”بَابُ الْأَذَانِ“
”الْأَذَانُ سُنَّةٌ لِلصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْجُمُعَةِ لَا سِوَاهَا لِلنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ، وَصِفَةُ الْأَذَانِ مَعْرُوفَةٌ وَهُوَ كَمَا أَذَّنَ الْمَلَكُ النَّازِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَا تَرْجِيعَ فِيهِ“
”بَابُ الْأَذَانِ“ بھئی۔ یاد رکھیے یہ لفظ اذان ہے بھئی، اذان۔ آذان نہیں بھئی، الف کو لمبا نہیں کرنا شروع میں۔ ”بَابُ الْأَذَانِ“۔
اور اذان جو ہے، عربی زبان میں اطلاع دینا۔ اطلاع دینا، اس کا کیا معنی ہے؟ اطلاع دینا۔ اور بعض علماء نے لکھا کہ بلند آواز کے ساتھ اطلاع دینا اس کو اذان کہتے ہیں عربی زبان میں۔ جبکہ اصطلاحِ شریعت میں نماز کا وقت داخل ہونے پر جو اعلان کیا جاتا ہے، جو اطلاع دی جاتی ہے مخصوص طریقے پر، مخصوص الفاظ کے ساتھ، اسے اذان کہتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تعریف انہوں نے دی ہوئی ہے آپ کے حاشیے میں کہ ”الْأَذَانُ هُوَ لُغَةً إِعْلَامٌ، وَشَرْعًا إِعْلَامُ دُخُولِ وَقْتِ الصَّلَاةِ عَلَى وَجْهٍ مَخْصُوصٍ“۔ نماز کے وقت کے داخل ہونے کا اعلان کرنا، اس کی اطلاع دینا مخصوص طریقے پر بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”بَابُ الْأَذَانِ“ یہ باب ہے اذان کے بیان میں۔ ”الْأَذَانُ سُنَّةٌ لِلصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ“ اذان جو ہے سنت ہے پانچ نمازوں کے لیے، ”وَالْجُمُعَةِ“ اور جمعے کے لیے۔ پانچ نمازیں اور جو جمعہ ہے اس کے لیے اذان سنت ہے، یعنی سنتِ مؤکدہ ہے بھئی۔ ”لَا سِوَاهَا“ نہ کہ اس کے علاوہ اور نمازوں کے لیے۔ تو انہی کے لیے اذان دینا یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ باقی جو نمازیں ہیں مثلاً عیدین کی نماز ہے، صلاۃ کسوف ہے، صلاۃ خسوف ہے، نماز استسقاء ہے وغیرہ، ان کے لیے اذان مسنون نہیں بھئی، ان میں اذان نہیں ہے بھئی۔ ہاں، یہ پانچ نمازیں اور جمعے کے لیے اذان سنتِ مؤکدہ ہے۔ اور دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِلنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ“ بوجہ متواتر منقول ہونے کے۔ کہ یہ بتواتر منقول ہے، ان پانچ نمازوں کے لیے اذان ہے، باقیوں کے لیے نہیں ہے بھئی۔
”وَصِفَةُ الْأَذَانِ“ اور اذان کی صفت، یعنی اذان کا طریقہ جو ہے، ”مَعْرُوفَةٌ“ معلوم ہے، معروف ہے۔ اذان کا طریقہ معروف ہے، معلوم ہے۔ ”وَهُوَ كَمَا أَذَّنَ الْمَلَكُ النَّازِلُ مِنَ السَّمَاءِ“ اور وہ اسی طرح جس طرح اذان دی تھی اس فرشتے نے، ”الْمَلَكُ“ وہ فرشتہ ”النَّازِلُ مِنَ السَّمَاءِ“ جو آسمان سے اترا تھا۔ اذان کا طریقہ معروف ہے، معلوم ہے، وہ اسی طرح جس طرح کہ اذان دی تھی اس فرشتے نے جو آسمان سے اترا تھا۔
بھئی، یاد رکھیے، یہ اذان جو ہے یہ اس کا آغاز سن ایک ہجری میں ہوا، بعضوں نے دو ہجری لکھا لیکن راجح قول ایک ہجری کا ہے بھئی، سن ایک ہجری میں۔ ابتدا کے اندر مسلمان کم تھے اور تو ”الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ“ ان لفظوں کے ساتھ اعلان کر دیا جاتا۔ ”الصَّلَاةُ“ ”الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ“ نماز جمع کرنے والی ہے۔ تو اس کے ذریعے مسلمانوں کو نماز کے وقت کی اطلاع کی جاتی تھی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ان لفظوں کے ساتھ اعلان فرماتے اور پھر مسلمان آہستہ آہستہ جب زیادہ ہونے لگے، تو اب ضرورت محسوس ہوئی بھئی۔ اب پہلے تو صرف قریب قریب تھے، اب دور والے بھی ہیں ان کو اطلاع دینی ہے نماز وغیرہ کی، تو اس کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا کہ کس طریقے سے لوگوں کو نماز کی اطلاع کی جائے؟
تو بعض صحابہ نے مشورہ دیا کہ آگ جلائی جائے بھئی اس کے لیے۔ اور اسی طرح بعضوں نے اور طریقے کہے، بعضوں نے کہا جس طرح یہ عیسائی وغیرہ کیا کرتے ہیں، وہ عبادت کے لیے وہ گھنٹا بجاتے ہیں جس سے سب کو اطلاع ہو جاتی ہے، اسی طرح گھنٹا وغیرہ بجایا جائے۔ تو چنانچہ پھر کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے وہ گھنٹا بنانے کا حکم بھی دے دیا تاکہ پھر اس کے لیے کیا کیا جائے، اس کو بجا کر سب کو نماز کے کا وقت ہونے کی اطلاع دی جائے۔
تو عبد اللہ ابن زید ابن عبد ربہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عبد اللہ ابن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ صحابیِ رسول، انہوں نے رات کو خواب دیکھا۔ خواب کے اندر دیکھا کہ ایک شخص ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک گھنٹا ہے، تو یہ اس کو کہتے ہیں کہ کیا تم یہ گھنٹا بیچ دو بیچو گے میرے ہاتھ؟ میں خریدنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا، وہ فرشتہ تھا بھئی خواب میں دیکھا، اس نے کہا: اس کا کیا کرو گے؟ اس نے کہا: اس کے ذریعے ہم لوگوں کو نماز کی اطلاع دیا کریں گے۔ تو اس نے کہا: کیا اس سے اچھا طریقہ میں تمہیں نہ بتلاؤں؟ اور پھر انہوں نے وہ اذان کا طریقہ ان کو بتلایا خواب کے اندر بھئی، خواب کے اندر۔ اور پھر جانے لگے، پھر کہنے لگے اور جب نماز کھڑی ہونے لگے تو اس وقت یہ اقامت کا وہ طریقہ بھی انہوں نے سکھا دیا انہوں نے۔ سمجھ میں آیا؟ اذان کا طریقہ بھی فرشتے نے سکھایا اور اقامت کا طریقہ بھی۔ چنانچہ وہ پھر جب انہوں نے خواب دیکھا، بیدار ہوئے تو حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ طریقہ حضور علیہ السلام کے سامنے ذکر فرمایا۔ تو حضور علیہ السلام نے پھر ان کو حکم دیا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ طریقہ سکھا دیں بھئی۔ اور بعض روایات میں آتا ہے کہ فرشتے کو دیکھا جو سبز دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں اور اس نے اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر بلند آواز کے ساتھ اذان والے کلمات کہے بھئی۔ تو اس طرح یہ اذان شروع ہوئی بھئی۔
