وَالتَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ يَمْسَحُ بِإِحْدَاهُمَا وَجْهَهُ وَبِالأُخْرَى يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ: ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ“، وَيَنْفُضُ يَدَيْهِ بِقَدْرِ مَا يَتَنَاثَرُ التُّرَابُ كَيْ لَا يَصِيرَ مُثْلَةً، وَلَا بُدَّ مِنَ الِاسْتِيعَابِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ.
گزشتہ سبق میں تیمم کا باب شروع ہوا تھا، اور آپ نے پڑھا کہ جس شخص کو پانی نہ ملے اور وہ مسافر ہو، یا اس کے اور پانی کے درمیان ایک میل یا ایک میل سے زیادہ کا فاصلہ ہو تو اس صورت میں وہ تیمم کر سکتا ہے کہ تیمم کرے اور پھر نماز پڑھ لے بھئی۔ یا اسی طرح پانی تو اگر موجود ہو اس کے پاس لیکن وہ شخص مریض ہے، بیمار ہے، اسے خوف ہے اگر پانی استعمال کرے گا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا تو بھی وہ تیمم کر سکتا ہے۔ اور اسی طرح اگر کوئی شخص جُنب ہوا اور اسے خوف ہے کہ اگر میں غسل کروں گا تو سردی مجھے ہلاک کر دے گی یا بیمار کر دے گی تو اس صورت میں بھی وہ مٹی سے تیمم کر سکتا ہے۔
آج آپ کو تیمم بتلا رہے ہیں کہ تیمم کہتے کسے ہیں بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ“ تیمم جو ہے وہ دو ضربوں کا نام ہے۔ معلوم ہوا وہ دو ضربیں تیمم کا رکن ہیں بھئی۔ جو دو ضربیں زمین پر انسان لگائے وہ کیا ہیں؟ تیمم کا رکن ہیں، لہٰذا جیسے ہی ضرب لگائے گا تیمم شروع ہو گیا۔ جیسے ہی... اب ایک شخص نے ضرب لگائی زمین پر، ابھی چہرے کا مسح نہیں کیا، کچھ رکا اور اس میں وضو ٹوٹ گیا اس کا، تو پھر دوبارہ ضرب لگانی پڑے گی، اگر مسح کرے گا تو یہ تیمم صحیح نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کیونکہ یہ ضرب تیمم کا رکن ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالتَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ“ تیمم دو ایسی ضربیں ہیں، دیکھیے ”ضَرْبَتَانِ“ نکرہ آیا، اس کے بعد فعل آیا تو موصوف صفت بنیں گے، اور تیمم دو ایسی ضربیں ہیں: ”يَمْسَحُ بِإِحْدَاهُمَا وَجْهَهُ“ مسح کرے ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ اپنے چہرے کا، ”وَبِالأُخْرَى يَدَيْهِ“ اور دوسری کے ساتھ اپنے ہاتھوں کا، ”إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ“ کہنیوں تک بھئی، یعنی کہنیوں سمیت۔
دلیل اس بات کی، کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ: ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ“ تیمم دو ضربیں ہیں، ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لیے۔
”وَيَنْفُضُ يَدَيْهِ بِقَدْرِ مَا يَتَنَاثَرُ التُّرَابُ“ نَفَضَ يَنْفُضُ کے معنی ہیں جھٹکنا بھئی، جھاڑنا۔ ”وَيَنْفُضُ يَدَيْهِ“ اور وہ تیمم کرنے والا اپنے دونوں ہاتھوں کو جھاڑ لے ”بِقَدْرِ مَا يَتَنَاثَرُ التُّرَابُ“ اتنی مقدار کہ جس سے وہ مٹی جھڑ جائے بھئی۔ تناثر کا معنی جھڑ جانا۔ نَفَضَ يَنْفُضُ کے معنی جھاڑنا اور تناثر کا معنی جھڑنا۔ جی، تو ”وَيَنْفُضُ يَدَيْهِ بِقَدْرِ مَا يَتَنَاثَرُ التُّرَابُ“ اور جھاڑ لے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنی مقدار کہ مٹی جو ہے جھڑ جائے، ”كَيْ لَا يَصِيرَ مُثْلَةً“ تاکہ یہ تیمم مثلہ نہ بن جائے بھئی، تیمم مثلہ نہ بن جائے۔
بھئی مثلہ آپ جانتے ہیں کہ صورت کو بگاڑنا۔ جنگوں کے اندر لوگ اس طرح کرتے تھے کہ یا لڑائی وغیرہ میں کہ دوسرے کو قتل کرنے کے بعد اس کے ناک کاٹ دیتے، کان کاٹ دیتے، ہونٹوں کو کاٹ دیتے، آنکھوں کو پھوڑ دیتے، یہ ہے مثلہ بھئی، صورت بگاڑنا۔ تو یہاں پر بھی ہاتھوں کو جھاڑا جائے تاکہ ایسا نہ ہو وہ مٹی ساری چہرے پر لگ جائے تو صورت بگڑ جائے گی، تو یہ بھی کیا ہو گیا؟ مثلہ ہو گیا بھئی، مثلہ ہو گیا، اور مثلہ کرنے سے تو منع کیا گیا ہے۔ تو اس لیے دونوں ہاتھوں کو جھاڑ لے بھئی۔
جی، تو یہ ہے تیمم بھئی، دو ضربیں ہیں، ایک کے ساتھ چہرے کا مسح کرے گا اور ایک کے ساتھ ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرے گا بھئی۔ جی، کون ساتھی آپ کا کر کے دکھائے گا باقی ساتھیوں کو بھئی؟ کوئی ایک ساتھی کر کے دکھائے تیمم بھئی۔ آپ کریں گے؟ جی، کیجیے بھئی۔ کھڑے ہو کر کر کے دکھائیے تاکہ سب دیکھ لیں بھئی۔ اور دیوار کے پاس چلے جائیں بھئی، دیوار کے ساتھ ضرب لگائیں بھئی۔
جی، یہ ایک ضرب لگائی اور پھر ہاتھوں کو جھاڑ لے گا اور پھر چہرے کا مسح کر لے گا، اور اس میں پھر یاد رکھیے، پورے چہرے کو گھیرنا ہے جیسے وضو کرتے ہوئے پورے چہرے کا دھونا فرض تھا، اگر تھوڑا سا بھی حصہ رہ گیا تو فرض ادا نہیں ہوگا، لہٰذا وہ وضو نہیں۔ تو یہاں تیمم اس کا خلیفہ اور نائب ہے تو اس کے اندر بھی پورے چہرے کا مسح ہونا چاہیے، اور چہرے کی حدود بیان ہوئی تھیں، پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک بھئی۔ تو اس میں یہ جو داڑھی کے بال ہیں اور کان کا جو کان ہے اس کے درمیان کچھ جلد ہے بھئی، یاد رکھیے یہ بھی اس کے اندر داخل، اس کو بھی وضو میں دھونا اور تیمم کے اندر اس کا مسح کرنا ضروری ہے۔ تو پورے چہرے کا مسح بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو انہوں نے کر کے دکھایا جیسے، اور اس میں بھی پھر یاد رکھیں، چونکہ مسح کر رہے ہیں اور پورے چہرے کا کرنا ہے تو احتیاط سے، لہٰذا خصوصاً یہ آنکھوں کے اوپر کا حصہ یہ جگہ عموماً چھوٹ جاتی ہے، یا اسی طرح یہ ناک کے نتھنے کا اگلا آخری حصہ جو ظاہر ہے بھئی، یہاں پر بھی انگلی ظاہر حصے پر اچھی طرح لگا لے کہ خشک کہ یہ بغیر مسح کے رہ نہ جائے بھئی۔
جی، یہ ایک ضرب ہوئی، دوسری ضرب بھئی اب۔ جی، دیکھا؟ یہ دوسری ضرب، اس کے ساتھ اب دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرنا ہے بھئی، کہنیوں سمیت۔ تو اس میں بائیں ہاتھ کے ساتھ دائیں ہاتھ کا مسح کر لے گا پورے ہاتھ کا، اور دائیں ہاتھ کے ساتھ پھر پورے بائیں ہاتھ کا کہنی سمیت مسح کر لے گا، اور اس میں بھی کوئی حصہ ہاتھ کا نہ رہے بھئی، حتیٰ کہ انگلیوں کے اندر بھی خلال کرے تاکہ وہاں پر بھی مسح ہو جائے بھئی۔ طریقہ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ جی شاباش، بیٹھ جائیے بھئی۔ تو یہ ہے تیمم کا طریقہ بھئی۔
