فَصْلٌ: وَالْمُسْتَحَاضَةُ وَمَنْ بِهِ سَلَسُ الْبَوْلِ وَالرُّعَافُ الدَّائِمُ وَالْجُرْحُ الَّذِي لَا يَرْقَأُ يَتَوَضَّئُونَ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ، فَيُصَلُّونَ بِذَلِكَ الْوُضُوءِ فِي الْوَقْتِ مَا شَاءُوا مِنَ الْفَرَائِضِ وَالنَّوَافِلِ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: تَتَوَضَّأُ الْمُسْتَحَاضَةُ لِكُلِّ مَكْتُوبَةٍ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ“.
بھئی حیض سے متعلقہ مسائل مکمل ہوئے۔ اب اس فصل کے اندر معذور کے احکام بیان ہوں گے، معذور کے۔ یعنی وہ افراد جن کے ساتھ کوئی ناقضِ وضو عذر ہر وقت ہو، ان کے لیے ادائے صلاۃ کی کیا صورت ہوگی بھئی، ادائے صلاۃ کی؟
جیسے یہ دو تین انہوں نے ذکر کر دیے: ایک مستحاضہ ہے اور ایک وہ جس کو سلسل البول کی بیماری ہے، اور اسی طرح جس کا کہ دائمی نکسیر ہے یا زخم ہے ایسا جو رکتا نہیں۔
سب سے پہلے تو فرق یاد رکھیے حیض اور استحاضہ کا۔ یاد رکھیے حیض میں جو خون آتا ہے وہ عورت کے رحم سے آتا ہے، جبکہ استحاضہ کے اندر وہ رحم کا خون نہیں ہوتا بلکہ وہ کسی رگ وغیرہ سے آتا ہے اور یہ مسلسل ہوتا ہے، جبکہ رحم کا خون وہ تو ہر مہینے باقاعدہ عادت کے مطابق خارج ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی لیے جب وہ عادت سے بڑھ جاتا ہے اور اپنے دس دن سے بھی بڑھ جاتا ہے تو پھر ہم اس پر کیا حکم لگاتے ہیں؟ استحاضہ کا کہ معلوم ہوا یہ رحم کا خون نہیں۔ اقل مقدار اس کی حیض کی تین دن مقرر کی گئی تاکہ یقینی طور پر علم ہو جائے کہ یہ خون رحم سے آ رہا ہے بھئی، اور زیادہ سے زیادہ مدت کتنی ہے؟ دس دن ہے بھئی۔ تو اس سے زائد استحاضہ، دس دن سے، اور تین سے جو کم ہے وہ بھی اسی طرح استحاضہ ہے۔
تو اس فصل میں معذور کے احکام بیان ہو رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَالْمُسْتَحَاضَةُ، اور مستحاضہ، وَمَنْ بِهِ سَلَسُ الْبَوْلِ، اور وہ شخص جس کو سلسل البول کی بیماری ہو۔ سلسل البول بھئی جس کو پیشاب کے قطرات آتے ہوں بھئی۔ پیشاب کے قطرات اور ہر وقت جاری ہیں، رکتے ہی نہیں ہیں۔ تو یہ جو بیماری ہے پیشاب کے قطرات کی اس کو کہتے ہیں سَلَسُ الْبَوْلِ، لام پر فتحہ ہے، سَلَسُ الْبَوْلِ، اور جس کو یہ بیماری ہو اس کو کہتے ہیں سَلِسُ الْبَوْلِ، لام پر کسرہ آ جائے گا، زیر آ جائے گی، تو اس کو سَلِسُ الْبَوْلِ کہیں گے۔ تو مستحاضہ عورت جو ہے یعنی وہ عورت جسے استحاضہ کی بیماری ہے، وَمَنْ بِهِ سَلَسُ الْبَوْلِ، اور وہ شخص جس کو سلسل البول کی بیماری ہے، وَالرُّعَافُ الدَّائِمُ، اور وہ شخص جسے دائمی نکسیر ہے بھئی، ہر وقت جس کی ناک سے خون بہتا رہتا ہے رکتا ہی نہیں ہے، وَالْجُرْحُ الَّذِي لَا يَرْقَأُ، اور وہ زخم، اور اسی طرح وہ شخص جس کو ایسا زخم ہے الَّذِي لَا يَرْقَأُ جو تھمتا ہی نہیں، رکتا ہی نہیں بھئی، ہر وقت کچھ نہ کچھ خون اس سے بہتا رہتا ہے۔
یہ سب جو ہیں يَتَوَضَّئُونَ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ، یہ وضو کریں گے ہر نماز کے وقت کے لیے، فَيُصَلُّونَ بِذَلِكَ الْوُضُوءِ فِي الْوَقْتِ مَا شَاءُوا مِنَ الْفَرَائِضِ وَالنَّوَافِلِ، تو پڑھیں گے اس وضو کے ذریعے اس وقت کے اندر جو یہ چاہیں فرائض اور نوافل میں سے۔ جو یہ چاہیں فرائض اور نوافل۔
تو ہمارے نزدیک یہ جس شخص کا عذر ہے وہ اس وضو کے ذریعے وقت کے اندر اندر مثلاً ظہر کے وقت وضو کیا تو ظہر کے وقت میں جتنے بھی فرائض ہیں نوافل ہیں وہ پڑھ سکتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ظہر کی نماز پڑھ لی اور نوافل پڑھ سکتا ہے، قضا نمازیں پڑھنا چاہتا ہے وہ بھی پڑھ سکتا ہے۔ اور دوسرے وقت کے لیے مثلاً عصر کی نماز کے لیے اس کو پھر نئے سرے سے وضو کرنا پڑے گا۔
تو اس وقت کے اندر اندر اب دیکھیے یہ عذر پھر بھی موجود ہے، استحاضہ کی بیماری ہے خون مسلسل بہہ رہا ہے یا سلسل البول کی بیماری ہے قطرات مسلسل جاری ہیں یا دائمی نکسیر ہے یا زخم ہے اس سے مسلسل تھوڑا تھوڑا خون بہہ رہا ہے، اور حالانکہ خون بہنے سے کیا ہوتا ہے؟ وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن یہ معذور ہیں بھئی، یہ اس وقت کے اندر اندر اس عذر کے ذریعے ان کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ تو یہ جو حکم آیا کہ اس وقت کے اندر اس وضو سے جو بھی فرائض اور نوافل پڑھ سکتے ہیں اس کا یہ معنی نہیں کہ اس وقت میں ان کا وضو ٹوٹے گا ہی نہیں۔ بلکہ صرف اس عذر کی وجہ سے ان کا وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی، اس پر شریعت ٹوٹنے کا، وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگاتی۔ ہاں اور وضو ٹوٹنے والے عذر جو آئے تو ان سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ مثلاً ایک شخص ہے اس کی دائمی نکسیر ہے یا زخم سے تھوڑا تھوڑا خون بہہ رہا ہے تو یہ عذر تو ہے لیکن اس کی وجہ سے شریعت نے رخصت دے دی۔ اب ایک دفعہ وضو کر لیا تو اس وقت کے اندر اندر وہ وضو ان اس عذر کی وجہ سے نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر وہ اور کوئی عذر پیش آتا ہے، کوئی اور حدث لاحق ہوتا ہے مثلاً وہ پیشاب کرتا ہے تو اس سے پھر وضو ٹوٹ جائے گا پھر کیا کرنا پڑے گا؟ نیا وضو۔ تو اس عذر کی وجہ سے ان کا وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی، اس عذر کی وجہ سے۔