اور روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اذان دے رہے تھے، اذان شروع فرمائی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی جلدی جلدی اپنی چادر کھینچتے ہوئے حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے آ کر کہا کہ میں نے بھی خواب میں اسی طرح دیکھا ہے۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”سَبَقَكَ الْوَحْيُ“۔ وحی تم پر سبقت کر گئی۔ ”سَبَقَكَ الْوَحْيُ“، وحی تم پر سبقت کر گئی۔ معلوم ہوا، وحی کے ذریعے بھی پھر اس کی تائید نازل ہوئی بھئی۔ خواب بھی دکھایا گیا صحابہ کو اور پھر وحی کے ذریعے بھی اس کی تائید ہوئی کہ اس طریقے سے اذان دی جائے نماز کے لیے۔
اور روایات میں آتا ہے کہ یہ خواب صرف حضرت عبد اللہ ابن زید اور صرف حضرت عمر نے نہیں دیکھا، کئی صحابہ نے دیکھا تھا یہ خواب بھئی، کئی صحابہ نے۔ اور پھر وحی کے ذریعے بھی اس کی تائید ہوئی، یعنی یہ اللہ کی طرف سے ہی مقرر کردہ طریقہ ہے بھئی، مقرر کردہ۔ تو وحی سے پہلے خواب صحابہ کو دکھلا دیا گیا، پھر وحی کے ذریعے بھی تائید ہوئی، تو یہ صحابہ کو خواب دکھا دیا گیا وحی سے پہلے ہی بطورِ تعظیم کے، صحابہ کی تعظیم کے طور پر ان کو پہلے ہی خواب میں یہ طریقہ بتلا دیا گیا بھئی اور پھر وحی کے ذریعے بھی اس کی تائید کی گئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ تھی اذان کا آغاز کی صورت بھئی۔
یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”وَصِفَةُ الْأَذَانِ مَعْرُوفَةٌ“ اور اذان کا طریقہ جو ہے معروف ہے، سب کو یعنی معلوم ہے، ”وَهُوَ كَمَا أَذَّنَ الْمَلَكُ النَّازِلُ مِنَ السَّمَاءِ“ اور وہ جس طرح کہ اذان دی تھی اس فرشتے نے جو اترا تھا آسمان سے۔ ”وَلَا تَرْجِيعَ فِيهِ“ اور اذان کے اندر ترجیع نہیں ہے بھئی، ترجیع۔ بھئی، ترجیع کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے، ترجیع یہ ہے کہ اذان میں جو شہادتین ہیں: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ اور ”أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ“، یہ جو شہادتین ہیں، ان کو پہلے دو دو مرتبہ آہستہ آواز سے کہا جائے اور پھر بلند آواز سے کہا جائے، یہ ہے ترجیع۔ ترجیع کا معنی لوٹانا، لوٹانا۔ تو پہلے ان کو آہستہ آواز سے کہا اور پھر انہی کو دوبارہ لوٹایا، دوبارہ ان کو دہرایا اونچی آواز کے ساتھ، یہ کیا ہے؟ ترجیع۔ ہماری اذان میں ترجیع نہیں بھئی، ترجیع نہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ اذان میں ترجیع ہے۔ بعض روایات میں اس کا ذکر آتا ہے بھئی، ترجیع ہے۔ تو ہمارے نزدیک اذان کے کلمات جو ہیں وہ پندرہ ہیں بھئی، پندرہ۔ شروع میں چار مرتبہ ”اللّٰهُ أَكْبَرُ“ ہے، پھر ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ یہ دو مرتبہ، پھر ”أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ“ یہ دو مرتبہ، کتنے ہو گئے؟ آٹھ ہو گئے۔ پھر ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ دو مرتبہ اور پھر ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ دو مرتبہ، کتنے ہو گئے؟ بارہ، اور پھر ”اللّٰهُ أَكْبَرُ“ دو مرتبہ، چودہ ہو گئے اور ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ یہ پندرہ بھئی۔ تو اذان کے کلمات ہمارے نزدیک پندرہ ہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک انیس ہیں، کیونکہ وہ شہادتین پہلے ان کو دو دو مرتبہ آہستہ آواز سے کہا جائے اور پھر دو دو مرتبہ بلند آواز سے، تو وہ چار کلمات ان کے زائد ہو گئے، انہی کو چار مرتبہ اونچی آواز سے کہنا ہے، تو ان کے نزدیک اذان کے کلمات انیس ہیں بھئی۔ تو یہ جو پہلے آہستہ آواز سے شہادتین کہی جائیں اور پھر اونچی آواز سے، اس کو کہتے ہیں ترجیع بھئی، ترجیع بھئی، انہی کا لوٹانا، انہی شہادتین کا دہرانا بھئی۔ تو ترجیع کا کیا معنی؟ لوٹانا، دہرانا۔
”وَلَا تَرْجِيعَ فِيهِ“ اور اذان کے اندر ترجیع نہیں ہے اور ترجیع کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ أَنْ يُرَجِّعَ فَيَرْفَعَ صَوْتَهُ بِالشَّهَادَتَيْنِ بَعْدَ مَا خَفَضَ بِهِمَا“ اور وہ یہ کہ لوٹائے بھئی، پس بلند کرے اپنی آواز کو شہادتین کے ساتھ بعد اس کے کہ جب ان دونوں کے ساتھ آواز کو پست کیا تھا، یعنی پہلے پست کیا تھا، اس کے بعد بلند آواز کے ساتھ ان کو پھر لوٹائے بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِيهِ ذٰلِكَ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”فِيهِ“ یعنی اذان کے اندر ”ذٰلِكَ“ وہ ہے، یعنی ترجیع ہے، ترجیع ہے ”لِحَدِيثِ أَبِي مَحْذُورَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَمَرَهُ بِالتَّرْجِيعِ“ حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی وجہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ترجیع کا حکم دیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ترجیع کا حکم دیا تھا۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ لَا تَرْجِيعَ فِي الْمَشَاهِيرِ“ کہ مشہور احادیث کے اندر ترجیع کا ذکر نہیں ہے، اذان کی جو مشہور احادیث ہیں ان میں ترجیع کا ذکر نہیں۔ ”وَكَانَ مَا رَوَاهُ تَعْلِيمًا“ اور وہ حدیث جس کو انہوں نے روایت کیا ہے، یعنی کہ حضور علیہ السلام نے ان کو ترجیع کا حکم دیا تھا، ”تَعْلِيمًا“ تو حضور کا یہ حکم دینا بطورِ تعلیم کے تھا، ”فَظَنَّهُ تَرْجِيعًا“ تو حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو ترجیع سمجھے۔ وہ کیا سمجھے؟ حضور علیہ السلام نے ان کو تعلیم دینے کے لیے یہ حکم دیا تھا اور وہ اس کو ترجیع سمجھے کہ باقاعدہ اذان ہی اس طرح دینی ہے، حالانکہ حضور علیہ السلام ان کو بطورِ تعلیم کے یہ حکم فرما رہے تھے تاکہ ان کے دل میں ایمان پوری طرح اپنی جگہ بنا لے، تاکہ ان کے دل میں ایمان پوری طرح اپنی جگہ بنا لے۔