”وَلَا بُدَّ مِنَ الِاسْتِيعَابِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ اور ضروری ہے استیعاب کا کرنا ”فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ کس میں؟ ظاہر روایت، ظاہر روایت کے اندر ہے کہ استیعاب ضروری ہے بھئی۔ ظاہر روایت آپ جانتے ہیں بھئی، امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں جو ہیں ان میں جو مسئلہ ذکر ہو اس کو ظاہر روایت کہا جاتا ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کی تصانیف بہت زیادہ ہیں حتیٰ کہ علماء فرماتے ہیں ان کی تصانیف کی تعداد ایک ہزار ہے بھئی، ایک ہزار۔ لیکن اس میں سے یہ چھ کتابیں جو ہیں یہ ظاہر روایت کہلاتی ہیں اور یہ کون کون سی ہیں؟ مبسوط، زیادات، جامع صغیر، جامع کبیر، سیر صغیر اور سیر کبیر، یہ چھ کتابیں بھئی، چھ کتابیں۔ کون کون سی؟ مبسوط، زیادات، جامع صغیر، جامع کبیر، سیر صغیر اور سیر کبیر۔ یہ چھ کتابیں یہ تو ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونی چاہئیں، کوئی آپ سے پوچھ لے کہ ظاہر روایت سے کیا مراد ہے؟ تو آپ کیا جواب دیں گے کہ یہ چھ کتابیں مراد ہیں ظاہر روایت سے، ان میں جو مسئلہ آئے تو کہتے ہیں ظاہر روایت میں یہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟
اور باقی کتابیں جو ہیں ان میں کوئی مسئلہ آئے تو اس کو کہتے ہیں وہ کتابیں نوادر کہلاتی ہیں۔ کیا کہلاتی ہیں؟ نوادر بھئی، نوادر۔ یہ لفظ بھی کتابوں میں جگہ جگہ آپ کو ملے گا بھئی کہ یہ روایت ہے، روایتِ نوادر ہے، تو روایتِ نوادر ہے لفظ آئے تو آپ سمجھ جائیں کہ معلوم ہوا کہ ان چھ کتابوں کے علاوہ امام محمد رحمہ اللہ کی کسی کتاب میں یہ مسئلہ ذکر ہے بھئی۔ تو ان چھ کتابوں کو ظاہر روایت کہتے ہیں، وجہ یہ کہ یہ بتواتر امام محمد رحمہ اللہ سے منقول ہیں، تواتر کے طریقے پر، اس کے نقل کرنے والے ہر زمانے کے اندر ہزاروں لوگ ہیں بھئی، امام محمد سے ان کتابوں کو ان کے ہزاروں تلامذہ نے نقل کیا بھئی، تو یہ تواتر، ان کے نقل کس طریقے پر ہے؟ تواتر کے طریقے پر ہے، اور جبکہ باقی کتابیں وہ اس طرح منقول نہیں ہیں بھئی، ان کے نقل کرنے والے اتنے کثیر نہیں ہیں کہ وہ تواتر کی حد کو پہنچیں، اور جب ایک کتاب جس کو نقل کرنے والے تواتر کی حد کو پہنچے ہوں تو یقیناً وہ بڑی مضبوط کتاب ہے، معلوم ہوا اس کے اندر کہیں غلطی نہیں ہوئی، کہیں کمی بیشی نہیں ہوئی، کسی نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں ملائی، کیونکہ بہت لوگ نقل کر رہے ہیں اور سب اسی طرح نقل کر رہے ہیں، اگر یہ بات اس طرح نہ ہوتی تو اس طرح وہ نقل نہ کرتے بھئی۔ تو اس لیے یہ چھ کتابیں جو ہیں یہ تواتر کے طریقے پر منقول ہیں، اس لیے ان کی روایت بڑی مضبوط اور قوی ہے اور اس کو ظاہر روایت کہتے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ کتابوں کے اندر کوئی روایت آئے وہ روایتِ نوادر کہلاتی ہے اور وہ اس درجے کی نہیں بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو یہ انہوں نے ذکر کیا: ”وَلَا بُدَّ مِنَ الِاسْتِيعَابِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ اور استیعاب ضروری ہے ظاہر روایت میں۔ بھئی استیعاب کیوں ضروری ہے؟ دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”لِقِيَامِهِ مَقَامَ الْوُضُوءِ“ اس لیے کیونکہ یہ تیمم قائم مقام ہے وضو کے، اور وضو کے اندر استیعاب ضروری تھا، اعضاء کا پورا پورا دھونا، اس کو پورا گھیر لینا، اس کا احاطہ کرنا ضروری تھا تو یہ اس کا خلیفہ ہے اس میں بھی اسی طرح ہوگا۔
”وَلِهَذَا قَالُوا“ اور اسی وجہ سے فقہاء نے فرمایا ہے: ”يُخَلِّلُ الْأَصَابِعَ“ کہ تیمم کرنے والا اپنی انگلیوں کا خلال کر لے، ”وَيَنْزِعُ الْخَاتَمَ“ اور انگوٹھی کو اتار لے، کیونکہ انگوٹھی اگر پہنی ہوئی ہے تو انگوٹھی کے نیچے والی جلد جو ہے وہ تو پھر بغیر مسح کے رہ جائے گی حالانکہ استیعاب ضروری ہے، ”لِيَتِمَّ الْمَسْحُ“ تو انگلیوں کا خلال کر لے اور انگوٹھی کو اتار لے ”لِيَتِمَّ الْمَسْحُ“ تاکہ مسح پورا ہو جائے۔
”وَالْحَدَثُ وَالْجَنَابَةُ فِيهِ سَوَاءٌ“ اور حدث اور جنابت ”فِيهِ“ تیمم میں ”سَوَاءٌ“ برابر ہیں۔ حدث اور جنابت کیا ہیں تیمم میں؟ برابر، یعنی دونوں کا ایک ہی تیمم ہے، یہ نہیں کہ غسل کا تیمم کوئی الگ ہے اور اس کے لیے بھی بعینہٖ اسی طرح دو ضربیں ہوں گی، ایک ضرب کے ساتھ چہرے کا مسح ہوگا اور دوسری ضرب کے ساتھ ہاتھوں کا کہنیوں سمیت بھئی۔
”وَكَذَا الْحَيْضُ وَالنِّفَاسُ“ اور اسی طرح حیض اور نفاس بھی ہیں، یعنی ان کے لیے بھی اگر تیمم کی ضرورت پڑتی ہے، پانی نہیں ملتا تو پھر اس کے لیے بھی تیمم اسی طرح کیا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یاد رکھیے بھئی، یاد رکھیے کہ جب ایک انسان کو پانی نہ ملا اور وضو کے بجائے اس نے تیمم کر لیا، یا اس کو اس کے پاس پانی نہیں ہے اور اس نے غسل کے بجائے تیمم کر لیا تو پھر کسی شک اور کوئی شک کرنے کی ضرورت نہیں، وہم میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اس کو بالکل اسی طرح پاکی حاصل ہوئی ہے جس طرح وضو اور غسل سے پاکی حاصل ہوتی ہے بھئی، کسی قسم کا شک و شبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اسی حدث اور جنابت تیمم کے اندر برابر ہیں اور اسی طرح حیض اور نفاس بھی۔
دلیل اس کی کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ“ بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی ہے۔ بھئی یہ ”مَا“ کا ترجمہ میں نے حدیث کے ساتھ کیا، یہ اسمِ موصول ہے اور اسمِ موصول آپ نے پڑھا ہے معرفہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ معرفہ، اور معرفہ کے ذریعے کسی متعین چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، متعین چیز اس سے مراد ہوتی ہے۔ تو یہ جو اسمِ موصول ہوتے ہیں ان کے مدلولات ہوتے ہیں، یہ کسی چیز پر دلالت کرتے ہیں، تو یہاں پر یہ ”مَا“ سے کیا مراد ہے؟ حدیث، اس پر دلالت کر رہا ہے تو لہٰذا اسی لیے میں نے ترجمے میں بھی حدیث کا لفظ ذکر کیا۔
”لِمَا رُوِيَ“ بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی کہ ”أَنَّ قَوْمًا جَاؤُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ کہ کچھ لوگ جو ہیں سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ”وَقَالُوا“ اور کہنے لگے: ”إِنَّا قَوْمٌ نَسْكُنُ هَذِهِ الرِّمَالَ“ ہم ایسے لوگ ہیں جو رہتے ہیں ”هَذِهِ الرِّمَالَ“ رمال جمع ہے رمل کی اور رمل کہتے ہیں ریت کو، ہم ایسے لوگ ہیں جو ان اس ریت میں یعنی ریگستان میں رہتے ہیں، ”وَلَا نَجِدُ الْمَاءَ شَهْرًا أَوْ شَهْرَيْنِ“ اور ہمیں پانی نہیں ملتا، ہم پانی نہیں پاتے ایک ماہ یا دو ماہ تک بھئی، ایک ایک دو دو ماہ تک ہمیں پانی ملتا ہی نہیں، ”وَفِينَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ“ اور ہم میں جنابت والے بھی ہوتے ہیں اور حائضہ اور نفاس... حائضہ عورتیں بھی ہوتی ہیں اور نفاس والی بھی ہوتی ہیں، ”فَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِأَرْضِكُمْ“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”عَلَيْكُمْ بِأَرْضِكُمْ“ تم اپنی زمین کو لازم پکڑو، یعنی اس سے تیمم کرتے رہو۔ ”عَلَيْكُمْ“ یاد رکھیے اسمِ فعل ہے، بمعنی لازم پکڑو، تم لوگ لازم پکڑو ”بِأَرْضِكُمْ“ اپنی زمین کو۔
