”وَيَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى؛ لِأَنَّهُ تَكْرَارُ الْأَرْكَانِ، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَسْتَفْتِحُ وَلَا يَتَعَوَّذُ؛ لِأَنَّهُمَا لَمْ يُشْرَعَا إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى.“
نماز کا طریقہ ذکر ہو رہا ہے۔ گزشتہ سبق کے آخر میں بیان ہوا تھا کہ جب پہلی رکعت مکمل ہو جائے، یعنی پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ کر لے پھر کیا کرے؟ نماز پڑھنے والا اپنے پنجوں کے بل سیدھا کھڑا ہو جائے اور اپنے ہاتھ بھی زمین پر نہ رکھے اور بیٹھے بھی نہ۔ سجدے سے اٹھ کر بیٹھے بھی نہ، جلسہ بھی نہ کرے اور ہاتھ بھی زمین پر نہ رکھے، بلکہ ہاتھ کہاں پر رکھتا ہوا کھڑا ہو جائے؟ گھٹنوں پر رکھتا ہوا کھڑا ہو جائے بھئی، گھٹنوں کا سہارا لے۔
اور دلیل ذکر ہوئی تھی کہ حضور علیہ السلام جو ہیں وہ نماز میں اپنے قدموں کے پنجوں پر اٹھتے تھے بھئی، پنجوں پر اٹھتے تھے۔ تو معلوم ہوا زمین پر سہارا نہیں لیتے تھے بھئی، کیونکہ اگر انسان زمین پر سہارا لے گا تو پھر پنجوں کے بل اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی، زمین پر سہارا۔ اور نیز معلوم ہوا جلسۂ استراحت بھی نہیں کرتے تھے، کیونکہ اگر جلسۂ استراحت کرتے ہوں پھر بھی پنجوں پر اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔
”وَيَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى“ اور نماز پڑھنے والا کرے گا دوسری رکعت میں بھی اسی طرح جس طرح اس نے پہلی رکعت میں کیا تھا، یعنی اسی طرح سارے افعال سرانجام دے گا، ”لِأَنَّهُ تَكْرَارُ الْأَرْكَانِ“ کیونکہ یہ کیا ہے؟ ارکان کا تکرار ہے دوسری رکعت، اس میں وہی ارکان کا تکرار ہوگا، یہ اسی کی طرح ہوگی۔
”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَسْتَفْتِحُ وَلَا يَتَعَوَّذُ“ مگر یہ کہ اس میں استفتاح نہیں پڑھے گا اور تعوذ نہیں پڑھے گا بھئی۔ استفتاح بھئی وہ جو شروع میں ثناء پڑھتے ہیں اس کو استفتاح کہتے ہیں: ”سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ“ یہ ثناء، یہ ہے استفتاح۔ یہ دوسری رکعت میں نہیں پڑھے گا، صرف یہ پہلی رکعت میں ہے۔ اور نیز اسی طرح دوسری رکعت میں اعوذ باللہ بھی نہیں پڑھے گا، وہ بھی صرف کس میں ہے؟ پہلی رکعت میں ہے۔ یہ معنی ہے ”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَسْتَفْتِحُ وَلَا يَتَعَوَّذُ“ اور اس میں مگر یہ کہ اس دوسری رکعت میں استفتاح نہیں کرے گا اور تعوذ نہیں کرے گا۔
”لِأَنَّهُمَا لَمْ يُشْرَعَا إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں، یعنی استفتاح اور تعوذ یہ مشروع نہیں ہوئے مگر ایک ہی مرتبہ، یہ نماز میں ایک ہی مرتبہ مشروع ہوئے ہیں، ایک ہی مرتبہ ان کو کیا جائے گا بھئی۔
”وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى“ اور ہاتھوں کو، اپنے دونوں ہاتھوں کو نماز پڑھنے والا نہیں اٹھائے گا—”وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ“ اور نماز پڑھنے والا اپنے دونوں ہاتھوں کو نہیں اٹھائے گا—”إِلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى“ سوائے پہلی تکبیر کے۔ یعنی جب نماز کا آغاز کر رہا تھا تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے، صرف اس وقت ہاتھ اٹھانے ہیں، اس کے بعد کسی تکبیر پر ہاتھ نہیں اٹھانے۔ ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ”فِي الرُّكُوعِ وَفِي الرَّفْعِ مِنْهُ“ رکوع میں اور رکوع سے اٹھتے وقت بھئی۔ اس میں امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں رکوع میں جھکتے وقت اس وقت بھی رفع یدین کیا جائے گا اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی کیا کیا جائے گا؟ رفع یدین کیا جائے گا، دونوں ہاتھوں کو اٹھایا جائے گا۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول... نہیں، یہ ہماری دلیل آگے ذکر ہو رہی ہے۔
اور ہاتھوں کو دونوں ہاتھوں کو نہیں اٹھائے گا سوائے تکبیر اولیٰ کے، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے رکوع میں اور رکوع سے اٹھتے وقت۔ اور تو یہ متن میں کیا آیا تکبیر اولیٰ کے علاوہ ہاتھوں کو نہیں اٹھائے گا، اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي إِلَّا فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ“ کہ ہاتھ نہیں اٹھائے جائیں گے مگر سات جگہوں میں۔ سات جگہیں ہیں: ”تَكْبِيرَةُ الِافْتِتَاحِ“ ایک تو تکبیر افتتاح، نماز کے آغاز کی جو تکبیر ہے اس میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے یعنی تکبیر تحریمہ میں، ”وَتَكْبِيرَةُ الْقُنُوتِ“ اور دوسری کیا ہے؟ تکبیر قنوت، وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کے لیے اس کے لیے جو تکبیر پڑھی جاتی ہے اس میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے، ”وَتَكْبِيرَاتُ الْعِيدَيْنِ“ اور جو عید دونوں عیدوں کی تکبیریں ہیں زائد ان میں کیا کیے جائیں گے؟ ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔ تو یہ حدیث میں آ رہا ہے۔ ”وَذَكَرَ الْأَرْبَعَ فِي الْحَجِّ“ اور حضور علیہ السلام نے چار کو ذکر فرمایا حج میں۔ تو یہ تین یہ ہیں اور چار جگہیں کس کے اندر ہیں؟ حج کے اندر ہیں، وہاں پر رفع یدین کیا جائے گا۔ اور اس کے اندر دیکھیے رکوع سے اٹھنے اور جھکنے ان دونوں جگہوں کا ذکر نہیں۔ معلوم ہوا رکوع میں جھکتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین نہیں کیا جائے گا۔
”وَالَّذِي يُرْوَى مِنَ الرَّفْعِ مَحْمُولٌ عَلَى الِابْتِدَاءِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہاتھوں کو اٹھایا جائے گا رکوع میں جھکتے وقت بھی اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی کیونکہ حدیث میں آیا ہے بھئی، حدیث میں آیا ہے۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ ”وَالَّذِي يُرْوَى مِنَ الرَّفْعِ“ اور وہ جو روایت کیا گیا ہے رفع یعنی اٹھانا یہ دونوں ہاتھوں کا، ”مَحْمُولٌ عَلَى الِابْتِدَاءِ“ یہ کس پر محمول ہے؟ ابتداء پر، یعنی ابتدائے اسلام پر۔ شروع کے اندر حضور علیہ السلام نماز میں رکوع میں جھکتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین فرمایا کرتے تھے، لیکن پھر آپ نے اس کو ترک کر دیا اور چھوڑ دیا تو آپ کا آخری عمل کیا ہے؟ رفع یدین کو ترک کرنا ہے بھئی۔