یہ حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یاد رکھیے، یہ مکہ والوں کے مؤذن تھے، حضور علیہ السلام نے ان کو مکہ میں مؤذن مقرر فرمایا بھئی۔ اور واقعہ اس کا یوں ہوا کہ فتحِ مکہ کے بعد مکہ کے قریب ہی کہیں حضور علیہ السلام صحابہ کے ہمراہ تھے اور نماز کا وقت ہوا، تو حضور علیہ السلام نے اذان کا حکم دیا اور وہ صحابہ جب وہ اذان دے رہے تھے، یہ حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی بچے تھے بھئی اور یہ بچوں کے ساتھ کھیل میں لگے ہوئے تھے کہیں قریب ہی بھئی، اور ابھی یہ مسلمان نہیں تھے بھئی۔ صحابی جو ہیں وہ جب اذان کے کلمات کہتے، یہ کھیل رہے تھے بچوں کے ساتھ، یہ بھی اونچی آواز کے ساتھ ان کی نقل اتارتے بھئی۔ ادھر یہ اذان کے کلمات صحابی کہتے، ادھر وہ بچوں کے اندر اونچی آواز میں اس کی نقل اتارتے تھے بھئی۔ جب اذان ہو گئی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کون بچوں میں اذان دے رہا تھا؟ ذرا اس کو بلاؤ بھئی۔
تو حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بلایا اور تو وہ خوف کی وجہ سے وہ پھر آئے بھئی کہ اگر میں نہیں جاؤں گا تو یہ نہ ہو کہیں یہ مجھے ڈانٹیں گے، غصے ہوں گے یا کہیں یہ نہ ہو پٹائی کریں، بچے تھے بھئی۔ بڑے کو دیکھ کر جیسے انسان ڈرتا ہے کوئی بڑا بات کہے، تو کہتے ہیں وہ آ گئے بھئی، آ گئے۔ تو آئے تو حضور علیہ السلام نے حکم دیا کہ کہو بھئی وہ اذان کے کلمات اونچی آواز سے۔ تو انہوں نے اونچی آواز سے وہ کلمات کہے لیکن اور تھے سمجھدار بھئی اور مومن نہیں تھے، تو چنانچہ جب وہ شہادتین پر پہنچے، ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ اور ”أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ“ پر، تو یہ کلمات جان بوجھ کر آہستہ کہے، کیونکہ مومن تو وہ تھے نہیں، اس بات کو تو تسلیم نہیں کرتے تھے اور اب انکار بھی نہیں کر سکتے کہ یہ سارے لوگ موجود ہیں اس وقت، کیسے انکار کروں میں؟ تو چنانچہ یہ کلمات ذرا آہستہ آواز سے کہے۔ تو حضور علیہ السلام نے حکم دیا ان کلمات کو پھر لوٹانے کا کہ اونچی آواز سے کہو، تو پھر ان کلمات کو انہوں نے اونچی آواز سے کہا بھئی۔ تو یہ ہے، تو یہ حضور علیہ السلام نے ان کے دل میں ایمان کو جمانے کے لیے، پختہ کرنے کے لیے ان کو یہ حکم دیا تھا، بطورِ تعلیم کے تھا لیکن وہ اس کو کیا سمجھے کہ ترجیع یعنی طریقہ ہی یہ ہے، اسی طرح اذان دی جائے گی۔
اور پھر جب انہوں نے اذان دے دی تو حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر کے اگلے حصے کے جو بال ہیں ان پر ہاتھ رکھا اور پھر اس ہاتھ کو پھیرتے ہوئے میرے چہرے پر لے آئے، میرے چہرے سے پھیرتے ہوئے میری گردن پر لے آئے اور میری گردن سے پھیرتے ہوئے سینے تک حضور علیہ السلام کا ہاتھ پہنچ گیا۔ فرماتے ہیں کہ جب حضور علیہ السلام نے جس وقت ہاتھ نہیں رکھا تھا، تو دنیا میں مجھے سب سے زیادہ نفرت اس شخص سے تھی جو میرے ساتھ کھڑا تھا، یعنی حضور علیہ السلام سے سب سے زیادہ نفرت تھی لیکن جب حضور علیہ السلام نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے پھیرتے ہوئے میرے سینے تک لے آئے، تو حضور علیہ السلام نے ابھی جوں جوں ہاتھ پھیرتے چلے گئے، میرے سینے کے اندر ٹھنڈک محسوس ہونے لگی اور حضور علیہ السلام نے ابھی سینے سے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا کہ دنیا میں سب سے بڑھ کر محبوب میری وہ شخصیت ہو گئی بھئی۔ تو یہ حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ، تو یہ ان کی آواز بڑی اونچی تھی، ان کو پھر حضور علیہ السلام نے مکہ کا مؤذن مقرر فرمایا بھئی، اونچی آواز تھی۔
اور صحابہ کا عشق بھئی، کیسا عجیب عشق دیا تھا اللہ نے! انسان سن کر حیران رہتا ہے، ان کی قربانیاں، ان کی زندگیاں دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے اور صحابہ کا ذکر بھی آ جائے تو دل کے اندر عجیب ایمانی حلاوت اور لذت محسوس ہوتی ہے بھئی۔ وہ لوگ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی زندگیاں جو ہیں جو حضور علیہ السلام کے احکام پر چلنے میں گزار دیں، کسی مشکل کی پروا نہیں کی، نہ اپنے رشتہ داروں کی پروا کی، نہ اپنی زمین اور جائیدادوں کی پروا کی، نہ اپنے وطن کی پروا کی، بس حضور علیہ السلام کے احکام پر چلنے کے لیے یہ ہر وقت تیار رہتے تھے بھئی۔
اور حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ انہوں نے سر کے اگلے حصے پر سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھِ مبارک رکھا تھا، چنانچہ حضرت ابو محذورہ نے پھر زندگی بھر سر کے اس اگلے حصے کے بال نہیں کٹوائے بھئی کہ اس پر میرے محبوبِ اعظم کا ہاتھ لگا ہے، ان بالوں کو پھر انہوں نے نہیں کٹوایا بھئی۔ تو یہ حضور علیہ السلام نے مکہ میں ان کو مؤذن مقرر فرمایا بھئی۔
اور چار مؤذن مشہور ہیں بھئی حضور علیہ السلام کے۔ ایک حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی، وہ سید المؤذنین ہیں۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا ہیں؟ سید المؤذنین ہیں۔ اسی طرح یہ حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یہ مکہ میں مؤذن تھے۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی، یہ نابینا تھے، یہ بھی مؤذن تھے۔ اسی طرح حضرت سعد قرظ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی، یہ بھی حضور کے زمانے میں اذان دیا کرتے تھے۔
تو کہتے ہیں: ”لِحَدِيثِ أَبِي مَحْذُورَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ“ حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی وجہ سے ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَمَرَهُ بِالتَّرْجِيعِ“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ترجیع کا حکم دیا، ”وَلَنَا أَنَّهُ لَا تَرْجِيعَ فِي الْمَشَاهِيرِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ مشہور احادیث میں ترجیع نہیں ہے، ”وَكَانَ مَا رَوَاهُ تَعْلِيمًا فَظَنَّهُ تَرْجِيعًا“ اور وہ جس حدیث کو انہوں نے روایت کیا، یعنی حضور علیہ السلام نے جو ان کو حکم دیا تھا، ”تَعْلِيمًا“ یہ بطورِ تعلیم کے تھا، ”فَظَنَّهُ تَرْجِيعًا“ تو انہوں نے اس کو ترجیع سمجھا بھئی۔
”وَيَزِيدُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ بَعْدَ الْفَلَاحِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، مَرَّتَيْنِ“ اور بڑھا دے مؤذن فجر کی اذان میں بعد الفلاح، یعنی حی علی الفلاح کہنے کے بعد، ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ کیا لفظ بڑھا دے؟ ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ کے الفاظ کا اضافہ کرے ”مَرَّتَيْنِ“ دو مرتبہ۔ بھئی، یہاں یاد رکھیے، ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“۔ نوم، نوم میں واؤ آ رہا ہے اور واؤ سے پہلے نون پر فتحہ ہے۔ بھئی، آپ نے پڑھا ہے صرف کے اندر کہ الف، واؤ اور یا ان کو حروفِ مدہ کہتے ہیں جب ان کے ماقبل کی حرکت ان کے موافق ہو۔ یعنی یا سے پہلے کسرہ آ جائے، واؤ سے پہلے ضمہ آئے اور الف سے پہلے فتحہ، الف سے تو پہلے ہوتا ہی ہمیشہ فتحہ ہے، تو بہرحال واؤ اور یا کے اندر بھی ان سے پہلے اگر واؤ سے پہلے ضمہ آئے اور یا سے پہلے کسرہ آئے تو ان کو حرفِ مدہ کہیں گے۔ مد کا معنی ہے کھینچنا، کیونکہ اس صورت میں یہ آواز کے کھینچنے کا فائدہ دیں گے۔ یا سے پہلے کسرہ آئے تو کیا کرے فائدہ دے گی یا؟ اسی کسرے کو کھینچ کر لمبا کر دے گی۔ اور اسی طرح واؤ سے پہلے ضمہ آئے تو وہ فائدہ کیا دے گا واؤ؟ اسی ضمے کو لمبا کر دے گا بھئی۔ تو اس وقت ان کو حرفِ مدہ کہیں گے، لیکن واؤ اور یا سے پہلے اگر حرکت فتحے کی آئے، یعنی وہ حرکت ان کے موافق نہ ہو۔ واؤ کے موافق تو ضمہ تھا لیکن ماقبل میں کیا آ گیا؟ فتحہ۔ یا یا کے موافق تو کسرہ تھا لیکن یا سے پہلے کیا آ گیا؟ فتحہ۔ اس صورت میں ان کو حرفِ لین کہتے ہیں، لام یا نون حرفِ لین۔ حرفِ لین کہتے ہیں، اب یہ حرفِ مدہ نہیں، اب یہ آواز کو لمبا کرنے کا فائدہ نہیں دیں گے۔ لہٰذا ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ دیکھیے، واؤ سے پہلے نون پر فتحہ آیا تو لہٰذا یہ واؤ حرفِ لین ہے، حرفِ مدہ نہیں، لہٰذا یہاں یہ آواز کو لمبا کرنے کا فائدہ نہیں دے گا، یہاں آواز لمبی نہیں کی جائے گی۔ آواز لمبی، ہاں، بعض لوگ اذان دیتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں، اس نوم کو بھی نووووم خوب لمبا کر کے کھینچ دیتے ہیں حالانکہ یہاں تو واؤ حرفِ مدہ ہے ہی نہیں۔ ہاں، عرب کی اذان سنیں آپ، اس میں آپ دیکھیں گے کہ یہ نوم کے لفظ کو بڑا ہی مختصر پڑھتے ہیں: ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“۔ باقی الفاظ کو لمبا کریں گے جہاں مد آ رہا ہے لیکن نوم کا لفظ بڑا ہی مختصر سا، ذرا بھی اس میں مد نہیں کریں گے اور یہ ہے صحیح طریقہ بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَزِيدُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ بَعْدَ الْفَلَاحِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، مَرَّتَيْنِ“ کہ بڑھا دے فجر کی اذان میں حی علی الفلاح کے بعد ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ دو مرتبہ، ”لِأَنَّ بِلَالًا رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ اس لیے کیونکہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“۔ تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اذان کے بعد آ کر حضور علیہ السلام کو اطلاع دیتے، فجر کے وقت اذان دی اور پھر آ کر حضور علیہ السلام کو اطلاع دی، گھر کے باہر کھڑے ہو کر فرمانے لگے: ”الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ“۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ حضور علیہ السلام تو سوئے ہوئے ہیں۔ تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس وقت فرمایا: ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“۔ تو بعد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور علیہ السلام کو بتلایا ہوگا بیدار کر کے، تو حضور علیہ السلام پھر حضرت بلال سے فرمانے لگے کہ اے بلال، یہ کتنے اچھے کلمات ہیں، ایسا کرو ان کو اپنی اذان میں داخل کر دو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو ہم کہتے ہیں ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“، یہ وہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ ہیں۔ یہ دیکھیے، حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رنگ وغیرہ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو حبشی ہیں، کالا رنگ ہے لیکن کیا مقام اللہ نے ان کو نصیب فرمایا ہے کہ اس وقت دنیا کے چاروں کونوں کے اندر جب بھی اذان دی جاتی ہے، اس میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وہ الفاظ اس میں ہمیشہ ذکر کیے جاتے ہیں فجر کے اندر بھئی۔ تو یہ وہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ ہیں۔
دیکھیے، یہی ذکر کر رہے ہیں: ”لِأَنَّ بِلَالًا رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، حِينَ وَجَدَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَاقِدًا“ کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ نماز نیند سے بہتر ہے جس وقت انہوں نے حضور علیہ السلام کو سویا ہوا پایا، ”فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَا أَحْسَنَ هٰذَا يَا بِلَالُ!“ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: کتنا اچھا ہے یہ اے بلال! یعنی یہ الفاظ، یہ کلمات کیا ہیں؟ کتنے اچھے ہیں اے بلال! ”اِجْعَلْهُ فِي أَذَانِكَ“ اس کو اپنی اذان میں کر دو، یعنی اس میں داخل کر دو۔ ”وَخُصَّ الْفَجْرُ بِهِ لِأَنَّهُ وَقْتُ نَوْمٍ وَغَفْلَةٍ“ اور اس کو خاص کیا گیا فجر کی اذان کے ساتھ کیونکہ وہ وقت نیند اور غفلت کا ہے، تو یہ الفاظ صرف کس اذان میں ہیں؟ فجر کی اذان میں ہیں۔
