وَخَشِيتُ أَنْ يُهْجَرَ لِأَجْلِهِ الْكِتَابُ، فَصَرَفْتُ عِنَانَ الْعِنَايَةِ إِلَى شَرْحٍ آخَرَ مَوْسُومٍ بِالْهِدَايَةِ، أَجْمَعُ فِيهِ بِتَوْفِيقِ اللَّهِ تَعَالَى بَيْنَ عُيُونِ الرِّوَايَةِ وَمُتُونِ الدِّرَايَةِ، تَارِكًا لِلزَّوَائِدِ فِي كُلِّ بَابٍ، مُعْرِضًا عَنْ هَٰذَا النَّوْعِ مِنَ الْإِسْهَابِ، مَعَ مَا أَنَّهُ يَشْتَمِلُ عَلَى أُصُولٍ يَنْسَحِبُ عَلَيْهَا فُصُولٌ۔
ہدایہ کا خطبہ چل رہا ہے۔ گزشتہ سبق کے آخر میں آپ نے پڑھا کہ صاحبِ ہدایہ فرما رہے تھے کہ بدایۃ المبتدی کی ابتدا میں میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں اس کی شرح کروں گا اللہ کی توفیق سے جس کا نام کفایۃ المنتہی ہوگا، تو میں اس میں شروع ہوا اور وعدہ کچھ آسانی کر دیتا ہے۔ اور جس وقت کہ قریب تھا کہ میں اس سے فارغ ہو کر تکیہ لگاؤں، یعنی اس کو مکمل کر دوں، "تَبَيَّنْتُ فِيهِ نَبْذًا مِنَ الْإِطْنَابِ" تو مجھے اس میں کچھ طوالت معلوم ہوئی۔
وَخَشِيتُ: "خَشِيَ، يَخْشَى" کا معنی خوف ہونا، ڈرنا۔ اور مجھے ڈر ہوا، خوف ہوا، أَنْ يُهْجَرَ لِأَجْلِهِ الْكِتَابُ: کہ چھوڑ دیا جائے اس طوالت کی وجہ سے کتاب کو۔
"الْكِتَاب" سے مراد یا تو کفایۃ المنتہیٰ ہے، کہ یہ بڑی طویل ہو گئی ہے تو مجھے خوف ہوا کہ کہیں طوالت کی وجہ سے اس کو چھوڑ ہی نہ دیا جائے، طلباء و علماء یہ نہ کہیں کہ اس کو کون پڑھے، اتنی لمبی کتاب ہے۔ لیکن زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس سے مراد ہے بدایۃ المبتدی، وہ جو کفایۃ المنتہی کا متن تھا، وہ جو میں نے قدوری اور جامع صغیر کو ان سے جمع کر کے، ترتیب دے کر ایک بہترین اور جامع متن بنایا تھا، تو مجھے خوف ہوا کہ اس کفایۃ المنتہیٰ کی بے انتہا طوالت کی وجہ سے کہیں اس متن کو بھی طلباء و علماء نہ چھوڑ دیں، کہ یہ متن اس کی تو اتنی لمبی شرح ہے، کون ساری اس شرح کو دیکھے اس کو سمجھنے کے لیے۔
وَخَشِيتُ أَنْ يُهْجَرَ لِأَجْلِهِ الْكِتَابُ: اور مجھے خوف ہوا کہ چھوڑ دیا جائے اس طوالت کی وجہ سے کتاب کو، فَصَرَفْتُ: "صَرَفَ، يَصْرِفُ" کے معنی پھیرنے کے، تو میں نے پھیر دیا، عِنَانَ الْعِنَايَةِ: "عِنَان" کہتے ہیں لگام کو، اور "الْعِنَايَة" کہتے ہیں توجہ کو، تو میں نے پھیر دیا توجہ کی لگام کو، إِلَى شَرْحٍ آخَرَ: ایک دوسری شرح کی طرف، یعنی میں نے اپنی توجہ ایک دوسری شرح کی طرف کر لی۔ مَوْسُومٍ بِالْهِدَايَةِ: جو کس نام سے موسوم ہو؟ ہدایہ کے نام سے موسوم ہو، یعنی جس کا نام ہدایہ رکھا گیا ہو۔ تو میں نے اپنی توجہ ایک دوسری شرح جس کا نام ہدایہ ہو اس کی طرف پھیر لی۔
