Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-053

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَمَنْ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي الأُولَيَيْنِ السُّورَةَ وَلَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ لَمْ يُعِدْ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَإِنْ قَرَأَ الْفَاتِحَةَ وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا قَرَأَ فِي الأُخْرَيَيْنِ الْفَاتِحَةَ وَالسُّورَةَ وَجَهَرَ. وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَقْضِي وَاحِدَةً مِنْهُمَا؛ لِأَنَّ الْوَاجِبَ إِذَا فَاتَ عَنْ وَقْتِهِ لَا يُقْضَى إِلَّا بِدَلِيلٍ. صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے عشاء کی نماز ادا کی اور پہلی دو رکعتوں کے اندر سورت پڑھی اور سورۂ فاتحہ بھول گیا۔ صرف کیا پڑھ لی؟ سورت پڑھ لی اور سورۂ فاتحہ بھول گیا۔ اب سورۂ فاتحہ کا پڑھنا تو واجب ہے، تو کیا اس کی قضا کرے گا اگلی دو رکعتوں میں یا قضا نہیں کرے گا؟ تو بتلا رہے ہیں کہ اس صورت میں سورۂ فاتحہ کی قضا نہیں کرے گا بھئی۔ صورت کیا تھی؟ سورۂ فاتحہ کو بھول گیا تھا اور سورت پڑھ لی تھی۔ تو بعد کی دو رکعتوں میں اس واجب سورۂ فاتحہ کی قضا نہیں کرے گا۔ دوسری صورت کہ پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ تو پڑھ لی اور سورت بھول گیا، تو کیا اگلی دو رکعتوں میں سورت کی قضا کرے گا یا نہیں کرے گا بھئی؟ تو اس کے بارے میں آپ کو بتلائیں گے کہ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اگلی دو رکعتوں میں اس کی قضا کرے گا۔ کیا کرے گا؟ اگلی دو رکعتوں میں قضا کرے گا۔ یعنی اگلی دو رکعتوں میں فاتحہ بھی پڑھے گا اور ساتھ ساتھ سورت بھی پڑھے گا، اس کی قضا کرے گا بھئی، قضا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی۔ کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي الأُولَيَيْنِ السُّورَةَ وَلَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“، اور جس شخص نے پڑھا عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں سورت کو اور سورۂ فاتحہ نہ پڑھی، ”لَمْ يُعِدْ فِي الأُخْرَيَيْنِ“، تو اعادہ نہیں کرے گا اس کا آخری دو رکعتوں میں، یعنی اس کی قضا نہیں کرے گا۔ ”وَإِنْ قَرَأَ الْفَاتِحَةَ“، اور اگر پہلی دو میں فاتحہ پڑھی، ”وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا“، اور اس پر زیادتی نہیں کی یعنی سورت نہیں ملائی اس کے ساتھ، ”قَرَأَ فِي الأُخْرَيَيْنِ الْفَاتِحَةَ وَالسُّورَةَ“، تو پڑھے گا آخری دو رکعتوں میں فاتحہ بھی اور سورت بھی، یعنی اس میں اس کی قضا کرے گا۔ ”وَجَهَرَ“، اور کیا کرے گا؟ جہر کرے گا۔ ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ“، یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا يَقْضِي وَاحِدَةً مِنْهُمَا“، ان میں سے کسی ایک کی بھی قضا نہیں کرے گا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں چاہے پہلی دو میں فاتحہ بھول گیا تو بھی ان کی قضا نہیں، چاہے پہلی دو رکعتوں میں سورت کا پڑھنا بھول گیا تو بھی آخری دو میں اس کی قضا نہیں۔ وہ وجہ دلیل کیا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ إِذَا فَاتَ عَنْ وَقْتِهِ“، اس لیے کیونکہ واجب جب وہ فوت ہو جائے اپنے وقت سے، یعنی جب وہ رہ جائے اپنے وقت سے، بھئی سورۂ فاتحہ کا پڑھنا کیا تھا؟ واجب۔ اسی طرح اس کے ساتھ کسی سورت کا ملانا بھی کیا تھا؟ واجب۔ تو واجب فوت ہوا ہے، اور واجب جب اپنے وقت سے رہ جائے، فوت ہو جائے، تو ”لَا يُقْضَى إِلَّا بِدَلِيلٍ“، اس کی قضا نہیں کی جاتی مگر کسی دلیل کی وجہ سے، کسی دلیل۔ تو وہ فرماتے ہیں یہاں واجب رہ گیا ہے، واجب چھوٹ گیا ہے، اور واجب جب اپنے وقت سے رہ جائے، دیکھیے بھئی سورۂ فاتحہ پہلی دو رکعتوں میں پڑھنا واجب تھا، اسی طرح سورت کا ساتھ ملانا کس میں واجب تھا؟ پہلی دو رکعتوں میں ساتھ ملانا واجب تھا، تو اب بعد میں کیا کرے گا؟ آخری دو رکعتوں میں اگر ان کو پڑھتا ہے تو یہ تو اس کا وقت نہیں، وقت تو ان کا کہاں تھا؟ پہلی دو رکعتوں میں۔ تو واجب جب اپنے وقت سے رہ جائے تو اس کی قضا نہیں کی جاتی مگر یہ کہ کوئی دلیل موجود ہو، دلیل بھئی، اور یہاں کوئی دلیل نہیں ہے۔ ”وَلَهُمَا“، اور طرفین کی دلیل یہ ہے، ”وَهُوَ الْفَرْقُ بَيْنَ الْوَجْهَيْنِ“، اور وہی فرق بھی ہے دونوں وجہوں میں، دونوں صورتوں میں۔ بھئی طرفین رحمہما اللہ کیا فرماتے تھے؟ اگر فاتحہ بھول گیا تھا تو اس کی قضا نہیں، اس کا اعادہ نہیں کرے گا اگلی دو رکعتوں میں۔ سورت بھول گیا ہے تو اگلی دو رکعتوں میں کیا کرے گا؟ اس کا اعادہ کرے گا۔ دونوں میں انہوں نے فرق کیا۔ تو اب آگے طرفین کی دلیل بھی ذکر ہوگی اور اسی میں دونوں صورتوں کا فرق بھی ذکر ہو جائے گا کہ یہ کیوں فرق کیا آپ نے ان دونوں میں؟ فرق کیا ہے کہ ایک صورت میں آپ اعادے کا حکم دے رہے ہیں، ایک صورت میں آپ اعادے کا حکم نہیں دے رہے؟ وہ بھی اسی میں آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا“، اور طرفین کی دلیل جو ہے، ”وَهُوَ الْفَرْقُ بَيْنَ الْوَجْهَيْنِ“، اور وہی فرق بھی ہے دونوں صورتوں میں، وہ یہ ہے کہ: ”أَنَّ قِرَاءَةَ الْفَاتِحَةِ شُرِعَتْ عَلَى وَجْهٍ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهَا السُّورَةُ“، کہ سورۂ فاتحہ کا پڑھنا مشروع ہوا ہے ”عَلَى وَجْهٍ“، ایسے طریقے پر ”يَتَرَتَّبُ عَلَيْهَا السُّورَةُ“، کہ اس پر سورت مرتب ہوتی ہے۔ سورۂ فاتحہ کا پڑھنا مشروع ہوا ہے، شریعت نے کیا حکم دیا ہے نماز میں؟ سورۂ فاتحہ کے پڑھنے کا، لیکن کس طریقے پر؟ کہ اس فاتحہ پر سورت مرتب ہوگی۔ بھئی پہلی دو رکعتوں میں کیا پڑھنے کا حکم دیا شریعت نے؟ واجب ہے واجب، کیا پڑھنے کا حکم دیا؟ سورۂ فاتحہ کا پڑھنا واجب، تو سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا لیکن کس طریقے پر؟ کہ اس پر سورت مرتب ہوگی یعنی فاتحہ کے بعد سورت آئے گی۔ فاتحہ کے بعد۔ تو شریعت نے ایسے طریقے پر فاتحہ کے پڑھنے کا حکم دیا تھا کہ اس پر آگے سورت مرتب ہوتی ہے یعنی اس کے بعد آتی ہے۔ اب اگر کیا رہ گیا؟ سورۂ فاتحہ رہ گئی، تو اگر یہ حکم دیا جائے کہ آخری دو رکعتوں میں اس سورۂ فاتحہ کی قضا کر لے تو معاملہ برعکس ہو جائے گا۔ ہونا کس کو پہلے چاہیے تھا؟ سورۂ فاتحہ کو، لیکن پہلی دو میں کیا آئی ہے؟ صرف سورت آئی ہے، اور فاتحہ آئی ہے اگلی رکعتوں میں، تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ ہاں یعنی سورت پر فاتحہ مرتب ہو جائے گی حالانکہ ہونا کیا چاہیے تھا؟ فاتحہ پر سورت کو مرتب ہونا چاہیے تھا یعنی فاتحہ کے بعد سورت کو آنا چاہیے تھا، لیکن اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی؟ سورت پر فاتحہ مرتب ہوگی یعنی سورت کے بعد فاتحہ آئے گی کیونکہ سورت تو پہلی دو رکعتوں میں آ چکی اور فاتحہ تیسری چوتھی رکعت میں آئے گی، تو فاتحہ بعد میں ہو گئی، یعنی فاتحہ مرتب ہو جائے گی کس پر؟ سورت پر، اور یہ وضعِ شریعت کے خلاف ہے۔ شریعت نے تو اس کو کس طرح مقرر کیا تھا؟ فاتحہ پہلے ہونی چاہیے تھی اور سورت بعد میں۔ اور اب اگر فاتحہ کی قضا کا حکم دیا جائے تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ سورت پہلے ہو جائے گی اور فاتحہ بعد میں، تو یہ شریعت کے وضع کے خلاف ہو جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ تو دیکھیے کہتے ہیں: ”أَنَّ قِرَاءَةَ الْفَاتِحَةِ شُرِعَتْ عَلَى وَجْهٍ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهَا السُّورَةُ“، کہ سورۂ فاتحہ کا پڑھنا مشروع ہوا ہے ایسے طریقے پر کہ مرتب ہوتی ہے اس فاتحہ پر سورت، ”فَلَوْ قَضَاهَا فِي الأُخْرَيَيْنِ“، اگر فاتحہ کی قضا کرے آخری دو رکعتوں میں، ”تَتَرَتَّبُ الْفَاتِحَةُ عَلَى السُّورَةِ“، تو سورۂ فاتحہ کس پر مرتب ہو جائے گی؟ سورت پر، کیونکہ سورت تو کہاں آئی ہے؟ پہلی دو میں، اور فاتحہ کہاں آ رہی ہے؟ آخری دو میں، تو یہ تو ترتیب الٹ جائے گی، ”وَهَذَا خِلَافُ الْمَوْضُوعِ“، اور یہ تو موضوع کے خلاف، یعنی موضوعِ فاتحہ کے خلاف ہے بھئی یعنی اس کی وضع کے خلاف، اس طرح اس کو مقرر نہیں کیا گیا بھئی۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا“، جی، دوسری صورت کیا تھی؟ فاتحہ کو پڑھ لیا تھا اور سورت بھول گیا تھا، سورت بھول گیا، تو اگلی دو رکعتوں میں سورت کی قضا کرے گا، کیا کرے گا؟ سورت کی قضا کرے گا۔ اب سورت کی جب قضا کرے گا تو کون مقدم؟ پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ ہے اور آخری دو میں کیا اس پر مرتب ہوئی؟ سورت، تو ترتیب میں تو کوئی خرابی نہ آئی، پہلے بھی ترتیب شریعت نے بھی کیا ترتیب بتلائی تھی؟ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنا، اور اس صورت میں بھی کیا ترتیب کیا رہتی ہے؟ فاتحہ پہلی دو میں ہے تو سورت آخری دو میں ہے، تو ترتیب پھر بھی وہی رہی، لہٰذا اس صورت میں چونکہ وضع کے خلاف نہیں، شریعت کے مقرر کیے ہوئے طریقے کے خلاف نہیں ہو رہا، اس لیے ہم نے کہا سورت کا اعادہ کرے، کیونکہ ترتیب میں خرابی پھر بھی نہیں آتی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا تَرَكَ السُّورَةَ“، بخلاف اس کے کہ جب سورت کو چھوڑ دیا، ”لِأَنَّهُ أَمْكَنَ قَضَاؤُهَا عَلَى الْوَجْهِ الْمَشْرُوعِ“، اس لیے کیونکہ ممکن ہے قضا کرنا اس سورت کی ”عَلَى الْوَجْهِ الْمَشْرُوعِ“، کس طریقے پر؟ مشروع طریقے پر، یعنی جس طرح شریعت نے بتلایا ہے۔ ”ثُمَّ ذَكَرَ هُنَا مَا يَدُلُّ عَلَى الْوُجُوبِ وَفِي الأَصْلِ بِلَفْظِ الِاسْتِحْبَابِ“. اچھا یہاں پر یاد رکھیے یہ جو متن آیا، متن، یہ جامع صغیر کی عبارت ہے۔ کس کی عبارت ہے؟ جامع صغیر کی۔ آپ نے پڑھا تھا، شروع میں صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ متن میں نے کس سے ترتیب دیا ہے؟ قدوری اور جامع صغیر سے، ان دونوں کو ملا کر ان سے میں نے ایک جامع متن مرتب کیا بھئی۔ تو قدوری کے اندر تو یہ عبارت نہیں ہے، معلوم ہوا کس کی عبارت ہے؟ جامع صغیر کی۔ اور اس میں متن میں کیا آیا دوسری صورت جو تھی: ”وَإِنْ قَرَأَ الْفَاتِحَةَ وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا“، پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ پڑھی ہے اور اس پر زیادتی نہیں کی یعنی سورت ساتھ نہیں ملائی، ”قَرَأَ فِي الأُخْرَيَيْنِ“، تو کیا کرے گا؟ آخری دو میں سورت پڑھے گا۔ حکم دیا جا رہا ہے باقاعدہ، معلوم ہوا سورت کا آخری دو میں پڑھنا واجب ہے۔ اس صورت میں سورت کا آخری دو رکعتوں میں پڑھنا واجب ہے۔ تو اس متن میں جو آیا، یا یوں کہیں جامع صغیر کے اندر جو آیا، اس سے پتہ چل رہا تھا آخری دو رکعتوں میں سورت کی قضا واجب ہوگی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کی دوسری کتاب جو ہے ”مَبْسُوطْ“ بھئی، مبسوط، اس میں اس سے پتہ چلتا ہے کہ سورت کا پڑھنا مستحب ہے۔ اس کی قضا کیا کرنا؟ قضا کرنا آخری دو رکعتوں میں مستحب ہے۔ تو یہاں جو جامع صغیر کی عبارت آئی، اس سے پتہ چلا کہ سورت کی قضا آخری دو رکعتوں میں کرنا واجب، اور مبسوط کی عبارت سے کیا پتہ چلا کہ سورت کی قضا کرنا آخری دو رکعتوں میں مستحب ہے، وہ ذکر کر رہے ہیں: کہتے ہیں: ”ثُمَّ ذَكَرَ هُنَا مَا يَدُلُّ عَلَى الْوُجُوبِ“، پھر جو یہاں پر ذکر کیا یعنی جامع صغیر میں امام محمد رحمہ اللہ نے، ما اس چیز کو، ”يَدُلُّ عَلَى الْوُجُوبِ“، جو کس پر دلالت کر رہی ہے؟ وجوب پر، کون سا لفظ وجوب پر دلالت کر رہا ہے؟ ”قَرَأَ فِي الأُخْرَيَيْنِ“، جو ”قَرَأَ“ کہا بھئی، ”وَفِي الأَصْلِ“، اور اصل کے اندر، اصل سے کیا مراد ہے؟ مبسوط، مبسوط کے اندر ”بِلَفْظِ الِاسْتِحْبَابِ“، وہ کس لفظ کے ساتھ ذکر ہے؟ استحباب کے لفظ کے ساتھ ذکر ہے۔ کہ مستحب ہے اس کا اعادہ کر لے آخری دو رکعتوں میں۔ اچھا بھئی، مستحب ہونے کی کیا دلیل ہے؟ وہ بھی اب ساتھ ذکر کر رہے ہیں کہ وہاں امام محمد رحمہ اللہ نے مستحب کیوں قرار دیا ہے؟ دلیل ذکر کر رہے ہیں: کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا إِنْ كَانَتْ مُؤَخَّرَةً فَغَيْرُ مَوْصُولَةٍ بِالْفَاتِحَةِ“، اس لیے کیونکہ اگر سورت مؤخر ہو، اگرچہ سورت کیا ہے؟ بھئی دیکھیے ادھر توجہ کیجیے، پہلی دو رکعتوں میں سورت پڑھنا بھول گیا تھا، اگلی دو رکعتوں میں سورت کا پڑھنا، بھئی متن میں تو آیا واجب ہے، لیکن بات اس وقت ہم مبسوط میں جو مستحب آیا نا اس کی بات کر رہے ہیں، تو دوسرا قول کیا آیا مبسوط میں امام محمد رحمہ اللہ کے؟ اس سورت کا اعادہ کرنا مستحب ہے۔ اس مستحب ہونے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے مستحب کیوں قرار دیا ہے وہاں پر؟ اس کی بھی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ مستحب بھی دلیل کی وجہ سے قرار دیا، بغیر دلیل کے نہیں۔ تو اس کی کیا دلیل ہے کہ مستحب ہے؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے، اگرچہ بعد والی دو رکعتوں میں سورت جب پڑھے گا بعد والی دو رکعتوں میں، تو اس میں بھی سورت پڑھنے سے پہلے فاتحہ پڑھنا پڑے گی۔ کیا پڑھنا پڑے گی؟ فاتحہ۔ تو آخری دو رکعتوں میں فاتحہ بھی آ جائے گی اور سورت بھی آ جائے گی، اور یہ سورت کے لیے فاتحہ کو پڑھنا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ سورت ہم نے ملانی ہے ساتھ، تو اکیلی سورت تو نہیں پڑھے گا بلکہ پہلے کیا پڑھے گا اس سے؟ سورۂ فاتحہ پڑھے گا۔ تو اب یہ سورت یہ اس پہلی رکعت والی فاتحہ کے بعد ہے۔ اس سورت کا مقام تو کہاں پر تھا؟ پہلی رکعتوں میں جو فاتحہ تھی انہی کے بعد تھا، اور ہم اس کو کہاں پڑھ رہے ہیں؟ آخری میں۔ تو ترتیب تو اگرچہ وہی ہے، پہلی رکعتوں والی فاتحہ پہلے اور یہ سورت ان کے بعد ہے، لیکن درمیان میں اگلی رکعتوں، تیسری اور چوتھی رکعت والی فاتحہ آ گئی یا نہیں آ گئی؟ آ گئی۔ تو پہلی رکعتوں کی فاتحہ اور سورت کے درمیان فصل آ گیا، کس چیز کا؟ سورۂ فاتحہ کا، کون سی سورۂ فاتحہ کا؟ تیسری اور چوتھی رکعت والی۔ تو لہٰذا اگرچہ ترتیب تو پھر بھی وہی رہی لیکن پورے طریقے پر وہ ترتیب رہی؟ پورے طریقے پر ترتیب نہ رہی، پوری ترتیب اور پورا طریقہ تو کیا تھا؟ کہ پہلی رکعت میں ہی فاتحہ کے بعد کیا آنا چاہیے تھا؟ سورت کو آنا چاہیے تھا، تو اب بھی اگرچہ سورت بعد ہی میں ہے لیکن درمیان میں کیا آ گئی؟ تیسری اور چوتھی رکعت والی فاتحہ آ گئی تو فصل آ گیا، تو پورے طور پر اس کی رعایت نہیں ہو سکتی، اس لیے پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مستحب ہے۔ یہ مبسوط کے قول کی تفصیل بیان کی، اس کی دلیل ذکر کر دی، ورنہ اصل وہی ہے جو متن کے اندر آیا، کیا کرنا پڑے گی؟ سورت کی قضا کرنا واجب ہوگا اگلی دو رکعتوں میں۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الأَصْلِ بِلَفْظِ الِاسْتِحْبَابِ“، اور اصل یعنی مبسوط کے اندر استحباب کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا، اور اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا إِنْ كَانَتْ مُؤَخَّرَةً“، اس لیے کیونکہ اگر سورت جو ہے وہ مؤخر ہو، ”فَغَيْرُ مَوْصُولَةٍ بِالْفَاتِحَةِ“، تو وہ فاتحہ کے ساتھ ملی ہوئی نہیں ہے، کون سی فاتحہ کے ساتھ نہیں ملی ہوئی؟ پہلی اور دوسری رکعت والی، تیسری اور چوتھی والی کے ساتھ تو ملی ہوئی ہے لیکن پہلی اور دوسری رکعت والی فاتحہ کے ساتھ یہ سورت اب نہیں ملی، ”فَلَمْ يُمْكِنْ مُرَاعَاةُ مَوْضُوعِهَا مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“، لہٰذا اس سورت کے موضوع کی پوری رعایت کی رعایت رکھنا ”مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“، ہر اعتبار سے، یہ ممکن نہیں۔ ”فَلَمْ يُمْكِنْ“، پس ممکن نہیں ہے، ”مُرَاعَاةُ مَوْضُوعِهَا“، اس سورت کے وضع کی رعایت رکھنا، ”مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“، ہر اعتبار سے۔ تو پورے طور پر تو رعایت نہ رکھ سکے، پورے طور پر رعایت چونکہ نہیں رکھی جا سکتی اس لیے واجب نہیں بلکہ کیا ہے؟ مستحب ہے۔ ”وَيَجْهَرُ بِهِمَا“، اور دونوں کے ساتھ جہر کرے گا یعنی پھر دونوں اونچی آواز سے پڑھے گا۔ سورت رہ گئی ہے اور اس کو اب کہاں پڑھنا ہے؟ آخری دو رکعتوں میں پڑھنا ہے، تو وہاں جب سورت پڑھے گا تو اس سے پہلے کیا پڑھنا پڑے گا؟ فاتحہ کو بھی پڑھیں گے وہاں پر، اور دونوں میں جہر کریں گے، کیا کریں گے؟ جہر، یعنی فاتحہ بھی اونچی آواز سے اور سورت بھی اونچی آواز سے۔ دیکھیے بھئی یہاں پر دو صورتیں تھیں، یا تو دونوں کو ہی آہستہ پڑھا جائے یا دونوں کو ہی کیا کیا جائے؟ اونچی آواز سے پڑھا جائے۔ بھئی جہر تو کون سی دو رکعتوں میں ہے؟ پہلی دو میں ہے، آخری دو میں تو جہر نہیں، آخری دو میں تو فاتحہ کا پڑھنا بھی ضروری نہیں، ہاں فاتحہ کا پڑھنا صرف صرف فاتحہ کا پڑھنا آخری دو رکعتوں میں افضل ہے، ورنہ چاہے انسان خاموش کھڑا رہے تو بھی نماز ہو جائے گی، یا تسبیحات پڑھ لے، تین تسبیحات کم از کم پڑھ لے، تو بھی نماز صحیح ہے، لیکن افضل صورت کیا ہے؟ آخری دو میں بھی کیا کرے انسان؟ سورۂ فاتحہ پڑھے۔ اب اس کے ساتھ سورت ملانی ہے کیونکہ وہ سورت پہلی دو میں رہ چکی ہے، اب سورت تو پہلی دو میں پڑھنا کس طرح تھا؟ جہراً، اور یہ جو فاتحہ ہے اس رکعت کی اس کو کس طرح پڑھا جاتا ہے؟ سراً، آہستہ آواز سے، تو ایک صورت یہ تھی کہ سورت کو فاتحہ کے تابع کر دیں، اور فاتحہ ہے آہستہ آواز سے آخری دو رکعتوں میں تو سورت کو بھی کیسے پڑھ لیا جائے؟ آہستہ آواز سے۔ دوسری صورت یہ ہے: فاتحہ کو تابع کر دیں سورت کے، سورت کو تو پڑھنا تھا اونچی آواز سے، تو آخری دو رکعتوں میں فاتحہ کو بھی کیا کر لے؟ اونچی آواز سے پڑھ لے، تو کون سی صورت اختیار کی جائے گی؟ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: ”وَيَجْهَرُ بِهِمَا“، دونوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ جہر کرے گا، دونوں اونچی آواز سے پڑھے، ”هُوَ الصَّحِيحُ“، یہی قول صحیح ہے۔ کیوں؟ اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ شَنِيعٌ“، اس لیے کیونکہ جمع کرنا جہر کو ”وَالْمُخَافَتَةِ“ اور آہستہ پڑھنے کو، یعنی اونچی آواز سے پڑھنے کو اور آہستہ آواز سے پڑھنے کو جمع کرنا ”فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ“، ایک ہی رکعت میں، ”شَنِيعٌ“، یہ برا ہے۔ بھئی اگر سورۂ فاتحہ کو آخری دو میں کس طرح پڑھا جاتا ہے؟ آہستہ، اور سورت کو پہلی رکعتوں میں کیسے پڑھتے تھے؟ اونچی آواز سے، تو آخری دو میں بھی کیا کیا جائے؟ اونچی آواز۔ تو اگر فاتحہ کو آہستہ ہی پڑھا جائے اور سورت کو اونچا پڑھا جائے تو ایک ہی رکعت میں اونچا اور آہستہ پڑھنا دونوں جمع ہو جائیں گے، اور یہ کیا ہے؟ برا ہے۔ تو لہٰذا اب ایک صورت اختیار کی جائے گی، یا دونوں میں جہر کر لیا جائے یا دونوں میں اخفا کر لیا جائے، کہتے ہیں اگر آپ دونوں میں اخفا کرتے ہیں تو آپ نے کس کو کس کے تابع کر دیا؟ سورت کو تابع کر دیا فاتحہ کے، اور فاتحہ ان دو رکعتوں میں فاتحہ کا پڑھنا یعنی آخری دو رکعتوں میں، فاتحہ کا پڑھنا واجب تھا یا نفل ہے؟ نفل ہے زائد ہے یعنی واجب نہیں، تو آخری دو رکعتوں میں فاتحہ کا پڑھنا کیا ہے؟ نفل، اور سورت کا پڑھنا جس کی قضا کر رہے ہیں وہ؟ واجب ہوا، تو اگر آپ سورت کو بھی آہستہ کر دیں گے، آہستہ پڑھیں گے، تو آپ نے سورت کو فاتحہ کے تابع کر دیا، اور سورت تھی واجب اور فاتحہ تھی نفل، تو آپ نے واجب کو نفل کے تابع کر دیا، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ آپ نے اقویٰ کو ادنیٰ کے تابع کر دیا، اقویٰ کو کس کے؟ ادنیٰ کے تابع کر دیا۔ لیکن اس کے بجائے اگر دونوں کو جہراً پڑھا جائے تو اس صورت میں آپ نے فاتحہ کو کس کے تابع کر دیا؟ سورت کے، اور سورت کا پڑھنا اقویٰ اور فاتحہ کا پڑھنا ادنیٰ، تو ادنیٰ کو کس کے تابع کرنا پڑے گا؟ اقویٰ کے، اور کون سی صورت اولیٰ ہے؟ اقویٰ کو ادنیٰ کے تابع کریں یا ادنیٰ کو اقویٰ کے تابع کریں؟ ادنیٰ کو اقویٰ کے تابع ہونا چاہیے، لہٰذا فاتحہ کو بھی سورت کے تابع کرتے ہوئے کیا کیا جائے گا؟ اونچا پڑھا جائے گا، اس لیے کہا ”هُوَ الصَّحِيحُ“، یہی قول صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جمع کرنا جہر اور مخافتت کو ایک ہی رکعت میں شنیع یہ برا ہے، ”وَتَغَيُّرُ النَّفْلِ“، اور نفل کو بدلنا، ”وَتَغَيُّرُ النَّفْلِ“، اور نفل کو بدلنا، بھئی نفل کیا ہے؟ ”وَهُوَ الْفَاتِحَةُ“، اور وہ فاتحہ ہے، ”أَوْلَى“، یہ نفل کو بدلنا اولیٰ ہے کہ اس صورت میں نفل بدلے گا، اور اگر اخفا کریں گے تو اس صورت میں واجب بدلے گا، اور نفل کو بدلنا اولیٰ ہے۔ آگے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ جہر کسے کہتے ہیں اور مخافتت کسے کہتے ہیں؟ اونچی آواز سے پڑھنا کسے کہیں گے یہ اونچی آواز سے پڑھنا ہے اور کسے کہیں گے یہ مخافتت ہے، آہستہ آواز سے پڑھنا ہے؟ تو دو قول ذکر کریں گے، دو قول بھئی۔ فقیہ ابو جعفر ہندوانی رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ جہر جو ہے، جہر تو یہ ہے دوسرا سنے، دوسرا سنے آپ کی قرات، اس کو کیا کہیں گے؟ جہر۔ اور اخفا یہ ہے کہ کم از کم خود سنے انسان، اپنے کانوں تک آواز پہنچے، یہ ہے مخافتت۔ مخافتت کیا ہے؟ آہستہ آواز سے پڑھنا کیا ہے؟ کم از کم اپنے کانوں تک آواز پہنچے۔ جبکہ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہر کی ادنیٰ سے ادنیٰ مقدار یہ ہے کہ خود سنے انسان، خود کیا کرے؟ سنے انسان، اور مخافتت وہ یہ ہے ادنیٰ مقدار مخافتت کی، کہ زبان سے الفاظ صحیح ادا ہوں چاہے اپنے کانوں تک بھی آواز نہ پہنچے۔ امام کرخی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ بس مخافتت کی بات کریں بہرحال، جہر آ جائے گا بیچ میں لیکن اصل بحث ہے مخافتت میں، مخافتت کیا ہے؟ ادنیٰ مقدار، امام ابو جعفر رحمہ اللہ کے نزدیک کہ پڑھنے والے کے اپنے کانوں تک آواز پہنچے، اور امام کرخی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ زبان سے صحیح الفاظ ادا ہوں چاہے اپنے کانوں تک بھی آواز نہ پہنچے تو بھی یہ مخافتت صحیح ہے، جبکہ فقیہ ابو جعفر رحمہ اللہ کے نزدیک یہ درست نہیں، کم از کم اپنے کانوں تک آواز ضرور پہنچنی چاہیے انسان کی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الْمُخَافَتَةُ أَنْ يُسْمِعَ نَفْسَهُ“، پھر مخافتت جو ہے وہ یہ ہے کہ ”أَنْ يُسْمِعَ نَفْسَهُ“، کہ اپنے آپ کو سنائے بھئی یعنی خود کانوں تک آواز جائے، ”وَالْجَهْرُ أَنْ يُسْمِعَ غَيْرَهُ“، اور جہر کسے کہتے ہیں؟ کہ اپنے علاوہ کو سنائے یعنی اس تک آواز پہنچے، ”وَهَذَا عِنْدَ الْفَقِيهِ أَبِي جَعْفَرٍ الْهِنْدُوَانِيِّ“، اور یہ فقیہ ابو جعفر ہندوانی رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ ہندوانی میں ہا پر کے نیچے زیر ہے، نون ساکن ہے، دال پر بھی پیش ہے اور واو پر فتحہ ہے، الہِندُوانِیّ۔ ”وَهَذَا عِنْدَ الْفَقِيهِ أَبِي جَعْفَرٍ الْهِنْدُوَانِيِّ“، اور یہ فقیہ ابو جعفر ہندوانی رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ یاد رکھیے یہ فقیہ ابو جعفر الہندوانی یہ ابو حنیفۂ صغیر کے نام سے مشہور ہیں بھئی، کس نام سے؟ ابو حنیفۂ صغیر یعنی چھوٹے ابو حنیفہ ہیں، یہ اتنے بڑے فقیہ تھے کہ اس نام سے مشہور تھے بھئی، اور ان کی وفات ہوئی ہے 362 ہجری میں، 362 ہجری میں بخارا ہی میں ان کا انتقال ہوا ہے بھئی، تو یہ بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں اور ابو حنیفۂ صغیر کے نام سے مشہور تھے، اتنے بڑے فقیہ بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ فقیہ ابو جعفر ہندوانی رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، ”لِأَنَّ مُجَرَّدَ حَرَكَةِ اللِّسَانِ لَا يُسَمَّى قِرَاءَةً بِدُونِ الصَّوْتِ“، دلیل کیا ان کی؟ یہ کیا فرماتے ہیں کہ مخافتت کی ادنیٰ مقدار کیا ہے؟ کم از کم انسان خود سنے اپنے کانوں تک آواز پہنچے، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ محض زبان کی حرکت ”لَا يُسَمَّى قِرَاءَةً“، اس کو قرات نہیں کہتے ”بِدُونِ الصَّوْتِ“، بغیر آواز کے۔ اور قرآن میں بھی کیا آیا ہے؟ دلیل: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾، قرات، معلوم ہوا قرات فرض ہے نماز کے اندر، اور قرات کس کو کہتے ہیں؟ صرف زبان کی حرکت کو نہیں کہتے بلکہ کم از کم کانوں تک آواز، تو صرف زبان کا حرکت دینا یہ قرات نہیں کہلاتا بلکہ اس کے ساتھ کچھ آواز بھی ہو، اور ادنیٰ آواز کیا ہوگی کہ کم از کم اپنے کم از کم اپنے کانوں تک پہنچے۔ یہ معنی ہے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ صرف زبان کی حرکت اس کو قرات نہیں کہتے بغیر آواز کے۔ ”وَقَالَ الْكَرْخِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَدْنَى الْجَهْرِ أَنْ يُسْمِعَ نَفْسَهُ“، امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہر کی ادنیٰ سے ادنیٰ مقدار یہ ہے کہ اپنے آپ کو سنائے، ”وَأَدْنَى الْمُخَافَتَةِ تَصْحِيحُ الْحُرُوفِ“، اور مخافتت کی ادنیٰ مقدار جو ہے حروف کی تصحیح ہے یعنی ان کو صحیح طور سے ادا کرنا ہے، ”لِأَنَّ الْقِرَاءَةَ فِعْلُ اللِّسَانِ دُونَ الصِّمَاخِ“، اس لیے کیونکہ قرات یہ زبان کا فعل ہے ”دُونَ الصِّمَاخِ“، نہ کہ کانوں کا، صماخ: کان بھئی۔ اس لیے کیونکہ قرات کا حکم دیا گیا ہے اور قرات کس سے ہوتی ہے؟ زبان سے ہوتی ہے، تو وہ فرماتے ہیں قرات زبان کا کام ہے اس میں کانوں کا دخل نہیں، لہٰذا کان تک بے شک آواز نہ پہنچے لیکن کم از کم زبان سے الفاظ صحیح طرح ادا ہونے چاہیئیں۔ ”وَفِي لَفْظِ الْكِتَابِ إِشَارَةٌ إِلَى هَذَا“، اور کتاب کے لفظ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے، یعنی قدوری میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے، انہوں نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ بھئی کس جگہ قدوری میں اشارہ ہے اس کی طرف؟ دیکھیے بھئی یہ ایک ڈیڑھ صفحہ قبل گزرا تھا، یہ ”فَصْلٌ فِي الْقِرَاءَةِ“ جہاں شروع کی تھی ہم نے، اسی میں سطر کے آخر میں آیا تھا: ”وَإِنْ كَانَ مُنْفَرِدًا فَهُوَ مُخَيَّرٌ“، اگر نماز پڑھنے والا اکیلا ہے تو اس کو اختیار ہے، ”إِنْ شَاءَ جَهَرَ وَأَسْمَعَ نَفْسَهُ“، اگر چاہے تو کیا کرے؟ جہر کرے ”وَأَسْمَعَ نَفْسَهُ“، اور اپنے آپ کو سنائے، معلوم ہوا اپنے آپ کو سنانا یہ کس میں سے ہے؟ جہر میں سے ہے، معلوم ہوا مخافتت میں اپنے تک کانوں تک آواز نہ پہنچے تو بھی ادنیٰ مقدار وہ مخافتت کی صحیح ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جہر، بھئی دیکھیے نا امام کرخی کا جہاں قول آیا تھا اسی سطر میں اوپر والی میں کیا آیا تھا؟ ”أَدْنَى الْجَهْرِ أَنْ يُسْمِعَ نَفْسَهُ“، جہر کی کم سے کم مقدار کیا ہے؟ کہ اپنے آپ کو سنائے، اور یہی بات قدوری میں بھی آئی بھئی پیچھے ابھی ایک صفحہ قبل میں نے متن آپ کو دکھلایا۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي لَفْظِ الْكِتَابِ إِشَارَةٌ إِلَى هَذَا“، اور کتاب کے لفظ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے، ”وَعَلَى هَذَا الأَصْلِ كُلُّ مَا يَتَعَلَّقُ بِالنُّطْقِ“، اور اسی اصل پر ہے ہر وہ چیز جس کا تعلق نطق سے ہے، اسی ضابطے پر کیا ہے؟ ہر وہ چیز جس کا تعلق نطق سے ہے، نطق یعنی تکلم، بولنا، ہر وہ چیز جس کا تعلق بولنے سے ہے وہ بھی اسی اصل پر ہے۔ یعنی امام کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک تلفظ صحیح ہو جائے چاہے اپنے کانوں تک آواز نہ پہنچے پھر بھی وہ چیز واقع ہو جائے گی جس کا تعلق نطق سے ہے، جیسے مثلاً طلاق ہے، کیا ہے؟ طلاق۔ اب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور مثلاً اتنی آہستہ وہ لفظ بولتا ہے کہ اس کے اپنے کانوں تک بھی آواز نہیں گئی البتہ اس نے زبان سے وہ لفظ ادا کر دیے، اپنی بیوی کو طلاق دینے کے الفاظ اس نے زبان سے ادا کر لیے، اپنے کانوں تک بھی آواز نہیں گئی تو امام کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک طلاق ہو جائے گی کیونکہ یہ ادنیٰ مقدار ہے مخافتت کی، اور وہ فرماتے ہیں کہ زبان سے لفظوں کی ادائیگی صحیح ہونی چاہیے، سننے کی شرط نہیں۔ جبکہ فقیہ ابو جعفر رحمہ اللہ کے نزدیک طلاق نہیں ہوئی کیونکہ ان کے نزدیک مخافتت کی ادنیٰ مقدار کیا ہے؟ اپنے کانوں تک کم از کم آواز پہنچے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی: ”وَعَلَى هَذَا الأَصْلِ كُلُّ مَا يَتَعَلَّقُ بِالنُّطْقِ“، اور اسی اصل پر ہے ہر وہ چیز جس کا تعلق نطق یعنی تکلم سے ہے بول چال سے ہے، ”كَالطَّلَاقِ“، جیسے طلاق، طلاق کا تعلق کس سے ہے؟ تکلم سے ہے، زبان سے جب تک کوئی کہتا نہیں ہے طلاق واقع نہیں، اور اسی طرح ”وَالْعَتَاقِ“، عین کے فتحہ کے ساتھ، اور اسی طرح عتاق ہے، آزاد کرنا، کوئی اپنے غلام کو کہہ دے تو آزاد ہے بس وہ فوراً آزاد ہو جاتا ہے پھر واپسی کی کوئی صورت نہیں، اسی طرح استثنا ہے: ”وَالِاسْتِثْنَاءِ“، استثنا کرتا ہے، مثلاً ایک آدمی کہتا ہے میرے تمام غلام آزاد ہیں سوائے زید کے، سوائے کس کے؟ زید کے، تو اس نے زید کا استثنا کر دیا، تو اس استثنا کے اندر بھی اگر زبان سے لفظ صحیح ادا کر دیے لیکن اپنے کانوں تک آواز نہیں گئی تو امام کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک استثنا صحیح، جبکہ فقیہ ابو جعفر رحمہ اللہ کے نزدیک یہ استثنا صحیح نہیں کیونکہ کم از کم اپنے کانوں تک آواز کا پہنچنا ضروری ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَالِاسْتِثْنَاءِ“، اور استثنا ہے، ”وَغَيْرِ ذَلِكَ“، اور اس کے علاوہ اور جو چیزیں ہیں جن کا تعلق تکلم سے بول چال سے ہے۔ ”وَأَدْنَى مَا يُجْزِئُ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ آيَةٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَالَا: ثَلَاثُ آيَاتٍ قِصَارٍ أَوْ آيَةٌ طَوِيلَةٌ“. ”وَأَدْنَى مَا يُجْزِئُ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ آيَةٌ“، اور وہ ادنیٰ سے ادنیٰ مقدار جس سے قرات کافی ہو جاتی ہے نماز میں ”آيَةٌ“، وہ ایک آیت ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ امام صاحب کے نزدیک وہ ادنیٰ سے ادنیٰ مقدار جو کافی ہو جاتی ہے قرات سے نماز کے اندر وہ ایک آیت ہے، یعنی کم از کم کتنی قرات کر لے تو فرض ادا ہو جائے گا؟ ایک آیت، بھئی نماز میں قرات فرض ہے تو کتنی قرات فرض ہے؟ امام صاحب فرماتے ہیں کم از کم ایک آیت پڑھ لے تو یہ فرض ادا ہو جائے گا۔ ”وَقَالَا“، اور صاحبین فرماتے ہیں: ”ثَلَاثُ آيَاتٍ قِصَارٍ“، تین چھوٹی آیتیں ہیں، تین چھوٹی آیتیں، ”أَوْ آيَةٌ طَوِيلَةٌ“، یا ایک بڑی آیت، تین چھوٹی آیتیں پڑھ لے یا ایک بڑی آیت پڑھ لے تو پھر فرض ادا ہو جائے گا، یہ کافی ہو جائے گا۔ دلیل ان کی کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يُسَمَّى قَارِئًا بِدُونِهِ“، اس لیے کیونکہ اس سے بغیر اس سے کم پڑھنے والے کو قاری نہیں کہا جاتا عرف میں، گویا صاحبین نے اپنے مسئلے میں دلیل بنایا عرف کو، عام لوگوں کو، عام لوگوں کے اندر اس سے کم پڑھنے والے کو قاری نہیں کہا جاتا، یہ نہیں کہا جاتا کہ اس نے قرآن پڑھا ہے، اس نے قرآن پڑھا ہے، ہاں البتہ تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھتا ہے تو پھر اس کو عرف میں اور عام لوگوں میں کیا کہتے ہیں؟ اس نے قرآن پڑھا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يُسَمَّى قَارِئًا بِدُونِهِ“، اس لیے کیونکہ اس سے کم پڑھنے والے کو قاری نہیں کہا جاتا، ”فَأَشْبَهَ قِرَاءَةَ مَا دُونَ الآيَةِ“، تو یہ مشابہ ہو گیا ایک آیت سے کم قرات کرنے والے کے۔ بھئی ایک آدمی ہے وہ ایک آیت سے جو کم قرات کرتا ہے، ایک آیت سے کم، یعنی ایک آیت کا کچھ حصہ تلاوت کر لیتا ہے نصف آیت، تو اس کو قاری نہیں کہا جاتا کہ اس نے قرآن پڑھا ہے، اس کے بارے میں نہیں کہا جاتا، تو یہ جس نے ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں سے کم پڑھا اس کو بھی قاری نہیں کہتے، تو وہ کس کے مشابہ ہو گیا؟ اس شخص کے مشابہ ہو گیا جس نے آیت سے بھی کم تلاوت کی ہو، جیسے اس کو قاری نہیں کہتے اس کو بھی کوئی قاری نہیں کہتا۔ تو ما دون الآیۃ سے مراد کیا ہے؟ آیت سے کم۔ یہ معنی: ”لِأَنَّهُ لَا يُسَمَّى قَارِئًا“، اس لیے کیونکہ اس کو قاری نہیں کہتے ”بِدُونِهِ“، اس سے کم مقدار والے کو، ”فَأَشْبَهَ قِرَاءَةَ مَا دُونَ الآيَةِ“، تو یہ مشابہ ہو گیا ایک آیت سے کم قرات کر کے مشابہ ہوا، ”وَلَهُ“، اور امام صاحب کی دلیل ”قَوْلُهُ تَعَالَى“، اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ کہ تم قرات کرو جو تمہیں میسر ہو قرآن میں سے، جو آسان ہو قرآن میں سے، یہ دلیل ہے امام صاحب کی کہ یہ قرآن میں آیا ہے ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“، بغیر کسی فرق کے، یعنی اس میں اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا کہ چھوٹی آیت ہو یا بڑی آیت ہو، بس جو قرآن میں سے آسان ہو اس کے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، تو جو بھی قرآن میں سے جو بھی آیت پڑھ لے گا چاہے چھوٹی آیت ہو چاہے بڑی آیت ہو، فرض ادا ہو جائے گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ پھر تو ایک آیت سے جو کم قرآن پڑھتا ہے آدھی آیت مثلاً پڑھ لیتا ہے تو یہ بھی تو قرآن ہے، ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾، تو اس کو بھی شامل ہونا چاہیے، اس صورت میں بھی آپ کو کہنا چاہیے کہ نماز جائز ہو جائے گی، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ: ”إِلَّا أَنَّ مَا دُونَ الآيَةِ خَارِجٌ“، اس لیے ہاں مگر یہ کہ آیت سے جو کم ہے وہ خارج ہے اس سے، نیچے کیا لکھا ہے؟ بالاجماع۔ بالاجماع آیت سے کم جو ہے وہ اس سے خارج ہے، اس کو قاری اس کو یہ نہیں کہا جاتا کہ اس نے قرات کی ہے بھئی، اور اس لیے کیونکہ قرآن میں کیا آیا: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾، کہ تم پڑھو جو میسر ہو قرآن میں سے، تو یہاں مطلقاً قرات کا حکم دیا گیا، اور ”الْمُطْلَقُ إِذَا يُطْلَقُ يُرَادُ بِهِ الْفَرْدُ الْكَامِلُ“، اور فردِ کامل کیا ہوگا؟ ایک آیت ہوگا کم از کم بھئی، کیا ہو؟ ایک، تو ایک آیت سے جو کم ہے وہ اس سے خارج ہے بالاجماع بھئی۔ مگر یہ کہ ”إِلَّا أَنَّ مَا دُونَ الآيَةِ خَارِجٌ“، مگر یہ کہ ایک آیت سے کم جو ہے وہ اس سے خارج ہے، ”وَالآيَةُ لَيْسَتْ فِي مَعْنَاهُ“، اور آیت جو ہے وہ اس کے معنی میں نہیں ہے، ”مَعْنَاهُ“ کی ہا ضمیر راجع ہے ما دون الآیۃ کو، ”مَعْنَاهُ“ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ ما دون الآیۃ کو، اور آیت وہ ما دون الآیۃ کے معنی میں نہیں ہے، آیت ما دون الآیۃ کے معنی میں، بھئی آیت سے کم تو اس سے خارج ہے بالاجماع، آیت سے کم تو جائز ہی نہیں بھئی، کم از کم کتنی تلاوت ہو؟ ایک آیت۔ تو آیت سے کم اس حکم اس سے خارج ہے، اس سے فرض ادا نہیں ہوگا، اور اگر پوری آیت پڑھ لیتا ہے تو آیت بے شک چھوٹی ہی کیوں نہ ہو یہ ما دون الآیۃ کی طرح تو نہیں، یہ تو کیا ہے؟ پوری آیت ہے، لہٰذا یہ پوری آیت ما دون الآیۃ کے معنی میں نہیں ہے، اس کی طرح نہیں ہے، آیت ما دون الآیۃ کے معنی میں نہیں ہے، وہ اس کی طرح نہیں ہے، یہ تو پوری آیت ہے لہٰذا چاہے چھوٹی کیوں نہ ہو اس سے کیا ہو جائے گی؟ نماز ہو جائے گی۔ ما دون الآیۃ تو بالاجماع جائز نہیں تھا، البتہ جو پوری آیت ہے وہ وہ کیا ہوگی؟ وہ جائز ہوگی، اس کے ساتھ فرض ادا ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَالآيَةُ لَيْسَتْ فِي مَعْنَاهُ“، اور آیت جو ہے وہ ما دون الآیۃ کے معنی میں نہیں لہٰذا اس کے ساتھ فرض ادا ہو جائے گا۔ اور یاد رکھیے اس میں بھئی یہ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے یہاں پر کہ نماز میں کم از کم کتنی قرات واجب ہے؟ تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھے گا تو فرض ادا ہوگا، اس سے کم پڑھا تو فرض ہی ادا نہیں ہوگا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.
82 approved lectures · 53 of 82