Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
كِتَابُ الطَّهَارَاتِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ﴾ الآية۔ فَفَرْضُ الطَّهَارَةِ غَسْلُ الْأَعْضَاءِ الثَّلَاثَةِ وَمَسْحُ الرَّأْسِ بِهَٰذَا النَّصِّ، وَالْغَسْلُ هُوَ الْإِسَالَةُ، وَالْمَسْحُ هُوَ الْإِصَابَةُ۔ ہدایہ کے اندر آج ہم کتاب الطہارات شروع کر رہے ہیں۔ ہدایہ عجیب مبارک اور پیاری کتاب ہے اور اس میں اللہ نے عجیب برکت اور انوارات رکھے ہیں، ان شاء اللہ آپ بھی محسوس کریں گے ہدایہ کی لذت اور اس کے انوارات کو، ان شاء اللہ۔ كِتَابُ الطَّهَارَاتِ: طہارات جمع ہے طہارت کی، اور طہارت جو ہے عربی زبان میں کہتے ہیں: اَلنَّظَافَةُ عَنِ الْأَقْذَارِ وَالْأَوْسَاخِ، سَوَاءٌ كَانَتْ حِسِّيَّةً أَوْ مَعْنَوِيَّةً۔ تو طہارت عربی زبان میں کہتے ہیں پاکی حاصل کرنا گندگیوں اور میل کچیل سے، چاہے وہ گندگی اور میل کچیل حسی ہو یعنی آنکھوں سے نظر آنے والی ہو، محسوس ہونے والی ہو، یا معنوی ہو جیسے گناہ وغیرہ۔ اور طہارت کے مقابلے میں نجاست کا لفظ آتا ہے۔ نجاست عربی زبان میں ہر گندگی کو کہتے ہیں، چاہے وہ حسی ہو یا معنوی ہو۔ حسی جو آنکھوں سے دکھائی دے جیسے خون ہے، پیشاب وغیرہ، اور معنوی جیسے گناہ وغیرہ۔ تو لہٰذا طہارت عربی زبان میں پاکی حاصل کرنا گندگی اور میل کچیل سے، چاہے وہ گندگی اور میل کچیل حسی ہو یا معنوی ہو جیسے گناہ وغیرہ۔ اور اصطلاحِ شریعت میں، یعنی فقہ کے اندر، طہارت جو ہے وہ کہتے ہیں: اَلنَّظَافَةُ عَنْ حَدَثٍ أَوْ خَبَثٍ۔ اَلْحَدَثُ: هُوَ أَمْرٌ مَعْنَوِيٌّ، وَيُقَالُ لَهُ: نَجَاسَةٌ حُكْمِيَّةٌ۔ اور حدث یہ امرِ معنوی ہے اور اسے نجاستِ حکمیہ بھی کہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کا وضو ٹوٹ گیا، اب بظاہر اس کے بدن پر کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی، لیکن آپ کہتے ہیں اس حالت میں نماز پڑھنا جائز نہیں۔ معلوم ہوا اسے طہارت اس وقت حاصل نہیں ہے، تو اسے حدث لاحق ہوا ہے۔ یہ ایک امرِ معنوی ہے اور نجاستِ حکمیہ ہے یعنی نجس ہونے کا شریعت نے حکم لگایا۔ وَأَمَّا الْخَبَثُ: فَمَعْنَاهُ فِي الشَّرْعِ الْعَيْنُ الْمُسْتَقْذَرَةُ، كَالدَّمِ۔ اور خَبَث وہ چیز جو گندگی ہو، ناپاکی ہو، جس کا باقاعدہ جسم ہے، جیسے خون، پیشاب وغیرہ، یہ خبث ہے۔ اور طہارت میں یاد رکھیے، طہارت ط کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے، ط کے کسرہ کے ساتھ بھی، اور ط کے ضمہ کے ساتھ بھی: 1۔ طَہارت: اگر ط کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے فعلِ نظافت، پاکی حاصل کرنے کا فعل، پاکی حاصل کرنا۔ 