اور پھر یہ بھی یاد رکھیے معذور بھئی، معذور۔ معذور کا حکم تب کسی شخص پر لگائیں گے جب پوری نماز کا وقت گزر جائے اور درمیان میں اس کو اتنا وقت بھی نہیں ملتا جس کے اندر وضو کر کے نماز ادا کر لے، پھر اس کو معذور کہیں گے۔ پھر اس کو معذور۔ پوری نماز کا وقت گزرے اور اس میں اس کو وقت ہی نہیں ملتا وضو کر کے نماز ادا کرنے کا اس عذر کی وجہ سے۔ مثلاً استحاضہ کی بیماری ہے، اب سارا ظہر کا وقت استحاضہ ہے اور اس میں پندرہ منٹ بھی اتنے اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ جس میں یہ عورت کیا یعنی اتنی دیر کے لیے بھی خون نہیں رکتا جس میں کیا کر لے؟ وضو کر کے نماز پڑھ لے۔ تو جب پورا ایسا وقت گزر جائے گا تو پھر اس کو معذور قرار دے دیں گے۔ ایک شخص کا زخم ہے اور اس سے خون نکل رہا ہے، پورا وقت جب گزر گیا اور اس کے اندر اسے اتنا وقت بھی نہیں ملا جس کے اندر وضو کر کے نماز پڑھ لے تو پھر معذور کا حکم آئے گا بھئی، ویسے نہیں۔
مثلاً دیکھیے ایک شخص ہے اب آپ نے اس پر دیکھیں گے کہ معذور کا حکم لگاتے ہیں یا نہیں؟ مثلاً ظہر کا وقت شروع ہوا تھا کہ اس کا کچھ دیر ہی ہوئی تھی ابھی آغاز ہی ہوا تھا تو اس کا اس کے زخم سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ اور خون مسلسل بہہ رہا ہے تو علماء، فقہاء فرماتے ہیں اس کو ابھی نماز نہیں پڑھنی چاہیے، یہ اپنی نماز کو مؤخر کرتا جائے۔ آخرِ وقت تک ظہر کے انتظار کرتا رہے شاید خون رک جائے تو پھر اس کے بعد وضو کر کے نماز پڑھ لے۔ اور اگر آخرِ وقت آ گیا اب تھوڑا سا ہی وقت رہ گیا ہے اب تو نماز قضا ہونے کا احتمال ہے تو اب آرام وضو کر کے پھر کیا کر لے؟ اسی طرح نماز پڑھ لے لیکن ابھی معذور کا حکم نہیں لگانا۔ کیوں نہیں لگانا؟ کیونکہ ظہر کی نماز کے بعد شروع، ظہر کے وقت کے بعد شروع ہوا ہے۔ اب عصر کا وقت انتظار کریں گے۔ اگر عصر کا وقت بھی سارا اسی طرح گزر گیا کہ جس میں اتنا وقت بھی نہیں ملا جس میں وضو کر کے کیا کر لے؟ نماز پڑھ لے، تو اب اس پر معذور کا حکم آ گیا۔ اب اس عذر کی وجہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا اس وقت کے اندر اندر بھئی، اس وقت کے اندر۔ لہٰذا اب مغرب کو وضو کرے تو وہ وضو عشاء تک رہے گا، اس عذر کی وجہ سے نہیں ٹوٹے گا اس عذر کی وجہ سے نہیں ٹوٹے گا اور کسی عذر سے ٹوٹ سکتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معذور کے لیے شریعت میں آسانی آ گئی بھئی کہ اس عذر سے اس کا وضو نہیں ٹوٹتا اور پورے وقت تک یہی حکم ہے، پورے وقت تک۔ یہاں تک کہ وقت نکلے گا تو پھر اس کا وضو ٹوٹے گا بھئی۔
اور جب معذور کا ایک دفعہ حکم جیسے معذور کا حکم آیا مشکل سے، ہر ایک کو معذور نہیں کہیں گے، بلکہ کس کو کہیں گے؟ جس کو پورے وقت میں اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ وضو اور نماز ادا کر سکے، اس کو معذور کہیں گے۔ تو آتا بھی مشکل سے ہے لیکن جب آ جائے پھر فوراً جائے گا بھی نہیں۔ اب یہ معذور، شرعاً معذور ہو گیا یہ آدمی تو اب جب تک کوئی ایسا پورا وقت نہ گزر جائے جس میں یہ عذر ایک دفعہ بھی نہ آئے پھر وہ معذور ہونے سے نکلے گا۔ مثلاً یہ خون جاری ہوا بھئی اگلے دن تک بہہ رہا ہے مسلسل خون بھئی، اور عصر کے بعد کیا حکم لگا دیا گیا تھا؟ معذور ہونے کا حکم لگا دیا۔ پھر مغرب کا وقت آیا، مغرب کے بعد یہ خون رک جاتا ہے، پھر آتا ہے، پھر رک جاتا ہے، پھر آتا ہے۔ لیکن اب رکتا بھی رہے اب معذور کا حکم آ چکا ہے۔ اب اس وقت کے اندر اس عذر کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی، نہیں ٹوٹے گا۔ پھر عشاء کے بعد بھی اسی طرح رہا، اگلے دن بھی اسی طرح رہا، اگلے دن پھر اب خون کافی دیر تک رک جاتا ہے بھئی، گھنٹہ گھنٹہ رکا رہتا ہے، آتا ہی نہیں بہتا ہی نہیں خون۔ تو لیکن گھنٹے کا اعتبار نہیں۔ اب پورے وقت کو ہم نے دیکھنا ہے کہ پورا ایسا وقت ہے۔ ظہر کا وقت شروع ہوا، خون اس میں ہے ہی نہیں خون بالکل رکا ہوا ہے۔ ظہر کے آخری ادھے گھنٹے میں فرض کریں پھر خون تھوڑا سا نکل آیا۔ بس ابھی بھی یہ معذور ہے، پورا وقت ابھی بھی نہیں نکلا جس میں خون بالکل نہ نکلا ہو۔ عصر کا وقت آیا، عصر سے مغرب کا پورا وقت گزر گیا اس میں خون نہیں آیا بھئی، اب اب یہ معذور کے حکم سے نکل گیا بھئی۔ اب اس عذر سے اس کا وضو ٹوٹے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معذور کا حکم آئے گا کب؟ جب پورا وقت آئے، پورا وقت گزرے اور اس میں وضو اور نماز کا وقت ہی اسے نہ ملے، اور جائے گا کب جب ایک دفعہ معذور کا حکم آ گیا؟ جب پھر پورا وقت کوئی ایسا گزر جائے جس میں وہ عذر سرے سے پایا ہی نہ جائے پھر ہم کہیں گے اب یہ معذور کے حکم سے کیا ہوا؟ خارج ہوا۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی؟
وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: تَتَوَضَّأُ الْمُسْتَحَاضَةُ لِكُلِّ مَكْتُوبَةٍ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ“. امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ جو ہے لِكُلِّ مَكْتُوبَةٍ ہر فرض نماز کے لیے وضو کرے گی۔ نوافل اور سنتیں تو فرض کے تابع ہیں، البتہ ہر فرض کے لیے اسے نیا وضو کرنا پڑے گا اور اس وضو سے وہی ایک فرض پڑھ سکتی ہے اور اس کے ساتھ سنتیں اور نفل۔ دوسرا فرض پڑھنا ہے تو نیا وضو کرنا پڑے گا۔ تو ہمارے نزدیک پورے وقت کے اندر جتنے بھی فرائض اور نوافل پڑھنا چاہے پڑھ سکتی ہے، وہ فرماتے ہیں نہیں، ایک ہی فرض پڑھ سکتی ہے ایک وضو سے۔ دلیل وہ ذکر کرتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ ”الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مستحاضہ وضو کرے گی لِكُلِّ صَلَاةٍ ہر نماز کے لیے۔ کس کے لیے؟ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔ تو یہاں صلاۃ مطلق آیا اور الْمُطْلَقُ إِذَا يُطْلَقُ يُرَادُ بِهِ الْفَرْدُ الْكَامِلُ، فردِ کامل مراد ہوتا ہے اور فردِ کامل کیا ہے؟ سنت ہے نفل ہے یا فرض ہے؟ فرض جو ہے فردِ کامل ہے تو فرض مراد ہیں، معلوم ہوا وہ ہر فرض کے لیے وضو کرے گی۔
دوسری دلیل: وَلِأَنَّ اعْتِبَارَ طَهَارَتِهَا ضَرُورَةُ أَدَاءِ الْمَكْتُوبَةِ، اس لیے کیونکہ اس عورت کی طہارت کا کا معتبر ہونا، اس کا اعتبار کرنا ضَرُورَةُ أَدَاءِ الْمَكْتُوبَةِ، وہ فرضی نماز کے ادا کی ضرورت ہے، فرضی نماز کی ادا کے لیے اس کی ضرورت۔ بھئی یہاں پر تو ایک منافی صلاۃ چیز پائی جا رہی ہے، وہ خون بہہ رہا ہے یا وہ عذر ہے پیشاب کے قطرات مسلسل جاری ہیں، تو یہ چیز تو طہارت کے منافی ہے اور طہارت نماز کے لیے ضروری ہے، تو اب اس عورت کو نماز کی ادا کی ضرورت ہے کیونکہ اس پر شریعت نے نماز کو فرض کیا ہے۔ اب اس ضرورت کی بنا پر اس عورت کی طہارت کا اعتبار کرنا پڑے گا۔ کس بنا پر؟ بھئی اس عورت کو نماز کی ادائیگی کی ضرورت ہے یا ضرورت نہیں ہے؟ ضرورت تو ہے۔ اور ادھر عذر ہے خون مسلسل جاری ہے یا وہ شخص ہے اس کے پیشاب کے قطرات مسلسل بہہ رہے ہیں، اب وہ عذر رکتا ہی نہیں ہے تو شریعت نے کیا آسانی فرما دی؟ کہ اس کی طہارت کا اعتبار کر لیا گیا بھئی، ورنہ تو طہارت تو دراصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو طہارت نہیں، لیکن اس کا اعتبار کیوں کیا گیا؟ اس کی نماز کی، فرضی نماز کی ادائیگی کی ضرورت کی وجہ سے۔ جی، تو جب ایک فرض ادا کر لیا، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہے ہیں، کہ اس عورت کی جو طہارت کا یا اس معذور کی جو طہارت کا اعتبار کیا گیا وہ کس بنا وجہ سے کیا گیا؟ کیونکہ اس کو نا فرض نماز کی ادائیگی کی ضرورت ہے۔ تو اس ضرورت کی بنا پر اس کی طہارت کا اعتبار کیا گیا اور جب اس نے فرض نماز ادا کر لی تو ضرورت پوری ہو گئی۔ ضرورت کیا ہوئی؟ اب طہارت کا اعتبار کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، لہٰذا اب طہارت بھی نہیں۔ نئے فرض کے لیے کیا کرے؟ نیا وضو کرے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
وَلِأَنَّ اعْتِبَارَ طَهَارَتِهَا ضَرُورَةُ أَدَاءِ الْمَكْتُوبَةِ، اور اس لیے کیونکہ اس کی طہارت کا اعتبار کرنا جو ہے وہ اس فرض نماز کے ادا کی ضرورت کی پر ہے، فَلَا تَبْقَى بَعْدَ الْفَرَاغِ عَنْهَا، تو یہ ضرورت باقی نہیں رہے گی اس نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل جو ہے قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے: ”الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ“، مستحاضہ وضو کرے گی ہر نماز کے وقت کے لیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے جو حدیث ذکر کی تھی اس میں کیا تھا: ”تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ“، اور ہم نے جو حدیث ذکر کی اس میں آیا ”تَتَوَضَّأُ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ“، تو اس میں وقت کا لفظ آیا۔ معلوم ہوا وقت کے لیے کیا کرے گی وہ؟ ہر فرض نماز کے وقت کے لیے وضو کرے گی اور اس وقت کے اندر وہ وضو رہے گا بھئی، شرعاً معتبر ہے وہ۔
وَهُوَ الْمُرَادُ بِالأَوَّلِ، یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے جو حدیث ذکر کی تھی۔ انہوں نے تو حدیث ذکر کی تھی ”تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ“، ہر نماز کے لیے، تو جواب دے رہے ہیں: وَهُوَ الْمُرَادُ بِالأَوَّلِ، اور یہی مراد ہے اول سے یعنی پہلی حدیث سے بھی۔ ہم نے کیا حدیث ذکر کی؟ مستحاضہ وضو کرے گی ہر نماز کے وقت کے لیے، اور پہلی حدیث سے بھی یہی مراد ہے، لِكُلِّ صَلَاةٍ أي لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ، کہ کس کے لیے وضو کرے گی؟ ہر نماز کے وقت کے لیے، تو پہلی حدیث سے بھی یہی مراد ہے جو ہم نے حدیث جو ہماری حدیث میں ہے۔ بھئی کیوں؟ اس سے یہ وہاں پر وقت آپ کیسے مراد لیتے ہیں؟ وہاں تو وقت کا ذکر نہیں ہے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ اللَّامَ تُسْتَعَارُ لِلْوَقْتِ، اس لیے کیونکہ لام کو مستعار لیا جاتا ہے وقت کے لیے۔ یعنی لام کو مجازاً وقت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے کلامِ عرب کے اندر بھئی، تو وہاں پر بھی آیا لِكُلِّ صَلَاةٍ، تو وہ لام کس لیے ہے؟ وقت کے معنی میں ہے تو لہٰذا وہاں وقت کا معنی آئے گا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ اللَّامَ تُسْتَعَارُ لِلْوَقْتِ، اس لیے کیونکہ لام جو ہے اس کو عاریتاً لیا جاتا ہے، عاریتاً استعمال کیا جاتا ہے لِلْوَقْتِ، وقت کے لیے، يُقَالُ، چنانچہ عربی زبان میں کہتے ہیں: آتِيكَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ أَيْ وَقْتَهَا، کہ میں تمہارے پاس ظہر کی نماز کے وقت آؤں گا۔ تو کہتے کیا ہیں: آتِيكَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ، لام کے ساتھ کہتے ہیں اور یہ لام کس معنی میں ہوتا ہے؟ وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔ یہ تو پہلی دلیل بھئی۔
