وَالْمَاءُ الْجَارِي إِذَا وَقَعَتْ فِيهِ نَجَاسَةٌ جَازَ الْوُضُوءُ بِهِ إِذَا لَمْ يُرَ لَهَا أَثَرٌ ، لِأَنَّهَا لَا تَسْتَقِرُّ مَعَ جَرَيَانِ الْمَاءِ ، وَالْأَثَرُ هُوَ الطَّعْمُ أَوِ الرَّائِحَةُ أَوِ اللَّوْنُ۔
گزشتہ سبق میں یہ بحث شروع ہوئی تھی کہ پانی میں اگر نجاست گر جائے تو وہ نجس ہوگا یا نجس نہیں ہوگا، اس سے وضو وغیرہ طہارت حاصل کرنا جائز ہے یا جائز نہیں؟ تو گزشتہ سبق میں مَاءِ قَلِيل کی تفصیل آ گئی تھی کہ عِنْدَ الْأَحْنَافِ مَاءِ قَلِيل جو ہے، اس کے اندر نجاست گرے، چاہے نجاست تھوڑی ہی کیوں نہ ہو، وہ نجس ہو جائے گا بھئی، نجس ہو جائے گا۔
اور امام مالک رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں جب تک پانی کے أَوْصَافِ ثَلَاثَة میں سے کوئی وصف نہ بدل جائے اس وقت تک پانی نجس نہیں ہوگا۔ اور امام شافعی رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک جب مَاءِ قُلَّتَيْنِ کی مقدار ہو تو یہ مَاءِ كَثِير ہے، اس کے اندر نجاست گرے تو وہ نجس نہیں ہوگا بھئی۔
اور احناف کے نزدیک مَاءِ كَثِير کے بارے میں بتلایا تھا کہ مَاءِ كَثِير جو ہے امام صاحب کی رائے یہ ہے کہ یہ مُبْتَلَى بِهِ کے سپرد ہے بھئی۔ یعنی یہ مُبْتَلَى بِهِ کی رائے کے سپرد ہے، جس کو جس کا پانی کے استعمال سے واسطہ پڑا ہے۔ اگر اس کی رائے میں وہ پانی جو اس کے سامنے ہے وہ کثیر ہے، ایک طرف نجاست گری تو اس کے خیال میں دوسری طرف اس نجاست کا اثر نہیں پہنچتا ہے، تو پھر اس صورت میں یہ اس کے نزدیک مَاءِ كَثِير ہے۔ اور اگر اس کے خیال میں ایک طرف جو نجاست پڑی ہے اس کا اثر دوسری طرف پہنچا ہوگا، تو معلوم ہوا یہ اس کے نزدیک مَاءِ قَلِيل ہے۔ مَاءِ قَلِيل ہے۔ تو اگر اس کا یہ خیال ہے کہ دوسری طرف نجاست کا اثر نہیں پہنچا ہے تو اس کے لیے دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہے۔ اور اگر اس کا خیال ہے کہ دوسری طرف نجاست کا اثر پہنچ گیا ہے تو پھر اس صورت میں اس کے لیے دوسری طرف سے وضو کرنا بھی جائز نہیں ہے بھئی، جائز نہیں ہے۔ جی۔
اور البتہ میں نے بتایا یہ امام صاحب کا مذہب ہے اور اسی مذہب کی طرف امام محمد رَحِمَهُ اللهُ کا رجوع بھی ثابت ہے۔ لیکن متاخرینِ احناف جو ہیں وہ فتویٰ دیتے ہیں اس قول پر کہ مَاءِ كَثِير وہ ہے جو دہ در دہ ہو، یعنی عَشْرًا فِي عَشْرٍ ہو، دس ضرب دس بھئی۔ چوڑائی بھی دس گز اور لمبائی بھی دس گز ہو بھئی، دس گز۔ اور گز سے مراد شرعی گز ہے جو ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے۔ اور پھر اس میں میں نے بتلایا تھا کہ دس ضرب دس کا معنی یہ ہے کہ وہ پانی سو مربع گز ہو، سو مربع گز۔ تو اگر اس کی لمبائی چوڑائی مختلف ہے لیکن وہ سو مربع گز ہے تو اس صورت میں وہ مَاءِ كَثِير ہے ورنہ مَاءِ قَلِيل ہے۔
تو اس سے لوگوں کو یہ آسانی ہو گئی کہ پانی سامنے موجود ہو تو اب اس میں زیادہ پریشان ہونے کی اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس کو کیا شمار کریں۔ بلکہ دیکھ لیں آسانی سے کہ یہ دہ در دہ ہے تو مَاءِ كَثِير ہے، ایک طرف نجاست گری ہے تو دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہے۔ اور اگر دہ در دہ نہیں ہے تو پھر اس صورت میں دوسری طرف سے بھی وضو کرنا جائز نہیں ہے بھئی، جائز نہیں ہے۔
اور میں نے بتایا تھا کہ احناف کے ہاں اس مسئلے میں زیادہ شدت ہے بھئی۔ پانی کی تو ہر جگہ بے انتہا ضرورت انسان کو پیش آتی ہے۔ آپ کے ہاں تو پانی کثیر آسانی سے مل جاتا ہے، لیکن وہ علاقے والے جہاں پر پانی میلوں سے لوگ لے کر آتے ہیں ان کے لیے اس قول میں بڑی تنگی اور بڑی سختی ہے کہ کئی میل سے پانی لے کر آئے اور اس میں ایک قطرہ خون کا گر گیا اور سارے پانی کو کیا قرار دے دیا جائے؟ نجس قرار دے دیا جائے کہ اب اس سے وضو وغیرہ نہیں کر سکتے، تو کتنی تکلیف مشکل میں وہ شخص پڑ جائے گا بھئی۔ پھر دوبارہ جانا پڑے گا اور پانی لانا پڑے گا بھئی۔
تو امام مالک رَحِمَهُ اللهُ کے مذہب میں بڑی وسعت ہے، بڑی آسانی ہے، اور میں نے بتایا ان کا مذہب ظاہرِ حدیث کے بھی زیادہ قریب ہے کہ ”الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ“ بھئی۔ چنانچہ افریقہ وغیرہ کے ممالک جہاں پانی کی شدید قلت ہے، وہاں امام مالک رَحِمَهُ اللهُ کا مذہب ہی آپ کو ہر طرف پھیلا ہوا دکھائی دے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کے لیے اور کوئی صورت نہیں کہ وہاں تو پانی بہت کم ملتا ہے، بہت کم بھئی۔
جی، آج اب مَاءِ كَثِير کے بارے میں آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی، مَاءِ كَثِير۔ مَاءِ كَثِير میں نے بتلا دیا آپ کو کہ اس کے اندر اگر نجاست گرے تو وہ نجس نہیں ہوتا، إِلَّا یہ کہ چلو میں پانی اٹھائیں تو اس میں نجاست کا اثر دکھائی دے، یعنی رنگ، بو یا ذائقے میں تبدیلی کا پتہ چل رہا ہو تو پھر اس صورت میں یہ نجس ہوگا ورنہ نجس نہیں ہوگا۔
لہٰذا ایک تالاب ہے دہ در دہ بھئی، عَشْرًا فِي عَشْرٍ، اس میں ایک طرف نجاست گری ہے۔ اگر وہ نجاست دکھائی دینے والی ہے، اس کا ظاہری جسم ہے یعنی مرئی ہے دکھائی دینے والی ہے، تو پھر جس جانب نجاست گری ہے اس طرف تو وضو کرنا جائز نہیں دوسری جانب سے وضو کرنا جائز ہے۔ اور اگر نجاست ایسی ہے کہ وہ پانی میں گری اور پانی کے ساتھ مل گئی، جیسے کچھ پیشاب گر گیا یا کچھ خون گر گیا اس میں یا کچھ تھوڑا سا تھوڑی سی شراب اس میں گر گئی، اب یہ چیزیں تو پانی کے ساتھ مل جائیں گی بھئی پتہ ہی نہیں چلے گا۔ تو اس صورت کے اندر پھر چاروں طرف سے کیا ہے؟ وضو کرنا جائز ہے کیونکہ یہ مَاءِ كَثِير ہے، اور مَاءِ كَثِير جو ہے وہ نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہوتا، إِلَّا یہ کہ اس میں نجاست کا اثر دکھائی دینے لگے بھئی۔
تو یہ تفصیل تھی مَاءِ كَثِير میں۔ اب وہی بیان کرنے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ بھی، تو فرماتے ہیں:
”وَالْمَاءُ الْجَارِي إِذَا وَقَعَتْ فِيهِ نَجَاسَةٌ“ اور جاری پانی، بہتا پانی، ”إِذَا وَقَعَتْ فِيهِ نَجَاسَةٌ“ جب اس میں نجاست گر پڑے ”جَازَ الْوُضُوءُ بِهِ“ تو اس سے وضو کرنا جائز ہے ”إِذَا لَمْ يُرَ لَهَا أَثَرٌ“ جب اس کا اثر دکھائی نہ دے۔ مَاءِ جَارِي کے اندر نجاست گر پڑی تو اس پانی سے وضو کرنا، طہارت حاصل کرنا جائز ہے جب تک اس کا اثر دکھائی نہ دے۔
