”وَمَنْ أَحْدَثَ فِي رُكُوعِهِ أَوْ سُجُودِهِ تَوَضَّأَ وَبَنَى وَلَا يُعْتَدُّ بِالَّتِي أَحْدَثَ فِيهَا لِأَنَّ إِتْمَامَ الرُّكْنِ بِالِانْتِقَالِ وَمَعَ الْحَدَثِ لَا يَتَحَقَّقُ فَلَا بُدَّ مِنَ الْإِعَادَةِ، وَلَوْ كَانَ إِمَامًا فَقَدَّمَ غَيْرَهُ دَامَ الْمُقَدَّمُ عَلَى الرُّكُوعِ“.
”وَمَنْ أَحْدَثَ فِي رُكُوعِهِ أَوْ سُجُودِهِ تَوَضَّأَ وَبَنَى“، یہاں سے یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ جس شخص کو حدث لاحق ہوا نماز میں اور پھر وہ جا کر وضو کرتا ہے اور اسی نماز پر بنا کرتا ہے تو جس رکن کے اندر وضو ٹوٹا تھا اس کو شمار نہیں کرے گا، آ کر پھر اس کو دوبارہ ادا کرے۔ اگر سجدے میں وضو ٹوٹا تھا تو اس سجدے کو شمار نہیں کرنا بلکہ آ کر دوبارہ اس سجدے کو کرنا ہے۔ اگر رکوع میں وضو ٹوٹا تھا تو اس رکوع کو شمار نہیں کرنا بلکہ آ کر دوبارہ اس رکوع کو کرے، ادا کرے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَحْدَثَ فِي رُكُوعِهِ أَوْ سُجُودِهِ تَوَضَّأَ وَبَنَى“، اور جس شخص کو حدث پیش آ جائے اس کے رکوع میں یا اس کے سجدے میں تو وہ وضو کرے اور بنا کرے، ”وَلَا يُعْتَدُّ بِالَّتِي أَحْدَثَ فِيهَا“، اور شمار نہ کرے اس رکن کو جس کے اندر حدث لاحق ہوا ہے۔ بھئی اس کو کیوں نہیں شمار کرنا؟ دوبارہ اس کو کیوں کرنا ہے؟ آگے اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی دیکھیے، رکن مکمل تب ہو گا جب انسان اس سے منتقل ہو جائے اور یہ منتقل ہونا بھی پاکی کی حالت میں ہو، اور یہاں پر تو اس رکن کے بیچ میں ہی وضو ٹوٹ گیا ہے، اس میں منتقل ہونا پاکی کے ساتھ نہیں پایا گیا، لہٰذا وہ رکن بھی مکمل نہیں ہوا بھئی۔
کہتے ہیں: ”لِأَنَّ إِتْمَامَ الرُّكْنِ بِالِانْتِقَالِ“، اس لیے کیونکہ رکن کو پورا کرنا وہ اس سے منتقل ہونے سے ہو گا، ”وَمَعَ الْحَدَثِ لَا يَتَحَقَّقُ“، اور حدث کے ساتھ تو یہ نہیں پایا جائے گا، یعنی انتقال نہیں پایا جائے گا یعنی اس کا کوئی اعتبار نہیں، ”فَلَا بُدَّ مِنَ الْإِعَادَةِ“، تو ضروری ہے اعادہ کرنا۔
”وَلَوْ كَانَ إِمَامًا فَقَدَّمَ غَيْرَهُ دَامَ الْمُقَدَّمُ عَلَى الرُّكُوعِ“، یہاں سے مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ اگر امام جو ہے اس کو حدث لاحق ہوا ہے اور مثلاً رکوع میں حدث لاحق ہوا ہے تو وہ خلیفہ بناتا ہے دوسرے کو، اور آپ نے مسئلہ پڑھ لیا کہ جیسے ہی حدث لاحق ہو فوراً پلٹے انسان بھئی۔ اگر کچھ دیر بھی اس نے کر دی تو اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد۔ تو رکوع میں امام کو حدث لاحق ہوا وہ فوراً پلٹا اور جس کو وہ خلیفہ بنا رہا ہے وہ رکوع میں ہے تو وہ اس کو رکوع ہی میں رہنا چاہیے، اسی طرح رکوع کی حالت میں آگے بڑھ جائے، کیونکہ رکوع تاکہ وہ رکوع پورا کروا دے، اور رکوع کی حالت میں برقرار رہتے ہوئے وہ کیا کر سکتا ہے؟ رکوع پورا کروا سکتا ہے، لہٰذا اسی حالت میں رہے بھئی جو جس کو آگے کیا امام نے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ إِمَامًا“، اور اگر یہ وہ شخص امام تھا یعنی جس کو حدث لاحق ہوا ہے، ”فَقَدَّمَ غَيْرَهُ“، تو اس نے دوسرے کو مقدم کر دیا، ”دَامَ الْمُقَدَّمُ عَلَى الرُّكُوعِ“، تو دائم رہے یعنی مسلسل رہے آگے وہ شخص جس کو آگے کیا گیا رکوع پر ہی، ”لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ الْإِتْمَامُ بِالِاسْتِدَامَةِ“، اس لیے کیونکہ اس کے لیے ممکن ہے رکوع پورا کروانا برقرار رہتے ہوئے بھئی۔ استدامت کا معنی ہے برقرار رہنا کسی چیز پر، تو وہ برقرار رہتے ہوئے یعنی رکوع پر ہی برقرار رہتے ہوئے اس کو پورا کروا سکتا ہے۔
”وَلَوْ تَذَكَّرَ وَهُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ أَنَّ عَلَيْهِ سَجْدَةً“، یہاں سے مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں کہ ایک شخص ہے وہ نماز ادا کر رہا ہے، مثلاً رکوع میں ہے یا سجدے میں ہے، تو اس کو یاد آیا کہ اس کے ذمے مثلاً ایک سجدہ باقی ہے۔ پچھلی رکعت میں مثلاً اس نے ایک ہی سجدہ کیا تھا اور ایک سجدہ رہ گیا تھا، یا اس کے ذمے تلاوت کا سجدہ باقی ہے، تو وہ اسی رکوع سے سجدے میں چلا گیا، یا سجدے میں تھا اس کو یاد آیا کہ میرے ذمے پچھلا ایک سجدہ باقی ہے تو وہ اسی سجدے سے سر اٹھاتا ہے اور پھر فوراً کیا کر لیتا ہے؟ وہ والا سجدہ ادا کر لیتا ہے۔ تو اس صورت میں اس کے لیے افضل یہ ہے اس رکوع اور اس سجدے کا اعادہ کرے، جس کے جس میں اس کو یاد آیا تھا اور جس سے اس نے پھر اگلا سجدہ فوراً کر لیا۔ اور صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے افضل یہ ہے کہ اس رکوع اور سجدے کا اعادہ کر لے، اگر اس کا اعادہ نہیں کرتا تو تو بھی جائز ہے، کیونکہ ترتیب جو ہے افعالِ صلاۃ میں یہ شرط نہیں۔ افعالِ صلاۃ کے اندر ترتیب شرط نہیں ہے۔
کہتے ہیں: ”وَلَوْ تَذَكَّرَ“، اور اگر اس نماز پڑھنے والے کو یاد آیا، ”وَهُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ“، اس حال میں کہ وہ رکوع کر رہا تھا یا سجدہ کر رہا تھا، کیا یاد آیا؟ ”أَنَّ عَلَيْهِ سَجْدَةً“، کہ اس کے اس کے ذمے ایک سجدہ باقی ہے، ”فَانْحَطَّ مِنْ رُكُوعِهِ لَهَا“، تو وہ جھک گیا رکوع سے ہی اس سجدے کے لیے، رکوع سے سیدھا کدھر چلا گیا؟ سجدے میں چلا گیا، پھر قومہ کیا ہی نہیں، ”أَوْ رَفَعَ رَأْسَهُ“، یا اس کو کس وقت یاد آیا تھا؟ سجدے میں، ”وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ سُجُودِهِ فَسَجَدَهَا“، اور اس نے سر اٹھایا اپنے سجدے سے، تو پھر وہ جو سجدہ باقی تھا اس سجدے کو کر لیا، ”يُعِيدُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ“، تو اعادہ کرے اس رکوع اور سجدے کا جس میں اس کو یاد آیا اور جس سے جس رکوع سے وہ سیدھا کہاں چلا گیا تھا؟ سجدے، اس رکوع کا اعادہ کرے، یا جس سجدے سے میں یاد آیا تھا اور اس سے فوراً اٹھ کر اس نے وہ گزشتہ سجدہ کیا، تو اس رکوع اور سجدے کا اعادہ کرے۔
آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَهَذَا بَيَانُ الْأَوْلَى“، یہ اولیٰ کا بیان ہے کہ بہتر یہ ہے، ”لِتَقَعَ الْأَفْعَالُ مُرَتَّبَةً“، تاکہ نماز کے افعال مرتب ہو جائیں، ترتیب سے واقع ہو جائیں، ”بِالْقَدْرِ الْمُمْكِنِ“، جس قدر ممکن ہو سکے۔ ”وَإِنْ لَمْ يُعِدْ أَجْزَأَهُ“، اور اگر اس نے اس رکوع اور سجدے کا اعادہ نہیں کیا تو بھی یہ اس کے لیے کافی ہے، ”لِأَنَّ التَّرْتِيبَ فِي أَفْعَالِ الصَّلَاةِ لَيْسَ بِشَرْطٍ“، اس لیے کیونکہ نماز کے افعال میں ترتیب شرط نہیں ہے۔ نماز کے افعال میں ترتیب شرط نہیں۔ بھئی آپ خود بھی دیکھتے ہیں: امام نماز شروع کروا دیتا ہے، ایک رکعت گزر گئی پھر آ کر آپ شامل ہوتے ہیں، پھر آ کر شامل ہوتے ہیں۔ اب جب امام سلام پھیرتا ہے چار رکعتیں پوری کروا دیں، آپ کی ایک رکعت باقی ہے آپ پھر کھڑے ہو جاتے ہیں، اور جب پھر جب کھڑے ہوتے ہیں آپ سورۂ فاتحہ بھی پڑھتے ہیں اور ساتھ اس کے سورت بھی ملاتے ہیں، کیونکہ یہ وہ پہلی رکعت آپ کی باقی تھی اس کو اب آپ پڑھ رہے ہیں، حالانکہ یہ رکعت تو پہلی تھی اور آپ سب سے آخر میں اس کو ادا کر رہے ہیں، لیکن نماز آپ کی ٹھیک ہے، معلوم ہوا نماز کے افعال میں ترتیب شرط نہیں، تو دیکھو پہلی رکعت آخر میں ادا ہو رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا نماز کے افعال میں ترتیب شرط نہیں ہے۔
”وَلِأَنَّ الِانْتِقَالَ مَعَ الطَّهَارَةِ شَرْطٌ وَقَدْ وُجِدَ“، یہاں سے وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ ہم نے کہا افضل یہ ہے اس رکوع اور سجدے کا اعادہ کرے، اگر اعادہ نہیں بھی کرے گا پھر بھی جائز ہے، یہ کافی ہو جائے گا۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ وہ رکوع اور سجدہ ادا ہو چکے، پورے ہو چکے، کیونکہ کوئی رکن پورا کس طرح ہوتا ہے؟ جب اس سے انسان منتقل ہو جائے دوسرے رکن کی طرف، اور کس حالت میں منتقل ہو؟ پاکی کی حالت میں، اور یہاں پر بھی اس رکوع اور سجدے سے وہ منتقل ہوا تھا، رکوع سے سیدھا کدھر چلا گیا تھا؟ سجدے، تو دیکھو انتقال پایا گیا اور کس حالت میں؟ پاکی کی حالت میں۔ یا اسی طرح سجدے میں اس کو یاد آیا تھا اور اس سجدے سے فوراً اٹھا تھا اور پھر اگلا سجدہ کیا تھا، تو وہ جو سجدے سے اٹھا اور انتقال پایا گیا وہ بھی کس حالت میں تھا؟ پاکی کی حالت میں، تو وہ رکن مکمل ہو چکے ہیں، لہٰذا اعادہ نہ بھی کرے تو درست ہے۔
”وَلِأَنَّ الِانْتِقَالَ مَعَ الطَّهَارَةِ شَرْطٌ وَقَدْ وُجِدَ“، اور اس لیے کہ منتقل ہونا طہارت کے ساتھ یہ شرط ہے اور تحقیق یہ پایا گیا ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، ”أَنَّهُ يَلْزَمُهُ إِعَادَةُ الرُّكُوعِ“، کہ اس شخص پر رکوع کا اعادہ لازم ہے، بھئی کیوں؟ لازم کیوں؟ کہتے ہیں دلیل یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: ”لِأَنَّ الْقَوْمَةَ فَرْضٌ عِنْدَهُ“، اس لیے کیونکہ قومہ یعنی رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہونا یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک فرض ہے، یہ کیا ہے؟ فرض۔ اور قومہ کس کو کہتے تھے؟ جو رکوع کے بعد انسان سیدھا کھڑا ہوتا تھا، تو لہٰذا وہ فرماتے ہیں پھر دوبارہ رکوع کرے اور پھر رکوع سے سیدھا کھڑا ہو تاکہ قومے کا فرض بھی ادا ہو جائے۔
”وَمَنْ أَمَّ رَجُلًا وَاحِدًا فَأَحْدَثَ وَخَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ“، تو یہاں یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ ایک شخص ہے وہ امام ہے اور ایک شخص کو نماز پڑھا رہا ہے، یعنی مقتدی ایک شخص ہے، مقتدی ایک شخص ہے۔ تو اب اس امام کو حدث لاحق ہوا اور یہ مسجد سے نکل گیا، تو وہ جو مقتدی ہے وہ خود بخود امام بن جائے گا، وہ جو اکیلا رہ گیا ہے وہ خود بخود کیا بن جائے گا؟ امام بن جائے گا، چاہے اس امام نے اس کو خلیفہ بنانے کی نیت کی ہو یا نیت نہ کی ہو بھئی، وہ خود بخود امام بن جائے گا۔ بھئی کیوں؟ وہ خود بخود امام کیوں بنے گا؟ کہتے ہیں بھئی اس نے جو مقتدی تھا اس نے اپنی اکیلی نماز شروع کی تھی یا اقتداء میں نماز شروع کی تھی؟ اقتداء میں نماز شروع کی تھی، تو اس کے لیے امام کا ہونا ضروری ہے ورنہ اس کی نماز ہی فاسد ہو جائے گی، اور اب یہاں اور تو کوئی امام نہیں لہٰذا وہ خود ہی کیا بن جائے گا؟ امام بن جائے گا تاکہ اس کی نماز بچ جائے بھئی۔
یہ معنی ہے: ”وَمَنْ أَمَّ رَجُلًا وَاحِدًا“، اور جس نے امامت کی ایک ہی آدمی کی، ”فَأَحْدَثَ“، تو امام کو حدث لاحق ہوا، ”وَخَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ“، اور وہ مسجد سے نکل گیا، ”فَالْمَأْمُومُ إِمَامٌ نَوَى أَوْ لَمْ يَنْوِ“، تو وہ مقتدی امام ہو گا نَوَى أَوْ لَمْ يَنْوِ، اس امام نے جس کو حدث لاحق ہوا ہے اس نے اس کے امام بنانے کی نیت کی ہو یا نیت نہ کی ہو وہ خود بخود امام بن جائے گا، ”لِمَا فِيهِ مِنْ صِيَانَةِ الصَّلَاةِ“، اس لیے کیونکہ اس کے اندر اس کی نماز کی حفاظت ہے۔
”وَتَعْيِينُ الْأَوَّلِ لِقَطْعِ الْمُزَاحَمَةِ وَلَا مُزَاحَمَةَ“، بھئی اس ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں، اشکال یہ کہ گزشتہ مسائل میں آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ امام کسی کو خلیفہ بنائے گا تو وہ خلیفہ بنے گا، لہٰذا امام کو حدث لاحق ہو تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟ کسی کو آگے کر دے، اس کو خلیفہ بنا دے۔ کہتے ہیں بھئی وہاں پر چونکہ لوگ زیادہ تھے تو تعین ضروری تھی، کیا ضروری تھی؟ تعین، تو وہاں ہر ایک کو تو امام نہیں قرار دیا جا سکتا، امام تو ایک بنے گا، تو وہاں مقابل موجود تھے اس لیے وہاں تعین ضروری تھی، اور یہاں تو کوئی اور مقتدی ہے ہی نہیں، مقابل کوئی ہے ہی نہیں، لہٰذا یہ خود ہی کیا ہو جائے گا؟ امام بن جائے گا۔
یہ معنی ہے: ”وَتَعْيِينُ الْأَوَّلِ لِقَطْعِ الْمُزَاحَمَةِ“، اور پہلے کا متعین کرنا وہ مزاحمت یعنی مزاحم ہونے کا، مزاحمت یعنی مقابل ہونا، وہ مزاحمت کو یعنی مقابل ہونے کو ختم کرنے کے لیے تھا، ”وَلَا مُزَاحَمَةَ“، اور یہاں پر تو کوئی مزاحمت نہیں یعنی کوئی مقابل نہیں ہے۔