وَلِأَنَّ الْوَقْتَ أُقِيمَ مَقَامَ الأَدَاءِ تَيْسِيرًا فَيُدَارُ الْحُكْمُ عَلَيْهِ، یہ دوسری دلیل اب ذکر کر رہے ہیں۔ وَلِأَنَّ الْوَقْتَ أُقِيمَ مَقَامَ الأَدَاءِ، اور اس لیے کیونکہ وقت جو ہے اس کو ادا کے قائم مقام کر دیا گیا تَيْسِيرًا آسانی کے لیے۔ آسانی کے لیے وقت ہی کو ادا کے قائم مقام کر دیا گیا فَيُدَارُ الْحُكْمُ عَلَيْهِ، تو حکم کا مدار بھی اسی پر ہو گا۔ معذور کے لیے کیا کر دیا گیا؟ مستحاضہ کے لیے کیا کر دیا گیا؟ وقت کو، آسانی کے لیے وقت ہی کو کس کے قائم مقام کر دیا گیا؟ ادا کے قائم مقام کر دیا گیا، تو یہاں اب وہ وقت سے حکم متعلق ہو جائے گا تو حکم کا مدار وقت پر ہو گا۔ جب تک وہ وقت ہے وہ وضو ہے، جب وہ وقت نکلے گا تو طہارت بھی کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی بھئی، طہارت ختم ہو جائے گی۔ تو آسانی کے لیے وقت کو ادا کے قائم مقام کر دیا گیا بھئی، کیونکہ ہو سکتا ہے مستحاضہ کو اور نمازوں کے پڑھنے کی بھی ضرورت ہو، قضا نمازیں وغیرہ بھی پڑھنی ہوں تو وہ مشکل میں پڑ جائے گی، ہر نماز کے لیے کیا کرے؟ علیحدہ وضو کرے تو مشکل میں پڑ جائے گی اور حرج اور تنگی کو تو شریعت نے دور کیا گیا ہے تو شریعت نے یہاں پر وقت ہی کو کیا کر دیا؟ ادا کے قائم مقام کر دیا گیا، تو اب صرف وقت کو دیکھا جائے گا بھئی۔
وَإِذَا خَرَجَ الْوَقْتُ بَطَلَ وُضُوءُهُمْ، اور جب وقت نکل جائے گا تو ان کا وضو باطل ہو جائے گا ان سب کا جو ذکر ہوئے، وَاسْتَأْنَفُوا الْوُضُوءَ لِصَلَاةٍ أُخْرَى، اور یہ نئے سرے سے کریں گے وضو دوسری نماز کے لیے، وَهَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا الثَّلَاثَةِ، یہ ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک ہے بھئی یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَسْتَأْنِفُونَ إِذَا دَخَلَ الْوَقْتُ، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نئے سرے سے کریں گے إِذَا دَخَلَ الْوَقْتُ جب وقت داخل ہو جائے۔ تفصیلِ مذاہب یاد رکھیے آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر کریں گے بھئی۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ان معذوروں، معذورین کی طہارت ختم ہو گی صرف خروجِ وقت سے۔ جب کسی فرضی نماز کا وقت نکل جائے گا، ختم ہو جائے گا تو تب ان کی طہارت ختم ہو جائے گی، آگے کے لیے نیا وضو کرنا پڑے گا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی طہارت ختم ہو گی دخولِ وقت سے۔ جب کسی فرضی نماز کا وقت شروع ہو گا تو پچھلی طہارت ان کی پچھلا وضو ان کا ختم ہو جائے گا۔
تو طرفین کے نزدیک طہارت کب ختم ہو گی؟ وضو کب ختم ہو گا؟ خروجِ وقت کے وقت، جب فرضی نماز کا وقت نکل جائے، ختم ہو جائے، اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک طہارت کب ختم ہو گی ان کی؟ دخولِ وقت سے، جب کسی فرضی نماز کا وقت شروع ہو جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی طہارت باطل ہو گی دخولِ وقت سے بھی اور خروجِ وقت سے بھی۔ کسی نئی نماز کا وقت فرضی نماز کا وقت شروع ہو تو اس سے بھی ان کے طہارت ختم، وضو ختم ہو جائے گا اور کسی فرضی نماز کا وقت نکلے گا تب بھی ان کی ان کا وضو کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ تو طرفین کے نزدیک اعتبار صرف کس کا ہے؟ خروجِ وقت کا۔ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک اعتبار صرف کس کا ہے؟ دخولِ وقت کا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں کا اعتبار ہے، دخولِ وقت سے بھی وضو ٹوٹے گا اور خروجِ وقت سے بھی وضو ٹوٹے گا۔ لہٰذا ایک شخص معذور ہے اس نے فجر کے وقت وضو کر لیا تو جب سورج طلوع ہوا فجر کی نماز کا وقت ختم ہو گیا، تو جن کے نزدیک خروجِ وقت طہارت جس سے باطل ہو جاتی تھی خروجِ وقت سے ان کے نزدیک اس کا وضو کیا ہوا؟ ختم ہو گیا، اور وہ کون کون ہیں؟ طرفین بھی اور امام ابو یوسف بھی، یعنی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک بھئی، تینوں کے نزدیک وضو ختم ہوا۔ اب کچھ فرض وغیرہ پڑھنے ہیں تو اس کے لیے نیا وضو کرنا پڑے گا، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب کچھ فرض اور نوافل پڑھنے ہیں تو کسی نئے وضو کی ضرورت نہیں، ابھی وضو باقی ہے بھئی، ابھی وضو باقی ہے جب تک کوئی دوسرا عذر نہ پیش آ جائے۔