”وَالْإِقَامَةُ مِثْلُ الْأَذَانِ“ اور اقامت بھی اذان کی طرح ہی ہے، ”إِلَّا أَنَّهُ يَزِيدُ فِيهَا بَعْدَ الْفَلَاحِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، مَرَّتَيْنِ“ مگر یہ کہ اس میں اقامت کے اندر بڑھا دے حی علی الفلاح کے بعد، کونسے لفظ بڑھائے؟ ”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ“ یہ لفظ بڑھا دے ”مَرَّتَيْنِ“ دو مرتبہ۔ ”هٰكَذَا فَعَلَ الْمَلَكُ النَّازِلُ مِنَ السَّمَاءِ“ اسی طرح کیا اس فرشتے نے جو اترا تھا آسمان سے، ”وَهُوَ الْمَشْهُورُ“ اور یہی مشہور ہے۔ ”ثُمَّ هُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِي قَوْلِهِ: إِنَّهَا فُرَادَى فُرَادَى، إِلَّا قَوْلَهُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ“ پھر یہ جو ہے حدیث جو ہے یہ حجت ہے، دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف ان کے اس قول کے اندر کہ ”إِنَّهَا فُرَادَى فُرَادَى“ کہ اقامت جو ہے وہ ایک ایک مرتبہ ہے ”إِلَّا قَوْلَهُ“ مگر یہ قول جو ہے ”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ“۔
بھئی، دیکھیے ہمارے نزدیک، میں نے ابھی ذکر کر دیا، اذان کے کلمات پندرہ ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں ترجیع بھی ہے تو ان کے نزدیک انیس الفاظ ہیں، انیس کلمات ہیں۔ اسی طرح اقامت کے اندر بھی وہ اختلاف کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں اقامت کے اندر کلمات ایک ایک دفعہ ذکر ہوں گے۔ کتنی مرتبہ؟ ایک۔ ہاں، شروع میں ”اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ“ وہ پہلے چار دفعہ تھا، اب کتنی دفعہ ہوگا؟ دو دفعہ، اور پھر اس کے بعد ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ ایک مرتبہ، ”أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ“ ایک مرتبہ، ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ ایک مرتبہ، ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ ایک مرتبہ، ہاں ”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ“ یہ دو مرتبہ ہوگا اور پھر اس کے بعد ”اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ“، ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ بھئی۔ تو یہ کتنے کلمات ہوئے؟ گیارہ کلمات ہوئے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اقامت کے گیارہ کلمات ہیں۔ جبکہ ہمارے نزدیک اقامت کے وہی اذان والے پندرہ کلمات بھی اور دو مرتبہ ”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ“ کا اضافہ بھی بیچ میں ہو گیا، کتنے ہو گئے؟ سترہ۔ تو ہمارے نزدیک اقامت کے کلمات ہیں سترہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ہیں گیارہ ہیں بھئی۔
”وَيَتَرَسَّلُ فِي الْأَذَانِ وَيَحْدُرُ فِي الْإِقَامَةِ“ اور ترسل کرے اذان میں اور حدر کرے اقامت میں۔ ترسل کا معنی ہے ٹھہر ٹھہر کر کہنا بھئی، یعنی الگ الگ ایک ایک کلمے کو دوسرے سے الگ الگ کہنا۔ اور حدر کہتے ہیں جلدی جلدی کہنا، جیسے اقامت میں آپ دیکھتے ہیں کہ جلدی جلدی الفاظ کہے جاتے ہیں، یعنی ملا کر، درمیان میں وقفہ نہیں کیا جاتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ترسل کا معنی ٹھہر ٹھہر کر یعنی سکتہ کر کے، رک کر، ایک کلمے کو دوسرے کلمے سے الگ کرتے ہوئے، جبکہ اقامت میں حدر ہوگا جلدی جلدی کہی جائے گی۔ کہتے ہیں: ”وَيَتَرَسَّلُ فِي الْأَذَانِ وَيَحْدُرُ فِي الْإِقَامَةِ“ اور ترسل کرے اذان میں اور حدر کرے اقامت میں، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے: جب تو اذان دے تو ترسل کر، یعنی ٹھہر ٹھہر کر کلمات کہو ”وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ“ اور جب تو اقامت کہے تو حدر کر، یعنی جلدی جلدی کہہ ملا کر۔ ”وَهٰذَا بَيَانٌ لِلِاسْتِحْبَابِ“ اور یہ استحباب کا بیان ہے، یعنی اذان میں یہ جو ترسل ہے اور اقامت میں جو حدر ہے یہ کیا ہے؟ یہ مستحب ہے بھئی۔ تو یہ جو حدیث میں آیا یہ استحباب بیان ہو رہا ہے، یہ وجوب کے لیے نہیں ہے بھئی امر بھئی۔
”وَيَسْتَقْبِلُ بِهِمَا الْقِبْلَةَ“ اور استقبال کرے ان دونوں کے اندر قبلے کا، یعنی قبلہ رخ ہو اذان میں بھی اور اقامت میں بھی ان دونوں کے اندر، ”لِأَنَّ النَّازِلَ مِنَ السَّمَاءِ أَذَّنَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ فرشتہ جو اترا تھا آسمان سے اس نے اذان دی تھی کس طرف رخ کر کے؟ قبلے کی طرف رخ کر کے۔ ”وَلَوْ تَرَكَ الِاسْتِقْبَالَ جَازَ“ اور اگر استقبالِ قبلہ کو چھوڑ دیا، یعنی قبلے کی طرف رخ نہ کیا، ”جَازَ“ پھر بھی جائز ہے ”لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ“ کیونکہ مقصود حاصل ہو گیا۔ اذان کے اندر کس طرف رخ کرے؟ قبلے کی طرف رخ کرے، لیکن اگر قبلے کی طرف رخ نہ کرے تو پھر بھی جائز ہے کیونکہ مقصد حاصل ہو گیا، کیونکہ اذان کا مقصد کیا ہے؟ لوگوں کو نماز کے وقت کی اطلاع دینا مقصد ہے، وہ حاصل ہو گیا۔ لیکن جائز تو ہے، ”وَيُكْرَهُ لِمُخَالَفَةِ السُّنَّةِ“ اور مکروہ ہے سنت کی مخالفت کی وجہ سے، کیونکہ مسنون طریقہ کیا ہے کہ قبلہ رخ ہو کر اذان دی جائے۔
”وَيُحَوِّلُ وَجْهَهُ لِلصَّلَاةِ وَالْفَلَاحِ يَمْنَةً وَيَسْرَةً“ اور پھیرے اپنے چہرے کو للصلاۃ، یعنی حی علی الصلاۃ کے لیے ”وَالْفَلَاحِ“ اور حی علی الفلاح کے لیے۔ اس میں وہ اذان دینے والا اپنے چہرے کو پھیرے ”يَمْنَةً وَيَسْرَةً“ دائیں طرف اور بائیں طرف بھئی، دائیں طرف اور یعنی حی علی الصلاۃ جب کہنے لگے تو چہرہ دائیں طرف پھیرے بھئی۔ ہاں، قدموں کو نہیں پھیرنا، قدم اسی جگہ پر رہیں، سینہ بھی اسی طرح قبلہ رخ رہے، صرف کس کو پھیرنا ہے؟ چہرے کو پھیرنا ہے ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ کہتے ہوئے دائیں طرف اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہتے ہوئے چہرے کو بائیں طرف پھیرنا ہے۔ یہ معنی ہے ”وَيُحَوِّلُ وَجْهَهُ لِلصَّلَاةِ وَالْفَلَاحِ يَمْنَةً وَيَسْرَةً“ اور پھیرے اپنے چہرے کو صلاۃ اور فلاح کے لیے دائیں طرف اور بائیں طرف، ”لِأَنَّهُ خِطَابٌ لِلْقَوْمِ فَيُوَاجِهُهُمْ“ بھئی، کیوں یہ دائیں اور بائیں کیوں چہرے کو پھیرے گا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ خِطَابٌ لِلْقَوْمِ“ کیونکہ یہ خطاب ہے قوم کو، لوگوں کو خطاب ہے: ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ جلدی آؤ نماز کی طرف، ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ جلدی آؤ فلاح کی طرف، بھلائی کی طرف بھئی۔ تو دیکھیے، تو یہ اب خطاب ہو رہا ہے، جلدی آؤ، لوگوں کو خطاب کیا جا رہا ہے، تو لہٰذا اس میں ”فَيُوَاجِهُهُمْ“ ان کی مواجہت کرے، یعنی ان کا سامنا کرے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مواجہت کسے کہتے ہیں؟ کسی کا سامنا کرنا، کسی کے بالمقابل ہونا، اس کے سامنے ہونا، تو اس میں بھی اسی وجہ سے یہ کلمات کہتے ہوئے ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو، اپنا چہرہ ان کی طرف پھیر دے۔