فَصَرَفْتُ عِنَانَ الْعِنَايَةِ: تو میں نے پھیر دیا توجہ کی لگام کو۔ صاحبِ ہدایہ کا فصیح و بلیغ خطبہ چل رہا ہے، یہاں انہوں نے عنایت یعنی توجہ کو تشبیہ دی ہے گھوڑے کے ساتھ، یا یوں کہیں سواری کے ساتھ۔ تو یہ استعارہ بالکنایہ ہوا۔ کس کو تشبیہ دی؟ توجہ کو، تو یہ توجہ کیا ہوئی؟ مشبہ، اور کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ سواری کے ساتھ، تو وہ ہوا مشبہ بہ۔ اور مشبہ ذکر ہے، مشبہ بہ محذوف ہے، سواری کا ذکر ہے کہیں؟ نہیں۔ تو مشبہ ذکر ہو اور مشبہ بہ محذوف ہو، یعنی یوں کہیں تشبیہ دل میں دی ہے، مشبہ ذکر کر دیا اور مشبہ بہ کو حذف کر دیا، تو یہ یاد رکھیے استعارہ بالکنایہ کہلاتا ہے۔
اب ہمیں کیسے پتہ چلا کہ انہوں نے دل کے اندر تشبیہ دی ہے؟ کوئی آپ عالم الغیب تو ہیں نہیں، تو اس کے لیے قرینہ چاہیے۔ تو یہ جو عنان کا لفظ ہے، یہ قرینہ ہے، یہ بتلا رہا ہے کہ یہاں پر توجہ کو تشبیہ دی گئی ہے سواری کے ساتھ۔ کیوں؟ کیونکہ لگام سواری کی اور گھوڑے کی ہوا کرتی ہے، توجہ کی تو کوئی لگام نہیں ہوا کرتی۔ تو یہ جو قرینہ ہے یہ استعارہ تخییلیہ کہلاتا ہے۔ استعارہ تخییلیہ کسے کہتے ہیں؟ مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کرنا۔ سواری کے ساتھ لگام لازم ہے، اس لازم کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ مشبہ یعنی توجہ کے لیے۔
اور پھر اس سواری کے مناسب ہے کہ اس کو دائیں بائیں پھیرا جائے، جس طرف جانا ہو سواری کو اس طرف پھیرا جاتا ہے۔ تو مشبہ بہ کے مناسب کو عبارت میں ذکر کرنا یہ ہے استعارہ ترشیحیہ۔ تو ایک ہوا استعارہ بالکنایہ (مشبہ ذکر ہو، مشبہ بہ ذکر نہ ہو)، ایک استعارہ تخییلیہ (مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کرنا)، اور ایک استعارہ ترشیحیہ ہوا کہ مشبہ بہ کے مناسب کو عبارت میں مشبہ کے لیے ذکر کرنا۔
فَصَرَفْتُ عِنَانَ الْعِنَايَةِ إِلَى شَرْحٍ آخَرَ مَوْسُومٍ بِالْهِدَايَةِ: تو میں نے توجہ کی لگام کو ایک دوسری شرح کی طرف پھیر دیا جو موسوم ہو ہدایہ کے نام کے ساتھ۔
أَجْمَعُ فِيهِ بِتَوْفِيقِ اللَّهِ تَعَالَى: جمع کروں گا اس میں میں اللہ کی توفیق سے، بَيْنَ عُيُونِ الرِّوَايَةِ وَمُتُونِ الدِّرَايَةِ۔
