Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-038

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَالنَّجَاسَةُ ضَرْبَانِ مَرْئِيَّةٌ وَغَيْرُ مَرْئِيَّةٍ فَمَا كَانَ مِنْهَا مَرْئِيًّا فَطَهَارَتُهَا بِزَوَالِ عَيْنِهَا لِأَنَّ النَّجَاسَةَ حَلَّتِ الْمَحَلَّ بِاعْتِبَارِ الْعَيْنِ فَتَزُولُ بِزَوَالِهِ إِلَّا أَنْ يَبْقَى مِنْ أَثَرِهَا مَا يَشُقُّ إِزَالَتُهُ لِأَنَّ الْحَرَجَ مَدْفُوعٌ۔ وَالنَّجَاسَةُ ضَرْبَانِ مَرْئِيَّةٌ وَغَيْرُ مَرْئِيَّةٍ، بھئی مختلف نجاستوں کو کیسے پاک کرنا ہے، اس کا ذکر چل رہا ہے بھئی۔ آج آپ کو بتلا رہے ہیں کہ: وَالنَّجَاسَةُ ضَرْبَانِ، نجاست دو قسم پر ہے: مَرْئِيَّةٌ، دکھائی دینے والی، وَغَيْرُ مَرْئِيَّةٍ، اور دکھائی نہ دینے والی۔ یعنی دوسرے آسان لفظوں میں یوں کہیے، ایک گاڑھی نجاست ہے، ایک پتلی نجاست ہے۔ ایک دکھائی دینے والی ہے، ایک دکھائی نہ دینے والی۔ معنی یہ ہے: خشک ہونے کے بعد۔ ایک چیز پر نجاست لگ گئی، خشک ہو گئی، اب بھی اس کا وہ نجاست اس مقام پر موجود دکھائی دے رہی ہے۔ اور ایک نجاست وہ ہے کہ جب خشک ہو گئی تو اب اس مقام پر دکھائی نہیں دے رہی، مثلاً پیشاب ہے، کپڑے پر لگ گیا، خشک ہونے کے بعد اب پتہ ہی نہیں چل رہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ دو قسم کی نجاستیں ہوئیں۔ اب بتلائیں گے کہ یہ ان میں سے ہر ایک کے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ ایک وہ نجاست جو خشک ہونے کے بعد بھی دکھائی دیتی ہے، اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ ایک وہ نجاست جو خشک ہونے کے بعد پھر دکھائی نہیں دیتی، اس کے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ تو کہتے ہیں: وَالنَّجَاسَةُ ضَرْبَانِ، نجاست دو قسم پر ہے: مَرْئِيَّةٌ وَغَيْرُ مَرْئِيَّةٍ، ایک دکھائی دینے والی ہے اور ایک دکھائی نہ دینے والی۔ فَمَا كَانَ مِنْهَا مَرْئِيًّا، پس وہ نجاست جو دکھائی دینے والی ہے، فَطَهَارَتُهَا بِزَوَالِ عَيْنِهَا، تو اس کا پاک ہونا جو ہے اس کی ذات کے زائل ہو جانے سے ہوگا۔ وہ نجاست جو دکھائی دینے والی ہے، اس کی ذات کو زائل کر دیا جائے تو وہ چیز یا وہ کپڑا وغیرہ پاک ہو جائے گا۔ مثلاً کپڑے پر گوبر لگ گیا تو اب گوبر ایسی نجاست ہے جو دکھائی دینے والی ہے، خشک ہونے کے بعد بھی دکھائی دیتی ہے، تو اس قسم کی نجاست جب کپڑے وغیرہ یا کسی چیز پر لگ جائے تو اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ کہ اس کو دھویا جائے یہاں تک کہ اس کی ذات ہی وہاں سے ختم ہو جائے۔ آپ کپڑے کو دھوئیں یہاں تک کہ گوبر کیا ہو جائے؟ کپڑے پر سے بالکل ختم ہو جائے۔ جب گوبر کی ذات... کپڑا نجس تھا، کیوں نجس تھا؟ کیونکہ اس پر گوبر لگا ہوا ہے۔ لیکن جب آپ نے دھویا، یا مثلاً خون لگا ہوا ہے، جب آپ نے دھویا تو اس خون کا نشان کیا ہوا؟ کپڑے پر سے وہ خون ختم ہو گیا، تو وہ کپڑا کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا وہ نجاست جو دکھائی دینے والی ہے: فَطَهَارَتُهَا بِزَوَالِ عَيْنِهَا، اس کی طہارت جو ہے اس کی عِین یعنی اس کی ذات کے زائل ہو جانے سے ہوگی کہ اس کی ذات وہاں سے ختم ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دوسری نجاست کون سی تھی؟ جو دکھائی دینے والی نہیں، جیسے پیشاب لگا ہے کپڑے پر، اب وہ تو خشک ہونے کے بعد دکھائی بھی نہیں دے رہا، اس کے پاک کرنے کا الگ طریقہ ہے، وہ آگے ذکر ہوگا۔ یہ تو خون تھا مثلاً دکھائی دینے والا، اس میں تو پتہ لگ گیا تھا کہ خون اب ختم ہو گیا، کپڑے پر سے چلا گیا، لیکن وہاں تو پتہ نہیں چلے گا، وہ تو دکھائی دینے والی نہیں، اس کا حکم الگ، وہ آگے بیان کریں گے۔ لیکن یہاں کس کا حکم بیان ہوا؟ جو دکھائی دینے والی نجاست ہے، اس سے وہ کپڑا یا چیز وغیرہ کب پاک ہوگی؟ جب وہ نجاست وہاں سے ختم ہو جائے، اس کی ذات ہی ختم ہو جائے۔ دلیل کیا ہے؟ کیوں؟ کس وجہ سے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ النَّجَاسَةَ حَلَّتِ الْمَحَلَّ بِاعْتِبَارِ الْعَيْنِ فَتَزُولُ بِزَوَالِهِ، اس لیے کیونکہ نجاست حَلَّتِ الْمَحَلَّ، وہ ایک جگہ پر نازل ہوئی ہے، ایک جگہ پر اتری ہے، یعنی ایک جگہ پر لگ گئی ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ جو نجاست ہے یہ ایک مقام پر لگ گئی ہے، بِاعْتِبَارِ الْعَيْنِ، کس اعتبار سے لگی ہے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے لگی ہے، دکھائی دے رہی ہے، لگی ہوئی ہے، فَتَزُولُ بِزَوَالِهِ، تو یہ زائل بھی کس سے ہوگی؟ ذات ہی کے ختم ہونے سے وہ چیز وہاں سے ختم ہو جائے گی، وہ گوبر ہے یا وہ خون ہے، وہ وہاں سے ختم ہو جائے گا تو وہ چیز کیا ہو جائے گی؟ پاک۔ یہ معنی ہے فَتَزُولُ بِزَوَالِهِ، تو یہ نجاست زائل ہوگی بِزَوَالِهِ، اس عین کے، اس ذات کے زائل ہو جانے سے۔ إِلَّا أَنْ يَبْقَى مِنْ أَثَرِهَا مَا يَشُقُّ إِزَالَتُهُ، مگر یہ کہ باقی رہے اس نجاست کے اثر میں سے مَا وہ چیز يَشُقُّ إِزَالَتُهُ، کہ مشقت دے اس کا زائل کرنا، مشکل میں ڈالے اس کا زائل کرنا۔ بھئی دیکھیے، انہوں نے آپ کو بتلایا وہ نجاست جو دکھائی دینے والی ہے، وہ اگر کپڑے یا کسی چیز پر لگ جائے تو اس کپڑے یا چیز کو دھوئیں گے جب تک کہ اس نجاست کا جسم وہاں سے ختم ہو جائے۔ جب اس کی ذات، اس کا جسم نجاست کا وہاں سے ختم ہوگا تو وہ کپڑا یا وہ چیز پاک ہو جائے گی۔ إِلَّا یہ کہ اس کا اس کے جو نشان ہے وہ نجاست کا باقی رہ جاتا ہے، وہ ختم ہو ہی نہیں رہا آسانی سے، اس کے لیے صابن وغیرہ کسی خاص چیز کی ضرورت پڑے گی۔ تو کہتے ہیں بھئی اگر ایسا نشان... نجاست کو ختم کر دیا، صرف اس کا نشان باقی ہے، وہ نہیں ختم ہو رہا تو کوئی حرج نہیں، وہ کپڑا یا وہ چیز کیا ہو چکی؟ پاک ہو گئی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: إِلَّا أَنْ يَبْقَى مِنْ أَثَرِهَا، مگر یہ کہ باقی رہے اس نجاست کے اثر میں سے مَا يَشُقُّ إِزَالَتُهُ، مَا وہ چیز يَشُقُّ، مشقت دیتا ہو یا مشکل میں ڈالتا ہو إِزَالَتُهُ، اس کا زائل کرنا۔ یعنی اب ویسے پانی سے وہ ختم نہیں ہو رہا نشان، کس سے ختم ہوگا؟ صابن وغیرہ سے، تو صابن سے دھونے کی ضرورت نہیں، بس کپڑے کو دھو دیا آپ نے، نجاست وہاں سے ختم ہو گئی ہے، صرف اس کا نشان باقی ہے، وہ ختم نہیں ہو رہا، کوئی حرج نہیں، وہ کپڑا کیا ہو چکا؟ پاک ہو گیا۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْحَرَجَ مَدْفُوعٌ، اس لیے کیونکہ تنگی جو ہے اس کو دور کیا گیا ہے۔ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ، اللہ نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ تو اگر یہاں صابن وغیرہ یا کسی چیز کو لازم قرار دیا جائے، اب ہر شخص تو ہر وقت اس چیز کو صابن وغیرہ تو اس کے پاس نہیں ہوتا، تو انسان کس میں پڑ جائے گا؟ تنگی اور مشقت میں پڑ جائے گا، اور تنگی اور مشقت تو دین کے اندر نہیں ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ یہاں اگر نشان کچھ رہ بھی گیا ہے، اس سے کوئی اثر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وَهَذَا يُشِيرُ، اور یہ بات اشارہ کر رہی ہے اس بات کی طرف إِلَى أَنَّهُ لَا يُشْتَرَطُ الْغَسْلُ بَعْدَ زَوَالِ الْعَيْنِ، کہ... بھئی دیکھیے، یہاں سے یہ ذکر کر رہے ہیں کہ متن میں جو انہوں نے ہمیں مسئلہ بتلایا، کیا بتلایا؟ کہ وہ نجاست جس کا ظاہری جسم ہو، اس نجاست کو دھو جب اس کا وہ ظاہری جسم وہاں سے ختم ہو جائے تو وہ کپڑا وغیرہ کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ معلوم ہوا چاہے ایک ہی دفعہ دھونے سے وہ نجاست ختم ہو گئی تو کپڑا کیا ہو جائے گا؟ پاک۔ یہ کس سے معلوم ہو رہا ہے؟ متن سے یہ معلوم ہو رہا ہے، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہی ذکر کر رہے ہیں: وَهَذَا يُشِيرُ، اور یہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے إِلَى أَنَّهُ لَا يُشْتَرَطُ الْغَسْلُ بَعْدَ زَوَالِ الْعَيْنِ، کہ شرط نہیں ہے دھونے کی اس کے عین کے زائل ہو جانے کے بعد۔ اس نجاست کی ذات جب زائل ہو گئی اور ختم ہو گئی، وہاں سے ہٹ گئی، اس کے بعد پھر دھونے کی ضرورت، دھونے کی شرط نہیں ہے۔ وَإِنْ زَالَ بِالْغَسْلِ مَرَّةً وَاحِدَةً، اگرچہ وہ زائل ہو جائے، دور ہو جائے ایک ہی مرتبہ دھونے سے۔ یہ کس سے معلوم ہو رہا ہے؟ متن سے۔ وَفِيهِ كَلَامٌ، اور اس کے اندر کلام ہے، یعنی فقہاء نے اس بارے میں کیا کیا ہے؟ کلام کیا ہے۔ تو متن سے تو بظاہر یہی معلوم ہو رہا ہے کہ نجاست ختم ہو گئی تو کپڑا پاک ہو گیا چاہے پہلی مرتبہ دھوتے ہی نجاست ختم ہوئی، کپڑا کیا ہو گیا؟ پاک ہو گیا، دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن فقہاء نے کیا کیا ہے اس بارے میں؟ کلام کیا ہے، بعض فرماتے ہیں کہ نہیں، ہاں دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں، بس ایک دفعہ میں بھی دھل گئی، ختم ہو گئی تو نجاست ختم۔ بعض کہتے ہیں نہیں، اس کے بعد بھی کیا کیا جائے؟ تین کا عدد پورا کر لیا جائے بھئی، تاکہ خوب اچھی طرح ہو جائے صاف۔ وَمَا لَيْسَ بِمَرْئِيٍّ فَطَهَارَتُهُ أَنْ يَغْسِلَ حَتَّى يَغْلِبَ عَلَى ظَنِّ الْغَاسِلِ أَنَّهُ قَدْ طَهُرَ۔ اب اس نجاست کا حکم بیان کر رہے ہیں جو خشک ہونے کے بعد دکھائی نہیں دیتی بھئی، جیسے پیشاب ہے وہ کپڑے پر لگ گیا۔ یاد رکھیے، اس میں پہلے میں کیا تھا؟ کہ نجاست کا... نجاست خود وہاں سے کیا ہو جائے؟ زائل ہو جائے۔ اب یہاں تو نجاست دکھائی نہیں دے رہی، اب کیا کیا جائے؟ کہتے ہیں اب کپڑے کو یا اس چیز کو دھو یہاں تک کہ تمہارا غالب گمان ہو جائے کہ اب کپڑا پاک ہو گیا ہوگا، اب وہ نجاست یہاں سے ختم ہو گئی ہوگی۔ تو یہاں کس کا اعتبار کرنا ہے؟ غالب گمان کا کہ اس کو دھوئیں گے بھئی۔ کہتے ہیں: وَمَا لَيْسَ بِمَرْئِيٍّ، اور وہ نجاست جو دکھائی دینے والی نہیں ہے فَطَهَارَتُهُ، تو اس کی طہارت جو ہے أَنْ يَغْسِلَ، وہ یہ کہ اس کو دھوئے حَتَّى يَغْلِبَ عَلَى ظَنِّ الْغَاسِلِ، یہاں تک کہ غالب گمان ہو جائے دھونے والے کا، حَتَّى يَغْلِبَ عَلَى ظَنِّ الْغَاسِلِ، یہاں تک کہ یہ بات غالب ہو جائے دھونے والے کے گمان پر أَنَّهُ قَدْ طَهُرَ، کہ وہ چیز، وہ غیر مرئی نجاست کیا ہو گئی ہے؟ پاک ہو گئی ہے، یعنی وہاں سے ختم ہو گئی ہے۔ لِأَنَّ التَّكْرَارَ لَا بُدَّ مِنْهُ لِلِاسْتِخْرَاجِ، اس لیے کیونکہ تکرار لَا بُدَّ مِنْهُ، وہ ہونا ضروری ہے لِلِاسْتِخْرَاجِ، اس کو نکالنے کے لیے۔ بھئی دیکھیے، کپڑے پر کس قسم کی نجاست لگی ہے؟ جو نظر آنے والی نہیں۔ تو اس میں اب صرف ایک دفعہ دھونے سے وہ نجاست پاک ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا، بلکہ جب تک دھونے والے کا غالب گمان نہ ہو جائے کہ نجاست اب ختم ہو گئی ہوگی، اس وقت تک وہ کپڑا یا چیز وغیرہ پاک نہیں ہے بھئی۔ اور معلوم ہوا کئی مرتبہ دھونا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ کئی مرتبہ دھونا پڑے گا۔ کیونکہ تکرار ضروری ہے۔ تکرار یعنی ایک چیز کو دوبارہ کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ تکرار کہلاتا ہے۔ تو تکرار یہاں ضروری، یعنی ایک مرتبہ دھونے کے بعد دوبارہ دھونا ضروری ہے لِلِاسْتِخْرَاجِ، کس لیے؟ اس نجاست کو نکالنے کے لیے۔ وہ نجاست وہ تو اب جذب ہو گئی ہے، وہ تو اب دکھائی نہیں دے رہی، اس کو نکالنے کے لیے کیا ضروری؟ تکرار۔ سمجھ میں آیا؟ تو کپڑے، مثلاً کپڑے ہی کا ذکر چل رہا ہے تو تکرار اس کے اندر ضروری ہے لِلِاسْتِخْرَاجِ، اس نجاست کو نکالنے کے لیے۔ وَلَا يُقْطَعُ بِزَوَالِهِ، اور قطعی نہیں ہو سکتا اس کا زائل ہونا، فَاعْتُبِرَ غَالِبُ الظَّنِّ، لہٰذا اعتبار کیا گیا غالب ظن کا كَمَا فِي أَمْرِ الْقِبْلَةِ، جیسے کس کے معاملے میں تھا؟ قبلے کے معاملے میں تھا بھئی، قبلے کے معاملے میں۔ بھئی دیکھیے، ایک شخص جنگل میں ہے اور نماز کا وقت ہو گیا، اب اسے قبلے کی سمت کا اندازہ نہیں کہ قبلہ کس طرف ہے، تو کیا حکم دیا ہے شریعت نے؟ کہ تحری کرے، اپنا ذہن دوڑائے اور غور کرے قبلہ کس طرف ہوگا، اور جس طرف ذہن بتلا دے کہ اس طرف ہوگا قبلہ تو اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے۔ تو جس طرف اس کا غالب گمان ہوا، دیکھو اس نے اس طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی۔ تو یہاں پر بھی اب دیکھیے وہ نجاست کپڑے پر لگی ہے اور اس کا جسم تو دکھائی نہیں دے رہا، اور کپڑا کب پاک ہوگا؟ جب وہ نجاست وہاں سے نکل جائے۔ اور نجاست کے نکلنے کا یہاں آنکھوں سے نظر ہی نہیں آ رہی تو یقینی طور پر علم بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ نجاست قطعی طور پر اب زائل ہو گئی ہے، ختم ہو گئی ہے۔ جب قطعی طور پر علم نہیں ہو سکتا تو پھر غالبِ گمان کا اعتبار کیا جائے گا۔ دیکھو وہ شخص جنگل میں تھا، قبلے کی یقینی سمت کا جب علم نہیں تھا تو کس کا اعتبار کرنا پڑا؟ غالب گمان کا اعتبار کرنا پڑا۔ یہاں پر بھی وہ نجاست دکھائی دینے والی نہیں ہے تو اس کے ختم ہونے کا یقینی طور پر تو پتہ نہیں چل سکتا کہ ابھی ختم ہوئی ہے یا ختم نہیں، تو لہٰذا کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ غالب گمان کا۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے: وَلَا يُقْطَعُ بِزَوَالِهِ، اور یقینی نہیں ہو سکتا اس کا زائل ہونا فَاعْتُبِرَ غَالِبُ الظَّنِّ، تو اعتبار کیا گیا غالب گمان کا كَمَا فِي أَمْرِ الْقِبْلَةِ، جیسے قبلے کے معاملے میں ہے۔ وَإِنَّمَا قَدَّرُوا بِالثَّلَاثِ لِأَنَّ غَالِبَ الظَّنِّ يَحْصُلُ عِنْدَهُ، اور فقہاء نے اس کا اندازہ لگایا ہے بِالثَّلَاثِ، کتنی مرتبہ کے ساتھ؟ تین... یعنی تین مرتبہ اس کپڑے کو دھو لے تو وہ کپڑا پاک ہو جائے گا بھئی۔ وَإِنَّمَا قَدَّرُوا بِالثَّلَاثِ، اور فقہاء نے اس کا اندازہ لگایا ہے تین کے ساتھ۔ بھئی تین کے ساتھ کیوں؟ تین مرتبہ دھونا کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ غَالِبَ الظَّنِّ يَحْصُلُ عِنْدَهُ، اس لیے کیونکہ غالب گمان حاصل ہو جاتا ہے اس وقت، یعنی تین مرتبہ جب دھو لے تو کیا حاصل ہو جاتا ہے؟ غالب گمان ہو جاتا ہے کہ اب وہ نجاست یہاں سے ختم ہو گئی ہوگی۔ فَأُقِيمَ السَّبَبُ الظَّاهِرُ مَقَامَهُ تَيْسِيرًا، تو ظاہری سبب ہی کو قائم مقام کر دیا گیا اس کے تَيْسِيرًا، آسانی کے لیے۔ بھئی دیکھیے، یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں۔ بھئی وہ نجاست جس کا ظاہری جسم جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی، اس میں وہ کپڑا کب پاک ہوگا جب کیا حاصل ہو جائے؟ غالب گمان ہو جائے کہ وہ نجاست یہاں سے ختم ہو گئی ہوگی، اتنی مرتبہ اس کو دھوئیں، دھوئیں، اور یہ غالب گمان عام طور پر تین دفعہ دھونے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ تین مرتبہ جب آپ نے اس کو دھو لیا اور نچوڑ لیا تو اس سے کیا حاصل ہو جاتا ہے؟ غالب گمان کہ اب نجاست ختم ہو گئی ہوگی، کپڑے میں سے نکل گئی ہوگی۔ تو تین دفعہ سے غالب گمان حاصل ہو جاتا ہے، لہٰذا تین دفعہ دھونے کو ہی غالب گمان کے قائم مقام کر دیا گیا۔ لہٰذا اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں جب ایسی نجاست لگے تو کتنی دفعہ دھو لو کپڑے کو؟ تین دفعہ دھو لو۔ کیوں دیا تین دفعہ دھونے کا حکم؟ کیونکہ تین دفعہ دھونے سے کیا حاصل ہو جاتا ہے؟ غالب گمان۔ گویا تین دفعہ دھونا یہ سببِ ظاہری ہے کس چیز کا؟ اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ غالب گمان۔ تو تین دفعہ دھونا یہ سببِ ظاہری ہے کس کا؟ غالب گمان کا۔ تو اس سببِ ظاہری ہی کو غالب گمان کے قائم مقام کر دیا فقہاء نے اور کیا حکم لگا دیا؟ تین دفعہ دھو لے گا تو کپڑا پاک ہو جائے گا۔ بھئی اصل تو تین دفعہ نہیں تھا، اصل تو کیا تھا؟ غالب گمان تھا، غالب گمان تھا سبب۔ اور غالب گمان اب کب حاصل ہوگا؟ بھئی اب بعض لوگ سادہ ہوتے ہیں، اگر آپ اس کو یہ کہیں بھئی جب تک غالب گمان نہیں، وہ پتہ نہیں بیچارہ لگا رہے گا، کتنی دفعہ دھوتا رہے گا، کتنی مشکل میں پڑ گیا یا نہیں پڑ گیا؟ تو فقہاء نے آسانی فرما دی کہ بھئی عموماً کتنی دفعہ سے غالب گمان حاصل ہو جاتا ہے؟ تین دفعہ سے غالب گمان حاصل ہو جاتا ہے، تو سبب تھا غالب گمان، اور غالب گمان کا سبب کیا ہے؟ وہ کس سے حاصل ہوتا ہے؟ تین دفعہ دھونے سے، تو یہ سبب کا سبب ہوا۔ تو سبب کے سبب کو آسانی کے لیے کیا کر دیا گیا؟ سبب قرار دے دیا گیا پاک ہونے کا، کیا ہونے کا؟ پاک ہونے کا۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ بھئی بعض اوقات سبب پر انسان مطلع ہی نہیں ہو سکتا تو وہاں بھی سبب کے سبب کو قائم مقام کر دیا جاتا ہے، جیسے دیکھیے بھئی: وضو ٹوٹتا ہے خروجِ نجاست سے، لیکن جب انسان سویا ہو خروجِ نجاست کا پتہ نہیں چل سکتا، اس لیے وہ نیند جس میں استرخائے مفاصل ہو، اس نیند ہی کو کیا کر دیا گیا؟ وضو ٹوٹنے کا سبب قرار دے دیا۔ مسئلہ ذہن میں آیا؟ کیا مسئلہ تھا؟ بھئی نیند، بھئی نیند میں تو فی ذاتہٖ نیند میں تو کوئی ناقضِ وضو چیز نہیں، نیند سے وضو کیوں ٹوٹا؟ وجہ یہ کہ نیند سے تو ٹھیک ہے وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن نیند کے اندر عموماً کیا ہو جاتا ہے؟ خروجِ نجاست، اور نیند... انسان غفلت میں اس کو پتہ نہیں چلے گا، اس کا پتہ نہیں چل سکتا اس خروجِ نجاست کا، لہٰذا نیند وہ سبب تھی کس چیز کا؟ خروجِ نجاست، اور خروجِ نجاست سبب تھا کس چیز کا؟ وضو ٹوٹنے کا۔ تو یہاں سبب کے سبب یعنی نیند ہی کو کیا کر دیا گیا؟ وضو ٹوٹنے کا... نیند ہی کو سبب قرار دے دیا گیا کس چیز کا؟ وضو کے ٹوٹنے کا، وہ نیند جس میں استرخائے مفاصل ہو۔ تو دیکھو سبب کے سبب ہی کو کس کا درجہ دے دیا گیا؟ سبب کا درجہ، یعنی ناقضِ وضو کا یہ سبب ہے۔ حالانکہ یہ سبب تو نہیں، یہ تو سبب کس چیز کا ہے؟ خروجِ نجاست کا، اور خروجِ نجاست سبب ہے کس چیز کا؟ وضو، تو یہ سبب کا سبب ہے۔ تو بعض اوقات جب اصل سبب پر انسان مطلع نہ ہو سکے تو سبب کے سبب ہی کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ سبب کے قائم مقام۔ اسی طرح بعض اوقات سبب پر، سبب جو ہے اس میں مشکل ہو تو سبب کے سبب کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ سبب کا قائم مقام۔ جیسے یہاں پر اب ہم کیا کہیں؟ ہر ایک کو یہی حکم بتلایا جائے کہ بھئی کپڑے کو دھونا ہے یہاں تک کہ تمہارا کیا ہو جائے؟ غالب گمان ہو جائے کہ کپڑا کیا ہو گیا ہے؟ پاک۔ اب ٹھیک ہے، بعض لوگ تو بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے، بعض بیچارے مشکل میں پڑ جائیں گے، بھئی کتنی دفعہ دھوئیں؟ ان بیچاروں کی کوئی رائے بنتی نہیں ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اب کیا کریں، وہ دھوتے ہی رہیں گے، کتنی دفعہ دھو لیں گے، مشکل میں پڑ جائیں گے، تو فقہاء نے کیا کیا؟ یہاں پر سبب کیا تھا کس سے کپڑے کو پاک قرار دیا جائے گا؟ غالب گمان سے جب ہو جائے کہ پاک ہو گیا۔ اور غالب گمان عموماً کس سے حاصل ہو جاتا ہے، اس کا سبب کیا ہے؟ تین دفعہ دھو لینا، تو اس سبب کے سبب ہی کو کیا کر دیا گیا؟ پاک ہونے کا سبب قرار دے دیا گیا، تین دفعہ دھو لے گا، بس کیا ہو جائے گا؟ کپڑا پاک ہو جائے گا۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: لِأَنَّ غَالِبَ الظَّنِّ يَحْصُلُ عِنْدَهُ، اس لیے کیونکہ غالب گمان اس وقت حاصل ہو جاتا ہے، کس وقت بھئی؟ تین مرتبہ سے۔ تو اس لیے کیونکہ غالب گمان حاصل ہو جاتا ہے تین مرتبہ سے، فَأُقِيمَ السَّبَبُ الظَّاهِرُ مَقَامَهُ تَيْسِيرًا، تو اس سببِ ظاہری کو ہی قائم مقام کر دیا گیا اس غالب گمان کے۔ اس سببِ ظاہری کو، کون سا سببِ ظاہری؟ تین مرتبہ دھونا، یہ جو سببِ ظاہری ہے، کس چیز کا سببِ ظاہری ہے؟ غالب گمان کا۔ تو اس سببِ ظاہری یعنی تین مرتبہ دھونے کو ہی اس غالب گمان کے قائم مقام کر دیا گیا تَيْسِيرًا، کس لیے؟ آسانی کے لیے بھئی۔ وَيَتَأَيَّدُ ذَلِكَ بِحَدِيثِ الْمُسْتَيْقِظِ مِنْ مَنَامِهِ، اور اس کی تائید ہوتی ہے اس حدیث سے، کون سی حدیث؟ الْمُسْتَيْقِظِ مِنْ مَنَامِهِ، وہ جو نیند سے بیدار ہونے والے کی حدیث ہے۔ وہ حدیث میں کیا آیا تھا؟ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو پانی میں ہاتھ داخل نہ کرے یہاں تک کہ اسے تین مرتبہ دھو لے، تو دیکھو وہاں بھی تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا۔ تو فقہاء نے جو تین دفعہ کا اندازہ لگایا اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وَيَتَأَيَّدُ ذَلِكَ بِحَدِيثِ الْمُسْتَيْقِظِ مِنْ مَنَامِهِ، اور اس کی تائید ہوتی ہے وہ جو نیند سے بیدار ہونے والے کی حدیث ہے اس سے۔ ثُمَّ لَا بُدَّ مِنَ الْعَصْرِ فِي كُلِّ مَرَّةٍ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، پھر ضروری ہے، عصر کہتے ہیں نچوڑنا، پھر ضروری ہے نچوڑنا، کپڑے کو نچوڑنا فِي كُلِّ مَرَّةٍ، ہر مرتبہ میں فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، کس کے مطابق؟ ظاہرِ روایت کے مطابق کپڑے کو ہر مرتبہ نچوڑنا بھی ضروری ہے، لِأَنَّهُ هُوَ الْمُسْتَخْرِجُ، اس لیے کیونکہ نچوڑنا ہی نکالنے والا ہے کس چیز کو؟ نجاست کو۔ نچوڑیں گے تو نجاست کپڑے سے نکلے گی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا تین مرتبہ دھوئے اور ہر مرتبہ دھونے کے بعد اس کپڑے کو نچوڑ لے بھئی۔ اور تیسری مرتبہ میں فقہاء فرماتے ہیں خوب اچھی طرح نچوڑے تاکہ بالکل پانی وغیرہ ختم ہو جائے بھئی، ختم ہو جائے۔ تو معلوم ہوا ایسی نجاست میں کپڑے کو تین دفعہ دھویا جائے گا، اور ہر مرتبہ دھونے کے بعد کپڑے کو نچوڑنا بھی ضروری ہے، اور تیسری مرتبہ میں قوت کے ساتھ نچوڑے بھئی، قوت کے ساتھ۔ پھر ایک اور مسئلہ بھی بھئی یاد رکھیے، آگے نئی الگ فصل شروع ہو رہی ہے استنجا کے بیان میں، لیکن اسی گذشتہ فصل سے متعلقہ ایک دو مسائل یاد رکھیے گا۔ انہوں نے طریقے بتلائے آپ کو نجاست کے پاک کرنے کے۔ اب کپڑے پر نجاست لگ جائے تو کیا بتلایا انہوں نے کہ اگر اس کا ظاہری جسم ہے تو اس کو دھو یہاں تک کہ وہ نجاست ختم ہو جائے کپڑے پر سے۔ اگر وہ دکھائی دینے والی نہیں ہے تو اس کو کتنی دفعہ دھونا ضروری؟ تین مرتبہ دھونا ضروری اور ہر مرتبہ نچوڑا بھی جائے گا۔ اب اگر کوئی ایسا کپڑا ہے جس کو نچوڑنا ہی ممکن نہیں ہے، مثلاً کوئی موٹی چیز ہے جیسے قالین ہے، یا کوئی بچھونا ہے، اس پر نجاست لگ گئی ہے، تو اس میں یاد رکھیے اس کا طریقہ فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو دھو لے ایک مرتبہ اور پھر رکھ دے، اور پھر جب اس سے قطرے ٹپکنا بند ہو جائیں پانی کے، پھر اس کو دھو لے پھر اسی طرح رکھ دے، پھر جب قطرے ٹپکنا بند ہو جائیں تو پھر تیسری مرتبہ دھو لے، اب پاک ہو گئی وہ چیز بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ پھر یہاں ایک اور چیز بھی یاد رکھیے بھئی، جس کی عموماً حاجت پیش آتی رہتی ہے۔ یاد رکھیے اگر کوئی بچھونا وغیرہ ہے اس کے اگر ایک کنارے پر نجاست لگی ہے تو دوسرے کنارے پر یعنی جو کنارہ پاک ہے اس پر نماز جائز ہے۔ قالین کے ایک کنارے پر اگر نجاست لگ گئی، اس کا یہ معنی نہیں کہ اب آپ دوسرے پاک حصے پر بھی نماز نہیں پڑھ سکتے، بلکہ پاک حصے پر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ ایک اور مسئلہ بھی یاد رکھیے۔ بھئی بعض اوقات گھی وغیرہ ہے، اس کے اندر نجاست گر گئی، گھی ہے، یا شیرہ ہے، یا شہد ہے وغیرہ، تو اب اس کو کیسے پاک کیا جائے گا؟ فقہاء نے اس کا بھی طریقہ لکھا ہے کہ مثلاً گھی کے اندر نجاست گر گئی ہے، اب آپ اس کو پاک کرنا چاہتے ہیں، دوبارہ قابلِ استعمال بنانا چاہتے ہیں، تو اس کا طریقہ انہوں نے لکھا ہے۔ مثلاً بھئی تھوڑا بہت ہے اس میں تو آپ کو ضرورت نہیں پیش آئے گی، یا جسے اللہ نے مال دیا ہے اس کو تو ضرورت پیش نہیں آئے گی، ایک شخص غریب ہے وہ بیچارہ کیا کرے بھئی؟ اس کے لیے تو دوبارہ اتنا گھی لانا ہی بڑا مشکل ہے، تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ لکھا ہے فقہاء نے۔ یا مثلاً آپ کاروبار کر رہے ہیں، اب بہت سارا کئی من گھی پڑا ہے، اس کے اندر ایک چوہا گر کر مر گیا، اب کیا کریں بھئی؟ اب لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے ایک طرف آپ کا۔ نہیں بھئی، آسانی ہے شریعت کے اندر، طریقہ بتلایا ہے، آپ اگر اس کو اب بھی پاک کرنا چاہتے ہیں، کہ جتنا گھی ہے اسی کے بقدر اس میں پانی ڈال دیں، اس کو ملا دیں اس کے ساتھ، اور پھر اس کو آگ پر گرم کریں یہاں تک کہ وہ پانی خشک ہو جائے، ایک دفعہ دیکھیے پانی سے دھل گیا وہ گھی، دوبارہ اس میں اتنا ہی پانی ڈالیں اور پھر اس کو آگ پر پکائیں یہاں تک کہ وہ پھر خشک ہو جائے پانی، اور پھر اسی طرح تیسری مرتبہ کر لیں، جب تین دفعہ اس طرح کر لیں گے تو وہ گھی کیا ہو گیا؟ پاک ہو گیا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ اب دیکھیے آگے بھئی کتاب پر: فَصْلٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ، یہ فصل ہے استنجا کے بیان میں بھئی۔ اَلِاسْتِنْجَاءُ سُنَّةٌ، استنجا کرنا سنت ہے، لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهِ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پابندی فرمائی ہے، مواظبت فرمائی ہے۔ وَيَجُوزُ فِيهِ الْحَجَرُ وَمَا قَامَ مَقَامَهُ يَمْسَحُهُ حَتَّى يُنْقِيَهُ، اور جائز ہے اس کے اندر پتھر وَمَا قَامَ مَقَامَهُ، اور وہ چیز جو پتھر کے قائم مقام ہے، یعنی مٹی کا ڈھیلا وغیرہ۔ جو پتھر ہے یا جو چیز پتھر کے قائم مقام ہے اس کے ساتھ بھی استنجا جائز ہے۔ يَمْسَحُهُ، اس استنجا کے مقام کو پونچھے اس پتھر وغیرہ سے حَتَّى يُنْقِيَهُ، یہاں تک کہ اس کو صاف کر دے، نجاست کو اس پر سے ختم کر دے۔ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ الْإِنْقَاءُ، اس لیے کیونکہ مقصود کیا ہے؟ اِنقاء، پاک کرنا ہے، صاف کرنا ہے، فَيُعْتَبَرُ مَا هُوَ الْمَقْصُودُ، تو اعتبار کیا جائے گا اسی چیز کا جو مقصود ہے۔ یاد رکھیے امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں بھئی کہ استنجا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم کتنی دفعہ کرے؟ تین دفعہ، تین پتھر استعمال کرنا ضروری ہے۔ صاحبِ کتاب نے آپ کو بتایا کہ ہمارے نزدیک تین پتھر استعمال کرنا ضروری نہیں بلکہ اصل مقصود کیا ہے؟ پاک کرنا، صاف کرنا، لہٰذا اس مقصود کا اعتبار کیا جائے گا جتنی مرتبہ سے بھی وہ مقصود حاصل ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: يَمْسَحُهُ حَتَّى يُنْقِيَهُ، اس کو پونچھے، صاف کرے یہاں تک کہ وہ کیا ہو جائے؟ صاف ہو جائے، لہٰذا عدد نہیں۔ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ الْإِنْقَاءُ، اس لیے کیونکہ مقصود کیا ہے؟ وہ صاف کرنا ہے، فَيُعْتَبَرُ مَا هُوَ الْمَقْصُودُ، تو اعتبار اسی چیز کا کیا جائے گا جو مقصود ہے۔ وَلَيْسَ فِيهِ عَدَدٌ مَسْنُونٌ، اور اس کے اندر کوئی مسنون عدد نہیں۔ میں نے آپ کو بتایا امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں، کتنے پتھر ضروری؟ تین پتھر ضروری، لیکن یہ صاحبِ کتاب آپ کو بتلا رہے ہیں: وَلَيْسَ فِيهِ عَدَدٌ مَسْنُونٌ، اور اس کے اندر کوئی عددِ مسنون نہیں، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الثَّلَاثِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین ہونا ضروری ہیں یعنی تین پتھر، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وہ دلیل ذکر کرتے ہیں بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: وَلْيَسْتَنْجِ مِنْكُمْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، اور چاہیے کہ استنجا کرے تم میں سے کوئی ایک بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، کتنے پتھروں سے؟ تین پتھروں سے۔ کہتے ہیں دیکھیے یہ حدیث کے اندر آگیا، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں، امر آ رہا ہے: وَلْيَسْتَنْجِ، چاہیے کہ کیا کرے؟ استنجا کرے مِنْكُمْ، تم میں سے کوئی ایک بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، کتنے پتھروں سے؟ تین سے، تو معلوم ہوا تین کا ہونا ضروری ہے۔ ہم جواب دیتے ہیں: وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اور ہماری دلیل وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، جو استنجا کرے فَلْيُوتِرْ، تو کتنی دفعہ کرے؟ طاق، بھئی ایک ہے جفت ایک طاق۔ مثلاً تین کیا ہے، جفت ہے یا طاق ہے؟ طاق ہے، اور پانچ بھی طاق ہے، سات بھی طاق، جبکہ چار، چھ، آٹھ یہ کیا ہیں؟ جفت۔ تو حدیث میں کیا آیا: مَنِ اسْتَجْمَرَ، جو پتھر سے استنجا کرے فَلْيُوتِرْ، تو اس کو طاق مرتبہ کرے یعنی تین ہو گئے یا پانچ وغیرہ، فَمَنْ فَعَلَ فَحَسَنٌ، جس نے ایسا کیا فَحَسَنٌ، تو یہ اچھی بات ہے، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں۔ دیکھو اس حدیث میں آگیا جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، جس نے کیا اچھا کیا، جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔ معلوم ہوا تین پتھر ہونا ضروری نہیں ورنہ حضور علیہ السلام فرماتے کہ تین سے کم درست نہیں۔ نیز: وَمَا رَوَاهُ مَتْرُوكُ الظَّاهِرِ، اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا مَتْرُوكُ الظَّاهِرِ، وہ متروک الظاہر ہے، اس حدیث کا ظاہر متروک ہے۔ ظاہر حدیث کا کیا ہے؟ حدیث سے کیا پتہ چل رہا ہے ظاہری طور پر اس حدیث سے؟ کہ تین پتھروں کا ہونا ضروری ہے، اس حدیث کے ظاہر سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ تین پتھروں کا ہونا ضروری ہے، حالانکہ اس حدیث کا یہ ظاہری معنی بھی متروک ہے، فقہاء کے نزدیک یہ معنی مراد نہیں۔ چنانچہ بالاجماع اگر کسی شخص نے ایسے پتھر سے استنجا کیا جس کے تین کنارے تھے اور ایک کنارے سے استنجا کیا پھر دوسرے سے کیا اور پھر تیسرے سے، تو بالاجماع یہ جائز ہے، یہ کیا ہے؟ جائز ہے۔ حتیٰ کہ اے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃ آپ کے نزدیک بھی ایسا کرنا جائز ہے۔ معلوم ہوا اس حدیث کا ظاہر آپ کے نزدیک بھی متروک ہے، ورنہ تو حدیث کا ظاہر تو کیا بتلا رہا تھا؟ تین الگ الگ پتھر ہوں، ضرور ہونے چاہیے تھے، لیکن آپ کے نزدیک بھی کسی ایک ایسے پتھر سے استنجا کر لیا جائے جس کے تین کنارے ہوں، تینوں سے الگ الگ مرتبہ تو استنجا ہو جائے گا، ایسا کرنا جائز ہے، معلوم ہوا اس کا ظاہری معنی آپ کے نزدیک بھی متروک ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَمَا رَوَاهُ مَتْرُوكُ الظَّاهِرِ، اور وہ حدیث جو اس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا اس کا ظاہر متروک ہے، فَإِنَّهُ لَوِ اسْتَنْجَى بِحَجَرٍ لَهُ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ جَازَ بِالْإِجْمَاعِ، اگر استنجا کیا استنجا کرنے والے نے بِحَجَرٍ، حجر نکرہ آیا بھئی اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنتا ہے اس کے لیے؟ صفت۔ کیونکہ وہ فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ جملہ، اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں۔ اسی طرح اگر نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آ جائے وہ بھی کیا جملہ ہے اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ، تو وہ بھی اس نکرہ کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ تو یہاں بھی بِحَجَرٍ یہ نکرہ آیا، لَهُ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ، لَهُ خبرِ مقدم، ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ مبتدائے مؤخر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ اور جملہ اسمیہ ہو کر یہ حجر کے لیے صفت بنے گی۔ تو ترجمہ کیسے کریں گے پتھر سے پہلے یا حجر سے پہلے کیا لفظ لے آئیں گے؟ ایسا۔ فَإِنَّهُ لَوِ اسْتَنْجَى بِحَجَرٍ لَهُ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ، پس اگر استنجا کیا استنجا کرنے والے نے بِحَجَرٍ، ایسے پتھر سے لَهُ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ، جس کے تین کنارے تھے جَازَ بِالْإِجْمَاعِ، تو یہ بالاجماع جائز ہے بھئی۔ وَغَسْلُهُ بِالْمَاءِ أَفْضَلُ، اور پانی کے ساتھ اس کو دھونا افضل ہے بھئی۔ یہ تو پتھر کے ساتھ استنجا کا ذکر تھا، پانی کے ساتھ دھونا افضل۔ اچھا بھئی یاد رکھیے یہ پیچھے لفظ آیا ایک لفظ آیا استنجاء اور ایک لفظ آیا استجمر، استجمار، استجمار۔ استنجاء، استنجا کرنا مطلقاً چاہے پتھر سے ہو چاہے پانی سے ہو۔ پتھر سے ہو اس کو بھی کیا کہہ دیں گے؟ استنجاء۔ پتھر سے استنجا یا مٹی کے ڈھیلے سے کرے اس کو بھی کیا کہیں گے؟ استنجاء۔ لیکن استجمار، یہ بھی اس کا معنی بھی... استنجاء کرنا ہے لیکن یہ بالخصوص پتھر وغیرہ یا ڈھیلے سے کرنا۔ پانی سے کرے اس کو استجمار نہیں کہیں گے۔ اس کو استنجاء کہیں گے۔ صورت سمجھ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَغَسْلُهُ بِالْمَاءِ أَفْضَلُ“ اور اس کو پانی سے دھونا افضل ہے، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے دلیل ذکر کر رہے ہیں: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ اس میں یعنی اس بستی کے اندر ”رِجَالٌ“ ایسے لوگ ہیں، نکرہ کے بعد فعل آ رہا ہے، ایسے لوگ ہیں ”يُحِبُّونَ“ جو پسند کرتے ہیں ”أَنْ يَتَطَهَّرُوا“ کہ وہ پاک ہوں بھئی، پاک رہیں۔ وہ کیا کرتے ہیں پاک ہونے کو؟ تو اس بستی میں ایسے لوگ ہیں جو پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں۔ یہ آیت نازل ہوئی اہل قباء کے بارے میں۔ قباء وہ مقام جہاں پر ہجرت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، مدینہ منورہ کے قریب ہی چند میل کے فاصلے پر یہ بستی تھی اور یہیں پر سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی پہلی مسجد تعمیر فرمائی بھئی، پہلی مسجد۔ ایک چھوٹی سی مسجد بنائی گئی۔ لیکن چونکہ یہ اسلام کی پہلی مسجد تھی اس کو اللہ نے یہ فضیلت بخشی کہ جو اس مسجد کے اندر دو رکعت نفل پڑھ لیتا ہے اللہ اس کو عمرے کا ثواب نصیب فرماتے ہیں، صرف دو رکعت نفل بھئی۔ تو اب تو بڑی بہترین اس مسجد کو بہترین بنا دیا گیا ہے اور حج اور عمرے وغیرہ پر جانے والے وہاں زیارت کے لیے جاتے ہیں اور تو وہاں جب بھی موقع ملے جتنے انسان زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھ لے تو اتنا ہی عظیم ثواب حاصل کر لے گا بھئی۔ عمرہ؟ عمرے پہ تو اچھا خاصا وقت لگتا ہے، احرام باندھنا پڑے گا، آپ کو حرم سے باہر نکل کر پھر وہاں سے نیت کر کے آنا ہوگا احرام کی اور پھر آئیں گے بیت اللہ کا طواف کریں گے اور اگر ہجوم ہو تو اسی ایک طواف پہ بعض اوقات کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں، ہجوم نہ ہو تو پھر ذرا جلدی بھی ہو جاتا ہے، اور پھر صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگانے پڑیں گے یعنی سعی کرنا پڑے گی تو وہ بھی اچھا خاصا فاصلہ ہے بھئی، اور پھر اس کے بعد پھر بال کٹوائیں گے، اب جا کر ایک عمرہ مکمل ہوا بھئی اور کتنے ہی گھنٹے آپ کے لگ گئے بھئی، اور یہاں مسجد قباء کے اندر دو رکعت نفل، ہر دو رکعت پر آپ کو ایک عمرے کا ثواب اللہ نصیب فرماتے ہیں بھئی۔ تو یہ لوگ جہاں یہاں پہلی مسجد حضور علیہ السلام نے تعمیر فرمائی اور پھر حضور علیہ السلام تشریف لے آئے مکہ مدینہ منورہ بھئی۔ تو پھر آیت نازل ہوئی اہل قباء کے بارے میں کسی موقع پر اور اس میں ذکر آیا اللہ فرماتے ہیں: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ اس بستی میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں پاک ہونے کو۔ اللہ نے ان کی مدح فرمائی ہے، دیکھو کہ ایسے لوگ ہیں جو کس کو پسند کرتے ہیں پاک ہونے کو یعنی پاکی کو پسند کرتے ہیں۔ بعد میں اہل قباء میں والے آئے حضور علیہ السلام کے پاس تو حضور علیہ السلام نے ان سے پوچھا بھئی کہ کیا بات ہے تم لوگ کیا عمل کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے اندر باقاعدہ تمہاری مدح کے اندر آیت میں تمہارا ذکر اللہ نے فرمایا ہے بھئی، آیت کے اندر؟ تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ اور تو کوئی ایسی خاص بات نہیں ہاں ہم مٹی کے ڈھیلے یا پتھر سے استنجاء کرنے کے بعد پانی سے بھی استنجاء کر لیتے ہیں، پانی سے بھی۔ تو دیکھو معلوم ہوا صرف اس بات پر ہی اللہ نے ان کی قرآن میں مدح فرمائی۔ تو کہ اب دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”وَغَسْلُهُ بِالْمَاءِ أَفْضَلُ“ اور پانی کے ساتھ دھونا افضل ہے، بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ اس بستی میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں پاکی کو، ”نَزَلَتْ فِي أَقْوَامٍ“ یہ آیت نازل ہوئی ایسے لوگوں کے بارے میں ”كَانُوا يُتْبِعُونَ الْحِجَارَةَ الْمَاءَ“، اتبع یتبع کے معنی پیچھے لانا، بعد میں لانا، جو بعد میں لاتے تھے ”الْحِجَارَةَ“ پتھروں کے، یعنی استنجاء میں پتھر استعمال کرنے کے بعد اس کے پیچھے اور کیا لاتے تھے ”الْمَاءَ“ پانی کو۔ یعنی پتھر استعمال کرنے کے بعد کس کو استعمال کرتے تھے یہ لوگ؟ پانی کو استعمال کرتے تھے، ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اللہ نے تعریف فرمائی ہے، معلوم ہوا پانی کے ساتھ استنجاء کرنا افضل ہے۔ ”ثُمَّ هُوَ أَدَبٌ“ اب بھئی استنجاء مٹ کرنا مسنون ہے۔ مٹی کے ڈھیلے یا پتھر کے ساتھ کرنا تو مسنون ہے، یہ پانی کے ساتھ استنجاء کرنا یہ کیا ہے بھئی؟ یہ بھی مسنون ہے؟ تو فرما رہے ہیں صاحب ہدایہ: ”ثُمَّ هُوَ أَدَبٌ“ پھر یہ پانی کے ساتھ استنجاء کرنا ادب ہے، پتھر کے ساتھ تو کرنا تو مسنون اور یہ پانی کے ساتھ کرنا ادب ہے یعنی مستحب ہے بھئی، مستحب ہے۔ ”وَقِيلَ: سُنَّةٌ فِي زَمَانِنَا“ اور کہا گیا ہے ہمارے زمانے میں یہ سنت ہے، بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ ہمارے زمانے میں یہ سنت ہے بھئی۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی فرماتے ہیں کہ پانی کے بارے میں کہ پانی سے استنجاء کر لیا کرو۔ اور وہ ذکر فرماتے ہیں وجہ اس کی بھئی کہ پچھلے لوگ جو تھے ان کا پاخانہ سخت ہوتا تھا، مینگنی کی طرح سخت پاخانہ، خوراکیں ان کی، بیچاروں کے پاس کوئی خوراک وغیرہ تھی نہیں، پھر بعد میں اللہ نے وسعت دے دی، خوراکیں، قسم قسم کے خوراکیں آ گئیں، اب جو پاخانہ ہوتا ہے وہ پتلا ہوتا ہے، لہٰذا وہ پانی ہی سے اچھی طرح صاف ہوگا، لہٰذا آج کے زمانے میں کیا فرماتے ہیں، سنت کیا ہے؟ پانی کا استعمال، جی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ هُوَ أَدَبٌ“ کہا گیا پھر وہ ادب ہے یعنی مستحب ہے، ”وَقِيلَ: سُنَّةٌ فِي زَمَانِنَا“ اور کہا گیا ہے سنت ہے ہمارے زمانے میں۔ ”وَيَسْتَعْمِلُ الْمَاءَ إِلَى أَنْ يَقَعَ فِي غَالِبِ ظَنِّهِ أَنَّهُ قَدْ طَهُرَ“ اب پانی کے ساتھ استنجاء کرے کتنی مرتبہ دھونا ضروری؟ کہتے ہیں وہ پانی استعمال کرے ”إِلَى أَنْ يَقَعَ فِي غَالِبِ ظَنِّهِ“ یہاں تک کہ اس کے یہ بات واقع ہو جائے اس کے غالب گمان میں ”أَنَّهُ قَدْ طَهُرَ“ کہ وہ کیا ہو چکا ہے؟ پاک ہو چکا ہے۔ یعنی اس میں بھی کوئی عدد مقرر نہیں ہے بلکہ پاک ہونے کو دیکھا جائے گا۔ ”وَلَا يُقَدَّرُ بِالْمَرَّاتِ“ اور اس کو مقرر نہیں کیا جائے گا مرات کے ساتھ، مرتبہ کے ساتھ کہ اتنی مرتبہ کے ساتھ، اتنی مرتبہ کرنا ضروری ہے۔ ”إِلَّا إِذَا كَانَ مُوَسْوِسًا“ یا یوں کہیں، قدر کا معنی اندازہ لگانا، ”وَلَا يُقَدَّرُ بِالْمَرَّاتِ“ اس کا اندازہ نہیں لگایا جائے گا کس کے ساتھ؟ مرات یعنی مرتبہ کے ساتھ کہ کتنی مرتبہ کرنا ضروری، ”إِلَّا إِذَا كَانَ مُوَسْوِسًا“ مگر یہ کہ وہ استنجاء کرنے والا موسوس ہو یعنی وسوسہ کرنے والا ہو، وہم کرنے والا ہو بھئی۔ وہم کی بڑی خطرناک بیماری ہے، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے بھئی۔ وہم جس کو وہم ہو جاتا ہے آپ نے شاید بعضوں کو دیکھا ہوگا وہ بار بار ایک کام کو کرتے ہیں پھر وہم ہوتا ہے، شاید یہ مثلاً وضو کر رہے ہیں پھر وضو کر لیتے ہیں کہ شاید وضو صحیح نہیں ہوا، پھر دوبارہ وضو کر لیتے ہیں شاید وضو نہیں ہوا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ بیماری ہے اور یہ کوئی ہنسنے والی بات نہیں ہے بھئی، دعا کرتا رہے انسان کہ اللہ اس سے حفاظت فرمائے۔ یہ جس کو لگ جاتی ہے اور جان چھوٹنے کی صورت نہیں سمجھ میں آتی، لہٰذا اسی لیے فقہاء بھی فرماتے ہیں وہم نہیں کرنا چاہیے، جب ایک دفعہ آپ نے ایک عمل کر لیا اس میں وہم کرنے کی ضرورت نہیں، اس آپ نے وضو کر لیا ہے اب وہم کرنے کی ضرورت نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا إِذَا كَانَ مُوَسْوِسًا“ مگر یہ کہ وہ شخص وہ استنجاء کرنے والا وسواس کرنے والا ہو یعنی وہم کرنے والا ہو، ”فَيُقَدَّرُ بِالثَّلَاثِ فِي حَقِّهِ“ تو اندازہ لگایا جائے گا تین کے ساتھ اس کے حق میں، یعنی اس کے لیے کم از کم کتنی مرتبہ وہ دھو لے؟ تین مرتبہ۔ ”وَقِيلَ: بِالسَّبْعِ“ اور کہا گیا ہے سات مرتبہ، کتنی مرتبہ؟ سات مرتبہ، تو بہرحال جس سے اس کی تسلی ہو بھئی۔ ”وَلَوْ جَاوَزَتِ النَّجَاسَةُ مَخْرَجَهَا لَمْ يَجُزْ إِلَّا الْمَاءُ“ اور اگر تجاوز کر جائے نجاست اپنے مخرج سے تو پھر جائز نہیں ہے مگر پانی ہی۔ بھئی دیکھیے! ابھی آپ نے مسئلہ پڑھا کہ مسنون کیا ہے، استنجاء کس سے کیا جائے؟ مٹی کے ڈھیلے سے استنجاء کیا جائے یا پتھر سے استنجاء کیا جائے اور پانی استعمال کرنا افضل ہے بھئی، پانی استعمال کرنا افضل ہے۔ یہ تو اس وقت ہے مٹی کے ساتھ یا پتھر کے ساتھ استنجاء کرنا جب وہ نجاست یعنی وہ پاخانہ اپنے مخرج ہی پر لگا ہو، ارد گرد نہ پھیل جائے۔ اگر وہ نجاست اپنے مخرج سے ارد گرد پھیل گئی، ارد گرد والی جلد پر لگ گئی تو پھر اب پتھر سے یا مٹی کے ڈھیلے سے استنجاء کافی نہیں ہوگا بلکہ پھر کس کے ساتھ دھونا ضروری؟ پانی کے ساتھ دھونا ضروری ہے، مسئلہ سمجھ میں آیا؟ یہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَلَوْ جَاوَزَتِ النَّجَاسَةُ مَخْرَجَهَا“ اور اگر تجاوز کر جائے، بڑھ جائے نجاست ”مَخْرَجَهَا“ اپنے مخرج سے یعنی نکلنے کی جگہ سے ”لَمْ يَجُزْ“ تو پھر جائز نہیں ہے ”إِلَّا الْمَاءُ“ مگر پانی، پھر پانی ہی ضروری ہے۔ ”وَفِي بَعْضِ النُّسَخِ: إِلَّا الْمَائِعُ“ اور قدوری کے بعض نسخوں کے اندر ”إِلَّا الْمَائِعُ“ کا لفظ آیا ہے، اس متن میں تو کیا آیا؟ پھر جائز نہیں سوائے پانی کے، اور بعضوں میں کیا آیا؟ پھر جائز نہیں سوائے مائع بہنے والی چیز کے علاوہ اور کوئی چیز جائز نہیں۔ تو بعض نسخوں میں ماء کا لفظ بعض میں مائع کا لفظ آیا ہے۔ ”وَهَذَا يُحَقِّقُ اخْتِلَافَ الرِّوَايَتَيْنِ فِي تَطْهِيرِ الْعُضْوِ بِغَيْرِ الْمَاءِ عَلَى مَا بَيَّنَّا“ اور یہ ثابت کرتا ہے دو روایتوں کے اختلاف کو عضو کے پاک کرنے میں پانی کے علاوہ کے ساتھ، بنا بوجہ اس کے جو ہم نے بیان کر دیا۔ بھئی دیکھیے! یہ باب جہاں شروع ہوا تھا، جی، یہ صفحہ 68 نکالیے بھئی، صفحہ 68 میں آخری سطر میں کیا آیا تھا؟ بھئی جہاں ”بَابُ الْأَنْجَاسِ وَتَطْهِيرِهَا“ یہ باب شروع ہوا تھا، اس کی آخری اسی صفحے پر آیا تھا: ”وَيَجُوزُ تَطْهِيرُهَا بِالْمَاءِ وَبِكُلِّ مَائِعٍ طَاهِرٍ يُمْكِنُ إِزَالَتُهَا بِهِ“ اور جائز ہے نجاست کو پاک کرنا پانی کے ساتھ بھی اور ہر پاک بہنے والی چیز کے ساتھ بھی۔ اسی متن کے آگے دو سطریں چھوڑ کر شرح میں آیا تھا: ”وَجَوَابُ الْكِتَابِ لَا يُفَرِّقُ بَيْنَ الثَّوْبِ وَالْبَدَنِ“ کہ کتاب کا جو جواب ہے یعنی کتاب میں جو ذکر کیا گیا ہے وہ کپڑے اور بدن میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ کتاب میں کیا آیا تھا؟ نجاست کو پاک کرنا جائز ہے ”بِالْمَاءِ“ پانی کے ساتھ ”وَبِكُلِّ مَائِعٍ طَاهِرٍ“ اور ہر پاک بہنے والی چیز کے ساتھ۔ تو دیکھیے متن کے اندر آیا ہر بہنے والی چیز کے ساتھ نجاست پاک ہو جائے گی، اس میں بدن اور کپڑے کا کوئی فرق نہیں کیا گیا، اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کپڑے پر لگے تب بھی پانی کے ساتھ کے بجائے اگر کوئی بہنے والی چیز سے صاف کرے تو صاف ہو جائے گی، بدن پر لگ جائے تو پانی کے بجائے اگر کوئی پاک بہنے والی چیز سے صاف کرے تو کیا ہو جائے گی؟ صاف ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہی آگے کہا تھا: ”وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَإِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ أَبِي يُوسُفَ“ اور یہی ایک قول ہے امام صاحب کا، یہی قول ہے امام صاحب کا اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے فرق کیا ہے: ”فَلَمْ يُجَوِّزْ فِي الْبَدَنِ بِغَيْرِ الْمَاءِ“ پس انہوں نے جائز قرار نہیں دیا بدن کے اندر بغیر الماء پانی کے علاوہ، وہ فرماتے ہیں بدن میں صرف پانی ہی ہونا ضروری ہے، کپڑے وغیرہ پر نجاست لگی ہے تو وہ پاک بہنے والی کسی بھی چیز سے صاف ہو جائے گی لیکن بدن پر لگی ہے تو کیا ضروری ہے؟ پانی کا ہونا ضروری ہے۔ تو یہی بات صاحب ہدایہ بھی ذکر کر رہے ہیں کہ یہاں پر بھی متن کے اندر بھئی، اب واپس اپنے سبق پر آئیے، یہاں پر بھی بعض نسخوں میں کیا آیا ہے؟ الماء کا لفظ اور بعض نسخوں میں کیا آیا ہے؟ بہنے والی چیز کا ذکر آیا ہے، ”وَهَذَا يُحَقِّقُ اخْتِلَافَ الرِّوَايَتَيْنِ فِي تَطْهِيرِ الْعُضْوِ بِغَيْرِ الْمَاءِ“ اور یہ اختلاف دو نسخوں کا یہ جو دو نسخوں کا اختلاف ہے یہ ثابت کرتا ہے، کیا ثابت کرتا ہے؟ ”اخْتِلَافَ الرِّوَايَتَيْنِ“ دو روایتوں کے اختلاف کو ”فِي تَطْهِيرِ الْعُضْوِ“ کس بارے میں؟ کسی عضو کے پاک کرنے کے بارے میں ”بِغَيْرِ الْمَاءِ“ پانی کے علاوہ کے ساتھ ”عَلَى مَا بَيَّنَّا“ بوجہ اس کے جو ہم نے ذکر کر دیا، ہم نے پیچھے بھی ذکر کیا تھا کہ کتاب سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ چاہے بدن پر نجاست ہو چاہے کپڑے پر ہو کسی بھی پاک بہنے والی چیز سے دھویا جائے وہ کیا ہو جائے گی؟ پاک ہو جائے گی، اور بعضوں نے کیا کیا ہے؟ فرق کیا ہے۔ تو کہتے ہیں یہاں بھی جو نسخے میں اختلاف آیا بتلاتا ہے معلوم ہوا اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں، بعض روایتوں سے یہ پتہ چلتا ہے صرف پانی سے ہی، بدن پر نجاست لگی ہے بھئی یہ استنجے کا مسئلہ چل رہا ہے نجاست کہاں پر لگی ہے؟ بدن پر لگی ہے، اور بعض نسخوں میں کیا آیا؟ پانی ہی ضروری ہے، معلوم ہوا پانی کے بجائے کسی اور چیز سے دھوئے گا تو وہ صفائی اور پاکی حاصل نہیں ہوگی، اور بعض نسخوں میں کیا آیا؟ بہنے والی چیز، معلوم ہوا پانی کے علاوہ اور بھی کوئی پاک بہنے والی چیز ہو اس کے ساتھ بھی اگر دھو لے گا تو بدن کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا، معلوم ہوا کتنی روایتیں ہیں اس سلسلے میں؟ دو روایتیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا يُحَقِّقُ اخْتِلَافَ الرِّوَايَتَيْنِ فِي تَطْهِيرِ الْعُضْوِ بِغَيْرِ الْمَاءِ عَلَى مَا بَيَّنَّا“ اور یہ جو ہے یہ دو نسخوں کا اختلاف یہ ثابت کرتا ہے پانی کے بغیر بھی عضو کے پاک ہونے کے بارے میں پانی کے بغیر پانی کے علاوہ کے ساتھ عضو کے پاک ہونے کے بارے میں جو دو روایتوں کا اختلاف، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ترجمہ آخر سے کر رہا ہوں، ”وَهَذَا يُحَقِّقُ“ یہ دو نسخوں کا اختلاف یہ ثابت کرتا ہے کیا ثابت کرتا ہے؟ ”اخْتِلَافَ الرِّوَايَتَيْنِ فِي تَطْهِيرِ الْعُضْوِ بِغَيْرِ الْمَاءِ“ پانی کے علاوہ کے ساتھ عضو کو پاک کرنے کے بارے میں روایتوں کے اختلاف، اس بارے میں روایتوں میں اختلاف موجود ہے، ”عَلَى مَا بَيَّنَّا“ بوجہ اس کے جو ہم نے بیان کر دیا شروع باب میں۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ الْمَسْحَ غَيْرُ مُزِيلٍ“ بھئی یہ کس وجہ سے متن میں کیا آیا؟ پانی کے علاوہ اور کوئی چیز اب جائز نہیں۔ اب پتھر کے ساتھ اس جگہ کو صاف بھی کر لیں جو نجاست ادھر ادھر لگ گئی پھر بھی پاکی حاصل نہیں ہوگی، کیوں نہیں حاصل ہوگی؟ صرف کس سے پاکی اب حاصل ہوگی؟ پانی سے، پتھر سے پاکی حاصل نہیں۔ کہتے ہیں اس لیے: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْمَسْحَ غَيْرُ مُزِيلٍ“ اسی کیونکہ پونچھنا جو ہے یعنی پتھر وغیرہ سے وہ پونچھنا ”غَيْرُ مُزِيلٍ“ وہ پونچھنا نجاست کو زائل کرنے والا نہیں۔ بھئی آپ پتھر کے ساتھ یا مٹی کے ڈھیلے کے ساتھ استنجاء کرتے ہیں تو کیا نجاست کے سارے اجزاء جلد پر سے ختم ہو جاتے ہیں؟ نہیں، سارے اجزاء تو ختم نہیں، سارے اجزاء ختم نہیں، تو معلوم ہوا پونچھنا جو ہے، مسح کرنا یعنی پتھر یا ڈھیلے سے یہ نجاست کو پورے طور پر ختم کرنے والا نہیں ہے، مگر استنجاء کے معاملے میں شریعت نے آسانی فرما دی کہ جب تک وہ نجاست کیا ہے؟ اپنے مخرج پر لگی ہوئی ہے، مٹی کے ڈھیلے یا پتھر سے بھی استنجاء کر لوگے تو تمہیں کیا حاصل ہوگئی؟ پاکی حاصل، یہ شریعت نے یہ معلوم ہوا نرمی کی ہے حکم کے اندر ورنہ حقیقتاً تو نجاست پورے طور پر صاف نہیں، تو یہ اب جو حکم آیا کہ مٹی کے ڈھیلے سے یا پتھر سے استنجاء کر لوگے تو بھی پاک ہو جاؤ گے، یہ خلاف العقل ہے یا مطابق عقل ہے؟ جی؟ بھئی یہ خلاف العقل ہے، خلاف القیاس ہے۔ قیاس تو کیا کہہ رہا ہے؟ قیاس، آپ عقل خود دیکھ رہے ہیں بھئی آپ کو نجاست پوری طرح صاف ہوئی ہے؟ نہیں، تو یہ ایک ایسا حکم آیا جو خلاف القیاس آیا بھئی، کیا آیا؟ خلاف، قیاس تو یہ تقاضا کر رہا ہے پتھر کے ساتھ استنجاء کرو تو پاکی حاصل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ کچھ نہ کچھ نجاست کے اجزاء ابھی بھی وہاں پر باقی ہیں، موجود ہیں، لیکن خلاف القیاس ایک حکم آ گیا کہ یہ مسنون ہے، اس طرح کر لوگے پاکی حاصل ہو جائے گی، تو یہ حکم ہوا خلاف القیاس۔ اور آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں اصول فقہ کے اندر، جو حکم خلاف القیاس ہوتا ہے وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے یعنی جس محل کے بارے میں جس چیز کے بارے میں آیا ہے اسی پر رہے گا، اور چیزوں کے اوپر اس کو قیاس نہیں کر، تو لہٰذا جب تک نجاست اپنے مخرج کے اوپر تھی تو اس وقت تک مٹی یا پتھر کے ڈھیلے سے استنجاء کر لیں گے تو پاک ہونے کا حکم لگایا جائے گا لیکن اگر یہ نجاست پھیل گئی، ارد گرد والی جلد پر لگ گئی تو اب وہ بھی پتھر کے ڈھیلے سے صاف کرنے سے وہ جگہ بھی صاف ہو جائے گی؟ نہیں بھئی، یہ حکم وہاں پر ہم نہیں لگا سکتے کیونکہ یہ حکم تو خود کیا تھا؟ خلاف القیاس، تو اب ساتھ والی جلد کو اس مخرج پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَسْحَ غَيْرُ مُزِيلٍ“ اسی کیونکہ پونچھنا جو ہے وہ تو نجاست کو پورے طور پر زائل کرنے والا نہیں ہے، ”إِلَّا أَنَّهُ اكْتُفِيَ بِهِ فِي مَوْضِعِ الِاسْتِنْجَاءِ“ مگر یہ کہ اسی پر اکتفاء کر لیا گیا استنجاء کے مقام میں، ”فَلَا يَتَعَدَّاهُ“ لہٰذا یہ اس سے متعدی نہیں ہوگا یعنی دوسرے محل کی طرف یہ حکم متعدی نہیں ہوگا۔ ”ثُمَّ يُعْتَبَرُ بِالْمِقْدَارِ الْمَانِعِ وَرَاءَ مَوْضِعِ الِاسْتِنْجَاءِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ؛ لِسُقُوطِ اعْتِبَارِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ“ پھر بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ ایک درہم کی مقدار نجاست غلیظہ اگر بدن پر لگی ہو تو یہ مقدار نماز سے مانع نہیں، اس کے ساتھ بھی اگر نماز پڑھیں گے تو نماز ہو جائے گی۔ تو یہ ضروری نہیں کہ انسان اسی طرح نجاست لگے ہونے کی حالت میں نماز پڑھے، ہاں اگر پانی نہیں ملتا اور ایک درہم یا ایک درہم سے کم مقدار نجاست کی بدن پر لگی ہوئی ہے تو نماز پڑھیں گے نماز ہو جائے گی بھئی، ورنہ اولاً تو کیا کرنا چاہیے؟ پانی سے دھو لے، صاف کر لے بھئی۔ ہاں اور اگر اس ایک درہم سے زائد مقدار بدن پر لگی ہے نجاست تو یہ مانع مقدار ہے، یہ نماز سے مانع ہے، اب اس کے ساتھ آپ نماز ادا کریں گے تو نماز ادا نہیں ہوگی۔ اب اب نجاست اگر استنجاء کے مقام سے پھیل گئی ادھر ادھر لگ گئی، تو اب جو ادھر ادھر نجاست لگ گئی کیا صرف اس کے اندر مقدار درہم کا اعتبار کیا جائے گا یا مخرج یعنی محل نجاست کو بھی ساتھ ملایا جائے گا؟ تو اس میں اختلاف ہے۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جو جو مخرج ہے یعنی استنجاء کا مقام ہے اس کا اعتبار نہیں کرنا، اس کے علاوہ جو پھیلی ہے نجاست اس کو دیکھو، اگر وہ درہم کی مقدار یا اس سے کم ہے تو یہ مقدار مانع نہیں اور اگر یہ درہم کی مقدار سے زائد ہے تو پھر یہ مقدار مانع بنے گی اور اس میں نماز جائز نہیں۔ تو معلوم ہوا محل استنجاء کے علاوہ کتنا کتنی مقدار مانع بنے گی؟ ایک درہم سے زائد مقدار، تو استنجاء کے مقام کا اعتبار نہیں کرنا کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ استنجے کا جو مقام ہے اس کا اعتبار ساقط ہے، اس کا اعتبار شریعت نے ساقط کر دیا ہے اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ بھئی کیا معنی اس کا اعتبار ساقط ہے؟ بھئی دیکھیے، ایک آدمی ہے وہ مٹی کے ڈھیلے سے یا پتھر سے استنجاء کر لیتا ہے، اب اس نے نجاست کو تو صاف کر دیا لیکن آپ مجھے بتائیے کیا نجاست پورے طور پر صاف ہوگئی یا کچھ اجزاء پھر بھی باقی ہوں گے؟ کچھ اجزاء یقیناً ابھی محل استنجاء پر باقی ہوں گے کیونکہ پوری صفائی پانی سے تو حاصل ہو سکتی ہے پتھر سے پوری صفائی حاصل نہیں، تو کچھ نجاست ابھی بھی لگی ہوئی ہے لیکن یہ اس کا اعتبار شریعت نہیں کرتی، شریعت اس کا اعتبار یہ ساقط ہے۔ چنانچہ یہ آدمی جس نے پتھر سے استنجاء کیا ہے اس کے بدن کے کسی حصے پر مثلاً بازو پر خون لگ گیا، آپ کیا حکم دیں گے؟ کیا حکم دیں گے؟ اگر ایک درہم یا اس سے ایک درہم یا اس سے کم ہے تو نماز جائز ہے، ایک درہم سے زائد ہے تو اس کے ساتھ نماز جائز نہیں، دیکھو محل استنجاء کا اعتبار آپ نے نہیں کیا حالانکہ وہاں پر بھی کچھ نجاست کے اجزاء ہیں لیکن اس کا اعتبار ساقط ہے، اس کا اعتبار کیا ہے؟ تو جیسے باقی بدن کے اندر ایک درہم سے زائد مقدار کا الگ اعتبار کرنا پڑے گا تب وہ مانع بنے گا، محل نجاست کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اسی طرح اگر اس محل نجاست یعنی محل استنجاء کے پاس بھی اگر نجاست پھیل گئی تو اس موضع استنجاء کے علاوہ دیکھا جائے گا، ایک درہم سے زائد ہے تو مانع ہے، ایک درہم سے زائد نہیں تو مانع نہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، محل نجاست یعنی یوں کہیں موضع استنجاء یعنی محل استنجاء کو ملا کر دیکھو، اس سمیت جو ارد گرد نجاست پھیل گئی ہے یہ درہم کی مقدار سے زائد ہو گئی تو یہ مقدار مانع بن جائے گی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ موضع استنجاء کو بھی ساتھ ملا کر درہم سے زائد ہونے درہم یا درہم سے زائد ہونے کا اعتبار کرتے ہیں جبکہ شیخین رحمہما اللہ اس کے علاوہ جو ہے ایک درہم سے زائد ہونے کا اعتبار کرتے ہیں پھر وہ مانع ہوگا بھئی، مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی؟ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”ثُمَّ يُعْتَبَرُ بِالْمِقْدَارِ الْمَانِعِ وَرَاءَ مَوْضِعِ الِاسْتِنْجَاءِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ پھر معتبر وہ مقدار جو مانع ہے اس کا اعتبار کیا گیا ”وَرَاءَ مَوْضِعِ الِاسْتِنْجَاءِ“ استنجاء کے مقام کے علاوہ، ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک استنجاء کے مقام کے علاوہ مقدار مانع کا اعتبار کیا جائے گا ”لِسُقُوطِ اعْتِبَارِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ“ اس وجہ سے کہ اس مقام کا اعتبار ساقط ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے جیسے کہیں اور خون لگ جائے تو وہاں صرف اس خون لگنے کی جگہ کو دیکھا جاتا ہے استنجاء کے مقام کو ساتھ شامل نہیں کیا جاتا۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ مَعَ مَوْضِعِ الِاسْتِنْجَاءِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک استنجاء کے مقام کے ساتھ اس کا اعتبار کیا جائے گا ”اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الْمَوَاضِعِ“ قیاس کرتے ہوئے باقی جگہوں پر۔ امام محمد رحمہ اللہ کس پر قیاس کرتے ہیں؟ باقی جگہوں پر، بدن کے باقی حصوں میں سے کہیں مثلاً بازو پر اگر خون لگ جائے اگر وہ درہم کی مقدار سے زائد ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟ مانع صلاۃ ہوتا ہے، تو لہٰذا استنجاء کے مقام کو ملا کر کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ ایک درہم سے زائد ہونے کو دیکھیں گے کہ اگر زائد ہے تو مانع صلاۃ ہے اور کم ہے تو مانع صلاۃ، تو جیسے باقی بدن میں نجاست کے درہم سے زائد ہونے کا جیسے اعتبار تھا اسی طرح وہاں پر بھی استنجاء کے مقام میں بھی استنجاء کے مقام کو ملاتے ہوئے اعتبار کیا جائے گا، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ جی، یہ معنی ہے ”اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الْمَوَاضِعِ“ قیاس کرتے ہوئے باقی جگہوں پر۔ ”وَلَا يَسْتَنْجِي بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثٍ“ اور استنجاء نہ کرے ”بِعَظْمٍ“ ہڈی کے ساتھ ”وَلَا بِرَوْثٍ“ اور نہ گوبر لید وغیرہ کے ساتھ۔ ہڈی اور گوبر، بھئی کسی بھی چیز سے استنجاء کر سکتا ہے انسان، پتھر ہو، مٹی کا ڈھیلا ہو یا اور کوئی ایسی چیز جس سے صفائی وغیرہ ہو جائے لیکن یاد رکھیے کوئی نقصان دہ چیز نہ ہو لہٰذا شیشے سے استنجاء کرنا صحیح نہیں، اسی طرح کوئی وہ چیز قیمت والی نہ ہو، قیمتی چیز کے ساتھ استنجاء کرنا یہ بھی اسراف ہے، یہ بھی درست نہیں ہے، اور سمجھ میں آیا؟ اسی طرح ہڈی کے ساتھ بھی استنجاء کرنا صحیح نہیں کیونکہ حدیث میں منع کیا گیا، گوبر لید وغیرہ کے ساتھ بھی استنجاء درست نہیں کیونکہ یہ خود نجاست ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح مثلاً دائیں ہاتھ سے استنجاء نہیں کرنا چاہیے، یہ سب چیزیں کیا ہیں؟ ان سے منع کیا گیا ہے بھئی۔ ہاں اگر کر لے، استنجاء ہو جائے گا لیکن یہ کیا کیا اس نے؟ برا کیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَسْتَنْجِي بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثٍ“ اور استنجاء نہ کرے ہڈی کے ساتھ اور نہ گوبر لید وغیرہ کے ساتھ، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، ”وَلَوْ فَعَلَ يُجْزِيهِ“ اور اگر کر لے کوئی ایسا تو یہ کافی ہو جائے گا اس کے لیے ”لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ“ کیونکہ مقصود حاصل ہو گیا، اور مقصود کیا تھا؟ اس مقام کا صاف کرنا۔ ”وَمَعْنَى النَّهْيِ فِي الرَّوْثِ النَّجَاسَةُ، وَفِي الْعَظْمِ كَوْنُهُ زَادَ الْجِنِّ“ اور یہ نہی کا معنی، معنی کا لفظ میں نے آپ کو بتلایا تھا فقہ کی کتابوں میں آئے تو اس کا عموماً ترجمہ کیا کریں گے؟ علت اور سبب، تو ”وَمَعْنَى النَّهْيِ“ اور نہی کا سبب کیا ہے؟ ”فِي الرَّوْثِ“ کس کے اندر؟ گوبر میں، اور نہی جو منع کرنے کی سبب ہے گوبر لید وغیرہ میں ”النَّجَاسَةُ“ وہ نجاست ہے کیونکہ یہ دونوں یہ چیزیں کیا ہیں؟ نجس، ”وَفِي الْعَظْمِ“ اور ہڈی میں منع کرنے کا سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں ”كَوْنُهُ زَادَ الْجِنِّ“ کہ وہ جنوں کی خوراک ہے بھئی، کیا ہے وہ ہڈی؟ جنوں کی خوراک ہے۔ بھئی یاد رکھیے حدیث میں اس سے منع کیا گیا تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ گوبر میں کیوں منع، گوبر سے استنجاء کرنے سے حضور علیہ السلام نے اس سے منع فرمایا کیونکہ وہ نجاست ہے اور ہڈی سے؟ کیونکہ وہ جنوں کی خوراک ہے، جنوں کی، یہ حدیث میں آتا ہے بھئی حدیث میں آتا ہے۔ اور حتیٰ کہ بعض احادیث میں دونوں کے بارے میں آتا ہے، گوبر اور ہڈی دونوں کے بارے میں آتا ہے کہ یہ جنوں کی خوراک ہیں دونوں کے بارے میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پھر جنوں کی خوراک کیسے ہے؟ علماء لکھتے ہیں بھئی، بعض فقہاء علماء لکھتے ہیں کہ آپ نے مثلاً گوشت کھایا اور ہڈی پھینک دی، اس ہڈی پر پھر اللہ جنات کے لیے غذا پیدا فرما دیتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح گوبر پر بھی ان کے لیے کوئی غذا اللہ پیدا فرما دیتے ہیں۔ اور بعضوں نے لکھا کہ جنات کی خوراک انسانوں کی طرح نہیں ہے، جنات کی خوراک؟ انسان تو لقمے بناتا ہے کھاتا ہے چباتا ہے غذا کو دانتوں کے ساتھ لیکن جنات وہ لطیف مخلوق ہے ہوا کی طرح لہٰذا ان کی خوراک بھی اسی طرح کی ہے اور ان کی خوراک صرف سونگھنا ہے، وہ صرف اس ہڈی اور کو سونگھتے ہیں تو اسی سے وہ سیر ہو جاتے ہیں بھئی۔ اچھا بھئی یہ میں نے کیا ذکر کیا قول؟ کہ ان کی غذا کس طرح ہے؟ سونگھنے سے، لیکن یہ قول درست نہیں بھئی، علماء نے اس کو ترجیح نہیں دی، نہیں بھئی جنات بھی کیا ہیں؟ انسانوں کی طرح کھاتے پیتے ہیں لقمے بناتے ہیں، ان میں بھی اسی طرح نکاح وغیرہ ہوتے ہیں، ان کی بھی اسی طرح اولاد وغیرہ ہوتی ہے، یہ سب سلسلے ان میں بھی چلتے ہیں۔ تو زیادہ راجح وہی کہ یا اسی پر اللہ کیا فرما دیتے ہوں گے؟ ان کے لیے دوبارہ خوراک پیدا فرما دیتے ہیں۔ اور میں نے بتایا بعض احادیث میں ہڈی کا بھی ذکر اور گوبر کا بھی ذکر آیا کہ یہ دونوں کیا ہیں؟ جنات کی خوراک، تو بعض علماء نے لکھا ہے کہ ہڈی جو ہے وہ جنات کی خوراک اور جو گوبر ہے وہ جنات کے جو جانور اور مویشی ہیں ان کی خوراک ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، باقی حقیقت حال تو پوری اللہ ہی جانتے ہیں۔ ”وَلَا بِطَعَامٍ“ اور کھانے کے ساتھ بھی استنجاء نہ کرے، کھانے والی چیز کے ساتھ ”لِأَنَّهُ إِضَاعَةٌ وَإِسْرَافٌ“ اس لیے کیونکہ یہ ضائع کرنا ہے یعنی رزق کو ضائع کرنا ہے ”وَإِسْرَافٌ“ اور اسراف کرنا ہے، حد سے تجاوز کرنا ہے فضول خرچی کرنا ہے، ”وَلَا بِيَمِينِهِ“ اور دائیں ہاتھ سے بھی نہ کرے استنجاء ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَهَى عَنِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ“ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یاد رکھیے بیت الخلاء میں جب انسان جائے تو ننگے سر نہیں جانا چاہیے بھئی، ہمیشہ سر ڈھانپ کر جائے۔ اسی طرح اللہ کا نام وغیرہ اس طرح کی کوئی چیز انسان کے پاس نہ ہو، ہاں تعویذ وغیرہ ہے اور وہ چھپا ہوا ہے پھر تو ٹھیک ہے لیکن ویسے انگوٹھی وغیرہ ہے اس پر اگر اللہ کا نام لکھا ہے یا اسی طرح کاغذ وغیرہ تو وہ باہر ہی رکھ جائے بھئی، باہر ہی۔ چنانچہ حضور علیہ السلام نے انگوٹھی بنوائی تھی بادشاہوں کو خطوط لکھنے کے لیے اور تاکہ اس اس کے ذریعے مہر لگاتے تھے بھئی، کیونکہ صحابہ نے مشورہ دیا تھا آپ بادشاہوں کو خط لکھ رہے ہیں تو بادشاہ ایسے خط کو اہمیت نہیں دیں گے مہر ہونی چاہیے، مہر لگی ہو پتہ چلے کوئی بڑی شخصیت کی طرف سے ایک اہم خط آیا ہے، چنانچہ حضور علیہ السلام نے پھر مہر بنوائی بھئی اور اس مہر پر تھا: ”مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ“، محمد کا لفظ نیچے، رسول کا درمیان میں اور لفظ اللہ سب سے اوپر بھئی، شکل آپ نے صورت دیکھی ہوگی بھئی آپ نے، اور تو یہ حضور علیہ السلام جب تشریف لے جاتے بیت الخلاء تو استنجاء وغیرہ کے لیے تو اس کو اتار دیتے تھے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس کو اتار۔ اور پھر جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو پہلے بایاں قدم، نجس مقام ہے نا، نجس مقام میں بایاں پاؤں پہلے داخل کرے اور جب نکلنے لگے تو دایاں پاؤں پہلے باہر نکالے بھئی، اور جاتے ہوئے دعا پڑھے بھئی اندر داخل ہونے سے پہلے: ”بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ“ بھئی، یہ دعا یہ اپنا معمول بنائیں، یاد رکھیے یہ نجس جگہوں پر شیاطین ہوتے ہیں، وہ پھر بعض اوقات انسان کو نقصان پہنچاتے ہیں اور جب یہ دعا انسان پڑھ لیتا ہے تو پھر ان شیاطین اور انسان کے درمیان ایک دیوار بنا دی جاتی ہے بھئی، تو یہ دعا پڑھے۔ سمجھ میں آیا؟ دعا تو یہ ہے: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ“ لیکن اس سے پہلے کیا لے؟ اللہ کا نام لینا ہے تو یوں پڑھے: ”بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ“ بھئی۔ اور والد صاحب کا عجیب طریقہ تھا مولانا، عجیب طریقہ، وہ ایسے اعمال ان کا عمل کا طریقہ ایسا ہوتا کہ انسان کی خود بخود تربیت ہوتی چلی جائے، مجھے یاد ہے ہم چھوٹے سے تھے جب بیت الخلاء جانے لگتے والد صاحب تو بیت الخلاء سے کئی قدم دور، صحن میں ہی ابھی بیت الخلاء سات آٹھ دس دور ہے ابھی یہیں پر اونچی آواز سے دعا پڑھ لیتے تھے بھئی، تو اب مقصد کیا ہوتا تھا؟ کہ یہ باقی بھی سن لیں، وہ آہستہ آہستہ اس طرح ان کی تربیت کا انداز ہوتا تھا، تو آپ بھی اس طریقے سے بھئی جب پڑھیں تو آپ کے جو سننے والے ہوں گے وہ سیکھتے چلے جائیں گے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور جب بیت الخلاء سے باہر نکلے تو پھر یہ دعا پڑھے بھئی: ”غُفْرَانَكَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي“، ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي“ بھئی، چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 38 of 82