بَابُ شُرُوْطِ الصَّلَاةِ الَّتِيْ تَتَقَدَّمُهَا
يَجِبُ عَلَى الْمُصَلِّيْ أَنْ يُقَدِّمَ الطَّهَارَةَ مِنَ الْأَحْدَاثِ وَالْأَنْجَاسِ عَلَى مَا قَدَّمْنَاهُ، قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾، وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا﴾، وَيَسْتُرَ عَوْرَتَهُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿خُذُوْا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾۔
بَابُ شُرُوْطِ الصَّلَاةِ الَّتِيْ تَتَقَدَّمُهَا
یہ باب ہے نماز کی ان شرطوں کے بیان میں الَّتِيْ تَتَقَدَّمُهَا، أَيْ تَتَقَدَّمُ الصَّلَاةَ، جو کیا ہیں؟ نماز پر مقدم ہوتی ہیں۔ بھئی یاد رکھیے! ایک ہے شرط اور ایک ہے رکن۔ شرطِ شے وہ ہوتی ہے جس پر کسی شے کا وجود موقوف ہوتا ہے۔ شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ جیسے نماز کے لیے وضو یعنی طہارت شرط ہے، طہارت ہے تو نماز ہے، طہارت نہیں تو نماز بھی نہیں ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو شرطِ شے وہ ہے جو شے سے خارج ہوتی ہے، البتہ اس شے کا وجود اس پر موقوف ہوتا ہے۔ شرط ہے تو وہ چیز بھی ہے، اگر شرط نہیں تو وہ چیز بھی نہیں۔
اور ایک ہے رکنِ شے بھئی۔ رکنِ شے جس جو اس چیز کے اندر داخل ہو، اس کا حصہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رکنِ شے بھئی۔ تو کچھ چیزیں نماز کا رکن ہیں، نماز کے اندر داخل ہیں، نماز کی حقیقت میں داخل ہیں، جیسے قیام ہے، رکوع ہے، سجدہ وغیرہ، یہ ہیں أَرْكَانُ الصَّلَاةِ۔ یہ کیا ہیں؟ أَرْكَانُ الصَّلَاةِ، کیونکہ نماز انہی چیزوں پر مشتمل ہیں مشتمل ہے، قیام، رکوع، سجدہ وغیرہ بھئی۔ یہ کیا ہیں؟ أَرْكَانُ الصَّلَاةِ۔
اور جبکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ ان پر نماز کا وجود موقوف ہے، ان کو وہ ہیں وہ ہوں گی تو نماز ہوگی، وہ چیزیں نہیں تو نماز بھی نہیں۔ جیسے طہارت کا ہونا یعنی وضو ہونا چاہیے انسان کا۔ اسی طرح بھئی کپڑے اس کے جو ہیں وہ بھی پاک ہونے چاہییں، بدن بھی پاک ہو اور کپڑے بھی پاک ہونے چاہییں۔ اسی طرح قبلہ رخ ہو بھئی۔ تو یہ سب کیا ہیں؟ شرائطِ صلاۃ ہیں بھئی۔ تو اس باب میں شرائط کا ذکر ہوگا اور اس کے بعد آگے پھر وہ ارکان وغیرہ سب کو بیان کریں گے۔
تو کہتے ہیں: بَابُ شُرُوْطِ الصَّلَاةِ الَّتِيْ تَتَقَدَّمُهَا، یہ باب ہے نماز کی ان شرطوں کے بیان میں جو نماز پر مقدم ہیں، یعنی ان کو نماز سے پہلے ہونا چاہیے تو پھر نماز ہوگی ورنہ نماز نہیں ہوگی۔
يَجِبُ عَلَى الْمُصَلِّيْ أَنْ يُقَدِّمَ الطَّهَارَةَ مِنَ الْأَحْدَاثِ وَالْأَنْجَاسِ، واجب ہے یعنی فرض ہے، يَجِبُ یہاں کس معنی میں ہے؟ فرض۔ واجب ہے یعنی فرض ہے عَلَى الْمُصَلِّيْ نمازی پر أَنْ يُقَدِّمَ الطَّهَارَةَ کہ وہ طہارت کو مقدم کرے، یعنی طہارت یعنی پاکی کو نماز پر مقدم کرے مِنَ الْأَحْدَاثِ وَالْأَنْجَاسِ۔ أَحْدَاث جمع ہے حَدَث کی، اور یہ نجاستِ حکمیہ کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ نجاستِ حکمیہ۔ جیسے بھئی ایک شخص بے وضو ہے، اب یہاں حقیقۃً تو کوئی نجاست نہیں، لیکن شریعت نے کیا حکم لگایا ہے؟ نجاست کا حکم لگایا، تو یہ کیا ہے؟ نجاستِ حکمیہ ہے۔ اور ایک ہے حقیقتِ نجاست، یعنی بدن پر خون لگا ہوا ہے یا کپڑوں پر خون لگا ہوا ہے تو یہ ہے نجاست یعنی نجاستِ حقیقی۔
تو حدث سے کیا مراد ہے؟ نجاستِ حکمیہ، اور انجاس آگے آ رہا ہے وہ اس سے مراد ہے نجاستِ حقیقیہ بھئی۔ تو واجب ہے، فرض ہے نمازی پر أَنْ يُقَدِّمَ الطَّهَارَةَ مِنَ الْأَحْدَاثِ کہ وہ طہارت مِنَ الْأَحْدَاث یعنی نجاستِ حکمیہ اور وَالْأَنْجَاسِ اور نجاستِ حقیقیہ جن کا وجود ہوتا ہے ان سے طہارت جو ہے ان سے طہارت حاصل کرنے کو اس کو مقدم کرے نماز پر۔ تو طہارت مِنَ الْأَحْدَاث اور طہارت مِنَ الْأَنْجَاس یہ مقدم ہونا فرض ہے کس کے لیے؟ نمازی کے لیے، کہ اس کو پاکی حاصل ہو نجاستِ حکمیہ سے بھی، یعنی حکماً بھی کوئی نجاست نہ ہو، بے وضو وغیرہ نہ ہو، اور اسی طرح اس کے بدن اور کپڑوں وغیرہ پر بھی کوئی نجاست نہ لگی ہوئی ہو بھئی، یعنی نجاستِ حقیقیہ۔
تو یہ فرض ہے نمازی پر کہ وہ مقدم کرے طہارت من الاحداث اور انجاس کو نماز پر، عَلَى مَا قَدَّمْنَاهُ بوجہ اس کے جو ہم نے ذکر کر دیا، یعنی پہلے اس کی دلیلیں ذکر کر دیں، آگے پھر بھی اسی کو ذکر کر رہے ہیں: قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اور اپنے کپڑے جو ہیں تو ان کو پاک کرو۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا﴾، اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اور اگر تم جنب ہو، جنابت کی حالت میں ہو، تو خوب پاک خوب پاکی حاصل کرو، خوب پاک ہو جاؤ۔ تو جی معلوم ہوا کہ طہارت کیا ہے؟ طہارت ضروری بھئی، کپڑوں کی بھی طہارت اور بدن کی بھی طہارت، یعنی نجاستِ حقیقیہ سے بھی اور نجاستِ حکمیہ سے بھی۔
وَيَسْتُرَ عَوْرَتَهُ، يَسْتُرَ اس کو بھی منصوب پڑھیں گے، يُقَدِّمَ پر عطف ہے اور اس پر أَنْ داخل ہوا تھا تو اس پر بھی گویا أَنْ داخل ہے۔ وَيَسْتُرَ عَوْرَتَهُ اور اپنے ستر کو چھپائے، اپنے ستر کو ڈھانپ لے، فرض ہے نمازی پر کہ وہ اپنے ستر کو چھپائے۔ لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿خُذُوْا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾، تم پکڑو اپنی زینت کو یعنی اپنی زینت کو اختیار کرو عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ہر مسجد کے پاس، ہر مسجد کے نزدیک کیا کرو؟ اپنی زینت اختیار کرو۔
آگے صاحبِ ہدایہ معنیٰ بیان کر رہے ہیں بھئی: أَيْ مَا يُوَارِيْ عَوْرَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، یعنی وہ چیز جو ڈھانپ لے عَوْرَتَكُمْ تمہارے ستر کو۔ عورت کہتے ہیں عورت وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو۔ عورت کسے کہتے ہیں؟ وہ چیز، وہ حصہ جس کا ظاہر کرنا عیب ہو بھئی۔ تو مَا يُوَارِيْ عَوْرَتَكُمْ یعنی اس زینت سے کیا مراد ہے؟ وہ چیز يُوَارِيْ عَوْرَتَكُمْ جو تمہارے عورت یعنی تمہارے ستر کو ڈھانپ لے۔ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، بھئی آیت میں کیا آیا؟ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ، صاحبِ ہدایہ معنیٰ کر رہے ہیں کہ ہر مسجد کے نزدیک اس سے کیا مراد ہے؟ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ یعنی ہر نماز کے۔ یعنی تم اس چیز کو اختیار کرو جو ڈھانپ لے تمہارے ستر کو عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ہر نماز کے وقت بھئی۔ تو معلوم ہوا سترِ عورت بھی فرض ہے۔
وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اور دوسری دلیل بھئی، حدیث میں آتا ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَا صَلَاةَ لِحَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ“، کہ نماز نہیں ہوتی حائضہ کی إِلَّا بِخِمَارٍ مگر اوڑھنی کے ساتھ یعنی دوپٹے کے ساتھ۔ حائضہ کی نماز نہیں ہوتی مگر کس کے ساتھ؟ دوپٹے کے ساتھ۔ یاد رکھیے حائض سے مراد بالغہ ہے، یعنی وہ عورت جس کو حیض آتا ہو۔ تو کیا مراد ہے؟ بالغہ۔ ہاں، تو حائض سے جس کو حقیقۃً حیض آ رہا ہے وہ مراد نہیں، کیونکہ اس کے اس پر تو نماز ہے ہی نہیں، اس کی تو نماز ہوتی ہی نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو حائض سے کیا مراد ہے؟ بالغہ یعنی جس کو حیض آتا ہے، بالغ ہو چکی ہے۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَا صَلَاةَ لِحَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ“، کہ بالغہ عورت جو ہے اس کی نماز نہیں ہوتی إِلَّا بِخِمَارٍ مگر اوڑھنی کے ساتھ یعنی دوپٹے کے ساتھ۔ خود معنیٰ بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ: أَيْ لِبَالِغَةٍ، کہ حائض سے کیا مراد ہے؟ بالغہ مراد ہے۔
وَعَوْرَةُ الرَّجُلِ مَا تَحْتَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ، اب عورت کا ذکر آیا کہ عورت کا ڈھانپنا نماز میں فرض ہے، اور یعنی ستر کا ڈھانپنا نماز میں فرض ہے فرض ہے۔ وہ ستر کیا ہے؟ کسے کہتے ہیں ستر؟ مرد کا ستر کیا؟ عورت کا ستر کیا؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَعَوْرَةُ الرَّجُلِ مَا تَحْتَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ، مرد کا جو ستر ہے وہ مَا تَحْتَ السُّرَّةِ وہ جو ناف کے نیچے سے ہے إِلَى الرُّكْبَةِ گھٹنے تک بھئی۔ ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک یہ ہے مرد کا ستر، اور آگے آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ ناف جو ہے وہ ستر میں داخل نہیں اور گھٹنے ستر میں داخل ہیں۔ تو ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک، تو یہاں گھٹنے بھی کیا ہیں؟ ستر میں داخل ہیں، ان کا ڈھانپنا بھی ضروری ہے۔
دلیل ذکر کر رہے ہیں، اس کی کیا دلیل ہے کہ مرد کی یہ عورت ہے یا ستر ہے؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”عَوْرَةُ الرَّجُلِ مَا بَيْنَ سُرَّتِهِ إِلَى رُكْبَتِهِ“، کہ مرد کا ستر جو ہے وہ اس کے مَا بَيْنَ سُرَّتِهِ إِلَى رُكْبَتِهِ اس کی ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے بیچ میں ہے بھئی، ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے مابین ہے۔ وَيُرْوَى، اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے یہ حدیث بھی: ”مَا دُوْنَ سُرَّتِهِ حَتَّى تُجَاوِزَ رُكْبَتَهُ“، کہ مرد کی عورت یعنی ستر جو ہے مَا دُوْنَ سُرَّتِهِ اس کے ناف کے نیچے سے حَتَّى تُجَاوِزَ رُكْبَتَهُ یہاں تک کہ وہ وہ تجاوز کر جائے کس سے؟ اپنے گھٹنے سے۔ یعنی مرد کا ستر جو ہے وہ اس کی ناف کے نیچے سے لے کر یہاں تک کہ وہ تجاوز کر جائے گھٹنے سے۔ معلوم ہوا گھٹنا بھی کس میں داخل؟ ستر میں داخل ہے۔
وَبِهٰذَا يَتَبَيَّنُ، اور اس سے دلیل سے یہ بات ظاہر ہو گئی یعنی احادیث سے: أَنَّ السُّرَّةَ لَيْسَتْ مِنَ الْعَوْرَةِ، کہ ناف جو ہے وہ عورت میں سے ستر میں سے نہیں، خِلَافًا لِمَا يَقُوْلُهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ، بخلاف اس کے جو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ بھئی ہمارے نزدیک ناف ستر میں داخل نہیں، لیکن گھٹنے ستر میں داخل ہیں، ان کا ڈھانپنا ضروری ہے، فرض ہے نماز میں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ اس کا عکس فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں ناف ستر میں داخل ہے اور گھٹنے داخل نہیں۔ ناف داخل ہے اور گھٹنے داخل نہیں۔ تو کہتے ہیں اس سے حدیث سے یہ ظاہر ہو گیا کہ أَنَّ السُّرَّةَ لَيْسَتْ مِنَ الْعَوْرَةِ کہ ناف جو ہے وہ عورت میں سے نہیں ہے، خِلَافًا لِمَا يَقُوْلُهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ بخلاف اس کے جو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یعنی وہ فرماتے ہیں کہ یہ ناف جو ہے عورت میں سے ہے۔ جبکہ اس حدیث سے کیا ظاہر ہوا کہ وہ عورت میں سے نہیں ہے۔
وَالرُّكْبَةُ مِنَ الْعَوْرَةِ، اور اسی طرح یا اس کا عطف پیچھے جوڑیں: وَالرُّكْبَةَ مِنَ الْعَوْرَةِ، اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ گھٹنا جو ہے وہ مِنَ الْعَوْرَةِ کس میں سے ہے؟ ستر میں سے ہے، خِلَافًا لَهُ أَيْضًا، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے وہ اس میں بھی کیا کرتے ہیں؟ اختلاف کرتے ہیں۔
وَكَلِمَةُ ”إِلَى“ نَحْمِلُهَا عَلَى كَلِمَةِ ”مَعَ“ عَمَلًا بِكَلِمَةِ ”حَتَّى“، اور کلمۂ ”إِلَى“ جو آیا حدیث میں پہلی روایت کیا آئی تھی؟ ”مَا بَيْنَ سُرَّتِهِ إِلَى رُكْبَتِهِ“، تو یہاں ”إِلَى“ آیا اور ”إِلَى“ آتا ہے کس لیے؟ غایہ بیان کرنے کے لیے، اور غایہ مغیا میں کبھی داخل ہوتا ہے اور کبھی داخل نہیں ہوتا، غایہ یعنی حد بیان کر دی۔ إِلَى گھٹنوں تک، تو گھٹنے ہوئے غایہ۔ تو اب یہ غایہ کبھی وہ حکم میں داخل ہوتا ہے، کبھی داخل نہیں ہوتا۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہاں ”إِلَى“ کو ہم نے ”مَعَ“ کلمے پر محمول کیا، یعنی ”إِلَى“ بمعنی ”مَعَ“ کے ہے، اور ”مَعَ“ کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ ساتھ بھئی، کہ آدمی کی عورت یعنی ستر جو ہے وہ اس کے ناف سے گھٹنوں تک یعنی گھٹنوں سمیت ہے، گھٹنوں سمیت ہے گھٹنوں کے ساتھ ہے۔
تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَكَلِمَةُ ”إِلَى“ نَحْمِلُهَا عَلَى كَلِمَةِ ”مَعَ“، اور کلمۂ ”إِلَى“ جو حدیث میں آیا اس کو ہم محمول کرتے ہیں کلمۂ ”مَعَ“ پر، عَمَلًا بِكَلِمَةِ ”حَتَّى“ عمل کرتے ہوئے کلمۂ ”حَتَّى“ پر، کس پر عمل کرتے ہوئے؟ ”حَتَّى“ کلمے پر عمل کرتے ہوئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے ”إِلَى“ کو ”مَعَ“ کے معنیٰ میں کیوں لیا؟ جواب دے رہے ہیں بھئی کہ ”إِلَى“ کو ”مَعَ“ کے معنیٰ میں اس لیے لیا کیونکہ ہم نے اس کو تاکہ عمل ہو جائے کس پر؟ کلمۂ ”حَتَّى“، کیونکہ دوسری روایت کیا آئی تھی اسی حدیث کی؟ بعض روایات میں کیا الفاظ آئے ہیں؟ ”مَا دُوْنَ سُرَّتِهِ حَتَّى تُجَاوِزَ رُكْبَتَهُ“، تو یہاں ”حَتَّى“ کا لفظ آیا بھئی، تو ہم نے ”إِلَى“ کلمے کو جو ایک روایت میں آیا تھا اس کو ”مَعَ“ کے معنیٰ میں لے لیا تاکہ عمل ہو جائے کس روایت پر؟ ”حَتَّى“ والی روایت پر بھئی۔
