وَخَصَّ أَوَائِلَ الْمُسْتَنْبِطِينَ بِالتَّوْفِيقِ حَتَّى وَضَعُوا مَسَائِلَ مِنْ كُلِّ جَلِيٍّ وَدَقِيقٍ، غَيْرَ أَنَّ الْحَوَادِثَ مُتَعَاقِبَةُ الْوُقُوعِ، وَالنَّوَازِلَ يَضِيقُ عَنْهَا نِطَاقُ الْمَوْضُوعِ، وَاقْتِنَاصُ الشَّوَارِدِ بِالِاقْتِبَاسِ مِنَ الْمَوَارِدِ۔
وَخَصَّ أَوَائِلَ الْمُسْتَنْبِطِينَ: اور اللہ نے خاص فرمایا—"أَوَائِل" جمع ہے "أَوَّل" کی—پہلے استنباط کرنے والوں کو۔ استنباط کا معنی میں نے بیان کیا تھا کہ کسی بات میں غور و فکر کر کے اس سے نئی بات معلوم کرنا، یہ کیا ہے؟ استنباط ہے۔ جیسے قرآن و حدیث میں غور و فکر کر کے اس سے احکام کا نکالنا، یہ استنباط ہے۔
اور اللہ نے خاص فرمایا پہلے استنباط کرنے والوں کو توفیق کے ساتھ، یعنی اللہ نے ان کو خاص طور پر یہ توفیق دی، حَتَّى وَضَعُوا مَسَائِلَ مِنْ كُلِّ جَلِيٍّ وَدَقِيقٍ: یہاں تک کہ انہوں نے مدون کیے مسائل من کل جلی، ہر قسم کے ظاہر—جلی کہتے ہیں ظاہر کو، واضح کو، ہر قسم کے ظاہر اور واضح مسائل مدون کیے—ودقیق، دقیق کہتے ہیں گہری بات کو جو غور و فکر کے بغیر سمجھ میں نہ آئے بھئی۔ ہر قسم کے واضح اور گہرے مسائل انہوں نے مدون کیے۔
غَيْرَ أَنَّ الْحَوَادِثَ مُتَعَاقِبَةُ الْوُقُوعِ: "غَيْرَ" یہاں استثناء کے لیے آیا ہے، مگر یہ کہ أَنَّ الْحَوَادِثَ—"حَوَادِث" جمع ہے "حَادِثَة" کی، اور واقعہ کو کہتے ہیں، کوئی بات جو نئی پیش آئے وہ کیا ہے؟ وہ واقعہ ہے۔ مگر یہ کہ واقعات جو ہیں مُتَعَاقِبَةُ الْوُقُوعِ: متعاقب ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے، مسلسل آنے والے، ایک کے بعد دوسرا۔ تو واقعات جو ہیں متعاقب الوقوع، مسلسل واقع ہونے والے ہیں۔
وَالنَّوَازِلَ: "نَوَازِل" جمع ہے "نَازِلَة" کی، اور نازلہ کہتے ہیں سخت مصیبت کو، لیکن یہاں اس سے مراد کیا ہیں؟ واقعات، وہی جو حوادث کا معنی ہے وہی نوازل۔ اور واقعات جو ہیں يَضِيقُ عَنْهَا: "ضَاقَ، يَضِيقُ" کے معنی تنگ ہونا، کہ واقعات جو ہیں کہ تنگ ہیں ان سے، کیا تنگ ہیں؟ نِطَاقُ الْمَوْضُوعِ۔
"نِطَاق" کہتے ہیں کمربند کو، وہ چیز یا وہ پیٹی وغیرہ جس کو کمر پر باندھا جائے وہ کیا ہے؟ نطاق ہے۔ "الْمَوْضُوعِ": وضع کیے گئے، پیچھے آیا تھا نا "حَتَّى وَضَعُوا مَسَائِلَ" یہاں تک کہ انہوں نے مسائل وضع کیے، تو جو مسائل وضع کیے گئے وہ کیا ہوئے؟ موضوع، مفعول کا وزن ہے، وضع کیے ہوئے مسائل۔ تو واقعات جو ہیں کہ تنگ ہو جاتا ہے ان سے نِطَاقُ الْمَوْضُوعِ، وضع کیے ہوئے مسائل کا کمربند۔ یعنی نطاق کا کیا معنی کیا میں نے؟ کمربند، لیکن مراد ہے یہاں دائرہ، حلقہ، جیسے کمربند نے ایک مخصوص حصے کا احاطہ کیا ہوتا ہے، اسی طرح دائرے اور حلقے نے بھی کیا کیا ہوتا ہے؟ ایک مخصوص حصے کا احاطہ کیا ہوتا ہے۔