2۔ طِہارت: ط کے کسرہ کے ساتھ ہو تو یہ آلۂ نظافت کو کہتے ہیں، وہ آلہ جس کے ذریعے پاکی حاصل کی جائے جیسے برتن یا صابن وغیرہ۔ 3۔ طُہارت: ط کے ضمہ کے ساتھ ہو تو وہ چیز جس کے ذریعے پاکی حاصل کی جائے یعنی پانی۔ اور یاد رکھیے، یہاں کتاب الطہارات کے اندر طہارتِ ظاہری کے بارے میں ہم پڑھیں گے۔ طہارت کی بہت سی قسمیں ہیں، مثلاً ایک ظاہری طہارت، اسی طرح طہارت القلب عما سویٰ اللہ، اسی طرح طہارت عن الاثام، طہارت عن الاخلاق الذمیمہ، لیکن یہاں پر کس کا بیان ہوگا؟ طہارتِ ظاہری کا بیان ہوگا۔ طہارت کی تعریف شریعت میں: "اَلنَّظَافَةُ عَنْ حَدَثٍ أَوْ خَبَثٍ"۔ تو طہارت دو قسم پر ہے: طہارت عن الحدث، اور طہارت عن الخبث۔ طہارت عن الخبث تو ظاہر ہے کہ کوئی ظاہری گندگی بدن یا کپڑے وغیرہ پر لگی ہے تو وہ دھونے کے ذریعے پاک ہوگی۔ البتہ طہارت عن الحدث کے اندر تفصیل ہے کہ اس کی تین قسمیں ہیں: 1۔ وضو: اور یہ طہارتِ صغریٰ ہے۔ 2۔ غسل: اور یہ طہارتِ کبریٰ ہے۔ 3۔ تیمم: جو کہ طہارتِ اضطراری ہے، مجبوری کی حالت میں۔ كِتَابُ الطَّهَارَاتِ: یہاں دو آسان ترکیبیں یاد رکھیے: یا تو اس کو خبر بنائیں مبتدائے محذوف کے لیے، أَيْ: هَٰذَا كِتَابُ الطَّهَارَاتِ، یہ ہے طہارتوں کی کتاب۔ تو ھذا مبتدا محذوف ہے اور کتاب الطہارات اس کی خبر ہے، تو مرفوع پڑھیں گے۔ یا اس کو منصوب پڑھیں اور مفعول بنائیں اِقْرَأْ کے لیے، أَيْ: اِقْرَأْ كِتَابَ الطَّهَارَاتِ، تو یہ مفعول ہوگا اقرأ کے لیے۔ ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ مسائل اور ابحاث کے اندر عنوانات قائم کرتے ہیں: کتاب، باب، اور فصل وغیرہ کے، جس سے مختلف قسم کے مسائل منضبط ہوتے ہیں، ان میں ترتیب آ جاتی ہے اور ان کو یاد کرنا اور سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ تو اس سلسلے میں سب سے بڑا عنوان جو قائم کیا جاتا ہے وہ کتاب ہے۔ کتاب کے تحت جو چھوٹے عنوان آتے ہیں وہ باب کہلاتے ہیں، اور پھر باب کے تحت فصلیں ذکر کی جاتی ہیں تو فصل کا عنوان باب سے چھوٹا ہے، اور باب کا عنوان کتاب سے چھوٹا ہے۔ کتاب کے اندر وہ مسائل ذکر ہوتے ہیں جن کی جنس ایک ہوتی ہے۔ کتاب میں کئی باب ہوں گے اور ہر باب میں ایک نوع کے مسائل ذکر ہوں گے، اور فصل میں ایک صنف کے مسائل ذکر کیے جاتے ہیں۔ كِتَابُ الطَّهَارَاتِ: طہارات جمع ہے طہارت کی، اور طہارت مصدر ہے، اور مصدر اسم جنس ہوتا ہے اور اسم جنس اسے کہتے ہیں جس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے۔ جب قلیل اور کثیر پر اطلاق ہوتا ہے تو اس کی جمع عام طور پر استعمال نہیں کی جاتی۔ پھر صاحبِ ہدایہ طہارات جمع کیوں لے کر آئے؟ جواب یہ ہے کہ مصدر کی بھی جمع آتی ہے، وہ مصدر جس کے آخر میں تائے تانیث ہو جیسے طہارۃ، تو اس مصدر کی جمع لائی جاتی ہے۔ اور اسی طرح بعض اوقات حاصل بالمصدر کے اعتبار سے مصدر کی جمع لائی جاتی ہے، جیسے بیوع، بیع مصدر ہے اور اس کی جمع بیوع لائی جاتی ہے۔ حاصل بالمصدر کسے کہتے ہیں؟ مصدر سے جو ہیئت حاصل ہو، جو کیفیت حاصل ہو اسے حاصل بالمصدر کہتے ہیں۔ ہنسنا مصدر ہے، ہنسی حاصل بالمصدر ہے۔ دوڑنا مصدر ہے، دوڑ حاصل بالمصدر ہے۔ مصدر خارج میں دکھائی نہیں دیتا، حاصل بالمصدر خارج میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح طہارت پاک ہونا بھی ہے اور پاکی بھی ہے۔ اور یہاں جمع اس لیے لے کر آئے تاکہ طہارت کی انواع و اقسام (وضو، غسل، تیمم) کی طرف اشارہ ہو جائے۔ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ﴾ الآية۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو—أَيْ: إِذَا أَرَدْتُمُ الْقِيَامَ إِلَى الصَّلَاةِ—تو اپنے چہروں کو دھو لو۔ کلامِ عرب میں بعض اوقات فعل بول کر ارادۂ فعل مراد ہوتا ہے، جیسے یہاں پر قیام بول کر ارادۂ قیام مراد ہے۔ کیونکہ کھڑے ہونے کے بعد وضو نہیں کیا جاتا بلکہ جب ارادہ ہوتا ہے تب وضو کیا جاتا ہے۔ اور یہاں پر ایک قید معتبر ہے: وَأَنْتُمْ مُحْدِثُونَ، یعنی جب تم بے وضو ہو تب وضو کرو۔ اگر وضو ہے تو دوبارہ وضو واجب نہیں۔ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو سے پانچوں نمازیں ادا فرمائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آج آپ نے وہ عمل کیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں کیا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جان بوجھ کر کیا تاکہ تمہارے لیے تنگی نہ ہو، جواز بتلانے کے لیے کیا۔ آیتِ مبارکہ: ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ "وَأَرْجُلَكُمْ": ارجل کا عطف کس پر ہے؟ ایدیکم اور وجوہکم پر ہے، نہ کہ برءوسکم پر، اس لیے کہ ارجلکم منصوب ہے۔ اور چہرہ اور ہاتھ دھونا فرض ہے، لہٰذا پاؤں کا حکم بھی دھونا ہے۔ فَفَرْضُ الطَّهَارَةِ غَسْلُ الْأَعْضَاءِ الثَّلَاثَةِ وَمَسْحُ الرَّأْسِ بِهَٰذَا النَّصِّ: پس وضو کے فرائض تین اعضاء کا دھونا ہے اور سر کا مسح کرنا ہے اس نص یعنی آیت کی وجہ سے۔ صاحبِ ہدایہ نے پہلے آیت کو ذکر کیا اور اس کے بعد وضو کے فرائض ذکر کیے، حالانکہ فرائض دعویٰ تھا اور آیت اس کی دلیل تھی، لیکن صاحبِ ہدایہ نے آیت کو مقدم کیا برکت حاصل کرنے کے لیے تاکہ کتاب الطہارات کی ابتدا قرآن کی آیت سے ہو جائے۔ چلیے بس بھئی، هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 6 of 82