یاد رکھیے ”حَتَّى“ بھی غایہ بیان کرنے کے لیے آتا ہے اور اس میں بھی کبھی مابعد ماقبل کے میں شامل کے ما بعد ماقبل کے حکم میں شامل ہوتا ہے اور کبھی شامل نہیں ہوتا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ”حَتَّى“ بھی کس لیے آتا ہے؟ غایہ بیان کرنے، اور غایہ کبھی مغیا میں داخل ہوتا ہے اور کبھی داخل نہیں ہوتا، لیکن یہاں پر تو ظاہر ہے: ”حَتَّى تُجَاوِزَ رُكْبَتَهُ“ یہاں تک کہ وہ اس کے گھٹنے اپنے گھٹنے سے تجاوز کر جائے، معلوم ہوا گھٹنا داخل ہے، سمجھ میں آئی بات؟ تو یہاں ہم نے ”إِلَى“ کو ”مَعَ“ کے معنیٰ میں لیا تاکہ عمل ہو جائے کلمۂ ”حَتَّى“ پر، تو اب دیکھیے دونوں کا ایک ہی معنیٰ بن گیا، ”إِلَى“ کا معنیٰ بھی ”حَتَّى“، ”مَعَ“ کے معنیٰ میں۔ اس پہلی روایت سے بھی پتہ چل رہا ہے کہ گھٹنا کس کے گھٹنا ستر میں داخل اور دوسری روایت سے بھی کیا پتہ چل رہا ہے کہ گھٹنا ستر میں داخل۔ وَعَمَلًا بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور نیز عمل کرتے ہوئے حضور علیہ السلام کے اس قول پر: ”الرُّكْبَةُ مِنَ الْعَوْرَةِ“، گھٹنا کس میں سے ہے؟ ستر میں سے ہے، تو یہ بھی حدیث میں آیا ہے تو اس پر بھی عمل ہو گیا۔ تو ہم نے ”إِلَى“ کو کس معنیٰ میں لیا؟ ”مَعَ“ کے معنیٰ میں، کیوں؟ ایک تو اس حدیث پر تاکہ عمل ہو جائے کہ ”الرُّكْبَةُ مِنَ الْعَوْرَةِ“، اور دوسرا تاکہ کس پر عمل ہو جائے؟ کلمۂ ”حَتَّى“ پر عمل ہو جائے جو دوسری روایت میں آیا تھا۔
وَبَدَنُ الْحُرَّةِ كُلُّهَا عَوْرَةٌ إِلَّا وَجْهَهَا وَكَفَّيْهَا، اور آزاد عورت جو ہے اس کا بدن كُلُّهَا سارا کا سارا عَوْرَةٌ وہ ستر ہے۔ اب عورت کا ستر بیان ہو رہا ہے کہ آزاد عورت جو ہے اس کا سارا بدن جو ہے وہ ستر ہے إِلَّا وَجْهَهَا وَكَفَّيْهَا سوائے اس کے چہرے کے وَكَفَّيْهَا اور اس کی دو ہتھیلیوں کے۔ اس کے چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ سارا بدن اس کا عورت ہے یعنی ستر ہے، اس کو ڈھانپنا ضروری نماز کے اندر۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ مَسْتُوْرَةٌ“، کہ مرأة جو ہے وہ عورت ہے، مَسْتُوْرَةٌ چھپائی جانے والی ہے چیز ہے بھئی۔ مرأة عورت کیا ہے؟ چھپائی، ”الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ“ کہ مرأة جو ہے وہ عورت ہے مَسْتُوْرَةٌ چھپائی جانے والی چیز ہے۔
وَاسْتِثْنَاءُ الْعُضْوَيْنِ لِلِابْتِلَاءِ بِإِبْدَائِهِمَا، اور دو اعضاء کا استثناء کیا صاحبِ قدوری نے، کس کا؟ چہرے کا اور ہتھیلیوں کا، کہ ان کو اس حکم سے نکال دیا کہ وہ ستر نہیں ہیں۔ یہ کس وجہ سے؟ کہتے ہیں: لِلِابْتِلَاءِ بِإِبْدَائِهِمَا، اس وجہ سے ابداء کا معنیٰ ہے ظاہر کرنا، اس لیے کہ ان دونوں کے ظاہر کرنے کے ساتھ وہ عورت مبتلا کی گئی ہے۔ ان دونوں کا تو ظاہر کرنے میں تو وہ مبتلا کی گئی ہے، یعنی یہ تو اس کے لیے اس کے بغیر تو وہ کوئی کام سرانجام دے ہی نہیں سکتی بھئی، صورت سمجھ اگر چہرے کو بھی چھپا لے اور ہتھیلیوں کو بھی چھپا لے پھر تو کوئی کام سرانجام، تو ان کو ظاہر کرنے کے ساتھ وہ مبتلا کی گئی ہے بھئی۔ ان کو ظاہر کرنا پڑتا ہے اس کو بھئی۔ اور اسی طرح بھئی، پھر خصوصاً بھئی، اگر گواہی وغیرہ دینی ہو اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ چہرہ ظاہر کرنا پڑے گا، پتہ چلے یہ وہی عورت ہے گواہی جو دے رہی ہے یا کوئی اور عورت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ دو چہرے چہرہ اور ہتھیلیاں یہ ستر میں داخل نہیں، ستر میں داخل نہیں۔ ہاں، ستر میں داخل ہونے کا داخل نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا پردہ بھی نہیں ہوگا، پردہ تو ہوگا، چہرے کو کیا کیا جائے گا؟ چھپا کر رکھا جائے گا، البتہ یہ ستر نہیں۔ ستر اور چیز، پردہ اور چیز ہے بھئی۔ ستر تو یہ ہے نماز کے اندر بھئی، کوئی نہ بھی ہو عورت کے لیے ستر ڈھانپنا ضروری ہے بھئی۔ اور صرف دو چیزوں کا استثناء کیا چہرے اور ہتھیلیوں کا۔ معلوم ہوا عورت کے جو بال ہیں وہ بھی ستر میں داخل ہیں، اور جب ستر میں داخل ہیں نماز میں ان کا بھی چھپانا ضروری ہے، ان کا بھی چھپانا۔ لہٰذا اگر کوئی عورت باریک دوپٹہ اوڑھ کر اس کے ساتھ نماز پڑھتی ہے اس میں سے تو اس کے بال دکھائی دیں گے لہٰذا اس کی نماز نہیں ہوگی۔ تو نماز کے لیے بالخصوص ایسا دوپٹہ جس میں سے بال دکھائی نہ دیں بھئی، کیونکہ یہ ستر ہے اور نماز میں سترِ عورت ضروری ہے بھئی ضروری ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، چہرہ چہرہ وہ ستر میں داخل نہیں، وہ کھلا بھی ہو پھر بھی نماز ہو جائے گی، لیکن اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ اب چہرے کا پردہ بھی نہیں کرے گی، پردہ اور چیز ستر اور چیز ہے بھئی۔
قَالَ: وَهٰذَا تَنْصِيْصٌ عَلَى أَنَّ الْقَدَمَ عَوْرَةٌ، قَالَ سے مراد صاحبِ ہدایہ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَهٰذَا تَنْصِيْصٌ، اور یہ نص ہے تصریح ہے اس بات پر عَلَى أَنَّ الْقَدَمَ عَوْرَةٌ کہ قدم جو ہے وہ بھی عورت ہے۔ متن میں بھئی کہا گیا عورت آزاد عورت کا سارا بدن ستر ہے صرف دو اعضاء کا استثناء کیا گیا چہرے اور ہتھیلیوں کا، معلوم ہوا باقی سارے اعضاء کس کے اندر داخل؟ ستر میں، انہی میں قدم بھی ہے، عورت کے پاؤں بھی ہیں، تو معلوم ہوا وہ بھی ستر میں داخل ہیں۔ اور یہ گویا صاحبِ قدوری نے تصریح کر دی، صراحتاً کہہ دیا، جب دو چیزوں کا کہہ دیا یہ ستر نہیں باقی سب ستر ہیں تو یہ بھی اس میں آ گیا یعنی کہ قدم بھی ستر ہے۔ تو گویا صاحبِ قدوری نے اس بات پر تصریح کر دی کہ قدم بھی کس میں داخل ہیں؟ ستر میں داخل ہیں۔ یہ معنیٰ ہے: وَهٰذَا تَنْصِيْصٌ عَلَى أَنَّ الْقَدَمَ عَوْرَةٌ، اور یہ تصریح ہے اس بات پر کہ قدم بھی عورت ہے۔
وَيُرْوَى أَنَّهَا لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ وَهُوَ الْأَصَحُّ، اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ قدم جو ہیں وہ عورت نہیں ہیں وَهُوَ الْأَصَحُّ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے بھئی۔ صاحبِ قدوری نے تو تصریح کر دی کہ قدم بھی ستر میں داخل، لیکن دوسری روایت کیا ہے کہ قدم ستر میں داخل نہیں ہے اور یہی روایت زیادہ صحیح ہے۔