”وَيُتِمُّ الْأَوَّلُ صَلَاتَهُ مُقْتَدِيًا بِهِ“، اچھا پھر یہ جو امام جس کو حدث لاحق ہوا اور اس کے پیچھے ایک ہی مقتدی تھا تو وہ مقتدی خود بخود کیا بن گیا؟ امام، اور یہ امام گیا وضو کر کے آیا، تو یہ اب آ کر پھر امام نہیں بنے گا بلکہ اگر یہ بنا کرنا چاہتا ہے تو اسی شخص کی کیا کرے گا؟ اقتداء کر لے گا، اب وہ امام بن جائے گا اور یہ اس کا مقتدی بن جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَيُتِمُّ الْأَوَّلُ صَلَاتَهُ مُقْتَدِيًا بِالثَّانِي“، اور پہلا شخص یعنی جس کا وضو ٹوٹا تھا وہ پوری کرے گا اپنی نماز دوسرے کی اقتداء کرتے ہوئے، ”كَمَا إِذَا اسْتَخْلَفَهُ حَقِيقَةً“، جیسے کہ اس نے اس کو حقیقتاً خلیفہ بنایا ہو، اگرچہ حقیقتاً تو نہیں بنایا لیکن اسی طرح ہو گا جیسے اس نے اس کو حقیقتاً خلیفہ بنایا۔
”وَلَوْ لَمْ يَكُنْ خَلْفَهُ إِلَّا صَبِيٌّ أَوِ امْرَأَةٌ قِيلَ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ“، بھئی اگر امام کے پیچھے عورت تھی اقتداء کرنے والی، صرف ایک ہی عورت ہے، یا امام کے پیچھے اقتداء کرنے والا بچہ ہے۔ مثلاً گھر میں نماز پڑھنا چاہتا تھا نماز کا وقت ہوا تو بیوی کے ساتھ بیوی پچھلی صف میں کھڑی ہو گئی اور امام یہ خاوند کیا بن گیا؟ امام بن گیا، اور پھر یا دوسری صورت بچہ ہے اس کا بیٹا ہے اس کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے، تو اب امام کا وضو ٹوٹ گیا، امام کا وضو ٹوٹ گیا۔ تو اس صورت میں گزشتہ مسئلے میں جیسے ذکر ہوا تھا کہ جو مقتدی ہے وہ کیا بن جاتا ہے؟ امام بن جاتا ہے، تو اس میں ایک روایت یہ ہے کہ فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد، اس امام کی، یہ بنا نہیں کر سکتا بھئی، بنا نہیں کر سکتا۔ بھئی کیوں نہیں بنا کر سکتا؟ کیوں فاسد ہو جائے گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس نے ایسے شخص کو خلیفہ بنا دیا جس میں امامت کی صلاحیت ہی نہیں، یعنی عورت اور وہ بچہ ان میں امامت کی صلاحیت ہی نہیں، ان کو امام بنا دیا تو اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد، یہ اس پر بنا نہیں کر سکتا، اس کو نئے سرے سے نماز پڑھنا پڑے گی۔
جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی، یہ بعد میں آ کر بنا کرنا چاہے تو بنا کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ اس نے جان بوجھ کر اس کو اپنا خلیفہ یا نائب ارادے کے ساتھ نہیں بنایا، ارادے کے ساتھ نہیں بنایا۔
”وَلَوْ لَمْ يَكُنْ خَلْفَهُ إِلَّا صَبِيٌّ أَوِ امْرَأَةٌ“، اور اگر نہ ہوا اس امام کے پیچھے مگر کوئی بچہ ”أَوِ امْرَأَةٌ“، یا کوئی عورت، ”قِيلَ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ“، تو کہا گیا اس امام کی نماز فاسد ہو جائے گی، ”لِاسْتِخْلَافِ مَنْ لَا يَصْلُحُ لِلْإِمَامَةِ“، اس وجہ سے کہ خلیفہ بنانا ہے اس میں ویسے شخص کو جو صلاحیت نہیں رکھتا امام ہونے کی، ”وَقِيلَ لَا تَفْسُدُ“، اور کہا گیا ہے کہ اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی، ”لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الِاسْتِخْلَافُ قَصْدًا“، اس لیے کیونکہ اس کی طرف سے خلیفہ بنانا نہیں پایا گیا قصداً، بالارادہ اس کی طرف سے خلیفہ بنانا نہیں پایا گیا، ”وَهُوَ لَا يَصْلُحُ لِلْإِمَامَةِ“، اس حال میں کہ وہ امامت کی صلاحیت نہیں رکھتا، ”وَاللهُ أَعْلَمُ“، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔
”بَابُ مَا يُفْسِدُ الصَّلَاةَ وَمَا يُكْرَهُ فِيهَا“، ”مَا يُفْسِدُ الصَّلَاةَ“، وہ چیز جو نماز کو فاسد کر دے، ”وَمَا يُكْرَهُ فِيهَا“، اور وہ چیز جو نماز میں مکروہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بَابُ مَا يُفْسِدُ الصَّلَاةَ وَمَا يُكْرَهُ فِيهَا“، یہ باب ہے ان چیزوں کے بیان میں جو نماز کو فاسد کر دیتی ہیں اور ان چیزوں کے بیان میں جو نماز کے اندر مکروہ ہیں۔
”وَمَنْ تَكَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ عَامِدًا أَوْ سَاهِيًا بَطَلَتْ صَلَاتُهُ“، اور جس شخص نے کلام کیا اپنی نماز میں عامداً جان بوجھ کر ”أَوْ سَاهِيًا“، یا بھول کر، ”بَطَلَتْ صَلَاتُهُ“، تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔ نماز میں کوئی شخص کلام کر لے چاہے جان بوجھ کر کلام کرے چاہے بھولے سے کلام کرے، دونوں صورتوں میں اس کی نماز فاسد ہو جائے گی بھئی۔
”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً فِي الْخَطَإِ وَالنِّسْيَانِ“، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے خطا اور نسیان میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر غلطی سے کلام کر لے یا بھولے سے کوئی کلام کر لے تو اس صورت میں اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی، ”وَمَفْزَعُهُ الْحَدِيثُ الْمَعْرُوفُ“، اور ان کی جائے پناہ، مفزع کسے کہتے ہیں؟ جائے پناہ، اور ان کی جائے پناہ مشہور حدیث ہے، اور جائے پناہ یعنی ان کی دلیل جو ہے، ان کی دلیل کیا ہے؟ معروف حدیث ہے جو حدیث میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ“، میری امت سے خطا اور نسیان کو اٹھا لیا گیا ہے، خطا اور نسیان کو اٹھا لیا گیا ہے۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خطا اور نسیان کے اٹھانے کا معنی یہ ہے کہ دنیا کے اندر جو فعل کر رہا ہے وہ فاسد نہیں ہو گا، کیونکہ جب اٹھا معاف کر دیا گیا ہے تو یہ کس اعتبار سے؟ صحیح اور فساد کے اعتبار سے ہے یعنی وہ عمل فاسد نہیں، اور آخرت کے اعتبار سے کہ آخرت میں اس پر اس کا مواخذہ بھی نہیں ہو گا، جبکہ عند الاحناف اس میں آخرت کا صرف آخرت مراد ہے کہ آخرت میں گناہ یعنی نہیں ہو گا اور اس کا مواخذہ نہیں ہو گا، باقی دنیاوی حکم مرتب ہو گا اور وہ عمل کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا۔