تو واقعات جو ہیں اس سے تنگ ہو جاتا ہے، تنگ ہو گیا اس سے نِطَاقُ الْمَوْضُوعِ، وہ وضع کیے ہوئے مسائل کا دائرہ۔ وہ جو مسائل جو انہوں نے وضع کیے تھے ان کا دائرہ تنگ پڑ گیا، ان کا دائرہ کیا ہوا؟ تنگ پڑ گیا۔ بھئی مسائل تو انہوں نے بہت زیادہ وضع کیے، لیکن جتنے بھی وضع کیے، چاہے لاکھ تھے، دو لاکھ تھے، تین لاکھ تھے، دس لاکھ تھے، ہیں تو محدود یا نہیں؟ ایک حد تھی ان کی یا نہیں بھئی؟ ایک حد تھی، محدود تھے، تو واقعات جو ہیں ان سے وضع کیے ہوئے مسائل کا دائرہ تنگ پڑ گیا، نئے نئے واقعات پیش آئے جو اس میں ذکر ہی نہیں تھے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟
غَيْرَ أَنَّ الْحَوَادِثَ مُتَعَاقِبَةُ الْوُقُوعِ: مگر یہ کہ واقعات جو ہیں وہ مسلسل پیش آنے والے ہیں، وَالنَّوَازِلَ يَضِيقُ عَنْهَا نِطَاقُ الْمَوْضُوعِ: اور واقعات جو ہیں کہ تنگ پڑ جاتا ہے ان سے وضع کیے ہوئے مسائل کا دائرہ۔
یہاں دراصل یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ اوائلِ مستنبطین جو تھے ان کو اللہ نے خاص طور پر یہ توفیق نصیب فرمائی کہ انہوں نے ہر طرح کے ظاہر اور گہرے مسائل مدون کیے۔ جب انہوں نے ہر طرح کے مسائل مدون کر دیے تو پھر آپ کو یہ کتاب لکھنے کی حاجت کیوں پیش آئی؟ آپ کو یہ کتاب لکھنے کی حاجت کیوں پیش آئی؟ انہوں نے سارا کچھ مدون کر دیا، سارا کچھ مسائل نکال دیے، لکھ دیے تو اس کے بعد اب یہ آگے کتابوں کا سلسلہ جو چل رہا ہے اس کی کیا ضرورت ہے؟ آپ کیوں یہ کتاب لکھ رہے ہیں؟
تو جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ہاں، انہوں نے ہر طرح کے گہرے اور ظاہری مسائل مدون کر لیے تھے، لیکن مسائل تو آپ جانتے ہیں اگرچہ وہ بہت زیادہ مسائل انہوں نے مدون کیے، لاکھ تھے، پانچ لاکھ تھے، دس لاکھ تھے، جتنے بھی تھے، لیکن تھے تو محدود، ایک حد تھی ان کی، اور نئی نئی باتیں تو پیش آتی ہی رہتی ہیں۔ تو اور بھی بہت سی نئی چیزیں پیش آئیں جو ان کے ان وضع کردہ مسائل کے دائرے سے باہر تھیں، وہ دائرہ ان کے لیے تنگ پڑ گیا، وہ نئی پیش آنے والے مسائل کیا تھے؟ اس دائرے سے باہر تھے، نئی باتیں پیش آئیں جو انہوں نے ذکر نہیں کی تھیں۔
غَيْرَ أَنَّ الْحَوَادِثَ مُتَعَاقِبَةُ الْوُقُوعِ: مگر یہ کہ نئے واقعات جو ہیں وہ مسلسل پیش آتے رہتے ہیں، وَالنَّوَازِلَ يَضِيقُ عَنْهَا نِطَاقُ الْمَوْضُوعِ: اور نئی باتیں جو ہیں تنگ پڑ جاتا ہے ان سے وضع کیے ہوئے مسائل کا دائرہ۔