فَإِنْ صَلَّتْ وَرُبُعُ سَاقِهَا مَكْشُوْفٌ أَوْ ثُلُثُهَا تُعِيْدُ الصَّلَاةَ عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى، فَإِنْ صَلَّتْ اور اگر عورت نماز پڑھے وَرُبُعُ سَاقِهَا مَكْشُوْفٌ اور اس کی چوتھائی پنڈلی جو ہے چوتھائی پنڈلی مَكْشُوْفٌ کھلی ہوئی ہو یعنی ڈھانپی نہیں ہوئی أَوْ ثُلُثُهَا یا تہائی پنڈلی جو ہے وہ کھلی ہوئی ہے تُعِيْدُ الصَّلَاةَ تو وہ نماز کا اعادہ کرے گی، نماز دوبارہ لوٹائے گی، اس کی یہ نماز نہیں ہوئی عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ وَمُحَمَّدٍ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ الرُّبُعِ لَا تُعِيْدُ، اور وہ جو پنڈلی جو کھلی ہوئی ہے اگر وہ ربع سے کم ہے، چوتھائی حصے سے کم ہے یعنی چوتھائی پنڈلی سے کم حصہ نظر آ رہا ہے لَا تُعِيْدُ تو پھر اعادہ نہیں کرے گی، اعادہ نہیں ہے بھئی۔
تو یہ ضابطہ ذکر ہو گیا اور یہ ضابطہ تمام اعضاء میں جاری ہوگا جو ستر ہیں۔ جو جو اعضاء ستر ہیں ستر کے اندر داخل ہیں ان میں چوتھائی حصے سے کم کم اگر کھل جائے نماز میں، کم کھلا ہو تو نماز ہو جائے گی اور اگر وہ کھلے ہوئے حصے کی مقدار چوتھائی عضو تک پہنچ گئی تو پھر اس کی نماز نہیں ہوگی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟
اب دیکھیے متن میں آیا: فَإِنْ صَلَّتْ وَرُبُعُ سَاقِهَا مَكْشُوْفٌ، اگر اس حال میں کہ اس کی چوتھائی پنڈلی کھلی ہوئی ہو أَوْ ثُلُثُهَا یا تہائی پنڈلی کھلی ہوئی ہو۔ بھئی چوتھائی حصہ بڑا ہوتا ہے یا تہائی حصہ بڑا؟ ظاہر سی بات ہے چوتھائی حصہ ایک چیز سے چار حصے کریں تو یہ ایک ایک حصے میں کم آئے گا اور ایک چیز کے تین حصے کریں تو اب ایک حصے میں زیادہ آئے گا تو چوتھائی کم ہے، تہائی اس سے زیادہ ہے۔ تو جب چوتھائی کہہ دیا گیا کہ چوتھائی حصہ کھلا ہوا ہو اور اس نے نماز پڑھ لی تو نماز نہیں ہوگی تو ثلث کہنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جب ربع کے اندر کھلے ہونے کی صورت میں نماز نہیں ہو رہی، یعنی کم حصہ کھلے ہونے کی صورت میں نماز نہیں ہو رہی تو ثلث کی صورت میں تو زیادہ حصہ کھلا ہوگا، اس میں تو بطریقِ اولیٰ نماز نہیں ہوگی بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اشکال ہوتا ہے یہاں پر کہ ربع کا جب ذکر آ گیا تو پھر ثلث کے ذکر کی کیا ضرورت تھی؟
تو بعض علماء نے جواب دیا کہ بھئی یہ کسی کاتب کی غلطی ہے۔ کسی پہلے کتابیں کیا کیا کتابیں ہاتھ سے نقل ہوتی تھیں تو جو نقل کرنے والا تھا اس سے غلطی سے ثلث یہاں اس نے لکھ دیا اور اسی طرح پھر نقل ہوتا چلا آیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ آپ کہیں گے اگر کاتب کی غلطی تھی اس کو نکال کیوں نہیں دیتے؟ نہیں بھئی، یہ تو ایک احتمال ہے کہ شاید کیا ہو کاتب کی غلطی، اور اگر اس طرح لفظ نکال دیا جائے تو پھر ہر دوسرا آدمی اٹھے گا وہ کہے گا بھئی یہ مسئلہ یہاں بھی ہو سکتا ہے کاتب کی غلطی ہوئی ہو تو اس لفظ کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ نکالنا چاہیے، وہ دوسرے کو بھی نکال دے گا تو کچھ عرصے بعد ہی کتاب کا حلیہ کچھ کا کچھ ہو جائے گا۔ تو بس جیسا جیسی کتاب نقل ہوتی چلی آئی اسی طرح اس کو امانت کے طور پر آگے نقل کر دیا جاتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی بھئی۔ تو یہ کسی کاتب سے غلطی ہوئی، بعضوں نے یہ جواب دیا۔
اور بعضوں نے کہا کہ نہیں، یہ امام محمد رحمہ اللہ کے جو شاگرد لکھنے والے تھے ان کو شک ہوا یہاں پر کہ پتہ نہیں امام محمد رحمہ اللہ نے ربع فرمایا تھا یا ثلث، شک آ گیا تو انہوں نے دونوں ذکر کر دیے اور وہی نسخہ آگے نقل ہوتا چلا آیا بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
اور بعضوں نے یہ کہا، بعضوں نے یہ جواب دیا کہ دراصل امام اعظم سے یہ مسئلہ پوچھا ہی اسی طرح گیا تھا، اسی لیے اس کو ذکر بھی اسی طرح کیا گیا، کوئی آدمی آیا ہوگا یا کسی شاگرد نے پوچھا ہوگا، اس نے پوچھا ہی اسی طرح تھا کہ ربعِ ساق یا ثلثِ ساق اگر کھلی ہوئی ہو تو نماز ہوگی یا نماز نہیں ہوگی؟ تو اسی طرح اس کو لکھ لیا گیا کہ اگر ربع یا ثلث کھلی ہوئی ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ الرُّبُعِ لَا تُعِيْدُ، اور اگر چوتھائی حصے سے کم حصہ کھلا ہوا ہو تو لَا تُعِيْدُ تو نماز کا اعادہ وہ نہیں کرے گی۔
وَقَالَ أَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: لَا تُعِيْدُ إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ النِّصْفِ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عورت نماز کا اعادہ نہیں کرے گی إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ النِّصْفِ اگر وہ حصہ جو کھلا ہوا ہے أَقَلَّ مِنَ النِّصْفِ نصف سے کم ہو۔ طرفین تو کیا فرماتے ہیں؟ ربع سے ربع تک پہنچ جائے اور اتنا حصہ کھلا ہو تو نماز کو دوبارہ لوٹانا پڑے گا، اور اگر ربع سے کم ہو تو پھر ٹھیک ہو جائے گی نماز۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، نصف سے کم ہو تو نماز ہو جائے گی، نصف پنڈلی سے کم کھلی ہوئی ہے تو نماز ہو جائے گی، ہاں نصف سے زیادہ پنڈلی کھلی ہوئی تھی تو پھر نماز نہیں ہوگی بھئی۔ مذہب سمجھ آیا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا؟ تو کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں لَا تُعِيْدُ وہ عورت نماز کا اعادہ نہیں کرے گی إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ النِّصْفِ اگر وہ جو حصہ کھلا ہوا ہے وہ نصف سے کم ہو۔
لِأَنَّ الشَّيْءَ إِنَّمَا يُوْصَفُ بِالْكَثْرَةِ إِذَا كَانَ مَا يُقَابِلُهُ أَقَلَّ مِنْهُ إِذْ هُمَا مِنْ أَسْمَاءِ الْمُقَابَلَةِ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک ہے اکثرِ شے، ایک ہے اقلِّ شے، اکثر حصہ، اکثر کسے کہتے ہیں کہ جب دوسرا حصہ اس کے مقابلے میں کم ہو۔ تو جب ایک چیز نصف سے زیادہ ہو جائے اس کو کہتے ہیں اکثرِ شے، اور دوسری جانب اس کے مقابلے میں کیا ہوگا؟ اقلِّ شے، وہ اقل تھوڑا حصہ ہے۔ نصف سے زائد ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اکثرِ شے، اور نصف سے کم ہو تو وہ اقلِّ شے ہے، تو یہاں پر بھی جب تک وہ حصہ جو کھلا ہوا ہے وہ اقل ہے تھوڑا ہے تو اس وقت تک نماز کا اعادہ اس عورت پر نہیں، لیکن جب وہ نصف سے زیادہ حصہ کھلا ہوا تو یہ ہو گئی اکثرِ شے، یعنی اکثر پنڈلی کا ہو گیا، اور لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، اکثر کے لیے کیا حکم ہوتا ہے؟ کل والا ہی حکم ہوتا ہے، گویا ساری پنڈلی ہی کھلی ہوئی ہے، لہٰذا اس صورت میں کیا حکم دیا جائے گا؟ نماز نہیں نماز نہیں ہوئی، نماز کو لوٹانا پڑے گا بھئی۔ صورت دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟
وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّ الشَّيْءَ إِنَّمَا يُوْصَفُ بِالْكَثْرَةِ إِذَا كَانَ مَا يُقَابِلُهُ أَقَلَّ مِنْهُ، کہ ایک چیز کو موصوف کیا جاتا ہے کثرت کے ساتھ یعنی کہ وہ کثیر ہے، کب؟ إِذَا كَانَ مَا يُقَابِلُهُ أَقَلَّ مِنْهُ جبکہ وہ حصہ جو اس کے مقابل ہو وہ اس سے کم ہو اقل ہو۔ إِذْ هُمَا مِنْ أَسْمَاءِ الْمُقَابَلَةِ، اس لیے کیونکہ یہ دونوں جو ہیں اسمائے مقابلہ میں سے ہیں، یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ اکثرِ شے اور اکثر اور اقل، ایک چیز اکثر ہے تو معلوم ہوا اس کے مقابلے والی اقل، اور ایک چیز اگر اقل ہے تو معلوم ہوا اس کے مقابلے والی چیز اکثر ہے۔ تو یہاں بھی اکثر کے لیے حکمِ کل والا ضابطہ کب لگے گا؟ جب نصف سے زائد پنڈلی کھلی ہو۔
وَفِي النِّصْفِ عَنْهُ رِوَايَتَانِ، اچھا یہ تو وہ صورت ذکر ہوئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کیا فرمایا؟ نصف سے کم حصہ کھلا ہوا ہو تو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں، نصف سے زائد ہو تو نماز لوٹانا پڑے گی۔ اچھا اگر پورا نصف حصہ کھلا ہوا ہے پوری نصف پنڈلی، پھر کیا حکم ہے؟ پھر کیا حکم ہے؟ تو اس کے بارے میں کہتے ہیں ان سے دو روایتیں ہیں۔ کہ نصف کی صورت میں ایک روایت یہ کہ نماز کا اعادہ کرے گی وہ، اسے کرنا پڑے گا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ اسے نماز کا اعادہ نہیں کرنا پڑے گا، نماز ہو گئی اس کی بھئی۔ تو کتنی روایتیں آئیں؟ دو روایتیں۔ یہی بات ذکر کر رہے ہیں: وَفِي النِّصْفِ عَنْهُ رِوَايَتَانِ، اور نصف کے بارے میں ان سے دو روایتیں ہیں۔
اب اس کی دلیل کیا؟ ایک روایت کیا آئی؟ اگر نصف حصہ کھلا ہو تو نماز ہو گئی، اس کی کیا دلیل؟ دوسری روایت ہے اگر نصف حصہ کھلا ہو تو نماز نہیں ہوئی، اس کی کیا دلیل ہو؟ وہ اب ذکر کرنے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں معلوم ہوا انہوں نے وہ جو روایت ہے، کون سی ایک روایت کو یہ بتلا دیں کون سی؟ اگر نصف حصہ کھلا ہو تو نماز ہو گئی۔ یہ روایت پہلے یہ لے لیتے ہیں۔ نصف حصہ کھلا ہے تو وہ کیا فرماتے ہیں؟ نماز کا اعادہ اس عورت پر نہیں، گویا انہوں نے اس بات کا اعتبار کیا کہ جب نصف حصہ کھلا ہوا ہے، وہ حصہ جو کھلا ہوا ہے وہ نصف تک پہنچ گیا ہے، لیکن اکثر بنا ہے؟ نہیں، نصف سے بڑھے گا تو اکثر بنے گا، اور لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ ہوتا ہے۔ تو جب یہ نصف تک ہے تو اکثر میں داخل نہیں، اس کو اکثر نہیں کہیں گے، جب اکثر میں یہ داخل نہیں تو لہٰذا اس پر وہ اعادہ بھی نہیں، کیونکہ یہ اکثر میں داخل نہیں، اکثر میں داخل ہوتا تو پھر ہم کہتے لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، اکثر کے لیے کل کا حکم ہے، گویا ساری پنڈلی کھلی ہوئی ہے اور جب ساری پنڈلی کھلی ہے تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ نماز کو لوٹانا پڑے گا کیونکہ پنڈلی تو ستر میں تھی، اس کا ڈھانپنا تو لیکن یہاں پر تو یہ اکثر میں داخل ہی نہیں، لہٰذا اکثر والا حکم بھی نہیں لگے گا تو اس پر نماز کا اعادہ بھی نہیں۔
دوسری روایت جو انہوں نے ذکر کی کیا؟ یرحمک اللہ۔ دوسری کیا روایت ذکر کی کہ اگر نصف تک ہو تو کیا کرنا پڑے گا؟ اعادہ کرنا پڑے گا۔ تو اس میں گویا کہتے ہیں انہوں نے اعتبار کیا اقل سے نکل جانے کا۔ کس چیز سے؟ اقل سے۔ جو حصہ کھلا ہوا تھا وہ نصف تک پہنچ گیا، جب نصف تک نصف تک پہنچ گیا تو اب اقل رہا؟ نہیں، اقل کی حد سے نکل گیا اور جب اقل کی حد سے نکل گیا، معلوم ہوا کس میں دوسری طرف تو ایک ہی جانب رہ گئی کیا؟ اکثر، معلوم ہوا کس میں داخل ہو گیا؟ اکثر میں داخل ہو گیا۔ صورت سمجھ؟ تو لہٰذا جب اکثر میں داخل ہو گیا تو لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، تو گویا پوری پنڈلی ہی کھلی ہوئی ہے اور جب پوری پنڈلی کھلی ہوئی ہے تو پھر تو نماز نہیں ہوگی، حالانکہ پنڈلی تو ستر میں داخل تھی، اس کا تو ڈھانپنا ضروری تھا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو صاحبِ ہدایہ دونوں کو دونوں کی دلیلیں اکٹھی ذکر کریں گے: فَاعْتَبَرَ الْخُرُوْجَ عَنْ حَدِّ الْقِلَّةِ، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اعتبار کیا ہے حدِّ قلت سے نکل جانے کا، حدِّ قلت سے یہ کس روایت میں؟ جب اس پر اعادہ آئے گا، کیونکہ معلوم ہوا حدِّ قلت سے نکل گئی ہے وہ حصہ جو کھلا ہوا ہے تو کس میں داخل ہو گیا؟ حدِّ کثرت میں۔ أَوْ عَدَمَ الدُّخُوْلِ فِيْ ضِدِّهِ، یا انہوں نے اعتبار کیا ہے اس کی جو ضد ہے یعنی اکثر میں داخل نہ ہونے کا۔ یا أَوْ عَدَمَ الدُّخُوْلِ فِيْ ضِدِّهِ، یعنی یا انہوں نے اعتبار کیا ہے داخل نہ ہونے کا فِيْ ضِدِّهِ اس اقل کی ضد میں، اور اقل کی ضد کیا ہے؟ اکثر، یعنی انہوں نے اکثر میں داخل نہ ہونے کا اعتبار کیا ہے کہ یہ اکثر میں داخل نہیں، یہ کون سی روایت ہوگی؟ جب اعادہ نہیں، یعنی وہ حصہ جو کھلا ہوا ہے وہ نصف ہے، جب نصف تک ہے تو اکثر میں تو پھر بھی نہیں داخل، جب اکثر میں نہیں داخل اکثر میں داخل ہوتا تو ہم کہتے پوری پنڈلی کھلی ہوئی ہے اور اب کیا کرنا پڑے گا؟ نماز کو لوٹانا پڑے گا کیونکہ پنڈلی تو ستر میں تھی اس کا ڈھانپنا تو تو جب یہ جب یہ نصف تک پہنچ گئی تو بھی اکثر میں تو ابھی بھی داخل نہیں، جب اکثر میں داخل نہیں تو لہٰذا اس عورت پر نماز کا اعادہ بھی نہیں۔ یہ معنیٰ ہے: أَوْ عَدَمَ الدُّخُوْلِ فِيْ ضِدِّهِ، یا انہوں نے اعتبار کیا ہے اس کی اقل کی ضد یعنی اکثر میں داخل نہ ہونے کا۔ بات بھی سمجھ میں آئی یا نہیں سب کو؟