”وَإِنِ اسْتَدَارَ فِي صَوْمَعَتِهِ فَحَسَنٌ“ اور اگر یہ گھوم گھوم گیا، استدارہ کا معنی گھوم جانا، اور اگر وہ اذان دینے والا گھوم جائے ”فِي صَوْمَعَتِهِ“ صومعہ وہ اذان کے لیے جو اونچی جگہ بنائی جاتی ہے وہ ہے صومعہ بھئی۔ اصل میں صومعہ جو ہے وہ یاد رکھیے عیسائیوں کے عبادت خانے کو کہتے تھے لیکن اسی طرح یہ لفظ کس کے لیے استعمال ہونے لگا؟ جو اذان کے لیے اونچی جگہ جو بنائی جاتی اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ صومعہ۔ بعضوں نے اس کا ترجمہ منار کے ساتھ کیا، بہرحال جو بھی جگہ ہو جو اذان کے لیے بنائی گئی ہے تو وہ صومعہ ہے بھئی، صومعہ۔ اور اگر وہ گھوم گیا اپنے صومعہ کے اندر ”فَحَسَنٌ“ تو یہ اچھا ہے۔
بھئی دیکھیے، یاد رکھیے جو اذان ہے یہ مسجد سے باہر کہی جاتی ہے اور بلند جگہ پر تاکہ لوگوں تک سب تک آواز پہنچ جائے، اب تو سپیکر آ گئے اب تو بلند جگہ کی ضرورت نہ رہی، لیکن پہلے کیا کیا جاتا تھا؟ اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر مسجد سے باہر اور اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر اذان دی جاتی تھی تاکہ دور تک آواز پہنچے بھئی، جو دور رہتے ہیں ان کو بھی پتہ چل جائے وہ بھی نماز کے لیے پہنچ جائیں بھئی۔ تو اب اب تو سپیکر وغیرہ کی وجہ سے اس کی ضرورت نہ رہی کہ اونچی جگہ پر دی جائے، ہاں البتہ یہ ہے مسجد سے باہر اذان دی جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ باہر دی جاتی ہے اذان، اور اقامت وہ تو نماز کھڑی ہونے لگی ہے صف کے اندر کھڑے ہو کر مسجد کے اندر ہی ہوگی۔ اب جو اونچی جگہ بنائی جاتی تھی، اس میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ صومعہ۔ اور اس میں وہ مینار کی سی شکل ہوتی اور اس میں کھڑکیاں اوپر گنبد سا بنا ہوتا اور ارد گرد کیا ہوتی؟ کھڑکیاں وغیرہ ہوتیں۔ تو اگر یہ اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر حی علی الصلاۃ کہتے ہوئے دائیں طرف رخ کرتا ہے اور کھڑکی سامنے ہے اس کے، پھر تو اپنی جگہ سے ہلنے کی ضرورت نہیں، سینہ پھیرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اسی طرح آواز دائیں طرف والوں کو جا رہی ہے اور حی علی الفلاح کہتے ہوئے بائیں طرف رخ کرتا ہے اور کھڑکی سامنے ہی ہے اس کی طرف رخ ہو جاتا ہے، آواز دور تک جا رہی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو اس صورت میں تو ہلنے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر کچھ اس طرح بنا ہوا ہے کہ کھڑکی قریب نہیں ہے ذرا فاصلے پر ہے، اب تھوڑے سے فاصلے پر ہے، کچھ تھوڑی سی کھلی جگہ ہے، اب اگر رخ بھی پھیرے گا تو بھی آواز پھر دور تک نہیں جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اس صورت میں وہ اس کی طرف گھوم کر رخ کر سکتا ہے، یہ ذکر فرما رہے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
یہ معنی ہے کہ ”وَإِنِ اسْتَدَارَ فِي صَوْمَعَتِهِ فَحَسَنٌ“ اور اگر وہ اپنے صومعہ کے اندر گھوم گیا، یعنی اس اذان کی وہ جو اونچی جگہ ہے اس کے اندر گھوم گیا تو ”فَحَسَنٌ“ تو بہتر ہے، اچھا ہے۔ ”وَمُرَادُهُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ تَحَوُّلَ الْوَجْهِ يَمِينًا وَشِمَالًا“ اور مراد یہ ہے صاحبِ کتاب کی کہ جب وہ اذان دینے والا استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ پھیرے اپنے چہرے کو دائیں اور بائیں، یعنی دائیں اور بائیں پھیرنے کی جب استطاعت نہیں رکھتا پھر اس وقت کیا کرے؟ اس کھڑکی کے کی طرف بھی رخ کر سکتا ہے۔ کھڑکی مثلاً کندھے کے ذرا پیچھے کو ہے تھوڑی سی، اب صرف چہرہ پھیرنے سے تو اس کے سامنے نہیں ہوتا تو اس کے سامنے ”مَعَ ثَبَاتِ قَدَمَيْهِ مَكَانَهُمَا“ ثبات کا معنی جمے رہنا، ”ثَبَاتِ قَدَمَيْهِ“ اپنے دونوں قدموں کو کے جمے ہوتے ہوئے ”مَكَانَهُمَا“ ان کی جگہ پر۔ دونوں قدم اب اس جگہ پر جمے ہوئے ہوں، اس حالت میں وہ دائیں اور بائیں چہرے کو پھیرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو پھر یہ مراد ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ”كَمَا هُوَ السُّنَّةُ“ جیسے کہ یہ سنت ہے بھئی، یعنی اپنے قدموں کو اسی جگہ رکھے اور صرف چہرے کو، سنت تو یہ ہے قدم وہیں جمے ہونے چاہئیں، سینہ سیدھا ہی رہنا چاہیے، صرف کس کو پھیرنا چاہیے؟ چہرے کو پھیرنا چاہیے۔ لیکن یہاں پر اب وہ استطاعت ہی نہیں رکھتا، وہ صومعہ ہی کچھ اس قسم کا بنا ہوا ہے کہ اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ کچھ نہ کچھ گھوم کر اس کے سامنے آنا پڑے گا جو کھڑکی بنی ہوئی ہے دائیں اور بائیں، تو پھر اس صورت میں ان کے سامنے آ کر کہہ سکتا ہے، کیونکہ مقصد لوگوں کو اطلاع دینا ہے اور اس کے اندر زیادہ پھر دور تک آواز جائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ ”بِأَنْ كَانَتِ الصَّوْمَعَةُ مُتَّسِعَةً“ بایں طور کہ وہ صومعہ جو ہے ”مُتَّسِعَةً“ تھوڑا کھلا ہے، وسیع ہے، تو پھر اس صورت میں یہ حکم ہے۔ ”فَأَمَّا مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ فَلَا“ اور باقی بغیر ضرورت کے پھر یعنی صومعے کے اندر گھومنا تو کہتے ہیں ”فَلَا“ پھر یہ اچھا نہیں ہے بھئی۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