”وَيَجُوزُ التَّيَمُّمُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى بِكُلِّ مَا كَانَ مِنْ جِنْسِ الْأَرْضِ كَالتُّرَابِ وَالرَّمْلِ وَالْحَجَرِ وَالْجَصِّ وَالنَّوْرَةِ وَالْكُحْلِ وَالزَّرْنِيخِ“ اور تیمم کرنا جائز ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہر اس چیز سے ”بِكُلِّ مَا كَانَ مِنْ جِنْسِ الْأَرْضِ“ ہر اس چیز سے جو زمین کی جنس میں سے ہو، ”كَالتُّرَابِ“ جیسے کہ مٹی ہے، ”وَالرَّمْلِ“ اور ریت ہے، ”وَالْحَجَرِ“ اور پتھر ہے، ”وَالْجَصِّ“ اور جیسے کہ گچ ہے، ”وَالنَّوْرَةِ“ اور جیسے چونا ہے، ”وَالْكُحْلِ“ اور جیسے سرمہ ہے، ”وَالزَّرْنِيخِ“ اور جیسے ہڑتال ہے بھئی۔ بھئی یہ سب چیزیں زمین کی جنس میں سے ہیں، اور جب یہ زمین کی جنس میں سے ہیں تو زمین کی جنس میں سے جو بھی چیز ہو اس سے تیمم کرنا عند الاحناف جائز ہے، تو لہٰذا ان سب سے تیمم کرنا جائز ہوا بھئی۔
تو یہاں کئی چیزیں ذکر ہوئیں: تراب بھئی، تراب۔ تراب تو یہ عام مٹی جو آپ جانتے ہیں۔ رمل ریت کو کہتے ہیں بھئی۔ والحجر، حجر پتھر کو کہتے ہیں۔ والجص، جَصٌّ اور جِصٌّ دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے۔ جص یہ قدیم زمانے میں ایک چونے سے تیار کیا ہوا خاص مصالحہ ہوتا تھا جس کے ذریعے تعمیر کا کام لیا جاتا تھا۔ جیسے آج کل تعمیر کے لیے سیمنٹ استعمال ہوتا ہے بھئی، اینٹوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے کیا استعمال کرتے ہیں؟ سیمنٹ استعمال کرتے ہیں، اسی طرح قدیم زمانے کے اندر جو مصالحہ تیار کیا جاتا تھا وہ چونے سے تیار کرتے تھے اور اس کے ذریعے یہ تعمیر وغیرہ اور اینٹوں کو آپس میں جوڑنے کا کام لیتے تھے، اور یہ سیمنٹ سے کئی گنا زیادہ مضبوط ہوتا تھا بھئی، کئی گنا۔ چنانچہ آج بھی آپ دیکھتے ہیں ان لوگوں کی عمارتیں سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود اسی طرح مضبوطی سے کھڑی ہیں، جبکہ سیمنٹ، سیمنٹ کی عمارت تو اتنا عرصہ نہیں گزار سکتی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ آج اتنی ترقی ہونے کے باوجود ان لوگوں کی بنائی ہوئی چیزوں تک بھی سائنس نہیں پہنچ سکی بھئی۔ تو اس کو جص کہتے تھے، جص۔ اور یہ چونکہ وہی اس میں زیادہ جز وہی چونا وغیرہ اور اس طرح کی چیزیں تھیں زمین کی، تو لہٰذا یہ بھی زمین کی جنس والی چیز ہوئی تو اس کے ساتھ بھی تیمم کرنا جائز ہے۔
والنورة، نورہ یہ عام سفیدی کرنے والا چونا بھئی، جیسے یہ دیوار پر آپ دیکھ رہے ہیں چونا ہے اور اسی سے ابھی انہوں نے آپ کے سامنے تیمم کیا بھئی۔ والكحل، اور سرمہ بھئی، سرمہ۔ بھئی سرمہ اگر آپ نے دیکھا ہو یہ تو پسا ہوا جو آنکھوں میں لگاتے ہیں، یہ دراصل پتھر کو پیس کر بنایا جاتا ہے، اگر سرمے کے پتھر آپ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو، سیاہ رنگ کا پتھر ہوتا ہے اور بڑا ہی وزنی ہوتا ہے بھئی۔ تو جی وہ ہو یا یہ پسا ہوا جو بھی ہے تو یہ سرمہ یہ زمین کی جنس میں سے ہے اور یہ اس سے تیمم جائز ہے۔
والزرنيخ، زرنیخ یہ اس کو اردو میں ہڑتال کہتے ہیں، اسی طرح سنکھیا بھی کہتے ہیں، سنکھیا: س، ن، ک، دو آنکھوں والی ھ، ی اور ا بھئی، سنکھیا۔ سنکھیا یہ بھی ایک قسم کا پتھر وغیرہ ہوتا ہے اور شفاف ہوتا ہے، شفاف۔ بھئی جیسے شیشہ ہوتا ہے اس کے آر پار دیکھا جا سکتا ہے، اسی طرح کا پتھر ہوتا ہے، شیشے کی طرح شفاف تو نہیں ہوتا لیکن بہرحال کچھ نہ کچھ شفاف سا ہوتا ہے، اور اس کو ہڑتال کہتے ہیں اور نہایت زہریلا ہوتا ہے بھئی، زہر... زہریلا ہوتا ہے، لیکن ہے بہرحال یہ پتھر اور زمین کی جنس میں سے ہے تو اس سے تیمم کرنا جائز ہے بھئی، جائز ہے۔
اسی طرح اور بھی کوئی زمین کی جنس کی چیز ہو تو اس سے بھی تیمم کرنا جائز ہے، جیسے یاقوت ہے بھئی یاقوت ہے، اور اسی طرح زمرد ہے وغیرہ، یہ بھی پتھر ہیں بھئی پتھر ہیں قیمتی پتھر، تو یہ بھی زمین کی جنس میں سے ہیں۔ تو ان سب سے تیمم کرنا جائز ہے۔ لہٰذا ایک شخص ہے اور اس کے پاس ایک گھڑا رکھا ہوا ہے اور یہ گھڑا کس سے بنتا ہے؟ مٹی سے بنتا ہے، لہٰذا اس سے بھی تیمم کرنا جائز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
بھئی متن کے اندر یہ مسئلہ ذکر ہو گیا کہ جو بھی چیز زمین کی جنس میں سے ہو اس سے تیمم کرنا جائز ہے جیسے مٹی ہے، اور ریت ہے، اور پتھر ہے، اور گچ ہے، اور گچ بھئی گ اور چ، گچ، والنورة اور چونا ہے، والكحل اور سرمہ ہے، سرمے میں وہ سرمے کا پتھر ہوتا ہے بڑا وزنی پتھر تو اس سے کوئی تیمم کرتا ہے، والزرنيخ اور ہڑتال ہے جس کو سنکھیا بھی کہتے ہیں، یہ سب چیزیں زمین کی جنس میں سے ہیں، ان سے تیمم جائز ہے، اور صرف یہی چیزیں نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی جو چیزیں ہیں زمین کی جنس میں سے ان سے بھی تیمم کرنا جائز ہوگا بھئی، جیسے بھئی میں نے ذکر کیا کہ یاقوت ہے اور اسی طرح زمرد ہے، اسی طرح نمک ہے بھئی، نمک بھی آپ جانتے ہیں یہ پتھروں کی صورت میں ہوتا ہے پھر اس کو پیسا جاتا ہے، تو ان سب سے بھی تیمم کرنا جائز ہے۔
فقہاء اس کے لیے باقاعدہ ضابطہ ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح ہمیں پتہ چلے گا کسی چیز سے تیمم جائز ہے یا نہیں؟ کس طرح پتہ چلے گا کوئی چیز زمین کی جنس میں سے ہے یا جنس میں سے نہیں؟ تو ضابطہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ چیز جو آگ میں نہ جلے اور نہ گلے وہ اس سے تیمم جائز ہے۔ جو چیز آگ میں نہ جلے اور آگ میں نہ گلے یعنی نہ پگھلے، جو چیز آگ میں جلتی بھی نہیں اور پگھلتی بھی نہیں اس سے تیمم کرنا جائز ہے بھئی، اس سے تیمم کرنا... اب اس ضابطے کے ذریعے آپ پتہ چلا سکتے ہیں آسانی سے کہ کس چیز سے تیمم جائز ہے، کس سے تیمم... جو چیز آگ میں جلتی بھی نہیں ہے اور پگھلتی بھی نہیں ہے اس سے تیمم کرنا جائز ہوگا۔ جلتی بھی نہ ہو، لہٰذا لکڑی خارج ہو گئی کیونکہ لکڑی کیا ہے؟ آگ میں جل جاتی ہے۔ پلاسٹک بھی نکل گیا کیونکہ پلاسٹک بھی آگ میں جل جاتا ہے وغیرہ۔ اور جو چیز آگ میں نہ پگھلے، لہٰذا لوہا، پیتل، تانبا وغیرہ یہ چیزیں نکل گئیں، اسی طرح شیشہ نکل گیا کیونکہ یہ چیزیں آگ میں پگھل جاتی ہیں بھئی۔ یہ آپ کی آگ تو معمولی سی ہے لیکن یہ لوہے کی چیزیں بنتی کس طرح ہیں؟ یہ بھٹی کے اندر تیز آگ ہو تو پھر یہ چیزیں بھی پگھل کر بالکل پانی کی طرح بن جاتی ہیں، تو یہ چیزیں آگ میں پگھلنے والی ہیں لہٰذا ان سے تیمم جائز نہیں، تیمم جائز...