جی دوسری مثال دیکھیے: ایک شخص مثلاً دس گیارہ بجے دن کے وضو کرتا ہے اور یہ کسی فرضی نماز کا وقت نہیں ہے بھئی، آگے ظہر کا وقت شروع ہونا ہے لیکن یہ جو طلوعِ آفتاب سے لے کر ظہر تک کا وقت ہے اس میں کوئی نماز فرض نہیں ہے، تو اب اس نے شخص نے وضو کر لیا اور آگے ظہر کی نماز کا وقت شروع ہوا۔ تو جن کے نزدیک دخولِ وقت سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ان کے نزدیک وضو ٹوٹ جائے گا اور یہ شخص جس نے دس گیارہ بجے وضو کیا تھا اسی وضو سے اب ظہر کی نماز نہیں پڑھ سکتا بھئی، کیونکہ جیسے ظہر کا وقت داخل ہوا تو اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وہ کس کس کے نزدیک ٹوٹے گا؟ امام زفر اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، تو ظہر کی نماز کے لیے اس کو نیا وضو کرنا پڑے گا۔ جبکہ امام محمد اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس وقت صرف دخولِ وقت پایا گیا ہے خروجِ وقت نہیں پایا گیا، لہٰذا اسی وضو کے ساتھ وہ کیا کر سکتا ہے؟ ظہر کی نماز پڑھ سکتا ہے۔ جی تینوں کے مذاہب کا اچھی طرح پتہ چل گیا سب کا بھئی؟
یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَإِذَا خَرَجَ الْوَقْتُ بَطَلَ وُضُوءُهُمْ، اور جب وقت نکل جائے تو ان کا وضو باطل ہوا، وَاسْتَأْنَفُوا الْوُضُوءَ لِصَلَاةٍ أُخْرَى، اور یہ نئے سرے سے کریں گے وضو دوسری نماز کے لیے، وَهَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا الثَّلَاثَةِ، اور یہ ہمارے تین فقہاء کے نزدیک یعنی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ہے، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَسْتَأْنِفُونَ إِذَا دَخَلَ الْوَقْتُ، کہ نئے سرے سے کریں گے وضو إِذَا دَخَلَ الْوَقْتُ جب وقت داخل ہو جائے۔ فَإِنْ تَوَضَّئُوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ أَجْزَأَهُمْ حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُ الظُّهْرِ، پس اگر انہوں نے وضو کیا بھئی جس وقت کہ سورج طلوع ہو گیا، سورج طلوع ہو گیا، سورج، فَأَجْزَأَهُمْ، تو یہ وضو ان کے لیے کافی ہے ان سب کے لیے، حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُ الظُّهْرِ، یہاں تک کہ ظہر کا وقت چلا جائے، ظہر کا وقت چلا جائے، نکل جائے بھئی۔
کیوں؟ کیونکہ آگے سورج طلوع ہونے کے بعد وضو کیا ہے، آگے ظہر کا وقت شروع ہو گا تو دخولِ وقت پایا گیا بھئی، دخولِ وقت پایا گیا اور دخولِ وقت میں کس کے نزدیک وضو ٹوٹتا ہے؟ امام زفر اور امام ابو یوسف، ان کے نزدیک اس سے ظہر نہیں پڑھ سکتا لیکن طرفین کیا فرماتے ہیں؟ پڑھ سکتا ہے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، اور یہ کس کے نزدیک ہے؟ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک کہ اس سے وہ ظہر کی نماز پڑھ سکتا ہے، ظہر کی نماز کے ختم ہونے تک اس کا وضو رہے گا۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَزُفَرُ رَحِمَهُمَا اللَّهُ: أَجْزَأَهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ الظُّهْرِ، اور امام ابو یوسف اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وضو اس کے لیے کافی ہے یہاں تک کہ ظہر کا وقت داخل ہو۔ ان کے نزدیک ظہر کا وقت داخل ہوتے ہی وضو کیا ہوا ان کا؟ ختم ہوا۔
وَحَاصِلُهُ، اور حاصلِ کلام یہ ہے أَنَّ طَهَارَةَ الْمَعْذُورِ تَنْتَقِضُ بِخُرُوجِ الْوَقْتِ بِالْحَدَثِ السَّابِقِ، اور یہ بھی یاد رکھیے یہاں اصل سبب وضو ٹوٹنے کا سبب یہ دخولِ وقت یا خروجِ وقت نہیں ہے۔ دخولِ وقت کہیں آپ نے نواقضِ وضو میں پڑھا ہے بھئی؟ نہیں، وضو تو ٹوٹتا ہے کوئی منافی وضو چیز پائی جائے تب وضو ٹوٹتا ہے۔ تو دراصل یہاں ناقضِ وضو دخولِ وقت یا خروجِ وقت نہیں ہے بلکہ وہ سابقہ حدث ہے۔ وہ سابقہ وہ جو عذر مسلسل اس کے ساتھ لاحق ہے وضو اس کی وجہ سے ٹوٹے گا لیکن اس کا اثر کب ظاہر ہو گا؟ دخولِ وقت کے وقت یا خروجِ وقت پر ظاہر ہو گا۔ جنہوں نے اعتبار کیا دخولِ وقت کا ان کے نزدیک معلوم ہوا یہ جو پچھلا حدث ظاہر نہیں ہو گا جب تک دخولِ وقت نہ پایا جائے، اور جنہوں نے خروجِ وقت کا اعتبار کیا وہ فرماتے ہیں کہ وہ حدث پچھلا ظاہر نہیں ہو گا جب تک خروجِ وقت نہ پایا جائے۔ اور جب یہ پایا جائے گا تو وہی پچھلا حدث ظاہر ہو گیا، اس کا اثر ظاہر ہوا اور وہ تو کیا تھا؟ منافی وضو تھا لہٰذا اس کا اثر جب ظاہر ہوا تو وضو بھی ختم ہوا بھئی۔
تو کہتے ہیں حاصلِ کلام یہ کہ أَنَّ طَهَارَةَ الْمَعْذُورِ تَنْتَقِضُ بِخُرُوجِ الْوَقْتِ، کہ معذور کی طہارت جو ہے یعنی اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے بِخُرُوجِ الْوَقْتِ وقت کے نکلنے سے، بِالْحَدَثِ السَّابِقِ، اسی سابقہ حدث کی وجہ سے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، وَبِدُخُولِ الْوَقْتِ عِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور دخولِ وقت سے امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک، وَبِأَيِّهِمَا كَانَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور ان دونوں میں سے جس کے ساتھ بھی ہو، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ یعنی ان کے نزدیک دونوں سے، دخولِ وقت سے بھی اور خروجِ وقت سے بھی۔ وَفَائِدَةُ الِاخْتِلَافِ لَا تَظْهَرُ إِلَّا فِيمَنْ تَوَضَّأَ قَبْلَ الزَّوَالِ كَمَا ذَكَرْنَا، اور اختلاف کا فائدہ ظاہر نہیں ہوتا إِلَّا فِيمَنْ مگر اس شخص کے اندر تَوَضَّأَ قَبْلَ الزَّوَالِ جس نے وضو کیا زوال سے پہلے، زوال سے پہلے، یعنی دس گیارہ بجے دن کو وضو کر لیا، كَمَا ذَكَرْنَا جیسے ہم نے ذکر کر دیا اوپر متن میں کہ طلوعِ شمس کے بعد وضو کیا، أَوْ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، یا جو شخص وضو کب کرتا ہے؟ سورج طلوع ہونے سے پہلے۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے، تو سورج جب طلوع ہو گا تو جن کے نزدیک خروجِ وقت ناقض ہے ان کے نزدیک وضو ٹوٹ جائے گا، اور جن کے نزدیک دخولِ وقت ناقض ہے ان کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹے گا۔
لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اب دلائل ذکر کر رہے ہیں۔ لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّ اعْتِبَارَ الطَّهَارَةِ مَعَ الْمُنَافِي لِلْحَاجَةِ إِلَى الأَدَاءِ، کہ جو طہارت کا اعتبار کیا گیا باوجود ایک منافی چیز کے ہونے کے، منافی چیز کیا ہے؟ وہ عذر جو ہے وہ خون جو بہہ رہا ہے یا جو پیشاب کے قطرات بہہ رہے ہیں، تو یہ ایک منافی چیز کے ہونے کے باوجود جو طہارت کا اعتبار کیا گیا یہ لِلْحَاجَةِ إِلَى الأَدَاءِ نماز کی ادائیگی کی حاجت کی وجہ سے ہے، وَلَا حَاجَةَ قَبْلَ الْوَقْتِ، اور حاجت وقت سے پہلے نہیں ہے۔ ان معذورین کے ساتھ ایک عذر قائم ہے اور عذر ایسا ہے جو منافی طہارت ہے اور اس عذر کے ہوتے ہوئے تو طہارت نہیں رہتی لیکن شریعت نے کیا کیا؟ ان کی طہارت کا اعتبار۔ کیوں اعتبار کیا ان کی طہارت کا؟ کیونکہ ان کو حاجت ہے، کس چیز کی حاجت ہے؟ ادائے صلاۃ کی، کس کی؟ معلوم ہوا ان کی طہارت کا اعتبار کیا گیا ان کی اس ادائے صلاۃ کی حاجت کی وجہ سے، اور ادائے صلاۃ کی حاجت وقت سے پہلے نہیں ہوتی وقت کے بعد ہوتی ہے جب وقت شروع ہو جائے بھئی۔ ظہر کی نماز کی ادائیگی کی حاجت کب ہو گی؟ ضرورت کب ہو گی؟ جب ظہر کا وقت شروع ہو جائے۔ لہٰذا اس وقت جب وقت شروع ہو جائے پھر یہ طہارت کریں گے تو اب یہ طہارت معتبر ہو گی شرعاً، اس سے پہلے تو حاجت ہی نہیں تھی، حاجت ہی نہیں تھی۔
اچھا اب عصر کا وقت آ رہا ہے، عصر کا وقت آ رہا ہے، جب عصر کا وقت داخل ہو گا اب طہارت کی حاجت پیش آئے گی، اس سے پہلے طہارت کی حاجت تھی؟ جی؟ اس سے پہلے تو عصر کی نماز کے لیے طہارت کی حاجت نہیں ہے، لہٰذا وہ پچھلی طہارت کا اعتبار اب نہیں کیا جائے گا۔ اب کس چیز کی ضرورت ہے؟ اب کیا ہے؟ دلیل سمجھ بھی آ رہی ہے نہیں کہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھیے ان معذورین کی طہارت کا اعتبار کیا شریعت نے کیونکہ ان کو نماز ادا کرنے کی ضرورت ہے اور حاجت ہے، تو اس حاجت کی بنا پر ان کی طہارت کا اعتبار کیا گیا۔ اور یہ حاجت ان کو کب پیش آئے گی؟ جب وقت داخل ہو جائے۔ تو وقت داخل ہونے کے بعد طہارت کریں گے تو یہ طہارت معتبر ہے، اس سے نماز ادا کر سکتا ہے، اور اگر وقت داخل ہونے سے پہلے وضو کر لیا، بھئی ابھی تو حاجت ہی نہیں ہے، لہٰذا وقت داخل ہونے کے بعد کیا ہو گی؟ اس طہارت کا اعتبار نہیں ہو گا، یہ نئے سرے سے وضو کرنا پڑے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنی ہے لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّ اعْتِبَارَ الطَّهَارَةِ مَعَ الْمُنَافِي لِلْحَاجَةِ إِلَى الأَدَاءِ وَلَا حَاجَةَ قَبْلَ الْوَقْتِ فَلَا تُعْتَبَرُ، کہ طہارت کا اعتبار جو ہے باوجود ایک منافی چیز کے ہوتے ہوئے لِلْحَاجَةِ إِلَى الأَدَاءِ ادا کی حاجت کی وجہ سے ہے، وَلَا حَاجَةَ قَبْلَ الْوَقْتِ اور وقت سے پہلے تو کوئی حاجت نہیں ہے، فَلَا تُعْتَبَرُ لہٰذا اس وقت سے دخولِ وقت سے پہلے طہارت کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّ الْحَاجَةَ مَقْصُورَةٌ عَلَى الْوَقْتِ، کہ یہ حاجت بند ہے وقت پر۔ حاجت پیش آئی، بھئی شریعت نے کیا کیا؟ حاجت کی بنا پر ان معذورین کی طہارت کا اعتبار کیا ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ضرورت طہارت کی کب ہے اس کو؟ وقت کے اندر اندر ہے۔ ظہر کی نماز پڑھنی ہے تو ظہر کے وقت کے اندر پڑھنی ہے تو اس وقت اس کو ضرورت ہے۔ تو لہٰذا نہ اس سے پہلے ضرورت نہ اس کے بعد ضرورت ہے، لہٰذا اس سے پہلے طہارت کی اس کا بھی اعتبار نہیں، دخولِ وقت سے ٹوٹ جائے گی۔ اس کے بعد، اس کے بعد بھی اس طہارت کی ضرورت نہیں، لہٰذا خروجِ وقت سے بھی کیا ہو گی؟ طہارت ٹوٹ جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟
وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ الْحَاجَةَ مَقْصُورَةٌ عَلَى الْوَقْتِ، کہ یہ حاجت بند ہے، مقصورۃٌ، بند ہے، بند ہے عَلَى الْوَقْتِ وقت پر بھئی، یعنی اسی وقت ضرورت ہے اس سے آگے پیچھے نہیں۔ فَلَا يُعْتَبَرُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، لہٰذا اس کا اعتبار نہیں ہے نہ اس وقت سے پہلے نہ اس وقت کے بعد۔ وَلَهُمَا، اور طرفین کی دلیل یہ ہے أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ تَقْدِيمِ الطَّهَارَةِ عَلَى طرفین کی کیا دلیل تھی؟ ان کا کیا مذہب تھا؟ کہ طہارت کب باطل ہو گی؟ خروجِ وقت سے باطل ہو گی، دخولِ وقت سے باطل نہیں ہو گی۔ وہ فرماتے ہیں کہ وقت سے پہلے اگر طہارت ہے تو اس طہارت کا اعتبار ہونا چاہیے۔ ظہر کے وقت سے پہلے ہی طہارت ہے اس کا اعتبار ہونا چاہیے، اس کی اس کو ضرورت ہے۔ بھئی کیا ضرورت ہے؟ کہتے ہیں جیسے ہی تاکہ وقت شروع ہو یہ ادا پر قادر ہو سکے۔ جیسے ہی وقت شروع ہو یہ کس پر قادر ہو سکے؟ ادا پر۔ اگر اس سے پہلے والی طہارت کا اعتبار آپ نہیں کرتے اور دخولِ وقت سے کیا کہیں ہم؟ طہارت ختم ہو گئی، اب وقت شروع ہو گیا اور یہ ادا پر قادر نہیں، تو وقت شروع ہوتے ہی یہ ادا پر قادر ہو سکے، ادا پر قادر ہو سکے، لہٰذا پہلے اگر مقدم بھی کر لے طہارت اس کا اعتبار کیا جائے گا بھئی۔
