وَهٰذَا إِذَا قَاءَ مِرَّةً أَوْ طَعَامًا أَوْ مَاءً، فَإِنْ قَاءَ بَلْغَمًا فَغَيْرُ نَاقِضٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى: نَاقِضٌ إِذَا قَاءَ مِلْءَ الْفَمِ، وَالْخِلَافُ فِي الْمُرْتَقِي مِنَ الْجَوْفِ، أَمَّا النَّازِلُ مِنَ الرَّأْسِ فَغَيْرُ نَاقِضٍ بِالِاتِّفَاقِ۔
گزشتہ سبق میں ہماری عقلی دلیل ذکر ہوئی تھی کہ خون، پیپ اور قے جو مِلْءُ الْفَمِ ہو، یہ جب نکلیں یہ نجاستیں بدن سے تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔ وضو ٹوٹ جائے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”خَارِجٌ مِنْ غَيْرِ السَّبِيلَيْنِ“ نجاست جو ہے وہ ناقض للوضوء نہیں، اور کہتے ہیں اس لیے کیونکہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے صرف اس جگہ کو دھونا چاہیے جہاں سے نجاست خارج ہوئی ہے۔ لیکن یہ جو شریعت نے وضو کرنے کا حکم دیا یہ عقل میں آنے والا نہیں تو یہ خلاف العقل ہوا، اور جو حکم خلاف العقل ہوتا ہے وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے، اور یہ حکم وضو کا یہ کس سلسلے میں وارد ہوا تھا؟ مخرج معتاد یعنی سبیلین سے جب نجاست نکلے اس وقت اس بارے میں ہے، تو یہ اپنے مورد پر بند رہے گا اور صرف اسی صورت میں وضو کا حکم دیا جائے گا جب نجاست کہاں سے نکلے؟ سبیلین سے نکلے، کیونکہ یہ حکم خود خلاف العقل ہے۔ اس پر باقی بدن سے کوئی نجاست نکلے تو اس کو اس سبیلین سے نکلنے والی نجاست پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
ہم نے جواب دیا کہ یہاں پر دو باتیں ہیں: ایک پہلی بات تو یہ کہ خروج نجاست سے طہارت زائل ہو جاتی ہے، یہ بات تو پہلی چیز کے اندر یعنی ”خَارِجٌ مِنَ السَّبِيلَيْنِ“ میں بھی ہمیں سمجھ میں آ رہی ہے بھئی یہ عقل کے مطابق ہے۔ تو سبیلین میں خروج نجاست ہوا اور اس کی وجہ سے کیا ہوا ہے؟ زوال طہارت ہوا ہے۔ تو پہلی بات عقل کے مطابق ہے، اور اور سبیلین میں خروج نجاست کی وجہ سے کیا ہوا؟ طہارت زائل۔ تو باقی بدن سے بھی اگر خون نکلے اور پیپ نکلے یا اسی طرح قے ہو تو خروج نجاست پایا گیا، تو لہٰذا یہاں پر بھی کیا حکم لگایا جائے گا؟ زوال طہر۔ تو زوال طہارت کا حکم یہ تو عقل کے مطابق ہے لہٰذا یہ حکم یہاں متعدی ہوگا اور لگے گا۔ اور سبیلین کے اندر زوال طہارت کے ساتھ ہی دوسرا حکم وضو کا آیا تھا، وہ اگرچہ عقل میں آنے والا نہیں لیکن جب زوال طہارت کا حکم متعدی ہوگا تو وضو کا حکم بھی خود بخود اس کے ساتھ یقینی طور پر متعدی۔ جب زوال طہارت ہو گیا، طہارت ختم ہو گئی ہے تو اب طہارت حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ وضو کیا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا یہ حکم بھی متعدی ہوگا۔
اس پر اشکال ہوا تھا کہ آپ نے یہ جو خون کے اندر قید لگائی کہ بہنے والا بھی ہو، کچھ مقدار ہو ایک دو قطرے وہ بہہ جائے، اور اسی طرح آپ نے جو قے کے اندر مِلْءُ الْفَمِ کی قید لگائی یہ قید کیوں بڑھائی آپ نے؟ سبیلین پر اگر قیاس کر رہے ہیں اس کو تو سبیلین کے اندر تو مطلقاً خروج نجاست ہوتے ہی کیا حکم لگایا جاتا ہے؟ زوال طہارت کا حکم لگایا جاتا ہے۔ تو لہٰذا باقی بدن کے اندر بھی خون بہے یا نہ بہے، ظاہر نکل آیا تو خروج تو پایا گیا، لہٰذا خروج کی صورت میں کیا ہونا چاہیے؟ وضو ٹوٹنے، لیکن آپ یہاں خروج کا صرف اعتبار نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ خون اور پیپ وہ بہنے والی ہو، کچھ مقدار ہو اس کی، اور قے کے اندر نکلنے سے ہی آپ وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگاتے بلکہ کہتے ہیں مِلْءُ الْفَمِ ہونی چاہیے، تو یہاں پر دو قیدیں آپ زیادہ لگاتے ہیں۔ اگر اس پر قیاس کر رہے ہیں تو اس کے مطابق ہونا چاہیے، وہاں خروج معتبر تو یہاں بھی کیا معتبر ہونا چاہیے؟ خروج ہی معتبر ہونا چاہیے، سیلان یا مِلْءُ الْفَمِ کی قید نہیں ہونی چاہیے۔
تو اس کا بھی جواب دیا تھا کہ بدن کی جلد کے ہر ہر حصے کے نیچے خون موجود ہے، ہر ہر حصے کے۔ اور اسی طرح بدن کے اندر پیشاب اور پاخانہ بھی موجود ہے لیکن جب تک وہ اپنے محل کے اندر ہے شرعاً معاف ہے۔ شرعاً کیا ہے؟ معاف ہے، اس کے نجس ہونے کا شریعت اعتبار نہیں کرتی، اور لہٰذا اسی لیے آپ وضو کر لیتے ہیں اب بدن کی کھال کے نیچے خون موجود ہے اسی طرح دوسری نجاستیں اپنے محل پر موجود ہیں لیکن وضو کے بعد شریعت اجازت دیتی ہے اب آپ کیا کر سکتے ہیں؟ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ معلوم ہوا نجاست جب تک اپنے محل کے اندر ہے وہ معاف ہے بھئی، شرعاً معاف ہے۔ اور سبیلین سے جب نجاست نکلتی ہے وہاں نجاست منتقل ہو گئی، اپنے محل کو اس نے چھوڑ دیا۔ تو یہاں پر بھی انتقال ضروری ہے بھئی۔ خون اور پیپ جب وہ خراش آئی اور کھال اتر گئی اوپر کی، خون اور پیپ ظاہر ہوئے لیکن وہ اپنی جگہ پر ہیں اور جب تک نجاست اپنی جگہ پر ہے اس کے اندر انتقال نہیں وہ منتقل نہیں ہوئی اپنی جگہ سے اس وقت تک شریعت کی طرف سے وہ معاف ہے بھئی۔ تو جب یہ کھال اتری، خون اور پیپ اپنی جگہ پر ظاہر ہوئے تو یہ اپنی جگہ پر ہیں بھئی، جگہ پر ہیں اور جب اپنی، جب تک اپنی جگہ پر ہیں اس وقت تک معاف ہیں۔ یہ باہر نکلیں گے تو انتقال پایا جائے گا، اپنی جگہ یہ چھوڑیں گے تو انتقال پایا جائے گا تو اس وقت وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے۔ تو اسی لیے ہم نے ایک دو قطرے کی قید لگائی تاکہ یہ انتقال پایا جائے، اپنی جگہ سے منتقل ہونا پایا جائے۔ منتقل ہونا پایا جائے۔ اور یہ خون جب جلد اتر گئی تو یہ خروج ہے ہی نہیں، صرف ظہور ہے ظہور۔ نجاست اپنی جگہ پر ظاہر ہوئی ہے، اپنی جگہ سے ابھی بھی منتقل نہیں ہوئی، خروج پایا ہی نہیں گیا صرف ظہور ہوا ہے، اور ظہور سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ کس سے ٹوٹتا ہے؟ خروج سے ٹوٹتا ہے۔
اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سبیلین کے اندر تو اگر پیشاب کا قطرہ ظاہر بھی ہو جائے تو وہاں پر آپ وضو ٹوٹنے کا حکم لگاتے ہیں پھر وہاں کیوں ظہور اور خروج میں فرق نہیں کرتے؟ وہاں کے، وہاں ظہور بھی ہو جائے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ خروج ہو گیا۔ تو ہم نے جواب دیا تھا کہ بھئی خروج کے اندر نجاست اپنی جگہ سے منتقل ہوگی تبھی کہا جائے گا نا نکل آئی نجاست، خارج ہو گئی، تبھی خروج پایا جائے گا۔ اور پیشاب کا قطرہ جب اپنی جگہ پر ظاہر ہوا تو یہی مقام پیشاب یہیں پر ہوتا ہے یا یہ پیچھے کہیں سے چلا اور یہاں تک پہنچا؟ کہیں سے چلا اور یہاں پہنچا، معلوم ہوا یہاں پر انتقال پایا گیا ہے، یہاں پر نجاست اپنی جگہ سے منتقل ہو گئی ہے، لہٰذا یہاں پر ظہور بھی کیا ہے دراصل؟ خروج ہی ہے، لیکن باقی بدن پر اگر خراش آئی ہے اور خون صرف ظاہر ہوا ہے تو یہ ظہور ہی ہے انتقال تو یہاں ہے ہی نہیں، نجاست اپنی جگہ سے منتقل نہیں، جب منتقل نہیں ہوئی تو خروج نہیں پایا گیا، جب خروج نہیں پایا گیا تو وضو بھی نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟
اس کے بعد ایک یہ مسئلہ بھی ذکر ہوا تھا: ایک شخص کو تھوڑی تھوڑی قے آئی، اگر اس قے کو جمع کیا جائے تو وہ مِلْءُ الْفَمِ بن جاتی ہے، تو کیا اس قے کو جمع کیا جائے گا اور اس کے ناقض للوضوء ہونے کا حکم لگایا جائے گا یا نہیں؟ تو بتلایا تھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں وہ اس صورت میں اتحاد مجلس کا اعتبار کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں اگر ایک ہی مجلس ہے اسی مجلس کے اندر اس کو تھوڑی قے آئی پھر بہت تھوڑی سی قے آئی پھر بہت معمولی سی قے آئی اور مجلس ایک ہی ہے تو ان کو جمع کیا جائے گا، اور اگر یہ ساری مقدار مِلْءُ الْفَمِ کے برابر بن جاتی ہے تو اس صورت میں وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں یہاں سبب کا اعتبار کیا جائے گا، سبب کیا ہے؟ متلی۔ اگر ایک ہی متلی سے یہ تھوڑی تھوڑی قے کئی مرتبہ کی ہے تو اس کو جمع کیا جائے گا، اور اگر تھوڑی سی قے کی پھر متلی ختم ہو گئی طبیعت ٹھیک ہو گئی پھر تھوڑی دیر بعد پھر متلی محسوس ہوئی تو یہ سبب دوسرا ہے لہٰذا اب ان کو جمع نہیں کیا جائے گا۔ تو ایک متلی ہوگی تو ان کو جمع کریں گے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، ایک ہی متلی نہیں تو ان کو جمع بھی نہیں۔
اس کے بعد فقہ کا ایک بڑا ہی قیمتی ضابطہ آپ کے سامنے آیا تھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مَا لَا يَكُونُ حَدَثًا لَا يَكُونُ نَجِسًا“ جو چیز حدث نہیں وہ نجس ناپاک بھی نہیں۔ میں نے بتلایا تھا ایک لفظ نَجَس ہے ایک نَجِس۔ نَجَس کا کیا معنیٰ؟ ناپاک ہونا، مصدر ہے۔ اور نَجِس جو ناپاک ہو جائے اس چیز کو کیا کہتے ہیں؟ نَجِس۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو چیز حدث نہیں وہ نجس یعنی ناپاک بھی نہیں، لہٰذا ایک آدمی ہے اس کو خراش آ گئی اب خراش پر تھوڑا سا خون نکل آیا، خون ظاہر ہوا ہے یعنی خراش لیکن بہا نہیں تو یہ ناقض للوضوء نہیں۔ جب ناقض للوضوء نہیں تو یہ نجس بھی نہیں بھئی، ناپاک بھی نہیں۔ لہٰذا اگر یہ کپڑوں کو لگ بھی جائے تو بھی کپڑے کیا ہیں؟ پاک ہیں بھئی پاک ہیں، اس میں نماز پڑھ لے تو نماز ٹھیک ہو گئی۔ ہاں بہتر یہ ہے کہ اس کو کیا کر لے؟ ہاں پانی میسر ہے موقع ہے تو دھو لینا چاہیے تاکہ اختلاف سے نکل جائے، کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نجس ہے، نجس ہے بھئی۔ لیکن فتویٰ اسی پر ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر کہ یہ نجس نہیں ہے۔ تو بہتر یہ ہے اس کو دھو لے تاکہ اختلاف سے ہی نکل جائے۔
اب آگے دیکھیے بھئی: ”وَهٰذَا إِذَا قَاءَ مِرَّةً أَوْ طَعَامًا أَوْ مَاءً“ اور یہ حکم جو ہم نے ذکر کیا کہ قے مِلْءُ الْفَمِ ہوگی تو ناقض للوضوء ہوگی، اگر مِلْءُ الْفَمِ نہیں تو ناقض للوضوء بھی نہیں۔ یہ حکم جو ہے یہ اس وقت ہے جب وہ قے کرے مِرَّةً، صَفْرَاء بھئی صَفْرَاء۔ مِرَّة اس کے لیے اردو میں لفظ ہے پِت بھئی پِت۔ اگر پِت کی قے کرے، مراد کیا ہے؟ کہتے ہیں یہ صَفْرَاء اور صَفْرَاء کو کہتے ہیں، اسی طرح سَوْدَاء بھی، زیادہ تر یہ صَفْرَاء کے لیے استعمال ہوتا ہے، صَفْرَاء کے۔ صَفْرَاء، سَوْدَاء وغیرہ یاد رکھیے یہ قدیم اطباء، حکماء اور قدیم اطباء قدیم طب والے جو ہیں یہ فرماتے ہیں کہ بدن انسانی میں چار قسم کے اخلاط ہیں۔ چار اخلاط ہیں بھئی: الف، خ، لام الف اور طا بھئی: اخلاط۔ بدن انسانی میں چار اخلاط ہیں یعنی چار چیزیں ملی ہوئی ہیں، ایک کا نام ہے صَفْرَاء، ص کے ساتھ، ص، ف، ر، الف، ہمزہ: صَفْرَاء، ایک ہے سَوْدَاء، ایک ہے بَلْغَم اور ایک ہے خون۔ یہ چار چیزیں بدن کے اندر ملی ہوئی ہیں اور ان میں تناسب ہے، ایک خاص مقدار ہے ان کی آپس میں ایک دوسرے کی نسبت سے۔ اس تناسب کے اندر اگر کمی بیشی ہو جائے، ایک چیز کی مقدار بڑھ جائے یا دوسرے کی کم ہو جائے یا ان کے اندر اور کوئی تغیر و تبدل آئے ان اخلاط کے اندر بھئی یہ تبدیلی آئے کچھ خرابی آ جائے تو پھر انسان بیمار ہو جاتا ہے بھئی۔ تو اگر یہ اخلاط متناسب ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی خرابی وغیرہ نہیں تو انسان تندرست رہتا ہے اور ان میں جب تبدیلی آتی ہے تو انسان بیمار ہو جاتا ہے بھئی، بیمار ہو جاتا ہے۔ خون بھئی خون، چوتھی چیز خون ہے۔ صَفْرَاء، سَوْدَاء، بَلْغَم اور خون بھئی۔ صَفْرَاء بھئی نام سے ہی ظاہر ہے ص سے، یہ أَصْفَر سے ہے، أَصْفَر زرد کو کہتے ہیں عربی میں، تو صَفْرَاء یہ زرد رنگ کا کوئی مادہ ہے۔ سَوْدَاء یہ أَسْوَد کی مؤنث ہے یہ سیاہ رنگ کا مادہ ہے۔ خون سرخ رنگ کا ہے اور اسی طرح بَلْغَم بھئی۔ تو یہ چار چیزیں ہیں بھئی چار چیزیں۔
تو یہ جو پیچھے حکم بیان ہوا کہتے ہیں: ”إِذَا قَاءَ مِرَّةً“ جب اس شخص نے قے کی پِت کی یعنی صَفْرَاء کی اور یا سَوْدَاء اس کی قے کی، ”أَوْ طَعَامًا“ یا کس چیز کی قے آئی اسے؟ طعام کی بھئی۔ مِرَّةً میں نے بتلا دیا صَفْرَاء یا سَوْدَاء، یعنی قے کی ہے زرد رنگ کا پانی نکلا بھئی یا اس طرح، تو جب اس کو قے کی پِت کی اس نے کی ہو، ”أَوْ طَعَامًا“ یا کس چیز کی قے کرے؟ یا اس نے کھانے کی وہ قے کرے، ”أَوْ مَاءً“ یا کس چیز کی قے کرے؟ پانی کی۔ یہ تین چیزوں کی قے کرے تو پھر مِلْءُ الْفَمِ کا اعتبار ہے، مِلْءُ الْفَمِ مقدار ہوئی تو ناقض للوضوء ہے، مِلْءُ الْفَمِ سے کم ہوئی تو ناقض للوضوء نہیں۔
”فَإِنْ قَاءَ بَلْغَمًا“ اگر اس نے بلغم کی قے کی، ”فَغَيْرُ نَاقِضٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ“ تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ ناقض للوضوء نہیں۔ چاہے مِلْءُ الْفَمِ یا اس سے زیادہ مقدار ہی کیوں نہ ہو، تو صرف بلغم کی قے کی کسی نے تو وہ ناقض للوضوء نہیں طرفین کے نزدیک اور اسی پر فتویٰ ہے۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: نَاقِضٌ إِذَا قَاءَ مِلْءَ الْفَمِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بلغم کی قے بھی ناقض ہوگی جب کتنی قے کرے؟ منہ بھر ہو بھئی۔
”وَالْخِلَافُ فِي الْمُرْتَقِي مِنَ الْجَوْفِ“ آگے صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان فرما رہے ہیں، تفصیل بیان فرما رہے ہیں کہ یہ جو بلغم کے اندر اختلاف ہے کہ طرفین فرماتے ہیں بلغم کی قے کی تو اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا، کہتے ہیں بلغم دو قسم کی ہے: ایک وہ بلغم جو پیٹ سے آئے معدے سے آئے اور ایک وہ بلغم ہے جو سر سے اترے۔ تو یہ جو اختلاف ہے یہ پیٹ سے آنے والی یعنی معدے سے آنے والی بلغم کے بارے میں ہے۔ اگر قے کی ہے اور وہ بلغم کہاں سے آئی ہے؟ معدے سے آئی ہے تو طرفین فرماتے ہیں کہ یہ ناقض للوضوء نہیں جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر مِلْءُ الْفَمِ ہے تو یہ ناقض للوضوء۔ ”أَمَّا النَّازِلُ مِنَ الرَّأْسِ“ باقی جو سر سے اترنے والی بلغم ہے کہتے ہیں: ”فَغَيْرُ نَاقِضٍ بِالِاتِّفَاقِ“ اس میں بالاتفاق وضو نہیں ٹوٹے گا، ”لِأَنَّ الرَّأْسَ لَيْسَ بِمَوْضِعِ النَّجَاسَةِ“ کیونکہ سر جو ہے وہ نجاست کی جگہ نہیں ہے بھئی، معدہ تو نجاست کی جگہ ہے سر نجاست کی جگہ نہیں ہے بھئی۔
دراصل امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل آگے آئے گی وہ فرماتے ہیں کہ بلغم خود تو نجس نہیں لیکن یہ بلغم آئی ہے معدے سے اور معدہ ہے محلِ نجاست۔ بھئی آپ کو قے آتی ہے آپ دیکھتے نہیں کتنی نجس ہوتی ہے قے بھئی، تو معدہ کس چیز کا محل ہے؟ نجاست کا محل، اور یہ بلغم بھی آئی ہے معدے کی جانب سے تو یہ بھی ساتھ ملی ہوئی تھی اس نجاست کے اور ساتھ ملی ہونے کی وجہ سے اب کیا بن گئی یہ بھی؟ یہ بھی نجس ہو گئی۔ تو لہٰذا جب یہ مِلْءُ الْفَمِ ہوگی تو اس سے کیا ہو جائے گا؟ وضو ٹوٹ جائے گا، ٹوٹ جائے گا۔ جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ ٹھیک ہے جو معدے سے بلغم آئی اس کے وہ نجاست کے ساتھ ملی ہوئی تھی، نجاست اس کے ساتھ ملی ہوئی تھی لیکن بلغم ایسی چیز ہے کہ اس کے اندر کوئی چیز داخل نہیں ہوتی یہ لیس دار چپچپاہٹ والی چیز ہے تو اس کے ساتھ وہ نجاست اگر لگی بھی ہے وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوئی معمولی سی کوئی لگی ہے بہت معمولی سی مقدار لگی ہوگی اس کے ساتھ اور معمولی مقدار نجاست کی قے میں نکلے تو اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹتا، تو لہٰذا یہاں اگرچہ بلغم خود مِلْءُ الْفَمِ یا اس سے بھی زیادہ ہے لیکن اس کے ساتھ جو نجاست لگی ہوئی ہے وہ کتنی ہے؟ وہ بڑی تھوڑی سی مقدار ہے اور تھوڑی نجاست کے نکلنے سے تو وضو نہیں ٹوٹتا لہٰذا اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟
اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَالْخِلَافُ فِي الْمُرْتَقِي“ اِرْتَقَى يَرْتَقِي کے معنیٰ ہوتے ہیں چڑھنا بھئی، ”وَالْخِلَافُ فِي الْمُرْتَقِي مِنَ الْجَوْفِ“ اور اختلاف جو ہے اس بلغم میں ہے جو مُرْتَقٍ مِنَ الْجَوْفِ ہے جو پیٹ سے چڑھنے والی ہے یعنی پیٹ سے اوپر آئی ہے پیٹ کی طرف سے آئی ہے۔ ”أَمَّا النَّازِلُ مِنَ الرَّأْسِ فَغَيْرُ نَاقِضٍ بِالِاتِّفَاقِ“ باقی وہ بلغم جو سر سے اتری ہے تو وہ بالاتفاق ناقض نہیں ہے، ”لِأَنَّ الرَّأْسَ لَيْسَ بِمَوْضِعِ النَّجَاسَةِ“ اس لیے کیونکہ سر جو ہے وہ نجاست کی جگہ نہیں ہے۔ بھئی یہاں پر لفظ آیا ”بِالِاتِّفَاقِ“، اس کو کیسے پڑھیں گے بھئی؟ بِالِاتِّفَاقِ۔ اکثر کیسے پڑھتے ہیں اس کو؟ بِالْاِتِّفَاقِ، ہمزہ اس کا پڑھتے ہیں حالانکہ اس کا ہمزہ وصلی ہے اور ہمزہ وصلی کو درج عبارت میں پڑھنا صحیح نہیں تو لام کے کسرہ، لام کے نیچے کسرہ دے کر اس کو تا سے ملائیں گے: لِتِّفَاقِ، اور با با کو جیسے ملا کر پڑھا جاتا ہے اسی طرح پڑھیں گے تو بِلِتِّفَاقِ بِالِاتِّفَاقِ۔ ”لِأَنَّ الرَّأْسَ لَيْسَ بِمَوْضِعِ النَّجَاسَةِ“ اس لیے کیونکہ سر جو ہے وہ نجاست کی جگہ نہیں ہے۔
”لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ نَجِسٌ بِالْمُجَاوَرَةِ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّهُ نَجِسٌ“ کہ یہ قے کیا ہے؟ نَجِس پڑھنا، نَجِس بھئی، نَجِس کا کیا معنیٰ؟ ناپاک۔ یہ جو بلغم ہے جو معدے سے آئی ہے ”نَجِسٌ“ یہ ناپاک ہے ”بِالْمُجَاوَرَةِ“، مجاورت کہتے ہیں پڑوسی ہونا یعنی ساتھ ملے ہوئے ہونا۔ یہ بلغم ناپاک ہے کس وجہ سے؟ ساتھ ملے ہونے کی وجہ سے، کس چیز کے ساتھ ملی ہوئی تھی یہ؟ نجاست کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ ”وَلَهُمَا أَنَّهُ لَزِجٌ“ طرفین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّهُ لَزِجٌ“، لَزِج کہتے ہیں لیس دار بھئی، لیس دار چپچپاہٹ والی چیز بھئی کہ وہ فرماتے ہیں ”أَنَّهُ لَزِجٌ“ کہ بلغم جو ہے یہ لزج ہے لیس دار چپچپاہٹ والی ہے، ”لَا تَتَخَلَّلُهُ النَّجَاسَةُ“ تخلل کا معنیٰ داخل ہونا، اس کے اندر نجاست داخل نہیں ہوتی، ”وَمَا يَتَّصِلُ بِهِ قَلِيلٌ“ اور جو اس کے ساتھ ملی بھی ہے وہ کیا ہے؟ وہ قلیل ہے، ”وَالْقَلِيلُ فِي الْقَيْءِ غَيْرُ نَاقِضٍ“ اور تھوڑی سی نجاست تو قے کے اندر یہ کیا ہے؟ غیر ناقض ہے بھئی، تھوڑی سی نجاست، اسی لیے تو ہم نے مِلْءُ الْفَمِ کی قید لگائی بھئی۔ مِلْءُ الْفَمِ سے جو کم ہے معلوم ہوا تھوڑی نجاست ہے، مِلْءُ الْفَمِ ہے تو وہ زیادہ نجاست۔
”وَلَوْ قَاءَ دَمًا“ یاد رکھیے بھئی یہ نشان آپ کی کتابوں میں نہیں ہوگا یہ متن ہے بھئی متن، اس پر لکیر کھینچ لیجیے: ”وَلَوْ قَاءَ دَمًا وَهُوَ عَلَقٌ يُعْتَبَرُ فِيهِ مِلْءُ الْفَمِ لِأَنَّهُ سَوْدَاءُ مُحْتَرِقَةٌ“ یہ سارا متن ہے بھئی، مُحْتَرِقَةٌ تک یہ سارا متن ہے بھئی۔ بھئی قے جو انسان کو آئے وہ پانچ قسم کی ہو سکتی ہے، چار کی تفصیل اوپر گزر گئی۔ مِرَّة کی اگر قے آئی یعنی پِت کی: صَفْرَاء اور سَوْدَاء، یا طعام کی ہوگی یا پانی کی یا بلغم، ان کی تفصیل گزر گئی۔ پانچویں قسم کی جو قے آ سکتی ہے وہ ہے خون بھئی خون، اب اس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ ”وَلَوْ قَاءَ دَمًا“ اور اگر قے کیا خون کو، ”وَهُوَ عَلَقٌ“ عَلَق کہتے ہیں جمے ہوئے کو، جما ہوا خون جو ہے: ”وَلَوْ قَاءَ دَمًا وَهُوَ عَلَقٌ“ اور قے کیا، قے کی خون کی، ”وَهُوَ عَلَقٌ“ اور وہ خون جما ہوا تھا، ”يُعْتَبَرُ فِيهِ مِلْءُ الْفَمِ“ تو اس میں اعتبار کیا جائے گا مِلْءُ الْفَمِ کا، ”لِأَنَّهُ سَوْدَاءُ مُحْتَرِقَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ سَوْدَاء ہے مُحْتَرِقَةٌ جلا ہوا۔ یہ کیا ہے؟ سَوْدَاء ہے جلا ہوا بھئی، جلا ہوا۔ تو اگر کسی کو قے آئی خون کی اور خون کس قسم کا تھا؟ جما ہوا تھا، تو اس صورت میں مِلْءُ الْفَمِ کا اعتبار کیا جائے گا، اگر مِلْءُ الْفَمِ مقدار ہوئی تو ناقض للوضوء ہے اگر مِلْءُ الْفَمِ مقدار نہ ہوئی تو ناقض للوضوء نہیں، اور یاد رکھیے یہ خون نہیں ہے دراصل، صورت تو خون جیسی ہے لیکن خون نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ سَوْدَاء ہے جلا ہوا سَوْدَاء ہے بھئی، میں نے جو چار اخلاط بتائے ان میں سے بھئی ایک۔
”وَإِنْ كَانَ مَائِعًا“ اور اگر یہ خون بہنے والا ہوا، مائع کہتے ہیں بہنے والی چیز کو مائع کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مَائِعًا“ اور اگر یہ خون بہنے والا تھا، ”فَكَذٰلِكَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى“ تو اسی طرح ہوگا حکم امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، یعنی اس میں مِلْءُ الْفَمِ ہی کا اعتبار کیا جائے گا اگر قلیل ہوا تو ناقض للوضوء نہیں، ”اعْتِبَارًا بِسَائِرِ أَنْوَاعِهِ“ قیاس کرتے ہوئے باقی انواع پر، باقی قسموں پر قیاس کرتے ہوئے ان میں مِلْءُ الْفَمِ کیا تھا ناقض للوضوء، تو لہٰذا اس خون کے اندر بھی مِلْءُ الْفَمِ ہوگا تو ناقض للوضوء ہے ورنہ ناقض للوضوء نہیں۔