"عُيُونُ الرِّوَايَةِ": "عَيْنُ الشَّيْءِ" کہتے ہیں عمدہ چیز کو، پسندیدہ چیز کو۔ اور روایت اصطلاحِ فقہاء کے اندر وہ فرعی مسائل جو پچھلے مجتہدین سے منقول ہوں۔ اصطلاحِ فقہ کے اندر روایت کس کو کہتے ہیں؟ وہ فرعی مسئلہ جو گزشتہ مجتہدین سے منقول ہو اس کو روایت کہتے ہیں۔ تو عیون الرواية یعنی عمدہ روایتیں، جو منقول ہیں پچھلے مجتہدین سے، وہ اس میں جمع کروں گا۔
"وَمُتُونِ الدِّرَايَةِ": درایت کہتے ہیں علم کو، عقل و فہم کو، اور متن کہتے ہیں کمر کو، پشت کو۔ تو "مَتْنُ الشَّيْءِ" کہتے ہیں کسی چیز کا مضبوط حصہ، جیسے انسان کی مضبوطی بھی کمر کے ذریعے ہے۔ تو اس میں جمع کروں گا عمدہ روایتیں اور مضبوط درایت، یعنی مراد ہیں یہاں دلائل، دلائلِ عقلیہ کہہ لیں۔ اس میں میں عمدہ روایتیں اور مضبوط دلائلِ عقلیہ جمع کروں گا اس ہدایہ کے اندر۔
تَارِكًا لِلزَّوَائِدِ: "تَارِكًا" یہ حال واقع ہو رہا ہے "أَجْمَعُ" کی ضمیر سے، اس حال میں کہ میں چھوڑنے والا ہوں گا، لِلزَّوَائِدِ: زائد چیزوں کو، فِي كُلِّ بَابٍ: ہر باب میں۔ میں ہدایہ شرح لکھوں گا، عمدہ روایتیں اور مضبوط دلائلِ نقلیہ و عقلیہ اس کے اندر ذکر کروں گا، لیکن کیا کروں گا؟ ہر باب میں زائد باتوں کو چھوڑ دوں گا۔
مُعْرِضًا عَنْ هَٰذَا النَّوْعِ مِنَ الْإِسْهَابِ: یہ بھی اسی طرح حال ہے تارکاً کی طرح، اس حال میں کہ میں اعراض کرنے والا ہوں گا، پہلو تہی کرنے والا ہوں گا اس نوع سے، مِنَ الْإِسْهَابِ: "أَسْهَبَ، يُسْهِبُ، إِسْهَابًا" کہتے ہیں لمبی بات کرنا، طویل بات کرنا۔ اس حال میں کہ میں اعراض کرنے والا ہوں گا، پہلو تہی کرنے والا ہوں گا اس قسم کی لمبی بات سے جو میں نے کس کے اندر کی تھی؟ کفایۃ المنتہی میں کی تھی، اس قسم کی لمبی باتوں سے میں اعراض کرنے والا ہوں گا اس میں۔
مَعَ مَا أَنَّهُ يَشْتَمِلُ عَلَى أُصُولٍ: یہ ایک سوال کا جواب ہے کہ جب آپ کہہ رہے ہیں کہ میں اس میں ہر باب میں زائد باتیں چھوڑنے والا ہوں گا اور اس قسم کی لمبی باتوں سے اعراض کرنے والا ہوں گا، تو پھر تو اس کتاب کے اندر ہدایہ کے اندر کوئی خاص چیز نہ ہوئی ہوگی، بہت سی باتیں رہ جائیں گی۔ تو جواب دے رہے ہیں: "مَعَ مَا أَنَّهُ يَشْتَمِلُ عَلَى أُصُولٍ" باوجود اس کے کہ وہ مشتمل ہوگی ایسے اصولوں پر، ایسے قواعد و ضوابط پر، يَنْسَحِبُ عَلَيْهَا فُصُولٌ: کہ جس پر متفرع ہوں گے فصول، یعنی فرعی مسائل۔ اصول اصل کی جمع ہے، قواعد و ضوابط۔ "اِنْسَحَبَ، يَنْسَحِبُ" کا معنی ہوتا ہے گھسٹنا، کھچنا، الگ ہونا، متفرع ہونا۔ تو اس پر متفرع ہوں گے، اس سے نکلیں گے، کیا نکلیں گے اس پر؟ فصول۔ فصل کا معنی ہوتا ہے جدا ہونا، تو مراد مختلف قسم کے فرعی مسائل ہیں جو ہر ایک دوسرے سے الگ ہوگا۔
