فَإِنْ تَيَمَّمَ مُسْلِمٌ ثُمَّ ارْتَدَّ وَالْعِيَاذُ بِاللهِ ثُمَّ أَسْلَمَ فَهُوَ عَلَىٰ تَيَمُّمِهِ، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَىٰ: يَبْطُلُ تَيَمُّمُهُ لِأَنَّ الْكُفْرَ يُنَافِيهِ فَيَسْتَوِي فِيهِ الِابْتِدَاءُ وَالِانْتِهَاءُ كَالْمَحْرَمِيَّةِ فِي النِّكَاحِ.
گذشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر کوئی عیسائی یعنی کوئی غیر مسلم تیمم کرتا ہے اور اس تیمم کے ذریعے وہ اسلام کا ارادہ کرتا ہے، یعنی قربتِ مقصودہ کا، اور پھر اسلام لے آئے تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک اس کے اس تیمم کا اعتبار نہیں ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس کے تیمم کا اعتبار ہے۔ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے تیمم کا اعتبار اس لیے نہیں کیونکہ تیمم جو ہے وہ مٹی سے پاکی حاصل کرنا ہے اور مٹی کو شریعت نے اسی وقت صرف مطہر قرار دیا ہے یعنی اس سے اسی وقت صرف پاکی حاصل ہوگی جب ایسی قربتِ مقصودہ کا ارادہ کیا جائے جو بغیر طہارت کے صحیح ہی نہ ہوتی ہو۔ تو اسلام قربتِ مقصودہ تو ہے لیکن وہ طہارت کے بغیر بھی کوئی مسلمان ہو تو اس کا اسلام صحیح ہوتا ہے، تو یہ ایسی قربتِ مقصودہ ہے جس کے لیے طہارت ضروری نہیں۔ تو تیمم مٹی تو کب صرف مطہر بنے گی؟ جب ایسی قربتِ مقصودہ ہو جو بغیر طہارت کے صحیح ہی نہ ہوتی ہو۔ تو لہٰذا اس وجہ سے یہ قربتِ مقصودہ تو ہوئی اسلام لیکن بغیر طہارت کے بھی صحیح ہے اس لیے اس کے لیے تیمم کیا بھی جائے تو مٹی مطہر نہیں بنے گی، اس کو پاکی حاصل نہیں ہوگی اور وہ متیمم نہیں ہے، اس کے ذریعے اب وہ نماز وغیرہ نہیں پڑھ سکتا بھئی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص وضو کرتا ہے، کوئی کافر، اور وضو کے اندر اس نے سرے سے اسلام کا اس کا ارادہ ہی نہیں ہے، یعنی قربتِ مقصودہ کا ارادہ ہی نہیں ہے، پھر بھی اس کا یہ وضو صحیح ہے اور وہ پھر مسلمان ہو جاتا ہے تو اسی وضو سے نماز وغیرہ پڑھ سکتا ہے اس لیے کیونکہ پانی جو ہے اس کی ذات ہی پاک کرنے والی ہے، وہ طہارت کا فائدہ دے گا پانی بھئی اور اس کا وضو ہوگا۔
آج آپ کو مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ اگر کسی مسلمان نے تیمم کیا اور پھر اس کے بعد وہ العیاذ باللہ مرتد ہو گیا، پھر اس کے بعد دوبارہ مسلمان ہوا، تو تیمم کیا تھا حالتِ اسلام میں اور درمیان میں کفر پیش آیا اور پھر اس کے بعد وہ واپس مسلمان ہوا، تو کیا اب اس کا یہ تیمم باقی ہے یا باقی نہیں؟ تو ہمارے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اس کا تیمم باقی ہے بھئی، وہ اپنے تیمم پر ہے، اس تیمم سے وہ نماز وغیرہ پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کفر درمیان میں آ گیا تو کفر کی وجہ سے اس کا تیمم باطل ہو گیا، اب وہ اس کا تیمم باقی نہیں لہٰذا اس تیمم کی وجہ سے اب نماز بھی نہیں پڑھ سکتا بلکہ تیمم دوبارہ کرنا پڑے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں:
فَإِنْ تَيَمَّمَ مُسْلِمٌ
پس اگر تیمم کیا مسلمان نے،
ثُمَّ ارْتَدَّ
پھر وہ مرتد ہوا،
وَالْعِيَاذُ بِاللهِ
عیاذ، عَاذَ يَعُوذُ عَوْذًا وَعِيَاذًا کا معنی ہے پناہ پکڑنا۔ وَالْعِيَاذُ بِاللهِ اور اللہ کی پناہ پکڑنا ہے، اللہ کے ساتھ پناہ پکڑنا ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے کہ جہاں پر ارتداد کا ذکر آتا ہے تو وہ وہاں اللہ کی پناہ کو ذکر کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمیں مرتد ہونے سے، کفر سے ہماری حفاظت فرما۔ پناہ پکڑنا یعنی حفاظت میں آنا، تو اے اللہ! مرتد ہونے سے اور کفر سے ہماری حفاظت فرما، حفاظت فرما۔ کیونکہ اسلام سب سے بڑی نعمت ہے، اگر ایمان کے ساتھ قبر میں پہنچ گیا تو اس کے بعد پھر راحتیں ہی راحتیں ہیں بھئی۔ اولا تو یقینا اللہ کی ذات بڑی رحیم ہے، بڑی رحمان ہے، یہ انسان امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف فرما دیں گے اور بغیر حساب کتاب کے ہی ہمیں جنت میں داخل فرما دیں گے۔ لیکن اگر سزا بھی ملتی ہے لیکن پھر بھی بالآخر نجات ہوگی اور وہ ایمان تھا تو وہ ایمان اسے جنت میں پہنچا دے گا۔ لیکن اگر کفر والی قبر مل گئی تو اس کے بعد نجات کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو یہ سب سے بڑی دولت ہے ایمان بھئی۔ تو جہاں ارتداد کا ذکر آتا ہے وہاں پر وہ اللہ کی حفاظت ذکر کرتے ہیں کہ اے اللہ! اس مرتد ہونے سے، کفر سے ہماری حفاظت فرما۔
تو کہتے ہیں:
فَإِنْ تَيَمَّمَ مُسْلِمٌ ثُمَّ ارْتَدَّ
پس اگر تیمم کیا کسی مسلمان نے، پھر وہ مرتد ہوا،
وَالْعِيَاذُ بِاللهِ
اور اللہ کے ساتھ پناہ پکڑنا ہے، پھر اللہ سے پناہ پکڑنا ہے یعنی ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں،
ثُمَّ أَسْلَمَ
پھر وہ مسلمان ہوا،
فَهُوَ عَلَىٰ تَيَمُّمِهِ
تو وہ مسلمان اپنے تیمم پر ہی ہے،
وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ يَبْطُلُ تَيَمُّمُهُ
اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا تیمم باطل ہو جائے گا،
لِأَنَّ الْكُفْرَ يُنَافِيهِ
اس لیے کیونکہ کفر تیمم کے منافی ہے۔ کفر میں اور تیمم میں منافات ہے، یہ دونوں اکٹھے جمع ہو ہی نہیں سکتے، وہ فرماتے ہیں دونوں میں منافات ہے، جہاں کفر ہے وہاں تیمم نہیں اور جہاں تیمم ہے وہاں کفر نہیں ہو سکتا۔ تو کفر تیمم کے منافی ہوا،
