”وَيَجْلِسُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ إِلَّا فِي الْمَغْرِبِ ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى ، وَقَالَا رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى : يَجْلِسُ فِي الْمَغْرِبِ أَيْضًا جَلْسَةً خَفِيفَةً لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الْفَصْلِ إِذِ الْوَصْلُ مَكْرُوهٌ ، وَلَا يَقَعُ الْفَصْلُ بِالسَّكْتَةِ“.
”وَيَجْلِسُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ“ اذان سے متعلقہ مسائل ذکر ہو رہے ہیں۔ یاد رکھیے کہ اذان اور اقامت کے درمیان کچھ وقفہ ہونا چاہیے کیونکہ اذان یہ اعلان ہے نماز کا وقت ہو جانے کا، اور پھر اس کے بعد کچھ وقت کچھ وقفہ ہو کہ لوگ تیاری کر کے نماز کے لیے حاضر ہو سکیں بھئی۔ لہٰذا اذان دیتے ہی فورا نماز شروع کر دی جائے یہ درست نہیں بھئی، بلکہ کیا ہونا چاہیے؟ وقفہ، کچھ وقفہ ہونا چاہیے بھئی۔
البتہ مغرب کا وقت چونکہ مختصر ہوتا ہے تو اس کے اندر اب کتنا وقفہ ہونا چاہیے بھئی، کتنا ہونا چاہیے؟ تو اس میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے، اس کو ذکر کر رہے ہیں جبکہ باقی جگہ تو اختلاف ہے ہی نہیں بھئی ظاہر سی بات ہے باقی نمازوں کا وقت اتنا مختصر نہیں ہوتا، تو اس لیے اس کو بالخصوص ذکر کیا۔
تو فرماتے ہیں: ”وَيَجْلِسُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ إِلَّا فِي الْمَغْرِبِ“ اور بیٹھ جائے وہ یعنی اذان دینے والا، ”بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ“ اذان اور اقامت کے درمیان، یعنی جلسہ کرے اس میں کچھ، ”إِلَّا فِي الْمَغْرِبِ“ سوائے مغرب کے۔ باقی نمازوں میں کیا کرے اذان دینے والا؟ اذان اور اقامت کے درمیان جلسہ کرے، کچھ دیر بیٹھ جائے بھئی۔ ”إِلَّا فِي الْمَغْرِبِ“ سوائے کس کے؟ مغرب کے بھئی۔ تو جلسہ کرے یعنی اس میں وقفہ کرے بھئی۔
”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ کس کے نزدیک ہے؟ امام صاحب کے نزدیک۔ وہ فرماتے ہیں: ”إِلَّا فِي الْمَغْرِبِ“ سوائے کس کے؟ مغرب کے، اس میں جلسہ نہ کرے بھئی، کیونکہ اس کا وقت کیا ہوتا ہے؟ تھوڑا ہوتا ہے، مستحب وقت تھوڑا ہوتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ ”وَقَالَا يَجْلِسُ فِي الْمَغْرِبِ أَيْضًا جَلْسَةً خَفِيفَةً“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ جلسہ کرے مغرب میں بھی ”جَلْسَةً خَفِيفَةً“ تھوڑا سا جلسہ، تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جائے بھئی۔
”لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الْفَصْلِ“ اس لیے کیونکہ فصل کا ہونا تو ضروری، اذان اور اقامت کے درمیان فصل یعنی جدائی کا ہونا ضروری ہے، ”إِذِ الْوَصْلُ مَكْرُوهٌ“ اس لیے کیونکہ وصل یعنی ملانا تو مکروہ ہے کہ اذان دی اور ساتھ ہی کیا شروع کر دی؟ اقامت شروع کر دی۔ تو یہ وصل کیا دونوں کو ملا دیا۔ تو وصل تو مکروہ ہے بھئی، مکروہ۔ تو لہٰذا کچھ نہ کچھ فصل ہونا چاہیے، ہاں وقت تھوڑا ہے لہٰذا مغرب میں کیا کرے؟ جلسہ خفیف ہونا چاہیے، تھوڑا سا ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الْفَصْلِ إِذِ الْوَصْلُ مَكْرُوهٌ“ اس لیے کیونکہ فصل کا ہونا ضروری ہے کیونکہ وصل جو ہے مکروہ ہے، ”وَلَا يَقَعُ الْفَصْلُ بِالسَّكْتَةِ لِوُجُودِهَا بَيْنَ كَلِمَاتِ الْأَذَانِ“ اور فصل واقع نہیں ہوگا سکتہ کرنے سے یعنی خاموش رہنے سے۔ اذان دی اور پھر کچھ خاموش رہا اور پھر اقامت شروع کر دی تو سکتہ آیا، کیا آیا درمیان میں؟ سکتہ، کچھ خاموشی آئی، کہتے ہیں نہیں بھئی اس سے فصل واقع نہیں ہوگا، جدائی واقع نہیں ہوگی۔ کیوں؟ سکتے کی وجہ سے جدائی کیوں نہیں واقع ہوگی؟ کہتے ہیں: ”لِوُجُودِهَا بَيْنَ كَلِمَاتِ الْأَذَانِ“ اس لیے کیونکہ سکتہ تو اذان کے کلمات کے بیچ میں بھی ہے، اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کے بعد مؤذن سکتہ کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ پھر اگلے کلمات کہتا ہے اللہ اکبر اللہ اکبر، پھر سکتہ کرتا ہے کچھ دیر خاموش ہوتا ہے، اتنی دیر خاموش رہے کہ دوسرا سننے والا اس کا جواب دے سکے بھئی۔ سننے والا کیا کرے؟ جواب دے سکے اذان کے کلمات کا۔
تو صاحبین فرماتے ہیں یہاں پر اب سکتے سے فصل واقع نہیں ہوگا اس لیے کیونکہ سکتہ تو اذان کے اپنے کلمات کے درمیان بھی پایا جاتا ہے، ”فَيَفْصِلُ بِالْجَلْسَةِ كَمَا بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ“ تو لہٰذا فصل کرے گا یہ مؤذن کس کے ساتھ؟ جلسے کے ساتھ، کچھ دیر کیا کرے؟ بیٹھ جائے مختصر سا، ”كَمَا بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ“ جیسے دو خطبوں کے درمیان کیا جاتا ہے بھئی عید کے دن یا جیسے جمعہ کے خطبے ہیں بھئی۔ خطیب کیا کرتا ہے خطبہ دینے والا؟ خطبہ دینے کے بعد درمیان میں دونوں کے درمیان فصل کرتا ہے، کس طرح فصل کرتا ہے؟ کچھ بیٹھ جاتا ہے تھوڑا سا، خفیف سا بیٹھتے ہیں زیادہ دیر تو نہیں تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے ہیں لیکن اس سے فصل آ جاتا ہے، تو اس میں بھی کیا کر لے؟ فصل کر لے، کچھ خفیف جلسہ ہو جائے۔
یہ تو صاحبین کی دلیل تھی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ التَّأْخِيرَ مَكْرُوهٌ“ کہ تاخیر کرنا کیا ہے یہاں پر؟ مکروہ ہے، مغرب کی نماز میں تاخیر کرنا اور اس کو مؤخر کرنا مکروہ ہے، ”فَيُكْتَفَى بِأَدْنَى الْفَصْلِ احْتِرَازًا عَنْهُ“ تو اکتفا کیا جائے گا ادنیٰ فصل پر ہی، تھوڑا سا فصل ہو جائے اسی پر کیا کر لیا جائے گا؟ اکتفا کر لیا جائے گا، ”احْتِرَازًا عَنْهُ“ أَيْ احْتِرَازًا عَنِ التَّأْخِيرِ، کس سے بچنے کے لیے؟ تاخیر، کیونکہ تاخیر تو کیا ہے؟ مکروہ۔ جب تاخیر مکروہ ہے تو یہاں پر تھوڑے سے فصل پر اکتفا کر لیا جائے گا، زیادہ فصل نہیں ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ نماز مکروہ ہو جائے گی تاخیر ہو جائے گی۔
”وَالْمَكَانُ فِي مَسْأَلَتِنَا مُخْتَلِفٌ“ اور نیز آپ نے کیا ذکر کیا تھا مثال کے طور پر دو خطبے ذکر کیے تھے کہ ان میں کیا کیا جاتا ہے فصل کے لیے؟ جلسہ خفیف کیا جاتا ہے، کہتے ہیں بھئی یہ ہمارا مسئلہ جو اذان اور اقامت والا ہے یہ خطبے سے مختلف ہے اس لیے کیونکہ خطبے میں جگہ ایک ہی ہوتی ہے، اسی جگہ پر خطیب پہلا خطبہ دیتا ہے اور اسی جگہ پر دوسرا بھی دیتا ہے، تو جگہ ایک ہوتی ہے۔ اور ہمارے مسئلے کے اندر جگہ الگ، اذان جو ہے وہ مسجد سے باہر دی جاتی ہے اور اقامت کہاں کہی جاتی ہے؟ مسجد کے اندر کہی جاتی ہے، تو جگہ الگ ہے بھئی، جگہ الگ ہے۔