”وَلَنَا“، اور ہماری دلیل جو ہے، ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ وَإِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّهْلِيلُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ“، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بے شک ہماری یہ جو نماز ہے یہ صلاحیت نہیں رکھتی لوگوں کے کلام میں سے کسی چیز کی، یعنی لوگوں میں سے کلام کی یہ صلاحیت نہیں رکھتی، اس کے لائق نہیں ہے، وہ اس میں نہیں کیا جا سکتا، ”وَإِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّهْلِيلُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ“، یہ تو تسبیح، تہلیل اور قرأتِ قرآن ہی ہے بھئی۔ نماز تو کیا ہے کس پر مشتمل ہے؟ تسبیح، تہلیل اور قرأت۔ تسبیح کا معنی سبحان اللہ کہنا اور تہلیل کا معنی لا الٰہ الا اللہ کہنا، تو یہ تو تسبیح، تہلیل اور قرأتِ قرآن ہی ہے۔
یہ آپ کے حاشیے میں یہ حدیث مفصل دی ہوئی ہے، حضرت معاویہ ابن الحکم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، تو نماز کے اندر ایک وہ چھینک آئی بھئی ایک شخص کو، جب وہ چھینکا تو میں نے کہا: ”يَرْحَمُكَ اللهُ“، تو لوگ مجھے سخت نظروں سے گھورنے لگے، تو میں پھر بولا کہ اس کی ماں اس کو گم پائے، کیا ہوا تم لوگ مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو؟ تو وہ تو بعض صحابہ نے کہتے ہیں پھر اپنے رانوں پر زور سے ہاتھ مارا، تو میں سمجھ گیا کہ یہ مجھے خاموش کروانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، خاموش ہو گیا۔ پھر جو ہے جب نماز ختم ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں وہ جب انہوں نے نماز سے وہ فارغ ہو گئے تو ان پر میرے ماں باپ قربان ہوں، میں نے ان سے زیادہ بہتر سکھانے والا کسی کو نہیں دیکھا، تو خدا کی قسم نہ تو وہ مجھے غصے ہوئے نہ انہوں نے مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا، اور یہ فرمایا حضور علیہ السلام نے کہ ہماری نماز اس میں لوگوں کے اس میں کلام الناس کی گنجائش نہیں ہے، اس کی یہ صلاحیت نہیں رکھتی، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرأتِ قرآن ہی ہے بھئی۔
تو یہ ہماری حدیث ہے، معلوم ہوا نماز میں کلام کی گنجائش نہیں ہے، کلام کیا جائے گا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ آگے صاحبِ ہدایہ جواب بھی دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جو انہوں نے حدیث ذکر کی تھی: ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى رَفْعِ الْإِثْمِ“، اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ محمول ہے گناہ کے اٹھنے پر، یعنی اس کا تعلق آخرت سے ہے یعنی آخرت میں مواخذہ نہیں ہو گا اس کا یعنی اس کا گناہ نہیں کوئی۔
”بِخِلَافِ السَّلَامِ سَاهِيًا“، یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی، اعتراض کا۔ شوافع کی طرف سے ایک اعتراض ہوتا ہے احناف پر کہ اے احناف! ہم نے کہا تھا کہ بھولے سے کوئی کلام کر لے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی اور تم نے کیا کہا کہ اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، جبکہ کوئی سلام کرے تو آپ کہتے ہیں کہ کوئی اگر بھولے سے سلام کر لے تو نماز فاسد نہیں ہو گی، اور ارادے کے ساتھ سلام کرے تو نماز فاسد ہو جائے گی، تو دیکھو یہاں تم نے بھی کیا کیا؟ جان بوجھ کر سلام کرنے میں اور بھولے سے سلام کرنے میں فرق کیا، تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ دیکھیے سلام جو ہے، سلام میں دو حالتیں ہیں: من وجہ یہ ذکر ہے اور من وجہ یہ کلام ہے۔ یہ ذکر ہے، نماز کے اذکار میں سے ہے، تشہد کے اندر بھی ہم سلام پڑھتے ہیں: ”السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ“، اور ”السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ“، تو اور اسی طرح نماز کا اختتام بھی کس پر ہوتا ہے؟ سلام، تو یہ نماز کے اذکار میں سے ہے من وجہ، اور من وجہ یہ کلام بھی ہے، ”السَّلَامُ عَلَيْكَ“ یا ”السَّلَامُ عَلَيْكُمْ“، دیکھو آخر میں مخاطب کی ضمیر آ رہی ہے تو یہ کلام بھی ہے۔ تو لہٰذا اگر بھولے سے کوئی کر دے گا سلام تو ہم نے اس کے ذکر ہونے کا اعتبار کیا اور تو یہ نماز کے اذکار میں سے ہے اور نماز کے اذکار نماز میں ان سے تو نماز پر اثر نہیں، وہ تو ہوتے ہی نماز کے اندر ہیں، اور جب اگر جان بوجھ کر ارادے کے ساتھ سلام کرے تو ہم نے اس کے کلام ہونے کا اعتبار کیا اور نماز میں کلام کیا جائے تو نماز کیا ہوتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے۔
یہ معنی ہے: ”بِخِلَافِ السَّلَامِ سَاهِيًا“، بخلاف سلام کے بھول کر، ”لِأَنَّهُ مِنَ الْأَذْكَارِ“، اس لیے کیونکہ سلام جو ہے ذکروں میں سے ہے، ”فَيُعْتَبَرُ ذِكْرًا فِي حَالَةِ النِّسْيَانِ“، تو اس کو ذکر شمار کیا جائے گا بھولنے کی حالت میں، ”وَكَلَامًا فِي حَالَةِ التَّعَمُّدِ“، اور اس کو کلام اعتبار کیا جائے گا، کلام شمار کیا جائے گا جان بوجھ کر کرنے کی حالت میں، ”لِمَا فِيهِ مِنْ كَافِ الْخِطَابِ“، اس وجہ سے کہ اس کے اندر کافِ خطاب ہے یعنی مخاطب کی ضمیر ہے، ”السَّلَامُ عَلَيْكَ“، تم پر کیا ہو؟ سلام، تو یہ کلام ہے۔
”فَإِنْ أَنَّ فِيهَا أَوْ تَأَوَّهَ أَوْ بَكَى فَارْتَفَعَ بُكَاؤُهُ فَإِنْ كَانَ مِنْ ذِكْرِ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ لَمْ يَقْطَعْهَا لِأَنَّهُ يَدُلُّ عَلَى زِيَادَةِ الْخُشُوعِ وَإِنْ كَانَ مِنْ وَجَعٍ أَوْ مُصِيبَةٍ قَطَعَهَا“، بھئی یاد رکھیے، نماز کے اندر اگر کوئی شخص کراہتا ہے اور روتا ہے، اور اس کراہنے اور رونے سے حروف پیدا ہو جاتے ہیں، حروف بن جاتے ہیں، تو اس صورت میں اگر وہ جنت یا جہنم کے ذکر پر رویا ہے اور کراہا ہے اور اس سے حروف بنے ہیں تو اس صورت میں نماز نہیں ٹوٹے گی، اور اگر وہ کسی درد یا تکلیف یا مصیبت کی وجہ سے رویا ہے اور یہ حروف بن گئے اور حروف ادا ہو گئے تو اس صورت میں نماز ٹوٹ جائے گی بھئی، یہ کلام کی طرح ہو گیا اور کلام سے تو کیا ہوتی ہے؟ نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