اور یہ ہم ویسے نہیں کہتے، ”كَذَا نُقِلَ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ جیسے کہ نقل کیا گیا ہے حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔ حضرت عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ ایک مرتبہ کہتے ہیں مسجد الحرام میں تھے مکہ مکرمہ میں، ایک شخص کو دیکھا نماز پڑھ رہا ہے اور رکوع میں جھکتے وقت بھی اس نے رفع یدین کیا اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی رفع یدین، تو حضرت عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو اس سے فرمانے لگے بھئی یہ حاشیے میں حدیث دی ہوئی ہے، اس سے فرمانے لگے: ”لَا تَفْعَلْ“ کہ ایسا نہ کرو، ”فَإِنَّ هَذَا شَيْءٌ فَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَرَكَهُ“ کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جس کو حضور علیہ السلام نے کیا، ”ثُمَّ تَرَكَهُ“ پھر اس کو چھوڑ دیا۔ معلوم ہوا یہ ابتداء میں تھا رفع یدین، پھر حضور علیہ السلام نے اس کو چھوڑ دیا بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَالَّذِي يُرْوَى مِنَ الرَّفْعِ مَحْمُولٌ عَلَى الِابْتِدَاءِ كَذَا نُقِلَ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور وہ جو روایت کیا گیا ہے رفع کا، یعنی ہاتھوں کے اٹھانے کو، وہ محمول ہے ابتداء پر جیسا کہ نقل کیا گیا ہے حضرت عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔
تو بھئی یہ رفع یدین کا مسئلہ اور اس میں بڑا اختلاف اور بڑی کتابیں لکھیں علماء نے بھئی، بڑی کتابیں۔ حالانکہ اختلاف صرف اولویت یا سنیت کے اندر ہے، یہ اختلاف معمولی سا ہے۔ ہمارے نزدیک اولیٰ کہیں یا یوں کہیں سنت جو ہے وہ ترکِ رفع یدین ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سنت کیا ہے؟ رفع یدین ہے بھئی۔ تو یہ اختلاف صرف اولویت میں ہے۔ ہمارے نزدیک اولیٰ ترک ہے، ترکِ رفع یدین، اور ان کے نزدیک اولیٰ کیا ہے؟ اولیٰ رفع یدین ہے۔ یا یوں کہیں ہمارے نزدیک سنت ترکِ رفع یدین ہے اور ان کے نزدیک سنت کیا ہے؟ رفع یدین۔ تو یہ اختلاف صرف اولویت یا سنیت کا ہے۔
اور ہمارے نزدیک بھی اگر کوئی رفع یدین نماز میں کرتا ہے تو یہ مفسدِ صلاۃ نہیں ہے۔ ہاں، اولیٰ یہ ہے کہ کیا کرے؟ ترکِ رفع یدین کرے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اگر کوئی رفع یدین کو ترک کرتا ہے تو اس کی نماز کوئی فاسد نہیں ہوگی۔ ہاں، اولیٰ اور سنت کیا ہے ان کے نزدیک؟ رفع یدین۔ تو یہ صرف اولویت اور سنیت کا اختلاف ہے اور اس میں علماء نے بڑی کتابیں لکھیں۔ تو یہ کوئی اتنا بڑا اختلاف نہیں، لیکن بہرحال چونکہ رفع یدین ایک محسوس چیز ہے، آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے، اس وجہ سے دل میں ذرا تعصب کا پھر احساس ابھرتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک آدمی آپ کو نظر آ رہا ہے وہ کیا کر رہا ہے؟ رفع یدین کر رہا ہے، تو اس وجہ سے یہ کچھ تعصب کا احساس ہوتا ہے اور یہ انسان کی اس کی طرف زیادہ توجہ ہو جاتی ہے، اسی وجہ سے علماء نے اس کے اندر مستقل کتابیں لکھیں اگرچہ یہ بڑا کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں، صرف مسئلہ کس چیز کا ہے؟ اولویت یا سنیت کا۔
اور اس میں بھی یاد رکھیے، میں نے ذکر کیا احناف کے پاس ہر مسئلے میں پہاڑ کی طرح مضبوط دلائل موجود ہیں۔ بہت سے دلائل بھئی، اگر یہاں ذکر کیے جائیں تو میرا خیال کئی سبق صرف ان دلائل پر ہی صرف ہو جائیں بھئی، کئی سبق۔ صرف دلائل ہی ہم ذکر کرتے چلے جائیں اپنے، تو آسان جواب یہی یہ بہرحال یاد رکھیے کہ یہ کیا ہے؟ جیسے صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا یہ ابتدائے اسلام کے اندر تھا اور آخری عمل حضور علیہ السلام کا ترکِ رفع یدین تھا۔ نیز ہماری دلیل یہ بھی ہے کہ خلفائے راشدین کا عمل ترکِ رفع یدین ہے۔ خلفائے راشدین کا عمل کیا ہے؟ ترکِ رفع یدین ہے، وہ رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔ عشرہ مبشرہ جو ہیں وہ ترکِ رفع یدین کے قائل ہیں، وہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح یاد رکھیے، اہل مدینہ جو تھے وہ سارے ترکِ رفع یدین کے قائل تھے اور مدینہ تو صحابہ کا مرکز تھا، معلوم ان کو حضور علیہ السلام کے فعل کا بخوبی علم تھا اور وہ ترکِ رفع یدین کرتے تھے، معلوم ہوا حضور علیہ السلام کا آخری عمل بھی کیا تھا؟ ترکِ رفع یدین ہے۔
اور پھر اس میں جہاں اور دلائل آتے ہیں وہاں ایک حدیث آتی ہے جس میں حضور علیہ... جس میں آتا ہے کہ صحابہ وہ ہاتھ اٹھا رہے تھے سلام کے وقت۔ جب سلام پھیر رہے تھے اس وقت کیا کر رہے تھے؟ رفع یدین کر رہے تھے، تو حضور علیہ السلام نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمانے لگے: یہ کس طرح ہاتھوں کو بدکے ہوئے گھوڑے کی دم کی طرح ہاتھوں کو اٹھا رہے ہو؟ سمجھ میں آیا؟ ہاں، کس... تو یہ حدیث میں باقاعدہ الفاظ آتے ہیں: ”كَأَذْنَابِ خَيْلٍ شُمْسٍ“ بدکے ہوئے گھوڑے کی دم کی طرح ہاتھ اٹھا رہے ہو۔ تو یہ حدیث آتی ہے۔
اور ہم یہ حدیث ذکر کرتے ہیں، ہم کہتے ہیں دیکھیے حضور علیہ السلام نے منع فرمایا، ناراضگی کا اظہار کیا۔ صحابہ کیا کر رہے تھے؟ ہاتھوں کو اٹھا رہے تھے، اور حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ بدکے ہوئے بدکے ہوئے گھوڑے کی دم کی طرح کیا اٹھا رہے ہاتھوں کو، تو آپ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ یہ ہم بات کر رہے ہیں رکوع میں جھکنے کی اور رکوع سے اٹھنے کی، اس رفع یدین کی بات کر رہے ہیں اور یہ تو سلام کے وقت جو رفع یدین کر رہے تھے اس پر حضور علیہ السلام نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ تو جب ہم جواب میں کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں دو حدیث دو قسم کی حدیثیں ہیں۔ بعض حدیثوں میں وہ سلام کا ذکر ہے، سلام کے وقت رفع یدین کر رہے تھے۔ بعض میں وہ سلام کا ذکر نہیں ہے، سلام کا ذکر نہیں تو وہ الگ حدیث ہے اور شبہ اور شک اس لیے پڑتا ہے کہ دونوں میں ”أَذْنَابِ خَيْلٍ شُمْسٍ“ کا لفظ آتا ہے، بدکے ہوئے گھوڑے کی دم۔ یہ لفظ دونوں حدیثوں میں آتا ہے تو انسان کو شبہ پڑتا ہے شاید یہ وہی حدیث ہے، حالانکہ یہ دونوں حدیثیں الگ الگ ہیں بھئی، یہ دونوں کیا ہیں؟ اس میں سلام کے وقت رفع یدین پر ناراضگی کا اظہار ہے تو دوسری حدیث میں سلام کا ذکر نہیں ہے۔ سلام کا ذکر نہیں۔
نیز دونوں حدیثیں اس لیے بھی الگ الگ ہیں کہ ایک حدیث وہ جو حدیث آتی ہے اس میں حضور علیہ السلام نماز میں ساتھ شامل نہیں تھے، جبکہ اس جس میں درمیان میں جس کا ذکر آتا ہے اس میں حضور علیہ السلام نماز میں... ہاں، اس میں یہ آتا ہے کہ حضور علیہ السلام ہمارے ساتھ نماز میں شامل تھے، معلوم ہوا وہ الگ واقعہ ہے، یہ الگ واقعہ ہے۔
