Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ لِمَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ لِحَدِيثِ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا لَا عَنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ عَنْ بَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ أَوْ نَوْمٍ، وَلِأَنَّ الْجَنَابَةَ لَا تَتَكَرَّرُ عَادَةً فَلَا حَرَجَ فِي النَّزْعِ بِخِلَافِ الْحَدَثِ لِأَنَّهُ يَتَكَرَّرُ“ مسح الخفین کا باب چل رہا ہے بھئی، مسح الخفین کا۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ مسح الخفین وہ جائز ہے ایسے حدث کی وجہ سے جو وضو کو واجب کرنے والا ہے، جبکہ موزوں کو پہنا ہو طہارتِ کاملہ پر اور پھر حدث پیش آجائے۔ پھر کیا پیش آجائے؟ حدث پیش آجائے۔ جی، تو آگے اب آپ کو بتلا رہے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ لِمَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ“ اور یہ مسح الخفین جو ہے یہ جائز نہیں ہے اس شخص کے لیے جس پر غسل واجب ہو۔ یعنی جنابت کی وجہ سے جو جنابت کا جو حدث پیش آیا ہے اس صورت میں مسح الخفین جائز نہیں، بلکہ موزے اتار کر پاؤں کو اس میں دھونا ضروری ہے بھئی۔ دلیل کیا ہے اس کی؟ کہتے ہیں: ”لِحَدِيثِ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے، ”أَنَّهُ قَالَ“ وہ فرماتے ہیں: ”كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم فرماتے تھے ”إِذَا كُنَّا سَفْرًا“ سفر، یہ اسمِ جمع ہے مسافر کے لیے بھئی، مسافر جو ہیں جمع، تو یہ اسمِ جمع ہے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم فرماتے تھے ”إِذَا كُنَّا سَفْرًا“ جب ہم مسافر ہوتے تھے ”أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا“ کہ ہم نہ اتاریں اپنے موزوں کو ”ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا“ تین دن اور تین راتیں ”لَا عَنْ جَنَابَةٍ“ نہ کہ جنابت سے۔ دیکھو نفی پر نفی داخل ہوئی، اور نفی پر نفی داخل ہو تو یہ اثبات کا فائدہ دیتی ہے۔ کیسے؟ مثلاً آپ کہتے ہیں زید نہیں آئے گا، نفی ہے۔ اسی پر ایک اور نفی داخل کریں: ایسا نہیں ہے کہ زید نہیں آئے گا۔ کیا معنی؟ معلوم ہوا آئے گا۔ تو دیکھو نفی پر نفی داخل ہو وہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا۔ تو یہاں ماقبل میں بھی تھا: ”أَنْ لَا نَنْزِعَ“ نفی، کہ ہم نہ اتاریں موزوں کو، آگے ”لَا عَنْ جَنَابَةٍ“ پھر نفی آئی، تو کس چیز کا فائدہ دیا؟ اثبات کا۔ معلوم ہوا جنابت کی صورت میں اتارنے پڑیں گے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر ”لَا“ آیا جبکہ مشہور روایتوں کے اندر ”إِلَّا“ ہے کہ ہم نہ اتاریں اپنے موزوں کو تین دن اور تین راتیں ”إِلَّا عَنْ جَنَابَةٍ“ مگر جنابت سے کہ اس میں اتاریں گے۔ ”وَلَكِنْ عَنْ بَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ أَوْ نَوْمٍ“ مگر بول یعنی پیشاب سے یا غائط یعنی قضائے حاجت سے یا نوم یعنی نیند سے۔ ان صورتوں میں ہم یعنی نہ اتاریں اور اسی پر مسح کریں۔ یہ تو عقلی دلیل تھی بھئی۔ نص ذکر کر دی باقاعدہ کہ جنابت کی صورت میں مسح جائز نہیں۔ اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْجَنَابَةَ لَا تَتَكَرَّرُ عَادَةً“ اس لیے کیونکہ جنابت وہ عام طور پر مکرر نہیں ہوتی، بار بار نہیں ہوتی، جنابت کا حدث کبھی کبھی لاحق ہوتا ہے، ”فَلَا حَرَجَ فِي النَّزْعِ“ لہٰذا اب اس میں موزے کے اتارنے میں کوئی حرج نہیں، ”بِخِلَافِ الْحَدَثِ“ بخلاف کس کے؟ حدث کے، ”لِأَنَّهُ يَتَكَرَّرُ“ کہ وہ مکرر ہوتا ہے بار بار۔ حدث بار بار پیش آتا ہے لیکن جنابت کبھی کبھار پیش آتی ہے۔ تو حدث جو بار بار پیش آتا ہے اس میں مسح کی حاجت ہے اور جنابت جو کبھی کبھار پیش آتی ہے اگر اس میں مسح نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں بھئی۔ ”وَيَنْقُضُ الْمَسْحَ كُلُّ شَيْءٍ يَنْقُضُ الْوُضُوءَ“ اور توڑ دیتی ہے مسح کو ہر ایسی چیز ”يَنْقُضُ الْوُضُوءَ“ جو کیا کرے؟ وضو کو توڑ دے، ”لِأَنَّهُ بَعْضُ الْوُضُوءِ“ اس لیے کیونکہ مسح جو ہے وہ بعضِ وضو ہے یعنی وضو کا جز ہے اور جو چیز کُل کو یعنی وضو کو توڑ دیتی ہے وہ جز کو یعنی مسح کو بھی کیا کرے گی؟ توڑ دے گی۔ ”وَيَنْقُضُهُ أَيْضًا نَزْعُ الْخُفِّ“ اور اسی طرح مسح کو توڑ دیتا ہے ”نَزْعُ الْخُفِّ“ موزے کا اتارنا۔ اگر موزہ پہنا ہے اور اس پر مسح کیا ہے پھر موزے کو اتار دیا تو مسح ٹوٹ جائے گا بھئی، مسح ٹوٹ جائے گا۔ بھئی کیوں مسح کیوں ٹوٹ جائے گا؟ کہتے ہیں: ”لِسِرَايَةِ الْحَدَثِ إِلَى الْقَدَمِ“ بہ وجہ حدث کے سرایت کر جانے پاؤں تک، کہ حدث جو ہے وہ پاؤں تک پہنچ گیا بھئی۔ موزے نے تو کیا کیا تھا؟ حدث کو اپنے اوپر روک رکھا تھا، اب جب موزے کو اتار دیا تو وہ حدث کہاں پہنچ گیا؟ پاؤں تک پہنچ گیا۔ ”لِسِرَايَةِ الْحَدَثِ إِلَى الْقَدَمِ حَيْثُ زَالَ الْمَانِعُ“ بہ وجہ حدث کے پہنچ جانے کے پاؤں تک کیونکہ وہ مانع جو تھا وہ دور ہو گیا۔ ”وَكَذَا نَزْعُ أَحَدِهِمَا“ اسی طرح دونوں موزوں میں سے ایک کو اتار دینا یہ بھی مسح کو توڑ دے گا۔ ایک موزہ اتارا ہے تو بھی اس پاؤں پر حدث سرایت کر گیا، تو اس پاؤں کا دھونا ضروری ہوا، جب اس کا دھونا ضروری تو دوسرے کا دھونا بھی ضروری ہوا کیونکہ مسح اور غسل ایک ہی وظیفے کے اندر شرعاً جمع نہیں ہو سکتے، جمع نہیں ہو سکتے۔ ”وَكَذَا نَزْعُ أَحَدِهِمَا لِتَعَذُّرِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْغَسْلِ وَالْمَسْحِ فِي وَظِيفَةٍ وَاحِدَةٍ“ بہ وجہ متعذر ہونے کے یعنی ممکن نہ ہونے کے، کیا ممکن نہیں ہے؟ جمع کرنا ”بَيْنَ الْغَسْلِ وَالْمَسْحِ“، تو غسل اور مسح کے درمیان جمع کرنا ممکن نہ ہونے کی وجہ سے شرعاً بھئی۔ کس وجہ سے جمع کرنا ممکن نہیں ہے؟ شرعاً یعنی ان کو جمع کرنا، ویسے تو جمع کر سکتا ہے انسان لیکن شرعاً ان کی اجازت نہیں ہے، تو شرعاً ان کے جمع کرنے کے ممکن نہ ہونے کی وجہ سے ”فِي وَظِيفَةٍ وَاحِدَةٍ“ ایک ہی وظیفے میں، ایک ہی فعل یعنی ایک ہی فرض کے اندر۔ ”وَكَذَا مُضِيُّ الْمُدَّةِ لِمَا رَوَيْنَا“ اور اسی طرح مدت کا گزرنا یہ بھی مسح کو توڑ دیتا ہے۔ مسافر کے لیے کتنی اجازت تھی؟ تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات۔ تو یہ جو مدت جب گزر جائے گی تو مسح ٹوٹ جائے گا، ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی، جو باب کے شروع میں آئی تھی کہ مقیم کیا کرے؟ ایک دن اور ایک رات مسح کرے اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے۔ ”وَإِذَا تَمَّتِ الْمُدَّةُ نَزَعَ خُفَّيْهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ“ اچھا بھئی یہاں ایک اور مسئلہ بھی یاد رکھنا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ جو چیز وضو کو توڑے گی وہ مسح کو بھی توڑ دے گی، اور اسی طرح دونوں موزوں کا اتارنا یا ایک موزے کا اتارنا یا اسی طرح مدت کا پورا ہو جانا اور گزر جانا، یہ سب چیزیں کیا کریں گی؟ مسح کو توڑ دیں گی۔ اسی طرح اگر آپ نے موزے پر مسح کیا ہے اور پھر پاؤں کہیں پانی والی جگہ پر پڑ گیا اور موزے کے اندر پانی چلا گیا اور آپ کا اکثرِ قدم بھیگ گیا، گیلا ہو گیا، تو یاد رکھیے اب مسح ٹوٹ گیا اور موزے کو اتار کر پاؤں دھونا پڑے گا۔ اور پھر صرف ایک پاؤں دھونا پڑے گا یا دونوں دھونا پڑیں گے؟ دونوں پاؤں دھونا پڑیں گے کیونکہ مسح اور غسل دونوں کا جمع کرنا شرعاً درست نہیں ہے ایک ہی وظیفے کے اندر بھئی۔ جی، تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَمَّتِ الْمُدَّةُ“ اب طریقہ بتلا رہے ہیں بھئی کہ جب مدت گزر جائے پھر کیا کرے انسان؟ آپ نے موزے پر مسح شروع کیا تھا اور مثلاً مدت پوری ہو رہی ہے آج ظہر کے وقت بھئی، ایک دن اور ایک رات، آپ مقیم ہیں۔ تو اب اس وقت آپ کا وضو ہے بھئی، تو پھر یہ نہیں کہ اب آپ کو سارا وضو دوبارہ کرنا پڑے گا بلکہ صرف موزے اتاریں، پاؤں دھوئیں اور پھر موزوں کو پہن لیجیے بھئی، کیونکہ باقی اعضاء کو تو آپ نے دھویا ہوا ہے، وضو کیا ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ”وَإِذَا تَمَّتِ الْمُدَّةُ“ اور جب مدت پوری ہو جائے ”نَزَعَ خُفَّيْهِ“ تو اتارے اپنے دونوں موزے ”وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ“ اور اپنے دونوں پاؤں دھو لے ”وَصَلَّى“ اور نماز پڑھ لے، کیونکہ باقی اعضاء کو تو دھویا ہوا ہے، صرف مسح ٹوٹا ہے تو وہ پاؤں دھو لے تو وضو پھر اسی طرح ہے۔ ”وَلَيْسَ عَلَيْهِ إِعَادَةُ بَقِيَّةِ الْوُضُوءِ“ اور نہیں ہے اس شخص پر باقی وضو کا اعادہ کرنا۔ ”وَكَذَا إِذَا نَزَعَ قَبْلَ الْمُدَّةِ“ اور اسی طرح جب اتار لیا موزے کو مدت سے پہلے۔ مدت سے پہلے اگر اتار لیا تو بھی اسی طرح مسئلہ ہے۔ مثلاً آپ نے آج موزے پر مسح کرنا شروع کیا ہے اور یہ کل ظہر تک یہ وقت ہے، تو آپ نے شام ہی کو کیا کیا؟ موزہ اتار دیا۔ تو باقی وضو تو آپ کا ہے تو پھر باقی اعضاء کو دھونے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف کیا کریں؟ پاؤں دھوئیں اور پھر موزے پہن لیجیے۔ یہ معنی ہے ”وَكَذَا إِذَا نَزَعَ قَبْلَ الْمُدَّةِ“ اور اسی طرح جب اتار دیا موزے کو مدت سے پہلے ہی، ”لِأَنَّ عِنْدَ النَّزْعِ يَسْرِي الْحَدَثُ السَّابِقُ إِلَى الْقَدَمَيْنِ“ اس لیے کیونکہ موزہ اتارتے وقت سرایت کر جاتا ہے یعنی پہنچ جاتا ہے وہ سابقہ حدث دونوں قدموں تک، ”كَأَنَّهُ لَمْ يَغْسِلْهُمَا“ گویا کہ اس نے ان دونوں پاؤں کو دھویا ہی نہیں۔ باقی اعضاء تو دھو لیے ہیں وضو کرتے ہوئے اور یہ اعضاء، یہ پاؤں رہ گئے ہیں۔ جی، تو ان کو دھو لے گا۔ ”وَحُكْمُ النَّزْعِ يَثْبُتُ بِخُرُوجِ الْقَدَمِ إِلَى السَّاقِ“ بھئی ایک آدمی ہے اس نے موزے پہنے ہوئے ہیں، تو کتنا پاؤں موزے سے نکل آئے تو کہا جائے گا کہ موزہ اتر گیا، اب پاؤں دھونا ضروری؟ تو یاد رکھیے کہ جب قدم، پاؤں جو ہے، موزے کی پنڈلی میں آجائے، کہاں تک آجائے؟ موزے کی پنڈلی میں آجائے تو بس، اگرچہ موزے سے پاؤں نکلا نہیں ابھی، موزے ہی کے اندر ہے لیکن کس جگہ تک آگیا؟ موزے کی پنڈلی تک آگیا، تو بس یہ گویا موزہ اتر گیا آپ کا۔ اب آپ دوبارہ پاؤں ڈال بھی لیں، نہیں بھئی، آپ کا مسح ٹوٹ چکا ہے، کیا کرنا پڑے گا؟ پھر پاؤں کو دھونا۔ تو اگرچہ پاؤں موزے میں ہی ہے لیکن پنڈلی تک نکل آیا۔ اور آپ نے پڑھا مسح صرف کس حصے پر کیا جا سکتا ہے موزے میں؟ سامنے والے ظاہر حصے پر کیا جاتا ہے۔ تو معلوم اور پنڈلی پر اگر کوئی مسح کرے یا ایڑی پر مسح کرے اس کا کوئی اعتبار ہے؟ اس کا کوئی اعتبار نہیں، آپ پڑھ چکے ہیں۔ تو پنڈلی کا جب مسح کے اندر کوئی اعتبار نہیں ہے تو اس تک قدم بھی نکل آیا تو گویا پاؤں جو ہے موزے سے نکل آیا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے: ”وَحُكْمُ النَّزْعِ يَثْبُتُ بِخُرُوجِ الْقَدَمِ إِلَى السَّاقِ“ اور اتارنے کا حکم جو ہے وہ ثابت ہو جائے گا پاؤں کے نکلنے سے پنڈلی تک، ”لِأَنَّهُ لَا مُعْتَبَرَ بِهِ فِي حَقِّ الْمَسْحِ“ اس لیے کیونکہ پنڈلی کا کوئی اعتبار نہیں ہے مسح کے حق میں، اس پر تو مسح کرنا درست ہی نہیں ہے بھئی۔ ”وَكَذَا بِأَكْثَرِ الْقَدَمِ هُوَ الصَّحِيحُ“ اور اسی طرح یعنی موزہ اتارنے کا حکم ثابت ہوگا اسی طرح ”بِأَكْثَرِ الْقَدَمِ“ کس سے؟ اکثر قدم کے نکلنے سے بھی بھئی۔ اکثر، جیسے پاؤں نکل آتا تھا، پورا پاؤں نکل آیا پنڈلی تک تو بھی یہی حکم کہ گویا موزہ اتر چکا، اور اکثر پاؤں کا اکثر حصہ نکل آیا پنڈلی تک، پورا پاؤں نہیں نکلا لیکن اکثر حصہ پنڈلی تک آگیا تو کیا کہا جائے گا؟ موزہ اتر گیا اور جب اتر گیا تو پاؤں کو دھونا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَكَذَا بِأَكْثَرِ الْقَدَمِ“ اور اسی طرح اکثرِ قدم سے بھی ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ ”وَمَنِ ابْتَدَأَ الْمَسْحَ وَهُوَ مُقِيمٌ فَسَافَرَ قَبْلَ تَمَامِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَسَحَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا“ جی، یہاں سے آپ کو یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ یاد رکھیے یہ جو کہا مقیم ایک دن اور ایک رات تک مسح کرے گا اور مسافر تین دن اور تین رات تک مسح کرے گا اس میں آخرِ وقت کو دیکھا جائے گا۔ مثلاً مقیم تھا اس کو اجازت ہے ایک دن ایک رات تک مسح کرنے کی شرعاً بھئی، اب وہ وقت مثلاً پورا ہو رہا ہے ظہر کے وقت اور ظہر سے کچھ دیر پہلے وہ شخص سفر پر چل پڑا، تو مسافر بن گیا۔ اب یہ نہیں کہ ظہر کے وقت وہ موزے اتارے گا بلکہ اب کون سی مدت پوری کرے گا؟ مسافر والی مدت پوری کرے گا کیونکہ اس حکم کا تعلق وقت سے ہے اور جس حکم کا تعلق وقت سے ہوتا ہے اس میں آخرِ وقت کا اعتبار کیا جاتا ہے جیسے حائضہ بھئی۔ ایک عورت ہے اس کو حیض کے ایام ہیں اور ظہر کے آخری وقت میں حیض رک گیا، وہ پاک ہو گئی بھئی، تو آخری وقت میں مثلاً ظہر کے صرف دس منٹ باقی تھے تو اس میں بھی اس پر اب ظہر کی نماز واجب ہو جائے گی۔ باقی ظہر کے سارے وقت میں حیض تھا لیکن آخری وقت میں کیا تھی؟ پاک تھی، تو ظہر کی نماز اس پر واجب ہو جائے گی۔ اسی طرح ایک عورت پاک تھی اور ظہر کے آخری وقت میں حیض شروع ہو گیا آخری دس منٹوں میں، تو پہلے وقت میں پاک تھی لیکن ابھی اس نے نماز نہیں پڑھی تھی، تو اب اعتبار آخری وقت کا ہے اور اس آخری وقت میں تو وہ حیض والی ہے لہٰذا اس سے یہ نماز ساقط ہو جائے گی، اس پر اس کی قضا بھی نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں حیض کے ایام میں جو نمازیں ہیں ان کی عورتوں پر قضا بھی نہیں، ان کے ذمے ہے ہی نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ”وَمَنِ ابْتَدَأَ الْمَسْحَ وَهُوَ مُقِيمٌ فَسَافَرَ قَبْلَ تَمَامِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَسَحَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا“ اور جس نے ابتدا کی مسح کی اس حال میں کہ وہ مقیم تھا تو پھر اس نے سفر کیا ایک دن ایک رات کے پورا ہونے سے پہلے ہی، ایک دن رات کے پورا ہونے سے پہلے سفر پر چل پڑا ہے۔ اگر پورا ہونے کے بعد چلے گا پھر تو وقت پورا ہو چکا اور وقت پورا ہوتے ہی کیا ہوتا ہے؟ وہ سابقہ حدث سرایت کر جاتا ہے قدم تک، تو پھر تو قدم تک حدث سرایت کر چکا، پھر نہیں اجازت۔ اسی لیے کہا ایک دن رات کے پورا ہونے سے پہلے وہ مسافر ہوا ”مَسَحَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا“ تو مسح کرے گا تین دن اور تین راتیں، ”عَمَلًا بِإِطْلَاقِ الْحَدِيثِ“ عمل کرتے ہوئے حدیث کے اطلاق پر۔ حدیث میں مطلق آیا تھا کہ مسافر کیا کرے گا؟ تین دن اور تین راتیں مسح کر سکتا ہے، حدیث میں مطلق آیا تھا، تو یہاں پر بھی آخرِ وقت میں وہ کیا ہے؟ مسافر ہے، اس میں یہ نہیں کہ ابتدا سے مسافر ہو یا آخرِ وقت میں مسافر ہو، کوئی قید نہیں، مطلقاً ہے سب کو شامل ہے۔ تو آخرِ وقت میں بھی یہ کیا بن گیا؟ مسافر، تو حدیث اس پر صادق آ رہی ہے، یہ مسافر ہے اور مسافر کتنا مسح کر سکتا ہے؟ تین دن اور تین رات۔ یہ معنی ہے ”عَمَلًا بِإِطْلَاقِ الْحَدِيثِ“ عمل کرتے ہوئے حدیث کے اطلاق پر۔ ”وَلِأَنَّهُ حُكْمٌ مُتَعَلِّقٌ بِالْوَقْتِ فَيُعْتَبَرُ فِيهِ آخِرُهُ“ اور اس لیے کیونکہ یہ حکم جو ہے متعلق ہے وقت کے ساتھ، یہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، کیونکہ یہ حکم جو ہے یہ مسح کا یہ متعلق ہے وقت کے ساتھ ”فَيُعْتَبَرُ فِيهِ آخِرُهُ“ تو اس میں اعتبار کیا جائے گا آخرِ وقت کا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا اسْتَكْمَلَ الْمُدَّةَ لِلْإِقَامَةِ ثُمَّ سَافَرَ“ بخلاف اس کے کہ جب اس نے پورا کر لیا مدت کو، اقامت کی مدت کو پورا کر لیا ”ثُمَّ سَافَرَ“ پھر اس نے سفر کیا، ”لِأَنَّ الْحَدَثَ قَدْ سَرَى إِلَى الْقَدَمِ“ اس لیے کیونکہ حدث جو ہے وہ تحقیق سرایت کر گیا قدم تک، پاؤں تک پہنچ گیا، ”وَالْخُفُّ لَيْسَ بِرَافِعٍ“ اور موزہ تو رافعِ حدث نہیں ہے، وہ تو صرف کیا ہے؟ مانع، تو اب بھی اگر مدت پوری ہو گئی، حدث سرایت کر گیا، اب بھی اگر مسافر سفر پر چلا ہے اور اسی پر مسح کی اجازت دی جائے تو موزے کو کیا قرار دینا پڑے گا؟ رافعِ حدث، حالانکہ موزہ تو رافعِ حدث نہیں بلکہ مانعِ حدث ہے۔ ”وَلَوْ أَقَامَ وَهُوَ مُسَافِرٌ إِنِ اسْتَكْمَلَ مُدَّةَ الْإِقَامَةِ نَزَعَ“ ”وَلَوْ أَقَامَ“ اگر وہ مقیم ہوا وہ مسح کرنے والا ”وَهُوَ مُسَافِرٌ“ اس حال میں کہ وہ مسافر تھا بھئی، پھر مقیم ہو گیا۔ ”إِنِ اسْتَكْمَلَ مُدَّةَ الْإِقَامَةِ“ اگر وہ مدتِ اقامت کو پورا کر چکا ہے ”نَزَعَ“ تو کیا کر لے گا؟ موزے کو اتار لے گا۔ ”لِأَنَّ رُخْصَةَ السَّفَرِ لَا تَبْقَى بِدُونِهِ“ اس لیے کیونکہ سفر کی رخصت بغیر سفر کے باقی نہیں رہے گی۔ سفر میں تو تین دن اور تین راتیں، لیکن اب یہ مقیم بن گیا۔ جب مقیم بن گیا اس کی مدت کتنی ہے؟ ایک دن اور ایک رات، اور یہ مثلاً اسے تو ڈیڑھ دن ہو چکا ہے پہنے ہوئے، تو مدت پوری کر چکا، لہٰذا اب آگے مزید مقیم ہوتے ہی مزید مسح نہیں کر سکتا بلکہ کیا کرے؟ موزے اتارنے پڑیں گے بھئی۔ ”وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْمِلْهَا أَتَمَّهَا“ اور اگر اس نے اس مدت کو پورا نہیں کیا یعنی مقیم والی مدت کو ”أَتَمَّهَا“ تو اس مدت کو مدتِ اقامت کو پورا کر لے، ”لِأَنَّ هَذِهِ مُدَّةُ الْإِقَامَةِ وَهُوَ مُقِيمٌ“ اس لیے کیونکہ یہ مدتِ اقامت ہے اور وہ بھی مقیم ہے۔ سفر پر نکلا اور مسح شروع کیا، ابھی ایک دن رات بھی پورا نہ ہوا، پورا نہیں ہوا تھا کہ وہ مقیم ہو گیا کہیں پر، نیت کر لی اس نے پندرہ دن رہنے کی، تو اب مقیم والی مدت پوری کرے گا اور ایک دن رات ابھی پورا نہیں کیا تو اسی ایک دن رات کو کیا کر لے؟ پورا کر لے اور اس سے پھر اس کے بعد پھر وہ مزید مسح نہیں کر سکتا۔ ”وَمَنْ لَبِسَ الْجُرْمُوقَ فَوْقَ الْخُفِّ مَسَحَ عَلَيْهِ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور جس شخص نے جرموق پہنے موزوں کے اوپر تو ان پر مسح کرے گا بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ بھئی جرموق یہ موزے کی حفاظت کے لیے موزے کے اوپر ایک اور اسی طرح کا موزہ چمڑے کا بنا ہوا پہنا جاتا ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ جرموق۔ اور یہ جو جرموق ہوتا ہے یہ موزے سے چھوٹا ہوتا ہے، جرموق کیا ہوتا ہے؟ موزے سے چھوٹا ہوتا ہے۔ تو جس شخص نے جرموق پہنا موزے کے اوپر ”مَسَحَ عَلَيْهِ“ اس پر مسح کرے گا ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ ”فَإِنَّهُ يَقُولُ الْبَدَلُ لَا يَكُونُ لَهُ بَدَلٌ“ وہ فرماتے ہیں کہ بدل جو ہے اس کا بدل نہیں ہو سکتا۔ یہ جو موزہ ہے یہ پاؤں کا بدل ہے، شریعت نے اس کو کیا قرار دیا ہے؟ پاؤں کا بدل۔ تو موزے پر مسح کرنا اسی طرح ہے جیسے پاؤں کا دھونا، تو یہ پاؤں کا بدل ہوا۔ اور اگر جرموق پر بھی مسح کی اجازت دے دی جائے تو جرموق موزے کا بدل ہو جائے گا، تو یہ بدل کا بدل ہوا، بدل کا بدل۔ تو بدل کا بدل، جب شریعت نے ایک چیز کو بدل قرار دیا ہے تو کوئی اپنی رائے کے ذریعے، اپنی عقل کے ذریعے آگے پھر بدل کا بدل نہیں مقرر کر سکتا۔ یہ معنی ہے ”فَإِنَّهُ يَقُولُ الْبَدَلُ لَا يَكُونُ لَهُ بَدَلٌ“ کہ بدل جو ہے اس کا بدل نہیں ہو سکتا یعنی رائے کے ذریعے۔ ”وَلَنَا أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَسَحَ عَلَى الْجُرْمُوقَيْنِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جرموقین پر مسح فرمایا۔ جی، یہ ایک دلیل بھئی کہ حدیث میں آیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے جرموقین پر مسح فرمایا۔ دوسری دلیل عقلی: ”وَلِأَنَّهُ تَبَعٌ لِلْخُفِّ اسْتِعْمَالًا وَغَرَضًا“ اور اس لیے جرموق پر مسح جائز ہوگا اس لیے کیونکہ جرموق کیا ہے؟ موزے کے تابع ہے استعمال کے اعتبار سے بھی اور غرض اور مقصد کے اعتبار سے بھی۔ استعمال میں بھی جرموق موزے کے تابع ہے، جرموق استعمال ہی کیسے کیا جاتا ہے؟ موزے کے اوپر پہنا جاتا ہے، تو یہ استعمال میں بھی موزے کے تابع ہے، اور مقصد کے اعتبار سے بھی یہ موزے کے تابع ہے کیونکہ اس کا مقصد کیا ہے؟ موزے کی حفاظت ہے۔ جیسے موزے کا مقصد ہے پاؤں کی حفاظت، جرموق کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ موزے کی حفاظت تاکہ موزے کی حفاظت ہو اور مٹی وغیرہ کوئی یہ چیزیں اس پر نہ لگیں بھئی۔ تو یہ استعمال کے اعتبار سے بھی موزے کے تابع ہوا اور مقصد کے اعتبار سے بھی موزے کے تابع ہوا۔ ”فَصَارَ كَخُفٍّ ذِي طَاقَيْنِ“ تو گویا یہ دو طاق والے موزے کی طرح ہو گیا، دو تہوں والے۔ ”ذِي طَاقَيْنِ“ دو تہوں والے۔ تو موزے کے اوپر جرموق پہنا تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس شخص نے دو تہوں والا موزہ پہن رکھا ہو اور جو دو تہوں والا موزہ ہے اس پر تو بالاتفاق مسح جائز ہے، تو اس پر بھی جرموق پر بھی مسح جائز ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ دو تہہ والا، ایک آدمی موزے سلواتا ہی اس طرح ہے کہ چمڑے کی دو تہہ لگواتا ہے تاکہ خوب گرم ہوں بھئی، تو ان پر تو بالاتفاق مسح جائز، تو جرموق بھی جب موزے پر پہنا یہ بھی کس کی طرح ہو گیا؟ گویا دو تہوں والا موزہ ہے۔ ”وَهُوَ بَدَلٌ عَنِ الرِّجْلِ لَا عَنِ الْخُفِّ“ اور یہ جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا۔ انہوں نے کیا فرمایا تھا کہ بدل کا بدل نہیں ہو سکتا، رائے کے ذریعے اب بدل کا بھی آگے بدل مقرر کر لیا جائے ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ جواب دے رہے ہیں کہ یہ جرموق جو ہے یہ موزے کا بدل نہیں ہے، ”بَلْ هُوَ بَدَلٌ عَنِ الرِّجْلِ“ یہ بھی کس کا بدل ہے؟ پاؤں کا بدل ہے ”لَا عَنِ الْخُفِّ“ نہ کہ موزے کا بھئی، یہ پاؤں ہی کا بدل ہے تو یہ گویا دو تہہ والا موزہ ہی ہے بھئی، موزہ دو تہہ والا بن گیا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا لَبِسَ الْجُرْمُوقَ بَعْدَمَا أَحْدَثَ“ بخلاف اس کے کہ جب جرموق کو پہنا ہو بعد اس کے کہ جب اس کو حدث لاحق ہوا، حدث پیش آیا۔ بھئی ایک آدمی ہے اس کو حدث پیش آیا اور پھر اس نے موزے پر جرموق پہنے اور اب جرموق کے اوپر مسح کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، اب جرموق پر مسح نہیں کر سکتا کیونکہ حدث موزے تک پہنچ چکا۔ پاؤں تک تو موزے نے نہیں پہنچنے دیا لیکن موزے پر کیا آ چکا؟ حدث آ چکا۔ اب جرموق اوپر پہنے گا تو مسح تو جرموق پر ہوا اور نیچے اندر موزے تک حدث پہنچ چکا ہے بھئی، تو یہ مسح کوئی فائدہ نہیں دے گا، اس حدث کو دور نہیں کرے گا۔ ہاں تو لہٰذا جب جرموق بھی پہنے کب پہنے گا؟ جب موزوں پر حدث نہ ہو یعنی وضو ہو، اس وقت کیا کرے گا؟ جرموق پہن لے۔ اب حدث آئے گا اب موزے تک بھی نہیں پہنچے گا بلکہ کہاں پر رک جائے گا؟ جرموق ہی اپنے اوپر اس کو روک لے گا، تو اسی کے اوپر اب مسح کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا لَبِسَ الْجُرْمُوقَ بَعْدَمَا أَحْدَثَ“ بخلاف اس کے کہ جب پہنا ہو جرموق بعد اس کے کہ جب اس کو حدث پیش آ گیا تھا، پھر مسح نہیں کر سکتا، ”لِأَنَّ الْحَدَثَ حَلَّ بِالْخُفِّ“ اس لیے کیونکہ حدث جو ہے وہ اتر چکا ہے موزے پر، ”فَلَا يَتَحَوَّلُ إِلَى غَيْرِهِ“ لہٰذا وہ کسی غیر کی طرف نہیں پھرے گا۔ حدث کہاں اتر چکا؟ موزے پر حدث اتر چکا ہے، اب جرموق اوپر پہن لیے اور ان پر مسح جائز ہو جائے تو یہ تو کہنا پڑے گا یہ حدث کس کی طرف پھر کر چلا گیا؟ جرموق کی طرف، حالانکہ حدث جب اتر چکا ہے وہ جرموق کی طرف پلٹ کر نہیں جائے گا۔ یہ معنی ہے ”فَلَا يَتَحَوَّلُ إِلَى غَيْرِهِ“ لہٰذا یہ پھرے گا نہیں، پلٹے گا نہیں اس موزے کے علاوہ کی طرف۔ ”وَلَوْ كَانَ الْجُرْمُوقُ مِنْ كِرْبَاسٍ لَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَيْهِ“ اور اگر جرموق جو ہیں کرباس کے تھے یعنی سوتی کپڑا بھئی، عام سوتی کپڑا، اور اگر جرموق جو تھے سوتی کپڑے کے تھے ”لَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَيْهِ“ تو اس پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ لَا يَصْلُحُ بَدَلًا عَنِ الرِّجْلِ“ اس لیے کیونکہ جو سوتی کپڑا ہے وہ پاؤں کا بدل ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ سوتی کپڑا پاؤں کا بدل ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بھئی دیکھیے موزہ تو پاؤں کا بدل ہے، پاؤں کا بدل ہے۔ جیسے انسان ویسے چلتا ہے اسی طرح موزے پہن کر بھی چلے تو موزوں میں اچھی خاصی جوتے کی طرح ہی کام دیں گے بھئی، کافی سفر ان میں ہو سکتا ہے، اور جبکہ سوتی کپڑا اس میں تو سفر نہیں ہو سکتا بھئی، وہ تو تھوڑا سا ہی پہن کر چلیں گے تو وہ پھٹ جائیں گے بھئی، تو سوتی کپڑا وہ پاؤں کا بدل نہیں ہو سکتا۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَا يَصْلُحُ بَدَلًا عَنِ الرِّجْلِ“ اس لیے کیونکہ سوتی کپڑا وہ صلاحیت نہیں رکھتا پاؤں کا بدل ہونے کی، کیونکہ اس میں مسلسل چلنا ممکن نہیں ہے بھئی۔ ”إِلَّا أَنْ تَنْفُذَ الْبَلَّةُ إِلَى الْخُفِّ“ مگر یہ کہ پہنچ جائے تری جو ہے جو گیلا پن ہے ”إِلَى الْخُفِّ“ موزے تک۔ سوتی کپڑا ہے بھئی، سوتی کپڑے کا جرموق کسی نے موزے پر پہن لیا تو اس سوتی کپڑے پر مسح جائز نہیں ”إِلَّا“ یہ کہ آپ نے اس جرموق پر جو سوتی کپڑے کا ہے اس پر آپ نے مسح کیا اور وہ جو پانی تھا وہ اندر موزے تک پہنچ گیا بھئی۔ کافی پانی لگا سوتی کپڑے کو اور کہاں تک پہنچ گیا؟ موزے تک پہنچ گیا، پھر مسح درست ہو جائے گا۔ لیکن وہ اس وجہ سے درست نہیں ہوا مسح کہ آپ نے سوتی کپڑے پر کیا ہے بلکہ اس لیے کیونکہ پانی موزے تک پہنچ گیا تو گویا موزے پر ہی مسح ہو گیا۔ موزے پر ہی مسح ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ آپ نہ کہیں بھئی ہاتھ تو نہیں لگا موزے کو، بھئی ہاتھ لگانے کی بات کس نے کی ہے کہ ہاتھ لگانا فرض ہے؟ موزے کو ویسے بھی تین انگلیوں کی مقدار پانی لگ جائے اگلے حصے پر تو مسح ہو جائے گا۔ آپ نے وضو کر لیا ابھی موزے پر مسح نہیں کیا، آپ چل پڑے اور مثلاً گیلی گھاس میں سے گزرے، موزہ گیلا ہو جائے گا یا نہیں؟ گیلا ہو جائے گا۔ یا بارش میں چند قدم چلے، موزہ گیلا ہو گیا، بس مسح ہو گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہاں پر بھی جب موزے تک مسح پہنچ گیا، پانی پہنچ گیا تو موزے پر ہی گویا مسح ہو گیا اور تو یہ درست ہو جائے گا۔ ”وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَا مُجَلَّدَيْنِ أَوْ مُنَعَّلَيْنِ، وَقَالَا: يَجُوزُ إِذَا كَانَا ثَخِينَيْنِ لَا يَشِفَّانِ“ اور جائز نہیں ہے مسح کرنا ”عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ“ جرابوں پر۔ جورب کہتے ہیں جراب کو بھئی، جراب کو۔ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ”إِلَّا أَنْ يَكُونَا مُجَلَّدَيْنِ أَوْ مُنَعَّلَيْنِ“ اس کو منعلین بھی پڑھ سکتے ہیں منعّلین بھی پڑھ سکتے ہیں، مگر یہ کہ وہ جرابیں مجلدین یا منعلین ہوں بھئی۔ مجلد، مجلد، وہ جراب جس کے دونوں طرف چمڑا لگا ہو، یعنی زمین کی طرف جو قدم کا حصہ ہے اس طرف بھی چمڑا لگا ہو اور جو سامنے اوپر ظاہر حصہ ہے اس پر بھی کیا لگا ہو؟ چمڑا لگا ہو، تو یہ جراب کیسی ہوئی؟ مجلد ہوئی مجلد۔ جیسے جلد ہوتی ہے کتاب کی دونوں طرف سے کتاب کا احاطہ کیا ہوتا ہے اسی طرح اس چمڑے نے بھی دونوں طرف سے احاطہ کر لیا ہے اس جراب کا، یہ ہے مجلد۔ اور ایک ہے منعل یا منعّل، یہ نعل سے ہے نعل، جوتا جوتا، تو وہ ہے جس میں صرف نچلے حصے جو زمین کی طرف موزے کا حصہ ہے صرف اس حصے پر چمڑا لگا ہو تو اس جراب کو کہیں گے منعل یا اس کو کیا کہیں گے؟ منعّل بھئی۔ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جراب پر مسح جائز نہیں ہے مگر یہ کہ وہ جرابیں جو ہیں مجلدین ہوں یعنی ان کے دونوں طرف، زمین کی طرف اور اوپر سامنے کی طرف چمڑا لگا ہوا ہو، ”أَوْ مُنَعَّلَيْنِ“ یا صرف کس طرف چمڑا لگا ہو؟ زمین کی طرف چمڑا لگا ہو۔ ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں ”يَجُوزُ“ کہ جرابوں پر بھی مسح جائز ہے لیکن ہر جراب نہیں، ”إِذَا كَانَا ثَخِينَيْنِ“ جب وہ جرابیں موٹی ہوں ”لَا يَشِفَّانِ“ باریک نہ ہوں، باریک نہ ہوں۔ شَفَّ يَشِفُّ کے معنی ہوتے ہیں کپڑے وغیرہ کا اتنا باریک ہونا کہ اس کے آر پار نظر آئے بھئی، آر پار دیکھا جا سکے۔ تو فرماتے ہیں مراد ہے یہاں باریک بھئی، جب جرابیں کیا ہوں؟ موٹی ہوں، باریک نہ ہوں، صاحبین فرماتے ہیں جرابوں پر بھی پھر مسح کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً کسی شخص نے جرابیں بنوائیں اور خوب موٹی اونی جرابیں ہیں، اور پھر اس میں آگے شرح کے اندر بتلائیں گے کہ وہ جرابیں پنڈلی کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں بغیر باندھے ہی، باندھنے کی ضرورت نہیں، اتنی موٹی جرابیں ہیں، اتنی موٹی جرابیں ہیں، تو ان پر بھی مسح جائز ہے، اس لیے کیونکہ یہ بھی پاؤں کے لیے مانع ہیں بھئی۔ ان کے اندر بھی خوب موٹی ہیں تو اچھا خاصا سفر ہو سکتا ہے بھئی، لیکن یہ جو آج کل کی جرابیں ہیں ان پر تو کسی صورت میں مسح جائز نہیں کیونکہ یہ تو بڑی باریک ہوتی ہیں اور یہ تو پہن کر آپ ننگے پاؤں چلیں، چند گز چلیں گے تو یہ پھٹ جائیں گی بھئی، تو یہ مانع بنتی نہیں پاؤں کے لیے۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَا“ صاحبین فرماتے ہیں ”يَجُوزُ“ جرابوں پر بھی مسح جائز ہے ”إِذَا كَانَا ثَخِينَيْنِ“ جب جرابیں جو ہیں موٹی ہوں ”لَا يَشِفَّانِ“ باریک نہ ہوں، ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَسَحَ عَلَى جَوْرَبَيْهِ“ بہ وجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جرابوں پر مسح فرمایا۔ تو روایات سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں پر مسح فرمایا، جی، لیکن وہ موٹی جرابیں ہیں بھئی۔ ”وَلِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ الْمَشْيُ فِيهِ“ اور اس لیے کیونکہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کیونکہ جرابوں کے اندر، اس موٹی جراب کے اندر چلنا ممکن ہے، اس جراب کے اندر چلنا ممکن ہے ”إِذَا كَانَ ثَخِينًا“ جب وہ موٹی ہو۔ ”وَهُوَ أَنْ يَتَمَسَّكَ عَلَى السَّاقِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُرْبَطَ بِشَيْءٍ“ اور وہ یہ کہ وہ جمی رہے، ٹھہری رہے علی الساق پنڈلی پر ”مِنْ غَيْرِ أَنْ يُرْبَطَ بِشَيْءٍ“ بغیر اس کے کہ اس کو باندھا جائے کسی چیز کے ساتھ۔ یعنی بغیر باندھے ہی قدم کے ساتھ پنڈلی کے ساتھ کھڑی رہتی ہے، موٹی جراب ہے۔ ”فَأَشْبَهَ الْخُفَّ“ تو یہ جراب کس کے مشابہ ہو گئی؟ یہ تو موزہ جو چمڑے کا موزہ ہے اسی کے مشابہ ہو گئی۔ عام ویسے اگر موٹی جراب نہیں وہ تو قدم کے ساتھ اوپر ٹھہرے گی ہی نہیں، آپ چل ہی نہیں سکتے اس میں، وہ خود ہی اتر جائے گی تو وہ پاؤں کا بدل ہو ہی نہیں سکتی بھئی۔ چمڑے کے موزے تو پہنے آپ اس میں چلتے جائیں بھئی، وہ جوتے کی طرح کام کریں گے لیکن جراب ہے اور بغیر باندھے باریک جراب ہے تو بغیر باندھے وہ رہے گی نہیں پاؤں کے ساتھ بلکہ پاؤں سے چلتے ہوئے اتر جائے گی اور نیز پھٹ بھی جائے گی بھئی، اتر جائے گی بھئی، اتر جائے گی۔ آپ کہیں گے ہم آج کل جرابیں پہنتے ہیں وہ تو پاؤں سے اس میں چلیں بھی وہ اترتی نہیں ہیں، بھئی وہ آپ نے اس کو باندھا ہوتا ہے، باندھے بغیر ذرا رکھیں اس کو پھر کیسے رہتی ہے؟ بھئی اس کے اندر وہ الاسٹک وغیرہ ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ وہ الاسٹک وہی باندھنے کا کام تو کر رہی ہے۔ اس کے بغیر کوئی جراب کو پہنے باریک اور پھر دیکھیں کہ کیسے پاؤں کے ساتھ وہ رہتی ہے بھئی۔ ”وَلَهُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي مَعْنَى الْخُفِّ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ جراب جو ہے یہ خف کے معنی میں نہیں، ”لِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ مُوَاظَبَةُ الْمَشْيِ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر چلنے کی مواظبت، پابندی یعنی مسلسل اس کے اندر چلا نہیں جا سکتا، ”لَا يُمْكِنُ مُوَاظَبَةُ الْمَشْيِ فِيهِ“ اس میں مسلسل چلنا ممکن نہیں ہے ”إِلَّا إِذَا كَانَ مُنَعَّلًا“ مگر یہ کہ جب وہ جراب کیا ہو؟ منعل ہو، نیچے چمڑا لگا ہو، پھر ہو سکتا ہے۔ ”وَهُوَ مَحْمَلُ الْحَدِيثِ“ اور یہی محمل ہے حدیث کا۔ یعنی جو حدیث میں آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں پر مسح فرمایا اس سے ایسی ہی جراب مراد ہے جس کے نیچے کیا لگا ہو؟ چمڑا لگا ہو۔ ”وَعَنْهُ أَنَّهُ رَجَعَ إِلَى قَوْلِهِمَا“ اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ امام صاحب نے رجوع فرما لیا تھا صاحبین کے قول کی طرف۔ وفات سے تین دن پہلے یا وفات سے سات دن پہلے امام صاحب نے صاحبین کے قول کی طرف رجوع فرما لیا کہ موٹی جرابوں پر بھی مسح جائز ہے بھئی، موٹی جراب۔ ”وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى“ اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ تو یہ جو آج کل کی باریک جرابیں ہیں بھئی ان پر تو مسح کسی صورت میں درست نہیں ہے بھئی، ان میں چلنا ہی ممکن ہی نہیں ہے۔ بلکہ آج کل کی یہ جرابیں، یہ جو باریک جرابیں ہیں عام جو استعمال ہوتی ہیں، یہ تو اگر مجلدین یا منعلین ہوں تو بھی احتیاط اس میں ہے کہ ان پر انسان مسح نہ کرے کیونکہ طہارت کا مسئلہ ہے بھئی، طہارت اور وضو نہیں ہوگا تو نماز ہی نہیں ہوگی بھئی۔ ہاں وہ موٹی جراب ہے وہ مجلدین، موٹی جراب خوب موٹی ہے پھر تو ویسے بھی مسح اس پر جائز بھئی۔ ”وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْعِمَامَةِ وَالْقَلَنْسُوَةِ وَالْبُرْقُعِ وَالْقُفَّازَيْنِ“ اور جائز نہیں ہے مسح کرنا عمامہ پر، پگڑی پر۔ پگڑی پر مسح کرنا جائز نہیں، ایک انسان نے پگڑی پہنی ہوئی ہے اور وضو کرتے ہوئے وہ سر پر مسح کرنے کے بجائے کس پر کر لیتا ہے؟ پگڑی پر ہی، نہیں بھئی یہ مسح نہیں ہو سکتا، یہ درست نہیں ہے۔ ”وَالْقَلَنْسُوَةِ“ اور ٹوپی پر، یا ٹوپی ہے اسی کے اوپر مسح کر لیتا ہے، یہ درست نہیں۔ ”وَالْبُرْقُعِ“ برقع کہتے ہیں نقاب کو بھئی، نقاب کو۔ تو کوئی عورت ہے وضو کرتے ہوئے کیا کرتی ہے؟ نقاب پر ہی مسح کر لیتی ہے تو یہ مسح درست نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نقاب جو چہرے پر ہے، سر پر ہے سارا، تو چاہے سر پر کرے، چہرے پر کرے، بھئی نقاب پر مسح درست نہیں ہے۔ ”وَالْقُفَّازَيْنِ“ اور دستانوں پر، دستانوں پر بھی مسح صحیح نہیں ہے بھئی۔ ”لِأَنَّهُ لَا حَرَجَ فِي نَزْعِ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ“ اس لیے کیونکہ ان چیزوں کے اتارنے میں، یہ جو متن میں ذکر ہوئیں پگڑی، ٹوپی ہے، نقاب ہے اور دستانے ہیں، ان کے اتارنے میں کوئی حرج نہیں۔ ”وَالرُّخْصَةُ لِدَفْعِ الْحَرَجِ“ اور رخصت جو دی ہے شریعت نے وہ تو کس لیے دی ہے؟ حرج کو دور کرنے کے لیے، تنگی کو دور کرنے کے لیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سردیوں کے اندر لوگ موزے چمڑے کے لوگ پہنتے ہیں، استعمال کرتے ہیں، تو اب اگر یہ حکم دیا جائے کہ ہر مرتبہ اتارنا پڑے گا تو لوگ کس میں پڑ جائیں گے؟ حرج میں اور مشکل میں پڑ جائیں گے۔ ”وَيَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْجَبَائِرِ“ اور جائز ہے مسح کرنا جبائر پر، جبائر پر مسح کرنا جائز ہے۔ جبائر جمع ہے جبیرہ کی، اور جبیرہ جو ہے وہ جو ہڈی وغیرہ ٹوٹ جائے یا کوئی جوڑ نکل جائے تو آپ نے دیکھا ہوگا وہ قدیم طریقہ علاج وہ پہلوان وغیرہ پھر کیا کرتے ہیں؟ اس پر لکڑی باندھ دیتے ہیں اور اوپر پھر پٹی کر دیتے ہیں، لکڑی رکھ کر اوپر پٹی باندھ دیتے ہیں تو وہ جو لکڑیاں اوپر باندھی جاتی ہیں ٹوٹی ہوئی ہڈی پر ان کو جبیرہ کہتے ہیں بھئی، اسی کی جمع جبائر ہے۔ تو اگر جبائر ہیں تو ان پر مسح کرنا جائز ہے ”وَإِنْ شَدَّهَا عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ“ اگرچہ ان کو باندھا ہو بغیر وضو کے۔ بھئی جبائر وہ تو ضرورت ہے تکلیف کی وجہ سے، اب ایک شخص کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے تو فوراً ہی کیا کیا جاتا ہے؟ جبیرہ کو باندھ دیا جاتا ہے، تو اس میں بھی اگر طہارت کی شرط لگا دی جائے تو یہ تو بہت ہی زیادہ حرج میں انسان پڑ جائے گا بھئی۔ تو ان کو بغیر وضو ہی کے چاہے ان کو باندھا گیا ہو پھر بھی ان پر مسح کرنا جائز ہے۔ ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَعَلَ ذَلِكَ وَأَمَرَ عَلِيًّا بِهِ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا حکم دیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا ایک گٹا ٹوٹ گیا تھا، حاشیے میں یہ حدیث دی ہوئی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ”قَالَ: انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ“ کہ ٹوٹ گیا میرا ایک گٹا۔ گٹا یہ جو بھئی کلائی اور ہاتھ کے درمیان کا یہ جو جوڑ ہے یہاں کہیں ہڈی ان کی کوئی ٹوٹ گئی تو کہتے ہیں: ”فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ“ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو حضور علیہ السلام نے مجھے ان جبائر پر ہی وہ پٹی جو لکڑی ان کے اوپر باندھی گئی تھی انہی پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ ”وَلِأَنَّ الْحَرَجَ فِيهِ فَوْقَ الْحَرَجِ فِي نَزْعِ الْخُفِّ“ اور اس لیے کیونکہ اس جبائر کے اندر جو ہے حرج جو ہے وہ موزے اتارنے کے اندر جو حرج تھا اس سے بھی بڑھ کر ہے بھئی۔ اس کا حرج اس موزے اتارنے کے حرج سے بھی بڑھ کر ہے۔ ”فَكَانَ أَوْلَى بِشَرْعِ الْمَسْحِ“ تو یہ جو ہے زیادہ لائق ہے مسح کے مشروع ہونے کے۔ موزے پر بھئی، موزے پر مسح شریعت نے کیوں جائز قرار دیا؟ حرج کو دور کرنے کے لیے، تو ان کے اتارنے میں تو موزوں کے اتارنے سے بھی زیادہ تنگی اور مشکل ہے تو یہ زیادہ لائق ہے مسح کے مشروع ہونے کے، مسح کے جائز ہونے کے۔ ”وَيُكْتَفَى بِالْمَسْحِ عَلَى أَكْثَرِهَا، ذَكَرَهُ الْحَسَنُ“ اور اکتفاء کیا جائے گا اس کے اکثر حصے پر مسح کے ساتھ۔ یعنی جبائر کے اکثر حصے پر، سارے جبیرہ پر مسح ضروری نہیں بلکہ اکثر۔ اکثر کسے کہتے ہیں؟ جو نصف سے زائد ہو، نصف سے زائد۔ تو اس کے اکثر یعنی نصف سے زائد حصے پر مسح پر اکتفاء کیا جائے گا یعنی وہ کافی ہو جائے گا، سارے جبیرہ پر مسح ضروری نہیں۔ ”ذَكَرَهُ الْحَسَنُ“ اس کو ذکر کیا ہے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے۔ ”وَلَا يَتَوَقَّتُ لِعَدَمِ التَّوْقِيفِ بِالتَّوْقِيتِ“ اور یہ موقت بھی نہیں ہے، یہ جو جبیرہ پر مسح کیا یہ موقت بھی نہیں، اس کا کوئی وقت بھی متعین نہیں ہے۔ بھئی موزوں پر تو مسح مقیم کے لیے ایک دن ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں حد مقرر ہے، وقت متعین ہے اس کے لیے باقاعدہ، لیکن جبیرہ پر مسح جو ہے اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں۔ یہ معنی ہے ”وَلَا يَتَوَقَّتُ“ اور یہ کسی وقت کے ساتھ بھی مقید نہیں ”لِعَدَمِ التَّوْقِيفِ بِالتَّوْقِيتِ“ توقیف کہتے ہیں نص کو بھئی، نص۔ بھئی یہ قرآن و حدیث بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نص کہتے ہیں، قرآن اور حدیث میں کوئی بات آئے تو کہتے ہیں نص میں یہ بات آئی ہے۔ تو توقیف سے مراد ہے نص بھئی، اور توقیفی چیز، توقیفی چیز وہ ہے جو نص سے ثابت شدہ ہو یعنی اس میں رائے وغیرہ کا دخل نہ ہو، قیاس وغیرہ چیزوں کا دخل نہ ہو، نص میں باقاعدہ ایک چیز آئی ہو تو اس کو کہتے ہیں توقیفی۔ جیسے آپ سنتے رہتے ہیں اللہ کے اسماء توقیفی ہیں۔ اللہ کے نام کیا ہیں؟ توقیفی ہیں یعنی جو نص سے ثابت شدہ ہیں انہی ناموں کا اطلاق ذاتِ باری تعالیٰ پر کیا جائے گا، وہی اللہ کی ذات کے لیے وہی نام استعمال کیے جائیں گے، باقی اگرچہ معنی کے اعتبار سے صحیح ہوں لیکن پھر بھی ان کو اسماء اللہ کے طور پر استعمال کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو ”وَلَا يَتَوَقَّتُ لِعَدَمِ التَّوْقِيفِ بِالتَّوْقِيتِ“ اور یہ وقت کے ساتھ متعین بھی نہیں ہوتے ”لِعَدَمِ التَّوْقِيفِ“ نص کے نہ ہونے کی وجہ سے۔ کس چیز کی نص نہیں ہے؟ ”بِالتَّوْقِيتِ“ تعینِ وقت کی بھئی، تعینِ وقت کی نص کے نہ ہونے کی وجہ سے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”وَلَا يَتَوَقَّتُ“ اور یہ کسی وقت کے ساتھ مقید بھی نہیں ہوتے ”لِعَدَمِ التَّوْقِيفِ بِالتَّوْقِيتِ“ کیونکہ تعینِ وقت کی نص نہیں ہے، اس کی نص نہ ہونے کی وجہ سے، تعینِ وقت کی نص کی نہ ہونے کی وجہ سے۔ ”وَإِنْ سَقَطَتِ الْجَبِيرَةُ عَنْ غَيْرِ بُرْءٍ لَا يَبْطُلُ الْمَسْحُ“ اور اگر جبیرہ گر گیا، کھل گیا ”عَنْ غَيْرِ بُرْءٍ“ بغیر تندرست ہوئے ہی، بغیر ٹھیک ہوئے ہی، ”لَا يَبْطُلُ الْمَسْحُ“ تو مسح باطل نہیں ہوگا۔ ایک شخص ہے اس نے جبیرہ پر مسح کر رکھا ہے اور وہ جبیرہ کھل گیا، گر گیا، تو اس سے اس کا مسح باطل نہیں ہوگا، کب؟ جبکہ ابھی وہ تکلیف وغیرہ ہے وہ صحیح نہیں ہوئی بھئی، بغیر ٹھیک ہوئے ہی۔ ”لِأَنَّ الْعُذْرَ قَائِمٌ وَالْمَسْحُ عَلَيْهَا كَالْغَسْلِ لِمَا تَحْتَهَا مَا دَامَ الْعُذْرُ بَاقِيًا“ کیونکہ عذر قائم ہے ”وَالْمَسْحُ عَلَيْهَا كَالْغَسْلِ لِمَا تَحْتَهَا“ اور جبیرہ پر مسح کرنا یہ اسی طرح ہے جیسے کہ جو جبیرہ کے نیچے جگہ ہے اس کو دھویا گیا ہو، یہ اسی طرح جبیرہ پر مسح جبیرہ کے ماتحت کو دھونے کی طرح ہی ہے ”مَا دَامَ الْعُذْرُ بَاقِيًا“ جب تک وہ عذر باقی ہے۔ ”وَإِنْ سَقَطَتْ عَنْ بُرْءٍ بَطَلَ“ اور اگر وہ جبیرہ گرا ”عَنْ بُرْءٍ“ اس جگہ کے ٹھیک ہو جانے پر، اس عذر کے دور ہو جانے پر، ”بَطَلَ“ تو مسح کیا ہے؟ باطل ہو جائے گا، ”لِزَوَالِ الْعُذْرِ“ اس عذر کے زائل ہو جانے کی وجہ سے، اس کے ختم ہو جانے کی وجہ سے۔ ”وَإِنْ كَانَ فِي الصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ“ اور اگر وہ شخص نماز میں تھا ”اسْتَقْبَلَ“، استقبل کے معنی ہوتے ہیں نئے سرے سے شروع کرنا۔ اگر نماز میں تھا اور جبیرہ کھل گیا، گر پڑا اور عذر ختم ہو چکا، وہ زخم وہ جگہ ٹھیک ہو چکی، تو آپ نے پڑھا ہے کہ جبیرہ پر مسح کس کی طرح ہے؟ اس کے ماتحت جلد کو دھونے کی طرح، اور یہاں وہ جگہ ٹھیک ہو چکی ہے، اب جبیرہ گرا ہے نماز پڑھتے ہوئے، تو وہ جبیرہ جیسے ہی گرے گا وہ مسح باطل ہوا، وہ مسح اور وہ سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہوگا لہٰذا کیا کرنا پڑے گا؟ نماز کو نئے سرے سے پڑھنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ فِي الصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ“ اور اگر وہ شخص نماز میں تھا استقبل تو نئے سرے سے شروع کرے گا، ”لِأَنَّهُ قَدَرَ عَلَى الْأَصْلِ قَبْلَ حُصُولِ الْمَقْصُودِ بِالْبَدَلِ“ اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے یہ اصل پر قادر ہو گیا ”قَبْلَ حُصُولِ الْمَقْصُودِ“ مقصود کے حاصل ہونے سے پہلے ہی ”بِالْبَدَلِ“ کس کے ساتھ؟ بدل۔ بدل کے ساتھ ابھی مقصود حاصل نہیں ہوا تھا کہ یہ اصل پر قادر ہو گیا۔ بدل کیا؟ مسح۔ مسح کے ساتھ ابھی مقصود حاصل نہیں ہوا تھا یعنی نماز پوری نہیں ہوئی تھی، اس سے پہلے یہ اصل یعنی غسل، دھونے پر بھی قادر ہو گیا، تو جب اصل پر قادر ہو گیا تو اب بدل کے ساتھ نماز درست نہیں، لہٰذا نئے سرے سے نماز پڑھے گا اس جگہ کو دھونے کے بعد بھئی۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو دیکھیے بھئی، مسح علی الخفین کے باب کے آخر میں مسح علی الجبائر کا بھی ذکر آگیا، تو یہ مسح علی الجبائر جو ہے یہ مسح علی الخفین سے تین باتوں کے اعتبار سے مختلف ہے۔ تین فرق ہیں بھئی مسح علی الخفین اور مسح علی الجبائر میں: ایک فرق تو یہ: کہ مسح علی الخفین کے اندر ضروری تھا کہ ان کو پہنا گیا ہو طہارت پر، لیکن مسح علی الجبائر کے اندر اگرچہ ان کو بغیر وضو کے ہی کیوں نہ باندھا گیا ہو پھر بھی ان پر مسح صحیح ہے بھئی، صحیح ہے۔ اور دوسرا فرق یہ: کہ مسح علی الخفین مدت کے گزرنے سے وہ ٹوٹ جاتا ہے مسح، لیکن مسح علی الجبائر میں کوئی مدت کی قید نہیں ہے، جب تک چاہے جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوتے ان پر مسح کرتا رہے بھئی۔ اور تیسرا فرق یہ: کہ مسح علی الخفین کے اندر موزہ اترنے سے مسح ٹوٹ جاتا تھا، لیکن مسح علی الجبائر کے اندر اگر بغیر ٹھیک ہوئے جبائر کھل جائیں تو پھر بھی مسح نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ تین فرق سمجھ میں آگئے بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
82 approved lectures · 30 of 82