لہٰذا فقہاء نے مسئلہ لکھا ہے ایک آدمی دریا کے نچلی جانب وضو کر رہا ہے، ایک شخص دریا کے اوپر والی جانب پانی کے اندر شراب کا ایک مٹکا ڈال دیتا ہے بھئی، تو نیچے والے کے لیے وضو کرنا جائز ہوگا بھئی، کیونکہ یہ کیا ہے؟ مَاءِ جَارِي ہے اور اس میں نجاست گرے تو وہ ماء نجس نہیں ہوتا، إِلَّا یہ کہ اس میں اثر دکھائی دینے لگے، نیچے جو وضو کر رہا ہے اس کو باقاعدہ اس پانی کے اندر شراب کا اثر دکھائی دیتا ہے، رنگ بو یا ذائقہ، پھر اس کے لیے بھی اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں جب مَاءِ جَارِي کے اندر نجاست گر پڑے ”جَازَ الْوُضُوءُ بِهِ“ تو اس سے وضو کرنا جائز ہے ”إِذَا لَمْ يُرَ لَهَا أَثَرٌ“ جب اس کا اثر دکھائی نہ دے ”لِأَنَّهَا لَا تَسْتَقِرُّ مَعَ جَرَيَانِ الْمَاءِ“ اس لیے کیونکہ وہ نجاست جو ہے ”لَا تَسْتَقِرُّ“ وہ ٹھہرے گی نہیں ”مَعَ جَرَيَانِ الْمَاءِ“ پانی کے بہاؤ کے ساتھ۔ پانی بہنے کے ساتھ وہ ٹھہرے گی نہیں نجاست بھئی۔ مَاءِ جَارِي میں نجاست گری بھی ہے تو پانی تو بہتا جا رہا ہے وہ اس نجاست کو بہا کر ساتھ لے جائے گا۔
”وَالْأَثَرُ“ انہوں نے متن میں کہا جب اس کا اثر دکھائی نہ دے، کیا معنی اثر نہ دکھائی دے؟ وہ بتلا رہے ہیں۔ اثر کسے کہتے ہیں وہ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَالْأَثَرُ هُوَ الطَّعْمُ أَوِ الرَّائِحَةُ أَوِ اللَّوْنُ“ اور اثر جو ہے وہ ذائقہ ہے یا بو ہے ”أَوِ اللَّوْنُ“ یا رنگ ہے۔
”وَالْجَارِي“ اچھا مَاءِ جَارِي کہیں گے کسے بھئی؟ وہ بتلا رہے ہیں آپ کو۔ یاد رکھیے کئی تعریفیں کی گئیں مَاءِ جَارِي کی، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں ”وَالْجَارِي مَا لَا يَتَكَرَّرُ اسْتِعْمَالُهُ“ مَاءِ جَارِي وہ ہے جو مکرر کہ مکرر نہ ہوتا ہو ”اسْتِعْمَالُهُ“ اس کا استعمال۔ جس کا استعمال مکرر نہیں ہوتا وہ مَاءِ جَارِي ہے۔
مَاءِ جَارِي، مثلاً آپ کے سامنے پانی ہے بہہ رہا ہے، آپ اس میں سے چلو بھرتے ہیں اور چہرہ دھوتے ہیں، اور وہ چہرہ جس پانی سے دھویا وہ پھر واپس اسی پانی میں گرا، اور پھر آپ دوبارہ چلو بھرتے ہیں تو اب وہ پانی یہ نہیں ہوتا، وہ بہہ کر کہاں چلا گیا؟ آگے۔ تو اب جب آپ نے دوبارہ چلو بھرا تو وہ نیا پانی ہے۔ تو یہ ہے مَاءِ جَارِي، کیونکہ ماء کا استعمال مکرر نہیں ہوا، ایک دفعہ ہوا، دوسری دفعہ جو اٹھا رہے ہیں وہ پانی آگے بہہ کر جا چکا ہے، تو اس کو کہیں گے مَاءِ جَارِي۔ اور اگر وہ پانی بہہ کر آگے نہیں گیا پھر وہ مَاءِ جَارِي نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مَاءِ جَارِي میں استعمال مکرر نہیں ہوتا، اسی میں استعمال شدہ پانی گرتا بھی ہے تو دوبارہ چلو بھرتے ہیں تو وہ پہلے استعمال شدہ پانی بہہ کر آگے جا چکا ہے، معلوم ہوا یہ مَاءِ جَارِي ہے۔ اور اگر نہیں بہہ کر آگے جاتا تو معلوم ہوا یہ مَاءِ جَارِي نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَالْجَارِي مَا لَا يَتَكَرَّرُ اسْتِعْمَالُهُ“ اور مَاءِ جَارِي وہ پانی ہے کہ مکرر نہیں ہوتا اس کا استعمال۔ ”وَقِيلَ“ اور کہا گیا ہے، بعضوں نے اور تعریف کی بھئی، کہتے ہیں ”مَا يَذْهَبُ بِتِبْنَةٍ“۔ ”تِبْنَةٌ“ یہ تنکا بھئی تنکا۔ ”تِبْنٌ“ اصل میں کہتے ہیں ”تِبْنٌ“ جو جانوروں کو خشک چارہ دیا جاتا ہے، بھس وغیرہ جو ان کو کھلایا جاتا ہے اس کو ”تِبْنٌ“ کہتے ہیں بھئی، ”تِبْنٌ“۔ تو یہاں ”تِبْنَةٌ“ آیا، تاء وحدت کی بھی آ گئی، تو یعنی تنکا وغیرہ، خشک تنکا۔ تو کہتے ہیں ”وَقِيلَ مَا يَذْهَبُ بِتِبْنَةٍ“ مَاءِ جَارِي وہ ہے جو بہا کر لے جائے تنکے کو، جس میں تنکا یا پتہ وغیرہ ڈالا اور پانی اس کو بہا کر آگے لے جاتا ہے تو اس ماء کو کیا کہیں گے؟ مَاءِ جَارِي کہیں گے بھئی۔
”وَالْغَدِيرُ الْعَظِيمُ الَّذِي لَا يَتَحَرَّكُ أَحَدُ طَرَفَيْهِ بِتَحْرِيكِ الطَّرَفِ الْآخَرِ“ غدیر کہتے ہیں تالاب کو بھئی۔ بارش وغیرہ یا سیلاب کا پانی کہیں اکٹھا ہو گیا تو یہ جو کچا تالاب بن گیا جوہڑ بن گیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ غدیر کہتے ہیں جس میں پانی جمع ہے۔ کہتے ہیں ”وَالْغَدِيرُ الْعَظِيمُ“ اور وہ بڑا تالاب ”الَّذِي لَا يَتَحَرَّكُ أَحَدُ طَرَفَيْهِ“ کہ حرکت نہیں کرتی اس کی ”أَحَدُ طَرَفَيْهِ“ دو جانبوں میں سے ایک جانب ”بِتَحْرِيكِ الطَّرَفِ الْآخَرِ“ دوسری جانب کو حرکت دینے سے۔ یہ جو بڑا تالاب ہے کہ جس میں ایک جانب کا حرکت کرنا وہ دوسری جانب کو حرکت نہیں دیتا بھئی، جب اس میں نجاست گر پڑے ایک جانب میں ”إِذَا وَقَعَتْ نَجَاسَةٌ فِي أَحَدِ جَانِبَيْهِ“ جب اس میں نجاست گر پڑے اس کی دو جانبوں میں سے کسی ایک میں ”جَازَ الْوُضُوءُ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ“ تو جائز ہے وضو کرنا دوسری جانب سے ”لِأَنَّ الظَّاهِرَ“ اس لیے کیونکہ ظاہر یہ ہے ”أَنَّ النَّجَاسَةَ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ“ کہ نجاست وہاں تک نہیں پہنچی ہوگی۔ ظاہر یہی ہے، جب بڑا تالاب ہے بھئی، ایک جانب کے پانی کو حرکت دیں تو دوسری جانب کا پانی حرکت نہیں کرتا، تو جب حرکت کا اثر ایک جانب سے دوسری جانب کو نہیں پہنچ رہا تو ظاہر یہی ہے کہ نجاست کا اثر بھی وہاں نہیں پہنچا ہوگا بھئی۔ اس لیے کیونکہ حرکت کا اثر وہ نجاست کے اثر سے بڑھ کر ہوتا ہے بھئی، تو جب حرکت کا اثر نہیں پہنچ رہا وہاں تک تو معلوم ہوا نجاست کا اثر بھی وہاں نہیں پہنچا ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
بھئی دیکھیے آگے تفصیل صاحبِ ہدایہ بھی بیان کریں گے۔ بڑا تالاب اس کو کہیں گے یعنی مَاءِ كَثِير، وہی مَاءِ كَثِير بھئی جس کو متاخرین نے کتنے پانی کو قرار دیا؟ جو عشراً فی عشر ہو بھئی۔ اسی کی تعریف بیان ہو رہی ہے۔ اس میں ایک جانب کو ایک جانب پانی کو حرکت دیں تو دوسری جانب اس حرکت کا اثر نہ پہنچے، تو یہ ہے بڑا تالاب بھئی، غدیر، یہ ہے مَاءِ كَثِير بھئی۔ اس میں ایک طرف نجاست گر پڑے تو دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہے، یہ اس وقت جب نجاست دکھائی دینے والی ہو، اور اگر دکھائی دینے والی نہیں ہے پھر تو ہر طرف سے وضو کرنا جائز ہے بھئی، جائز ہے۔
تو دیکھیے متن کے اندر ”وَالْغَدِيرُ الْعَظِيمُ الَّذِي لَا يَتَحَرَّكُ أَحَدُ طَرَفَيْهِ بِتَحْرِيكِ الطَّرَفِ الْآخَرِ“ یہ جو ”الَّذِي لَا يَتَحَرَّكُ“ آ رہا ہے اس کے ذریعے غدیرِ عظیم کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ بڑا تالاب، غدیرِ عظیم کا کیا معنی؟ بڑا تالاب۔ کس کو کہیں گے؟ کہتے ہیں ”الَّذِي لَا يَتَحَرَّكُ أَحَدُ طَرَفَيْهِ بِتَحْرِيكِ الطَّرَفِ الْآخَرِ“ کہ جس میں حرکت نہ کرتی ہو دو جانبوں میں سے ایک جانب دوسری جانب کو حرکت دینے سے۔ دوسری جانب کو آپ نے حرکت دی پانی کو تو اس جانب کا پانی حرکت نہیں کرتا، تو یہ کیا ہے؟ غدیرِ عظیم ہے بھئی۔ اور اس کے اندر جب نجاست گر پڑے کسی ایک جانب میں ”جَازَ الْوُضُوءُ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ“ تو دوسری جانب سے وضو کرنا جائز ہے۔