”وَالْأَفْضَلُ لِلْمُؤَذِّنِ أَنْ يَجْعَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ“ اور افضل مؤذن کے لیے یہ ہے کہ وہ کر دے اپنی دونوں انگلیاں ”فِي أُذُنَيْهِ“ اپنے دونوں کانوں میں۔ بھئی، یہ جو شہادتین کی دو انگلیاں ہیں، شہادت کی، تو یہ اس کو دونوں کانوں میں ڈال کر پھر اذان دی جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ”بِذٰلِكَ أَمَرَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِلَالًا“ اور اسی کے ساتھ یہی حکم دیا تھا حضور علیہ السلام نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو، ”وَلِأَنَّهُ أَبْلَغُ فِي الْإِعْلَامِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ زیادہ بلیغ ہے اعلان کے اندر۔ زیادہ، اس میں زیادہ مبالغہ ہوگا اعلان کے اندر، یعنی آواز خوب اونچی ہوگی۔ حضور علیہ السلام نے بھی حدیث میں آتا ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ انگلیاں کانوں میں ڈال لو، اس سے آواز اونچی ہوگی، اس سے کیا ہوگی؟ آواز اونچی ہوگی۔ ”وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَحَسَنٌ“ اور اگر ایسا نہ کرے ”فَحَسَنٌ“ تو بھی اذان کیا ہے؟ اچھی ہے، ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ أَصْلِيَّةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ سنتِ اصلیہ نہیں۔ یہ کوئی شرعی حکم نہیں دیا حضور علیہ السلام نے کہ کانوں میں کیا کر لے؟ انگلیاں ڈال لے، بلکہ خود اس کی وجہ بھی حضور نے آگے ذکر فرما دی کہ اس کی وجہ سے آواز کیا ہو جائے گی؟ اونچی ہو جائے گی۔ معلوم ہوا یہ صرف آواز کو اونچا کرنے کے لیے حضور علیہ السلام نے حکم دیا تھا، تو لہٰذا افضل تو یہی ہے کہ اسی طرح دی جائے اذان جس طرح حضور علیہ السلام نے حکم دیا تھا لیکن اگر اس کو چھوڑ بھی دیا تو بھی درست ہے۔
”وَالتَّثْوِيبُ فِي الْفَجْرِ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، مَرَّتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ، حَسَنٌ“ اور تثویب کرنا فجر کے اندر کس کے ساتھ؟ حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح کے ساتھ ”مَرَّتَيْنِ“ دو مرتبہ ”بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ“ اذان اور اقامت کے درمیان ”حَسَنٌ“ یہ بہتر ہے بھئی، بہتر ہے۔ تثویب، یاد رکھیے، تثویب کا معنی بھی ہے لوٹانا، لوٹانا۔ اسی سے ثواب بھی ہے، کیونکہ ثواب بھی کیا ہے کہ انسان کے عمل کا نفع اسی کی طرف لوٹ کر آتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو تثویب کا معنی ہے لوٹانا اور اصطلاح میں تثویب کہتے ہیں، اذان اور اقامت کے درمیان لوگوں کو کو پھر مطلع کرنا نماز پر، پھر اعلان کرنا اذان اور اقامت کے درمیان۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اذان اور اقامت کے درمیان پھر لوگوں کو کہنا بھئی ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ دو دو مرتبہ، حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح دو دو مرتبہ بھئی۔ تثویب سمجھ بھی آئی کہ نہیں؟ بھئی دیکھیے، ایک مرتبہ اذان ہو گئی ہے اور اذان کے بعد اب سب کو پتہ چل گیا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے، نماز کی تیاری میں مشغول ہو۔ لیکن پھر اس کے درمیان بیچ میں پھر کیا کہہ دیا، بیٹھے ہوئے لوگ تھے کچھ ان کو کیا کہہ دیا؟ نماز کا وقت ہو گیا ہے، کسی کوئی بھی لفظ ہو جائے، یہ نہیں حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح جو انہوں نے ذکر کیا انہی لفظوں کے ساتھ ہے بلکہ جن لفظوں کے ساتھ بھی ہو جائے کہ ان کو پھر کہہ دیں بھئی نماز کا وقت ہو گیا ہے، نماز کھڑی ہونے لگی ہے، اس طرح کے لفظوں کے ساتھ، یہ تثویب ہے۔ یہ کیا ہے؟ تثویب۔ تو دیکھو اطلاع دے رہے ہیں آپ، اعلان کے بعد اعلان، ایک دفعہ اعلان ہو چکا، اذان ہو چکی، پھر اس کے بعد اس اعلان کو لوٹا رہے ہیں آپ، ان کو پھر کیا کہہ رہے ہیں کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے، یہ ہے تثویب بھئی۔ یہ کیا ہے؟ تثویب۔ اب یہ کہتے ہیں، فجر میں حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح دو دو مرتبہ کہہ کر تثویب کرنا اذان اور اقامت کے درمیان ”حَسَنٌ“ یہ کیا ہے؟ اچھی ہے، ”لِأَنَّهُ وَقْتُ نَوْمٍ وَغَفْلَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ نیند اور غفلت کا وقت ہے، تاکہ لوگ کیا ہو جائیں؟ متوجہ ہو جائیں بھئی۔ ”وَكُرِهَ فِي سَائِرِ الصَّلَوَاتِ“ اور مکروہ ہے یہ تثویب فی سائر الصلوات، باقی نمازوں کے اندر۔ فجر میں کہی جائے اور باقی نمازوں میں نہ کہی، فجر میں کیوں کہی جائے؟ کیونکہ فجر نیند اور غفلت کا وقت ہے بھئی۔
”وَمَعْنَاهُ الْعَوْدُ إِلَى الْإِعْلَامِ“ تثویب کا معنی بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ تثویب کا معنی ہے ”الْعَوْدُ إِلَى الْإِعْلَامِ“ اطلاع کی طرف، اعلان کی طرف رجوع کرنا، یعنی پھر لوگوں کو اطلاع دینا، ان کو اعلان کرنا۔ ”وَهُوَ عَلَى حَسَبِ مَا تَعَارَفُوهُ“ اور یہ اسی کے مطابق ہوگی جس کو وہ جو ان میں متعارف ہو۔ یعنی متعارف طریقے کے مطابق ہوگی، یہی حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہنا ضروری نہیں، کوئی بھی لفظ ہو جائیں: ”الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ“ نماز کیا ہے؟ جمع کرنے والی ہے یا آپ اپنی زبان میں کہہ دیتے ہیں نماز کا وقت ہو گیا ہے یا آپ کہہ دیتے ہیں نماز کھڑی ہو گئی، کھڑی ہونے والی ہے بھئی، جماعت کا وقت ہو رہا ہے، جن لفظوں سے بھی ذکر کر دیں یہ کیا ہے؟ تثویب ہے، تثویب ہے۔ اسی لیے کہا ”وَهُوَ عَلَى حَسَبِ مَا تَعَارَفُوهُ“ یہ اسی کے مطابق جیسے کہ ان میں لوگوں میں متعارف ہو اسی کے مطابق ہوگی جس طرح بھی ہو، چاہے عربی میں ہو، چاہے اپنی زبان میں ہو۔