نیز آواز بھی الگ ہے بھئی، آواز بھی الگ ہے دونوں کے اندر۔ اذان میں کیا کیا جاتا ہے؟ ترسل کیا جاتا ہے، ٹھہر ٹھہر کر اذان دی جاتی ہے، اور اقامت میں کیا کیا جاتا ہے؟ حدر کیا جاتا ہے، جلدی جلدی اقامت کہی جاتی ہے۔ تو آواز سے بھی دونوں میں فرق ہو گیا، جگہ کے اعتبار سے بھی دونوں میں کیا ہو گیا؟ فرق ہو گیا، جبکہ خطبے میں ایسا نہیں ہے وہاں جگہ بھی ایک ہے اور وہاں پر آواز بھی ایک، جس آواز کے ساتھ جس طریقے سے پہلا خطبہ اسی طریقے سے دوسرا۔ تو وہاں فصل کا پتہ ہی کس سے چلے گا؟ فصل ہوگا ہی کس سے؟ جلسے سے، لیکن یہاں پر فصل ادنیٰ فصل سے بھی تھوڑا سا فرق بھی آ جائے تو فصل ہو جائے گا، جلسہ ضروری نہیں۔
مسئلہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں؟ دونوں خطبے ایک جیسے ہیں، جگہ بھی ایک، اس میں آواز بھی ایک، کوئی فرق نہیں، تو وہاں فرق فصل کے لیے بیٹھنا ضروری تھا، لیکن یہاں پر آواز بھی الگ، جگہ بھی الگ، تو لہٰذا ادنیٰ ادنیٰ فصل ہی آ جائے وہ کافی ہے، جلسہ ضروری نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ چیزیں دونوں میں فرق پہلے ہی ہے، جگہ بھی دونوں کی الگ، دونوں کی آواز بھی الگ ہے، لہٰذا تھوڑے سے فصل ہی کافی ہو جائے گا۔
کہتے ہیں: ”وَالْمَكَانُ فِي مَسْأَلَتِنَا مُخْتَلِفٌ“ اور جگہ جو ہے ہمارے مسئلے کے اندر مختلف ہے یعنی اقامت اور اذان کی، ”وَكَذَا النَّغْمَةُ“ اور اسی طرح آواز جو ہے وہ بھی مختلف ہے، یعنی اذان کے اندر جو ہے وہ ترسل ہوتا ہے اور اقامت میں حدر ہوتا ہے، ”فَيَقَعُ الْفَصْلُ بِالسَّكْتَةِ“ لہٰذا یہاں فصل سکتے سے بھی ہو جائے گا۔ کچھ خاموش رہا اس سے بھی کیا ہو جائے گا؟ بھئی دو خطبوں کے درمیان فصل کرنے کے لیے صرف سکتے پر اکتفا نہیں کیا گیا، تھوڑی دیر خاموش ہو جائے خطیب پھر اگلا خطبہ شروع کر دے، نہیں، تھوڑی دیر خاموش رہے تو اس سے فصل نہیں آئے گا، پتہ ہی نہیں چلے گا فصل کا، تو وہاں کیا ضروری؟ وہ بیٹھ جائے تاکہ فصل آ جائے، دونوں الگ الگ ہو جائیں۔ اور یہاں پر دونوں کی جب آواز بھی الگ دونوں کی جگہ بھی الگ، تو لہٰذا سکتے سے ہی کیا آ جائے گا دونوں میں؟ فصل آ جائے گا۔ یہ معنی ہے ”فَيَقَعُ الْفَصْلُ بِالسَّكْتَةِ“ تو فصل واقع ہو جائے گا سکتے سے ہی۔ ”وَلَا كَذَلِكَ الْخُطْبَةُ“ اور خطبہ اس طرح نہیں ہے، یعنی اس میں جگہ بھی الگ نہیں، آواز بھی الگ نہیں۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَفْصِلُ بِرَكْعَتَيْنِ اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الصَّلَوَاتِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فصل کیا جائے گا دو رکعتوں کے ساتھ، کیا کیا جائے گا؟ دو رکعتیں پڑھی جائیں گی، ”اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الصَّلَوَاتِ“ قیاس کرتے ہوئے باقی نمازوں پر۔ باقی نمازوں کے اندر جس طرح اذان اور اقامت کے درمیان فصل کس طرح کیا جاتا ہے؟ جیسے دو رکعتیں وغیرہ پڑھ لیں، تو جیسے وہاں فصل کیا جاتا ہے یہاں بھی کیا کیا جائے گا؟ فصل دو رکعتیں پڑھ کر کیا جائے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرق کیا جائے گا دو رکعتوں کے ساتھ قیاس کرتے ہوئے باقی نمازوں پر۔
”وَالْفَرْقُ قَدْ ذَكَرْنَاهُ“ اور فرق تحقیق ہم نے ذکر کر دیا، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے کیا کر دیا باقی نمازوں سے اس نماز کا فرق ذکر کر دیا، باقی نمازوں کے اندر تاخیر مکروہ نہیں، اس کے اندر تاخیر کیا ہے؟ مکروہ ہے بھئی۔
تو یاد رکھیے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ جو مغرب کی اذان اور اقامت ہے اس کے درمیان تھوڑا سا سکتہ کافی ہے امام صاحب کے نزدیک۔ اتنا سکتہ اتنی دیر خاموش رہے جس میں تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھی جا سکے، بس یہ فصل کافی ہے، یہ فصل۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ فصل کافی ہے۔ اور ایک روایت یہ ہے کہ تین قدم چل لے، یہ بھی کیا ہے اس سے بھی فصل آ جائے گا، یہ بھی کافی ہے بھئی، یہ بھی کافی ہے۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ تھوڑا سا جلسہ ہو، تھوڑا سا بیٹھ جائے معمولی سا جلسہ آ جائے گا تو دونوں جدا ہو جائیں گے ایک دوسرے سے جیسے خطبے کے درمیان امام دو خطبوں کے درمیان جلسہ کرتا ہے اس طرح معمولی سا جلسہ کر لے بھئی، جلسہ کر لے۔ تو یہ اختلاف ہے۔
جبکہ امام حلوانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اختلاف صرف افضل ہونے میں ہے، کس چیز میں؟ افضل ہونے میں اختلاف ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں حتیٰ کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی بیٹھ بھی جائے تو بھی جائز ہے بھئی، ہاں افضل کیا ہے؟ بیٹھے نا، بس وہی تھوڑا سا فصل آ گیا اس سکتے سے وہ کیا ہے؟ کافی ہے۔ جی، اور صاحبین کے نزدیک جلسہ افضل ہے۔ تو امام حلوانی کیا فرماتے ہیں کہ اختلاف صرف کس چیز میں ہے؟ افضل ہونے میں ہے، صاحبین کے نزدیک بیٹھنا افضل، امام صاحب کے نزدیک نہ بیٹھنا افضل ہے بھئی۔
”وَقَالَ يَعْقُوبُ رَأَيْتُ أَبَا حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُؤَذِّنُ فِي الْمَغْرِبِ وَيُقِيمُ وَلَا يَجْلِسُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ“ اور یعقوب فرماتے ہیں یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا نام کیا تھا؟ یعقوب بھئی۔ ابو یوسف تو ان کی کنیت ہے نام ان کا یعقوب ہے۔ اور یہ عبارت ذکر کر رہے ہیں جامع صغیر کی بھئی، کس کی عبارت ذکر ہو رہی ہے؟ ”قَالَ يَعْقُوبُ رَأَيْتُ أَبَا حَنِيفَةَ“ یہ کس کی عبارت ہے؟ جامع صغیر امام محمد رحمہ اللہ کی جو کتاب ہے جامع صغیر اس کے اندر وہ اس مقام پر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو کنیت کے ساتھ ذکر نہیں کرتے بلکہ کس کے ساتھ ذکر کرتے ہیں؟ ان کے نام کے ساتھ ذکر کرتے ہیں بھئی، نام کے ساتھ۔
تو کہتے ہیں کہ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے خود فرمایا امام محمد رحمہ اللہ سے کہ میرا نام ذکر کرنا کنیت یہاں ذکر نہ کرنا بھئی، میرا نام ذکر کرنا کیونکہ آگے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام ذکر ہو رہا ہے اور ان کا نام کنیت کے ساتھ ذکر ہو رہا ہے، اور میرا نام بھی کنیت کے ساتھ ذکر ہوگا تو یہ تو کچھ برابری معلوم ہوگی حالانکہ وہ میرے شیخ ہیں، میرے استاد ہیں، تو میرا نام کیا کرنا نام کے ساتھ مجھے ذکر کرنا اور ان کی اسی کنیت کے ساتھ ان کا نام ذکر کرنا جس کے ساتھ وہ مشہور ہیں یعنی ابو حنیفہ بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”قَالَ يَعْقُوبُ رَأَيْتُ أَبَا حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُؤَذِّنُ فِي الْمَغْرِبِ وَيُقِيمُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو دیکھا ”يُؤَذِّنُ فِي الْمَغْرِبِ“ کہ وہ اذان دیتے ہیں مغرب میں ”وَيُقِيمُ“ اور اقامت کہتے ہیں ”وَلَا يَجْلِسُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ“ اور وہ بیٹھتے نہیں، جلسہ نہیں کرتے اذان اور اقامت کے درمیان۔ یہ کس نے روایت کیا؟ امام ابو یوسف نے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام صاحب کو مغرب میں اذان دیتے اور اقامت کہتے ہوئے دیکھا ہے، وہ اذان دیتے اور اقامت کہتے تھے اور درمیان میں بیٹھتے نہیں تھے بھئی، بیٹھتے نہیں تھے۔