یہاں ایک قیمتی بات آپ کو بتلاؤں بھئی۔ یاد رکھنا یہ حرکت سے مراد لہروں کی حرکت نہیں ہے۔ آپ پانی میں کنکر وغیرہ پھینکتے ہیں، چھوٹا سا پتھر پھینکیں پانی کی سطح پر لہریں بن کر پھیل جاتی ہیں ہر طرف کو بھئی۔ یہ لہریں ہیں، لہروں کی حرکت نہیں مراد بھئی۔ لہریں تو بڑی دور تک چلی جاتی ہیں، بلکہ باقاعدہ پانی کی حرکت ہے۔ آپ اس کنارے پر بیٹھ کر پانی کو ہلاتے ہیں متوسط درجے کا، تو دوسری جانب کا پانی وہ باقاعدہ اوپر نیچے حرکت کرنے لگے تو یہ ہے کہ اس حرکت کا اثر وہاں تک پہنچ گیا۔ اور اگر اس جانب متوسط درجے کی حرکت آپ نے پانی کو دی، بے شک لہریں پھیل رہی ہیں لیکن دوسری جانب کا پانی جو ہے وہ باقاعدہ اوپر نیچے حرکت نہیں کر رہا تو اس کو کیا کہیں گے؟ مَاءِ كَثِير ہے، یہ غدیرِ عظیم ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہروں کی حرکت مراد نہیں بلکہ باقاعدہ پانی اوپر نیچے حرکت کرنے لگے بھئی، پانی اوپر نیچے۔
تو اس میں ایک جانب نجاست گر پڑے تو دوسری جانب سے جائز ہے وضو کرنا ”لِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ النَّجَاسَةَ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ نجاست دوسرے حصے تک دوسرے کنارے تک نہیں پہنچی ہے۔
”إِذْ أَثَرُ التَّحْرِيكِ فِي السِّرَايَةِ فَوْقَ أَثَرِ النَّجَاسَةِ“ ترجمے پہ نظر رکھنا بھئی:
”إِذْ أَثَرُ التَّحْرِيكِ“ اس لیے کیونکہ حرکت دینے کا جو اثر ہے، آگے ہے ”فَوْقَ أَثَرِ النَّجَاسَةِ“ یہ نجاست کے اثر سے اوپر ہے، اس سے بڑھ کر ہے۔ حرکت دینے کا اثر... ترجمے پہ نظر ہے عبارت پر بھئی؟ اس لیے کیونکہ تحریک کا، حرکت دینے کا جو اثر ہے ”فَوْقَ أَثَرِ النَّجَاسَةِ“ یہ نجاست کے اثر سے بڑھ کر ہے، بیچ میں درمیان میں آیا ”فِي السِّرَايَةِ“ پھیل جانے میں۔ کس اعتبار سے بڑھ کر ہے؟ بھئی حرکت دینے کا اثر نجاست کے اثر سے بڑھ کر ہے، کس چیز میں بڑھ کر ہے؟ ”فِي السِّرَايَةِ“ پھیل جانے میں، پھیل جانے میں۔ یعنی حرکت دینے کے اندر اثر دور تک جائے گا، پھیل جائے گا، اور نجاست جو پانی میں گری ہے اس کا اتنا اثر نہیں۔ تو جب حرکت کا اثر دوسری جانب کو نہیں پہنچ رہا، پانی اوپر نیچے نہیں ہل رہا، تو معلوم ہوا کہ نجاست بطریقِ اولیٰ دوسرے کنارے تک نہیں پہنچی ہوگی بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے ”إِذْ أَثَرُ التَّحْرِيكِ فِي السِّرَايَةِ فَوْقَ أَثَرِ النَّجَاسَةِ“ اس لیے کیونکہ حرکت دینے کا جو اثر ہے وہ پھیل جانے میں نجاست کے اثر سے بڑھ کر ہے۔
”ثُمَّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ جی، یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کون سی حرکت کا اعتبار کیا جائے؟ آپ نے کہا ایک جانب کو حرکت دیں تو دوسری جانب کا پانی حرکت نہ کرے، کون سی حرکت مراد ہے؟
ایک حرکت ہے غسل کی وجہ سے، ایک آدمی اس کنارے کے اندر غسل کرتا ہے تو اس صورت میں بھی اس طرف کا پانی حرکت کر رہا ہے تو اس کا اثر دیکھیں کہ وہاں پہنچتا ہے یا نہیں پہنچتا۔ اور غسل کی صورت میں یقیناً حرکت زیادہ حرکت دینا ہوگا بھئی، اس میں پانی حرکت دینا کیا ہوگا؟ زیادہ ہوگا بھئی۔
اور ایک ہے حرکت دینا کہ وضو کرے انسان متوسط طریقے سے، تو اس صورت میں پانی کے اس جانب کو حرکت دی اور وضو کیا تو دوسری جانب دیکھا جائے کہ اس کا اثر پہنچتا ہے یا نہیں۔ یہ متوسط درجے کی حرکت دی ایک طرف کو۔
اور ایک ہے ہاتھ وغیرہ کے ساتھ، ہاتھ وغیرہ صرف دھوتا ہے اس کے اندر بھئی متوسط طریقے سے۔
تو کس حرکت کو دیکھا جائے گا؟ تین قسم کی حرکتیں ہو گئیں۔ اس کنارے پر آپ نے کیا بات کی تھی کہ اس کنارے پر پانی کو حرکت دیں تو دوسری جانب کے پانی کو اس کا اثر نہ پہنچے، اس طرف پانی نہ ہلے، تو کون سی حرکت دینا مراد ہے اس کنارے کو؟ غسل والی حرکت ہے ایک، ایک وضو کے ساتھ حرکت دینا ہے، اور ایک ہاتھ دھونے کے ساتھ حرکت دینا ہے، تین قسم کی حرکتیں آ گئیں تو کون سی تحریک معتبر ہے ان میں سے؟
تو آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رَحِمَهُمَا اللهُ کے نزدیک تحریک بالغسل مراد ہے، کیونکہ غسل جب کریں گے تو اس میں تحریک زیادہ ہوگی، تحریک زیادہ ہو، تو یہ اثر جلدی وہاں پہنچنے کا... پہنچے گا بھئی۔ وضو کریں گے تو متوسط درجے کی تحریک ہوگی، اس کا اثر دور تک نہیں جائے گا۔ اور ہاتھ دھوئیں گے وہ تو بالکل تھوڑی سی تحریک ہے، اس کا تو اور اثر تھوڑے فاصلے تک ہی جائے گا، دور تک نہیں جائے گا۔ تو امام ابو یوسف اور امام ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللهُ فرماتے ہیں کہ تحریک بالغسل مراد ہے کیونکہ یہ پاکی ناپاکی کا مسئلہ ہے تو اس میں احتیاط زیادہ ہے۔
غسل کی حرکت میں اس طرف تحریک زیادہ، جب اس طرف تحریک زیادہ ایک کنارے پر، آپ نے اس میں زیادہ حرکت دی جاتی ہے پانی کو غسل کرے گا انسان، تو اس میں تحریک زیادہ ہوئی اس کا اثر دور تک پہنچے گا، دور تک پہنچے گا۔ وضو کی صورت میں اتنی دور تک نہیں پہنچے گا، تو غسل کی تحریک کا اعتبار کرنے میں احتیاط زیادہ ہے۔
احتیاط کس طرح زیادہ ہے؟ سمجھ بھی آ رہی ہے بات کہ نہیں بھئی؟ جی۔
بھئی صرف ہاتھ وغیرہ دھوئیں گے پھر تو صرف قریب تک اثر جائے گا تو تھوڑے پانی کو انسان کیا قرار دے دے گا؟ پاک قرار دے دے گا کہ حرکت کا اثر نہیں جا رہا۔ وضو کا اثر اس سے ذرا دور تک جاتا ہے تو تھوڑا سا اس سے پانی زیادہ ہوا تو وضو کا اثر وہاں تک پہنچے گا اس سے آگے نہیں جائے گا تو پانی کو پاک قرار دے دیا جائے۔ اور غسل کے اندر تو اثر بڑی دور تک جاتا ہے بڑی، تو اس میں تھوڑی مقدار والے پانی میں تو دوسرے کنارے پہ ضرور حرکت ہوگی، ذرا زیادہ ہوگا تو پھر حرکت نہیں ہوگی، تو لہٰذا اس کا اعتبار کیا جائے کیونکہ اس پاکی ناپاکی کا مسئلہ ہے، پانی کی طہارت کا مسئلہ ہے، آپ نے اسی سے وضو کرنا ہے، آپ نے اسی سے غسل کرنا ہے، تو جب غسل والی تحریک کا اعتبار کریں گے تو معلوم ہوا پانی زیادہ ہے تو اس کا اثر نہیں پہنچ رہا اور اب پوری احتیاط آ گئی معلوم ہوا بالکل یہاں تک اس نجاست کا اثر یقیناً نہیں پہنچا ہوگا۔ جب غسل جیسی تحریک کا اثر نہیں پہنچ رہا تو نجاست کا اثر بطریقِ اولیٰ نہیں پہنچا ہوگا، اس میں احتیاط زیادہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو شیخین رَحِمَهُمَا اللهُ تحریک بالغسل کا اعتبار کرتے ہیں۔ امام محمد رَحِمَهُ اللهُ تحریک بالتوضی یا تحریک بالوضوء کا اعتبار کرتے ہیں، تحریک بالوضوء کا بھئی۔