وَاقْتِنَاصُ الشَّوَارِدِ: "اِقْتِنَاص" جو ہے اس کا معنی ہے شکار کرنا بھئی، شکار کرنا۔ "الشَّوَارِد" جمع ہے "شَارِدَة" کی، شاردہ کہتے ہیں بدکے ہوئے جانور کو، جو جانور آپ کے قابو سے نکل جائے، بے قابو ہو جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ شاردہ۔ عربی میں کہتے ہیں جب اونٹ قابو سے نکل جائے اور وحشی بن جائے تو کہتے ہیں: شَرَدَ الْبَعِيرُ، اونٹ کیا ہوا؟ بے قابو ہو گیا۔
تو شوارد جمع ہے شاردہ کی۔ "وَاقْتِنَاصُ الشَّوَارِدِ" کیا ترجمہ ہوگا لفظی؟ اور بے قابو جانوروں کا، وحشی جانوروں کا شکار جو ہے۔ لفظی ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن یہ تو لفظی ترجمہ ہوا، مراد یہ ہے: شوارد سے مراد ہیں مشکل مسائل۔ جیسے بے قابو جانور کو قابو میں لانا مشکل ہوتا ہے، اسی طرح بعض مسائل بڑے مشکل اور گہرے ہوتے ہیں، ہر ایک کے لیے ان کو حل کرنا ممکن نہیں ہوتا بھئی۔ اور اقتناص، شکار کرنے سے مراد ہے ان کو حل کرنا بھئی، حل کرنا۔ جانور جب قابو میں آ گیا تو اسی طرح مشکل مسئلہ جب اس میں غور و فکر کیا وہ کیا ہو جائے گا؟ حل ہو جائے گا، جیسے شکار کے ذریعے وہ جانور قابو میں آ جاتا ہے۔
وَاقْتِنَاصُ الشَّوَارِدِ: اور گہرے مسائل کو حل کرنا، بِالِاقْتِبَاسِ مِنَ الْمَوَارِدِ: تو "وَاقْتِنَاصُ الشَّوَارِدِ" یہ ہے مبتدا، "بِالِاقْتِبَاسِ مِنَ الْمَوَارِدِ" یہ کیا ہے؟ اس کی خبر ہے۔
"اِقْتِبَاس" کا معنی ہے آگ کا شعلہ حاصل کرنا، آگ حاصل کرنا، قَبَس کہتے ہیں آگ کے شعلے کو۔ لیکن یہاں اقتباس حاصل کرنے کے معنی میں ہے، حاصل کرنا۔ "مِنَ الْمَوَارِدِ": "مَوَارِد" جمع ہے "مَوْرِد" کی، اور مورد کہتے ہیں آنے کی جگہ، جیسے چشمہ ہے، چشمے کے پاس، چشمہ بھی مورد ہے آنے کی جگہ، سارے پیاسے اس کے پاس آئیں گے بھئی۔ یعنی یوں کہیں پائے جانے کی جگہ، کوئی چیز جہاں پائی جائے۔
اور الموارد کے اندر یاد رکھیے، الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے، أَيْ مَوَارِدِ الْأَحْكَامِ، احکام کے پائے جانے کی جگہیں۔ احکام کے پائے جانے کی جگہیں کون سی ہیں بھئی؟ قرآن اور حدیث بھئی، قرآن اور حدیث۔ تو موارد الاحکام وہی نصوص مراد ہیں، نص اور نصوص، یہ قرآن و حدیث کے لیے لفظ استعمال ہوتا ہے بھئی۔ نصوص میں یہ آیا ہے، کیا معنی ہے؟ نص میں آیا ہے؟ قرآن یا حدیث میں آیا ہے۔ تو موارد سے مراد ہیں نصوص بھئی، احکام کے پائے جانے کی جگہیں، یعنی احکام کے پائے جانے کی جگہوں سے حاصل کرنے کے ساتھ ہوگا۔
اور مشکل مسائل کو حل کرنا، یہ کس طرح ہوگا؟ بِالِاقْتِبَاسِ مِنَ الْمَوَارِدِ: نصوص سے، احکام کے پائے جانے کی جگہوں سے اخذ کرتے ہوئے ہوگا، وہاں سے حاصل کرتے ہوئے ہوگا۔ مشکل مسائل کیسے حل ہوں گے؟ کہاں سے اخذ کریں گے ہم ان کو؟ قرآن و حدیث کی روشنی ہی میں حل کریں گے، تو وہاں سے حاصل کرتے ہوئے، وہاں سے اخذ کرتے ہوئے مشکل مسائل حل ہوں گے بھئی۔