آگے شیخین رحمہما اللہ کا قول آ رہا ہے: ”وَعِنْدَهُمَا إِنْ سَالَ بِقُوَّةِ نَفْسِهِ يَنْقُضُ الْوُضُوءَ“ صاحبین کے نزدیک: ”إِنْ سَالَ“ اگر یہ خون بہتا ہے ”بِقُوَّةِ نَفْسِهِ“ اپنی ذاتی قوت سے یعنی خود بہنے والا ہے، یہ خون کیا ہے؟ خود بہنے والا ہے، ”يَنْقُضُ الْوُضُوءَ“ تو یہ وضو کو توڑ دے گا۔ یہ اَلْوُضُوءَ پر زبر پڑھنا یہ مفعول ہے، وضو کو یہ خون کیا کرے گا یہ جو قے آئی ہے یہ؟ توڑ دے گی، تو یہ اَلْوُضُوءَ فاعل نہیں اگر یہ فاعل ہوتا تو پیچھے یَنْقُضُ نہ آتا اِنْتَقَضَ آتا، ”اِنْتَقَضَ الْوُضُوءُ“ تو وضو ٹوٹ جائے گا، لیکن یہاں کیا عبارت آئی؟ یَنْقُضُ، تو یہ متعدی ہے تو یہ اَلْوُضُوءَ منصوب مفعول ہے بھئی: ”يَنْقُضُ الْوُضُوءَ“ تو یہ وضو کو توڑ دے گا، ”وَإِنْ كَانَ قَلِيلًا“ اگرچہ تھوڑا سا ہو۔ بھئی شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ خون کی قے آئی اور وہ خون بہنے والا ہے خود بہہ رہا ہے تو اس صورت میں اگرچہ مِلْءُ الْفَمِ مقدار نہ ہو تھوڑی سی مقدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی یہ وضو کو توڑ دے گا۔ اس کی کیا وجہ مِلْءُ الْفَمِ کی قید یہاں کیوں نہیں معتبر؟ وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ خون وہ خون جما ہوا ہو وہ تو سوداء تھا لیکن یہ بہہ رہا ہے اور رنگ بھی سرخ ہے معلوم ہوا یہ خون ہی ہے۔ یہ کیا ہے؟ خون ہی ہے اور خون آیا کہاں سے؟ معدے سے آیا نا قے کہاں سے آتی ہے؟ معدے، تو یہ خون معدے سے آیا ہے اور معدہ تو خون کی جگہ نہیں، معدے میں نجاست وغیرہ تو ہوتی ہے لیکن خون تو نہیں ہوتا لیکن یہ آیا وہیں سے ہے معلوم ہوا کہ اندر کوئی زخم ہے کوئی پھوڑا وغیرہ ہے کوئی پھنسی ہے کوئی دانہ ہے یا کوئی رگ کٹی ہے اس سے یہ خون نکلا ہے اور جب اس سے نکلا ہے تو بدن سے خارج ہوا تو انتقال پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ نجاست نے اپنی جگہ چھوڑ دی ہے اور نجاست اپنی جگہ چھوڑ دے تو قلیل ہی کیوں نہ ہو اس سے کیا ہوتا ہے؟ وضو ٹوٹ جاتا ہے لہٰذا یہاں پر بھی انتقالِ نجاست کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَهُمَا إِنْ سَالَ بِقُوَّةِ نَفْسِهِ يَنْقُضُ الْوُضُوءَ“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اگر خون بہے اپنی ذاتی قوت سے ”يَنْقُضُ الْوُضُوءَ“ تو یہ وضو کو توڑ دے گا، ”وَإِنْ كَانَ قَلِيلًا“ اگرچہ تھوڑا سا ہو، ”لِأَنَّ الْمِعْدَةَ لَيْسَتْ بِمَحَلِّ الدَّمِ“ اس لیے کیونکہ معدہ جو ہے وہ خون کا مقام نہیں ہے، ”فَيَكُونُ مِنْ قُرْحَةٍ فِي الْجَوْفِ“ قُرْحَة اور قَرْحَة یہ دانہ کوئی بدن پر جو نکلا ہو پھوڑا، پھنسی وغیرہ اس کو کہتے ہیں بھئی، ”فَيَكُونُ مِنْ قُرْحَةٍ فِي الْجَوْفِ“ تو یہ جو ہے جوف پیٹ، پیٹ میں کسی پھوڑے یا پھنسی وغیرہ سے ہوگا۔
”وَلَوْ نَزَلَ مِنَ الرَّأْسِ إِلَى مَا لَانَ مِنَ الْأَنْفِ نَقَضَ الْوُضُوءَ بِالِاتِّفَاقِ“ اور اگر جو ہے یہ خون اترا مِنَ الرَّأْسِ سر سے إِلَى مَا اس حصے تک لَانَ جو نرم ہے، لَانَ يَلِينُ کے معنیٰ نرم نرم ہونا، مِنَ الْأَنْفِ ناک میں سے۔ بھئی اگر آپ ناک پر ہاتھ لگائیں اور دیکھیں اس کا نصف حصہ نرم ہے اور باقی حصہ سخت ہے ہڈی ہے بھئی، تو یہ جو نرم حصہ ہے یہاں تک غسل وغیرہ میں پانی پہنچانا فرض ہے بھئی فرض ہے۔ معلوم ہوا یہ وہ حصہ ہے جس کے شریعت نے پاک کرنے کا حکم دیا اور خون بہہ کر اس حصے تک پہنچ گیا تو خون بہہ کر اس حصے تک پہنچ گیا جس کے ساتھ پاک کرنے کا حکم ملا ہوا ہے تو اس صورت میں کیا حکم لگایا جائے گیا؟ وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: ”وَلَوْ نَزَلَ مِنَ الرَّأْسِ إِلَى مَا لَانَ مِنَ الْأَنْفِ“ اور اگر خون اترا سر سے اس حصے تک جو نرم ہے ناک میں سے ”نَقَضَ الْوُضُوءَ بِالِاتِّفَاقِ“ تو یہ وضو کو توڑ دے گا بالاتفاق بھئی، یعنی ہمارے سارے ائمہ کے نزدیک بھئی، ”لِوُصُولِهِ إِلَى مَوْضِعٍ يَلْحَقُهُ حُكْمُ التَّطْهِيرِ“ بوجہ پہنچنے اس کے ایسے مقام تک کہ ملا ہوا ہے اس کے ساتھ پاک کرنے کا حکم، ”فَيَتَحَقَّقُ الْخُرُوجُ“ تو خروج پایا گیا۔ خروج کیا ہے؟ جب ایسی جگہ تک پہنچ گیا تو وہ خروج پایا گیا اور خروجِ نجاست کی صورت میں تو وضو ٹوٹتا تھا تو یہاں پر بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔
”وَالنَّوْمُ مُضْطَجِعًا أَوْ مُتَّكِئًا أَوْ مُسْتَنِدًا إِلَى شَيْءٍ لَوْ أُزِيلَ لَسَقَطَ“ ان چیزوں کا بیان ہو رہا ہے جو ناقض للوضوء ہیں جو وضو کو توڑ دیتی ہیں، وضو کو توڑ دیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک نوم ہے نیند بھی بھئی، نیند۔ نیند بھی کیا ہے؟ ناقض للوضوء۔ ”وَالنَّوْمُ“ اور نیند، ”مُضْطَجِعًا“ پہلو پر لیٹے ہوئے، اضطجاع کہتے ہیں انسان کا ایک پہلو پر لیٹنا یعنی دائیں طرف یا بائیں طرف۔ تو پہلو پر لیٹ کر جو نیند ہے وہ ناقض للوضوء ہے، کوئی سو جائے پہلو پر تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور صرف پہلو پر لیٹنا یہ مُضْطَجِعًا یہ کوئی قیدِ احترازی نہیں ہے اس کا یہ معنیٰ نہیں کوئی گردن کے بل یعنی کمر کی کمر زمین پر رکھ کر سیدھا لیٹے یہ اس سے نکل گیا، نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ لیٹ کر جس حالت میں بھی انسان لیٹ کر سو جائے چاہے دائیں پہلو پر چاہے بائیں پہلو پر چاہے کمر زمین پر رکھ کر یا چاہے سینہ زمین پر رکھ کر جس حالت میں بھی سو جائے گا تو وضو ٹوٹ جائے گا بھئی، وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور اس کی وجہ آگے ذکر ہوگی: اصل میں ہمارے نزدیک نیند ناقض للوضوء نہیں۔ کیونکہ وضو تو ٹوٹتا ہے خروج نجاست سے، نیند تو خود خروج نجاست نہیں ہے بھئی۔ لیکن چونکہ نیند کے اندر عادتاً خروج نجاست ہوتا ہے بدن سے کوئی ہوا وغیرہ خارج ہوئی انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا کیونکہ وہ متنبه نہیں اس کو ہوش ہی نہیں ہے۔ تو لہٰذا چونکہ عادتاً اس حالت میں خروج نجاست ہوگا اس لیے اس کو یقین کی طرح ہی سمجھ لیا گیا۔ ایک چیز جس کا ہمیں پتہ ہی نہیں چل سکتا، بھئی نیند میں خروج نجاست ہوا ہے یا نہیں ہوا یہ ہمیں پتہ نہیں چل سکتا لیکن نیند میں عادتاً عموماً ہوتا کیا ہے؟ خروج نجاست اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ تو جب نیند میں پتہ نہیں چل سکتا تو نیند ہی کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا کہ نیند ہی سے کیا ہو جائے گا؟ وضو ٹوٹ جائے گا۔ لیکن وہ نیند ایسی ہو جس میں خروج نجاست کا احتمال ہو، جس میں خروج نجاست کا احتمال نہیں اس نیند سے بھی وضو نہیں ٹوٹے گا۔ چنانچہ آگے آپ کو بتائیں گے کوئی کھڑے کھڑے سو جائے نماز میں یا نماز کے بغیر یا رکوع کے اندر سو جائے یا سجدے کے اندر سو جائے تو اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی، وضو نہیں ٹوٹے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
جی دیکھیے بھئی: ”وَالنَّوْمُ مُضْطَجِعًا“ اور سونا مُضْطَجِعًا پہلو پر لیٹے ہوئے، ”أَوْ مُتَّكِئًا أَوْ مُسْتَنِدًا إِلَى شَيْءٍ لَوْ أُزِيلَ لَسَقَطَ“، ”وَالنَّوْمُ مُضْطَجِعًا أَوْ مُتَّكِئًا أَوْ مُسْتَنِدًا“ اور نیند پہلو پر لیٹے ہوئے اور ”أَوْ مُتَّكِئًا“ یا تکیہ لگائے ہوئے ”أَوْ مُسْتَنِدًا“ یا ٹیک لگائے ہوئے ”إِلَى شَيْءٍ“ کسی چیز کی طرف ”لَوْ أُزِيلَ“ کہ اگر ہٹا دیا جائے اس چیز کو ”لَسَقَطَ“ تو یہ شخص گر جائے، تو یہ نیند جس میں انسان زمین پر سیدھا لیٹا ہو پہلو پر ہو یا جیسے بھی لیٹا ہو یا کسی چیز کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے سو گیا سو گیا اس طور پر کہ اگر اس چیز کو ہٹا دیا جائے تو یہ آدمی گر جائے اتنی نیند آ گئی بھئی، تو اس صورت میں یاد رکھیے اس نیند سے وضو ٹوٹ جائے گا دوبارہ وضو کرنا پڑے گا نماز کے لیے۔ یہاں دو لفظ آئے بھئی: مُتَّكِئًا أَوْ مُسْتَنِدًا۔ مُتَّكِئًا، یاد رکھیے اتکاء اور استناد میں فرق بھئی، اتکاء اور استناد میں فرق۔ استناد کے اندر انسان جب کسی چیز سے ٹیک لگاتا ہے تو اپنی کمر اس کے ساتھ لگاتا ہے، اس کو کہتے ہیں استناد۔ اپنی کمر کسی چیز کے ساتھ لگا کر بیٹھنا یعنی ٹیک لگا کر بیٹھنا یہ کیا ہے؟ استناد ہے استناد۔ اور اتکاء جو ہے اس کے اندر انسان ایک کولہے پر جو بیٹھے، ایک کولہے پر۔ زمین پر بیٹھتے ہوئے بدن کا جو حصہ زمین پر انسان رکھتا ہے اگر ایک جانب صرف رکھے اور اس پر بیٹھا ہو ٹیک لگا کر یا ویسے جیسے بھی بیٹھا ہو تو اس صورت میں اگر وہ سو جائے، اس صورت میں سو جائے تو یہ سونا بھی کیا ہے؟ ناقض للوضوء ہے بھئی، ناقض للوضوء۔
تفصیل میں یہیں بیان کر دیتا ہوں آگے پوری تفصیل صاحبِ ہدایہ بھی بیان کریں گے۔ بھئی انسان جب تک جاگ رہا ہے اس کو اپنے بدن پر پوری گرفت ہے، آپ اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے جوڑ اعضاء وغیرہ آپ کی گرفت میں ہیں۔ اگر آپ کی گرفت میں نہ ہوتے تو آپ ایک طرف کو گر جاتے لیکن آپ نے اپنے بدن کو سیدھا رکھا ہوا ہے بیٹھے ہوئے ہیں یہ کس وجہ سے؟ کیونکہ آپ کے اپنے بدن پر گرفت ہے گرفت ہے بھئی۔ چنانچہ اسی لیے بے ہوش آدمی ہے اس کو آپ بٹھائیں گے وہ بیٹھے گا ہی نہیں وہ ہمیشہ ایک طرف کو گر جائے گا کیونکہ اس کو اپنے جوڑ وغیرہ اس کی گرفت میں ہی نہیں ہیں اس وقت وہ ہوش میں ہی نہیں ہے۔ تو بیدار انسان جو ہوتا ہے وہ اس کو اپنے بدن پر گرفت ہوتی ہے اسی طرح وہ اپنے بدن سے کوئی نجاست وغیرہ نہیں نکلنے دیتا اس پر بھی اس کو گرفت ہوتی ہے۔ لیکن جب سو جائے گا اس کے اپنے بدن پر جو یہ قابو تھا یہ قابو ختم ہو جائے گا اب اسے کوئی پتہ نہیں کہ بدن سے نجاست نکلی ہے یا نہیں۔ تو بیداری کی حالت میں تو قابو اور گرفت ہوتی ہے لیکن نیند کی حالت میں یہ بیدا... یہ گرفت باقی نہیں رہتی۔ تو جب نیند کی حالت میں یہ گرفت باقی نہیں رہتی تو اس صورت میں وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا وضو ٹوٹنے کا حکم۔ لیکن یہ اس وقت جب یہ گرفت پوری طرح ختم ہو جائے، اگر تھوڑی سی بھی گرفت باقی ہے تو اس صورت میں وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگائیں گے تھوڑی سی بھی۔ مثلاً ایک آدمی کھڑے کھڑے سو گیا، بدن پر ابھی بھی اس کے گرفت ہے، اگر گرفت... کیا گرفت ہے؟ کھڑا ہوا ہے یہ گرفت ہے، اگر بے ہوش آدمی کو آپ کھڑا کریں وہ کبھی کھڑا ہوگا؟ کیونکہ اس کو اپنے بدن پر ذرا بھی گرفت نہیں ہے لیکن یہ سویا ہوا ہے اور کھڑا ہے معلوم ہوا کچھ گرفت ہے اس کو اپنے بدن پر قابو ہے۔ کوئی سجدے کے اندر سو گیا تو بھی کیا ہے؟ بدن پر گرفت ہے ورنہ ایک طرف وہ گر جاتا۔ کوئی رکوع میں سو گیا تو بھی کیا ہے؟ اس کو اپنے بدن پر گرفت ہے ورنہ وہ ایک طرف کو گر جاتا بھئی۔