تو کہتے ہیں ”ثُمَّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ يُعْتَبَرُ التَّحْرِيكُ بِالِاغْتِسَالِ“ پھر امام ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللهُ سے روایت ہے کہ معتبر جو ہے وہ تحریک بالاغتسال ہے، غسل کے ساتھ جو حرکت دینا ہے اس کو وہ معتبر ہے ”وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور یہی قول ہے امام ابو یوسف رَحِمَهُ اللهُ کا بھی ”وَعَنْهُ بِالتَّحْرِيكِ بِالْيَدِ“ اور ”وَعَنْهُ“ کی ھا ضمیر ابو حنیفہ کو راجع، اور انہی سے ایک روایت یہ ہے امام صاحب سے کہ معتبر کیا ہے؟ ”بِالتَّحْرِيكِ بِالْيَدِ“ تو تحریک بالید جو ہے اس کا اعتبار ہے، ہاتھ کے متوسط درجے سے ہاتھ کے ساتھ متوسط درجے سے حرکت دینا ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ بِالتَّوَضِّي“ اور امام محمد رَحِمَهُ اللهُ کے نزدیک تحریک بالتوضی یا تحریک بالوضوء کا اعتبار ہے بھئی۔
”وَوَجْهُ الْأَوَّلِ“ بھئی اس کی وجہ کیا ہے؟ تحریک ایک تو اس میں احتیاط زیادہ، کہتے ہیں نیز اس لیے، وجہ اگے ذکر کرنے لگے ہیں کہ تحریک بالغسل کا اعتبار کیوں کیا شیخین رَحِمَهُمَا اللهُ نے؟ کہتے ہیں بھئی جو حوض ہوتے ہیں ان میں غسل کی حاجت زیادہ پیش آتی ہے۔ وضو کے لیے تو تھوڑا سا پانی ضرورت ہوتی ہے، وہ انسان گھر وغیرہ پر ہی کر لیتا ہے، لیکن غسل کرنا ہے اس کے لیے زیادہ پانی کی ضرورت، تو اس طرح جہاں پانی جوہڑ وغیرہ یا تالاب کی صورت میں ہو تو وہیں پر لوگ کیا کر لیتے ہیں عموماً؟ اسی میں غسل کر لیتے ہیں بھئی غسل کر لیتے ہیں۔ اور تو معلوم ہوا تالاب وغیرہ میں غسل کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے، جب غسل کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے تو اسی کی تحریک کا بھی اعتبار کرنا چاہیے بھئی۔ غسل کی وجہ سے پانی کو حرکت ہوگی، ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اگر حرکت پہنچ رہی ہے معلوم ہو اگر نجاست بھی گرے گی تو اس کا اثر بھی پہنچ جائے گا بھئی۔
کہتے ہیں ”وَوَجْهُ الْأَوَّلِ“ اور پہلے قول کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَيْهِ فِي الْحِيَاضِ“ حیاض جمع ہے حوض کی۔ ”أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَيْهِ فِي الْحِيَاضِ أَشَدُّ مِنْهَا إِلَى التَّوَضِّي“ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات چل رہی ہیں بھئی، عبارت پر نظر رکھنا بھئی۔ وجہ اس پہلے قول کی یہ کہ تحریک بالاغتسال معتبر ہے، اس کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَيْهِ“ ”إِلَيْهِ“ کی ضمیر راجع ہے اغتسال کو، کہ حاجت الی الاغتسال، یعنی غسل کی حاجت، غسل کی جو ضرورت ہے ”فِي الْحِيَاضِ“ کس کے اندر؟ حوضوں میں، تالابوں میں ”أَشَدُّ“ وہ زیادہ شدید ہے، وہ زیادہ ہے ”مِنْهَا“ ھا ضمیر راجع ہے حاجت کو، کس کو راجع؟ حاجت کو۔ اور آگے کیا ہے؟ ”إِلَى التَّوَضِّي“ یعنی الحاجۃ الی التوضی، من الحاجۃ... ھا ضمیر کی جگہ ذرا حاجت کا لفظ لائیں پھر آپ کو ترجمہ سمجھ میں آئے گا بھئی۔ یا بلکہ یوں پہلے سمجھ لیں۔ بھئی ایک ہے حاجت الی الاغتسال، ایک ہے حاجت الی التوضی، اور حوضوں میں کس کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے؟ کیا زیادہ ہوتی ہے؟ حاجت الی الاغتسال وہ حوضوں میں زیادہ ہے کس کی بنسبت؟ حاجت الی التوضی کے مقابلے میں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہی صاحبِ ہدایہ بیان کر رہے ہیں، آپ یوں کریں ”أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَيْهِ“ اس کی جگہ لے آئیں اغتسال، ”أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى الِاغْتِسَالِ“ کہ ضرورت غسل کی طرف ”أَشَدُّ“ یہ زیادہ ہوتی ہے یہ جو حاجت الی الاغتسال ہے، کس سے زیادہ ہوتی ہے؟ ”مِنَ الْحَاجَةِ إِلَى التَّوَضِّي“ کس سے؟ حاجت الی التوضی سے زیادہ ہوتی ہے ”فِي الْحِيَاضِ“ کس کے اندر؟ حوضوں میں۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
”وَبَعْضُهُمْ قَدَّرُوا بِالْمَسَاحَةِ عَشْرًا فِي عَشْرٍ بِذِرَاعِ الْكِرْبَاسِ“ اور بعض علماء نے، بعض فقہاء نے ”قَدَّرُوا“ اندازہ لگایا ہے اس کا ”بِالْمَسَاحَةِ“ پیمائش کے ساتھ، کتنی پیمائش؟ ”عَشْرًا فِي عَشْرٍ“ دہ در دہ بھئی، یعنی دس گز ضرب دس گز ”بِذِرَاعِ الْكِرْبَاسِ“ کرباس کہتے ہیں موٹا سوتی کپڑا بھئی، کرباس کسے کہتے ہیں؟ موٹا سوتی کپڑا۔ یعنی جو مراد ہے کپڑا بھئی، ذراع الکرباس جو کپڑے کا گز ہے بھئی کپڑے کا گز ہے، اس کے ساتھ پیمائش کا اندازہ لگایا ہے اور کتنی پیمائش کا؟ ”عَشْرًا فِي عَشْرٍ“ ہو ”بِذِرَاعِ الْكِرْبَاسِ“ کپڑے کے ذراع کے ساتھ، اور میں نے بتلایا وہ کیا ہے؟ شرعی گز ہے، کتنا ہے؟ ڈیڑھ فٹ کا ہے ایک ذراع بھئی۔
”تَوْسِعَةً لِلْأَمْرِ عَلَى النَّاسِ“ یہ وجہ بیان کر رہے ہیں، بعضوں نے اس کا پیمائش کا کپڑے کے گز کے ساتھ کیوں لگایا؟ ”تَوْسِعَةً لِلْأَمْرِ عَلَى النَّاسِ“ لوگوں پر معاملے کو وسیع کرنے کے لیے، لوگوں پر معاملے کو وسیع کرنے کے لیے یعنی لوگوں پر معاملے کو آسان بنانے کے لیے، ورنہ کسی شخص کا پانی سے واسطہ پیش آئے گا وہ بیچارہ پریشان ہوگا کہ میں اب اس کو مَاءِ قَلِيل کہوں یا مَاءِ كَثِير کہوں، تو فقہاء نے بتلایا کہ آسانی سے بس دیکھ لو دہ در دہ ہے تو کثیر ہے، دہ در دہ نہیں تو قلیل ہے بھئی۔ تو اس میں لوگوں پر آسانی آ گئی۔
اور نیز مساحت اور ذراعِ کرباس ایک تو انہوں نے پیمائش کا اعتبار کیا اس کی وجہ اس میں بھی لوگوں کے لیے آسانی آ گئی کہ کس چیز کو دیکھیں؟ دہ در دہ کو دیکھیں، عَشْرًا فِي عَشْرٍ کو دیکھ لیں بس، پیمائش اس پیمائش کو ذہن میں رکھیں اور پانی کو دیکھ لیا کریں۔ اور نیز ذراع بھی ذراعِ کرباس جو ہے اس کا اعتبار کیا جو ڈیڑھ فٹ کا ہے، اور ایک اور ذراع بھی رائج تھا جو اس ڈیڑھ فٹ سے تھوڑا سا چند انچ زیادہ تھا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کا اعتبار نہیں کیا کیونکہ اگر اس کا اعتبار کریں وہ گز تو تھوڑا سا بڑا ہے اور یہ گز کتنا تھا ڈیڑھ فٹ کا تو یہ تو 15 ضرب 15 فٹ کا تالاب ہو اس کو کیا کہیں گے؟ مَاءِ كَثِير کہیں گے، اگر اس گز کا اعتبار کریں عَشْرًا فِي عَشْرٍ تو وہ یقیناً 15 ضرب 15 سے کچھ بڑا ہونا چاہیے تو آسانی کس کے اندر؟ اس تھوڑے ہی کو کثیر کہہ دیا جائے اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہے، کیونکہ نجاست...
