Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
قَالَ: ”وَيُسْتَحَبُّ لِلْمُتَوَضِّئِ أَنْ يَّنْوِيَ الطَّهَارَةَ، فَالنِّيَّةُ فِي الْوُضُوءِ سُنَّةٌ عِنْدَنَا، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً فَرْضٌ؛ لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ، فَلَا يَصِحُّ بِدُونِ النِّيَّةِ كَالتَّيَمُّمِ“. گزشتہ سبق میں ہم نے وضو کی سنتوں کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا اور وضو کی سنتیں آپ نے پڑھیں کہ نیند سے بیدار ہونے والا پانی میں برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے ان کو تین مرتبہ دھو لے، اسی طرح وضو کے شروع میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے اور اسی طرح مسواک کرنا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، دونوں کانوں کا مسح کرنا، داڑھی کا خلال کرنا، انگلیوں کا خلال کرنا، یہ سنت ہیں۔ اسی طرح تین مرتبہ اعضاء کا دھونا بھئی، یہ بھی کیا ہے؟ سنت ہے اور اس سلسلے میں یہ حدیث ذکر ہوئی نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ایک ایک مرتبہ اعضاء کو دھویا اور فرمایا کہ یہ وہ وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ نماز کو قبول نہیں فرماتے۔ اور دو دو مرتبہ وضو کیا یعنی دو دو مرتبہ اعضاء کو دھویا اور فرمایا یہ وضو ہے اس شخص کا جس کو اللہ دگنا اجر عطا فرماتے ہیں۔ اور تین تین مرتبہ وضو فرمایا یعنی تین تین مرتبہ اعضاء کو دھویا اور فرمایا یہ میرا وضو ہے اور جو مجھ سے پہلے انبیاء گزرے ہیں ان کا وضو ہے۔ ”فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا أَوْ نَقَصَ فَقَدْ تَعَدَّى وَظَلَمَ“ اور حدیث میں کیا ہے جس نے اس پر زیادتی کی یا اس میں کمی کی تو تحقیق اس نے زیادتی کی حد سے تجاوز کیا ”وَظَلَمَ“ اور ظلم کیا۔ اب یہاں پر دیکھیے بھئی: ”فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا“ جس نے اس پر زیادتی کی، اس صورت میں تو یہ وعید سمجھ میں آتی ہے ”تَعَدَّى“ اور ”ظَلَمَ“ کی، کہ جس نے زیادتی کی اس نے اسراف کیا اور اسراف اللہ کو پسند نہیں۔ لیکن یہ جو آیا کہ ”أَوْ نَقَصَ“، کمی کی بھئی، کمی کی تین مرتبہ سے یعنی کم اعضاء کو دھویا تو اس صورت میں زیادہ سے زیادہ اس نے سنت کو ترک کیا ہے، تو اس صورت میں وعید کا کیا معنی بھئی؟ وعید کا کیا معنی؟ تو صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دے رہے ہیں: ”وَالْوَعِيدُ لِعَدَمِ رُؤْيَتِهِ سُنَّةً“، کہ وعید جو ہے اس کو سنت نہ سمجھنے کے لیے نہ سمجھنے کی صورت میں ہے، یعنی جو شخص تین مرتبہ دھونے کو سنت نہیں سمجھتا اس کے لیے یہ وعید ہے۔ یعنی عمل میں کمی کر دے، عمل کی بات نہیں یہاں پر، اس کے لیے یہ وعید نہیں ہے بلکہ جو اس کا اعتقاد نہ رکھے کہ تین مرتبہ دھونا سنت ہے، اس کے لیے یہ وعید ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو عمل میں کمی بیشی ہو جائے ضرورت کی بنا پر تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ خود حدیث کے اندر بھی آتا ہے بعض مواقع پر نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ایک ایک مرتبہ اعضاء کو دھویا بھئی، بعض مواقع پر دو دو مرتبہ دھویا اعضاء کو۔ تو کسی ضرورت وغیرہ کی بنا پر اس تین کے عدد پر کمی بھی کی جا سکتی ہے اور زیادتی بھی کی جا سکتی ہے لیکن ضرورت کی بنا پر، اور اس کے لیے اس صورت میں اس شخص کے لیے یہ وعید نہیں ہے۔ ہاں جو تین مرتبہ دھونے کو سنت نہیں سمجھتا اس کے لیے یہ وعید ہے کہ وہ ظلم کرتا ہے اور زیادتی کرتا ہے، حد سے تجاوز کرتا ہے۔ ”قَالَ: وَيُسْتَحَبُّ“ سنتوں کا بیان مکمل ہوا، آگے صاحبِ قدوری مستحبات بیان فرما رہے ہیں بھئی۔ ”قَالَ“، ضمیر کس کو راجع ہے؟ صاحبِ قدوری کو بھئی۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُسْتَحَبُّ لِلْمُتَوَضِّئِ أَنْ يَّنْوِيَ الطَّهَارَةَ“، اور مستحب ہے وضو کرنے والے کے لیے کہ وہ پاکی کی نیت کرے۔ پاکی کی نیت کرے۔ مستحب کا بیان پہلے میں کر چکا کہ مستحب کسے کہتے ہیں؟ دین کا وہ پسندیدہ طریقہ جو نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور صحابہ سے ثابت ہو، حضور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور صحابہ نے اس پر کبھی کبھار عمل کیا ہو یا اس کو دیکھ کر پسند فرمایا ہو بھئی۔ تو یہ مستحب ہے اور اس کے کرنے پر تو ثواب ہے اور چھوڑنے پر کوئی گناہ نہیں ہے بھئی۔ تو صاحبِ قدوری فرما رہے ہیں کہ وضو کرنے والے کے لیے مستحب یہ ہے کہ نیت کر لے، تو نیت کرنا صاحبِ قدوری کے نزدیک کیا ہوا؟ مستحب ہوا۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”فَالنِّيَّةُ فِي الْوُضُوءِ سُنَّةٌ عِنْدَنَا“، کہ ہمارے نزدیک وضو میں نیت کرنا یہ مستحب نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ سنت ہے بھئی۔ میں نے بتلایا تھا یہ دلائل کی بنا پر بھئی، تو بعض کے سامنے بعض دلائل آئے ان کی بنا پر انہوں نے مستحب قرار دے دیا، ورنہ عام علمائے احناف کے نزدیک یہ کیا ہے؟ نیت کرنا سنت ہے بھئی، سنت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَالنِّيَّةُ فِي الْوُضُوءِ سُنَّةٌ عِنْدَنَا“، کہ نیت کرنا وضو کے اندر سنت ہے ہمارے نزدیک، ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فَرْضٌ“، امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک نیت کرنا وضو میں فرض ہے، بلکہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک فرض ہے، صرف احناف کے نزدیک سنت ہے۔ ائمہ ثلاثہ بھئی: امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ، امام احمد ابن حنبل رَحِمَهُ اللهُ، اور امام مالک رَحِمَهُ اللهُ، تینوں ائمہ جو ہیں بڑے فقہاء ان کے نزدیک نیت کرنا فرض ہے۔ تو امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کا قول یہاں ذکر کیا صاحبِ ہدایہ نے کہ ان کے نزدیک فرض ہے، ”لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ فَلَا يَصِحُّ بِدُونِ النِّيَّةِ“، امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کیونکہ وضو جو ہے یہ عبادت ہے ”فَلَا يَصِحُّ بِدُونِ النِّيَّةِ“ تو یہ صحیح نہیں ہوگا بغیر نیت کے، کیونکہ حدیث آتی ہے: ”إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“، اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور وضو بھی ایک عمل ہے تو لہٰذا اس کا دار و مدار بھی نیت پر ہوگا، نیت ہے تو وضو ہوگا نیت نہیں تو وضو بھی نہیں بھئی۔ تو امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کی دلیل آئی: ”لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ فَلَا يَصِحُّ بِدُونِ النِّيَّةِ“، کیونکہ وضو جو ہے وہ عبادت ہے تو یہ صحیح نہیں ہوگا بغیر نیت کے، ”كَالتَّيَمُّمِ“، جیسے کیا ہے؟ تیمم ہے، تیمم بھئی۔ جیسے تیمم بغیر نیت کے صحیح نہیں، تیمم میں تو بالاتفاق سب کے نزدیک نیت کرنا ضروری ہے، بغیر نیت کے تیمم صحیح نہیں ہے بھئی، تیمم نہیں ہوگا۔ تو دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ صاحبِ ہدایہ نے امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کی دو دلیلیں ذکر کر دیں بھئی۔ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات چل رہی ہیں تو دیکھیے مختصر عبارت میں گویا دو دلیلیں ذکر کر دیں۔ ایک دلیل تو یہ ذکر کر دی کیونکہ یہ وضو کیا ہے؟ عبادت ہے، اور کوئی بھی عبادت بغیر نیت کے صحیح نہیں ہوتی، اے احناف آپ بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ کوئی بھی عبادت بغیر نیت کے صحیح نہیں۔ نماز ہے بغیر نیت کے پڑھے کوئی تو نماز نہیں ہوگی، روزہ ہے بھئی روزہ بغیر نیت کے کوئی رکھتا ہے تو روزہ ہی نہیں ہوگا بھئی۔ بلکہ فرق ہی نیت سے ہوگا کہ ایک شخص بلاوجہ نہیں کھا پی رہا یا بطورِ عبادت کے نہیں کھا رہا اس کا پتہ ہی کس سے چلے گا؟ نیت سے چلے گا، اگر اس نے نیت کی ہے معلوم ہوا وہ عبادت کی نیت سے نہیں کھا پی رہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معلوم ہوا عبادت میں نیت ضروری ہے اور وضو بھی ایک عبادت ہے۔ تو ایک دلیل ان کی یہ ذکر کر دی اور ”كَالتَّيَمُّمِ“ بھئی مثال ذکر کر دی، یہ بھی گویا دوسری دلیل ذکر کر دی کہ وہ وضو کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ تیمم پر قیاس کرتے ہیں کہ تیمم جو وضو کا خلیفہ ہے نائب ہے، اس میں تو بالاتفاق جو ہے نیت ضروری ہے، جب نائب کے اندر نیت ضروری ہے تو اصل کے اندر بطریقِ اولیٰ نیت ضروری ہوگی بھئی۔ تو ہم جواب دیتے ہیں، جواب دیتے ہیں کہ جو ”إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“ جو حدیث ہے، یہاں پر آپ صحت کا لفظ محذوف مانتے ہیں بھئی، صحت: ”إِنَّمَا صِحَّةُ الْأَعْمَالِ“ اعمال کا صحیح ہونا اس کا دار و مدار کس پر ہے؟ نیت پر ہے، جبکہ ہمارے نزدیک یہاں ثواب کا لفظ مضاف محذوف ہے: ”إِنَّمَا ثَوَابُ الْأَعْمَالِ“ اعمال کا جو ثواب ہے اس کا دار و مدار نیتوں پر ہے، نیت ہوگی تو ثواب ملے گا نیت نہیں تو ثواب بھی نہیں، اور عبادت کے اندر تو مقصود ہی ثواب ہوا کرتا ہے لہٰذا جب وہاں ثواب نہیں تو عبادت بھی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ہمارے نزدیک ثواب کا لفظ مضاف محذوف ہے۔ اور وضو جو ہے وضو، یہ عبادت بھی ہے اور ”مِفْتَاحٌ لِلصَّلَاةِ“ بھی ہے، نماز کی چابی بھی ہے، وضو ہے تو نماز ہوگی وضو اور طہارت نہیں تو نماز بھی نہیں ہوگی بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ وضو کے اندر دو پہلو ہیں: ایک عبادت کا پہلو ہے اور ایک مفتاح للصلاۃ ہونے کا پہلو ہے۔ تو اگر نیت نہ کی تو پھر عبادت نہیں بنے گی یعنی ثواب نہیں ملے گا لیکن طہارت پھر بھی حاصل ہو جائے گی اور مفتاح للصلاۃ یہ بن جائے گا، اس لیے کیونکہ اس نے پانی کو اعضاء پر بہایا ہے اور پانی کا کام ہی پاک کرنا ہے، اس نے نیت کرے کوئی یا نیت نہ کرے پانی کو جب استعمال کیا وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ پاکی کا فائدہ دے گا بھئی۔ تو یہاں بھی پاکی حاصل ہو جائے گی بغیر نیت کے بھی اور اس سے نماز ادا کی جا سکتی ہے لیکن اس وضو کا ثواب نہیں ملے گا بھئی، وہ عبادت نہیں بنے گا بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ اور دوسری بات آپ نے تیمم کو ذکر کیا تھا، کس پر قیاس کیا تھا؟ تیمم پر وضو کو قیاس کیا تھا کہ تیمم خلیفہ ہے اس کے اندر نیت کا ہونا ضروری تو اصل کے اندر بھی نیت کا ہونا ضروری، تو ہم جواب دیتے ہیں کہ وضو اور تیمم کے اندر فرق ہے۔ وضو کے اندر ہم پانی استعمال کرتے ہیں اور پانی کی ذات ہی نجاست کو بہا دینے والی ہے اس کو ختم کر دینے والی ہے، پانی نجاست کو بہا کر لے جاتا ہے تو لہٰذا یہ طہارت کا فائدہ دے گا بھئی، طہارت کا فائدہ دے گا نیت کریں یا نہ کریں۔ لیکن جبکہ تیمم وہ مٹی سے کیا جاتا ہے اور مٹی کی ذات مطہر نہیں ہے، مٹی تو ملوث ہے وہ تو چیز کو اور میلا کرے گی اور آلودہ کرے گی۔ تو وہاں پر مٹی عام حالات کے اندر وہ پاکی کا فائدہ دیتی ہی نہیں، آپ خود بھی دیکھتے ہیں مٹی کیا کرتی ہے؟ چیز کو اور میلا اور خراب کرتی ہے پاکی کا فائدہ نہیں دیتی۔ ہاں اس مٹی سے جب انسان تیمم کرتا ہے نماز پڑھنے کا ارادہ ہے پانی وغیرہ موجود نہیں ہے، اس حالت کے اندر وہ اس مٹی سے پاکی حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، اس صورت کے اندر یہ مٹی مطہر بنے گی، باقی عام احوال میں تو مٹی مطہر نہیں ہے بلکہ وہ کیا ہے؟ ملوث ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہٰذا مٹی، یہاں وضو میں پانی استعمال ہوا تیمم کے اندر مٹی استعمال ہوئی تو دونوں کے اندر بڑا فرق ہے، پانی کی ذات ہی چیز کو پاک کرنے والی ہے جبکہ مٹی کی ذات چیز کو پاک کرنے والی نہیں وہ صرف نماز کا جب ارادہ ہو اس وقت انسان تیمم کرتا ہے تو شریعت نے اجازت دی ہے اور وہ مٹی پاکی کا فائدہ دے گی، ویسے عام حالات میں وہ پاکی کا فائدہ نہیں دیتی بھئی۔ تو لہٰذا آپ کا اس وضو کو تیمم پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے، یہ قیاس مع الفارق ہے بھئی۔ فارق کہتے ہیں مختلف چیز، مختلف چیز۔ قیاس ایک جیسی چیز کو اس کے مثل پر کیا جاتا ہے، جو دو چیزیں ایک جیسی ہوں تو ایک چیز کو کیا کیا جاتا ہے؟ دوسری چیز پر قیاس کیا جاتا ہے، نہ یہ کہ دو چیزیں بالکل مختلف ہوں وہاں قیاس درست نہیں ہے، تو یہاں پر بھی آپ کا وضو کو تیمم پر قیاس کرنا صحیح نہیں، کیونکہ وضو میں پانی کا استعمال اور تیمم میں مٹی کا استعمال ہے بھئی۔ اور دوسرا جواب بھی دیں گے، دوسرا جواب یہ کہ تیمم کا معنی ہی کیا ہے؟ ارادہ کرنا، ارادہ کرنا۔ تو اس کا معنی ہی بتلا رہا ہے کہ اس کے اندر کیا ضروری ہے؟ ارادہ کرنا اور نیت کرنا ضروری ہے بھئی، جبکہ وضو کے اندر ایسا نہیں، وضو کا معنی نیت کرنا نہیں ہے بھئی۔ تو وہاں اس کے معنی، اس کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ اس کے اندر نیت کرنا ضروری ہے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہی دیکھیے اب دوبارہ بھئی: ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فَرْضٌ“، اور امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک جو ہے نیت کرنا فرض ہے، ”لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ“، کیونکہ یہ وضو جو ہے یہ عبادت ہے، ”فَلَا يَصِحُّ بِدُونِ النِّيَّةِ“، تو یہ بغیر نیت کے صحیح نہیں ہوگا، ”كَالتَّيَمُّمِ“، جیسے کہ تیمم ہے۔ ”وَلَنَا“، اور ہماری دلیل یہ ہے، اب احناف کی دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”أَنَّهُ لَا يَقَعُ قُرْبَةً إِلَّا بِالنِّيَّةِ“، قربت کہتے ہیں نیکی کا کام بھئی، جو اللہ کے تقرب کا باعث ہو، اللہ سے قرب کا باعث ہو بھئی، ثواب کا باعث ہو بھئی۔ تو یہاں عبادت کے معنی میں ہے، ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّهُ لَا يَقَعُ قُرْبَةً“ کہ یہ وضو یہ قربت نہیں واقع ہوگا یعنی عبادت نہیں بنے گا یعنی اس کا ثواب نہیں ملے گا ”إِلَّا بِالنِّيَّةِ“ مگر کس کے ساتھ؟ نیت، وضو جو ہے یہ قربت نہیں بنے گا یعنی عبادت نہیں بنے گا ”إِلَّا بِالنِّيَّةِ“ مگر نیت کے ساتھ ہی، ”وَلَكِنَّهُ يَقَعُ مِفْتَاحًا لِلصَّلَاةِ“، لیکن یہ نماز کے لیے مفتاح واقع ہو جائے گا، نماز کے لیے مفتاح بن جائے گا اس سے نماز ادا کی جا سکتی ہے، ”لِوُقُوعِهِ طَهَارَةً بِاسْتِعْمَالِ الْمُطَهِّرِ“، اس لیے کیونکہ یہ طہارت واقع ہو گیا، طہارت بن گیا ہے یہ وضو، کیوں؟ ”بِاسْتِعْمَالِ الْمُطَهِّرِ“ مطہر، پاک کرنے والی چیز کے استعمال کی وجہ سے۔ وہ کیا چیز ہے پاک کرنے والی؟ پانی، پانی کے استعمال کی وجہ سے یہ طہارت واقع ہو جائے گا، ”بِخِلَافِ التَّيَمُّمِ“، بخلاف کس کے؟ تیمم کے، ”لِأَنَّ التُّرَابَ غَيْرُ مُطَهِّرٍ إِلَّا فِي حَالِ إِرَادَةِ الصَّلَاةِ“، اس لیے کیونکہ مٹی وہ مطہر نہیں ہے ”إِلَّا فِي حَالِ إِرَادَةِ الصَّلَاةِ“ سوائے نماز کے ارادے کی نماز کے ارادے کی حالت میں، اس وقت جو ہے یہ مٹی مطہر ہے، ویسے مطہر نہیں ہے اپنی ذات کے اعتبار سے بلکہ یہ تو ملوث ہے، چیز کو آلودہ اور میلا کرنے والی ہے۔ ”أَوْ هُوَ يُنْبِئُ عَنِ الْقَصْدِ“، یہ دوسرا جواب دے رہے ہیں کہ تیمم کے اندر جو ہے نیت ضروری ہے کہ تیمم جو ہے ”يُنْبِئُ عَنِ الْقَصْدِ“ وہ ارادے کا کی خبر دیتا ہے۔ انبأ ینبئ کے معنی ہیں خبر دینا اور ”عَنِ الْقَصْدِ“، قصد کسے کہتے ہیں؟ ارادے۔ تیمم کا نام ہی ارادے کی خبر دیتا ہے کہ اس میں کیا ہونا چاہیے باقاعدہ؟ ارادہ ہونا چاہیے، باقاعدہ نیت ہونی چاہیے، تیمم کا نام ہی ہمیں یہ بتلاتا ہے۔ تو ہمارے نزدیک وضو کے اندر نیت کرنا سنت ہے بھئی، سنت ہے، فرض یا شرط نہیں ہے۔ لہٰذا یہ وضو وغیرہ کے اعضاء بغیر نیت کے بھی دھل گئے تو وضو ہو جائے گا بھئی، وضو ہو جائے گا۔ ایک شخص تالاب کے اندر غوطہ لگاتا ہے وضو کی نیت نہیں ہے لیکن سارے اعضاء دھل گئے، سارا بدن گیلا ہو گیا، پانی اچھی طرح پہنچ گیا، اس کا وضو ہو گیا بھئی، اب اسی سے کیا کر سکتا ہے؟ نماز ادا کر سکتا ہے بھئی۔ ”وَيَسْتَوْعِبَ رَأْسَهُ بِالْمَسْحِ“، ”وَيَسْتَوْعِبَ“، ینوی پر عطف ہے اور ینوی پر ان داخل ہوا تھا، نصب اس نے دیا تھا تو یہاں بھی نصب پڑھیں گے: ”وَيَسْتَوْعِبَ رَأْسَهُ بِالْمَسْحِ“، استوعب یستوعب استیعاب کے معنی ہیں گھیر لینے کے، احاطہ کر لینا، ”وَيَسْتَوْعِبَ رَأْسَهُ“، اور وضو کرنے والا احاطہ کر لے گا اپنے سر کا ”بِالْمَسْحِ“ مسح کے ساتھ، یعنی مسح میں کیا کر لے گا؟ پورے سر کو گھیر لے گا، پورے سر کا مسح کرے گا۔ یہ مستحب ہے بھئی کس کے نزدیک؟ صاحبِ قدوری کے نزدیک۔ آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: ”وَهُوَ السُّنَّةُ“، اور یہی سنت ہے بھئی۔ ہمارے نزدیک یہ کیا ہے؟ سنت ہے بھئی کہ پورے سر کا مسح کیا جائے، حضور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا یہ معمول تھا بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: السُّنَّةُ هُوَ التَّثْلِيثُ بِمِيَاهٍ مُّخْتَلِفَةٍ“، اور امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں کہ سنت جو ہے وہ تثلیث ہے، تین مرتبہ کرنا مسح کو ”بِمِيَاهٍ مُّخْتَلِفَةٍ“، میاہ جمع ہے ماء کی بھئی، مختلف پانیوں کے ساتھ، ”اعْتِبَارًا بِالْمَغْسُولِ“، قیاس کرتے ہوئے مغسول پر۔ اعضائے مغسولہ پر وہ قیاس کرتے ہیں بھئی، وہ اعضاء جن کو دھویا جاتا ہے وضو میں ان میں مسنون کیا ہے؟ سنت کیا ہے کتنی مرتبہ دھویا جائے؟ تین تین مرتبہ ان کو دھویا جائے گا، تو اسی پر قیاس کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ مسح بھی کیا جائے گا کتنی مرتبہ؟ تین مرتبہ کیا جائے گا بھئی اور مختلف پانیوں سے یعنی ہر مرتبہ نیا پانی لے گا پھر مسح کرے گا، پھر نئے پانی سے ہاتھ تر کرے گا پھر مسح کرے گا، تو تین مرتبہ اس طرح کرے گا بھئی نئے پانی کے ساتھ، نئے پانی کے ساتھ۔ یہ امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کا قول گزرا بھئی اور ان کی دلیل بھی کہ وہ قیاس کرتے ہیں اس کو مغسول پر۔ نیز ان کی دلیل حدیث بھی ہے بھئی۔ یاد رکھیے یہ صاحبِ ہدایہ مختصر طریقے پر چل رہے ہیں، مسائل اور ان کی ایک ایک دلیل وغیرہ، دلیلِ نقلی کے ساتھ ساتھ کبھی دلیلِ عقلی بھی ذکر کرتے ہیں اور جہاں جہاں دلیلِ عقلی جو ہے مؤید ہو رہی ہو اس کو ذکر کرتے ہیں۔ تو یہاں دلائل کا استقصاء اور ان کا احاطہ مقصود نہیں۔ احناف کے صرف یہی دلائل نہیں ہیں بھئی، احناف کے پاس ہر ہر مسئلے کے اندر بھئی دلائل کے انبار موجود ہیں بھئی۔ حضرت شیخ رَحِمَهُ اللهُ ترمذی شریف کے اندر وہاں پر احناف کے دلائل لکھواتے تھے بھئی، وہاں بھی اگرچہ احاطہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اتنے دلائل ہر ہر مسئلے کے اندر احادیث ہیں، دلائلِ عقلیہ نقلیہ ہر قسم کے، اتنے دلائل ہوتے احادیث قرآن سے بھی، احادیث سے بھی اور اسی طرح قیاس وغیرہ، اتنے دلائل ہوتے تھے کہ انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ لیکن ان کو یاد کرنے کے لیے اتنا ہی قوی حافظہ بھی چاہیے بھئی، اتنا قوی۔ اور دلائل، عجیب دلائل بھئی، اتنے قوی دلائل احناف کے پاس ہر ہر مسئلے میں موجود اور ان کو ذکر کرتے ہوئے حضرت شیخ رَحِمَهُ اللهُ کی زبان پر یہ جملہ آ جایا کرتا تھا، فرماتے تھے: یہ ہے احناف کا مذہب بھئی، یوں لگتا ہے براہِ راست آسمان سے نازل ہو رہا ہے بھئی، براہِ راست، اتنے قوی دلائل قرآن سے، احادیث سے، قیاس سے۔ تو یہاں پر مختصراً صاحبِ ہدایہ مختصر بات کرتے ہیں، ایک آدھی دلیل ان کی جو دلیل ہے اس مسئلے میں قوی اس کو ذکر کر دیتے ہیں اور پھر اس کا جو جواب وغیرہ احناف دیتے ہیں اس کو ذکر کر دیتے ہیں بھئی۔ تو یہاں ایک تو ان کے قیاس کو ذکر کیا امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے، اسی طرح بعض احادیث کے اندر بھی تین مرتبہ مسح کا ذکر آیا ہے بھئی۔ تو آگے اب ہماری دلیل بھی اور امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کا جواب بھی آ رہا ہے: ”وَلَنَا“، اور ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَّاحِدَةً“، کہ حضرت انس رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ نے وضو فرمایا تین تین مرتبہ، تین تین مرتبہ کا کیا مطلب ہے؟ اعضاء کو تین تین مرتبہ دھویا، ”وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَّاحِدَةً“ اور مسح فرمایا اپنے سر پر ایک مرتبہ، ”وَقَالَ“ اور فرمانے لگے: ”هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، یہ ہے حضور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا وضو کہ آپ اس طرح وضو فرماتے تھے۔ دیکھیے اس حدیث کے اندر اعضاء تو تین مرتبہ دھونے کا ذکر ہے لیکن سر پر ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے، معلوم ہوا مسح کے اندر تثلیث مسنون نہیں بلکہ مسنون کیا ہے؟ ایک مرتبہ مسح کیا جائے۔ صحاحِ کرام میں سے بہت سے صحابہ سے حضور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا وضو روایت ہے، صحابہ لوگوں کے سامنے وضو کر کے فرماتے تھے حضور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا وضو کر کے دکھاتے تھے کہ یہ ہے اس طرح حضور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وضو فرماتے تھے بھئی۔ عجیب لوگ تھے صحابہ، سرورِ کونین صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی ایک ایک سنت کو ہم تک پہنچا دیا، اتنی اتنی باریک باتیں اتنی باریک باتیں ان کو بھی انہوں نے امت تک پہنچایا بھئی۔ حضرت عثمانِ غنی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ کے بارے میں آتا ہے، آپ خلیفۃ المسلمین تھے، آخری عمر کے ایام میں بوڑھے ہو چکے ہیں ضعیف ہو چکے ہیں اور ایک مرتبہ وضو فرمایا اور وضو فرمانے کے بعد کھڑے ہوئے، تو کھڑے ہو کر پھر ہلکا سا مسکرائے بھئی۔ اور ساتھی پاس موجود تھے حیران ہوئے کہنے لگے: یا امیر المؤمنین، یہ آج آپ نے ایسا فعل کیا جو اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ وضو کے بعد کھڑے ہونے کے بعد آپ ہلکا سا مسکرائے ہیں۔ تو حضرت عثمانِ غنی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ نے عجیب جواب دیا، فرمایا کہ میرے محبوبِ اعظم ایک مرتبہ وضو کے بعد جب اس طرح کھڑے ہوئے تھے تو اسی طرح ہلکا سا مسکرائے تھے، تو میرا آج دل کیا کہ مجھے وہ سنت یاد آئی تو میں نے دل کیا کہ اس پر عمل کر لوں بھئی۔ صحابہ نے اس طرح ایک ایک دین کی بات ہم تک پہنچائی بھئی، صحابہ کا نام بھی آتا ہے تو دل کے اندر حلاوت اور لذت محسوس ہوتی ہے بھئی۔ عجیب لوگ تھے، عجیب لوگ۔ ان کے واقعات پڑھتا ہے انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ایک مرتبہ حضور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہیں سے واپس تشریف لا رہے تھے کسی غزوہ سے اور تو آرام کا وقت ہوا رات کا وقت، تو پوچھا کہ کون حفاظت وغیرہ کرے گا؟ کون پہرہ دے گا؟ دو صحابہ نے کہا: ہم پہرہ دیں گے، ایک انصاری تھے ایک مہاجر تھے بھئی۔ تو وہ دو حفاظت کے لیے تیار ہوئے اور پھر آپس میں طے کیا کہ باری باری پہرہ دیتے ہیں، ایک صحابی سو گئے اور ایک کھڑے ہوئے بھئی حفاظت کے لیے، اور پھر کہ وہیں پر نماز کی نیت باندھ لی کہ میں نماز ادا کرتا ہوں، کوئی آئے گا اس کا بھی پتہ لگے گا اور نماز کا ثواب بھی کما لیتا ہوں، مشغول ہو گئے نماز کے اندر بھئی۔ تو ایک شخص جو تاک میں تھا پیچھے آ رہا تھا، اس کی غالباً بیوی کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس نے بدلے کا ارادہ کیا ہوا تھا، تو جب دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا ہے، وہ صحابی نماز میں مصروف تھے بھئی، ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور حفاظت کر رہا ہے، تو اس نے تیر چلایا بھئی، وہ تیر صحابی کو لگا بھئی۔ اندازہ لگائیں کتنی تکلیف کا باعث ہوگا! لیکن اس صحابی نے نماز نہیں توڑی بھئی، اسی طرح نماز پڑھ رہے ہیں، خون جاری ہے، ابتدائی زمانہ ہے، اور تو تیر لگا ان کو، نماز اسی طرح پڑھتے رہے۔ دوسری مرتبہ پھر اس نے دوسرا تیر چلایا دوسرا تیر بھی ان کو لگا، انہوں نے نماز پھر بھی نہیں توڑی اسی طرح پڑھتے رہے۔ پھر اس نے تیسرا تیر چلایا تیسرا تیر بھی ان کو لگا، سارے کپڑے خون سے بھر گئے ہیں لیکن وہ اپنی نماز میں مصروف ہیں، تو نماز مکمل کی اور پھر اپنے ساتھی کو جگایا کہ اس طرح کوئی شخص آیا ہے جو تیر چلا رہا ہے، صحابی نے دوسرے نے ان کو دیکھا تو حیران رہ گئے کہنے لگے: سبحان اللہ! عجیب آدمی ہو بھئی، جب پہلا تیر لگا تھا تو تم اسی وقت فوراً مجھے بتاتے، تم نے کیوں جلدی مجھے نہیں جگایا اور نہیں بتایا؟ صحابی نے عجیب جواب دیا، فرمانے لگے کہ میں اس وقت ایک سورت کی تلاوت میں مصروف تھا اور میرا دل نہیں مانا کہ میں اس سورت کو درمیان میں چھوڑ دوں بھئی۔ تو عجیب لوگ تھے صحابہ بھئی۔ تو حدیث میں ہے: ”وَلَنَا أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَّاحِدَةً“، کہ حضرت انس رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ نے وضو فرمایا تین تین مرتبہ، تین تین مرتبہ کا کیا مطلب ہے؟ اعضاء کو تین تین مرتبہ دھویا، ”وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَّاحِدَةً“، اور مسح فرمایا اپنے سر پر ایک مرتبہ، ”وَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اور فرمانے لگے: یہ ہے حضور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا وضو کہ آپ اس طرح وضو فرماتے تھے۔ دیکھیے اس حدیث کے اندر اعضاء تو تین مرتبہ دھونے کا ذکر ہے لیکن سر پر ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے، معلوم ہوا مسح کے اندر تثلیث مسنون نہیں بلکہ مسنون کیا ہے؟ ایک مرتبہ مسح کیا جائے۔ ”وَالَّذِي يُرْوَى مِنَ التَّثْلِيثِ“، اور وہ جو روایت کیا گیا ہے تثلیث میں سے یعنی تین مرتبہ مسح کرنے کے بارے میں جو ذکر آیا ہے حدیث کے اندر، ”مَحْمُولٌ عَلَيْهِ بِمَاءٍ وَّاحِدٍ“، وہ محمول ہے ایک پانی پر۔ بعض احادیث میں میں نے بتایا وہ بھی امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کی دلیل ہیں کہ ان میں تین تین مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے، اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ وہ کس پر محمول ہیں؟ ہر مرتبہ نیا پانی نہیں بلکہ اسی پانی کے ساتھ تین مرتبہ مسح کر لے، ”وَهُوَ مَشْرُوعٌ عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“، اور یہ بھی مشروع ہے جائز ہے بنا پر اس کے جو روایت کیا گیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللهُ سے۔ امام صاحب کے نزدیک بھی یہ جائز ہے، مسنون ہے امام صاحب کے نزدیک ایک پانی سے اگر تین مرتبہ کیا کر لیتا ہے؟ مسح کر لیتا ہے، کیونکہ یہ حدیث کے اندر آیا ہے بھئی۔ یہ تو نقلی دلیل ذکر کی بھئی، احناف کی دلیل حضرت انس رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ کی حدیث آ گئی یہ نقلی دلیل۔ آگے عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ عقل بھی یہی بتلاتی ہے یہی فیصلہ کرتی ہے کہ مسح ایک مرتبہ ہونا چاہیے یا تین مرتبہ تو ہو لیکن نئے پانی سے نہ ہو، اگر نئے پانی سے تین مرتبہ مسح کیا جائے گا تو یہ تو مسح نہ رہے گا یہ تو غسل بن جائے گا بھئی، کیا بن جائے گا؟ غسل بن جائے گا اور شریعت نے مسح کرنے کا حکم دیا ہے سر کے اندر، دھونے کا حکم نہیں دیا بھئی۔ تو مسح ہی بدل کر غسل بن جائے گا تو عقل بھی یہی کہتی ہے کہ کیا کرنا چاہیے؟ مسح کرنا چاہیے یہاں پر شریعت نے مسح کا حکم دیا ہے، تین دفعہ کریں گے تو کیا بن جائے گا؟ غسل بن جائے گا۔ ”وَلِأَنَّ الْمَفْرُوضَ هُوَ الْمَسْحُ وَبِالتَّكْرَارِ يَصِيرُ غَسْلًا“، اور اس لیے کیونکہ جو فرض کیا گیا ہے وہ تو مسح ہے ”وَبِالتَّكْرَارِ يَصِيرُ غَسْلًا“ اور تکرار کی وجہ سے وہ غسل بن جائے گا، ”فَلَا يَكُونُ مَسْنُونًا“، تو وہ مسنون نہیں ہوگا بھئی، مسنون تو مسح ہے غسل نہیں۔ ”فَصَارَ كَمَسْحِ الْخُفِّ“، تو یہ کس کی طرح ہو گیا؟ موزے کے مسح کی طرح ہو گیا، موزے کا مسح تو ایک مرتبہ کیا جاتا ہے، موزے کا، امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ نے مسح کو قیاس کیا تھا اعضائے مغسولہ پر تو اعضائے مغسولہ پر نہیں قیاس کرنا چاہیے مسح کو، مسح کو مسح دوسری جگہ جو ہے مسح اس پر قیاس کرنا چاہیے اور موزے کے اندر مسح کا حکم ہے اور وہ کتنی مرتبہ کیا جاتا ہے؟ ایک مرتبہ، تو لہٰذا سر کے اندر بھی مسح کا حکم ہے تو یہاں بھی مسح کتنی دفعہ کیا جائے گا؟ ایک مرتبہ۔ ”فَصَارَ كَمَسْحِ الْخُفِّ“، تو یہ موزے کے مسح کی طرح ہو گیا، ”بِخِلَافِ الْغَسْلِ“، بخلاف غسل دھونے کے، اس میں تین مرتبہ کا ذکر ہے ”لِأَنَّهُ لَا يَضُرُّهُ التَّكْرَارُ“، اس کو تکرار نقصان نہیں دیتا۔ مسح کے اندر تکرار ہو تو نقصان آئے گا بھئی، کیا نقصان آئے گا کہ مسح نہ رہے گا بلکہ کیا بن جائے گا؟ غسل، لیکن غسل کے اندر اگر تکرار آئے تو اس سے غسل کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، ایک مرتبہ چیز کو دھوئیں یا تین مرتبہ دھوئیں وہ دھونا ہی ہے، دھونے سے وہ نکلے گا نہیں لیکن مسح مسح سے نکل کر کیا بن جائے گا؟ غسل بھئی۔ ”بِخِلَافِ الْغَسْلِ لِأَنَّهُ لَا يَضُرُّهُ التَّكْرَارُ“، بخلاف دھونے کے اس لیے کیونکہ غسل جو ہے اس کو تکرار نقصان نہیں دیتا۔ ”وَيُرَتِّبَ الْوُضُوءَ، فَيَبْدَأَ بِمَا بَدَأَ اللهُ تَعَالَى بِذِكْرِهِ، وَبِالْمَيَامِنِ“، ”وَيُرَتِّبَ الْوُضُوءَ“، اس کا بھی عطف اسی يستوعب یا ینوی پر عطف ہے، اور یہ کہ ترتیب سے کرے وضو کو وضو کرنے والا، ”فَيَبْدَأَ بِمَا بَدَأَ اللهُ تَعَالَى بِذِكْرِهِ“، پس ابتدا کرے اس چیز سے جس کے ذکر سے اللہ تعالیٰ نے ابتدا فرمائی ہے، اللہ نے وضو کا حکم دیا: ”فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ“، تو ابتدا کہاں سے فرمائی اللہ نے؟ چہرے سے بھئی، چہرے کے ذکر سے، تو اسی سے وضو کرنے والا بھی ابتدا کرے یعنی ترتیب وہی رکھے بھئی، ترتیب وہی بھئی۔ ”فَيَبْدَأَ بِمَا بَدَأَ اللهُ تَعَالَى بِذِكْرِهِ“، تو ابتدا کرے اس چیز کی جس کے ذکر سے اللہ نے ابتدا فرمائی ہے، ”وَبِالْمَيَامِنِ“، اور داہنی طرف سے کرے، یہ مستحب ہے وضو کے اندر، یعنی اعضاء کے اندر پہلے دائیں طرف کو دائیں مثلاً ہاتھ دھونے ہیں تو پہلے دائیں ہاتھ کو دھوئے اور اس کے بعد بائیں ہاتھ کو۔ ”وَالتَّرْتِيبُ فِي الْوُضُوءِ سُنَّةٌ عِنْدَنَا“، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ترتیب سے کرنا یہ ہمارے نزدیک کیا ہے؟ سنت ہے، صاحبِ قدوری نے تو مستحبات میں ذکر کیا لیکن یہ سنت ہے ”عِنْدَنَا“ ہمارے نزدیک، ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فَرْضٌ“، اور امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک یہ فرض ہے بھئی، فرض ہے۔ بلکہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک فرض ہے بھئی ترتیب سے کرنا۔ ”لِقَوْلِهِ“، دلیل ذکر کر رہے ہیں امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کی، بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے: ”فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ“، الآیۃ، تو تم پس دھو اپنے چہروں کو، الآیۃ۔ الآیۃ معروفۃ، آیت معروف ہے معلوم ہے، ہم نے کچھ حصہ پڑھ دیا باقی آپ کو معلوم ہے، یا اقرأ الآیۃ منصوب پڑھیں الآیۃ کو، کہ کچھ حصہ ہم نے ذکر کر دیا باقی آپ پڑھ لیجیے۔ تو یہ ”فَاغْسِلُوا“، یہ امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کی دلیل ہے کہ اس کے اندر فا آئی، ”وَالْفَاءُ لِلتَّعْقِيبِ“، اور فا کس لیے ہوتی ہے؟ تعقیب کے لیے، ایک چیز کو دوسری چیز کے پیچھے لانا، اس کے بعد لانا، اس کے عقب میں لانا فا اس چیز کا فائدہ دیتی ہے۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو“، اس جملے سے آپ کو کیا پتہ چلا کہ کون آیا ہے پہلے؟ زید، ”فَعَمْرٌو“ تو یہ جو فا کے بعد ہے وہ بعد میں آیا ہے، تو فا نے تعقیب کا فائدہ دیا، تعقیب مع الوصل کا یعنی زید کے فوراً بعد عمرو آیا ہے۔ فوراً بعد کا کیا معنی؟ یاد رکھیے فوراً بعد کا یہ معنی نہیں کہ جیسے ہی زید آیا ساتھ ہی فوراً کون آ گیا؟ عمرو، عرف میں جسے فوراً سمجھا جاتا ہے بھئی عرف میں۔ زید آیا زید کے آنے کے پانچ دس منٹ بعد عمرو آیا تھا لیکن اگلے دن کوئی آپ سے پوچھتا ہے زید کے بعد عمرو کتنی دیر بعد آیا تھا؟ آپ کہتے ہیں فوراً ہی آ گیا تھا بھئی۔ تو یہ عرف میں یہ تھوڑی دیر اس کو دیر سمجھا ہی نہیں جاتا بھئی۔ تو یہ ہے تعقیب مع الوصل بھئی۔ تو امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کی دلیل یہ ہے کہ یہاں پر ”فَاغْسِلُوا“ کے اندر فا آئی اور فا تعقیب کا فائدہ دیتی ہے کہ یہ جو بعد میں آ رہا ہے اس کو یہ بعد میں ہونا چاہیے، پیچھے کیا ذکر تھا؟ ارادۂ قیام للصلاۃ: جب تم نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرو تو اس ارادے کے بعد کیا کر لو پہلے؟ پہلے وضو کر لو، ”فَاغْسِلُوا“ چہروں کو دھو لو، ”وَأَيْدِيَكُمْ“ اور ہاتھوں کو دھو لو۔ معلوم ہوا یہاں پر ارادے پر چہرے کا دھونا مرتب ہو رہا ہے، ارادے پر چہرے کا دھونا مرتب ہو رہا ہے یعنی اس کے بعد آ رہا ہے ترتیب سے، تو جب ایک جگہ ترتیب آ گئی تو باقی سب کے اندر بھی کیا آ جائے گی؟ ترتیب آ جائے گی، تو چہرے کو دھویا جائے گا پھر اس کے بعد ہاتھوں کو، اس کے بعد مسح کا ذکر ہے قرآن میں، پھر اس کے بعد پاؤں کے دھونے کا ذکر ہے، تو یہ ترتیب یہ قرآن سے ثابت ہے تو یہ فرض ہے بھئی، فرض ہے۔ اور یہ فائدہ کس نے دیا ترتیب کا؟ فا نے دیا، کیونکہ باقی جگہ اگرچہ واؤ ہے لیکن یہاں دو ہی صورتیں ہیں: یا تو سب میں ترتیب کو مانا جائے یا کسی میں بھی ترتیب کو نہ مانا جائے، کسی میں بھی ترتیب کو نہ مانا جائے تو فا کو معطل کرنا لازم آئے گا کہ فا تو پھر اس کا مطلب ہے کوئی فائدہ ہی نہیں دے رہی، اور فا فائدہ دے تو پھر کیا کرنا پڑے گا جب ایک جگہ ترتیب آ گئی تو سب جگہ ترتیب ماننا پڑے گی بھئی، یہ دلیل ہے امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کی۔ ”وَلَنَا“، اور ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْمَذْكُورَ فِيهَا حَرْفُ الْوَاوِ“، کہ وہاں پر کیا مذکور ہے قرآن کے اندر؟ حرفِ واؤ مذکور ہے، ”وَهِيَ لِمُطْلَقِ الْجَمْعِ بِإِجْمَاعِ أَهْلِ اللُّغَةِ“، اور یہ واؤ جو ہے یہ مطلقِ جمع کے لیے ہوتا ہے اہل لغت کے اجماع سے، یعنی اہل لغت اہل زبان جو عرب ہیں ان کا اجماع ہے بڑے بڑے جو ائمہ ہیں ان کا اس بات پر اجماع ہے کہ واؤ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ مطلقِ جمع کا، مطلقِ جمع کا، یعنی اس میں ترتیب نہیں ہوتی۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، اس جملے نے صرف اتنا بتلایا کہ یہ مجیئت کے فعل میں، آنے کے فعل میں دونوں جمع ہیں، زید بھی اور عمرو بھی، یعنی زید نے بھی آنے والا فعل کیا ہے عمرو نے بھی آنے والا فعل کیا ہے، ترتیب نہیں ہے۔ زید کا لفظ اگرچہ لفظوں میں پہلے لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ زید پہلے آیا ہے اور عمرو بعد میں، ہو سکتا ہے عمرو پہلے آیا ہو اور زید بعد میں پھر بھی آپ کا یہ کہنا ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“ زید کو لفظوں میں مقدم کرنا درست ہے، اس لیے کیونکہ واؤ ترتیب کا فائدہ دیتا ہی نہیں، وہ صرف کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ مطلقِ جمع، جمع کا کیا معنی؟ دونوں کو ماقبل اور مابعد کو یہ جمع کر دیتا ہے اس حکم کے اندر جو ان پر لگایا جا رہا ہے اور یہاں کس چیز کا حکم زید پر لگایا جا رہا ہے؟ مجیئت کا، آنے کا، تو یہی حکم کس کے لیے ہو جائے گا؟ عمرو کے لیے بھی، تو دونوں جمع ہو گئے اس آنے کے حکم میں۔ اور یہ کوئی تفصیل بیان نہیں کرے گا، چاہے زید پہلے آیا ہو اور عمرو بعد میں یا عمرو پہلے ہو زید بعد میں، دونوں صورتوں میں آپ کہہ سکتے ہیں ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“۔ زید کے فوراً بعد عمرو آیا ہو یا زید آج آیا ہے اور عمرو دس سال پہلے آیا تھا لیکن آئے تو دونوں ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“۔ واؤ وہ صرف جمع کرنے کا فائدہ دیتا ہے، ترتیب وغیرہ کا فائدہ نہیں دیتا۔ اور قرآن میں بھی ”فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ“ واؤ آیا ”إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا“ واؤ آیا بھئی مسح سے پہلے بھی، ”وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ“ یہاں بھی کیا آیا؟ واؤ آیا بھئی۔ تو یہاں پر ان اعضاء کے درمیان واؤ آیا ہے اور واؤ صرف جمع کرنے کا فائدہ دیتا ہے، یعنی ان کا یہ حکم میں جمع تو ہوں گے لیکن ان کے اندر ترتیب نہیں بھئی، ترتیب نہیں، کیونکہ واؤ ترتیب کا فائدہ نہیں دیتا بلکہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ مطلقِ جمع کا فائدہ دیتا ہے، مطلقِ جمع کا۔ یہ معنی ہے بھئی: ”وَلَنَا أَنَّ الْمَذْكُورَ فِيهَا حَرْفُ الْوَاوِ، وَهِيَ لِمُطْلَقِ الْجَمْعِ بِإِجْمَاعِ أَهْلِ اللُّغَةِ“۔ ”فَتَقْتَضِي“، تو بھئی فا کا کیا فائدہ ہوا؟ فا بھی تو آئی تھی، اس کا بھی بتلا رہے ہیں کہ بھئی فا جو ہے وہ جس مقام پر آئی ہے وہاں ترتیب کا فائدہ دے گی، جس مقام پر آئی۔ فا کس مقام پر آئی؟ فا سے ماقبل کیا ہے؟ ارادۂ قیام للصلاۃ، نماز کے لیے جب اٹھنے کا ارادہ کرو، اور فا کے مابعد کیا کیا ذکر ہے؟ چہرے کے دھونے کا بھی حکم اور ہاتھوں کے دھونے کا بھی حکم، سر کے مسح کا بھی حکم، پاؤں کے دھونے کا بھی حکم، یہ چار چیزیں فا کے بعد ہیں، ان چار چیزوں کے بیچ میں تو واؤ آیا وہ ترتیب کا فائدہ نہیں دے گا بلکہ صرف کس چیز کا فائدہ دے گا؟ جمع کرنے کا فائدہ دے گا، ان کو جمع کیا جائے گا اور یہ مجموعہ بن گیا، یہ چار چیزیں کیا بن گئیں؟ مجموعہ۔ یہ مجموعہ اس پر فا داخل ہوئی ہے اس سارے مجموعے پر، تو یہ سارا مجموعہ ارادۂ قیام کے بعد ہونا چاہیے۔ یہ سارا مجموعہ کیا ہے؟ اور یہ مجموعہ کیا ہے؟ وضو۔ معلوم ہوا ارادۂ قیام للصلاۃ ہو جب نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ ہو تو اس ارادے کے فوراً بعد کیا ہونا چاہیے؟ اس کے بعد فوراً وضو ہونا چاہیے، تو تمام یہ جملۂ اعضاء یہ سارے کیا ہیں ان کا حکم یہ فا کے مؤخر ہے بھئی فا سے، تو فا ان میں ترتیب کا فائدہ دے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی سب کو اچھی طرح؟ یہ معنی ہے: ”فَتَقْتَضِي إِعْقَابَ غَسْلِ جُمْلَةِ الْأَعْضَاءِ“، تو یہ فا تقاضا کرتی ہے ”إِعْقَابَ“ پیچھے لانا بعد میں لانا ”غَسْلِ جُمْلَةِ الْأَعْضَاءِ“ تمام اعضاء کے دھونے کو پیچھے لانے کا تقاضا کرتی ہے بعد میں لانے کا، یہ فا تمام اعضاء کے دھونے کو اس کے بعد میں لانے کا تقاضا کرتی ہے یعنی ارادۂ قیام کے بعد یہ سارے ہونے چاہییں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَالْبِدَايَةُ بِالْمَيَامِنِ فَضِيلَةٌ“، اور دائیں طرف سے ابتدا کرنا یہ فضیلت ہے، یعنی یہ فضیلت والی بات ہے افضل چیز ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ کے اس قول کی وجہ سے، دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی: ”إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ التَّيَامُنَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى التَّنَعُّلِ وَالتَّرَجُّلِ“، کہ اللہ تعالیٰ جو ہیں دائیں طرف سے کرنے کو یہ پسند فرماتے ہیں ہر چیز کے اندر، اللہ تعالیٰ ہر چیز میں دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے ہیں ”حَتَّى التَّنَعُّلِ“، تنعل کا معنی جوتے پہننا، ”وَالتَّرَجُّلِ“، ترجل کا معنی کنگھی کرنا بالوں میں، اللہ تعالیٰ ہر چیز میں دائیں طرف سے کرنے کو پسند فرماتے ہیں حتیٰ کہ جوتے پہننے میں اور کنگھی کرنے میں، حتیٰ کہ جوتے پہننے اور کنگھی کرنے میں بھی۔ ”فَصْلٌ فِي نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ“، اچھا بھئی، آگے وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ہے۔ وضو کے فرائض بھی ذکر ہوئے، وضو کی سنتیں بھی ذکر ہوئیں، اور وضو کے مستحبات بھی ذکر ہوئے بھئی، مستحبات بھی۔ تو وضو گویا مکمل ہوا بھئی۔ یاد رکھیے وضو کے بعد سورۃ ”إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ“ بھئی سورۂ قدر وضو کے بعد پڑھنی چاہیے بھئی۔ حدیث میں آتا ہے جو شخص وضو کے بعد سورۂ قدر پڑھتا ہے سورۂ ”إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ“ پڑھتا ہے، وہ صدیقین میں سے شمار ہوگا بھئی۔ کتنی عظیم فضیلت ہے کہ جو شخص وضو کے بعد اس سورت کے پڑھنے کو اپنا معمول بنا لے! اسی طرح یہ دعا پڑھنی چاہیے وضو کے بعد بھئی: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ“، جی یہ لکھ لیجیے بھئی دعا بھئی: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ“—کیسے لکھیں گے بھئی؟ ”وَاجْعَلْنِي“، ہمزۂ وصلیہ وہ پھر پڑھتے ہوئے گر جائے گا، پہلے تا ہے دو نقطوں والی پھر طا ہے، ”الْمُتَطَهِّرِينَ“—”وَاجْعَلْنِي“—نون کے بعد یا بھی ہے بھئی متکلم کی—”مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ“، صاد کے ساتھ: ”الصَّالِحِينَ“، ”وَاجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ“، ”يَحْزَنُونَ“: یا، حا، زا، ”يَحْزَنُونَ“۔ لکھ لیا بھئی؟ تو یہ دعا پڑھے بھئی: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ“ تو یہ دعا بھی وضو کے بعد پڑھنی چاہیے بھئی۔ چلیے بس بھئی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 9 of 82