تو وہ نیند جس میں اپنے بدن سے پوری گرفت ختم ہو جائے وہ ناقض للوضوء ہے کیونکہ اس میں انسان کو اپنے بدن پر گرفت نہ رہی تو ہو سکتا ہے نجاست خارج ہو گئی ہو۔ لیکن وہ حالت جس میں اپنے بدن پر گرفت ہو اس میں نیند بھی ہو اس حالت میں تو وہ ناقض للوضوء نہیں بھئی ناقض للوضوء نہیں، کیونکہ جسم پر قابو ابھی بھی باقی ہے بھئی باقی ہے۔ اور نیز ایک اور چیز کہ وہ نیند اگر بیٹھے ہونے کی حالت میں ہو اور بیٹھے ہونے کی حالت میں ٹیک لگایا ہوا ٹیک لگائی ہوئی ہے کسی چیز سے انسان نے لیکن مقعد اس کی زمین پر ہے، جو حصہ زمین پر بیٹھتے ہوئے انسان رکھتا ہے وہ حصہ زمین پر اچھی طرح ٹکا ہوا ہے تو اس صورت میں بھی یاد رکھیے یہ معمولی سی ٹیک پوری ٹیک کے اندر یہ ہو ہی نہیں سکتا، تھوڑی سی ٹیک لگائی ہو اس میں ہو سکتا ہے کہ بدن کا یہ حصہ زمین پر اچھی طرح لگا ہوا ہو، تو جب اچھی طرح لگا ہوا ہے یہ حصہ مقعد زمین پر اور اس معمولی سی کوئی ٹیک بھی لگی ہوئی ہے اس میں اگر نیند آ جائے تو یہ ناقض للوضوء نہیں، ناقض للوضوء نہیں۔ لیکن اگر یہ حصہ زمین سے اٹھ گیا جیسے اتکاء کے اندر، اتکاء کے اندر ایک کولہے پر ایک جانب پر ٹیک لگا کر انسان بیٹھا ٹیک لگا کر تو اس صورت میں دیکھیے وہ حصہ زمین سے اٹھ گیا، جب زمین سے اٹھ گیا اور اس حالت میں نیند آگئی تو اب شاید احتمال ہے خروج نجاست کا، بدن پر اب پورا قابو نہیں ہے لہٰذا اس صورت میں کیا حکم لگایا جائے گا؟ وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے اب صاحبِ ہدایہ یہ سب بیان کریں گے بھئی۔ تو اتکاء اور استناد میں میں نے فرق بتلایا: اتکاء کون سا ٹیک لگانا یا بیٹھنا جس میں ایک کولہے پر ہو اور استناد کے اندر ٹیک کس کے ساتھ لگائی جائے گی؟ کمر، کمر کسی چیز کے ساتھ لگا دی اور ٹیک لگایا تو یہ استناد ہے۔
کہتے ہیں: ”وَالنَّوْمُ مُضْطَجِعًا أَوْ مُتَّكِئًا أَوْ مُسْتَنِدًا إِلَى شَيْءٍ لَوْ أُزِيلَ لَسَقَطَ“ اور نیند پہلو پر لیٹے ہوئے یا اتکاء کی حالت میں یا ٹیک لگائے ہوئے ”إِلَى شَيْءٍ“ کسی چیز کی طرف ”لَوْ أُزِيلَ“ کہ اگر اس چیز کو ہٹا دیا جائے ”لَسَقَطَ“ تو یہ سونے والا گر پڑے، ”لِأَنَّ الِاضْطِجَاعَ سَبَبٌ لِاسْتِرْخَاءِ الْمَفَاصِلِ“ اس لیے کیونکہ اضطجاع پہلو پر لیٹنا یہ سبب ہے ”لِاسْتِرْخَاءِ الْمَفَاصِلِ“، مفاصل جمع ہے مفصل کی مَفْصِل، مَفْصِل کہتے ہیں بدن کے جوڑ بند وغیرہ بھئی، استرخاء کا معنیٰ ڈھیلا ہو جانا، اس لیے کیونکہ پہلو پر لیٹنا ”سَبَبٌ لِاسْتِرْخَاءِ الْمَفَاصِلِ“ یہ جوڑوں کے ڈھیلا ہو جانے کا سبب ہے، پہلو پر لیٹنا یہ جوڑوں کے ڈھیلا ہونے کا سبب ہے، ”فَلَا يَعْرَى عَنْ خُرُوجِ شَيْءٍ عَادَةً“، عَرِيَ يَعْرَى کے معنیٰ خالی ہونا، ”فَلَا يَعْرَى“ تو یہ جو پہلو پر لیٹنا ہے یہ خالی نہیں ہوگا ”عَنْ خُرُوجِ شَيْءٍ“ کسی چیز کے نکلنے سے ”عَادَةً“، عادتاً یہ کسی چیز کے نکلنے سے خالی نہیں یعنی عادتاً اس حالت میں خروج نجاست ہوتا ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا بھئی، ”وَالثَّابِتُ عَادَةً كَالْمُتَيَقَّنِ بِهِ“ اور وہ چیز جو عادتاً ثابت ہو ”كَالْمُتَيَقَّنِ بِهِ“ وہ یقینی چیز کی طرح ہے، جو چیز... بھئی ہمیشہ تو نہیں نیند کی حالت میں خروج نجاست ہوگا لیکن عادتاً کیا ہے؟ عادتاً ایسا ہوتا ہے اور جو چیز عادتاً ثابت ہو وہ کس کی طرح ہے؟ یقینی چیز کی طرح ہے تو یہاں بھی یقینی کی طرح اس کو سمجھا جائے گا۔
”وَالِاتِّكَاءُ يُزِيلُ مُسْكَةَ الْيَقَظَةِ“ اور اتکاء، اس کا کیا معنیٰ کیا تھا میں نے؟ ایک سرین کے ایک جانب پر ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ تو یہی تفصیل بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھی کہ اتکاء جو ہے یعنی ایک جانب پر بیٹھنا ”يُزِيلُ“ یہ زائل کر دیتا ہے ”مُسْكَةَ الْيَقَظَةِ“، مُسْکَہ وہی قابو اور گرفت بھئی، یَقَظَہ بیداری، کیونکہ اتکاء جو ہے یہ بیداری کی گرفت کو ختم کر دیتا ہے، کیوں ختم کرتا ہے؟ ”لِزَوَالِ الْمَقْعَدِ عَنِ الْأَرْضِ“ اس لیے کیونکہ مقعد جو حصہ زمین پر رکھتا ہے انسان بیٹھتے ہوئے وہ ہٹ گئی ہے ”عَنِ الْأَرْضِ“ کہاں سے؟ زمین سے ہٹ گئی ہے، جب ایک طرف پر لیٹا ہوا ہے تو پورا حصہ تو نیچے نہیں لگا ہوا وہ زمین سے ہٹ گئی ہے۔ ”وَيَبْلُغُ الِاسْتِرْخَاءُ فِي النَّوْمِ غَايَتَهُ بِهٰذَا النَّوْعِ مِنَ الِاسْتِنَادِ“ اور پہنچ جاتا ہے استرخاء یعنی اعضاء کا ڈھیلا ہونا ”فِي النَّوْمِ“ نیند کے اندر ”غَايَتَهُ“ اپنی انتہا کو، اعضاء کا ڈھیلا ہونا نیند میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے ”بِهٰذَا النَّوْعِ مِنَ الِاسْتِنَادِ“ اس قسم کا ٹیک لگانے سے، اس قسم کا ٹیک اس قسم کی ٹیک لگانے سے جو اعضاء کا ڈھیلا ہونا ہے نیند کے اندر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے یعنی اعضاء وغیرہ کامل طور پر ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، جب کسی چیز سے ٹیک لگائے گا چاہے کمر لگائے چاہے ایک طرف پر ہو کر ایک کولہے پر ہو کر ٹیک لگائے تو اعضاء کیا ہوئے؟ ڈھیلے ہونے میں اپنی انتہا کو پہنچ گئے یعنی کامل طور پر ڈھیلے پڑ گئے۔ ”غَيْرَ أَنَّ السَّنَدَ يَمْنَعُهُ مِنَ السُّقُوطِ“ علاوہ اس کے کہ یہ جو ٹیک ہے یہ روکتی ہے اس کو گرنے سے، ٹیک کی وجہ سے وہ آدمی گر نہیں رہا، اس چیز نے اس کو تھام کے رکھا ہوا ہے، اگر یہ ٹیک والی چیز نہ ہوتی تو یہ نیچے گر جاتا، معلوم ہوا اعضاء وغیرہ سب بالکل ڈھیلے پڑ چکے ہیں لیکن گر کیوں نہیں رہا؟ کیونکہ اس چیز نے اس کو تھام رکھا ہے جس سے اس نے ٹیک لگائی ہوئی ہے۔