”وَهَذَا يُفِيدُ مَا قُلْنَاهُ“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں ”وَهَذَا“ یہ روایت جو جامع صغیر میں آئی، یہ جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام صاحب کا واقعہ ذکر کیا، ”هَذَا“ یہ وہ چیز جو ہے ”يُفِيدُ مَا قُلْنَاهُ“ یہ فائدہ دیتا ہے وہ جو ہم نے قول کیا، جو ہم نے بات کی اسی کا فائدہ دے رہا ہے۔ کیا ہم نے کیا ذکر کیا؟ کہ امام صاحب کے نزدیک کیا ہے؟ جلسہ نہیں ہونا چاہیے مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان، ادنیٰ فصل آ گیا وہ کیا ہے؟ کافی ہے۔ ایک تو اس چیز کا فائدہ دیا اس روایت نے، اور دوسری بات: ”وَأَنَّ الْمُسْتَحَبَّ كَوْنُ الْمُؤَذِّنِ عَالِمًا بِالسُّنَّةِ“ اور اس بات کا فائدہ دیا کہ مستحب جو ہے مؤذن کا عالماً بالسنۃ ہونا ہے، مؤذن جو ہے اس کو سنت کا عالم ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ عالماً بالسنۃ ہونا چاہیے یعنی احکام شریعت پر واقف ہونا چاہیے بھئی۔ یہ بھی اس روایت سے پتہ چلا کیونکہ امام صاحب اذان اور اقامت کہہ رہے ہیں اذان دے رہے ہیں اور امام صاحب کیا ہیں؟ احکام شریعت پر واقف ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو اس نے فائدہ دیا اس بات کا جو ہم نے ذکر کی اور اس بات کا بھی کہ ”وَأَنَّ الْمُسْتَحَبَّ كَوْنُ الْمُؤَذِّنِ عَالِمًا بِالسُّنَّةِ“ کہ مستحب جو ہے وہ مؤذن کے لیے عالماً بالسنۃ ہونا ہے، سنت کا عالم ہو یعنی احکام شریعت کو جاننے والا ہو، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”وَيُؤَذِّنُ لَكُمْ خِيَارُكُمْ“ اور اذان دے تمہارے لیے خیارکم جو تم میں سے بہتر ہے۔ تمہارے لیے وہ شخص اذان دے جو تم میں سے بہتر ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی احکام شریعت کو جاننے والا ہے بھئی۔
”وَيُؤَذِّنُ لِلْفَائِتَةِ وَيُقِيمُ“ اور اذان دے فوت شدہ نماز کے لیے اور اقامت کہے۔ اور اذان دی جائے گی فوت شدہ نماز کے لیے اور اقامت کہی جائے گی بھئی۔ ایک شخص ہے اس کی نماز فوت ہو گئی، اب وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ یا مثلاً ایک جماعت ہے بھئی اس کی نماز فوت ہو گئی بھئی کسی وجہ سے، اب فوت شدہ نماز بعد میں ادا کرنا چاہتے ہیں تو کیا کریں اذان اور اقامت کہیں گے یا نہیں؟ تو بتلا دیا انہوں نے آپ کو کہ وہ اس کے لیے اذان بھی دیں اور پھر اقامت بھی کہیں۔ کہتے ہیں: ”وَيُؤَذِّنُ لِلْفَائِتَةِ وَيُقِيمُ“ اور اذان کہے گا فوت شدہ نماز کے لیے اور اقامت بھی کہے گا، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَضَى الْفَجْرَ غَدَاةَ لَيْلَةِ التَّعْرِيسِ“ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فجر کی قضا نماز پڑھی بھئی، ”غَدَاةَ لَيْلَةِ التَّعْرِيسِ“، غداۃ کا معنی صبح ہونا سورج کا نکل آنا بھئی، یعنی چاشت کا وقت سورج جب کچھ اونچا ہو جائے تھوڑا سا، غداۃ لیلۃ التعریس لیلۃ التعریس کے دن نکلنے پر حضور علیہ السلام نے فجر کی قضا فرمائی غداۃ لیلۃ التعریس لیلۃ التعریس کے دن نکلنے پر جب سورج نکل آیا تھا کچھ بلند ہو گیا تھا، اس کی قضا فرمائی ”بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ“ اذان اور اقامت کے ساتھ بھئی، اذان اور اقامت کے ساتھ۔
بھئی یہ روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ سفر پر تھے، رات کے وقت سفر کر رہے ہیں بھئی، رات کافی گزر چکی ہے اکثر حصہ تھوڑا حصہ باقی ہے، تو صحابہ تھک گئے ہوں گے انہوں نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ کچھ آرام نہ کر لیں۔ تو تعریس کہتے ہیں تعریس، عرّس یعرّس تعریس کا معنی ہے رات کے آخری حصے میں پڑاؤ ڈالنا، رات کے آخری حصے میں آرام کرنا، یہ کیا ہے؟ تعریس ہے۔ تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ تعریس نہ کر لیں؟ یعنی رات تو گزر چکی کچھ حصہ ہے اس میں کیا کر لیں کچھ آرام نہ کر لیں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ مجھے خوف ہے کہ تم نماز سے سو جاؤ گے یعنی نماز کہیں رہ نہ جائے کیونکہ سفر میں تھے تھکے ہوئے تھے، اب فورا جیسے لیٹے اگر آنکھ لگ گئی پھر تو پتہ ہی نہیں چلے گا بھئی، نماز کا وقت رات آدھی سے زیادہ گزر چکی ہے یا آدھی گزر چکی ہے، تو مجھے خوف ہے کہ تم نماز سے سو جاؤ گے۔ تو حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے: میں جگا دوں گا، یا رسول اللہ میں کیا کروں گا؟ جگا دوں گا۔
چنانچہ سب پڑاؤ ڈال لیا، پہلو لگا لیے سب نے پہلو لگائے، سو گئے بھئی۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے ذمہ داری لے لی میں جگا دوں گا، حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ بھی اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے کہ فجر ہوتے ہی میں کیا کروں گا اذان دوں گا، پھر اذان دینی ہے جگانا ہے سب کو بھئی۔ تو ان کی ان پر بھی نیند کا غلبہ ہوا بھئی وہ سو گئے اور ادھر سورج نکل آیا بھئی، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، سورج تھوڑا سا نکل آیا تھا تو حضور علیہ السلام سب سے پہلے بیدار ہوئے بھئی اور سورج نکل آیا تھا تو حضور علیہ السلام حضرت بلال سے فرمانے لگے: اے بلال وہ بات کدھر گئی جو تم نے کہی تھی؟ یعنی تم نے کیا کہا تھا؟ میں جگا دوں گا۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ مجھ پر اتنی نیند آئی کہ اس جیسی نیند مجھے پہلے کبھی نہیں آئی، اتنی نیند ایک دم مجھ پر طاری ہو گئی مجھے پتہ نہ چلا۔
تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ تمام ارواح جو ہیں اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں، جب چاہتے ہیں اللہ ارواح کو قبض فرما لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں واپس لوٹا دیتے ہیں۔ یاد رکھیے علماء لکھتے ہیں کہ نیند کی حالت میں بھی روح بدن سے نکل جاتی ہے، جیسے موت کے اندر، موت کی حالت میں روح بدن سے نکل جاتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ موت کی حالت میں جب روح نکلتی ہے اس کا بدن سے تعلق بالکل ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ نیند کی حالت میں جب روح نکلتی ہے اس کا بدن سے تعلق باقی رہتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بدن کے ساتھ تعلق باقی رہتا ہے، چنانچہ اسی وجہ سے نیند میں انسان ایسا غافل ہوتا ہے اردگرد کا اسے کچھ پتہ نہیں چلتا، ہاں روح کا تعلق ہے آپ جیسے ہی ذرا سا اس کو ہلائیں گے فورا روح ایک دم واپس آ گئی اور وہ کیا ہو جائے گا؟ بیدار ہو جائے گا۔