”وَهٰذَا تَثْوِيبٌ أَحْدَثَهُ عُلَمَاءُ الْكُوفَةِ بَعْدَ عَهْدِ الصَّحَابَةِ“ اور یہ جو تثویب ہے، یعنی اذان اور اقامت کے درمیان جو اعلان کیا جاتا ہے، اطلاع دی جاتی لوگوں کو کہا جاتا، ”أَحْدَثَهُ عُلَمَاءُ الْكُوفَةِ“ اس کو ایجاد کیا تھا کوفہ کے علماء نے ”بَعْدَ عَهْدِ الصَّحَابَةِ“ صحابہ کے زمانے کے بعد ”لِتَغَيُّرِ أَحْوَالِ النَّاسِ“ لوگوں کے احوال بدل جانے کی وجہ سے۔ کیونکہ صحابہ کے بعد بھئی اور بہت سے لوگ اسلام کے اندر داخل ہوئے بھئی اور اور زمانہ آہستہ آہستہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے وقت دور ہوتا چلا جا رہا ہے، تو دین کے اندر تھوڑی تھوڑی کچھ سستی پیدا ہونا شروع ہوئی، تو انہوں نے کیا کیا؟ اس تثویب کو ایجاد کیا تاکہ لوگوں کو پھر اطلاع کر دی جائے اذان اور اقامت کے درمیان کہ نماز کا وقت ہو رہا ہے۔ یہ معنی ہے ”وَهٰذَا“ کس کو ایجاد کیا تھا کوفہ کے علماء نے ”بَعْدَ عَهْدِ الصَّحَابَةِ“ صحابہ کے زمانے کے بعد ”لِتَغَيُّرِ أَحْوَالِ النَّاسِ“ لوگوں کے احوال بدل جانے کی وجہ سے کہ لوگوں میں کیا آ گئی تھی؟ کچھ سستی۔
”وَخَصُّوا الْفَجْرَ بِهِ لِمَا ذَكَرْنَا“ اور خاص کیا اس کو فجر کے ساتھ ہی کہ اسی میں تثویب وہ اسی میں تثویب کرتے ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، کیونکہ یہ وقت کیا ہے؟ نیند اور غفلت والا ہے۔ ”وَالْمُتَأَخِّرُونَ اسْتَحْسَنُوهُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا“ اور متاخرین جو ہیں انہوں نے اس کو پسند کیا ہے تمام نمازوں میں، کہ تمام نمازوں میں تثویب کی جا سکتی ہے، بہتر ہے۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِظُهُورِ التَّوَانِي فِي الْأُمُورِ الدِّينِيَّةِ“ توانی کہتے ہیں سستی کو، سستی ظاہر ہو جانے کی وجہ سے امورِ دینیہ کے اندر۔ امورِ دینیہ میں کیا آ گئی ہے لوگوں کے اندر؟ سستی آ گئی ہے تو اس لیے بہتر ہے ہر نماز میں کے لیے تثویب جائز ہے، یعنی اذان اور اقامت کے درمیان۔
”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا أَرَى بَأْسًا أَنْ يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ لِلْأَمِيرِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا“ کہ ”لَا أَرَى بَأْسًا“ میں کوئی حرج نہیں دیکھتا اس بات میں ”أَنْ يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ“ کہ مؤذن یہ کہے ”لِلْأَمِيرِ“ امیر سے۔ امیر جو ہے جو حاکم ہے اس سے مؤذن یہ کہے ”فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا“ تمام نمازوں میں، تو یہ کہنے میں میں کوئی حرج نہیں دیکھتا، اس یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں، کہہ سکتا ہے۔ کیا کہہ سکتا ہے؟ یہ: ”السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، الصَّلَاةُ يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یعنی ان لفظوں کے ساتھ تثویب کرے۔ پہلے جا کر کیا کر دے؟ امیر کو جا کر سلام کر دیتا ہے اور پھر کہتا ہے: ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، الصَّلَاةُ يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ تو یہ کہنے میں امیر کو، حاکم کو یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ ”وَاسْتَبْعَدَهُ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور اس کو بعید سمجھا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے، ”لِأَنَّ النَّاسَ سَوَاسِيَةٌ فِي أَمْرِ الْجَمَاعَةِ“ وہ اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ تمام لوگ جو ہیں برابر ہیں جماعت کے معاملے میں۔ تمام لوگ جماعت کے معاملے میں برابر ہیں، یہاں کسی امیر اور غیرِ امیر یعنی حاکم اور غیرِ حاکم کے اندر کوئی فرق نہیں ہے، لہٰذا ان کے لیے جیسے عام لوگوں کے لیے تثویب صحیح نہیں، تو اس حاکم کے لیے بھی تثویب صحیح نہیں ہے بھئی۔
”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ خَصَّهُمْ بِذٰلِكَ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے یہ جو امیر ہیں، جو حاکم ہیں، ان کی تخصیص کی ہے اس کے ساتھ، کیوں؟ ”لِزِيَادَةِ اشْتِغَالِهِمْ بِأُمُورِ الْمُسْلِمِينَ“ بوجہ ان کے زیادہ مشغول ہونے کے مسلمانوں کے معاملات میں، کیونکہ یہ لوگ جو ہیں حاکم ہے جیسے، وہ کس کے امور میں زیادہ مشغول ہے؟ مسلمانوں کے امور میں مشغول ہے، کوئی ایک آدمی آئے گا اپنا مقدمہ لے کر، کبھی دوسرا آدمی آئے گا اپنا مسئلہ لے کر، تو یہ لوگ چونکہ ہر وقت مسلمانوں کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں، ان کی مشغولیت زیادہ ہے، لہٰذا ان کے لیے تثویب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی، تثویب میں کوئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِزِيَادَةِ اشْتِغَالِهِمْ بِأُمُورِ الْمُسْلِمِينَ“ بوجہ ان کے زیادہ مشغول ہونے مسلمانوں کے معاملات میں ”كَيْ لَا تَفُوتَهُمُ الْجَمَاعَةُ“ تاکہ کہیں ان سے جماعت رہ نہ جائے، اس لیے تثویب ان کو کرنا درست ہے۔ ”وَعَلَى هٰذَا الْقَاضِي وَالْمُفْتِي“ اور اسی پر ہے قاضی بھی اور مفتی بھی، یعنی ان کے لیے بھی تثویب کرنا درست ہے بھئی، تثویب کرنا درست ہے بھئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تثویب درست ہے قاضی، مفتی کے لیے اور حاکم وغیرہ کے لیے۔ وجہ یہ کہ یہ لوگ بھی لوگوں کے معاملات میں مشغول رہتے ہیں ہر وقت، تو ان کے لیے تثویب کرنے میں کوئی حرج نہیں تاکہ کہیں ان کی جماعت نہ رہ جائے بھئی، مشغولیت کی وجہ سے پتہ ہی نہ چلے۔ اور مشغولیت بھی کوئی اپنی مشغولیت نہیں ہے بلکہ کیا مشغولیت ہے؟ مسلمانوں کے معاملات میں ہی مشغولیت ہے، لہٰذا ان کو تثویب کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ جبکہ ”وَاسْتَبْعَدَهُ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو بعید سمجھا ہے، بعید سمجھا ہے یعنی اس کا اس کو رد کیا ہے کہ سارے لوگ جماعت کے معاملے میں برابر ہیں چاہے حاکم ہو چاہے غیرِ حاکم۔ لیکن بہرحال یاد رکھیے بھئی، فتویٰ اسی پر ہے متاخرین کے نزدیک تثویب جائز ہے بھئی، تثویب کیا ہے؟ جائز ہے بھئی جائز ہے، کیونکہ امورِ دینیہ کے اندر سستی آ گئی ہے تو لہٰذا اگر اذان اور اقامت کے درمیان کسی کو نماز کی طرف متوجہ کیا جائے تو یہ تثویب ہے اور یہ مستحسن ہے، پسندیدہ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