Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-020

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَالْمَاءُ الْمُسْتَعْمَلُ هُوَ مَاءٌ أُزِيلَ بِهِ حَدَثٌ أَوْ اسْتُعْمِلَ فِي الْبَدَنِ عَلَى وَجْهِ الْقُرْبَةِ، قَالَ هَذَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقِيلَ هُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَيْضًا، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يَصِيرُ مُسْتَعْمَلًا إِلَّا بِإِقَامَةِ الْقُرْبَةِ۔ گزشتہ سبق میں ماء مستعمل کے بارے میں بحث شروع ہوئی تھی۔ آپ نے پڑھا کہ ماء مستعمل جو ہے، اس کے ذریعے پاکی حاصل کرنا درست نہیں، اس سے پاکی حاصل نہیں ہوتی۔ يَرْحَمُكَ اللَّهُ۔ ماء مستعمل، تعریف بھی میں نے آپ کو بتلائی تھی کہ اس پانی کو کہتے ہیں جس کے ذریعے نجاست حکمیہ کو دور کیا گیا ہو، یا اس کو قربت کی نیت سے استعمال کیا گیا ہو یعنی وضو پر وضو کیا گیا ہو بھئی، وضو پر وضو۔ تو تعریف میں نے کل ذکر کر دی تھی، آج وہ متن کے اندر آ رہی ہے، ماء مستعمل کی تعریف بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَالْمَاءُ الْمُسْتَعْمَلُ هُوَ مَاءٌ أُزِيلَ بِهِ حَدَثٌ“ ماء مستعمل جو ہے ”هُوَ مَاءٌ“ وہ ایسا پانی ہے ”أُزِيلَ بِهِ حَدَثٌ“ کہ جس کے ذریعے حدث کو دور کیا گیا ہو، ”أَوِ اسْتُعْمِلَ فِي الْبَدَنِ عَلَى وَجْهِ الْقُرْبَةِ“ یا اس کو استعمال کیا گیا ہو بدن میں ”عَلَى وَجْهِ الْقُرْبَةِ“ کس طریقے پر؟ قربت کے طریقے پر یعنی بطور عبادت کے۔ تو دو صورتیں ہو گئیں بھئی، یا تو اس کے ذریعے کیا کیا گیا ہو؟ حدث کو دور کیا گیا ہو، یا کس طریقے پر استعمال کیا ہو؟ قربت کے طریقے پر۔ میں نے بتلایا تھا کہ چاہے دونوں میں سے کوئی ایک چیز پائی جائے، یا دونوں پائی جائیں، اس کو ماء مستعمل کہیں گے۔ پہلی صورت: مثلاً کہ حدث بھی دور کیا گیا ہو اور قربت بھی ہو وہ۔ جیسے مثلاً آپ بے وضو تھے، آپ نے ایک پانی کے ذریعے وضو کیا اور باقاعدہ نیت کے ساتھ کیا، تو اس پانی سے، یہ جو استعمال شدہ پانی ہے، اس سے نجاست حکمیہ بھی دور ہوئی اور نیز اس وضو کا آپ کو ثواب بھی ملا کیونکہ آپ نے باقاعدہ نیت بھی کی ہے۔ تو یہ ایسا پانی ہے جس کے ذریعے حدث کو بھی دور کیا گیا ہے اور اس کو کس طریقے پر استعمال کیا گیا ہے؟ قربت کے طریقے پر بھئی۔ دوسری صورت: کہ صرف حدث کو دور کیا ہو اور قربت نہ ہو وہاں پر۔ کہ ایک شخص تھا، اس نے بغیر نیت کیے ہی وضو، وہ جو پانی وغیرہ ہے، اس کے ساتھ وضو کے سارے اعضاء کو دھو لیا بھئی۔ تو پورا وضو کر لیا، لیکن نیت نہیں تھی، بغیر نیت کے ہی ویسے ہی ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے اس نے ایسا کیا، تو اس سے بھی وضو تو اس کا ہو گیا، یہ وضو مفتاح الصلاۃ تو بن جائے گا، اس کے ذریعے نجاست حکمیہ تو بدن سے دور ہو گئی، لیکن یہ وضو قربت نہیں، اس کا اس کو ثواب نہیں ملے گا کیونکہ نیت نہیں کی۔ تو دیکھو یہاں صرف ازالۂ حدث ہے اور قربت نہیں۔ اور تیسری صورت: کہ قربت ہو اور ازالۂ حدث نہ ہو، جیسے آپ کا پہلے سے ہی وضو تھا، اور پھر دوسری نماز کا وقت آیا، آپ کا وضو تھا، آپ نے پھر فضیلت حاصل کرنے کے لیے تازہ وضو کر لیا، تو یہ اب یہاں ازالۂ نجاست حکمیہ تو نہیں، کیونکہ نجاست حکمیہ تو تھی ہی نہیں آپ کے بدن پر، کیونکہ آپ باوضو تھے۔ البتہ وضو کی فضیلت ملی، آپ نے افضل طریقے کو اختیار کیا، آپ کو ثواب ملا، تو یہ جو پانی استعمال کیا گیا ہے، یہ کس طریقے پر ہے؟ قربت کے طریقے پر استعمال کیا گیا۔ تو حاصل یہ کہ دونوں میں سے کوئی ایک چیز پائی جائے، ازالۂ حدث یا استعمال علی طریق القربۃ، یا دونوں پائی جائیں تو یہ ماء کیا کہلائے گا؟ ماء مستعمل کہلائے گا۔ ”قَالَ: هَذَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ ”قَالَ“، ”قَالَ“ سے یاد رکھیے مراد ہیں صاحب ہدایہ بھئی۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: ”هَذَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، وہ یہ تعریف کرتے ہیں ماء مستعمل کی کہ اس کے ذریعے ازالۂ حدث کیا گیا ہو یا ”عَلَى وَجْهِ الْقُرْبَةِ“ استعمال کیا گیا ہو۔ ”وَقِيلَ: هُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَيْضًا“ اور کہا گیا ہے کہ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی قول ہے۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَصِيرُ مُسْتَعْمَلًا إِلَّا بِإِقَامَةِ الْقُرْبَةِ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانی مستعمل نہیں بنے گا ”إِلَّا بِإِقَامَةِ الْقُرْبَةِ“ مگر قربت قائم کرنے سے یعنی باقاعدہ نیت کرنے سے۔ قربت کب بنے گا وضو؟ جب باقاعدہ کیا کی گئی ہو اس میں؟ نیت۔ تو ان کے نزدیک ازالۂ حدث ہو اور قربت نہ ہو تو یہ ماء مستعمل ہے ہی نہیں۔ تو ان کے نزدیک کیا ضروری کہ وہ پانی کس طریقے پر استعمال کیا گیا ہو؟ قربت کے طریقے پر۔ پھر چاہے ازالۂ حدث ساتھ ہو یا ازالۂ حدث نہ ہو، دونوں صورتیں آ گئیں بھئی اس کے اندر۔ لیکن صرف ازالۂ حدث ہو اور قربت نہ ہو تو پھر اس صورت میں یہ ماء مستعمل نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ: ”لَا يَصِيرُ مُسْتَعْمَلًا إِلَّا بِإِقَامَةِ الْقُرْبَةِ“ کہ ماء جو ہے وہ مستعمل نہیں بنتا مگر قربت قائم کرنے سے۔ ”لِأَنَّ الِاسْتِعْمَالَ بِانْتِقَالِ نَجَاسَةِ الْآثَامِ إِلَيْهِ، وَإِنَّهَا تُزَالُ بِالْقُرْبَةِ“ وجہ اس کی ذکر کرتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں کیونکہ پانی کا استعمال تب پایا جائے گا، ماء مستعمل تب ہوگا جب گناہوں کی نجاست اس کی طرف منتقل ہو جائے۔ اور گناہوں کی نجاست تب ہی منتقل ہوگی جب وضو باقاعدہ نیت کے ساتھ کیا جائے اور وہ قربت بنے۔ کیا بنے؟ قربت اور عبادت۔ تو جب قربت، گناہ کس چیز سے دور ہوتے ہیں؟ عبادت سے، نیکی سے۔ تو وضو عبادت اور نیکی بنے گا ہی کب؟ جب اس میں نیت کی گئی ہوگی۔ نیکیاں جو ہیں گناہوں کو لے جانے والی ہیں، ان کے لیے کفارہ ہیں، تو یہ نیکی ہوگی، عبادت ہوگا وضو، تو تب ہی گناہ جو ہیں جسم سے منتقل ہو جائیں گے کس کی طرف؟ پانی کی طرف، اور وہ ماء مستعمل بنے گا۔ تو یہ گناہ منتقل ہوتے ہی نہیں بغیر نیکی کے بدن سے بھئی، بغیر نیکی کے۔ تو نیکی کب بنے گا وضو؟ عبادت کب بنے گا؟ جب اس میں باقاعدہ نیت کی ہوگی، اس وقت گناہ اس کی طرف منتقل ہوں گے اور پھر اس کو کہا جائے گا کہ یہ ماء مستعمل ہے، یہ استعمال ہو چکا۔ ”لِأَنَّ الِاسْتِعْمَالَ بِانْتِقَالِ نَجَاسَةِ الْآثَامِ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ استعمال کرنا جو ہے وہ، آثام گناہ بھئی، وہ گناہوں کی نجاست اس کی طرف منتقل ہونے سے ہوگا، ”وَإِنَّهَا تُزَالُ بِالْقُرْبَةِ“ اور گناہ جو ہیں یہ تو جھڑتے ہیں، یہ تو زائل ہوتے ہیں ”بِالْقُرْبَةِ“ کس کی وجہ سے؟ قربت کی وجہ سے۔ ”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: إِسْقَاطُ الْفَرْضِ مُؤَثِّرٌ أَيْضًا“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فرض کا ساقط کرنا بھی موثر ہے۔ فرض کا ساقط کرنا بھی موثر ہے۔ ”فَيَثْبُتُ الْفَسَادُ بِالْأَمْرَيْنِ“ تو فساد دونوں صورتوں میں ثابت ہوگا بھئی، دونوں امروں سے۔ بھئی دیکھیے، اسقاط فرض بھی موثر ہے، اسقاط فرض کا کیا معنی؟ بھئی دیکھیے، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو کیا کر لو؟ وضو کر لو۔ جب نماز کا ارادہ کرو تو وضو کر لو۔ معلوم ہوا کہ جب بھی نماز کا ارادہ ہو، اس وقت پاکی حاصل کرنا فرض ہے اگر انسان پاک نہ ہو۔ نماز کے لیے پاکی کی شرط ہے یا پاکی کی شرط نہیں ہے بھئی؟ پاکی کی شرط ہے۔ معلوم ہوا یہ فرض ہے بھئی، فرض ہے نماز کے لیے۔ تو جب ایک شخص وضو کرتا ہے، بغیر نیت کے کرتا ہے، بغیر نیت کے، تو یہ فرض اس کے ذمے سے ساقط ہو گیا یا ساقط نہیں ہوا؟ وضو کیا اس نے بغیر نیت کے، ثواب تو ٹھیک ہے نہیں ملا، لیکن اس وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں پڑھ سکتا؟ معلوم ہوا وہ فرض ساقط ہو گیا، اس کا وضو ہو چکا ہے، اسے پاکی حاصل ہو چکی ہے کیونکہ پانی کا کام ہی کیا ہے، وہ نجاست کو بہا کر لے جاتا ہے، چاہے نیت کی ہو یا نیت نہ کی ہو۔ تو دیکھو بغیر نیت کے بھی وضو کرے تو فرض تو ذمے سے ساقط ہو گیا۔ تو وہ فرماتے ہیں اسقاط فرض بھی موثر ہے، اس کی وجہ سے بھی ماء کیا بنے گا؟ مستعمل۔ صرف قربت کی وجہ سے نہیں مستعمل کہلائے گا پانی، بلکہ اسقاط فرض بھی اثر پڑے گا اس کا اور اس کی وجہ سے بھی پانی کیا کہلائے گا؟ مستعمل کہلائے گا۔ اسی لیے انہوں نے کیا کہا تھا: ”هُوَ مَاءٌ أُزِيلَ بِهِ حَدَثٌ“ کیونکہ وہ پانی جس کے ذریعے حدث زائل کیا گیا اس سے اسقاط فرض ہوا ہے، فرض ذمے سے ساقط ہوا، انسان کو طہارت حاصل ہو گئی۔ لہٰذا دونوں چیزوں کی وجہ سے پانی کا فساد ثابت ہوگا۔ قربت کی وجہ سے بھی، کیونکہ قربت کا ذکر آ گیا، اس کی وجہ سے کیا ہوتا ہے؟ گناہ پانی کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ اور نیت نہ کی ہو تو اس کی وجہ سے بھی پانی کا فاسد ہونا یعنی مستعمل ہونا ثابت ہو جائے گا، کیونکہ بغیر نیت کے بھی وضو کرے گا تو فرض ذمے سے کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ بات کر رہے ہیں: ”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: إِسْقَاطُ الْفَرْضِ مُؤَثِّرٌ أَيْضًا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”إِسْقَاطُ الْفَرْضِ مُؤَثِّرٌ أَيْضًا“ کہ فرض کا ساقط کرنا یہ بھی موثر ہے بھئی استعمال میں، ”فَيَثْبُتُ الْفَسَادُ بِالْأَمْرَيْنِ“ تو پانی کا فاسد ہونا ثابت ہو جائے گا دونوں امروں میں، یعنی قربت کی صورت میں بھی اور ازالۂ حدث کی صورت میں بھی، جیسے انہوں نے متن میں بیان کیا۔ ”وَمَتَى يَصِيرُ الْمَاءُ مُسْتَعْمَلًا؟“ اور پانی مستعمل کب بنے گا؟ کب اس کو ماء مستعمل کہیں گے؟ تو یاد رکھیے، بعض علماء فرماتے ہیں کہ ماء مستعمل تب کہلائے گا اور تب بنے گا جب اعضاء سے جدا ہو کر کسی برتن میں اکٹھا ہو جائے۔ کسی جگہ پر وہ پانی کیا ہو جائے؟ اکٹھا ہو جائے، تو وہ اکٹھا ہونے کے بھی اعتبار کرتے ہیں، کہ بدن سے آپ نے وضو کیا، ہاتھ، منھ، چہرے وغیرہ کو دھویا، اور وہ پانی کسی برتن وغیرہ میں اکٹھا ہو گیا، اب اس کو کیا کہیں گے؟ ماء مستعمل کہیں گے۔ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں: نہیں، اکٹھا ہونا ضروری نہیں ہے، بس جب بدن سے جدا ہوگا تو فوراً یہ کیا ہوگا؟ ماء مستعمل کہلائے گا بھئی، جدا ہوتے ہی۔ اعضاء سے پانی جدا، آپ وضو کر رہے ہیں، ہاتھ دھو رہے ہیں، جوں جوں پانی آپ کے ہاتھ سے جدا ہوتا جا رہا ہے، وہ مستعمل بنتا جا رہا ہے، چاہے کسی برتن وغیرہ میں اکٹھا ہو یا اکٹھا نہ ہو۔ جبکہ دوسرے کیا فرماتے تھے بعض علماء کہ جب وہ اکٹھا ہو جائے گا، پھر اس کو کیا کہا جائے گا؟ ماء مستعمل کہا جائے گا۔ کہتے ہیں: ”وَمَتَى يَصِيرُ الْمَاءُ مُسْتَعْمَلًا؟“ اور کب بنے گا پانی مستعمل؟ ”الصَّحِيحُ“ صحیح قول یہ ہے ”أَنَّهُ كَمَا زَالَ عَنِ الْعُضْوِ صَارَ مُسْتَعْمَلًا“ ”كَمَا“، ”كَمَا“ کے اندر یاد رکھیے، یہ کاف مفاجاتیہ ہے۔ کاف کیا ہے؟ مفاجاتیہ۔ آپ نے اذا مفاجاتیہ پڑھا ہے، اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اچانک یعنی فوراً، فوراً، اچانک یعنی فوراً۔ ”كَمَا“ تو یہاں بھی اسی طرح: ”أَنَّهُ كَمَا زَالَ عَنِ الْعُضْوِ“ کہ جیسے ہی یہ جدا ہوگا عضو سے، جیسے ہی جدا ہوگا عضو سے، ”صَارَ مُسْتَعْمَلًا“ تو یہ کیا بن جائے گا؟ مستعمل، یعنی فوراً ہی مستعمل بن جائے گا عضو سے جدا ہوتے ہی۔ ”لِأَنَّ سُقُوطَ حُكْمِ الِاسْتِعْمَالِ قَبْلَ الِانْفِصَالِ لِلضَّرُورَةِ، وَلَا ضَرُورَةَ بَعْدَهُ“۔ بھئی دیکھیے، ہونا تو یہ چاہیے، آپ وضو کرتے ہیں، مثلاً آپ نے ہاتھ پر پانی ڈالا، یہ پانی بہتا ہوا ہاتھ کے اگلے حصے کی طرف جاتا ہے یا نہیں جاتا بھئی؟ یا جہاں پڑتا ہے وہیں رک جاتا ہے؟ ہاں، وہ بہے گا، لازمی بات ہے پانی بہتا ہے، تو آپ نے ہاتھ پر پانی ڈالا، وہ بہہ کر آگے کی طرف چلا گیا۔ تو ہونا تو یہ چاہیے، یہ پانی اس مقام پر ہاتھ کے پڑا ہے، اس مقام سے جیسے ہی آگے گیا، اس کو کیا کہنا چاہیے؟ ماء مستعمل کہنا چاہیے، لیکن اگر یہ حکم لگا دیا جائے، پھر تو لوگ بڑی مشکل میں پڑ جائیں گے بھئی، پھر کیونکہ پانی تو جب بھی عضو پر ڈالیں گے، وہ بہہ کر آگے عضو پر پورے عضو تک پہنچے گا بھئی۔ تو لہٰذا جب تک جدا نہیں، اس وقت تک ضرورت کی بناء پر اس پر مستعمل ہونے کا حکم نہیں لگایا گیا، اور جب جدا ہو گیا، اب ضرورت نہ رہی، لہٰذا اب اس پر کیا حکم لگا دیا گیا؟ مستعمل ہونے کا حکم لگا دیا گیا۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ سُقُوطَ حُكْمِ الِاسْتِعْمَالِ قَبْلَ الِانْفِصَالِ“ آخر سے ترجمہ کریں: ”لِأَنَّ سُقُوطَ حُكْمِ الِاسْتِعْمَالِ قَبْلَ الِانْفِصَالِ“ اس لیے کیونکہ جدا ہونے سے پہلے استعمال کا جو حکم ساقط ہوا ہے، ”لِلضَّرُورَةِ“ وہ کس بناء پر ہے؟ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے ہے، ”وَلَا ضَرُورَةَ بَعْدَهُ“ اور انفصال کے بعد اب ضرورت نہیں، تو اب اس کو ماء مستعمل قرار دیا جائے گا۔ ”وَالْجُنُبُ إِذَا انْغَمَسَ فِي الْبِئْرِ لِطَلَبِ الدَّلْوِ، فَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: الرَّجُلُ بِحَالِهِ لِعَدَمِ الصَّبِّ وَهُوَ شَرْطٌ عِنْدَهُ لِإِسْقَاطِ الْفَرْضِ، وَالْمَاءُ بِحَالِهِ لِعَدَمِ الْأَمْرَيْنِ“۔ صورت مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی ہے اور جنابت کی حالت میں ہے۔ بدن پر کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی، کوئی نجاست وغیرہ تھی، اس کو وہ صاف کر چکا ہے، لیکن حالت کون سی ہے اس کی؟ جنابت والی ہے یعنی نجاست حکمیہ ہے بھئی، حدث اکبر ہے بھئی، اور بدن پر کوئی نجاست وغیرہ نہیں لگی ہوئی۔ یہ پانی، یہ شخص اب کنویں کے اندر غوطہ لگاتا ہے ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے، یا اس میں کوئی چیز ڈول وغیرہ گر گیا اس کو نکالنے کے لیے۔ اس، یہ آدمی جو جنبی تھا، اس نے کنویں کے اندر غوطہ لگایا اور پھر نکل آیا بھئی۔ اب کیا حکم لگایا جائے گا کہ یہ آدمی پاک ہوا یا پاک نہیں ہوا، جنابت ختم ہوئی یا نہیں ہوئی؟ کنویں کے پانی پر کیا حکم لگے گا کہ وہ پاک ہے یا وہ نجس ہو چکا ہے بھئی؟ تو یہ مسئلہ اب ذکر کر رہے ہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جب اس نے اس طرح غوطہ لگایا اور جنابت کی حالت میں تھا، تو جب وہ نکلے گا تو بھی اسی طرح جنبی ہے۔ اگرچہ سارے بدن پر پانی لگ چکا ہے، لیکن پھر بھی وہ جنبی ہے، اور پانی بھی اپنی حالت پر ہے یعنی پہلے طاہر تھا اب بھی کیا ہے؟ طاہر ہے۔ آدمی بھی اپنی حالت پر، پانی بھی اپنی حالت پر۔ آدمی پہلے بھی جنبی تھا، اب بھی کیا ہے؟ جنبی ہے۔ پانی پہلے بھی پاک تھا، اب بھی کیا ہے؟ پاک ہے۔ اور یہ یاد رکھیے، کنویں کا ذکر کیا، مراد ہے جس میں ماء قلیل ہے، ماء کثیر نہیں، ماء کثیر کا حکم یہاں بیان نہیں۔ کنواں تھا، اس میں زیادہ پانی نہیں تھا، دہ در دہ سے کم ہے، اس کے اندر اب اس آدمی نے، جنبی نے غوطہ لگایا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ وہ آدمی اب بھی جنبی ہے۔ وجہ اس کی کیا؟ وجہ اس کی یہ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بدن پر پانی کا بہانا ضروری ہے، تب ہی فرض ساقط ہوگا۔ تب ہی کیا ہوگا؟ بھئی طہارت حاصل کرنے کے لیے ان کے نزدیک ضروری ہے کہ بدن کو پانی لگے نہ، بلکہ اس پر باقاعدہ پانی کو بہایا جائے بھئی، پھر کیا ہوگی؟ پاکی حاصل ہوگی۔ اور یہاں اس نے غوطہ لگایا ہے، تو بدن پر پانی تو لگا تو ہے، لیکن پانی کا بہانا تو نہیں پایا گیا، اور وہ تو ان کے نزدیک شرط تھی، لہٰذا آدمی پاک نہیں ہوا، کیونکہ طہارت کے لیے کیا شرط تھی؟ بدن پر پانی کو بہا دے، لیکن اس نے تو پانی بدن پر نہیں بہایا۔ لہٰذا وہ نجاست حکمیہ بدن سے زائل نہیں ہوئی۔ اور جب نجاست حکمیہ بدن سے زائل نہیں ہوئی تو پانی کی طرف منتقل بھی نہیں ہوئی، تو پانی بھی اپنی حالت پر اسی طرح پاک اور آدمی بھی اپنی حالت پر اسی طرح جنبی ہے بھئی، جنبی۔ ”وَالْجُنُبُ إِذَا انْغَمَسَ“ ”اِنْغَمَسَ، يَنْغَمِسُ“ کے معنی ہوتے ہیں غوطہ لگانے کے، ”وَالْجُنُبُ إِذَا انْغَمَسَ فِي الْبِئْرِ“ اور جنبی نے جب غوطہ لگایا کنویں کے اندر ”لِطَلَبِ الدَّلْوِ“ ڈول نکالنے کے لیے، ”فَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: الرَّجُلُ بِحَالِهِ“ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ آدمی اپنی حالت پر ہے یعنی جنبی ہے، ”لِعَدَمِ الصَّبِّ“ ”صَبّ“ کا معنی ہے بہانا، ”لِعَدَمِ الصَّبِّ“ بہانا نہیں پایا گیا یعنی پانی کا بہانا جسم پر نہیں پایا گیا، ”وَهُوَ شَرْطٌ عِنْدَهُ لِإِسْقَاطِ الْفَرْضِ“ اور وہ شرط ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک فرض کو ساقط کرنے کے لیے، ”وَالْمَاءُ بِحَالِهِ“ اور پانی بھی اپنے حال پر ہے یعنی پاک ہے، ”لِعَدَمِ الْأَمْرَيْنِ“ کیونکہ دونوں چیزوں میں سے کوئی بھی نہیں پائی گئی، نہ اس پانی کے ذریعے حدث زائل کیا گیا ہے اور نہ اس کو ”عَلَى وَجْهِ الْقُرْبَةِ“ استعمال کیا ہے، کیونکہ وہ تو ڈول نکالنے کے لیے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے کنویں میں اترا تھا، اس نے کوئی پاکی کی نیت نہیں کی تھی بھئی، پاکی کی نیت نہیں کی تھی۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: كِلَاهُمَا طَاهِرَانِ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں پاک ہو گئے۔ دونوں پاک ہیں بھئی۔ پانی پہلے پاک تھا، اب بھی پاک، لیکن آدمی پہلے جنبی تھا، اب وہ پاک ہو گیا۔ تو آدمی بھی پاک اور پانی بھی پاک۔ پانی بھی پاک۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ اس کی یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک طہارت کے لیے بدن پر پانی کا بہانا شرط نہیں ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تو شرط تھی اور وہ شرط نہیں پائی گئی، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، پاکی بھی حاصل نہیں ہوئی۔ لیکن امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بدن پر پانی کا بہانا پاکی حاصل کرنے کے لیے اور اسقاط فرض کے لیے ضروری نہیں، بس بدن کو پانی پہنچ جائے اچھی طرح۔ اور یہاں بدن کو پانی اچھی طرح پہنچ گیا یا نہیں پہنچ گیا؟ لہٰذا وہ آدمی کیا ہے؟ پاک ہے بھئی، نجاست حکمیہ ختم ہوئی۔ اور پانی بھی پاک ہے، بھئی پانی کیوں پاک ہے؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ پانی تب نجس ہوگا جب قربت کی نیت کرے گا، جب قربت کی نیت کرے گا تب ہی جو گناہ ہوں گے وہ منتقل ہو جائیں گے کس کی طرف؟ پانی کی طرف اور وہ کیا بن جائے گا؟ ماء مستعمل۔ لیکن یہاں چونکہ نیت تو اس نے کی نہیں، وہ تو ڈول نکالنے کے لیے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے پانی میں گیا ہے، تو لہٰذا چونکہ قربت نہیں، نیت قربت نہیں پائی گئی، اس لیے ماء مستعمل بھی نہیں، اسی طرح پاک ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: كِلَاهُمَا طَاهِرَانِ“ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں پاک ہیں، وہ آدمی بھی اور پانی بھی۔ ”الرَّجُلُ لِعَدَمِ اشْتِرَاطِ الصَّبِّ“ اور آدمی اس وجہ سے کیونکہ پانی بہانے کی شرط نہیں، نہیں ہے بھئی، ان کے نزدیک پانی بدن پر بہانے کی شرط، یہ ان کے نزدیک شرط ہے ہی نہیں۔ تو پانی میں آدمی گھسا ہے تو پاک ہو گیا ہے۔ ”وَالْمَاءُ“ اور ماء، پانی جو ہے ”لِعَدَمِ نِيَّةِ الْقُرْبَةِ“ اور پانی کیوں پاک ہے؟ قربت کی نیت نہ ہونے کی وجہ سے۔ ”وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: كِلَاهُمَا نَجِسَانِ“ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں نجس ہیں بھئی۔ دونوں کیا ہیں؟ نجس ہیں بھئی، ناپاک ہیں۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”الْمَاءُ لِإِسْقَاطِ الْفَرْضِ عَنِ الْبَعْضِ بِأَوَّلِ الْمُلَاقَاةِ“۔ امام صاحب فرماتے ہیں: وہ آدمی ابھی بھی جنبی ہے اور پانی بھی نجس ہو چکا، پانی بھی نجس ہو چکا۔ والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جہاں امام صاحب کا، امام صاحب سے صاحبین یا ان میں سے کوئی ایک اختلاف کرتا ہے تو اس کی وجہ دراصل یہ ہوتی ہے کہ امام صاحب مسئلے کی اتنی گہرائی میں چلے جاتے ہیں کہ اس گہرائی تک پہنچنا کسی اور کے بس کی بات ہی نہیں ہوتی بھئی۔ تو امام صاحب کیا فرما رہے ہیں؟ وہ آدمی بھی کیا ہے؟ نجس یعنی ناپاک ہے یعنی جنابت کی حالت میں ہے، اور پانی بھی نجس ہو چکا ہے، ناپاک ہو چکا ہے۔ وجہ یہ، وہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی اس شخص نے اپنے بدن کے کسی حصے کو پانی میں اولاً ڈالا، پہلے ہاتھ داخل کیا یا پہلے پاؤں کو داخل کیا، تو اول ملاقات کے ساتھ ہی وہ، وہ پانی نجس ہو گیا۔ وہ پانی کیا ہوا؟ نجس، کیونکہ امام صاحب کے نزدیک بھی تو بدن پر پانی بہانے کی شرط تو نہیں ہے، بدن پر پانی بہانے کی شرط پاکی حاصل کرنے کے لیے، بس پانی پہنچنا چاہیے، تو نجاست اس کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ تو جیسے ہی اس نے پاؤں اس میں داخل کیا، تھوڑا سا حصہ ہی داخل کیا، اس حصے سے نجاست حکمیہ منتقل ہو گئی کس کی طرف؟ پانی کی طرف، تو یہ جو تھوڑا سا حصہ ہے یہ پاک ہو گیا، اس سے نجاست حکمیہ ختم ہوئی۔ یا مثلاً ہاتھ داخل کیا تھا ابھی صرف ہاتھ، ہتھیلی تک، تو یہ حصہ کیا ہوا؟ اس سے نجاست حکمیہ ختم ہوئی اور وہ منتقل ہوئی پانی کی طرف اور وہ پانی نجس ہوا، اور ماء تو ماء قلیل ہے، لہٰذا سارا پانی کیا ہو گیا؟ نجس ہو گیا بھئی۔ اور سارا پانی جب نجس ہوا پھر وہ آدمی کا ابھی صرف ایک حصہ داخل ہوا تھا تو یہ حکم لگ چکا، پانی کیا ہو چکا؟ نجس، اور پھر اس کے اندر وہ پورا آدمی داخل ہو گیا۔ اب وہ کس پانی میں داخل ہوا ہے؟ پاک میں یا نجس میں؟ نجس میں۔ اور نجس پانی کے ساتھ پاکی حاصل ہوتی ہے، وضو یا غسل ہوتا ہے اس سے؟ اس سے وضو یا غسل تو ہوتا ہی نہیں، لہٰذا جنابت باقی بدن پر اسی طرح ہے بھئی۔ تو پانی بھی نجس ہوا اور وہ آدمی بھی جنبی ہے ابھی تک بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”كِلَاهُمَا نَجِسَانِ“ دونوں نجس ہیں، دونوں ناپاک ہیں۔ ”الْمَاءُ لِإِسْقَاطِ الْفَرْضِ عَنِ الْبَعْضِ بِأَوَّلِ الْمُلَاقَاةِ“ اس لیے کیونکہ پانی جو ہے وہ فرض کے ساقط ہو جانے کی وجہ سے ہے ”عَنِ الْبَعْضِ“ بعض حصے سے ”بِأَوَّلِ الْمُلَاقَاةِ“ پہلی ملاقات، پہلی ملاقات ہی کے ساتھ وہ بعض حصے سے فرض ساقط ہوا، اس سے نجاست حکمیہ کس کی طرف منتقل ہو گئی؟ پانی کی طرف، تو وہ پانی نجس ہوا اور پھر سارا نجس ہو گیا۔ ”وَالرَّجُلُ لِبَقَاءِ الْحَدَثِ فِي بَقِيَّةِ الْأَعْضَاءِ“ اور رجل جو ہے وہ بقیہ اعضاء کے اندر حدث کے باقی رہنے کی وجہ سے ہے بھئی، جنبی ہے۔ ”وَقِيلَ:“ اور بعضوں نے کہا کہ امام صاحب جو فرماتے ہیں دونوں نجس ہیں، اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ آدمی ابھی بھی جنابت کی حالت میں ہے، بلکہ جنابت اس کی ختم ہو چکی ہے، جنابت سے وہ پاک ہو چکا ہے، لیکن وہ آدمی ناپاک اس لیے ہے کیونکہ اس کے سارے بدن پر ناپاک پانی لگ گیا ہے۔ کیا ہے؟ سارے بدن پر ناپاک پانی لگا ہے، تو جنبی تو نہیں، لیکن بہرحال پانی کون سا لگا؟ ناپاک لگا، اس لیے یہ اس پانی کی وجہ سے ناپاکی ہے اس آدمی پر، جنابت والی ناپاکی نہیں ہے۔ یہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَقِيلَ عِنْدَهُ: نَجَاسَةُ الرَّجُلِ بِنَجَاسَةِ الْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ“ کہ ان کے، امام صاحب کے نزدیک آدمی کا نجس ہونا جو ہے وہ ماء مستعمل کی نجاست کی وجہ سے ہے، کیونکہ وہ پانی میں گھسا اور وہ ماء کیا بن گیا؟ ماء مستعمل، اس سے نجاست حکمیہ تو بدن سے دور ہو گئی، لیکن یہ اسی کے اندر ہے، اب نکلے گا تو کس پانی سے نکل رہا ہے؟ نجس پانی سے نکل رہا ہے، تو اب ناپاکی ہے لیکن جنابت نہیں ہے بھئی۔ ”وَعَنْهُ:“ اور یہ بھی ایک روایت ہے امام صاحب سے ”أَنَّ الرَّجُلَ طَاهِرٌ“ کہ آدمی پاک ہے۔ پانی ناپاک اور آدمی پاک۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَاءَ لَا يُعْطَى لَهُ حُكْمُ الِاسْتِعْمَالِ قَبْلَ الِانْفِصَالِ“ اس لیے کیونکہ پانی جو ہے اس کو استعمال کا حکم نہیں دیا جاتا جدا ہونے سے پہلے۔ ماء مستعمل کس کو کب اس کو کہتے ہیں پانی کو؟ جب وہ عضو سے جدا ہو جائے، تو یہ آدمی اس پانی کے اندر گھسا تو اس کے سارے بدن پر پانی لگ گیا اور بدن پر پانی بہانے کی شرط امام صاحب کے نزدیک نہیں تھی، لہٰذا سارے بدن پر جب اچھی طرح پانی لگا تو نجاست حکمیہ ختم ہوئی، نجاست حکمیہ ختم ہوئی۔ لیکن یہ ماء ابھی بھی مستعمل نہیں، مستعمل اس کو کب کہیں گے؟ یہ جب بدن سے جدا ہو جائے گا، اور بدن سے کب جدا ہوگا؟ جب یہ آدمی اس سے نکل آئے گا، اور جب نکل آیا تو خود تو پاک ہے، لیکن پیچھے پانی کیا ہوا؟ وہ ناپاک ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”أَنَّ الرَّجُلَ طَاهِرٌ“ کہ وہ آدمی پاک ہے، ”لِأَنَّ الْمَاءَ لَا يُعْطَى لَهُ حُكْمُ الِاسْتِعْمَالِ قَبْلَ الِانْفِصَالِ“ اس لیے کیونکہ پانی جو ہے اس کو استعمال کا حکم نہیں دیا جاتا قبل الانفصال جدا ہونے سے پہلے، ”وَهُوَ أَوْفَقُ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ“ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: یہ جو امام صاحب سے روایات کی گئیں تین روایتیں، ان میں سے یہ سب سے زیادہ موافق روایت ہے ان کی، یعنی جو فقہ کے موافق ہے۔ امام صاحب سے جو روایتیں تین نقل ہوئیں اوپر بھئی، ان میں سے یہ والی جو آخری روایت ہے، یہ فقہ کے سب سے زیادہ موافق ہے یعنی ان کے اصولوں سے اور فقہ کے اصولوں سے زیادہ موافق ہے، کیونکہ ماء مستعمل تب ہی اس پانی کو کہیں گے جب بدن سے کیا ہو جائے؟ جدا ہو جائے، تو پہلے یہ تو ثابت کیا جائے کہ یہ ماء مستعمل ہے، اور ماء مستعمل تب ہی ثابت ہوگا جب کیا ہوگا؟ بدن سے، تو اس سے پہلے ماء مستعمل، ماء کا مستعمل ہونا ہی ثابت نہیں بھئی، لہٰذا یہ روایت جو ہے فقہ کے زیادہ موافق ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہو صاحب ہدایہ اس کو ترجیح دے رہے ہیں بھئی کہ وہ آدمی پاک ہو جائے گا، لیکن پانی کیا ہوگا؟ ناپاک ہوگا۔ ”قَالَ: وَكُلُّ إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ جَازَتِ الصَّلَاةُ فِيهِ وَالْوُضُوءُ مِنْهُ إِلَّا جِلْدَ الْخِنْزِيرِ وَالْآدَمِيِّ“۔ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَكُلُّ إِهَابٍ“ اور ہر کھال ”دُبِغَ“ جسے، ہر ایسی کھال کہ ”دُبِغَ“ جسے دباغت دے دی جائے ”فَقَدْ طَهُرَ“ تو تحقیق وہ پاک ہو گئی۔ دباغت بھئی، یہ چمڑے کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے جانور کی کھال بدبو اور خراب ہونے سے محفوظ ہو جائے۔ بھئی جانور کو ذبح کیا گیا اور اس کی کھال اتاری گئی، اب یہ کھال ہے، اس کو ویسے رکھیں گے، یہ تو خراب ہو جائے گی، بدبودار ہو جائے گی، تو کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس کی وجہ سے یہ کھال بدبو اور خراب ہونے سے محفوظ ہو جائے، وہ سب اس کے اندر آ جائیں گے دباغت کے اندر۔ البتہ ویسے اس کے لیے خاص طریقے ہوتے ہیں، مختلف قسم کے مصالحے وغیرہ یا چیزیں لگائی جاتی ہیں یا پکایا جاتا ہے اور پھر اس کو محفوظ بنایا جاتا ہے بھئی۔ جی، لیکن آگے آپ کو بتائیں گے کہ یہاں صرف دباغت سے وہ مخصوص طریقے سے دباغت دینا مراد نہیں، بلکہ کوئی بھی ایسا طریقہ اختیار کر لیا جائے جس سے وہ کھال محفوظ ہو جائے تو یہ کھال مدبوغ ہوگی بھئی، اور اس سے اس کو پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز، اس سے جائے نماز بنانا بھی جائز، اور اس کے اندر مشکیزہ بنا کر اس کے پانی سے وضو وغیرہ کرنا بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكُلُّ إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ جَازَتِ الصَّلَاةُ فِيهِ وَالْوُضُوءُ مِنْهُ“ ہر ایسی کھال جس کو دباغت دے دی گئی ”فَقَدْ طَهُرَ“ تو تحقیق وہ پاک ہو جائے گی، ”جَازَتِ الصَّلَاةُ فِيهِ“ اس میں نماز جائز ہے یعنی اس کو پہن کر نماز جائز ہے، ”وَالْوُضُوءُ مِنْهُ“ اور اس سے وضو کرنا یعنی اس کے پانی سے وضو کرنا بھی جائز ہے بھئی۔ اس پر نماز پڑھنا اس کو ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ جب اس کو پہن کر نماز پڑھنا جائز تو اس کے اوپر نماز پڑھنا بطریق اولیٰ جائز ہوگا بھئی۔ ”إِلَّا جِلْدَ الْخِنْزِيرِ“ سوائے خنزیر کی کھال کے ”وَالْآدَمِيِّ“ اور آدمی کی کھال کے بھئی۔ خنزیر کی کھال اس لیے کیونکہ خنزیر نجس العین ہے بھئی، اس کی پوری ذات ہی کیا ہے؟ ناپاک ہے، وہ پاک کرنے سے بھی پاک نہیں ہوتی۔ اور آدمی کی کھال کہتے ہیں اس کی شرافت اور کرامت کی وجہ سے، انسان کو اللہ نے بڑی عزت نصیب فرمائی ہے، اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے، اور قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ“ ہم نے بنی آدم کو معزز بنایا ہے، معزز کیا ہے۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے، دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ کھال دباغت کی وجہ سے اس سے وضو اور اس میں نماز کیوں جائز ہوتی ہے؟ کہتے ہیں: حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ“ جس کھال کو بھی دباغت دے دی گئی تو تحقیق وہ پاک ہو گئی۔ ”وَهُوَ بِعُمُومِهِ حُجَّةٌ عَلَى مَالِكٍ فِي جِلْدِ الْمَيْتَةِ“ اور یہ حدیث اپنے عموم کے اعتبار سے بھئی، یہ دلیل ہے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف، ”عَلَى“ کس لیے آتا ہے؟ ضرر کے لیے، تو یہاں کیا ترجمہ کریں گے؟ خلاف۔ یہ دلیل ہے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف ”فِي جِلْدِ الْمَيْتَةِ“ مردار کی کھال۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی مردار کی کھال اتاری جائے، وہ دباغت سے بھی پاک نہیں ہوتی۔ مردار، کوئی جانور مر گیا اور اس کی کھال اتار دی گئی بھئی فوراً ہی، اور پھر اس کو دباغت دی گئی، تو بھی دباغت دینے سے بھی یہ پاک نہیں ہوگی۔ وہ حدیث ذکر کرتے ہیں بھئی، آگے اسی سطر کے آخر میں حدیث آ رہی ہے: ”لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ“ تم لوگ نفع نہ اٹھاؤ مردار سے ”بِإِهَابٍ“ ساتھ اس کی کھال کے، یعنی مردار کی کھال سے تم لوگ نفع نہ اٹھاؤ۔ تو اس حدیث میں منع کیا گیا باقاعدہ، معلوم ہوا مردار کی کھال جو ہے اس سے نفع اٹھانا اور دباغت، معلوم ہوا دباغت دینے سے بھی وہ پاک نہیں ہوگی، اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہے بھئی۔ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَهُوَ بِعُمُومِهِ حُجَّةٌ عَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي جِلْدِ الْمَيْتَةِ“ یہ حدیث جو ہم نے ذکر کی یہ اپنے عموم کے ساتھ، اپنے عموم کے اعتبار سے یہ امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی دلیل ہے مردار کی کھال میں، کس کی کھال میں؟ مردار کی، کیونکہ اس حدیث کے اندر آیا ”أَيُّمَا إِهَابٍ“ جس کھال کو بھی ”دُبِغَ“ اس کو دباغت دے دی گئی ”فَقَدْ طَهُرَ“ تو وہ کیا ہو جائے گی؟ پاک ہو جائے گی۔ اس میں کوئی مردار کا استثناء ہے؟ مردار کا استثناء نہیں۔ جس کھال کو بھی دباغت دے دی گئی وہ کیا ہو جائے گی؟ پاک ہو جائے گی، چاہے وہ ذبح شدہ جانور کی ہو، چاہے مردار کی ہو جو خود مرا ہے بھئی۔ تو یہ حدیث عام ہے، مردار کو بھی شامل اور غیر مردار کو بھی شامل، تو یہ اس میں عموم ہے، تو یہ اپنے عموم کے اعتبار سے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی دلیل بن گئی مردار کی کھال میں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے: بھئی امام مالک رحمہ اللہ نے تو جو حدیث ذکر کی، اس میں تو نفع، مردار کی کھال سے نفع اٹھانے سے منع کیا گیا ہے۔ صاحب ہدایہ اس کا جواب دے رہے ہیں: ”وَلَا يُعَارِضُ بِالنَّهْيِ الْوَارِدِ عَنِ الِانْتِفَاعِ مِنَ الْمَيْتَةِ“ اور یہ جو ہم نے حدیث ذکر کی یہ معارض نہیں ہے یعنی مقابل نہیں ہے، کس کے مقابل؟ ”بِالنَّهْيِ الْوَارِدِ“ وہ جو نہی وارد ہوئی ہے، وہ جو نہی آئی ہے ”عَنِ الِانْتِفَاعِ مِنَ الْمَيْتَةِ“ مردار سے نفع اٹھانے سے۔ مردار سے جو نفع اٹھانے کے بارے میں جو نہی آئی ہے یعنی وہ جو اگلی حدیث ہے، اس میں کیا کیا گیا ہے؟ منع کیا گیا ہے، نہی آئی ہے، تو اس میں جو مردار سے نفع اٹھانے کے بارے میں نہی وارد ہوئی ہے، اس کے یہ حدیث مقابل نہیں، یعنی دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں، دونوں میں کوئی، دونوں ایک دوسرے کے مقابل نہیں بھئی۔ کس طرح نہیں مقابل؟ یہاں تو باقاعدہ ذکر ہو رہا ہے؟ بھئی جواب یہ، وجہ یہ، آگے ذکر کر رہے ہیں صاحب ہدایہ خود بھی، کہ اس حدیث میں اہاب کا لفظ آیا، اہاب: ”لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ“ اور اہاب کہتے ہیں کچی کھال کو جس کو ابھی دباغت نہ دی گئی ہو۔ تو اہاب نام ہے غیر مدبوغ کھال کا، تو حضور علیہ السلام غیر مدبوغ کھال سے نفع اٹھانے سے منع فرما رہے ہیں، نہ کہ دباغت دی ہوئی بھئی۔ جب دباغت دے دی جائے چمڑے کو تو پھر اس کو اہاب نہیں کہتے، اس کو ادیم کہتے ہیں، ادیم، الف دال یا میم، ادیم۔ تو حدیث کے اندر کس کھال سے نفع اٹھانے سے منع فرمایا گیا ہے؟ غیر مدبوغ کھال سے، اور ہم نے بھی غیر مدبوغ کی تو بات نہیں کی، ہم تو کس کی بات کر رہے ہیں؟ دباغت دی ہوئی کھال کی بات کر رہے ہیں، تو اس میں غیر مدبوغ کا ذکر اور یہاں دباغت دینے کے بعد پاک ہونے کا ذکر، تو دونوں میں کوئی ٹکراؤ اور تقابل نہیں ہے بھئی۔ يَرْحَمُكَ اللَّهُ۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُعَارِضُ بِالنَّهْيِ الْوَارِدِ عَنِ الِانْتِفَاعِ مِنَ الْمَيْتَةِ“ اور یہ حدیث مقابل نہیں ہے اس نہی کے جو آئی ہے مردار سے نفع اٹھانے کے بارے میں، ”وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ:“ اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ“ تم لوگ نفع نہ اٹھاؤ مردار کی کھال سے، ”لِأَنَّهُ اسْمٌ لِغَيْرِ الْمَدْبُوغِ“ اس لیے کیونکہ اہاب جو ہے یہ نام ہے غیر مدبوغ کا، جس کھال کو دباغت نہ دی گئی ہو اس کا نام اہاب ہے، اور دباغت کے بعد اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ ادیم کہتے ہیں۔ ”وَحُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ فِي جِلْدِ الْكَلْبِ“ اور یہی حدیث جو ہے یہ دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف بھی ”فِي جِلْدِ الْكَلْبِ“ کتے کی کھال میں۔ کتے کی کھال کو بھی دباغت اگر دے دی جائے تو وہ پاک ہو جائے گی بھئی، وہ کھال بھی کیا ہو جائے گی؟ پاک ہو جائے گی بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کتے کی کھال دباغت دینے سے بھی پاک نہیں ہوگی، کیونکہ کتا بھی خنزیر کی طرح نجس العین ہے، اس کی پوری ذات ہی کیا ہے؟ ناپاک ہے۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، صحیح قول یہی کہ کتا نجس العین نہیں ہے، اسی لیے کتے کے ساتھ، کتے کو پہرے داری کے لیے رکھنا اور کتے کو شکار، کتے کے ساتھ شکار کرنے کو شریعت نے جائز قرار دیا ہے، اس کی اجازت دی ہے، معلوم ہوا کتا نجس العین نہیں۔ اگر نجس العین ہوتا تو پھر پہرے داری یا شکار کے لیے بھی اس کے استعمال کی اجازت نہ ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَحُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ فِي جِلْدِ الْكَلْبِ“ اور یہ حدیث دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف بھی ”فِي جِلْدِ الْكَلْبِ“ کتے کی کھال میں، ”وَلَيْسَ الْكَلْبُ نَجِسَ الْعَيْنِ“ اور کتا جو ہے وہ نجس العین نہیں، ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُنْتَفَعُ بِهِ حِرَاسَةً وَاصْطِيَادًا“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس کتے سے نفع اٹھایا جاتا ہے ”حِرَاسَةً“ پہرے داری کے لیے، بطور پہرے داری کے، ”وَاصْطِيَادًا“ اور بطور شکار کے؟ ”بِخِلَافِ الْخِنْزِيرِ“ بخلاف خنزیر کے، ”لِأَنَّهُ نَجِسُ الْعَيْنِ“ کیونکہ وہ تو نجس العین ہے، وہ خنزیر کیا ہے؟ نجس العین ہے یعنی اس کی پوری ذات ہی نجس ہے، ”إِذِ الْهَاءُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَإِنَّهُ رِجْسٌ﴾ مُنْصَرِفٌ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ ہا جو آ رہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر ”﴿فَإِنَّهُ رِجْسٌ﴾“، ”﴿فَإِنَّهُ رِجْسٌ﴾“ اس کے اندر جو ہا آئی ”﴿فَإِنَّهُ﴾“ یہ ہا ضمیر بھئی، یہ ”مُنْصَرِفٌ إِلَيْهِ“ یہ پلٹ رہی ہے اس کی طرف یعنی خنزیر کے لفظ کی طرف لوٹ رہی ہے یہ حدیث بھئی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں بھئی، یہ بین السطور آپ کے آیت دی ہوئی ہے: ﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ﴾۔ اللہ فرماتے ہیں: ﴿قُل﴾ اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے: ﴿لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ﴾ کہ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی کی گئی ہے کوئی حرام کی ہوئی چیز ﴿عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ﴾ ایسے شخص پر جو اس کو کھانے والا ہے۔ ﴿مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ﴾، طاعم کہتے ہیں کھانے والا، ﴿يَطْعَمُهُ﴾ جو اس کو کھاتا ہے، جو اس کو کھائے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے: میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی کی گئی ہے کوئی حرام چیز ﴿عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ﴾ کسی کھانے والے پر جو اس کو کھائے، ﴿إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً﴾ مگر یہ کہ وہ چیز کیا ہو؟ مردار ہو، یعنی یہ حرام ہے، ﴿أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا﴾ یا بہنے والا خون ہو، ﴿أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ﴾ یا خنزیر کا گوشت ہو، ﴿فَإِنَّهُ رِجْسٌ﴾ کیونکہ وہ گندگی ہے، وہ ناپاکی ہے، تو یہ ہا ضمیر کس کو راجع؟ خنزیر کو، کیونکہ وہ خنزیر کیا ہے؟ گندگی ہے، نجاست ہے، ﴿أَوْ فِسْقًا﴾ یا ایسا فسق، یعنی ایسا ناجائز ذبیحہ ﴿أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ﴾ جس پر اللہ کے علاوہ کسی کا نام لیا گیا ہو۔ ذبح کا کیا طریقہ ہے؟ اس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام ذکر کرنا ضروری ہے بھئی، تو اگر اللہ کے نام کے علاوہ کسی اور کا نام لیا گیا تو وہ ذبیحہ کیا ہے؟ حرام ہے بھئی، تو فسق سے مراد وہ ہے، وہ ناجائز ذبیحہ جس پر اللہ کے علاوہ کسی کا نام لیا گیا ہو بھئی۔ تو دیکھیے اس آیت کے اندر ﴿فَإِنَّهُ رِجْسٌ﴾ یہ ہا ضمیر کس کو راجع؟ خنزیر کو راجع، معلوم ہوا وہ نجس العین ہے بھئی، پورا ہی نجس ہے، پورا ہی ناپاک ہے۔ تو یہی دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”لِأَنَّهُ نَجِسُ الْعَيْنِ“ کیونکہ خنزیر جو ہے نجس العین ہے، ”إِذِ الْهَاءُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَإِنَّهُ رِجْسٌ﴾ مُنْصَرِفٌ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ ہا جو ہے اللہ کے قول ﴿فَإِنَّهُ رِجْسٌ﴾ میں ”مُنْصَرِفٌ إِلَيْهِ“ یہ اس خنزیر کی طرف لوٹ رہی ہے، ”لِقُرْبِهِ“ اس کے قریب ہونے کی وجہ سے، کیونکہ یہ لفظ، لفظ خنزیر کیا ہے؟ اس ضمیر کے سب سے قریب ہے، تو اولیٰ یہ کہ اسی کی طرف ضمیر کو لوٹایا جائے بھئی۔ بھئی دیکھیے، ترکیب کے اندر یہ بات اکثر میں ذکر کرتا رہتا ہوں، کسی سے اگر ترکیب کہا جائے کہ ترکیب کرو ”إِنَّهُ رِجْسٌ“ کی، تو وہ کیا ترکیب کرتا ہے؟ ”إِنَّ“ حرف از حروف مشبہ بالفعل، ”هُو“ ضمیر، حالانکہ ”هُو“ کیا ہوتا ہے بھئی؟ اس کا وہ نام لو جو حروف کے اندر اس کا نام تھا، الف با تا ثا، تمام حروف کے نام ہیں۔ یہ جو ”إِنَّ“ کے بعد آیا حرف، ضمیر آئی، یہ کون سا حرف ہے؟ ”هَا“ ہے ”هَا“، تو اس کو ”هَا“ کہیں گے: ”فَإِنَّهُ“، ”إِنَّ“ حرف از حروف مشبہ بالفعل، ”هَا“ ضمیر اس کا اسم بھئی، ”هَا“ ضمیر، تو اس کو ”هُو“ نہیں کہیں گے بلکہ ”هَا“ کہیں گے، جیسے صاحب ہدایہ نے کہا: ”إِذِ الْهَاءُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى“ کیونکہ ”هَا“ جو ہے اللہ تعالیٰ کے قول میں۔ اسی لیے آپ بسم اللہ کی ترکیب کرتے ہیں ”بِسْمِ“، آپ کیا کہتے ہیں؟ ”بَا“ جارہ، ”بَا“ جارہ کہتے ہیں یا ”بِي“ جارہ کہتے ہیں؟ ”بَا“ جارہ، دیکھو وہ الف با تا کے اندر جو اس کا نام ہے وہ، تو ایک حرف اسی طرح نہیں ذکر کیا جاتا بلکہ اس کا وہ نام لیا جاتا ہے۔ اسی طرح صرف کے اندر ترکیب کرتے ہیں اور ضمیریں وغیرہ بتاتے ہیں، کہتے ہیں ”ضَرَبْتَ“ کے اندر کیا ضمیر ہے فاعل کی؟ کہتے ہیں ”تَا“ ضمیر ہے، ”ضَرَبْتُ“ میں ”تُو“ ضمیر ہے، ”ضَرَبْتِ“ میں ”تِی“ ضمیر ہے، حالانکہ ایک حرف کا اس طرح نام نہیں لیا جاتا۔ تو ”تَ“ یا ”تُ“ یا ”تِ“ کہنا یہ غلط ہے، درست نہیں ہے، بلکہ وہ نام لو جو اس حرف کا ہے حروف تہجی میں، کیا نام ہے؟ ”تَا“، تو ”ضَرَبْتُ“ میں ”تَا“ ضمیر ہے، ”ضَرَبْتَ“ میں بھی ”تَا“ ضمیر ہے، اور ”ضَرَبْتِ“ میں بھی ”تَا“ ضمیر ہے بھئی۔ ”وَحُرْمَةُ الِانْتِفَاعِ بِأَجْزَاءِ الْآدَمِيِّ لِكَرَامَتِهِ“ تو خنزیر کا استثناء کیا تھا کہ اس کی کھال دباغت دینے سے بھی پاک نہیں ہوتی، وجہ اس کی یہ کہ وہ کیا ہے؟ نجس العین، اور آدمی کی کھال وہ کیوں استعمال کرنا درست نہیں؟ کہتے ہیں: اس کو جو حرام قرار دیا گیا ہے وہ آدمی کی کرامت اور شرافت کی وجہ سے ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں انسان کے بارے میں؟ ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ ہم نے معزز کیا ہے کس کو؟ بنی آدم یعنی انسان کو۔ تو کہتے ہیں: ”وَحُرْمَةُ الِانْتِفَاعِ بِأَجْزَاءِ الْآدَمِيِّ لِكَرَامَتِهِ“ اور آدمی کے اجزاء سے نفع اٹھانے کی حرمت جو ہے ”لِكَرَامَتِهِ“ وہ اس آدمی کی کرامت کی وجہ سے ہے یعنی اس کے معزز ہونے کی وجہ سے ہے، ”فَخَرَجَا عَمَّا رَوَيْنَاهُ“ تو یہ دونوں نکل گئے اس حدیث سے جس کو ہم نے روایت کیا۔ وہ حدیث تو عام تھی، وہ حدیث تو کیا تھی؟ اس میں تو خنزیر بھی داخل ہو رہا تھا اور اس میں تو آدمی بھی داخل ہو رہا تھا، لیکن ان دونوں کو اس سے نکالا گیا، اس کی تخصیص کی گئی اور وہ نکل گئے کس وجہ سے؟ خنزیر کیوں نکلا؟ کیونکہ وہ نجس العین ہے، اس کی پوری ذات ہی نجس، وہ پاک ہوتا ہی نہیں، اور آدمی کی کھال کی حرمت کیوں ہے؟ آدمی کے معزز ہونے کی وجہ سے، تو یہ دوسری دلیلوں کی وجہ سے یہ دونوں وہاں اس حدیث کے عموم سے نکل گئے۔ ”ثُمَّ مَا يَمْنَعُ النَّتْنَ وَالْفَسَادَ فَهُوَ دِبَاغٌ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں بھئی کہ دباغت کہیں گے کس کو؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ دباغت وہ مخصوص مصالحے یا وہ مخصوص پودے جن کے ذریعے دباغت دی جاتی ہے، انہی سے دباغت دی جائے گی تو وہ کھال پاک ہوگی۔ جبکہ صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، عند الاحناف دباغت کا کام جو بھی عمل کر دے اسے دباغت کہا جائے گا، جب وہ کھال، اس طریقہ، جو بھی طریقہ آپ نے اختیار کیا اور کھال بدبو سے اور خراب ہونے سے محفوظ ہو گئی تو بس اس کو کیا کہیں گے؟ مدبوغ کہیں گے، یہ دباغ، کیونکہ دباغت کے ذریعے مقصود بھی یہی ہوتا ہے، بھئی وہ مصالحوں کے ذریعے یا مختلف پودوں وغیرہ کے ذریعے یا پکا کر جو دباغت دی جاتی ہے اس کا مقصد بھی کیا ہوتا ہے؟ کہ کھال بدبو اور خراب ہونے سے محفوظ، تو چاہے یہ مقصد کسی طرح بھی حاصل ہو جائے تو یہ دباغت کو، یہ دباغت ہے اور اس کا استعمال کرنا جائز ہوگا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، وہ مخصوص طریقے سے جو ہے، اس طریقے سے دباغت دی جائے گی تو کھال پاک ہوگی، ورنہ تو دباغت ہی نہ ہوئی، کھال بھی پاک نہ ہوئی بھئی۔ ”ثُمَّ مَا يَمْنَعُ النَّتْنَ وَالْفَسَادَ“ نتن کہتے ہیں بدبو کو بھئی، پھر جو چیز بھی، جو عمل بھی ”يَمْنَعُ النَّتْنَ“ روک دے بدبو کو ”وَالْفَسَادَ“ اور خراب ہونے کو، ”فَهُوَ دِبَاغٌ“ تو وہ کیا ہے؟ دباغ، وہ دباغت ہے، ”وَإِنْ كَانَ تَشْمِيسًا أَوْ تَتْرِيبًا“ ”تَشْمِيس“ کا معنی ہوتا ہے دھوپ میں کسی چیز کو خشک کرنا، دھوپ لگوانا، شمس سے ہے شمس، تو تشمیس دھوپ لگوانا۔ ”أَوْ تَتْرِيبًا“ تتریب یہ تراب سے ہے، تراب مٹی کو کہتے ہیں، تو تتریب کا کیا معنی ہوا؟ مٹی لگانا۔ ”وَإِنْ كَانَ تَشْمِيسًا أَوْ تَتْرِيبًا“ اگرچہ تشمیس یا تتریب ہو گئی، یعنی دھوپ کے اندر کوئی کھال کو خشک کر لیتا ہے اور بدبو اور فساد سے کھال محفوظ ہو گئی تو بھی یہ کھال کیا ہو گئی اب؟ مدبوغ ہو گئی۔ کوئی مٹی بار بار لگا کر اس سے رطوبتیں ختم کرتا ہے اور کھال کو بدبو اور فساد سے محفوظ کر لیتا ہے تو یہ کھال کیا ہوئی؟ پاک ہوئی، دباغت دی ہوئی کھال ہو گئی بھئی۔ یہ معنی ہے کہ یہ دباغ ہے اگرچہ تشمیس اور تتریب ہو۔ ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ يَحْصُلُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ مقصود اس سے حاصل ہو جاتا ہے، ”فَلَا مَعْنَى لِاشْتِرَاطِ غَيْرِهِ“ لہٰذا کوئی سبب نہیں اس کے علاوہ غیر کی شرط لگانے کی۔ کوئی وجہ نہیں اس کے علاوہ کی شرط لگانے کی، امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ وہ بعض پودوں وغیرہ کی شرط لگاتے ہیں، تو ہم کہتے ہیں کہ ان کے شرط، ان چیزوں کی شرط لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے، کیونکہ مقصود تو کیا تھا؟ بدبو اور فساد سے محفوظ کرنا، وہ جس طریقے سے بھی حاصل ہو جائے تو وہ مدبوغ ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”فَلَا مَعْنَى لِاشْتِرَاطِ غَيْرِهِ“ لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے اس کے علاوہ کی شرط لگانے کی۔ ”ثُمَّ مَا يَطْهُرُ جِلْدُهُ بِالدِّبَاغِ يَطْهُرُ بِالذَّكَاةِ“ پھر وہ جانور کہ جس کی جلد پاک ہو جاتی ہے دباغت سے، ”يَطْهُرُ بِالذَّكَاةِ“ وہ ذبح سے بھی پاک ہو جاتا ہے، وہ ذبح سے بھی پاک ہو جاتی ہے۔ بھئی دیکھیے، دباغت کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ اس کھال کے اندر جو نجس رطوبتیں ہیں ان کو ختم کر دیا جاتا ہے اور کھال کو بدبو اور فساد سے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح ذبح بھی یہی کام کرتا ہے، ذبح کا عمل بھی، جب جانور کو ذبح کیا تو اس کے بدن سے جو خون تھا، جو نجس رطوبتیں تھیں وہ کیا ہو جائیں گی؟ خارج ہو جائیں گی، لہٰذا اس کا گوشت وغیرہ بھی پاک ہو گیا۔ کسی بھی جانور کو، سوائے وہ دو جن کا استثناء کر دیا گیا، ان دو کے علاوہ کسی بھی جانور کو ذبح کیا جائے تو اس ذبح کی وجہ سے اس کی کھال بھی پاک ہو گئی اور اس کا گوشت بھی پاک ہے بھئی۔ حلال نہیں میں نے کہا، کھانے کے قابل بے شک وہ نہ ہو، بھئی اگر وہ جانور اس کا گوشت نہیں کھایا جاتا تو اب بھی اسی حکم تو اسی طرح اس کا گوشت کھایا نہیں جائے گا، لیکن بہرحال وہ نجس نہ رہا اب، وہ نجس نہ رہا، نجاست اس کی ختم ہو گئی بھئی۔ تو وہ اب وہ اس کا وہ گوشت پانی وغیرہ میں گرے تو وہ پانی نجس نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ مَا يَطْهُرُ جِلْدُهُ بِالدِّبَاغِ يَطْهُرُ بِالذَّكَاةِ“ پھر وہ جانور کہ اس کی جلد پاک ہو جاتی ہے دباغت سے، وہ پاک ہو جاتا ہے ذبح سے، ”لِأَنَّهُ يَعْمَلُ عَمَلَ الدِّبَاغِ“ اس لیے کیونکہ ذبح جو ہے یہ بھی دباغت والا عمل کرتی ہے ”فِي إِزَالَةِ الرُّطُوبَاتِ النَّجِسَةِ“ نجس رطوبتوں کو دور کرنے کے اندر، یعنی اس سے بھی اسی طرح نجس رطوبتیں دور ہو جاتی ہیں ذبح سے جتنا دباغت سے دور ہوتی تھیں، ”وَكَذَلِكَ يَطْهُرُ لَحْمُهُ“۔ اچھا، لحم اب بیان کر رہے ہیں، معلوم ہوا پیچھے صرف کھال کا ذکر کر رہے ہیں: ”ثُمَّ مَا يَطْهُرُ جِلْدُهُ بِالدِّبَاغِ“ پھر وہ جانور جس کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے ”يَطْهُرُ بِالذَّكَاةِ“ تو وہ کھال ذبح سے بھی پاک ہو جاتی ہے۔ گوشت کا اب بتا رہے ہیں: ”وَكَذَلِكَ يَطْهُرُ لَحْمُهُ“ اسی طرح اس کا گوشت بھی پاک ہو جاتا ہے، ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ اور یہی قول صحیح ہے، کیونکہ بعض علماء، فقہاء فرماتے ہیں کہ گوشت پاک نہیں ہوتا، صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں: صحیح قول یہ ہے کہ گوشت بھی پاک ہو جاتا ہے، ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَأْكُولًا“ اگرچہ ماکول یعنی کھانے والا نہ ہو بھئی، کھانے والا بے شک نہ ہو، ہم کھانے اور نہ کھانے کی بات نہیں کر رہے، ہم بات کر رہے ہیں کہ پاک ہے یا ناپاک ہے، تو پاک ہو جائے گا، لہٰذا اب وہ گوشت کا ٹکڑا کسی پانی کے اندر گرا تو اس پانی کو نجس نہیں کہا جائے گا۔ چلیے، بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
82 approved lectures · 20 of 82