وَلَهُمَا، اب طرفین کی دلیل آئی، انہوں نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ ربع تک کھلی ہوئی ہو پنڈلی تو نماز کو لوٹانا پڑے گا، اور وہ فرماتے ہیں وَلَهُمَا ان کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الرُّبُعَ يَحْكِيْ حِكَايَةَ الْكَمَالِ، کہ ربع چوتھائی حصہ جو ہے وہ حکایت کرتا ہے وہ بیان کرتا ہے حِكَايَةَ الْكَمَالِ کمال کی بھئی، کامل ہونے کی حکایت بیان کرتا ہے۔ ربع کیا بیان کرتا ہے؟ ربع جو ہے وہ کامل ہونے کی حکایت بیان کرتا ہے، یعنی ربع کامل ہونے کو بیان کرتا ہے یوں کہیں، ربع کس چیز کو بیان کرتا ہے؟ کامل ہونے کو بیان کرتا ہے، ربع آ گیا گویا وہ چیز پوری ہی آ گئی، تو ربع پنڈلی جب کھل گئی گویا پوری ہی پنڈلی کھل گئی اور جب پوری پنڈلی کھل گئی تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ اعادہ، کیونکہ پنڈلی تو ستر میں داخل تھی اس کا ڈھانپنا تو فرض تھا بھئی۔
تو یہ معنیٰ ہے ان کی دلیل ہے کہ أَنَّ الرُّبُعَ يَحْكِيْ حِكَايَةَ الْكَمَالِ کہ چوتھائی حصہ جو ہے وہ کمال کو یعنی کامل ہونے کو بیان کرتا ہے كَمَا فِيْ مَسْحِ الرَّأْسِ وَالْحَلْقِ فِي الْإِحْرَامِ، جیسے کہ مسحِ رأس کے اندر ہے، شریعت نے کیا حکم دیا؟ چوتھائی سر پر مسح فرض قرار دیا، معلوم ہوا چوتھائی سر ہی کو کل سر کے قائم مقام کر دیا گیا، تو چوتھائی حصہ بھی کیا ہے؟ کامل ہونے کی حکایت کرتا ہے۔ اسی طرح وَالْحَلْقِ فِي الْإِحْرَامِ، اور جیسے کہ احرام کے اندر حلق کے اندر، احرام کے اندر حلق کروانا ہے، حلق کا معنیٰ سر منڈوانا، استرے سے سر کے بال صاف کرنا یہ ہے حلق بھئی۔ اب دیکھیے احرام کی حالت میں انسان پر بہت سی پابندیاں لاگو ہو جاتی ہیں، ان انہی میں سے ایک مثلاً پابندی ہے کہ وہ بال نہیں کاٹ سکتا اپنے۔ اب ایک شخص ہے اگر وہ سارے سر کے بال منڈوا لیتا ہے تو اس پر دم واجب ہوگا، ایک قربانی اس کو کرنا پڑے گی، اور فقہاء لکھتے ہیں اگر چوتھائی سر کو منڈوا دیا چوتھا حصہ، تو بھی یہ اسی طرح گویا سارے سر کو منڈوا دیا تو اس پر بھی دم آئے گا، ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی۔ تو معلوم ہوا ربع کس کے قائم مقام ہے؟ کل کے قائم مقام ہے، جیسے سر کے مسح میں بھی ربع کل کے قائم مقام، اسی طرح احرام میں سر منڈوانے میں بھی چوتھائی سر کا منڈوانا کل سر کے قائم مقام ہے۔
وَمَنْ رَأَى وَجْهَ غَيْرِهِ يُخْبِرُ عَنْ رُؤْيَتِهِ، اسی طرح جب کوئی شخص دیکھ لیتا ہے دوسرے کے چہرے کو يُخْبِرُ عَنْ رُؤْيَتِهِ تو وہ اس کے دیکھنے کی خبر دیتا ہے۔ بھئی ایک آدمی ہے اس نے دور سے دوسرے آدمی کو دیکھا، دور سے دیکھا اور چہرے کو دیکھا، تو یعنی ایک جانب کو دیکھ لیا، مراد کیا ہے؟ ایک جانب، تو بھی وہ آ کر آپ کو بتلائے گا: آج میں نے زید کو دیکھا۔ حالانکہ زید کا کہ صرف ایک جانب اس نے دیکھی ہے اور ایک جانب یہ چوتھائی ہے کیونکہ چار جانبیں ہیں، تو یہ ایک جانب کیا ہے؟ چوتھائی، تو دیکھو ایک چوتھائی کو دیکھنے سے ہی وہ کل کو تعبیر کر رہا ہے، میں نے کل کو گویا زید پورے کو دیکھ لیا بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: وَمَنْ رَأَى وَجْهَ غَيْرِهِ اور جو شخص دیکھتا ہے دوسرے کے چہرے کو يُخْبِرُ عَنْ رُؤْيَتِهِ وہ اس کے دیکھنے کی خبر دیتا ہے وَإِنْ لَمْ يَرَ إِلَّا أَحَدَ جَوَانِبِهِ الْأَرْبَعَةِ اگرچہ اس نے نہیں دیکھا مگر اس کی چار جانبوں میں سے ایک، یعنی اگرچہ اس نے صرف ایک جانب کو دیکھا ہے چار جانبوں میں سے۔
وَالشَّعْرُ وَالْبَطْنُ وَالْفَخِذُ كَذٰلِكَ، شعر بال بھئی، بطن پیٹ، فخذ ران بھئی۔ اور بال اور پیٹ اور ران وہ كَذٰلِكَ وہ بھی اسی طرح ہیں بھئی، یعنی عَلَى هٰذَا الِاخْتِلَافِ یعنی اسی اختلاف پر ہیں۔ بال، پیٹ اور ران وہ بھی اسی اختلاف پر ہیں، یعنی طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک اگر چوتھائی حصہ ان کا کھلا ہوا تو نماز نہیں ہوگی، چوتھائی سے کم ہوا تو نماز ہو جائے گی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر نصف سے کم ہوا تو نماز ہو جائے گی اور نصف سے زیادہ ہوا تو نماز نہیں ہوگی۔
لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ عُضْوٌ عَلَى حِدَةٍ، اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک علیحدہ عضو ہے بھئی، تو وہی جو پنڈلی کا جیسے حکم تھا وہی یہاں بھی لگے گا۔
وَالْمُرَادُ بِهِ النَّازِلُ مِنَ الرَّأْسِ هُوَ الصَّحِيْحُ، بھئی متن میں شعر بالوں کا ذکر آیا، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ مراد ان بالوں سے وہ بال ہیں النَّازِلُ مِنَ الرَّأْسِ وہ جو لٹکے ہوئے ہیں سر سے۔ عورت کے وہ بال مراد ہیں جو کس سے لٹکے ہوئے ہیں؟ سر سے جو لٹکے ہوئے بال ہیں وہ مراد ہیں، وہ حصہ بالوں کا مراد نہیں جو جلد کے ساتھ لگا ہوا ہے یعنی کہ جڑوں والا حصہ مراد نہیں، بلکہ وہ حصہ جو بال نیچے لٹکے ہوئے ہیں وہ مراد ہیں، هُوَ الصَّحِيْحُ یہی قول صحیح ہے۔ جیسے میں نے ابھی آپ کو بتلا دیا کہ یہ بھی کس میں داخل ہیں عورت کے بال؟ ستر میں داخل ہیں، تو نماز میں اگر باریک دوپٹہ اوڑھا اور اس میں سے بال نظر آ رہے ہیں تو نماز ہی نہیں ہوگی کیونکہ یہ ستر میں داخل ہے اور ان کا ڈھانپنا تو فرض تھا نماز میں۔
وَإِنَّمَا وُضِعَ غَسْلُهُ فِي الْجَنَابَةِ لِمَكَانِ الْحَرَجِ، لِمَكَانِ الْحَرَجِ، أَيْ لِوُجُوْدِ الْحَرَجِ، پہلے بھی یہ بیان ہو چکا مکان کا لفظ یہ کس معنیٰ میں ہے؟ وجود کے معنیٰ میں، یہ مصدر ہے مکان بھئی مصدر۔ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، ایک سوال کا بھئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے بالوں آپ نے کہا بال بھی گویا ایک عضو ہیں، بال بھی کیا ہیں؟ عضو۔ جب بال عضو ہیں تو غسلِ جنابت کے اندر تمام اعضاء کو پانی پہنچانا فرض ہے، تمام ظاہری اعضاء کو پانی پہنچانا فرض ہے، اور آپ نے ہمیں مسئلہ بتلایا تھا کہ عورت نے اگر مینڈھیاں بنائی ہوئی ہوں یعنی وہ بالوں کی بال ہاں چوٹیا وغیرہ اس لیکن وہ میں نے اس وقت تفصیل بیان کی تھی کہ عام چوٹیا وغیرہ مراد نہیں، وہ تو ایک آدھ ہے اس کے کھولنے میں کوئی حرج نہیں، مراد کون سی ہیں؟ وہ جو مینڈھیا جو باریک باریک عورتیں بنا لیتی ہیں ان کا تو واقعی بنانا بھی مشکل کام پھر ان کو کھولنا بھی مشکل کام، تو وہاں پر اگر اس طرح کے بال عورت نے بنائے ہیں تو اب بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا کافی ہے، بالوں سارے بالوں تک پانی پہنچانا ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو وہاں پر تو آپ نے ہمیں بتلایا تھا کہ ان بالوں تک پانی نہ پہنچے جو اس نے مینڈھیاں بنائی ہوئی ہیں پھر بھی غسل ہو جائے گا، صرف بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچا دے۔ سوال سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو اگر یہ بال بھی عضو میں سے ہیں جیسے آپ نے یہاں بتایا تو پھر تو ان تک بھی پانی پہنچانا فرض ہونا چاہیے تھا، تو صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دیں گے کہ بھئی ہاں ان کا بھی دھونا فرض ہے ویسے، لیکن وہاں پر اس کے دھونے کو ساقط کر دیا گیا، دھونے کا حکم ان سے ساقط کر دیا گیا کس وجہ سے؟ حرج کو دور کرنے کے لیے، تنگی کو دور کرنے کے لیے ورنہ تو عورت تنگی اور تکلیف میں مبتلا ہو جائے گی اگر اس کے دھونے کا بھی حکم دیا جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور مسئلہ میں نے بتایا تھا بال ویسے کھلے ہوئے ہوں تو پھر سارے بالوں تک پانی پہنچانا فرض ہے۔
کہتے ہیں: وَإِنَّمَا وُضِعَ غَسْلُهُ فِي الْجَنَابَةِ لِمَكَانِ الْحَرَجِ، اور یہ جو بال ہیں ان کا دھونا ساقط کیا گیا فِي الْجَنَابَةِ جنابت کے مسئلے میں لِمَكَانِ الْحَرَجِ کس وجہ سے؟ حرج کے پائے جانے کی وجہ یعنی لِوُجُوْدِ الْحَرَجِ حرج کے پائے جانے کی وجہ سے۔
وَالْعَوْرَةُ الْغَلِيْظَةُ عَلَى هٰذَا الِاخْتِلَافِ، اور عورتِ غلیظہ بھی اسی اختلاف پر ہے۔ بھئی ایک تو عام ستر ہے وہ ہے عورت ستر، بھئی عورت کے بال کس میں داخل؟ ستر میں داخل، مرد کے گھٹنے بھی کس میں داخل؟ ستر میں اس کے داخل ہیں، لیکن ایک ہے عورتِ غلیظہ، عورتِ غلیظہ سے مراد ہے شرمگاہ، کیا مراد ہے؟ شرمگاہ۔ اب آگے بتلا رہے ہیں: وَالْعَوْرَةُ الْغَلِيْظَةُ عَلَى هٰذَا الِاخْتِلَافِ، اور عورتِ غلیظہ یعنی شرمگاہ بھی اسی اختلاف پر ہے، یعنی اس میں بھی یہی اختلاف ہے۔ یعنی عورتِ غلیظہ یعنی شرمگاہ، شرمگاہ کے بھی میں جس عضو کا چوتھائی چوتھائی حصہ ظاہر تھا نماز کے اندر تو صاحبین طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک اس کی نماز نہیں ہوئی، چوتھائی سے کم ہو تو نماز ہو جائے گی، چوتھائی ہو تو نہیں ہو۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر نصف سے کم ہو تو نماز ہو جائے گی، نصف سے زائد ہو تو نماز کا کیا کرنا پڑے گا؟ اعادہ۔ یہ معنیٰ ہے: وَالْعَوْرَةُ الْغَلِيْظَةُ عَلَى هٰذَا الِاخْتِلَافِ، اور عورتِ غلیظہ یعنی شرمگاہ بھی اسی اختلاف پر ہے۔
وَالذَّكَرُ يُعْتَبَرُ بِانْفِرَادِهِ وَكَذَا الْأُنْثَيَانِ، اور ذکر جو ہے يُعْتَبَرُ بِانْفِرَادِهِ اس کا اعتبار کیا جائے گا اکیلے ہی، ذکر جو ہے اس کا اکیلے ہی اعتبار کیا جائے گا، وَكَذَا الْأُنْثَيَانِ اور اسی طرح انثیان یعنی خصیین جو ہیں ان کا اکیلے اعتبار کیا جائے گا۔ یعنی ذکر میں اگر چوتھائی حصہ کھلا ہوا تو پھر نماز نہیں، اس سے کم ہو تو نماز ہو جائے گی۔ اسی طرح خصیین کا الگ اعتبار کیا جائے گا۔ وَهٰذَا هُوَ الصَّحِيْحُ اور یہی قول صحیح ہے، دُوْنَ الضَّمِّ نہ کہ ملا کر، یعنی ان کو ملا کر ایک عضو نہیں شمار کریں گے بلکہ دونوں کو الگ الگ عضو شمار کریں گے۔
وَمَا كَانَ عَوْرَةً مِنَ الرَّجُلِ فَهُوَ عَوْرَةٌ مِنَ الْأَمَةِ، اور وہ حصہ جو عورت ہے یعنی ستر ہے مِنَ الرَّجُلِ کس میں سے؟ مرد میں سے، فَهُوَ عَوْرَةٌ مِنَ الْأَمَةِ تو وہی ستر ہے باندی میں سے بھی، کس میں سے؟ باندی میں سے بھی وہی ستر ہے۔ نیز وَبَطْنُهَا وَظَهْرُهَا عَوْرَةٌ، باندی کا پیٹ اور اس کی پشت جو ہے کمر، عَوْرَةٌ وہ بھی کیا ہے؟ عورت۔
تو یاد رکھیے باندی کا حکم عام عورت کی طرح نہیں۔ اس لیے کیونکہ باندی کس لیے رکھی جاتی ہے؟ خدمت کے لیے رکھی جاتی ہے۔ اگر عام عورت کی طرح اس پر کے لیے بھی پردے کے وہی احکام آ جائیں کہ اس کو پردہ وغیرہ کرنا پڑے گا تو اس کے تو رکھنے کا مقصد ہی فوت ہو گیا۔ مقصد کیا تھا؟ بھئی غلام ہے وہ تو گھر کے اندر کے کام کاج نہیں کر سکتا کیونکہ خواتین تو پردہ کریں گی، تو ہاں باندی ہے وہ گھر کے اندر بھی آ جا سکتی ہے اور باہر کے کام بھی کے لیے بھی اس کو بھیجتے ہیں، تو لہٰذا اس کا حکم عام عورت سے مختلف ہے مختلف ہے۔ تو اب باندی اس کا کون سے بدن کا حصہ ستر ہے؟ بتلایا: ایک تو وہ حصہ جو مرد کے لیے ہے یعنی ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک یہ بھی، اور نیز اس باندی کا پیٹ بھی، اسی میں پیٹ بھی آیا چھاتی بھی آ گئی، اور نیز اس کی کمر بھی ساری، یہ سارا کے کس میں داخل ہے؟ ستر میں داخل ہے، ستر میں۔ معلوم ہوا اس کے بازو ستر میں داخل نہیں، گھٹنوں سے نیچے جو پنڈلیاں ہیں وہ ستر میں داخل نہیں ہیں بھئی، ستر میں داخل نہیں۔
تو کہتے ہیں: وَبَطْنُهَا وَظَهْرُهَا عَوْرَةٌ، اور باندی کا پیٹ اور اس کی کمر جو ہے وہ بھی عورت ہے، وَمَا سِوَى ذٰلِكَ مِنْ بَدَنِهَا لَيْسَ بِعَوْرَةٍ، اور اس کے علاوہ جو اس کے بدن میں سے ہے وہ عورت نہیں یعنی ستر نہیں ہے۔
دلیل کیا؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ: ”أَلْقِيْ عَنْكِ الْخِمَارَ يَا دَفَارِ، أَتَتَشَبَّهِيْنَ بِالْحَرَائِرِ؟“، بھئی دیکھیے آپ جانتے ہیں ابتداء میں پردے کا حکم نہیں تھا، پردے کا حکم پردہ نہیں تھا کیونکہ اسلام کے احکامات تدریجاً نازل ہوئے حضور علیہ السلام کی تئیس سالہ دورِ نبوت کے اندر بھئی۔ تو ابتداء میں پردے کا حکم نہیں تھا، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار بار حضور علیہ السلام سے آ کر یہ درخواست کرتے تھے کہ پردے کا حکم دیجیے، پردے کا حکم عورتوں کو۔ اور پھر جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے تھی اسی طرح اللہ نے حکم نازل فرما دیا پردے کا۔ تو پردے کا حکم نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ﴾، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے اپنی ازواج سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے: ﴿يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ﴾ کہ وہ جھکا لیا کریں اپنے اوپر اپنی جو بڑی چادر جو ہے اس کو اپنے اوپر جھکا لیا کریں، ﴿ذٰلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ﴾ یہ بات اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں گی ﴿فَلَا يُؤْذَيْنَ﴾ تو وہ تکلیف نہیں دی جائیں گی، ان کو تکلیف نہیں دی جائے گی۔ بعض منافقین وغیرہ یہ عورتوں کو تنگ کرتے تو پھر یہ حکم نازل ہوا کہ اس طرح وہ اپنی چادر جھکا لیا کریں یعنی اپنے آپ کو چھپا لیا کریں اس میں، اس سے وہ پہچانی جائیں گی کہ یہ آزاد عورت ہے، کیا ہے؟ آزاد عورت ہے، تو وہ پھر اس کو تکلیف نہیں دیں گے۔ منافقین تنگ کرتے کوئی اور پھر کہتے: اوہو، ہم تو سمجھے باندی ہے، ہم تو کیا سمجھے تھے؟ باندی۔ تو پردے کا حکم اللہ نے نازل فرمایا کہ وہ عورتیں اپنے اوپر اپنی چادر کو جھکا لیا کریں، اپنے آپ کو اس میں چھپا لیا کریں، اس سے وہ پہچانی جائیں گی۔ پہچانی جائیں گی کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ اب چہرہ کھلا ہوگا اس سے پہچانی جائیں گی، بلکہ کیا پہچانی جائیں گی؟ کہ یہ آزاد عورت ہے، باندی نہیں ہے بھئی، یہ پہچانی جائیں گی، اس سے یہ پتہ چل جائے گا جب انہوں نے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھا ہوگا پورے طور پر، تو پھر ان کو تکلیف نہیں دی جائے گی۔ اب منافقین وغیرہ یہ بہانہ بھی نہیں بنا سکیں گے کہ ہم تو سمجھے تھے کہ یہ باندی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ حکم نازل ہوا پردے کا بھئی۔ پھر ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت کے اندر آپ نے ایک باندی کو دیکھا کہ اس نے اپنے آپ کو ڈھانپا ہوا ہے اور جا رہی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا تو آپ کا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تو جلال مشہور تھا بھئی، تو غصے سے اس پہ فرمانے لگے: ”أَلْقِيْ عَنْكِ الْخِمَارَ“، اپنے سے دوپٹہ ہٹا دو، گرا دو، ”يَا دَفَارِ“، دَفَارِ بھئی یاد رکھیے یہ مبني علی الکسر ہے بھئی، مبني علی الکسر۔ تو یا دفا یہ جو پیش را پر لگی ہوئی ہے نا یہ کتابت کی غلطی ہے، ”يَا دَفَارِ“۔ اور انہوں نے بین السطور بکسر الدال لکھا ہے، یرحمک۔ تو بین السطور انہوں نے بکسر الدال لکھا ہے، لیکن لغت وغیرہ میں یہ دال کے فتحہ کے ساتھ ہے بھئی۔ تو ”يَا دَفَارِ“ یہ مبنی ہے مبنی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور آپ جانتے ہیں مبنی جو ہے اس پر اعراب وغیرہ نہیں، تو یہ اسی طرح پڑھنا ہے: ”يَا دَفَارِ“، تو اس کو مبني علی الضم نہیں بنانا۔ ”يَا دَفَارِ“، اے بدبو یہ باندی کو کہا جاتا ہے ناگواری کے طور پر، ایک ناگواری کے طور پر ایک کلمہ جب عام استعمال ہوتا ہے کلامِ عرب کے اندر، تو کہا: ”أَلْقِيْ عَنْكِ الْخِمَارَ يَا دَفَارِ“، اپنے سے دوپٹہ اپنے سے اوڑھنی ہٹا دو یا دفار، اے بدبو والی۔ دفر بدبو کو کہتے ہیں، تو یہ ناگواری کا ایک کلمہ ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”يَا دَفَارِ“ اے بدبو والی! ”أَتَتَشَبَّهِيْنَ بِالْحَرَائِرِ؟“، کیا تو آزاد عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتی ہے؟ یعنی ”أَتَتَشَبَّهِيْنَ بِالْحَرَائِرِ“، کیا تو آزاد عورتوں جیسی بن رہی ہے؟ ان جیسی بننا چاہتی ہے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایا اس سے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا باندی جو ہے اس کا حکم آزاد عورت کی طرح نہیں ہے بھئی۔
وَلِأَنَّهَا تَخْرُجُ لِحَاجَةِ مَوْلَاهَا فِيْ ثِيَابِ مِهْنَتِهَا، اور اس لیے کیونکہ یہ باندی نکلے گی لِحَاجَةِ مَوْلَاهَا اپنے آقا کی ضرورت کے لیے فِيْ ثِيَابِ مِهْنَتِهَا، مہنت کہتے ہیں کام کاج کو، اپنے کام کاج کے کپڑوں میں عادۃً عام طور پر۔ یہ باندی کیا ہے؟ آقا کی ضرورت آقا کے کاموں کے لیے گھر سے اپنے عموماً نکلے گی کام کاج کے کپڑوں میں، فَاعْتُبِرَ حَالُهَا بِذَوَاتِ الْمَحَارِمِ فِيْ حَقِّ جَمِيْعِ الرِّجَالِ دَفْعًا لِلْحَرَجِ، لہٰذا اعتبار کیا گیا اس باندی کی حالت کا بذوات، قیاس کیا گیا اس باندی کی حالت کو قیاس کیا گیا بِذَوَاتِ الْمَحَارِمِ کس کے ساتھ؟ ذواتِ محارم جو ہیں جو محرم عورتیں ہیں ان کی حالت پر قیاس کیا گیا فِيْ حَقِّ جَمِيْعِ الرِّجَالِ تمام مردوں کے حق میں دَفْعًا لِلْحَرَجِ حرج کو دور کرنے کے لیے۔
بھئی باندی ہے، اس نے گھر کے اندر کے بھی کام کرنے ہیں اور گھر کے باہر بھی اس کو بھیجنا پڑے گا کبھی ایک کام کے لیے، کبھی دوسرے کام کے لیے، تو اب اسے بار بار آنا جانا پڑے گا۔ اور اس نے کام کاج کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں جیسے گھر کے اندر پہنے ہیں کام کاج کے لیے، انہی کپڑوں میں باہر جانا پڑے گا، کیونکہ بار بار تو کپڑے بدلنا پھر تو بھیجنا ہی اس کا بند کرنا پڑے گا اگر وہ بار بار کپڑے تبدیل کرے باہر جانے کے لیے، پردے والے کپڑے پہنے، تو پھر اور مقصد ہی ختم ہو جائے گا، پھر خدمت کیسے ہوگی لی جائے گی اس سے بھئی؟ تو لہٰذا باندی کو قیاس کیا گیا محرم عورتوں پر تمام مردوں کے حق میں۔ یعنی جیسے محرم عورتوں کا حکم ہے اسی طرح باندی کا بھی حکم ہے تمام مردوں کے حق میں۔ یعنی سترِ عورت کے سلسلے میں کیا حکم ہے؟ جیسے محرم، بھئی جیسے گھر کے اندر جو محرم ہوتی ہے، ماں ہے، بہن ہے، بیٹی وغیرہ، تو جو جیسے ان کے لیے ان کا حکم ہے محرم کے ساتھ محرم کے ساتھ، تو وہی حکم ہوگا باندی کا تمام مردوں کے حق میں۔ یعنی جیسے یہ محرم کو کے لیے بدن کا جو حصہ ظاہر کرنا جائز ہے عورتوں کو اپنے جسم کا جو حصہ ظاہر کرنا جائز ہے محرم کے سامنے، اسی طرح باندی کے لیے بھی وہ حصہ عام مردوں کے لیے ظاہر کرنا جائز ہے بھئی، وہ اس کے لیے اس میں وہ ستر میں داخل ہی نہیں وہاں پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: فَاعْتُبِرَ حَالُهَا بِذَوَاتِ الْمَحَارِمِ، تو قیاس کیا گیا اس باندی کی حالت کو محرم عورتوں پر فِيْ حَقِّ جَمِيْعِ الرِّجَالِ تمام مردوں کے حق میں، دَفْعًا لِلْحَرَجِ کس لیے؟ حرج کو دور کرنے کے لیے ورنہ تو حرج اور تنگی اور مشکل پیش آئے گی بھئی۔
چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔
جی؟ جی جی، نماز بھی۔ جو مرد کے لیے ستر ضروری مرد کے لیے اس کا ڈھانپنا ضروری، جو آزاد عورت کے لیے ستر ہے اس کے لیے نماز میں وہ ستر ڈھانپنا فرض، اور جو باندی کے لیے ستر ہے وہ جو باندی کے لیے ستر ہے اس کے لیے بدن کا وہ حصہ نماز میں چھپانا فرض ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ حصہ چھپانا فرض ہے اور باقی جو محرم عورتیں ہیں ان کے لیے ان کا پتہ چلا کہ ان کے بازو جو ہیں، بازو وہ گھر کے افراد کے لیے ستر نہیں، ان کے بازو گھر محرموں کے لیے ستر نہیں۔ اسی طرح سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن وہ گھر کے محرم مردوں کے لیے ستر نہیں ہے، ورنہ نماز کے لیے تو بتا دیا آزاد عورت کا سارا بدن کیا ہے؟ ستر ہے، اس کو گھر میں بھی یہ سارے کچھ چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ اور قدموں کے علاوہ باقی سارا بدن اس کا چھپا ہونا چاہیے نماز کے اندر، ورنہ نماز نہیں ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