کیوں کیا جائے گا اس کا؟ ظہر بھئی دیکھیے، ظہر کا وقت شروع ہونے لگا ہے اور وہ ظہر سے پہلے ہی کیا کر لیتا ہے؟ وضو، تو طرفین فرماتے ہیں یہ طہارت معتبر ہے، یعنی ظہر کا وقت شروع ہو گا دخولِ وقت سے وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ کیوں نہیں ٹوٹے گا بھئی؟ وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کو ضرورت ہے اس طہارت کی۔ بھئی اس وقت کیا ضرورت ہے ابھی تو وقت نہیں شروع ہوا؟ کہتے ہیں یہ ضرورت یہ ہے تاکہ جیسے ہی وقت شروع ہو فوراً یہ کس پر قادر ہو سکے؟ ادا پر، اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب پہلے جو ہے طہارت اس کے اس کا اعتبار کیا جائے بھئی۔ لہٰذا معلوم ہوا دخولِ وقت سے طہارت باطل نہیں ہو گی۔ ہاں خروجِ وقت جب وقت گزر گیا اب اس کی حاجت نہ رہی لہٰذا اب وہ طہارت ختم ہو جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے صاحبِ ہدایہ اور واضح لفظوں میں بیان کریں گے۔
وَلَهُمَا، طرفین کی دلیل یہ ہے أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ تَقْدِيمِ الطَّهَارَةِ عَلَى الْوَقْتِ، کہ ضروری ہے طہارت کو مقدم کرنا وقت پر، لِيَتَمَكَّنَ مِنَ الأَدَاءِ، تاکہ یہ شخص جو ہے قادر ہو جائے ادا پر، كَمَا دَخَلَ الْوَقْتُ، جیسے ہی وقت داخل ہو۔ تاکہ یہ شخص کیا ہو؟ طہارت کا وقت پر مقدم کرنا ضروری ہے تاکہ یہ شخص ادا پر قادر ہو كَمَا دَخَلَ الْوَقْتُ جیسے ہی وقت داخل ہو۔ وَخُرُوجُ الْوَقْتِ دَلِيلُ زَوَالِ الْحَاجَةِ، اور وقت کا نکلنا یہ دلیل ہے حاجت کے زائل ہو جانے، ختم ہو جانے کی کہ اب حاجت نہ رہی، فَظَهَرَ اعْتِبَارُ الْحَدَثِ عِنْدَهُ، تو ظاہر ہو گا حدث کا اعتبار اس وقت بھئی۔ یعنی اب حدث، اب حدث کا اعتبار کیا جائے گا۔ اس سے پہلے حدث تھا تو لیکن شریعت کے نزدیک وہ معتبر نہیں، ہاں جب وقت گزر گیا اب حاجت نہ رہی لہٰذا اب حدث کا اعتبار کیا جائے گا اور طہارت ختم ہو جائے گی۔
وَالْمُرَادُ بِالْوَقْتِ وَقْتُ الْمَفْرُوضَةِ، اور وقت سے مراد وقت المفروضۃ فرضی نماز کا وقت ہے، فرض کی ہوئی نماز کا وقت ہے، حَتَّى لَوْ تَوَضَّأَ الْمَعْذُورُ لِصَلَاةِ الْعِيدِ، یہاں تک کہ اگر وضو کیا معذور نے عید کی نماز کے لیے، لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ الظُّهْرَ بِهِ عِنْدَهُمَا، تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ ظہر کی نماز بھی پڑھ لے اسی وضو سے عِنْدَهُمَا کس کے نزدیک؟ طرفین کے نزدیک۔ کیونکہ وضو کب کیا ہے؟ عید کی نماز کے لیے، معلوم ہوا طلوعِ آفتاب کے بعد کیا ہے، اور آگے ظہر کے وقت جب شروع ہو گا تو کوئی خروجِ وقت پایا گیا؟ نہیں، اس سے پچھلا وقت تو کسی اس میں تو کوئی نماز فرض نہیں۔ تو لہٰذا ظہر کی نماز بھی اس سے ادا کر سکتا ہے۔
لَهُ، اس کے لیے جائز ہے أَنْ يُصَلِّيَ الظُّهْرَ بِهِ عِنْدَهُمَا، کہ پڑھ لے ظہر کی نماز بھی اسی سے طرفین کے نزدیک، وَهُوَ الصَّحِيحُ، اور یہی قول صحیح ہے، لِأَنَّهَا بِمَنْزِلَةِ صَلَاةِ الضُّحَى، اس لیے کیونکہ عید کی نماز جو ہے وہ چاشت کی نماز کے درجے میں ہے، عید کی نماز کس کے درجے میں ہے؟ چاشت کی نماز جو صبح سورج تھوڑا سا جب بلند ہو جائے اور ادا کی جاتی ہے، اور یہ تو عید کی نماز بھی اسی کی طرح ہے۔ یعنی جیسے وہ فرض نہیں اسی طرح عید کی نماز بھی فرض نہیں۔ عید کی نماز واجب ہے واجب، فرض نہیں۔ تو جیسے چاشت، تو مشابہت کس چیز میں آئی؟ فرض نہ ہونے میں، یہ کس کی طرح ہے؟ کس کے درجے میں ہے؟ چاشت، کس چیز میں؟ فرض نہ ہونے میں، جیسے وہ فرض نہیں یہ عید کی نماز بھی فرض نہیں۔
وَلَوْ تَوَضَّأَ مَرَّةً لِلظُّهْرِ فِي وَقْتِهِ وَأُخْرَى فِيهِ لِلْعَصْرِ، بھئی صورت یہ ہے اب آپ مجھے مسئلہ بتائیے: ایک آدمی نے ظہر کے وہ معذور ہے، اور اس نے ظہر کی نماز کے لیے وضو کیا اور اس سے اس نے ظہر کی نماز ادا کر لی۔ پھر عصر کا وقت قریب آیا ابھی شروع نہیں ہوا، اس نے عصر کی نماز کے لیے بھی وضو کر لیا۔ اب عصر کا وقت شروع ہوا تو آپ مجھے بتائیے اس وضو سے یہ عصر کی نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ جو اس نے کیا ہی عصر کی نماز کی نیت سے ہے بھئی؟ جی؟ ہاں یہ اس سے وضو سے عصر کی نماز نہیں پڑھ سکتا بھئی۔ کیوں نہیں پڑھ سکتا؟ کیونکہ طرفین جو ہیں طرفین، ان کے نزدیک خروجِ وقت سے وضو ٹوٹ جائے گا، اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی، ان سب کے نزدیک خروجِ وقت سے وضو ٹوٹ جائے گا، اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک عصر کا وقت داخل ہونے سے وضو ٹوٹ جائے گا، لہٰذا اس طہارت سے عصر کی نماز وہ نہیں پڑھ سکتا۔