وَالِاعْتِبَارُ بِالْأَمْثَالِ: "اِعْتِبَار": "اِعْتَبَرَ، يَعْتَبِرُ، اِعْتِبَارًا" کے معنی ہوتے ہیں سبق حاصل کرنا بھئی، سبق حاصل کرنا، عبرت پکڑنا۔ اسی طرح اس کا معنی ہے قیاس کرنا بھئی، قیاس کرنا۔ قیاس بھی کیا ہے بھئی؟ دوسری چیز کو دیکھ کر انسان سبق حاصل کرتا ہے۔
آپ کو پتہ ہے شراب حرام ہے—قیاس کی بات کر رہا ہوں—شراب کیا ہے؟ حرام ہے۔ اس کا حکم نصوص میں آ چکا۔ اب ہیروئن ایک نئی چیز آئی جو اس زمانے میں تھی نہیں، اس کے حکم کا پتہ ہی نہیں، تو اب آپ کیا کریں گے؟ قیاس کریں گے، اس کا حکم نکالنا ہے، تو آپ دیکھیں گے اس جیسی کون سی چیز ہے؟ آپ نے دیکھا اس جیسی چیز شراب ہے، جیسے اس میں نشہ ہے اسی طرح اس کے اندر بھی کیا ہے؟ نشہ ہے۔ اور اس کا حکم کیا تھا؟ حرام، تو وہی حکم اب اس پر بھی لگا دیا۔ تو دیکھو آپ نے اس چیز کو دیکھ کر سبق حاصل کر لیا، پتہ لگ گیا، معلوم ہوا اس کا بھی یہی حکم ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے قیاس مولانا، قیاس۔
وَالِاعْتِبَارُ بِالْأَمْثَالِ: اور قیاس کرنا مثلوں سے۔ "أَمْثَال" جمع ہے "مِثْل" اور "مَثَل" کی۔ مثل اور مثل کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کوئی چیز جو دوسری کے مانند ہو، اس جیسی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مثل۔ اور قیاس میں بھی کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز کا حکم نکالتے ہیں اسی کے مثل چیز کو دیکھتے ہوئے۔ ہیروئن کا حکم نکالا کس کو دیکھتے ہوئے؟ کہ شراب اس کے مثل ہے، جب اس کے مثل ہے تو حکم بھی وہی آپ نے لگا دیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے، اس کی جمع ہے مثل کی امثال بھئی۔
وَالِاعْتِبَارُ بِالْأَمْثَالِ: تو امثال کا معنی یہاں کر لیں نظیر بھئی، نظیر۔ اور نظیروں سے قیاس کرنا—شراب کیا ہے؟ ہیروئن کی نظیر ہے، اس کے مثل ہے—اور نظیروں سے قیاس کرنا مِنْ صَنْعَةِ الرِّجَالِ: یہ خبر آ گئی۔ "صَنْعَة" کہتے ہیں کاریگری کو، ہنر کو، "الرِّجَال" مرد بھئی، مراد یہاں کامل مرد ہیں۔ تو نظیروں سے قیاس کرنا یہ کامل مردوں کا ہنر ہے، یہ کامل مردوں کا کام ہے۔ ہر ایک نظیروں سے قیاس نہیں کر سکتا بھئی، قیاس کرنا کس کا کام ہے؟ مجتہدین کا کام ہے، اور وہ کامل مرد ہیں بھئی۔
وَبِالْوُقُوفِ عَلَى الْمَآخِذِ يُعَزُّ عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ: "وُقُوف": "وَقَفَ، يَقِفُ، وُقُوفًا" کے معنی ٹھہرنے کے، رکنے کے، اور اسی طرح اس کا معنی ہے واقف ہونا، جان لینا۔ یہاں جان لینے کے معنی میں ہے۔ "مَآخِذ" جمع ہے "مَأْخَذ" کی، جہاں سے کسی چیز کو اخذ کیا جائے، لیا جائے۔ "مَآخِذ" احکام کے مآخذ، وہی قرآن و حدیث، یعنی دلائل۔ واقف ہونا، مطلع ہونا دلائل پر۔