نیز اس حدیث کے الفاظ بھی اور ہیں، اس میں یہ بھی لفظ زائد ہیں کہ نماز میں پرسکون رہو بھئی، یعنی زیادہ حرکت وغیرہ نہ کرو بھئی۔ اس حدیث میں وہ لفظ بھی نہیں ہے جس میں سلام... نیز اس میں حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں نماز میں پرسکون رہو، نماز میں پرسکون رہو، ”فِي الصَّلَاةِ“، ”فِي الصَّلَاةِ“ نماز میں۔ اور وہ واقعہ ہے سلام کے وقت کا، تو اگر سلام کے وقت رفع یدین سے منع کر رہے ہوں تو پھر اس وقت ”فِي“ کا لفظ استعمال کرنا مناسب ہی نہیں ہوتا، یہ فصاحت کے بھی خلاف ہے بھئی۔ ”فِي“ تو بتلا رہا ہے نماز کے بیچ میں حضور کیا کر رہے ہیں کہ نماز کے بیچ میں پرسکون رہو۔ ”فِي الصَّلَاةِ“ کا کیا معنی؟ نماز میں پرسکون رہو۔ معلوم ہوا یہ رکوع وغیرہ کے قریب کی بات ہو رہی ہے رکوع وغیرہ کی، اور وہ تو سلام وہ تو اختتامِ صلاۃ، وہ نماز میں تو نہیں ہے، وہ تو کیا ہے؟ نماز کا اختتام ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بہرحال بس صرف مقصد دلائل ذکر کرنا نہیں تھا، بس یہ ایک وہ اعتراض اکثر ذکر کرتے ہیں کہ یہ تو صرف سلام کے وقت کے، یہ تو سلام کا واقعہ ہے اے احناف جو تم دلیل ذکر کرتے ہو کہ حضور علیہ السلام نے ہاتھوں کو اٹھانے سے منع فرمایا اور کہا کہ تم بدکے ہوئے گھوڑے کی دم کی طرح کیا ہاتھ اٹھا رہے ہو، یہ تو وہ سلام والی حدیث ہے، وہ اور حدیث میں ذکر کر دیں گے، تو اس میں پھر غلطی میں نہ پڑ جانا بھئی، وہ الگ حدیث ہے اور یہ الگ۔ اور شک اور شبہ کیوں پڑتا ہے؟ کیونکہ دونوں میں یہ لفظ ”أَذْنَابِ خَيْلٍ شُمْسٍ“ کا لفظ دونوں حدیثوں میں آ رہا ہے، لیکن اگر آپ غور کریں ان حدیثوں کے الفاظ پر، ایک میں حضور علیہ السلام نماز میں ساتھ شریک نہیں تھے، دوسرے میں سے کیا معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام نماز میں شریک۔ نیز اس کے اندر نماز اس میں نماز کے اندر سکون سے رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے، اس میں یہ بات مذکور نہیں ہے۔ اور نیز ”فِي الصَّلَاةِ“ کہ نماز میں پرسکون رہو، معلوم ہوا یہ نماز کے درمیان کی بات ہو رہی ہے، آخر کی بات نہیں ہو رہی بھئی۔
اچھا، چلیے بس یہ ویسے ایک بات ذہن میں آ گئی، میں نے سوچا آپ کو بتا دوں، ورنہ بس نفسِ متن آپ حل کرتے جائیں، بس یہ کافی ہے بھئی آپ کے لیے۔ نفسِ ہدایہ، صاحبِ ہدایہ کیا بتلا رہے ہیں، بس صرف ان کو مختصراً وہ ایک آدھ ایک آدھ دلیل ذکر کرتے چلے جاتے ہیں یا ایک آدھ جواب ذکر کرتے چلے جاتے ہیں، بس آپ اسی تک محدود رہیں اور اس کو اچھی طرح کر لیں، یہ بھی آپ کے لیے بہت ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَجَلَسَ عَلَيْهَا وَنَصَبَ الْيُمْنَى نَصْبًا وَوَجَّهَ أَصَابِعَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ“ جی، تو یہ کیا تھا؟ دوسری رکعت کا بیان۔ دوسری رکعت بھی کس کی طرح ہو جائے گی؟ پہلی رکعت کی طرح ہوگی، البتہ اس دوسری رکعت میں استفتاح اور تعوذ نہیں ہوگا، باقی سب اسی طرح ہوگا: قراءت اور قیام اور رکوع، سجدے وغیرہ۔ پھر جب ”وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ“ جب نماز پڑھنے والا اپنا سر اٹھائے دوسرے سجدے سے دوسری رکعت میں، ”افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى“ تو بچھا دے اپنے بائیں پاؤں کو، ”فَجَلَسَ عَلَيْهَا“ تو اس پر بیٹھ جائے۔ بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر... بھئی تشہد میں کیسے بیٹھنا ہے وہ بیان ہو رہا ہے۔ تو دوسری رکعت کے دوسرے سجدے سے جب اٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائے، ”وَنَصَبَ الْيُمْنَى نَصْبًا“ اور دایاں پاؤں سیدھا کھڑا کر دے، ”وَوَجَّهَ أَصَابِعَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ“ اور متوجہ کر دے اپنی انگلیوں کو قبلے کی طرف۔ یعنی دائیں پاؤں کو کھڑا کرنا ہے اور اس طرح کہ انگلیاں مڑ کر کس طرف کو ہوں؟ قبلے کی طرف، کوشش کرے جتنا ہو سکے۔
”هَكَذَا وَصَفَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا قُعُودَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ“ اسی طرح بیان فرمایا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور علیہ السلام کے بیٹھنے کو ”فِي الصَّلَاةِ“ نماز میں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیا فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام نماز میں اس طرح بیٹھا کرتے تھے۔
”وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ“ اور رکھے نماز پڑھنے والا اپنے دونوں ہاتھ ”عَلَى فَخِذَيْهِ“ اپنی رانوں پر۔ تشہد میں انسان اپنے ہاتھ کہاں رکھے؟ اپنی رانوں پر رکھے، ”وَبَسَطَ أَصَابِعَهُ“ اور کھول دے، بچھا دے اپنی انگلیوں کو۔ ہاتھ کی انگلیوں کو یعنی بند کر کے نہیں رکھنا بلکہ ان کو کھول کر رکھنا ہے، بچھا دیں ان کو یعنی تاکہ قبلہ رخ ہوں، ”وَتَشَهَّدَ“ اور کیا پڑھے؟ تشہد پڑھے۔
”يُرْوَى ذَلِكَ فِي حَدِيثِ وَائِلٍ“ یہ روایت کیا گیا ہے حضرت وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں کہ اس طرح تشہد کے اندر ہاتھوں کو کہاں رکھیں گے؟ رانوں پر رکھیں گے اور انگلیوں کو کھول دیں گے اور پھر کیا پڑھیں گے؟ تشہد۔ جی، یہ ایک تو نقلی دلیل ہو گئی حدیث بھئی حضرت وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث۔ ”وَلِأَنَّ فِيهِ“ یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں: ”وَلِأَنَّ فِيهِ تَوْجِيهَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ إِلَى الْقِبْلَةِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ اس کے اندر اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو متوجہ کرنا ہے ”إِلَى الْقِبْلَةِ“ کس طرف؟ قبلے... اس طرح جب ہاتھ رکھے گا تو انگلیاں بھی کس طرف ان کا رخ ہو جائے گا؟ قبلے کی طرف ان کا رخ ہو جائے گا، تو اس لیے بھی اس طرح ہاتھ رکھنے چاہئیں۔
”وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً“ یہ تو مرد کے بیٹھنے کا طریقہ تھا، اب عورت کس طرح بیٹھے گی وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً“ اور اگر وہ نماز پڑھنے والی عورت ہے، ”جَلَسَتْ عَلَى أَلْيَتِهَا الْيُسْرَى“ تو وہ بیٹھے گی اپنے بائیں کولہے پر۔ عورت کیا کرے گی؟ وہ اس طرح مردوں کی طرح نہیں بیٹھے گی، بلکہ وہ اپنے بائیں کولہے پر بیٹھے گی، ”وَأَخْرَجَتْ رِجْلَيْهَا مِنَ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ“ اور وہ اپنے دونوں پاؤں نکال لے گی دائیں جانب کو، اس طرح بیٹھے گی، ”لِأَنَّهُ أَسْتَرُ لَهَا“ اس لیے کیونکہ اس طرح بیٹھنا میں اس کے لیے زیادہ پردہ ہے۔
”وَالتَّشَهُّدُ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ“ ”إِلَى آخِرِهِ“ آخر تک: ”السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“.