تو روح جو ہے یہ بدن اس کے لیے آلہ ہے، اور روح کی مثال یوں کہیں آفتاب کی طرح ہے اور جب انسان بیدار ہوتا ہے تو اس کی شعاعیں پورے بدن پر پڑتی ہیں پورا بدن حرکت میں ہے متحرک ہے زندگی کے آثار اس میں نظر آ رہے ہیں، اور جب نیند کا وقت آتا ہے تو اس وقت باقی بدن سے اس کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے، ہاں باطنی طور پر تعلق اس کا اب بھی رہتا ہے باطنی طور پر اس کا تعلق اب بھی اس کے ساتھ رہتا ہے بھئی۔ تو بتلانا یہ مقصد تھا کہ یہ جو نیند ہے یہ بھی موت کی طرح ہے، موت کی طرح، ہاں موت میں صرف کیا فرق ہے کہ تعلق پوری طرح کٹ گیا بدن سے روح کا جبکہ نیند کے اندر پوری طرح نہیں کٹا بھئی۔
پھر اسی کے اندر جو روح نکلی ہے آپ نے قرآن میں تفسیر وغیرہ میں بھی پڑھا ہوگا بعض آیات کی تفاسیر میں کہ جس کی زندگی ابھی باقی ہوتی ہے نیند کی حالت میں روح نکلی ہے لیکن زندگی اگر باقی ہے وہ روح واپس اللہ اس کو واپس بھیج دیں گے، اور جس کی زندگی باقی نہیں تو اس کی روح واپس نہیں آتی، چنانچہ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں بعض اوقات نیند کی حالت میں کسی کا انتقال ہو جاتا ہے اور ان کو کسی کو ساتھ والوں کو خبر بھی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ روح نکلی تھی نیند کی حالت میں اور پھر موت کا فیصلہ ہوا تعلق اسی کے بیچ میں نکلی ہوئی تو تھی ہی اب وہ جو تھوڑا تعلق تھا وہ بھی ٹوٹ گیا پتہ ہی نہیں چلا اور پھر واپس روح نہ آئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرمانے لگے کہ ہاں تمام ارواح کیا ہیں اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں جس وقت وہ چاہتے ہیں ان ارواح کو لوٹا دیتے ہیں۔ پھر فرمایا: اے بلال اٹھو اور اذان دو بھئی نماز کے لیے۔ تو چنانچہ جب سورج کچھ بلند ہو گیا پھر اس وقت جو ہے وہ نماز ادا کی گئی بھئی۔ یہ ہے وہ لیلۃ التعریس کا واقعہ۔
تو کہتے ہیں: ”وَيُؤَذِّنُ لِلْفَائِتَةِ وَيُقِيمُ“ اور اذان دے گا فوت شدہ نماز کے لیے اور اقامت کہے، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَضَى الْفَجْرَ غَدَاةَ لَيْلَةِ التَّعْرِيسِ“ کیونکہ حضور علیہ السلام نے فجر کی نماز قضا فرمائی لیلۃ التعریس کے دن نکلنے پر، ”بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ“ اذان اور اقامت کے ساتھ بھئی، اذان بھی دی گئی اور اقامت بھی کہی گئی۔ ”وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي اكْتِفَائِهِ بِالْإِقَامَةِ“ اور یہ حدیث جو ہے دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف فی اکتفائہ ان کے اکتفا کرنے پر بالاقامۃ کس کے ساتھ؟ اقامت، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بس اقامت کافی ہے، کیا کر لیا جائے؟ اقامت کافی ہے، لیکن اس حدیث میں دیکھو اذان کا بھی ذکر ہے۔
”فَإِنْ فَاتَتْهُ صَلَوَاتٌ أَذَّنَ لِلْأُولَى وَأَقَامَ لِمَا رَوَيْنَا“ بھئی اب کئی نمازیں فوت ہو گئیں، کئی نمازیں رہ گئیں اب کیا کیا جائے؟ کیا ہر نماز کے لیے علیحدہ اذان اور اقامت کہی جائے؟ یا صرف پہلی کے لیے اذان اور اقامت کہی جائے باقیوں کے لیے نہ اذان ہو نہ اقامت؟ یا پہلی کے لیے اذان اور اقامت دونوں اور باقیوں کے لیے صرف کیا ہو؟ اقامت، کس صورت پر عمل کیا جائے گا؟ بتلا رہے ہیں: ”فَإِنْ فَاتَتْهُ صَلَوَاتٌ“ اگر کئی نمازیں فوت ہو جائیں اس کی ”أَذَّنَ لِلْأُولَى“ تو پہلی کے لیے کیا کرے؟ اذان دے ”وَأَقَامَ“ اور اقامت کہے ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی۔
”وَكَانَ مُخَيَّرًا فِي الْبَاقِي“ اور اس شخص کو اختیار ہے باقی نمازوں کے اندر ”إِنْ شَاءَ أَذَّنَ وَأَقَامَ“ اگر چاہے تو کیا کرے؟ اذان بھی دے اور اقامت بھی کہے ہر نماز کے لیے۔ اگلے متن میں ہے: ”وَإِنْ شَاءَ اقْتَصَرَ عَلَى الْإِقَامَةِ“ اور اگر چاہے تو باقی نمازوں کے اندر صرف اقامت پر اکتفا کر لے، کیا کر لے؟ اقامت پر اکتفا کر لے۔ تو کہتے ہیں: ”إِنْ شَاءَ أَذَّنَ وَأَقَامَ“ اگر چاہے تو ہر نماز کے لیے کیا کہے اذان کہے اور اقامت کہے ”لِيَكُونَ الْقَضَاءُ عَلَى حَسَبِ الْأَدَاءِ“ تاکہ قضا بھی کس کے مطابق ہو جائے؟ ادا کے، جیسے ادا ہوتی تھی ہر نماز اذان اور اقامت کے ساتھ تو یہاں قضا بھی کئی نمازیں کر رہا ہے سب کو اذان اور اقامت کے ساتھ کر لے۔ ”وَإِنْ شَاءَ اقْتَصَرَ عَلَى الْإِقَامَةِ“ اور اگر چاہے تو اکتفا کر لے صرف اقامت پر ”لِأَنَّ الْأَذَانَ لِلِاسْتِحْضَارِ وَهُمْ حُضُورٌ“ بھئی صرف کس پر اکتفا کر لے؟ اقامت پر، یعنی اذان کو باقی نمازوں کے لیے چھوڑ دے، پہلی کے لیے اذان دے دے باقیوں کے لیے اذان کو چھوڑ دے۔ کیوں اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْأَذَانَ لِلِاسْتِحْضَارِ“ اس لیے کیونکہ اذان تو ہے وہ حاضر کرنے کے لیے ہے، کس لیے ہے؟ بھئی اذان کس لیے دی جاتی ہے تاکہ لوگ نماز کے لیے آ جائیں، حاضر ہو جائیں، اور اس وقت تو یہ سارے مسافر ہیں یا یہ ان کی کئی نمازیں چھوٹ گئی ہیں ان لوگوں کی اور سارے حاضر ہیں جنہوں نے قضا پڑھنی ہے وہ تو سارے کیا ہیں؟ حاضر۔ اور اذان کس لیے تھی دوسروں کو حاضر کرنے کے لیے، یہاں تو سب پہلے سے ہی حاضر ہیں لہٰذا باقی نمازوں میں اذان کی حاجت نہیں۔
”لِأَنَّ الْأَذَانَ لِلِاسْتِحْضَارِ وَهُمْ حُضُورٌ“ اس لیے کیونکہ اذان جو ہے حاضر کرنے کے لیے ہے اور وہ تو حاضر ہیں۔ ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يُقَامُ لِمَا بَعْدَهَا“ قال سے مراد ہے صاحبِ ہدایہ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ“ وہ فرماتے ہیں ”أَنَّهُ يُقَامُ لِمَا بَعْدَهَا“ کہ اقامت کہے گا بعد والی نمازوں کے لیے۔ متن میں تو کیا آیا؟ اگر چاہے تو بعد والی نمازوں کے لیے اذان بھی دے سکتا ہے اور اقامت بھی کہہ سکتا ہے اور چاہے تو صرف کیا کر لے؟ اقامت، یعنی دونوں صورتوں میں سے جو چاہے اختیار کر لے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ آئی ہے کہ ان کے بعد بعد والی نمازوں میں اقامت کہے، انہوں نے اذان کے اختیار کا نہیں لکھا بلکہ صرف کیا لکھا ہے؟ بعد کی نمازوں کے لیے اقامت کہے گا۔
”قَالُوا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ هَذَا قَوْلَهُمْ جَمِيعًا“ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ ان سب کا قول ہو۔ امام محمد رحمہ اللہ نے تو صرف اتنا لکھا کہ کیا کر لے باقی نمازوں کے لیے اقامت کہہ لے اور اختلاف وغیرہ کوئی ذکر نہیں کیا کہ اس بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں یا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں یا یہ میرا قول ہے یا ان کا قول ہے، انہوں نے صرف اتنا لکھا۔ تو مشائخ اور فقہاء فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے یہ ان سب ہی کا قول ہو اسی لیے انہوں نے اختلاف کو یہاں ذکر نہیں کیا کہ پہلی کے لیے اذان اور اقامت کہے اور باقیوں میں کیا کر لے؟ اقامت کہہ لے۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں؟ تو یہ معنی ”قَالُوا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ هَذَا قَوْلَهُمْ جَمِيعًا“ کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ان سب کا قول ہو یعنی ہمارے تینوں ائمہ کا۔
