Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-025

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَأَمَّا الِاغْتِسَالُ بِهِ فَقَدْ قِيلَ يَجُوزُ عِنْدَهُ اعْتِبَارًا بِالْوُضُوءِ، وَقِيلَ لَا يَجُوزُ لِأَنَّهُ فَوْقَهُ، وَالنَّبِيذُ الْمُخْتَلَفُ فِيهِ أَنْ يَكُونَ حُلْوًا رَقِيقًا يَسِيلُ عَلَى الْأَعْضَاءِ كَالْمَاءِ، وَمَا اشْتَدَّ مِنْهَا صَارَ حَرَامًا لَا يَجُوزُ التَّوَضِّي بِهِ، وَإِنْ غَيَّرَتْهُ النَّارُ فَمَا دَامَ حُلْوًا فَهُوَ عَلَى الْخِلَافِ“ نبیزِ تمر سے وضو کا بیان چل رہا ہے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عرب کا طریقہ تھا وہ کھجوریں وغیرہ پانی میں ڈال دیتے اور اس سے وہ پانی میں مٹھاس وغیرہ آ جاتی، اس پانی کو وہ کیا کہتے تھے؟ نبیز۔ اور پھر اس میں میں نے بتلایا تین صورتیں ہیں، تین قسم کی نبیزیں ہو گئیں: ایک وہ پانی جس کے اندر کھجوریں ڈالی ہیں لیکن ابھی اس میں مٹھاس نہیں آئی، دوسری صورت کہ پھر اس میں مٹھاس آ گئی یعنی کچھ دیر گزر گئی ہے کھجوریں ڈالے ہوئے، تیسری صورت کہ زیادہ وقت گزر گیا تو اس کے اندر کچھ کڑواہٹ آ گئی اور نشہ بھی آ گیا۔ تو پہلی صورت جس کے اندر صرف، جس میں کھجوریں ڈالی ہیں لیکن ابھی مٹھاس بھی نہیں آئی تو اس صورت میں تو اس پانی سے بالاتفاق وضو جائز ہے۔ اور آخری صورت جس میں نشہ بھی آ گیا اس میں تو بالاتفاق وضو جائز نہیں، البتہ یہ نبیز جس کے اندر صرف مٹھاس آئی ہے کھجوروں کی، جو دوسرے نمبر پر ہے، اس کے اندر اختلاف ہے اور اس کا ذکر یہاں چل رہا ہے بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نبیز سے وضو کرنا جائز ہے، لہٰذا جب یہ نبیز موجود ہے اور پانی کوئی نہیں تو اسی سے وضو کر لے، تیمم کی ضرورت نہیں۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تیمم کرے گا، اس سے وضو کرنے کی اجازت نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو بھی کرے اس سے اور تیمم بھی کر لے، احتیاطاً دونوں کو جمع کر لے بھئی، دونوں کو۔ اب آگے غسل کی بات آ رہی ہے، یہ تو وضو کا بیان تھا وہ مسئلہ گزر گیا۔ اب اس سے غسل کرنا جائز ہے یا جائز نہیں بھئی؟ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الِاغْتِسَالُ بِهِ“ اور باقی اس نبیزِ تمر سے غسل کرنا ”فَقَدْ قِيلَ يَجُوزُ عِنْدَهُ“ تو تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ جائز ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ان کے نزدیک جیسے وضو جائز تھا اسی طرح غسل بھی جائز ہے ”اعْتِبَارًا بِالْوُضُوءِ“ قیاس کرتے ہوئے وضو پر۔ وضو بھی طہارت ہے غسل بھی طہارت ہے، تو جب وضو کرنا جائز ہے تو غسل کرنا بھی جائز ہے بھئی۔ ”وَقِيلَ لَا يَجُوزُ لِأَنَّهُ فَوْقَهُ“ اور کہا گیا ہے کہ غسل کرنا جائز نہیں امام صاحب کے نزدیک ”لِأَنَّهُ فَوْقَهُ“ کیونکہ یہ غسل جو ہے یہ وضو سے بڑھ کر ہے۔ غسل کیا ہے وضو سے؟ بڑھ کر ہے، تو وضو کی جو اجازت دی گئی اور اجازت جو ثابت ہوئی حدیث سے وہ خلافِ قیاس ہے بھئی۔ قیاس تو یہ تقاضا کر رہا تھا کہ اس سے وضو بھی جائز نہیں ہونا چاہیے، لیکن لیلۃ الجن والی حدیث کے اندر ذکر آ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیزِ تمر سے وضو فرمایا، چنانچہ یہاں پر وضو کی تو اجازت دے دی گئی خلافِ قیاس اس حدیث کی وجہ سے، لیکن غسل تو اس سے بڑھ کر ہے بھئی، غسل تو اس سے بڑھ کر ہے، اس کو وضو پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ کسی چیز کے مثل کو اس پر قیاس کیا جاتا ہے، اس سے جو بڑھ کر ہو اس کو اس پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ تو غسل کی اجازت نہیں کیونکہ وضو کے اندر اس میں جو حدث ہے حدثِ اصغر ہے، اور غسل میں تو کیا ہے؟ حدثِ اکبر ہے، لہٰذا غسل کرنا جائز نہیں اس سے، ہاں وضو کرنا جائز ہے بھئی۔ تو یہ حکم خلافِ قیاس ہوا تو یہ اپنے مورد پر بند رہے گا، اور جواز صرف کس کے جواز کا ذکر آیا ہے حدیث میں؟ وضو کے، لہٰذا وضو تو جائز ہو گا اور غسل جائز نہیں بھئی۔ ”وَالنَّبِيذُ الْمُخْتَلَفُ فِيهِ أَنْ يَكُونَ حُلْوًا رَقِيقًا يَسِيلُ عَلَى الْأَعْضَاءِ كَالْمَاءِ“ اب بیان کر رہے ہیں کہ کون سی نبیز ہے جس میں یہ اختلاف ہے؟ وہ کون سی نبیز ہے؟ میں نے تین قسمیں ذکر کر دیں اور بتلایا تھا وہ نبیز مراد ہے جس میں پانی میں کھجوروں کی مٹھاس آ گئی ہے اور نیز وہ پانی پتلا ہو بہنے والا ہو تو اس نبیز کے اندر یہ اختلاف ہے بھئی، وہی صاحبِ ہدایہ اب بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالنَّبِيذُ الْمُخْتَلَفُ فِيهِ“ اور وہ نبیز جس میں اختلاف کیا گیا ہے ”أَنْ يَكُونَ حُلْوًا“ کہ وہ کیا ہو؟ میٹھی ہو ”رَقِيقًا“ پتلی ہو یعنی گاڑھی نہ ہو ”يَسِيلُ عَلَى الْأَعْضَاءِ“ اور بہتی ہو اعضاء پر۔ اعضاء پر یعنی پانی کی طرح ہی ہے، البتہ کچھ کھجوروں کی اس میں مٹھاس آ گئی ہے، باقی بالکل پانی کی طرح ہے بھئی۔ اگر زیادہ دیر رکھیں گے وہ تو گاڑھی ہو جائے گی اور اس صورت میں تو پھر ویسے بھی اس سے وضو کرنا ممکن ہی نہیں رہے گا، وہ تو اعضاء پر کیا بہے گی، چپک جائے گی ساتھ بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا یہ وہ نبیز مراد ہے جو میٹھی ہو، پتلی ہو اور اعضاء پر بہنے والی ہو ”كَالْمَاءِ“ کس کی طرح؟ پانی کی طرح۔ ”وَمَا اشْتَدَّ مِنْهَا صَارَ حَرَامًا“ اور وہ جو اس میں سے سخت ہو جائے، تیز ہو جائے وہ حرام ہو جائے گی، کیا ہو جائے گی؟ حرام ہو جائے گی۔ بھئی یہ کھجوریں اگر پانی میں ڈالی جائیں تو فوراً ان کی مٹھاس بھی پانی میں نہیں آتی، کافی وقت لگتا ہے، تو کافی وقت گزرے گا آہستہ آہستہ پانی میں مٹھاس آنا شروع ہو جائے گی۔ اور پھر زیادہ دیر تک رکھیں گے تو پھر یاد رکھیے اس صورت میں وہ مٹھاس کڑواہٹ میں بدل جائے گی اور وہ پانی بھی کچھ گاڑھا ہو گا اور نیز تیز ہو جائے گا تیز، تیز ہو جائے گا، نشہ اس میں آ جائے گا بھئی، نشہ آ جائے گا۔ تو یہاں کیا آیا ”وَمَا اشْتَدَّ مِنْهَا“ جو اس میں سے سخت ہو جائے تو اس کا ترجمہ یا یوں کر لیں گاڑھی ہو جائے یا ترجمہ کر لیں تیز ہو جائے، کیا ہو جائے؟ تیز ہو جائے بھئی۔ تیز ہونے سے اب کیا مراد ہے؟ بھئی آج کل اس کو سمجھنا آسان ہے، بھئی آپ یہ بوتل وغیرہ پیتے ہیں اور یہ خوب ٹھنڈی ہو تو یہ کیا کرتی ہے؟ زبان کو کاٹتی ہے، محسوس ہوتا ہے یا نہیں بھئی؟ جی، یہ ہے تیز ہونا۔ تو اس طرح کچھ اس میں تیزی آ جاتی ہے کڑواہٹ اور تیزی کہ یہ منہ کو کچھ کاٹتی ہے، تو دونوں میں سے جو معنی بھی آپ کر لیں بھئی۔ ”وَمَا اشْتَدَّ مِنْهَا صَارَ حَرَامًا لَا يَجُوزُ التَّوَضِّي بِهِ“ اور وہ جو اس میں سے تیز ہو جائے، گاڑھی ہو جائے وہ حرام ہو گی ”لَا يَجُوزُ التَّوَضِّي بِهِ“ اس سے وضو کرنا جائز نہیں۔ ”وَإِنْ غَيَّرَتْهُ النَّارُ“ بھئی یہ تو وہ صورت تھی آگ پر پکائے بغیر ہی خود ہی آہستہ آہستہ کیا ہو گئی؟ گاڑھی ہو گئی اور تیز ہو گئی۔ ”وَإِنْ غَيَّرَتْهُ النَّارُ“ اور اگر اس کو بدلے آگ بھئی، کھجوریں ڈالیں پانی میں اور پھر اس کو آگ پر پکایا بھئی، آگ پر پکایا تو اس صورت میں بھی اس صورت میں پھر پانی میں اس کے مٹھاس جلدی آئے گی بھئی، جیسے ہی آگ پر رکھیں گے چند منٹوں کے اندر مٹھاس بھی آئے گی اور زیادہ پکائیں گے تو پھر کیا ہو جائے گی؟ گاڑھی بھی ہو جائے گی، تیز بھی ہو جائے گی اور پھر اس میں بھی نشہ آئے گا۔ تو اگر آگ پر پکائی گئی ہو تو پھر اس کے اندر ”فَمَا دَامَ حُلْوًا“ جب تک وہ میٹھی ہے ”فَهُوَ عَلَى الْخِلَافِ“ تو وہ اسی اختلاف پر ہے یعنی اس میں بھی یہی اختلاف ہے جب تک میٹھی ہے۔ ”وَإِنِ اشْتَدَّ فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجُوزُ التَّوَضِّي بِهِ“ اور اگر وہ گاڑھی ہو جائے، تیز ہو جائے تو امام صاحب کے نزدیک اس سے وضو کرنا جائز ہے ”لِأَنَّهُ يَحِلُّ شُرْبُهُ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک اس کا پینا حلال ہے، یعنی اتنی مقدار جس سے نشہ نہ ہو، اتنی مقدار جس سے نشہ نہ ہو اتنی مقدار پینا امام صاحب کے نزدیک جائز ہے ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَتَوَضَّأُ بِهِ لِحُرْمَةِ شُرْبِهِ عِنْدَهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس سے وضو کرنے والا وضو نہ کرے بوجہ اس کے پینے کے حرام ہونے کے ان کے نزدیک، ان کے نزدیک اس کا پینا کیا ہے؟ حرام ہے بھئی، جبکہ امام صاحب کے نزدیک ادنیٰ مقدار جس سے نشہ نہ ہو وہ پینا جائز ہے بھئی، تو ان کے نزدیک اس چیز سے وضو بھی جائز۔ ”وَلَا يَجُوزُ التَّوَضِّي بِمَا سِوَاهُ مِنَ الْأَنْبِذَةِ“ انبذہ جمع ہے نبیز کی ”وَلَا يَجُوزُ التَّوَضِّي بِمَا سِوَاهُ مِنَ الْأَنْبِذَةِ“ اور جائز نہیں ہے وضو کرنا اس کے علاوہ جو ہیں نبیزیں بھئی ”جَرْيًا عَلَى قَضِيَّةِ الْقِيَاسِ“ چلتے ہوئے قیاس کے فیصلے پر، کس پر چلتے ہوئے؟ قیاس کے فیصلے پر یعنی قیاس کے طریقے پر چلتے ہوئے باقی نبیزوں سے وضو کرنا جائز نہیں۔ میں نے ابھی ذکر کیا کہ نبیز سے جو وضو ہے وہ خلافِ قیاس لیلۃ الجن کی حدیث سے ثابت ہے اس لیے اس کو علماء، فقہاء نے جائز قرار دیا، ورنہ قیاس تو کیا تقاضا کر رہا تھا؟ کہ اس سے وضو جائز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وضو وہ تو ماءِ مطلق کے ساتھ جائز ہے اور اس کو تو، یہ تو ماءِ مطلق ہے ہی نہیں، اس کو تو پانی کوئی نہیں کہتا بلکہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ نبیز، چنانچہ حدیث میں بھی آپ نے پڑھا حضور علیہ السلام نے آ کر پوچھا حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ کیا پانی ہے آپ کے پاس؟ تو وہ جواب میں کیا فرمانے لگے؟ نہیں یہ نبیز ہے بھئی، دیکھو انہوں نے بھی کیا کیا؟ اس کو پانی نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ نبیز کہا، تو معلوم ہوا اس کو نبیز کہتے ہیں، تو اس سے تو وضو جائز ہی نہیں ہونا چاہیے تھا، وضو تو پانی سے جائز ہے اور چیزوں سے جائز نہیں، لیکن حدیث کی وجہ سے اس کی اجازت دی گئی خلافِ قیاس، جبکہ باقی نبیزیں ان کا ذکر تو نہیں ہے تو لہٰذا ان میں وہ قیاس کے طریقے پر چلتے ہوئے قیاس کے مطابق ہی فیصلہ ہو گا اور قیاس تو ان سے وضو کو جائز قرار نہیں دیتا تو ان سے وضو کرنا بھی جائز نہیں ہو گا بھئی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے ”وَلَا يَجُوزُ التَّوَضِّي بِمَا سِوَاهُ مِنَ الْأَنْبِذَةِ“ اور جائز نہیں ہے وضو کرنا اس کے علاوہ جو ہیں اور نبیزیں ”جَرْيًا عَلَى قَضِيَّةِ الْقِيَاسِ“ جریان، چلتے ہوئے۔ قضیہ کہتے ہیں فیصلے کو ”جَرْيًا عَلَى قَضِيَّةِ الْقِيَاسِ“ قیاس کے فیصلے پر چلتے ہوئے یعنی قیاس ان میں یہی فیصلہ کرتا ہے کہ ان سے وضو جائز نہیں ہونا چاہیے۔ ”بَابُ التَّيَمُّمِ“ ”وَمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ وَهُوَ مُسَافِرٌ أَوْ خَارِجَ الْمِصْرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمِصْرِ مِيلٌ أَوْ أَكْثَرُ يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ“ جی، تیمم کا باب آیا بھئی، تیمم۔ تیمم آپ جانتے ہیں کہ مٹی پر دو ضربیں لگا کر ایک ضرب کے ساتھ چہرے کا مسح کرنا اور دوسری ضرب کے ساتھ دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرنا یہ تیمم کہلاتا ہے بھئی، تیمم کہلاتا ہے۔ تو یہاں تیمم کے اندر دیکھیے مٹی سے ہی طہارت حاصل ہو رہی ہے، مٹی ہی کو مطہر بنا دیا گیا اور یاد رکھیے یہ حضور علیہ السلام کی امت کا یہ خاصہ ہے بھئی، اور اس کا سبب جو ہیں وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں بھئی۔ تو تیمم خاصہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امت کا، اس سے پہلے کسی امت میں اس طرح مٹی کو مطہر قرار نہیں دیا گیا بھئی، مطہر قرار نہیں دیا گیا۔ اور یہ واقعہ پیش آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ سے واپس تشریف لا رہے تھے صحابہ ہمراہ ہیں، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہمراہ ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک ہار جو تھا وہ گم ہو گیا تو اب اس کی تلاش میں سارے رک گئے۔ اب جس جگہ پر رکے ہار تلاش کر رہے ہیں ہار نہیں مل رہا، اور جس جگہ پر رکے ہیں وہاں کہیں قریب پانی موجود نہیں، صحابہ کے پاس پانی ان کے خود اپنے پاس بھی پانی موجود نہیں اور اس مقام پر بھی کہیں پانی موجود نہیں ہے، تو صحابہ بڑے پریشان ہوئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ دیکھیے آپ کی بیٹی کی وجہ سے کتنی تکلیف بن گئی ہے، پانی بھی ہمارے پاس نہیں اور اس علاقے میں بھی کہیں پانی نہیں ہے، ان کی وجہ سے ہم سب رکے ہوئے ہیں بھئی۔ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی بڑے غصے میں تشریف لائے بھئی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سرِ مبارک رکھے ہوئے سو رہے تھے بھئی، رات کا وقت، اور حضرت ابوبکر صدیق بڑے غصے میں آئے اور آ کر مجھے غصے ہوئے اور بعض روایات میں تو یہ بھی آتا ہے کہ میرے پہلو پر انہوں نے مجھے مارا بھی لیکن اس طرح کہ حضور علیہ السلام بیدار نہ ہوں، اور پھر یہاں تک کہ اس تلاش کے اندر صبح ہو گئی اور حضور علیہ السلام بیدار ہوئے تو اس وقت پھر آیتِ تیمم نازل ہوئی بھئی، اور اللہ کی طرف سے حکم آ گیا کہ پانی نہ ہو تو کیا کر لو؟ پاک مٹی سے تیمم کر لو بھئی۔ صحابہ کو یہ خبر ملی تو ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی بھئی، ہر طرح کی خوشی اس کا اندازہ ہو سکتا تھا ہر طرح کی نعمت کا لیکن یہ تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مٹی ہی کو مطہر قرار دے دیا جائے گا بھئی، پانی کا تو ان کے ہاں بہت بڑا مسئلہ تھا بھئی، صحرا میں ریگستان میں رہنے والے لوگ تھے تو پانی کی ضرورت پیش آتی تھی بہت زیادہ اور پانی کے سلسلے میں بڑی تکالیف ہوتی تھیں ان لوگوں کو، تو جب یہ خوشخبری اتنی عظیم خوشخبری آئی کہ مٹی ہی کو مطہر قرار دے دیا گیا تو صحابہ کی خوشی وہ دیکھنے کے قابل تھی، سارے آ رہے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اور کہہ رہے ہیں کہ اے ابوبکر! آپ کی اولاد بڑی مبارک ہے لوگوں کے لیے، بعضوں نے تو یہ آ کر کہا کہ اے ابوبکر کی اولاد! یہ کوئی تمہاری پہلی برکت نہیں ہے اس سے پہلے بھی بڑی برکتیں آپ کی وجہ سے لوگوں کو ملی ہیں، اللہ نے دی ہیں۔ تو حضرت ابوبکر صدیق، وہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کچھ دیر پہلے بڑے غصے میں گئے تھے اور ڈانٹا تھا اور وہ سارے آ کر مبارکباد دے رہے ہیں تو پھر حضرت ابوبکر صدیق تشریف لائے اور حضرت عائشہ سے فرمانے لگے: ”إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ“ بے شک آپ بڑی مبارک خاتون ہیں، بڑی مبارک عورت ہیں بھئی۔ تو یہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وجہ سے یہ نعمت اس امت کو ملی، مٹی کو ہی مطہر قرار دے دیا گیا بھئی، مٹی کو۔ اور یہ واقعہ چار ہجری میں پیش آیا، بعض لکھتے ہیں پانچ ہجری میں، بعض لکھتے ہیں چھ ہجری کے اندر، تو دراصل اختلاف ہے کہ کس غزوہ سے واپسی پر یہ واقعہ پیش آیا تھا بھئی، تو اس میں پھر تیمم کا یہ حکم نازل ہوا بھئی، تیمم کا حکم۔ جی اب دیکھیے کتاب پر: ”بَابُ التَّيَمُّمِ“ یہ تیمم کا باب ہے۔ ”وَمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ وَهُوَ مُسَافِرٌ أَوْ خَارِجَ الْمِصْرِ“ اور وہ شخص جو پانی کو نہ پائے اس حال میں کہ وہ مسافر ہو ”أَوْ خَارِجَ الْمِصْرِ“ یا اس حال میں کہ وہ شہر سے باہر ہو بھئی، شہر سے باہر ہو ”بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمِصْرِ مِيلٌ“ اس کے اور شہر کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہو ”أَوْ أَكْثَرُ“ یا ایک میل سے زیادہ کا فاصلہ ہو ”يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ“ وہ تیمم کر لے کس سے؟ پاک مٹی سے بھئی، مٹی سے تیمم کر لے۔ بھئی یہاں متن کے اندر مصر شہر کا ذکر آیا، یاد رکھیے مراد اس سے ہے پانی کی جگہ، پانی کی جگہ مراد ہے کہ پانی کی جگہ سے وہ ایک میل کے فاصلے پر ہو بھئی، تو پھر اس کو مصر کے ساتھ کیوں تعبیر کیا؟ بھئی وجہ اس کی یہ کہ عموماً شہر کے اندر پانی مل جاتا ہے بھئی، تو اس پانی کی جگہ کے بجائے کیا کہہ دیا؟ شہر کا ذکر کر دیا، تو جو شخص پانی نہ پائے اور وہ مسافر ہے بھئی یا مسافر تو نہیں ہے البتہ ویسے شہر سے باہر نکلا ہے اور کچھ دور ہے، اس کے اور شہر کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے ”أَوْ أَكْثَرُ“ یا ایک میل سے زیادہ کا فاصلہ ہے ”يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ“ تو تیمم کر لے کس سے؟ پاک مٹی سے بھئی، مٹی سے تیمم کر لے ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، وہ دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا“ تو تم پانی نہ پاؤ تو تم کیا کر لو؟ تیمم کر لو پاک مٹی سے، پاک مٹی سے۔ آیت پیچھے سے کس طرح ہے؟ ”وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ“ ”وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ“ اور تم لوگ اگر مریض ہو، بیمار ہو ”أَوْ عَلَى سَفَرٍ“ یا کس پر ہو؟ یا سفر پر ہو یعنی مسافر ہو ”أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ“ یا تم میں سے کوئی ایک قضائے حاجت سے آئے ”أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ“ یا تم کیا کرو؟ عورتوں سے ملامست کرو، بیویوں سے یعنی صحبت کرو ”فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً“ تو تم پانی کو نہ پاؤ ”فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا“ تو تم کیا کر لو؟ پاک مٹی سے تیمم کر لو، تو یہ ایک آیت دلیل ہے اور نیز ”وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”التُّرَابُ طَهُورُ الْمُسْلِمِ“ مٹی جو ہے مسلمان کے کا طہور ہے یعنی اس کے لیے مطہر ہے، اس کو پاک کرنے والی ہے ”وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ“ اگرچہ دس سال تک ہو، حجج حجت کی جمع ہے اور سال کو کہتے ہیں ”وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ“ اگرچہ دس سال تک ہو ”مَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ“ جب تک پانی نہ پائے بھئی، جب تک وہ پانی نہ پائے۔ تو ایک آیت کو بھی دلیل کے طور پر ذکر کیا اور حدیث کو بھی ذکر کر دیا دلیل کے طور پر۔ تو حدیث میں آ گیا کہ مٹی جو ہے مسلمان کو پاک کرنے والی ہے اگرچہ دس سال تک ہی کیوں نہ ہو، اور جب تک اسے پانی نہیں ملتا کیا کرتا رہے؟ مٹی سے تیمم کرتا رہے۔ ”وَالْمِيلُ هُوَ الْمُخْتَارُ فِي الْمِقْدَارِ“ اور میل جو ہے وہ مختار ہے پسندیدہ ہے ”فِي الْمِقْدَارِ“ کس کے اندر؟ مقدار کے اندر، یعنی اس کو اختیار کیا ہے فقہاء نے اسی کی طرف گئے ہیں کہ اعتبار میل کا ہے میل کا۔ نماز کے فوت ہو جانے کا خوف اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، آگے ذکر آئے گا امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر نماز کے فوت ہو جانے کا خوف ہو، پانی میل سے کم فاصلے پر ہے لیکن اگر وقت اتنا تھوڑا رہ گیا ہے مثلاً ظہر کا وقت ختم ہونے والا ہے پانی میل سے کم فاصلے پر ہے اور وہ جائے تو جا کر جا کر وضو کرے گا تو اس میں نماز کا وقت نکل جائے گا تو وہ فرماتے ہیں اس صورت میں بھی وہ تیمم کر سکتا ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ نہیں بلکہ مختار کیا ہے؟ میل ہے، میل کا اعتبار، کم از کم پانی کتنے فاصلے پر ہو؟ ایک میل کے فاصلے پر ہو تو پھر تیمم کی اجازت ہے، اور نماز کے فوت ہو جانے کے خوف کا کوئی اعتبار نہیں اس لیے کیونکہ نماز فوت ہونے والی ہے کیوں فوت ہونے والی ہے؟ کیونکہ تاخیر ہو گئی، وقت آخری وقت آ گیا اس کا اور تاخیر خود بخود ہوئی ہے یا اس آدمی نے کی ہے؟ اس آدمی نے کی ہے، تو نماز کے فوت ہو جانے کا خوف اس کے اندر کوتاہی اس آدمی کی جانب سے آئی ہے لہٰذا اس وجہ سے تیمم کی اسے اجازت نہیں ہو گی بھئی، تو اعتبار میل کا ہے نماز کے فوت ہو جانے کے خوف کا اعتبار نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمِيلُ هُوَ الْمُخْتَارُ فِي الْمِقْدَارِ“ اور میل جو ہے وہی مختار ہے مقدار کے اندر ”لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُ الْحَرَجُ بِدُخُولِ الْمِصْرِ“ اس لیے کیونکہ حرج لاحق ہو گا، حرج کا معنی تنگی بھئی، دشواری مشکل، اس لیے کیونکہ اس کو تنگی پیش آئے گی شہر میں داخل ہونے سے۔ اچھا بھئی! یہاں میل کا لفظ آیا، میل۔ یاد رکھیے میل سے شرعی میل مراد ہے۔ یہ ایک آج کل میل رائج ہے، یہ انگریزی میل ہے یہ مراد نہیں ہے بلکہ شرعی میل مراد ہے۔ یہ اوزانِ شرعیہ کچھ صاع کے تحت میں نے آپ کو کچھ اوزان کچھ پیمانے ذکر کیے تھے بھئی، یہاں میل کا ذکر آیا تو پیمائش کے کچھ پیمانے وہ بھی لکھ لیجیے بھئی پیمائش کے، قدیم پیمانے، جلدی جلدی لکھیے بھئی: ترکی نسل کے گھوڑے کی دم کے چھ بال چوڑائی میں رکھے جائیں تو یہ برابر ہے ایک جو کے دانے کی چوڑائی کے۔ اور چھ جو کے دانے چوڑائی میں ایک دوسرے کے ساتھ رکھے جائیں تو یہ برابر ہوئے ایک اصبع کے، ایک اصبع بھئی، الف ص با عین، اصبع، انگلی۔ تو یہ برابر... چھ جو کے دانے چوڑائی میں رکھیں تو یہ کتنی چوڑائی بن گئی؟ ایک اصبع، ایک انگلی کے برابر چوڑائی یہ ہو گئی بھئی، ایک انگلی کے برابر چوڑائی۔ اور چوبیس اصبع ہوں تو یہ برابر ہے ایک ذراع کے۔ جی؟ اصبع کسے کہتے ہیں میں نے ابھی بتایا پیمائش میں۔ یہ پوچھ رہے ہیں بھئی چوڑائی میں اصبع ہوں یا لمبائی میں؟ جی؟ ابھی بتایا، چھ جو کے دانے چوڑائی میں رکھو تو کتنا بنے گا؟ ایک اصبع، یہ پیمائش کا نام ہے اور یہ انگلی کی چوڑائی کی بات ہو رہی ہے بھئی، لمبائی کی بات نہیں۔ تو چوبیس اصبع چوڑائی میں ہوں تو یہ کتنا بنے گا؟ ایک ذراع۔ ایک ذراع، ذال را الف عین، ذراع۔ بھئی یہ آپ ہاتھ دیکھیں اپنے سامنے ہاتھ، دیکھیں یہ چار انگلیاں، یہ جو چوڑائی ہے ان چار انگلیوں کی، یہ جی؟ چوبیس، چوبیس میں یہ کتنے ہوں گی؟ چھ مرتبہ، تو یہ ہاتھ یہ مٹھی بند کریں اور اس طرح مٹھی کو کھڑا کریں، اس کے اوپر دوسری مٹھی رکھیں پھر تیسری چوتھی، چھ مٹھی جو بنے گی یہ ایک ذراع بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ بھئی ہر مٹھی میں کتنی انگلیاں چوڑائی میں؟ چار ہیں، تو چھ مٹھی کتنے بن جائیں گی؟ چوبیس، ایک ذراع کے برابر یہ بن جائیں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے ایک ذراع بھئی، یہ قدیم پیمانے بیان ہو رہے ہیں بھئی۔ اور چار ذراع ہوں تو یہ بنتا ہے ایک باع، با الف عین، باع۔ اور ایک ہزار باع ہوں تو یہ بنتا ہے ایک میلِ شرعی۔ اور تین میلِ شرعی ہوں تو یہ بنے گا ایک فرسخ، فا را سین خا، فرسخ۔ اور چار فرسخ ہوں تو یہ بنے گا ایک برید، با را یا دال، برید۔ اچھا! آج کل کیا رائج ہیں؟ آج کل انگریزی گز جو ہیں ان کے حساب سے، یاد رکھیے: ایک میلِ شرعی کتنے کے برابر ہوا؟ ایک ہزار باع کے، ایک ہزار باع کے۔ اور ایک باع میں کتنے ذراع ہوتے ہیں؟ چار، تو ایک ہزار باع کتنے ذراع کے برابر ہوئے؟ ایک ہزار باع، اس کے ذراع بناؤ ذرا، ایک باع میں کتنے ہیں؟ چار ذراع، تو ایک ہزار باع میں کتنے ہوں گے؟ چار ہزار ذراع۔ معلوم ہوا شرعی میل کتنے کے برابر؟ چار ہزار ذراع کے۔ اور ایک ذراع کتنا ہوتا ہے؟ چوبیس اصبع۔ فٹوں کے حساب سے بتائیں، پہلے میں بتلا چکا ہوں، ڈیڑھ فٹ۔ ایک ذراع کتنا ہوتا ہے؟ ڈیڑھ فٹ ہوتا ہے۔ تو چار ہزار ذراع ہیں، چار ہزار شرعی گز ہوئے ایک میل۔ اور آج کل کا جو رائج گز ہے وہ کتنا ہے؟ انگریزی گز جو ہے وہ تین فٹ کا ہے تو اس میں کتنے ذراع آئے؟ ایک گز میں دو ذراع، تو چار ہزار ذراع کتنے انگریزی گزوں کے برابر ہوئے؟ دو ہزار، تو دو ہزار انگریزی گز ہوں تو یہ بنتا ہے ایک میلِ شرعی بھئی، دو ہزار انگریزی گز۔ جی، لکھ لیجیے بھئی: دو ہزار انگریزی گز، یہ برابر ہیں ایک میلِ شرعی کے، ایک میلِ شرعی کے۔ اور یہ جو انگریزی میل ہوتا ہے، یاد رکھیے انگریزی میل شرعی میل سے چھوٹا ہوتا ہے۔ انگریزی میل برابر ہے سترہ سو ساٹھ گز، انگریزی گز۔ انگریزی میل برابر ہے سترہ سو ساٹھ انگریزی گز بھئی۔ اور آج کل میٹر رائج ہیں بھئی، گز بھی اب آہستہ آہستہ یہاں متروک ہو رہا ہے، کیا رائج ہے؟ میٹر، اور میٹر آپ نے پڑھا ہے میٹر گز سے تقریباً تین انچ زیادہ ہوتا ہے، تین انچ۔ تو لہٰذا میل کتنا تھا؟ سترہ سو ساٹھ، تو اس کے اگر میٹر بنائیں میٹر، یہ بنتے ہیں سولہ سو نو، لکھیں بھئی: سولہ سو نو اشاریہ تین چار چار میٹر۔ سولہ سو نو اشاریہ تین چار چار میٹر۔ یہ ایک انگریزی میل کی مقدار بیان ہو رہی ہے۔ گز کتنے تھے؟ انگریزی میل میں گز کتنے تھے؟ انگریزی گز، سترہ سو ساٹھ، دیکھو گز ہیں سترہ سو ساٹھ، اور میٹروں میں کوئی پوچھے انگریزی میل جو ہوتا ہے وہ کتنے؟ سولہ سو نو اشاریہ تین چار چار میٹر بھئی۔ اور کلومیٹر بھئی، کلومیٹروں کے اندر، بھئی کلومیٹر میں کتنے میٹر ہوتے ہیں؟ ایک ہزار میٹر ہوں تو ایک کلومیٹر بنتا ہے، اور ایک میل کتنے کے برابر ہے؟ میٹروں میں ایک میل سولہ سو نو اشاریہ تین چار چار، معلوم ہوا ایک میل ڈیڑھ کلومیٹر سے بھی زائد ہوتا ہے، ڈیڑھ کلومیٹر سے بھی زائد ہوتا ہے بھئی، زائد ہوتا ہے۔ اور ایک اور فاصلہ بھی آپ پڑھتے رہتے ہیں جسے فرلانگ کہتے ہیں، آپ پڑھتے ہوں گے سنتے ہوں گے، یہ بھی پیمانہ ہے: ایک فرلانگ برابر ہے دو سو تیس گز کے۔ لکھ لیا بھئی؟ جی، اب ایک دو باتیں انہی میں اور بھی سمجھ لیں، لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے: انگریزی گزوں کے حساب سے شرعی میل کتنا ہے؟ شرعی میل، شرعی میل دو ہزار گزوں کے برابر، اور انگریزی میل کتنا؟ سترہ سو ساٹھ گز کے برابر۔ شرعی میل دو ہزار گز، انگریزی میل سترہ سو ساٹھ، معلوم ہوا شرعی میل بڑا ہے۔ کتنا بڑا ہے؟ انگریزی میل سے شرعی میل کتنا بڑا ہے؟ دو سو چالیس گز۔ اور دو سو چالیس گز اب اس کے ذرا فرلانگ بناؤ، دو سو تیس گز ہو تو ایک فرلانگ، معلوم ہوا شرعی میل انگریزی میل سے ایک فرلانگ دس گز بڑا ہے۔ کتنا بڑا ہے؟ ایک فرلانگ دس گز۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا! یہ قدیم پیمانے تھے بھئی، آپ نے پڑھا چھ بال ہوں ترکی گھوڑے کی دم کے، یہ خاص نسل کے گھوڑے، ان کا اعتبار، معلوم ہوا ان کی دم کے بال جو ہیں وہ کوئی خاص موٹے وغیرہ ہوں گے، ان کو چوڑائی میں رکھا جاتا تو اس کی پیمائش جو ہوتی یہ کتنے کے برابر بنتی؟ ایک جو کے دانے کے برابر، یہ چھوٹا پیمانہ تھا پیمائش کا۔ پھر اس سے بڑا پیمانہ کیا تھا؟ چھ جو کے دانے چوڑائی میں رکھے جائیں تو کتنا بنتا ہے؟ ایک اصبع، یہ اس سے بڑا پیمانہ بھئی۔ پھر اس سے بڑا پیمانہ ذراع آیا، چوبیس اصبع بھئی، چوبیس اصبع کے برابر یہ ایک ذراع بن گیا۔ اور پھر اس سے بڑا پیمانہ کیا آیا؟ باع کا، باع آیا، چار ذراع ہوں تو ایک باع بنتا ہے۔ کیا بنتا ہے؟ ایک باع۔ بھئی یہ آپ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں جانب کندھے کے برابر سیدھے رکھ کر اگر پھیلا دیں، بالکل سیدھا، دایاں ہاتھ دائیں طرف بالکل سیدھا پھیلا دیا، بایاں ہاتھ بالکل بائیں طرف سیدھا کر کے پھیلا دیا ایک دوسرے سے دور کرتے ہوئے، اب دائیں ہاتھ کی جو انگلی کے سرے ہیں وہاں سے لے کر بائیں ہاتھ کی انگلی کے سرے تک یہ جو بیچ میں فاصلہ بن گیا یہ ہے ایک باع۔ یہ کتنا ہے؟ دونوں طرف ہاتھوں کو پھیلا دیا سیدھا کر کے، تو ایک ہاتھ کی انگلی کے سروں سے لے کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے سرے تک یہ پیمائش کتنی ہے؟ ایک باع کی، اور ایک باع کتنے کے برابر ہے آپ نے پڑھا ابھی؟ چار ذراع کے برابر۔ یہ کتنے کے برابر ہے؟ آپ تجربہ کر بھی سکتے ہیں، دیکھیں کہ چار ذراع ہے یا نہیں، صرف کہنی سے اپنے ہاتھوں کو موڑیں اسی حالت میں، کہنی سے موڑیں گے آپ دیکھیں گے انگلیوں کے سرے آپس میں مل گئے بھئی۔ دیکھا؟ یہ کہنی سے لے کر انگلی کے سرے تک کتنا تھا؟ ایک ذراع، اور اب اپنے ہاتھوں کو موڑا تو انگلیوں کے سرے آپس میں مل جائیں گے، معلوم ہوا یہ کل فاصلہ کتنا ہے درمیان میں؟ چار ذراع یعنی ایک باع ہے بھئی، باع۔ پیمانے اچھی طرح سمجھ میں آ گئے بھئی؟ تو شرعی میل بڑا ہوتا ہے بھئی اور یہاں اس کا ذکر ہے بھئی، کہتے ہیں: ”وَالْمِيلُ هُوَ الْمُخْتَارُ فِي الْمِقْدَارِ“ اور میل جو ہے وہ مختار ہے مقدار کے اندر ”لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُ الْحَرَجُ بِدُخُولِ الْمِصْرِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص کو جو ہے حرج لاحق ہو گا، شہر میں داخل ہونے سے دشواری ہو گی تنگی ہو گی۔ بھئی ایک شخص ایک شہر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے یعنی دو ہزار گز کے فاصلے پر، دو ہزار گز، بھئی ذرا کلومیٹر بنائیں، ایک شرعی میل کے کلومیٹر بنائیں بھئی، آج کل کلومیٹر ہے نا، کلومیٹروں میں آپ کو اور بات واضح سمجھ میں آئے گی، یہ بنے گا کوئی پونے دو کلومیٹر سے تھوڑا سا زیادہ۔ بھئی انگریزی میل تو ڈیڑھ کلومیٹر سے تھوڑا سا اوپر تھا اور شرعی میل وہ پونے دو کلومیٹر سے تھوڑا سا زیادہ بنے گا، کتنا؟ تو ایک آدمی شہر سے پونے دو کلومیٹر فاصلے پر ہے اب نماز کا وقت ہو گیا، اب اگر اسے یہ حکم دیا جائے کہ نہیں بھئی آپ کو جانا پڑے گا یعنی پانی، پانی کی بات ہو رہی ہے، شہر سے کیا مراد ہے؟ پانی کی جگہ۔ تو اب اگر اسے یہ کہا جائے کہ وہ ایک میل کے فاصلے پر پانی موجود ہے یعنی پونے دو کلومیٹر، آپ کو جانا پڑے گا اور وہاں جا کر وضو کرنا پڑے گا تو دشواری اور تنگی میں وہ پڑ جائے گا یا نہیں پڑ جائے گا بھئی؟ وہ تو سخت تنگی کے اندر پڑ جائے گا کہ اتنی دور جانا اور پھر واپس آنا ہے یہیں پر، تو دگنا فاصلہ ہو جائے گا، اور شریعت کے اندر تو تنگی نہیں ہے بھئی، اللہ تعالیٰ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: ”مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ“ بھئی، اللہ نے دین کے اندر تم پر کوئی حرج نہیں رکھا، کوئی تنگی اور دشواری نہیں رکھی تو یہاں پر لہٰذا اب اس کو تیمم کی اجازت ہو گی بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُ الْحَرَجُ بِدُخُولِ الْمِصْرِ“ اس لیے کیونکہ اس کو حرج لاحق ہو گا، حرج پیش آئے گا یا یوں کہیں تنگی پیش آئے گی شہر میں داخل ہونے سے ”وَالْمَاءُ مَعْدُومٌ حَقِيقَةً“ اور پانی حقیقتاً معدوم ہے، پانی ہے اس وقت اس کے پاس؟ نہیں، تو شہر جانے کا اگر حکم دیا جائے تو تنگی پیش آئے گی اور شریعت نے تو تنگی نہیں، اور پانی اس وقت ہے نہیں، معدوم ہے حقیقتاً، اور جب پانی معدوم ہو حقیقتاً تو پھر کیا کیا جاتا ہے؟ تیمم کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ شخص بھی کیا کر لے؟ تیمم کر لے، دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ ”وَالْمُعْتَبَرُ الْمَسَافَةُ دُونَ خَوْفِ الْفَوْتِ“ اور معتبر جو ہے جس کا اعتبار کیا گیا وہ مسافت ہے نہ کہ نماز کے فوت ہو جانے کا خوف۔ نماز کے فوت ہو جانے کے خوف کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ کس چیز کا اعتبار ہے؟ مسافت۔ معلوم ہوا ایک میل سے کوئی پانی کے قریب ہے، ایک میل سے کم فاصلے پر ہے تو کیا اس کے لیے تیمم کی اجازت ہو گی؟ تیمم کی اجازت نہیں، اگرچہ وقت تھوڑا سا رہ گیا بیس منٹ رہ گئے ہیں، اتنی دیر میں تو وہ بمشکل پانی تک پہنچے گا ہی تو نماز کا وقت ہی گزر جائے گا لیکن اس کے باوجود اس نماز کے فوت ہو جانے کے خوف کا اعتبار نہیں کیا گیا، کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا وجہ میں نے ذکر کی؟ کیونکہ اس میں کوتاہی اس شخص کی طرف سے آئی ہے، اس نے کوتاہی کی اور نماز کو اتنا مؤخر کیا بھئی، یہی بیان کر رہے ہیں: ”لِأَنَّ التَّفْرِيطَ يَأْتِي مِنْ قِبَلِهِ“ اس لیے کیونکہ کوتاہی جو ہے وہ اس شخص کی جانب سے آئی ہے۔ تفریط کہتے ہیں حد سے کمی کرنا کسی چیز میں، افراط کہتے ہیں حد سے زیادتی کرنا اور تفریط کہتے ہیں حد سے کم، تو یہاں پر جو کمی آئی ہے یعنی کوتاہی آئی ہے یہ اس شخص کی جانب سے آئی ہے اس کا قصور ہے لہٰذا اس کو تیمم کی اجازت نہیں ہو گی بلکہ جائے اور جا کر وضو کرے اور پھر اس کے ساتھ نماز پڑھے بھئی۔ ”وَلَوْ كَانَ يَجِدُ الْمَاءَ إِلَّا أَنَّهُ مَرِيضٌ فَخَافَ إِنِ اسْتَعْمَلَ الْمَاءَ اشْتَدَّ مَرَضُهُ يَتَيَمَّمُ“ اور اگر وہ پانی کو تو پاتا ہے ”إِلَّا أَنَّهُ مَرِيضٌ“ مگر وہ شخص جو ہے وہ مریض ہے ”فَخَافَ“ تو اسے یہ خوف ہے ”إِنِ اسْتَعْمَلَ الْمَاءَ“ کہ اگر اس نے پانی کو استعمال کیا ”اشْتَدَّ مَرَضُهُ“ تو اس کا مرض شدید ہو جائے گا، سخت ہو جائے گا ”يَتَيَمَّمُ“ تو یہ شخص کیا کر لے؟ تیمم کر لے، یعنی مرض کے بڑھنے کا خوف ہو تب بھی اجازت ہے وہ تیمم کیا جا سکتا ہے۔ ”لِمَا تَلَوْنَا“ اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی بھئی، اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے: ”فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا“ اس آیت کی وجہ سے کیونکہ اسی آیت کے اندر کیا آ رہا ہے شروع میں؟ ”وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ“ اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہو، تو دیکھو مریض ہونے کا ذکر آیا بیماری کا۔ ”وَلِأَنَّ الضَّرَرَ فِي زِيَادَةِ الْمَرَضِ فَوْقَ الضَّرَرِ فِي زِيَادَةِ ثَمَنِ الْمَاءِ“ بھئی فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اس کے پاس پانی نہیں ہے اور نماز کا وقت آ گیا تو اس کو پانی تلاش کرنا چاہیے، لیکن اگر مثلاً اسے پتہ ہے یہاں کہیں قریب پانی نہیں ملے گا، البتہ کچھ لوگوں کے پاس پانی موجود ہے تو اسے چاہیے کہ ان سے مانگے پانی کو، اگر وہ دے دیں تو ٹھیک اگر نہیں دیتے تو پھر اس کے پاس اگر پیسے ہیں تو اس کو وہ پانی اس سے خریدنا چاہیے بھئی، اگر اتنے پیسے ہیں ضرورت کے بقدر کہ اور راستے کی ضرورت بھی پوری ہو رہی ہے تو پھر کیا کرنا چاہیے اس کو؟ پانی خریدنا چاہیے اور پھر اس سے وضو کرنا چاہیے، لیکن اس میں پانی خریدنا تب اس پر ضروری ہے جبکہ وہ ثمنِ مثل کے ساتھ پانی اس کو بیچیں یعنی جتنی اس پانی کی قیمت ہوتی ہے اتنی ہی قیمت وہ بھی مانگیں، مثلاً اس کو وضو کے لیے جتنے پانی کی ضرورت ہے فرض کریں اس کی قیمت ہونی چاہیے دس روپے یا یوں کہیں چلیں بیس روپے۔ کتنی قیمت ہے عام اس پانی کی؟ اس علاقے میں بیس روپے کا اتنا پانی مل جاتا ہے اگر کوئی خریدے بھی کہیں پر، تو بیس روپے اس کی قیمت ہے، تو اگر وہ بیس میں دے رہے ہیں تو اس کو اور پیسے ہیں اس کے پاس اتنے تو اس کو خریدے اور اس سے وضو کرے، لیکن اگر وہ پانی ان سے مانگتا ہے اور وہ کہتے ہیں ہم اتنا پانی پچاس کا دیں گے آپ کو، تو دیکھو ثمنِ مثل سے زائد مانگ رہے ہیں تو اس صورت میں اس پر وہ پانی خریدنا واجب نہیں ہے بھئی، واجب... کیوں؟ کیونکہ اگر پانی خریدے گا تو اس کا نقصان ہو گا، اس کے پیسے ضائع ہوں گے بھئی، تو شریعت نے اس صورت میں پھر اس کو تیمم کر کے نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ تو دیکھو ثمن کی زیادتی کی وجہ سے پیسوں کا نقصان ہو رہا تھا، جب پیسوں کے نقصان کی صورت میں شریعت نے تیمم کی اجازت دی ہے تو مرض بڑھنے کی وجہ سے جو نقصان ہے وہ تو ان پیسوں کے نقصان سے بڑھ کر ہے، تو اس مرض کے نقصان کی صورت میں بطریقِ اولیٰ کیا ہے؟ تیمم کی اجازت۔ ایک نقصان آ رہا ہے مرض کی وجہ سے مرض بڑھ رہا ہے تکلیف بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف نقصان کیا ہے؟ پیسوں کے ضائع ہونے کی وجہ سے جو نقصان ہے اور تکلیف ہے، تو کون سی تکلیف زیادہ ہے؟ مرض کے بڑھنے کی یا پیسوں کے ضائع ہونے کی؟ جی؟ مرض کے بڑھنے کی تکلیف زیادہ ہے، لہٰذا کیا کرے؟ جب پیسوں کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے تو مرض کے بڑھنے کی صورت میں بطریقِ اولیٰ تیمم کی اجازت ہو گی، یہ دلیل صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الضَّرَرَ فِي زِيَادَةِ الْمَرَضِ فَوْقَ الضَّرَرِ فِي زِيَادَةِ ثَمَنِ الْمَاءِ“ اس لیے کیونکہ وہ نقصان جو ہے ”فِي زِيَادَةِ الْمَرَضِ“ جو کس میں ہے؟ جو مرض کی زیادتی میں ہے، اس لیے کیونکہ وہ نقصان یا یوں ترجمہ کریں: اس لیے کیونکہ مرض کی زیادتی کی صورت میں جو نقصان ہے ”فَوْقَ الضَّرَرِ فِي زِيَادَةِ ثَمَنِ الْمَاءِ“ وہ پانی کی ثمن کی زیادتی کی صورت میں جو نقصان ہے اس سے بڑھ کر ہے۔ مرض کی زیادتی کا نقصان پانی کے ثمن کی زیادتی کے نقصان سے بڑھ کر ہے بھئی ”وَذَلِكَ يُبِيحُ التَّيَمُّمَ فَهَذَا أَوْلَى“ اور وہ نقصان جو تھا پانی کے ثمن کی زیادتی والا وہ تو تیمم کو جائز کر دیتا ہے مباح کر دیتا ہے ”فَهَذَا أَوْلَى“ تو یہ جو اس سے زیادہ ضرر ہے یعنی مرض کی زیادتی والا ضرر یہ بطریقِ اولیٰ کیا کرے گا؟ تیمم کو مباح کر دے گا اس کو جائز کر دے گا۔ ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يَشْتَدَّ مَرَضُهُ بِالتَّحَرُّكِ أَوْ بِالِاسْتِعْمَالِ“ اور کوئی فرق نہیں ہے اس کے درمیان کہ مرض بڑھتا ہو سخت ہوتا ہو حرکت کرنے کی وجہ سے ”أَوْ بِالِاسْتِعْمَالِ“ یا استعمال کی وجہ سے یعنی پانی کے استعمال کی وجہ سے بھئی۔ بھئی دیکھیے مسئلہ یہ ذکر ہوا کہ اگر وضو کرنے سے مرض کے بڑھنے کا خوف ہے تو کیا کر سکتا ہے انسان؟ تیمم کر سکتا ہے۔ اب یہاں پر دو صورتیں ہیں: ہو سکتا ہے مرض بڑھنے کا خوف کیوں ہے؟ پانی استعمال کرنے کی وجہ سے، پانی استعمال کرے گا تو وہ مرض ایسا ہے کہ اس کے اندر پانی استعمال کیا جائے تو وہ مرض بڑھتا ہے، یا پانی کے استعمال کی وجہ سے مرض بڑھنے کا خوف نہیں بلکہ وضو کے لیے اس کو اٹھ کر بیٹھنا پڑے گا اور پھر وضو کرنا پڑے گا تو کثیر حرکت کرنا پڑے گی، اس کثیر حرکت کی وجہ سے مرض بڑھنے کا خطرہ ہے، اس کثیر، پانی کی وجہ سے مرض بڑھنے کا خطرہ نہیں بلکہ کثیر، تو کس کون سے، کس کا اعتبار ہے؟ پانی کے استعمال کی وجہ سے جو مرض بڑھ رہا ہے یا حرکت کی وجہ سے جو مرض بڑھ رہا ہے کس کا اعتبار ہے؟ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں دونوں برابر ہیں، چاہے صرف حرکت کی وجہ سے مرض بڑھنے کا خوف ہو تب بھی تیمم کی اجازت، اور اگر پانی کے استعمال کی وجہ سے مرض بڑھنے کا خوف ہے تو بھی کیا ہے؟ تیمم کی اجازت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يَشْتَدَّ مَرَضُهُ بِالتَّحَرُّكِ أَوْ بِالِاسْتِعْمَالِ“ اور کوئی فرق نہیں ہے اس کے درمیان کہ مرض بڑھتا ہو سخت ہوتا ہو حرکت کرنے کی وجہ سے ”أَوْ بِالِاسْتِعْمَالِ أَيْ بِاسْتِعْمَالِ الْمَاءِ“ یا پانی کے استعمال کرنے کی وجہ سے۔ ”وَاعْتَبَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ خَوْفَ التَّلَفِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے تلف ہو جانے کے خوف کا اعتبار کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرض کے بڑھنے کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ اعتبار ہے تلف ہو جانے کا، تلف یعنی ہلاک ہو جانا۔ ایک آدمی ہے وہ بیمار ہے اس کو خوف ہے اگر میں پانی استعمال کروں گا تو ہلاک ہو جاؤں گا مر جاؤں گا یا میرا عضو تلف ہو جائے گا، ہاتھ یا پاؤں شل ہو جائیں گے بھئی، تو جان جانے کا خوف ہے یا عضو کے تلف ہو جانے کا خوف ہے تو پھر اس صورت میں اس مریض کے لیے، اس مریض کے لیے تیمم کرنے کی اجازت ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَاعْتَبَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ خَوْفَ التَّلَفِ“ اور اعتبار کیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے تلف ہو جانے کے خوف کا ”وَهُوَ مَرْدُودٌ بِظَاهِرِ النَّصِّ“ اور یہ جو یہ اعتبار جو ہے یہ ظاہرِ نص سے مردود ہے، رد ہو جاتا ہے رد کیا گیا ہے، ظاہرِ نص ہی سے یہ رد ہو جاتا ہے کیونکہ آیت کے اندر کیا آیا ہے بھئی؟ ”وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى“ اگر تم کیا ہو؟ مریض ہو، معلوم ہوا مریض ہو تو کیا کر سکتا ہے؟ تیمم، اس میں جان جانے یا عضو کے تلف ہو جانے کی کوئی قید ذکر نہیں ہے، تو لہٰذا ظاہرِ نص سے ہی یہ اعتبار رد ہو جاتا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَهُوَ مَرْدُودٌ بِظَاهِرِ النَّصِّ“ اور یہ جو تلف ہو جانے کے خوف کا اعتبار ہے یہ مردود ہے ظاہرِ نص سے ہی۔ ”وَلَوْ خَافَ الْجُنُبُ إِنِ اغْتَسَلَ أَنْ يَقْتُلَهُ الْبَرْدُ أَوْ يُمَرِّضَهُ يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ“ اور اگر خوف ہوا جنبی کو یعنی جنابت کی حالت، جنب جو شخص جنابت کی حالت میں ہے حدثِ اکبر میں، کہ اگر خوف ہوا جنابت والے کو ”إِنِ اغْتَسَلَ“ کہ اگر اس نے غسل کیا ”أَنْ يَقْتُلَهُ الْبَرْدُ“ تو سردی جو ہے اس کو مار ڈالے گی ”أَوْ يُمَرِّضَهُ“ یا اس کو مریض بنا بیمار کر دے گی ”يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ“ تو وہ تیمم کر لے مٹی سے۔ کیا مسئلہ بیان ہوا؟ کہ ایک شخص جنابت کی حالت میں ہے اور کسی ایسے علاقے میں ہے جہاں شدید سردی ہے، اب پانی تو موجود ہے اور وہ اس کے استعمال پر قادر بھی ہے لیکن اس کو یہ خوف ہے کہ اگر میں اس پانی سے وضو کروں گا تو سردی کی وجہ سے ہلاک ہو جاؤں گا، اتنی شدید سردی ہے، ہلاک ہو جاؤں گا یا ہلاک ہو جانے کا تو خوف نہیں بیمار پڑ جانے کا خوف ہے کہ یقیناً میں اس سے بیمار پڑ جاؤں گا، تو اس صورت میں بھی تیمم کرنے کی اس کے لیے اجازت ہے بھئی، اجازت ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایسی جگہ پر ہے انسان جہاں کوئی پانی گرم کرنے کی بھی صورت نہیں اور کوئی رضائی وغیرہ سردی کو دور کرنے کی بھی صورت نہیں تو پھر اس صورت میں اگر اسے بیمار ہو جانے کا بھی خوف ہے تو وہ تیمم کر سکتا ہے۔ ”وَهَذَا إِذَا كَانَ خَارِجَ الْمِصْرِ لِمَا بَيَّنَّا“ اور یہ اس وقت ہے جبکہ وہ شہر سے باہر ہو ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کی، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کی، کیا بیان کی بھئی؟ جو ہم نے پیچھے وجہ ذکر کی وہ کیا؟ کہ اس صورت میں اس کو نقصان ہو رہا ہے بھئی، نقصان ہو رہا ہے۔ ثمن کی زیادتی کی صورت میں جو نقصان تھا وہ کم درجے کا ہے اور بیماری کی صورت میں جو نقصان ہے وہ زیادہ، تو جو ثمن کی زیادتی کے نقصان کی صورت میں تیمم کرنے کی اجازت ہے تو بیماری کے نقصان کی صورت میں بطریقِ اولیٰ تیمم کی اجازت، تو یہاں پر بھی اس کو خوف ہے کہ میں بیمار ہو جاؤں گا تو یہ ضرر ہے اور اس ضرر کی صورت میں اسے تیمم کی اجازت ہو گی، اور اگر ہلاکت کا خوف ہے یہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہے، تو جب ادنیٰ نقصان کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے تو زیادہ نقصان کی صورت میں بطریقِ اولیٰ تیمم کی اجازت ہو گی۔ ”وَلَوْ كَانَ فِي الْمِصْرِ فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ خِلَافًا لَهُمَا“ اور اگر وہ شہر میں ہوا تو بھی اسی طرح ہے مسئلہ امام صاحب کے نزدیک بخلاف صاحبین کے۔ ایک آدمی شہر کے اندر ہے لیکن اس علاقے میں شدید سردی پڑتی ہے، اب اس شہر کے اندر اس کے پاس پانی گرم پانی بھی نہیں ہے وہ جنابت کی حالت میں ہے اور کوئی سردی دور کرنے والی چیز بھی نہیں اس کے پاس، اسے خوف ہے اگر میں غسل کروں گا تو پھر یا تو ہلاک ہو جاؤں گا یا بیمار ہو جاؤں گا، تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں چاہے شہر کے اندر ہی کیوں نہ یہ حالت پیش آ جائے، شہر کے اندر یہ حالت پیش آئے تو بھی وہ معتبر ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا اور لہٰذا وہ کیا کر سکتا ہے؟ تیمم کر سکتا ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، شہر کے اندر اس حالت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس لیے کیونکہ شہر کے اندر سردی کو دور کرنے والی چیزیں مل جاتی ہیں یا پانی کو گرم کرنے والی چیزیں مل جائیں گی، تو شہر کے اندر ایسی صورت نہایت نادر ہے بہت ہی کم ایسا ہو سکتا ہے کہ شہر میں ایسی صورت پیش آ جائے، اور جو بہت ہی کم ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا لہٰذا اس کا بھی یہاں پر کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا، شہر میں اس کی گنجائش نہیں اجازت نہیں ہو گی بھئی، ورنہ تو لوگ پھر حیلے بہانے کریں گے اور اس طرح تیمم کر لیا کریں گے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شہر میں اس کا اعتبار ہی نہیں، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، شہر میں ایک آدمی کو چاہے نادر ہے لیکن پیش آ سکتی ہے یا نہیں؟ بے شک، جب پیش آ گئی تو پھر حقیقتاً وہ پانی کے استعمال سے عاجز ہوا اور جب پانی کے استعمال سے حقیقتاً عاجز ہے تو شریعت کا حکم متوجہ ہو گا کہ کیا کر لو؟ مٹی سے تیمم کر لو، تو اس کو بھی تیمم کرنے کی اجازت ہو گی چاہے شہر ہی میں کیوں نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ فِي الْمِصْرِ فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ خِلَافًا لَهُمَا“ اور اگر وہ شہر میں ہوا تو بھی اسی طرح ہے مسئلہ امام صاحب کے نزدیک بخلاف صاحبین کے ”هُمَا يَقُولَانِ: إِنَّ تَحَقُّقَ هَذِهِ الْحَالَةِ نَادِرٌ فِي الْمِصْرِ فَلَا يُعْتَبَرُ“ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس قسم کی حالت کا ثابت ہونا نادر ہے شہر میں ”فَلَا يُعْتَبَرُ“ تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ”وَلَهُ: أَنَّ الْعَجْزَ ثَابِتٌ حَقِيقَةً“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ عجز کیا ہے؟ چاہے نادر پیش آئے لیکن حقیقتاً عجز ثابت ہے یا نہیں؟ حقیقتاً عجز ثابت ہے ”فَلَا بُدَّ مِنِ اعْتِبَارِهِ“ لہٰذا اس کا اعتبار کرنا ضروری ہے بھئی۔ جی؟ بھئی یہ پوچھ رہے ہیں فتویٰ کس قول پر ہے؟ صاحبین فرما رہے ہیں گنجائش نہیں شہر میں نہیں کر سکتا، اور امام صاحب فرما رہے ہیں کہ شہر میں بھی ایسی حالت پیش آ جائے تو وہ تیمم کر سکتا ہے۔ میں نے گزشتہ اسباق میں بھی غالباً میں نے ذکر کیا تھا کہ صاحبِ ہدایہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ اقوال ذکر کرتے ہیں تو جو قوی قول ہوتا ہے اس کو مقدم کرتے ہیں اس کو پہلے ذکر کرتے ہیں، اور جب دلائل ذکر کرتے ہیں تو جو مذہب ان کے نزدیک راجح ہوتا ہے اس کے دلائل آخر میں ذکر کرتے ہیں۔ جو مذہب کیا ہوتا ہے؟ راجح ہوتا ہے اس کی دلیلیں آخر میں ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ پہلے مذہب والوں کی دلیلوں کے لیے جواب بھی بن جائے، یہ اس مذہب کی دلیل بھی بن جائے اور پچھلے مذہب والوں کی دلیلوں کا جواب بھی بن جائے، تو یہاں کس کی دلیل کو مؤخر کیا؟ امام صاحب کی بھئی، امام صاحب کی، معلوم ہوا وہ راجح ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 25 of 82