”وَهَذَا تَشَهُّدُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور یہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تشہد ہے۔ ”فَإِنَّهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي“ کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ پکڑا حضور علیہ السلام نے ”بِيَدِي“ مجھ کو، میرے ہاتھ کو، ”وَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ“ اور مجھے تشہد سکھایا ”كَمَا كَانَ يُعَلِّمُنِي سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ“ جیسے کہ وہ سکھاتے تھے مجھے کوئی قرآن کی کوئی سورت بھئی۔ ”قَالَ“ اور حضور علیہ السلام فرمانے لگے مجھ سے: ”قُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ“ ”إِلَى آخِرِهِ“ آخر تک کہا، تو حضور علیہ السلام نے مجھے تشہد سکھایا۔
”وَالْأَخْذُ بِهَذَا أَوْلَى مِنَ الْأَخْذِ بِتَشَهُّدِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“ اور اس تشہد کو لینا اولیٰ ہے کس کے مقابلے میں؟ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے تشہد کو کے لینے کے مقابلے میں۔ بھئی ایک تشہد یہ ہے، ایک تشہد کس سے روایت کیا گیا؟ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ ان کے تشہد کو لیتے ہیں، وہ نماز میں پڑھتے ہیں، اور جبکہ احناف جو ہیں وہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تشہد کو لیتے ہیں، اور صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ اس تشہد کو لینا یعنی اس پر عمل کرنا یہ اولیٰ ہے اس تشہد کے مقابلے میں جو کس نے ذکر فرمایا ہے؟ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔ ”وَهُوَ قَوْلُهُ“ اور وہ ان کا یہ قول ہے، وہ فرماتے ہیں تشہد اس طرح ہے: ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَلَامٌ عَلَيْنَا“ ”إِلَى آخِرِهِ“ آخر تک اسی طرح ہے۔ آخری حصہ یہ آپ کے حاشیے میں دیا ہوا ہے: ”سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“، یہ ہے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا تشہد بھئی۔ تو یہ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ کون سا تشہد لینا اور کس پر عمل کرنا اولیٰ ہے؟ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تشہد پر عمل کرنا اولیٰ ہے۔
یاد رکھیے علماء لکھتے ہیں کہ مختلف صحابہ سے چوبیس قسم کے تشہد منقول ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مختلف صحابہ سے چوبیس قسم کے تشہد منقول ہیں، تو مختلف الفاظ کا فرق ہے ان میں۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی تشہد منقول ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی منقول ہے، اسی طرح یہ جو حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہ منقول ہے، عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی منقول ہے، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی الگ تشہد منقول ہے، اور اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی، تو یہ کل چوبیس قسم کے تشہد منقول ہیں، اور احناف کے نزدیک اولیٰ عمل کیا ہے، کس پر عمل کیا جائے؟ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تشہد کو ترجیح دی احناف نے اور اس پر عمل کیا۔
کیا وجہ ہے؟ کیوں ترجیح ہے اس کو؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِيهِ الْأَمْرَ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر امر ہے۔ اس حدیث میں کیا آیا؟ امر۔ حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ ”قُلْ“ کہو! تو امر دیا جا رہا ہے، ”وَأَقَلُّهُ الِاسْتِحْبَابُ“ اور امر کا کم سے کم درجہ کیا ہے؟ استحباب۔ تو حضور علیہ السلام اس میں حکم دے رہے ہیں: ”قُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ“ اور امر تو مقتضیٰ تو ہے کہ یہ فرض ہونا چاہیے، لیکن کم از کم کیا ہے؟ کم از کم درجہ استحباب ہے، تو معلوم ہوا یہ تشہد پڑھنا مستحب ضرور ہے کم از کم بھئی، مستحب ضرور ہے۔
”وَالْأَلِفَ وَاللَّامَ“ اس کا عطف اسی ”الْأَمْرَ“ پر ہے۔ بھئی دیکھیے: ”لِأَنَّ فِيهِ الْأَمْرَ“، ”أَنَّ“ کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع، اور ”أَنَّ“ اور ”إِنَّ“ وغیرہ کے بعد اگر جار مجرور آ جائیں وہ ہمیشہ ان کے لیے خبرِ مقدم بنتے ہیں، تو یہ ”فِيهِ“ کیا ہے ”أَنَّ“ کے لیے؟ خبرِ مقدم، اور ”الْأَمْرَ“ یہ کیا ہے؟ اس کا اسمِ مؤخر، اور یہ اپنے اسم کو کیا کرتا ہے؟ نصب دیتا ہے، تو اس کو منصوب پڑھیں گے: ”لِأَنَّ فِيهِ الْأَمْرَ“ کیونکہ اس تشہد میں کیا ہے؟ امر ہے، امر کا صیغہ آیا ہے۔ ”وَالْأَلِفَ وَاللَّامَ“ اور اس لیے کیونکہ اس تشہد میں الف لام آیا ہے۔ اس تشہد میں، حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تشہد میں الف لام آیا ہے بھئی، کس طرح ہے؟ ”السَّلَامُ عَلَيْكَ“، الف لام ہے بھئی: ”السَّلَامُ عَلَيْكَ“، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے تشہد میں کیا آیا؟ ”سَلَامٌ عَلَيْكَ“، اس میں سلام بغیر الف لام کے ہے، اور اس تشہد میں، حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تشہد میں وہ الف لام کے ساتھ ہے، ”وَهُمَا لِلِاسْتِغْرَاقِ“ اور یہ دونوں الف لام کس لیے آتے ہیں؟ استغراق کے لیے آتے ہیں، تو یہ ایک زائد فائدہ ہے اس کے اندر بھئی۔ معلوم ہوا ”السَّلَامُ عَلَيْكَ“ تمام قسم کی جو سلامتیاں ہیں علیک وہ آپ پر ہوں، تو اس میں استغراق آ گیا، اس نے تمام افرادِ سلام کا احاطہ کر لیا، تو اس لیے بھی اس کو ترجیح ہے۔