ہاں البتہ دو چیزیں اس ضابطے سے مستثنیٰ ہیں، ان کا استثناء کیا فقہاء نے: ایک چونا اور ایک راکھ بھئی، راکھ۔ چونا آگ میں جل جاتا ہے پھر بھی اس سے تیمم جائز، ہم نے تو کہا تھا وہ چیز آگ میں نہ جلے اور نہ پگھلے، چونا تو جل جاتا ہے تو اس کو اس ضابطے سے خارج ہونا چاہیے تھا یعنی اس سے تیمم جائز نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اس کو داخل رکھا، اس سے تیمم کرنا جائز ہے۔ اور راکھ بھئی، کوئی چیز وغیرہ جلائی لکڑی وغیرہ اس کی جو راکھ بچ گئی، اس راکھ کو یہ آگ میں نہ جلتی ہے اور نہ پگھلتی ہے، تو اس سے تیمم ضابطے کے مطابق جائز ہونا چاہیے لیکن فقہاء فرماتے ہیں راکھ سے تیمم جائز نہیں کیونکہ یہ تو خود کسی چیز کا جلنے کے بعد باقی بچنے والا حصہ ہے۔ تو راکھ کو داخل ہونا چاہیے تھا اس کو خارج رکھا، اور چونے کو خارج ہونا چاہیے تھا اس کو داخل رکھا کیونکہ وہ زمین کی جنس میں سے ہے بھئی، اور راکھ زمین کی جنس میں سے نہیں ہے تو لہٰذا راکھ کو خارج رکھا اس سے تیمم نہیں جائز، اور چونا اگرچہ جل جاتا ہے لیکن زمین کی جنس میں سے ہے لہٰذا اس کو داخل رکھا اس سے تیمم کرنا جائز ہے بھئی۔ ضابطہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ إِلَّا بِالتُّرَابِ وَالرَّمْلِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تیمم جائز نہیں ہے مگر مٹی اور ریت کے ساتھ، صرف ان دو چیزوں سے تیمم کیا جا سکتا ہے اور کسی چیز سے تیمم نہیں کیا جا سکتا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ إِلَّا بِالتُّرَابِ الْمُنْبِتِ“ کہ جائز نہیں ہے تیمم مگر اس مٹی سے ”الْمُنْبِتِ“ جو اگانے والی ہے۔ وہ مٹی جو اگانے والی ہے جس سے پودے وغیرہ اگتے ہیں اس مٹی سے تیمم جائز ہے اور کسی مٹی سے نہیں بھئی۔ ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی۔ ایک تو روایت پیچھے ذکر ہوا ایک کیا وہ فرماتے ہیں کہ مٹی اور ریت دونوں سے، اور ایک روایت کیا ہے؟ صرف اگانے والی مٹی سے۔
دلیل دیتے ہیں بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل بھئی: ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ ”أَيْ: تُرَابًا مُنْبِتًا“ یعنی کہ اگانے والی مٹی سے۔ تم لوگ تیمم کرو صعیدِ طیب سے یعنی کہ اگانے والی مٹی سے۔ تو صعید کا معنی ہوئے مٹی اور طیب کے معنی ہوئے اگانے والی۔ بھئی یہ معنی آپ نے کہاں سے کیا اگانے والے؟ فرماتے ہیں: ”قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“ کہ یہ معنی اور یہ تفسیر کس نے کی ہے اس صعیدِ طیب کی؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یہ تفسیر منقول ہے بھئی، یہ تفسیر منقول ہے۔ ”غَيْرَ أَنَّ أَبَا يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ زَادَ عَلَيْهِ الرَّمْلَ بِالْحَدِيثِ الَّذِي رَوَيْنَاهُ“ علاوہ اس کے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس پر ریت کی زیادتی کی ہے کہ اس سے بھی تیمم جائز ہے ”بِالْحَدِيثِ الَّذِي رَوَيْنَاهُ“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی، وہ جو ابھی گزری کہ کچھ لوگ آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہ ہم ریت میں رہتے ہیں تو ہمیں پانی نہیں ملتا، جنبی ہم جنب ہوتے ہیں، حیض والی عورتیں ہوتی ہیں، نفاس والی تو حضور نے فرمایا کہ تم لوگ مٹی کو لازم پکڑو... تم اپنی زمین کو لازم پکڑو بھئی، تو اس حدیث کی وجہ سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس پر ریت کی بھی زیادتی کی۔
بھئی دیکھیے، یہاں صاحبِ ہدایہ نے پہلے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول یہ ذکر کیا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا يَجُوزُ إِلَّا بِالتُّرَابِ وَالرَّمْلِ“ کہ تیمم جائز نہیں ہے مگر صرف مٹی اور ریت کے ساتھ، ان دو چیزوں سے جائز ہے، اس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے طور پر ذکر کیا اس کو، معلوم ہوا ان کا یہ مذہب ہے کہ مٹی اور ریت سے تیمم جائز ہے۔ اور آگے کہا: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ إِلَّا بِالتُّرَابِ الْمُنْبِتِ، وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی۔ ایک روایت کیا ذکر کی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف مٹی سے جائز ہے، ریت سے بھی جائز نہیں، ترابِ منبت سے، اگانے والی مٹی سے۔
تو دو قول ذکر کر دیے صاحبِ ہدایہ نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے، پہلے کو ”قَالَ“ کے ساتھ ذکر کیا معلوم ہوا یہ ان کا قول، اصل یہی قول ہے، کیا قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا؟ کہ مٹی اور ریت دونوں سے تیمم کر سکتے ہیں۔ اور آگے اگلی بات جو تھی اس کو روایت کے ساتھ ذکر کیا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے یعنی ان کا مذہب نہیں ہے بھئی، روایت ہے، ”عَنْ“ کے ساتھ اس کو ذکر کیا: ”رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ“ کہ صرف مٹی سے جائز ہے، ریت سے بھی جائز نہیں ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے اس کو روایت کہا، لیکن دیگر علماء نے لکھا ہے بھئی یاد رکھیے کہ جو ریت اور مٹی دونوں سے تیمم کا جائز ہونا ہے یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول تھا، پھر انہوں نے رجوع کر لیا تھا کہ صرف ترابِ منبت سے جائز ہے، اگانے والی مٹی سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جس کو صاحبِ ہدایہ نے ”وَهُوَ رِوَايَةٌ“ کے ساتھ ذکر کیا یہ ہے مرجوع الیہ قول بھئی جس کی طرف امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے رجوع فرمایا یعنی یہ ان کا آخری قول ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف مٹی سے تیمم کیا جا سکتا ہے اور کسی چیز، ریت وغیرہ سے بھی تیمم جائز نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی سب کو؟
”وَلَهُمَا: أَنَّ الصَّعِيدَ اسْمٌ لِوَجْهِ الْأَرْضِ“ اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ صعید یہ زمین کے چہرے کا نام ہے یعنی زمین کے اوپر والے حصے کا نام ہے۔ بھئی ایک زمین کا اوپر والا حصہ، ایک اندر والا حصہ، تو صعید کس کو کہتے ہیں؟ جو زمین کا اوپر والا حصہ ہے۔ طرفین کی دلیل چل رہی ہے، طرفین متن میں آیا کہ مٹی، ریت وغیرہ کئی چیزیں ذکر کیں ان سب سے تیمم جائز ہے، اس کی دلیل ذکر ہو رہی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ صعید کا ذکر آیا قرآن کے اندر اور صعید جو ہے زمین کے اوپر والے حصے کو کہتے ہیں، ”سُمِّيَ بِهِ لِصُعُودِهِ“ اور اس کو صعید کہا گیا اس کے صعود کی وجہ سے، اونچا ہونے کی وجہ سے، صعود کا کیا معنی؟ اونچا ہونا۔ بھئی زمین کا ایک اندر والا حصہ، ایک یہ اوپر والا حصہ، کون سا حصہ اونچا ہے اور اوپر ہے؟ یہ اوپر والی ظاہری سطح جو ہے یہ اوپر ہے، تو صعید کس سے ہے؟ صعود سے ہے اور صعود کا کیا معنی؟ اونچا ہونا، تو اس اوپر والے حصے کو اسی لیے صعید کہا جاتا ہے، تو یہ اوپر والا حصہ مراد ہے۔
”وَالطَّيِّبُ يَحْتَمِلُ الطَّاهِرَ“ اور طیب اس کا معنی وہ اگرچہ اس کا معنی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے منبت کے کیے ہیں یعنی اگانے والا، لیکن اس میں احتمال ہے طاہر کے معنی کا بھی، پاک، پاک ہو۔ طیب کا کیا معنی؟ پاک، یہ اس معنی کا بھی اس میں احتمال ہے، ”فَحُمِلَ عَلَيْهِ“ تو اسی پر محمول کیا جائے گا، اسی پاک ہونے کے معنی پر محمول کیا جائے گا، تو صعیدِ طیب کا کیا معنی ہوگا؟ پاک مٹی، کیا معنی ہوگا؟ پاک مٹی۔ تو اسی معنی پر محمول کیا جائے گا، ”لِأَنَّهُ أَلْيَقُ بِمَوْضِعِ الطَّهَارَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ معنی زیادہ مناسب ہے طہارت کے مقام کے۔ بات چل رہی ہے طہارت کی، کیونکہ تیمم سے کیا ہوگی؟ طہارت حاصل ہوگی، تو طہارت کے مقام میں یہی معنی زیادہ مناسب ہے کہ طیب کے معنی اگانے والے کے نہ کیے جائیں بلکہ کیا معنی کیا جائے؟ طاہر کیا جائے اس کا معنی جبکہ اس کے اندر اس معنی کا احتمال بھی ہے بھئی۔ ”أَوْ هُوَ مُرَادٌ بِالْإِجْمَاعِ“ یا یہی مراد ہے بالاجماع۔ یا یہی معنی یعنی طاہر معنی...