طرف گرے گی، لیکن پھر بھی ہم کہیں گے ماء نجس نہیں کیونکہ ماءِ کثیر ہے۔ اور اگر اس گز کا اعتبار کریں تو فرض کریں مثلاً یہ 15 ضرب 15 ہے، فرض کریں وہ 17 یا 18 گز کا بنتا ہے، 18 ضرب 18 فٹ بھئی۔ 18 فٹ ضرب 18۔ تو یہاں اس میں ہم نے 15 فٹ ضرب 15 فٹ کا اعتبار کیا۔ اس گز کا اعتبار کریں وہ تھوڑا سا تو بڑا ہے، تو وہ کتنا بن جائے گا؟ فرض کرو 18 ضرب 18 فٹ بنتا ہے۔ تو پھر دیکھنا پڑے گا کہ 18 ضرب 18 فٹ ہے تو کثیر ہے، اس سے چھوٹا ہے تو ایک طرف نجاست گری تو سارا ہی نجس ہو گیا۔
تو آسانی کس کے اندر ہے لوگوں کے لیے؟ یہ کون سے گز کا اعتبار کیا جائے؟ کپڑے کے گز کا یعنی شرعی گز کا۔ وہ دوسرے بڑے گز کا اعتبار کرنے میں ان کے لیے حرج ہے بھئی۔
تَوْسِعَةً لِلْأَمْرِ عَلَى النَّاسِ، لوگوں پر معاملے کو آسان کرنے کے لیے، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، اور اسی پر فتویٰ ہے۔ میں نے بتایا یہ کس کے نزدیک؟ تمام متاخرین اسی پر فتویٰ دیتے ہیں بھئی۔
وَالْمُعْتَبَرُ فِي الْعُمْقِ أَنْ يَكُونَ بِحَالٍ لَا يَنْحَسِرُ بِالِاغْتِرَافِ، بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ عَشَرًا فِي عَشَرٍ کے اندر گہرائی بھئی، بعضوں نے کہا ایک ذراع گہرائی ہو، بعضوں نے کہا دو ذراع گہرائی ہو، لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا فتویٰ کس قول پر ہے؟ کہ اگر اس پانی سے چلو بھریں تو زمین کھل کر سامنے نہ آ جاتی ہو بھئی۔ آپ نے چلو بھرا اور پانی ہی اوپر سے تھوڑی دیر کے لیے ختم ہوا، زمین سامنے آ گئی تو یہ بہت تھوڑا ہے بھئی، اس کا اعتبار نہیں۔ کم از کم اتنا تو ہو کہ چلو بھریں تو بھی زمین دکھائی نہیں دیتی، کھلتی نہیں ہے بھئی۔
کہتے ہیں: وَالْمُعْتَبَرُ فِي الْعُمْقِ، اور معتبر جو ہے عمق گہرائی کے اندر، أَنْ يَكُونَ بِحَالٍ، کہ وہ پانی اس حال پر ہو، لَا يَنْحَسِرُ بِالِاغْتِرَافِ، اِنْحَسَرَ کا معنیٰ کھل جانا، کہ وہ کھل نہ جاتا ہو بِالِاغْتِرَافِ چلو بھرنے کی وجہ سے، یعنی کھل نہ جاتا ہو یعنی زمین نہ نکل آتی ہو۔ هُوَ الصَّحِيحُ، یہی قول صحیح ہے۔
وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ: جَازَ الْوُضُوءُ، بھئی میں نے آپ کو بتایا تھا متن میں کیا مسئلہ آیا؟ ایک اس غدیرِ عظیم میں ایک جانب اگر نجاست گر پڑے تو دوسری جانب سے وضو کرنا جائز ہے۔ میں نے بتایا تھا یہ کون سی نجاست میں ہے؟ جس کا ظاہری جسم ہو، جو دکھائی دے، اور اگر غیرِ مرئی نجاست ہے جو دکھائی نہیں دیتی، مثلاً تھوڑا سا پیشاب گر گیا وہ تو اس میں مل گیا، تھوڑی سی شراب گر گئی وہ تو مل گئی، تھوڑا سا خون گر گیا وہ تو مل گیا، اب دکھائی نہیں دیتا، تو یہ غیرِ مرئی نجاست کے اندر کیا حکم بتلایا میں نے؟ کہ چاروں طرف سے وضو کرنا جائز، کیونکہ یہ ماءِ کثیر ہے اور ماءِ کثیر نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہوتا إِلَّا یہ کہ اس کا نجاست کا باقاعدہ اثر دکھائی دے۔ یہی بات اب ذکر کرنے لگے ہیں۔
کہتے ہیں: وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ، اور یہ جو اوپر کتاب کے اندر مصنف کا قول آیا: جَازَ الْوُضُوءُ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ، کہ جائز ہے وضو کرنا دوسری جانب سے، إِشَارَةٌ، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے، إِلَى أَنَّهُ يَنْجُسُ مَوْضِعُ الْوُقُوعِ، کہ نجس ہو جائے گی نجاست کے گرنے کی جگہ۔ متن سے تو یہی معلوم ہوتا ہے، کہ معلوم ہوا جہاں نجاست گری ہے وہ جگہ کیا ہو جائے گی؟ نجس ہو جائے گی۔ آگے بتلا رہے ہیں: وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت یہ ہے، أَنَّهُ لَا يَنْجُسُ، وہ جگہ بھی جہاں نجاست گری ہے وہ بھی نجس نہیں ہو گی، إِلَّا بِظُهُورِ النَّجَاسَةِ فِيهِ، مگر یہ کہ اس کے اندر نجاست ظاہر ہو فِيْهِ اس میں، كَالْمَاءِ الْجَارِي، جیسے کس میں تھا؟ ماءِ جاری میں تھا۔ ماءِ جاری میں کیا تھا؟ جب تک نجاست ظاہر نہ ہو، اس کا اثر نہ دکھائی دے وہ نجس نہیں، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی نجس نہیں ہو گا، صرف اسی وقت نجس ہو گا جب نجاست دکھائی دینے لگے، اس کا اثر نظر آنے لگے، جیسے کہ ماءِ جاری میں تھا۔
قَالَ: وَمَوْتُ مَا لَيْسَ لَهُ نَفْسٌ سَائِلَةٌ فِي الْمَاءِ لَا يُنَجِّسُهُ، كَالْبَقِّ وَالذُّبَابِ وَالزَّنَابِيرِ وَالْعَقْرَبِ وَنَحْوِهَا۔
وَمَوْتُ مَا، اور موت اس جانور کی، لَيْسَ لَهُ نَفْسٌ سَائِلَةٌ، نفس کہتے ہیں خون کو، نفس کا ایک معنیٰ کیا ہے؟ خون بھئی، اور سائلة بہنے والا۔ وَمَوْتُ مَا لَيْسَ لَهُ نَفْسٌ سَائِلَةٌ، اور موت ایسے جانور کی کہ نہ ہو اس کا بہنے والا خون، فِي الْمَاءِ، پانی میں، یہ فِي الْمَاءِ کا تعلق موت سے ہے۔ کس سے تعلق ہے؟ موت۔ مرنا، کس میں مرنا؟ پانی میں مرنا۔ پانی میں مرنا ایسے جانور کا جس کا بہنے والا خون نہیں ہے، لَا يُنَجِّسُهُ، وہ اس پانی کو نجس نہیں کرتا۔ یعنی جس جانور کے اندر بہنے والا خون نہیں ہے، وہ اگر پانی میں گر کر مر جائے تو بھی پانی نجس نہیں ہوتا۔
كَالْبَقِّ، بَقٌّ کہتے ہیں کھٹمل کو بھئی، کھٹمل، اور اسی طرح پسو کو، تو کھٹمل اور پسو۔ وَالذُّبَابِ، اور جیسے کہ مکھی ہے بھئی مکھی۔ مکھی کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ ذُبَابٌ بھئی، یہ جو عام مکھی۔ اور اس میں ایک ادبی نکتہ آپ کو بتلاؤں بھئی: ذباب کو ذباب اس لیے کہتے ہیں: لِأَنَّهُ كُلَّمَا ذُبَّ آبَ، لِأَنَّهُ كُلَّمَا ذُبَّ آبَ، اس لیے کیونکہ اس کو جب بھی دور کریں، جب بھی اڑائیں بھئی یہ پھر آ جاتی ہے۔ انسان بار بار اس کو اڑاتا ہے یہ پھر آ جاتی ہے، تنگ کرتی ہے۔ تو ذَبَّ کے معنیٰ ہوتے ہیں دور کرنا اور آبَ کے معنیٰ ہوتے ہیں لوٹنے کے، تو كُلَّمَا ذُبَّ، جب بھی اس کو دور کریں، آبَ، یہ لوٹ آتی ہے، تو اسی سے اس کا نام کیا ہے؟ ذُبَابٌ ہے بھئی۔ تو جیسے مکھی ہے۔
وَالزَّنَابِيرِ، زَنَابِيرُ جمع ہے زُنْبُورٌ کی، زنبور۔ زنبور بھئی یہ بھیڑ وغیرہ، یہ جو یہاں عام آپ دیکھتے ہیں پیلے رنگ کی جو کاٹنے والی ہوتی ہے، بھیڑ ہے، اسی طرح جو یہ جیسے شہد کی مکھی ہے، تو یہ بھئی، ان کو زنبور کہتے ہیں بھئی۔ اس کی جمع زنابیر آئی بھئی۔ اور اسی طرح جو بھیڑ وغیرہ ہیں۔ وَالْعَقْرَبِ، اور بچھو ہے، وَنَحْوِهَا، اور ان جیسی جو چیزیں ہیں۔ یہ چیزیں اگر ان میں بہنے والا خون نہیں ہوتا، لہٰذا اگر یہ پانی میں گر کر مر بھی جائیں تو وہ پانی نجس نہیں ہو گا بھئی۔
وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُفْسِدُهُ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ چیز جو ہے، یہ چیزیں يُفْسِدُهُ پانی کو نجس کر دیں گی، پانی کو فاسد کر دیں گی، لِأَنَّ التَّحْرِيمَ لَا بِطَرِيقِ الْكَرَامَةِ آيَةٌ لِلنَّجَاسَةِ، اس لیے کیونکہ تحریم جو کرامت کے طریقے پر نہ ہو، آيَةٌ لِلنَّجَاسَةِ، وہ نجس ہونے کی نشانی ہے، نجس ہونے کی علامت ہے۔