مَعَ مَا أَنَّهُ يَشْتَمِلُ عَلَى أُصُولٍ يَنْسَحِبُ عَلَيْهَا فُصُولٌ: باوجود اس کے کہ وہ شرح مشتمل ہوگی ایسے اصول و ضوابط پر کہ جن سے اور فرعی مسائل ان سے نکل سکیں گے۔ یعنی اس کتاب کے اندر اگرچہ میں زائد باتوں کو چھوڑ دوں گا، لمبی بات نہیں کروں گا، لیکن اس کے باوجود یہ ایسے قواعد و ضوابط کو جامع ہوگی اور اس کے اندر جمع ہوں گے جس سے آگے اور فرعی مسئلے نکالے جا سکیں گے، معلوم کیے جا سکیں گے۔
وَأَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يُوَفِّقَنِي لِإِتْمَامِهَا: اور میں سوال کرتا ہوں اللہ سے، میں درخواست کرتا ہوں اللہ سے کہ وہ مجھے توفیق دے اس ہدایہ کے پورا کرنے کی، وَيَخْتِمَ لِي بِالسَّعَادَةِ بَعْدَ اسْتِتْمَامِهَا: اور میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ میرا خاتمہ فرمائے نیک بختی کے ساتھ، یعنی میرا اللہ اچھا انجام فرمائے اس ہدایہ کے پورا ہو جانے کے بعد۔ اللہ مجھے اس کے پورا کرنے کی توفیق دے اور اس کے پورا ہو جانے کے بعد اللہ میرا انجام اچھا فرمائے۔
حَتَّى إِنَّ مَنْ سَمَتْ هِمَّتُهُ: "حَتَّى" کے بعد یہاں اِنّ پڑھنا ہے، انّ نہیں۔ علامہ عینی جنہوں نے شرح لکھی ہے مشہور شرح ہدایہ کی، "البنایۃ"، وہ اس شرح کے اندر لکھتے ہیں کہ یہ حتی تعلیلیہ ہے، یعنی ماقبل کی علت بیان کر رہا ہے۔ تو یہ جو آگے جملہ آ رہا ہے اس میں ماقبل کی وہ علت اور وجہ بیان کر رہے ہیں: حتّٰی، تاکہ اس وجہ سے، إِنَّ مَنْ سَمَتْ هِمَّتُهُ: "سَمَا، يَسْمُو" کے معنی بلند ہونا۔ تاکہ جس کی ہمت بلند ہو، إِلَى مَزِيدِ الْوُقُوفِ: مزید واقفیت کی طرف، جو زیادہ جاننا چاہتا ہے جس کی ہمت بلند ہے، يَرْغَبُ فِي الْأَطْوَلِ وَالْأَكْبَرِ: تو وہ راغب ہوگا، وہ رغبت کرے گا اس کے اندر جو زیادہ طویل ہے اور جو زیادہ بڑی ہے، یعنی کفایۃ المنتہی میں۔
دو شرحیں ہو جائیں گی: ایک کفایۃ المنتہی جو اطول بھی ہے اور اکبر بھی ہے، اور ایک ہدایہ ہے۔ تو یہ علت بیان کر رہے ہیں تاکہ جس کی ہمت اونچی ہو وہ رغبت کرے گا لمبی اور بڑی شرح میں۔
وَمَنْ أَعْجَلَهُ الْوَقْتُ عَنْهُ: اور جس شخص کو وقت جلدی کروائے اس سے، یعنی جس کے پاس وقت تنگ ہو، اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ زائد واقفیت حاصل کر سکے یعنی اس لمبی شرح کا مطالعہ کر سکے، يَقْتَصِرُ عَلَى الْأَصْغَرِ وَالْأَقْصَرِ: وہ اکتفاء کرے گا چھوٹی اور کم لمبی شرح پر۔ "أَصْغَر" اکبر کے مقابلے میں آیا، اور "أَقْصَر" اطول کے مقابلے میں آیا۔
