِهِمْ" تاکہ جان لیا جائے ان کے ارادے کے پکا ہونے کو، "عَلَى انْصِرَافِ" کس چیز پر؟ پلٹ جانے پر، پھر جانے پر کہ یہ اب واپس جا رہے ہیں، تاکہ ان کو ی... ان کو پتہ چل جائے اور وہ پھر مسلمانوں کو کوئی تکلیف وغیرہ نہ پہنچائیں بھئی۔ "قَالَ: وَإِنْ كَانَ قَارِنًا بَعَثَ بِدَمَيْنِ لِاحْتِيَاجِهِ إِلَى التَّحَلُّلِ عَنْ إِحْرَامَيْنِ" بھئی جو شخص محصر ہوا حج یا عمرے سے، وہ کیا کرے گا؟ ایک ہدی بھیجے گا۔ لیکن اگر وہ شخص حجِ قران کرنے والا تھا جو محصر ہے، اس کا ارادہ حجِ قران کا تھا، تو اس نے تو حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا ہے، لہٰذا اب اس کے لیے ایک بھیڑ بکری کافی نہیں بلکہ اس پر دو دم آئیں گے، تو وہ دو جانور بھیجے گا یا وہاں پر قیمت دے دے، دو حصے کروا دے گا گائے یا اونٹ کے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ كَانَ قَارِنًا" اور محصر اگر محصر جو ہے اگر وہ حجِ قران کرنے والا تھا، "بَعَثَ بِدَمَيْنِ" تو وہ دو دم بھیجے گا، "لِاحْتِيَاجِهِ إِلَى التَّحَلُّلِ عَنْ إِحْرَامَيْنِ" اس لیے کیونکہ وہ محتاج ہے دو احراموں سے حلال ہونے کا، تو دونوں کے لیے ایک ایک ہدی بھیجے۔ "فَإِنْ بَعَثَ بِهَدْيٍ وَاحِدٍ لِيَتَحَلَّلَ عَنِ الْحَجِّ وَيَبْقَى فِي إِحْرَامِ الْعُمْرَةِ لَمْ يَتَحَلَّلْ عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا" صورت یہ کہ حجِ قران والا تھا وہ محصر ہو گیا، اب حج کے تو مخصوص دن ہیں اور وہ گزر جائیں گے تو پھر تو حج فوت ہو جائے گا، تو اس نے کیا کیا؟ ایک ہدی وہ بھیج دیتا ہے کہ چلو یہ حج کا جو احرام ہے اس سے میں حلال ہو جاتا ہوں اور عمرہ تو میں پھر بھی کر لوں گا چند دن ٹھہر کر بھی، تو کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ دونوں احرام اکٹھے باندھے گئے تھے اور ان سے اکٹھا ہی حلال ہوا جاتا ہے، یہ نہیں کہ ایک سے حلال ہو جائے اور دوسرا باقی رہے۔ لہٰذا ایک جانور بھیج دے گا تو بھی کوئی ایک احرام بھی اس کا ختم نہیں ہو گا کیونکہ دونوں کو دونوں سے اکٹھا حلال ہوا جاتا ہے، الگ الگ نہیں۔ لہٰذا ایک جانور بھیج بھی دے گا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، دونوں احرام اسی طرح باقی رہیں گے۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ بَعَثَ بِهَدْيٍ وَاحِدٍ" اگر اس نے ایک ہی ہدی بھیجی، "لِيَتَحَلَّلَ عَنِ الْحَجِّ" تاکہ وہ حج سے حلال ہو جائے، "وَيَبْقَى فِي إِحْرَامِ الْعُمْرَةِ" اور باقی رہے عمرے کے احرام میں، "لَمْ يَتَحَلَّلْ عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا" تو وہ ان دونوں میں سے کسی ایک سے بھی حلال نہیں ہو گا، "لِأَنَّ التَّحَلُّلَ مِنْهُمَا شُرِعَ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ" اس لیے کیونکہ ان دونوں سے حلال ہونا جو ہے مشروع ہوا ہے ایک ہی حالت میں یعنی اکٹھا ہی۔ "وَلَا يَجُوزُ ذَبْحُ دَمِ الْإِحْصَارِ إِلَّا فِي الْحَرَمِ، وَيَجُوزُ ذَبْحُهُ قَبْلَ يَوْمِ النَّحْرِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" کہتے ہیں: "وَلَا يَجُوزُ ذَبْحُ دَمِ الْإِحْصَارِ" اور جائز نہیں ہے دمِ احصار کو ذبح کرنا، "إِلَّا فِي الْحَرَمِ" سوائے حرم کے، وہ صرف وہیں ذبح کر سکتے ہیں۔ "وَيَجُوزُ ذَبْحُهُ قَبْلَ يَوْمِ النَّحْرِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور جائز ہے اس کو یوم النحر سے پہلے بھی ذبح کرنا امام صاحب کے نزدیک۔ "وَقَالَا" اور صاحبین فرماتے ہیں: "لَا يَجُوزُ ذَبْحُهُ لِلْمُحْصَرِ بِالْحَجِّ إِلَّا فِي يَوْمِ النَّحْرِ" کہ محصر بالحج جو ہے اس کے لیے ذبح جائز نہیں ہے الا فی یوم النحر مگر یوم النحر میں، اسی دن قربانی کروانا پڑے گی۔ "وَيَجُوزُ لِلْمُحْصَرِ بِالْعُمْرَةِ مَتَى شَاءَ" اور محصر بالعمرہ کے لیے جائز ہے جب وہ چاہے ذبح کروا سکتا ہے، لیکن محصر بالحج کے لیے کیا ضروری؟ یوم النحر والا دن ضروری ہے بھئی۔ "اعْتِبَارًا بِهَدْيِ الْمُتْعَةِ وَالْقِرَانِ" قیاس کرتے ہوئے متعہ اور قران کی ہدی پر، صاحبین قیاس کرتے ہیں اس دمِ احصار کو دمِ متعہ پر یعنی وہ جو تمتع والا قربانی کرتا ہے، یا دمِ قران پر جو قران والا کیا کرتا ہے؟ قربان... اور حجِ تمتع اور حجِ قران کرنے والا وہ کس دن قربانی کرتا ہے؟ وہ تو یوم النحر والے دن کرتا ہے، تو اسی پر وہ قیاس کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ محصر جو دم بھیج رہا ہے یہ بھی کس دن کرنا ضروری؟ یوم النحر والے دن بھئی۔ یہ معنی ہے "اعْتِبَارًا بِهَدْيِ الْمُتْعَةِ وَالْقِرَانِ" قیاس کرتے ہوئے متعہ یعنی تمتع اور قران کی ہدی پر۔ "وَرُبَّمَا يَعْتَبِرَانِهِ بِالْحَلْقِ إِذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُحَلِّلٌ" اور بسا اوقات وہ اس کو قیاس کرتے ہیں حلق پر۔ اس دمِ محصر، یہ جو محصر نے قربانی بھیجی، اس کو وہ کس پر قیاس کرتے ہیں؟ حلق پر قیاس کرتے ہیں، "إِذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُحَلِّلٌ" اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک حلال کرنے والا ہے۔ بھئی جو شخص حج کرتا ہے تو حج کے افعال جب پورے ہو گئے یوم النحر والے دن پھر وہ کیا کرتا ہے؟ حلق کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ حلق کرواتا ہے، اور اس سے احرام ختم ہو جاتا ہے تو وہ حلال ہو جاتا ہے۔ تو معلوم ہوا حلق محلل ہے، اس شخص کو حلال کرنے والا ہے یعنی اس کو احرام سے نکالنے والا ہے۔ اسی طرح یہ دمِ محصر بھی کیا ہے؟ یہ جس دن ذبح ہو گا اس دن یہ شخص احرام سے نکل جائے گا یہ محصر جو ہے، تو حلق بھی محلل اور یہ دمِ احصار بھی محلل۔ اور حلق تو کس دن کیا جاتا ہے؟ یوم النحر والے دن، تو لہٰذا دمِ احصار بھی کس دن ذبح کیا جائے گا؟ یوم النحر والے دن، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے "وَرُبَّمَا يَعْتَبِرَانِهِ بِالْحَلْقِ" اور بسا اوقات صاحبین اس کو قیاس کرتے ہیں حلق پر، "إِذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُحَلِّلٌ" اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک محلل ہے یعنی حلق اور یہ ذبح جو ہے۔ "وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ یوم النحر سے پہلے بھی ذبح کروا سکتا ہے جب چاہے، تو امام صاحب کی دلیل یہ ہے: "أَنَّهُ دَمُ كَفَّارَةٍ" کہ یہ دمِ کفارہ ہے، "حَتَّى لَا يَجُوزَ الْأَكْلُ مِنْهُ" حتیٰ کہ اس میں سے کھانا جائز نہیں ہے اس کے لیے، "فَيَخْتَصُّ بِالْمَكَانِ دُونَ الزَّمَانِ كَسَائِرِ دِمَاءِ الْكَفَّارَاتِ" تو یہ جگہ کے ساتھ خاص ہو گا نہ کہ زمانے کے ساتھ، جیسے کہ تمام کفارات کے دم ہیں۔ جیسے کفارات کے دم ہیں جتنے بھی وہ سارے جس جب بھی کرنا چاہے، ہر یوم النحر سے پہلے بھی کرنا چاہے تو ان کو ذبح کروا سکتا ہے، بلکہ پہلے کروانا بہتر ہے تاکہ جلدی سے جلدی جنایت کی تلافی ہو جائے اور یہ گوشت فقراء تک پہنچ جائے۔ تو یہ معنی ہے کہ یہ جو ہے یہ دمِ کفارہ ہے یہاں تک کہ اس میں سے کھانا اس کے لیے جائز نہیں ہے، تو یہ جگہ یعنی حرم کے ساتھ تو خاص ہو گا، زمانے کے ساتھ یعنی یوم النحر کے ساتھ یہ خاص نہیں ہو گا، جیسے کہ کفارات کے سارے دم ہیں۔ "بِخِلَافِ دَمِ الْمُتْعَةِ وَالْقِرَانِ لِأَنَّهُ دَمُ نُسُكٍ" بخلاف دمِ متعہ اور قران کے، اس لیے کیونکہ وہ تو عبادت کے دم ہیں، وہ تو بطورِ شکر کے ہیں، لہٰذا ان پر آپ اس کو قیاس نہیں کر سکتے، یہ دمِ کفارہ اور وہ دمِ شکر، دونوں الگ چیزیں ہیں۔ "وَبِخِلَافِ الْحَلْقِ" اور صاحبین نے کس پر قیاس کیا تھا؟ حلق پر، اور حلق پر بھی کہتے ہیں قیاس نہیں کر سکتے، "لِأَنَّهُ فِي أَوَانِهِ" اس لیے کیونکہ حلق تو اپنے وقت پر ہوا ہے، کیونکہ وہ یوم النحر یہ وقت ہی کس چیز کا ہے؟ حلق کا ہے، کیونکہ وہ حج کا رکنِ اعظم یعنی وقوفِ عرفات ادا کر چکا ہے، کیا کر چکا ہے؟ وقوفِ عرفات ادا کر چکا ہے اور اب یہ حلق ہی کا وقت ہے، تو لہٰذا وہ یوم النحر والے دن ہی کروائے گا کیونکہ اس سے پہلے تو ابھی اس کا وقت ہی نہیں آیا تھا حلق کا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا حلق کا تو وہ وقت ہے جبکہ اس دم کا تو کوئی وقت نہیں ہے یہ پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ یہ معنی ہے "وَبِخِلَافِ الْحَلْقِ" اور بخلاف حلق کے، "لِأَنَّهُ فِي أَوَانِهِ" اس لیے کیونکہ حلق تو اپنے وقت میں ہے، "لِأَنَّ مُعَظَّمَ أَفْعَالِ الْحَجِّ وَهُوَ الْوُقُوفُ يَنْتَهِي بِهِ" اس لیے کیونکہ حج کے افعال کا میں جو سب سے بڑا فعل ہے، "وَهُوَ الْوُقُوفُ" اور وہ وقوف ہے، "يَنْتَهِي بِهِ" وہ اس حلق کے ذریعے پورا ہو جاتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے یعنی پورا ہو جاتا ہے۔ "قَالَ: وَالْمُحْصَرُ بِالْحَجِّ إِذَا تَحَلَّلَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ" صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور محصر بالحج جب وہ حلال ہو جائے تو اس پر ایک حج ہے اور ایک عمرہ ہے، "هٰكَذَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ" اسی طرح روایت کیا گیا ہے حضرت عبد اللہ ابن عباس اور حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھئی۔ "وَلِأَنَّ الْحَجَّةَ يَجِبُ قَضَاؤُهَا لِصِحَّةِ الشُّروعِ وَالْعُمْرَةُ لِمَا أَنَّهُ فِي مَعْنَى فَائِتِ الْحَجِّ" ایک تو عقلی دلیل ذکر کر دی کہ محصر بالحج کیا کرے گا؟ جب حلال ہو جائے گا تو پھر اس پر ایک حج بھی واجب اور ایک عمرہ بھی واجب، نقلی دلیل ذکر کر دی کہ حضرت عبد اللہ ابن عباس اور حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اسی طرح روایت ہے، اور نیز عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں حج کی قضا تو اس لیے کیونکہ اس نے حج کا احرام جب باندھا تھا، حج شروع کر دیا تھا تو حج اس پر لازم ہو گیا۔ اور عمرہ کس لیے لازم؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ فائت الحج کے معنی میں ہے، وہ شخص جس کا حج فوت ہو جائے یعنی وقوفِ عرفہ رہ جائے، اور جس کا وقوفِ عرفہ رہ جاتا ہے وہ پھر احرام سے کس طرح حلال ہوتا ہے؟ عمرے کے... عمرہ کر کے حلال ہوتا ہے۔ تو یہ شخص اس کا بھی جب یہ محصر ہو گیا، وقوفِ عرفہ رہ جائے گا یا نہیں رہ جائے گا؟ تو یہ بھی فائت الحج کی طرح ہوا، اور فائت الحج پر تو عمرہ ہوتا ہے، لہٰذا اس پر بھی کیا واجب ہو گا؟ ایک عمرہ واجب ہو گا۔ تو ایک حج بھی اس پہ ذمے اور عمرہ بھی۔ "وَلِأَنَّ الْحَجَّةَ يَجِبُ قَضَاؤُهَا" اور اس لیے کیونکہ حج جو ہے اس کی قضا واجب ہے "لِصِحَّةِ الشُّروعِ" شروع کے صحیح ہونے کی وجہ سے، "وَالْعُمْرَةُ لِمَا أَنَّهُ فِي مَعْنَى فَائِتِ الْحَجِّ" اور عمرہ بھی اس پر واجب ہے اس وجہ سے کہ یہ شخص جو ہے حج کو فوت کر دینے والے کے معنی میں ہے۔ "وَعَلَى الْمُحْصَرِ بِالْعُمْرَةِ الْقَضَاءُ" اور محصر بالعمرہ پر اس کی قضا ہے۔ یہ تو محصر بالحج کی بات ختم ہوئی، اب محصر بالعمرہ کی بات آئی: کوئی شخص عمرے پر جا رہا تھا، احرام باندھ لیا اور پھر کسی مرض یا دشمن کی وجہ سے روک دیا گیا تو یہ محصر بالعمرہ ہے، اور یہ بھی اسی طرح قربانی کا جانور بھیجے گا اور پھر جب وہ جانور ذبح ہو جائے تو یہ حلال ہو جائے گا، اور اس کے ذمہ اس اس عمرے کی قضا ہے کیونکہ اس عمرے کا اس نے احرام باندھا تھا تو عمرہ کیا ہوا اس کے ذمے لازم ہو گیا۔ "وَعَلَى الْمُحْصَرِ بِالْعُمْرَةِ الْقَضَاءُ" اور محصر بالعمرہ پر اس عمرے کی قضا ہے، "وَالْإِحْصَارُ عَنْهَا يَتَحَقَّقُ عِنْدَنَا" اور... اچھا بھئی، کوئی محصر بالعمرہ ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ محصر بالحج تو بالاتفاق ہو سکتا ہے، اس لیے کیونکہ حج کے مخصوص ایام ہیں، اگر ایک شخص کو دشمن نے روک دیا یا مرض نے روک دیا اور پھر وہ حج گزر گیا تو کب آئے گا حج؟ اگلے سال آئے گا حج بھئی، تو یہ تو بڑا لمبا زمانہ ہے، لہٰذا حج سے تو احصار ہو سکتا ہے۔ اور عمرے کے اندر احصار ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، عمرے سے احصار نہیں ہو سکتا اس لیے کیونکہ عمرہ تو سارا سال جائز ہے، تاخیر ہو جائے گی خیر ہے لیکن احصار نہیں ہو سکتا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، عمرے سے بھی احصار ہو سکتا ہے جیسے صلح حدیبیہ کے موقع پر وہاں حضور علیہ السلام عمرہ ادا کرنے ہی تشریف لائے تھے اور دشمنوں نے عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی بھئی، تو وہ محصر بالعمرہ ہی تھے بھئی۔ "وَالْإِحْصَارُ عَنْهَا يَتَحَقَّقُ عِنْدَنَا" اور احصار عن العمرہ جو ہے یہ پا... یہ ہو سکتا ہے ہمارے نزدیک، اس کا تحقق ہو سکتا ہے ہمارے نزدیک، "وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَتَحَقَّقُ" اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ اس کا تحقق نہیں ہو سکتا یعنی احصار عن العمرہ کا تحقق نہیں ہو سکتا، یعنی یہ نہیں ہو سکتا، "لِأَنَّهَا لَا تَتَوَقَّتُ" اس لیے کیونکہ یہ کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں۔ "وَلَنَا" اور ہماری دلیل یہ ہے "أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَصْحَابَهُ أُحْصِرُوا بِالْحُدَيْبِيَةِ وَكَانُوا عُمَّارًا" کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جو ہیں محصر ہوئے تھے حدیبیہ میں اور وہ عمرہ کرنے والے تھے، وہ کس لیے آئے تھے؟ عمرہ کرنے آئے تھے۔ "وَلِأَنَّ شَرْعَ التَّحَلُّلِ لِدَفْعِ الْحَرَجِ" اور اس لیے کیونکہ یہ حلال ہونے کا مشروع ہونا، یہ جو حلال ہونا جائز ہے کس کے لیے؟ محصر کے لیے، تو یہ حلال ہونے کا جواز جو ہے "لِدَفْعِ الْحَرَجِ" یہ کس لیے ہے؟ حرج کو دور کرنے کے لیے ہے، "وَهٰذَا مَوْجُودٌ فِي إِحْرَامِ الْعُمْرَةِ" اور یہ تو عمرے کے احرام میں بھی موجود ہے کہ اس کے اندر بھی پھر احرام لمبا ہو جائے گا۔ "وَإِذَا تَحَقَّقَ الْإِحْصَارُ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ إِذَا تَحَلَّلَ كَمَا فِي الْحَجِّ" اور جب احصار کا تحقق ہو جائے یعنی جب احصار عن العمرہ پایا جائے، "فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ" تو اس شخص پر اس کی عمرے کی قضا واجب ہے، "إِذَا تَحَلَّلَ" جب یہ حلال ہو جائے، "كَمَا فِي الْحَجِّ" جیسے کہ حج میں حج کی قضا ہوتی ہے۔ "وَعَلَى الْقَارِنِ حَجٌّ وَعُمْرَتَانِ" اور قارن پر حج اور دو عمرے ہیں۔ محصر ہو گیا حجِ قران کرنے والا، تو جو حج سے محصر ہوتا تھا اس پر کیا آتا تھا؟ ایک حج اور ایک عمرہ، اور ایک عمرے کا تو اس نے احرام باندھا بھی ہوا ہے، وہ عمرہ بھی اس پر آ جائے گا تو کتنے ہو گئے؟ ایک حج اور دو عمرے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ صرف محصر بالحج ہوتا تھا تو اس پر ایک حج اور ایک عمرہ، اور تو اس کا جو حج رہ گیا اس کی وجہ سے، حج کی وجہ سے ایک حج آیا اس پر اور ایک عمرہ، اور دوسرا یہ حجِ قران والا ہے اس نے تو عمرے کا بھی احرام باندھ رکھا ہے تو عمرے کی قضا بھی آ جائے گی تو دو عمرے اور ایک حج۔ یہ معنی ہے "وَعَلَى الْقَارِنِ حَجٌّ وَعُمْرَتَانِ" اور قارن پر جو ہے ایک حج اور دو عمرے ہیں، "أَمَّا الْحَجُّ وَإِحْدَاهُمَا فَلِمَا بَيَّنَّا" باقی ایک حج اور عمروں میں سے ایک جو ہے، فَلِمَا بَيَّنَّا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ حجِ افراد والا اگر محصر ہو جائے تو اس پر کیا آتا ہے؟ ایک حج اور ایک عمرہ۔ "وَالثَّانِيَةُ" اور دوسرا عمرہ جو ہے "لِأَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا بَعْدَ صِحَّةِ الشُّروعِ" اس لیے کیونکہ یہ اس عمرے سے نکل گیا بعد اس کے شروع کے صحیح ہونے کے، اس کا شروع کرنا صحیح تھا اور اس کے بعد یہ اس عمرے سے نکل گیا تو اس کی بھی قضا آئے گی۔ "فَإِنْ بَعَثَ الْقَارِنُ هَدْيًا وَوَاعَدَهُمْ أَنْ يَذْبَحُوهُ فِي يَوْمٍ بِعَيْنِهِ ثُمَّ زَالَ الْإِحْصَارُ فَإِنْ كَانَ لَا يُدْرِكُ الْحَجَّ وَالْهَدْيَ..." اچھا بھئی، یہاں سے مختلف صورتیں ذکر کر رہے ہیں۔ حجِ قران والا تھا اور اس نے وہ محصر ہو گیا اور اس نے ہدی بھجوا دی، اور بھیجنے والے سے ایک معین دن کا وعدہ لے لیا کہ فلاں دن پہنچ کر تم نے اس جانور کو ذبح کرنا ہے، ذبح کرنا ہے۔ وہ شخص اس سے قربانی کا جانور لے کر چل پڑا یا اس کی قیمت لے کر چل پڑا، ادھر احصار ختم ہو گیا، وہ دشمن چلا گیا یا یہ بیمار تھا وہ بیماری ختم ہوئی، یہ ٹھیک ہو گیا، تو اب چار صورتیں بنتی ہیں: ایک صورت یہ کہ اگر یہ اب چلتا ہے تو اپنے قربانی کے جانور کو بھی پا لے گا اور حج کو بھی پا لے گا، دونوں کو پا لیتا ہے، ایک صورت۔
دوسری صورت: نہ قربانی کے جانور کو پا سکتا ہے اور نہ حج کو پا سکتا ہے۔
تیسری صورت: قربانی کے جانور کو تو پا سکتا ہے لیکن حج کو نہیں پا سکتا۔
چوتھی صورت: حج کو پا سکتا ہے لیکن قربانی کے جانور کو نہیں پا سکتا، تو یہ چار صورتیں ذکر ہوں گی اور ہر ایک کا حکم بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ بَعَثَ الْقَارِنُ هَدْيًا" اور اگر قارن نے ہدی بھیجی، "وَوَاعَدَهُمْ أَنْ يَذْبَحُوهُ فِي يَوْمٍ بِعَيْنِهِ" اور ان لوگوں سے وعدہ لے لیا کہ وہ اس کو ذبح کریں گے ایک معین دن میں، "ثُمَّ زَالَ الْإِحْصَارُ" پھر وہ احصار ختم ہو گیا، وہ رکاوٹ جو تھی وہ ختم ہو گئی، "فَإِنْ كَانَ لَا يُدْرِكُ الْحَجَّ وَالْهَدْيَ" پس اگر یہ شخص نہ تو حج کو پا سکتا ہے اور نہ ہدی کو، دونوں میں سے کسی کو نہیں پا سکتا، "لَا يَلْزَمُهُ أَنْ يَتَوَجَّهَ" تو اس پر چلنا لازم نہیں ہے یعنی اب اس کے لیے جانا لازم نہیں ہے، "بَلْ يَصْبِرُ حَتَّى يَتَحَلَّلَ بِنَحْرِ الْهَدْيِ" بلکہ یہ صبر کرے گا یہاں تک کہ حلال ہو جائے گا ہدی کے نحر سے اس کے ذبح سے۔ بس انتظار کرے یہیں پر صبر کرے کیونکہ ہدی اور حج دونوں کو یہ پہنچ ہی نہیں سکتا تھا تو بس یہیں پر صبر سے انتظار کرے، اور پھر جب وہ دن آ جائے جس دن وہ ہدی ذبح ہو جائے گی تو پھر حلال ہو جائے، تو پھر حلال ہو جائے گا، "لِفَوَاتِ الْمَقْصُودِ مِنَ التَّوَجُّهِ" اس لیے کیونکہ وہ جو توجہ سے مقصود تھا وہ فوت ہو گیا، اور وہ کیا تھا؟ "وَهُوَ أَدَاءُ الْأَفْعَالِ" وہ تو حج کے افعال کا ادا کرنا تھا وہ فوت ہو گیا۔ "وَإِنْ تَوَجَّهَ لِيَتَحَلَّلَ بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ لَهُ ذٰلِكَ" بھئی یہ شخص چاہتا ہے کہ جائے، حج تو فوت ہو گیا، جا کر عمرہ کر کے حلال ہو جائے، کہتے ہیں ہاں ایسا کر سکتا ہے، ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے کیونکہ یہ فائت الحج کے معنی میں ہے، وہ شخص جس کا حج فوت ہو گیا ہو۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ تَوَجَّهَ" اور اگر یہ متوجہ ہوتا ہے یعنی چل پڑتا ہے، "لِيَتَحَلَّلَ بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ" تاکہ حلال ہو جائے عمرے کے افعال کے ذریعے، "لَهُ ذٰلِكَ" تو اس کے لیے یہ جائز ہے، "لِأَنَّهُ فَائِتُ الْحَجِّ" اس لیے کیونکہ یہ حج کو فوت کرنے والا ہے۔ "وَإِنْ كَانَ يُدْرِكُ الْحَجَّ وَالْهَدْيَ" اور اگر یہ حج اور ہدی دونوں کو پا سکتا ہے، "لَزِمَهُ التَّوَجُّهُ" تو اس پر متوجہ ہونا اور چلنا لازم ہے، "لِزَوَالِ الْعِجْزِ" اس لیے کیونکہ عاجزی ختم ہو گئی، پہلے تو جا ہی نہیں سکتا تھا عاجز تھا اب عاجزی ختم ہو گئی، "قَبْلَ حُصُولِ الْمَقْصُودِ بِالْخَلَفِ" نائب کے ذریعے مقصود کے حاصل ہونے سے پہلے ہی۔ بھئی دیکھیے، یہ ہدی کے ذریعے مقصد کیا تھا اس کا؟ تاکہ اس کے ذریعے حلال ہو گا، حلال ہو گا۔ اور کیوں حلال ہو گا؟ کیونکہ جا تو سکتا نہیں تھا جانے سے تو یہ عاجز تھا، لیکن اب اس کا عجز ختم ہو گیا اور ابھی اس نائب کے ذریعے مقصود حاصل نہیں ہوا۔ کیا نائب تھا؟ یہ جو ہدی بھیجی تھی، یہ وہاں جا کر ذبح ہو گی اور پھر یہ کیا ہو جائے گا؟ حلال۔ تو اس نائب کے ذریعے ابھی حلال ہونا حاصل نہیں ہوا تھا کہ اس سے پہلے ہی کیا ہو گیا؟ عجز ختم ہو گیا، جب عجز ختم ہو گیا اور مقصود بھی ابھی حاصل نہیں ہوا تو اس کے لیے جانا لازم ہے کہ جائے جا کر اب کیا کرے؟ افعال ادا کرے، حج کرے اور پھر اس کے بعد کیا ہو؟ حلال ہو جائے، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ اب دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے: "لِزَوَالِ الْعِجْزِ قَبْلَ حُصُولِ الْمَقْصُودِ بِالْخَلَفِ" اس وجہ سے کہ نائب کے ذریعے مقصود کے حاصل ہونے سے پہلے ہی عجز ختم ہو گیا، اب ترجمہ سمجھ میں آیا؟ "وَإِذَا أَدْرَكَ هَدْيَهُ صَنَعَ بِهِ مَا شَاءَ" اچھا بھئی یہ چل پڑا، حج تو اس نے کر لیا، اپنی ہدی کو بھی پا لیا، ذبح سے پہلے ہی پہنچ گیا، ہدی اس کو مل گئی جو اس نے بھجوائی تھی، اب اس کا کیا کرے؟ یہ تو اس نے قربانی کے لیے بھیجا تھا جانور تو کیا قربانی کرنا ضروری ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ اس کی ملکیت ہے، جو چاہے اس کے ساتھ کرے، چاہے قربانی کرنا چاہتا ہے کر دے، چاہے بیچنا چاہتا ہے بیچ دے، چاہے صدقہ، جو کرنا چاہے اس کا مال ہے جیسے عام مال اس کا ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَإِذَا أَدْرَكَ هَدْيَهُ" اور جب یہ اپنی ہدی کو پا لے، "صَنَعَ بِهِ مَا شَاءَ" تو اس کے ساتھ کرے جو چاہے، "لِأَنَّهُ مِلْكُهُ" اس لیے کیونکہ یہ اس کی ملکیت ہے، "وَقَدْ كَانَ عَيَّنَهُ لِمَقْصُودٍ اسْتَغْنَى عَنْهُ" اور تحقیق اس نے اس کو متعین کیا تھا ایسے مقصود کے لیے جس سے یہ بے نیاز ہو چکا ہے، اب تو اس کے اس کی ضرورت... یہ تو حلال ہونے کے لیے اس نے متعین کیا تھا لیکن وہ اس مقصود سے تو وہ بے نیاز ہو چکا ہے اب اسے اس کی ضرورت نہیں۔ "وَإِنْ كَانَ يُدْرِكُ الْهَدْيَ دُونَ الْحَجِّ" تیسری صورت آ گئی: وہ ہدی کو تو پا سکتا ہے، حج کو نہیں پا سکتا۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ كَانَ يُدْرِكُ الْهَدْيَ دُونَ الْحَجِّ" اگر وہ ہدی کو پا سکتا ہے نہ کہ حج کو، "يَتَحَلَّلُ" تو حلال ہو جائے، "لِعَجْزِهِ عَنِ الْأَصْلِ" اس لیے کیونکہ یہ اصل سے عاجز ہے، اصل کیا؟ حج، اصل تو مقصود اصل تو حج ہے تو اس سے یہ چونکہ عاجز ہے لہٰذا اس صورت میں بھی یہ حلال ہو جائے۔ "وَإِنْ كَانَ يُدْرِكُ الْحَجَّ دُونَ الْهَدْيِ جَازَ لَهُ التَّحَلُّلُ" چوتھی صورت: کہ احصار ختم ہوا، اب یہ چلے گا حج کو تو پا سکتا ہے لیکن ہدی کو نہیں پا سکتا، تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی اس کے لیے حلال ہونا جائز ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اب اس کے لیے حلال ہونا جائز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ احرام اس نے کس کے لیے باندھا تھا؟ حج کے لیے، اور حج پر تو اب یہ قادر ہو گیا ہے، پہنچ کر ادا کر سکتا ہے، لہٰذا اب جانا چاہیے اور حج ادا کرنا چاہیے۔ لیکن استحساناً اس کے لیے جائز ہے کہ یہ اسی طرح ہدی جب ذبح ہو جائے، یہ یہیں پر حلال، یعنی اس پر جانا لازم نہیں، چلا جائے تو افضل ہے لیکن جانا لازم نہیں۔ یہ معنی ہے "وَإِنْ كَانَ يُدْرِكُ الْحَجَّ دُونَ الْهَدْيِ جَازَ لَهُ التَّحَلُّلُ اسْتِحْسَانًا" اور اگر یہ حج کو تو پا سکتا ہے نہ کہ ہدی کو تو اس کے لیے حلال ہونا جائز ہے استحساناً۔ "وَهٰذَا التَّقْسِيمُ لَا يَسْتَقِيمُ عَلَى قَوْلِهِمَا فِي الْمُحْصَرِ بِالْحَجِّ" صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ چوتھی... یہ تقسیم جو ہے یعنی یہ جو چوتھی قسم بن جاتی ہے اس کے اندر، یہ صاحبین کے قول پر درست نہیں رہتی محصر بالحج میں۔ یہ چوتھی صورت، کون سی ہے چوتھی صورت؟ کہ حج کو تو پا سکتا ہے ہدی کو نہیں پا سکتا، یہ صاحبین کے قول پر یہ تقسیم درست نہیں رہتی۔ اس لیے کیونکہ صاحبین کے نزدیک محصر بالحج کی ہدی کب ذبح ہو گی؟ یوم النحر والے دن، اور یوم النحر تو یومِ عرفہ کے بعد آئے گا اور یہ حج کو پانے پر جب قادر ہے معلوم ہوا یہ عرفہ تک، یومِ عرفات تک پہنچ سکتا ہے، تو یہ تو نویں کو ہی وہاں پہنچنے پر قادر ہو گیا ہے، لہٰذا تو جب نویں کو پہنچ گیا تو ہدی نے تو دسویں تاریخ کو ذبح ہونا ہے، یہ اس کو بھی بطریقِ... تو پھر تو جب حج کو یہ پا لے گا تو یقیناً ہدی کو بھی پا لے گا۔ حالانکہ ذکر کیا ہو رہا ہے؟ حج کو پا لے اور ہدی کو نہ پا سکے، تو معلوم ہوا یہ صورت صاحبین کے قول کے مطابق نہیں بنتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَهٰذَا التَّقْسِيمُ لَا يَسْتَقِيمُ عَلَى قَوْلِهِمَا فِي الْمُحْصَرِ بِالْحَجِّ" اور یہ تقسیم درست نہیں رہتی صاحبین کے قول پر محصر بالحج میں، "لِأَنَّ دَمَ الْإِحْصَارِ عِنْدَهُمَا يَتَوَقَّتُ بِيَوْمِ النَّحْرِ" اس لیے کیونکہ دمِ احصار جو ہے صاحبین کے نزدیک مقید ہے یوم النحر کے ساتھ، "فَمَنْ يُدْرِكُ الْحَجَّ يُدْرِكُ الْهَدْيَ" تو جو شخص حج کو پا سکتا ہے وہ ہدی کو بھی پا سکتا ہے، "وَإِنَّمَا يَسْتَقِيمُ عَلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور یہ تقسیم درست رہتی ہے امام صاحب کے قول پر۔ "وَفِي الْمُحْصَرِ بِالْعُمْرَةِ يَسْتَقِيمُ بِالِاتِّفَاقِ" محصر بالعمرہ میں البتہ یہ تقسیم بالاتفاق درست رہے گی، "لِعَدَمِ تَوَقُّتِ الدَّمِ بِيَوْمِ النَّحْرِ" اس لیے کیونکہ وہاں پر یوم النحر کے ساتھ یہ دم مقید نہیں ہے بھئی۔ "وَجْهُ الْقِيَاسِ..." بھئی انہوں نے کیا ذکر کیا؟ استحساناً اس کے لیے حلال ہونا جائز ہے، قیاس تو کیا تقاضا کرتا ہے؟ حلال ہونا جائز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ حج پر قادر ہو گیا ہے۔ تو اب پہلے قیاس ذکر کریں گے اور پھر استحسان۔ "وَجْهُ الْقِيَاسِ" قیاس کی وجہ جو ہے "وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور یہی امام زفر کا بھی قول ہے، تو قیاس کی وجہ یہ ہے "أَنَّهُ قَدَرَ عَلَى الْأَصْلِ" کہ یہ شخص جو ہے اصل یعنی حج پر قادر ہو گیا، "وَهُوَ الْحَجُّ" اور وہ حج ہے، "قَبْلَ حُصُولِ الْمَقْصُودِ بِالْبَدَلِ" بدل کے ذریعے مقصود کے حاصل ہونے سے پہلے ہی، بدل کیا ہے؟ "وَهُوَ الْهَدْيُ" اور وہ ہدی ہے۔ تو ہدی کے ذریعے مقصود کے حاصل ہونے سے پہلے یہ حج پر قادر ہو گیا ہے۔ "وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ" اور استحسان کی وجہ یہ ہے "أَنَّا لَوْ أَلْزَمْنَاهُ التَّوَجُّهَ" کہ اگر ہم اس پر چلنے کو لازم قرار دے دیں، متوجہ ہونے کو ہم اگر اس پر لازم قرار دے دیں، "لَضَاعَ مَالُهُ" تو البتہ اس کا مال ضائع ہو گا کیونکہ ہدی کو تو یہ پا نہیں سکتا، حج کو پا سکتا ہے۔ ہدی کا اس نے کوئی دن پہلے مقرر کیا تھا کہ چھ تاریخ کو ذبح کر دو گے یا سات کو ذبح کر دو گے، تو ہدی کو تو نہیں پا سکتا، البتہ حج کو پا سکتا ہے۔ تو اس پر اگر ہم اس کو کہیں اس پر لازم کر دیں کہ حج پر اس کا جانا ضروری ہے، تو اس صورت میں ہدی کو تو یہ نہیں پا سکے گا، وہ ہدی تو ویسے ہی ذبح ہو جائے گی تو اس کا مال ضائع ہو گا، مال ضائع ہو گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور مال کی بھی اسی طرح حرمت ہے جس طرح جان کی حرمت ہے، جان کی حرمت ہے۔ تو کہتے ہیں استحسان کی وجہ یہ ہے: "أَنَّا لَوْ أَلْزَمْنَاهُ التَّوَجُّهَ لَضَاعَ مَالُهُ" اگر ہم اس پر لازم کر دیں متوجہ ہونے کو تو البتہ اس کا مال ضائع ہو گا، "لِأَنَّ الْمَبْعُوثَ عَلَى يَدَيْهِ الْهَدْيُ لَيَذْبَحُهُ وَلَا يَحْصُلُ مَقْصُودُهُ" ترجمے پہ نظر رکھنا: "لِأَنَّ الْمَبْعُوثَ" اس لیے کیونکہ وہ شخص "عَلَى يَدَيْهِ الْهَدْيُ" کہ بھیجا گیا ہے اس کے ہاتھوں پر ہدی کو، "لَيَذْبَحُهُ" وہ کیا کرے گا؟ وہ اس کو ذبح کر دے گا، "وَلَا يَحْصُلُ مَقْصُودُهُ" اور اس شخص کا مقصود بھی حاصل نہیں ہو گا۔ یہ تو کیا چاہتا تھا؟ اس ہدی کے ذبح ہونے پر حلال ہو جائے، اور ہم اس پر کیا کر دیں؟ حلال نہیں ہو سکتے، تمہیں جا کر حج کرنا پڑے گا، تو اس صورت میں وہ شخص جس کے ہاتھ پر اس نے ہدی کو بھیجا تھا "لَيَذْبَحُهُ" وہ اس کو ذبح کر دے گا "وَلَا يَحْصُلُ مَقْصُودُهُ" اور اس بھیجنے والے کا مقصود بھی حاصل نہیں ہو گا کیونکہ اس پر تو ہم نے کیا لازم کر دیا؟ حج، تو اس صورت میں اس کا مال ضائع ہو گا۔ "وَحُرْمَةُ الْمَالِ كَحُرْمَةِ النَّفْسِ" اور مال کی حرمت بھی اسی طرح ہے جیسے نفس کی حرمت ہے، مال بھی اسی طرح معزز اور محترم ہے جیسے کہ جان معزز اور محترم ہے۔ جیسے جان کو بچانا ضروری ہے، اسی طرح مال کو بھی بچانا ضروری ہے بھئی۔ "وَلَهُ الْخِيَارُ" اب اس آدمی کو اختیار ہے، کون سا آدمی؟ جو حج کو تو پا سکتا ہے لیکن ہدی کو نہیں پا سکتا۔ "وَلَهُ الْخِيَارُ" اس کو اختیار ہے: "إِنْ شَاءَ صَبَرَ فِي ذٰلِكَ الْمَكَانِ" چاہے تو اسی جگہ پر صبر کرے یعنی حج کے لیے نہ جائے، یہیں صبر کر لے، "أَوْ فِي غَيْرِهِ" یا اس جگہ کے علاوہ کہیں اور صبر کر لے، "لِيُذْبَحَ عَنْهُ" تاکہ اس کی طرف سے وہ جانور ذبح کر دیا جائے، "فَيَتَحَلَّلُ" پھر یہ کیا ہو؟ حلال ہو جائے۔ "وَإِنْ شَاءَ تَوَجَّهَ لِيُؤَدِّيَ النُّسُكَ الَّذِي الْتَزَمَهُ بِالْإِحْرَامِ" اور اگر چاہے تو یہ متوجہ ہو جائے تاکہ ادا کر دے عبادت کو، وہ عبادت جس کو اس نے اپنے اوپر احرام کے ذریعے لازم کیا تھا۔ "وَهُوَ أَفْضَلُ" اور یہی افضل ہے، یعنی متوجہ ہونا اور چل پڑنا افضل ہے، "لِأَنَّهُ أَقْرَبُ إِلَى الْوَفَاءِ بِمَا وَعَدَ" اس لیے کیونکہ یہ زیادہ قریب ہے اس چیز کے پورا کرنے کے جس کا اس نے وعدہ کیا تھا۔ اس نے بھی کیا وعدہ کیا تھا؟ جب اس نے احرام باندھ لیا تھا تو گویا وعدہ کر لیا کہ میں حج کروں گا جا کر۔ "وَمَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ ثُمَّ أُحْصِرَ" اور جس شخص نے وقوفِ عرفات کر لیا، "ثُمَّ أُحْصِرَ" پھر اس کو روک دیا گیا، "لَا يَكُونُ مُحْصَرًا" تو یہ محصر نہیں ہے، "لِوُقُوعِ الْأَمْنِ عَنِ الْفَوَاتِ" اس لیے کیونکہ حج کے فوت ہو جانے سے امن واقع ہو گیا۔ جب وقوفِ عرفہ کر لیا، اب تو حج فوت نہیں ہو سکتا، باقی افعال میں تاخیر بھی ہو جائے اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس صورت میں اس کو محصر نہیں کہیں گے کیونکہ حج کے فوت ہونے سے امن حاصل ہو گیا، امن حاصل ہو گیا، کیونکہ وقوفِ عرفات جب کر لیا تو حج تو ہو گیا اب تو فوت ہونے کی کوئی صورت نہیں حج کے۔ سمجھ میں آیا؟ اور جو محصر تھا وہ تو حج پر جا ہی نہیں سکتا تھا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کا تو حج رہ جاتا تھا، تو یہ زیادہ سے زیادہ اس میں تاخیر ہو گی۔ "وَمَنْ أُحْصِرَ بِمَكَّةَ وَهُوَ مَمْنُوعٌ..." صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص مکہ میں روک دیا گیا، نہ تو وہ طواف کر سکتا ہے اور نہ وقوف کر سکتا ہے، تو اس کو محصر کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ محصر کہیں گے، محصر کہیں گے۔ اور اگر ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی وہ قادر ہوا، تو اس کو محصر نہیں کہیں گے، اس کو محصر نہیں کہیں گے۔ اگر دونوں سے روکا گیا ہے، طواف سے بھی اور وقوفِ عرفہ سے بھی، پھر تو محصر کہیں گے، اس لیے کیونکہ جب وقوف نہیں کر سکتا تو حج کو پورا نہیں کر سکتا، جب حج کو پورا نہیں کر سکتا اور پھر دوسری صورت کیا تھی؟ حج فوت ہو جاتا ہے تو پھر انسان کیا کرتا ہے؟ عمرہ کر کے حلال ہوتا ہے، ادھر طواف بھی یہ نہیں کر سکتا کہ عمرے کے افعال کے ذریعے حلال ہو جائے، لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ محصر کہیں گے، یہ کیا کر سکتا ہے؟ ہدی وغیرہ کے ذریعے حلال ہو سکتا ہے، مسئلہ سمجھ میں آیا؟ لیکن اگر ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی وہ قادر ہوا، چاہے وہ وقوفِ عرفہ پر قادر ہو، چاہے طواف پر، تو یہ محصر نہیں، لہٰذا یہ ہدی کے ذریعے حلال نہیں ہو سکتا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ بھئی کیوں نہیں ہو سکتا؟ وجہ یہ کہ اگر اس کو صرف طواف سے روکا گیا ہے، وقوف کر سکتا ہے وقوفِ عرفہ، تو جب وقوفِ عرفہ کر سکتا ہے پھر تو حج فوت ہی نہیں ہوا، پھر کیا کرے گا؟ وقوفِ عرفہ کر لے گا اور باقی طواف سے روکا گیا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اس میں تاخیر ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وقوفِ عرفات تو وہ کر سکتا ہے نا، صرف طواف سے روکا گیا ہے، اور وقوفِ عرفات کے بعد یوم النحر والے دن انسان قصر کروا کے حلال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ تو یہ بھی حلال ہو سکتا ہے، لہٰذا اس کو محصر نہیں کہیں گے۔ اور دوسری صورت کیا؟ وقوف سے اس کو روک دیا لیکن طواف سے نہیں روکا، تو بھی اس کو محصر نہیں کہیں گے یعنی یہ ہدی کے ذریعے حلال نہیں ہو سکتا۔ وقوف سے روکا گیا ہے تو کوئی حرج نہیں، اس کا حج فوت ہو گا، اور جس کا حج فوت ہو جائے وہ کس طرح حلال ہوتا ہے؟ عمرے کے افعال ادا کر کے حلال ہوتا ہے، تو طواف تو یہ کر سکتا ہے اس سے تو نہیں روکا گیا، صرف کس سے روکا گیا ہے؟ وقوف سے، تو ادھر آئے اور آ کر کیا کر لے؟ عمرہ کر لے اور پھر حلال ہو جائے، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ أُحْصِرَ بِمَكَّةَ" اور جس شخص کو روک دیا گیا مکہ میں، "وَهُوَ مَمْنُوعٌ عَنِ الطَّوَافِ وَالْوُقُوفِ" اور اس کو روکا گیا طواف اور وقوف دونوں سے، "فَهُوَ مُحْصَرٌ" تو یہ محصر ہے، "لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ عَلَيْهِ الْإِتْمَامُ" اس لیے کیونکہ اس پر حج کو پورا کرنا متعذر ہو گیا ممکن نہ رہا، "فَصَارَ كَمَا إِذَا أُحْصِرَ فِي الْحِلِّ" تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس کو حِل میں روک دیا گیا ہو۔ "إِذَا أُحْصِرَ"، اذا کے بعد ایک الف ہے، دو الف ہونے چاہئیں بھئی، ایک احصر کا الف بھی یہاں آئے گا: تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس کو حِل میں روک دیا گیا ہو۔ "وَإِنْ قَدَرَ عَلَى أَحَدِهِمَا فَلَيْسَ بِمُحْصَرٍ" اور اگر یہ جو مکہ میں جس کو روکا گیا تھا، اگر یہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی قادر ہوا، یعنی طواف یا وقوف، ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی قادر ہوا، "فَلَيْسَ بِمُحْصَرٍ" تو یہ محصر نہیں۔ بھئی کیوں نہیں محصر؟ کہتے ہیں: "أَمَّا عَلَى الطَّوَافِ" یعنی باقی جب یہ طواف پر قادر ہو، دو صورتیں ہیں نا: ایک صورت یہ ہے کہ صرف طواف پر قادر، ایک صورت صرف کس پر؟ وقوف، تو کہتے ہیں: "أَمَّا عَلَى الطَّوَافِ" باقی جب یہ طواف پر قادر ہے، "فَلِأَنَّ فَائِتَ الْحَجِّ يَتَحَلَّلُ بِهِ" پس اس لیے کیونکہ حج کو فوت کر دینے والا شخص جو ہے وہ اسی کے ذریعے حلال ہوتا ہے، اسی طواف کے ذریعے حلال ہوتا ہے یعنی طواف اور سعی کو ذکر نہیں کیا کیونکہ سعی طواف کے تابع ہے بھئی۔ "وَالدَّمُ بَدَلٌ عَنْهُ فِي التَّحَلُّلِ" اور دم جو تھا وہ تو بدل تھا اس سے حلال ہونے میں۔ بھئی دیکھیے، جس کا حج فوت ہو جاتا ہے وہ کیا کرتا ہے؟ کس طرح حلال ہوتا ہے؟ عمرے کے ذریعے، اور یہ محصر جو تھا، محصر، محصر تو وہ آدمی ہے جس نے حج کا احرام باندھا تھا چل پڑا اور راستے میں کوئی دشمن آ گیا اس نے روک لیا اب یہ آگے جا نہیں سکتا، تو یہ بھی کس کی طرح ہے؟ حج کے ایام گزر رہے ہیں گزر جائیں گے اور یہ بیچارہ نہیں جا سکتا تو یہ بھی کس کی طرح ہے؟ فائت الحج کی طرح ہے، لہٰذا اور فائت الحج پر کیا ہوتا ہے؟ عمرہ کر کے حلال ہوتا ہے، لیکن یہ تو آگے جا ہی نہیں سکتا کیونکہ آگے دشمن ہے، تو لہٰذا یہ کس طرح حلال ہوتا ہے پھر؟ ہدی کے ذریعے، تو یہ ہدی جو ہے، یہ دم جو ہے یہ بدل ہے کس کا؟ اس عمرے کا۔ کس کا؟ عمرے کا، وہاں وہ عمرے کے ذریعے حلال ہوتا ہے جو جا سکتا ہے، اور یہ جا نہیں سکتا تو یہ کس کے ذریعے حلال ہو گا؟ ہدی کے ذریعے حلال ہو گا۔ تو یہاں پر یہ شخص جو طواف پر قادر ہے یہ اصل پر قادر ہو گیا یعنی عمرے پر اور اس کے ذریعے حلال ہو گا، اور دم تو اس کا بدل تھا، عمرے پر قادر نہ ہوتا تو پھر اس کے لیے دم کی گنجائش ہوتی، لیکن یہ تو اصل پر قادر ہے تو بدل کی طرف جانے کی ضرورت نہیں اور اس طرف جانا اس کے لیے جائز نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: "فَلِأَنَّ فَائِتَ الْحَجِّ يَتَحَلَّلُ بِهِ" اس لیے کیونکہ حج کو فوت کر دینے والا اس عمرے کے ذریعے حلال ہوتا ہے، "وَالدَّمُ بَدَلٌ عَنْهُ" اور دم تو اس سے بدل ہے، "فِي التَّحَلُّلِ" کس میں؟ حلال ہونے میں۔ "وَأَمَّا عَلَى الْوُقُوفِ" اور باقی وقوف پر جب یہ شخص قادر ہے، "فَلِمَا بَيَّنَّا" تو اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ کہ جب یہ وقوف پر قادر ہے، بیشک طواف پر قادر نہیں لیکن وقوف پر قادر ہے، تو وقوف کر لے، اور اس کے بعد یوم النحر والے دن کیا کروا لے گا؟ حلق کروا لے گا اور حلال ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے "وَأَمَّا عَلَى الْوُقُوفِ" اور جب یہ وقوف پر قادر ہو، "فَلِمَا بَيَّنَّا" اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ "وَقَدْ قِيلَ فِي هٰذِهِ الْمَسْأَلَةِ خِلَافٌ بَيْنَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ" اور تحقیق کہا گیا ہے کہ اس مسئلہ کے اندر امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ کا اختلاف ہے، "وَالصَّحِيحُ مَا أَعْلَمْتُكَ مِنَ التَّفْصِيلِ" آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: صحیح وہ تفصیل ہے جو ہم نے آپ کو بتلا دی کہ اس میں اختلاف نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ بَابُ الْفَوَاتِ، یہ باب ہے حج کے فوت ہو جانے کے بیان میں۔ الفوات میں الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے، ای باب فوات الحج، یہ باب ہے حج کے فوت ہو جانے کے بیان میں۔ "وَمَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ" اور جس نے حج کا احرام باندھا، "وَفَاتَهُ الْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ" اور اس سے وقوفِ عرفات فوت ہو گیا، "حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ" یہاں تک کہ قربانی والے دن کی فجر طلوع ہو گئی، دن میں بھی وقوف نہ کر سکا، رات بھی گزر گئی یہاں تک کہ یوم النحر آ گیا، "فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ" تو تحقیق اس کا حج فوت ہو گیا، "لِمَا ذَكَرْنَا" اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، "أَنَّ وَقْتَ الْوُقُوفِ يَمْتَدُّ إِلَيْهِ" کہ وقوف کا وقت جو ہے وہ اس فجر تک لمبا ہوتا ہے اس کے بعد نہیں۔ "وَعَلَيْهِ أَنْ يَطُوفَ وَيَسْعَى وَيَتَحَلَّلَ" اور اس شخص پر واجب ہے کہ طواف کرے اور سعی کرے، "وَيَتَحَلَّلَ" اور حلال ہو جائے، "وَيَقْضِيَ الْحَجَّ مِنْ قَابِلٍ" اور قضا کرے حج کی اگلے آنے والے سال میں، "وَلَا دَمَ عَلَيْهِ" اور اس پر کوئی دم نہیں ہے۔ "لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَنْ فَاتَهُ عَرَفَةُ بِلَيْلٍ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ فَلْيَتَحَلَّلْ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ" یہاں تک ہے حدیث بھئی۔ کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "مَنْ فَاتَهُ عَرَفَةُ بِلَيْلٍ" جس سے عرفات چھوٹ گیا، عرفات رہ گیا رات کے وقت، "فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ" تو تحقیق اس کا حج فوت ہو گیا، "فَلْيَتَحَلَّلْ بِعُمْرَةٍ" تو پس اس کو چاہیے کہ عمرے کے ذریعے حلال ہو جائے، "وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ" اور اس پر حج واجب ہے من قابل ای من عام قابل، اگلے آنے والے سال میں۔ "وَالْعُمْرَةُ لَيْسَتْ إِلَّا الطَّوَافَ وَالسَّعْيَ" اور عمرہ تو طواف اور سعی ہی ہے، طواف اور سعی ہی ہے، اسی لیے کہا متن میں: "وَعَلَيْهِ أَنْ يَطُوفَ وَيَسْعَى" عمرہ بھی اسی کا نام ہے، اس لیے متن میں یہ نہیں کہا عمرہ کرے، یہ کہہ دیا طواف اور سعی کر لے تو عمرہ بھی اسی چیز کا نام ہے۔ "وَلِأَنَّ الْإِحْرَامَ بَعْدَمَا انْعَقَدَ صَحِيحًا لَا طَرِيقَ لِلْخُرُوجِ عَنْهُ إِلَّا بِأَدَاءِ أَحَدِ النُّسُكَيْنِ كَمَا فِي الْإِحْرَامِ الْمُبْهَمِ" اور نیز اس لیے، دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ احرام جب کہ وہ صحیح طور پر منعقد ہو جائے تو اس سے نکلنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے سوائے یہ کہ دو عبادتوں میں سے کوئی ایک عبادت ادا کرے، جیسے کہ احرامِ مبہم کے اندر ہے۔ بھئی ایک شخص احرام باندھ لیتا ہے اور تعین ارادہ نہیں کرتا کہ یہ حج کا ہے یا عمرے کا ہے، احرام باندھ لیا، نیت کر لی، تلبیہ کہہ لیا لیکن نیت نہیں ہے کہ یہ کس کا ہے؟ حج کا ہے یا عمرے کا؟ تو اب اس پر بھی احرام سے نکلنے کے لیے ضروری ہے دونوں میں سے کوئی ایک عبادت کر لے، یا حج کر لے یا عمرہ کر لے۔ اور یہاں پر بھی اسی طرح ہے کہ احرام ایک باندھ چکا ہے اور احرام سے نکلنے کی تو ایک ہی صورت ہے کہ دو عبادتوں میں سے کوئی ایک عبادت ادا کر لی جائے، یا عمرہ یا حج، اور حج سے تو یہ عاجز آ گیا کیونکہ حج تو فوت ہو گیا اب کیا کرنا پڑے گا؟ عمرہ ہی کر لے اور حلال ہو جائے۔ یہ معنی ہے: "وَلِأَنَّ الْإِحْرَامَ بَعْدَمَا انْعَقَدَ صَحِيحًا" اور اس لیے کیونکہ احرام جب کہ یہ صحیح منعقد ہو جائے، "لَا طَرِيقَ لِلْخُرُوجِ عَنْهُ" تو کوئی طریقہ نہیں ہے اس سے نکلنے کا، "إِلَّا بِأَدَاءِ أَحَدِ النُّسُكَيْنِ" مگر یہ کہ دو عبادتوں میں سے کوئی ایک جو ہے اس کو ادا کر دے، "كَمَا فِي الْإِحْرَامِ الْمُبْهَمِ" جیسے کہ مبہم احرام کے اندر ہے، "وَهُنَا عَجَزَ عَنِ الْحَجِّ" اور یہاں وہ شخص جو ہے حج سے عاجز آ گیا، "فَتَعَيَّنَ عَلَيْهِ الْعُمْرَةُ" تو اس پر عمرہ متعین ہو گیا، "وَلَا دَمَ عَلَيْهِ" اور اس پر دم واجب نہیں ہے، "لِأَنَّ التَّحَلُّلَ وَقَعَ بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ" اس لیے کیونکہ حلال ہونا عمرے کے افعال کے ذریعے ہوا ہے، "فَكَانَتْ فِي حَقِّ فَائِتِ الْحَجِّ بِمَنْزِلَةِ الدَّمِ فِي حَقِّ الْمُحْصَرِ" تو یہ جو ہے حج کو فوت کر دینے والے شخص کے حق میں اسی طرح ہوا جیسے محصر کے حق میں دم تھا۔ جیسے محصر کے حق میں دم تھا، حج کے فوت کر دینے والے کے حق میں یہ عمرہ ہے یا افعالِ عمرہ ہیں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور وہ دم کیا ہے؟ وہ اسی عمرے کا بدل ہے، اسی عمرے کا بدل ہے۔ یہ معنی ہے: "لِأَنَّ التَّحَلُّلَ وَقَعَ بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ" اس لیے کیونکہ حلال ہونا جو ہے عمرے کے افعال کے ذریعے واقع ہوا ہے، "فَكَانَتْ فِي حَقِّ فَائِتِ الْحَجِّ بِمَنْزِلَةِ الدَّمِ فِي حَقِّ الْمُحْصَرِ" تو یہ یہ عمرے کے افعال جو ہیں یہ حج کو فوت کر دینے والے شخص کے حق میں اسی طرح ہیں جیسے محصر کے حق میں وہ خون ہے، وہ دم ہے، اسی کے درجے میں ہے، "فَلَا يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا" لہٰذا ان دونوں کو جمع نہیں کیا جائے گا۔ اسی لیے کہا جب یہ عمرے کے افعال کر کے... جب یہ عمرے کے افعال ادا کر کے حلال ہو گیا تو اب اس پر دم واجب نہیں، اور دم اس پر آتا تھا جو یہ عمرے کے افعال نہیں کر سکتا تھا جیسے وہ محصر تھا بھئی۔ "وَالْعُمْرَةُ لَا تَفُوتُ" اور عمرہ جو ہے وہ تو فوت نہیں ہوتا کیونکہ اس کا تو کوئی وقت متعین نہیں، "وَهِيَ جَائِزَةٌ فِي جَمِيعِ السَّنَةِ إِلَّا خَمْسَةَ أَيَّامٍ يُكْرَهُ فِيهَا فِعْلُهَا" اور یہ جائز ہے سارے سال میں سوائے پانچ دنوں کے کہ مکروہ ہے ان کے اندر اس عمرے کا کرنا، "وَهِيَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ" اور وہ پانچ دن یہ والے ہیں: یومِ عرفہ ہے یعنی نو ذوالحجہ، اور یوم النحر ہے یعنی دسویں ذوالحجہ، اور ایامِ تشریق ہیں یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ، یہ پانچ دن ہیں، ان میں عمرہ مکروہ ہے۔ دلیل کیا؟ کہتے ہیں: "لِمَا رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا" بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے، "أَنَّهَا كَانَتْ تَكْرَهُ الْعُمْرَةَ فِي هٰذِهِ الْأَيَّامِ الْخَمْسَةِ" کہ وہ جو ہیں عمرے کو مکروہ کہتی تھیں، ناپسند کرتی تھیں فی ھذہ الایام الخمسۃ ان پانچ دنوں میں۔ "وَلِأَنَّ هٰذِهِ أَيَّامُ الْحَجِّ فَكَانَتْ مُتَعَيَّنَةً لَهُ" اور نیز اس لیے کیونکہ یہ حج کے دن ہیں تو یہ دن جو ہیں حج کے لیے متعین ہیں۔ "وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا تُكْرَهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ قَبْلَ الزَّوَالِ" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ جو ہے وہ مکروہ نہیں ہے یومِ عرفہ والے دن زوال سے پہلے، زوال سے پہلے تک مکروہ نہیں، "لِأَنَّ دُخُولَ وَقْتِ رُكْنِ الْحَجِّ بَعْدَ الزَّوَالِ لَا قَبْلَهُ" اس لیے کیونکہ رکنِ حج جو ہے، جو حج کا رکن ہے یعنی وقوفِ عرفہ اس کا وقت داخل ہوتا ہے زوال کے بعد نہ کہ اس سے پہلے۔ "وَالْأَظْهَرُ مِنَ الْمَذْهَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ" اور زیادہ ظاہر مذہب میں سے یعنی ہمارے مذہب میں سے وہ ہے جس کو ہم نے ذکر کر دیا کہ یومِ عرفہ میں مطلقاً عمرہ مکروہ ہے چاہے زوال کے بعد ہو چاہے پہلے ہو۔ "وَلٰكِنْ مَعَ هٰذَا لَوْ أَدَّاهَا فِي هٰذِهِ الْأَيَّامِ صَحَّ وَيَبْقَى مُحْرِمًا بِهَا فِيهَا" مگر اس کے باوجود اگر اس شخص اگر اس عمرے کو کوئی شخص ادا کر دیتا ہے ان دنوں کے اندر، صح تو صحیح ہے، "وَيَبْقَى مُحْرِمًا بِهَا فِيهَا" اور وہ باقی رہے گا محرم بالعمرہ ہو کر فیھا ان دنوں میں۔ "لِأَنَّ الْكَرَاهَةَ لِغَيْرِهَا" اس لیے کیونکہ جو کراہت تھی وہ اس عمرے کے علاوہ کی وجہ سے تھی، عمرے کی اپنی ذات میں کوئی کراہت نہیں بلکہ کراہت اس کے علاوہ کی وجہ سے تھی، "وَهُوَ تَعْظِيمُ أَمْرِ الْحَجِّ وَتَخْلِيصُ وَقْتِهِ لَهُ" اور وہ حج کے معاملے کی تعظیم ہے اور اس وقت کو حج کے لیے خالص کرنا ہے اس کی وجہ سے کراہت تھی، "فَيَصِحُّ الشُّروعُ" تو لہٰذا اس عمرے کو شروع کرنا اس آدمی کے لیے صحیح ہوا۔ "وَالْعُمْرَةُ سُنَّةٌ" اور عمرہ جو ہے یہ سنت ہے، "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: فَرِيضَةٌ" امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں عمرہ فرض ہے۔ وہ دلیل دیتے ہیں: "لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ" بوجہ حضور علیہ السلام کے فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: "الْعُمْرَةُ فَرِيضَةٌ كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ" کہ عمرہ بھی فرض ہے جیسے کہ حج فرض ہے، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل۔ "وَلَنَا" اور ہماری دلیل "قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ" حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: "الْحَجُّ فَرِيضَةٌ وَالْعُمْرَةُ تَطَوُّعٌ" کہ حج فرض ہے اور عمرہ نفل ہے۔ ہماری دلیل یہ حدیث ہے۔ "وَلِأَنَّهَا غَيْرُ مُوَقَّتَةٍ بِوَقْتٍ وَتَتَأَدَّى بِنِيَّةِ غَيْرِهَا كَمَا فِي فَائِتِ الْحَجِّ وَهٰذِهِ أَمَارَةُ النَّفْلِيَّةِ" ہم کہتے ہیں ایک تو یہ حدیث ہماری دلیل، اور نیز ہم کہتے ہیں کہ عمرہ کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں، اس کا کوئی وقت متعین نہیں جب چاہے کوئی شخص عمرہ کر سکتا ہے، اور نیز یہ غیر عمرے کی نیت سے بھی عمرہ ادا ہو جائے گا، جیسے ابھی آپ نے پڑھا ایک شخص کا حج فوت ہو گیا تو وہ کس طرح حلال ہو گا؟ عمرہ کر کے، حالانکہ اس دیکھو اس آدمی جو نے جو احرام باندھا تھا وہ تو کس کی نیت سے باندھا تھا؟ حج کی نیت سے، پھر بھی اس احرام کے عمرہ کیا تو عمرہ ادا ہو گیا۔ تو دیکھو یہ عمرے کے لیے کوئی وقت بھی متعین نہیں ہے جب چاہیں کر سکتے ہیں، اور یہ غیر عمرے کی نیت سے بھی ادا عمرے کے بغیر کسی اور چیز کی نیت سے پھر بھی یہ عمرہ ادا ہو جاتا ہے، اور یہ علامت ہے اس کے نفل ہونے کی، یہ علامت ہے اس کے نفل ہونے کی کیونکہ فرض میں تو تعینِ نیت ضروری ہوتی ہے اور فرض کے لیے تو وقت متعین ہوتا ہے، صورت سمجھ... تو کم از کم تعینِ نیت تو ہر جگہ آئے گی بھئی، تو وہ بھی اس کے اندر نہیں ہے معلوم ہوا یہ نفل ہے بھئی۔ یہ معنی ہے "وَلِأَنَّهَا غَيْرُ مُوَقَّتَةٍ بِوَقْتٍ" اس لیے کیونکہ عمرہ جو ہے وہ وقت کے ساتھ مقید نہیں ہے، "وَتَتَأَدَّى بِنِيَّةِ غَيْرِهَا" اور یہ غیر عمرے کی نیت سے بھی ادا ہو جاتا ہے، "كَمَا فِي فَائِتِ الْحَجِّ" جیسے کہ حج کو فوت کر دینے والے شخص میں ہے، "وَهٰذِهِ أَمَارَةُ النَّفْلِيَّةِ" اور یہ نفل ہونے کی نشانی ہے۔ "وَتَأْوِيلُ مَا رَوَاهُ أَنَّهَا مُقَدَّرَةٌ بِأَعْمَالٍ كَالْحَجِّ" اب جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرمانے نے حدیث ذکر کی تھی: "الْعُمْرَةُ فَرِيضَةٌ كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ" کہ عمرہ بھی فرض ہے جیسے کہ حج فرض ہے، ہم کہتے ہیں نہیں، یہ ترجمہ نہیں، یہ معنی نہیں اس کا، بلکہ معنی یہ ہے: "الْعُمْرَةُ فَرِيضَةٌ" فرض کے معنی مقرر ہونے کے، تو ہم کہتے ہیں: عمرے مقرر ہے یعنی اس کے افعال مقرر ہیں، "كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ" جیسے کہ حج کے افعال مقرر ہیں۔ حج کے جیسے افعال ہیں اس میں وقوفِ عرفات ہے اور وقوفِ مزدلفہ ہے وغیرہ، یہ چیزیں جو ہیں جیسے حج کے افعال مقرر ہیں اسی طرح عمرے کے افعال بھی مقرر ہیں بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا؟ "وَتَأْوِيلُ مَا رَوَاهُ" اور تاویل اس حدیث کی جس کو روایت کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی تاویل یہ ہے "أَنَّهَا مُقَدَّرَةٌ بِأَعْمَالٍ كَالْحَجِّ" کہ عمرہ جو ہے وہ مقدر ہے اعمال کے ساتھ یعنی اس کے اعمال مقرر ہیں، متعین ہیں "كَالْحَجِّ" جیسے کہ حج کے اعمال مق... حج کے اعمال متعین ہیں اور مقرر ہیں۔ "إِذْ لَا تَثْبُتُ الْفَرْضِيَّةُ مَعَ التَّعَارُضِ فِي الْآثَارِ" یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض کا جواب، اعتراض یہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ یہ تاویل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی آپ کو؟ حالانکہ حدیث تو واضح تھی: "الْعُمْرَةُ فَرِيضَةٌ" عمرہ فرض ہے، یہ ترجمہ ہونا چاہیے تھا، آپ نے تاویل کر کے کیا کہا کہ عمرے کے افعال مقرر ہیں۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ احادیث میں تعارض آ رہا ہے، ہماری حدیث سے کیا پتہ چلا؟ کہ عمرہ نفل ہے، اور اس حدیث کا اگر وہی معنی کیا جائے تو دونوں نصوص میں کیا آئے گا؟ تعارض آئے گا، اور فرضیت تو ثابت ہو نہیں سکتی کیونکہ فرض کے لیے قطعی دلیل چاہیے، اور یہاں پر تو احادیث میں کیا آیا؟ تعارض آیا، تو فرضیت تو ثابت ہو نہیں سکتی، لہٰذا اس حدیث میں بھی تاویل کر کے ہم نے اس حدیث کے مطابق اس کو کر لیا بھئی، اب تعارض ختم ہو گیا جب یہ ترجمہ کر لیا جائے۔ تو فرضیت تو ثابت ہو نہیں سکتی لہٰذا ہم نے تعارض کو بھی کیا کر دیا؟ ختم کر دیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ "إِذْ لَا تَثْبُتُ الْفَرْضِيَّةُ مَعَ التَّعَارُضِ فِي الْآثَارِ" اس لیے کیونکہ فرض ہونا ثابت نہیں ہو سکتا ساتھ تعارض کے پائے جانے کے فی الآثار احادیث میں۔ "قَالَ: وَهِيَ الطَّوَافُ وَالسَّعْيُ" اور عمرہ جو ہے یہ طواف اور سعی ہے، طواف اور سعی ہی ہے، "وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي بَابِ التَّمَتُّعِ" اور تحقیق ہم اس کو باب التمتع میں ذکر کر چکے ہیں، "وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ" اور اللہ ہی درست بات کو خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، ہٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