بھئی آپ فقہ کے اندر قدوری وغیرہ میں مسئلہ پڑھ چکے ہیں کہ انسانی کھال کو اگر کوئی شخص دباغت دے بھی دے، وہ پاک نہیں ہو گی بھئی۔ پاک؟ کیوں؟ اور اسی طرح خنزیر کی کھال جو ہے اس کو اگر کوئی دباغت دے دے تو وہ بھی پاک نہیں ہو گی، لہٰذا اس پر نماز وغیرہ پڑھنا جائز نہیں۔ اور وہیں پر آپ نے اس کی علت بھی پڑھی ہو گی: انسانی کھال کا استعمال بھی حرام اور خنزیر کی کھال کا استعمال بھی حرام، لیکن انسانی کھال کا استعمال جو حرام قرار دیا گیا وہ انسان کی عزت اور شرافت کی وجہ سے۔ انسان کو اللہ نے بڑی عزت نصیب فرمائی ہے، بڑا اونچا مقام نصیب فرمایا ہے، لہٰذا اس کی عزت اور شرافت کی وجہ سے اس یہ کیا ہے؟ اس کا استعمال حرام قرار دیا۔ اور خنزیر کی کھال کو جو نجس قرار دیا گیا وہ اس کے نجس ہونے کی وجہ سے۔ اس کے؟ اس کے نجس ہونے کی وجہ سے۔ تو دیکھیے ایک تحریم کون سی ہوئی؟ تحریم کا معنیٰ حرام قرار دینا۔ بِطَرِيقِ الْكَرَامَةِ، تحریم بِطَرِيقِ الْكَرَامَةِ وہی عزت بھئی، شرافت وغیرہ۔ تو انسانی کھال اس کی بھی تحریم ہے، لیکن یہ تحریم کس طریقے پر ہے؟ کرامت کے طریقے پر ہے بھئی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ چیز جس کو حرام قرار دیا گیا ہو شریعت میں اور یہ تحریم بطریقِ کرامت کے نہ ہو تو یہ نجس ہونے کی علامت ہے۔ یہ تحریم بطریقِ کرامت نہ ہو تو یہ کس چیز کی علامت ہے؟ نجس ہونے کی علامت ہے۔ اور یہ جو جانور ہیں کھٹمل ہے، مکھی ہے، بچھو ہے، بھیڑ وغیرہ، یہ چیزیں بھی حرام ہیں۔ تو ان میں بھی تحریم ہے ان کے بارے میں، اور یہ تحریم کس وجہ سے ہے؟ کرامت، ان کی عزت کی وجہ سے؟ وہ فرماتے ہیں تو یہ تو سب کہتے ہیں نہیں بھئی، عزت کی وجہ سے تو نہیں۔ تو وہ فرماتے ہیں بس، جو بھی تحریم بطریقِ کرامت نہیں ہو گی وہ نجس ہونے کی علامت ہو گی۔ تو یہ چیزیں بھی ان میں بھی تحریم آئی ہے، ان کو حرام قرار دیا گیا ہے اور یہ تحریم بطریقِ کرامت ہے؟ بطریقِ کرامت؟ نہیں، معلوم ہوا یہ چیزیں نجس ہیں۔ اور جب یہ چیزیں نجس ہیں تو یہ پانی میں گریں گی تو پانی کو بھی کیا کر دیں گی؟ نجس کر دیں گی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يُفْسِدُهُ، ایسی چیز کا مرنا پانی میں اس کو فاسد کر دے گا، لِأَنَّ التَّحْرِيمَ لَا بِطَرِيقِ الْكَرَامَةِ آيَةٌ لِلنَّجَاسَةِ، اس لیے کیونکہ وہ تحریم جو کرامت کے طریقے پر، عزت کے طریقے پر نہ ہو، آيَةٌ لِلنَّجَاسَةِ، وہ نشانی ہے نجس ہونے کی۔
بِخِلَافِ دُودِ النَّحْلِ وَسُوسِ الثِّمَارِ، دُودٌ کہتے ہیں کیڑے کو۔ دُودُ النَّحْلِ سے کیا مراد ہے؟ شہد کی مکھی۔ بِخِلَافِ دُودِ النَّحْلِ، تو دُودُ النَّحْلِ کیا ہے؟ شہد کی مکھی۔ وَسُوسِ الثِّمَارِ، پھلوں کے کیڑے بھئی، پھلوں کے کیڑے، بِخِلَافِ دُودِ النَّحْلِ وَسُوسِ الثِّمَارِ، بخلاف شہد کی مکھی کے اور پھلوں کے کیڑے بھئی۔
بھئی شہد کی مکھی وہ اگر مثلاً شہد میں گر کر مری ہے یا پھلوں کے کیڑے ہیں، پھل کے اندر پھل کے اندر پائے جاتے ہیں تو اس کی وجہ سے اس شہد کو یا اس پھل کو نجس قرار نہیں دیا شریعت نے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ یہ چیزیں پاک ہیں۔ شہد کی مکھی یا پھلوں کے جو کیڑے ہیں، ہیں تو وہ بھی نجس، لیکن ضرورت کی بناء پر شریعت نے ان کو معاف رکھا بھئی۔ کیونکہ پھلوں کے اندر کیڑے وغیرہ ہوتے ہیں، اگر اس کی وجہ سے سارے پھل کو نجس قرار دے دیا جائے تو لوگ بڑی مشکل میں پڑ جائیں گے بھئی۔ تو ہاں وہ حصہ جو کیڑے والا ہے وہ دور کیا جائے تو باقی حصے کو کیا کر سکتا ہے انسان؟ وہ نجس نہیں ہے بھئی۔ اور شہد ہے اسی طرح اس میں سے مکھی وغیرہ اگر گری ہے تو اس کی وجہ سے اگر سارے اس کو نجس قرار دے دیا جائے تو لوگ تو مشکل میں پڑ جائیں گے، وہ تو عموماً اس میں ایک آدھی تو گر کر ضرور مر جائے گی جتنی بھی احتیاط کر لی جائے۔ تو وہاں ضرورت کی بناء پر ان کو شریعت نے معاف قرار دیا۔ تو ان میں ضرورت تھی اس لیے ان کی نجاست معاف ہے، لیکن ان چیزوں کے اندر، باقی جو متن میں ذکر ہوئیں، ان میں ضرورت نہیں لہٰذا ان میں وہ معافی والا حکم نہیں آئے گا۔ یہ پانی میں گر کر مریں گے تو پھر پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس ہو جائے گا۔
بِخِلَافِ دُودِ النَّحْلِ وَسُوسِ الثِّمَارِ لِأَنَّ فِيهِ ضَرُورَةً، ضَرُورَةً منصوب پڑھنا کیونکہ یہ أَنَّ کا اسمِ مؤخر ہے۔ أَنَّ کے بعد فِيهِ جار مجرور آیا۔ یہ جار مجرور وغیرہ إِنَّ، أَنَّ کے بعد آئیں یا كَانَ وغیرہ کے بعد آئیں تو یاد رکھیے یہ کبھی بھی ان کا اسم نہیں بن سکتے۔ اسی طرح یہ مبتدا نہیں بن سکتے۔ یہ جب بھی بنیں گے إِنَّ، أَنَّ یا كَانَ یا کی یا اسی طرح مبتدا کی خبر تو بن سکتے ہیں، یہ خود مبتدا یا اس کے قائم مقام نہیں۔ تو یہ آگے ضَرُورَةً یہ ہے اسم بھئی أَنَّ کا بھئی۔ لِأَنَّ فِيهِ ضَرُورَةً، اس لیے کیونکہ اس میں ضرورت ہے بھئی، حاجت ہے۔
وَلَنَا، اور ہماری دلیل: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضور علیہ السلام کا قول ہے فِيهِ، اس چیز کے بارے میں جو جس کا بہنے والا خون نہ ہو اور پانی میں گر پڑے، اس چیز کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”هَذَا هُوَ الْحَلَالُ أَكْلُهُ وَشُرْبُهُ وَالْوُضُوءُ مِنْهُ“۔ بھئی یہ آپ کے حاشیے میں حدیث دی ہوئی ہے، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام سے پوچھا گیا اس برتن کے بارے میں جس میں کوئی کھانے یا پینے کی چیز ہو اور اس میں کوئی ایسی ایسا جانور گر کر مر جائے کہ ایسا کیڑا وغیرہ جس میں بہنے والا خون نہیں ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! یہ پانی یا یہ طعام اس کا استعمال جائز ہو گا یا جائز نہیں ہو گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”هَذَا هُوَ الْحَلَالُ أَكْلُهُ“ یہ جو ہے حلال ہے أَكْلُهُ اس کا کھانا، ”وَشُرْبُهُ“ اور اس کا پینا، یعنی وہ طعام جس کے اندر وہ چیز گری ہے یا وہ پانی جس کے اندر وہ چیز گری ہے اس کا کھانا اور پینا حلال ہے، ”وَالْوُضُوءُ مِنْهُ“ اور اس سے وضو کرنا۔
وَلِأَنَّ، یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، وہ فرماتے ہیں: وَلِأَنَّ الْمُنَجِّسَ اخْتِلَاطُ الدَّمِ الْمَسْفُوحِ بِأَجْزَائِهِ عِنْدَ الْمَوْتِ، کہ نجس کرنے والی چیز، پانی میں کوئی جانور گر کر مرتا ہے پانی کو نجس قرار دیا جاتا ہے وہ کس وجہ سے؟ وجہ اس کی یہ کہ اس جانور کے اندر بہنے والا خون ہوتا ہے اور وہ خون جب وہ جانور مرا تو وہ خون جانور کے اجزاء میں بھی ملا اور پانی کے اندر بھی مل گیا بھئی۔ تو جانور کے اندر، مثلاً کوئی جانور باہر گر کر، باہر مرا ہے تو اس کے بدن میں خون تھا، وہ خون جب مرا تو اس جانور کے سارے اجزاء میں داخل ہو گیا۔ کس میں داخل ہو گیا؟ سارے اجزاء میں داخل۔ اور یہی جانور پھر پانی میں گرا تو اب تو سارے اجزاء نجس ہو چکے، یہ دم تو کیا تھا؟ نجس تھا، خون تو نجس تھا۔ وہ سارے جانور کے اجزاء میں پھیل گیا اور وہی جانور کس میں گر گیا؟ پانی میں گر گیا۔ تو وہ اجزاء جانور کے جب پانی میں پھیلیں گے تو وہ نجس ہو چکے ہیں، پانی بھی کیا ہو جائے گا؟ نجس ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا اصل نجس کرنے والی چیز کیا ہے؟ وہ خون ہے بھئی خون۔