”وَيَنْبَغِي أَنْ يُؤَذِّنَ وَيُقِيمَ عَلَى طُهْرٍ فَإِنْ أَذَّنَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ جَازَ“ اور مناسب یہ ہے کہ اذان اور اقامت کہے ”عَلَى طُهْرٍ“ پاکی کی حالت میں یعنی وضو کی حالت میں، ”فَإِنْ أَذَّنَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ جَازَ“ اگر اذان دے دی بغیر وضو کے تو بھی جائز۔
لِأَنَّهُ ذِكْرٌ کیونکہ اذان ذکر ہے۔ وہ کیا ہے؟ اللہ کا ذکر ہے، اللہ کا نام لیا جاتا ہے بھئی اذان، تو وہ ذکر ہے۔ وَلَيْسَ بِصَلَاةٍ اور وہ تو نماز تو نہیں ہے۔ نماز کے لیے تو وضو ضروری ہے لیکن اذان تو ذکر ہے، لہٰذا اس کے لیے وضو ضروری نہیں۔ ہاں، بہتر ہے کس کے ساتھ اذان دی جائے؟ وضو کے ساتھ، لیکن اگر بغیر وضو بھی کسی نے دے دی تو جائز ہو جائے گی، یعنی درست ہو گئی۔ کیونکہ یہ ذکر ہے وَلَيْسَ بِصَلَاةٍ اور یہ نماز نہیں ہے۔ فَكَانَ الْوُضُوءُ فِيهِ اسْتِحْبَابًا تو وضو اس کے اندر وہ استحباب، یعنی مستحب ہوگا بھئی۔ كَمَا فِي الْقِرَاءَةِ جیسے کس کے اندر ہے؟ قراءت کے اندر۔ بھئی، آپ قراءت کرتے ہیں قرآن کی زبانی، زبانی۔ زبانی قراءت کرتے ہیں تو دیکھیے، وضو ہو تو افضل ہے۔ وضو نہ ہو تو بھی آپ تلاوت کر سکتے ہیں۔ تو بھی کیا کر سکتے ہیں؟ تلاوت کر سکتے ہیں، تو یہاں بھی اسی طرح بھئی۔
وَيُكْرَهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ اور مکروہ ہے کہ اقامت کہی جائے بغیر وضو کے بھئی۔ لِمَا فِيهِ مِنَ الْفَصْلِ بَيْنَ الْإِقَامَةِ وَالصَّلَاةِ بوجہ اس کے، فِيهِ جو اس کے... اس میں ہے۔ اس چیز کی وجہ سے، فِيهِ جو اس میں ہے، دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ بھئی، وہ کیا چیز ہے؟ مِنْ کے ذریعے بیان آیا، یعنی کہ فصل ہے بَيْنَ الْإِقَامَةِ وَالصَّلَاةِ اقامت اور نماز۔ تو یہ فصل کیا ہے؟ اَلْفَصْلُ بَيْنَ الْإِقَامَةِ وَالصَّلَاةِ یہ بیان ہے مَا کا۔ اور میں نے بتلایا تھا ترجمہ پھر کیا کرو با محاورہ ترجمہ کرنے کے لیے؟ اس بیان کو اٹھا کر کس کی جگہ لے جاؤ؟ مَا کی جگہ، اور پھر ترجمہ کرو: أَيْ لِلْفَصْلِ بَيْنَ الْإِقَامَةِ وَالصَّلَاةِ فِيهِ اس لیے کیونکہ اس میں اذان اور اقامت کے درمیان فصل آتا ہے اس صورت میں۔ بھئی، ایک آدمی ہے بغیر وضو کے اقامت کہتا ہے اور اقامت کے تو ساتھ ہی نماز کھڑی ہو جاتی ہے، نماز شروع ہو جاتی ہے، لیکن اگر اس نے اقامت بغیر وضو کے کہی ہے تو اسے کہاں جانا پڑے گا؟ وضو کرنے جانا پڑے گا۔ تو دیکھو، فصل آگیا کس کے درمیان؟ اقامت اور نماز کے درمیان، حالانکہ یہ فصل تو کیا ہے؟ مکروہ ہے بھئی۔ اقامت کے ساتھ ہی نماز ہونی چاہیے، درمیان میں فصل نہیں ہونا چاہیے۔
یہ معنی ہے وَيُكْرَهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ لِمَا فِيهِ مِنَ الْفَصْلِ بَيْنَ الْإِقَامَةِ وَالصَّلَاةِ اور مکروہ ہے کہ اقامت کہے بغیر وضو کے، اس لیے کیونکہ اس کے اندر فصل ہے اقامت اور نماز کے درمیان۔ وَيُرْوَى أَنَّهُ لَا تُكْرَهُ الْإِقَامَةُ أَيْضًا اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ اقامت بھی مکروہ نہیں، جیسے اذان بغیر وضو کے مکروہ نہیں، اسی طرح اقامت بھی مکروہ نہیں، یہ بھی روایت کیا گیا ہے۔ کیوں؟ اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ أَحَدُ الْأَذَانَيْنِ اس لیے کیونکہ یہ بھی دو اذانوں میں سے ایک اذان ہے۔ دو اذانوں میں سے ایک اذان ہے۔ پہلی اذان، اس میں نماز کا وقت ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ دوسری اذان ہے، اس میں نماز کے کھڑے ہونے کا اعلان ہوتا ہے کہ جماعت کھڑی ہو رہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ بھی اذان ہی ہوئی۔ تو جیسے پہلی اذان میں وضو کا نہ ہونا جائز تھا، اس میں بھی جائز ہے، یعنی مکروہ نہیں۔
وَيُرْوَى اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے أَنَّهُ يُكْرَهُ الْأَذَانُ أَيْضًا کہ اذان بھی مکروہ ہے۔ دوسری روایت اذان کے بارے میں کیا آئی ہے؟ کہ اذان بھی بغیر وضو کے مکروہ ہے۔ لِأَنَّهُ يَصِيرُ دَاعِيًا ان کی دلیل بھی ذکر ہو رہی ہے: لِأَنَّهُ يَصِيرُ دَاعِيًا إِلَى مَا لَا يُجِيبُ بِنَفْسِهِ اس لیے کیونکہ مؤذن جو ہے وہ داعی ہو گیا، بلانے والا ہوا إِلَى مَا اس چیز کی طرف لَا يُجِيبُ بِنَفْسِهِ جس کا وہ خود جواب نہیں دے سکتا، جس کو وہ خود قبول نہیں کر سکتا۔ بھئی دیکھیے، مؤذن کیا کرتا ہے؟ نماز کی طرف سب کو بلا رہا ہے لیکن خود اس دعوت کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ اس وقت بے وضو ہے۔ بے وضو کوئی نماز دے رہا ہے؟ وہ سب کو، باقیوں کو تو نماز کی طرف بلا رہا ہے لیکن خود اس کا جواب نہیں دے سکتا، یعنی اس کو قبول، اس دعوت کو خود اس پر عمل نہیں کر سکتا، اس کو قبول نہیں کر سکتا۔ کیوں نہیں کر سکتا قبول؟ کیونکہ بے وضو ہے، جا کر اسے وضو کرنا پڑے گا پھر جا کر وہ نماز کے لیے تیار ہو گا۔ ابھی تک وہ نماز کے لیے تیار ہی نہیں۔ تو لہٰذا اس وجہ سے بعضوں نے کہا اذان بھی بغیر وضو کے مکروہ ہے بھئی، اذان بھی بغیر وضو کے مکروہ ہے کیونکہ ایسی چیز کی طرف لوگوں کو بلا رہا ہے جس کے لیے ابھی وہ خود تیار نہیں بھئی۔ پہلے خود تو تیار ہونا چاہیے، پھر دوسروں کو کیا کرے انسان؟ بلائے اور دعوت دے۔ یہ معنی ہے لِأَنَّهُ يَصِيرُ دَاعِيًا إِلَى مَا لَا يُجِيبُ بِنَفْسِهِ اس لیے کیونکہ مؤذن جو ہے وہ دعوت دینے والا ہو گیا إِلَى مَا اس چیز کی طرف لَا يُجِيبُ بِنَفْسِهِ جس کا جواب وہ خود نہیں دے سکتا، یعنی جس کو وہ خود قبول نہیں کر سکتا۔
وَيُكْرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ وَهُوَ جُنُبٌ اور مکروہ ہے کہ اذان دے وَهُوَ جُنُبٌ اس حال میں کہ وہ جنب ہو بھئی، حالت جنابت میں ہو۔ بھئی، بغیر وضو اذان دی جائے تو جائز ہے۔ ہاں، بہتر یہ ہے کس کے ساتھ ہو؟ وضو کے ساتھ۔ لیکن اگر بغیر وضو کے بھی اذان دی، اذان ہو جائے گی۔ لیکن جنابت کی حالت میں اگر کوئی شخص اذان دیتا ہے یہ مکروہ ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے، مکروہ تحریمی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس صورت میں اعادہ کیا جائے گا، اعادہ، کیونکہ کراہت تحریمی کے ساتھ ہوئی بھئی، کراہت تحریمی کے ساتھ۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا: ایک مکروہ تنزیہی ہے، ایک مکروہ تحریمی۔ مکروہ تحریمی جو حرام کے قریب ہے زیادہ اور مکروہ تنزیہی جو حلال کے زیادہ قریب ہے بھئی۔ یہ معنی ہے وَيُكْرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ وَهُوَ جُنُبٌ اور مکروہ ہے کہ اذان دے اور وہ جنب ہو یعنی حالت جنابت میں ہو۔ رِوَايَةً وَاحِدَةً اس حال میں کہ یہ ایک روایت ہے، یہ کیا ہے؟ یہ ایک روایت ہے بھئی۔
