Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-024

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَسُؤْرُ الْهِرَّةِ طَاهِرٌ مَكْرُوهٌ، وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ غَيْرُ مَكْرُوهٍ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُصْغِي لَهَا الْإِنَاءَ فَتَشْرَبُ مِنْهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَلَهُمَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”الْهِرَّةُ سَبُعٌ“، وَالْمُرَادُ بَيَانُ الْحُكْمِ إِلَّا أَنَّهُ سَقَطَتِ النَّجَاسَةُ لِعِلَّةِ الطَّوَافِ فَبَقِيَتِ الْكَرَاهَةُ. مختلف جانوروں کے جھوٹھے پانی کا، جھوٹھے پانی کا کیا حکم ہے؟ یہ بیان ہو رہا ہے بھئی۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ پسینہ جو ہے اس کا اعتبار کسی چیز کے سُؤْر پر یعنی اس کے جھوٹھے پر کیا جائے گا۔ اگر کسی حیوان کا جھوٹھا جو ہے وہ پاک ہے تو اس کا پسینہ بھی پاک ہے، اگر کسی حیوان کا جھوٹھا مکروہ ہے تو اس کا پسینہ بھی کیا ہے؟ مکروہ، اور اگر کسی حیوان کا جھوٹھا نجس ہے تو اس کا پسینہ بھی نجس اور ناپاک ہے۔ اور پھر آپ نے پڑھا کہ انسان جو ہے اور وہ تمام حیوانات جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا جھوٹھا پاک ہے بھئی، پاک ہے۔ اور جبکہ کتا جو ہے اس کا جھوٹھا نجس ہے، ناپاک ہے اور اس کی وجہ سے برتن کو تین مرتبہ دھویا جائے گا۔ اور اسی طرح خنزیر اور تمام دوسرے جو درندے ہیں، شکار کرنے والے، چیرنے پھاڑنے والے، ان کا جھوٹھا بھی نجس ہے، ناپاک ہے۔ اب آگے آپ کو بلی کے جھوٹھے کا حکم بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَسُؤْرُ الْهِرَّةِ طَاهِرٌ مَكْرُوهٌ“، اور بلی کا جو جھوٹھا ہے وہ پاک ہے، ”مَكْرُوهٌ“ مکروہ ہے بھئی۔ پاک ہے لیکن مکروہ ہے بھئی۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ غَيْرُ مَكْرُوهٍ“، اور امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ سے یہ روایت ہے کہ اس کا جھوٹھا مکروہ بھی نہیں ہے بھئی۔ طاہر ہے اور مکروہ بھی نہیں ہے۔ دلیل ان کی کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُصْغِي لَهَا الْإِنَاءَ“، ”يُصْغِي الْإِنَاءَ“ کا معنی ہوتا ہے برتن جھکانا۔ وہ فرماتے ہیں کیونکہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”كَانَ يُصْغِي لَهَا الْإِنَاءَ“، وہ برتن کو جھکا دیتے تھے بلی کے لیے، ”فَتَشْرَبُ مِنْهُ“ تو وہ اس سے پانی پی لیتی، ”ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ“ پھر اسی پانی سے حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وضو فرما لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ بلی کا جھوٹھا کیا ہے؟ پاک ہے بھئی۔ جبکہ ”وَلَهُمَا“ طَرَفَيْنِ کی دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، وہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا یہ قول ہے: ”الْهِرَّةُ سَبُعٌ“۔ ”سَبُعٌ“ کہتے ہیں درندے کو۔ کہ حدیث میں آیا حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں: بلی درندہ ہے۔ ”وَالْمُرَادُ بَيَانُ الْحُكْمِ“، اور اس حدیث کے اندر بعض نے کہا کہ حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بلی کی حقیقت بیان فرما رہے ہیں کہ اس کا تعلق کس قسم کے حیوانات سے ہے؟ یہ کس قسم کا حیوان ہے؟ درندہ۔ لیکن صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں آپ کو بھئی کہ اس کے ذریعے حکم کو بیان کیا جا رہا ہے، حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ کا مقصد حکم کو بیان کرنا ہے، کیونکہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ چیزوں کی حقیقت بیان کرنے کے لیے تشریف نہیں لائے بلکہ احکام بتلانے کے لیے تشریف لائے ہیں، تو یہاں پر بھی دراصل حکم بیان ہو رہا ہے کہ بلی درندہ ہے، معلوم ہوا اس کا بھی وہی حکم جو کس کا حکم ہے؟ درندوں کا حکم۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُرَادُ بَيَانُ الْحُكْمِ“، اور مقصد جو ہے وہ حکم کو بیان کرنا ہے، ”إِلَّا أَنَّهُ سَقَطَتِ النَّجَاسَةُ لِعِلَّةِ الطَّوَافِ“، مگر یہ کہ نجس ہونا جو ہے وہ ساقط ہو گیا عِلَّتِ طَوَاف کی وجہ سے، ”فَبَقِيَتِ الْكَرَاهَةُ“، تو کراہت باقی رہی بھئی۔ اس حدیث میں کیا آیا؟ ”الْهِرَّةُ سَبُعٌ“، بلی درندہ ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بلی جب درندہ ہے تو درندوں کا جھوٹھا تو نجس، تو بلی کے جھوٹھے کو بھی کیا کہنا چاہیے؟ نجس کہنا چاہیے۔ لیکن دوسری حدیث میں آتا ہے، یہ آپ کے حاشیے میں بھی دی ہوئی ہے، کہ حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے بلی کے بارے میں فرمایا: ”إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجِسَةٍ، لِأَنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ“، کہ یہ بلی نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ بلی اور بلیاں اور بلے جو ہیں تم پر چکر لگانے والے ہیں۔ طوافین مذکر کے لیے اور طوافات مؤنث۔ کہ یہ جو ہیں، یہ بلیاں یہ تم پر چکر لگانے والی ہیں۔ تو ضرورت اور حاجت کی بناء پر شریعت نے ان کے حکم میں نرمی کر دی بھئی۔ کیونکہ بلی اور بلے اور بلیاں جو ہیں وہ گھروں کے اندر چکر لگاتے ہیں، ان سے چیزوں کو چھپا کر رکھنا بڑا مشکل کام ہے، جتنی بھی انسان حفاظت کرے یہ کسی نہ کسی طریقے سے اس چیز تک پہنچ جائیں گے، تو اگر ان کے جھوٹھے کو نجس قرار دے دیا جائے پھر تو انسان بڑی مشکل میں پڑ جائے گا۔ تو چنانچہ یہ جو بار بار چکر لگاتے ہیں، آتے جاتے ہیں، اس علت کی وجہ سے، اس سبب کی وجہ سے ان کے جھوٹھے کو شریعت نے نجس قرار نہیں دیا۔ چنانچہ حدیث میں کیا آیا کہ یہ بلیاں یہ نجس، ناپاک نہیں ہیں کیونکہ یہ تم پر چکر لگانے والے ہیں، گھومنے والے ہیں، یعنی بار بار آنے جانے والے ہیں، یہ چیزوں کو منہ لگائیں گے، تو اس وجہ سے یہ نجس نہیں ہیں بھئی۔ تو حدیث سے علت کا بھی پتہ چل گیا۔ کہ ان کو ناپاک کیوں نہیں قرار دیا گیا؟ وجہ کیا ہے؟ طواف۔ علت کیا ہے؟ طواف، چکر لگانا، گھومنا۔ تو اس حدیث سے، یہ جو متن میں حدیث آئی: ”الْهِرَّةُ سَبُعٌ“، اس سے تو پتہ چل رہا تھا کہ بلی ہے وہ درندہ ہے، اس کے جھوٹھے کو نجس ہونا چاہیے، لیکن دوسری حدیث سے پتہ چلا کہ ہونا تو نجس چاہیے لیکن ضرورت اور حاجت کی بناء پر چونکہ چکر لگانے والے ہیں اس لیے ضرورت اور حاجت کی بناء پر ان کا جھوٹھا نجس نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ سَقَطَتِ النَّجَاسَةُ لِعِلَّةِ الطَّوَافِ“، مگر یہ کہ نجس ہونا جو ہے وہ ساقط ہو گیا عِلَّتِ طَوَاف کی وجہ سے، ”فَبَقِيَتِ الْكَرَاهَةُ“، تو کیا باقی رہ گئی؟ کراہت باقی رہ گئی بھئی۔ ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى مَا قَبْلَ التَّحْرِيمِ“، یہاں سے جواب دے رہے ہیں وہ امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ نے جو حدیث ذکر کی تھی کہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بلی کے لیے برتن کو جھکا دیتے اور وہ اس میں سے پانی پی لیتی، پھر اس پانی سے حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وضو فرما لیتے تھے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ ”وَمَا رَوَاهُ“، اور وہ حدیث جس کو امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ نے روایت کیا ”مَحْمُولٌ عَلَى مَا قَبْلَ التَّحْرِيمِ“، وہ تحریم سے ماقبل پر محمول ہے، یعنی اس کے حرمت کے حکم سے پہلے پر یہ محمول ہے، اس وقت نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایسا فرماتے تھے بھئی۔ ”ثُمَّ قِيلَ كَرَاهَتُهُ لِحُرْمَةِ اللَّحْمِ“، جی، آگے یہ بیان کر رہے ہیں بھئی کہ جو مکروہ قرار دیا گیا اس کی وجہ کیا ہے؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ بلی کا جھوٹھا مکروہ ہے اس وجہ سے کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے بھئی۔ اور لعاب، آپ نے پڑھا ہے اس جھوٹھے کے باب میں اعتبار کس کا ہے؟ لعاب کا ہے، اور کیونکہ جب گوشت ناپاک ہے، حرام ہے تو اس سے جو لعاب پیدا ہوا وہ بھی کیا ہوگا؟ حرام ہوگا بھئی، حرام ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ قِيلَ كَرَاهَتُهُ لِحُرْمَةِ اللَّحْمِ“، پھر کہا گیا ہے کہ بلی کے جھوٹھے کی کراہت جو ہے اس کے گوشت کے حرام ہونے کی وجہ سے ہے، ”وَقِيلَ لِعَدَمِ تَحَامِيهَا النَّجَاسَةَ“، اور کہا گیا ہے بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کا جھوٹھا مکروہ کیوں ہے؟ اس وجہ سے کیونکہ یہ نجاست سے بچتی نہیں۔ تَحَامِي کا معنی ہے بچنا، پرہیز کرنا۔ تو ”وَقِيلَ لِعَدَمِ تَحَامِيهَا النَّجَاسَةَ“، اور کہا گیا ہے اس کے نجاست سے پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ نجاست وغیرہ میں رہتی ہے، مختلف قسم کی چیزیں، مردار کوئی جانور وغیرہ ہے شکار کرے گی، کھائے گی، منہ پر خون وغیرہ لگنے کا احتمال ہے تو اس کی وجہ سے اس کے جھوٹھے کو جھوٹھے کو کیا قرار دیا گیا؟ مکروہ قرار دیا گیا بھئی۔ تو دونوں فقہاء، بعضوں نے کیا کہا مکروہ کیوں قرار دیا گیا؟ اس کے گوشت کے حرام ہونے کی وجہ سے، اور بعضوں نے کیا کہا کہ اس کو مکروہ کیوں قرار دیا گیا اس کے جھوٹھے کو؟ کیونکہ یہ نجاست سے بچتی نہیں ہے۔ تو یعنی اس میں احتمال احتمال ہے، ہو سکتا ہے ابھی اس نے نجاست منہ پر ہو، اس کے لگی ہوئی ہو۔ تو اس احتمال کی وجہ سے بھی کراہت ثابت ہے اور گوشت کے حرام ہونے کی وجہ سے بھی کراہت ثابت ہو رہی ہے۔ لیکن یاد رکھیے کہ گوشت کے حرام ہونے کی وجہ سے کراہت ثابت ہوگی تو وہ كَرَاهَتِ تَحْرِيمِي ہوگی، حرام کے قریب۔ کس کے قریب؟ حرام کے قریب بھئی۔ بھئی دیکھیے، گوشت حرام ہے۔ جب گوشت حرام ہے تو ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کا جھوٹھا نجس، ناپاک ہونا چاہیے، لیکن وہ دوسری حدیث آ گئی جس میں علت بیان کر دی گئی اور اس کی نجاست اور بتلایا گیا کہ وہ نجس نہیں ہے، علت کیا بیان کی گئی؟ کیونکہ یہ چکر لگانے والی ہے، عِلَّتِ طَوَاف بیان کی گئی وہاں پر۔ تو لہذا اس کی وجہ سے اب حرمت والا، یعنی نجاست والا حکم تو نہیں لیکن کراہت والا حکم رہے گا اور کراہت بھی کون سی ہوگی؟ كَرَاهَتِ تَحْرِيمِي ہوگی بھئی۔ اور نجاست سے یہ بچتی نہیں، اس صورت میں بھی کراہت ہے لیکن اس صورت میں صرف شک ہے کہ شاید اس کے منہ پر کیا لگی ہوئی ہو؟ نجاست لگی ہوئی ہو، تو شک کی وجہ سے كَرَاهَتِ تَحْرِيمِي نہیں ثابت ہو سکتی بلکہ کون سی کراہت ثابت ہوگی؟ كَرَاهَتِ تَنْزِيهِي۔ آپ نے پڑھا ہے کراہت دو قسم پر ہے، مکروہ دو قسم پر ہے: مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي اور مَكْرُوهِ تَحْرِيمِي۔ مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي وہ ہے جو حلال کے زیادہ قریب ہے اور مَكْرُوهِ تَحْرِيمِي وہ ہے جو حرام کے قریب ہے بھئی، حرام کے قریب ہے۔ تو دونوں قسم کے قول آ گئے۔ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَهَذَا يُشِيرُ إِلَى التَّنَزُّهِ“، یہ جو قول ہے یہ جو قریب والا، ”هَذَا“ اس میں اشارہ قریب کے لیے، تو قریب کون سا قول ذکر ہوا؟ ”لِعَدَمِ تَحَامِيهَا النَّجَاسَةَ“، یہ جو قریب قول گزرا ”يُشِيرُ إِلَى التَّنَزُّهِ“ یہ کس چیز کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟ تنزہ کی طرف یعنی مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي ہونے کی طرف اشارہ کر رہا ہے، معلوم ہوا بلی کا جھوٹھا وہ مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي ہے، وہ کیا ہے؟ مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي۔ ”وَالأَوَّلُ إِلَى الْقُرْبِ مِنَ التَّحْرِيمِ“، اور پہلا قول جو ہے جس میں کیا کہا گیا تھا کہ کراہت کس وجہ سے ہے؟ حُرْمَتِ لَحْم کی وجہ سے ہے، وہ اشارہ کر رہا ہے ”إِلَى الْقُرْبِ مِنَ التَّحْرِيمِ“ حرام کے قریب ہونے کے، تحریم کے قریب ہونے، اور تحریم کے قریب کون سا مکروہ ہے؟ مَكْرُوهِ تَحْرِيمِي۔ تو یہ پہلا قول اشارہ کر رہا ہے مَكْرُوهِ تَحْرِيمِي ہونے کی طرف، معلوم ہوا بلی کا جھوٹھا مَكْرُوهِ تَحْرِيمِي ہے۔ اور دوسرا قول اشارہ کر رہا ہے کس کی طرف؟ مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي ہونے کی طرف، معلوم ہوا بلی کا جھوٹھا کیا ہے؟ مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي ہے۔ دونوں طرف فقہاء احناف گئے ہیں بھئی۔ بعضوں نے بلی کے جھوٹھے کو مَكْرُوهِ تَحْرِيمِي قرار دیا اور بعض فقہاء نے کیا قرار دیا ہے؟ مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي۔ لیکن یاد رکھیے، زیادہ فقہاء احناف اس بلی کے جھوٹھے کے مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي ہونے کی طرف گئے ہیں، کہ بلی کا جھوٹھا کیا ہے؟ مَكْرُوهِ تَنْزِيهِي ہے، تحریمی نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہذا اب اگر ایک شخص ہے اور اس کے پاس اور کوئی پانی نہیں، صرف ایسا پانی ہے جو بلی کا جھوٹھا ہے تو اس صورت میں تو پھر اس سے وضو کر لے، جب اور پانی نہیں۔ لیکن اگر اور پانی موجود ہے تو پھر اس صورت میں دوسرے پانی سے وضو کر لینا چاہیے اس کو بھئی، دوسرے پانی سے، اس بلی کے جھوٹھے سے وضو نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر بلی کھانے پینے کی چیزوں میں منہ لگا دے، یاد رکھیے ہمیشہ بھئی، تو اس کو نہیں کھانا چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کو نہیں، ہاں اگر کوئی غریب ہے جس بیچارے کے پاس اور کچھ ہے ہی نہیں اور بلی نے اس کھانے وغیرہ چیز میں، دودھ میں منہ لگا دیا، اس کے لیے پھر یاد رکھیے مکروہ بھی نہیں ہے، وہ اس کو استعمال کر سکتا ہے بھئی، لیکن اگر اللہ نے دیا ہے مال وغیرہ تو پھر اس چیز کو استعمال نہ کرے بھئی۔ ایک اور ویسے فقہ کی بات ذہن میں آئی، یاد رکھیے یہ کھانے پینے کی چیزیں پڑے پڑے گل سڑ جاتی ہیں، تو یاد رکھیے گل سڑ جائے پھر بھی یہ نجس نہیں، یہ نجس، ناپاک، کھائے تو نہ انسان، چیز تو خراب ہے وہ تو اس کو نقصان ہوگا، لیکن نجاست والا حکم اس کا نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نجاست والا حکم نہیں ہے۔ ”وَلَوْ أَكَلَتِ الْفَارَةَ ثُمَّ شَرِبَتْ عَلَى فَوْرِهِ الْمَاءَ يَتَنَجَّسُ إِلَّا إِذَا مَكَثَتْ سَاعَةً“۔ ”وَلَوْ أَكَلَتِ الْفَارَةَ“، اور اگر بلی نے چوہا کھایا، ”ثُمَّ شَرِبَتْ عَلَى فَوْرِهِ الْمَاءَ“، پھر پیا اس نے فوراً اس کے بعد پانی کو، اس کے فوراً بعد کیا کر لیا؟ چوہا کھایا اور پھر اس کے بعد اس نے پانی پیا ہے، تو اب تو یقینی بات ہے کہ اس کے منہ پہ کیا ہوگی؟ نجاست لگی ہوئی ہے، وہ خون وغیرہ اس کے ذرات لگے ہوں گے، تو وہ جب پانی میں منہ ڈالے گی تو وہ ذرات پانی کے ساتھ بھی ملیں گے تو اس صورت میں پانی نجس ہو جائے گا، چنانچہ فرماتے ہیں: ”يَتَنَجَّسُ“، تو پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس ہو جائے گا۔ ”إِلَّا إِذَا مَكَثَتْ سَاعَةً“، مگر یہ کہ تھوڑی دیر یہ ٹھہر جائے، تھوڑی دیر بعد، کچھ دیر بعد پھر پانی پیے تو پھر اس صورت میں وہ پانی نجس نہیں ہوگا، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: ”لِغَسْلِهَا فَمَهَا بِلُعَابِهَا“، بوجہ اس کے دھو لینے اپنے منہ کو ”بِلُعَابِهَا“ اپنے لعاب کے ساتھ، اس لیے کیونکہ آپ نے دیکھا ہے بھئی، بلی وغیرہ کوئی چیز کھا لے اور پھر بیٹھے تو وہ زبان سے اپنے منہ کو چاٹ کر صاف کر لیتی ہے بھئی، تو کچھ دیر جب ٹھہرے گی تو وہ اپنے لعاب کے ذریعے کیا کر لے گی؟ اپنے منہ کو صاف کر لے گی، تو اس وجہ سے پھر اس صورت میں وہ پانی نجس نہیں ہوگا بھئی، ہاں وہ مکروہ اسی طرح ہے۔ آگے فرماتے ہیں: ”وَالِاسْتِثْنَاءُ عَلَى مَذْهَبِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“، یہ جو استثناء ہے ”إِلَّا إِذَا مَكَثَتْ سَاعَةً“، اگر کچھ دیر ٹھہر جائے، پھر معلوم ہوا مکروہ بھی نہیں، یہ شَيْخَيْنِ رَحِمَهُمَا اللَّهُ کے مذہب پر ہے۔ امام محمد رَحِمَهُ اللَّهُ تو فرماتے ہیں کہ نہیں، کچھ دیر ٹھہر بھی جائے پھر بھی پانی کو منہ لگائے گی تو پانی نجس ہو جائے گا، کیونکہ ان کے نزدیک نجاست جو ہے وہ صرف پانی سے ہی دور ہو سکتی ہے، پانی کے بغیر دور ہی نہیں ہو سکتی، اگرچہ لعاب کو اس نے اپنے منہ کو صاف بھی کر لیا زبان سے پھر بھی پانی تو استعمال نہ ہوا، لہذا نجاست دور نہ ہوئی، پانی میں منہ لگائے گی تو وہ نجس ہو جائے گا۔ ”وَيَسْقُطُ اعْتِبَارُ الصَّبِّ لِلضَّرُورَةِ“، یہاں سے ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے پیچھے ہمیں بتایا تھا کہ امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ کے نزدیک نجاست کے دور کرنے کے لیے وہ پانی کا بہانا بھی ضروری ہے۔ غسل کے باب میں بیان ہوا تھا کہ امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ کے نزدیک پانی کا بدن پر بہانا ضروری ہے، لہذا وہ کنویں کے اندر اگر اس نے غوطہ لگا کر کوئی نکل بھی آیا بدن پر پانی تو نہیں بہایا لہذا جنابت سے وہ پاک نہیں ہوگا بھئی۔ تو یہاں پر تو یہاں پر تو پانی کا بہانا نہیں پایا گیا، اگرچہ اس نے لعاب سے منہ کو تو صاف کیا لیکن پانی کا بہا دینا یہ تو نہیں پایا گیا، تو اس کے بغیر ہی کیسے وہ فرماتے ہیں کہ اس کا منہ پاک ہو گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں یہاں ضرورت کی اور حاجت کی وجہ سے، کس بناء پر؟ ضرورت اور حاجت کی بناء پر بھئی انہوں نے بہانے کے حکم کے ساقط ہونے کا اعتبار کیا۔ کہتے ہیں: ”وَيَسْقُطُ اعْتِبَارُ الصَّبِّ لِلضَّرُورَةِ“، اور ساقط ہو گیا بہانے کا اعتبار ”لِلضَّرُورَةِ“ بناء بر ضرورت، کیونکہ اس کی حاجت ہے ضرورت ہے، بلی اسی طرح کرتی ہے، کوئی چیز کھا پی لے گی پھر زبان کے ذریعے البتہ منہ کو صاف کر لے گی اور پھر پانی میں منہ لگائے گی، تو اگر اس زبان کے ذریعے صاف کرنے کا اعتبار ہم نہ کریں تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ اس چیز کو نجس قرار دینا پڑے گا، تو ضرورت کی بناء پر ہم نے بہانے کا اعتبار نہیں کیا بھئی۔ ”وَسُؤْرُ الدَّجَاجَةِ الْمُخَلَّاةِ مَكْرُوهٌ“۔ دجاجہ مرغی بھئی، مخلاۃ آزاد چھوڑی ہوئی، آزاد گھومنے والی۔ آزاد گھومنے والی مرغی، بھئی جو عام گھروں میں مرغیاں رکھی ہوتی ہیں اس کا حکم بیان ہو رہا ہے کہ اس کا جو جھوٹھا ہے ”مَكْرُوهٌ“، وہ مکروہ ہے بھئی۔ وہ مرغی وہ چونچ کے ذریعے کسی پانی سے پیے تو وہ پانی کیا ہو جائے گا؟ مکروہ ہو جائے گا۔ کیوں، مکروہ کیوں ہوگا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا تُخَالِطُ النَّجَاسَةَ“، کیونکہ مرغی جو ہے نجاست کے ساتھ اختلاط کرتی ہے، آپ نے بھی دیکھا ہے گندگی وغیرہ کھاتی پھرتی ہے بھئی، تو اس وجہ سے وہ اجزاء چونکہ اس کے چونچ وغیرہ پر احتمال ہے تو وہ پانی کو کیا قرار دیا گیا؟ مکروہ قرار دیا گیا۔ ”وَلَوْ كَانَتْ مَحْبُوسَةً بِحَيْثُ لَا يَصِلُ مِنْقَارُهَا إِلَى مَا تَحْتَ قَدَمَيْهَا لَا يُكْرَهُ لِوُقُوعِ الْأَمْنِ عَنِ الْمُخَالَطَةِ“۔ اور اگر وہ جو مرغی ہے اگر وہ محبوس تھی، قید کی ہوئی تھی، کسی پنجرے وغیرہ میں بند کیا ہوا تھا ”بِحَيْثُ“ اس طور پر، اس حیثیت سے ”لَا يَصِلُ مِنْقَارُهَا“ کہ نہ پہنچتی ہو اس کی چونچ بھئی ”إِلَى مَا تَحْتَ قَدَمَيْهَا“ اس کے قدموں کے نیچے تک۔ مرغی کو کسی پنجرے وغیرہ میں یا کہیں اس طرح بند کیا ہے یا باندھا ہے کہ اس کی چونچ جو ہے وہ اس کے قدموں تک نہیں پہنچتی، سر کو نیچے تک نہیں لے جا سکتی، تو اس صورت میں بھی ”لَا يُكْرَهُ“ اس کا جھوٹھا مکروہ نہیں ہے، ”لِوُقُوعِ الْأَمْنِ عَنِ الْمُخَالَطَةِ“ اس لیے کیونکہ امن واقع ہو گیا، امن حاصل ہو گیا ”عَنِ الْمُخَالَطَةِ“ کس سے؟ نجاست سے اختلاط۔ نجاست تو زمین پر ہوگی، تو زمین تک وہ سر لے جا ہی نہیں سکتی تو لہذا نجاست سے اختلاط نہیں، جب نجاست سے اختلاط نہیں تو اب اس کا جھوٹھا مکروہ بھی نہیں ہے بلکہ پاک ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لہذا اگر صرف پنجرے میں قید کیا ہے تو پھر تو امن نہیں، اور گندگی پنجرے میں نہ ہو اس کا اپنا فضلہ وغیرہ تو ہوگا، اس میں بھی وہ چونچ مارے گی، تو اس صورت میں بھی امن حاصل نہیں۔ ہاں اگر چونچ نیچے تک لے جا ہی نہ سکے پھر کیا ہے؟ اس کا جھوٹھا مکروہ نہیں ہے بھئی۔ ”وَكَذَا سُؤْرُ سِبَاعِ الطَّيْرِ“۔ اور اسی طرح جو چیرنے پھاڑنے والے پرندے ہیں، یعنی جو شکار کرنے والے پرندے ہیں بھئی، عقاب ہے، شکرہ ہے، شاہین ہے وغیرہ، تو ان کا جھوٹھا جو ہے وہ بھی اسی طرح ہے یعنی جیسے آزاد گھومنے والی مرغی کا جھوٹھا مکروہ تھا ان کا جھوٹھا بھی مکروہ ہے بھئی۔ ”لِأَنَّهَا تَأْكُلُ الْمَيْتَاتِ“، کیونکہ یہ مردار کھاتے ہیں، یہ شکار کرنے والے مردار کھاتے ہیں، ”فَأَشْبَهَ الدَّجَاجَةَ الْمُخَلَّاةَ“، تو یہ مشابہ ہو گئے آزاد گھومنے والی مرغی کے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ مَحْبُوسَةً يَعْلَمُ صَاحِبُهَا أَنَّهُ لَا قَذَرَ عَلَى مِنْقَارِهَا لَا يُكْرَهُ لِوُقُوعِ الْأَمْنِ عَنِ الْمُخَالَطَةِ“۔ اور امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ سے روایت ہے ”أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ مَحْبُوسَةً“ کہ یہ شکار کرنے والے پرندے جب قید میں ہوں، قید کیے ہوئے ہوں پنجرے وغیرہ میں، ”يَعْلَمُ صَاحِبُهَا“ اور ان کا مالک جانتا ہے ”أَنَّهُ لَا قَذَرَ عَلَى مِنْقَارِهَا“ کہ کوئی گندگی ان کے چونچ پر نہیں لگی ہوئی، ”لَا يُكْرَهُ“ تو پھر ان کا جھوٹھا مکروہ بھی نہیں ہے ”لِوُقُوعِ الْأَمْنِ عَنِ الْمُخَالَطَةِ“ اس وجہ سے کہ نجاست سے جو اختلاط ہے اس سے امن حاصل ہو گیا۔ اب اس نجاست سے اختلاط کا احتمال وہاں پر نہیں۔ ”وَاسْتَحْسَنَ الْمَشَايِخُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ“، اور مشائخ نے، فقہاء نے اس روایت کو پسند فرمایا ہے اور اسی پر فتویٰ دیا ہے بھئی۔ ”وَسُؤْرُ مَا يَسْكُنُ الْبُيُوتَ كَالْحَيَّةِ وَالْفَارَةِ مَكْرُوهٌ“۔ اور جھوٹھا ان چیزوں کا جو گھروں میں رہتی ہیں ”كَالْحَيَّةِ“ جیسے کہ سانپ ہے ”وَالْفَارَةِ“ اور چوہا ہے، ”مَكْرُوهٌ“ وہ بھی مکروہ ہے بھئی۔ ان کا جھوٹھا کیوں مکروہ ہے؟ بھئی وہی وجہ عِلَّتِ طَوَاف ہے بھئی۔ جیسے بلی کے جھوٹھے کو نجس ہونا چاہیے تھا لیکن عِلَّتِ طَوَاف کی وجہ سے اس کو کیا قرار دیا گیا؟ مکروہ قرار دیا گیا، تو یہ جو سانپ اور چوہے وغیرہ ہیں ان میں بھی یہ علت پائی جاتی ہے، یہ بھی چکر لگاتے ہیں، آتے جاتے ہیں گھروں میں، اور اس وجہ سے ان کے جھوٹھے کو بھی کیا قرار دیا گیا؟ مکروہ۔ بلکہ ان میں عِلَّتِ طَوَاف بلی سے بھی بڑھ کر ہے، بلی کے تو روکنے کا کوئی نہ کوئی بندوبست آپ کر لیں گے، اس میں احتمال کم ہو جائے گا آنے کا، لیکن ان کے تو روکنے کی کوئی صورت ہی نہیں، بہت ہی مشکل ہے ان کو روکنا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَسُؤْرُ مَا يَسْكُنُ الْبُيُوتَ كَالْحَيَّةِ وَالْفَارَةِ مَكْرُوهٌ“، اور جھوٹھا ان چیزوں کا جو گھروں میں رہتی ہیں جیسے کہ سانپ ہے اور چوہا ہے ”مَكْرُوهٌ“ وہ مکروہ ہے، ”لِأَنَّ حُرْمَةَ اللَّحْمِ أَوْجَبَتْ نَجَاسَةَ السُّؤْرِ“، اس لیے کیونکہ ان کے گوشت کی حرمت نے، بھئی ان کا گوشت حرام ہے یا نہیں سانپ اور چوہا؟ تو ان کے گوشت کے حرام ہونے نے ”أَوْجَبَتْ نَجَاسَةَ السُّؤْرِ“، ان کے جھوٹھے کے نجس ہونے کو ثابت کر دیا، أَوْجَبَتْ أَيْ أَثْبَتَتْ، ان کے گوشت جب حرام ہے تو ان کا جھوٹھا نجس ہونا چاہیے، یہ گوشت کے حرام ہونے نے ثابت، کیوں؟ کیونکہ گوشت حرام ہے تو اسی سے کیا بنے گا؟ لعاب، اور لعاب ہی کا تو اعتبار ہے جھوٹھے کے اندر تو لعاب بھی نجس، تو جب وہ پانی کے اندر منہ لگائیں گے تو وہ لعاب لگے گا تو لہذا وہ پانی کیا ہوگا؟ نجس۔ تو ان کے گوشت کی حرمت نے وہ ان کے جھوٹھے کے نجس ہونے کو ثابت کیا، ”إِلَّا أَنَّهُ سَقَطَتِ النَّجَاسَةُ لِعِلَّةِ الطَّوَافِ“، مگر یہ کہ وہ نجس ہونا ساقط ہو گیا عِلَّتِ طَوَاف کی وجہ سے، ”فَبَقِيَتِ الْكَرَاهَةُ“، تو کیا باقی رہی؟ کراہت باقی رہی بھئی۔ ”وَالتَّنْبِيهُ عَلَى الْعِلَّةِ فِي الْهِرَّةِ“، یہ سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ کہ آپ کو کہاں سے علم ہوا کہ طواف، چکر لگانا یہ علت ہے نجاست کے ساقط ہونے کی؟ کہ طواف کی وجہ سے نجاست کا حکم کیا ہو جاتا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے، اس کا پتہ کہاں سے چلا؟ تو صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَالتَّنْبِيهُ عَلَى الْعِلَّةِ فِي الْهِرَّةِ“، اور تنبیہ جو ہے اس علت پر بلی میں ہے بھئی، بلی کے بارے میں اس علت پر تنبیہ موجود ہے، خود حدیث کے اندر نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس کی علت بیان فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ“، تو باقاعدہ حدیث کے اندر ہی علت کو ذکر کر دیا گیا بھئی۔ ”وَسُؤْرُ الْحِمَارِ وَالْبَغْلِ مَشْكُوكٌ فِيهِ“۔ حمار گدھا بھئی، بغل خچر بھئی، اور گدھے اور خچر کا جھوٹھا جو ہے ”مَشْكُوكٌ فِيهِ“، وہ کیا ہے؟ وہ مشکوک ہے بھئی۔ ”قِيلَ الشَّكُّ فِي طَهَارَتِهِ“، کہا گیا ہے شک اس کے پاک ہونے میں ہے۔ بھئی متن میں تو صرف اتنا آیا کہ گدھے اور خچر کا جھوٹھا مشکوک ہے، مشکوک ہے۔ اب یہ شک کس چیز کے اندر ہے؟ ایک ہے چیز کا طاہر ہونا، ایک ہے چیز کا مطہر ہونا، طاہر جو خود پاک ہو، مطہر جو دوسرے کو پاک کرنے والی ہو، تو کس چیز میں شک ہے؟ اس کے سُؤْر کے پاک ہونے میں شک ہے یا مطہر ہونے میں شک ہے؟ تو بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ اس کے پاک ہونے میں ہی شک ہے۔ کس میں؟ پاک ہونے ہی میں شک ہے۔ کس طرح؟ کہتے ہیں دیکھیے اگر پاک ہونے میں شک نہ ہوتا تو پاک چیز پانی کے ساتھ مل جائے، آپ نے پڑھا ہے کہ پاک چیز اگر پانی کے ساتھ مل جائے اور تین اوصاف میں سے ایک وصف بدل بھی جائے تو بھی اس پانی کا استعمال کیا ہوتا ہے؟ جائز ہے، اس کے ذریعے پاکی حاصل کی جا، الا یہ کہ وہ چیز پانی پر غالب آ جائے تو پھر اس صورت میں اس کے ذریعے پاکی حاصل کرنا درست نہیں ہوتا۔ تو یہاں پر بھی گدھے نے یا خچر نے پانی پیا تو اس کا لعاب پانی کے ساتھ ملا، اور لعاب پانی کے ساتھ زیادہ ملا ہے یا تھوڑا سا ملا ہے؟ یقینی بات ہے تھوڑا سا ملا ہے، پانی پر غالب تو نہیں آیا، پانی پر تو غالب تو نہیں آیا، تو پاک چیز کس کے ساتھ ملی؟ پاک کے ساتھ اگر ملے تو پانی کو پھر بھی کیا ہونا چاہیے؟ پاک کرنے والا ہونا چاہیے، لیکن یہاں کیا کہا جا رہا ہے؟ مشکوک ہے، مشکوک ہے۔ معلوم ہوا اس کے پاک ہونا ہی مشکوک ہے، جب پاک ہونا مشکوک ہوا تو مطہر ہونا بھی کیا ہو گیا؟ مشکوک ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اگر وہ پاک ہوتا تو پاک چیز پاک چیز کے ساتھ ملی ہے، پھر تو مطہر ہونے میں کوئی شبہ تھا؟ نہیں، اس میں تو کوئی شک ہی نہیں تھا، لیکن معلوم ہوا اس کے پاک ہونے میں ہی شک ہے جبھی تو کہا پانی کے ساتھ ملا ہے تو پانی بھی کیا بن گیا؟ اس کا مطہر، جب طاہر ہونا مشکوک ہوا تو مطہر ہونا بطریقِ اولیٰ کیا ہوا؟ مشکوک ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”قِيلَ الشَّكُّ فِي طَهَارَتِهِ“، کہ شک جو ہے اس کے پاک ہونے میں ہے، ”لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ طَاهِرًا لَكَانَ طَهُورًا“، اسی کیونکہ اگر یہ پاک ہوتا یہ اس کا جھوٹھا ”لَكَانَ طَهُورًا“ تو وہ پاک کرنے والا بھی ہوتا یعنی مطہر بھی ہوتا، ”مَا لَمْ يَغْلِبِ اللُّعَابُ عَلَى الْمَاءِ“ جب تک کہ لعاب پانی پر غالب نہ آ جائے، ”وَقِيلَ الشَّكُّ فِي طَهُورِيَّتِهِ“، اور بعضوں نے کہا کہ اس کا طہور ہونے میں شک ہے، مطہر ہونے میں شک ہے، پاک ہونے میں شک نہیں، پاک تو ہے ہی۔ گدھے اور خچر کا جھوٹھا پاک تو ہے ہی، پاک ہونے میں کوئی شک نہیں، بلکہ شک کس چیز میں ہے؟ مطہر ہونے میں، کہ اس سے کوئی وضو کرے تو پاکی حاصل ہوگی یا پاکی حاصل نہیں؟ تو مطہر ہونے میں شک ہے، پاک ہونے میں شک نہیں ہے۔ ”لِأَنَّهُ لَوْ وَجَدَ الْمَاءَ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ رَأْسِهِ“، اس لیے کیونکہ اگر وہ وضو کرنے والا پانی کو پائے، بھئی ایک شخص ہے، اس نے گدھے یا خچر کے جھوٹھے پانی سے وضو کر لیا، وضو کر لیا۔ چہرہ بھی دھویا، ہاتھ بھی دھوئے، پاؤں بھی دھوئے ہیں اور سر پر مسح بھی کیا ہے۔ اب اس کو پانی پاک بعد میں پانی دوسرا مل گیا، اب اس پانی کے ساتھ جب وہ وضو کرے گا تو ہاتھوں پر پہلے وہ مشکوک پانی لگا تھا، تو جب ہاتھوں کو دھوئے گا تو وہ اثرات اس کے چلے جائیں گے۔ پاؤں کو دھوئے گا پاؤں سے بھی وہ اثرات کیا ہوں گے؟ اس پانی کے اثرات چلے جائیں گے۔ چہرے کو دھوئے گا تو چہرے سے بھی اس مشکوک پانی کے اثرات کیا ہو جائیں گے؟ چلے۔ لیکن سر پر، سر پر تو مسح کیا تھا تو وہ مشکوک پانی سر پر لگا تھا یا نہیں لگا تھا؟ لگا۔ اب مسح کرے گا تو کیا وہ سارے اجزاء چلے جائیں گے؟ جی؟ نہیں۔ تو کیا، کرنا کیا چاہیے؟ جب اس شخص کو اگر اس کے پاک ہونے میں اگر شک ہوتا، یہ فقہاء کی دلیل چل رہی ہے، یہ فرماتے ہیں پاک ہونے میں شک نہیں ہے بلکہ کس چیز میں شک ہے؟ پاک کرنے میں شک، پاک تو ہے ہی ہے، اگر پاک ہونے میں شبہ ہوتا، شک ہوتا تو پھر تو یہ شک اب اس پر سر کا دھونا واجب ہونا چاہیے تھا، لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ اس پر سر کا دھونا واجب نہیں۔ سب کیا فرماتے ہیں؟ اس آدمی پر جس نے پہلے گدھے یا خچر کے جھوٹھے سے مسح کیا تھا اس پر سر کا دھونا واجب نہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ پاک ہونے میں شک تھا ہی نہیں، وہ تھا ہی پاک، ورنہ اس فقہاء کیا فرماتے؟ اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ سر دھونا پڑے گا تاکہ اس پانی کے سارے اثرات چلے جائیں، تو سر اس پر سر کا دھونا واجب نہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پانی پاک تھا۔ ہاں مطہر ہونے میں شک تھا۔ دلیل سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ معلوم ہوا پاک تو تھا ہی کیونکہ اس کو اس پر واجب نہیں ہے سر کا دھونا، ہاں شبہ صرف کس چیز میں شک کس چیز میں تھا؟ پاک کرنے میں بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ لَوْ وَجَدَ الْمَاءَ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ رَأْسِهِ“، اس لیے کیونکہ اگر یہ شخص جس نے لو وجد الماء اگر یہ شخص، وضو کرنے والا، یہ پانی کو پالے، ”لَا يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ رَأْسِهِ“ تو اس پر اپنے سر کا دھونا واجب نہیں ہے۔ ”وَكَذَا لَبَنُهُ طَاهِرٌ“ اور اسی طرح اس کا دودھ بھی جو ہے وہ پاک ہے۔ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں بھئی؟ گدھی کا دودھ پاک ہے۔ یاد رکھیے یہ ایک روایت ہے امام محمد رَحِمَهُ اللَّهُ سے بھئی، لیکن ظاہرِ روایت یہ نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ظاہرِ روایت یہی ہے کہ اس گدھی کا دودھ بھی نجس ہے، ناپاک ہے بھئی۔ ”وَعَرَقُهُ“ را پر فتحہ پڑھیں بھئی۔ ”وَعَرَقُهُ لَا يَمْنَعُ جَوَازَ الصَّلَاةِ“ اور یہ جو گدھے کا پسینہ ہے ”لَا يَمْنَعُ جَوَازَ الصَّلَاةِ“ یہ نماز کے جائز ہونے کو نہیں روکتا۔ ”وَإِنْ فَحُشَ“ اگرچہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ گدھے کا پسینہ یا خچر کا پسینہ یہ جوازِ صلاۃ سے مانع نہیں، یہ اگر کپڑے پر لگے بھی چاہے زیادہ ہی کیوں نہ لگ جائے، پھر بھی اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے بھئی، جائز ہے۔ سمجھ کیونکہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بڑی کثرت سے اس پر سواری فرماتے تھے بھئی۔ تو یقیناً ان کے کپڑوں پر بھی کچھ نہ کچھ لگتا ہوگا بھئی۔ اور تو کہیں یہ ذکر نہیں کہ آپ پھر کپڑے دھوتے ہوں۔ تو معلوم ہوا کہ یہ جوازِ صلاۃ سے مانع نہیں، ”وَإِنْ فَحُشَ“ اگرچہ کثیر ہی کیوں نہ ہو۔ ”فَكَذَا سُؤْرُهُ“ تو اسی طرح اس کا جھوٹا بھی ہے۔ بھئی گدھے اور خچر کا پسینہ اگر کپڑوں پر زیادہ لگ جائے پھر بھی جوازِ صلاۃ سے مانع نہیں، معلوم ہوا پاک ہے۔ معلوم ہوا وہ کیا ہے پسینہ؟ پاک۔ تو کہتے ہیں ”فَكَذَا سُؤْرُهُ“ تو اسی طرح اس کا جھوٹا بھی ہے یعنی وہ بھی پاک ہے۔ یعنی پاک ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، صرف کس چیز میں شک ہے؟ مطہر ہونے میں شک ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَكَذَا سُؤْرُهُ“ اسی طرح اس کا جھوٹا بھی ہے یعنی وہ بھی پاک ہے ”وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے ”وَيُرْوَى نَصُّ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى طَهَارَتِهِ“ اور روایت کی گئی ہے امام محمد رَحِمَهُ اللَّهُ کی تصریح ”عَلَى طَهَارَتِهِ“ اس کے پاک ہونے پر۔ امام محمد رَحِمَهُ اللَّهُ نے تو صراحۃً اس کے پاک ہونے کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کا جھوٹا کیا ہے؟ پاک ہے بھئی۔ آگے بیان فرما رہے ہیں کہ یہ شک کی وجہ کیا ہے؟ سُؤْرِ حمار اور سُؤْرِ بغل کو مشکوک قرار دیا گیا کہ ان کا مطہر ہونا مشکوک ہے۔ بھئی کیوں؟ شک اس میں کیوں ہے؟ وجہ اس کی یہ کہ یہاں پر دراصل دونوں طرح کے دلائل موجود ہیں۔ بعض دلائل سے اس کی اباحت کا پتہ چلتا ہے، بعض دلائل سے حرمت کا پتہ چلتا ہے، اب کسی ایک کو بھی ہم ترجیح نہیں دے سکے، ترجیح دینے کی کوئی صورت نہیں تھی تو لہٰذا اس کو کیا قرار دیا گیا؟ مشکوک قرار دیا گیا۔ تو سببِ شک کیا ہے؟ تَعَارُضِ أَدِلَّة۔ ادلہ کے اندر کیا آیا؟ تعارض آیا۔ مختلف بعض سے اباحت کا پتہ چل رہا ہے تو بعضوں سے حرمت کا پتہ چل رہا ہے، اس وجہ سے شک ہے بھئی۔ یا سببِ شک جو ہے وہ صحابہ کا آپس میں اختلاف ہے بھئی۔ بعض صحابہ اس کو نجس قرار دیتے ہیں، بعض اس کو پاک قرار دیتے ہیں، تو لہٰذا اس کو کیا قرار دیا گیا؟ مشکوک قرار دیا گیا۔ کہتے ہیں ”وَسَبَبُ الشَّكِّ تَعَارُضُ الْأَدِلَّةِ فِي إِبَاحَتِهِ وَحُرْمَتِهِ“ اور شک کا سبب جو ہے وہ دلیلوں کا آپس میں مقابل ہونا ہے اس کے مباح ہونے میں اور اس کے حرام ہونے میں ”أَوِ اخْتِلَافُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ فِي نَجَاسَتِهِ وَطَهَارَتِهِ“ یا شک کا سبب جو ہے وہ صحابہ کا اختلاف ہے اس کے نجس ہونے میں اور اس کے پاک ہونے میں۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ نَجِسٌ تَرْجِيحًا لِلْحُرْمَةِ وَالنَّجَاسَةِ“ اور امام ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللَّهُ سے روایت ہے کہ ان کا جو جھوٹا ہے وہ نجس ہے، ناپاک ہے ”تَرْجِيحًا لِلْحُرْمَةِ وَالنَّجَاسَةِ“ ترجیح دیتے ہوئے حرمت اور نجاست کو۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ دونوں طرح کی دلیلیں موجود ہیں۔ بعض دلیلوں سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ پاک ہونے کا، بعض دلائل سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ حرام ہونے کا اور فقہ کا ضابطہ ہے کہ جب اباحت اور حرمت والی دلیلیں جمع ہو جائیں تو حرمت والی دلائل کو ترجیح ہوتی ہے، جانبِ حرمت کو ترجیح ہوتی ہے۔ کس کو؟ جانبِ حرمت کو۔ بھئی دیکھیے دو دلیلیں آپ کے پاس آئیں۔ ایک دلیل سے پتہ چل رہا ہے اس چیز کے پاک ہونے کا، دوسری دلیل سے پتہ چل رہا ہے اس کے نجس ہونے کا، ناپاک ہونے کا۔ اگر آپ پاک ہونے والی دلیل پر عمل کرتے ہیں اور اس چیز کو استعمال کر لیتے ہیں تو ہو سکتا ہے وہ اصل میں وہ چیز ناپاک ہو، تو آپ نے کس چیز کو گویا استعمال کر لیا؟ ناپاک۔ آپ نے تو دلیل کو دیکھنا ہے حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں بھئی پوری۔ تو آپ نے دلیل... تو ہو سکتا ہے وہ چیز کیا ہو؟ ناپاک ہو، تو آپ... لیکن اگر آپ حرمت والی جانب پہ عمل کرتے ہیں اور اس چیز سے اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں تو اس صورت میں کوئی نقصان نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک مباح چیز کے استعمال سے رک گئے آپ بھئی۔ تو لہٰذا جب اباحت اور حرمت میں تعارض آئے تو کس دلیل کو ترجیح، کس کو ترجیح ہوتی ہے؟ حرمت۔ اسی لیے امام ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں ”أَنَّهُ نَجِسٌ“ کہ یہ کیا ہے؟ نجس ہے، ناپاک ہے ”تَرْجِيحًا لِلْحُرْمَةِ وَالنَّجَاسَةِ“ ترجیح دیتے ہوئے حرمت اور نجس ہونے کو۔ ”وَالْبَغْلُ مِنْ نَسْلِ الْحِمَارِ“ یہ تو سارا گدھے کا بیان تھا، خچر کا بھی یہی حکم ہے یہ آگے بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَالْبَغْلُ مِنْ نَسْلِ الْحِمَارِ“ اور خچر جو ہے وہ بھی گدھے کی نسل سے ہے ”فَيَكُونُ بِمَنْزِلَتِهِ“ تو یہ بھی اسی کے درجے میں ہے یعنی اس کا بھی وہی حکم ہے۔ ”فَإِنْ لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُمَا يَتَوَضَّأُ بِهِمَا وَيَتَيَمَّمُ وَيَجُوزُ أَيَّهُمَا قَدَّمَ“ بھئی ایک آدمی ہے اب اس کے پاس صرف ایسا پانی ہے جس سے گدھے یا خچر نے منہ لگایا ہے اور کوئی پانی نہیں، اب کیا کرے؟ تو اگر اور پانی موجود ہے پھر تو اور پانی سے وضو کرنا چاہیے لیکن اگر اور پانی موجود نہیں یہی پانی ہے، تو اس صورت میں فقہاء فرماتے ہیں کہ اس پانی سے وضو بھی کرے اور پھر تیمم بھی کرے اور اس کے بعد پھر نماز وغیرہ پڑھ لے بھئی۔ اور پھر وضو اور تیمم یعنی دونوں کو جمع کرنا پڑے گا۔ دونوں کو کیا کرنا پڑے گا؟ وضو بھی اور تیمم بھی۔ پھر ان میں سے جس کو پہلے کرنا چاہے کر سکتا ہے، چاہے تو پہلے تیمم کر لے اور پھر اس پانی سے وضو کر لے اور چاہے تو پہلے وضو کر لے اور پھر اس کے بعد کیا کر لے؟ تیمم کر لے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُمَا“ اگر نہ پائے ان کے علاوہ کوئی پانی ”يَتَوَضَّأُ بِهِمَا وَيَتَيَمَّمُ“ تو وضو کرے ان کے ساتھ اور تیمم کرے ”وَيَجُوزُ أَيَّهُمَا قَدَّمَ“ اور جائز ہے کہ جس کو بھی چاہے ان دونوں میں سے مقدم کر دے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَجُوزُ إِلَّا أَنْ يُقَدِّمَ الْوُضُوءَ“ امام زفر رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں جائز نہیں ہے مگر یہ کہ وضو کو مقدم کرے۔ امام زفر رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں بھئی امام اعظم ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللَّهُ کے بڑے شاگردوں میں سے اور بلکہ قیاس کے اندر سب سے زیادہ ماہر امام زفر رَحِمَهُ اللَّهُ، وہ وہ فرماتے ہیں دونوں کو جمع تو کرے گا لیکن پھر ترتیب بھی ضروری ہے، پہلے وضو کرنا پڑے گا پھر اس کے بعد تیمم کرے گا۔ تیمم پہلے کرے وضو بعد میں کرے یہ درست نہیں ہے بھئی، درست نہیں۔ دلیل کیا؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ مَاءٌ وَاجِبُ الِاسْتِعْمَالِ فَأَشْبَهَ الْمَاءَ الْمُطْلَقَ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسا پانی ہے جو واجب الاستعمال ہے تو یہ مشابہ ہوا ماء مطلق کے۔ عجیب دلیل ہے امام زفر کی بھئی۔ امام زفر فرماتے ہیں دیکھیے! آپ کے پاس گدھے یا خچر کا جھوٹا پانی ہے اور کوئی پانی نہیں، کیا حکم شریعت نے بتلایا بھئی؟ فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ وضو بھی کرنا پڑے گا اور تیمم بھی کرنا پڑے گا، تیمم بھی کرنا پڑے گا۔ تو گویا اس پانی کو سے وضو کرنا اب ضروری ہوا یا نہ ہوا؟ تیمم تو کرنا ہی ہے لیکن اس پانی سے وضو بھی کرنا ضروری ہوا یا نہ ہوا؟ تو یہ ایسا پانی ہے جو واجب الاستعمال ہے، اس کا استعمال کرنا کیا ہے؟ واجب ہے۔ جب اس کا استعمال واجب ہے تو یہ ماء مطلق کے مشابہ ہو گیا۔ کس کے مشابہ ہو گیا؟ ماء مطلق۔ بھئی آپ کے پاس پانی موجود ہو تو آپ تیمم کر سکتے ہیں؟ جی؟ تو جب ماء مطلق ہوتا ہے تیمم کی اجازت نہیں ہوتی، تو یہاں پر بھی یہ پانی بھی ایسا ہے جس کا استعمال شریعت نے واجب قرار دے دیا تو یہ واجب الاستعمال پانی ہوا اور تو یہ ماء مطلق کے مشابہ ہو گیا اور ماء مطلق کے ہوتے ہوئے تیمم کی اجازت نہیں، لہٰذا پہلے اس کو استعمال کرو وضو کر لو بھئی۔ اب کیا کر لیا آپ نے؟ وضو کر لیا، اب کیا کر لو؟ تیمم بھی کر لو۔ دلیل سمجھ میں آئی کہ اوپر سے گزر گئی بھئی؟ وہ فرماتے ہیں کہ جب پانی ہوتا ہے اس وقت تیمم کی اجازت نہیں ہوتی، تو یہاں بھی اس وقت پانی موجود ہے اور فقہاء فرماتے ہیں اس سے وضو بھی کرو اور تیمم بھی کرو، معلوم ہوا یہ پانی بھی واجب الاستعمال ہے۔ جب یہ واجب الاستعمال ہے تو یہ کس کے مشابہ ہوا؟ ماء مطلق کے، اور ماء مطلق کے ہوتے ہوئے تو تیمم نہیں کیا جاتا، لہٰذا پہلے ماء مطلق کی طرح اس سے بھی کیا کر لو؟ اس سے وضو کر لو، اس کو پہلے، پھر اس کے بعد کیا کر لو؟ تیمم کر لو بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ مَاءٌ وَاجِبُ الِاسْتِعْمَالِ“ کیونکہ یہ ایسا پانی ہے جو واجب الاستعمال ہے یعنی جس کا استعمال واجب ہے ”فَأَشْبَهَ الْمَاءَ الْمُطْلَقَ“ تو یہ ماء مطلق کے مشابہ ہوا ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ بھئی ”أَنَّ الْمُطَهِّرَ أَحَدُهُمَا“ ہم نے کہا کہ وضو بھی کرنا پڑے گا اور تیمم بھی کرنا پڑے گا، وجہ اس کی یہ کہ دونوں طرف کے دلائل موجود ہیں آپ نے پڑھا۔ بعضوں سے اس کا نجس نجس ہونا پتہ چل رہا ہے، بعضوں سے اس کا طاہر ہونا پتہ چل رہا ہے، تو اب پتہ نہیں وضو کریں گے وضو اس سے ہوگا یا نہیں لہٰذا فقہاء فرماتے ہیں ساتھ تیمم بھی کر لو۔ تو دونوں میں سے کسی ایک سے تو پاکی ضرور حاصل ہو جائے گی، اگر یہ طاہر تھا تو اسی سے پاکی حاصل ہو گئی بعد میں تیمم کر بھی لیا کوئی حرج نہیں پاکی تو پہلے سے ہی حاصل ہے۔ صورت سمجھ؟ اور اگر پاکی حاصل یہ پاک نہیں ہے تو پھر پاکی کس سے حاصل ہو جائے گی؟ تیمم سے حاصل ہو جائے گی، تو دونوں میں سے کسی ایک سے پاکی ضرور حاصل ہو جائے گی۔ دونوں میں سے ایک مطہر ہے، دونوں میں سے ایک مطہر بنے گا تو لہٰذا جمع کرنے کا تو فائدہ ہوگا، ترتیب کا کوئی فائدہ ہی نہیں یہاں پر۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ بھئی دونوں مطہر ہیں یا دونوں میں سے ایک چیز مطہر ہوگی؟ ایک چیز، تو لہٰذا دونوں کرو، جمع کرنے کا فائدہ ہوگا یا نہیں؟ صرف اگر وضو کرو گے تو پتہ نہیں اس سے پاکی حاصل ہوئی، لیکن جب دونوں کر لو گے اب یقینی بات ہے کیا حاصل ہو گئی؟ پاکی۔ تو جمع کرنے کا تو فائدہ ہے، دونوں کرو تاکہ پاکی حاصل ہو جائے کسی ایک سے۔ لیکن ترتیب، وضو پہلے کر لو یا تیمم پہلے کر لو، اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ دونوں میں سے ایک سے پاکی حاصل ہونی ہے اب چاہے پہلے تیمم کر لو، اس سے پاکی حاصل ہو گئی بھئی، اور اگر پہلے وضو کر لیا، بل بلکہ یوں کرو صورتیں بناؤ۔ پہلے کیا کیا؟ وضو، پھر اس کے بعد کیا کیا؟ تیمم۔ تو اگر پہلے وضو سے پاکی حاصل ہوئی ہے، پہلے وضو کیا ہے تو تیمم بیکار گیا کوئی حرج نہیں بیکار گیا، اور اگر وضو سے پاکی حاصل نہیں ہوئی تو بعد میں تیمم کرو گے اس سے کیا حاصل ہو جائے گی؟ پاکی حاصل۔ اس کا عکس کر لو، پہلے تیمم کیا پھر اس کے بعد کیا کیا؟ وضو، اس میں بھی دونوں صورتوں میں، اگر تیمم سے پاکی حاصل ہو رہی ہے تو بعد میں وضو بیکار ہوا کوئی حرج نہیں، اور اگر تیمم سے پاکی حاصل نہیں ہوئی کیونکہ یہ پانی تو پاک ہے تو پھر اس کے بعد پانی استعمال کرو گے اس سے کیا حاصل ہو جائے گی؟ پاکی حاصل ہو جائے گی۔ تو لہٰذا دونوں کو جمع کرنے میں تو فائدہ ہے کیونکہ ایک نے مطہر بننا ہے، ہمیں نہیں پتہ کون مطہر بنے گا، تو دونوں کرو دونوں، لیکن ترتیب کا کوئی فائدہ ہوگا؟ ایک چیز نے بیکار جانا ہے وہ چاہے پہلے والی بیکار ہو چاہے بعد والی ہو، اس سے تو کوئی حرج نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ معنی ہے ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ”أَنَّ الْمُطَهِّرَ أَحَدُهُمَا“ کہ مطہر دونوں میں سے ایک ہے ”فَيُفِيدُ الْجَمْعُ دُونَ التَّرْتِيبِ“ تو جمع کرنا یہ فائدہ دے گا دون الترتیب، ترتیب کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ ”وَسُؤْرُ الْفَرَسِ طَاهِرٌ عِنْدَهُمَا“ اور گھوڑے کا جھوٹا جو ہے وہ پاک ہے صاحبین رَحِمَهُمَا اللَّهُ کے نزدیک ”لِأَنَّ لَحْمَهُ مَأْكُولٌ“ اس لیے کیونکہ اس کا گوشت جو ہے وہ کھایا جاتا ہے۔ صاحبین کے نزدیک گھوڑا حلال ہے۔ ”وَكَذَا عِنْدَهُ فِي الصَّحِيحِ“ اور اسی طرح امام صاحب کے نزدیک بھی ہے صحیح قول کے مطابق۔ یاد رکھیے امام صاحب سے گھوڑے کے بارے میں کئی روایات ہیں، کئی روایات ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ صحیح امام صاحب کے نزدیک صحیح قول کے مطابق گھوڑا کیا ہے؟ حلال ہے۔ البتہ وہ اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں اس کے گوشت کو، لیکن مکروہ جو قرار دیتے ہیں وہ نجاست وغیرہ کی وجہ سے نہیں، حلال ان کے نزدیک بھی ہے لیکن مکروہ قرار دیتے ہیں اس کی عظمت کی وجہ سے، اس کی شرافت کی وجہ سے، اس کے احترام کی وجہ سے کہ گھوڑا بڑا محترم جانور ہے حتیٰ کہ جہاد کے اندر بہت زیادہ کام آنے والا ہے، لہٰذا اس کا گوشت مکروہ ہے بھئی، اس کا احترام کیا جائے بھئی، اس کو ذبح وغیرہ نہ کیا جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو امام صاحب بھی جو مکروہ قرار دیتے ہیں وہ اس کے احترام کی وجہ سے مکروہ قرار دیتے ہیں نجس وغیرہ ہونے کی وجہ سے نہیں۔ تو صاحبین کے نزدیک گھوڑ گھوڑا کیا ہوا؟ حلال، تو اس کا حلال جو جانور ہوتا ہے اس کا جھوٹا بھی کیا ہوتا ہے؟ حلال ہوتا ہے تو وہ پاک ہوگا۔ اور امام صاحب کے نزدیک اس کا گوشت تو تھا مکروہ لیکن وہ کس وجہ سے تھا؟ احترام کی وجہ سے تھا، تو لہٰذا ان کے نزدیک بھی اس کا جھوٹا کیا ہوگا؟ پاک ہی ہوگا بھئی، وہ جو مکروہ تھا مکروہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ کراہت تو صرف کس وجہ سے تھی؟ احترام کی وجہ سے تھی، جیسے آپ نے پڑھا آدمی کی کھال وغیرہ اس کو کام میں لانا درست نہیں، وہ کس وجہ سے؟ نجس ہونے کی وجہ سے یا احترام کی وجہ سے؟ احترام، تو یہاں بھی اسی طرح وہ مکروہ جو کہا گیا وہ احترام کی وجہ سے تھا تو ان کے نزدیک بھی اس کا جھوٹا پاک ہے بھئی۔ ”وَكَذَا عِنْدَهُ فِي الصَّحِيحِ“ اور اسی طرح امام صاحب کے نزدیک بھی ہے صحیح قول کے مطابق ”لِأَنَّ الْكَرَاهَةَ لِإِظْهَارِ شَرَفِهِ“ اس لیے کیونکہ مکروہ ہونا جو ہے وہ اس کے شرف کو، اس کی عظمت کے ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ ”فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا نَبِيذَ التَّمْرِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَتَوَضَّأُ بِهِ وَلَا يَتَيَمَّمُ“ اب نبیذِ تمر کی بات کر رہے ہیں۔ بھئی یہاں ذکر تو چل رہا ہے اسئار کا، مختلف حیوانات کا جو جھوٹا ہوتا ہے اس کا حکم، لیکن نبیذِ تمر یہ بھی ایسا پانی جس میں دوسری چیز مل گئی ہے اور پھر اس کے اندر بھی جیسے گدھے اور خچر کے جھوٹے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ وضو اور تیمم دونوں کو جمع کیا جائے، اسی طرح اس مسئلے میں بھی امام محمد رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں بطورِ احتیاط کے دونوں چیزیں جمع کی جائیں، نبیذ سے وضو بھی کیا جائے اور ساتھ ساتھ کیا کر لیا جائے؟ تیمم بھی کر لیا جائے تو اس مناسبت کی وجہ سے اس کو یہاں پر ذکر کیا گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ لَمْ يَجِدْ“ ”فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا نَبِيذَ“ نبیذ بھئی، نبیذ فَعِيلٌ وزن ہے بھئی، فَعِيلٌ وزن اور نَبْذٌ سے ہے، نَبْذٌ سے، نون، با، ذال، نَبْذٌ، نَبْذٌ کا معنی ہوتا ہے پھینکنا، پھینکنا۔ اور یہ بھی وہ پانی جس میں کوئی کھجور، کشمش یا انجیر وغیرہ اس طرح کی چیزیں، عرب کا طریقہ تھا وہ یہ پانی میں ڈال دیتے تھے بھئی، پانی تو پانی کے اندر ان کی مٹھاس آ جاتی اور زیادہ عرصہ رکھیں تو اس میں نشہ بھی وغیرہ بھی بعض صورتوں میں آ جاتا تو اس کو وہ نبیذ کہتے۔ تو یہ نبیذ نَبْذٌ سے ہے، نَبْذٌ سے اور ”أَيِ الْمَاءُ الْمَنْبُوذُ فِيهِ التَّمْرُ“ وہ پانی کہ پھینکی گئی ہیں جس کے اندر کھجوریں، ”الْمَاءُ الْمَنْبُوذُ فِيهِ التَّمْرُ“ یا کھجوریں یا اور جس چیز کی ہے وہ چیز اس میں یعنی ڈالی گئی ہے۔ جی یہ تو نبیذ لفظ کی تحقیق تھی بھئی۔ تو نبیذ میں نے بتلایا عرب کا طریقہ تھا وہ کیا کرتے؟ پانی میں کھجوریں وغیرہ یا کشمش وغیرہ یا انجیر اس طرح کی چیزیں پانی میں ڈال کر رکھتے تھے اور وہ کافی دیر تک پڑی رہتیں تو پانی کے اندر ان کی مٹھاس آ جاتی اور بعض صورتوں میں پانی کے اندر نشہ بھی پیدا ہو جاتا، وہ اس کو استعمال کرتے تھے اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ نبیذ کہتے ہیں، نبیذ بھئی۔ تو اب یہاں نبی باقی نبیذوں کی بات نہیں ہو رہی، نبیذِ تمر کی بات ہو رہی ہے بھئی، کھجور کی جو نبیذ ہے۔ یاد رکھیے یہ بھی نبیذ اس میں پھر تین صورتیں ہیں، تین صورتیں۔ ایک صورت یہ کہ کھجوریں پانی میں ڈالیں اور ابھی پانی میں مٹھاس بھی نہیں آئی، تو اس صورت میں بالاتفاق اس سے وضو جائز ہے بھئی۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ کھجوریں ڈالیں اور مٹھاس آئی، مٹھاس کے بعد پھر کچھ کڑواہٹ آئی اور نشہ بھی آگیا، اس صورت میں بالاتفاق اس کا استعمال جائز نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور تیسری صورت کہ پانی میں صرف مٹھاس آئی ہے اور پانی پتلا ہے، بہنے والا ہے، تو اس میں اختلاف ہے اور اس کی تفصیل یہاں بیان ہوگی۔ جس میں مٹھاس بھی نہ آئی ہو اس میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں سب کے نزدیک استعمال کر سکتے ہیں۔ جس میں نشہ آ جائے اس میں تو استعمال نہیں کر سکتے۔ ہاں جس میں صرف مٹھاس آئی ہے اور پانی اسی طرح پتلا ہے، صرف مٹھاس آئی ہے، بہنے والا ہے تو اس کے میں اختلاف ہے اور وہ ذکر ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا نَبِيذَ التَّمْرِ“ اور اگر وہ وضو کرنے والا نہ پائے مگر صرف نبیذِ تمر ”قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَتَوَضَّأُ بِهِ وَلَا يَتَيَمَّمُ“ امام صاحب فرماتے ہیں اس سے وضو کرے اور تیمم نہ کرے بھئی، صرف کیا کر لے؟ وضو کر لے، یہ ماء مطلق کی طرح ہی ہے۔ ”لِحَدِيثِ لَيْلَةِ الْجِنِّ“ لیلۃ الجن کی حدیث کی وجہ سے، ”فَإِنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ“ لیلۃ الجن بھئی، نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جنات کو تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے بھئی، جنات کو تبلیغ کے لیے، اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ جن پر فقہِ حنفی کی کا مدار اور بنیاد ہے کہ امام صاحب انہی کے اقوال کو، انہی کے اقوال وغیرہ کو لیتے ہیں بھئی، وہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ جلیل القدر صحابی، وہ حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ہمراہ تھے۔ تو ایک مقام پر جب پہنچے تو حضور علیہ السلام نے ان کے گرد ایک خط کھینچا، ایک لکیر لگائی زمین پر اور ان سے فرمایا اس لکیر سے باہر نہ نکلنا۔ بعض روایات میں آتا ہے یہ فرمایا کہ اگر اس لکیر سے باہر نکلے تو قیامت تک تمہاری میرے ساتھ ملاقات نہیں ہوگی اور پھر ان کو وہاں چھوڑ کر تھوڑا سا آگے تشریف لے گئے اور جنات سے کو وعظ فرمایا، ان کے سامنے تقریر فرمائی، ان کو ایمان کی دعوت دی، قرآن کی تلاوت ان کے سامنے فرمائی بھئی، قرآن کی آیات سنائیں انہیں، تو یہ ہے لیلۃ الجن۔ اس میں پھر حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صبح جب طلوع ہو گئی، فجر طلوع، فجر جب طلوع ہو گئی حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تشریف لائے اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ سے فرمانے لگے کہ کچھ پانی ہے وضو کر لیں، تو وہ فرمانے لگے پانی تو نہیں ہے ہاں یہ نبیذِ تمر ہے۔ حضور علیہ السلام فرمانے لگے ”تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ“ بھئی کہ پاکیزہ کھجور ہے ”وَمَاءٌ طَهُورٌ“ اور پاک کرنے والا پانی ہے، چنانچہ حضور علیہ السلام نے پھر اسی نبیذِ تمر سے وضو فرمایا، اسی نبیذِ تمر سے وضو فرمایا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں بھئی کہ یہ لیلۃ الجن کی جو حدیث ہے اس میں اس میں ثابت ہے کہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے نبیذِ تمر سے وضو فرمایا ہے۔ معلوم ہوا جب نبیذِ تمر موجود ہو تو پھر تیمم کی اجازت نہیں بلکہ اسی سے کیا کیا جائے گا؟ وضو کیا جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہتے ہیں ”لِحَدِيثِ لَيْلَةِ الْجِنِّ“ لیلۃ الجن کی حدیث کی وجہ سے ”فَإِنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَوَضَّأَ بِهِ حِينَ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ“ بیشک حضور علیہ السلام نے اس نبیذِ تمر سے وضو فرمایا جس وقت اور جس وقت پانی کو نہ پایا ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَتَيَمَّمُ وَلَا يَتَوَضَّأُ بِهِ“ امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں تیمم کرے اور وضو اس سے نہ کرے۔ امام صاحب تو کیا فرما رہے تھے؟ وضو کرے، تیمم نہ کرے۔ امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں تیمم کرے، وضو نہ کرے ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت امام اعظم ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللَّهُ سے بھی ہے ”وَبِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ“ اور یہی قول کس کا ہے؟ امام شافعی رَحِمَهُ اللَّهُ کا ہے بھئی ”عَمَلًا بِآيَةِ التَّيَمُّمِ“ عمل کرتے ہوئے آیتِ تیمم پر ”لِأَنَّهَا أَقْوَى“ کیونکہ وہ زیادہ قوی ہے۔ کس پر عمل کیا؟ آیتِ تیمم پر بھئی۔ آیتِ تیمم میں کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں ”فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا“ تو کہ اگر تم لوگوں کو پانی نہ ملے تو پھر کیا کر لو؟ پاک مٹی سے تیمم کر لو، پانی نہ ملے، وہاں صرف پانی کا ذکر ہے۔ اور یہ جو ہے یہ تو نبیذ ہے، اس کا تو نام ہی الگ ہے، اس کو تو پانی کوئی نہیں کہتا بلکہ کیا کہتے ہیں؟ نبیذ۔ اسی لیے تو حضور علیہ السلام نے آ کر پوچھا پانی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ کیا ہے؟ نبیذ ہے۔ معلوم ہوا اس کو کوئی پانی نہیں کہتا بلکہ کیا کہتے ہیں؟ نبیذ کہتے ہیں۔ تو اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ نبیذ سے وضو کرنا جائز، اور آیت سے پتہ چل رہا ہے کہ ماء مطلق نہ ہو، پانی نہ ہو تو پھر وضو جائز نہیں، کیا کرنا پڑے گا؟ تیمم۔ تو صرف نبیذ ہے تو پانی تو نہیں ہے، جب پانی نہیں ہے تو کیا کرنا پڑے گا؟ تیمم۔ تو ایک طرف آیت ہے، ایک طرف حدیث ہے اور ک کیا زیادہ قوی کون؟ آیت، تو آیت قوی ہے، وہ زیادہ قوی ہے حدیث کے مقابلے میں لہٰذا کس پر عمل کیا امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ نے؟ آیت پر عمل کیا کیونکہ وہ زیادہ قوی ہے حدیث کے مقابلے میں۔ ”أَوْ هُوَ مَنْسُوخٌ بِهَا“ یا وہ حدیث منسوخ ہے اس آیت کی وجہ سے ”لِأَنَّهَا مَدَنِيَّةٌ“ کیونکہ یہ آیت مدنی ہے، مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے ”وَلَيْلَةُ الْجِنِّ كَانَتْ بِمَكَّةَ“ اور لیلۃ الجن یہ کہاں پیش آئی تھی؟ یہ مکہ میں تھی۔ تو یا تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ نے وہ فرماتے ہیں کہ وضو کرے نہیں، وہ فرماتے ہیں تیمم کرے اور وضو نہ کرے۔ یا تو اس وجہ سے کہ وہ عمل فرماتے ہیں آیت پر کیونکہ آیت حدیث کے مقابلے میں زیادہ قوی ہے، یا اس وجہ سے وہ تیمم کے بار حکم دیتے ہیں کیونکہ یہ جو حدیث ہے یہ آیتِ تیمم سے منسوخ ہے باقاعدہ، کیونکہ یہ لیلۃ الجن کا واقعہ مکہ میں پیش آیا اور پھر اس کے بعد یہ جو تیمم والی آیت ہے یہ تو مدینہ منورہ کا واقعہ ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے، تو یہ مدنی ہے اور معلوم ہوا اس آیت نے اس نبیذِ تمر سے جوازِ وضو کے حکم کو کیا کر دیا؟ منسوخ کر دیا بھئی۔ اس آیت میں تو نبیذ کا ذکر نہیں، اس میں تو ہے پانی نہ ملے تو کیا کرو؟ تیمم کرو، ورنہ اگر وہ حکم باقی ہوتا تو نبیذ کا بھی ساتھ ذکر ہوتا لیکن نبیذ کا ذکر نہیں، معلوم ہوا اس آیت نے اس حدیث کو منسوخ کر دیا ہے۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَتَوَضَّأُ بِهِ وَيَتَيَمَّمُ“ امام محمد رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں تیمم بھی کرے اور وضو بھی کرے، دونوں چیزوں کو جمع کرے بھئی ”لِأَنَّ فِي الْحَدِيثِ اضْطِرَابًا“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حدیث کے اندر اضطراب ہے۔ امام محمد رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں حدیث کے اندر اضطراب ہے، حدیث کی مختلف طریقوں سے روایت کی گئی ہے، بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ لیلۃ الجن میں حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ کوئی صحابی نہیں تھا، بعض سے پتہ چلتا ہے کہ صحابی تھے ساتھ ایک، اور پھر بعضوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ساتھ تھے، بعضوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت زبیر رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ہمراہ تھے، تو حدیث کے اندر اضطراب ہے، اضطراب ہے۔ اور نیز اس اس کی تاریخ میں بھی جہالت ہے بھئی۔ اگر بھئی دیکھیے ادھر، لیلۃ الجن کا واقعہ پہلے کا ہو اور تیمم والی آیت بعد میں مانی جائے تو پھر کیا کہیں گے؟ کہ آیت نے اس نبیذِ تمر سے جوازِ وضو کے حکم کو کیا کر دیا؟ منسوخ کر دیا۔ اور اگر آیت پہلے ہے اور حدیث کیا ہے؟ واقعہ بعد کا ہے، بعد میں حضور نبیذِ تمر سے وضو فرما رہے ہیں، معلوم ہوا کہ نبیذِ تمر سے بھی وضو کرنا جائز ہوگا، ماء مطلق کے ساتھ ساتھ نبیذِ تمر بھی یعنی وہ بھی ماء مطلق کے حکم میں داخل ہے بھئی۔ اگر یہ پتہ ہو کہ حدیث پہلے کی ہے آیت بعد کی ہے تو بھی ہم کوئی حکم بتلائیں، یا یہ پتہ ہو کہ آیت پہلے کی ہے اور حدیث بعد کی ہے تو بھی ہم کوئی متعین صورت ذکر کر دیں لیکن یہاں تو تاریخ میں جہالت ہے، پتہ ہی نہیں ہے کس وقت یہ واقعہ پیش آیا، آیتِ تیمم سے پہلے کا واقعہ ہے یا آیتِ تیمم کے بعد کا واقعہ ہے، تو لہٰذا کوئی چیز طے نہیں کی جا سکتی، لہٰذا دونوں چیزیں پر عمل کر لے احتیاطاً، وضو بھی کر لے اگر اس سے وضو جائز ہے تو وضو ہو جائے گا، بعد میں تیمم بھی کر لے وہ تیمم بیکار چلا جائے گا کوئی حرج نہیں بیکار چلا جائے، اور اگر آیت بعد میں نازل ہوئی ہے تو معلوم ہوا نبیذِ تمر سے وضو کا حکم منسوخ ہو چکا ہے تو پھر اس صورت میں وضو کر بھی لے گا اس سے تو وضو تو نہیں ہوگا لیکن پھر بعد میں کیا کر لے گا ساتھ ہی؟ تیمم کر لے گا تو پاکی حاصل ہو جائے گی، تو دونوں پر بطورِ احتیاط کے عمل کر لے۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَتَوَضَّأُ بِهِ وَيَتَيَمَّمُ“ اس سے وضو بھی کرے اور تیمم بھی کرے ”لِأَنَّ فِي الْحَدِيثِ اضْطِرَابًا“ اس لیے کیونکہ حدیث کے اندر اضطراب ہے ”وَفِي التَّارِيخِ جَهَالَةٌ“ اور تاریخ میں کیا ہے؟ جہالت ہے، اس کا پتہ نہیں کب کب کا یہ واقعہ ہے ”فَوَجَبَ الْجَمْعُ احْتِيَاطًا“ تو واجب ہوا ان دونوں کو جمع کرنا بطورِ احتیاط کے۔ ”قُلْنَا“ ہم جواب دیتے ہیں ”لَيْلَةُ الْجِنِّ كَانَتْ غَيْرَ وَاحِدَةٍ فَلَا يَصِحُّ دَعْوَى النَّسْخِ“ امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللَّهُ ان کی دلیل میں ذکر ہوا تھا کہ یہ لیلۃ الجن کی جو حدیث ہے یہ منسوخ ہے کس کی وجہ سے؟ آیت کی وجہ سے، صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں ان کے استدلال کا کہ ”لَيْلَةُ الْجِنِّ كَانَتْ غَيْرَ وَاحِدَةٍ“ وہ ایک کے علاوہ تھیں یعنی کئی مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ حضور علیہ السلام جنات کو وعظ کے لیے تشریف لے گئے۔ یاد رکھیے علماء لکھتے ہیں کہ چھ مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا، بعض مرتبہ حضور علیہ السلام اکیلے تشریف لے گئے، بعض مرتبہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ساتھ تھے اور بعض مرتبہ کون تھے؟ حضرت زبیر رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حضور کے ساتھ تھے بھئی۔ تو لہٰذا لیلۃ الجن وہ ایک کے علاوہ ہے یعنی کئی مرتبہ واقعہ ہے ”فَلَا يَصِحُّ دَعْوَى النَّسْخِ“ لہٰذا یہاں نسخ کا دعویٰ صحیح نہیں۔ کچھ واقعات چند مرتبہ تو مکہ میں تشریف لے گئے اور چند مرتبہ مدینہ میں تشریف لے گئے تو آیت بھی مدنی اور لیلۃ الجن کا واقعہ بھی کون سا؟ مدینہ کا، تو لہٰذا اس کے منسوخ کرنے کا دعویٰ صحیح نہیں ہے۔ ”وَالْحَدِيثُ مَشْهُورٌ“ اور حدیث جو ہے یہ لیلۃ الجن والی یہ حدیث مشہور ہے ”عَمِلَتْ بِهِ الصَّحَابَةُ“ اور اس پر صحابہ نے عمل کیا ہے، یہ مشہور حدیث ہے اور صحابہ نے کیا کیا ہے اس پر؟ عمل کیا ہے، وہ بھی نبیذ سے وضو کو جائز قرار دیتے رہے ہیں ”وَبِمِثْلِهِ يُزَادُ عَلَى الْكِتَابِ“ اور اس قسم کی حدیث کے ذریعے زیادتی کی جاتی ہے کتاب اللہ پر، زیادتی کی جا سکتی ہے کس پر؟ کتاب اللہ پر۔ یعنی اس حدیث کے ذریعے کتاب اللہ کیونکہ یہ حدیث حدیثِ مشہور ہے اس کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی کرنا جائز ہے، تو گویا کتاب اللہ میں یوں کہا گیا ”فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً“ اگر تم پانی نہ پاؤ ”وَنَبِيذَ التَّمْرِ“ اور نبیذِ تمر نہ پاؤ تو پھر کیا کر لو؟ تیمم کر لو۔ یہ جو ہم نے نبیذِ تمر کے بھی بڑھا دیا یہ کس وجہ سے بڑھایا؟ حدیثِ مشہور کی وجہ سے اور اس کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
82 approved lectures · 24 of 82