فَيَسْتَوِي فِيهِ الِابْتِدَاءُ وَالِانْتِهَاءُ
تو اس کے اندر ابتداء اور انتہاء، تیمم کے اندر تیمم کے اندر وہ ابتدائے کفر اور ابتداءً کفر ہو یا انتہاءً کفر ہو، دونوں برابر ہیں۔ یعنی جیسے ابتداءً کفر تیمم کے منافی تھا، کوئی شخص کافر ہو اور اب تیمم کرنا چاہتا ہے تو اب ابتداءً ہی کیا ہے؟ تیمم کی ابتداء ہو رہی ہے اور ابتداءً کفر ہے تو اس کا کافر کے تیمم کا کوئی اعتبار نہیں، اس لیے کیونکہ تیمم کے لیے نیت شرط ہے اور کافر نیت کا اہل ہی نہیں ہے، لہٰذا اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا اگر کافر نماز کی نیت سے بھی تیمم کرے تو اس تیمم کا کوئی اعتبار نہیں، اس لیے کیونکہ تیمم کے لیے نیت کی ضرورت ہے اور اس نے اگرچہ نماز کی نیت کی ہے لیکن کافر تو نماز کا اہل ہی نہیں ہے، اس کی تو نماز کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے، تو لہٰذا جب نماز کا اہل نہیں تو نماز کی نیت کا بھی اہل نہیں، نماز کی نیت بھی اس کی صحیح نہیں، تو گویا بغیر نیت کے تیمم پایا گیا اور بغیر نیت کے تو تیمم صحیح نہیں ہے بھئی۔
تو جیسے ابتداءً کفر تیمم کے منافی ہے اسی طرح انتہاءً بھی کفر تیمم کے منافی ہے۔ ابتداء میں کفر تھا، تیمم کرنا چاہتا ہے تو اس تیمم کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور اگر انتہاء میں کفر آ جائے یعنی تیمم تھا، پھر کیا آ گیا؟ کفر آ گیا، تو یہ کفر تو تیمم کے منافی ہے، لہٰذا یہ کیا کرے گا؟ اس تیمم کو باطل کر دے گا، ختم کر دے گا۔ تو اب جب دوبارہ مسلمان ہوا تو کفر کی وجہ سے تیمم ختم ہو چکا ہے، اب اس تیمم سے نماز نہیں پڑھ سکتا، نیا تیمم کرنا پڑے گا۔
یہ معنی ہے۔
لِأَنَّ الْكُفْرَ يُنَافِيهِ فَيَسْتَوِي فِيهِ الِابْتِدَاءُ وَالِانْتِهَاءُ
بھئی عبارت میں پہلے ذکر کر چکا ہوں، کیسے پڑھیں گے؟ الِابْتِدَاءُ، تو عموما اس کو یوں پڑھا جاتا ہے:
فَيَسْتَوِي فِيهِ الِابْتِدَاءُ وَالِانْتِهَاءُ
لام کو تو ساکن کر دیتے ہیں اور اس سے آگے انتہاء اور ابتداء کا ہمزہ وصلی ہے اس کو بھی پڑھتے ہیں، حالانکہ ہمزۂ وصل در میانِ عبارت میں گر جاتا ہے، تو پھر میں نے طریقہ بتلایا تھا کہ الف لام کا ہمزہ وصلی ہے وہ بھی گر جائے گا، ابتداء کا ہمزہ وصلی ہے وہ بھی گر جائے گا، تو لام بھی ساکن آگے با بھی ساکن، تو لام کو کسرہ دیں گے کیونکہ السَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ، تو لِبْتِدَاءُ اور اسی طرح لِنْتِهَاءُ۔
كَالْمَحْرَمِيَّةِ فِي النِّكَاحِ
تو اس کے اندر تیمم کے اندر ابتداء اور انتہاء برابر ہیں، یعنی ابتداءً کفر اور انتہاءً کفر دونوں برابر ہیں، دونوں تیمم کے منافی ہیں۔
كَالْمَحْرَمِيَّةِ فِي النِّكَاحِ
جیسے کہ محرم ہونا نکاح کے اندر بھئی۔ محرم کچھ رشتہ دار جن سے شریعت نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکاح کو حرام قرار دیا ہو ان کو محرم کہتے ہیں، جیسے بہن ہے، بیٹی ہے، ماں ہے، پھوپھی ہے وغیرہ بھئی، یہ سب کیا ہیں؟ محرم ہیں بھئی، محرم۔ اور تو یہ محرمیت نکاح کے منافی ہے بھئی۔ محرم ہو تو وہاں نکاح نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو محرمیت نکاح کے منافی ہے اور چاہے محرمیت ابتداءً ہو چاہے انتہاءً ہو، یہ نکاح کے منافی ہے۔ ابتداءً محرمیت جیسے ابھی میں نے ذکر کیا بہن ہے، بیٹی ہے، ماں ہے، اب ان کے ساتھ ابتداءً ہی محرمیت ہے، کوئی نکاح کرنا بھی چاہتا ہے نکاح ہو ہی نہیں سکتا بھئی کیونکہ محرمیت کیا ہے؟ نکاح کے منافی ہے۔ اور تو محرمیت جیسے ابتداءً نکاح کے منافی اسی طرح انتہاءً بھی نکاح کے منافی ہے۔ لہٰذا دو آدمی ہیں ان کی اولاد ہے، ایک کا بیٹا ایک کی بیٹی اور وہ صغیر ہیں مثلاً چھوٹے ہیں اور ایک ایک سال کے ہی ہیں فرض کرو، اور وہ دونوں آپس میں رضامند ہو جاتے ہیں، ان کا آپس میں نکاح کروا دیتے ہیں ان کے والد بھئی دونوں کے۔ تو اب دونوں کا نکاح کروایا تو یہ ولی ہیں اور ولی کو نکاح کروانے کا حق حاصل ہے، تو ان کا نکاح ہو گیا بھئی، ان کا نکاح کیا ہوا؟ ہو گیا، ہاں ان کو آخر میں اختیار ملے گا جب یہ بالغ ہوں، جس مجلس میں ان کو نکاح کا پتہ چلے اسی میں کیا کر سکتے ہیں؟ رد کرنا چاہیں تو رد کر سکتے ہیں۔
تو بہرحال یہ نکاح منعقد ہوا، اگر یہ جو دو چھوٹے بچے ہیں ان کا نکاح منعقد ہوا، لیکن اگر کوئی عورت ان دونوں کو دودھ پلا دے اور مدتِ رضاعت کے اندر بھئی، تو دودھ جب عورت نے دونوں کو پلایا تو یہ دونوں کیا ہوئے؟ اس کی اولاد کی طرح ہو گئے اور یہ آپس میں بہن بھائیوں کی طرح بن گئے کیونکہ ایک ہی ماں کی گویا اولاد ہو گئے، وہ ان کی ماں بن گئی اور یہ اس کے اس کی اولاد، تو یہ بہن بھئی کی طرح ہو گئے، تو ان کا تو محرمیت آ گئی اور وہ نکاح کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا۔ تو دیکھیے یہاں محرمیت ابتداءً نہیں تھی، جب نکاح کیا اس وقت محرم نہیں تھے لیکن اب کیا بن چکے؟ ایک دوسرے کے محرم، اور محرمیت جیسے ہی آئی نکاح ختم ہو گیا کیونکہ محرمیت نکاح کے منافی ہے۔ تو محرمیت جیسے ابتداءً نکاح کے منافی ہے اسی طرح انتہاءً بھی منافی ہے۔ تو یہ تیمم اور کفر بھی اسی طرح ہے، کفر تیمم کے منافی ہے ابتداءً بھی اور انتہاءً بھی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ نے گویا اس کو قیاس کیا کس پر؟ محرمیت پر۔