وَوَجْهُ الْفَرْقِ عَلَى إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ اور فرق کی وجہ دو روایتوں میں سے ایک پر... فرق کی روایت دو روایتوں میں سے ایک، یہ ایک روایت آئی نا متن کے اندر کہ اذان بغیر وضو کے بھی جائز ہے اور جنابت کے ساتھ ہو تو مکروہ ہے، یعنی بغیر وضو کے مکروہ نہیں، ہاں جنابت کے ساتھ مکروہ، یہ ایک روایت آئی۔ تو اس کی وجہ اب بیان کر رہے ہیں بھئی۔ وجہ یہ بیان کریں گے، کہتے ہیں کہ دیکھیے بھئی، یہ جو اذان ہے اذان، اس کی من وجہ مشابہت ہے نماز کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ نماز کے ساتھ، یعنی من وجہ یعنی بعض اعتبارات سے۔ بعض اعتبارات سے اذان کی مشابہت نماز کے ساتھ ہے اور بعض اعتبارات سے اذان کی مشابہت نماز کے ساتھ نہیں ہے۔ تو بعض اعتبارات سے مشابہت ہے، بعض اعتبارات سے مشابہت نہیں ہے۔
مشابہت کس اعتبار سے ہے؟ مشابہت دیکھیے بھئی۔ اذان کے اندر بھی استقبال قبلہ ہے، کس طرف رخ کر کے اذان دینی چاہیے؟ قبلے کی طرف منہ کر کے، اور نماز میں بھی استقبال قبلہ ہے۔ نیز نماز کا آغاز بھی تکبیر سے ہوتا ہے، اذان کا آغاز بھی کس سے ہے؟ تکبیر سے ہے، تکبیر سے ہے۔ اور اذان کے کلمات کی بھی خاص ترتیب ہے جیسے نماز کے ارکان کی خاص ترتیب ہے: پہلے قیام ہے، پھر رکوع ہے، پھر اس کے بعد سجدہ ہے، جیسے نماز کے ارکان کی ترتیب ہے اسی طرح اذان کے کلمات کی بھی کیا ہے؟ ترتیب۔ تو ان بعض اعتبارات سے نماز کے ساتھ اس کی مشابہت ہے، باقی اعتبارات سے اس کی مشابہت نہیں۔ تو دونوں جہتیں یہاں آگئیں۔ من وجہ دیکھیں تو مشابہت ہے، من وجہ دیکھیں تو اذان کی نماز کے ساتھ مشابہت نہیں، تو ہم نے دونوں کی رعایت رکھی۔ مشابہت ہونے کی بھی رعایت رکھی اور مشابہت نہ ہونے کی بھی رعایت رکھی۔ مشابہت ہے، لہٰذا کم از کم بڑے حدث سے انسان کو پاک ہونا چاہیے، کم از کم کیا ہے؟ بڑے یعنی جنابت سے انسان کو پاک ہونا۔ اور مشابہت نہیں ہے تو لہٰذا وضو ضروری نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دونوں جہتوں کی رعایت ہو گئی۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
وَوَجْهُ الْفَرْقِ عَلَى إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ اور فرق کی وجہ بھئی، یہ جو کہ اذان کے بغیر کراہت... وضو کے بغیر کراہت نہیں ہے اور جنابت کے ساتھ کراہت ہے، یہ فرق کیوں ہے؟ تو یہ جو فرق کی وجہ ہے دو روایتوں میں سے ایک پر هُوَ وہ یہ ہے أَنَّ لِلْأَذَانِ شَبَهًا اس لفظ کو شَبَهًا پڑھنا، شِبْهًا نہ پڑھنا۔ شاید پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں۔ ایک لفظ ہوتا ہے شِبْهٌ، ایک لفظ ہوتا ہے شَبَهٌ۔ شِبْهٌ بمعنی مِثْلٌ کے، مِثْلٌ، اور شَبَهٌ کا معنی ہے مشابہت، یہ مصدر ہے۔ آپ خود دیکھ لیجیے یہاں کون سا لفظ مناسب بنتا ہے؟ پہلے شِبْهٌ ذرا پڑھیں: وَهُوَ أَنَّ لِلْأَذَانِ شِبْهًا بِالصَّلَاةِ اذان کے لیے مثل ہے نماز کے ساتھ، اور دوسرا ترجمہ کریں: لِلْأَذَانِ شَبَهًا بِالصَّلَاةِ اذان کے لیے مشابہت ہے نماز کے ساتھ۔ کون سا ترجمہ صحیح بنتا ہے؟ مشابہت والا بھئی۔ اور تو دو روایتوں پر فرق کی... دو روایتوں میں سے جو ایک روایت ہے اس میں فرق کی وجہ، بھئی بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک روایت ذکر ہوئی، کیا؟ اذان بغیر وضو کے جائز ہے، مکروہ نہیں، اور جنابت کے ساتھ مکروہ ہے۔ تو یہ دو روایتوں میں سے ایک روایت آئی اور اس روایت میں دیکھو فرق کیا جا رہا ہے بغیر وضو اذان کو مکروہ نہیں کہا جا رہا اور جنابت کے ساتھ مکروہ کہا جا رہا ہے، تو ان دونوں میں فرق کی وجہ کیا ہے؟ وہ ذکر کر رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے أَنَّ لِلْأَذَانِ شَبَهًا بِالصَّلَاةِ کہ اذان جو ہے اس کی مشابہت ہے نماز کے ساتھ۔ فَيُشْتَرَطُ الطَّهَارَةُ عَنْ أَغْلَظِ الْحَدَثَيْنِ دُونَ أَخَفِّهِمَا پس شرط لگائی جائے گی طہارت کی، یعنی پاک ہونے کی عَنْ أَغْلَظِ الْحَدَثَيْنِ دو حدثوں میں سے جو زیادہ غلیظ ہے اس سے طہارت کی شرط لگائی جائے گی، یعنی دو حدثوں میں سے جو زیادہ سخت ہے، زیادہ بڑا ہے۔ ایک ہے حدث اصغر، بے وضو ہونا اور ایک ہے حدث اکبر، یعنی جنابت کی حالت میں ہونا۔ تو کون سا حدث بڑا ہے؟ جنابت والا، تو اس سے پاک ہونے کی شرط لگائی جائے گی دُونَ أَخَفِّهِمَا نہ کہ ان دونوں میں سے جو ہلکا ہے اس سے پاک ہونے کی۔ دونوں میں سے ہلکا کون سا حدث ہے؟ حدث اصغر یعنی بے وضو، اس سے پاک ہونے کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ عَمَلًا بِالشَّبَهَيْنِ عمل کرتے ہوئے دونوں مشابہتوں پر، دونوں مشابہتوں پر۔
وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور جامع صغیر کے اندر آیا ہے، یعنی امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إِذَا أَذَّنَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ جب اذان دے دی بغیر وضو کے وَأَقَامَ اور اقامت بھی کہی بھئی بغیر وضو کے لَا يُعِيدُ تو اعادہ نہیں کرے گا، یعنی اس کا اعادہ نہیں کرے گا، وَالْجُنُبُ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُعِيدَ اور جنابت والا جو ہے وہ مجھے زیادہ پسند ہے کہ وہ اعادہ کر لے۔ کیا ذکر کیا گیا؟ بے وضو اگر اقامت اور اذان... اذان کہی اور اقامت کہی تو اعادہ نہ کرے اور جنابت کی حالت میں اگر اذان اور اقامت کہی ہے تو میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ کیا ہے؟ مجھے پسند یہ ہے کہ اعادہ کر لے، یعنی مستحب یہ ہے کہ اعادہ کر لے، وَإِنْ لَمْ يُعِدْ أَجْزَأَهُ اور اگر وہ اعادہ نہ کرے أَجْزَأَهُ تو بھی یہ کافی ہو جائے گی، یعنی یہ نماز کیا ہے؟ کافی ہو جائے گی، نماز ٹھیک ہو جائے گی۔
أَمَّا الْأَوَّلُ باقی پہلی بات بھئی، کون سی پہلی بات؟ دو باتیں کیں نا: بغیر وضو کے کہے تو اعادہ نہیں اور جنابت میں ہو تو اعادہ پسندیدہ ہے۔ تو پہلی بات یعنی کون سی؟ بغیر وضو کے اعادہ نہیں ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: أَمَّا الْأَوَّلُ پہلی چیز یعنی بے وضو کے لیے اعادہ نہیں فَلِخِفَّةِ الْحَدَثِ حدث کے خفیف ہونے کی وجہ سے کیونکہ ٹھیک ہے حدث تو تھا، بے وضو تو تھا لیکن کون سا حدث تھا؟ حدث اصغر تھا، حدث خفیف تھا، اس لیے۔
وَأَمَّا الثَّانِي اور باقی دوسرا جو ہے، دوسری کیا چیز ہے؟ جنابت کی وجہ سے کہ اعادہ کرنا پسندیدہ ہے، مستحب ہے۔ وہ جو دوسرا ہے اس کے بارے میں، فَفِي الْإِعَادَةِ بِسَبَبِ الْجَنَابَةِ رِوَايَتَانِ تو اس میں جو اعادہ ہے جنابت کی وجہ سے جو ذکر ہوا رِوَايَتَانِ دوسری بات جو ہے اس میں اعادہ جنابت کی وجہ سے، اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں بھئی۔ دو روایتیں ہیں، بین السطور انہوں نے دیا ہوا ہے کہ ظاہر روایت میں یہ ہے کہ اعادہ مستحب ہے اور امام کرخی کی روایت میں اعادہ واجب ہے بھئی، اعادہ کیا ہے؟ واجب ہے بھئی جنابت کی حالت میں جو اذان وغیرہ دی۔