اجماع مراد ہے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ دلیل ذکر فرما رہے ہیں طرفین کی، دلیل کیا ذکر کی؟ کہ ہم نے صعید کا کیا معنی ا طیب کا کیا معنی کیا ہے؟ طاہر۔ اس لیے کیونکہ قرآن میں ”صَعِيْدًا طَيِّبًا“ کا ذکر آیا، اور صعید تو زمین کے اوپر والے حصے کو کہتے ہیں جبکہ طیب میں جو ہے اس میں طاہر کے معنی کا بھی احتمال ہے اور وہی معنی یہاں پر زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہ طہارت کا مقام ہے اور اس کے مناسب طاہر معنی ہے، طاہر کیا جائے اس کا معنی بھئی، طاہر۔ تو اس وجہ سے ہم نے اس سے طیب والا معنی، طیب کا معنی ہم نے طاہر کے کیے، یا اس وجہ سے ہم نے اس کا معنی طاہر کیا کہ یہی طاہر والا معنی بالاجماع مراد ہے بھئی۔ یہی طاہر والا معنی بالاجماع مراد ہے۔
اس پر اشکال ہوتا ہے کہ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں کہ یہ طاہر والا معنی بالاجماع مراد ہے، اجماع کا معنی تو یہ ہے کہ جس پر سارے علماء متفق ہوں اور ابھی آپ نے بتایا کہ امام ابو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہما کیا معنی کر رہے ہیں اس کا؟ اگانے والی مٹی، پاک مٹی نہیں کر رہے بلکہ اگانے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں تو اجماع کہاں پر ہے یہاں پر کہ آپ فرما رہے ہیں کہ یہ بالاجماع یہ معنی مراد ہے۔
تو صاحبِ ہدایہ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ طاہر، اس مٹی جس سے تیمم کیا جائے اس کا پاک ہونا ضروری ہے بالاجماع، تمام علماء کے نزدیک۔ حتی کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ اور دیگر علماء کے نزدیک، فقہاء کے نزدیک بھی اگر مٹی منبت ہو، اگانے والی ہو لیکن پاک نہ ہو، نجاست لگی ہو اس پر، تو ان کے نزدیک بھی اب اگرچہ وہ ترابِ منبت ہے لیکن ان کے نزدیک بھی اس سے تیمم جائز نہیں ہے۔ معلوم ہوا پاک ہونے کا، پاک ہونا ان کے نزدیک بھی ضروری ہے۔ تو معلوم ہوا پاک ہونے کا معنی تو بالاجماع سب کے نزدیک مراد ہے۔ تو لہذا اسی لیے ہم نے اس کا معنی کیا کیا؟ طاہر کیا بھئی، منبت نہیں کیا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟
چنانچہ بھئی فقہاء فرماتے ہیں کہ زمین پر نجاست گری، مثلاً کسی نے کسی مقام پر پیشاب کیا اور پھر وہ زمین دھوپ لگنے سے خشک ہو گئی اور نجاست کا اثر بھی، پیشاب کا اثر، نشان، بو وغیرہ سب کچھ وہاں سے ختم ہو گئی۔ تو اس زمین پر، اس جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ اس جگہ پر کیونکہ زمین جو ہے وہ خشک ہو جائے تو اسی سے وہ پاک ہو جاتی ہے جبکہ نجاست کا اثر بھی ختم ہوا، نشان بھی نہیں، بو وغیرہ بھی نہیں تو اس پر نماز جائز ہے۔ لیکن اس پر تیمم نہیں جائز بھئی، تیمم کرنا جائز نہیں ہے بھئی، تیمم کرنا جائز اس میں نہیں ہے۔ لیکن یہ وہ صورت ہے جب آپ کو علم ہو کہ یہاں پر پیشاب کیا گیا تھا۔ اگر علم نہیں تو ویسے شک اور وہم نہیں کرنا چاہیے بھئی۔
”ثُمَّ لَا يُشْتَرَطُ أَنْ يَكُوْنَ عَلَيْهِ غُبَارٌ عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى“ پھر یہ شرط بھی نہیں ہے کہ اس پر غبار ہو۔ بھئی یہ جو زمین کی جنس کی جو چیزیں بیان ہوئیں بھئی، مٹی، ریت، پتھر وغیرہ ان پر غبار ہونے کی شرط بھی نہیں ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ لہذا آپ کے سامنے ایک پتھر ہے بھئی اور وہ پتھر بالکل دھلا ہوا ہے، دھلا ہوا اور ہموار پتھر ہے اب اس پر غبار کا ایک ذرہ نہیں لیکن پھر بھی آپ اس سے تیمم کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ پتھر کس کی جنس میں سے ہے؟ زمین کی جنس میں سے ہے اور زمین کی جنس میں سے جو بھی چیز ہو اس سے تیمم کرنا جائز ہے بھئی۔ لہذا اس سے بھی جائز ہوا۔ اسی طرح اینٹ ہے بھئی، اینٹ بھی کس سے بنائی جاتی ہے؟ مٹی سے بنائی جاتی ہے تو اس پر بھی غبار بے شک نہ ہو، دھلی ہوئی ہو بالکل، اسی وقت دھلی ہے، تھوڑی دیر ہی ہوئی ہے اور خشک ہے تو آپ اس پر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ تیمم کرنا چاہتے ہیں، کر سکتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ زمین کی جنس میں سے جو چیز ہے اس پر تیمم کر سکتے ہیں، چاہے وہ گیلی ہو وہ چیز چاہے خشک ہو بھئی، خشک ہو۔
تو یہ معنی ہے ”ثُمَّ لَا يُشْتَرَطُ أَنْ يَكُوْنَ عَلَيْهِ غُبَارٌ عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ پھر یہ شرط بھی نہیں ہے کہ اس چیز پر غبار ہو امام صاحب کے نزدیک۔ ”لِإِطْلَاقِ مَا تَلَوْنَا“ بہ وجہ مطلق ہونے اس آیت کے جو ہم نے تلاوت کی، اس آیت کے مطلق ہونے کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی۔ وہ آیت کیا تھی؟ ”فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا“ کہ تم لوگ تیمم کرو پاک مٹی سے بھئی۔ تو اس میں غبار ہونے کی کوئی قید ذکر نہیں، مطلقاً ذکر ہے۔ معلوم ہوا چاہے غبار ہو چاہے غبار نہ ہو اس سے کیا کیا جا سکتا ہے؟ تیمم کیا جا سکتا ہے۔
”وَكَذَا يَجُوْزُ بِالْغُبَارِ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى الصَّعِيْدِ عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى“ اور اسی طرح تیمم کرنا جائز ہے غبار سے بھی ”مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى الصَّعِيْدِ“ با وجود مٹی پر قدرت ہونے کے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ بھئی جو چیز زمین کی جنس میں سے ہے اس پر تو غبار ہو یا نہ ہو ہر صورت میں تیمم کر سکتے ہیں، اور جو چیز زمین کی جنس میں سے نہیں ہے اس پر یاد رکھیے اگر غبار ہے اور ہاتھ وغیرہ مارنے سے وہ اڑتا ہے، پتہ چلتا ہے کہ اس پر غبار ہے تو اس سے بھی تیمم کرنا جائز ہے۔ لہذا آپ کا تکیہ پڑا ہوا ہے اور اس پر غبار پڑ چکا ہے یا مٹی پڑ چکی ہے آپ اس سے تیمم کر سکتے ہیں۔ غلہ ہے اس پر مٹی یا غبار وغیرہ ہے آپ اس سے تیمم کرنا چاہتے ہیں تو، تو زمین کی جنس کی جو چیزیں ہیں ان پر غبار ہونے کی شرط نہیں لیکن اگر کوئی اور چیز ہے تو اس پر کیا ہونا چاہیے؟ غبار ہونا چاہیے تو بھی اس سے آپ تیمم کر سکتے ہیں بھئی۔
یہ معنی ہے اور اسی طرح جائز ہے غبار کے ساتھ بھی با وجود قدرت ہونے مٹی پر امامِ اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک، ”لِأَنَّهُ تُرَابٌ رَقِيْقٌ“ دلیل ان کی بھئی۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو غبار ہے یہ بھی ”تُرَابٌ رَقِيْقٌ“ پتلی مٹی ہے۔ کیا ہے؟ پتلی مٹی، باریک مٹی ہی کے ذرات ہیں بھئی۔
”وَالنِّيَّةُ فَرْضٌ فِي التَّيَمُّمِ“ اور نیت جو ہے فرض ہے تیمم کے اندر بھئی۔ نیت کی تو تیمم ہو گا، نیت نہ کی تو تیمم نہیں ہو گا بھئی۔ مثلاً کوئی شخص کسی کو دکھانے کے لیے یا سکھانے کے لیے تیمم کرتا ہے، ایک دو ساتھی سفر پر گئے اور نماز کا وقت آیا، پانی نہیں مل رہا تو کہتے ہیں چلو تیمم کرتے ہیں۔ ایک ساتھی کہتا ہے بھئی مجھے تو تیمم کرنا ہی نہیں آتا، دوسرا اس کو کہتا ہے میں آپ کو سکھاتا ہوں بھئی، یوں کرتے ہیں تیمم، چنانچہ اس کے سامنے تیمم کر کے دکھایا۔ اب یہ جو اس نے تیمم کیا اس میں اس نے پاکی کی نیت کی ہے یا نہیں کی؟ پاکی کی نیت نہیں کی، یہ تو اس کو سکھانے کے لیے کر رہا ہے، لہذا اس کا تیمم نہ ہوا۔ ہاں اگر اس نے نیت بھی کر لی تو پھر اس کا تیمم ہو جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