وَلَنَا أَنَّ الْبَاقِيَ بَعْدَ التَّيَمُّمِ صِفَةُ كَوْنِهِ طَاهِرًا فَاعْتِرَاضُ الْكُفْرِ عَلَيْهِ لَا يُنَافِيهِ
ہم دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگرچہ کفر آیا ہے درمیان میں لیکن یہ کفر تیمم پر نہیں آیا بلکہ تیمم تو گزر چکا، تیمم تو اس شخص نے حالتِ اسلام میں کیا تھا، اب صرف اس شخص کے پاک ہونے کی صفت باقی ہے، یعنی تیمم نے اس کو طہارت کا فائدہ دیا تھا، اس کے لیے مٹی مطہر بنی تھی، مٹی کیا بنی تھی؟ مطہر بنی تھی۔ تو تیمم تو گزر چکا ہے صرف اس متیمم کے پاک ہونے کی، طہارت کی صفت باقی ہے۔ تیمم تو اس وقت نہیں ہے، اور اس پاک ہونے کی صفت میں کیا آیا؟ کفر آیا، تو اس پر کفر سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ صفت اسی طرح ہے، پھر وہ مسلمان ہو گیا تو اس کا تیمم اسی طرح ہے یعنی وہ پاکی کی حالت میں ہے اور نماز پڑھنا چاہے تو اسی تیمم کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَلَنَا
اور ہماری دلیل یہ ہے کہ
أَنَّ الْبَاقِيَ بَعْدَ التَّيَمُّمِ
کہ وہ چیز جو باقی ہے تیمم کے بعد
صِفَةُ كَوْنِهِ طَاهِرًا
وہ اس متیمم کے پاک ہونے کی صفت ہے،
فَاعْتِرَاضُ الْكُفْرِ عَلَيْهِ لَا يُنَافِيهِ
تو کفر کا پیش آنا، اعتراض کا کیا معنی؟ پیش آنا۔ فَاعْتِرَاضُ الْكُفْرِ عَلَيْهِ لَا يُنَافِيهِ تو کفر کا اس حالت پر پیش آنا لَا يُنَافِيهِ یہ اس کے منافی نہیں ہے۔ اب اس حالت میں کفر آ بھی جائے تو صرف پاک ہونے کی صفت ہے، تو اس سے تو پاک ہونے پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا کفر کا۔
كَمَا لَوِ اعْتَرَضَ عَلَى الْوُضُوءِ
جیسے کہ کفر پیش آ جائے وضو پر، جیسے کفر کس پر پیش آئے؟ وضو پر، تو جیسے وضو پر کفر پیش آئے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا اسی طرح یہاں پر بھی صرف پاک ہونے کی صفت ہے، اس پر کفر پیش آیا اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
وَإِنَّمَا لَا يَصِحُّ مِنَ الْكَافِرِ ابْتِدَاءً
امام زفر رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ کفر تیمم کے منافی ہے جیسے ابتداءً ویسے ہی انتہاءً، ہم نے بتا دیا انتہاءً تو کفر منافی نہیں، مسلمان تھا، تیمم کر لیا اور اس تیمم کی حالت میں کفر آیا، تو شروع میں کفر تھا؟ نہیں، ابتداءً نہیں تھا، ہاں انتہاءً کیا آیا؟ کفر، اور ہم نے بتا دیا انتہاءً کفر تیمم کے منافی نہیں۔ اور باقی آپ نے ابتداءً کا کہا تھا وہ تو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ ابتداءً کفر ہو تو کافر نیت نہیں کر سکتا حالانکہ نیت تو کیا تھی تیمم کے اندر؟ شرط، تو ابتداءً کفر تیمم کے اس لیے منافی ہے کیونکہ کافر کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں اور نیت تو تیمم میں شرط ہے بھئی، یہی بات ذکر کر رہے ہیں:
وَإِنَّمَا لَا يَصِحُّ مِنَ الْكَافِرِ ابْتِدَاءً
اور تیمم جو ہے وہ صحیح نہیں ہے کافر سے ابتداءً
لِعَدَمِ النِّيَّةِ مِنْهُ
بوجہ اس کی طرف سے نیت نہ ہونے کے، کیونکہ اس کی نیت کا اعتبار نہیں، وہ نیت کا اہل ہی نہیں ہے۔
وَيَنْقُضُ التَّيَمُّمَ كُلُّ شَيْءٍ يَنْقُضُ الْوُضُوءَ
اور توڑ دیتی ہے تیمم کو، التَّيَمُّمَ یہ مفعول ہے، كُلُّ شَيْءٍ یہ فاعل ہے يَنْقُضُ کے لیے، اور توڑ دیتی ہے تیمم کو كُلُّ شَيْءٍ ہر وہ چیز، دیکھیے شَيْءٌ نکرہ آیا اس کے بعد يَنْقُضُ فعل آیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، تو توڑ دیتی ہے تیمم کو ہر ایسی چیز يَنْقُضُ الْوُضُوءَ جو وضو کو توڑ دے،
لِأَنَّهُ خَلَفٌ عَنْهُ
اس لیے کیونکہ تیمم جو ہے وضو کا خلیفہ ہے، وضو کا نائب ہے،
فَأَخَذَ حُكْمَهُ
تو اس نے وضو ہی کا حکم لے لیا۔ تیمم خلیفہ ہے اور نائب ہے وضو کا تو اس نے وضو والا ہی حکم لے لیا اور تو وضو جن چیزوں سے ٹوٹتا تھا ان سے تیمم بھی ٹوٹ جائے گا بھئی۔
وَيَنْقُضُهُ أَيْضًا رُؤْيَةُ الْمَاءِ إِذَا قَدَرَ عَلَى اسْتِعْمَالِهِ
اور اسی طرح توڑ دیتا ہے تیمم کو رُؤْيَةُ الْمَاءِ پانی کا دیکھنا، پانی کو دیکھے تو یہ پانی کا دیکھنا بھی تیمم کو توڑ دے گا إِذَا قَدَرَ عَلَى اسْتِعْمَالِهِ جب وہ شخص اس پانی کے استعمال پر قادر بھی ہو۔ اگر قادر نہیں ہے، پانی تو پا لیا، پانی تو مل گیا لیکن یہ اس کے استعمال پر قادر نہیں ہے تو پھر اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے یہ شرط کیسے بڑھا دی کہ جب وہ پانی کے استعمال پر قادر ہو؟ آپ نے کیا کہا؟ پانی کا دیکھنا تیمم کو کب توڑے گا؟ جب وہ پانی کے استعمال پر قادر ہو، تو جواب اس کا دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں:
لِأَنَّ الْقُدْرَةَ هِيَ الْمُرَادُ بِالْوُجُودِ الَّذِي هُوَ غَايَةٌ لِطَهُورِيَّةِ التُّرَابِ
