Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-052

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
قَالَ: ”وَدَعَا بِمَا يُشْبِهُ أَلْفَاظَ الْقُرْآنِ وَالأَدْعِيَةَ الْمَأْثُورَةَ لِمَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: قَالَ لَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”ثُمَّ اخْتَرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَطْيَبَهَا وَأَعْجَبَهَا إِلَيْكَ““. نماز کا طریقہ صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں۔ گزشتہ سبق کے آخر میں آیا تھا کہ قعدہ اخیرہ کے اندر تشہد پڑھیں گے اور یہ تشہد ہمارے نزدیک واجب ہے۔ خود تشہد کی مقدار بیٹھنا یہ تو فرض ہے لیکن تشہد کا پڑھنا یہ واجب ہے۔ اور اسی طرح اس تشہد کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے نماز پڑھنے والا، اور یہ ہمارے نزدیک فرض نہیں جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرض ہے بھئی۔ اس کے بعد اب آگے فرما رہے ہیں: قَالَ: ”وَدَعَا بِمَا يُشْبِهُ أَلْفَاظَ الْقُرْآنِ وَالأَدْعِيَةَ الْمَأْثُورَةَ“ اور دعا مانگے وہ نماز پڑھنے والا ایسے الفاظ کے ساتھ جو قرآن کے الفاظ کے مشابہ ہوں ”وَالأَدْعِيَةَ الْمَأْثُورَةَ“ اور وہ دعائیں جو منقول ہیں، وہ دعائیں جو منقول ہیں یعنی جو احادیث میں آئی ہیں، ان کے مشابہ الفاظ کے ساتھ دعا مانگے۔ ”لِمَا رَوَيْنَا“ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ درود کے بعد یہ دعا کیوں پڑھیں گے؟ کہتے ہیں: ”لِمَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ بوجہ اس حدیث کے جو ہم نے روایت کی یعنی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث۔ وہ حدیث جو یہ ایک صفحہ ایک صفحہ قبل گزری تھی کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ”عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَآخِرِهَا، فَإِذَا كَانَ وَسَطُ الصَّلَاةِ نَهَضَ إِذَا فَرَغَ مِنَ التَّشَهُّدِ، وَإِذَا كَانَ آخِرُ الصَّلَاةِ دَعَا لِنَفْسِهِ بِمَا شَاءَ“ کہ آخرِ نماز جب ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے دعا فرماتے ”بِمَا شَاءَ“ جو وہ چاہتے۔ تو معلوم ہوا آخر میں دعا پڑھ لے، دعا مانگ لے کوئی۔ ”قَالَ لَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ”ثُمَّ اخْتَرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَطْيَبَهَا وَأَعْجَبَهَا إِلَيْكَ“ کہ تم اختیار کرو کوئی ایسی دعا ”أَطْيَبَهَا وَأَعْجَبَهَا إِلَيْكَ“ جو زیادہ پاکیزہ اور زیادہ پسندیدہ ہو تمہارے نزدیک۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ کہ اس کے بعد کوئی ایسی دعا اختیار کرو یعنی کوئی ایسی دعا مانگ لو جو تمہارے نزدیک زیادہ پاکیزہ اور زیادہ پسندیدہ ہو۔ ”وَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِيَكُونَ أَقْرَبَ إِلَى الْإِجَابَةِ“ اب یہ آخر میں دعا کرنی ہے، درود اس سے پہلے ہو، تو ابتدا کس سے کرے؟ ”وَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور ابتدا کرے حضور علیہ السلام پر درود کے ساتھ ”لِيَكُونَ أَقْرَبَ إِلَى الْإِجَابَةِ“ تاکہ یہ قبولیت کے زیادہ قریب ہو جائے، تاکہ یہ دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہو جائے، اس لیے کیونکہ یہ درود جو ہے وہ وسیلہ ہوگا اس کی قبولیت کا، اور نیز اس لیے کیونکہ درود جو ہے اللہ تعالی اس کو رد نہیں فرماتے، رد نہیں فرماتے، تو جب درود کو اللہ قبول فرمائیں گے تو یقیناً اس کے ساتھ جو دعا ہوگی اس کو بھی قبول فرما لیں گے۔ ”وَلَا يَدْعُو بِمَا يُشْبِهُ كَلَامَ النَّاسِ“ اور دعا نہ مانگے ایسے الفاظ کے ساتھ جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہو ”تَحَرُّزًا عَنِ الْفَسَادِ“ فساد سے بچنے کے لیے، فساد سے بچنے کے لیے۔ ہاں ایسے لفظوں کے ساتھ دعا نہ مانگے جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہو اور وہ کیا ہے جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہے اور کون سی دعا لوگوں کے کلام کے مشابہ نہیں؟ وہ آگے خود صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے۔ لیکن یہاں یہ یاد رکھیے فساد سے بچنے کے لیے بھئی، فساد سے بچنے کے لیے، اس سے مراد نماز کا فساد نہیں ہے کیونکہ دعا تو آخر میں آئے گی اور قعدہ میں تشہد کی مقدار بیٹھنا فرض تھا اور اس کے بعد نماز مکمل ہو چکی بھئی۔ نماز کیا ہو چکی؟ نماز تو مکمل ہو چکی، سارے فرائض وغیرہ گزر گئے۔ تو یہ فساد سے مراد ہے یعنی آخری حصے میں فساد آ جائے گا۔ نماز تو ہو جائے گی لیکن آخری حصے میں فساد آ جائے گا، خرابی آ جائے گی کہ مسنون طریقے سے نماز سے نکلنا نکلنا رہ جائے گا حالانکہ مسنون طریقے سے نماز سے نکلنا ضروری تھا، اور وہ کس کے ساتھ کیا کر کے نکلے؟ سلام کر کے بھئی، سلام کے ساتھ نماز سے نکلے۔ تو یہاں پر لوگوں کے کلام کے مشابہ دعا کرے گا تو کلام کی تو نماز میں اجازت نہیں، تو اس صورت میں اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد یعنی آخری حصہ فاسد یعنی نماز سے نکل جائے گا، نماز سے نکل جائے گا، نماز ختم ہو جائے گی۔ تو یہ نماز ختم ہوگی غیرِ مسنون طریقے پر حالانکہ مسنون طریقہ تو کیا تھا؟ کس طرح نماز کا اختتام کرے؟ کس طرح نکلے؟ سلام کے ساتھ بھئی۔ تو یہ یہاں یہ خصوصاً ذہن میں رکھنا، فساد سے مراد نماز کا فساد نہیں ہے، نماز مکمل ہو چکی ہے، یہ صرف وہ آخری حصے کا فساد مراد ہے۔ ”وَلِهَذَا يَأْتِي بِالْمَأْثُورِ الْمَحْفُوظِ“ لہٰذا لے کر آئے وہ دعا جو منقول ہو محفوظ ہو بھئی، منقول اور محفوظ دعائیں جو احادیث کے اندر آئی ہیں وہ لے کر آئے یعنی ان کے ساتھ دعا کرے بھئی۔ اب آگے بتلانے لگے ہیں کہ کون سی دعا لوگوں کے کلام کے مشابہ ہے اور کون سی دعا لوگوں کے کلام کے مشابہ نہیں، تو آپ کو بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ جن چیزوں کا سوال لوگوں سے کیا جاتا ہے وہ کلام الناس کے مشابہ ہے، لوگوں کے کلام کے مشابہ ہے، اور جس چیز کو لوگوں سے نہیں مانگا جاتا وہ لوگوں کے کلام کے مشابہ نہیں، لوگوں کے کلام کے مشابہ نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ جس چیز کا مانگنا لوگوں سے محال ہو، لوگوں سے مانگنا محال ہو وہ کلام الناس کے مشابہ نہیں۔ اور جس چیز کا لوگوں سے مانگنا محال نہ ہو لوگوں سے بھی وہ سوال کیا جاتا ہے تو پھر وہ کلام الناس کے مشابہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ جیسے دیکھیے مثال ذکر کریں گے: ایک شخص یہ دعا کرے بھئی ”اَللَّهُمَّ زَوِّجْنِي فُلَانَةَ“ اے اللہ فلانی سے میری شادی کروا دے، تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے یہ لوگوں کے کلام کے مشابہ ہے کیونکہ یہ سوال لوگوں سے بھی کیا جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ فلاں جگہ میری شادی کروا دو۔ لوگ کہتے ہیں ایک دوسرے کو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ کلام الناس کے مشابہ ہوا۔ ہاں اس کے بجائے اگر یہ دعا کرتا ہے ”اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي“ اے اللہ میری مغفرت فرما دے، میری بخشش فرما دے، تو یہ ایسا سوال ہے جو لوگوں سے نہیں کیا جاتا، تو یہ کلام الناس کے مشابہ بھی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا لَا يَسْتَحِيلُ سُؤَالُهُ مِنَ الْعِبَادِ“ اور وہ چیز کہ محال نہ ہو اس کا سوال کرنا بندوں سے ”كَقَوْلِهِ: ”اَللَّهُمَّ زَوِّجْنِي فُلَانَةَ““ جیسے کہ اس کا قول ”اَللَّهُمَّ زَوِّجْنِي فُلَانَةَ“ اے اللہ فلانی سے میرا نکاح کروا دے، میری شادی کروا دے ”يُشْبِهُ كَلَامَهُمْ“ تو یہ کیا ہے؟ لوگوں کے کلام کے مشابہ ہے کیونکہ لوگ ایک دوسرے کو اس طرح کہتے ہیں، ”وَمَا يَسْتَحِيلُ“ اور وہ جو محال ہو جس کا سوال لوگوں سے ”كَقَوْلِهِ: ”اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي““ جیسے کہ اس کا قول ”اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي“ اے اللہ میری مغفرت فرما دے ”لَيْسَ مِنْ كَلَامِهِمْ“ یہ لوگوں کے کلام میں سے نہیں ہے بھئی۔ ”وَقَوْلُهُ: ”اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِي““ اچھا، یہ سوال پیدا ہوتا ہے ”اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِي“ اے اللہ مجھے رزق عطا فرما، کیا یہ لوگوں کے کلام کے مشابہ ہے یا مشابہ نہیں؟ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے یہ بھی لوگوں کے کلام کے مشابہ ہے لہٰذا اس کے ساتھ بھی دعا، یہ بھی دعا نہ مانگے اس طرح بھئی۔ ”وَقَوْلُهُ: ”اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِي“ مِنْ قَبِيلِ الْأَوَّلِ“ اور اس کا قول ”اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِي“ یہ اول کے قبیل سے ہے یعنی جس کا سوال بندوں سے محال نہیں ”لِاسْتِعْمَالِهَا فِيمَا بَيْنَ الْعِبَادِ“ بوجہ اس کے استعمال کرنے کے بندوں کے درمیان۔ لوگ بھی آپس میں کیا کرتے ہیں؟ اس کو آپس میں اس لفظ کو اس طرح استعمال کرتے ہیں ”يُقَالُ: ”رَزَقَ الْأَمِيرُ الْجَيْشَ““ کہا جاتا ہے امیر نے لشکر کو رزق دیا، امیر نے لشکر کو کھانا کھلایا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ استعمال ہوتا ہے رزق کا فعل لوگوں کے لیے بھی، تو لہٰذا اس لیے اس کے ساتھ بھی دعا نہ مانگے۔ ”ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ فَيَقُولُ: ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ““ اور پھر سلام کرے اپنے داہنی طرف، پس یوں کہے ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ“، ”وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلَ ذَلِكَ“ اور اپنے بائیں طرف بھی اسی طرح، اسی طرح سلام کرے ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ“۔ اس کی کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں: ”لِمَا رَوَى ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ“ وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہے وہ سلام فرماتے تھے اپنی داہنی طرف ”حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ“ یہاں تک کہ دکھائی دیتی تھی حضور علیہ السلام کے دائیں رخسار کی سفیدی، یہاں تک کہ حضور علیہ السلام کے دائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی تھی ”وَعَنْ يَسَارِهِ“ اور بائیں طرف بھی ”حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ“ یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ یعنی حضور علیہ السلام جب سلام فرماتے تھے تو دائیں طرف سلام فرماتے یعنی چہرے کو موڑتے تھے، چہرے کو موڑتے تھے یہاں تک کہ پیچھے والوں کو آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی تھی، اور جب بائیں طرف کو سلام کرتے تو باقاعدہ چہرے کو اس طرف کو موڑتے تھے کہ پیچھے والوں کو بائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ ”وَنَوَى بِالتَّسْلِيمِ الْأُولَى مَنْ عَلَى يَمِينِهِ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْحَفَظَةِ وَكَذَلِكَ فِي الثَّانِيَةِ“ اور نیت کرے پہلے سلام میں ان لوگوں کی جو اس سے دائیں طرف ہیں۔ پہلا سلام دائیں طرف کر رہا ہے تو ان لوگوں کی نیت کرے گا جو اس کے دائیں، تو ان کی نیت کرے گا جو اس کے دائیں طرف ہیں، بھئی وہ کون ہیں؟ کہتے ہیں: ”مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْحَفَظَةِ“ یعنی کہ مردوں کی اور عورتوں کی اور محافظ فرشتوں کی، تو دائیں طرف جو نماز پڑھنے والے ہیں، نماز میں شریک ہیں، جو مرد ہیں، عورتیں ہیں، اور جو دائیں طرف محافظ فرشتے ہیں، ان سب کی نیت کرے دائیں طرف سلام کرتے ہوئے۔ ”وَكَذَلِكَ فِي الثَّانِيَةِ“ اور اسی طرح دوسرے سلام میں کرے یعنی اس میں بائیں طرف کے جو مرد ہیں، عورتیں ہیں اور جو محافظ فرشتے ہیں ان کی نیت کرے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْأَعْمَالَ بِالنِّيَّاتِ“ اس لیے کیونکہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے تو نیت کرے اس کے اندر بھئی۔ ”وَلَا يَنْوِي النِّسَاءَ فِي زَمَانِنَا“ صاحبِ قدوری نے تو بتلایا تھا کہ دائیں اور بائیں سلام کرتے ہوئے مردوں کے ساتھ ساتھ جو عورتیں نماز میں شریک ہیں ان کی بھی نیت کرے، لیکن صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: ”وَلَا يَنْوِي النِّسَاءَ فِي زَمَانِنَا“ عورتوں کی نیت نہ کرے ہمارے زمانے میں، اس لیے کیونکہ باجماعِ متاخرین عورتوں کا اب نماز میں آنا متروک ہے بھئی، باجماعِ متاخرین متروک ہے، عورتوں کو نماز میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ زمانے میں زمانہ خراب ہو گیا، اب ان کا نماز میں آنا فتنے کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے ان کو منع کر دیا گیا، تو لہٰذا عورتوں کی نیت نہ کرے ہمارے زمانے میں۔ ”وَلَا مَنْ لَا شِرْكَةَ لَهُ فِي صَلَاتِهِ“ اور اسی طرح اس شخص کی بھی نیت نہ کرے جس کی اس کی نماز میں شرکت نہیں، جو اس کے ساتھ نماز میں شریک نہیں، صرف کن لوگوں کی نیت کرے؟ جو نماز میں شریک ہیں۔ ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے ”لِأَنَّ الْخِطَابَ حَظُّ الْحَاضِرِينَ“ اس لیے کیونکہ خطاب حاضرین کا حصہ ہے، خطاب کس کا حصہ ہے؟ خطاب بھئی خطاب حاضر جو ہوتا ہے اس کو خطاب کیا جاتا ہے، اس کی طرف متوجہ ہو کر کلام کیا جاتا ہے، جو آدمی غائب ہو اس کی طرف متوجہ ہو کر کلام نہیں کیا، تو جو لوگ اس وقت حاضر ہیں ساتھ نماز میں ان کی نیت کرے گا کیونکہ خطاب کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے؟ ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ“، ”كُمْ“ ضمیر آ رہی ہے ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ“ تو یہ ”كُمْ“ ضمیر کون سی ہے؟ مخاطب کی ضمیر ہے، جو حاضر ہو اس کو سلام کیا جاتا ہے، غیر حاضر کو سلام نہیں کیا جاتا، تو جو اس کے ساتھ نماز میں حاضر ہیں انہی کو سلام انہی کی نیت کرے۔ ”وَلَا بُدَّ لِلْمُقْتَدِي مِنْ نِيَّةِ إِمَامِهِ“ اور ضروری ہے مقتدی کے لیے اپنے امام کی نیت کرنا، مقتدی کیا کرے گا؟ سلام میں اپنے امام کی بھی نیت کرے گا ”فَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ مِنَ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ نَوَاهُ فِيهِمْ“ اگر امام اس کے دائیں جانب یا بائیں جانب ہے تو اس کی بھی نیت کرے سلام میں بھئی، سمجھ میں آیا؟ سلام میں لوگوں کے ساتھ ساتھ اس امام کی بھی نیت کرے۔ ”وَإِنْ كَانَ بِحِذَائِهِ نَوَاهُ فِي الْأُولَى عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَرْجِيحًا لِلْجَانِبِ الْأَيْمَنِ“ اچھا بھئی اگر امام اس شخص کے بالکل سامنے ہے یعنی بالکل امام کے پیچھے کوئی صف میں کھڑا ہے اب امام تو اس کے سامنے ہے، اگر دائیں جانب ہوتا تو دائیں طرف کو سلام کرتے ہوئے وہ امام کی نیت کرتا، بائیں طرف امام ہوتا تو بائیں طرف نیت کرتا لیکن اب تو وہ بالکل امام اس کے سامنے ہے، تو یاد رکھیے اس میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دائیں جانب کو چونکہ ترجیح ہے، دائیں جانب اعلیٰ ہے لہٰذا امام اگرچہ بالکل سامنے ہے لیکن دائیں طرف سلام کرتے ہوئے امام کی نیت کر لے کیونکہ دائیں جانب کیا ہے؟ اعلیٰ ہے بھئی، اس کو فضیلت حاصل ہے۔ جبکہ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اب جب امام بالکل اس کے سامنے ہے تو دونوں طرف سلام کرتے ہوئے امام کی نیت کرے، دونوں طرف، اس لیے کیونکہ امام جب بالکل سامنے ہے تو دونوں طرف سے اپنا حصہ لینے والا بن گیا۔ دونوں طرف سے اپنا یعنی یوں کہیں کچھ حصہ امام کا بالکل اس کے سامنے ہے تو کچھ حصہ گویا دائیں طرف ہے اس کا کچھ حصہ بائیں طرف تو دونوں طرف سے حصہ ہوا دونوں طرف نیت کرے اس کی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ بِحِذَائِهِ“ اور اگر امام اس کے برابر میں ہے، اس کے مقابل ہے یعنی سامنے ہے ”نَوَاهُ فِي الْأُولَى“ تو اس امام کی نیت کرے گا پہلے سلام میں ”عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ”تَرْجِيحًا لِلْجَانِبِ الْأَيْمَنِ“ دائیں جانب کو ترجیح دیتے ہوئے ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی تو ان کے نزدیک ”نَوَاهُ فِيهِمَا“ امام کی نیت کرے گا دونوں سلاموں میں ”لِأَنَّهُ ذُو حَظٍّ مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ اس لیے کیونکہ وہ امام حصے والا ہے دونوں جانب سے، ”حَظٌّ“ کہتے ہیں حصہ اور ”ذُو حَظٍّ“ حصے والا، اس لیے کیونکہ امام جو ہے حصے والا ہے دونوں جانب سے یعنی دونوں جانب اس کا حصہ آ گیا۔ ”وَالْمُنْفَرِدُ يَنْوِي الْحَفَظَةَ لَا غَيْرُ لِأَنَّهُ لَيْسَ مَعَهُ سِوَاهُمْ“ یہ تو جماعت کا بیان تھا، جماعت میں دائیں طرف والوں کی نیت کرے گا یا بائیں طرف والوں کی اور فرشتوں کی، اکیلا شخص کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہے وہ کس کی نیت کرے گا؟ کہتے ہیں اکیلا نماز پڑھنے والا صرف فرشتوں کی نیت کرے گا، دائیں طرف والے فرشتوں کی دائیں طرف والے سلام میں اور بائیں طرف کو سلام میں بائیں طرف والے فرشتوں کی نیت کرے گا، اس لیے کیونکہ اور کوئی اس کے ساتھ تو نماز میں شریک ہے ہی نہیں، کہتے ہیں: ”وَالْمُنْفَرِدُ يَنْوِي الْحَفَظَةَ لَا غَيْرُ“ اور منفرد جو ہے محافظ فرشتوں کی نیت کرے گا لا غیر نہ کہ ان کے علاوہ کی ”لِأَنَّهُ لَيْسَ مَعَهُ سِوَاهُمْ“ اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ ”وَالْإِمَامُ يَنْوِي بِالتَّسْلِيمَتَيْنِ“ اب بتلا رہے ہیں امام بھی نیت کرے گا یا نہیں کرے گا؟ بعضوں نے کہا امام کو نیت کی ضرورت ہی نہیں اس کے کسی کی نیت کرے سلام پھیرتے وقت بھئی، بتلا رہے ہیں آپ کو کہ بھئی امام بھی نیت کرے گا سلام پھیرتے ہوئے، دائیں طرف سلام پھیر رہا ہے تو دائیں طرف والوں کی اور فرشتوں کی نیت کرے گا اور بائیں طرف سلام پھیر رہا ہے تو بائیں طرف کے جو مقتدی ہیں اور فرشتے ہیں ان کی نیت کرے گا۔ کہتے ہیں: ”وَالْإِمَامُ يَنْوِي بِالتَّسْلِيمَتَيْنِ“ اور امام نیت کرے گا دونوں سلاموں میں ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے ”وَلَا يَنْوِي فِي الْمَلَائِكَةِ عَدَدًا مَحْصُورًا“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ جب دائیں طرف سلام کر رہے ہیں اور بائیں طرف سلام کر رہے ہیں تو فرشتوں کی بھی نیت کریں گے، تو کسی مخصوص عدد کی نیت نہ کرنا کیونکہ فرشتوں کی تعداد کا صحیح علم نہیں، مختلف روایات آئی ہیں، بعض روایات میں ہے دو ہیں فرشتے ہر انسان کے ساتھ، بعض میں آیا ہے پانچ ہیں، بعض میں ساٹھ کا ذکر ہے، بعض میں ایک سو ساٹھ کا ذکر ہے، تو لہٰذا مخصوص عدد کی نیت نہ کرے، بس مطلقاً جو دائیں طرف جتنے فرشتے ہیں ان سب کی نیت کرتا ہوں، ان سب کو سلام کی نیت کرے بھئی، اور جو بائیں طرف ہیں ان سب کی نیت کرے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا يَنْوِي فِي الْمَلَائِكَةِ عَدَدًا مَحْصُورًا“ اور نیت نہ کرے فرشتوں میں کسی معین عدد کی ”لِأَنَّ الْأَخْبَارَ فِي عَدَدِهِمْ قَدِ اخْتَلَفَتْ“ اس لیے کیونکہ اخبار یعنی احادیث جو ہیں فی عددهم ان کی تعداد کے بارے میں قد اختلفت تحقیق وہ مختلف ہیں ”فَأَشْبَهَ الْإِيمَانَ بِالْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ“ تو یہ مشابہ ہوا انبیاء پر ایمان کے، انبیاء پر ایمان کے مشابہ ہوا بھئی، انبیاء کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہے تو وہاں پر بھی کس طرح کا کیا اعتقاد ہونا چاہیے؟ کہ جتنے انبیاء بھیجے اللہ نے ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہاں بھی کوئی مخصوص عدد تو یہاں بھی اسی طرح۔ ”ثُمَّ إِصَابَةُ لَفْظَةِ السَّلَامِ وَاجِبَةٌ عِنْدَنَا“ پھر پہنچنا لفظِ سلام کو یہ واجب ہے ہمارے نزدیک، یعنی لفظِ سلام کو پانا یعنی اس کو زبان سے ادا کرنا یہ واجب ہے ہمارے نزدیک، یعنی لفظِ سلام کے ساتھ نماز سے نکلنا یہ ہمارے نزدیک واجب ہے بھئی ”وَلَيْسَ بِفَرْضٍ“ اور یہ فرض نہیں ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں فرض ہے۔ ”هُوَ يَتَمَسَّكُ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”تَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ““ وہ دلیل پکڑتے ہیں حضور علیہ السلام کے اس قول سے ”تَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ“، وہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ“ نماز کی تحریم وہ تکبیر ہے، نماز کی تحریم تکبیر، یعنی حرم یحرم تحریم کا معنی حرام کر دینا تو تکبیر تحریمہ کیا کرتی ہے؟ منافیِ صلاۃ چیزوں کو انسان پر حرام کر دیتی ہے، تو نماز کی تحریم جو ہے وہ تکبیر ہے ”وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ“ اور نماز کی تحلیل کیا ہے؟ تسلیم سلام ہے بھئی، سلام، تو یعنی سلام سے نماز سے نکل جائے گا، اب اس کے لیے منافیِ صلاۃ اعمال کرنا بھی حلال ہو جائے گا بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں جیسے تکبیر تحریم کا باعث ہے، سلام کس کا باعث ہے؟ تحلیل کا باعث ہے، نماز کے پورا ہونے کا باعث ہے، تو لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے اندر سلام سے ہی تحلیل ہوگی، سلام کا کرنا فرض ہے بھئی، جیسے نماز کی ابتدا میں تکبیر تحریمہ سے ہی نماز کا آغاز ہوگا، تکبیر تحریمہ جیسے فرض ہے تو سلام بھی کیا ہوگا؟ فرض ہوگا۔ ”وَلَنَا مَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: التَّخْيِيرُ يُنَافِي الْفَرْضِيَّةَ“ اور ہماری دلیل جو ہے وہ جو ہم نے روایت کی یعنی کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث جو ہے ”التَّخْيِيرُ يُنَافِي الْفَرْضِيَّةَ“ تخییر جو ہے منافی ہے فرض ہونے کے۔ بھئی وہ جو ہماری دلیل جو ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے بھئی، یہ ایک ڈیڑھ صفحہ قبل ہی یہ حدیث گزری تھی بھئی، آخری قعدے میں تشہد پڑھے گا اور حضور علیہ السلام پر صلاۃ پڑھے گا اور آگے دلیل اسی میں حدیث دلیل کے طور پر ذکر کی تھی کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ“ جب تو یہ کہہ لے یا یہ کر لے تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہو گئی، اگر تو اٹھنا چاہے تو اٹھ جاؤ اور اگر تو بیٹھنا چاہے تو بیٹھا رہ، تو دیکھیے یہاں اختیار دیا گیا، اگر اٹھنا چاہے تو اٹھ جا، بیٹھنا چاہے تو بیٹھا رہ، تو دیکھیے یہ ”التَّخْيِيرُ يُنَافِي الْفَرْضِيَّةَ“ یہ فرض ہونے کے منافی ہے۔ حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ جب تو تشہد پڑھ لے یا تشہد کی مقدار بیٹھ جائے تو تمہاری نماز کیا ہو گئی؟ مکمل ہو گئی، اب تو اٹھنا چاہے تو اٹھ جا، بیٹھنا چاہے تو بیٹھا رہ، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے یہاں سلام کا ذکر نہیں ہے، بس نماز مکمل ہو گئی، بیٹھنا چاہتا ہے بیٹھا رہے، اٹھنا چاہتا ہے اٹھ جائے، اختیار دے رہے ہیں حضور علیہ السلام، معلوم ہوا سلام فرض نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”التَّخْيِيرُ يُنَافِي الْفَرْضِيَّةَ وَالْوُجُوبَ“ اختیار دینا یہ فرض ہونے اور واجب ہونے کے منافی ہے ”إِلَّا أَنَّا أَثْبَتْنَا الْوُجُوبَ بِمَا رَوَاهُ احْتِيَاطًا“ مگر یہ کہ ہم نے وجوب کو ثابت کیا اس حدیث کی وجہ سے جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا بطورِ احتیاط کے۔ بھئی اس حدیث کے اندر تو حضور علیہ السلام نے اختیار دیا تھا اور وہ اختیار بتلا رہا تھا معلوم ہوا کہ سلام کرنا سلام کے ساتھ نماز سے نکلنا نہ یہ فرض ہے نہ یہ واجب ہے، اگر فرض یا واجب ہوتا تو حضور علیہ السلام یہ نہ فرماتے کہ اٹھنا چاہتے ہو تو اٹھ جاؤ بیٹھنا چاہتے ہو تو بیٹھے رہو بلکہ فرماتے کہ پھر سلام کرو، تو اختیار دینا ہی بتلا رہا ہے کہ یہ فرض بھی نہیں اور یہ واجب بھی نہیں۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے تو ابھی ہمیں بتایا کہ لفظِ سلام کے ساتھ نماز سے نکلنا واجب ہے، پھر واجب کیوں قرار دیا آپ نے؟ تو جواب دے رہے ہیں کہ بطورِ احتیاط کے، بطورِ احتیاط کے، اور جیسا میں نے بیان کیا تھا احناف کی کوشش ہوتی ہے ہر حدیث پر عمل ہو جائے، کوئی ایسی صورت اختیار کر لی جائے کہ ہر حدیث پر عمل ہو جائے، اس حدیث سے پتہ چل رہا تھا کہ فرض بھی نہیں اور واجب بھی نہیں لیکن یہ حدیث چونکہ آ گئی تو ہم نے بطورِ احتیاط کے کہا کہ سلام کے ساتھ نماز سے نکلنا واجب ہے بھئی، واجب۔ یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنَّا أَثْبَتْنَا الْوُجُوبَ بِمَا رَوَاهُ احْتِيَاطًا“ مگر یہ کہ ہم نے ثابت کیا وجوب کو اس حدیث کی وجہ سے جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا بطورِ احتیاط کے، ”وَبِمِثْلِهِ لَا يَثْبُتُ الْفَرْضِيَّةُ“ یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ کہ آپ نے اس حدیث سے وجوب کو ثابت کیا فرضیت کو کیوں نہیں ثابت کرتے؟ امام شافعی رحمہ اللہ تو فرض ہونا ثابت کر رہے ہیں اس حدیث سے، آپ فرض ہونا کیوں نہیں ثابت کرتے؟ سلام کو فرض کیوں نہیں کہتے، واجب پھر کیوں کہتے ہو؟ جواب یہ کہ بھئی اس جیسی حدیث سے فرض نہیں ثابت ہو سکتا کیونکہ یہ خبرِ واحد ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ خبرِ واحد ہے، اور فرض کے لیے قطعی دلیل چاہیے اور خبرِ واحد تو ظنی ہوتی ہے، وہ تو غالب گمان کا فائدہ دیتی ہے، یقین کا فائدہ نہیں، ہاں تو فرض تو بڑے اونچی چیز ہے، اس کے لیے دلیل بھی اتنی ہی قوی اور حتمی یقینی چاہیے بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَبِمِثْلِهِ لَا يَثْبُتُ الْفَرْضِيَّةُ“ اور اس جیسی حدیث سے فرض ہونا ثابت نہیں ہوتا ”وَاللهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ ”فَصْلٌ فِي الْقِرَاءَةِ“ یہ فصل ہے قرات کے بیان میں۔ بھئی نماز کا طریقہ مکمل بیان کر دیا صاحبِ ہدایہ نے، نماز سے پہلے کی چیزیں بھی وضو وغیرہ غسل وہ سب چیزیں بھی بیان ہوئیں اور پھر نماز کی شرائط بھی ذکر ہوئیں اور نماز کے فرائض وغیرہ اور مفصل طریقہ انہوں نے بیان کر دیا دلائل کے ساتھ، تو اسی میں قرات کا بھی ذکر آ گیا تھا لیکن چونکہ قرات کے ساتھ بہت سے مسائل متعلق ہیں اور اس میں بڑی تفصیل ہے تو اس لیے اس کو علیحدہ فصل میں اب ذکر کر رہے ہیں، قرات سے متعلقہ مسائل کو اب اس میں ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ”فَصْلٌ فِي الْقِرَاءَةِ“ یہ فصل ہے قرات کے بیان میں۔ قَالَ: ”وَيَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الْفَجْرِ وَالرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِنْ كَانَ إِمَامًا“ اور اونچی آواز سے قرات کرے گا فجر میں اور پہلی دو رکعتوں میں مغرب اور عشاء میں ”إِنْ كَانَ إِمَامًا“ اگر نماز پڑھنے والا کیا ہو؟ امام ہو، امامت کروا رہا ہو ”وَيُخْفِي فِي الْأُخْرَيَيْنِ“ اور چھپائے گا یعنی آہستہ آواز سے پڑھے گا اخریین اخری دو رکعتوں میں ”هَذَا هُوَ الْمُتَوَارَثُ“ یہی متوارث ہے بھئی، اسی طرح اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے بھئی، اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ مُنْفَرِدًا فَهُوَ مُخَيَّرٌ“ اور اگر وہ اکیلا ہے نماز پڑھنے والا ”فَهُوَ مُخَيَّرٌ“ تو اس کو اختیار ہے ”إِنْ شَاءَ جَهَرَ وَأَسْمَعَ نَفْسَهُ“ کون سی نماز کی بات ہو رہی ہے؟ فجر، مغرب اور عشاء، ان میں امام پہلی دو رکعتوں میں کیا کرے گا؟ جہر کرے گا یعنی اونچی آواز سے قرات کرے گا اور باقی رکعتوں میں آہستہ آواز سے، لیکن اگر اکیلا ہو پھر اس کو ان تینوں نمازوں میں اختیار ہے چاہے تو اونچی آواز سے قرات کرے اور اپنے آپ کو سنائے اور چاہے تو کیا کرے؟ آہستہ آواز سے قرات کرے، یہ معنی ہے ”وَإِنْ كَانَ مُنْفَرِدًا“ اور اگر اکیلا ہے ”فَهُوَ مُخَيَّرٌ“ تو اس کو اختیار ہے ”إِنْ شَاءَ جَهَرَ وَأَسْمَعَ نَفْسَهُ“ چاہے تو اونچی آواز سے قرات کرے اور اپنے آپ کو سنائے ”لِأَنَّهُ إِمَامٌ فِي حَقِّ نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ اپنی ذات کے حق میں کیا ہے؟ امام ہے، اپنی ذات کے لیے تو وہ امام ہے ”وَإِنْ شَاءَ خَافَتَ“ اور اگر چاہے تو آواز آہستہ رکھے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ خَلْفَهُ مَنْ يُسْمِعُهُ“ اس لیے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کو یہ سنائے بھئی، آواز آہستہ بھی رکھ سکتا ہے کیوں؟ کیونکہ پیچھے کوئی مقتدی وغیرہ تو ہے نہیں کہ جس کو قرات سنائے بھئی، تو آہستہ بھی پڑھ سکتا ہے، ”وَالْأَفْضَلُ هُوَ الْجَهْرُ“ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں افضل جو ہے وہ کیا ہے؟ جہر ہے ”لِيَكُونَ الْأَدَاءُ عَلَى هَيْئَةِ الْجَمَاعَةِ“ تاکہ یہ جو ادا ہے کس صورت پر ہو جائے؟ جماعت، جماعت کی صورت پر یہ ادا ہو جائے، ہے تو اکیلا لیکن کس صورت پر ادا ہو جائے؟ جماعت کی صورت پر۔ ”وَيُخْفِيهَا الْإِمَامُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِنْ كَانَ بِعَرَفَةَ“ اور چھپائے گا یعنی آہستہ آواز سے قرات کرے گا ”الْإِمَامُ“ کون؟ امام ”فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ“ ظہر اور عصر میں ”وَإِنْ كَانَ بِعَرَفَةَ“ اگرچہ وہ عرفات میں ہی کیوں نہ ہو۔ اگرچہ کہاں ہو؟ عرفات۔ بھئی ظہر اور عصر ان دو نمازوں کے اندر قرات سراً کی جائے گی آہستہ آواز سے، چاہے عرفات ہی میں کیوں نہ ہو امام بھئی۔ عرفات کو بالخصوص ذکر کیا کیونکہ اس میں امام مالک رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں جمعہ وغیرہ پر بھئی، جمعے پر قیاس کرتے ہیں کہ جیسے جمعے کے اندر دیکھیے دن کی نماز ہے لیکن قرات اونچی آواز سے کی جا رہی ہے، مجمع بڑا ہے سب لوگ جمع ہیں، تو اسی طرح عرفات کے اندر بھی سب لوگ جمع ہیں تو کیا کرے امام؟ اونچی آواز سے قرات کرے۔ صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا نہیں، ہمارے نزدیک ظہر اور عصر میں اخفاء کرے گا امام اگرچہ وہ عرفات میں ہی کیوں نہ ہو، دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”صَلَاةُ النَّهَارِ عَجْمَاءُ““ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے، وہ فرماتے ہیں ”صَلَاةُ النَّهَارِ“ دن کی نماز جو ہے ”عَجْمَاءُ“ گونگی ہے بھئی، دن کی نماز کیا ہے؟ گونگی ہے، ”أَيْ لَيْسَتْ فِيهَا قِرَاءَةٌ مَسْمُوعَةٌ“ گونگی ہونے کا کیا معنی؟ خود بتلا رہے ہیں: ”أَيْ لَيْسَتْ فِيهَا قِرَاءَةٌ مَسْمُوعَةٌ“ یعنی اس میں ایسی قرات نہیں ہے جو سنائی دے، جو سنائی دے ایسی قرات نہیں ہے، ”وَفِي عَرَفَةَ خِلَافٌ لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ“ اور عرفات کے اندر اختلاف ہے امام مالک رحمہ اللہ کا ”وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَاهُ“ اور دلیل جو ہے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کیا، امام مالک رحمہ اللہ نے قیاس سے کام لیا تھا اور ہمارے پاس کیا ہے؟ حدیث موجود ہے تو یہ حدیث جو ہے ان کے خلاف بھی دلیل ہے۔ ”وَيَجْهَرُ فِي الْجُمُعَةِ وَالْعِيدَيْنِ“ اور امام اونچی آواز سے قرات کرے گا جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں دونوں عیدیں جو ہیں ”لِوُرُودِ النَّقْلِ الْمُسْتَفِيضِ بِالْجَهْرِ“ بوجہ، مستفیض کا معنی مشہور، مشہور نقل آنے کی وجہ سے ”بِالْجَهْرِ“ کس چیز کی؟ جہر، کہ جہر کے ساتھ مشہور نقل وارد ہوئی ہے، مشہور نقل آئی ہے یعنی اسی طرح مشہور ہے، نقل ہوتا چلا آیا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”وَفِي التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ يُخَافِتُ“ اور نفل جو ہیں، تطوع نفل کو کہتے ہیں، ”وَفِي التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ“ اور دن کے میں جو نفل ہوں اس میں ”يُخَافِتُ“ کیا کرے گا؟ آہستہ آواز، آواز کو پست رکھے گا ”وَفِي اللَّيْلِ يَتَخَيَّرُ“ اور رات کے نفلوں میں ”يَتَخَيَّرُ“ اس کو اختیار ہوگا ”اعْتِبَارًا بِالْفَرْضِ فِي حَقِّ الْمُنْفَرِدِ“ قیاس کرتے ہوئے فرضوں پر منفرد کے حق میں، قیاس کرتے ہوئے فرضوں پر منفرد کے حق میں۔ بھئی دیکھیے منفرد اکیلا جو نماز پڑھ رہا ہے، دن کے اندر اکیلا نماز پڑھ رہا ہے، ظہر، عصر تو کیا کرے گا؟ آہستہ قرات، جیسے امام آہستہ کرتا تھا منفرد بھی کیا کرے گا؟ آہستہ۔ اور رات کے وقت کوئی شخص مغرب، عشاء یا فجر جو ہے یہ اکیلے یہ نماز پڑھنا چاہتا ہے تو آپ نے ابھی پڑھا، منفرد اس کو اختیار ہے چاہے تو قرات آہستہ کرے چاہے تو قرات اونچی آواز سے کرے، تو نفلوں کو بھی اسی پر قیاس کیا جائے گا، دن کے فرضوں کے اندر جیسے منفرد پر آواز کو پست رکھنا اور نیچا رکھنا ضروری تھا، اسی طرح نفلوں میں بھی ہوگا، اور رات کے فرضوں کے اندر جیسے منفرد کو اختیار ہوتا تھا تو رات کے نفلوں میں بھی اس کو کیا ہوگا؟ اختیار۔ یہ معنی ہے: ”اعْتِبَارًا بِالْفَرْضِ فِي حَقِّ الْمُنْفَرِدِ“ قیاس کرتے ہوئے فرضوں پر منفرد کے حق میں ”وَهَذَا لِأَنَّهُ مُكَمِّلٌ لَهُ فَيَكُونُ تَبَعًا لَهُ“ اور یہ اس وجہ سے کیونکہ نفل جو ہیں یہ تکمیل کرنے والے ہیں فرضوں کی تو یہ اس کے تابع ہوں گے۔ یہ نفل جو ہیں یہ فرضوں کی تکمیل کرتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ فرضوں کی تکمیل کرتے ہیں یعنی کہ اگر فرضوں کے اندر انسان سے کچھ کمی کوتاہی ہو گئی ہو تو وہ کس سے پوری ہو جائے گی؟ نفلوں سے پوری ہو جائے گی، تو یہ نفل فرضوں کے تابع ہوئے تو جیسے فرضوں میں تھا بعض جگہ قرات آہستہ پڑھنا واجب تھا تو وہاں نفلوں میں بھی قرات آہستہ کرنا واجب، اور بعض جگہ فرضوں میں منفرد کو اختیار تھا تو نفلوں میں بھی اس کو اختیار ہوگا تو یہ نفل فرضوں کے تابع ہیں تو اسی کی طرح ہوں گے۔ ”وَمَنْ فَاتَتْهُ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ“ اور جس کی فوت ہو گئی عشاء کی نماز، مراد ہے جہری نماز، کسی کی کون سی نماز فوت ہو گئی؟ جہری نماز یعنی جس میں اونچی آواز سے قرات کی جاتی ہے ”فَصَلَّاهَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ“ تو اس نے اس نماز کو پڑھا سورج کے طلوع ہو جانے کے بعد۔ بھئی اب یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں، فجر، مغرب، عشاء اس میں جو وقت کے اندر تو کیا کریں گے؟ جہر کریں گے اونچی آواز سے، اگر کسی کی یہ نماز فوت ہو جائے جہری یعنی جس میں اونچی آواز سے قرات کی جاتی ہے، یہ اس کی نماز فوت ہو گئی اب وہ اس کو دن کے وقت اس کی قضا کرنا چاہتا ہے تو کیا اس میں قرات اونچی آواز سے کرے گا یا نہیں؟ تو آگے آپ کو بتلائیں گے: اگر باجماعت قضا کر رہے ہیں، باجماعت قضا تو پھر اس صورت میں جہر، جہر کیا جائے گا اونچی آواز سے قرات کی جائے گی جیسے اپنے وقت کے اندر اونچی آواز سے اس نماز میں قرات کرتے تھے تو دن کے وقت بھی اس میں کیا کریں گے؟ اونچی آواز سے قرات کریں گے۔ اور اگر اکیلا آدمی ہے وہ جہری نماز کی قضا کر رہا ہے دن کے وقت، تو کہتے ہیں اب اس کو اختیار نہیں، اب اس کو آہستہ آواز ہی میں قرات کرنا پڑے گی۔ کہتے ہیں: ”وَمَنْ فَاتَتْهُ الْعِشَاءُ“ اور جس کی عشاء کی نماز فوت ہو گئی ”فَصَلَّاهَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ“ تو اس نے اس کو پڑھا سورج طلوع ہو جانے کے بعد ”إِنْ أَمَّ فِيهَا جَهَرَ“ اگر امامت کرے اس نماز میں جہر تو کیا کرے گا؟ جہر کرے یعنی اونچی آواز سے قرات کرے ”كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَضَى الْفَجْرَ غَدَاةَ لَيْلَةِ التَّعْرِيسِ بِجَمَاعَةٍ“ جیسے کہ کیا حضور علیہ السلام نے جب آپ نے فجر کی نماز قضا فرمائی غداۃ لیلۃ التعریس، لیلۃ التعریس کے چاشت کے وقت یعنی دن نکلنے کے وقت باجماعت ان جماعت کے ساتھ۔ بھئی یہ حدیث پیچھے بیان ہو چکی کہ حضور علیہ السلام سفر میں تھے رات کے آخری حصے کے اندر صحابہ تھک گئے ہوں گے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ یا رسول اللہ تھوڑا سا آرام نہ کر لیں، حضور علیہ السلام فرمانے لگے مجھے خوف ہے کہ فجر کی نماز نہ رہ جائے، تو حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے ذمہ داری لے لی کہ میں جگا دوں گا سب کو، چنانچہ پڑاؤ ڈال لیا، صحابہ لیٹ گئے، حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے، انتظار کر رہے ہیں جیسے ہی فجر طلوع ہوتی ہے تو اذان دیں گے لوگوں کو اٹھائیں گے، تو اسی میں ان کی آنکھ لگ گئی اور اس دوران سورج طلوع ہو گیا اور حضور علیہ السلام سب سے پہلے بیدار ہوئے تو آپ اٹھے، فوراً حضرت بلال سے بھی فرمایا کہ بھئی تم نے تو کہا تھا میں جگا دوں گا تمہاری وہ بات کہاں چلی گئی؟ وہ فرمانے لگے یا رسول اللہ مجھے ایسی نیند آئی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ ارواح جو ہیں اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں جب چاہتے ہیں ان کو روکتے ہیں جب چاہتے ہیں ان کو وہ حدیث الفاظ پیچھے گزر چکے ہیں ان کو لوٹا دیتے ہیں، اور پھر حضور علیہ السلام نے صحابہ سے فرمایا چلو یہاں سے، چل پڑے اور پھر تھوڑا سا آگے گئے جب سورج تھوڑا اونچا ہو گیا تھا تو پھر اس وقت وہ فجر کی جو نماز قضا ہو گئی تھی اس کو باجماعت ادا فرمایا حضور علیہ السلام نے، اور سورج نکل آیا تھا لیکن اس میں حضور علیہ السلام نے اسی طرح جہراً قرات کی جس طرح کے فجر کے اپنے وقت کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ جہراً قرات کی جاتی ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا اگر جہری نماز فوت ہو جائے اور دن کو باجماعت اس کی قضا کر کرنی پڑے تو قرات کس طرح کی جائے گی؟ اونچی آواز سے کی جائے گی۔ ”وَإِنْ كَانَ وَحْدَهُ خَافَتَ حَتْمًا“ اور اگر اکیلا ہو جس کی نماز فوت ہوئی ہے اور جہری نماز اور دن کو اس کی قضا کر رہا ہے، اگر وہ اکیلا ہے ”خَافَتَ حَتْمًا“ تو آواز کو آہستہ رکھے گا قطعی طور پر، اب اس کو اختیار نہیں، اونچی آواز سے دن کے وقت قرات نہیں کر سکتا ”وَلَا يَتَخَيَّرُ“ اور اس کو اختیار نہیں ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ بھئی میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں: ایک ہے صحیح، ایک ہے اصح زیادہ صحیح، اصح کا کیا معنی؟ زیادہ صحیح، کس میں قوت زیادہ؟ صحیح میں، ہاں شاباش، صحیح میں قوت زیادہ اصح کے مقابلے میں، اس لیے کیونکہ جب کہا اصح زیادہ صحیح قول ہے، معلوم ہوا اس کے مقابلے میں کوئی صحیح قول بھی ہے، یہ زیادہ صحیح ہے لیکن دوسرا قول بھی کیا ہے؟ صحیح، اور جب کہا صحیح تو اس کا معنی ہوا معلوم ہوا دوسرا قول سرے سے صحیح ہی نہیں ہے، تو اس میں لہٰذا صحیح کے اندر زیادہ قوت ہے بمقابلہ اصح کے۔ کہتے ہیں: ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے ”لِأَنَّ الْجَهْرَ يَخْتَصُّ إِمَّا بِالْجَمَاعَةِ حَتْمًا أَوْ بِالْوَقْتِ فِي حَقِّ الْمُنْفَرِدِ عَلَى وَجْهِ التَّخْيِيرِ“ اس لیے کیونکہ جہر جو ہے یعنی اونچی آواز سے قرات کرنا وہ خاص ہے ”إِمَّا بِالْجَمَاعَةِ“ یا تو کس کے ساتھ؟ جماعت کے ساتھ ”حَتْمًا“ قطعی طور پر، بھئی جماعت کے ساتھ تو جہر قطعی طور پر یقینی ہے لازمی ہے، کس کے ساتھ؟ جماعت۔ جہر بات اونچی آواز سے قرات کی ہو رہی ہے، اونچی آواز سے قرات کرنا وہ مختص ہے جماعت کے ساتھ قطعی طور پر، یعنی جب جہری نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جائے گی تو اس میں جہر ہی کرنا پڑے گا قطعی طور پر، چاہے وقت کے اندر ادا کرے چاہے بعد میں قضا ادا کرے، پھر چاہے دن کے وقت قضا کرے چاہے رات کو قضا کرے، ہر صورت میں کیا کرنا پڑے گا؟ جہر۔ اور منفرد اگر منفرد وہ قضا کرنا چاہتا ہے اور کون سی قضا کرنا چاہتا ہے؟ جہری نماز کی تو اس میں پھر وقت کو دیکھا جائے گا، کس کو دیکھا جائے گا؟ وقت کو دیکھا جائے گا، اگر وہ وقت ہے جہر والا تو اس میں جہر کرے گا اور وقت نہیں تو جہر بھی نہیں۔ اس کو اختیار ہوگا منفرد کو اختیار، لیکن کس وقت میں؟ جب وقت ہو تب اختیار ہے، جب وقت نہیں یعنی دن کا وقت ہے تو پھر اختیار بھی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جماعت کے ساتھ جہر مختص ہے وہ تو ہے قطعی طور پر، اور منفرد کے ساتھ بھی مختص ہے جہر، وہ بھی جہر کر سکتا ہے لیکن اس کو اختیار ہوگا اور کس وقت اختیار ہوگا؟ وقت میں اختیار ہوگا، وقت کے بعد اختیار بھی نہ رہے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْجَهْرَ يَخْتَصُّ إِمَّا بِالْجَمَاعَةِ حَتْمًا“ اس لیے کیونکہ جہر جو وہ تو خاص ہے یا تو جماعت کے ساتھ حتماً قطعی طور پر، چاہے قضا کرے چاہے ادا ”أَوْ بِالْوَقْتِ فِي حَقِّ الْمُنْفَرِدِ عَلَى وَجْهِ التَّخْيِيرِ“ یا جہر وقت کے ساتھ خاص ہے منفرد کے حق میں اکیلے نماز پڑھنے والے کے حق میں اختیار کے طریقے پر ”وَلَمْ يُوجَدْ أَحَدُهُمَا“ اور ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں پایا گیا، بھئی کس کی نماز کی بات ہو رہی ہے؟ منفرد کی، اور منفرد قضا کرنا چاہتا ہے کب؟ دن کے وقت، جہری نماز کی قضا کرنا چاہتا ہے دن کے وقت، اور یہاں جماعت بھی نہیں ہے اور وہ وقت بھی نہیں ہے، لہٰذا دونوں چیزیں نہیں پائی گئیں لہٰذا وہ کیا کرے گا؟ آہستہ آواز سے قرات کرے گا، یہی بات تو متن میں آئی کہ ”خَافَتَ حَتْمًا وَلَا يَتَخَيَّرُ“ قطعی طور پر وہ کیا کرے گا؟ آواز آہستہ رکھے گا اور اس کو اختیار نہیں ہوگا، اور آگے وجہ ذکر کر دی ”وَلَمْ يُوجَدْ أَحَدُهُمَا“ ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز یہاں نہیں پائی گئی منفرد کے لیے، اس لیے یقینی طور پر قطعی طور پر اس کو قرات آہستہ کرنی پڑے گی جب جہری نماز کی قضا کر رہا ہے اور کس وقت کر رہا ہے؟ دن کے وقت کر رہا ہے، تو جماعت بھی نہیں ہے، جماعت ہوتی پھر جہری قرات ہوتی، اور وقت بھی نہیں ہے، اگر وقت ہوتا پھر اس کو اختیار ہوتا، تو دونوں چیزیں نہیں پائی گئیں لہٰذا اس کو قطعی طور پر کیا کرنا پڑے گا؟ آواز کو آہستہ ہی رکھنا پڑے گا، یہ جہری قرات نہیں کر سکتا۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
82 approved lectures · 52 of 82