Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-048

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
قَالَ: "وَيَعْتَمِدُ بِيَدِهِ اليُمْنَى عَلَى اليُسْرَى تَحْتَ السُّرَّةِ" لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ وَضْعَ اليَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ تَحْتَ السُّرَّةِ"، "وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الإِرْسَالِ، وَعَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الوَضْعِ عَلَى الصَّدْرِ". نماز کا طریقہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے ماقبل میں ذکر ہوا کہ نماز کے آغاز میں نماز پڑھنے والا تکبیرِ تحریمہ کہے گا بھئی، اور پھر اس تکبیرِ تحریمہ کے اندر امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف بھی ذکر ہوا کہ امام صاحب کے نزدیک کوئی بھی تعظیم والا لفظ ادا کیا جا سکتا ہے عربی زبان میں۔ اور اسی طرح اگر فارسی میں بھی ابتدا کرنا چاہے تو فارسی کے لفظ کے ساتھ بھی ابتدا جائز ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ لفظ جس سے تعظیم والا معنی جس میں ہو اس سے نہیں آغاز کر سکتا، ہاں چار لفظ ہیں ان سے آغاز کر سکتا ہے: "اللهُ أَكْبَرُ"، "اللهُ الأَكْبَرُ"، "اللهُ كَبِيرٌ" اور "اللهُ الكَبِيرُ" بھئی۔ اور نیز فارسی میں بھی شروع نہیں کر سکتا اگر اچھی طرح عربی بولتا ہو بھئی، بول سکے، اس پر تکلم کر سکے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ عربی ہونے کے اندر تو امام صاحب کے ساتھ ہیں یعنی ہر تعظیم والے لفظ کے ساتھ نماز کا آغاز کرنا جائز ہے، البتہ فارسی والے مسئلے کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں کہ فارسی میں اگر عربی اچھی طرح بول سکتا ہے تو فارسی کے اندر آغاز کرنا صحیح نہیں بھئی۔ جی اور نیز اسی طرح قراءت وغیرہ میں بھی اختلاف ذکر ہوا۔ اب بتلا رہے ہیں اس کے بعد کیا کرے گا تکبیر کہنے کے بعد؟ قَالَ: "وَيَعْتَمِدُ بِيَدِهِ اليُمْنَى عَلَى اليُسْرَى تَحْتَ السُّرَّةِ" اور رکھے اپنے دائیں ہاتھ کو، نماز پڑھنے والا رکھے اپنے دائیں ہاتھ کو عَلَى اليُسْرَى بائیں ہاتھ پر، تَحْتَ السُّرَّةِ ناف کے نیچے بھئی۔ یعنی بایاں ہاتھ نیچے ہونا چاہیے اور دایاں ہاتھ اس کے اوپر ہونا چاہیے بھئی، اوپر ہونا چاہیے۔ اور تَحْتَ السُّرَّةِ اور کہاں پر ہاتھ باندھے؟ ناف کے نیچے ہاتھ باندھے بھئی۔ تو دایاں ہاتھ اوپر ہو اور بایاں ہاتھ نیچے ہو بھئی۔ اور احناف، احناف کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر حدیث پر عمل ہو جائے بھئی، ہر حدیث پر عمل ہو جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا جگہ جگہ آپ دیکھتے ہیں ہاں احادیث کے اندر جب دورۂ حدیث آپ کریں گے بھئی، اللہ آپ سب کو توفیق دے گی۔ (آمین) تو دورۂ حدیث جب آپ کریں گے وہاں مفصل بحثیں آئیں گی، آپ دیکھیں گے احناف کے مذہب کو کہ کس طرح ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر حدیث پر عمل ہو جائے بھئی۔ کوئی ایسی صورت اختیار کر لی جائے کہ ہر حدیث پر عمل ہو جائے بھئی۔ ہاں جہاں ممکن ہی نہ ہو کوئی صورت تو پھر وہاں ایک ہی راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ جیسے یہاں بھئی، یہ ہاتھ رکھنے کے بارے میں بعض احادیث میں آتا ہے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھے، اس کے اوپر رکھنے کا ذکر ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی ہتھیلی کا ہتھیلی پر ہونے کا ذکر آتا ہے۔ اور بعض احادیث کے اندر کلائی کو پکڑنے کا ذکر آتا ہے۔ تو احناف نے وہ صورت اختیار کی کہ جس میں ان سب پر عمل ہو جاتا ہے کہ کس طرح؟ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھے اور جو انگلیاں ہیں ان کو، تین انگلیاں درمیان والی ان کو کلائی پر سیدھا رکھے اور جو چھوٹی انگلی اور انگوٹھا ہے اس کے ساتھ کلائی کو پکڑ لے بھئی۔ تو اب یہ سب پر، سب حدیثوں پر کیا ہو گیا؟ عمل ہو گیا۔ ہتھیلی پر ہتھیلی بھی آ گئی، کلائی پر بھی ہاتھ کا کچھ حصہ آ گیا، تین انگلیاں کلائی پر آ گئیں، اور نیز کلائی کو پکڑ بھی لیا انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کے ساتھ، تو سب پر عمل ہو گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَيَعْتَمِدُ بِيَدِهِ اليُمْنَى عَلَى اليُسْرَى تَحْتَ السُّرَّةِ" اور رکھے نماز پڑھنے والا اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر تَحْتَ السُّرَّةِ ناف کے نیچے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ "إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ وَضْعَ اليَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ تَحْتَ السُّرَّةِ" کہ یقیناً سنت میں سے ہے رکھنا دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر تَحْتَ السُّرَّةِ ناف کے نیچے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ نے اس کو حضور علیہ السلام کے قول پر نقل کیا ہے بھئی، لیکن دیگر علماء اور شارحین حضرات لکھتے ہیں کہ یہ حضور علیہ السلام کا قول نہیں بلکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے، حضرت علی، تو یہاں صاحبِ ہدایہ سے یا تسامح ہوا یا پھر کسی لکھنے والے کاتب کی غلطی سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام یہاں بدل گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے: "إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ وَضْعَ اليَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ تَحْتَ السُّرَّةِ"۔ تو بہرحال اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہو پھر بھی دلیل ہے مولانا، کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفۂ راشد ہیں اور وہ فرما رہے ہیں کہ سنت میں سے کیا ہے؟ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا تَحْتَ السُّرَّةِ اور کہاں پر؟ ناف کے نیچے بھئی۔ "وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ فِي الإِرْسَالِ" اور یہ دلیل ہے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف ارسال کے اندر۔ ارسال بھئی ارسال، ارسال اس کو کہتے ہیں کہ دونوں ہاتھ جیسے عام انسان کھڑا ہوتا ہے ہاتھ نیچے لٹکا کر، باندھے بغیر ہی، یہ ہے ارسال۔ یہ ہاتھوں کا چھوڑ دینا، کھلا چھوڑ دینا، یہ کیا ہے؟ ارسال ہے۔ بھئی آپ اگر حرم جائیں، حرم جائیں، اللہ ہم سب کو وہاں بار بار جانے کی توفیق اور نصیب فرمائے بھئی، تو وہاں پر آپ دیکھیں گے بھئی مالکیہ کو جو مذہبِ امام مالک رحمہ اللہ پر ہیں کہ انہوں نے نماز کے اندر وہ ہاتھ باندھتے نہیں، ہاتھ کھلے سیدھے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ ہے ارسال، یہ کیا ہے؟ ارسال۔ تو یہ امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب میں ہاتھ نماز کے اندر نہیں باندھے جائیں گے بلکہ ارسال ہے۔ ہاتھ باندھ بھی سکتے ہیں، ان کے نزدیک بھی ہاتھ باندھ بھی سکتے ہیں لیکن عزیمت یہ ہے کہ ہاتھ کھلے چھوڑ دیں، ارسال کریں۔ ہاں باندھنا چاہے ہاتھ تو باندھ بھی سکتا ہے اس کی بھی رخصت ہے ان کے نزدیک بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ امام مالک رحمہ اللہ کا ان کا مذہب یہ ہے بھئی۔ تو وہاں آپ دیکھیں گے بہت سے لوگوں کو، انہوں نے ہاتھ نماز میں نہیں باندھے ہوں گے، یہ مالکیہ ہوں گے۔ ہاں شیعہ بھی اسی طرح کرتے ہیں، وہ بھی ہاتھ نہیں باندھتے بھئی، لیکن بہرحال آپ چہروں سے ہی پہچان لیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک طرف سنت کے انوارات ہوں گے اور سنت کے انوارات اور برکات آپ کو واضح دکھائی دیں گی دکھائی دے گی، جبکہ دوسری طرف بغضِ صحابہ کی وجہ سے جو نحوست برس رہی ہوگی چہروں پر وہ آپ کو کھلی آنکھوں سے دکھائی دے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ارسال ہے بھئی ارسال۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے بھئی، الحمد للہ۔ کتنی بڑی نعمت ہے بھئی کتنی بڑی نعمت، اور کتنے ظالم ہیں وہ لوگ جو صحابہ کو برا کہتے ہیں بھئی۔ صحابہ کو دراصل اگر نکال دیا جائے تو دین ہی سارا ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ حضور علیہ السلام کے شاگرد وہی ہیں، وہی دین سیکھ کر آگے دین کو پہنچانے والے ہیں۔ اس بیچ میں اس واسطے کو ختم کر دو، کاٹ دو، تو بعد میں تابعین آ گئے۔ تابعین کی تو حضور علیہ السلام سے ملاقات ہی نہیں ہوئی، وہ کیسے کوئی بات نقل کریں گے حضور علیہ السلام سے صحابہ کے واسطے کے بغیر بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بنیاد ہی دین کو ختم کرنے کی ہے بھئی۔ تو الحمد للہ اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے اور صحابہ کا ذکر بھی کہیں آتا ہے تو دل کے اندر ایمانی لذت محسوس ہوتی ہے بھئی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ارسال کیا جائے گا بھئی ارسال۔ تو یہ حدیث جو ہے ان کے خلاف دلیل ہوئی بھئی۔ اس حدیث میں کیا آیا؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا فرما رہے ہیں کہ سنت کیا ہے؟ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا تَحْتَ السُّرَّةِ ناف کے نیچے، معلوم ہوا ہاتھ باندھنا سنت ہے، کھلے چھوڑنا سنت نہیں۔ "وَعَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ" اور یہی حدیث دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف بھی "فِي الوَضْعِ عَلَى الصَّدْرِ" سینے پر ہاتھ رکھنے میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ناف کے نیچے ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے بلکہ سینے پر باندھے جائیں گے بھئی، سینے پر باندھے جائیں گے۔ تو اس حدیث میں کیا آیا؟ تَحْتَ السُّرَّةِ ناف کے نیچے باندھنا، معلوم تو یہ ان کے خلاف بھی دلیل ہوئی۔ یہ پہلی دلیل بھئی۔ دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں: "وَلِأَنَّ الوَضْعَ تَحْتَ السُّرَّةِ أَقْرَبُ إِلَى التَّعْظِيمِ" اور اس لیے کیونکہ ناف کے نیچے رکھنا ہاتھوں کا یہ تعظیم کے زیادہ قریب ہے، "وَهُوَ المَقْصُودُ" اور وہی مقصود ہے، یہی تعظیم ہی مقصود ہے۔ ہم کہتے ہیں دوسری دلیل ہے ہماری کہ نماز جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دربارِ جلال و جمال میں مناجات ہے بھئی، اللہ سے مناجات ہے، اللہ کے سامنے حاضری ہے۔ اور جب کوئی غلام کسی بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اسی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے جس طرح ہمارا طریقہ ہے بھئی، کہ ناف کے نیچے۔ تو یہ تعظیم کے لیے یہ طریقہ ہے کہ غلام بادشاہ کے دربار میں اس طرح کھڑے ہوتے ہیں، تو اور تو یہ کس طریقے کے اندر ہے؟ ہمارے طریقے کے اندر ہے۔ سینے پر ہاتھ باندھے جائیں یا کھلے چھوڑے جائیں تو اس میں تعظیم نہیں بھئی اتنی جتنی کس طریقے کے اندر ہے؟ ہمارے طریقے کے اندر ہے بھئی۔ یہ معنی ہے "لِأَنَّ الوَضْعَ تَحْتَ السُّرَّةِ أَقْرَبُ إِلَى التَّعْظِيمِ" اس لیے کیونکہ ناف کے نیچے ہاتھوں کا رکھنا یہ تعظیم کے زیادہ قریب ہے، "وَهُوَ المَقْصُودُ" اور یہی مقصود ہے یعنی تعظیم ہی مقصود ہے۔ "ثُمَّ الِاعْتِمَادُ سُنَّةُ القِيَامِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى حَتَّى لَا يُرْسِلَ حَالَةَ الثَّنَاءِ" پھر یہ ہاتھوں کا رکھنا یہ قیام کی سنت ہے۔ کس کی سنت ہے؟ قیام کی سنت ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قراءت کی سنت ہے قراءت بھئی۔ قراءت یعنی جب قرآن پڑھنا شروع کرے سورۂ فاتحہ وغیرہ، تو پھر ہاتھ باندھے اس کی سنت ہے۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ قیام کی سنت ہے قیام کی سنت، اور قیام تو تکبیرِ تحریمہ کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا لہٰذا تکبیرِ تحریمہ کہتے ہی کیا کر لے؟ ہاتھ باندھ لے، جبکہ ان کے نزدیک یہ سنت ہے قراءت کی اور قراءت سے پہلے ثناء وغیرہ ہے بھئی، تو ثناء وغیرہ اس میں معلوم ہو ہاتھ باندھنا سنت نہیں۔ لیکن شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قیام کی سنت ہے تو تکبیرِ تحریمہ کہتے ہی پھر فوراً ہاتھ باندھ لے۔ "ثُمَّ الِاعْتِمَادُ سُنَّةُ القِيَامِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ" پھر یہ ہاتھوں کا رکھنا یہ قیام کی سنت ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، "حَتَّى لَا يُرْسِلَ حَالَةَ الثَّنَاءِ" یہاں تک کہ ارسال نہیں کرے گا نماز پڑھنے والا ثناء کی حالت میں۔ ثناء وہ جو سُبْحَانَكَ اللهُمَّ پڑھتا ہے شروع میں، اس حالت میں بھی کیا کرے گا؟ ارسال نہیں کرے گا، کیونکہ یہ ثناء بھی کس حالت میں ہے؟ قیام کی حالت میں، اور ہاتھوں کا باندھنا کس کی سنت ہے؟ قیام کی۔ تو ثناء کی حالت میں بھی قیام ہے اور قیام میں تو سنت ہے ہاتھوں کا باندھنا لہٰذا اس حالت میں بھی ہاتھ باندھے ہوئے ہوں بھئی انسان کے۔ یہ معنی ہے "حَتَّى لَا يُرْسِلَ حَالَةَ الثَّنَاءِ" یہاں تک کہ ارسال نہیں کرے گا ثناء کی حالت میں۔ "وَالأَصْلُ أَنَّ كُلَّ قِيَامٍ فِيهِ ذِكْرٌ مَسْنُونٌ يَعْتَمِدُ فِيهِ وَمَا لَا فَلَا هُوَ الصَّحِيحُ" اور اصل یا ضابطہ اس کے اندر یہ ہے کہ ہر وہ قیام فِيهِ ذِكْرٌ مَسْنُونٌ جس میں کوئی مسنون ذکر ہو، أَنَّ كُلَّ قِيَامٍ، كُلَّ قِيَامٍ آیا نکرہ کیونکہ نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے، اور آگے آیا فِيهِ ذِكْرٌ مَسْنُونٌ، فِيهِ ہے خبرِ مقدم، ذِكْرٌ مَسْنُونٌ ہے مبتدائے مؤخر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ، تو جملہ آ گیا كُلَّ قِيَامٍ نکرہ کے بعد بھئی، اور نکرہ کے بعد جملہ ہے تو کیا بنتا ہے اس کے لیے؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا، لہٰذا ترجمہ یوں ہوگا: "وَالأَصْلُ أَنَّ كُلَّ قِيَامٍ فِيهِ ذِكْرٌ مَسْنُونٌ" اور اصل ضابطہ یہ ہے کہ ہر ایسا قیام جس کے اندر کوئی مسنون ذکر ہو، "يَعْتَمِدُ فِيهِ" اس کے اندر ہاتھ رکھے گا یعنی ہاتھ باندھے گا، "وَمَا لَا فَلَا" اور جو قیام ایسا نہیں فلا تو اس میں ہاتھ بھی نہیں باندھے جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کیا ضابطہ ہوا؟ کیا اصل ذکر ہو گئی؟ ہر وہ قیام جس میں کوئی مسنون ذکر ہے اس میں ہاتھ باندھے جائیں گے، اور وہ قیام جس میں مسنون ذکر نہیں اس میں ہاتھ بھی نہیں باندھے جائیں گے۔ لہٰذا اب آپ مجھے بتائیے، عید کی نمازوں میں آپ تکبیریں زائد تکبیریں کہتے ہیں، ان زائد تکبیروں کے اندر کوئی ذکر مسنون ہے؟ نہیں، ان کے درمیان میں کوئی ذکر تو مسنون نہیں، اور جب جس قیام میں ذکر مسنون نہ ہو اس میں کیا کیا جائے گا؟ ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے، لہٰذا آپ بھی اسی طرح کرتے ہیں، عید کی نمازوں میں جب وہ زائد تکبیریں کہتے ہیں تو درمیان میں ہاتھوں کو باندھتے نہیں بلکہ چھوڑ دیتے۔ اسی طرح قومہ ہے قومہ، جب آپ رکوع سے کھڑے ہوتے ہیں، یاد رکھیے یہ تفصیل آگے آ جائے گی، جب رکوع سے آپ اٹھتے ہیں تو امام کہے گا "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" اور مقتدی یہ نہیں کہے گا، مقتدی کہے گا "رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ"۔ امام صرف "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے گا اور "رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ" نہیں کہے گا، جبکہ مقتدی وہ "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" نہیں کہے گا اور "رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ" کہے گا، تو یہاں تقسیم ہے ہمارے نزدیک، امام "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے گا اور مقتدی "رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ"۔ تو یہ جب انسان رکوع سے اٹھتا ہے تو اٹھتے ہوئے امام کہے گا "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" اور اسی وقت مقتدی بھی کہے گا "رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ"، تو قومے کے اندر کوئی ذکر نہیں۔ قومے کے اندر کوئی ذکر نہیں، اسی لیے قومے کے اندر ہاتھ ہم باندھتے نہیں بلکہ ہاتھوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جبکہ جس جس حالت میں کوئی ذکر مسنون ہے تو وہاں پر ہاتھ باندھے جائیں گے، جیسے دعائے قنوت پڑھتے ہیں آپ وتر کے اندر بھئی، وتر کے اندر، تو اب ہاتھ باندھیں گے یا نہیں باندھیں گے؟ ہاتھ باندھیں گے بھئی، کیونکہ اس میں دعا پڑھی جاتی ہے اس قیام کے اندر، یہ ویسے نہیں ہے۔ اسی طرح نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں، نمازِ جنازہ کے اندر دعائیں پڑھی جاتی ہیں یا نہیں پڑھی جاتیں؟ پڑھی جاتی ہیں اور ہر تکبیر کے بعد پڑھی جاتی ہیں، لہٰذا ہاتھ باندھے رہیں گے مسلسل اسی طرح بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ قیام فِيهِ ذِكْرٌ مَسْنُونٌ جس میں کوئی مسنون ذکر ہو يَعْتَمِدُ فِيهِ اس میں ہاتھ رکھے گا یعنی ہاتھ باندھے گا، وَمَا لَا اور جو قیام ایسا نہ ہو فَلَا تو اس میں ہاتھ بھی نہیں باندھے، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے، "فَيَعْتَمِدُ فِي حَالَةِ القُنُوتِ وَصَلَاةِ الجِنَازَةِ" پس ہاتھ باندھے گا کس میں؟ دعائے قنوت کی حالت میں، وَصَلَاةِ الجِنَازَةِ اور جنازے کی نماز میں، "وَيُرْسِلُ فِي القَوْمَةِ وَبَيْنَ تَكْبِيرَاتِ الأَعْيَادِ" اور ہاتھ کھلے چھوڑ دے گا قومے کے اندر یعنی رکوع سے اٹھ کر جو قومہ ہے، وَبَيْنَ تَكْبِيرَاتِ الأَعْيَادِ اور عیدوں کی جو تکبیریں ہیں ان کے درمیان۔ "ثُمَّ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ إِلَى آخِرِهِ" جی، تکبیر کہہ دی، نماز کا طریقہ بیان ہو رہا ہے، تکبیر کہہ لی اور تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیے، اب کیا شروع کر دے گا؟ ثناء شروع کر دے گا: "سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" بھئی۔ ثُمَّ يَقُولُ تو یہ وہی ذکر کر رہے ہیں، پھر سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ آخر تک پڑھ لے گا۔ "وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ يَضُمُّ إِلَيْهِ قَوْلَهُ: إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ إِلَى آخِرِهِ" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھنے والا اس کے ساتھ ملائے گا، اس ثناء کے ساتھ کیا ملائے گا؟ اپنے اس قول کو بھی: "إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ" آخر تک، یہ دعا بھی ساتھ پڑھے گا۔ یہ دعا آپ کے حاشیے میں دی ہوئی ہے بھئی، یہ بھی احادیث سے ثابت ہے، احادیث سے۔ کیا ہے؟ "إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ المُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ المُسْلِمِينَ"۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ دعا بھی احادیث سے ثابت ہے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ثناء پڑھنے کے بعد پھر یہ دعا پڑھے گا بھئی، یہ دعا پڑھے گا۔ یہ معنی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اس کے ساتھ ملائے گا اپنے اس قول کو "إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ" آخر تک۔ "لِرِوَايَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ" دلیل ذکر کر رہے ہیں اس کی، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی دلیل ذکر کر، بوجہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے "أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ" کہ حضور علیہ السلام یہ فرماتے تھے، یہ کہتے تھے، "وَلَهُمَا" اور طرفین کی دلیل، انہوں نے کیا کہا تھا اوپر متن میں کیا آیا؟ صرف کیا پڑھے؟ سُبْحَانَكَ اللهُمَّ، صرف ثناء پڑھے گا۔ وَلَهُمَا ان کی دلیل جو ہے "رِوَايَةُ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَقَرَأَ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ إِلَى آخِرِهِ" کہ جب حضور علیہ السلام نماز کا آغاز فرماتے تو کَبَّرَ تکبیر کہتے، وَقَرَأَ اور یہ پڑھتے سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ آخر تک، "وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا" اور حضرت انس نے اس پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی روایت کے اندر اس پر کوئی زیادتی نہیں کی، انہوں نے صرف یہ ذکر کیا حضور علیہ السلام یہ پڑھا کرتے تھے اور ثناء ذکر کی ہے۔ آگے "إِنِّي وَجَّهْتُ" والی دعا ذکر نہیں کی۔ معلوم ہوا صرف یہ پڑھیں گے۔ تو اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی وہ احادیث میں تو آیا ہے بعد کے اندر، تو اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: "وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى التَّهَجُّدِ" اور وہ حدیث جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ تہجد پر محمول ہے، کہ حضور علیہ السلام تہجد میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے بھئی۔ اور تہجد کے اندر تو حضور علیہ السلام طویل نماز ادا فرماتے تھے، تو آپ بھی پڑھ سکتے ہیں تہجد میں بھی، نوافل وغیرہ میں بھی پڑھنا چاہیں پڑھ سکتے ہیں، لیکن جو فرض نمازیں ہیں ان کے اندر صرف کیا پڑھے؟ صرف ثناء پڑھے کیونکہ فرض نماز مختصر ہونی چاہیے بھئی، مختصر۔ کیونکہ بعض لوگ ضعیف ہوتے ہیں، بعض بیمار ہوتے ہیں، کمزور وغیرہ، تو لہٰذا وہ فرض نماز جماعت کے ساتھ جو ہو وہ مختصر ہونی چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جماعت کی بات چل رہی ہے، جماعت کی نماز کیا ہونی چاہیے؟ مختصر ہونی چاہیے بھئی۔ اچھا۔ تو کہتے ہیں: "وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى التَّهَجُّدِ" وہ تہجد پر محمول ہے۔ "وَقَوْلُهُ: وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ لَمْ يُذْكَرْ فِي المَشَاهِيرِ" بھئی بعض روایتوں میں "وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ" کا لفظ بھی آیا ہے۔ "سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ"، تو یہ "وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ" بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں نہیں، یہ نہ پڑھے۔ یہ نہ پڑھے، اس لیے کیونکہ مشہور روایتوں میں یہ لفظ ذکر نہیں ہے بھئی۔ مشہور روایتیں جو آئی ہیں ان میں اس لفظ کے بغیر ثناء کا ذکر ہے۔ "وَقَوْلُهُ: وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ لَمْ يُذْكَرْ فِي المَشَاهِيرِ فَلَا يَأْتِي بِهِ فِي الفَرَائِضِ" تو ان کو نہ لائے فرائض میں یعنی اس میں نہ کہے۔ "وَالأَوْلَى أَنْ لَا يَأْتِيَ بِالتَّوَجُّهِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ لِيَتَّصِلَ النِّيَّةُ بِهِ هُوَ الصَّحِيحُ" بھئی بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو دعا ہے "إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ" والی اوپر جو بیان ہوئی، یاد رکھیے اس کو فقہاء کی اصطلاح میں اس دعا کو توجہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ توجہ، اس دعا کا نام ہے توجہ بھئی۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ تکبیرِ تحریمہ سے پہلے توجہ کہہ لے، یہ دعا تکبیرِ تحریمہ سے پہلے یعنی نماز شروع کرنے سے پہلے، تحریمہ کہنے لگا ہے تو پہلے کیا کر لے؟ یہ توجہ کہہ لے۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ صحیح قول یہ ہے کہ تحریمہ سے پہلے بھی توجہ نہ کہے بھئی، تاکہ نیت جو ہے وہ تحریمہ کے ساتھ مل جائے، ورنہ تو نیت اور تحریمہ کے درمیان کیا آ جائے گا؟ فصل آ جائے گا۔ "وَالأَوْلَى أَنْ لَا يَأْتِيَ بِالتَّوَجُّهِ" اور بہتر یہ ہے کہ توجہ نہ لے کر آئے یعنی وہ نہ کہے "قَبْلَ التَّكْبِيرِ" تکبیرِ تحریمہ سے پہلے بھی، "لِيَتَّصِلَ النِّيَّةُ بِهِ" تاکہ نیت تحریمہ کے ساتھ مل جائے، "هُوَ الصَّحِيحُ" یہی قول صحیح ہے۔ تو افضل یہ ہے کہ نہ لے کر آئے بھئی، افضل یہ ہے۔ اگر لے بھی آئے کوئی حرج نہیں لیکن افضل یہ ہے کہ نہ لائے۔ "وَيَسْتَعِيذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" اور پناہ پکڑے اللہ کی مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ کس سے؟ شیطانِ مردود سے، لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: "فَإِذَا قَرَأْتَ القُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" اور جب آپ قرآن پڑھیں تو پناہ پکڑیے اللہ کی شیطان مردود سے۔ اور جب آپ قراءت کریں، مَعْنَاهُ إِذَا أَرَدْتَ قِرَاءَةَ القُرْآنِ تو قرآن میں تو "قَرَأْتَ" کا لفظ آیا لیکن قراءت سے یہاں کیا مراد ہے؟ ارادۂ قراءت مراد ہے، جب قراءت پڑھنے کا ارادہ کریں تو پھر پہلے کیا پڑھ لیں؟ اعوذ باللہ پڑھ لیں۔ تو مَعْنَاهُ إِذَا أَرَدْتَ قِرَاءَةَ القُرْآنِ جب آپ کا ارادہ قراءتِ قرآن کا ہو۔ نماز کا طریقہ بیان ہو رہا ہے بھئی۔ سب سے پہلے کیا کہے گا؟ نیت کی اور پھر تحریمہ کہے گا، اس کے بعد ہاتھ باندھ لے گا، اور ثناء پڑھے گا، ثناء کے بعد اب اعوذ باللہ پڑھے گا کیونکہ کیا شروع کرنے لگا ہے؟ قراءت شروع کرنے لگا ہے، اور قرآن میں اللہ فرماتے ہیں جب آپ قراءت کا ارادہ ہو تو کیا کر لیں؟ اعوذ باللہ پڑھ لیجیے۔ "وَالأَوْلَى أَنْ يَقُولَ: أَسْتَعِيذُ بِاللهِ" صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اولیٰ یہ ہے کہ یوں کہے "أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" یوں نہ پڑھے بلکہ اولیٰ یہ ہے یوں پڑھے: "أَسْتَعِيذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"۔ سمجھے؟ معنی دونوں کا ایک ہی، لیکن "أَسْتَعِيذُ" پڑھنا اولیٰ ہے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں۔ اس لیے تاکہ قرآن کے لفظوں کے موافق ہو جائے آپ کی اعوذ باللہ بھئی، قرآن میں کیا ہے؟ "فَاسْتَعِذْ" تو اسی کے مطابق "أَسْتَعِيذُ" پڑھیں، پڑھنا اولیٰ ہے۔ ہاں اعوذ باللہ بھی پڑھ لیں تو ٹھیک ہے لیکن اولیٰ "أَسْتَعِيذُ" ہے۔ جبکہ دیگر علماء فرماتے ہیں کہ اولیٰ اعوذ باللہ پڑھنا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اعوذ باللہ پڑھنا اولیٰ ہے۔ "وَالأَوْلَى أَنْ يَقُولَ: أَسْتَعِيذُ بِاللهِ لِيُوَافِقَ القُرْآنَ" اور اولیٰ یہ ہے کہ یوں کہے أَسْتَعِيذُ بِاللهِ تاکہ وہ قرآن کے موافق ہو جائے، مطابق ہو جائے، "وَيَقْرُبُ مِنْهُ: أَعُوذُ بِاللهِ" اور اسی کے قریب ہے أَعُوذُ بِاللهِ بھی، یعنی یہ بھی کہہ سکتا ہے یہ بھی اسی کے قریب ہے۔ "ثُمَّ التَّعَوُّذُ تَبَعٌ لِلْقِرَاءَةِ دُونَ الثَّنَاءِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى" اب یہ تعوذ جو ہے یعنی یہ اعوذ باللہ کا پڑھنا، یہ قراءت کے تابع ہے یا یہ ثناء کے تابع ہے؟ اگر قراءت کے تابع ہے تو قراءت کے وقت اعوذ باللہ پڑھے گا، اور اگر ثناء کے تابع ہے تو ثناء کے وقت کیا پڑھے گا؟ اعوذ باللہ۔ کچھ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں؟ آپ کہیں گے ایک ہی بات ہے چاہے ثناء کے ساتھ پڑھ لے چاہے قراءت کے ساتھ پڑھ لے، کیونکہ ثناء کے بعد اعوذ باللہ کے ساتھ ہی کیا شروع ہو جائے گی؟ قراءت شروع ہو جائے گی، تو لہٰذا دونوں کے ساتھ، بھئی بعض جگہ فرق پڑے گا بھئی، بعض جگہ فرق پڑے گا۔ مثلاً بھئی، عید کی تکبیرات ہیں، عید کی تکبیرات، اس میں دیکھیے نیت کر کے جب نماز شروع کرتا ہے پہلے کیا پڑھی جاتی ہے؟ ثناء پڑھتے ہیں، پھر تین تکبیریں آتی ہیں، پھر اس کے بعد قراءت آتی ہے۔ تو لہٰذا اگر یہ ثناء کے تابع، تو تکبیرات سے پہلے پڑھیں گے، اور اگر یہ قراءت کے تابع، تو تکبیرات کے بعد پڑھیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس سلسلے میں اختلاف ہے۔ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قراءت کے تابع ہے لہٰذا قراءت کے ساتھ پڑھیں گے، تو عید کی تکبیرات سے کیا کریں گے اس کو؟ مؤخر کریں گے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ کس کے تابع ہے؟ ثناء کے تابع ہے، اس لیے کیونکہ یہ دعا ہے بھئی، کیا ہے؟ دعا ہے بھئی۔ تو لہٰذا اس کو کس کے ساتھ پڑھے گا؟ ثناء کے ساتھ، تو اس سے پہلے پڑھے گا بھئی، عید کی تکبیرات سے پہلے بھئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی دعا ہے جس طرح ثناء ہے، یہ بھی اسی کی طرح ہے تو اس کے ساتھ اس کے تابع ہے۔ کہتے ہیں: "ثُمَّ التَّعَوُّذُ تَبَعٌ لِلْقِرَاءَةِ دُونَ الثَّنَاءِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ" اور پھر تعوذ یعنی اعوذ باللہ جو ہے وہ قراءت کے تابع ہے نہ کہ ثناء کے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، "لِمَا تَلَوْنَا" اس آیت کی وجہ سے جو ابھی ہم نے تلاوت کی، کیا؟ "فَإِذَا قَرَأْتَ القُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ"، "فَإِذَا قَرَأْتَ القُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" تو اس سے پتہ چلا یہ قراءت کے تابع ہے۔ "حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ المَسْبُوقُ دُونَ المُقْتَدِي" یہاں تک اس کو لے کر آئے گا یعنی اس کو کہے گا مسبوق نہ کہ مقتدی، مسبوق کہے گا، مقتدی نہ کہے۔ یہاں بھی دیکھیے، اگر یہ اعوذ باللہ ثناء کے تابع ہے تو جو ثناء پڑھنے والا ہے اس کے وہ اعوذ باللہ بھی اس کے تابع ہے تو وہ اعوذ باللہ بھی پڑھے گا۔ اور اگر یہ قراءت کے تابع کہی جائے تو جو قراءت پڑھے گا اس پر کیا ہوگا اعوذ باللہ کا پڑھنا، جو قراءت نہیں کرتا اس پر اعوذ باللہ کا پڑھنا بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا طرفین رحمہما اللہ کیا فرماتے ہیں یہ کس کے تابع؟ قراءت کے تابع، لہٰذا مسبوق تو اعوذ باللہ کہے گا، مسبوق وہ شخص جس کی ایک یا زیادہ رکعتیں رہ گئی ہوں، پھر وہ آ کر جماعت میں شامل ہوا۔ اب وہ جب شامل ہوا ہے بعد میں تو امام جب سلام پھیر دے گا وہ اپنی بقیہ رکعتیں پوری کرے گا، اور جب بقیہ رکعتیں پوری کرے گا اس میں قراءت بھی کرے گا، اور اعوذ باللہ تو قراءت کے تابع ہے لہٰذا وہ کیا کرے گا؟ اعوذ باللہ پڑھے گا۔ تو مسبوق پڑھے گا۔ اور مقتدی نہیں پڑھے گا، مقتدی جو شروع سے ہی نماز میں شریک ہوا ہے، اس لیے کیونکہ وہ امام کے پیچھے ساری رکعتیں پڑھ رہا ہے، تو امام کی قراءت مقتدی کی بھی قراءت ہے، امام کے پیچھے تو مقتدی قراءت نہیں کرتا، تو لہٰذا مقتدی جب ہے تو قراءت نہیں کر رہا تو قراءت کے تابع ہے اعوذ باللہ وہ بھی نہیں پڑھے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یاد رکھیے بھئی، یہاں مسبوق اور مقتدی کا ذکر آیا، میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ایک ہے مدرک، ایک کیا ہے؟ مسبوق، اور ایک ہے لاحق بھئی۔ مدرک، مسبوق اور لاحق۔ مدرک وہ ہے جو شروع سے نماز کے اندر شریک ہے، ساری رکعتیں اس کو مل گئیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مدرک۔ اور اسی کو مقتدی بھی کہتے ہیں اور مؤتم بھی کہتے ہیں۔ اسی مدرک کو کیا کہتے ہیں؟ مقتدی، جیسے یہاں پر مقتدی کا لفظ آیا، اس سے کون مراد ہے؟ مدرک۔ تو مدرک ہی کا دوسرا نام مقتدی بھی ہے اور اسی مدرک کو مؤتم بھی کہتے ہیں، مؤتم میں میم مشدد ہے، مؤتم، یہ بھی اسی مقتدی کے معنی میں ہے، اقتداء کرنے والا۔ اور اسی طرح دوسرا لفظ کیا تھا؟ مسبوق بھئی۔ مسبوق وہ ہے جس کی ایک یا زیادہ رکعتیں رہ گئی ہوں، وہ جماعت میں آ کر شامل ہوا اور ایک یا زیادہ رکعتیں رہ گئیں، یہ ہے مسبوق۔ اور تیسرا لفظ ہے لاحق بھئی لاحق، لاحق وہ ہے جو نماز میں شریک ہوا اور شرکت کے بعد اس کی کچھ رکعتیں رہ گئیں سو جانے کی وجہ سے، نماز ہی میں کیا ہوا؟ وہ سو گیا تھا یا اس کو حدث لاحق ہوا، بہرحال جو بھی صورت پیش آئی، شریک ہونے کے بعد اس کی کچھ رکعتیں رہ گئی ہیں تو یہ کیا ہے؟ لاحق ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے "حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ المَسْبُوقُ دُونَ المُقْتَدِي" یہاں تک کہ ان کو کہے گا مسبوق نہ کہ مقتدی، "وَيُؤَخِّرُ عَنْ تَكْبِيرَاتِ العِيدِ" اور یہاں تک کہ اس کو مؤخر کرے گا کہاں کس سے؟ تکبیراتِ عید سے۔ یہ کس کی دلیل چل رہی ہے؟ طرفین کا مذہب بیان ہو رہا ہے کہ وہ تعوذ جو ہے قراءت کے تابع ہے اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، چنانچہ اسی وجہ سے مسبوق جو ہے وہ اعوذ باللہ کہے گا، مقتدی نہیں کہے گا، اور نیز عیدین کی تکبیرات سے اعوذ باللہ کو مؤخر کرے گا، "خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ" بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں یہ ثناء کے تابع ہے۔ جب ثناء کے تابع ہے تو ثناء کے ساتھ پڑھا جائے گا، اور ثناء عید کی تکبیرات سے پہلے ہوتی ہے لہٰذا اعوذ باللہ بھی پہلے ہوگی۔ اور نیز امام صاحب کا کیا مذہب تھا؟ مقتدی، مقتدی اعوذ باللہ نہیں پڑھے گا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق وہ اعوذ باللہ پڑھے گا، کیونکہ مقتدی ثناء تو پڑھتا ہے، قراءت نہیں کرتا لیکن ثناء تو پڑھتا ہے، اور ثناء ہی کے تابع ہے اعوذ باللہ تو اعوذ باللہ بھی پڑھے گا۔ "وَيَقْرَأُ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" اور پڑھے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ ثناء پہلے پڑھے، پھر اعوذ باللہ پڑھے نمازی، اس کے بعد کیا کرے؟ بسم اللہ پڑھے گا۔ "هَكَذَا نُقِلَ فِي المَشَاهِيرِ" اسی طرح نقل کیا گیا ہے مشہور احادیث میں۔ "وَيُسِرُّ بِهِمَا" اور ان دونوں کو چھپائے گا یعنی آہستہ کہے گا۔ اعوذ باللہ اور بسم اللہ، ان کو آہستہ کہے گا، "لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ" حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے، وہ فرماتے ہیں: "أَرْبَعٌ يُخْفِيهِنَّ الإِمَامُ" چار چیزیں ایسی ہیں جن کو امام چھپائے گا یعنی آہستہ آواز سے کہے گا، "وَذَكَرَ مِنْ جُمْلَتِهَا التَّعَوُّذَ وَالتَّسْمِيَةَ وَآمِينَ" اور ذکر کیا ان کے ان جملہ چیزوں میں سے تعوذ، تسمیہ اور آمین۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں چار چیزیں ایسی ہیں جن کو امام چھپائے گا یعنی آہستہ کہے گا اور ان کے مجموعے میں سے کس کو ذکر کیا؟ تعوذ، اعوذ باللہ کو بھی، والتَّسْمِيَةَ یعنی بسم اللہ کو بھی، وَآمِينَ اور آمین۔ "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَجْهَرُ بِالتَّسْمِيَةِ عِنْدَ الجَهْرِ بِالقِرَاءَةِ" امام شافعی رحمہ اللہ، یاد رکھیے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن نمازوں میں جہری قراءت ہے یعنی فجر، مغرب اور عشاء، ان میں امام جو ہے جہری قراءت جو کر رہا ہے، امام وہ بسم اللہ بھی جہراً پڑھے گا، اونچی آواز سے۔ تو لہٰذا آپ تو یہاں نماز پڑھتے ہیں تو امام قراءت کیسے شروع کرتا ہے؟ الحمد للہ رب العالمین سے شروع کرتا ہے، لیکن شوافع کے پیچھے اگر آپ نماز پڑھیں گے جہری تو آپ دیکھیں گے وہ بسم اللہ بھی اونچی آواز سے پڑھتے ہیں بھئی۔ تو "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَجْهَرُ بِالتَّسْمِيَةِ عِنْدَ الجَهْرِ بِالقِرَاءَةِ" کہ جہر کرے گا نماز پڑھنے والا بسم اللہ کے ساتھ عِنْدَ الجَهْرِ بِالقِرَاءَةِ جب وہ کیا کرے گا؟ قراءت کے ساتھ جہر کرے گا یعنی اونچی آواز سے جب قراءت پڑھے گا، "لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ جَهَرَ فِي صَلَاتِهِ بِالتَّسْمِيَةِ" بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی ہے کہ حضور علیہ السلام جو ہیں انہوں نے جہر فرمایا اپنی نماز میں بالتسمیۃ بسم اللہ کے ساتھ۔ "قُلْنَا: هُوَ مَحْمُولٌ عَلَى التَّعْلِيمِ" ہم کہتے ہیں جواب میں کہ وہ حدیث محمول ہے تعلیم پر۔ حضور علیہ السلام نے بطورِ تعلیم کے اونچا فرمایا تاکہ صحابہ سیکھ لیں کہ بسم اللہ بھی پڑھنی ہے۔ سیکھ لیں کہ کیا کرنا ہے؟ بسم اللہ بھی پڑھنی ہے، لیکن یہ حضور کا عام معمول نہیں تھا۔ کبھی فرمایا بھی ہے تو کس وجہ سے فرمایا؟ تعلیم کے لیے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دلیل ہے آپ کے پاس کہ حضور علیہ السلام کا معمول آہستہ پڑھنے کا تھا؟ تو وہ آگے حدیث بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "لِأَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ لَا يَجْهَرُ بِهَا" اس لیے کیونکہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے أخبر انہوں نے خبر دی ہے یعنی انہوں نے حدیث ذکر فرمائی ہے کہ حضور علیہ السلام جو ہیں وہ جہر نہیں فرماتے تھے بسم اللہ کے ساتھ یعنی بسم اللہ اونچی آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔ "ثُمَّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ لَا يَأْتِي بِهَا فِي أَوَّلِ كُلِّ رَكْعَةٍ كَالتَّعَوُّذِ" پھر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے کہ بسم اللہ کو نہ لائے گا یعنی نہیں کہے گا فِي أَوَّلِ كُلِّ رَكْعَةٍ ہر رکعت کے شروع میں، كَالتَّعَوُّذِ جیسے کہ تعوذ ہے۔ جیسے کیا ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جی۔ امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ پہلی رکعت میں تو بسم اللہ پڑھے گا اور باقی رکعتوں میں بسم اللہ نہیں پڑھے گا جیسے کہ تعوذ ہے، یعنی جیسے باقی رکعتوں میں تعوذ یعنی اعوذ باللہ نہیں پڑھی جاتی اسی طرح بسم اللہ بھی نہیں پڑھی جائے گی۔ یہ ایک روایت ہے۔ "وَعَنْهُ أَنَّهُ يَأْتِي بِهَا احْتِيَاطًا" اور امام صاحب سے ہی ایک روایت یہ ہے کہ بسم اللہ لائے گا یعنی ہر رکعت میں پڑھے گا احتیاطاً بطورِ احتیاط۔ ہر رکعت میں بسم اللہ پڑھے گا بھئی قراءت کے لیے، بطورِ احتیاط کے، اس لیے کیونکہ بعض ائمہ کے نزدیک بسم اللہ فاتحہ کا جزء ہے۔ ہمارے نزدیک تو بسم اللہ فاتحہ کا جزء نہیں، لیکن بعض ائمہ کے نزدیک بسم اللہ فاتحہ کا جزء ہے، تو احتیاط اسی میں ہے کہ جب فاتحہ پڑھ رہا ہے تو ساتھ کس کو پڑھ لے؟ بسم اللہ کو بھی پڑھ لے تاکہ اختلاف سے ہی نکل جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تاکہ ہر ایک کے مطابق مذہب کے مطابق نماز صحیح ہو جائے۔ تو دیکھیے یہاں صاحبِ ہدایہ بھئی، کیا فرمایا؟ ایک روایت یہ ہے کہ ہر رکعت میں بسم اللہ نہیں پڑھے گا جیسے اعوذ باللہ نہیں پڑھتا، اور دوسری روایت یہ ہے کہ احتیاط اس میں ہے کہ ہر رکعت میں کیا کر لے؟ بسم اللہ پڑھ لے بھئی، بسم اللہ پڑھ لے۔ یہ صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات، دیکھیے ایک لفظ کے اندر ایک پورے مسئلے کی طرف وہ اشارہ کر جاتے ہیں، اشارہ۔ جیسے انہوں نے کہا "كَالتَّعَوُّذِ" جیسے کہ اعوذ باللہ ہے۔ کوئی انہوں نے ذکر کیا کہیں پر کہ اعوذ باللہ پہلی رکعت میں پڑھنی ہے بعد والوں میں نہیں پڑھنی؟ لیکن یہاں "كَالتَّعَوُّذِ" کے ذریعے بتا کے چلے گئے جیسے کیا ہے؟ اعوذ باللہ ہے، یعنی وہ پہلی رکعت میں پڑھنی ہے اور باقیوں میں نہیں پڑھنی۔ سمجھ میں آیا کہ نہیں بھئی؟ انہوں نے کہا بسم اللہ کو ہر رکعت میں نہیں پڑھیں گے صرف پہلی میں پڑھیں گے، باقی رکعتوں میں نہیں پڑھیں گے جیسے کیا ہے؟ اعوذ باللہ، پتہ چل گیا کہ اعوذ باللہ پہلی رکعت میں پڑھی جائے گی بعد والی رکعتوں میں نہیں پڑھی جائے گی۔ تو یہ جگہ جگہ صاحبِ ہدایہ اس طرح کرتے ہیں، ایک مثال کے طور پر ایک چیز کو ذکر کرتے ہیں اور اسی میں دراصل وہ مسئلہ بتاتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ "وَهُوَ قَوْلُهُمَا" اور یہی قول ہے صاحبین کا بھی کہ ہر رکعت میں کیا کرے گا؟ بسم اللہ پڑھے گا۔ "وَلَا يَأْتِي بِهَا بَيْنَ السُّورَةِ وَالفَاتِحَةِ إِلَّا عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى" اور نہ لے کر آئے گا بسم اللہ کو یعنی نہیں کہے گا بسم اللہ کو بَيْنَ السُّورَةِ وَالفَاتِحَةِ سورت اور فاتحہ کے درمیان۔ بھئی سورۂ فاتحہ ختم کر لی، آگے اب جو سورت شروع کرنے لگے ہیں تو کیا وہاں بسم اللہ پڑھیں گے یا نہیں؟ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں بسم اللہ نہیں پڑھیں گے۔ "إِلَّا عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ" سوائے امام محمد رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں کہ پڑھیں گے بھئی۔ "فَإِنَّهُ يَأْتِي بِهَا فِي الصَّلَاةِ المُخَافَتَةِ" پس وہ لے کر آئے گا اس کو یعنی بسم اللہ پڑھے گا فِي الصَّلَاةِ المُخَافَتَةِ مخافتت والی نماز، یعنی جس میں آہستہ قراءت کی جاتی ہے، جس میں؟ بھئی امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سورۂ فاتحہ کے بعد جب دوسری سورت شروع کرنے لگیں تو وہاں بھی کیا کرے گا؟ بسم اللہ پڑھنی چاہیے، لیکن وہ اس نماز میں جس میں قراءت آہستہ کی جاتی ہے، جس میں قراءت اونچی کی جاتی ہے اس کے اندر نہیں پڑھے گا بھئی۔ امام نماز پڑھاتا ہے، آپ سنتے ہیں، وہ سورۂ فاتحہ ختم کرنے کے بعد پھر کیا شروع کر دیتا ہے؟ سورت، درمیان میں بسم اللہ پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا؟ نہیں پڑھتا، تو شیخین رحمہما اللہ کا یہ مذہب ہے۔ اور یہ جہری نماز میں امام محمد رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ اس میں نہیں پڑھے گا، ہاں جو آہستہ آواز میں قراءت کرے تو اس میں کیا کرے گا؟ پڑھے گا بھئی۔ لیکن شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں بھی نہیں پڑھے گا بھئی۔ "ثُمَّ يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الكِتَابِ وَسُورَةً أَوْ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَيِّ سُورَةٍ شَاءَ" پھر اس کے بعد بھئی پڑھے فاتحۃ الکتاب یعنی سورۂ فاتحہ پڑھے گا۔ بھئی کیا طریقہ بیان ہوا؟ تکبیر کہی، ہاتھ باندھ لیے، پھر اس کے بعد سُبْحَانَكَ اللهُمَّ ثناء پڑھ لی، اس کے بعد اعوذ باللہ پڑھیں گے، پھر بسم اللہ اور اب سورۂ فاتحہ کا ذکر آیا، پھر سورۂ فاتحہ پڑھے گا، وَسُورَةً اور کوئی سورت، أَوْ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَيِّ سُورَةٍ یا تین آیتیں کسی سورت سے، یعنی سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی ایک سورت پڑھ لے یا تین آیتیں پڑھ لے کسی جگہ سے، مِنْ أَيِّ سُورَةٍ شَاءَ جس سورت سے وہ چاہے، جس سورت سے وہ چاہے۔ "فَقِرَاءَةُ الفَاتِحَةِ لَا تَتَعَيَّنُ رُكْنًا عِنْدَنَا" تو فاتحہ کی قراءت یہ متعین نہیں ہے بطورِ رکن کے ہمارے نزدیک۔ ہمارے نزدیک بالخصوص سورۂ فاتحہ کا پڑھنا یہ فرض نہیں ہے، رکن نہیں ہے نماز کا۔ رکنِ نماز تو وہ ہے کہ جو رہ جائے تو نماز ہی نہیں ہوئی، تو ہمارے نزدیک سورۂ فاتحہ کا پڑھنا رکن نہیں ہے بھئی۔ ہاں مطلق قراءت جو ہے وہ رکن ہے، فرض ہے، خاص طور پر فاتحہ کا پڑھنا رکن نہیں۔ "فَقِرَاءَةُ الفَاتِحَةِ لَا تَتَعَيَّنُ رُكْنًا عِنْدَنَا" تو فاتحہ کا پڑھنا وہ بطورِ رکن کے متعین نہیں ہے ہمارے نزدیک، "وَكَذَا ضَمُّ السُّورَةِ إِلَيْهَا" اور اسی طرح سورت کا اس کے ساتھ ملانا یہ بھی ہمارے نزدیک رکن نہیں۔ سورۂ فاتحہ کا پڑھنا بھی رکن نہیں اور فاتحہ کے ساتھ ایک اور سورت یا اور کچھ آیتوں کا ملانا یہ بھی ہمارے نزدیک رکن نہیں۔ "خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الفَاتِحَةِ" بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے فاتحہ کے اندر، "وَلِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ فِيهِمَا" اور امام مالک رحمہ اللہ کے دونوں میں، یعنی بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے کہ وہ اختلاف کرتے ہیں کس چیز میں؟ سورۂ فاتحہ میں، ان کے نزدیک سورۂ فاتحہ کا پڑھنا یہ رکنِ صلاۃ ہے، فرض ہے نماز کے اندر، یہ رہ جائے تو نماز ہی نہیں ہوگی۔ اور امام مالک رحمہ اللہ فِيهِمَا دونوں میں اختلاف کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں سورۂ فاتحہ کا پڑھنا بھی فرض اور اس کے ساتھ کسی سورت کا ملانا بھی فرض، تو دونوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ لَهُ امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وہ حضور علیہ السلام کا قول ہے ان کی دلیل: "لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ وَسُورَةٍ مَعَهَا" کوئی نماز نہیں ہے مگر سورۂ فاتحہ کے ساتھ اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت ہو۔ یعنی معلوم ہوا سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ جب تک دوسری سورت نہ ملائیں گے اس کے بغیر کوئی نماز ہوگی ہی نہیں، یہ کس سے معلوم ہوا؟ حدیث سے، یہ امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل، چنانچہ وہ فرماتے ہیں سورۂ فاتحہ بھی فرض اور اس کے ساتھ سورت کا ملانا بھی فرض۔ وَلِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے: "لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ" کوئی نماز نہیں مگر فاتحۃ الکتاب کے ساتھ یعنی سورۂ فاتحہ، یعنی سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوگی کوئی بھی، معلوم ہوا سورۂ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔ یہ کس کی دلیل آئی؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل قَوْلُهُ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ القُرْآنِ" تم پڑھو جو آسان ہو قرآن میں سے، جو میسر ہو کس میں سے؟ قرآن، معلوم ہوا مطلق قراءت فرض ہے، کہیں سے بھی کر لی جائے فرض ادا ہو جائے گا، فرض ادا ہو جائے گا، نماز جائز ہو جائے گی۔ تو یہ ہم دلیل کے طور پر آیت ذکر کرتے ہیں، وہ دلیل کے طور پر احادیث ذکر کر رہے تھے ہم نے دلیل کے طور پر قرآن کو ذکر کر دیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور لیکن میں نے ابھی آپ کو بتایا، احناف کی کوشش ہوتی ہے ہر حدیث پر عمل ہو جائے، چنانچہ اب یہ معنی بھی نہیں ہم نے ان احادیث کو چھوڑ دیا، ہم ان دونوں پر بھی عمل کرتے ہیں لیکن کتاب اللہ جو ہے سب سے قوی ہے، سب سے قوی کیونکہ متواتر ہے تو لہٰذا اس کا درجہ سب سے اونچا۔ کتاب اللہ سے جو چیز ثابت ہوئی اس کو ہم نے فرض قرار دیا تو مطلقِ قراءت فرض ہے۔ اور احادیث جو ہیں وہ خبرِ واحد ہیں تو اس کے ذریعے جو چیز ثابت ہوئی اس کو ہم نے واجب قرار دیا، واجب قرار دیا۔ تو ہمارے نزدیک سورۂ فاتحہ کا پڑھنا واجب، اس کے ساتھ سورت کا ملانا واجب ہے، واجب ہے۔ اور میں نے بتایا تھا واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو سے نماز ہو جائے گی، لیکن جان بوجھ کر اگر چھوڑتا ہے تو اس نے بڑی ہی خراب نماز پڑھی اور اس کو اس پر نماز کا اعادہ واجب ہے، نماز پھر لوٹانی چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو دیکھو احناف کی کوشش ہوتی ہے ہر حدیث پر عمل ہو جائے، تو ہمارے نزدیک بھی سورۂ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور سورت کا ملانا بھی واجب ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوا بھئی۔ "وَالزِّيَادَةُ عَلَيْهِ بِخَبَرِ الوَاحِدِ لَا يَجُوزُ" اور تو یہ قرآن میں آیا ہے اور اس پر زیادتی کرنا بخبر الواحد خبرِ واحد کے ساتھ لَا يَجُوزُ یہ جائز نہیں۔ بھئی آپ نے اصولِ فقہ کے اندر پڑھا ہے کہ خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں ہے، خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں، لیکن یاد رکھیے یہ قانون اس طرح نہیں ہے اس میں تفصیل ہے تھوڑی سی۔ خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر شرط اور فرض کے درجے میں زیادتی جائز نہیں، واجب اور سنت کے درجے میں زیادتی جائز ہے۔ یعنی کتاب اللہ سے ایک چیز معلوم ہو رہی ہے، خبرِ واحد سے دوسری چیز معلوم ہو رہی ہے، تو جو چیز خبرِ واحد سے معلوم ہو رہی ہے اس کو فرض یا شرط نہیں قرار دیا جا سکتا، کیونکہ اگر آپ اس کو بھی فرض قرار دیتے ہیں یا شرط قرار دیتے ہیں تو آپ نے کتاب اللہ پر زیادتی کی اور کس درجے میں کی؟ فرض اور شرط کے فرض اور شرط کے درجے میں، نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کتاب اللہ کا مقام اونچا ہے لہٰذا اس سے جو چیز ثابت ہوگی وہ فرض ہوگی، اور خبرِ واحد کا مقام اس سے کم ہے لہٰذا اس سے جو چیز ثابت ہوگی وہ شرط اور فرض نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، واجب اور سنت کے درجے میں زیادتی جائز ہے، اسی لیے ہم نے کیا قرار دیا؟ واجب قرار دیا، اور واجب پر بھی عمل ضروری ہوتا ہے ہمارے نزدیک آپ جانتے ہیں بھئی۔ یہ فرض کے قریب ہی ہے بھئی، ہاں فرض میں اعتقاد ضروری ہے واجب میں اعتقاد ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ واجب میں اعتقاد ضروری نہیں۔ کیا معنی ہوتا ہے اعتقاد ضروری ہے اعتقاد ضروری نہیں؟ ہاں، شاباش۔ بھئی وتر ہمارے نزدیک واجب ہیں یا فرض ہیں؟ واجب ہیں۔ لہٰذا ایک آدمی وتروں کا انکار کر دیتا ہے تو اب آپ اس کو کافر نہیں کہیں گے۔ کافر نہیں، کیونکہ اس کا اعتقاد رکھنا فرض ہے ہی نہیں، اعتقاد ضروری تھا ہی نہیں کیونکہ واجب ہے، کافر نہیں کہیں گے۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہاں، گناہگار ہونا وغیرہ الگ ہے بات، کافر کہیں گے یا کافر نہیں کہیں گے؟ اس کو کافر نہیں کہیں گے۔ ہاں اگر فرض کا کوئی انکار کرتا ہے اس کو کافر کہیں گے، لہٰذا اگر ایک شخص کہتا ہے ظہر کی نماز ہے ہی نہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ کافر ہے۔ تو فرض کا اعتقاد بھی ضروری، پڑھنا نہ پڑھنا دوسری چیز ہے اعتقاد رکھنا ضروری ہے بھئی، اعتقاد بھی ہو اور اس پر عمل بھی ہونا چاہیے، لیکن اگر اعتقاد نہیں رکھے گا تو کافر ہو جائے گا، کس میں؟ فرضوں میں۔ اور واجب میں کافر اس کو قرار نہیں دیا جائے گا، فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا خبرِ واحد پر انہوں نے کیا کہا؟ "وَالزِّيَادَةُ عَلَيْهِ بِخَبَرِ الوَاحِدِ لَا يَجُوزُ" اور کتاب اللہ پر زیادتی کرنا خبرِ واحد کے ساتھ یہ جائز نہیں، حالانکہ واجب قرار دیا یا نہیں؟ خود کہہ رہے ہیں: "وَلَكِنَّهُ يُوجِبُ العَمَلَ" لیکن یہ عمل کو واجب کرتا ہے، یعنی اس پر عمل واجب ہے، عمل کرنا واجب ہو۔ تو بھئی کتاب اللہ سے کیا پتہ چلا؟ سورۂ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے یا واجب نہیں؟ کتاب اللہ سے کتاب اللہ سے، کتاب اللہ میں تو صرف مطلقِ قراءت فرض ہے اتنا پتہ چلا۔ تو آپ جب سورۂ فاتحہ کو واجب قرار دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ سورت کے ملانے کو واجب قرار دے رہے ہیں تو یہ کتاب اللہ پر زیادتی ہوئی یا نہ ہوئی؟ زیادتی تو ہو گئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اسی لیے ان دو قیدوں کا لحاظ رکھنا کہ کتاب اللہ پر خبرِ واحد کے ذریعے فرض اور شرط کے درجے میں زیادتی جائز نہیں، واجب اور سنت کے درجے میں زیادتی جائز ہے بھئی۔ اور اسی طرح ذکر کیا ہے علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے فیض الباری کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَالزِّيَادَةُ عَلَيْهِ بِخَبَرِ الوَاحِدِ لَا يَجُوزُ" اور کتاب اللہ پر زیادتی کرنا خبرِ واحد کے ساتھ یہ جائز نہیں، "وَلَكِنَّهُ يُوجِبُ العَمَلَ" لیکن یہ کس کو واجب کرتی ہے خبرِ واحد؟ عمل کو واجب کرتی ہے، "فَقُلْنَا بِوُجُوبِهِمَا" تو ہم نے بھی کہا ان کے واجب ہونے کا، یعنی ہم بھی اس کے واجب ہونے کے قائل ہوئے، ہمارے نزدیک یہ دونوں چیزیں واجب ہیں۔ "وَإِذَا قَالَ الإِمَامُ: وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ: آمِينَ" اور جس وقت امام وَلَا الضَّالِّينَ کہے قَالَ آمِينَ تو آمین کہے، کون کہے آمین؟ امام، قَالَ آمِينَ۔ "وَإِذَا قَالَ الإِمَامُ: وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ: آمِينَ" جب امام کیا کہے؟ وَلَا الضَّالِّينَ کہے تو آمین کہے، "وَيَقُولُهَا المُؤْتَمُّ" اور مقتدی بھی کہے گا آمین، وَيَقُولُهَا المُؤْتَمُّ بھئی میم مشدد ہے یاد رکھنا، مقتدی بھی یہ کہے گا۔ دلیل اس کی کیا ہے؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: "إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا" جب امام آمین کہے فَأَمِّنُوا تو تم آمین کہو، تو تم آمین کہو۔ "وَلَا مُتَمَسَّكَ لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ" اور امام مالک رحمہ اللہ کا کی کوئی دلیل نہیں ہے حضور علیہ السلام کے قول میں: "إِذَا قَالَ الإِمَامُ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ" کہ جب امام وَلَا الضَّالِّينَ کہے تو تم لوگ آمین کہو، اس میں امام مالک رحمہ اللہ کا متمسک نہیں ہے یعنی وہ اس سے تمسک نہیں کر سکتے یعنی اس سے دلیل نہیں پکڑ سکتے۔ کس چیز میں دلیل نہیں پکڑ سکتے؟ "مِنْ حَيْثُ القِسْمَةِ" تقسیم کی حیثیت سے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں تقسیم ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ تقسیم ہے۔ یہ قراءت کرنا اور وَلَا الضَّالِّينَ تک پڑھنا یہ کس کا کام ہے؟ امام کا کام ہے، اور آمین کہنا یہ مقتدی کا کام ہے، تو دو تقسیم ہے چیزیں، قراءت کس کا کام؟ امام، اور آمین کہنا کس کا کام؟ مقتدی کا، کیونکہ حدیث میں کیا آیا: جب امام وَلَا الضَّالِّينَ کہے فَقُولُوا آمِينَ تو تم کیا کہو؟ آمین کہو۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ امام مالک اس حدیث سے تمسک نہیں کر سکتے، اس کو بطورِ دلیل کے نہیں پکڑ سکتے کس حیثیت سے؟ تقسیم کی حیثیت سے کہ تقسیم ہے یہاں پر، امام کا کام ہے وَلَا الضَّالِّينَ کہنا اور مقتدی کا کام ہے آمین، اس تقسیم کی حیثیت سے اس کو دلیل نہیں پکڑ سکتے، کیوں؟ کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ" اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے حدیث کے آخر میں فرمایا ہے، اسی حدیث کے آخر میں فرمایا حضور علیہ السلام نے: "فَإِنَّ الإِمَامَ يَقُولُهَا" کہ بے شک امام بھی آمین کہے گا، امام بھی آمین کہے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس سے پتہ لگا امام بھی آمین کہے گا، اور اوپر ایک حدیث ہم نے ذکر کر دی تھی اس میں مقتدی کا بھی ذکر آیا تھا بھئی، تو دونوں کہیں گے۔ "قَالَ: وَيُخْفُونَهَا" اور صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَيُخْفُونَهَا کہ آمین کو چھپائیں گے، آمین کو آہستہ کہیں گے۔ ہمارے نزدیک آمین آہستہ آواز سے کہی جائے گی اونچی آواز سے نہیں۔ کس وجہ سے؟ کہتے ہیں: "لِمَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" بوجہ وہ جو ہم نے روایت کیا یعنی کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے۔ کیا حدیث آئی تھی بھئی؟ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: "أَرْبَعٌ يُخْفِيهِنَّ الإِمَامُ" چار چیزیں ہیں جن کو کیا کرے گا؟ امام چھپائے گا، "وَذَكَرَ مِنْ جُمْلَتِهَا التَّعَوُّذَ وَالتَّسْمِيَةَ وَآمِينَ" اور اس میں سے کس کو ذکر کیا انہوں نے؟ آمین کو بھی ذکر فرمایا ہے، تو اس حدیث سے ثابت ہوا۔ نیز عقلی دلیل بھی آگے ذکر کر رہے ہیں: "وَلِأَنَّهُ دُعَاءٌ" اور نیز اس لیے کیونکہ آمین کیا ہے؟ دعا ہے دعا بھئی دعا۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ آمین کا معنی ہے: اسْتَجِبْ، اسْتَجِبْ، یعنی اے اللہ قبول فرما لیجیے، ہم نے جو دعا کی ہے اے اللہ اسے قبول فرما لیجیے، ایسا کر اے اللہ ایسا کر دیجیے۔ آمین کا کیا معنی؟ اے اللہ ایسا کر دیجیے، یا اے اللہ قبول فرما لیجیے۔ تو یہ دعا ہے، تو دوسری عقلی دلیل یہ کہ "لِأَنَّهُ دُعَاءٌ" اس لیے کیونکہ آمین دعا ہے، "فَيَكُونُ مَبْنَاهُ عَلَى الإِخْفَاءِ" تو اس کی بنیاد اخفاء پر ہے کہ اس کو چھپانا چاہیے، دعا کو کیا کرنا چاہیے؟ چھپانا چاہیے۔ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً" کہ تم پکارو اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور پوشیدہ طور پر۔ تو دیکھا معلوم ہوا دعا پوشیدہ ہونی چاہیے، تو آمین بھی دعا ہے تو یہ آہستہ آواز کے ساتھ ہونی چاہیے۔ "وَالمَدُّ وَالقَصْرُ فِيهِ وَجْهَانِ" اور مد اور قصر اس میں دو وجہیں ہیں۔ یاد رکھیے یہ لغت بیان کر رہے ہیں اس کے، کس طرح اس کو پڑھا جائے گا بھئی، تو اس میں دو لغتیں ہیں بھئی: ایک "آمِينَ"، الف کو ذرا شروع میں لمبا کیا، مد ہے: "آمِينَ"، اور ایک ہے قصر کے ساتھ: "أَمِينَ"۔ ایک ہے "آمِينَ" اور ایک "أَمِينَ"، دونوں لغتیں ہیں اس کے اندر بھئی۔ مد سے مراد یہ ہے آمین کے الف کو لمبا کرنا جیسے ہم پڑھتے ہیں آمین، یہ الف کو کیا کر رہے ہیں ہم؟ لمبا، اور قصر کا معنی ہے بغیر مد کے پڑھنا یعنی أَمِينَ۔ ایک ہے آمین اور ایک ہے أَمین، بغیر مد کے یہ ہمزہ کو پڑھنا یہ ہے قصر بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَالمَدُّ وَالقَصْرُ فِيهِ وَجْهَانِ" اور مد اور قصر اس کے اندر دو وجہیں ہیں یعنی دو لغتیں ہیں، دونوں طرح عرب اس کو پڑھتے ہیں آمین بھی اور امین بھی۔ "وَالتَّشْدِيدُ فِيهِ خَطَأٌ فَاحِشٌ" اور اس کے اندر شد پڑھنا یہ فاحش غلطی ہے، بڑی غلطی ہے، یعنی میم کو مشدد پڑھنا: "آمِّينَ" یہ کیا ہے؟ یہ بڑی غلطی ہے بھئی، لہٰذا میم کو مشدد نہ پڑھے، باقی دونوں لغتیں ہیں، آمین بھی کہہ سکتا ہے اور امین بھی کہہ سکتا ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
82 approved lectures · 48 of 82