Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-062

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: وَيُكْرَهُ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَعْبَثَ بِثَوْبِهِ أَوْ بِجَسَدِهِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ ”إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا“ وَذَكَرَ مِنْهَا ”الْعَبَثَ فِي الصَّلَاةِ“ وَلِأَنَّ الْعَبَثَ خَارِجَ الصَّلَاةِ حَرَامٌ فَمَا ظَنُّكَ فِي الصَّلَاةِ، وَلَا يُقَلِّبُ الْحَصَى لِأَنَّهُ نَوْعُ عَبَثٍ إلَّا أَنْ لَا يُمَكِّنَهُ مِنْ السُّجُودِ فَيُسَوِّيهِ مَرَّةً لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ ”مَرَّةً يَا أَبَا ذَرٍّ وَإِلَّا فَذَرْ“ وَلِأَنَّ فِيهِ إصْلَاحَ صَلَاتِهِ۔ فَصْلٌ: وَيُكْرَهُ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَعْبَثَ بِثَوْبِهِ أَوْ بِجَسَدِهِ۔ اس فصل میں مکروہاتِ نماز کو بیان کریں گے صاحبِ ہدایت بھئی۔ کہتے ہیں: وَيُكْرَهُ لِلْمُصَلِّي اور مکروہ ہے نمازی کے لیے أَنْ يَعْبَثَ بِثَوْبِهِ أَوْ بِجَسَدِهِ، عبث کہتے ہیں بے کار اور لایعنی کام کرنا، یعنی کھیلنا۔ اور مکروہ ہے نمازی کے لیے کہ أَنْ يَعْبَثَ بِثَوْبِهِ أَوْ بِجَسَدِهِ یہ کہ وہ کھیلے اپنے کپڑوں کے ساتھ أَوْ بِجَسَدِهِ یا اپنے جسم کے ساتھ۔ کپڑوں کے ساتھ کھیلتا ہے مثلاً کپڑے کبھی ایک طرف ہاتھ سے ان کو صحیح کرتا ہے کبھی دوسری طرف سے صحیح کرتا ہے یا جسم کے ساتھ کھیلتا ہے مثلاً بار بار سر کے بالوں کو ہاتھ لگا رہا ہے یا بار بار جسم پر کھجلی بغیر ضرورت کے کر رہا ہے وغیرہ بھئی۔ تو یہ اس کے لیے مکروہ ہے نمازی کے لیے۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا“ کہ اللہ تعالیٰ نے ناپسند کیا ہے تمہارے لیے تین چیزوں کو وَذَكَرَ مِنْهَا الْعَبَثَ فِي الصَّلَاةِ اور ان میں حضور علیہ السلام نے ایک عبث فی الصلاۃ کو بھی ذکر فرمایا۔ ان تین چیزوں میں سے ایک کس کو ذکر فرمایا؟ عبث فی الصلاۃ، نماز میں بے کار یعنی لایعنی کام کرنا یعنی نماز میں کھیلنا۔ وَلِأَنَّ الْعَبَثَ خَارِجَ الصَّلَاةِ حَرَامٌ، آگے صاحبِ ہدایہ دلیل دوسری عقلی دلیل بھی دے رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ عبث نماز سے باہر حرام ہے فَمَا ظَنُّكَ فِي الصَّلَاةِ تو نماز کے اندر تمہارا کیا گمان ہے؟ یعنی اس میں تو بطریقِ اولیٰ کیا ہوگا؟ حرام ہوگا۔ وَلَا يُقَلِّبُ الْحَصَى، حصى جمع ہے حصاة کی اور یہ کنکری کو کہتے ہیں۔ وَلَا يُقَلِّبُ الْحَصَى اور کنکریوں کو نہ الٹے پلٹے۔ قلب یقلب تقلیب کا معنی ہے الٹنا پلٹنا۔ وَلَا يُقَلِّبُ الْحَصَى اور کنکریوں کو نہ الٹے پلٹے لِأَنَّهُ نَوْعُ عَبَثٍ اس لیے کیونکہ یہ بھی کیا ہے؟ ایک قسم کا عبث کام ہے، بے کار کام ہے۔ إِلَّا أَنْ لَا يُمَكِّنَهُ مِنْ السُّجُودِ مگر یہ کہ اس کے لیے، نماز پڑھنے والے کے لیے ممکن نہ ہو سجدہ فَيُسَوِّيهِ مَرَّةً تو پھر ان کنکریوں کو کیا کر دے؟ ایک دفعہ برابر کر دے لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”مَرَّةً يَا أَبَا ذَرٍّ وَإِلَّا فَذَرْ“ کہ ایک مرتبہ اے ابوذر! ”وَإِلَّا فَذَرْ“ ورنہ اسے چھوڑ، یعنی ایک مرتبہ کنکریوں کو سیدھا کر لو اور ورنہ چھوڑ دو بھئی۔ وَلِأَنَّ فِيهِ إصْلَاحَ صَلَاتِهِ، یہاں سے دوسری عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں اس لیے، اس کی گنجائش اس لیے ہے کنکریوں کو ایک دفعہ سیدھا کرنے کی، کیونکہ اس کے اندر اس نماز پڑھنے والے کی نماز کی اصلاح ہے، نماز وہ آرام سے پڑھ سکے گا بھئی۔ وَلَا يُفَرْقِعُ أَصَابِعَهُ اور انگلیاں نہ چٹخائے۔ نماز پڑھنے والا انگلیوں کو نہ چٹخائے۔ انگلیاں چٹخانا بھئی یہ آپ جانتے ہیں کہ انگلیوں کو پیچھے کی طرف موڑا جائے یہاں تک کہ ان میں سے آواز نکلے، یہ ہے انگلیاں چٹخانا۔ اور یاد رکھیے یہ نماز کے اندر جیسے مکروہ ہے اسی طرح نماز سے باہر بھی یہ ناپسندیدہ ہے، خصوصاً آدابِ مجلس کے خلاف ہے، تو کہیں مجلس میں بیٹھا ہو تو انسان کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ وَلَا يُفَرْقِعُ أَصَابِعَهُ اور اپنی انگلیاں نہ چٹخائے لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”لَا تُفَرْقِعْ أَصَابِعَكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي“ کہ تو اپنی انگلیاں نہ چٹخا اس حال میں کہ تو نماز پڑھ رہا ہو۔ وَلَا يَتَخَصَّرُ اور نماز پڑھنے والا تخصر بھی نہ کرے۔ تخصر بھئی وہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ وَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْخَاصِرَةِ اور وہ ہاتھ کو رکھنا ہے خاصرہ پر۔ خاصرہ کہتے ہیں یہ کمر اور پیٹ کے جو اطراف ہیں، پہلو ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ پہلو بھئی اور یہ پسلیوں سے نیچے، پسلیوں سے نیچے جو اطراف ہیں، کمر کی دونوں جانب بھئی، دونوں جانب، تو ان پر انسان کبھی ہاتھ رکھ لیتا ہے دونوں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ خصوصاً عورتوں کو اگر دیکھا ہو لڑتے ہوئے یہاں ہاتھ رکھ لیتی ہیں۔ تو یہ ہے تخصر بھئی، یہ کیا ہے؟ تخصر۔ اور اس سے منع کیا گیا ہے بھئی۔ تخصر ہے یہ اور اس سے منع کیا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ وَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْخَاصِرَةِ اور وہ ہاتھ کا رکھنا ہے پہلو پر لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَهَى عَنْ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے نماز میں اس اختصار سے منع فرمایا ہے وَلِأَنَّ فِيهِ تَرْكَ الْوَضْعِ الْمَسْنُونِ، دوسری عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، اور اس لیے کیونکہ اس کے اندر مسنون وضع کو چھوڑنا ہے، مسنون جو طریقہ ہے اس کو چھوڑنا ہے بھئی۔ مسنون طریقہ تو یہ کیا تھا؟ ہاتھوں کو باندھا جائے نہ یہ کہ پہلو پر رکھے جائیں۔ وَلَا يَلْتَفِتُ، التفت یلتفت کے معنی ہوتے ہیں دائیں بائیں منہ کرنا بھئی، منہ کو، چہرے کو دائیں بائیں موڑنا۔ وَلَا يَلْتَفِتُ اور دائیں بائیں چہرے کو نہ موڑے لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے: ”لَوْ عَلِمَ الْمُصَلِّي مَنْ يُنَاجِي مَا الْتَفَتَ“ اگر جان لے نماز پڑھنے والا مَنْ يُنَاجِي کہ وہ کس سے مناجات کر رہا ہے، یعنی کس کے ساتھ کس سے دعا کر رہا ہے مَا الْتَفَتَ تو وہ البتہ دائیں بائیں منہ نہ موڑتا۔ اگر نمازی کو علم ہو کہ وہ کس ذات سے مناجات کر رہا ہے تو وہ دائیں بائیں منہ نہ موڑے۔ وَلَوْ نَظَرَ بِمُؤْخِرِ عَيْنَيْهِ يَمْنَةً وَيَسْرَةً مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ لَا يُكْرَهُ، اور اگر دیکھا بِمُؤْخِرِ عَيْنَيْهِ، مؤخر کہتے ہیں کنارے کو، کنارے کو، اور اگر نماز پڑھنے والے نے دیکھا بِمُؤْخِرِ عَيْنَيْهِ اپنی دونوں آنکھوں کے کناروں سے یعنی گوشۂ چشم سے يَمْنَةً وَيَسْرَةً دائیں اور بائیں طرف مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ، لوی یلوی کے معنی ہوتے ہیں گردن موڑنے کے، بغیر اس کے کہ وہ اپنی گردن موڑے لَا يُكْرَهُ تو یہ مکروہ نہیں لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ”كَانَ يُلَاحِظُ أَصْحَابَهُ فِي صَلَاتِهِ بِمُؤْقِ عَيْنَيْهِ“ اس لیے کیونکہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ملاحظہ فرماتے تھے یعنی ان پہ نگاہ رکھتے تھے فِي صَلَاتِهِ اپنی نماز میں بِمُؤْقِ عَيْنَيْهِ اپنے گوشۂ چشم سے بھئی، اپنے گوشۂ چشم سے ان پہ نگاہ۔ اچھا بھئی یہاں آپ نے پڑھا کہ نماز میں دائیں بائیں گردن نہیں موڑنی چاہیے، دائیں بائیں منہ نہیں کرنا چاہیے، اور اگر گوشۂ چشم سے دیکھے تو یہ بغیر گردن کو موڑے تو یہ مکروہ بھی نہیں ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی کہ گردن موڑنے سے تو نماز نہیں ٹوٹے گی لیکن اگر قبلے سے انسان کا سینہ پھر گیا تو سینہ اگر قبلے سے پھر جائے تو اس صورت میں نماز ٹوٹ جائے گی بھئی۔ سینہ لہٰذا قبلے سے نہیں پھرنا چاہیے بھئی۔ وَلَا يُقْعِي وَلَا يَفْتَرِشُ ذِرَاعَيْهِ اور نماز پڑھنے والا نماز میں اقعاء بھی نہ کرے۔ اقعاء، اقعاء کہتے ہیں کتے کی طرح بیٹھنا، وہ یہ کہ انسان زمین پر بیٹھے اس طرح اپنے دونوں کولہے زمین پر رکھ دے، اپنے دونوں کولہے زمین پر رکھ دے، اپنے سامنے اپنے پاؤں جو ہیں رانوں کو، گھٹنوں کو یوں کہیں گھٹنوں کو سینے کے ساتھ ملا لے، گھٹنوں کو سینے کے ساتھ ملا لے تو دونوں پاؤں کے دیکھو تلوے جو ہیں وہ زمین پر ہوں گے، دونوں پاؤں کے تلوے، اور پنڈلیاں رانوں کے ساتھ ملی ہوئی ہوں گی اور رانیں پیٹ کے ساتھ ملی ہوئی ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور اسی حالت میں اپنے دونوں ہتھیلیوں کو آگے زمین پر رکھ لے، اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ لے، صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ یہ ہے اقعاء، اقعاء، اور اس سے منع کیا گیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُقْعِي اور نماز پڑھنے والا نماز میں اقعاء نہ کرے یعنی کتے کی طرح نہ بیٹھے وَلَا يَفْتَرِشُ ذِرَاعَيْهِ اور نہ بچھائے اپنے ذراع یعنی کہنیوں سے لے کر جو ہتھیلی تک بازو کا حصہ ہے ان ذراعین کو زمین پر نہ بچھائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ عورتوں کی نماز کا یہ طریقہ ہے کیونکہ اس میں ستر زیادہ ہے البتہ مردوں کو اپنے بدن کو خوب کھول کر رکھنا چاہیے، عورتیں سجدہ کریں تو وہ کیا کریں گی؟ اپنے اپنے یہ کہنی سے بازو تک، کہنی سے ہتھیلی تک کا جو بازو کا حصہ ہے وہ اس کو زمین پر بچھائیں گی جبکہ مرد کیا کریں گے؟ اس حصے کو زمین سے بلند رکھیں گے۔ تو حدیث میں آیا ہے، تو وَلَا يَفْتَرِشُ ذِرَاعَيْهِ اور اپنے ذراعین کو زمین پر نہ بچھائے لِقَوْلِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بوجہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے کہ وہ فرماتے ہیں: ”نَهَانِي خَلِيلِي عَنْ ثَلَاثٍ“ کہ مجھے منع کیا میرے خلیل نے عن ثلاث کتنی چیزوں سے؟ تین چیزوں سے میرے خلیل نے مجھے منع کیا: ”عَنْ أَنْ أَنْقُرَ نَقْرَ الدِّيكِ“ ایک یہ کہ میں چونچ ماروں نَقْرَ الدِّيكِ، دیک کہتے ہیں مرغے کو، مرغے کی چونچ مارنے کی طرح، یہ کنایہ ہے جلدی سے سجدہ کرنا۔ مثلاً انسان سجدے میں جائے اور ماتھا زمین پر رکھا اور پھر ساتھ ہی فوراً اٹھا لیا تو یہ چونچ مارنے کی طرح ہی ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو حضور علیہ السلام نے اس سے منع فرمایا ہے کہ انسان نماز میں سجدہ کرتے ہوئے مرغے کی طرح چونچ مارے یعنی جلدی سے کرے۔ تو انہوں نے منع کیا مجھے اس سے کہ ”عَنْ أَنْ أَنْقُرَ نَقْرَ الدِّيكِ“ کہ میں چونچ ماروں مرغے کی طرح چونچ مارنا ”وَأَنْ أُقْعِيَ إقْعَاءَ الْكَلْبِ“ اور اس بات سے کہ میں بیٹھو إقْعَاءَ الْكَلْبِ کتے کی طرح بیٹھنا، اس سے بھی منع فرمایا ہے ”وَأَنْ أَفْتَرِشَ افْتِرَاشَ الثَّعْلَبِ“ اور یہ کہ میں ہاتھ بچھاؤں لومڑی کی طرح ہاتھ بچھانا، اس سے بھی حضور علیہ السلام نے منع فرمایا ہے۔ تو یاد رکھیے یہ اس حالت پر بیٹھنے سے منع کیا گیا اور اسی طرح ہاتھ زمین پر بچھانے سے منع کیا گیا، یہ وہ صورتیں ہیں جب بغیر عذر کے انسان اس طرح کرے، اس سے منع ہے۔ ہاں اگر عذر ہو پھر جس طرح سہولت کے ساتھ بیٹھ سکے بیٹھنے کی اجازت ہے بھئی۔ وَالْإِقْعَاءُ، دیکھیے وہی تفسیر اب اقعاء کی صاحبِ ہدایہ بھی کرنے لگے ہیں: وَالْإِقْعَاءُ أَنْ يَضَعَ أَلْيَتَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ اقعاء یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا رکھے اپنی دونوں، اپنی سرین کو یعنی اپنے دونوں کولہوں کو عَلَى الْأَرْضِ زمین پر وَيَنْصِبَ رُكْبَتَيْهِ نَصْبًا اور کھڑا کرے اپنے دونوں گھٹنوں کو، نصباً کھڑا کرنا وَالصَّحِيحُ اور یہی قول صحیح ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہی تفسیر بیان کر دی کہ دونوں گھٹنے کھڑے ہوں بھئی۔ وَلَا يَرُدُّ السَّلَامَ بِلِسَانِهِ اور نماز پڑھنے والا جواب نہ دے سلام کا اپنی زبان سے لِأَنَّهُ كَلَامٌ کیونکہ یہ کیا ہے؟ کلام ہے اور اس سے تو نماز ہی فاسد ہو جائے گی۔ وَلَا بِيَدِهِ اور نہ اپنے ہاتھ سے لِأَنَّهُ سَلَامٌ مَعْنًى اس لیے کیونکہ یہ بھی کیا ہے معنی کے اعتبار سے سلام ہی ہے حَتَّى لَوْ صَافَحَ بِنِيَّةِ التَّسْلِيمِ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ یہاں تک کہ اگر اس نے مصافحہ کر لیا کسی سے ہاتھ ملا لیا سلام کرنے کی نیت سے تَفْسُدُ صَلَاتُهُ تو اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ تو یاد رکھیے زبان سے اگر کسی کو سلام کرتا ہے کوئی شخص یا جواب دیتا ہے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی کیونکہ یہ کلام ہے اور کلام سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، اور ہاتھ سے، ہاتھ سے سلام کرتا ہے تو دو صورتیں ہیں، یا تو اشارہ کر دے گا ہاتھ سے یا کیا کرے گا باقاعدہ ہاتھ ملائے گا۔ باقاعدہ ہاتھ ملائے تو اس صورت میں بھی نماز فاسد ہو جائے گی، ہاں اشارہ کر دیا تو یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا بِيَدِهِ اور اپنے ہاتھ سے بھی سلام کا جواب نہ دے لِأَنَّهُ سَلَامٌ مَعْنًى اس لیے کیونکہ یہ بھی سلام ہے معنی کے اعتبار سے حَتَّى لَوْ صَافَحَ بِنِيَّةِ التَّسْلِيمِ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ یہاں تک کہ اگر مصافحہ کیا سلام کرنے کی نیت سے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ وَلَا يَتَرَبَّعُ إلَّا مِنْ عُذْرٍ اور تربّع بھی نہ کرے مگر کسی عذر کی وجہ سے۔ تربّع بھی نہ کرے۔ تربّع کہتے ہیں چونکڑی مار کر بیٹھنا، چار زانو بیٹھنا نماز میں بھئی، چار زانو یا آلتی پالتی مار کر بیٹھنا بھئی، کئی الفاظ استعمال ہوتے ہیں بھئی، سمجھ گئے بھئی؟ تربّع کسے کہتے ہیں؟ چونکڑی مارنا۔ وَلَا يَتَرَبَّعُ چونکڑی مار کر بھی نہ بیٹھے نماز میں إلَّا مِنْ عُذْرٍ مگر کسی عذر کی وجہ سے لِأَنَّ فِيهِ تَرْكَ سُنَّةِ الْقُعُودِ اس لیے کیونکہ اس کے اندر بیٹھنے کی سنت کا چھوڑنا ہے۔ بیٹھنے کی سنت تو کیا ہے؟ کس طرح بیٹھنا چاہیے؟ جیسے تشہد کی حالت میں انسان بیٹھتا ہے ویسے بیٹھنا چاہیے تو اس میں سنت چھوٹ جائے گی، اس لیے مکروہ۔ وَلَا يَعْقِصُ شَعْرَهُ اور اپنے بالوں کا جوڑا بھی نہ بنائے۔ اپنے بالوں کا جوڑا بھی نہ بنائے۔ یہ معنی نہیں کہ نماز میں لگا ہوا ہے اور جوڑا بنا رہا ہے، اس صورت میں تو نماز ہی فاسد ہو جائے گی۔ ہاں جوڑا بنا کر پہلے سے بنایا ہوا ہے اور اسی حالت میں نماز پڑھ رہا ہے، یاد رکھیے یہ مکروہ ہے۔ جوڑا کسے کہتے ہیں؟ بھئی وہ عورتیں اپنے بال اکٹھے کر کے سر کے اوپر چوٹی پر گیند بنا کر اس کو باندھ دیتی ہیں بھئی، وہ کیا ہے؟ جوڑا، وہ ہے عقاص بھئی، اس کو عقاص کہتے ہیں، تو اس سے منع کیا گیا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ عقاص بال بنائے ہوں جوڑا بنایا ہو اور پھر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے یہ نماز مکروہ ہے، اور اگر نماز کے اندر جوڑا بنا رہا ہے پھر تو عملِ کثیر لازم آئے گا تو نماز ہی فاسد ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: وَلَا يَعْقِصُ شَعْرَهُ اور بالوں کا جوڑا بھی نہ بنائے وَهُوَ أَنْ يَجْمَعَ شَعْرَهُ عَلَى هَامَتِهِ اور وہ یہ کہ جمع کرے نماز پڑھنے والا اپنے بالوں کو عَلَى هَامَتِهِ، ہامہ کہتے ہیں ہامة، میم مشدد نہیں ہے بھئی، ہامة، میم کو تخفیف کے ساتھ پڑھنا ہے۔ ہامة کہتے ہیں سر کا اوپر والا حصہ یعنی چوٹی، سر کی، انہوں نے کیا لکھا ہے؟ سر پیشانی، نہیں نہیں بھئی، پیشانی کا سر اگلا حصہ وہ نہیں، سر کی چوٹی جو درمیان میں سب سے اوپر حصہ ہے سر کا، کہ وہ یہ کہ جمع کرے وہ اپنے بالوں کو اپنی چوٹی پر وَيَشُدَّهُ بِخَيْطٍ أَوْ بِصَمْغٍ اور ان کو باندھ دے دھاگے سے أَوْ بِصَمْغٍ، صمغ کہتے ہیں گوند کو بھئی، لِيَتَلَبَّدَ تاکہ وہ چپک جائیں، جم جائیں۔ تو یعقص، عقص یعقص اس کا تعریف کر دی انہوں نے، بتلایا کسے کہتے ہیں کہ سر کے بالوں کو چوٹی پر جمع کیا جائے اور ان کو دھاگے یا گوند کے ساتھ، دھاگے کے ساتھ باندھ دیا جائے یا گوند سے چپکا دیا جائے تاکہ وہ جم جائیں۔ تو تلبد کا معنی چپک جانا، جم جانا۔ أَوْ بِصَمْغٍ یا گوند کے ساتھ لِيَتَلَبَّدَ تاکہ وہ چپک جائیں فَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ مَعْقُوصٌ پس تحقیق روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے منع فرمایا اس بات سے کہ کوئی شخص نماز کوئی شخص نماز پڑھے وَهُوَ مَعْقُوصٌ اور اس کے بال کیا ہوں؟ معقوص ہوں یعنی جوڑا بنا ہوا ہو۔ وَلَا يَكُفُّ ثَوْبَهُ، کف یکف کے معنی روکنے کے، یہاں مراد ہے سمیٹنا۔ وَلَا يَكُفُّ ثَوْبَهُ اور اپنے کپڑوں کو نہ سمیٹے۔ نماز کوئی پڑھ رہا ہے اور کبھی کپڑوں کو ایک طرف سے سمیٹتا ہے کبھی دوسری طرف سے سمیٹ رہا ہے کبھی ان کو سیدھا کر رہا ہے کہ کہیں استری نہ خراب ہو جائے، کہیں کوئی اور چیز خراب نہ، تو یہ اس سے منع کیا گیا ہے لِأَنَّهُ نَوْعُ تَجَبُّرٍ اس لیے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا تکبر ہے بھئی، کیا ہے؟ تکبر ہے۔ وَلَا يَسْدُلُ ثَوْبَهُ اور کپڑے کا سدل بھی نہ کرے، سدل۔ سدل اس کو کہتے ہیں آگے صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے، سدل اس کو کہتے ہیں کہ سر پر کوئی انسان رومال ڈال لیتا ہے اب رومال کا ایک کنارہ وہ ایک طرف سینے پر لٹکا ہوا ہے اور دوسرا کنارہ دوسری طرف سینے پر لٹکا ہوا ہے، یہ ہے سدل۔ دیکھو دونوں کناروں کو نیچے چھوڑ دینا، لٹکا دینا یہ کیا ہے؟ سدل۔ لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے تو دونوں کنارے نیچے کو نہیں لٹکے ہونے چاہئیں، ایک کنارہ نیچے ہو تو دوسرے کو کیا کرنا چاہیے؟ دوسرے کندھے پر لپیٹ کر ڈال لے بھئی، طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح بھئی بعض اوقات انسان کندھے پر چادر ڈالتا ہے اور اس چادر کو ہونا کس طرح چاہیے؟ ایک طرف سامنے کی طرف سے لا کر کندھے پر ڈال لے اس کو لپیٹ لے چادر کا یہ طریقہ ہے لیکن وہ کیا کرتا ہے کندھے پر ڈالی اور دونوں طرف کو جو کنارے ہیں وہ نیچے کی طرف لٹک رہے ہیں بھئی، نیچے کی طرف، تو کندھے پر ایک جانب کو لپیٹ کر نہیں ڈالتا سیدھا ان کو چھوڑ دیتا ہے، یہ ہے سدل بھئی، سدل۔ اور یہ اس لیے منع کیا گیا سدل سے، چاہے کپڑا وہ سر پہ ڈالا ہے چاہے کپڑا کندھے پر ڈالا ہے، اس سے منع کیا گیا کیونکہ یہ متکبرین کی علامت ہے۔ حتیٰ کہ آج کل بھی آپ دیکھ لیں کہ متکبرین کو آپ دیکھیں گے جو بڑے مالدار وغیرہ بعض کو آپ مشاہدہ کر لیں گے، انہوں نے جب چادر اپنے اوپر ڈالی ہوتی ہے اسی طریقے سے چادر ڈالتے ہیں کہ اس کے دونوں کنارے نیچے کو لٹک رہے ہوتے ہیں وہ لپیٹ کر کندھے پر نہیں ڈالتے بھئی، تو اس سے منع کیا گیا۔ وَلَا يَسْدُلُ ثَوْبَهُ اور کپڑے کا سدل نہ کرے لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَهَى عَنْ السَّدْلِ اور کیونکہ حضور علیہ السلام نے سدل سے منع فرمایا ہے وَهُوَ اور وہ یہ ہے أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَكَتِفَيْهِ اور وہ یہ کہ کپڑے کو ڈال دے اپنے سر پر اور کندھوں پر ثُمَّ يُرْسِلَ أَطْرَافَهُ مِنْ جَوَانِبِهِ پھر چھوڑ دے اس کے کناروں کو اپنے اپنے اطراف میں، اس کے کناروں کو اپنے اطراف میں چھوڑ دیتا ہے، حالانکہ طریقہ کیا تھا؟ کیا کرنا چاہیے تھا؟ ایک کنارے کو کندھے کی طرف لپیٹ دینا چاہیے تھا۔ اچھی طرح سدل سمجھ میں آ گیا؟ وَلَا يَأْكُلُ وَلَا يَشْرَبُ اور نماز میں نہ کھائے اور نہ پیئے لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِ الصَّلَاةِ کیونکہ یہ نماز کے اعمال میں سے نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ محشی حضرات لکھتے ہیں کہ یہ مکروہات بیان ہو رہے ہیں اور یہ اکل و شرب سے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے لہٰذا یہ مسئلہ صاحبِ ہدایہ کو پچھلے فصل وغیرہ میں ذکر کرنا چاہیے تھا، یہاں ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یرحمک اللہ۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ عَامِدًا أَوْ نَاسِيًا فَسَدَتْ صَلَاتُهُ اور اگر اس نے کھایا یا پیا عَامِدًا جان بوجھ کر أَوْ نَاسِيًا یا بھول کر فَسَدَتْ صَلَاتُهُ تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی لِأَنَّهُ عَمَلٌ كَثِيرٌ کیونکہ یہ عملِ کثیر ہے۔ وَحَالَةُ الصَّلَاةِ مُذَكِّرَةٌ، یہ اشکال کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کہا بھولے سے بھی اگر نماز میں کوئی کھا پی لے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے حالانکہ روزے کے اندر تو کوئی بھولے سے کھا پی لے تو وہ روزہ فاسد نہیں ہوتا، تو اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی روزے کی حالت میں کوئی چیز یاد دلانے والی نہیں۔ کیونکہ روزے میں تو کوئی عمل نہیں، صرف کھانے پینے وغیرہ سے اپنے آپ کو روکنے کا نام روزہ ہے، اس میں تو کوئی عمل نہیں لیکن نماز میں؟ نماز میں تو انسان کو اعمال کرنے پڑتے ہیں، کھڑا ہوا ہے، ہاتھ باندھے ہوئے ہیں، قرات کر رہا ہے، رکوع کر رہا ہے، سجدہ کر رہا ہے، یہ ساری چیزیں اس کو یاد کروانے والی ہیں کہ وہ کس حالت میں ہے؟ حالتِ نماز میں ہے، تو چونکہ یہاں ایسی چیز موجود ہے جو انسان کو اس بات کی طرف متوجہ رکھتی ہے اور اس لیے اس حالت میں بھولے سے بھی اگر کوئی کھا لے گا تو اس کی نماز فاسد، جبکہ روزے میں کوئی چیز یاد کروانے والی چونکہ نہیں ہے اس لیے وہاں پر اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دی۔ تو کہتے ہیں: وَحَالَةُ الصَّلَاةِ مُذَكِّرَةٌ اور نماز کی جو حالت ہے وہ یاد کروانے والی ہے کہ وہ حالتِ نماز میں ہے۔ تو یہاں آ گیا کہ یہ عملِ کثیر ہے یہ کھانا اور پینا اور اس کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ تو تفصیل یاد رکھیے عملِ قلیل کسے کہیں گے اور عملِ کثیر کسے کہیں گے؟ عملِ کثیر یہ ہے کہ کوئی عمل دونوں ہاتھوں سے کیا جائے اس طرح کہ دور سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ شخص نماز نہیں پڑھ رہا، یہ شخص دونوں ہاتھوں سے کوئی عمل کر رہا ہے نماز پڑھنے والا، دور سے دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے شاید یہ نماز نہیں پڑھ رہا ویسے ہی کسی اور کام میں لگا ہوا ہے، تو یہ ہے عملِ کثیر اور یہ مفسدِ صلاۃ ہے، نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی، فاسد ہو جائے گی۔ اور اسی طرح بھئی نماز میں خشوع و خضوع جتنا زیادہ ہو اتنا ہی پسندیدہ ہے اور نماز کے اپنے اعمال کے علاوہ اور کوئی حرکت انسان نہ کرے بھئی، ہر حرکت سے اجتناب کرے۔ اور اگر کوئی شخص مثلاً بدن پر کھجلی کرتا ہے یا ہاتھ کے ذریعے کوئی عمل سرانجام دیتا ہے اور تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار تک اس کا ہاتھ مشغول رہا واپس آیا ہی نہیں، تو یاد رکھیے یہ بھی عملِ کثیر ہو گیا اور اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ یا، یا کوئی عمل کرتا ہے ایک ہاتھ سے کرتا ہے لیکن تین مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار کہنے کے اندر اندر اس نے تین دفعہ حرکت ہاتھ کو ہلایا، مثلاً خارش کر رہا تھا بدن پر مثلاً گردن پر خارش کر رہا ہے ایک دفعہ اس نے خارش کر لی پھر دوبارہ ہاتھ رکھ دیا باندھ دیا، پھر فوراً خارش کی پھر ہاتھ رکھ لیا، پھر فوراً خارش کی، تو تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے اندر اندر اس نے تین مرتبہ ایسا کیا تو یاد رکھیے یہ بھی عملِ کثیر ہو گیا اور اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار کے اندر اندر تین مرتبہ حرکت کرنا یا کوئی ایک عمل کرنا اور تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار تک وہ طویل رہا، ہاتھ واپس آیا ہی نہیں تو اس صورت میں بھی نماز فاسد، یا دونوں ہاتھوں سے کوئی عمل کیا اور دور سے دیکھنے والے نے اسی حالت میں اگر کوئی اس کو دیکھ لے تو وہ یوں سمجھے کہ یہ تو شاید نماز پڑھ ہی نہیں رہا، تو اس صورت میں بھی یہ نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ رائےِ مبتلیٰ بہٖ کے سپرد ہے کہ اگر وہ عمل کرنے والا اس کو عملِ کثیر سمجھتا ہے تو وہ عملِ کثیر ہے، اگر عملِ کثیر نہیں سمجھتا تو یہ عملِ کثیر نہیں ہے۔ وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَكُونَ مَقَامُ الْإِمَامِ فِي الْمَسْجِدِ وَسُجُودُهُ فِي الطَّاقِ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ مسجد میں ہو وَسُجُودُهُ فِي الطَّاقِ اور اس کا سجدہ کس میں ہو؟ طاق یعنی محراب میں ہو وَيُكْرَهُ أَنْ يَقُومَ فِي الطَّاقِ اور مکروہ ہے یہ کہ وہ کھڑا ہو محراب کے اندر۔ بھئی یاد رکھیے محراب کے اندر امام کھڑا ہو یہ مکروہ ہے لہٰذا کھڑا پیچھے ہو، کھڑا پیچھے ہی ہو، سجدہ محراب میں ہو رہا ہے اس میں کوئی حرج نہیں بھئی۔ بھئی یہ مکروہ کیوں ہے؟ محراب میں کھڑا ہو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ يُشْبِهُ صَنِيعَ أَهْلِ الْكِتَابِ اس لیے کیونکہ یہ اہلِ کتاب جو ہیں یعنی یہودی اور عیسائی جو ہیں ان کے عمل کے مشابہ ہے مِنْ حَيْثُ تَخْصِيصُ الْإِمَامِ بِالْمَكَانِ اس حیثیت سے کہ وہ امام کی تخصیص کرتے ہیں جگہ کے ساتھ، یعنی اس کے لیے الگ جگہ ہوتی ہے، ان کے ہاں کیا ہوتا ہے؟ امام کے لیے الگ جگہ ہوتی ہے اور ہمیں تو ان کے ساتھ مشابہت سے منع کیا گیا لہٰذا امام کے لیے الگ جگہ نہیں، باقی لوگ جیسے مسجد کے اندر ہیں جس حصے میں امام کو بھی اسی حصے میں ہونا چاہیے، ہاں سجدہ اگر اس میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔ بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ سُجُودُهُ فِي الطَّاقِ بخلاف اس صورت کے جبکہ امام کا سجدہ جو ہے وہ محراب میں ہو، اس صورت میں ان کے ساتھ مشابہت نہیں ہے۔ وَيُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْإِمَامُ وَحْدَهُ عَلَى الدُّكَّانِ لِمَا قُلْنَا اور مکروہ ہے کہ امام اکیلا جو ہے عَلَى الدُّكَّانِ چبوترے پر ہو یعنی اونچی جگہ پر ہو، امام اکیلا کیا ہو؟ امام کے لیے جو جگہ ہے وہ اونچی ہے باقی سب کے لیے جگہ نیچی ہے تو یہ بھی دیکھیے اہلِ کتاب کے ساتھ مشابہت آ گئی، وہ بھی کیا کرتے ہیں؟ اپنے امام کے لیے الگ اور مخصوص جگہ ہوتی ہے باقی سب سے الگ تو یہاں بھی ان کے ساتھ مشابہت ہے، تو کہتے ہیں یہ بھی مکروہ ہے کہ امام اکیلا چبوترے پر ہو لِمَا قُلْنَا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی کہ اس میں اہلِ کتاب کے ساتھ مشابہت ہے۔ وَكَذَا عَلَى الْقَلْبِ اور اسی طرح اس کے قلب میں بھی ہوگا، اس کے عکس میں بھی ہوگا، اس کا عکس کر لیا جائے یعنی اس کو الٹ دیا جائے کس طرح؟ لوگ اوپر ہیں اور امام کہاں ہے؟ نیچے ہے، اس کی جگہ نیچی ہے تو اس صورت میں بھی مکروہ ہے فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ کس میں؟ ظاہرِ روایت میں لِأَنَّهُ ازْدِرَاءٌ بِالْإِمَامِ، ازدراء کہتے ہیں تحقیر بھئی، کسی کی تحقیر کرنا، اس لیے کیونکہ اس میں امام کی تحقیر ہے بھئی، امام کی تو عزت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور لہٰذا اس کا اگر وہ نیچے کھڑا ہو تو یہ مکروہ ہے بھئی۔ وَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ إلَى ظَهْرِ رَجُلٍ قَاعِدٍ يَتَحَدَّثُ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ نماز پڑھنے والا نماز پڑھے إلَى ظَهْرِ رَجُلٍ قَاعِدٍ کسی ایسے بیٹھے ہوئے شخص کی پشت کی طرف يَتَحَدَّثُ جو باتیں کر رہا ہے۔ بھئی نماز پڑھنے والا اس کے سامنے اگر کوئی شخص ہے اور اس شخص کی پشت ہے اس کی طرف اور وہ بیٹھا ہوا ہے اور چاہے کسی کے ساتھ گفتگو بھی کر رہا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو اس صورت میں وہ اس کے لیے سترہ بن جائے گا، سترہ، پھر اس کے آگے سے کوئی گزرنا چاہے تو گزر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے: وَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ إلَى ظَهْرِ رَجُلٍ قَاعِدٍ اور کوئی حرج نہیں کہ نماز پڑھے کسی ایسے بیٹھے ہوئے شخص کی کمر کی طرف يَتَحَدَّثُ جو باتیں کر رہا ہے لِأَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ”رُبَّمَا كَانَ يَسْتَتِرُ بِنَافِعٍ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ“ اس لیے کیونکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اکثر اوقات جو ہیں وہ سترہ بنا لیتے تھے نافع کو، کس کو؟ نافع یہ ان کے غلام تھے بھئی، نافع کو سترہ بنا لیتے تھے فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ اپنے بعض سفروں کے اندر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نماز کوئی پڑھ رہا ہے اور انہوں نے کہا کہ کسی شخص کی پشت کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا بھی جائز ہے کہ اس حال میں کہ وہ باتیں کر رہا ہو، یہ باتیں کرنے کی ویسے قید لگائی، یہ نہیں کہ ضروری ہے کہ وہ باتیں کر رہا ہو پھر جائز ہے اس کی طرف کمر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا ویسے نہیں۔ ہاں باتیں بھی ویسے تو نمازی کے پاس باتیں کرنا درست نہیں ہے بھئی کیونکہ اس سے اس کی نماز میں خلل آئے گا لیکن اگر آہستہ کر رہے ہیں تو پھر ٹھیک ہے بھئی اور اس شخص کی کمر کی طرف پشت کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا صحیح ہے وہ سترہ بن جائے گا۔ ہاں اس جو سامنے بیٹھا ہے اس کا رخ اس نماز پڑھنے والے کی طرف نہیں ہونا چاہیے، اس صورت میں تو نماز اس کے چہرے کی طرف ہو جائے گی، کس کی طرف ہو جائے گی؟ چہرے کی طرف ہو جائے گی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ ایک آدمی اسی طرح نماز پڑھ رہا ہے اور دوسرا اس کے سامنے بیٹھا ہے اس کا رخ اسی کی طرف ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تو بڑی جلالی طبیعت تھی، آپ ہر وقت کوڑا اپنے ساتھ رکھتے تھے بھئی، سمجھیں؟ تو ان دونوں کو کوڑے لگائے بھئی اور کہ نمازی سے کہا کیا تو صورت کی طرف رخ کیا ہوا ہے اس کی عبادت کر رہا ہے؟ اور دوسرے کو بھی کہا کہ کیسے اس کے سامنے، اور یہ تو رخ نہیں ہونا چاہیے، سمجھ میں آیا؟ اور یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی سنت ہے، یہ جو عرب کو آپ دیکھتے ہیں سر پر رومال کے اوپر یہ جو کالی چیز رکھتے ہیں گول سی، یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت تھی وہ کوڑا سر پر باندھ کر رکھتے تھے ہر وقت بھئی، تو جہاں کسی کا علاج کرنے کی ضرورت پیش آتی امیر المومنین تھے بھئی، عدل و انصاف کا دور دورہ تھا بھئی، یہ نہیں کہ کس نے کچھ غلطی کی بس جیل میں ڈال دیا ساری عمر جیل میں پڑا رہے، آج کل تو ظلم و ستم کی انتہا ہو گئی، ہاں وہ بقدرِ ضرورت جہاں ضرورت ہوتی تھی وہاں وہیں کوڑا نکال لیا ایک آدھی دوسرے کو لگا دی، اس کی اصلاح بھی ہو گئی اور دوسروں کو بھی عبرت ہو گئی اور جہاں اس کی بھی ضرورت تھی تو صرف ڈانٹ ہی دیتے تھے صرف بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو یہاں ان کو کوڑے لگائے کہ بھئی بڑی غلطی کی ہے، نمازی کے سامنے بیٹھا ہوا ہے اور وہ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہا ہے یہ تو گویا اسی کی عبادت کر رہا ہو بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس لیے تو یہ ان کی سنت ہے بھئی۔ وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُصَلِّيَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ مُصْحَفٌ مُعَلَّقٌ أَوْ سَيْفٌ مُعَلَّقٌ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ نماز پڑھے اور اس کے سامنے جو ہے مُصْحَفٌ مُعَلَّقٌ قرآن لٹکایا گیا ہو أَوْ سَيْفٌ مُعَلَّقٌ یا تلوار لٹکائی ہوئی ہو لِأَنَّهُمَا لَا يُعْبَدَانِ اس لیے کیونکہ ان دونوں کی عبادت نہیں کی جاتی، تو یہاں کوئی غلط شبہ بھی ذہن میں نہیں آئے گا تو کوئی حرج نہیں، اس طرح پڑھ سکتے ہیں وَبِاعْتِبَارِهِ تَثْبُتُ الْكَرَاهَةُ اور اسی اعتبار سے کراہت ثابت ہوتی ہے، یعنی اگر کوئی ایسی چیز ہے سامنے جس کی عبادت کرتے ہیں بعض لوگ تو اس کا آگے ہونا اس صورت میں کراہت آئے گی۔ وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُصَلِّيَ عَلَى بِسَاطٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ نماز پڑھے ایسے بچھونے پر، بساط بچھونا، فِيهِ تَصَاوِيرُ یہ جملہ اسمیہ ہے، فیہ خبرِ مقدم اور تصاویر کیا ہے مبتدا مؤخر، تو نکرہ کے بعد بساط ہے نکرہ، نکرہ کے بعد جملہ آیا جملہ اسمیہ اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور موصوف سے پہلے ترجمہ کرتے ہوئے ایسا یا ایسی کا لفظ، اور وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُصَلِّيَ عَلَى بِسَاطٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ نماز پڑھے ایسے بچھونے پر کہ جس میں تصویریں ہوں لِأَنَّ فِيهِ اسْتِهَانَةً بِالصُّوَرِ اس لیے کیونکہ اس کے اندر تصویروں کی اہانت ہے، کیا ہے؟ اہانت۔ بھئی اس جس صورت میں تصویر کی تعظیم کا احتمال تعظیم جہاں بنے گی اس صورت میں نماز مکروہ ہوگی اور اگر تصویر کے اوپر کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہے، بچھونے پر ہے نا، مصلے پر جائے نماز پر کیا بنی ہوئی ہے مثلاً صورت ہے، اس کے اوپر کھڑا ہوا ہے تو اس میں تصویر کی تعظیم ہے یا اس کی اہانت ہے؟ اہانت ہے تو لہٰذا اس وجہ سے مکروہ نہیں۔ تو اس میں تصویر کی اہانت ہے۔ وَلَا يَسْجُدُ عَلَى التَّصَاوِيرِ اور تصاویر پر سجدہ نہ کرے، تصویر پر کھڑے ہو کر نماز تو پڑھے لیکن اس پر سجدہ نہ کرے یعنی سجدے کی جگہ پر تصویر نہیں ہونی چاہیے، کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ يُشْبِهُ عِبَادَةَ الصُّورَةِ اس لیے کیونکہ یہ تصویر کی عبادت کے مشابہ ہے، گویا وہ کیا کر رہا ہے؟ تصویر کی عبادت، تو اس صورت میں مکروہ ہوگا۔ وَأَطْلَقَ الْكَرَاهِيَةَ فِي الْأَصْلِ اور مطلق رکھا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے کراہیہ مکروہ ہونے کو فِي الْأَصْلِ اصل میں یعنی مبسوط کے اندر، اصل کا لفظ جہاں جہاں آئے بھئی کیا مراد ہوتی ہے اس سے؟ مبسوط۔ اور اس کو مطلق اس مکروہ ہونے کو مطلق لکھا ہے مطلق رکھا ہے اصل میں، یعنی وہاں امام محمد رحمہ اللہ نے مطلق لکھا ہے۔ یہ کیا؟ ہم نے تو مسئلہ ذکر کر دیا صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں متن میں کہ جس جائے نماز پر تصاویر ہوں اس پر بھی نماز جائز ہے، ہو جائے گی اگر وہ تصویر کے اوپر کھڑا ہے یعنی ایسی صورت ہے جس میں تصویر کی اہانت ہے لیکن اس پر سجدہ نہ کرے، اگر تصویر پر سجدہ کرے گا تو نماز کیا ہو جائے گی؟ مکروہ۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ نے مبسوط کے اندر مطلقاً اس کو مکروہ قرار دیا ہے کہ جائے نماز پر تصویریں ہوں، جائے نماز پر تصویر کے ہونے کو ہی انہوں نے کیا قرار دیا ہے؟ مکروہ قرار دیا ہے۔ یہ معنی ہے: وَأَطْلَقَ الْكَرَاهِيَةَ فِي الْأَصْلِ اور امام محمد رحمہ اللہ نے مطلق رکھا ہے مکروہ ہونے کو اصل میں، بھئی کیوں؟ وجہ کیا؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُصَلَّى مُعَظَّمٌ اس لیے کیونکہ جائے نماز جو ہے وہ تعظیم والی چیز ہے، وہ معظم چیز ہے لہٰذا اس پر تصویر نہیں ہونی چاہیے، اگر اس پر تصویر ہے تو اس کا مطلب ہے آپ تصویر کی کیا کر رہے ہیں؟ تصویر کیونکہ جائے نماز معظم چیز ہے تو جو اس پر بنا ہوگا وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ معظم ہوا گویا۔ وَيُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فَوْقَ رَأْسِهِ فِي السَّقْفِ أَوْ بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ بِحِذَائِهِ تَصَاوِيرُ أَوْ صُورَةٌ مُعَلَّقَةٌ اور مکروہ ہے کہ اس نماز پڑھنے والے کے سر کے اوپر فِي السَّقْفِ چھت میں أَوْ بَيْنَ يَدَيْهِ یا اس کے سامنے أَوْ بِحِذَائِهِ یا اس کے برابر میں یعنی دائیں یا بائیں اس کے برابر میں تصاوير تصویریں ہوں أَوْ صُورَةٌ مُعَلَّقَةٌ یا کوئی تصویر لٹکی ہوئی ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نماز پڑھنے والے کے سامنے ہو یا اس کے سامنے چھت سے لٹکی ہوئی ہو یا اس کے دائیں بائیں ہو اس کے برابر میں تو یہ مکروہ ہے لِحَدِيثِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ”إنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ أَوْ صُورَةٌ“ وہ فرماتے ہیں کہ ہم فرشتے جو ہیں ہم داخل نہیں ہوتے ایسے گھر میں جس میں کتا ہو أَوْ صُورَةٌ یا تصویر ہو، تو اس وجہ سے یہ مکروہ ہے۔ وَلَوْ كَانَتْ الصُّورَةُ صَغِيرَةً بِحَيْثُ لَا تَبْدُو لِلنَّاظِرِ لَا يُكْرَهُ لِأَنَّ الصِّغَارَ جِدًّا لَا تُعْبَدُ، اور اگر تصویر اتنی چھوٹی ہے، وَلَوْ كَانَتْ الصُّورَةُ صَغِيرَةً اور اگر تصویر چھوٹی ہے بِحَيْثُ لَا تَبْدُو لِلنَّاظِرِ اس طور پر کہ وہ دکھائی ہی نہیں دیتی دیکھنے والے کو، جو ذرا سے فاصلے پہ کھڑا ہو اس کو دکھائی ہی نہیں دیتی تو پھر لَا يُكْرَهُ پھر مکروہ نہیں ہے لِأَنَّ الصِّغَارَ جِدًّا لَا تُعْبَدُ اس لیے کیونکہ بہت چھوٹی تصویریں جو ہیں ان کی عبادت نہیں کی جاتی اور کراہت یہاں کس لیے آ رہی تھی؟ عبادت کے شبہ پڑتا تھا۔ وَإِذَا كَانَتْ تِمْثَالًا مَقْطُوعَ الرَّأْسِ أَيْ مَمْحُوَّ الرَّأْسِ فَلَيْسَ بِتِمْثَالٍ، تمثال بھئی وہ صورت جو کسی جاندار کی ہو اس کو کہتے ہیں تمثال بھئی، تصویر ہے لیکن کسی جاندار کی ہے تو اس کو تمثال کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا كَانَتْ تِمْثَالًا مَقْطُوعَ الرَّأْسِ اور اگر تصویر جو ہے مَقْطُوعَ الرَّأْسِ سر کٹی ہوئی ہو یعنی اس کے سر کو کاٹا گیا ہو، کیا معنی سر کٹا ہوا ہو؟ أَيْ مَمْحُوَّ الرَّأْسِ یعنی اس کا سر مٹایا ہوا ہو۔ تصویر تھی جاندار کی لیکن کیا کر دیا گیا ہے؟ اس کے سر کو مٹا دیا گیا ہے فَلَيْسَ بِتِمْثَالٍ تو پھر یہ جاندار کی تصویر ہی نہیں، پھر جاندار کی تصویر ہی نہیں لِأَنَّهُ لَا تُعْبَدُ بِدُونِ الرَّأْسِ اس لیے کیونکہ بغیر سر کے اس کی عبادت نہیں کی جاتی تو اس میں تعظیم کا شبہ پھر نہیں پڑتا۔ وَصَارَ كَمَا إذَا صَلَّى إلَى شَمْعٍ أَوْ سِرَاجٍ عَلَى مَا قَالُوا اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے وہ نماز پڑھ رہا ہو کسی شمع کی طرف یا کسی چراغ کی طرف منہ کر کے عَلَى مَا قَالُوا بنا بر اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے، جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ جی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کے ذریعے اختلاف کی طرف اشارہ کر دیا کیونکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر نماز پڑھتے ہوئے سامنے شمع ہو یعنی موم بتی وغیرہ أَوْ سِرَاجٍ یا کیا ہو؟ چراغ ہو تو نماز ہی نہیں ہوگی لیکن دیگر فقہاء فرماتے ہیں نہیں بھئی، موم بتی اور چراغ کی عبادت نہیں کی جاتی لہٰذا وہ سامنے بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں، ہاں اگر آگ ہے شعلے والی، شعلے والی آگ ہو وہ سامنے نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کی لوگ کیا کرتے ہیں؟ عبادت کرتے ہیں۔ وَلَوْ كَانَتْ الصُّورَةُ عَلَى وِسَادَةٍ مُلْقَاةٍ أَوْ عَلَى بِسَاطٍ مَفْرُوشٍ لَا يُكْرَهُ، اور اگر تصویر عَلَى وِسَادَةٍ، وسادة کہتے ہیں تکیے کو، تکیے کو، مُلْقَاةٍ ڈالا گیا یعنی جو نیچے پڑا ہوا ہے، اور اگر تصویر جو ہے نیچے پڑے ہوئے تکیے پر تھی أَوْ عَلَى بِسَاطٍ مَفْرُوشٍ یا ایسے بچھونے پر مَفْرُوشٍ جس کو بچھایا گیا ہے لَا يُكْرَهُ پھر مکروہ نہیں ہے لِأَنَّهَا تُدَاسُ وَتُوطَأُ، تداس اور توطأ کا ایک معنی ہے، پاؤں کے ساتھ کسی چیز کو روندنا، کچلنا یعنی کسی چیز کے اوپر پاؤں رکھنا، لِأَنَّهَا تُدَاسُ وَتُوطَأُ اس لیے کیونکہ ان کو پاؤں سے روندا جاتا ہے، جب بھئی نیچے پڑا ہوا ہے ایک تکیہ اس پر تصویر بنی ہوئی ہے یا بچھونے پر بنی ہوئی ہے تو ان کو پاؤں رکھتے ہیں لوگ، روندا گیا ان کو روندا جاتا ہے تو اس میں تعظیم والا معنی نہیں ہے۔ بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَتْ الْوِسَادَةُ مَنْصُوبَةً بخلاف اس کے کہ اگر تکیہ جو ہے اگر وہ کھڑا کیا ہوا ہو أَوْ كَانَتْ عَلَى السِّتْرِ یا وہ تصویر کس پر تھی؟ پردے پر ہے تو اس صورت میں مکروہ ہے لِأَنَّهُ تَعْظِيمٌ لَهَا اس لیے کیونکہ اس میں ان کی تعظیم ہے، ان تصویروں کی، تو أَوْ كَانَتْ عَلَى السِّتْرِ تصاوير کی طرف ضمیر راجع کریں، اور اگر تصویریں عَلَى السِّتْرِ پردے پر ہیں تو پھر یہ مکروہ ہے لِأَنَّهُ تَعْظِيمٌ لَهَا کیونکہ یہ ان کی تعظیم ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگر تصویر ہے نیچے جو بچھونا ہے اس پر اور اس پر چل پھر رہے ہیں لوگ آ جا رہے ہیں یا تکیہ ہے نیچے پڑا ہوا اس پر تصویر ہے اور اس پر بھی گزرنے والے کیا کر دیتے ہیں؟ تو پاؤں وغیرہ بھی اس پر آتے ہیں تو پھر کوئی پھر کراہت نہیں ہے لیکن اگر تکیہ کھڑا کیا ہوا ہے یا وہ جو تصویریں ہیں کس پر ہیں؟ پردے پر ہیں، زمین پر نہیں ہیں تو پھر مکروہ ہے کیونکہ اس میں ان کی تعظیم ہے۔ وَأَشَدُّهَا كَرَاهَةً أَنْ تَكُونَ أَمَامَ الْمُصَلِّي ثُمَّ مِنْ فَوْقِ رَأْسِهِ ثُمَّ عَلَى يَمِينِهِ ثُمَّ عَلَى شِمَالِهِ ثُمَّ خَلْفَهُ، اور سب سے زیادہ کراہت یہ ہے کہ وہ تصویریں جو ہیں أَمَامَ الْمُصَلِّي نماز پڑھنے والے کے سامنے ہوں ثُمَّ مِنْ فَوْقِ رَأْسِهِ پھر وہ جو اس کے سر کے اوپر ہوں، اس کا درجہ دوسرے نمبر پر ہے، ثُمَّ عَلَى يَمِينِهِ پھر اس سے نچلا درجہ کس کا ہے؟ جو تصویر دائیں طرف ہو، ثُمَّ عَلَى شِمَالِهِ پھر وہ جو اس کے بائیں ہاتھ پر ہو، ثُمَّ خَلْفَهُ پھر جو اس کے پیچھے ہو۔ تو معلوم ہوا کہ تصویر ہو تو نماز میں کراہت آئے گی لیکن کراہت کے درجے مختلف، اگر تصویر سامنے ہے، سامنے ہے تو یہ سب سے زیادہ کراہت اس کے اندر ہے، اگر سر کے اوپر ہے لٹکی ہوئی ہے تو اس کا درجہ اس سے کم ہے، یہ دوسرے درجے پر اس میں کراہت ہے اور اگر دائیں طرف ہے تو اس کا درجہ اس سے کم، اگر بائیں طرف ہے تو اس کا درجہ اس سے کم کراہت کے اندر اور اگر پیچھے ہے تو اس کا درجہ کراہت میں سب سے کم ہے۔ وَلَوْ لَبِسَ ثَوْبًا فِيهِ تَصَاوِيرُ يُكْرَهُ اور اگر اس نے پہنا ایسا کپڑا جس میں تصویریں ہیں يُكْرَهُ تو یہ مکروہ ہے لِأَنَّهُ يُشْبِهُ حَامِلَ الصَّنَمِ، صنم کہتے ہیں بت کو، حامل اٹھانے والا، اس لیے کیونکہ یہ شخص جس کے کپڑوں پر تصویریں ہیں یہ کس کے مشابہ ہو گیا؟ بت کو اٹھانے والے کی طرح۔ تصویر اٹھائی ہوئی ہے گویا کس کو اٹھایا ہوا ہے؟ بت ہی کو اٹھایا ہوا ہے۔ وَالصَّلَاةُ جَائِزَةٌ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ اور نماز ان تمام صورتوں میں جائز ہے۔ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ نماز جائز ہے یعنی نماز ہو جائے گی اگرچہ مکروہ ہے لیکن نماز ہو جائے گی، بھئی کیوں ہو جائے گی؟ کہتے ہیں: لِاسْتِجْمَاعِ شَرَائِطِهَا اس وجہ سے کہ یہ نماز اپنی شرطوں کو جمع کرنے والی ہے یعنی اس میں اس کی ساری شرطیں پائی جا رہی ہیں۔ بھئی نماز کی باقی ساری شرائط تو پوری ہیں لہٰذا نماز تو ہو جائے گی البتہ ان چیزوں کی وجہ سے ان تصویروں کی وجہ سے کراہت آ جائے گی، وَتُعَادُ عَلَى وَجْهٍ غَيْرِ مَكْرُوهٍ اور اس کو لوٹایا جائے گا اس نماز کو غیر مکروہ طریقے پر۔ پڑھنے والے نے پڑھی کس طرح؟ کراہت کے ساتھ، تو کیا کیا جائے اس نماز کو؟ لوٹایا جائے گا غیر مکروہ طریقے پر کہ اس کو پھر لوٹائے بھئی۔ وَهُوَ الْحُكْمُ فِي كُلِّ صَلَاةٍ أُدِّيَتْ مَعَ الْكَرَاهَةِ اور یہی حکم ہے ہر ایسی نماز میں أُدِّيَتْ مَعَ الْكَرَاهَةِ جس کو کراہت کے ساتھ ادا کیا گیا، یعنی جو بھی نماز کراہت کے ساتھ ادا کی جائے یعنی مکروہِ تحریمی اس میں پیش ہے تو پھر اس صورت میں اس نماز کا اعادہ کیا جائے گا، اس کو لوٹانا پڑے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جو نماز بھی کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا لوٹانا واجب ہے بھئی۔ وَلَا يُكْرَهُ تِمْثَالُ غَيْرِ ذِي الرُّوحِ اور مکروہ نہیں ہے غیر ذی روح کی تصویر بھئی، بے جان چیز کی تصویر مکروہ نہیں لِأَنَّهُ لَا يُعْبَدُ اس لیے کیونکہ اس کی عبادت نہیں کی جاتی۔ چلیے بس بھئی، ہٰذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
82 approved lectures · 62 of 82