”بِخِلَافِ حَالَةِ الْقِيَامِ وَالْقُعُودِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا“ بخلاف کھڑے ہونے کے اور بیٹھنے کی قعود کی حالت جو ہے اور رکوع کی جو حالت ہے ”وَالسُّجُودِ“ اور سجدے کی جو حالت ہے ”فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا“ نماز میں ہو اور چاہے نماز کے علاوہ، ان حالتوں میں ان حالتوں میں استرخاء اپنی انتہا کو نہیں پہنچتا، اعضاء پورے طور پر ڈھیلے نہیں پڑے ورنہ وہ کھڑا نہ رہتا گر جاتا، بیٹھا نہ رہتا گر جاتا، رکوع میں نہ رہتا بلکہ گر، اسی طرح سجدے میں نہ رہتا بلکہ گر جاتا۔ تو ان میں استرخاء ان حالتوں میں اگر کوئی سو بھی جائے تو استرخاء کامل نہیں لہٰذا وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی وضو نہیں، کیونکہ کچھ گرفت بدن پر ابھی بھی باقی ہے جبھی تو وہ اس حالت میں ہے نیچے کو نہیں گرا۔ یاد رکھیے یہاں لفظ سُجُود آیا، سُجُود یہ نہ سمجھنا سجدے کی جمع ہے، عربی میں سجدے کو کہتے ہی سُجُود ہیں، عربی میں کیا کہتے ہیں؟ سُجُود۔ تو بخلاف حالت قیام کے اور قعود کے اور رکوع کے اور سجدے کے ”فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا“ نماز میں اور غیر نماز میں یعنی چاہے نماز میں اس حالت میں سو جائے کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے رکوع میں یا سجدے میں یا نماز کے علاوہ کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے یا سجدے یا رکوع میں سو جائے وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ استرخاء کامل نہیں۔ اور السُّجُود آیا یاد رکھیے یہ مردوں کے سجدے کا حکم ہے عورتوں کے سجدے کا یہ حکم نہیں۔ عورتوں کے نماز کی الگ حالت ہے بھئی، عورتیں مردوں کی طرح نماز نہیں پڑھتیں، ان کے لیے شریعت کے الگ احکام ہیں نماز کے سلسلے میں، وہ ایسی حالت اختیار کریں گی جس میں ستر زیادہ ہو، پردہ زیادہ ہو۔ لہٰذا وہ جو سجدہ کرتی ہیں عورتیں اس میں پورے بدن کو ہی گویا زمین کے ساتھ لگا دیتی ہیں تو اس میں وہ استرخاء کامل طور پر پایا جائے گا اگر سو جائیں بھئی، تو وہاں وضو ٹوٹ جائے گا۔ لیکن مرد اس نے تو اپنے بدن کو گھٹنوں پر رکھا ہوا ہے اور وہ استرخاء کامل ختم ہوگا تو یہ ایک طرف کو گر جائے گا، عورت میں اس طرح گرنے کی صورت نہیں، تو یہ مردوں کے سجدے کا حکم ہے۔ ہاں کوئی عورت اس طرح مردوں کی طرح سجدے میں ہو اس کی نیند کا پھر یہی حکم ہے جو اس مردوں کے سجدے کا حکم ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے، ”لِأَنَّ بَعْضَ الِاسْتِمْسَاكِ بَاقٍ“ اس لیے کیونکہ کچھ قابو کچھ گرفت ابھی بھی باقی ہے، ان حالتوں میں سو جائے تو کچھ قابو ابھی بھی باقی ہے۔ ”إِذْ لَوْ زَالَ“ اس لیے کیونکہ اگر یہ کچھ استمساک بھی زائل ہوتا یہ بھی ختم ہو جائے ”لَسَقَطَ“ تو یہ گر جاتا، اگر یہ بھی ختم ہو جاتا تو یہ گر۔ ”فَلَمْ يَتِمَّ الِاسْتِرْخَاءُ“ تو استرخاء یعنی اعضاء کا ڈھیلا پڑنا تام نہیں کامل نہیں۔ ان حالتوں میں جو نماز کی حالتوں میں سو گیا۔
اچھا آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ ہم نے کہا نیند کی حالت میں اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اس لیے وضو ٹوٹ جاتا ہے، نیند کی حالت میں کیا ہوتا ہے؟ اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اس لیے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ہم نے کوئی اپنی عقل سے نہیں کیا اگرچہ عقل بھی اس کی تائید کر رہی ہے لیکن یہ حکم ہم نے صرف قیاس کے ذریعے نہیں ثابت کیا بلکہ اس کا پتہ حدیث سے چلتا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ یہ جو نماز وغیرہ کی جو حالتیں ہیں ان کے اندر آدمی سو جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا اور باقی حالتوں کے اندر لیٹنے وغیرہ کی حالت میں سو جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، چنانچہ وہ حدیث ذکر کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ فِيهِ“ اور اصل جو ہے اس حکم کے اندر ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے آپ فرماتے ہیں: ”لَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ نَامَ قَائِمًا أَوْ قَاعِدًا أَوْ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، فَإِنَّهُ إِذَا نَامَ مُضْطَجِعًا اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ“ نہیں ہے وضو اس شخص پر جو کھڑے ہوئے سو جائے یا بیٹھے ہوئے یا رکوع کرتے ہوئے یا سجدہ کرتے ہوئے، وضو تو اسی شخص پر ہے جو سو جائے پہلو پر، اس لیے کہ جب وہ سو گیا پہلو پر تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے۔ معلوم ہوا اس حدیث میں علت بھی باقاعدہ ذکر ہو گئی کیونکہ اس کے کہ پہلو پر لیٹنے والے کا وضو کیوں ٹوٹا؟ اس کے اعضاء ڈھیلے، جوڑ ڈھیلے پڑ گئے۔ تو ہم نے بھی اسی طرح جہاں جہاں اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے تھے پوری طرح وہاں ہم نے وضو اس نیند کے اندر ہم نے وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا اور جس کے اندر اعضاء پورے ڈھیلے نہیں پڑتے تھے اس میں ہم نے بھی وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگایا بھئی۔ اچھا چلیے بس بھئی: هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