نیز ”وَزِيَادَةَ الْوَاوِ“ اس کا بھی اسی پر عطف ہے امر پر، اور اس لیے کیونکہ اس کے اندر واؤ کی زیادتی ہے، کس طرح تھا؟ ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ“، یہاں واؤ آ رہے ہیں یہ زائد ہیں، جبکہ دوسرے تشہد میں ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ“ وہاں واؤ نہیں ہے، تو یہ واؤ اس میں زیادہ ہے، ”وَهِيَ لِتَجْدِيدِ الْكَلَامِ كَمَا فِي الْقَسَمِ“ اور یہ واؤ جو ہے یہ تجدیدِ کلام کے لیے ہوتا ہے جیسے کہ قسم میں ہے، جیسے کس میں ہے؟ قسم میں ہے۔ بھئی دیکھیے، یہ واؤ ہے واوِ عاطفہ اور واوِ عاطفہ تجدیدِ کلام کا فائدہ دیتا ہے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، تو یہ میں نے ”عَمْرٌو“ کا عطف کس پر کیا؟ زید پر۔ معلوم ہوا جیسے آنا زید کے لیے ثابت ہے، آیا زید ہے، اسی طرح عمرو بھی آیا ہے، تو یہ کلام گویا اس معنی میں ہوا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ، وَجَاءَنِي عَمْرٌو“، تو دیکھیے الگ مستقل کلام ہو گیا یا نہیں بھئی؟ تو ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“ تو یہ واؤ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تجدیدِ کلام کا فائدہ دیتا ہے کہ یہ الگ ہے، الگ ہے بھئی۔ یعنی دونوں الگ ہیں، ”جَاءَنِي زَيْدٌ“ زید کوئی اور ہے اور ”وَجَاءَنِي عَمْرٌو“ اور عمرو کوئی اور ہے، دونوں کے لیے مجیئت ثابت ہے۔ یہاں پر ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ“، التحیات یہ بھی اللہ کے لیے، صلوات یہ بھی اللہ کے لیے، طیبات یہ بھی اللہ کے لیے، معلوم ہوا یہ تینوں الگ الگ چیزیں ہیں اور اللہ کی ثناء بیان ہو رہی ہے یہاں پر، کیا بیان ہو رہی ہے؟ ثناء۔ اور انہوں نے بین السطور دیا ہے متن کے اندر بھئی جہاں تشہد ہے: ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ“ تحیات سے مراد ہیں عباداتِ قولیہ، قولی عبادتیں جن کا تعلق قول سے ہے، زبان سے ہے، مثلاً آپ ذکر کرتے ہیں زبان سے، یا زبان سے کیا کرتے ہیں؟ تلاوت کرتے ہیں، یہ بھی سب کس کے لیے؟ اللہ کے لیے۔ ”وَالصَّلَوَاتُ“ صلوات سے مراد ہیں بدنی عبادتیں، مثلاً آپ نماز پڑھتے ہیں تو نماز کے اندر قول بھی ہے اور بدن عمل بھی کرنا پڑتا ہے رکوع، سجدہ وغیرہ، یہ بھی بدنی عبا... اسی طرح روزہ ہے، روزہ بھی کیا ہے؟ بدنی عبادت ہے، تو یہ بھی کس کے لیے ہیں؟ اللہ کے لیے۔ ”وَالطَّيِّبَاتُ“ اور طیبات سے مراد ہیں مالی عبادتیں، وہ بھی کس کے لیے ہیں؟ اللہ کے لیے، یعنی آپ زکوٰۃ دیتے ہیں یہ بھی اللہ کے لیے، صدقات وغیرہ یہ بھی ساری عبادتیں کس کے لیے؟ اللہ کے لیے۔ تو دیکھیے ہمارے تشہد کے اندر اس اس تشہد میں جس کو ہم نے ترجیح دی اس میں واؤ آیا اور واؤ نے بتلایا کہ التحیات اور چیز ہے، صلوات اور چیز ہے، طیبات اور چیز ہیں کیونکہ ان میں واؤ کے ذریعے عطف کیا گیا اور معطوف معطوف علیہ کا معطوف مغایر ہوتا ہے معطوف علیہ سے۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“ یہ واؤ نے بتلا دیا کہ زید کوئی اور ہے اور عمرو کوئی اور ہے، تو یہاں پر بھی تینوں کے معلوم ہوا الگ الگ ہیں، تو معلوم ہوا تین طرح کی ثناء آ گئی اللہ کے لیے، کم از کم کتنی آ گئی؟ تین طرح کی ثناء آ گئی، تین طرح حمد آ گئی اللہ کی، اور جبکہ اس دوسرے تشہد میں ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ“ وہاں واؤ نہیں، معلوم ہوا ایک ہی ثناء ہے، باقی اسی کی صفات ہیں، باقی کیا ہیں؟ اسی کی صفات ہیں، اسی کی صفات ذکر ہو گئیں۔
جیسے ”كَمَا فِي الْقَسَمِ“ جیسے کس کے اندر ہوتا ہے؟ قسم کے اندر ہوتا ہے، قسم کے اندر بھئی۔ بھئی دیکھیے، ایک شخص یوں کہے: ”وَاللهِ الرَّحْمٰنِ لَا أَفْعَلُ كَذَا“، لفظِ اللہ ذکر کیا اور ساتھ الرحمن صفت ذکر کر دی، تو واؤ کو کتنی دفعہ ذکر کیا؟ ایک دفعہ۔ تو فقہاء لکھتے ہیں یہ ایک قسم ہوئی، لہٰذا اگر یہ قسم اس نے توڑ دی تو ایک کفارہ اس پر آئے گا، لیکن اگر اس کے بجائے واؤ دو لے آتا: ”وَاللهِ وَالرَّحْمٰنِ لَا أَفْعَلُ كَذَا“، تو اب دو دفعہ واؤ لایا تو یہ دو الگ الگ قسمیں ہو گئیں۔ اب اگر وہ قسم توڑے گا تو ایک کفارہ نہیں آئے گا بلکہ کتنے کفارے آئیں گے؟ دو کفارے۔ معلوم ہوا واؤ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تجدیدِ کلام کا، وہ الگ مستقل کلام ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ فائدہ ہے ہمارے تشہد میں۔ یہ معنی ہے ”وَزِيَادَةَ الْوَاوِ“ اور اس لیے کیونکہ اس کے اندر واؤ کی زیادتی ہے، ”وَهِيَ لِتَجْدِيدِ الْكَلَامِ كَمَا فِي الْقَسَمِ“ اور یہ واؤ جو ہے وہ تجدیدِ کلام کے لیے آتا ہے کہ یعنی نیا کلام ہے، مستقل کلام ہے ”كَمَا فِي الْقَسَمِ“ جیسے کس میں ہوتا ہے؟ جیسے قسم میں ہوتا ہے۔
”وَتَأْكِيدَ التَّعْلِيمِ“ یعنی ”وَلِأَنَّ فِيهِ تَأْكِيدَ التَّعْلِيمِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ اس تشہد میں کیا ہے؟ تعلیم کی تاکید بھی ہے، خود فرما رہے ہیں: ”عَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ“ حضور علیہ السلام نے مجھے سکھایا سکھایا، بلکہ مزید تاکید ہے: ”كَمَا كَانَ يُعَلِّمُنِي سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ“ جیسے مجھے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، اس طرح حضور علیہ السلام نے مجھے سکھایا، اس طرح مجھے تعلیم دی، اور قرآن کی سورت کس طرح سکھاتے ہوں گے بھئی آپ خود ہی دیکھ لیجیے، استاد شاگرد کو کیسے سکھاتا ہے؟ کئی مرتبہ کہلوانا پڑتا ہوگا تاکہ خوب اچھی طرح یاد ہو جائے، غلطی نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس میں کتنی تاکید ہے بھئی صورت، تو لہٰذا اس لیے ہمارے نزدیک یہ اس تشہد کو ترجیح ہے بھئی۔ تو کیا کیا وجہ؟ ایک تو اس کے اندر امر ہے، نیز اس کے اندر الف لام ہے، اور نیز اس کے اندر واؤ کی زیادتی ہے، اور نیز اس کے اندر تعلیم کی تاکید ہے بھئی۔
”وَلَا يَزِيدُ عَلَى هَذَا فِي الْقَعْدَةِ الْأُولَى“ اور اس تشہد پر زیادتی نہ کرے قعدۂ اولیٰ میں۔ یعنی مثلاً اگر چار رکعت والی یا تین رکعت والی نماز ہے اور اس میں پہلا قعدہ کر رہا ہے تو اس کے اندر پہلے قعدہ کے اندر اس تشہد پر زیادتی نہ کرے، یعنی اس تشہد اس تشہد کے بعد درود وغیرہ نہیں، درود آخری قعدے میں آئے گا، پہلے قعدے میں نہیں۔ تو اس میں اس تشہد پر زیادتی نہ کرے۔ دلیل کیا ہے اس کی؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ بوجہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے، وہ فرماتے ہیں: ”عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَآخِرِهَا“ کہ حضور علیہ السلام نے مجھے سکھایا—ترجمے پہ نظر رکھنا—”عَلَّمَنِي“ مجھے سکھایا حضور مجھے تعلیم دی حضور علیہ السلام نے ”التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَآخِرِهَا“ اس تشہد کی جو نماز کے بیچ میں ہوتا ہے اور نماز کے آخر میں ہوتا ہے، ”فَإِذَا كَانَ وَسْطُ الصَّلَاةِ“ پھر جب نماز کا وسط ہوتا ”نَهَضَ“ تو حضور علیہ السلام اٹھ جاتے ”إِذَا فَرَغَ مِنَ التَّشَهُّدِ“ جب کس سے فارغ ہوتے؟ تشہد سے۔ وہ فرماتے ہیں مجھے حضور علیہ السلام نے اس تشہد کی تعلیم دی، وہ مجھے سکھایا اور حضور علیہ السلام وہ تشہد پڑھ کر اٹھ جایا کرتے تھے۔ دیکھیے معلوم ہوا درمیان میں قعدے میں صرف کیا پڑھ کر اٹھیں گے؟ صرف تشہد، تو حضور علیہ السلام بھی وہ تشہد پڑھ کر اٹھ جاتے تھے۔ ”وَإِذَا كَانَ آخِرُ الصَّلَاةِ دَعَا لِنَفْسِهِ بِمَا شَاءَ“ اور جب آخرِ نماز ہوتا یعنی آخری حصہ آخری قعدہ ہوتا تو پھر حضور علیہ السلام دعا فرماتے تھے اپنے لیے بما شاء جو چاہتے تھے۔ تو پہلے قعدہ میں صرف تشہد پڑھ کر اٹھ جاتے تھے۔
”وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحْدَهَا“ اور پڑھے گا آخری دو رکعتوں میں نماز پڑھنے والا ”بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کس کو؟ فاتحۃ الکتاب کو ”وَحْدَهَا“ اکیلے۔ یعنی آپ پہلی دو رکعتوں میں تو فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت یا اور مزید کم از کم تین آیتیں ملائیں گے، لیکن اگر آخری دو رکعتیں ہیں یا آخری رکعت ہے جیسے مغرب ہے تو اس کے اندر صرف کیا کریں گے؟ صرف سورۂ فاتحہ پڑھیں گے۔ دلیل اس کی کیا؟ کہتے ہیں: ”لِحَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَرَأَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کہ وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”قَرَأَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ“ پڑھتے تھے آخری دو رکعتوں میں ”بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کس کو؟ فاتحۃ الکتاب کو۔
آگے صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں: ”وَهَذَا بَيَانُ الْأَفْضَلِ“ یہ افضلیت کا بیان ہے، یعنی آخری رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کا پڑھنا افضل ہے، ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ چنانچہ یاد رکھیے، اگر آخری رکعتوں میں انسان فاتحہ پڑھنا چاہے فاتحہ پڑھ لے، اور افضل یہی ہے کیا پڑھ لے؟ فاتحہ، اور اگر چاہے تو تین کم از کم تین تسبیحات پڑھ لے: ”سُبْحَانَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ“، اور چاہے تو بالکل خاموش کھڑا رہے پھر بھی نماز ہو جائے گی، لیکن افضل کیا ہے کیا کرے؟ سورۂ فاتحہ پڑھے بھئی۔
کہتے ہیں یہ بیان ہے افضلیت کا، ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے، ”لِأَنَّ الْقِرَاءَةَ فَرْضٌ فِي الرَّكْعَتَيْنِ“ اس لیے کیونکہ قراءت صرف دو پہلی دو رکعتوں میں ہی فرض ہے، ”عَلَى مَا يَأْتِيكَ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللهُ“ بوجہ اس کے جو آگے آئے گی، اس دلیل کی وجہ سے جو آگے آئے گی ان شاء اللہ تعالیٰ۔
”وَجَلَسَ فِي الْأَخِيرَةِ كَمَا جَلَسَ فِي الْأُولَى“ اور بیٹھے آخری قعدہ کے اندر جیسے کہ بیٹھا تھا پہلے قعدہ میں۔ اب آخری قعدہ کا بیان شروع ہوا بھئی۔ اس میں بھی اسی طرح بیٹھے جس طرح کس میں بیٹھا تھا؟ پہلے قعدہ میں۔ ”لِمَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ وَائِلٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“ بوجہ اس کے جو ہم نے روایت کی یعنی حضرت وائل اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث کی وجہ سے۔ پیچھے بھئی جہاں جہاں قعدۂ اولیٰ کا بیان تھا وہاں آیا تھا: ”هَكَذَا وَصَفَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا قُعُودَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ“ یہ حدیثِ عائشہ کا ذکر آیا، اور اسی طرح آگے تھا ہاتھ رانوں پر رکھے گا، انگلیوں کو بچھائے گا اور تشہد پڑھے گا: ”يُرْوَى ذَلِكَ فِي حَدِيثِ وَائِلٍ“ اس کو روایت کس سے کیا گیا؟ حضرت وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے، تو اس کی طرف اشارہ ہے۔ تو یہ اسی طرح بیٹھے گا جیسے کہ ذکر تھا جو بوجہ اس حدیث کے جو ہم نے روایت کی یعنی حضرت وائل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث۔
”وَلِأَنَّهَا أَشَقُّ عَلَى الْبَدَنِ فَكَانَ أَوْلَى مِنَ التَّوَرُّكِ الَّذِي يَمِيلُ إِلَيْهِ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں تورک کرے گا، تشہد کے اندر تورک کرے گا بھئی۔ تورک وہی کہ بائیں کولہے پر بیٹھ جائے انسان اور پاؤں کس طرف نکال لے گا؟ دائیں طرف نکال لے گا، یہ ہے تورک۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں تورک کیا جائے گا نماز میں، اسی وجہ سے آپ مالکیہ کو دیکھیں گے تو وہ تورک کرتے ہیں، کرتے ہیں نماز میں اس طرح بیٹھتے ہیں۔ دلیل وہ ذکر کرتے ہیں حدیث میں آتا ہے کہ وہ حضور علیہ السلام نماز میں کس طرح بیٹھتے؟ تورک کرتے تھے، تورک۔ تو جواب دے رہے ہیں بھئی، جواب دے رہے ہیں کہ ”وَلِأَنَّهَا“ یہ دوسری دلیل بھی آ گئی، پہلے دوسرے دوسرے قعدہ میں بھی اسی طرح بیٹھنا ہے جس طرح پہلے قعدہ میں بیٹھیں گے، ایک دلیل تو وہ ذکر کر دی وہ حدیثوں میں جو ذکر آ گیا حضرت وائل، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث، اور نیز اس وجہ سے: ”وَلِأَنَّهَا أَشَقُّ عَلَى الْبَدَنِ“ اس لیے کیونکہ اس طرح بیٹھنا یہ دشوار ہے بدن پر، زیادہ دشوار ہے۔ ایک ہے تورک کی صورت میں بیٹھنا، ایک جو صورت ہم نے بیان کی کہ بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھے، اس میں مشقت زیادہ بدن کے لیے، یہ بدن کے لیے ذرا مشکل ہے، اور تورک تو آسان ہے۔ اور عبادت کے اندر وہ صورت اولیٰ ہوتی ہے جس میں بدن پر مشقت ہو۔ عبادت کے اندر وہ صورت اولیٰ ہے جس میں مشقت زیادہ، کیونکہ اس میں پھر ثواب، جتنی مشقت ہوگی اتنا ہی ثواب زیادہ ملے گا۔ تو اس لیے اس لیے بھی ہمارا جو ہم نے طریقہ بیان کیا اس طرح بیٹھنا اولیٰ ہے بنسبت اس طریقے کے جس کو جس کی طرف امام مالک رحمہ اللہ گئے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَلِأَنَّهَا أَشَقُّ عَلَى الْبَدَنِ“ اور اس لیے کیونکہ اس طرح بیٹھنا جو ہے وہ زیادہ دشوار ہے بدن پر، ”فَكَانَ أَوْلَى مِنَ التَّوَرُّكِ الَّذِي يَمِيلُ إِلَيْهِ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ“ لہٰذا یہ زیادہ بہتر ہے اس تورک کی بنسبت جس کی طرف امام مالک رحمہ اللہ مائل ہوئے ہیں، یعنی جس کی طرف گئے ہیں۔