یہ معنی ہے: وَلَوْ تَوَضَّأَ مَرَّةً لِلظُّهْرِ فِي وَقْتِهِ وَأُخْرَى فِيهِ لِلْعَصْرِ، اور اگر وضو کیا ایک مرتبہ ظہر کی نماز کے لیے فِي وَقْتِهِ اسی ظہر کے وقت میں، وَأُخْرَى أي مَرَّةً أُخْرَى اور دوسری مرتبہ وضو کیا فِيهِ اسی وقت میں یعنی ظہر میں، لِلْعَصْرِ کس کے لیے؟ عصر کے لیے، فَعِنْدَهُمَا لَيْسَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ الْعَصْرَ بِهِ، تو طرفین کے نزدیک اس شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ عصر کی نماز پڑھے بِهِ اس وضو سے، لِانْتِقَاضِهِ بِخُرُوجِ وَقْتِ الْمَفْرُوضَةِ، بوجہ ٹوٹ جانے اس وضو کے بِخُرُوجِ وَقْتِ الْمَفْرُوضَةِ فرضی نماز کے وقت کے نکلنے کی وجہ سے کہ فرضی نماز کا وقت نکلا ہے۔ بھئی ابھی میں نے ذکر کیا ٹوٹ تو سب کے نزدیک جائے گا، یہ وضو تو سب کے نزدیک ٹوٹے گا، ائمہ ثلاثہ کے نزدیک بھی اور امام زفر رحمہ اللہ کے، لیکن بالخصوص طرفین کو ذکر کیا یہاں پر۔ کس کو ذکر کیا؟ بالخصوص طرفین کو ذکر کیا، کیونکہ شبہ ان کے قول پر آتا تھا، ان کے نزدیک طہارت کو وقت پر مقدم کرنا بھی جائز تھا، تو یہاں پر بھی یہ شبہ پڑتا تھا کہ شاید اس نے عصر کے لیے پہلے سے وضو کر لیا ہے تو وقت پر کیا کیا؟ طہارت کو مقدم کر لیا ہے، لہٰذا ان کے نزدیک عصر کی نماز جائز ہونی چاہیے، لیکن بتلایا ان کے نزدیک بھی عصر کی نماز اس وضو کے ساتھ جائز نہیں، کیونکہ دخولِ وقت سے تو وضو نہیں ٹوٹا بے شک، لیکن خروجِ وقت سے وضو ٹوٹ گیا ان کے نزدیک بھی۔
وَالْمُسْتَحَاضَةُ هِيَ الَّتِي لَا يَمْضِي عَلَيْهَا وَقْتُ صَلَاةٍ إِلَّا وَالْحَدَثُ الَّذِي ابْتُلِيَتْ بِهِ يُوجَدُ فِيهِ، اور مستحاضہ وہ عورت ہے کہ نہیں گزرتا اس پر نماز کا وقت مگر یہ کہ وہ حدث جس میں وہ مبتلا کی گئی ہے يُوجَدُ فِيهِ اس وقت میں وہ حدث پایا جاتا ہے، یعنی وہ استحاضہ۔ وَكَذَا كُلُّ مَنْ هُوَ فِي مَعْنَاهَا، وَهُوَ مَنْ ذَكَرْنَاهُ، وَمَنْ بِهِ اسْتِطْلَاقُ بَطْنٍ وَانْفِلَاتُ رِيحٍ، اور اسی طرح تو یہ تو مستحاضہ کی بات ہوئی بھئی، اور شروع میں جیسے معذوروں کا حکم ذکر کر دیا تھا بھئی، تو مستحاضہ تو وہ ہے جس کو پوری نماز کے اندر نماز کے وقت میں کوئی وقت ملتا ہی نہیں جس میں وہ حدث نہ پایا جائے۔ وَكَذَا كُلُّ مَنْ هُوَ فِي مَعْنَاهَا، اور اسی طرح ہر وہ شخص جو اس مستحاضہ کے معنی میں ہے، جو اس کی طرح ہے۔ بھئی وہ کون کون ہے؟ بتلا رہے ہیں: وَهُوَ مَنْ ذَكَرْنَاهُ، اور یہ وہ ہیں جن کو ہم نے ذکر کر دیا۔ جو کہاں پر آئے تھے بھئی؟ متن کے اندر آئے تھے بھئی پچھلے فضل جہاں شروع ہوئی تھی: مستحاضہ، سلسل البول والے، رعاف دائم والے اور وہ زخم جو تھمتا نہیں، وہ، وَمَنْ بِهِ اسْتِطْلَاقُ بَطْنٍ، اور اسی طرح وہ شخص جس کو پیٹ چلنے کی بیماری ہے یعنی دست وغیرہ لگے ہیں اور شدید بیماری ہے کہ وہ اس میں پیٹ رکتا ہی نہیں، وَانْفِلَاتُ رِيحٍ، اور اسی طرح وہ شخص جس کو خروجِ ریح کا مرض ہو، یعنی ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔
اچھا وَكَذَا اور یہی حکم ہے كُلُّ مَنْ هُوَ فِي مَعْنَاهَا ہر اس شخص کا جو اس مستحاضہ کے معنی میں ہے، وَهُوَ مَنْ ذَكَرْنَاهُ اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے ذکر کر دیا پیچھے جہاں فصل شروع ہوئی تھی ان کا ذکر آیا تھا جو معذورین ہیں، یہ جو ہم نے ذکر کر دیے، اسی طرح وَمَنْ بِهِ اسْتِطْلَاقُ بَطْنٍ اور اسی طرح وہ شخص جس کو پیٹ چلنے کی بیماری ہے یعنی دست وغیرہ لگے ہیں اب وہ پیٹ رکتا ہی نہیں، شدید بیماری میں مبتلا ہے، وَانْفِلَاتُ رِيحٍ اور اسی طرح جس کو خروجِ ریح کا مرض ہو اور ایسا شدید مرض ہے کہ پوری نماز کے وقت کے اندر اس کو تھوڑا سا بھی وقت نہیں ملتا جس میں کیا کر لے؟ وضو کر کے نماز پڑھ لے، تو یہ سب بھی ان سب کا بھی یہی حکم ہے۔ لِأَنَّ الضَّرُورَةَ بِهَذَا يَتَحَقَّقُ، اس لیے کیونکہ ضرورت جو ہے ان چیزوں سے ثابت ہو جاتی ہے۔ ان کے لیے بھی طہارت کا اعتبار کرنے کی، اور یہ سب چیزیں جو ہم نے ذکر کر دیں ان کے ساتھ ضرورت ثابت ہو جاتی ہے کہ ان کو ضرورت ہے، وَهِيَ تَعُمُّ الْكُلَّ، اور ضرورت جو ہے وہ تو عام ہے ان سب کو یعنی ان سب کو شامل ہے۔
بھئی دوبارہ دیکھیے: لِأَنَّ الضَّرُورَةَ بِهَذَا يَتَحَقَّقُ، اس لیے کیونکہ ضرورت جو ہے ان عذروں کی وجہ سے ثابت ہو جاتی ہے۔ یہ جو ہم نے ذکر کر دیے جو عذر، وہ جو پیچھے متن میں آئے تھے، اسی طرح استطلاقِ بطن کا مرض ہے جسے انفلاتِ ریح کا مرض ہے، تو ان عذروں سے ضرورت ثابت ہو جاتی ہے وَهِيَ تَعُمُّ الْكُلَّ اور یہ ضرورت سب کو عام ہے یعنی سب کو شامل ہے۔ تو ان یہ جو ہم نے عذر ذکر کیے ان سے ضرورت ثابت ہو جاتی ہے اور ضرورت تو ان سب کو ہے، ان عذروں سے کیا ثابت ہو جاتی ہے؟ ضرورت، اور ضرورت تو ان سب کو ہے، کس چیز کی ضرورت ہے؟ نماز کی ادائیگی کی ضرورت ہے، تو اس ضرورت کی بنا پر ان کی طہارت کا اعتبار کیا جائے گا اور یہ پھر اس پورے وقت میں اس وضو سے جتنے فرائض اور نوافل پڑھنا چاہیں پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