تو کہتے ہیں ”وَالنِّيَّةُ فَرْضٌ فِي التَّيَمُّمِ“ اور نیت جو ہے فرض ہے تیمم کے اندر، ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى: لَيْسَ بِفَرْضٍ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَيْسَ بِفَرْضٍ“ کہ تیمم میں نیت فرض نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ خَلَفٌ عَنِ الْوُضُوْءِ“ خلف لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھنا بھئی اس کو۔ خلف کا معنی خلیفہ، نائب، جانشین۔ ”لِأَنَّهُ خَلَفٌ عَنِ الْوُضُوْءِ“ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل، وہ فرماتے ہیں کہ تیمم کے اندر نیت فرض نہیں، وہ فرماتے ہیں کہ یہ نائب ہے وضو کا، تیمم نائب ہے وضو کا اور وضو ہے اصل، اور اصل کے اندر تو نیت فرض نہیں تو لہذا نائب کے اندر بھی نیت فرض نہیں ہو گی بھئی کیونکہ نائب جو ہے وہ اصل کے تابع ہوتا ہے۔ تو فرماتے ہیں ”لِأَنَّهُ خَلَفٌ عَنِ الْوُضُوْءِ“ اس لیے کیونکہ یہ تیمم جو ہے یہ خلیفہ ہے وضو کا، ”فَلَا يُخَالِفُهُ فِيْ وَصْفِهِ“ تو یہ تیمم جو ہے وضو کے مخالف نہیں ہو گا اس کے وصف کے اندر، اور وضو کا وصف تو کیا تھا؟ اس میں نیت شرط نہیں، لہذا تیمم میں بھی نیت شرط نہیں ہو گی۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، ”أَنَّهُ يُنْبِئُ عَنِ الْقَصْدِ“ کہ تیمم جو ہے یہ خبر دیتا ہے ارادے کی۔ یاد رکھیے تیمم کا عربی زبان میں معنی ہی ارادہ کرنا ہے۔ تیمم کا کیا معنی ہے؟ ارادہ کرنا، ارادہ کرنا۔ اور تو یہاں پر بھی انسان پاک مٹی کا ارادہ کرتا ہے پاکی حاصل کرنے کے لیے۔ تو تیمم کا عربی زبان میں معنی ہی ارادہ کرنا ہے اور شرعاً وہ دو ضربیں جن کے ساتھ چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا گیا اس کو بھی تیمم کہا جاتا ہے۔ اور شرعی ناموں کے اندر بھی لغوی معنی کی رعایت ہوتی ہے۔ شرعاً کسی چیز کا کوئی نام رکھا جائے تو اس میں بھی اس کے لغوی معنی کی کیا ہوتی ہے؟ رعایت ہوتی ہے، تو جب اس کا نام تیمم رکھا اور تیمم کا تو معنی ہی کیا ہے؟ ارادہ کرنا، تو اس میں بھی ارادہ کرنا ضروری ہو گا یعنی نیت کرنا ضروری ہو گا۔ یہ معنی ہے ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ يُنْبِئُ عَنِ الْقَصْدِ“ کہ تیمم کا لفظ ہی یہ خبر دیتا ہے ارادہ کرنے کی، ”فَلَا يَتَحَقَّقُ دُوْنَهُ“ تو لہذا یہ ثابت ہی نہیں ہو گا بغیر اس ارادے کے، ”أَوْ جُعِلَ طَهُوْرًا فِيْ حَالَةٍ مَخْصُوْصَةٍ“ یا تو ہماری دلیل یہ کہ تیمم کا لفظ ہی کس چیز کی خبر دیتا ہے؟ کیا بتلاتا ہے؟ ارادے کی خبر دیتا ہے، اس کا معنی ہی ارادہ کرنا ہے، یا تو یہ دلیل ہے۔ یا اس لیے نیت ضروری ہے کہ تیمم کو طہور قرار دیا گیا ہے یعنی مطہر قرار دیا گیا ہے ”فِيْ حَالَةٍ مَخْصُوْصَةٍ“ کس کے اندر؟ مخصوص حالت میں۔ بھئی مٹی ہر وقت تو مطہر نہیں ہے بھئی، پانی تو ہر وقت مطہر ہے نیت کرے انسان یا نیت نہ کرے، لیکن مٹی تو مطہر نہیں ہے، ہاں البتہ جب پانی نہ ہو اور انسان کا ارادہ نماز وغیرہ پڑھنے کا ہے تو اس وقت یہ مٹی مطہر بنے گی، کیا بنے گی؟ مٹی مطہر بنے گی۔ تو لہذا جب پانی نہ ہو اور نماز کا ارادہ کرے، کیا کرے؟ نماز کا ارادہ کرے تو پھر اس وقت مٹی مطہر بنے گی، تو دیکھو نماز کا جب ارادہ پانی نہ ہو اور کیا کرے؟ نماز کا ارادہ ہو تو پھر کیا کر لے؟ تیمم، تو دیکھو اس کے اندر معلوم ہوا نیت کرنا ضروری ہے۔
چنانچہ بھئی قرآن میں اللہ کس طرح فرماتے ہیں؟ ”يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ“ آگے؟ ”وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا“ تو یہاں دیکھیے بھئی، بات کس کی ذکر ہو رہی ہے؟ ”إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ“ جب تم کیا کرو؟ نماز کا ارادہ کرو اور پھر پانی ہو تو وضو کر لو اور اگر یہ صورتیں پیش آئیں اور پانی نہ پاؤ تو کیا کر لو؟ تیمم کر لو۔ تو دیکھو ارادۂ نماز کی بات یہاں ذکر ہے بھئی۔ تو لہذا معلوم ہوا کیا ضروری ہے؟ نیت کرنا، ارادہ کرنا، کیونکہ جب نماز کا ارادہ کرے گا کہ اس سے میں نماز پڑھوں گا تو نیت خود بخود آ گئی بھئی۔
اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہاں تو پھر وضو بھی اسی طرح ذکر ہے ”إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ“ تو اس کے اندر بھی نیت کیا ہونی چاہیے؟ فرض ہونی چاہیے، تو اس کا صاحبِ ہدایہ آگے جواب دے رہے ہیں ”وَالْمَاءُ طَهُوْرٌ بِنَفْسِهِ“ اور پانی تو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی پاک کرنے والا ہے، اس لیے اس کے اندر نیت کی شرط نہیں ہے ”عَلَى مَا مَرَّ“ بہ وجہ اس کے جو گزر گیا، جو ہم نے پیچھے بیان کر دیا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟
”ثُمَّ إِذَا نَوَى الطَّهَارَةَ أَوِ اسْتِبَاحَةَ الصَّلَاةِ أَجْزَأَهُ وَلَا يُشْتَرَطُ نِيَّةُ التَّيَمُّمِ لِلْحَدَثِ أَوْ لِلْجَنَابَةِ“ جی، یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ تیمم کرتے ہوئے وضو یا غسل کے تیمم کی نیت کرنا ضروری نہیں۔ بھئی تیمم دونوں حالتوں میں جائز ہے، وضو نہ ہو اور پاکی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور پانی نہیں ہے تو کیا کر لے انسان؟ تیمم کر لے۔ اسی طرح اگر جنب ہو اور پانی نہیں ہے، نماز پڑھنا چاہتا ہے تو کیا کر لے؟ تیمم کر لے، تیمم کر لے۔ تو اب نیت تو فرض یہ تو آپ نے بتلا دیا کہ نیت کرنا فرض ہے، تو کیا نیت ضروری ہے؟ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ اگر وضو کا تیمم کر رہا ہے تو وضو کے تیمم کی نیت کرنا ضروری ہے کہ یہ میں تیمم کر رہا ہوں حدث کو دور کرنے کے لیے، اور اگر غسل کا تیمم کر رہا ہے تو غسل کے تیمم کی نیت ضروری ہے کہ میں یہ تیمم کر رہا ہوں جنابت کو دور کرنے کے لیے، اس سے پاکی حاصل کرنے کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لیکن متن میں بتلا رہے ہیں آپ کو کہ نہیں بھئی، حدث یا جنابت سے پاکی حاصل کرنے کی نیت ضروری نہیں بلکہ مطلقاً پاکی کی نیت کر لے تو تیمم صحیح ہے، یا نماز کے جائز ہونے کی نیت کر لے کہ تاکہ مجھے پاکی حاصل ہو تاکہ میرے لیے نماز پڑھنا جائز ہو جائے تو یہ نیت بھی کافی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
”ثُمَّ إِذَا نَوَى الطَّهَارَةَ أَوِ اسْتِبَاحَةَ الصَّلَاةِ أَجْزَأَهُ“ پھر جب نیت کی پاکی حاصل کرنے کی ”أَوِ اسْتِبَاحَةَ الصَّلَاةِ“ یا نماز کے جائز ہونے کی ”أَجْزَأَهُ“ تو یہ اس تیمم کرنے والے کے لیے کافی ہے، ”وَلَا يُشْتَرَطُ نِيَّةُ التَّيَمُّمِ لِلْحَدَثِ أَوْ لِلْجَنَابَةِ“ اور حدث کے لیے تیمم کی نیت کرنا یا جنابت کے لیے تیمم کرنے کی نیت کرنے کی شرط نہیں ہے، ”هُوَ الصَّحِيْحُ مِنَ الْمَذْهَبِ“ اور یہی صحیح ہے اس یعنی مذہبِ احناف میں سے۔