تو وہی بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْمُنَجِّسَ اخْتِلَاطُ الدَّمِ الْمَسْفُوحِ بِأَجْزَائِهِ عِنْدَ الْمَوْتِ، اس لیے کیونکہ نجس کرنے والی چیز جو ہے وہ مل جانا ہے، مسفوح کا معنیٰ بہنے والا بہتا ہوا، وہ مل جانا ہے دمِ مسفوح کا بہتے خون کا بِأَجْزَائِهِ أَيْ بِأَجْزَاءِ الْحَيَوَانِ اس حیوان کے اجزاء کے ساتھ اس بہتے خون کا مل جانا ہے عِنْدَ الْمَوْتِ کس وقت؟ موت کے۔ یا ہا ضمیر راجع کر لیں پانی کو، وہ بہتے خون کا مل جانا ہے بِأَجْزَاءِ الْمَاءِ کس کے ساتھ؟ پانی کے اجزاء کے ساتھ عِنْدَ الْمَوْتِ اس حیوان کی موت کے وقت بھئی۔
حَتَّى حَلَّ الْمُذَكَّى لِانْعِدَامِ الدَّمِ فِيهِ، یہاں تک کہ حلال ہے ذبح کیا ہوا جانور لِانْعِدَامِ الدَّمِ فِيهِ اس میں خون نہ ہونے کی وجہ سے۔ بھئی جانور کو ذبح کرنے کا حکم دیا شریعت نے بھئی جن کا کھانا حلال ہے، کیوں ذبح کرنے کا حکم دیا؟ تاکہ اس کے بدن سے خون بہہ کر نکل جائے کیونکہ خون نجس ہے بھئی۔ خون کیا ہے؟ نجس۔ تو اس جانور سے خون بہہ کر نکل جاتا ہے اسی لیے شریعت نے اس پر حلال ہونے کا حکم لگایا کہ ذبح کی وجہ سے خون نکل گیا۔ حَتَّى حَلَّ الْمُذَكَّى، مُذَكًّى ذبح کیا ہوا۔ یہاں تک کہ ذبح شدہ جانور جو ہے وہ حلال ہے لِانْعِدَامِ الدَّمِ فِيهِ اس لیے کیونکہ اس میں خون معدوم ہے، وَلَا دَمَ فِيهَا، اور خون نہیں ہے فِيهَا ان جانوروں میں جن کا پیچھے ذکر ہوا بھئی۔ ان جانوروں میں تو، بھئی نجس کرنے والی چیز کیا ہے پانی کو؟ خون۔ وہ خون ہے وہ جو اس جانور کے اندر ہوتا ہے اور وَلَا دَمَ فِيهَا ان جانوروں میں تو خون ہی نہیں ہے۔
خون ہی نہیں لہٰذا پانی نجس نہیں ہو گا اور آپ نے جو قیاس کیا تھا اور فرمایا تھا کہ تحریم لَا بِطَرِيقِ الْكَرَامَةِ تو یہ نشانی ہے نجس ہونے کی، ہم کہتے ہیں: نہیں۔ تحریم لَا بِطَرِيقِ الْكَرَامَةِ، تحریم کے ساتھ نجس ہونا لازم نہیں ہے۔ تحریم کے ساتھ نجس ہونا؟ کسی چیز کو حرام قرار دیا جائے اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ وہ نجس۔ مٹی کا کھانا، ریت کا کھانا یہ حرام ہے لیکن یہ نجس نہیں ہیں بھئی۔ ان سے تیمم وغیرہ کرتے ہیں یا نہیں کرتے آپ بھئی؟ تو دیکھا، معلوم ہوا یہ پاک ہیں بھئی۔ تو تحریم یہ نجس ہونے کی نشانی نہیں ہے۔ تحریم کے ساتھ نجس ہونا لازم نہیں ہے۔ وَالْحُرْمَةُ لَيْسَتْ مِنْ ضَرُورَتِهَا النَّجَاسَةُ، اور حرمت کے نہیں ہے اس کے لوازم میں سے نجس ہونا، اس کے ساتھ نجس ہونا ضروری نہیں ہے، كَالطِّينِ، جیسے کہ مٹی ہے۔
وَمَوْتُ مَا يَعِيشُ فِي الْمَاءِ فِيهِ لَا يُفْسِدُهُ، اور موت ما ایسے جانور کی يَعِيشُ فِي الْمَاءِ جو کس میں رہتا ہے؟ پانی میں رہتا ہے، فِيهِ، یہ ہا ضمیر پھر ما کو راجع، أَيْ فِي الْمَاءِ۔ تو دو دفعہ گویا آ گیا فِي الْمَاءِ، فِي الْمَاءِ۔ لیکن ایک فِي الْمَاءِ کا تعلق ہے يَعِيشُ سے، جو زندہ رہتا ہے پانی میں، وہ جانور جو زندگی گزارتا ہے پانی کے اندر، اور دوسرے فِيهِ کا تعلق موت سے ہے۔ وہ جانور جو پانی میں زندگی گزارتا ہے اس کا مر جانا فِي الْمَاءِ کس کے اندر؟ پانی کے اندر، لَا يُفْسِدُهُ وہ پانی کو فاسد نہیں کرتا۔ یعنی مچھلی وغیرہ جو پانی میں رہتی ہے اگر وہ پانی میں مر جائے تو پانی فاسد نہیں ہو گا چاہے قلیل ہی کیوں نہ ہو بھئی۔
كَالسَّمَكِ، جیسے کہ مچھلی ہے، وَالضِّفْدَعِ، ضِفْدَعٌ مینڈک بھئی مینڈک۔ ضَفْدَعٌ پڑھنا بھی صحیح، اور ضُفْدَعٌ پڑھنا بھی صحیح بھئی، اس میں کئی لغات ہیں بھئی۔ تو اور مینڈک ہے، وَالسَّرَطَانِ بھئی، را پر حرکت ہے بھئی فتحہ، اور کیکڑا بھئی کیکڑا۔ کیکڑا جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ یہ بھی پانی میں رہنے والا ایک جانور جس کے دس ٹانگیں ہوتی ہیں دس بھئی اور بچھو جیسے جسم ہوتا ہے اس کا یعنی بچھو کی طرح ڈنک وغیرہ تو یہ نہیں مارتا لیکن اس کی طرح وہ خوفناک کہ دیکھ کر انسان کو کراہت آتی ہے بھئی، تو یہ کیکڑا۔ یہ اب دیکھیے یہ پانی میں رہنے والی چیزیں ہیں مچھلی، مینڈک، کیکڑا وغیرہ، تو یہ اگر پانی کے اندر مر بھی جائیں تو پانی نجس نہیں ہو گا۔
وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُفْسِدُهُ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کیا کر دیں گے پانی کو؟ یہ چیز جو پانی میں زندگی گزارتی ہے یہ پانی میں مر جائے تو اس کو فاسد کر دے گی، إِلَّا السَّمَكَ، سوائے مچھلی کے، لِمَا مَرَّ، اس وجہ سے جو گزر گئی۔ وہ فرماتے ہیں مچھلی جو ہے وہ فاسد نہیں کرے گی بھئی، لِمَا مَرَّ اس وجہ سے جو گزر گئی بھئی۔ کیا وجہ گزری تھی؟ کہ تحریم لَا بِطَرِيقِ الْكَرَامَةِ یہ آیت ہے، یہ نشانی ہے نجس ہونے کی۔ تو یہ باقی چیزیں یہ بھی ان کی بھی تحریم وہ کرامت کے طریقے پر نہیں ہے، جب کرامت کے طریقے پر ان کی تحریم نہیں تو یہ نجس ہیں۔ جب نجس ہیں تو پانی میں گریں گے تو پانی کو کیا کر دیں گے؟ نجس کر دیں گے۔
وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ مَاتَ فِي مَعْدِنِهِ، کہ یہ جو جانور جو زندگی پانی میں گزارتا ہے یہ مرا ہے فِي مَعْدِنِهِ، معدن کہتے ہیں اصل کو اصل، کسی چیز کی جو اصل ہو، جو اس کا مقام یعنی جو اس کا محل ہو محل، جو اس کا محل ہے۔ بھئی مچھلی کا محل کیا ہے؟ پانی ہے، وہ پیدا بھی اسی میں ہوتی ہے، زندگی میں بھی اسی میں گزارتی ہے تو یہ اس کا معدن ہے، اس کا محل ہے۔ اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ مَاتَ فِي مَعْدِنِهِ، کہ یہ جو پانی میں زندگی گزارنے والا ہے یہ پانی میں مرا ہے تو یہ مرا ہے فِي مَعْدِنِهِ کس کے اندر؟ اپنی اصل کے اندر، اپنے محل میں، فَلَا يُعْطَى لَهُ حُكْمُ النَّجَاسَةِ، تو لہٰذا اس کو نجاست کا حکم نہیں دیا جائے گا۔
بھئی آپ پہلے پڑھ چکے ہیں نجاست جب تک اپنے محل میں ہے اس پر شریعت نجس ہونے کا حکم نہیں لگاتی، جیسے بدن کے اندر پیشاب وغیرہ موجود ہے لیکن وہ جب تک اپنے محل کے اندر ہے آپ وضو کرتے ہیں بدن میں پیشاب موجود ہے لیکن نماز پڑھتے ہیں، آپ اس سے نماز وغیرہ پڑھ لیتے ہیں، تو نجاست ہے بدن کے اندر لیکن وہ اپنے محل میں ہے، تو جب تک نجاست اپنے محل میں ہے وہ شریعت کی طرف سے معاف۔ یا اسی طرح رگوں کے اندر خون ہے، سارے بدن کے اندر خون پھیلا ہوا ہے لیکن جب تک وہ خون اپنے محل میں ہے وہ معاف ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ جب تک کوئی چیز اپنے محل کے اندر ہو اس کو نجاست والا حکم نہیں دیا جاتا۔ تو یہ مچھلی بھی اپنے محل کے اندر ہے لہٰذا اس کے اس محل کے اندر مری ہے تو اس پر نجس ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا کیونکہ یہ اپنے محل میں ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے انڈہ بھئی، انڈہ اس کے اندر اب زردی اگر خون بن جائے یعنی انڈہ خراب ہو جائے، زردی خون بن جائے یا انڈہ وغیرہ خراب ہو جائے تو اب یہ نجاست ابھی تک اپنے محل کے اندر ہے۔ جب تک نکلے گی نہیں اس پر نجس ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا، لہٰذا ایک شخص یہ خراب انڈہ یا یہ انڈہ جس کی زردی خون میں بدل چکی ہے اس کو جیب میں رکھ کر نماز پڑھ لیتا ہے تو نماز ہو جائے گی بھئی، کیونکہ وہ نجاست کہاں ہے ابھی تک؟ اپنے اپنے محل میں، اور جب تک اپنے محل میں ہے اس پر نجس ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