اس لیے کیونکہ قدرت ہی مراد ہے اس وجود سے جو غایت ہے مٹی کے طہوریت کے، مٹی کے مطہر ہونے کی جو غایت ہے اور انتہاء ہے۔ غایت کسے کہتے ہیں؟ حد کو، انتہاء کو۔ بھئی دیکھیے حدیث کے اندر کیا آیا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مٹی مسلمان کے لیے مطہر ہے اگرچہ دس سال تک ہی کیوں نہ ہو، مَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ جب تک وہ پانی کو نہ پائے۔ تو جب تک پانی نہ ملے مٹی اس کے لیے مطہر ہے۔ معلوم ہوا جب پانی پا لے گا، پانی مل جائے گا تو پھر مٹی مطہر نہیں بنے گی۔ تو اس حدیث میں غایت بیان کی گئی مٹی کے مطہر ہونے کی کہ مٹی مطہر رہے گی جب تک پانی نہ پائے، معلوم ہوا جب پانی کو پا لے گا تو پھر مٹی مطہر نہ رہے گی، تو مٹی کے مطہر ہونے کی انتہاء کب ہوگی؟ جب پانی کو پا لے گا یعنی جب پانی پایا جائے گا، پانی کا وجود آ جائے گا بھئی، اور یہاں وجود سے مراد قدرت ہی ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ جب پانی کو پا لے گا یعنی اس کے استعمال پر قادر ہو جائے گا بھئی، تو قدرت مراد ہے وجود سے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
کہتے ہیں:
لِأَنَّ الْقُدْرَةَ هِيَ الْمُرَادُ بِالْوُجُودِ الَّذِي هُوَ غَايَةٌ لِطَهُورِيَّةِ التُّرَابِ
اس لیے کیونکہ قدرت ہی مراد ہے بالوجود الذی اس وجود سے جو غایت ہے، جو انتہاء ہے مٹی کے مطہر ہونے کی، حدیث میں مٹی کے مطہر ہونے کی انتہاء کیا بیان کی گئی؟ پانی کا وجود، اور پانی کے وجود سے قدرت ہی مراد ہے کہ آدمی کیا ہو؟ اس پانی کے استعمال پر قادر بھی ہو، اگر پانی پا لے اور استعمال پر قادر ہی نہیں ہے تو پھر تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔
وَخَائِفُ السَّبُعِ وَالْعَدُوِّ وَالْعَطَشِ عَاجِزٌ حُكْمًا
سبع کہتے ہیں درندے کو، اور درندے کا خوف کرنے والا، وَالْعَدُوِّ اور دشمن کا خوف کرنے والا، وَالْعَطَشِ اور پیاس کا خوف کرنے والا عَاجِزٌ حُكْمًا وہ حکماً عاجز ہے۔ بھئی ایک آدمی ہے وہ اس کے سامنے قریب ہی پانی موجود ہے لیکن اس کو خوف ہے کہ اگر میں وہاں جاؤں گا تو وہاں میرا دشمن ہے وہ مجھے نقصان پہنچائے گا یا وہاں کوئی درندہ ہے وہ درندہ مجھے نقصان پہنچائے گا، یا سفر کے اندر ہے ایک آدمی اب پانی اس کے پاس موجود ہے اتنا پانی جس سے وہ وضو کر سکتا ہے لیکن اسے خوف ہے کہ یہاں میں جنگل میں ہوں مجھے قریب کہیں پانی نہیں ملے گا، اگر میں نے اس سے وضو کر لیا اس پانی سے تو پھر راستے میں پیاس مجھے لگے گی اور پیاس سے مجھے سخت تکلیف پہنچے گی تو اس شخص کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔ اب اگرچہ یہ حقیقتاً پانی کے استعمال سے یہ لوگ عاجز نہیں، ایک شخص ہے پانی سامنے موجود ہے لیکن خوف کیا ہے؟ وہاں کون ہوگا؟ دشمن یا درندہ ہے، تو اب دیکھو حقیقتاً یہ پانی کے استعمال سے عاجز نہیں، پانی تو سامنے موجود ہے یہ جا کر اس کو استعمال کر سکتا ہے لیکن خوف ہے تو اس خوف کی وجہ سے، خوف اور اس ڈر کی وجہ سے اس کو حکماً عاجز قرار دیا ہے، اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ حکماً۔ یعنی حقیقتاً تو عاجز نہیں لیکن حکم لگا دیا گیا اس پر کہ یہ عاجز ہے، کیا حکم لگا دیا گیا؟ کہ یہ عاجز ہے، یہ معنی ہے کہ یہ عاجز ہے حکماً، حکم کے اعتبار سے عاجز ہے یعنی حقیقتاً نہیں، اور تو جب حکم لگا دیا گیا عاجز ہونے کا تو جب انسان عاجز ہو، پانی نہ ہو تو پانی سے عاجز ہو تو اس صورت میں کیا کر سکتا ہے؟ تیمم کر سکتا ہے، تو لہٰذا اس کو بھی تیمم کرنے کی اجازت ہوگی۔
وَالنَّائِمُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَىٰ قَادِرٌ تَقْدِيرًا حَتَّى لَوْ مَرَّ النَّائِمُ الْمُتَيَمِّمُ عَلَى الْمَاءِ بَطَلَ تَيَمُّمُهُ عِنْدَهُ
امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سویا ہوا شخص، کوئی شخص سویا ہوا ہے اور سواری اس کی چل رہی ہے جنگل کے اندر بھئی، اور اس نے تیمم کر رکھا ہے اب یہ پانی اس کے پاس نہیں اس نے تیمم کر رکھا ہے اور یہ سواری پر سو گیا بیٹھے بیٹھے سو گیا کیونکہ اگر لیٹ کر سوئے گا پھر تو وضو جیسے ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح تیمم بھی ٹوٹ جائے گا، تو یہ بیٹھے بیٹھے سو گیا اور اس نیند کی حالت میں اس کی سواری پانی کے پاس سے گزری، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا تیمم ٹوٹ جائے گا، اور اگرچہ حقیقتاً تو وہ پانی کے استعمال پر قادر نہیں کیونکہ وہ تو سویا ہوا تھا اس بیچارے کو تو پتہ ہی نہیں چلا کہ پانی کے پاس سے میں گزرا ہوں، اگرچہ وہ قادر نہیں پانی کے استعمال پر حقیقتاً لیکن تقدیراً اس کو یوں شمار کیا جائے گا کہ وہ پانی کے استعمال پر قادر ہے۔ تقدیراً کا کیا معنی؟ یعنی فرض کر لیا گیا، کیا کر لیا جائے گا؟ فرض، ہاں وہ حقیقتاً تو پانی کے استعمال پر قادر نہیں لیکن فرض کر لیا جائے گا کہ یہ کیا ہے؟ پانی کے استعمال پر قادر ہے، اور جب یہ فرض کر لیا گیا کہ یہ پانی کے استعمال پر قادر ہے، جب پانی کے استعمال پر قادر ہے پھر تو تیمم کی اجازت نہیں ہوتی اور تیمم کیا ہو اور پانی کے استعمال پر قادر ہو جائے تو تیمم ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا بھی تیمم ٹوٹ جائے گا بھئی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کو قادر کیوں فرض کیا گیا پانی کے استعمال پر کہ یہ پانی کے استعمال پر قادر ہے؟ تو وجہ اس کی یہ کہ دراصل یہاں عذر اس کی اپنی ذات کی طرف سے آیا ہے، نیند اس کے، سویا یہ خود ہے تو عذر کس کی طرف سے آیا؟ پانی کا پتہ کیوں نہیں چلا؟ کیونکہ یہ سو گیا تھا، اور یہ سونے کا عذر کس کی طرف سے آیا؟ اس کی اپنی ذات کی طرف سے آیا ہے، لہٰذا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ دراصل یہاں کوتاہی اس کی اپنی طرف سے آئی ہے، اس کی اپنی کوتاہی کی وجہ سے وہ نیند کے عالم میں پانی کے پاس سے گزر گیا تو یہ عذر جو آیا یہ کس کی وجہ سے آیا، کس کی طرف سے آیا؟ اس شخص کی طرف سے آیا، تو یہ اس کی اپنی کوتاہی ہے اور اپنی کوتاہی کی وجہ سے کسی کو عاجز قرار نہیں دیا جا سکتا بھئی۔ جیسے آپ پڑھ چکے ایک شخص نماز کو مؤخر کرتا چلا گیا، اب آخری دس منٹ رہ گئے، اب ان دس منٹوں کے اندر اگر وہ دیکھتا ہے پانی کچھ فاصلے پر موجود ہے اب اگر میں وضو کروں گا پانی کے پاس جاؤں گا وضو کر کے آؤں گا تو یہ دس منٹ بھی گزر جائیں گے اور میری نماز فوت ہو جائے گی تو پھر بھی شریعت کا حکم کیا ہے؟ اسے کیا کرنا پڑے گا؟ وضو ہی کرنا پڑے گا، وہ تیمم نہیں کر سکتا کیونکہ کوتاہی اس کی اپنی طرف سے آئی ہے تو اپنی کوتاہی کی وجہ سے کسی کو عاجز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو یہاں پر بھی کوتاہی اس شخص کی اپنی طرف سے آئی ہے لہٰذا اس عذر کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا اور اس کو قادر ہی سمجھا جائے گا تو یہ قادر ہوا تقدیراً، یعنی فرض کر لیا گیا کہ یہ کیا ہے؟ قادر ہے، اور اس کا تیمم ٹوٹ جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَالنَّائِمُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَىٰ قَادِرٌ تَقْدِيرًا
اور سویا ہوا شخص جو ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وہ قادر ہے تقدیراً،
حَتَّى لَوْ مَرَّ النَّائِمُ الْمُتَيَمِّمُ عَلَى الْمَاءِ بَطَلَ تَيَمُّمُهُ عِنْدَهُ
یہاں تک کہ اگر گزرا سویا ہوا تیمم کرنے والا، یعنی تیمم کیے ہوا جس نے تھا اور وہ گزرا ہے پانی پر، تو اس کا تیمم باطل ہو جائے گا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔
وَالْمُرَادُ مَا يَكْفِي لِلْوُضُوءِ
اور مراد یہ ہے وہ پانی وہ مقدار پانی کی جو وضو کے لیے کافی ہو۔ بھئی متن کے اندر بھی آیا کہ کوئی شخص اگر پانی کو دیکھ لے تو اس پانی اور اس کے استعمال پر قادر بھی ہو تو پانی کا دیکھنا اس کے تیمم کو توڑ دے گا، تیمم اس کا ختم ہو جائے گا۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں بھئی مراد پانی کی وہ مقدار ہے جو وضو کے لیے کافی ہو، جس سے وضو ہو سکے بھئی۔ کم از کم اتنی مقدار پانی کی ہو اس کو دیکھے گا تو اور اس کے استعمال پر قادر ہے تو پھر اس کا تیمم ٹوٹے گا، اس لیے کیونکہ اس سے اگر اتنا پانی کم ہے اس سے وضو کر ہی نہیں سکتا تو اس کا تو ابتداءً بھی اعتبار نہیں تھا تو انتہاءً بھی اعتبار نہیں ہوگا۔ ابتداءً بھئی، ایک آدمی ہے اس کے پاس کچھ پانی موجود ہے لیکن اتنا نہیں ہے کہ جس سے وضو کے فرائض پورے کر سکے، تو اس پانی کا اعتبار ہے یا اس کو تیمم کی اجازت ہوگی شریعت کی جانب سے؟ اجازت ہوگی اس کی طرف سے، تو دیکھو ابتداءً بھی پانی کم ہے وضو سے اس کا اس کو عدم شمار کیا جاتا ہے کہ گویا اس کے پاس پانی ہے ہی نہیں، تو ابتداءً جیسے تھوڑی مقدار اس کا کوئی اعتبار نہیں انتہاءً جو تھوڑی مقدار ہو پانی کی اس کا کوئی اعتبار نہیں، انتہاءً یعنی پہلے سے تیمم کیا ہوا ہے اب پانی اس کو ملا اور کتنا ملا ہے؟ وضو سے کم ہے، وضو نہیں ہو سکتا، تو ابتداءً جیسے اس کم مقدار کا اعتبار نہیں تھا انتہاءً بھی اس کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا اس پانی کو اگر وہ دیکھ بھی لے اور اس کے استعمال پر قادر ہو پھر بھی اس کے تیمم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس کا تیمم اپنے حال پر باقی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
وَالْمُرَادُ مَا يَكْفِي لِلْوُضُوءِ
اور مراد وہ پانی ہے جو کافی ہو وضو کے لیے،
لِأَنَّهُ لَا مُعْتَبَرَ بِمَا دُونَهُ ابْتِدَاءً فَكَذَا انْتِهَاءً
اس لیے کیونکہ کوئی اعتبار نہیں ہے اس پانی کا جو اس سے کم ہو یعنی جو وضو کے لیے کافی نہ ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ابتداءً، فَكَذَا انْتِهَاءً تو اسی طرح انتہاءً بھی اس کم مقدار کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھیے بھئی، ایک شخص نے تیمم کیا ہے اور اس کو پانی ملا تو آپ فوراً ہی یہ حکم نہ لگا دیں کہ اس کا تیمم باطل ہو گیا بلکہ یہ دیکھیں گے کہ اس نے تیمم کون سا کیا ہوا ہے، اگر اس نے وضو کا تیمم کر رکھا ہے تو پھر اس صورت میں اتنا پانی مل جائے جس سے وضو کر سکے تو تب اس کا تیمم باطل ہوگا، اور اگر کسی شخص نے تیمم غسل کا کیا ہے تو پھر اتنا پانی مل جائے جس سے وہ غسل کر سکے تب اس کا وہ تیمم غسل والا باطل ہوگا، مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور وضو اور غسل کے لیے اتنا پانی ہے جس سے وضو کر سکتا ہے یا غسل کر سکتا ہے، اس سے یہ مراد نہیں کہ خوب پانی ہو جیسے آپ لوگ وضو کرتے ہیں خوب پانی لگاتے ہیں بلکہ اتنی پانی کی مقدار جس سے فرائض پورے ہو جائیں یعنی ایک مرتبہ چہرے کو دھو لے، ایک مرتبہ دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لے اور ایک مرتبہ دونوں پاؤں دھو لے، بس اتنا تھوڑی سی مقدار پانی کی ہے جس سے یہ چیزیں ایک ایک دفعہ آرام سے ہو سکتی ہیں تو پھر ہم کہیں گے یہ وضو کے بقدر پانی مل گیا۔ اسی طرح غسل کے لیے بھی بہت زیادہ پانی نہیں بلکہ اتنی مقدار جس سے کیا کر سکے؟ جس سے غسل کے سارے فرائض ایک مرتبہ پورے ہو جائیں تو بس یہ کہیں گے کہ غسل کے لیے یہ پانی کافی ہے اور اس کا تیمم باطل ہوا۔
