Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-015

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَالْتِقَاءُ الْخِتَانَيْنِ مِنْ غَيْرِ إِنْزَالٍ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَغَابَتِ الْحَشَفَةُ وَجَبَ الْغُسْلُ، أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ“، وَلِأَنَّهُ سَبَبٌ لِلْإِنْزَالِ، وَنَفْسُهُ يَتَغَيَّبُ عَنْ بَصَرِهِ، وَقَدْ يَخْفَى عَلَيْهِ لِقِلَّتِهِ، فَيُقَامُ مَقَامَهُ.“ گزشتہ سبق میں ہم وہ اسباب پڑھ رہے تھے جو غسل کو واجب کرنے والے ہیں۔ ایک سبب ہم نے گزشتہ سبق میں پڑھا تھا کہ جس سے غسل واجب ہوتا ہے، اور وہ ہے انزالِ منی۔ انزالِ منی مرد سے ہو یا عورت سے، نیند کی حالت میں ہو یا بیداری کی حالت میں، لیکن ہمارے نزدیک اس میں ایک قید ملحوظ ہے کہ انزالِ منی کس طریقے پر ہو؟ شہوت کے ساتھ ہو بھئی، شہوت کے ساتھ۔ لہٰذا اگر بغیر شہوت کے ہوگا تو اس میں عِنْدَ الْأَحْنَافِ غسل واجب نہیں بھئی۔ آج دوسرا سبب ذکر ہو رہا ہے غسل کے وجوب کا: ”وَالْتِقَاءُ الْخِتَانَيْنِ“ اور ملنا دو شرمگاہوں کا ”مِنْ غَيْرِ إِنْزَالٍ“ بغیر انزال کے۔ ختانین لفظ سے ہی آپ کو پتہ چل رہا ہے تثنیہ کا صیغہ ہے۔ تو یاد رکھیے ختان وہ مقام جو ختنہ کیا جاتا ہے اس کو ختان کہتے ہیں، چاہے مرد میں ہو یا عورت میں، اور یاد رکھیے عربوں میں مردوں کے علاوہ عورتوں کا بھی ختنہ کیا جاتا تھا بھئی، تو یہ ختان وہ مقام بھئی۔ تو جب دو ختان مل جائیں، وہ ختنے کے مقام یعنی دو شرمگاہیں جب مل جائیں یعنی مرد و... مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں ”مِنْ غَيْرِ إِنْزَالٍ“ بغیر انزال کے، لیکن لفظوں سے یہ نہ سمجھیے کہ صرف مل جانا یہ سبب ہے وجوبِ غسل کا، صرف ملنا نہیں بلکہ کچھ دخول بھی ہو جائے معمولی سا، پھر جو ہے غسل واجب ہوگا۔ دیکھیے آگے خود دلیل ذکر کر رہے ہیں اور اس میں اور وضاحت سے ذکر آ گیا: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ“ جب دو ختانان مل جائیں ”وَغَابَتِ الْحَشَفَةُ“ اور حشفہ غائب ہو جائے۔ حشفہ ذکر کا اگلا حصہ، وہ غائب ہو جائے یعنی کچھ دخول پایا جائے، ”وَجَبَ الْغُسْلُ“ تو غسل واجب ہو جائے گا، ”أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ“ انزال ہو یا انزال نہ ہو۔ تو صرف... صرف تھوڑا سا دخول ہو جائے تو غسل واجب ہو جائے گا بھئی، اس میں پھر انزال کی بھی قید نہیں ہے بھئی۔ یہ یہاں سا... یہ ساری حدیث ہے بھئی ”أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ“ تک بھئی۔ ”وَلِأَنَّهُ سَبَبٌ لِلْإِنْزَالِ“ یہاں سے عقلی وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں ”وَلِأَنَّهُ سَبَبٌ لِلْإِنْزَالِ“ کیونکہ یہ جو دخول ہے، یہ جو التقاءِ ختانین ہے یہ سبب ہے انزال کا۔ یہ کس چیز کا سبب ہے؟ انزال کا۔ انزال کا سبب ہے، ”وَنَفْسُهُ يَتَغَيَّبُ عَنْ بَصَرِهِ“ اور نفسِ ذکر جو ہے وہ تو غائب ہے اس شخص کی نگاہوں سے۔ جب کچھ دخول ہو گیا تو نفسِ ذکر کیا ہوا؟ نگاہوں سے غائب ہوا، ”وَقَدْ يَخْفَى عَلَيْهِ لِقِلَّتِهِ“ اور کبھی اس پر مخفی رہے گا ”لِقِلَّتِهِ أَيْ لِقِلَّةِ الْمَنِيِّ“ کہ اس حالت میں دیکھیے یہ ادخال جو ہے یہ سبب ہے انزالِ منی کا، انزالِ منی کا۔ تو جب صحبت کی، ادخال ہوا، اب نفسِ ذکر تو نگاہوں سے غائب ہے اور ہو سکتا ہے اس حالت میں کچھ خروجِ منی ہو، کیونکہ یہ سبب ہے کس چیز کا؟ خروجِ منی کا۔ تو ہو سکتا ہے اس حالت میں کچھ خروجِ منی ہو اور وہ قلیل ہو لہٰذا اس کو پتہ ہی نہ چلے، ہو سکتا ہے قلیل ہو اور اس کو... تو لہٰذا نفسِ دخول ہی کو کیا کر دیا گیا؟ یا یوں کہیں نفسِ ادخال ہی کو سبب قرار دے دیا گیا کس چیز کا؟ غسل کا۔ جیسے نوم کے اندر تھا بھئی، نوم۔ اصل میں تو نوم نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ نہیں، اس سے تو وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن نوم کی حالت میں چونکہ عادۃً خروجِ ریح ہوتا ہے، تو اب نوم میں پتہ نہیں خروجِ ریح ہوا ہے یا نہیں، اگر ہوا ہو تو وضو ٹوٹے گا، اگر نہیں ہوا تو وضو نہیں ٹوٹے گا، تو چونکہ یہاں وضو ٹوٹنے کا جو سبب ہے یعنی خروجِ ریح، اس کا پتہ تو نہیں چل سکتا، تو اس خروجِ ریح کا جو سبب ہے، یہ خروجِ ریح کیوں ہوتا ہے نیند میں؟ نیند کی وجہ سے، کیونکہ غفلت آ گئی، پتہ ہی نہیں انسان کو، تو لہٰذا اس سبب کے سبب کو سبب کا قائم مقام بنا دیا گیا، یعنی وضو ٹوٹنے کا سبب تھا خروجِ نجاست، اور خروجِ نجاست کا سبب کیا ہے؟ نیند ہے۔ تو اب خروجِ نجاست کا تو پتہ نہیں، تو اس سبب کا سبب یعنی نیند جو ہے، اسی کو سبب کے قائم مقام کر دیا گیا، یعنی خروجِ نجاست کے... خروجِ نجاست کے قائم مقام کر دیا گیا کہ جب ایسی نیند آ جائے جس میں کامل استرخائے مفاصل ہو تو بس اسی سے وضو ٹوٹنے کا حکم لگا دیا جائے گا۔ تو سبب کے سبب کو کیا کر دیا گیا؟ سبب کے قائم مقام بنا... وہ خود تو سبب نہیں تھا، ہاں وہ سبب کا سبب تھی نیند بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہاں پر بھی ادخال یہ، ادخال یہ عقل... عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ ادخال جو ہے یہ سبب ہے انزالِ منی کا، اور ادخال کیا تو اب ہو سکتا ہے انزالِ منی ہوا ہو لیکن قلیل ہونے کی وجہ سے پتہ نہ چلا ہو اور تو پتہ نہیں یہاں پتہ نہیں چل سکتا کہ کچھ انزالِ منی ہوا ہے یا نہیں، اس انزالِ منی کا جو سبب تھا ادخال، اسی کو قائم مقام کر دیا گیا انزالِ منی کے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ تو سبب کے سبب کو سبب کا قائم مقام کر دیا گیا بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَنَفْسُهُ يَتَغَيَّبُ عَنْ بَصَرِهِ“ اور نفسِ ذکر تو اس کی نگاہوں سے غائب ہے، ”وَقَدْ يَخْفَى عَلَيْهِ لِقِلَّتِهِ“ اور کبھی اس پر مخفی رہے گا یہ انزالِ منی ”لِقِلَّتِهِ“ کس وجہ سے؟ خلت... منی کے قلیل ہونے کی وجہ سے، ”فَيُقَامُ مَقَامَهُ“ تو اس ادخال ہی کو کیا کر دیا گیا؟ اس کے قائم مقام کر دیا گیا یہ التقاءِ ختان کو۔ ”وَكَذَا الْإِيلَاجُ فِي الدُّبُرِ لِكَمَالِ السَّبَبِيَّةِ“ بھئی التقاءِ ختانین بتا دیا کہ یہ بغیر انزال کے ہو پھر بھی اس میں غسل کیا ہوگا؟ واجب۔ اور ختان کس کو کہتے ہیں؟ ختنے کا مقام یعنی آگے والی شرمگاہیں۔ اور اسی طرح اگر ایلاج کیا، ایلاج کا معنی ادخال ادخال، اور اسی طرح اگر ادخال کیا ”فِي الدُّبُرِ“ دبر میں یعنی پاخانے کے مقام میں، تو اس صورت میں بھی ادخال پایا گیا تو پھر وضو ٹو... غسل واجب ہو جائے گا بھئی، غسل واجب ہو جائے گا۔ کیوں؟ ”لِكَمَالِ السَّبَبِيَّةِ“ کہ کمالِ سببیّت کی وجہ سے کہ یہ کامل سبب ہے شہوت کا بھئی، یہ کیا ہے؟ کامل سبب ہے شہوت کے آ... بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا الْإِيلَاجُ فِي الدُّبُرِ“ اور اسی طرح دبر میں ادخال کرنا ”لِكَمَالِ السَّبَبِيَّةِ“ یہ بھی سبب ہوگا وجوبِ غسل کا ”لِكَمَالِ السَّبَبِيَّةِ“ سبب کے کیونکہ اس میں کامل درجے کی شہوت موجود ہے بھئی، کامل۔ چنانچہ اسی وجہ سے بعض فساق اس طریقے کو اختیار کرتے ہیں۔ بعض فساق کیا کرتے ہیں؟ اس طریقے کو اختیار کرتے ہیں، حالانکہ حدیث میں آتا ہے: جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ دبر میں وطی کرے تو وہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف رحمت کی نظر نہیں فرماتے بھئی۔ کتنی سخت وعید آ گئی حدیث کے اندر کہ جو شخص اس طرح کی بدفعلی کرتا ہے اپنی بیوی کے ساتھ، اللہ اس کی طرف رحمت کی نظر ہی نہیں فرماتے بھئی! اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت کی نظر ہی نہیں فرماتے، کتنی بڑی وعید ہے، انسان کانپ اٹھتا ہے، جب انسان کی طرف اللہ رحمت کی نظر ہی نہیں فرمائیں گے تو اس کا کیا حال ہوگا بھئی؟ تو اس صورت میں بھی ایلاج فی الدبر کے اندر بھی بھئی غسل واجب ہوگا۔ ”وَيَجِبُ عَلَى الْمَفْعُولِ بِهِ احْتِيَاطًا“ اور مفعول بہ پر بطورِ احتیاط کے غسل واجب ہوگا بھئی۔ مفعول بہ پر جس کے ساتھ یہ ایلاج فی الدبر کیا گیا اس پر بطورِ احتیاط کے غسل واجب ہوگا، کیونکہ احتمال ہے اس میں بھی خروجِ منی ہو اور احتمال ہے کہ اس کے خروجِ منی نہ ہو، لیکن خروجِ منی کا احتمال آ گیا اور ہو سکتا ہے قلت کی وجہ سے اسے پتہ نہ چلے، تو لہٰذا بطورِ احتیاط کے اس پر بھی غسل کو واجب قرار دیا گیا۔ ”بِخِلَافِ الْبَهِيمَةِ وَمَا دُونَ الْفَرْجِ لِأَنَّ السَّبَبِيَّةَ نَاقِصَةٌ“ بخلاف بہیمہ، چوپائے یا مویشی سے کسی نے وطی کی، ”وَمَا دُونَ الْفَرْجِ“ اور فرج کے علاوہ میں بھئی مثلاً رانوں وغیرہ میں، تو اس صورت میں صرف ایلاج، ادخال سے غسل فرض نہیں ہوگا ”لِأَنَّ السَّبَبِيَّةَ نَاقِصَةٌ“ اس لیے کیونکہ اس میں سببیّت کیا ہے؟ ناقص ہے، یہ شہوت کا سبب ہونے میں ناقص ہے بھئی۔ ہاں اس میں جب تک انزال نہ ہو اس وقت تک غسل فرض نہیں ہوگا۔ ”وَالْحَيْضُ“ یاد رکھیے حیض وہ خون جو ہر مہینے عورت کو چند دن آتا ہے اسے حیض کہتے ہیں، اور نفاس وہ خون ہے جو بچے کی ولادت کے بعد عورت کو چند دن خون آتا ہے اسے نفاس کہا جاتا ہے۔ ”وَالْحَيْضُ“ تیسرا سبب آیا بھئی غسل کے وجوب کا، وہ حیض ہے بھئی، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”حَتَّى يَطَّهَّرْنَ“ ”حَتَّى يَطَّهَّرْنَ بِالتَّشْدِيدِ“ تشدید کے ساتھ، یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں، خوب پاک ہو جائیں۔ تو جیسے حیض کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ“ اور یہ صحابہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، ”قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ“ آپ فرما دیجیے کہ یہ گندگی ہے، تو اپنی بیویوں سے جدا رہو حیض کے اندر، ”وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ“ اور ان کے قریب نہ جاؤ یعنی ان سے صحبت نہ کرو ”حَتَّى يَطَّهَّرْنَ“ یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں، خوب پاک ہو جائیں۔ تو یہاں بھئی یاد رکھیے دو قرأتیں ہیں بھئی، ایک ”يَطَّهَّرْنَ“ اور ایک ”يَطْهُرْنَ“۔ ”يَطَّهَّرْنَ“ کا معنی ہے کہ خوب پاک ہو جائیں، اور ”يَطْهُرْنَ“ کا معنی ہے کہ پاک ہو جائیں، پاک ہو جائیں۔ اور احناف دونوں قرأتوں پر عمل کرتے ہیں، دونوں قرأتوں پر عمل۔ وہ اس طرح کہ حیض جو ہے اس کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے بھئی، دس دن، دس دن۔ تو وہ قرأت جو تخفیف کے ساتھ ہے ”حَتَّى يَطْهُرْنَ“ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پاک ہو جائیں، اس کو... اس آیت کو، اس قرأت کو وہ محمول کرتے ہیں جب حیض رکے پورے دس دن ہونے پر۔ جب پورے دس دن ہونے پر حیض ختم ہوا ہے اب آگے تو حیض آنے کا احتمال نہیں، تو حیض کے رکتے ہی عورت پاک ہو گئی، اب خاوند اس سے صحبت کر سکتا ہے۔ قرآن میں تو اللہ کیا فرما رہے ہیں: ”فَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ“ ان کے قریب نہ جاؤ یعنی ان سے قربت نہ کرو ”حَتَّى يَطْهُرْنَ“ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، تو دس دن کے گزرتے ہی جیسے ہی حیض رکا عورت کیا ہو گئی؟ پاک ہو گئی، اب خاوند اس سے صحبت کر سکتا ہے بغیر غسل کے ہی بھئی وہ، عورت کے غسل کرنے سے پہلے بھی کیا کر سکتا ہے؟ اس سے... سو وہ پاک ہو چکی ہے۔ اور ”يَطَّهَّرْنَ“ کی جو قرأت ہے تشدید کے ساتھ، اس کا کیا معنی ہے؟ یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں، یہ اس کو محمول کرتے ہیں احناف اس حالت پر جب حیض دس دن سے کم میں ہی رک جائے، چھ یا سات دن میں ہی کیا ہوا مثلاً؟ حیض رک گیا، لیکن حیض تو دس دن تک ہو سکتا ہے تو احتمال ہے ابھی پوری طرح رکا نہ ہو، تھوڑی دیر کے لیے رکا ہے پھر جاری ہو جائے، تو لہٰذا اس صورت میں اس پر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ غسل کر لے، پھر اس کے بعد اب وہ خوب پاک ہو گئی، اب خاوند اس سے صحبت کر سکتا ہے، یا اتنا وقت گزر جائے کامل نماز کا ایک وقت گزر جائے اس پر کہ اس کے جس سے پتہ لگ جائے یعنی کچھ دیر گزر گئی اور پھر پتہ لگ گیا کہ اب اس کو حیض اب نہیں آ رہا، بالکل رک چکا ہے بھئی۔ تو تشدید والی قرأت کو کس حالت پر محمول کرتے ہیں؟ جب دس... تو اس میں جب تک صرف حیض رکتے ہی عورت پاک تو ہوئی ہے لیکن خوب پاک نہیں ہوئی، لہٰذا کیا کر لے؟ غسل کر لے، پھر خاوند قربت کر سکتا ہے، یا کچھ وقت گزر جائے تاکہ پتہ لگ جائے کہ خوب پاک ہو گئی ہے اب حیض آنے کا احتمال نہیں، تو پھر خاوند صحبت کر سکتا ہے، تو احناف دونوں قرأتوں پر عمل کرتے ہیں بھئی۔ تو یہ تو بیان تھا دونوں قرأتوں پر عمل کا۔ اس آیت سے استدلال کس طرح ہے؟ کس طرح یہ دلیل ہے کہ حیض کی وجہ سے غسل واجب ہوگا بھئی؟ بھئی آیت کیا آئی: ”حَتَّى يَطَّهَّرْنَ“ تو یہ تشدید والی آیت جو ہے یہ دلیل ہے کہ حیض کے بعد غسل واجب ہوگا۔ اس لیے کیونکہ جب عورت کا حیض ختم ہوا، رک گیا تو وہ پاک تو ہو گئی، لیکن قرآن میں اللہ کیا فرما رہے ہیں: ”حَتَّى يَطَّهَّرْنَ“ یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائے، تو پاک تو وہ ہوئی ہے لیکن خوب پاک وہ غسل کے ذریعے ہوگی بھئی، تو اس طرح یہ آیت دلیل ہے کہ حیض کی وجہ سے کیا واجب ہوتا ہے؟ غسل، کیونکہ یہاں خوب پاک ہونے کا حکم دیا گیا، اور خوب پاک ہونا کس طرح ہوگا؟ کہ غسل کر لے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں ”وَالْحَيْضُ“ اور تیسرا سبب حیض ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”حَتَّى يَطَّهَّرْنَ بِالتَّشْدِيدِ“ (يَرْحَمُكَ اللهُ) تشدید کے ساتھ، ”وَكَذَا النِّفَاسُ بِالْإِجْمَاعِ“ اور اسی طرح نفاس ہے بالاجماع بھئی۔ نفاس بھی کیا ہے؟ سبب ہے کس چیز کا؟ وجوبِ غسل کا بالاجماع بھئی۔ تو یہ چار اسباب ذکر ہوئے وجوبِ غسل کے: ایک انزالِ منی، ایک التقاءِ ختانین، اور ایک حیض اور چوتھا کیا ہے؟ نفاس بھئی۔ یہ غسل ان سے واجب ہوتا ہے۔ آگے اب غسل کن کن مواقع پر کرنا سنت ہے وہ ذکر فرما رہے ہیں: ”وَسَنَّ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْغُسْلَ لِلْجُمُعَةِ وَالْعِيدَيْنِ“ (يَرْحَمُكَ اللهُ) ”لِلْجُمُعَةِ وَالْعِيدَيْنِ وَعَرَفَةَ وَالْإِحْرَامِ“ اور مسنون کیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کو جمعے کے لیے اور عیدین دونوں عیدوں کے لیے اور عرفات کے دن کے لیے اور احرام کے لیے بھئی، احرام کے لیے۔ جمعے کے دن غسل کرنا سنت ہے بھئی۔ اسی طرح دونوں عید میں دونوں عید کے دن جو ہیں ان میں غسل کرنا سنت ہے۔ یومِ عرفہ بھئی، حج کے دن جو ہے اس دن غسل کرنا زوال کے بعد سنت ہے۔ اور اسی طرح احرام بھئی، احرام جب انسان عمرے یا حج کا احرام باندھے تو اس سے پہلے کیا کر لے؟ غسل کر لے، یہ سنت ہے۔ آگے صاحبِ ہداية فرما رہے ہیں کہ ”صَاحِبُ الْكِتَابِ نَصَّ عَلَى السُّنِّيَّةِ“ صاحبِ کتاب یعنی صاحبِ قدوری نے تصریح کی ہے سنت ہونے پر، کس چیز پر؟ یہ اوپر قدوری کی عبارت آئی تو انہوں نے اس میں ان چار مواقع پر غسل کو سنت قرار دیا، اس کے سنت ہونے کی تصریح کر دی، کیا کہا؟ ”وَسَنَّ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ تو انہوں نے اس کے سنت ہونے کی تصریح کی ہے۔ ”وَقِيلَ: هَذِهِ الْأَرْبَعَةُ مُسْتَحَبَّةٌ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ چار جو ہیں یہ مستحب ہیں یعنی ان چار مواقع پر غسل کرنا بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ مستحب ہے۔ ”وَسَمَّى مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى الْغُسْلَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ حَسَنًا فِي الْأَصْلِ“ اور قرار دیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے غسل کو یومِ جمعہ میں، جمعہ کے دن میں غسل کو ”حَسَنًا“ اچھا حسن قرار دیا ہے ”فِي الْأَصْلِ“۔ اصل کا لفظ آئے تو اس سے مراد امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب مبسوط ہوتی ہے بھئی، مبسوط۔ تو امام محمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب مبسوط کے اندر جمعے کے دن کا جو غسل ہے اس کو حسن قرار دیا ہے، کیا قرار دیا ہے؟ حسن۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ نے یہ تصریح نہیں کی کہ یہ مستحب ہے یا سنت ہے جمعے کے دن غسل۔ حسن کا لفظ استعمال کیا ہے۔ حسن کا کیا معنی؟ اچھا ہے، بہتر ہے، اور یہ مستحب کو بھی شامل اور سنت کو بھی شامل۔ مستحب بھی کیا ہے؟ بہتر ہے، سنت بھی کیا ہے؟ بہتر ہے، دونوں حسن ہیں تو دونوں اس میں داخل بھئی، دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: وَاجِبٌ“ اور امام مالک رحمہ اللہ جو ہیں وہ واجب فرماتے ہیں ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ“ جو جمعے کے لیے آئے ”فَلْيَغْتَسِلْ“ تو اسے غسل کرنا چاہیے بھئی، غسل کرنا چاہیے۔ تو یہ ”فَلْيَغْتَسِلْ“ امر کا صیغہ ہے اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، تو جمعے کے دن غسل واجب ہوگا بھئی جو جمعے کے لیے آئے، جس پر جمعہ واجب ہے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ“ حدیث میں آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس نے وضو کیا جمعے کے دن ”فَبِهَا وَنِعْمَتْ“ فبھا تو اچھی بات ہے ونعمت اور کیا ہی خوب ہے، ”وَمَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ“ اور جس نے غسل کیا تو وہ افضل ہے، غسل کیا ہے؟ افضل ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کہ غسل کرنا افضل ہے، وضو بھی کر لے تو اچھی بات ہے، وضو بھی کر لے تو اچھی بات ہے۔ معلوم ہوا غسل واجب نہیں، حدیث کے الفاظ پر آپ غور کر رہے ہیں بھئی؟ جس نے وضو کر لیا تو اچھی بات ہے، معلوم ہوا غسل کرنا واجب نہیں، غسل کر لے تو وہ افضل ہے، معلوم ہوا واجب نہیں ہے غسل بھئی جمعہ۔ ”وَبِهَذَا يُحْمَلُ“ اور اس حدیث کی وجہ سے ”يُحْمَلُ“ محمول کیا جائے گا ”مَا رَوَاهُ“ اس حدیث کو جس کو امام مالک رحمہ اللہ نے روایت کیا ”عَلَى الِاسْتِحْبَابِ“ کس پر؟ استحباب پر۔ امام مالک رحمہ اللہ نے دلیل ذکر کی تھی ”مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ“ حدیث بھئی، اور ہم اس حدیث کو محمول کرتے ہیں استحباب پر کہ یہاں جو امر دیا گیا وہ وجوب کے لیے نہیں ہے بلکہ استحباب کے لیے ہے، جو جمعے کے لیے آئے اس کے لیے مستحب ہے وہ کیا کر لے؟ غسل کر لے۔ یہ ہم نے استحباب پر کیوں محمول کیا؟ اس حدیث کی وجہ سے جو ابھی ہم نے ذکر کی تھی، اس سے پتہ چلا تھا غسل واجب نہیں۔ تو دونوں حدیثوں میں تطبیق ہو جائے گی، آپ پڑھ چکے ہیں کہ امر کبھی کبھار استحباب کے لیے بھی آتا ہے بھئی، کس لیے آتا ہے؟ تو یہاں امر استحباب کے لیے ہو جائے گا، اور ہماری حدیث سے بھی استحبا... استحباب ہی کا پتہ چل رہا تھا کہ غسل کرنا افضل ہے، مستحب ہے، تو دونوں احادیث میں تطبیق آ گئی۔ میں نے بتایا اس سے دونوں احادیث کے اندر تطبیق آ گئی، تطبیق آ گئی۔ بظاہر دونوں احادیث ایک دوسرے کے مقابل لگ رہی تھیں، مقابل معلوم ہو رہی تھیں، ایک حدیث سے کیا معلوم ہو رہا تھا کہ غسل واجب ہے، دوسری حدیث سے کیا معلوم ہو رہا تھا کہ غسل افضل ہے، مستحب ہے، تو جب اس حدیث میں امر اس کو ہم نے محمول کر لیا استحباب پر کیونکہ آپ نے پڑھا ہے امر کبھی کبھار کس لیے آتا ہے؟ استحباب پر، تو دونوں احادیث میں تطبیق آ گئی بھئی، تطبیق آ گئی۔ تطبیق کا معنی ہے موافقت، موافقت، اب دونوں حدیثیں ایک دوسرے کے موافق ہو گئیں، اس حدیث سے بھی کیا معلوم ہو رہا ہے؟ استحباب، اور اس حدیث سے بھی کیا معلوم ہو رہا ہے؟ استحباب، تو اس کو کہتے ہیں تطبیق بھئی، تطبیق بھئی، کہ دونوں احادیث ایک دوسرے کے مطابق ہو گئیں، موافق ہو گئیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَبِهَذَا يُحْمَلُ مَا رَوَاهُ عَلَى الِاسْتِحْبَابِ“ اور اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی محمول کیا جائے گا اس حدیث کو ”رَوَاهُ“ جس کو امام مالک رحمہ اللہ نے روایت کیا ”عَلَى الِاسْتِحْبَابِ“ کس پر؟ استحبا... ”أَوْ عَلَى النَّسْخِ“ یا اس حدیث... اس کو محمول کیا جائے گا نسخ پر کہ یہ منسوخ ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کی روایت منسوخ اور یہ حدیث اس کے لیے ناسخ۔ پہلے واجب کا حکم تھا اور پھر اس کے بعد وہ حکم منسوخ کر دیا گیا بھئی، منسوخ کر دیا گیا۔ اور اس کا پتہ اور احادیث سے بھی چلتا ہے بھئی، احادیث میں آتا ہے بھئی کہ صحابہ کرام جو ہیں یہ کام کاج کرنے والے لوگ تھے اور ابتداء کے اندر کوئی مال وغیرہ کسی کے پاس کچھ تھا ہی نہیں، غربت کا زمانہ تھا، بے انتہا غربت کا زمانہ، صحابہ کام کاج کرتے تھے، اس زمانے میں کپڑے ہاتھ سے بنتے تھے، کپڑے کسی کو اچھے کپڑے تو میسر آتے ہی نہیں تھے، وہی جو کپڑے میسر ہیں اور اسی میں کام کاج کرتے تو وہ پسینہ وغیرہ آتا اور کپڑے ہوتے نہیں تھے کہ بدل لیں یا کیا کریں، تو لہٰذا وہ صحابہ ایک مرتبہ خصوصاً جمعے کی نماز کے لیے تشریف لائے تو پسینے کی بو وغیرہ محسوس، اور مسجد کی چھت بھی نیچی تھی، تو وہ پسینے کی بو پھیلی ہوئی تھی اور تو آپ نے اس موقع پر پھر حکم فرمایا کہ جو جمعے کی نماز کے لیے آئے وہ غسل کر کے آئے بھئی، تاکہ اس کی پسینے کی بو سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو بھئی، تو آپ نے غسل کو کرنے کا حکم دیا۔ تو اس وقت پھر غسل واجب تھا بھئی، اور پھر اس کے بعد جب آسانی آ گئی، کچھ مال وغیرہ حاصل ہو گیا بھئی، تو اور وہ لوگوں کے کپڑے کچھ بہتر ہو گئے تو پھر اس کے بعد اس کے وجوب کا حکم منسوخ ہو گیا بھئی، پھر اس کے بعد کیا قرار دیا گیا؟ مستحب بھئی کہ کر لے تو اچھی بات ہے بھئی۔ یہ اس یہ تفصیل آتی ہے، احادیث سے معلوم ہوتی ہے بعض بھئی، اس میں یہ پوری تفصیل مذکور ہے۔ تو ان احادیث سے پتہ چلا کہ اوّلاً غسل واجب تھا، اس کے بعد اس کا وجوب منسوخ ہو گیا بھئی، وجوب منسوخ۔ اسی لیے کہا ”أَوْ عَلَى النَّسْخِ“ یا اس کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ نسخ پر، منسوخ ہونے پر۔ ”ثُمَّ هَذَا الْغُسْلُ لِلصَّلَاةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“ پھر اس میں اختلاف ہے بھئی، یہ جو غسل ہے جمعے کے دن، یہ جمعے کی نماز کے لیے سنت ہے یا جمعے کے دن کے لیے یہ غسل مسنون ہے بھئی؟ جمعے کے دن کے لیے۔ ثمرۂ اختلاف ظاہر ہوگا کہ ایک شخص غسل کرتا ہے جمعے سے پہلے اور پھر اس نے اسی غسل کے ساتھ وہ نماز جمعے کی ادا کر لی، تو اس نے اس کی سنت غسل سنت ادا ہو گئی، غسل کی سنت بھئی کہ یہ غسل کس کے لیے ہوا؟ نماز۔ اور ایک شخص ہے وہ غسل کرتا ہے لیکن پھر اس کا وضو ٹوٹ گیا، اب وہ وضو کر کے نماز میں شریک ہوا، تو اس کی وہ سنت ادا نہ ہوئی بھئی، کیونکہ نماز کے لیے تو غسل نہ ہوا، کیا ہوا؟ نماز کے لیے تو... ہاں، وضو ہوا۔ البتہ جمعے سے پہلے جمعے کے دن غسل کر لیا تو اگر دن کی سنت قرار دیا جائے تو سنت ادا ہو گئی، اگر نماز کے لیے سنت قرار دیا جائے تو وہ سنت ادا نہیں ہوئی، بھئی فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس میں اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز کے لیے سنت ہے غسل بھئی، نماز کے لیے، جبکہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ سے جو روایت آئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعے کے دن کے لیے غسل ہے، مسنون بھئی۔ لیکن صاحبِ ہداية امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو ترجیح دے رہے ہیں کہ یہ قول صحیح ہے کہ یہ غسل کس کے لیے مسنون ہے؟ جمعے کے دن کے لیے نہیں بلکہ جمعے کی نماز کے لیے، کیونکہ نماز کی فضیلت دن پر زیادہ ہے بھئی، بلکہ دن کی فضیلت کس وجہ سے ہے؟ اسی نماز کی وجہ سے ہے، جی اور نیز اس لیے کیونکہ نماز کے ساتھ طہارت مختص ہے، نماز تو بغیر طہارت کے ہوگی ہی نہیں بھئی، تو معلوم ہوا یہ غسل کس لیے مسنون ہے؟ جمعے کے دن کے لیے نہیں بلکہ جمعے کی نماز کے لیے۔ ”ثُمَّ هَذَا الْغُسْلُ لِلصَّلَاةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“ پھر یہ غسل جو ہے نماز کے لیے ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ اور یہی قول صحیح ہے ”لِزِيَادَةِ فَضِيلَتِهَا عَلَى الْوَقْتِ“ اس وجہ سے کہ زیادہ فضیلت ہے نماز کی ”عَلَى الْوَقْتِ“ اس وقت پر ”وَاخْتِصَاصِ الطَّهَارَةِ بِهَا“ اور اس وجہ سے کہ طہارت جو ہے پاکی کا اختصاص ہے ”بِهَا“ کس کے ساتھ؟ نماز کے ساتھ بھئی، ”وَفِيهِ خِلَافُ الْحَسَنِ“ اور اس کے اندر اختلاف ہے حسن ابن زیاد کا، وہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ غسل کس لیے ہے؟ جمعے کے دن کی سنت ہے، نماز کی سنت نہیں بھئی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ غسل جمعے کی نماز کے لیے ہوگا، اسی غسل سے جمعے کی نماز پڑھیں گے تو سنت ادا ہوگی ورنہ سنت ادا نہیں، جبکہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جمعے کے دن کی سنت ہے، بس جمعے سے پہلے کسی بھی وقت غسل کر لیا تو یہ سنت ادا ہو گئی، چاہے اسی غسل کے ساتھ جمعہ پڑھا یا بعد میں دوبارہ وضو کر کے جمعہ پڑھا، بہرحال سنت ادا ہو چکی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں ذکر آیا حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کا۔ یاد رکھیے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ یہ بھی شاگرد ہیں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، اسی طرح یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بھی شاگرد ہیں بھئی، شاگرد ہیں، اور یہ بھی بہت بڑے فقیہ تھے، بہت بڑے بھئی، امام صاحب کے اجل تلامذہ میں سے تھے، بڑے تلامذہ تھے ان میں سے تھے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ، اور میں نے جیسے بتایا یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بھی شاگرد تھے بھئی۔ اور بڑے متقی، بہت بڑے فقیہ تھے، کہتے ہیں کہ یہ اپنے غلاموں کو بھی بِعَيْنِهِ ویسا ہی لباس پہناتے تھے جیسا خود پہنتے تھے، کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ غلاموں کو بھی وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو، تو یہ ان کو بھی ویسا ہی لباس پہناتے تھے بھئی۔ اور ان کے تقویٰ کا اندازہ لگائیے ذرا بھئی، کتنے متقی انسان تھے، لوگ ان کے پاس مسائل وغیرہ پوچھنے کے لیے آتے رہتے تھے، ایک مرتبہ ایک شخص آیا اور مسئلہ پوچھا، انہوں نے مسئلہ بتلا دیا، وہ شخص چلا گیا، بعد میں پھر کوئی غور کیا، دیکھا تو پتہ چلا کہ مسئلہ تو غلط بتا بیٹھے ہیں بھئی، بڑے پریشان ہوئے، اب اس آدمی کو بھی جانتے نہیں، پہچانتے نہیں کہ یہ کون تھا بھئی، بڑے پریشان کہ میں نے غلط مسئلہ بتا دیا، چنانچہ ایک آدمی کو باقاعدہ اجرت پر مقرر کیا، کرائے پر رکھا کہ جاؤ شہر میں یہ اعلان کرتے جاؤ کہ فلاں دن جس نے حسن ابن زیاد سے مسئلہ پوچھا تھا، حسن ابن زیاد نے وہ مسئلہ غلط بتایا تھا، وہ دوبارہ جائے اور جا کر مسئلہ پوچھ کر آئے بھئی۔ چنانچہ وہ شخص پورے شہر میں اعلان کرتا رہا، کرتا رہا بھئی، یہاں تک کہ وہ شخص جس نے مسئلہ پوچھا تھا اس تک بھی اطلاع پہنچی اور پھر وہ واپس آیا اور آ کر مسئلہ پوچھا اور اس کو پھر مسئلہ بتلایا بھئی۔ تو دیکھیے اندازہ لگائیے کون ایسا کر سکتا ہے بھئی؟ پورے شہر میں اپنی غلطی کا اعلان کرواتے پھرنا کوئی کرے گا بھئی؟ لیکن یہ ہمارے ائمہ تھے مولانا، ہمارے ائمہ، یہ تھے ہمارے فقہاء جن کو لوگ برا کہتے ہیں، ان پر حیرت ہوتی ہے بھئی، حیرت ہوتی ہے۔ ”وَالْعِيدَانِ بِمَنْزِلَةِ الْجُمُعَةِ“ اور دونوں عیدیں جو ہیں وہ جمعے کے درجے میں ہیں بھئی، دونوں عید، ایک تو عید الفطر اور دوسری عید الاضحیٰ، یہ دونوں عیدیں ”بِمَنْزِلَةِ الْجُمُعَةِ“ یہ جمعے کے درجے میں ہیں ”لِأَنَّ فِيهِمَا الِاجْتِمَاعَ“ اس لیے کیونکہ ان میں بھی لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے ”فَيُسْتَحَبُّ الِاغْتِسَالُ“ تو اس میں بھی غسل کرنا مستحب ہوگا ”دَفْعًا لِلتَّأَذِّي بِالرَّائِحَةِ“ تاذی کا معنی تکلیف ہونا بھئی، تکلیف ہونا، رائحہ بو بھئی وہ، تو یہ پسینے وغیرہ کی بو مراد ہے، دفعاً کا معنی دور کرنا، ”دَفْعًا لِلتَّأَذِّي بِالرَّائِحَةِ“ پسینے کی جو بو ہے اس سے جو تکلیف ہو اس تکلیف کو دور کرنے کے لیے، پسینے کی بو سے ہونے والی تکلیف کو دور کرنے کے لیے مستحب ہوگا غسل کرنا، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”فَيُسْتَحَبُّ الِاغْتِسَالُ دَفْعًا لِلتَّأَذِّي بِالرَّائِحَةِ“ پس مستحب ہوگا غسل کرنا پسینے کی بو کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے بھئی۔ یعنی پسینے کی بو آئے گی اس سے لوگوں کو تکلیف ہوگی تو غسل کیا جائے تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو پسینے کی بو کی وجہ سے، تو اس وجہ سے غسل کرنا مستحب ہوگا عید کے دن بھئی، تو لہٰذا اس ان کا حکم بھی اسی جمعے کے دن کی طرح ہے۔ اور یاد رکھیے یہ جمعے اور عیدین کا غسل مسنون ہے، سنت ہے ان لوگوں کے لیے جن پر جمعہ واجب ہے بھئی، جن پر جمعہ واجب ہو ان کے لیے مسنون کیا ہے کہ وہ اس کے لیے غسل کریں جمعہ بھی اور عیدین بھی، یعنی جو ان میں حاضر ہوں، آئیں بھئی، ان کے لیے مسنون ہے غسل کر کے آئیں بھئی۔ ”وَأَمَّا فِي عَرَفَةَ وَالْإِحْرَامِ“ اور باقی یومِ عرفہ کے دن کا غسل اور احرام کے لیے جو غسل ہے ”فَسَنُبَيِّنُهُ فِي الْمَنَاسِكِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى“ پس عنقریب ہم اس کو بیان کریں گے مناسک کے اندر، حج کے افعال کے اندر ہم ان کو بیان کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ جی یہ اسی اسی میں کتاب الحج آئے گی، وہاں پر بیان آئے گا بھئی اس کا۔ ”قَالَ: وَلَيْسَ فِي الْمَذْيِ وَالْوَدْيِ غُسْلٌ، وَفِيهِمَا الْوُضُوءُ“ اور نہیں ہے مذی اور ودی کے اندر غسل اور ان میں وضو ہے بھئی۔ مذی اور ودی میں غسل نہیں بلکہ کیا ہے؟ وضو ہے بھئی، وضو۔ بھئی یہاں دو لفظ ہیں: مذی اور ودی۔ اس میں یاد رکھیے اس کو ”الْمَذِيُّ“ پڑھنا، یعنی ذال کے نیچے کسرہ اور یا مشدد، اسی طرح ”الْوَدِيُّ“، دال کے نیچے کسرہ اور یا مشدد، اس طرح پڑھنا بھی صحیح، اور ذال اور دال کو ساکن پڑھنا اور یا کو غیر مشدد پڑھنا، تو اس طرح بھی دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں: ”وَلَيْسَ فِي الْمَذِيِّ وَالْوَدِيِّ“ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں اور ”وَلَيْسَ فِي الْمَذْيِ وَالْوَدْيِ غُسْلٌ“ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ اور نہیں ہے مذی اور ودی کے اندر غسل ”وَفِيهِمَا الْوُضُوءُ“ اور ان میں وضو ہے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”كُلُّ فَحْلٍ يُمْذِي“ فحل کہتے ہیں طاقتور نر جانور کو بھئی، طاقتور نر جانور جو ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ”فَحْلٌ“ کہتے ہیں، مراد یہاں مرد ہے، مرد بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”كُلُّ فَحْلٍ يُمْذِي“ ہر مرد کو مذی آتی ہے، ہر مرد کو مذی آتی ہے، ”وَفِيهِ الْوُضُوءُ“ اور اس میں کیا ہے؟ وضو ہے بھئی، یہ حدیث کے اندر آ گیا۔ اب آگے تفصیل بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہداية کہ مذی کسے کہتے ہیں، ودی کسے کہتے ہیں اور منی اور ان میں کیا فرق ہے، وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”الْوَدْيُ الْغَلِيظُ مِنَ الْبَوْلِ“ ودی جو ہے وہ ”الْغَلِيظُ مِنَ الْبَوْلِ“ پیشاب میں سے گاڑھی ہے یعنی یہ گاڑھا پیشاب ہے، یا یعنی یہ کیا ہے؟ گاڑھا پیشاب ہے۔ ”يَتَعَقَّبُ الرَّقِيقَ مِنْهُ“ یتعقب کا معنی پیچھے آنا، رقیق کا معنی پتلا، ”مِنْهُ أَيْ مِنَ الْبَوْلِ“ ”الرَّقِيقُ مِنْهُ“ وہ جو پتلا ہو پیشاب میں سے، اس کے پیچھے آتی ہے۔ ودی جو ہے گاڑھی ہے پیشاب میں سے اور وہ جو پتلا پیشاب آتا ہے یہ اس کے پیچھے یعنی اس کے بعد میں نکلتی ہے، اس کے پیچھے آتی ہے خروجاً نکلنے کے اعتبار سے یعنی یہ اس کے بعد نکلتی ہے۔ تو معلوم ہوا ودی جو ہے یہ بھی کس کی طرح ہوتی ہے؟ پیشاب کی طرح، البتہ یہ ہے پیشاب وہ پتلا ہے پانی کی طرح اور ودی کیا ہے؟ گاڑھی ہوگی بھئی، تو یہ اس کے بعد آتی ہے ”فَيَكُونُ مُعْتَبَرًا بِهِ“ تو یہ اسی پر اس کو قیاس کیا جائے گا بھئی۔ یہ چونکہ اسی کی قسم ہے لہٰذا اسی پر قیاس کیا جائے گا، اور پیشاب کے اندر تو غسل واجب ہوتا ہے یا وضو واجب ہوتا ہے؟ وضو واجب ہوتا ہے، لہٰذا ودی میں بھی وضو ہی آئے گا، غسل نہیں بھئی۔ ”وَالْمَنِيُّ خَاثِرٌ أَبْيَضُ“ خاثر کا معنی گاڑھی، گاڑھا، اور ابیض سفید، اور منی جو ہے وہ گاڑھی ہوتی ہے، ابیض سفید ہوتی ہے، ”يَنْكَسِرُ مِنْهُ الذَّكَرُ“ انکسر ینکسر کے معنی ٹوٹ جانا، ٹوٹ جاتا ہے اس سے ذکر یعنی اس کی سختی ختم ہو جاتی ہے۔ منی گاڑھی اور سفید ہوتی ہے اور اس کے نکلنے کے بعد سختی ختم ہو جاتی ہے۔ ”وَالْمَذْيُ رَقِيقٌ يَضْرِبُ إِلَى الْبَيَاضِ“ اور مذی جو ہے ”رَقِيقٌ“ وہ وہ پتلی ہوتی ہے ”يَضْرِبُ إِلَى الْبَيَاضِ“ سفیدی کی طرف مائل ہوتی ہے۔ عربی میں کہتے ہیں جب ایک رنگ دوسرے رنگ جیسا ہو، اس کے قریب ہو، اس سے ملتا جلتا ہو تو کہتے ہیں ”هَذَا اللَّوْنُ يَضْرِبُ إِلَى هَذَا“ یہ والا رنگ اس رنگ کی طرف مائل ہے، تو یہاں بھی یضرب مائل ہونے کے معنی میں ہے: ”وَالْمَذْيُ رَقِيقٌ يَضْرِبُ إِلَى الْبَيَاضِ“ اور مذی جو ہے وہ پتلی ہوتی ہے، سفیدی کی طرف مائل ہوتی ہے یعنی اس میں کچھ سفیدی ہوتی ہے۔ منی میں تو زیادہ سفیدی ہوگی، اس میں کم بھئی، اور یہ اس کے مقابلے میں پتلی ہے۔ ”يَخْرُجُ عِنْدَ مُلَاعَبَةِ الرَّجُلِ أَهْلَهُ“ اور یہ مذی نکلتی ہے جب آدمی، مرد جو ہے ملاعبت کرتا ہے ”أَهْلَهُ“ اپنے اہل سے یعنی اپنی بیوی سے، یعنی یہ مذی جو ہے یہ شہوت کے وقت نکلتی ہے بھئی، مذی جو ہے شہوت کے وقت نکلتی ہے جب مرد اپنی بیوی سے ملاعبت کرتا ہے بھئی۔ ”وَالتَّفْسِيرُ مَأْثُورٌ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا“ اور یہ تفسیر جو منی، مذی وغیرہ کی ہم نے کی، یہ ماثور ہے، منقول ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے، انہوں نے ان کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ جی کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو بھئی؟ (طالب علم کا سوال: ملاعبت کا کیا معنی؟) اچھا بھئی، ملاعبت بھئی، ملاعبت جو مرد بیوی کے ساتھ صحبت کے سے پہلے بوس و کنار میں مشغول ہے وہ ہے ملاعبت بھئی۔ جی چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.
82 approved lectures · 15 of 82