"يُعَزُّ عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ": یہ حال ہے بھئی، اس حال میں کہ "عَضَّ، يَعَضُّ" کے معنی دانتوں سے کسی چیز کو پکڑنا۔ "نَوَاجِذ" کہتے ہیں داڑھوں کے دانت۔ اور یہ عربی میں محاورہ ہے، کوئی شخص جب کسی چیز کو مضبوطی سے تھام لے تو کہتے ہیں اس نے اس کو داڑھ کے ساتھ تھام لیا۔ کنایہ ہے عربی میں کسی چیز کو مضبوطی سے تھامنا۔
تو وہ مآخذ، اس حال میں کہ جن کو تھاما جاتا ہے دانتوں کے ساتھ، یعنی ایک مسئلہ ہے، آپ نے اس میں غور کیا اور بڑی مدت غور کے بعد، بڑی محنت کے بعد بالاخر آپ کو دلیل اس کی ملی، اور دلیل سے وہ مسئلہ حل ہو گیا۔ اب جب مشکل کے بعد آپ نے اس مسئلے کو حل کیا ہے، تو کیا آپ اس کی دلیل کو اب ہمیشہ یاد رکھیں گے یا نہیں رکھیں گے؟ آپ ہمیشہ اس کو یاد رکھیں گے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ وہ مآخذ، وہ دلیلیں جو ہیں اس حال میں کہ ان کو مضبوطی سے تھاما جاتا ہے۔ جب انسان دلیل پر مطلع ہوتا ہے، اور وہ بھی مشکل کے بعد اس پر مطلع، تو پھر اس کو کوشش کرتا ہے بھولے نہ بھئی، ہمیشہ اس کو یاد رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو دانتوں سے تھامنے کا کیا معنی ہے؟ مراد کیا ہے؟ ان کو مضبوطی سے یاد رکھتا ہے۔
اور قیاس کرنا دلیلوں پر مطلع ہو کر، جن کو مضبوطی سے تھاما جاتا ہے، یہ کامل مردوں کا کام ہے۔
وَقَدْ جَرَى عَلَيَّ الْمَوْعِدُ فِي مَبْدَإِ بِدَايَةِ الْمُبْتَدِي: اور تحقیق جاری ہوا تھا مجھ پر وعدہ—"مَوْعِد" مصدر ہے وعد کے معنی میں—تحقیق جاری ہوا تھا مجھ پر وعدہ، یعنی میں نے وعدہ کیا تھا، بدایۃ المبتدی کے شروع میں، أَنْ أَشْرَحَهَا بِتَوْفِيقِ اللَّهِ تَعَالَى: کہ میں اس کی شرح کروں گا اللہ کی توفیق سے، شَرْحًا أَرْسُمُهُ بِكِفَايَةِ الْمُنْتَهَى: ایسی شرح جس کا نام میں کفایۃ المنتہی رکھوں گا۔ "رَسَمَ، يَرْسُمُ" کے معنی ہوتے ہیں لکھنے کے، یہاں مراد ہے نام رکھنا۔ جس کا نام میں کفایۃ المنتہی رکھوں گا۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ بدایۃ المبتدی کی ابتدا کے اندر میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں بدایۃ المبتدی کی شرح لکھوں گا اللہ کی توفیق سے، ایسی شرح جس کا نام کفایۃ المنتہی ہوگا۔
فَشَرَعْتُ فِيهِ: تو پس میں اس میں شروع ہوا، اس شرح کے کرنے میں شروع ہوا۔