وَلَا يَتَيَمَّمُ إِلَّا بِصَعِيدٍ طَاهِرٍ
اور وہ تیمم اور تیمم نہیں کرے گا مگر پاک مٹی سے، اور تیمم نہ کرے مگر پاک مٹی سے،
لِأَنَّ الطَّيِّبَ أُرِيدَ بِهِ الطَّاهِرُ
جی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی، متن میں کیا آیا کہ تیمم نہ کرے مگر کس کے ساتھ؟ پاک مٹی سے، یہ مٹی کے ساتھ پاک ہونے کی قید بڑھا دی کیوں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں:
لِأَنَّ الطَّيِّبَ أُرِيدَ بِهِ الطَّاهِرُ
اس لیے کیونکہ جو طیب کا لفظ آیا آیت کے اندر:
فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا
تم تیمم کرو پاک مٹی سے، تو یہاں طیب سے کیا مراد ہے؟ پاک ہے، لِأَنَّ الطَّيِّبَ أُرِيدَ بِهِ الطَّاهِرُ اس لیے کیونکہ طیب کا جو لفظ آیا اس سے مراد طاہر ہے، طاہر کا پاک کا ارادہ کیا گیا ہے۔
وَلِأَنَّهُ
یہاں سے دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں وَلِأَنَّهُ تو پہلی دلیل کیا ذکر کر دی؟ نقلی، کہ آیت میں طیب کا لفظ آیا ہے بھئی اس لیے طیب ہونا یعنی پاک ہونا ضروری، دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مٹی جو ہے یہاں تیمم کے اندر وہ آلہٴ تطہیر ہے، مٹی سے پاکی حاصل کر رہا ہے وہ، تو جب اس سے پاکی حاصل کر رہا ہے وہ آلہٴ تطہیر ہے تو آلہٴ تطہیر کا پاک خود پاک ہونا ضروری ہے پھر ہی اس کو پاکی کا فائدہ دے گی، جیسے وضو کے اندر آلہٴ تطہیر پانی ہے تو پانی خود پاک ہوگا تو اس دوسرے کا اس سے وضو ہو جائے گا اور اگر پانی ہی پاک نہیں ہے تو اس سے وضو حاصل وضو بھی نہیں ہوگا، پاکی حاصل نہیں ہوگی۔
کہتے ہیں:
وَلِأَنَّهُ آلَةُ التَّطْهِيرِ
اور اس لیے کیونکہ مٹی جو ہے وہ آلہٴ تطہیر ہے،
فَلَا بُدَّ مِنْ طَهَارَتِهِ فِي نَفْسِهِ
تو لہٰذا اس مٹی کا پاک ہونا ضروری ہے فی ذاتہ اس کی اپنی ذات کے اعتبار سے، یعنی مٹی اپنی ذات کے اعتبار سے پاک ہونی چاہیے
كَالْمَاءِ
جیسے کہ پانی ہے وضو کے اندر بھئی۔
وَيُسْتَحَبُّ لِعَادِمِ الْمَاءِ وَهُوَ يَرْجُوهُ أَنْ يُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ إِلَى آخِرِ الْوَقْتِ
بتلا رہے ہیں یہاں سے یہ مسئلہ کہ ایک شخص ہے اس کے پاس پانی نہیں ہے اور لیکن اس کا گمان ہے، غالب گمان ہے کہ آخرِ وقت میں مجھے پانی مل جائے گا۔ مثلاً ظہر کا وقت شروع ہوا اور اس وقت اس مسافر کے پاس پانی موجود نہیں لیکن اس کو امید ہے کہ اگر میں نماز کو مؤخر کر دوں یعنی ظہر کے آخری وقت میں جا کر پڑھوں تو اس وقت تک مجھے کہیں نہ کہیں سے پانی مل جائے گا، تو اس شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ نماز کو مؤخر کر دے۔ لازمی نہیں ہے، اگر اس وقت بھی وہ تیمم کر کے نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے لیکن مستحب یہ ہے کہ کیا کرے؟ نماز کو مؤخر کر دے تاکہ اگر آخر میں پانی مل جائے تو پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے اور اگر اس وقت بھی پانی نہ ملا تو پھر کیا کر لے؟ تیمم کر کے نماز پڑھ لے۔
کہتے ہیں:
وَيُسْتَحَبُّ لِعَادِمِ الْمَاءِ وَهُوَ يَرْجُوهُ أَنْ يُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ إِلَى آخِرِ الْوَقْتِ
اور مستحب ہے پانی کو نہ پانے والے کے لیے وَهُوَ يَرْجُوهُ اس حال میں کہ اس کو پانی کی امید ہے، اس کا غالب گمان ہے کہ پانی مجھے آخر وقت میں مل جائے گا۔ تو مستحب ہے اس دوبارہ عبارت پہ نظر رکھنا بھئی، اور مستحب ہے اس شخص کے لیے جو پانی کو جو جس کے پاس پانی موجود نہیں اس حال میں کہ اس کو پانی کی امید ہے، کیا مستحب ہے؟ یہ فاعل يُسْتَحَبُّ کا آگے آ رہا نائب الفاعل آگے آ رہا ہے، یہ مستحب کیا ہے؟
أَنْ يُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ إِلَى آخِرِ الْوَقْتِ
نماز کو آخرِ وقت تک کہ وہ آخرِ وقت تک نماز کو مؤخر کر دے،
فَإِنْ وَجَدَ الْمَاءَ يَتَوَضَّأُ وَإِلَّا تَيَمَّمَ وَصَلَّى
پس اگر وہ پانی کو پا لے اس آخرِ وقت میں تو وضو کر لے، ورنہ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، وَإِلَّا یاد رکھیے بھئی عبارت کی یہ بات، یہ إِلَّا یہ حرفِ استثناء نہیں ہے، یہ إِلَّا دراصل کیا ہے؟ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ، اصل میں ہے إِنْ اور لَا، إِنْ اور لَا، پھر نون کو بھی لام کر کے لام میں اس کا ادغام کر دیا گیا تو کیا بن گیا؟ إِلَّا، تو یہ وہ إِلَّا استثناء والا نہیں ہے یہ بلکہ إِلَّا ہے أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی پانی نہ ملے تَيَمَّمَ وَصَلَّى تیمم کر لے اور نماز پڑھ لے۔