وَالْأَشْبَهُ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: اور فقہ کے زیادہ مشابہ جو ہے وہ یہ ہے، اشبہ بالفقہ یہ ہے أَنْ يُعَادَ الْأَذَانُ دُونَ الْإِقَامَةِ کہ اذان کا اعادہ کیا جائے نہ کہ اقامت کا۔ أَنْ يُعَادَ الْأَذَانُ دُونَ الْإِقَامَةِ کس کا اعادہ کیا جائے؟ اذان کا اعادہ کیا جائے گا دُونَ الْإِقَامَةِ نہ کہ اقامت کا۔ لِأَنَّ تَكْرَارَ الْأَذَانِ مَشْرُوعٌ دُونَ الْإِقَامَةِ اس لیے کیونکہ اذان کا تکرار تو مشروع ہے، جائز ہے، یعنی شریعت میں ہے دُونَ الْإِقَامَةِ اقامت میں نہیں۔ اقامت کے اندر تکرار مشروع نہیں اور اذان میں تکرار مشروع ہے۔ بھئی، کوئی ایسا موقع ہے آپ کے ذہن میں جب ایک ہی نماز کے لیے دو اذانیں دی جاتی ہوں؟ جی؟ ہاں، دیکھا جمعے کے دن۔ جمعے کے دن دیکھو ایک ہی نماز ہے اور اس کے لیے کتنی اذانیں ہیں؟ دو۔ تو معلوم ہوا تکرارِ اذان یہ مجموعی اعتبار سے مشروع ہے، یعنی کہیں نہ کہیں اس کا حکم پایا جا رہا ہے، یہ اس کا حکم ہے، دو اذانیں دی جاتی ہیں جمعے کی نماز کے لیے۔ لیکن اقامت کا کوئی ایسی صورت ہے شرعی حکم کہیں پر اقامت کا تکرار ہو؟ کہیں اقامت کا کہیں تکرار مشروع نہیں، تو اسی لیے کہا گیا کہ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اذان کا تو اعادہ کیا جائے گا کیونکہ اذان کا تکرار مشروع ہے اور اقامت کا اعادہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ اقامت کا تکرار مشروع نہیں، اور بھی کسی مقام پر تکرار نہیں ہے اقامت کا۔ یہ معنی ہے لِأَنَّ تَكْرَارَ الْأَذَانِ مَشْرُوعٌ دُونَ الْإِقَامَةِ اس لیے کیونکہ اذان کا تکرار تو مشروع ہے دُونَ الْإِقَامَةِ نہ کہ اقامت کا۔
وَقَوْلُهُ إِنْ لَمْ يُعِدْ أَجْزَأَهُ بھئی، یہ جو اسی سے پچھلی سطر میں آیا تھا امام محمد رحمہ اللہ کا قول: وَالْجُنُبُ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُعِيدَ وَإِنْ لَمْ يُعِدْ أَجْزَأَهُ اور اگر وہ اعادہ نہ کرے تو بھی کافی ہے، أَجْزَأَهُ اس کے لیے کافی ہے۔ یہ کافی ہونے سے کیا مراد ہے؟ اذان کافی ہے یا نماز اس کے لیے کافی ہے؟ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ نہیں، مراد کیا ہے؟ نماز کیا ہے اس کے لیے؟ کافی ہے، نماز پھر بھی ٹھیک ہو جائے گی۔ وَقَوْلُهُ إِنْ لَمْ يُعِدْ أَجْزَأَهُ اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول جو ہے إِنْ لَمْ يُعِدْ أَجْزَأَهُ يَعْنِي الصَّلَاةَ مراد کیا ہے اس سے ان کی؟ نماز، اس سے مراد نماز ہے، نماز اس کے لیے کافی ہو جائے گی یعنی نماز صحیح ہو جائے گی۔ کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهَا جَائِزَةٌ بِدُونِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ اس لیے کیونکہ نماز جو ہے وہ تو بغیر اذان اور اقامت کے بھی جائز ہے بھئی۔
قَالَ: وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ تُؤَذِّنُ اور کہتے ہیں: اسی طرح عورت ہے اس حال میں کہ وہ اذان دے، اور اسی طرح ہے وہ عورت تُؤَذِّنُ جو کیا کرے؟ اذان دے۔ یعنی جیسے جنابت والے کے لیے، جس نے جنابت کی حالت میں اذان دی ہے وہاں پر اعادۂ اذان کیا ہے؟ مستحب ہے۔ اسی طرح عورت بھی اگر اذان دے دے تو اعادۂ اذان مستحب ہے۔ یہ معنی ہے مَعْنَاهُ يُسْتَحَبُّ أَنْ يُعَادَ لِيَقَعَ عَلَى وَجْهِ السُّنَّةِ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں معنی یہ ہے اس متن میں جو عبارت آئی کہ مستحب یہ ہے أَنْ يُعَادَ کہ اذان کا اعادہ کیا جائے لِيَقَعَ عَلَى وَجْهِ السُّنَّةِ تاکہ اذان سنت طریقے پر ہو جائے کیونکہ سنت طریقہ کیا ہے اذان کا؟ آدمی، اذان دینے والا مرد ہونا چاہیے، عورت نہیں بھئی، مسنون طریقہ یہ ہے بھئی۔ اور نیز اس لیے کیونکہ عورت کی آواز جو ہے وہ بھی عورت ہے بھئی، عورت کی آواز اس کو بھی چھپانا ضروری، چنانچہ اسی لیے فقہاء لکھتے ہیں: اگر کبھی عورت کو دروازے پر کوئی گھر کے آیا دستک دی، عورت کو پوچھنا پڑ جائے تو اس کو سخت لہجے میں بات کرنی چاہیے بھئی، کس لہجے میں؟ سخت لہجے میں بات کرنی چاہیے تاکہ دوسرا جو شخص ہے اس کے دل میں کوئی برا خیال بھی نہ آئے بھئی، تو عورت کی آواز بھی اس کو بھی چھپانا ضروری ہے بھئی۔
وَلَا يُؤَذِّنُ لِصَلَاةٍ قَبْلَ دُخُولِ وَقْتِهَا وَيُعَادُ فِي الْوَقْتِ بھئی، یہاں سے یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ اذان جب بھی دی جائے گی جس نماز کے لیے بھی اذان دینی ہے جب اس کا وقت شروع ہوگا پھر اذان دی جائے گی۔ وقت سے پہلے اذان دینا جائز نہیں۔ اگر وقت سے پہلے اذان دے دی تو پھر وقت کے اندر اس کا اعادہ کرنا پڑے گا۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فجر میں، فجر کے لیے نصف اخیر شب میں، یعنی آخری نصف حصہ جو ہے، آدھی رات کے بعد فجر کے لیے اذان دی جا سکتی ہے بھئی، فجر کے لیے اذان دی جا سکتی ہے۔ اور وہ دلیل ذکر کرتے ہیں کہ اہل حرمین جو ہیں وہ یعنی اہل حرمین جو ہیں وہ مکہ، مدینہ والے، ان میں بتوارث یہ طریقہ اسی طرح چلا آیا ہے، نسل در نسل اسی طرح نقل ہوتا چلا آیا ہے، وہاں آخری نصف شب کے اندر فجر کی اذان دی جاتی ہے، معلوم ہوا فجر کے اندر وقت سے پہلے بھی اذان دینا جائز ہے بھئی۔
وَلَا يُؤَذِّنُ لِصَلَاةٍ قَبْلَ دُخُولِ وَقْتِهَا وَيُعَادُ فِي الْوَقْتِ اور اذان نہ دے نماز کے لیے اس کا وقت داخل ہونے سے پہلے، اذان نہیں دی جائے گی نماز کے لیے اس کا وقت داخل ہونے سے پہلے، وَيُعَادُ فِي الْوَقْتِ اور اس کو لوٹایا جائے گا وقت میں یعنی اگر پہلے دے دی۔ لِأَنَّ الْأَذَانَ لِلْإِعْلَامِ اس لیے کیونکہ اذان جو ہے وہ اعلان کے لیے ہے، اطلاع دینے کے لیے ہے۔ کس چیز کی اطلاع؟ کہ نماز کا وقت شروع ہو گیا ہے، وَقَبْلَ الْوَقْتِ تَجْهِيلٌ اور وقت سے پہلے تو تجہیل ہے۔ بھئی، اذان تو اس لیے ہوتی ہے تاکہ دوسروں کو بتلا دیا جائے نماز کا وقت شروع ہو گیا ہے اور اگر وقت سے پہلے اذان دے دی جائے تو یہ تو وقت کو اور مجہول بنانا ہوا، تجہیل کا کیا معنی؟ مجہول بنانا۔ دوسرے کو اور جہالت میں ڈال دیا، وہ بیچارہ شک میں پڑ جائے گا کہ شاید نماز کا وقت ہو گیا ہے، حالانکہ وقت تو نہیں ہوا بھئی، تو یہ تو اور تجہیل ہے بھئی۔
وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا: يَجُوزُ لِلْفَجْرِ فِي النِّصْفِ الْأَخِيرِ مِنَ اللَّيْلِ کہ فجر کے لیے رات کے آخری نصف کے اندر بھی اذان جائز ہے، لِتَوَارُثِ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ بوجہ اہل حرمین کے اس پر توارث کے۔ اہل حرمین کیا ہیں؟ ان کا اس پر توارث ہے یعنی اسی طرح اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے، اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے، یہ ہے توارث کہ پہلے سے عمل ہوتا چلا آ رہا ہے۔