”وَالَّذِي يُرْوَى أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَعَدَ مُتَوَرِّكًا ضَعَّفَهُ الطَّحَاوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ“ باقی وہ جو حدیث جس وہ جو حدیث کے وہ جو روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام متورکاً بیٹھے نماز کے اندر، ”ضَعَّفَهُ الطَّحَاوِيُّ“ اس کو امام طحاوی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے کہ یہ حدیث کیا ہے؟ ضعیف ہے۔ ”أَوْ يُحْمَلُ عَلَى حَالَةِ الْكِبَرِ“ یا اس کو محمول کیا جائے گا بڑھاپے کی حالت پر کہ جب حضور علیہ السلام کی عمر ذرا زیادہ ہو گئی اور بدنِ مبارک آپ کا ذرا بوجھل ہو گیا تو پھر آپ اس طرح بھی بیٹھ جاتے تھے تورک کرتے ہوئے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو دو جواب دے دیے اس حدیث کے۔
”وَيَتَشَهَّدُ“ اور تشہد پڑھے گا یہ آخری قعدہ میں، ”وَهُوَ وَاجِبٌ عِنْدَنَا“ اور یہ تشہد ہمارے نزدیک واجب ہے۔ یہ آخری قعدے کا تشہد ہمارے نزدیک واجب ہے، اس کی بات ذکر ہو رہی ہے، اور پہلا تشہد جو قعدۂ اولیٰ میں تھا اس میں بھی یاد رکھیے عند الاحناف اصح قول یہی ہے کہ وہ بھی واجب ہے بھئی، وہ بھی واجب ہے۔ تو معلوم ہوا پہلا قعدہ بھی واجب اور اس میں تشہد کا پڑھنا بھی واجب، تو قعدہ کرنا الگ واجب اور اس میں تشہد کا پڑھنا الگ واجب، اور آخری قعدہ وہ فرض ہے تشہد کی مقدار، اور اس میں تشہد کا پڑھنا کیا ہے؟ واجب ہے بھئی۔
”وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور درود پڑھے حضور علیہ السلام پر، تشہد پڑھے آخری قعدے میں اور پھر اس کے بعد درود پڑھے، ”وَهُوَ لَيْسَ بِفَرِيضَةٍ عِنْدَنَا“ اور یہ ہمارے نزدیک فرض نہیں ہے، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِيهِمَا“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ان دونوں میں، یعنی ان دونوں میں امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں آخری قعدے میں تشہد کا پڑھنا بھی فرض اور درود کا پڑھنا بھی فرض ہے۔ اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل بھی حاشیے میں ذکر کی ہوئی ہے، یہ بھی ذرا دیکھ لیجیے بھئی، میری کتاب میں چودہ نمبر حاشیہ ہے۔
کہتے ہیں ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِيهِمَا أَمَّا التَّشَهُّدُ فَلِمَا رَوَى ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ باقی تشہد جو ہے بوجہ اس حدیث کو جس کو روایت کیا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، وہ فرماتے ہیں: ”كُنَّا نَقُولُ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا التَّشَهُّدُ“ کہ ہم لوگ نماز میں کہتے تھے قبل اس سے پہلے کہ ہم پر تشہد فرض کیا گیا تھا، یعنی تشہد کے ہم پر فرض کیے جانے سے پہلے ہم نماز میں یوں کہتے تھے: ”السَّلَامُ عَلَى اللهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ“، یوں کہا کرتے تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ فرماتے ہیں تشہد کے فرض کرنے سے پہلے، ”حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ“ یہاں تک کہ حضور علیہ السلام فرمانے لگے: کہو، یوں کہو تم لوگ: ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ“ ”إِلَى آخِرِهِ“ آخر تک، یہ پھر ہمیں تشہد سکھایا۔
اور پھر کہتے ہیں: ”إِلَى أَنْ قَالَ فِي آخِرِهِ“ یہاں تک کہ آخرِ حدیث میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ“ جب تو یہ کہہ کہہ دے یا یہ کر لے یعنی یہ آخری قعدہ کر لے ”فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ“ تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہو گئی۔ تو یہ ان کی دلیل ہے، اور وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اطلق اسم الفرض علی التشہد، فرض کے نام کا اطلاق کیا ہے کس پر؟ تشہد پر: ”قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا“ قبل اس کے کہ ہم پر تشہد، تو انہوں نے فرض ذکر کیا، معلوم ہوا تشہد کا پڑھنا فرض ہے۔ تشہد کے ہم پر فرض کرنے سے پہلے یہ پڑھتے تھے، معلوم ہوا بعد میں کیا فرض کر دیا گیا؟ تشہد فرض کر دیا گیا۔
نیز ”وَقَالَ لَهُ: قُلْ“ اور نیز حضور علیہ السلام نے کیا کہا؟ ”قُلْ“ امر کا صیغہ آیا، ”وَالْأَمْرُ لِلْوُجُوبِ“ اور امر کس لیے ہوتا ہے؟ وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ ”وَعَلَّقَ التَّمَامَ بِهِ“ اور حضور علیہ السلام نے نماز کے پورا ہونے کو اس پر معلق فرمایا ہے، کیا فرمایا؟ ”إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ“ جب تو یہ کہہ لے یا یہ کر لے تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہو گئی، تو کہنے پر کہ کہنے پر نماز پوری ہو جائے گی، معلوم ہوا اس کے بغیر پوری نہیں ہوگی، معلوم ہوا اس کا پڑھنا فرض ہے۔
باقی دوسری بات جس میں اختلاف کیا تھا کہ درود کا پڑھنا بھی فرض ہے، تو کہتے ہیں وہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا“ تو دیکھو ”صَلُّوا“ صیغۂ امر آیا اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، معلوم ہوا درود کا پڑھنا بھی فرض ہے، کیونکہ نماز سے باہر تو کوئی درود کا پڑھنا فرض نہیں، معلوم ہوا یہ نماز کے اندر جو درود ہے اس کا ذکر چل رہا ہے کہ وہ درود پڑھنا فرض ہے۔ یہ کس کی دلیل ہوئی؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی۔
تو اب جواب دے رہے ہیں، ہماری دلیل کیا ہے؟ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ متن میں دیکھیے بھئی: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے: ”إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ“ جب تو یہ کہہ دے یا یہ کر لے یعنی قعدۂ اخیرہ کر لے ”فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ“ تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہو گئی، مکمل ہو گئی۔ آگے بھی حدیث ہی کے الفاظ ہیں: ”إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ“ تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی، اگر تم کھڑے ہونا چاہتے ہو تو اٹھنا چاہتے ہو تو اٹھ جاؤ، ”وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ“ اور اگر تم بیٹھنا چاہتے ہو تو بیٹھے رہو بھئی، یہ حدیث کے الفاظ۔ تو ہم کہتے ہیں دیکھیے یہ تو ہماری دلیل ہے، حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ تشہد کے بعد فرما رہے ہیں: جب تم یہ کہہ لو یا یہ کر لو یعنی قعدہ کر لو تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی۔ تو تشہد کا پڑھنا ضروری یا دونوں میں سے ایک کا پڑھنا ضروری ہوا؟ ایک کا کرنا ضروری ہوا؟ ایک کا کرنا ضروری ہوا: تشہد کا کہنا ضروری یا بیٹھنا ضروری؟ اور نیز جب تشہد کہے گا تو بیٹھنا پایا جائے گا یا نہیں؟ بیٹھنا تو پھر بھی پایا جائے گا۔ معلوم ہوا بیٹھنا دونوں صورتوں میں ہے: تشہد کہے گا تب بھی قعدۂ اخیرہ اتنی مقدار بیٹھے گا اور اگر تشہد کے بغیر اتنی مقدار بیٹھ جاتا ہے تو معلوم ہوا بیٹھنا دونوں صورتوں میں ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ اتنا بیٹھنا ضروری ہے۔ اسی لیے ہم نے اتنا قعدے کو فرض قرار دیا، اتنا بیٹھنے کو، کیونکہ وہ دونوں صورتوں میں ہے، اور تشہد پہلی کہ وہ پڑھے یا دوسری صورت میں ہے نہ پڑھے، معلوم ہوا تشہد کا پڑھنا ضروری اور فرض نہیں ہے بھئی۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ تفصیل پہلے بھی گزر چکی ہے، یہاں میں نے پھر تشریح کر دی بھئی۔