تو یہی ذکر کر رہے ہیں: ”فَإِنْ أَنَّ فِيهَا أَوْ تَأَوَّهَ“، انین اور تاوہ کے معنی کراہنے کے ہوتے ہیں، کیا معنی ہے؟ کراہنا بھئی کراہنا۔ اور بعضوں نے فرق کیا اور کہا کہ انین جو ہے آہ کرنے کو کہتے ہیں، آہ آہ کرنا، اور تاوہ کہتے ہیں اوہ اوہ کرنا بھئی، دونوں میں یہ فرق ہے۔ ”فَإِنْ أَنَّ فِيهَا أَوْ تَأَوَّهَ“، اگر نماز پڑھنے والے نے نماز میں آہ کیا یا اوہ کیا، ”أَوْ بَكَى“، یا وہ رویا، ”فَارْتَفَعَ بُكَاؤُهُ“، تو اس کا رونا اونچا ہو گیا یعنی اس سے حروف بن گئے مراد یہ ہے، ”فَإِنْ كَانَ مِنْ ذِكْرِ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ“، تو اگر یہ رونا جو ہے یا یہ کراہنا جو ہے جنت یا جہنم کے ذکر کی وجہ سے تھا، ”لَمْ يَقْطَعْهَا“، تو یہ اس کی نماز کو نہیں توڑے گا، ”لِأَنَّهُ يَدُلُّ عَلَى زِيَادَةِ الْخُشُوعِ“، اس لیے کیونکہ یہ تو خشوع کی زیادتی پر دلالت کر رہے ہیں، اور خشوع تو نماز کے اندر مطلوب اور مقصود ہے بھئی، کہ زیادہ سے زیادہ عاجزی کی جائے اللہ کے سامنے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”وَإِنْ كَانَ مِنْ وَجَعٍ أَوْ مُصِيبَةٍ قَطَعَهَا“، اور اگر یہ کراہنا یا یہ رونا جو ہے یہ درد کی وجہ سے تھا تکلیف کی وجہ سے تھا، ”أَوْ مُصِيبَةٍ“، یا مصیبت کی وجہ سے تھا، ”قَطَعَهَا“، تو یہ اس کی نماز کو توڑ دے گا، ”لِأَنَّ فِيهِ إِظْهَارَ الْجَزَعِ وَالتَّأَسُّفِ“، اس لیے کیونکہ اس کے اندر جزع، جزع کا معنی ہے تکلیف بھئی، اور تأسف کا معنی افسوس کرنا اور جزع کا معنی تکلیف، اس لیے کیونکہ اس کے اندر تکلیف اور افسوس کا اظہار ہے، ”فَكَانَ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“، تو یہ کس میں سے ہو جائے گا؟ کلام الناس میں سے ہو جائے گا۔
اور یہ بات آپ پہلے پڑھ چکے ہیں بھئی کہ اگر نماز کے اندر جنت کا ذکر آئے تو اللہ سے جنت کا سوال کیا جا سکتا ہے، اگر نماز کے اندر جہنم کا ذکر آئے تو نماز کے اندر ہی انسان جہنم سے پناہ مانگ سکتا ہے، اللہ سے دعا کر سکتا ہے۔ تو لہٰذا جب ان کا سوال جائز ہے تو ان کی وجہ سے رویا اور حروف بن گئے تو اس سے بھی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جب باقاعدہ ان کا سوال کرے یا جہنم سے پناہ مانگے اس سے نماز نہیں ٹوٹتی تو ان کی وجہ سے رونے سے بھی نماز نہیں ٹوٹے گی۔ اور نماز میں جیسے کلام کی وجہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو اسی طرح اگر غم اور تکلیف کی وجہ سے کراہا اور حروف ہو گئے تو اس صورت میں بھی نماز ٹوٹ جائے گی کیونکہ یہ کلام ہوا بھئی، اور کلام سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، ”أَنَّ قَوْلَهُ آهْ لَمْ يُفْسِدْ فِي الْحَالَيْنِ وَأُوهْ يُفْسِدُ“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نمازی کا آہ کہنا، ”لَمْ يُفْسِدْ فِي الْحَالَيْنِ“، یہ نماز کو فاسد نہیں کرے گا دونوں حالتوں میں، یعنی چاہے یہ خشوع کی وجہ سے ہو چاہے تکلیف کی وجہ سے ہو، ”وَأُوهْ يُفْسِدُ“، اور اوہ کیا کرے گا؟ فاسد کر دے گا بھئی۔
”وَقِيلَ الْأَصْلُ عِنْدَهُ أَنَّ الْكَلِمَةَ إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى حَرْفَيْنِ وَهُمَا زَائِدَتَانِ أَوْ إِحْدَاهُمَا لَا تُفْسِدُ وَإِنْ كَانَتَا أَصْلِيَّتَيْنِ تُفْسِدُ وَحُرُوفُ الزَّوَائِدِ جَمَعُوهَا فِي قَوْلِهِمْ الْيَوْمَ تَنْسَاهُ“، بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ بعض حروف کلامِ عرب میں زائد آتے ہیں، کچھ حروفِ اصلیہ ہیں اور کچھ حروف کیا آتے ہیں؟ زائد استعمال۔ تو جو حروف زائد استعمال ہوتے ہیں ان کو اس جملے میں جمع کیا گیا ہے: ”الْيَوْمَ تَنْسَاهُ“، ”الْيَوْمَ تَنْسَاهُ“، تو اس سے پورا جملہ بنا لیا گیا ویسے تاکہ یاد رہے بھئی۔ اس میں دیکھیے شروع میں الیوم ہمزہ آیا پھر لام ہے پھر یا ہے پھر واؤ ہے پھر میم ہے، آگے ہے تنساہ تا ہے نون ہے سین ہے الف ہے اور ہا ہے۔ تو یہ جو دس حروف ہیں یہ کلامِ عرب میں جب بھی زائد حروف آئیں گے اصلی نہیں ہوں گے زائد ہوں گے تو وہ انہی دس میں سے ہو گا، کوئی اور حرف نہیں ہو گا۔ یہی حروف بطورِ زائد کے استعمال ہوتے ہیں۔
تو بعضوں نے کہا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ کوئی کلمہ جب دو حروف پر مشتمل ہو اور ان دونوں میں سے دونوں حرف زائد ہوں یا ایک زائد ہو تو نماز کو یہ فاسد نہیں کریں گے۔ ایسا لفظ کسی نے نماز میں کراہنے سے ایسے حروف بن گئے جو دو حروف ہیں ایسا کلمہ بن گیا جو دو حروف ہیں اور دونوں میں سے وہ اس کلمے کے دونوں حروف کیا ہیں؟ زائد ہیں، یا ایک کیا ہے؟ زائد ہے، تو اس صورت میں یہ نماز کو فاسد نہیں کریں گے، اور اگر وہ دونوں اصلی ہوئے یعنی ”الْيَوْمَ تَنْسَاهُ“ ان حروف میں سے نہ ہوئے تو اس صورت میں نماز کو فاسد کر دیں گے۔ یہ دو حروف میں ہے، اگر تین حروف والا ہو تو پھر اس میں چاہے سارے ہی زائد کیوں نہ ہو وہ کیا کر دیں گے؟ نماز کو فاسد کر دیں گے۔
”وَقِيلَ الْأَصْلُ عِنْدَهُ“، اور کہا گیا ہے ضابطہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ہے، ”أَنَّ الْكَلِمَةَ إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى حَرْفَيْنِ“، کہ کلمہ جب مشتمل ہو دو حروف پر، ”وَهُمَا زَائِدَتَانِ“، اس حال میں کہ وہ دونوں حروف زائد ہوں، ”أَوْ إِحْدَاهُمَا“، یا ان دونوں میں سے ایک زائد ہو، ”لَا تُفْسِدُ“، تو وہ نماز کو فاسد نہیں کریں گے، ”وَإِنْ كَانَتَا أَصْلِيَّتَيْنِ تُفْسِدُ“، اور اگر وہ دونوں حروف اصلی ہیں تو یہ کلمہ نماز کو فاسد کر دے گا، ”وَحُرُوفُ الزَّوَائِدِ جَمَعُوهَا فِي قَوْلِهِمْ الْيَوْمَ تَنْسَاهُ“، اور حروفِ زوائد جو ہیں ان کو جمع کیا ہے اہل لغت نے اپنے اس قول کے اندر: ”الْيَوْمَ تَنْسَاهُ“۔ بھئی بعض علماء نے بعض فقہاء نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی طرف سے یہ ضابطہ ذکر کیا، یہ ضابطہ ذکر کیا۔
صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: ”وَهَذَا لَا يَقْوَى“، یہ قوی نہیں ہے بھئی، یہ قوت نہیں دیتا یعنی اس سے اس سے ان کی دلیل مضبوط نہیں ہوتی، ”لِأَنَّ كَلَامَ النَّاسِ فِي مُتَفَاهَمِ الْعُرْفِ يَتْبَعُ وُجُودَ حُرُوفِ الْهِجَاءِ وَإِفْهَامَ الْمَعْنَى“، اس لیے کیونکہ لوگوں کا کلام جو ہے عرف کے سمجھنے میں وہ تابع ہوتا ہے حروفِ ہجا کے پائے جانے کے اور معنی کے سمجھانے پر۔ عام لوگوں کے عرف میں بھئی کلام کسے کہتے ہیں؟ جو کس سے بنا ہو؟ حروفِ ہجا سے یعنی یہ الف با تا ثا وغیرہ یہ جو حروفِ ہجا ہیں ان سے بنا ہو اور اس کا کوئی معنی بھی ہو، معنی سمجھانا معنی بھی کوئی اس سے سمجھ میں آ رہا ہو، تو اس کو کلام کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اس کو کلام کہتے ہیں، اور اس کو کلام کہتے ہیں اور کلام سے نماز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد۔ تو ان صرف حروفِ زوائد سے بھی پورا کلام بن سکتا ہے جیسے ”الْيَوْمَ تَنْسَاهُ“، اب یہ پورا کلام ہے اور اس کے اندر سارے کیا ہیں؟ حروفِ زوائد ہیں۔ تو عام لوگوں کے عرف اور عادت کے اندر کلام کسے کہتے ہیں؟ جو حروفِ ہجا سے مرکب ہو اور کس لیے ہو؟ معنی سمجھانے کے لیے ہو یعنی اس کا کوئی معنی ہو، تو ”وَيَتَحَقَّقُ ذَلِكَ فِي حُرُوفٍ كُلُّهَا زَوَائِدُ“، اور یہ پایا جاتا ہے یعنی یہ لوگوں کا کلام ایسے حروف میں بھی جو سارے کے سارے کیا ہوں؟ زوائد۔
بھئی دیکھیے، ”حُرُوفٍ“ نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ اس کے لیے عموماً کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو ”كُلُّهَا“ ہے مبتدا اور ”زَوَائِدُ“ ہے اس کی خبر اور یہ جملہ اسمیہ ہوا تو یہ صفت بنے گا حروف کی، تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ ”فِي حُرُوفٍ“ ایسے حروف میں ”كُلُّهَا زَوَائِدُ“ جو سارے کے سارے زائد ہوں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لیکن میں نے ذکر کر دیا بھئی کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے لیکن یہ وہ صرف دو حرفوں کی بات کر رہے ہیں اس سے زائد کی بات ہی نہیں کر رہے بھئی۔
”وَإِنْ تَنَحْنَحَ بِغَيْرِ عُذْرٍ بِأَنْ لَمْ يَكُنْ مَدْفُوعًا إِلَيْهِ“، اور اگر وہ نماز پڑھنے والا کھنکھارا یعنی اس نے گلا صاف کیا بغیر کسی عذر کے، اور گلا کھنکھارنے سے صاف کرنے سے حروف بن گئے، کیا بن گئے؟ گلا صاف کرتا ہے کس طرح؟ اب اسی میں اس طرح کرتے ہوئے حروف بن گئے، کیا بن گئے؟ حروف بن گئے، تو کہتے ہیں اگر یہ حروف بنے اگر یہ کھنکھارا ہے بغیر کسی عذر کے یعنی مجبور نہیں تھا، اس کے کھنکھارے بغیر بھی گزارا ہو سکتا تھا مجبور نہیں تھا اس کی طرف، تو اس صورت میں صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے مناسب یہ ہے اس کی نماز فاسد ہونی چاہیے، اور اگر عذر کی وجہ سے ہو کہ وہ مجبور ہو گیا تھا تو پھر اس صورت میں معاف ہوں گے۔
”وَإِنْ تَنَحْنَحَ بِغَيْرِ عُذْرٍ“، اور اگر نماز پڑھنے والا کھنکھارتا ہے بغیر کسی عذر کے، ”بِأَنْ لَمْ يَكُنْ مَدْفُوعًا إِلَيْهِ“، بایں صورت کہ وہ اس کی طرف مجبور نہیں تھا، ”وَحَصَلَ بِهِ الْحُرُوفُ“، اور اس سے حروف حاصل ہو گئے یعنی حروف پیدا ہو گئے، ”يَنْبَغِي أَنْ يُفْسِدَ عِنْدَهُمَا“، تو مناسب یہ ہے کہ یہ کھنکھارنا جو ہے اس کی نماز کو فاسد کر دے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”وَإِنْ كَانَ بِعُذْرٍ فَهُوَ عَفْوٌ كَالْعُطَاسِ وَالْجُشَاءِ إِذَا حَصَلَ بِهِ حُرُوفٌ“، اور اگر یہ کھنکھارنا عذر کی وجہ سے ہو تو یہ معاف ہے جیسے کہ چھینک ہے اور ڈکار ہے جب ان سے حروف حاصل ہو جائیں یعنی حروف پیدا ہو جائیں۔ بھئی چھینکنا اور ڈکار یہ تو غیر اختیاری ہے عذر کی وجہ سے ہے، تو اس میں اگر حروف پیدا بھی ہو جائیں تو وہ معاف ہیں، تو لہٰذا اگر کھنکھارنے میں بھی وہ شخص مجبور تھا تو اس کا بھی وہی حکم ہو گا اور وہ بھی نماز کو فاسد نہیں کریں گے وہ حروف۔
”وَمَنْ عَطَسَ فَقَالَ لَهُ آخَرُ يَرْحَمُكَ اللهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَسَدَتْ صَلَاتُهُ“، اور اگر کوئی شخص چھینکا تو دوسرے نے اس کو کہا ”يَرْحَمُكَ اللهُ“ اس حال میں کہ یہ شخص نماز میں ہے یہ کہنے والا، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، ”لِأَنَّهُ يَجْرِي فِي مُخَاطَبَاتِ النَّاسِ“، اس لیے کیونکہ یہ جو ”يَرْحَمُكَ اللهُ“ ہے یہ لوگوں کے مخاطبات میں جاری ہوتا ہے، یعنی لوگ ایک دوسرے کو خطاب کرتے ہوئے یہ لفظ یہ کلمہ استعمال کرتے ہیں اور کیا کہتے ہیں ”يَرْحَمُكَ اللهُ“، اللہ آپ پر رحم فرمائے، ”فَكَانَ مِنْ كَلَامِهِمْ“، تو یہ لوگوں کے کلام میں سے ہوا، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ الْعَاطِسُ أَوِ السَّامِعُ الْحَمْدُ لِلهِ عَلَى مَا قَالُوا“، بخلاف اس کے کہ اگر چھینکنے والے نے یا سننے والے نے ”الْحَمْدُ لِلهِ“ کہا یعنی اس صورت میں نماز فاسد نہیں ہو گی، ”عَلَى مَا قَالُوا“، بنا بر اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے، بنا بر اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے، تو اس کے لیے اشارہ کر دیا کہ اس میں اختلاف ہے، چنانچہ ایک روایت امام صاحب سے آتی ہے کہ چھینکنے والے کو دل میں ”الْحَمْدُ لِلهِ“ کہنا چاہیے، اگر اس نے زبان سے ”الْحَمْدُ لِلهِ“ کہہ دیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ ”عَلَى مَا قَالُوا“، بنا بر اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے، ”لِأَنَّهُ لَمْ يُتَعَارَفْ جَوَابًا“، اس لیے کیونکہ یہ متعارف نہیں ہے بطورِ جواب کے، ”الْحَمْدُ لِلهِ“ کا لفظ بطورِ جواب کے متعارف لوگوں میں نہیں ہے۔