”فَإِنْ تَيَمَّمَ نَصْرَانِيٌّ يُرِيْدُ بِهِ الْإِسْلَامَ ثُمَّ أَسْلَمَ لَمْ يَكُنْ مُتَيَمِّمًا عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى“ صورت یہ: ایک غیر مسلم ہے جیسے مثال کے طور پر مثلاً عیسائی ہے، وہ مسلمان ہونا چاہتا ہے پانی وغیرہ نہیں ہے تو اس نے تیمم کر لیا اور کس نیت سے کیا ہے؟ مسلمان ہونے کے لیے، مسلمان ہونے کے لیے، اور پھر مسلمان ہو گیا۔ اب اسی تیمم کے ساتھ وہ نماز پڑھنا چاہتا ہے تو کیا یہ متیمم شمار ہو گا اور وہ اس سے نماز پڑھ سکتا ہے یا وہ متیمم شمار نہیں ہو گا، نماز کے لیے نماز پڑھنا چاہتا ہے تو پھر اسے تیمم دوبارہ کرنا پڑے گا؟ تو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی، وہ جو تیمم کیا تھا اس تیمم کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی، اس تیمم کا اعتبار نہیں، نماز کے لیے دوبارہ تیمم کرنا پڑے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ جو تیمم کیا تھا وہ ٹھیک ہے، یہ شخص متیمم ہے اور اسی کے ذریعے نماز پڑھ سکتا ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
”فَإِنْ تَيَمَّمَ نَصْرَانِيٌّ يُرِيْدُ بِهِ الْإِسْلَامَ“ پس اگر تیمم کیا کسی ایسے عیسائی نے ”يُرِيْدُ بِهِ الْإِسْلَامَ“ جو ارادہ کرتا ہے اس تیمم کے ذریعے اسلام کا، کس لیے تیمم کر رہا ہے؟ اسلام کے لیے۔ بھئی یہ قید بڑھائی کیونکہ اسی پر اختلاف کا مدار ہے۔ تیمم کیا ہے اور کس ارادے سے کیا ہے؟ اسلام کے ارادے سے کیا ہے کیونکہ اسلام قربتِ مقصودہ ہے، تو یہ تیمم ہوا کس لیے؟ کس مقصد کے لیے؟ قربتِ مقصودہ کے لیے ہوا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس کا اعتبار کرتے ہیں کہ یہ قربتِ مقصودہ کے لیے تیمم ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ورنہ ویسے کافر تیمم کرتا ہے اس کا تو سب کے نزدیک بھئی وہ درست ہی نہیں ہے بھئی کیونکہ نیت ضروری ہے بھئی، لیکن یہاں پر وہ نیت کر رہا ہے کس چیز کی باقاعدہ؟ قربتِ مقصودہ کی نیت کر رہا ہے بھئی، قربتِ مقصودہ کی۔
تو کہتے ہیں وہ تیمم کیا عیسائی نے بھئی تو اس اسلام کا اس نے ارادہ کیا اس کے ذریعے، ”ثُمَّ أَسْلَمَ لَمْ يَكُنْ مُتَيَمِّمًا عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ وَمُحَمَّدٍ“ پھر وہ مسلمان ہوا تو وہ تیمم کرنے والا نہیں ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”وَقَالَ أَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: هُوَ مُتَيَمِّمٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ متیمم ہے یعنی تیمم کرنے والا یعنی تیمم کی حالت میں ہے پاکی، ”لِأَنَّهُ نَوَى قُرْبَةً مَقْصُوْدَةً“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل آئی بھئی، وہ فرماتے ہیں کیونکہ اس شخص نے قربتِ مقصودہ کی نیت کی ہے۔ کس چیز کی؟ قربتِ مقصودہ کی۔ بھئی قربت یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا، قربت وہ فعل جس سے اللہ کا قرب حاصل ہو، اللہ کا قرب حاصل ہو اللہ کا تقرب، تو یہ قربت ہے بھئی، قربت ہے اور مقصود بھی ہے، مقصود یعنی جو کسی دوسری عبادت کے تابع نہ ہو۔ مقصود کا کیا معنی؟ جو بذاتِ خود مقصود ہو کسی دوسرے کے تابع نہ ہو، جیسے وضو ہے، وضو خود مقصود نہیں ہے بلکہ وہ کس کے تابع ہے؟ نماز کے تابع ہے، نماز پڑھنے کا ارادہ ہے تو وضو کرنا واجب ہے، نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں اس وقت نماز کا وقت نہیں تو آپ پر وضو کرنا بھی واجب نہیں ہے بھئی۔ تو قربت بھی ہو اور مقصود بھی ہو یعنی کسی دوسرے عبادت کے تابع نہ ہو۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے قربتِ مقصودہ کی نیت کی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسلام قربتِ مقصودہ ہے، قربت بھی ہے اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے اور مقصود بھی ہے کسی دوسرے عبادت کے تابع بھی نہیں ہے بلکہ یہ مقصودِ اعظم ہے بھئی سب سے بڑا مقصود ہے، تو لہذا اس تیمم کا اعتبار کیا جائے گا۔
”بِخِلَافِ التَّيَمُّمِ لِدُخُوْلِ الْمَسْجِدِ وَمَسِّ الْمُصْحَفِ“ بخلاف تیمم مسجد میں داخل ہونے کے لیے ”وَمَسِّ الْمُصْحَفِ“ اور قرآن کو ہاتھ لگانے کے لیے، قرآن کو چھونے کے لیے۔ بھئی کوئی شخص مسجد میں داخل ہونے کے لیے تیمم کرتا ہے کسی ضرورت کی بنا پر مسجد میں جانا ہے اور پانی نہیں ہے تو پھر اس صورت میں کیا کر لے؟ تیمم کر لے، یا قرآن کو چھونا چاہتا ہے لیکن پانی نہیں تو اس نے کیا کر لیا؟ تیمم کر لیا، تو اس تیمم کا یاد رکھیے اعتبار نہیں اور اس کے ساتھ وہ نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اس کا اعتبار نہیں کیا معنی؟ یعنی اس کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو اسلام کے لیے اس نے تیمم کیا ہے یہ قربتِ مقصودہ کے لیے اس نے تیمم کیا لہذا اس کا اعتبار کیا جائے گا بخلاف اس کے کہ جو مسجد میں داخل ہونے یا قرآن کو چھونے کے لیے تیمم کوئی شخص کرتا ہے تو وہ چونکہ قربتِ مقصودہ کے لیے نہیں، مسجد میں داخل ہونا یہ قربتِ مقصودہ ہے؟ یہ قربتِ مقصودہ نہیں۔ اسی طرح قرآن کو چھونا یہ عبادت ہے؟ نہیں بھئی یہ قربتِ مقصودہ، قرآن کو تو چھوا جائے گا اس کو پڑھنے کے لیے چھوا جائے یا مسجد میں جاتا ہے وہ کس لیے جاتا ہے؟ نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے تو وہ خود مقصود، مسجد میں داخل ہونا یا قرآن کو چھونا مقصود نہیں ہے بھئی۔ تو لہذا اگر کسی شخص نے مسجد میں داخل ہونے یا قرآن کو چھونے کے لیے تیمم کیا تو یہ تیمم قربتِ مقصودہ کے لیے نہ ہوا لہذا اس کا کوئی اعتبار نہیں یعنی اس سے نماز وغیرہ نہیں پڑھ سکتا، لیکن یہ شخص تو اسلام لانے کے لیے تیمم کر رہا ہے جو قربتِ مقصودہ ہے لہذا اس کا اعتبار کیا جائے گا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی سب کو؟ یرحمک اللہ۔
”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِقُرْبَةٍ مَقْصُوْدَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ قربتِ مقصودہ نہیں ہے یعنی مسجد میں داخل ہونا اور قرآن کو چھونا۔
