Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-037

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَإِذَا أَصَابَ الثَّوْبَ مِنَ الرَّوْثِ أَوْ مِنْ أَخْثَاءِ الْبَقَرِ أَكْثَرُ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَمْ تَجُزِ الصَّلَاةُ فِيهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى، لِأَنَّ النَّصَّ الْوَارِدَ فِي نَجَاسَتِهِ وَهُوَ مَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ رَمَى بِالرَّوْثَةِ وَقَالَ هٰذَا رِجْسٌ أَوْ رِكْسٌ لَمْ يُعَارِضْهُ غَيْرُهُ، وَبِهٰذَا يَثْبُتُ التَّغْلِيظُ عِنْدَهُ وَالتَّخْفِيفُ بِالتَّعَارُضِ۔ نجاستِ حقیقیہ سے متعلقہ مسائل بیان ہو رہے ہیں کہ کیسے اس کو پاک کیا جائے گا۔ اور گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ نجاست جو ہے دو قسم پر ہے، ایک نجاستِ حقیقی جو ہے، ایک نجاستِ مغلظہ ہے، ایک نجاستِ مخففہ ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں ایک نجاستِ غلیظہ ہے، ایک نجاستِ خفیفہ ہے۔ نجاستِ غلیظہ جو سخت نجاست ہے۔ تو اس نجاستِ غلیظہ کے اندر آپ نے پڑھا ایک درہم کی مقدار تک معاف ہے، یعنی اس میں نماز ہو جائے گی لیکن اگر ایک درہم سے زائد ہوئی تو پھر اس کے اندر نماز جائز نہیں۔ اولاً تو یہ ہے، یہ معنی نہیں کہ ایک درہم کے بقدر لگی ہے تو انسان اسی طرح ان کپڑوں میں نماز پڑھ لے، بلکہ کیا کرے؟ اس کو دھوئے بھئی۔ اس کے ساتھ نماز پڑھنا یہ مکروہ ہے بھئی۔ لیکن مثلاً اگر اور پانی نہیں مل رہا، مجبوری ہے تو اس صورت میں کیا کرے؟ اگر اس میں نماز پڑھے گا تو ہو جائے گی نماز بھئی۔ لیکن بہتر کیا ہے کہ اس کو دھو لے، صاف کر لے۔ ہاں ایک درہم سے زائد لگی ہو پھر تو نماز ہی نہیں ہو گی سرے سے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، اور دوسری قسم ہے نجاستِ خفیفہ اور نجاستِ خفیفہ آپ نے پڑھا کہ کپڑے کے جس حصے پر لگی ہو، اس حصے کے چوتھائی تک اگر پہنچ جائے تو پھر اس میں نماز جائز نہیں، چوتھے حصے تک اگر ہو جائے اس کے۔ مثلاً آستین پر لگی ہے نجاستِ خفیفہ تو آستین کے چوتھے حصے سے کم کم لگی ہو تو پھر اس میں نماز پڑھے تو جائز ہو جائے گی لیکن اگر چوتھے حصے کے برابر ہو گئی تو پھر اس میں نماز جائز نہیں۔ تو یہ ہمیشہ یاد رکھنا: نجاستِ غلیظہ درہم کی مقدار تک معاف ہے اور نجاستِ خفیفہ چوتھائی سے کم معاف ہے، چوتھائی کے برابر معاف نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ غلطی اکثر لگ جاتی ہے انسان کو کہ وہ درہم کے برابر تک معاف ہے تو یہ بھی چوتھائی تک معاف ہو گی، نہیں نہیں، چوتھائی سے کم معاف ہے، چوتھائی تک معاف نہیں، چوتھائی ہو جائے تو اس میں نماز جائز نہیں ہے بھئی۔ جی، آج آپ کو بتلا رہے ہیں: وَإِذَا أَصَابَ الثَّوْبَ مِنَ الرَّوْثِ أَوْ مِنْ أَخْثَاءِ الْبَقَرِ أَكْثَرُ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَمْ تَجُزِ الصَّلَاةُ فِيهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ۔ اور جب لگ جائے کپڑے کو مِنَ الرَّوْثِ، روث گوبر کو بھی کہتے ہیں اور لید کو بھی۔ گوبر یہ گائے بھینس وغیرہ کا جو فضلہ ہے اور لید یہ گھوڑے، خچر، گدھے وغیرہ کا جو فضلہ ہے اسے لید کہتے ہیں۔ تو روث کا اطلاق دونوں پر ہوتا ہے، گوبر کو بھی کہہ دیتے ہیں روث اور لید کو بھی کہہ دیتے ہیں روث۔ لیکن یہاں پر آگے بقر کا ذکر الگ آ رہا ہے، أَخْثَاءِ الْبَقَرِ کا، لہٰذا یہاں روث سے مراد ہے لید بھئی۔ کیا مراد ہے؟ لید جو گھوڑے، خچر، گدھے وغیرہ کا فضلہ ہے۔ تو اگر کپڑے کو لید لگ جائے أَوْ مِنْ أَخْثَاءِ الْبَقَرِ، اخثاء جمع ہے خثا کی یا خثی کی اور یہ گوبر کو کہتے ہیں۔ أَوْ مِنْ أَخْثَاءِ الْبَقَرِ یا گائے، بیل وغیرہ کا گوبر لگ جائے، کتنا لگے؟ أَكْثَرُ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ، بھئی یہ ضابطہ تو میں آپ کو پہلے بتا چکا ہوں، تمام جانور چاہے وہ حلال ہیں، چاہے حرام ہیں، ان کا جو فضلہ ہے، ان کا جو پاخانہ ہے وہ کیا ہے؟ نجاستِ غلیظہ ہے بھئی۔ یہی بات بیان ہو رہی ہے کہ اگر کپڑے کو لید یا گائے کا گوبر جو ہے لگ جائے أَكْثَرُ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ ایک درہم سے زائد مقدار، لَمْ تَجُزِ الصَّلَاةُ فِيهِ اس میں نماز پڑھنا جائز نہیں۔ معلوم ہوا یہ سب کیا ہے؟ نجاست کون سی نجاست ہے؟ نجاستِ غلیظہ ہے۔ اسی لیے کہا لَمْ تَجُزِ الصَّلَاةُ فِيهِ اس میں نماز پڑھنا جائز نہیں عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اور یہ یاد رکھیے اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ لِأَنَّ النَّصَّ الْوَارِدَ فِي نَجَاسَتِهِ اس لیے کیونکہ وہ نص جو آئی ہے ان کے نجس ہونے کے بارے میں، وَهُوَ مَا رُوِيَ اور وہ حدیث ہے جو روایت کی گئی ہے، أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ کہ حضور علیہ السلام، رَمَى بِالرَّوْثَةِ آپ نے پھینک دیا گو... گوبر کو۔ بھئی، حدیث میں آتا ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ تین پتھر لے آؤں ان ک... آپ کے لیے بھئی، تین پتھر لے آؤں استنجا کے لیے۔ چنانچہ میں نے ادھر آس پاس دیکھا، مجھے دو پتھر ملے، تیسرا پتھر نہیں ملا تو میں ایک خشک گوبر کا ٹکڑا اٹھا کر لے آیا بھئی، خشک گوبر کا۔ تو میں نے حضور علیہ السلام کو دیے تو آپ نے دو پتھر تو لے لیے اور وہ گوبر کو پھینک دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اور فرمایا کہ هٰذَا رِجْسٌ یا یا یہ فرمایا هٰذَا رِكْسٌ بھئی۔ رِجْسٌ اور رِكْسٌ کا ایک معنی ہے گندگی اور نجاست یعنی یہ تو نجاست ہے یا نجس ہے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام نے اس گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا نجس کہہ کر۔ معلوم ہوا گوبر کیا ہے؟ نجس ہے بھئی۔ تو یہ وہی حدیث ذکر ہو رہی ہے، وَهُوَ مَا رُوِيَ اور وہ حدیث ہے جو روایت کی گئی ہے أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ رَمَى بِالرَّوْثَةِ کہ آپ نے گوبر کو پھینک دیا وَقَالَ اور فرمایا هٰذَا رِجْسٌ أَوْ رِكْسٌ یہ گندگی ہے، نجاست ہے۔ تو یہ راوی کو شک ہوا ہے بھئی، راوی، حدیث کو جو روایت کرنے والا ہے کہ کہ یا صحابی کو شک ہو گا یا بعد والے کسی راوی کو شک ہو گا کہ حضور علیہ السلام نے رِجْسٌ فرمایا یا رِكْسٌ فرمایا بھئی۔ بہرحال دونوں کا معنی ایک ہی ہے بھئی، نجاست اور گندگی۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا هٰذَا رِجْسٌ یا هٰذَا رِكْسٌ فرمایا کہ یہ گندگی ہے۔ یہ جو حدیث ہے، امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں یہ جو حدیث ہے لَمْ يُعَارِضْهُ غَيْرُهُ اس کے معارض کوئی اور حدیث نہیں۔ اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ گوبر نجس ہے اور کوئی حدیث نہیں جس سے کیا پتہ چلے کہ گوبر پاک ہے۔ اگر دو نصوص آتیں اور ان میں تعارض ہوتا، ایک سے گوبر کے نجس ہونے کا پتہ چلتا، دوسرا کس چیز پر ہوتی کہ گوبر پاک ہے، نصوص میں تعارض آئے تو امام صاحب کا ضابطہ کیا ہے؟ نجاست کا مخففہ ہونا کس سے ثابت ہوتا ہے؟ تعارضِ نصین سے، ضابطہ یاد ہے یا بھول گئے؟ امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر ایک چیز کے نجس ہونے پر نص آئے لیکن اس کے مقابل کوئی دوسری نص نہ آئے تو وہ اس کے نجاستِ مغلظہ ہونے کی دلیل ہے اور اگر ایک چیز کے بارے میں دو قسم کی نصوص آ رہی ہیں، بعض سے اس کے پاک ہونے کا پتہ چل رہا ہے، بعض سے اس کے نجس ہونے کا پتہ چل رہا ہے تو تعارضِ نصین کی وجہ سے اس چیز کے نجس ہونے میں خفت آ جائے گی، اب حکم میں وہ سختی نہیں رہے گی تو پھر اس کو کیا قرار دیں گے؟ نجاستِ خفیفہ۔ جی، تو امام صاحب فرماتے ہیں لَمْ يُعَارِضْهُ غَيْرُهُ اس نص کے معارض اور مقابل کوئی اور نص نہیں، وَبِهٰذَا يَثْبُتُ التَّغْلِيظُ عِنْدَهُ اور اس سے تغلیظ ثابت ہوتی ہے عِنْدَهُ اَیْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ کن کے نزدیک؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ، کیونکہ معارض کوئی نہیں، تعارض ہوتا تو خفت ثابت ہوتی، تعارض نہیں تو کیا ثابت ہو گی؟ تغلیظ ثابت ہو گی یعنی نجاستِ مغلظہ اس کو قرار دیں گے۔ وَالتَّخْفِيفُ بِالتَّعَارُضِ اور تخفیف کیسے ثابت ہوتی ہے امام صاحب کے نزدیک؟ بِالتَّعَارُضِ کس کی وجہ سے؟ تعارض کی وجہ سے، اور یہاں تعارض کوئی نہیں ہے۔ وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں يُجْزِيهِ یہ اس کے لیے کافی ہے یعنی اگر ایک درہم سے زائد گوبر یا لید لگی ہے اور اس میں نماز پڑھتا ہے تو نماز ہو جائے گی، وہ اس کو کیا قرار دیتے ہیں؟ نجاستِ خفیفہ قرار دیتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ وہ فرماتے ہیں: قَالَا يُجْزِيهِ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ اس کے لیے کافی ہو گا یعنی نماز ہو جائے گی حَتَّى يَفْحُشَ یہاں تک کہ یہ گوبر یا لید جو ہے بہت زیادہ ہو جائے، یعنی بہت زیادہ لگا ہو کپڑوں پر۔ تو معلوم ہوا امام صاحب کے نزدیک جو ہے وہ یہ گوبر اور لید کیا ہیں؟ نجاستِ مغلظہ اور اسی پر فتویٰ، اور صاحبین کے نزدیک یہ کیا ہیں؟ نجاستِ مخففہ۔ اسی لیے کیا کہا: حَتَّى يَفْحُشَ یہاں تک کہ وہ زیادہ لگے تو پھر جائز نہیں۔ بھئی، ان کے نزدیک نجاستِ خفیفہ کیوں؟ صاحبین کا ضابطہ کیا تھا؟ جس میں اجتہاد کی گنجائش ہو یعنی فقہاء دونوں طرف گئے ہوں، بعضوں نے اس کو نجس قرار دیا ہو تو بعضوں نے اس کو پاک قرار دیا ہو تو پھر اس صورت میں پھر اس حکم میں کمی آ جائے گی۔ یہ ضابطہ ذکر کرنے لگے ہیں: لِأَنَّ لِلِاجْتِهَادِ فِيهِ مَسَاغًا اس لیے کیونکہ اجتہاد کو اس کے اندر مَسَاغًا گنجائش ہے، اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، وَبِهٰذَا يَثْبُتُ التَّخْفِيفُ عِنْدَهُمَا اور اس سے تخفیف ثابت ہوتی ہے صاحبین کے نزدیک بھئی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ چنانچہ امامِ مالک رحمہ اللہ، دیکھیے آپ کے حاشیے میں انہوں نے دیا ہوا ہے، امامِ مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ گوبر، لید وغیرہ کیا ہیں؟ پاک ہیں بھئی، پاک ہیں بھئی۔ اور اسی طرح ابنِ ابی لیلیٰ بھئی، یہ بھی بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں بھئی، رَحِمَهُمُ اللّٰهُ تَعَالَى۔ لِأَنَّ لِلِاجْتِهَادِ فِيهِ مَسَاغًا اس لیے کیونکہ اس کے اندر اجتہاد کی گنجائش ہے وَبِهٰذَا يَثْبُتُ التَّخْفِيفُ عِنْدَهُمَا اور اس کی وجہ سے یعنی جہاں اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے اس کی وجہ سے تخفیف ثابت ہوتی ہے صاحبین کے نزدیک، یہ صاحبین کی دلیل۔ دوسری دلیل صاحبین کی: وَلِأَنَّ فِيهِ ضَرُورَةً اور نیز اس لیے کیونکہ گوبر اور لید وغیرہ میں ضرورت بھی ہے لِامْتِلَاءِ الطُّرُقِ بِهَا، امتلاء کا معنی بھرا ہونا، طرق جمع ہے طریق کی راستے کو کہتے ہیں، اس وجہ سے کہ راستے ان سے بھرے ہوتے ہیں، یہ گوبر، لید وغیرہ راستوں میں بکثرت ہوتی ہے۔ آج کل تو گاڑیاں آ گئیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ قدیم زمانے میں تو انہی جانوروں کو سواری کے لیے، سامان وغیرہ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تو ان کی کیا ہے یہ گوبر اور لید وغیرہ کی راستوں میں کثرت ہو کثیر ہوتے ہیں یعنی راستے ان سے بھرے ہوتے ہیں۔ وَهِيَ مُؤَثِّرَةٌ فِي التَّخْفِيفِ، ہِی ضمیر راجع ہے ضرورت کو۔ دلیل کیا چل رہی ہے؟ کیونکہ ان میں، دوسری دلیل صاحبین کی، کیونکہ ان میں ضرورت ہے اس وجہ سے کہ ان کے ان سے راستے بھرے ہوتے ہیں وَهِيَ مُؤَثِّرَةٌ فِي التَّخْفِيفِ اور ضرورت موثر ہو ہے تخفیف کے اندر۔ ضرورت کی وجہ سے کسی چیز کے حکم میں وہ سختی نہیں رہتی بلکہ حکم میں نرمی آ جاتی ہے، تو ضرورت موثر ہے تخفیف کے اندر بھئی، لہٰذا یہ ان کو نجاستِ غلیظہ نہیں قرار دیا جائے گا بلکہ کیا قرار دیا جائے گا؟ نجاستِ خفیفہ، یہ ان کی دلیل تھی۔ بِخِلَافِ بَوْلِ الْحِمَارِ، بخلاف کس کے؟ گدھے کے پیشاب کے، گدھے کے پیشاب۔ بھئی، یہ ایک ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ کہ جہاں گزشتہ سبق کے اندر بھئی نجاستِ غلیظہ کا بیان شروع ہوا تھا وہاں مثالیں آئیں تھیں: كَالدَّمِ، وَالْبَوْلِ، وَالْخَمْرِ، وَخُرْءِ الدَّجَاجِ، وَبَوْلِ الْحِمَارِ، گدھے کا پیشاب، وہ کیا ہے؟ نجاستِ غلیظہ قرار دیا تھا صاحبین نے بھی اور امام صاحب نے بھی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ گوبر اور لید کے اندر جس طرح ضرورت ہے، گدھے وغیرہ کے پیشاب میں بھی تو ضرورت ہے، سواری اور سامان کے لیے زیادہ لوگ کیا استعمال کرتے ہیں؟ گدھے استعمال کرتے ہیں اور جیسے وہ راستے میں لید کر دیتے ہیں اسی طرح پیشاب بھی کر دیتے ہیں تو اس میں بھی ضرورت ہوتی، تو اس کو آپ نے نجاستِ خفیفہ کیوں نہیں قرار دیا؟ اس کو تو آپ نے نجاستِ غلیظہ قرار دیا۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: بِخِلَافِ بَوْلِ الْحِمَارِ بخلاف گدھے کے پیشاب کے لِأَنَّ الْأَرْضَ تُنَشِّفُهُ اس لیے کیونکہ زمین اس کو جذب کر لے گی۔ زمین اس کو ہاں، گدھے کے وہ فرماتے ہیں صاحبین کہ گدھے کے پیشاب میں نہیں ضرورت کیونکہ لید تو پڑی رہے گی لیکن پیشاب تو کیا ہے وہ تو چند منٹ میں زمین جذب کر لے گی، لہٰذا اس میں ضرورت نہیں، البتہ گوبر اور لید وغیرہ میں ضرورت ہے تو وہ نجاستِ مخففہ ہوں گے بھئی۔ قُلْنَا ہم جواب دیتے ہیں: اَلضَّرُورَةُ فِي النِّعَالِ، ضرورت جوتوں کے اندر ہے وَقَدْ أَثَّرَتْ فِي التَّخْفِيفِ مَرَّةً حَتَّى تَطْهُرَ بِالْمَسْحِ اور تحقیق کہ ضرورت نے اثر دکھایا تخفیف کے اندر مَرَّةً ایک مرتبہ حَتَّى تَطْهُرَ بِالْمَسْحِ یہاں تک کہ جوتے پاک ہو جاتے ہیں پونچھنے سے ہی۔ آپ نے پڑھا تھا پیچھے مسئلہ، موزے کو اگر نجاست لگ جائے چاہے خشک ہو جائے، چاہے تر ہی ہو اس کو زمین سے رگڑ کر اچھی طرح صاف کر دیا جائے کہ نجاست کا اثر ختم ہو جائے تو وہ موزہ کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا اور موزے کس کے بنے ہوتے ہیں؟ چمڑے کے، تو وہی حکم جوتے کا بھی ہے۔ جوتے کے ساتھ بھی اگر نجاست لگ گئی، زمین کے ساتھ اس کو رگڑ دیا گیا تو جوتا کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ تو صاحبین نے دلیل کیا دی تھی؟ گوبر اور لید کے کو نجاستِ خفیفہ قرار دیا تھا، کس وجہ سے؟ دوسری دلیل کیا تھی ان کی؟ ضرورت کی وجہ سے، کس کی بنا پر؟ ضرورت کی بنا پر اس کو نجاستِ خفیفہ قرار دیا جائے بھئی، کیونکہ اس میں ضرورت ہے، راستوں میں یہ پڑی ہوتی ہے۔ اس کا جواب دے رہے ہیں بھئی امام صاحب کی جانب سے صاحبِ ہدایہ بھئی کہ ٹھیک ہے، ضرورت ہے۔ گوبر اور لید میں ضرورت ہے لیکن کپڑوں کے اندر ضرورت ہے یا صرف جوتوں کے اندر ضرورت ہے؟ گوبر اور لید راستوں میں پڑے ہوتے ہیں، کپڑوں پہ لگیں گے یا جوتوں پر لگیں گے؟ جوتوں میں لگیں گے، تو ضرورت صرف کس کے اندر ہے؟ جوتوں کے اندر ہے اور ضرورت کی وجہ سے تخفیف آتی ہے یا نہیں آتی؟ یہ تو یہ تو قطعی ضابطہ ہے کہ ضرورت کی وجہ سے کیا آ جاتی ہے حکم میں؟ تخفیف۔ تو ان میں بھی ایک مرتبہ تخفیف آ چکی ہے، کس طرح؟ بھئی، جوتوں پر نجاست لگی ہے تو حکم تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ جوتے کو دھویا جائے لیکن تخفیف آ گئی شریعت کی طرف سے: نہیں، زمین کے ساتھ رگڑ دو اچھی طرح، نجاست کو ختم کر دو، جوتا کیا ہو جائے گا؟ پاک۔ آسانی آ گئی یا نہیں آ گئی بھئی؟ دھونا تو بڑا مشکل کام تھا لیکن اب آسانی آ گئی کہ صرف زمین سے ہی اچھی طرح رگڑنے سے وہ پاک ہو... تو ضرورت کس کے اندر تھی؟ صرف ضرورت صرف کس میں ہے؟ جوتوں میں ہے، کپڑوں کے اندر نہیں۔ اور جوتوں کے اندر ایک مرتبہ تخفیف اپنا اثر دکھا چکی ہے یا نہیں؟ او ضرورت، ضرورت، جوتوں کے اندر ضرورت ایک مرتبہ اپنا اثر دکھا چکی ہے، اس کے حکم میں کیا آ گئی؟ تخفیف آ گئی، لہٰذا اب مزید تخفیف نہیں ہو گی اور کپڑوں کے اندر تخفیف نہیں ہو گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جوتوں کے اندر تخفیف آئے گی اور متن میں تو جو مسئلہ ذکر ہو رہا ہے وہ کپڑے پر اگر گوبر وغیرہ لگ جائے وہ ذکر ہو رہا ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں: قُلْنَا ہم کہتے ہیں: اَلضَّرُورَةُ فِي النِّعَالِ ضرورت جوتوں کے اندر ہے وَقَدْ أَثَّرَتْ فِي التَّخْفِيفِ مَرَّةً حَتَّى تَطْهُرَ بِالْمَسْحِ اور تحقیق کہ ضرورت نے اثر دکھا دیا تخفیف کے اندر ایک مرتبہ یہاں تک کہ جوتے پاک ہو جاتے ہیں پونچھنے سے، فَتَكْفِي مُؤْنَتَهَا، جی، فَتَكْفِي مُؤْنَتَهَا، فَتَكْفِي کے اندر ضمیر راجع ہے ضرورت کو، پس ضرورت کافی ہو گئی، پس ضرورت کافی ہو جائے گی۔ مُؤْنَتَهَا، مُؤْنَتْ یا مَؤُوْنَتْ یہ کہتے ہیں مشقت کو، مشقت کو، اور یہ ہا ضمیر جو ساتھ مؤنت کے ساتھ ملی ہوئی ہے یہ نعال کو راجع کریں بھئی، کس کو؟ نعال۔ جی، مُؤْنَتَهَا اَیْ مُؤْنَةَ النِّعَالِ، پس ضرورت کافی ہو گئی جوتوں کی مشقت میں، ضرورت کافی ہو گئی جوتوں کی مشقت میں یعنی ضرورت نے ضرورت نے جوتوں کی مشقت سے بچا لیا۔ ضرورت نے جوتوں کی مشقت میں کافی ہو گئی، کیا معنی کہ ضرورت میں کافی ہو گئی ان کی کس کی مشقت میں کافی ہو گئی؟ اس کے اندر مشقت سے بچا لیا کہ مشقت سے کیا بچایا ضرورت نے؟ ہاں، دھونے کے بجائے پونچھنے سے ہی کیا ہو جاتے ہیں؟ جوتے پاک ہو جاتے ہیں۔ وَلَا فَرْقَ بَيْنَ مَأْكُولِ اللَّحْمِ وَغَيْرِ مَأْكُولِ اللَّحْمِ اور کوئی فرق نہیں ہے ماکول اللحم وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے اور وہ جانور غیر ماکول جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا بھئی، ان میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی دونوں کا یہی حکم ہے، وَزُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا اور امام زفر رحمہ اللہ نے فرق کیا ان دونوں کے درمیان۔ بھئی، کوئی فرق نہیں ہے ماکول اللحم اور غیر ماکول اللحم کے اندر جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرق کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں، وہ غیر ماکول اللحم میں امام صاحب کی موافقت کرتے ہیں اور ماکول اللحم کے اندر صاحبین کی موافقت کرتے ہیں۔ بھئی، امام صاحب نے تو ماکول اللحم جانوروں کے پاخانے کو اور ان کے فضلے کو بھی نجاستِ غلیظہ قرار دیا ابھی متن میں گزرا، تو غیر ماکول اللحم کے تو وہ بطریقِ اولیٰ کیا ہو گا؟ نجاستِ غلیظہ۔ تو امام زفر رحمہ اللہ موافقت کر رہے ہیں امامِ اعظم ابو حنیفہ کی فِي غَيْرِ مَأْكُولِ اللَّحْمِ، کس کے اندر؟ غیر ماکول اللحم جو ہیں یعنی حرام جانور جو ہیں، ان میں امام صاحب کی موافقت کرتے ہیں اور حرام جانوروں کے فضلے کے بارے میں امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ نجاستِ غلیظہ، تو اس میں امام ابو امام زفر بھی کیا فرماتے ہیں؟ ان کا فضلہ جو ہے، حرام جانوروں کا فضلہ کیا ہے؟ نجاستِ غلیظہ ہے۔ وَوَافَقَهُمَا فِي الْمَأْكُولِ اور امام زفر نے موافقت کی ہے صاحبین کی ماکول اللحم جانوروں میں یعنی حلال جانوروں میں، جیسے ابھی اوپر گزرا، گائے، بیل وغیرہ کا جو گوبر ہے اس کو صاحبین نے کیا قرار دیا تھا؟ نجاستِ خفیفہ، تو امام زفر رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ ماکول اللحم یعنی حلال جانوروں کا فضلہ کیا ہے؟ نجاستِ خف... تو امام صاحب اور صاحبین انہوں نے تو فرق نہیں کیا تھا، جن کے نزدیک عید... امام صاحب کے نزدیک سب کیا ہیں؟ نجاستِ مغلظہ، اور صاحبین کے نزدیک سب کیا ہیں؟ نجاستِ مخففہ، لیکن امام امام زفر رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ وہ غیر ماکول اللحم میں امام صاحب کی موافقت کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ حرام جانوروں کا فضلہ نجاستِ غلیظہ ہے اور حلال جانوروں میں وہ امام صاحبین کی موافقت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ان کا فضلہ کیا ہے؟ نجاستِ خفیفہ ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ لَمَّا دَخَلَ الرَّيَّ کہ امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب وہ داخل ہوئے رے شہر میں بھئی، لَمَّا دَخَلَ الرَّيَّ، یا مشدد ہے، جب وہ رے شہر میں داخل ہوئے وَرَأَى الْبَلْوَى، بلویٰ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پہلے بھی یہ لفظ کئی دفعہ گزر چکا ہے، مبتلا ہونا یعنی ابتلا، وَرَأَى الْبَلْوَى اور اس میں ابتلا کو دیکھا یعنی لوگ کثرت سے اس میں مبتلا ہیں کہ ان کے کپڑوں وغیرہ پر کیا لگ جاتی ہے؟ نجاست وغیرہ لگ جاتی ہے، أَفْتَى تو انہوں نے امام محمد رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا أَنَّ الْكَثِيرَ الْفَاحِشَ لَا يَمْنَعُ أَيْضًا کہ کثیرِ فاحش یعنی بہت زیادہ بھی یہ اگر گوبر وغیرہ لگ جائے کپڑوں پر، لَا يَمْنَعُ تو بھی یہ نماز سے مانع نہیں، یہ بھی نماز سے پھر بھی یہ نماز سے روکتا نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ضرورت آ گئی بھئی، کثرت سے لوگ اس میں مبتلا ہیں اور ضرورت کیا پیدا کرتی ہے؟ تخفیف پیدا کرتی ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ کثیرِ فاحش بھی ان کے اندر وہ مانعِ صلاۃ نہیں ہے بھئی۔ وَقَاسُوا عَلَيْهَا طِينَ بُخَارَى، قاسوا اور اسی پر قیاس کیا ہے فقہاء نے طِينَ بُخَارَى بخارا کی کیچڑ کو۔ طین کہتے ہیں کیچڑ، گارا وغیرہ۔ بخارا علاقے کا جو بخارا علاقے کا جو گارا ہے اس کو بھی فقہاء نے اسی پر قیاس کیا ہے۔ وہاں بھی یہ مٹی وغیرہ میں یہ گوبر وغیرہ بہت زیادہ ہو گا اور تو ہر جگہ گوبر پڑا ہے تو جو کیچڑ وغیرہ بنے گی اس میں بھی گوبر ہو گا، اسی پر فقہاء فقہاء نے اسی پر قیاس کیا۔ امام محمد رحمہ اللہ نے کیا فتویٰ دیا تھا رے شہر میں جانے کے بعد؟ کہ کثیرِ فاحش بھی مانعِ صلاۃ نہیں، تو باقی فقہاء نے طینِ بخارا کو بھی اسی پر قیاس کیا اور کیا فتویٰ دیا؟ کہ بخارا کی کیچڑ اگر زیادہ بھی کپڑوں پر لگ جائے پھر بھی یہ کثیرِ فاحش بھی مانعِ صلاۃ نہیں ہے بھئی۔ وَعِنْدَ ذٰلِكَ رُجُوعُهُ فِي الْخُفِّ يُرْوَى اور اس وقت امام محمد رحمہ اللہ کا رجوع کرنا فِي الْخُفِّ موزے کے اندر يُرْوَى روایت کیا گیا ہے۔ کیا کیا گیا ہے؟ بھئی، موزے پر نجاست کی اگر لگ جائے آپ نے تفصیل پڑھی تھی اس باب کے شروع میں کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اگر نجاست خشک ہو جائے، موزے پر لگی ہے اور خشک ہو جائے تو زمین پر رگڑ دینے سے موزہ پاک ہو جائے گا۔ وہیں پر امام محمد رحمہ اللہ کا قول بھی آیا تھا، وہ فرماتے ہیں: نہیں، پاک نہیں ہو گا۔ منی کے اندر وہ فرماتے تھے، اس کا مسئلہ ذرا الگ ہے اور اس کی تفصیل بھی اگرچہ ہم پڑھ چکے ہیں، وہاں آیا تھا کہ منی کا مسئلہ ذرا مختلف ہے، باقی چیزیں، باقی کوئی نجاست جسم والی یعنی گاڑھی نجاست موزے کو لگ جائے تو اس کا کچھ حصہ موزے میں جذب ہو جائے گا، جب وہ جذب ہو گیا اب وہ کھرچ وہ رگڑنے سے تو نہیں نکلے گا اور خشک ہونے سے، لہٰذا دھونا پڑے گا۔ مسئلہ ذہن میں آ گیا، یاد آیا کچھ بھئی؟ تو اس وقت تو ان کا فتویٰ پہلے یہی تھا کہ موزے پر گاڑھی نجاست لگ جائے تو صرف زمین پر رگڑنے سے وہ پاک نہیں، لیکن پھر اس وقت جب انہوں نے اتنا کثرت سے لوگوں کا ابتلا دیکھا اس کے اندر تو کیا فتویٰ دیا؟ کیا کیا؟ اس موزے کے مسئلے میں بھی اس سابقہ قول سے رجوع کر لیا بھئی۔ یہ معنی ہے: وَعِنْدَ ذٰلِكَ رُجُوعُهُ فِي الْخُفِّ يُرْوَى اور اس وقت امام محمد رحمہ اللہ کا رجوع کرنا موزے کے اندر يُرْوَى یہ روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے اس موقع پر اس سے رجوع فرما لیا تھا۔ وَإِنْ أَصَابَهُ بَوْلُ الْفَرَسِ لَمْ يُفْسِدْهُ اور اگر کپڑے کو لگ جائے بَوْلُ الْفَرَسِ گھوڑے کا پیشاب، میں نے مسئلہ بتلا دیا تھا، گھوڑے کا پیشاب کیا ہے؟ نجاستِ خفیفہ ہے بھئی، نجا... نجاستِ خفیفہ۔ وَإِنْ أَصَابَهُ بَوْلُ الْفَرَسِ اور اگر کپڑوں کو گھوڑے کا پیشاب لگ جائے لَمْ يُفْسِدْهُ تو یہ کپڑوں کو فاسد نہیں کرے گا حَتَّى يَفْحُشَ یہاں تک کہ وہ کثیر ہو جائے، بہت زیادہ ہو جائے عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رحمہما اللہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک بھئی، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رحمہ اللہ لَا تَمْنَعُ وَإِنْ فَحُشَ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مانع نہیں بنے گا وَإِنْ فَحُشَ اگرچہ کثیر ہی ہو جائے، اگرچہ وجہ یہ ہے کہ گھوڑے کا پیشاب جو ہے یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک نجاستِ خفیفہ ہے اور نجاستِ خفیفہ آپ نے پڑھا، یرحمک اللہ، نجاستِ خفیفہ میں آپ نے پڑھا کہ وہ کثیرِ فاحش ہو تو معاف نہیں، اس سے کم ہو تو معاف ہے بھئی۔ اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ ان کے بارے میں تو آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب ان کے نزدیک سرے سے نجس ہی نہیں ہے بلکہ پاک ہے۔ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب کیا ہے؟ پاک ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، سمجھ میں آیا بھئی؟ اصولِ فقہ میں بھی آپ پڑھ چکے ہیں اور یہاں پر بھی ذکر ہو چکا ہے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گھوڑا ماکول اللحم ہے، حلال جانور ہے، لہٰذا اس کا پیشاب نجس ہی نہیں، جتنا مرضی کپڑوں کو لگ جائے پاک چیز لگی ہے، اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، نماز ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ شیخین کے نزدیک یہ کیا ہے؟ نجاستِ خفیفہ، اور نجاستِ خفیفہ معاف ہے جب تک کثیرِ فاحش نہ ہو جائے، اور وہ کتنا ہے؟ کپڑے کے چوتھے حصے تک نہ پہنچ جائے، تو چوتھے حصے تک پہنچ جائے تو معاف نہیں، اس سے کم ہو تو معاف ہے۔ دیکھیے اب یہی دلیلیں ذکر کر رہے ہیں: لِأَنَّ بَوْلَ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ طَاهِرٌ عِنْدَهُ اس لیے کیونکہ پیشاب اس جانور کا جس کا گوشت کھایا جاتا ہو طَاهِرٌ عِنْدَهُ یہ پاک ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، مُخَفَّفٌ نَجَاسَتُهُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رحمہ اللہ اور اس کی نجاست مخفف مخفف ہے یعنی خفیفہ ہے کن کے نزدیک؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، وَلَحْمُهُ مَأْكُولٌ عِنْدَهُمَا اور اس کا گوشت کھایا جاتا ہے صاحبین کے نزدیک۔ صاحبین کے نزدیک گھوڑا کیا ہے؟ ماکول اللحم ہے، اس یہ حلال جانور ہے، حلال جانور ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں پر ذبح وغیرہ نہیں کرتے بھئی، آپ پاکستان میں دیکھتے ہیں یہاں ذبح وغیرہ نہیں کرتے، حالانکہ اور دنیا کی بعض جگہیں ہیں وہاں پر احناف ہیں اور وہ اس کو ذبح بھی کرتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ حلال ہے بھئی۔ وَأَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فَالتَّخْفِيفُ لِتَعَارُضِ الْآثَارِ اور امام صاحب کے نزدیک اس کی تخفیف جو ہے لِتَعَارُضِ الْآثَارِ کس وجہ سے ہے؟ آثار، میں نے جمع ہے اثر کی اور اثر بھی نام ہے ایک حدیث کا بھئی۔ حدیث کے میں نے بتائے تھے چار نام ہیں: حدیث، خبر، اثر اور سنت بھئی۔ تو یہ تو اس کے بارے میں تعارض ہے آثار میں یعنی احادیث میں، اور احادیث میں تعارض آ جائے تو اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟ تخفیف کا پتہ چلتا ہے، لہٰذا اس کی نجاست نجاستِ غلیظہ نہیں بلکہ نجاستِ خفیفہ ہے امام صاحب کے نزدیک۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو امام صاحب کے امام صاحب البتہ گھوڑے کو گوشت جو ہے اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں لیکن مکروہ مکروہ یعنی مکروہِ تحریمی، فقہ کی کتابوں میں جب مطلق کراہت کا ذکر آئے تو مراد کراہتِ تحریمی ہوتی ہے بھئی۔ تو امام صاحب کے نزدیک مکروہِ تحریمی ہے لیکن اس وجہ سے نہیں مکروہ کہ گھوڑے کا گوشت نجس ہے ان کے نزدیک، بلکہ اس لیے کہ یہ آلۂ جہاد ہے بھئی، اگر اس کو لوگ ذبح کرنا شروع کر دیں گے پھر تو یہ کم ہو جائے گا، اس لیے انہوں نے کیا قرار دیا ہے؟ مکروہ قرار دیا۔ تو نجس ہونے کی وجہ سے مکروہ قرار نہیں دیا، حقیقت کے اعتبار سے ان کے نزدیک بھی یہ ماکول اللحم ہے، اس کا گوشت حلال گوشت جائز ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تعارضِ آثار، تعارضِ آثار کیا ہے بھئی؟ ایک تو وہ حدیثِ عُرَنِیِّین ہے جس میں ماکول اللحم جانور جو تھے یعنی اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا اہلِ عُرَینہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے، اور دوسری حدیث وہ کیا ہے؟ حدیث میں آتا ہے: اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ، اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ کہ تم لوگ پیشاب سے بچو کیونکہ اکثر عام طور پر عذابِ قبر اسی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تو یہاں ان دو حدیثوں میں تعارض آیا اور اس کی وجہ سے حکم میں تخفیف آ گئی۔ وَإِنْ أَصَابَهُ خُرْءُ مَا لَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ مِنَ الطُّيُورِ بھئی، اب ان پرندوں کا ذکر آیا جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا، میں حکم پہلے بیان کر چکا ہوں، کیا حکم ہے بھئی ان کی بیٹ کا؟ حرام پرندوں کی بیٹ کیا ہے؟ نجاستِ خفیفہ ہے، نجاستِ خفیفہ۔ یہی بتلا رہے ہیں: وَإِنْ أَصَابَهُ اور اگر کپڑے کو لگ جائے خُرْءُ مَا لَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ، خُرْءٌ بیٹ کو کہتے ہیں، خُرْءُ مَا لَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ مِنَ الطُّيُورِ پرندوں میں سے جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا ان کی بیٹ، اگر کپڑے کو لگ جائے پرندوں میں سے جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا ان کی بیٹ، اگر یہ کپڑے کو لگ جائے کتنی لگے؟ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ ایک درہم سے زائد مقدار، أَجْزَأَتِ الصَّلَاةُ فِيهِ اس میں نماز جائز ہے۔ ایک درہم سے زائد لگ جائے پھر بھی نماز جائز، معلوم ہوا کہ کون سی نجاست ہے؟ نجاستِ خفیفہ ہے عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَا يَجُوزُ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں درہم سے زائد لگ جائے پھر اس میں نماز جائز نہیں، معلوم ہوا ان کے نزدیک کیا ہے؟ نجاستِ غلیظہ ہے۔ اچھا، شیخین رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں درہم سے زیادہ لگ جائے تو بھی نماز ان کپڑوں میں جائز، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ درہم سے زائد لگ جائے تو اس میں نماز جائز نہیں۔ اب اس کا کیا معنی؟ تو بعض فقہاء نے لکھا کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ان کی بیٹ نجس ہے ہی نہیں، پاک ہے۔ بیٹ کیا ہے؟ پاک، نجس ہے ہی نہیں، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نجاستِ غلیظہ ہے بھئی۔ تو اسی لیے شیخین فرماتے ہیں کہ درہم سے زائد بھی لگ جائے تو اس میں نماز جائز ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ نجس ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو گویا اختلاف کس چیز میں آیا؟ نجس ہونے میں ہی اختلاف آ گیا، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک نجس ہے ہی نہیں اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نجس ہے بھئی۔ یہی بات ذکر کر رہے ہیں: فَقَدْ قِيلَ پس تحقیق کہا گیا ہے إِنَّ الِاخْتِلَافَ فِي النَّجَاسَةِ کہ اختلاف کس چیز کے اندر ہے؟ نجس ہونے میں ہی اختلاف ہے، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک نجس ہے ہی نہیں اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نجس ہے بھئی۔ وَقَدْ قِيلَ اور تحقیق کہا گیا ہے فِي الْمِقْدَارِ کہ اختلاف کس چیز کے اندر ہے؟ مقدار میں ہے، وَهُوَ الْأَصَحُّ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے یعنی مقدار میں یہ اختلاف ہے، نجس ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، نجس دونوں کے نزدیک ہے، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک بھی نجس اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی نجس، البتہ اختلاف صرف کس چیز میں ہے؟ مقدار میں ہے۔ کیا معنی؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک درہم سے زیادہ لگی ہے تو اس میں نماز جائز نہیں، معلوم ہوا وہ کون سی نجاست ہے؟ نجاستِ غلیظہ، اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ان کے نزدیک نجس ہونے میں اختلاف نہیں ہے، صرف کس چیز میں اختلاف ہے؟ مقدار، درہم سے زائد لگے پھر بھی اس میں نماز جائز، معلوم ہوا کون سی نجاست؟ نجاستِ خفیفہ ہے، معلوم ہوا نجس ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، نجس دونوں کے نزدیک، البتہ شیخین کے نزدیک نجاستِ خفیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نجاستِ غلیظہ۔ یہ معنی ہے: وَقَدْ قِيلَ فِي الْمِقْدَارِ وَهُوَ الْأَصَحُّ اور تحقیق کہا گیا ہے کہ اختلاف جو ہے مقدار میں ہے اور یہی قول زیادہ صحیح ہے۔ هُوَ يَقُولُ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں إِنَّ التَّخْفِيفَ لِلضَّرُورَةِ کہ تخفیف جو ہوتی ہے وہ ضرورت کی وجہ سے ہوتی ہے وَلَا ضَرُورَةَ اور یہاں پر کوئی ضرورت نہیں لِعَدَمِ الْمُخَالَطَةِ، مخالطت کہتے ہیں گھل مل کر رہنا، مل جل کر رہنا۔ اور یہاں کس کی بات چل رہی ہے؟ حرام پرندوں کی، اور حرام پرندے تو انسانوں کے ساتھ گھل مل کر نہیں رہتے، گھل مل کر نہیں رہتے، لہٰذا یہاں کوئی ضرورت نہیں، ضرورت ہوتی تو ان میں تخفیف آ جاتی، ہم اس کو نجاستِ غلیظہ قرار نہ دیتے، کیا قرار دیتے؟ نجاستِ خفیفہ، لیکن یہاں کوئی ضرورت ہی نہیں، کیوں نہیں ضرورت؟ کیونکہ ان کا انسانوں کے ساتھ گھلنا ملنا نہیں ہے، یہ تو انسانوں سے دور رہتے ہیں، لہٰذا بلا ضرورت کے اس کو نجاستِ خفیفہ نہیں قرار دیا جائے گا۔ تو وہ فرماتے ہیں إِنَّ التَّخْفِيفَ لِلضَّرُورَةِ کہ تخفیف جو ہوتی ہے للضرورۃ بنا پر ضرورت کے ہوتی ہے وَلَا ضَرُورَةَ لِعَدَمِ الْمُخَالَطَةِ اور کوئی ضرورت نہیں ہے یہاں پر بوجہ گھلنے گھلنا ملنا نہ ہونے کی وجہ سے، فَلَا يُخَفَّفُ لہٰذا اس کو نجاستِ خفیفہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ وَلَهُمَا شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّهَا تَذْرُقُ فِي الْهَوَاءِ کہ یہ بیٹ کر دیتے ہیں ہوا میں سے، وَالتَّحَامِي عَنْهُ مُتَعَذِّرٌ اور بچنا اس سے مشکل ہوتا ہے۔ یہ کس سے کر دیتے ہیں؟ ہوا سے، تو بچنا اس سے ممکن ہی نہیں ہے بھئی، انسان کی توجہ ہی نہیں ہوتی بھئی، فَتَحَقَّقَتِ الضَّرُورَةُ تو ضرورت ثابت ہو گئی، کیا ثابت ہو گئی؟ ضرورت ثابت ہو گئی۔ جی، یہ شیخین رحمہ اللہ کی دلیل بھئی۔ وَلَوْ وَقَعَ فِي الْإِنَاءِ قِيلَ يُفْسِدُهُ اچھا بھئی، ان کی بیٹ یہ جو حرام پرندے ہیں، ان کی بیٹ اگر برتن میں گرے تو کیا حکم ہے؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ برتن کو یہ کیا کر دے گی؟ فاسد کر دے گی، نجس کر دے گی، بعض فرماتے ہیں نہیں، برتن کو بھی نجس نہیں کرے گی بوجہ ضرورت کے کیونکہ برتنوں کو بھی ان سے بچانا مشکل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ وَقَعَ فِي الْإِنَاءِ قِيلَ يُفْسِدُهُ اور اگر وہ بیٹ ان کی واقع ہو جائے یعنی گر پڑے فِي الْإِنَاءِ برتن میں، قِيلَ يُفْسِدُهُ تو کہا گیا ہے اس برتن کو فاسد کر دے گی یعنی نجس کر دے گی، وَقِيلَ لَا يُفْسِدُهُ اور کہا گیا ہے کہ اس کو نجس نہیں کرے گی لِتَعَذُّرِ صَوْنِ الْأَوَانِي عَنْهُ، اوانی جمع ہے آنِیَۃ کی، برتن کو کہتے ہیں بھئی، لِتَعَذُّرِ صَوْنِ الْأَوَانِي عَنْهُ بوجہ برتنوں کے اس سے بچانا ممکن نہ ہونے کی کیونکہ ممکن نہیں ہے برتنوں کو بچانا اس سے بھئی۔ وَإِنْ أَصَابَهُ مِنْ دَمِ السَّمَكِ أَوْ مِنْ لُعَابِ الْبَغْلِ أَوِ الْحِمَارِ أَكْثَرُ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ أَجْزَأَتِ الصَّلَاةُ فِيهِ اور اگر کپڑے کو لگ جائے مِنْ دَمِ السَّمَكِ مچھلی کے خون میں سے، أَوْ مِنْ لُعَابِ الْبَغْلِ یا خچر کے لعاب میں سے، أَوِ الْحِمَارِ یا گدھے کے لعاب میں سے کتنا لگ جائے؟ أَكْثَرُ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ ایک درہم سے زائد مقدار، أَجْزَأَتِ الصَّلَاةُ فِيهِ تو اس کپڑے میں نماز جائز ہے، کافی ہو جائے گی، اس میں نماز کافی ہو جائے گی۔ أَمَّا دَمُ السَّمَكِ باقی مچھلی کا خون جو ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اس میں کیوں نہ اس کپڑے میں نماز کیوں جائز ہو گی؟ کہتے ہیں: فَلِأَنَّهُ لَيْسَ بِدَمٍ عَلَى التَّحْقِيقِ اس لیے کیونکہ جو مچھلی کا خون ہے وہ خون ہے ہی نہیں عَلَى التَّحْقِيقِ بنا بر تحقیقی قول کے، تحقیق کے مطابق وہ قو وہ خون ہے ہی نہیں، فَلَا يَكُونُ نَجَسًا تو وہ نجس بھی نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آئی؟ مچھلی کا خون وہ حقیقت میں خون ہے ہی نہیں، خون ہوتا تو کپڑوں کو نجس کرتا، جب خون ہی نہیں تو کپڑوں کو بھی نجس نہیں کرے گا۔ دلیل اس کی پہلے بھی گزر چکی کہ خون جو ہے وہ تو دھوپ میں رکھا جائے، دھوپ اس کو لگتی ہے تو وہ سیاہ پڑ جاتا ہے جبکہ مچھلی کا خون اس کو دھوپ لگتی ہے وہ سفید ہو جاتا ہے، معلوم ہوا وہ خون نہیں، خون جیسا رنگ تو ضرور ہے لیکن خون نہیں۔ وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، روایت کیا گیا ہے أَنَّهُ اعْتَبَرَ فِيهِ الْكَثِيرَ الْفَاحِشَ کہ انہوں نے اس کے اندر کثیرِ فاحش کا اعتبار کیا ہے۔ کس چیز کا اعتبار کیا ہے؟ کثیرِ فاحش کا، کیا معنی؟ یعنی کثیرِ فاحش لگ جائے تو پھر ان کپڑوں میں نماز جائز نہیں، معلوم ہوا انہوں نے اس کو نجاستِ خفیفہ قرار دیا ہے۔ تو انہوں نے اعتبار کیا ہے اس میں کثیرِ فاحش کا، فَاعْتَبَرَهُ نَجَسًا تو انہوں نے اس کو اعتبار کیا ہے نجاست بھئی یعنی اس کو نجاست کا اعتبار کیا، پہلا قول تو کیا تھا؟ یہ خون ہی نہیں ہے لہٰذا سرے سے نجاست ہی نہیں ہے، دوسرا قول امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس میں انہوں نے کثیرِ فاحش کا اعتبار کیا ہے، اس سے کیا پتہ چلا کہ ان کے نزدیک یہ نجس ہے البتہ نجاستِ خفیفہ ہے۔ وَأَمَّا لُعَابُ الْبَغْلِ باقی متن میں آیا تھا کہ گدھے یا خچر کا لعاب لگ جائے کپڑوں پر پھر بھی اس میں نماز جائز، اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَأَمَّا لُعَابُ الْبَغْلِ وَالْحِمَارِ فَلِأَنَّهُ مَشْكُوكٌ فِيهِ اور باقی خچر اور گدھے کا جو لعاب ہے پس وہ جو ہے وہ مشکوک ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ مشکوک ہے، فَلَا يَتَنَجَّسُ بِهِ الطَّاهِرُ تو اس سے پاک چیز نجس نہیں ہو گی۔ وہ تو کیا ہے؟ مشکوک، تو پاک چیز اس کی وجہ سے نجس نہیں ہو گی۔ کس کو لگا وہ لعاب گدھے یا خچر کا؟ کپڑوں کو لگا ہے اور کپڑے کا پاک ہونا یقینی، اس سے پہلے کیا تھا کپڑے کا پاک ہونا؟ یقینی، اور اب جو لعاب لگا ہے اس کا نجس ہونا اس کا نجس ہونا مشکوک ہے، اور ضابطہ آپ پڑھ چکے: اَلْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ کہ یقین جو ہے وہ شک کی وجہ سے زائل نہیں، تو اب کپڑوں کے نجس ہونے میں شک آیا اور شک کی وجہ سے ان کو نجس نہیں قرار دیا جا سکتا۔ فَإِنِ انْتَضَحَ عَلَيْهِ الْبَوْلُ مِثْلَ رُءُوسِ الْإِبَرِ فَذٰلِكَ لَيْسَ بِشَيْءٍ اگر چھینٹے پڑے اس پر الْبَوْلُ کس کے؟ پیشاب کے، مِثْلَ رُءُوسِ الْإِبَرِ، اِبَر کہتے ہیں سوئی کو، سوئی، مِثْلَ رُءُوسِ، رُءُوس میں یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، اس میں دو واؤ ہونے چاہییں، دو واؤ، سمجھ میں آیا بھئی؟ دو واؤ۔ یہ جو ایک واؤ ہے اس کے اوپر تو ہمزہ لکھی ہے، یہ دراصل ہمزہ ہی ہے۔ یاد رکھیے عربی میں ہمزہ کی کتابت سب سے مشکل کام ہے، اسی ہمزہ کو کبھی الف کی صورت میں لکھتے ہیں، کبھی یا کی صورت میں لکھتے ہیں، کبھی واؤ کی صورت میں لکھتے ہیں اور کبھی اس کی اپنی ہمزہ ہی کی صورت میں لکھتے ہیں۔ دیکھو شروع میں آئے ہمزہ، اَقْوَال، اَقْوَال، اقوال کے شروع میں کیا ہے؟ ہمزہ، لیکن اس کو لکھتے کس شکل میں ہیں؟ الف کی صورت میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اسی طرح کبھی ہمزہ کو کس کی صورت میں لکھتے ہیں؟ یا کی صورت میں، شَيْئًا، شَيْئًا الف آخر میں ہے، الف سے پہلے کیا ہے؟ ہمزہ، یہاں اس کو لکھتے کیسے ہیں شَيْئًا کو؟ دندانے کے اوپر ہمزہ لکھتے ہیں یا نہیں لکھتے؟ حالانکہ دندانہ تو یا کے لیے بنایا جاتا ہے، ہمزہ تو الگ لکھی جاتی ہے ہمیشہ بھئی، تو یہ دیکھو یا کی صورت میں لکھا، یا اور کوئی مثال دیکھ لیں جس میں ہمزہ کو یا کی صورت میں لکھا ہو۔ قُرِئَ، ہاں دیکھو قُرِئَ، قُرِئَ قاف، قَرَأَ سے مجہول کا صیغہ قُرِئَ، قاف دو نقطوں والا، را اور اس کے بعد آپ کس طرح لکھتے ہیں؟ یا کے اوپر ہمزہ لکھتے ہیں، تو یہ ہمزہ ہے لیکن کس صورت میں لکھی گئی؟ یا کی صورت میں لکھی گئی۔ اور کبھی ہمزہ کو واؤ کی صورت میں لکھتے ہیں جیسے جی؟ یہی دیکھ لیں، یہ رُءُوس کا لفظ آیا، تو یہ رَأْسٌ تھا اس میں ہمزہ کو اب واؤ کی صورت میں لکھا تو آگے ایک اور واؤ ہونا چاہیے بھئی، رُءُوس، ہمزہ کی آواز کو پیش کو میں لمبا کر رہا ہوں یا نہیں کر رہا؟ اگر واؤ نہ ہوتا تو رُءُس پڑھا جاتا، رُءُس، لیکن ہم واؤ پڑھ رہے ہیں، رُءُوس بھئی، تو یہاں ایک اور واؤ ہونا چاہیے بھئی۔ اچھا بھئی، مِثْلَ رُءُوسِ الْإِبَرِ اگر چھینٹے پڑے اس پر پیشاب کے مِثْلَ رُءُوسِ الْإِبَرِ سوئی کے سروں کے برابر بھئی، سوئی کے سروں کے برابر یعنی بہت چھوٹے پیشاب کے تو چھینٹے پڑیں، فَذٰلِكَ لَيْسَ بِشَيْءٍ تو وہ کوئی چیز نہیں ہیں، تو وہ کوئی چیز نہیں یعنی اس میں نجاست کا اعتبار کرنے کی اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی، وہ بہت چھوٹے ہیں، ان سے بچنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے، احتیاط کرے اور باقی ان سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: فَذٰلِكَ لَيْسَ بِشَيْءٍ یہ کوئی چیز نہیں، لِأَنَّهُ لَا يُسْتَطَاعُ الِامْتِنَاعُ عَنْهُ اس وجہ سے کہ استطاعت نہیں ہے ان سے باز رہنے کی یعنی بچنے کی یعنی ان سے بچنے کی کسی کی استطاعت نہیں ہے، کوئی ان سے بچ نہیں سکتا جتنی بھی کوشش کر لے، تو باحتیاط البتہ کرے، چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 37 of 82