”وَإِنِ اسْتَفْتَحَ فَفَتَحَ عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ“، جی، اب یہ نماز میں لقمہ دینا کسی کو اس سے متعلقہ مسائل اب ذکر کرنے لگے ہیں۔ لقمہ دینا یعنی امام اگر مثلاً قرأت کرتے کرتے بھول گیا اور دوسرا شخص اس کو وہ لفظ بھولے ہوئے بتلاتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ لقمہ دینا۔ تو اس صورت میں کون سی صورتوں میں لقمہ دینا صحیح ہے نماز صحیح رہے گی اور کن صورتوں میں نماز پر اثر پڑے گا وہ اب ذکر کرنے لگے ہیں۔
کہتے ہیں: ”وَإِنِ اسْتَفْتَحَ فَفَتَحَ عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ تَفْسُدُ“، اور اگر نماز پڑھنے والے نے لقمہ طلب کیا یعنی بھول گیا ہے اور لقمہ طلب کر رہا ہے، کس طرح طلب کر رہا ہے؟ کہ بار بار اسی آیت کو پڑھتا ہے جو یاد نہیں آ رہی، اس کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے یا بالکل خاموش ہو کر کھڑا ہو گیا آگے پڑھ ہی نہیں رہا، تو معلوم ہوا یہ کیا طلب کر رہا ہے؟ لقمہ۔ تو اگر وہ لقمہ طلب کر رہا ہے، ”فَفَتَحَ عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ تَفْسُدُ“، تو اس پر اس کو لقمہ دیا اس کی نماز میں ہی تو اس لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جائے گی، اور دوسرے نے اگر لقمہ لے لیا تو اس کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی۔ بھئی یہ کیا وجہ ہے لقمہ دینے سے لقمہ دینے والے کی نماز بھی فاسد اور لقمہ لینے والے کی نماز بھی فاسد؟ آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے، بھئی یہ وہ صورت ہو رہی ہے جب دونوں ایک نماز میں شریک نہیں ہیں، وہ الگ نماز پڑھ رہا ہے لقمہ طلب کرنے والا اور لقمہ دینے والا الگ اپنی نماز پڑھ رہا ہے۔
”وَمَعْنَاهُ أَنْ يَفْتَحَ الْمُصَلِّي عَلَى غَيْرِ إِمَامِهِ“، اور معنی اس کا یہ ہے کہ لقمہ دیتا ہے نماز پڑھنے والا اپنے امام کے علاوہ کو یعنی کسی دوسرے کو، تو اس صورت میں نماز فاسد ہو گی، ”لِأَنَّهُ تَعْلِيمٌ وَتَعَلُّمٌ“، اس لیے کیونکہ یہ سکھانا ہے اور سیکھنا ہے، لقمہ دینے والا سکھا رہا ہے اور لقمہ لینے والا سیکھ رہا ہے تو یہ تعلیم و تعلم ہے، ”فَكَانَ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“، تو یہ کس میں سے ہوا؟ لوگوں کے کلام میں سے، تو لہٰذا اس سے نماز فاسد ہو جائے گی۔
”ثُمَّ شُرِطَ التَّكْرَارُ فِي الْأَصْلِ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِ الصَّلَاةِ فَيُعْفَى الْقَلِيلُ مِنْهُ وَلَمْ يُشْتَرَطْ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ لِأَنَّ الْكَلَامَ بِنَفْسِهِ قَاطِعٌ وَإِنْ قَلَّ“، پھر بھئی، امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب مبسوط جو ہے اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہو گی، ہاں دوبارہ اس میں اگر تکرار پایا جائے، اور تکرار کہتے ہیں ایک چیز کم از کم دو دفعہ پائی جائے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ تکرار۔ تو یعنی دو دفعہ اگر لقمہ دیتا ہے یعنی تکرار پایا جائے گا پھر یہ نماز کو فاسد کرے گا ورنہ نماز کو فاسد نہیں کرے گا۔ یہ کس میں ہے؟ مبسوط میں۔ اور اس کی دلیل صاحبِ ہدایہ ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ نماز کے اعمال یہ ایک عمل ہے لیکن نماز کے اعمال میں سے نہیں، اور عملِ قلیل ہو تو وہ مفسدِ صلاۃ نہیں، ہاں عملِ کثیر کیا ہے؟ وہ مفسدِ صلاۃ ہے۔ تو ایک دفعہ اگر لقمہ دیا تو یہ عملِ قلیل ہے اس سے نماز فاسد نہیں، ہاں دو دفعہ یا زیادہ دفعہ لقمہ دیتا ہے تو یہ عملِ کثیر ہے اور عملِ کثیر سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
تو یہ تو ذکر کیا امام محمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب مبسوط میں، جبکہ جامعِ صغیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں وہ تکرار کی شرط نہیں لگاتے۔ تکرار کی شرط معلوم ہوا ایک دفعہ لقمہ دینے سے بھی نماز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے جبکہ اپنے امام کے علاوہ کسی اور کو لقمہ دے رہا ہو۔ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ تعلیم و تعلم ہے اور یہ کلام ہے، اور کلام چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اس سے نماز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے۔ کلام چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ تو گویا مبسوط میں اس لقمہ دینے کو عمل شمار کیا گیا اور عملِ قلیل معاف ہوتا ہے عملِ کثیر معاف نہیں، اور جامعِ صغیر میں اس کو کلام قرار دیا گیا اور کلام تو قلیل ہی کیوں نہ ہو وہ کیا کر دیتا ہے؟ نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔
یہ معنی ہے: ”ثُمَّ شُرِطَ التَّكْرَارُ فِي الْأَصْلِ“، پھر تکرار کی شرط لگائی گئی ہے اصل میں یعنی مبسوط میں، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِ الصَّلَاةِ فَيُعْفَى الْقَلِيلُ مِنْهُ“، اس لیے کیونکہ یہ نماز کے اعمال میں سے نہیں ہے تو اس میں سے تھوڑا معاف ہے تو یہ عمل قرار دیا گیا، ”وَلَمْ يُشْتَرَطْ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“، اور جامعِ صغیر میں تکرار کی شرط نہیں لگائی گئی، ”لِأَنَّ الْكَلَامَ بِنَفْسِهِ قَاطِعٌ وَإِنْ قَلَّ“، اس لیے کیونکہ کلام اپنی ذات کے اعتبار سے ہی قاطع یعنی نماز کو توڑنے والا ہے اگرچہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔
”وَإِنْ فَتَحَ عَلَى إِمَامِهِ لَمْ يَكُنْ كَلَامًا اسْتِحْسَانًا“، اور اگر لقمہ دیا اپنے امام کو تو پھر یہ کلام نہیں ہو گا استحساناً، بوجۂ استحسان یعنی استحساناً اس کو پھر کلام قرار نہیں دیا جائے گا۔ بھئی کیوں؟ اس کو کلام کیوں نہیں پھر قرار دیتے جب اپنے امام کو وہ لقمہ دیتا ہے؟ یہاں پر بھی تو تعلیم و تعلم ہے، تو کہتے ہیں بھئی: ”لِأَنَّهُ مُضْطَرٌّ إِلَى إِصْلَاحِ صَلَاتِهِ“، اس لیے کیونکہ مقتدی جو ہے لقمہ دینے والا وہ مجبور ہے امام کی نماز کی اصلاح کی طرف۔ ”صَلَاتِهِ“ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ امام کو۔ مقتدی مجبور ہے کہ امام کی نماز کی کیا کرے؟ اصلاح کرے، کیونکہ امام کی نماز صحیح ہو گی تو مقتدی کی نماز بھی صحیح ہو جائے گی، تو یہ مجبور ہے اس کی نماز کی اصلاح کی طرف، ”فَكَانَ هَذَا مِنْ أَعْمَالِ صَلَاتِهِ مَعْنًى“، اب ”صَلَاتِهِ“ کی ہا ضمیر جو ہے مقتدی کو راجع، وہ جو لقمہ دینے والا ہے، تو یہ جو ہے یہ لقمہ دینے والے کے اپنی نماز کے اعمال میں سے ہوا معنیً باعتبارِ معنی کے، کیونکہ امام کی نماز کی اصلاح کر رہا ہے تو گویا اپنی نماز کی کیا کر رہا ہے؟ اصلاح، تو یہ معنوی اعتبار سے یہ اس کے اپنے صلاۃ کے اعمال میں سے ہوا، اور اپنی نماز کے اعمال سے تو نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا لہٰذا اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی۔
”وَيَنْوِي الْفَتْحَ عَلَى إِمَامِهِ دُونَ الْقِرَاءَةِ“، اور امام کو لقمہ دینے کی نیت کرے، قرأت کی نیت نہ کرے۔ قرأت کی نیت نہ کرے، ”هُوَ الصَّحِيحُ“، یہی قول صحیح ہے۔ بھئی کیا وجہ لقمہ دینے کی نیت کرنی چاہیے، قرأت کی نیت نہیں کرنی چاہیے لقمہ دیتے ہوئے، اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُرَخَّصٌ فِيهِ“، اس لیے کیونکہ لقمہ دینا اس کی رخصت دی گئی ہے، ”وَقِرَاءَتُهُ مَمْنُوعٌ عَنْهَا“، اور مقتدی کی قرأت جو ہے اس سے تو منع کیا گیا ہے، تو لہٰذا مقتدی لقمہ دیتے ہوئے لقمہ دینے کی نیت کرے، قرأت یعنی قرآن پڑھنے کی نیت نہ کرے بھئی، تو لقمہ دینے کی رخصت دی گئی ہے۔
چنانچہ بھئی حدیث میں بھی آتا ہے بھئی پیچھے پچھلے صفحے کے آخر میں حدیث دی ہوئی ہے کہ حضور علیہ السلام جو ہیں نماز میں آپ نے سورۂ مؤمنون تلاوت فرمائی تو اس میں سے ایک کلمہ چھوٹ گیا، وہ چھوڑ گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم، جب فارغ ہوئے تو فرمانے لگے: کیا تم میں ابی ابن کعب نہیں ہے؟ تو وہ فرمانے لگے: کیوں نہیں یا رسول اللہ! میں یعنی میں موجود ہوں، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”هَلَّا فَتَحْتَ“، تم نے لقمہ کیوں نہیں دیا؟ جب میں ایک لفظ چھوڑ گیا تھا تو مجھے بتلایا کیوں نہیں؟ تو وہ فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ! میں تو سمجھا تھا کہ شاید یہ لفظ یہ کلمہ جو ہے منسوخ ہو گیا ہے، کیا ہو گیا ہے؟ منسوخ ہو گیا ہے اس لیے آپ نے چھوڑ دیا ہے، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: اگر یہ منسوخ ہوتا تو میں تم لوگوں کو بھی بتلا دیتا، تم لوگوں کو بھی، تو اس سے معلوم ہوا کہ امام کو مقتدی کیا کر سکتا ہے؟ لقمہ دے سکتا ہے، اس کی رخصت ہے۔
”وَلَوْ كَانَ الْإِمَامُ انْتَقَلَ إِلَى آيَةٍ أُخْرَى تَفْسُدُ صَلَاةُ الْفَاتِحِ وَتَفْسُدُ صَلَاةُ الْإِمَامِ لَوْ أَخَذَ بِقَوْلِهِ“، یہاں سے یہ ذکر کر رہے ہیں بھئی: صورت یہ کہ امام جو ہے وہ کہیں پر کچھ بھول گیا تھا، اب بھول گیا اور پھر امام نے اس آیت ہی کو چھوڑ دیا دوسری جگہ سے دوسری آیت کو پڑھنا شروع کر دیا۔ اب جب وہ دوسری آیت کی طرف منتقل ہو گیا تھا اس کے بعد ایک مقتدی اس کو لقمہ دیتا ہے وہ پچھلی آیت کا جو وہ چھوڑ گیا تھا، تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ اس صورت میں مقتدی کی نماز فاسد ہو جائے گی، اور اگر امام نے اس کا لقمہ لے لیا تو امام کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ یہاں تعلیم و تعلم پایا گیا بغیر کسی ضرورت کے۔ جب امام اگلی آیت کی طرف منتقل ہو گیا ہے تو اب ضرورت نہ رہی تھی، پھر بھی اس نے لقمہ دیا تو اس کی نماز بھی فاسد، اور امام نے وہ لقمہ لے لیا تو بغیر ضرورت کے لقمہ لیا تو اس کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی۔
تو یہ صاحبِ ہدایہ نے اس قول کو اختیار کیا اور اس کو ذکر کیا، لیکن دیگر فقہاء لکھتے ہیں کہ اس صورت میں نہ امام کی نماز فاسد ہو گی اور نہ مقتدی کی نماز فاسد ہو گی۔
”وَلَوْ كَانَ الْإِمَامُ انْتَقَلَ إِلَى آيَةٍ أُخْرَى“، اور اگر امام منتقل ہو گیا دوسری آیت کی طرف، ”تَفْسُدُ صَلَاةُ الْفَاتِحِ“، تو لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جائے گی، ”وَتَفْسُدُ صَلَاةُ الْإِمَامِ لَوْ أَخَذَ بِقَوْلِهِ“، اور امام کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی اگر اس نے اس لقمہ دینے والے کے قول کو لے لیا، ”لِوُجُودِ التَّلْقِينِ وَالتَّلَقُّنِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ“، اس لیے کہ تلقین اور تلقن یعنی سکھانا اور سیکھنا پایا گیا بغیر کسی ضرورت کے۔
آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَيَنْبَغِي لِلْمُقْتَدِي أَنْ لَا يُعَجِّلَ بِالْفَتْحِ“، اور مقتدی کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ جلدی نہ کرے لقمہ دینے میں، ”وَلِلْإِمَامِ أَنْ لَا يُلْجِئَهُمْ إِلَيْهِ“، اور امام کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ ان مقتدیوں کو لقمہ دینے کی طرف مجبور نہ کرے، مجبور نہ کرے یعنی اسی آیت کو بار بار نہ پڑھتا رہے اور یا خاموش ہو کر ہی نہ کھڑا ہو جائے، ”بَلْ يَرْكَعُ إِذَا جَاءَ أَوَانُهُ“، بلکہ رکوع کر لے جب رکوع کا وقت آ گیا ہو، ”أَوْ يَنْتَقِلُ إِلَى آيَةٍ أُخْرَى“، یا منتقل ہو جائے کسی دوسری آیت کی طرف۔ اگر اگر ابھی ضرورت کے بقدر قرأت نہیں کی تو پھر کیا کر دے؟ تو پھر کسی دوسری آیت کی طرف منتقل ہو جائے، اور اگر قرأت ہو چکی ہے کافی تو پھر کیا کر دے؟ رکوع کر لے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
سوال: [...]
جواب: مشارکت کا یہ معنی نہیں کہ جس وقت امام نے تحریمہ کہی تھی اسی وقت مقتدی بھی تحریمہ کہے۔ مشارکت یعنی ایک ہی نماز کی تحریمہ ہے، کیا ہے؟ اور مقتدی نے آ کر اس کی اقتداء کر لی اسی کی تحریمہ پر اپنی تحریمہ کی بنیاد رکھ دی تو مشارکت آ گئی، ایک ہی نماز میں تحریمہ ایک ہی نماز کی ہے۔ وہ ظہر کی پڑھا رہا تھا یہ بھی کیا پڑھ رہا ہے اس کے ساتھ؟ ظہر ہی کی پڑھ رہا ہے بھئی۔