كَبَيْضَةٍ حَالَ مُخُّهَا دَمًا، جیسے کہ انڈہ ہے۔ حَالَ يَحُولُ کا معنیٰ بدل جانا ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف۔ مُخٌّ، مُخٌّ کہتے ہیں زردی کو۔ كَبَيْضَةٍ حَالَ مُخُّهَا دَمًا، جیسے وہ انڈہ کہ بدل گئی ہو اس کی زردی خون سے۔ وَلِأَنَّهُ لَا دَمَ فِيهَا، دوسری وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ پہلی وجہ تو ذکر کر دی کہ یہ جانور کس میں مرے ہیں؟ اپنے معدن میں، اور جب تک کوئی چیز اپنے اصل اور محل کے اندر ہو شریعت اس پر نجس ہونے کا حکم نہیں لگاتی۔ دوسری وجہ: وَلِأَنَّهُ لَا دَمَ فِيهَا، ان کے اندر خون نہیں ہے، إِذِ الدَّمَوِيُّ لَا يَسْكُنُ فِي الْمَاءِ، اس لیے کیونکہ خون والا جانور جو ہے وہ پانی میں نہیں رہ سکتا بھئی۔ خون اور، خون کا مزاج گرم، پانی کا مزاج سرد، تو لہٰذا خون والا جانور پانی میں نہیں رہ سکتا بھئی، ان میں خون نہیں ہے۔ اور جو خون دکھائی بھی دیتا ہے خون کی صورت ہے، خون نہیں ہے بھئی، کیونکہ خون کی علامت یہ ہے کہ خون کو دھوپ میں رکھا جائے تو خون سیاہ ہو جاتا ہے، لیکن ان کا جو خون وغیرہ اگر مچھلی کا ہے اس کو دھوپ میں رکھیں بھی وہ سیاہ نہیں ہو گا، سفید وغیرہ تو ہو جائے گا سیاہ نہیں ہو گا، معلوم ہوا یہ خون جیسی چیز تو ہے لیکن خون دراصل نہیں ہے ورنہ اس کو سیاہ ہونا چاہیے تھا۔
یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَلِأَنَّهُ لَا دَمَ فِيهَا، اور اس لیے کیونکہ ان جانوروں کے اندر خون نہیں ہے، إِذِ الدَّمَوِيُّ لَا يَسْكُنُ فِي الْمَاءِ، اس لیے کیونکہ خون والا جانور جو ہے پانی میں نہیں رہ سکتا، وَالدَّمُ هُوَ النَّجِسُ، اور خون ہی تو ناپاک ہے اور ان میں تو خون ہے ہی نہیں لہٰذا پانی بھی نجس نہیں ہو گا۔
وَفِي غَيْرِ الْمَاءِ قِيلَ: غَيْرُ السَّمَكِ يُفْسِدُهُ لِانْعِدَامِ الْمَعْدِنِ، اچھا پانی کے علاوہ کسی چیز میں اگر یہ چیزیں مر گئیں، مچھلی یا مینڈک ہے کس میں؟ پانی کے علاوہ، یعنی دودھ میں گر کر مر گیا یا سرکے میں گرا تو کیا اس دودھ یا سرکے کو نجس کہا جائے گا یا نجس نہیں کہا جائے گا؟ کہتے ہیں: وَفِي غَيْرِ الْمَاءِ، اور پانی کے علاوہ میں یعنی سرکے اور سرکے وغیرہ میں، اور کیا دودھ وغیرہ میں، غیرِ ماء سے کیا مراد ہے؟ سرکہ یا دودھ وغیرہ، ان میں گر کر مر جائے تو پھر، کہتے ہیں: قِيلَ، کہا گیا ہے: غَيْرُ السَّمَكِ يُفْسِدُهُ، مچھلی کے علاوہ اور چیزیں جو ہیں وہ اس کو فاسد کر دیں گی، وہ سرکہ فاسد ہو جائے گا، وہ دودھ کیا ہو جائے گا؟ فاسد یعنی نجس ہو جائے گا، لِانْعِدَامِ الْمَعْدِنِ، کیونکہ معدن معدوم ہے۔ یہ اپنے معدن میں مرے ہیں؟ بھئی دودھ تو ان کا معدن نہیں ہے، سرکہ یا رس وغیرہ جو کسی چیز سے نکالا گیا اس میں مرے ہیں وہ تو ان کا معدن نہیں ہے، تو لِانْعِدَامِ الْمَعْدِنِ، معدن معدوم ہونے کی وجہ سے تو یہ نجس کر دیں گے اس کو۔ وَقِيلَ: لَا يُفْسِدُهُ، اور کہا گیا کہ یہ فاسد نہیں کریں گے یعنی نجس نہیں کریں گے، لِعَدَمِ الدَّمِ، کیونکہ ان میں خون نہیں ہے، وَهُوَ الْأَصَحُّ، یہی قول اصح ہے، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں۔
وَالضِّفْدَعُ الْبَحْرِيُّ وَالْبَرِّيُّ سَوَاءٌ، بھئی ایک ہے بحری مینڈک، ایک ہے خشکی کا مینڈک، کیا ان کا حکم الگ ہے یا ایک جیسا ہے؟ کہتے ہیں دونوں برابر ہیں، دونوں کا حکم ایک ہی جیسا ہے۔ بحری مینڈک یعنی آبی مینڈک اور ایک خشکی کا مینڈک، ان میں فرق یہ ہے کہ جو آبی مینڈک ہوتا ہے اس کے جو انگلیاں ہیں ہاتھ اور پاؤں کی ان میں جھلی ہو گی درمیان میں، اس میں پردہ سا ہو گا اور جو خشکی کا مینڈک ہے اس کی انگلیاں میں ہاتھ کی اور پاؤں کی ان میں جھلی نہیں ہو گی بھئی۔ کہتے ہیں: وَالضِّفْدَعُ الْبَحْرِيُّ وَالْبَرِّيُّ سَوَاءٌ، اور آبی مینڈک اور خشکی کا مینڈک سَوَاءٌ برابر ہیں، وَقِيلَ: الْبَرِّيُّ يُفْسِدُهُ، اور کہا گیا ہے خشکی والا مینڈک وہ فاسد کر دے گا ان چیزوں کو، لِوُجُودِ الدَّمِ، کس وجہ سے؟ خون کے پائے جانے کی وجہ سے، وَعَدَمِ الْمَعْدِنِ، اور معدن کے نہ ہونے کی وجہ سے بھئی، تو خشکی کا مینڈک کیا کر دے گا؟ فاسد کر دے گا بھئی۔
وَمَا يَعِيشُ فِي الْمَاءِ، اور وہ جو پانی میں رہتا ہے، بھئی پانی میں رہنے والا کس کو کہیں گے؟ کہتے ہیں بتلائیں گے آپ کو، جس کی نسل بھی پانی میں ہوتی ہے یعنی انڈے بچے وغیرہ کس میں ہوتے ہیں؟ پانی ہی میں، اور وہ زندگی بھی کس میں گزارتا ہے؟ ٹھکانہ بھی کہاں ہے؟ پانی میں۔ تو اس کو کہیں گے مَا يَعِيشُ فِي الْمَاءِ، وہ چیز جو پانی میں زندگی گزارتی ہے۔ اور اگر انڈے وغیرہ خشکی پر ہوتے ہیں اور زندگی صرف کس میں گزارتا ہے؟ پانی میں، اس کو مَا يَعِيشُ فِي الْمَاءِ نہیں کہیں گے۔
کہتے ہیں: وَمَا يَعِيشُ فِي الْمَاءِ، اور وہ چیز جو پانی میں رہتی ہے زندگی گزارتی ہے، ما وہ چیز ہے وہ جانور ہے: يَكُونُ تَوَالُدُهُ وَمَثْوَاهُ فِي الْمَاءِ، تَوَالُدٌ کہتے ہیں نسل بڑھانا یعنی انڈے بچے وغیرہ ہونا، کہ جن کا توالد جن کی نسل بھی جو ہے بڑھتی ہے، وَمَثْوَاهُ اور ان کا ٹھکانہ بھی ہوتا ہے فِي الْمَاءِ کس میں؟ پانی، کہ ان کی نسل بھی بڑھتی ہے اور ٹھکانہ بھی ہے پانی میں۔
وَمَائِيُّ الْمَعَاشِ دُونَ مَائِيِّ الْمَوْلِدِ مُفْسِدٌ، اور معاش بھئی، یاد رکھیے معاش کہتے ہیں روزی کو، روزی۔ یعنی کھانے پینے کا سامان کرنا، کھانے پینے کا بندوبست کرنا، تو مَائِيُّ الْمَعَاشِ وہ جانور جو پانی کے اندر کھانا پینا ان کا ہوتا ہے، وہاں سے وہ روزی حاصل کرتے ہیں بھئی۔ تو وہ جانور جو مَائِيُّ الْمَعَاشِ ہیں، دُونَ مَائِيِّ الْمَوْلِدِ، لیکن مَائِيُّ الْمَوْلِدِ نہیں یعنی ان کی پیدائش وغیرہ پانی میں نہیں ہوتی، ان کی نسل وغیرہ پانی میں نہیں ہوتی، نسل تو زمین پر لیکن روزی وغیرہ کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ پانی سے حاصل کرتے ہیں، جیسے بطخ وغیرہ بھئی۔ جیسے کیا ہے؟ جیسے بطخ ہے، یہ ان کے بارے میں صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: مُفْسِدٌ، یہ کیا ہیں؟ مفسد ہیں، یہ پانی کو فاسد کرنے والے ہیں یعنی اگر یہ پانی میں مر جائیں گے تو وہ پانی کیا ہو جائے گا؟ فاسد یعنی نجس ہو جائے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