وَلِلنَّاسِ فِيمَا يَعْشَقُونَ مَذَاهِبُ: "عَشِقَ، يَعْشَقُ" کے معنی چاہنا۔ اور لوگوں کے لیے ان چیزوں میں جن کو وہ چاہتے ہیں، پسند کرتے ہیں، مختلف طریقے ہیں۔ یعنی ہر ایک کی اپنی اپنی پسند ہوا کرتی ہے۔ کسی کو طویل بات پسند ہوتی ہے، کسی کو مختصر بات پسند ہوتی ہے، تو دونوں شرحیں ہوں گی۔ جس کے پاس وقت ہوگا، وہ زیادہ واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ لمبی شرح دیکھے گا، جس کے پاس وقت تنگ ہے وہ ہدایہ کی طرف جائے گا۔
وَالْفَنُّ خَيْرٌ كُلُّهُ: اور یہ فن، الف لام عہدِ خارجی کا ہے، فن سے مراد فنِ فقہ ہے۔ اور یہ فنِ فقہ جو ہے، خیر کلہ، سارا کا سارا ہی اچھا ہے۔ یہ اب ابھار رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، ترغیب دے رہے ہیں کہ فن سارا کا سارا ہی اچھا ہے، لہٰذا انسان کو اس فن کو حاصل کرنا چاہیے۔
ثُمَّ سَأَلَنِي بَعْضُ إِخْوَانِي: پھر درخواست کی مجھ سے میرے بعض بھائیوں نے—مراد دینی بھئی ہیں، بعض ساتھیوں نے کہا—أَنْ أُمْلِيَ عَلَيْهِمُ الْمَجْمُوعَةَ الثَّانِيَةَ: کہ میں ان کو املا کرواؤں، املا یعنی لکھوانا، کہ میں ان کو املا کرواؤں دوسرے مجموعے کی یعنی ہدایہ کی۔
فَافْتَتَحْتُهُ مُسْتَعِينًا بِاللَّهِ تَعَالَى: پس میں نے اس کا افتتاح کیا، اس کو شروع کیا اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے، فِي تَحْرِيرِ مَا أُقَاوِلُهُ: اس چیز کے لکھنے میں جو میں کلام کروں، جو میں بحث کروں۔ اس کے لکھنے میں میں اللہ سے مدد طلب کرنے والا ہوں، مُتَضَرِّعًا إِلَيْهِ فِي التَّيْسِيرِ لِمَا أُحَاوِلُهُ: اس حال میں کہ میں عاجزی کرنے والا ہوں اللہ کی طرف اس چیز کے آسان کرنے میں جس کا میں ارادہ کرتا ہوں۔ "حَاوَلَ، يُحَاوِلُ" کا معنی ارادہ کرنا۔
إِنَّهُ الْمُيَسِّرُ لِكُلِّ عَسِيرٍ: یقیناً وہ اللہ آسان کرنے والے ہیں ہر مشکل کو، وَهُوَ عَلَى مَا يَشَاءُ قَدِيرٌ: اور وہ جو کچھ چاہے اس پر قادر ہے، وَبِالْإِجَابَةِ جَدِيرٌ: اور اللہ قبول کرنے کے لائق ہے۔ ہم نے یہ دعا کی ہے اور اللہ کی ذات اس لائق ہے کہ وہ ہماری دعا کو قبول فرمائے، رد نہ فرمائے۔
وَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ: اور اللہ ہمارے لیے کافی ہیں اور وہ بہترین کارساز ہیں۔
چلیے بس بھئی، هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