وَالْحُجَّةُ عَلَى الْكُلِّ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور حجت ان سب کے خلاف، یعنی امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہ اللہ اور اہل حرمین وغیرہ ان سب کے خلاف دلیل جو ہے قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے لِبِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ جو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا۔ حضور علیہ السلام فرمانے لگے حضرت بلال سے: ”لَا تُؤَذِّنْ حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ الْفَجْرُ هَكَذَا“، وَمَدَّ يَدَهُ عَرْضًا۔ حضرت بلال سے حضور فرمانے لگے: تو اذان نہ دے یہاں تک کہ تیرے لیے ظاہر ہو جائے فجر اس طرح، اور پھر وَمَدَّ يَدَهُ عَرْضًا اور پھر حضور نے لمبا کیا اپنے ہاتھ کو چوڑائی میں۔ ہاتھ کے ذریعے کوئی حضور علیہ السلام نے اشارہ فرمایا کہ فجر کس طرح ہو جائے تمہارے لیے جب تک؟ یوں چوڑائی کے اندر جب تک ظاہر نہ ہو۔ میں نے بتلایا تھا ایک فجر کاذب ہے، وہ چوڑائی میں نہیں پھیلی ہوتی افق پر بلکہ ستون کی صورت میں اوپر کی طرف لمبائی کے رخ جا رہی ہوتی ہے، جبکہ فجر صادق میں روشنی کیا ہوتی ہے؟ پورے افق پر جو کنارہ ہوتا ہے آسمان کا، اس پر پورے پر پھیلتی چلی جاتی ہے۔ تو حضور علیہ السلام نے حضرت بلال سے فرمایا کہ تم اذان نہ دو جب تک تمہارے لیے اس طرح فجر ظاہر نہ ہو جائے اس طرح اور وہ اس طرح کہتے ہوئے آپ نے حضور علیہ السلام نے ہاتھ کو چوڑائی میں پھیلایا بھی، چوڑائی کا اشارہ بھی کر دیا کہ جب تک چوڑائی میں فجر ظاہر نہ ہو جائے اس وقت تک اذان نہ دو، نہ دو۔ تو معلوم ہوا دیکھو، حضور علیہ السلام منع فرما رہے ہیں حضرت بلال کو اس سے، معلوم ہوا پہلے اذان دینا جائز نہیں۔
وَالْمُسَافِرُ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِابْنَيْ أَبِي مُلَيْكَةَ: ”إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا“ اور مسافر اذان بھی دے اور اقامت بھی کہے بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے جو آپ نے فرمایا لِابْنَيْ أَبِي مُلَيْكَةَ ابی ملیکہ کے دو بیٹوں سے بھئی، ابی ملیکہ کے دو بیٹوں سے حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”إِذَا سَافَرْتُمَا“ جب تم دونوں سفر کرو ”فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا“ تو اذان بھی تم دونوں کہو ”وَأَقِيمَا“ اور اقامت بھی تم کہو، اذان بھی کہو اور اقامت بھی کہو۔ تو صاحبِ ہدایہ نے یہاں ذکر کیا ابی ملیکہ کے دو بیٹوں کا بھئی، دو بیٹوں کا، جبکہ محشی حضرات لکھتے ہیں کہ یہ جن سے فرمایا حضور علیہ السلام نے وہ ابی... وہ جو ہے مالک ابن حویرث اور ان کے چچا زاد بھئی تھے، ان سے فرمایا بھئی، ان سے فرمایا۔
فَإِنْ تَرَكَهُمَا جَمِيعًا يُكْرَهُ اور اگر ان دونوں کو چھوڑ دیا تو يُكْرَهُ مکروہ ہے۔ مسافر ہے، جنگل میں ہے، نماز کا وقت ہے، اذان بھی دے، اقامت بھی کہے اور اگر دونوں کو چھوڑ دیا تو مکروہ ہے۔ وَلَوِ اكْتَفَى بِالْإِقَامَةِ جَازَ اور اگر صرف اقامت پر اکتفا کر لیا تو بھی جائز ہے لِأَنَّ الْأَذَانَ لِاسْتِحْضَارِ الْغَائِبِينَ اس لیے کیونکہ اذان جو ہوتی ہے وہ غائب لوگوں کو حاضر کرنے کے لیے ہوتی ہے وَالرُّفَقَةُ حَاضِرُونَ اور حال یہ ہے کہ سارے ساتھی یہاں پر حاضر ہیں، تو لہٰذا اذان کی کوئی ضروری نہیں۔ وَالْإِقَامَةُ لِإِعْلَامِ الِافْتِتَاحِ اور اقامت جو ہے وہ تو نماز کے آغاز کا اعلان کرنے کے لیے ہے وَهُمْ إِلَيْهِ مُحْتَاجُونَ اور اس کے وہ محتاج ہیں۔ اقامت کے ذریعے تو کیا ہوتا ہے؟ کہ نماز شروع ہو رہی ہے اس کا اعلان کیا جاتا ہے، اس کے یہ محتاج ہیں کیونکہ نماز شروع ہونے لگی ہے سب ساتھیوں کو پتہ لگ جائے کہ سمجھ میں آیا؟ ہاں، اذان ضروری نہیں بھئی، تو صرف اقامت پر اکتفا کر لے تو بھی کافی ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اذان بھی دیں اور اقامت بھی کہیں۔
فَإِنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ فِي الْمِصْرِ يُصَلِّي بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ اگر نماز پڑھی اپنے گھر میں فِي الْمِصْرِ شہر کے اندر، يُصَلِّي بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ تو نماز پڑھے اذان اور اقامت کے ساتھ۔ گھر میں نماز پڑھ رہا ہے تو کس کے ساتھ نماز پڑھے؟ اذان اور اقامت، اذان بھی دے اور اقامت بھی کہے لِيَكُونَ الْأَدَاءُ عَلَى هَيْئَةِ الْجَمَاعَةِ تاکہ ادا کس شکل پر ہو جائے؟ جماعت کی صورت پر ہو جائے، وَإِنْ تَرَكَهُمَا جَازَ اور اگر ان دونوں کو چھوڑ دیا تو بھی جائز ہے، یعنی شہر کے اندر اذان اور اقامت دونوں کو چھوڑ دیتا ہے، گھر میں نماز ادا کرتا ہے، وہ یہ بھی جائز ہے لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے، وہ فرماتے ہیں: ”أَذَانُ الْحَيِّ يَكْفِينَا“ کہ محلے کی اذان جو ہے ہمارے لیے کافی ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ایک مرتبہ کسی موقع پر گھر پر نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا اور ایک دو ساتھی جن کو نماز پڑھائی، تو بعض نے کہا کہ اذان اور اقامت نہیں ہوگی اذان، تو فرمانے لگے کہ محلے کی اذان ہمارے لیے کافی ہے بھئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پھر اس صورت میں معلوم ہوا اذان ضروری نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
اذان میں یاد رکھیے، اذان کے لیے بہتر یہ ہے کہ مسجد سے باہر ہو، اذان میں بہتر یہ ہے۔ ہاں، مسجد کے اندر بھی اذان دے دے تو اذان ہو جائے گی بھئی اور کراہت بھی نہیں ہے کیونکہ اذان ذکر اللہ ہے بھئی اور مسجد تو بنی ہی ذکر اللہ کے لیے ہے، وہاں کیسے اس کو مکروہ کہا جا سکتا ہے؟ ہاں، البتہ طریقہ کیا ہے؟ کہ اذان مسجد سے باہر دی جاتی ہے بھئی۔
بھئی دیکھیے، انہوں نے کہا جنبی مسجد میں اس کا تو داخل ہونا ہی جائز نہیں تو وہ کیسے اقامت کہے گا؟ یہ ایک فرضی ایک مسئلہ اگر پیش آ جائے وہ ذکر کر دیا آپ کے سامنے، تو لہٰذا اگر وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے تو یہ تو درست نہیں ہے بھئی، اور صورت آپ بنا لیں، صورت بنانا کیا مشکل ہے؟ ایک مسجد ہے۔ بھئی، اقامت کہنے والے کا امام کے پیچھے کھڑے ہونا تو ضروری نہیں ہے، چاہے وہ دوسری صف میں ہو چاہے تیسری صف میں ہو، اقامت کہہ سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ معنی نہیں ہے کہ اقامت والا امام کے پیچھے ہی کھڑا ہوگا۔ تو جو جنبی تھا مثلاً وہ اقامت اس نے صف کے آخری کنارے میں کھڑے ہو کر کہہ دی جو مسجد سے باہر تھا حصہ، ہاں، تو وہ مسجد سے باہر کھڑا ہو کر اس نے کیا کیا اقامت کہی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ صورت بنا لیں۔