”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّ التُّرَابَ مَا جُعِلَ طَهُوْرًا إِلَّا فِيْ حَالِ إِرَادَةِ قُرْبَةٍ مَقْصُوْدَةٍ لَا تَصِحُّ بِدُوْنِ الطَّهَارَةِ“ طرفین فرماتے ہیں کہ تیمم کے لیے قربت کا صرف مقصودہ ہونا کافی نہیں بلکہ قربتِ مقصودہ ایسی ہونی چاہیے جو بغیر طہارت کے ہوتی ہی نہ ہو۔ بغیر طہارت کے؟ قربتِ مقصودہ بھی ہو اور ساتھ ایک اور شرط بھی ہے کہ بغیر طہارت کے وہ ہوتی ہی نہ ہو، پھر اس تیمم کا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر صرف قربتِ مقصودہ ہے لیکن بغیر پاکی کے بھی وہ ہو جاتی ہے اس کے لیے تیمم کیا جائے اس کا اعتبار نہیں ہے۔ نماز ہے، قربت بھی ہے اور مقصود بھی ہے کسی دوسرے عبادت کے تابع نہیں ہے بھئی، تو نماز قربتِ مقصودہ ہے اور بغیر پاکی کے نماز ہو جاتی ہے یا نہیں ہوتی؟ نہیں ہوتی۔ تو دیکھو یہ ایسی قربتِ مقصودہ ہے جو پاکی کے بغیر نہیں ہوتی، اس کے لیے تیمم کرتا ہے تو یہ تیمم درست ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس سے یہ نماز پڑھ سکتا ہے کیونکہ ایسی قربتِ مقصودہ کا ارادہ کیا ہے جو بغیر طہارت کے صحیح ہی نہیں۔ اسی طرح سجدۂ تلاوت کے لیے اگر وہ تیمم کرتا ہے تو یہ تیمم درست ہے اس لیے کیونکہ سجدۂ تلاوت کیا ہے؟ ایسی قربتِ مقصودہ ہے جو بغیر طہارت کے صحیح نہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں اسلام مسلمان ہونا، وہ ٹھیک ہے قربتِ مقصودہ تو ہے لیکن کیا بغیر طہارت کے کوئی مسلمان ہونا چاہے تو ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے، تو وہ قربتِ مقصودہ تو ہے لیکن بغیر طہارت کے بھی صحیح ہو جاتا ہے، لہذا اس کے لیے جو تیمم کیا اس کا اعتبار نہیں۔ کس تیمم کا اعتبار ہے؟ جو ایسی قربتِ مقصودہ کے لیے ہو جو بغیر طہارت کے صحیح نہ ہو بھئی۔
تو ”وَلَهُمَا“ طرفین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ التُّرَابَ مَا جُعِلَ طَهُوْرًا إِلَّا فِيْ حَالِ إِرَادَةِ قُرْبَةٍ مَقْصُوْدَةٍ لَا تَصِحُّ بِدُوْنِ الطَّهَارَةِ“ کہ مٹی جو ہے اس کو طہور نہیں بنایا گیا، اس کو مطہر نہیں قرار دیا گیا ”إِلَّا فِيْ حَالِ إِرَادَةِ قُرْبَةٍ مَقْصُوْدَةٍ“ مگر ایسی قربتِ مقصودہ کے ارادے کی حالت میں ”لَا تَصِحُّ بِدُوْنِ الطَّهَارَةِ“ جو بغیر طہارت کے صحیح ہی نہ ہوتی ہو بھئی۔
بھئی قربت کا لفظ آیا، مقصودہ یہ اس کی صفتِ اول ہے اور ”لَا تَصِحُّ“ یہ نکرہ کے بعد فعل آیا یہ اس کی صفتِ ثانی، اسی لیے میں نے کیا ترجمہ کیا؟ ایسی قربتِ مقصودہ جو بغیر طہارت کے صحیح، جب ایسی قربتِ مقصودہ ہے جو طہارت کے بغیر صحیح نہیں اسی کے ارادہ کرنے کی حالت میں مٹی مطہر بنے گی، اس کے بغیر مٹی مطہر نہیں بنے گی بھئی۔ ”وَالْإِسْلَامُ قُرْبَةٌ مَقْصُوْدَةٌ يَصِحُّ بِدُوْنِهَا“ اور اسلام تو ایسی قربتِ مقصودہ ہے جو بغیر طہارت کے بھی صحیح ہو جاتا ہے لہذا اس کے لیے تیمم کیا، دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ مٹی کو طہور بنایا گیا ہے، مطہر بنایا گیا ہے صرف اس حالت میں جب انسان ایسی قربتِ مقصودہ کا ارادہ کرے جو بغیر طہارت کے حاصل نہ ہوتی ہو بھئی، اور اسلام قربتِ مقصودہ تو ہے لیکن بغیر طہارت کے بھی صحیح ہو جاتا ہے لہذا اس کی نیت سے اگر تیمم کر بھی لے تو اس صورت میں مٹی وہ طہور نہیں، کیونکہ مٹی کو تو طہور اور مطہر کب بنایا گیا ہے؟ ایسی قربت کا ارادہ کرے ایسی قربتِ مقصودہ جو بغیر طہارت کے صحیح نہ ہو پھر وہ مطہر بنے گی، پاکی کا فائدہ دے گی اور یہ تو قربتِ مقصودہ تو ہے لیکن یہ بغیر پاکی کے بھی ہو جاتی ہے لہذا اس کے لیے مٹی مطہر نہیں بنے گی بھئی۔
”بِخِلَافِ سَجْدَةِ التِّلَاوَةِ“ بخلاف سجدۂ تلاوت کے، ”لِأَنَّهَا قُرْبَةٌ مَقْصُوْدَةٌ لَا تَصِحُّ بِدُوْنِ الطَّهَارَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ ایسی قربتِ مقصودہ ہے جو بغیر طہارت کے صحیح نہیں، تو لہذا اس کے لیے جو تیمم کرے گا اس سے نماز پڑھ سکتا ہے، لیکن اسلام لانے کے لیے جو تیمم کیا اس سے نماز نہیں پڑھ سکتا کیونکہ مٹی مطہر ہی نہیں بنے گی۔ دلیل اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”وَإِنْ تَوَضَّأَ لَا يُرِيْدُ بِهِ الْإِسْلَامَ ثُمَّ أَسْلَمَ فَهُوَ مُتَوَضِّئٌ“ بھئی پہلی صورت تھی ایک شخص تھا اس نے اسلام لانے کی نیت سے تیمم کیا تھا، طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک اس تیمم کا اعتبار نہیں ہے۔ اب دوسری صورت ہے ایک کافر ہے وہ وضو کرتا ہے اور وضو اسلام لانے کے لیے بھی نہیں کیا، بغیر قربتِ مقصودہ کے اس نے کیا کیا ہے؟ ویسے ہی وضو کر لیا ہے، پھر اس کے بعد ارادہ اس کا بنا اور پھر وہ مسلمان بھی ہو گیا تو کیا اب اس کے وضو کا اعتبار ہے یا وضو کا اعتبار نہیں؟ تو کہتے ہیں اس کے وضو کا اعتبار ہے، اب بھی وہ متوضی ہے اور اسی سے وضو سے وہ نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دلیل بھی آ رہی ہے آگے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَإِنْ تَوَضَّأَ لَا يُرِيْدُ بِهِ الْإِسْلَامَ“ اگر وضو کیا کسی عیسائی نے، ضمیر اسی نصرانی کو راجع ہے، اگر کسی عیسائی نے، مراد غیر مسلم ہے بھئی، عیسائی خاص طور پر نہیں بلکہ کوئی بھی غیر مسلم، اگر وضو کیا اس غیر مسلم نے ”لَا يُرِيْدُ بِهِ الْإِسْلَامَ“ اس وضو کے ذریعے اسلام کا ارادہ نہیں ہے اس کا، ”ثُمَّ أَسْلَمَ فَهُوَ مُتَوَضِّئٌ“ پھر وہ مسلمان ہوا ”فَهُوَ مُتَوَضِّئٌ“ تو وہ متوضی ہے وضو کی حالت میں ہے، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں، اس کے وضو کا کوئی اعتبار نہیں۔ کیوں؟ کہتے ہیں ”بِنَاءً عَلَى اشْتِرَاطِ النِّيَّةِ“ بنا بر نیت کے شرط ہونے کے، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک آپ پڑھ چکے ہیں وضو کے لیے بھی کیا ضروری ہے؟ نیت، کیونکہ ان کے نزدیک یہ قربت ہے اور قربت تبھی بنے گی جب اس کے لیے کیا کیا جائے؟ اس کے لیے نیت کی جائے۔ ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے وضو قربت بھی ہے اور مفتاح للصلاۃ بھی ہے، دو کام کرتا ہے وضو، اور اگر آپ نیت کریں گے تو قربت بھی بنے گا اور مفتاح للصلاۃ بھی بنے گا لیکن اگر آپ نیت نہیں کرتے تو ٹھیک ہے قربت تو نہ بنا، ثواب تو نہ ملا لیکن مفتاح للصلاۃ بن جائے گا، اس سے نماز ادا کر سکتے ہیں۔ تو ہمارے نزدیک چونکہ نیت شرط نہیں اور ان کے نزدیک نیت شرط ہے، تو ہمارے نزدیک جب نیت شرط نہیں تو وضو کر لیا تو بغیر نیت کے وضو پایا گیا اور ہمارے نزدیک تو نیت شرط نہیں تھی لہذا وضو صحیح ہوا، جبکہ ان کے نزدیک نیت شرط ہے، نیت نہیں شرط نہیں تو مشروط نہیں، تو لہذا ان کے نزدیک اس وضو کا اعتبار نہیں ہے بھئی۔
تو ”بِنَاءً عَلَى اشْتِرَاطِ النِّيَّةِ“ بنا بر نیت کے شرط ہونے کے بھئی، یہ دلیل ذکر کر دی امام شافعی رحمہ اللہ کی اور اسی کے ضمن میں ہماری دلیل بھی سمجھ میں آ گئی بھئی، کیونکہ ان کے نزدیک نیت کی شرط ہے اور ہمارے نزدیک نیت کی شرط نہیں، اسی اختلاف پر مسئلے کی بنیاد ہے۔ جی، کوئی بات کسی کو سمجھ میں نہ آئی ہو بھئی؟
کہنیوں تک کی قید، اچھا بھئی یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ تیمم کے اندر کہنیوں تک کی جو قید لگائی کہ کہاں تک مسح کرے؟ کہنیوں تک مسح کرے، اس کا سبب کیا ہے؟ حالانکہ آیت کے اندر تو کہنیوں کا ذکر نہیں آتا بھئی، آیت کے اندر تو کہنیوں کا ذکر نہیں آتا، آیت میں کس طرح اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ”فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ“ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں پر دیکھیے ”إِلَى الْمَرَافِقِ“ کی قید نہیں ہے۔ بھئی وجہ اس کی یہ کیونکہ یہ تیمم نائب ہے وضو کا بھئی، اور وضو میں کہاں تک دھونا ضروری تھا؟ کہنیوں تک دھونا ضروری تھا، تو تیمم اس کا نائب ہے اس کے اندر بھی کہنیوں تک ہی مسح ضروری ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ“۔