تو اس سے معلوم ہوا کہ تشہد کا پڑھنا فرض نہیں۔ باقی آپ نے کہا کہ قرآن میں امر کا صیغہ آیا ہے اور درود کا پڑھنا تو نماز سے باہر فرض نہیں، صرف معلوم ہوا یہ کون سا درود ذکر ہو رہا ہے؟ جو نماز کے اندر ہے، لہٰذا درود بھی فرض ہے نماز کے اندر، اس کا بھی جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ خَارِجَ الصَّلَاةِ وَاجِبَةٌ“ کہ حضور علیہ السلام پر درود پڑھنا نماز سے باہر بھی ”وَاجِبَةٌ“ کیا ہے؟ واجب ہے یعنی فرض ہے، ”إِمَّا مَرَّةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَهُ الْكَرْخِيُّ“ یا تو ایک ہی مرتبہ جیسے کہ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”أَوْ كُلَّمَا ذُكِرَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ یا جب بھی حضور علیہ السلام کا ذکر کیا جائے تب پڑھنا واجب ہے ”كَمَا اخْتَارَهُ الطَّحَاوِيُّ“ جیسے کہ جس کو اختیار کیا ہے کس نے؟ امام طحاوی نے۔
تو ہم جواب دیتے ہیں کہ آپ نے کہا کہ نماز سے باہر تو کوئی درود پڑھنا واجب نہیں، معلوم ہوا یہ کون سے درود کی بات ہو رہی ہے؟ جو نماز کے اندر ہے، تو وہ درود پڑھنا واجب ہوگا، فرض ہوگا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، نماز سے باہر بھی درود کا پڑھنا واجب ہے۔ چنانچہ امام کرخی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ قرآن میں چونکہ صیغۂ امر آیا ہے اور امر آتا ہے وجوب کے لیے، اور امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، ایک مرتبہ بھی اس پر عمل کر لیا جائے تو یہ کافی ہے بھئی۔ تو زندگی بھر میں ہر مومن پر کم از کم ایک مرتبہ درود پڑھنا فرض ہے بھئی، کیونکہ امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔ تو دیکھا، امام کرخی رحمہ اللہ ایک بہت بڑے فقیہ کیا فرما رہے ہیں؟ نماز سے باہر بھی، ویسے بھی ایک مرتبہ درود پڑھنا فرض ہے۔ اور دوسرا امام طحاوی رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں کہ جب بھی حضور علیہ السلام کا ذکر آئے تو درود کا پڑھنا واجب ہے بھئی۔ تو دو بڑے فقہاء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نماز سے باہر بھی درود کا پڑھنا واجب ہے، واجب ہے۔ اور آپ تو کیا فرما رہے تھے کہ نماز سے باہر درود کا پڑھنا واجب ہی نہیں، تو اس لیے نماز والا درود فرض ہوگا، ہم کہتے ہیں جب نماز سے باہر درود فرض ہو گیا تو اس پر باہر عمل ہو جائے گا تو اب یہ نماز والا درود فرض نہیں رہے گا بھئی۔
”فَكُفِينَا مُؤْنَةَ الْأَمْرِ“ تو ہماری کفایت کر لی گئی امر کی مشقت سے۔ ”فَكُفِينَا“ ہماری کفایت کر لی گئی، ”مُؤْنَةَ الْأَمْرِ“ امر کی مشقت سے۔ کیا معنی؟ ”فَكُفِينَا“ ہماری کفایت کر لی گئی یعنی ہمیں بچا لیا گیا، ہمیں صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ تو ہمیں بچا لیا گیا ”مُؤْنَةَ الْأَمْرِ“ امر کی مشقت سے۔ کس طرح بچا لیا؟ بھئی صیغۂ امر آیا تھا نا: ”صَلُّوا“ صیغۂ امر، اور دو بڑے فقہاء کا ذکر آ گیا، وہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ نماز سے باہر کی بات ہو رہی ہے، نماز سے باہر جب حضور علیہ السلام کا ذکر آئے درود کا پڑھنا پہلی مرتبہ واجب، اور دوسرے فقیہ کیا فرماتے ہیں؟ زندگی بھر میں ایک مرتبہ درود کا پڑھنا واجب ہے۔ تو جب انہوں نے بتلا دیا کہ اس امر کا محل خارجِ صلاۃ ہے، تو نماز کے اندر امر کی مشقت سے ہمیں بچا لیا گیا، یعنی اب نماز کے اندر والا درود فرض نہ رہا، معلوم ہوا وہ فرض نہیں۔ تو ان فقہاء یہ جس جس قول کو انہوں نے اختیار کیا، جس طرف یہ گئے انہوں نے کیا کیا؟ ہمیں امر کی مشقت سے، ورنہ تو امر آیا تھا اور پھر ہمیں کیا کہنا پڑتا کہ ہر ہر نماز میں درود کا پڑھنا فرض ہے، لیکن جب یہ دو اقوال آ گئے فقہاء کے تو اس نے نماز کے اندر ہمیں اس امر کے صیغے کی مشقت سے بچا لیا، یعنی نماز میں درود فرض نہ رہا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
”وَالْفَرْضُ الْمَروِيُّ فِي التَّشَهُّدِ هُوَ التَّقْدِيرُ“ اور وہ فرض جو روایت کیا گیا ہے تشہد کے اندر ”هُوَ التَّقْدِيرُ“ وہ تقدیر کے معنی میں ہے، مقرر کرنے کے معنی میں ہے۔ بھئی وہ جو حدیث ذکر کی تھی امام شافعی رحمہ اللہ نے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم تشہد کے ہم پر فرض کیے جانے سے پہلے یہ پڑھتے تھے، وہاں فرض کا لفظ آیا، اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ وہاں فرض بمعنی تقدیر کے ہے، مقرر کرنے کے ہے۔ کس معنی میں ہے؟ تقدیر کا کیا معنی؟ ایک معنی تقدیر کا اندازہ کرنا، ایک معنی تقدیر کا مقرر کرنا۔ تو وہاں فرض بمعنی مقرر کرنے کے معنی میں ہے، یعنی ہم پر یہ تشہد مقرر کرنے سے پہلے ہم یہ پڑھا کرتے تھے۔ تو یہ فرض سے مراد وہ فرض والا وہ معنی نہیں ہے جو احکام کی پانچ چھ اقسام ہیں: کوئی چیز فرض ہوتی ہے، کوئی واجب ہوتی ہے، کوئی سنت ہوتی ہے، کوئی ایک نفل ہے، تو فرض، واجب، سنت، نفل، مباح یہ پانچ چھ احکامِ شریعت کی جو قسمیں ہیں وہ والا فرض مراد نہیں ہے، بلکہ کون سا فرض مراد ہے؟ مقرر کرنا، یہ مقرر کر دیا یعنی یہ پڑھا کرو، یہ وہ فرض کے معنی میں نہیں۔
تو کہتے ہیں ”وَالْفَرْضُ الْمَروِيُّ فِي التَّشَهُّدِ هُوَ التَّقْدِيرُ“ اور وہ فرض جو روایت کیا گیا ہے تشہد کے بارے میں ”هُوَ التَّقْدِيرُ“ وہ کیا ہے؟ مقرر کرنا ہے، یعنی مقرر کرنے کے معنی میں ہے بھئی۔
چلیے بس بھئی، ہٰذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