وَالْوَعْدُ يُسَوِّغُ بَعْضَ الْمَسَاغِ: اور وعدہ کچھ کام کو آسان کر دیتا ہے۔ بھئی ایک کام بڑا مشکل ہو انسان کے لیے دشوار ہو، لیکن جب کسی سے وعدہ کر بیٹھے تو اب دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میں نے تو وعدہ کر لیا ہے اب کرنا تو ہے، تو پھر کچھ نہ کچھ آسان لگتا ہے بھئی۔ تو یہی صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں بطورِ عاجزی کے یہ عبارت لے کر آئے کہ اگرچہ مجھ میں تو اہلیت نہیں ہے میں اس قابل تو نہیں ہوں کیونکہ موارد پر مطلع ہونا اور ان سے مسائل کا نکالنا یہ کامل مردوں کا کام ہے، یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں، لیکن میں وعدہ کر بیٹھا تھا کیا کرتا، اور وعدے کی وجہ سے کام کچھ نہ کچھ آسان ہو جاتا ہے، تو میں اس میں شروع ہوا۔
وَحِينَ أَكَادُ أَتَّكِئُ عَنْهُ اتِّكَاءَ الْفَرَاغِ: اور جس وقت کہ میں قریب ہوا کہ تکیہ لگاؤں اس سے فارغ ہو کر—"اِتَّكَأَ" کے معنی ہوتے ہیں تکیہ لگانے کے، انسان جب کسی کام کو پورا کر لیتا ہے تو پھر کسی چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہے، تھک گیا ہے تو اب کیا کرے گا وہ؟ ٹیک لگا کر بیٹھ جائے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: اور جس وقت کہ میں قریب ہوا کہ اس سے فارغ ہو کر تکیہ لگاؤں، یعنی اس کے پورا ہونے کے قریب پہنچ گئی، تقریباً پوری ہو گئی—
تَبَيَّنْتُ فِيهِ: تو مجھے معلوم ہوا اس شرح میں، نَبْذًا مِنَ الْإِطْنَابِ: کچھ طوالت۔ "نَبْذ" کا معنی ہوتا ہے تھوڑا سا، معمولی سا، اور "إِطْنَاب" کہتے ہیں طوالت کو، تو مجھے اس میں کچھ طوالت معلوم ہوئی بھئی۔ کتنی جلدوں میں تھی وہ کفایۃ المنتہی؟ اسی (80) جلدوں میں تھی، تو کہتے ہیں جب میں اختتام کے قریب پہنچا تو مجھے وہ شرح کچھ طویل لگی بھئی۔
یاد رکھیے، علمِ بلاغت میں آپ پڑھیں گے مختصر المعانی میں: ایک ہے اطناب، ایک ہے تطویل۔ اطناب کا معنی بھی طوالت، تطویل کا معنی بھی طوالت، لیکن فرق یہ ہے دونوں کے اندر کہ تطویل جو طوالت ہے وہ بغیر فائدے کے ہے، ایک بات آپ نے کرنی تھی چار لفظوں میں آپ نے پانچ لفظ استعمال کر دیے، بات آپ نے لمبی کر دی اور اس زائد لفظ کا کوئی فائدہ بھی نہیں، اور آپ نے بات کرنی تھی وہ مسئلہ ادا ہو سکتا تھا چار لفظوں میں آپ نے کتنے استعمال کر لیے؟ چھ کر لیے یا دس کر لیے، لیکن وہ جو زائد لفظ ایک یا دو استعمال کیے وہ بھی فائدے سے خالی نہیں، ان کا بھی کچھ نہ کچھ زائد فائدہ تھا۔ تو یہ ہے اطناب، اور بغیر فائدے کے زائد لفظ ہو تو یہ تطویل ہے۔ صاحبِ ہدایہ اطناب کا لفظ لائے، اشارہ کر دیا اگرچہ اس میں طوالت تھی لیکن وہ طوالت بھی فائدے سے خالی نہیں تھی، اس میں فائدے تھے بڑے۔ تو کہتے ہیں: "تَبَيَّنْتُ فِيهِ نَبْذًا مِنَ الْإِطْنَابِ" تو معلوم ہوا مجھے اس میں کچھ طوالت معلوم ہوئی۔
چلیے بس بھئی، هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