تو سوال پیدا ہوتا ہے یہ کیسے پتہ چلے گا کہ کہیں پر إِلَّا آیا وہ استثناء والا إِلَّا ہے یا کہیں پر إِلَّا آیا وہ إِنْ اور لَا سے مرکب ہے؟ تو یاد رکھیے اگر إِلَّا سے پہلے واو آ جائے جیسے یہاں پر ہے وَإِلَّا، تو یہ واو اگر إِلَّا سے پہلے آئے تو سمجھ جائیے کہ یہ وہ استثناء والا إِلَّا نہیں ہے بلکہ إِنْ اور لَا سے مرکب ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ إِنْ لَا نون کو لام کر کے لام میں ادغام کیوں کیا گیا؟ يَرْمُلُونَ کا قاعدہ آپ نے صرف میں پڑھا ہے، یہ جگہ جگہ ہر سطر میں یہ ضابطہ تقریباً لگے گا جگہ جگہ کہ حروفِ يرملون والا، حروفِ يرملون کا کیا ضابطہ ہے؟ کہ نونِ ساکن اگر آ جائے حروفِ يرملون سے پہلے یعنی يَا، رَا، مِيم، لَام، وَاو، نُون ان حروف سے پہلے اگر نونِ ساکن آ جائے تو اس نونِ ساکن کو یہ جو آگے حرف آ رہا ہے اس کی جنس سے بدل دیں گے، یعنی وہی حرف اس سے بھی بنا دیں گے اور پھر اس کا اس میں ادغام کر دیں گے۔ کیا کر دیں گے؟ ادغام، تو یہاں دیکھیے إِنْ لَا وَإِنْ لَا نون ساکن آیا إِنْ اور آگے لَا لام آیا بھئی اور لام بھی کس میں سے ہے؟ حروفِ يرملون، يَرْمُلُونَ اس میں لام ہے یا نہیں بھئی؟ يَا، رَا، مِيم، لَام، لام اس میں آ رہا ہے، تو لام سے پہلے نونِ ساکن آیا تو اس نون کو بھی لام کر کے کیا کر دیا گیا؟ لام میں ادغام کر دیا گیا تو کیا بن گیا؟ إِلَّا بن گیا بھئی، تو یہ يرملون والا ضابطہ یہ ہر وقت آپ کے ذہن میں ہو عبارت پڑھتے ہوئے جگہ جگہ بلکہ تقریباً ہر سطر یا دوسری سطر میں یہ ضابطہ لگتا چلا جاتا ہے۔
تو اگر ایسا نہ ہو یعنی پانی نہ ملے:
تَيَمَّمَ وَصَلَّى
تیمم کر لے اور نماز پڑھ لے،
لِيَقَعَ الْأَدَاءُ بِأَكْمَلِ الطَّهَارَتَيْنِ
تاکہ اس کی جو ادا ہے یعنی جو اس نے نماز ادا کی ہے تو وہ جو ادا ہے وہ دو طہارتوں میں سے جو زیادہ کامل ہے اس کے ساتھ ادا ہو جائے، اس کے ساتھ واقع ہو جائے۔ بھئی دیکھیے تیمم بھی کامل طہارت اور وضو بھی کامل طہارت لیکن وضو زیادہ کامل طہارت ہے، تیمم بھی کامل طہارت لیکن وضو زیادہ کامل طہارت ہے، تو لہٰذا اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ نماز ادا کرنا چاہتا ہے تو تاکہ زیادہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ادا ہو جائے اس لیے اس کے لیے مستحب ہے۔
مستحب ہے نماز کو مؤخر کرنا۔ یہ معنی ہے لِيَقَعَ الْأَدَاءُ بِأَكْمَلِ الطَّهَارَتَيْنِ تاکہ ادا واقع ہو دو طہارتوں میں سے زیادہ کامل کے ساتھ۔ فَصَارَ كَالطَّامِعِ فِي الْجَمَاعَةِ تو ہو گیا یہ شخص اس شخص کی طرح الطَّامِعِ فِي الْجَمَاعَةِ جو امید رکھنے والا ہے جماعت کی، جو جماعت میں یعنی جماعت کی امید رکھنے والا ہے۔
سمجھ میں آیا؟ بھئی ایک آدمی ہے اور نماز کا وقت ہو گیا اور وہ نماز پڑھنا چاہتا ہے لیکن اس کو امید ہے اگر میں نماز کو تھوڑا سا مؤخر کر دوں تو پھر مجھے جماعت مل جائے گی بھئی، میرے کچھ ساتھی وغیرہ آ جائیں گے تو ہم جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیں گے۔ تو اس شخص کو جس کو جماعت کی امید ہے اس کے لیے بھی مستحب کیا ہے کہ نماز کو مؤخر کر دے۔ تو یہ تیمم والا جو اوپر جو متن میں ذکر ہوا جس کو پانی نہیں مل رہا تو یہ بھی، یہ شخص بھی اسی جماعت میں امید کرنے والے کی طرح ہوا اور جیسے اس کے لیے مؤخر کرنا مستحب تھا اسی طرح اس کے لیے بھی مؤخر کرنا مستحب ہے۔ یہ معنی ہے فَصَارَ كَالطَّامِعِ فِي الْجَمَاعَةِ تو یہ تیمم کرنے والا ہو گیا اس شخص کی طرح جو امید رکھنے والا ہے جماعت کی۔
وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ الْأُصُولِ أَنَّ التَّأْخِيرَ حَتْمٌ، جب کہ ایک روایت شیخین رحمہما اللہ سے وہ یہ ہے جو فِي غَيْرِ رِوَايَةِ الْأُصُولِ جو کس میں ہے؟ اصول کے روایتوں کے علاوہ میں ہے۔
بھئی یہ بات میں پہلے ذکر کر چکا کہ احناف کی جو کتابیں ہیں وہ دو قسم کی، امام محمد رحمہ اللہ نے جو مسائل ذکر فرمائے بھئی وہ دو قسم کے ہیں، کچھ کو ظاہرِ روایت کہتے ہیں اور کچھ کو نوادر کہتے ہیں۔ ظاہرِ روایت وہ چھ کتابیں ہیں: مبسوط، زیادات، سیرِ کبیر، سیرِ صغیر، جامعِ کبیر اور جامعِ صغیر۔ یہ چھ کتابیں ہر وقت آپ کے ذہن میں ہوں، کوئی آپ سے پوچھ لے کہ ظاہرِ روایت کسے کہتے ہیں تو آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ ان چھ کتابوں کے اندر جو مسئلہ آ جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ ظاہرِ روایت۔ اور اس کے علاوہ کسی اور کتاب میں امام محمد رحمہ اللہ کی کسی اور کتاب میں مسئلہ آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ روایتِ نوادر، کہ نوادر میں یہ مسئلہ آیا یوں آیا ہے، یہ نوادر کی روایت ہے بھئی۔
تو یہ چھ کتابیں چونکہ تواتر کے ساتھ منقول ہیں لہٰذا ان کا رتبہ باقی کتابوں سے بڑھ کر ہے اور یہ بڑی قوی کتابیں ہیں کیونکہ تواتر کے ساتھ منقول ہوئی ہیں، جب کہ باقی کتابیں جو ہیں وہ تواتر کے درجے کو نہیں پہنچیں، اتنی کثرت سے، اتنے کثیر اس کے نقل کرنے والے نہیں ہیں تو لہٰذا ان میں وہ قوت نہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نوادر۔ پھر یاد رکھیے یہ نوادر جو ہیں یہ کئی قسم کی ہیں بھئی، لیکن ہیں سب نوادر۔ بعض کو ہارونیات کہتے ہیں، بعض کو جرجانیات کہتے ہیں، بعض کو کیسانیات کہتے ہیں، بعض کو رقیات وغیرہ کہتے ہیں، کئی نام ہیں۔ اور یہ نام ان کو جو امام محمد رحمہ اللہ کی کتابیں ہیں تو ان کو جو نقل کرنے والے ہیں، جو امام محمد رحمہ اللہ کے جو شاگرد ان سے روایت کرتے ہیں اور نقل کرتے ہیں، ان کے اعتبار سے ان کے نام رکھے گئے اور بعض اوقات جس مقام پر امام محمد رحمہ اللہ نے تصنیف فرمائی تھی اس کے اعتبار سے ان کا نام رکھا گیا، جیسے رقیات بھئی۔ تو یہ وہ کتابیں جو رقہ مقام پر امام محمد رحمہ اللہ نے تصنیف فرمائیں، رقہ مقام پر، تو یہ کیا کہلاتی ہیں؟ رقیات کہلاتی ہیں۔ اور باقی جرجانیات، کیسانیات، ہارونیات وغیرہ یہ ان کے وہ تلامذہ جو ہیں ان کے ناموں کی طرف نسبت ہے بھئی۔ جرجانیات جو ان کے شاگرد جرجانی ہیں وہ روایت کرنے والے، ہارونیات جو ان کے شاگرد ہارون روایت کرنے والے وغیرہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن ہے بہرحال یہ سب نوادر۔ تو بس دو نام تو آپ کے ہر وقت ذہن میں ہونے چاہییں، ایک کہ ظاہرِ روایت کسے کہتے ہیں اور نوادر کسے کہتے ہیں، یہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے بھئی۔
تو یہاں پر ذکر کر رہے ہیں کہ شیخین رحمہما اللہ سے ایک روایت آئی ہے جو اصول کی روایتوں کے علاوہ ہے یعنی اصول میں وہ روایت نہیں، یعنی ظاہرِ روایت وہ نہیں، اصول کے علاوہ میں ہے یعنی نوادر وغیرہ کی روایت ہے أَنَّ التَّأْخِيرَ حَتْمٌ کہ تاخیر وہ حتمی ہے یعنی لازمی ہے، قطعی ہے۔ بھئی متن میں تو کیا آیا کہ جس کو پانی نہیں ملا، اس وقت پانی نہیں ہے اور آخر میں پانی ملنے کی امید ہے تو نماز کو مؤخر کرنا مستحب ہے، یہ معلوم ہوا لازم نہیں۔ لیکن غیرِ اصول کی روایت میں کیا آیا ہے کہ مؤخر کرنا أَنَّ التَّأْخِيرَ حَتْمٌ مؤخر کرنا لازمی ہے، یہ اگر اس وقت پڑھے گا تو نماز ہو گی نہیں اس کی بلکہ اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ نماز کو مؤخر کرنا پڑے گا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ غَالِبَ الرَّأْيِ كَالْمُتَحَقِّقِ اس لیے کیونکہ غالب رائے یعنی غالب گمان بھی جو ہے كَالْمُتَحَقِّقِ وہ ثابت شدہ چیز کی طرح ہوتا ہے، کس کی طرح؟ اور آپ مجھے بتائیے، جب پانی آپ کے پاس موجود ہے، ثابت شدہ ہے، آپ کے پاس ثابت ہے، موجود ہے تو تیمم کی اجازت ہو گی؟ تیمم کی اجازت نہیں۔ تو اسی طرح یہاں بھی اس کو غالب گمان ہے کہ پانی مجھے مل جائے گا، یقین تو نہیں لیکن غالب گمان ہے، لیکن غالب گمان بھی کس کی طرح ہے؟ یقینی چیز کی طرح ہی ہے اور تو گویا کہ پانی یقیناً اس کو مل جائے گا ثابت شدہ چیز کی طرح ہے، اور لہٰذا اس وجہ سے اس کو تیمم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی بھئی۔
لیکن یہ میں نے بتلایا صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کون سی روایت ہے؟ اصول کے علاوہ روایت ہے بھئی، نوادر کی روایت ہے۔ وَوَجْهُ الظَّاهِرِ اور ظاہر کی وجہ یعنی ظاہرِ روایت کی وجہ، متن میں جو آیا تھا وہ تھا ظاہرِ روایت، اس کے مطابق مؤخر کرنا مستحب ہے لازم نہیں، تو ظاہرِ روایت کی وجہ کیا ہے؟ مستحب کیوں ہے؟ کہتے ہیں: أَنَّ الْعَجْزَ ثَابِتٌ حَقِيقَةً کہ عجز اس وقت حقیقتاً ثابت ہے۔ بھئی ایک آدمی ہے اس کے پاس پانی نہیں ہے، اس کو امید ہے غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں پانی مل جائے گا لیکن اس وقت تو پانی نہیں، اس وقت تو وہ پانی سے عاجز ہے پانی کے استعمال سے، اور جب انسان حقیقتاً پانی کے استعمال سے عاجز ہو تو شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ تیمم۔ تو یہاں بھی وہ حقیقتاً اس وقت عاجز ہے لہٰذا اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہو گا کیونکہ شریعت ایسی صورت میں تیمم کی اجازت دیتی ہے۔
تو ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے أَنَّ الْعَجْزَ ثَابِتٌ حَقِيقَةً کہ عجز جو ہے وہ حقیقتاً ثابت ہے فَلَا يَزُولُ حُكْمُهُ إِلَّا بِيَقِينٍ مِثْلِهِ لہٰذا اس عجز کا حکم وہ زائل نہیں ہو گا، ختم نہیں ہو گا إِلَّا بِيَقِينٍ مِثْلِهِ مگر اسی کے مثل یقین سے۔ بھئی فقہ کا اسلام کا معروف ضابطہ آپ جانتے ہیں: اَلْيَقِينُ لَا يَزُولُ إِلَّا بِالْيَقِينِ، یقین صرف یقین ہی سے زائل ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یقین صرف یقین ہی سے زائل ہوتا ہے۔ تو آخرِ وقت میں پانی کے ملنے کا غالب گمان ہے یا یقین ہے کہ ضرور مل جائے گا؟ غالب گمان ہے۔ تو اس وقت عجز حقیقتاً ثابت ہے اور عجز کی صورت میں کیا حکم آتا ہے؟ تیمم کا حکم آتا ہے۔ تو یہ اس وقت عجز حقیقتاً ثابت ہے اور یہ عجز یقینی ہے، اس وقت جو عجز ہے وہ کس قسم کا ہے؟ وہ یقینی ہے۔ تو آخر میں اگر پانی کا ملنا یقینی ہو گا تو وہ اس یقین کو باطل کرے گا، اگر وہ یقینی نہیں صرف غالب گمان ہے تو وہ اس یقین کو باطل نہیں کرے گا، لہٰذا اس لیے اس کے لیے مؤخر کرنا لازم نہیں۔ اگر پانی کا آخر میں ملنا یقینی ہوتا تو وہ یقین کیا کرتا؟ اس یقین کو باطل کر دیتا، کس یقین کو؟ کہ پانی نہیں ہے تیمم کر لو، اس عجز کو کیا کر دیتا وہ؟ باطل، اور جب عجز باطل ہوتا تو پھر اس صورت میں ہم بھی کہتے کہ اس کے لیے لازمی ہے، کیا کرے؟ نماز کو مؤخر کرے۔ لیکن یہاں پر اس وقت تو عجز تو یقینی ہے لیکن آگے پانی کا ملنا یقینی نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے فَلَا يَزُولُ حُكْمُهُ إِلَّا بِيَقِينٍ مِثْلِهِ لہٰذا عجز کا حکم جو ہے وہ زائل نہیں ہو گا یعنی ختم نہیں ہو گا مگر اسی کے مثل یقین سے۔
وَيُصَلِّي بِتَيَمُّمِهِ مَا شَاءَ مِنَ الْفَرَائِضِ وَالنَّوَافِلِ، بھئی یاد رکھیے ہمارے نزدیک تیمم طہارتِ مطلقہ ہے، لہٰذا جس طرح ایک آدمی وضو کرتا ہے اور جب تک اس کا وضو رہتا ہے وہ اس سے جتنے چاہے جتنی چاہے نمازیں پڑھ سکتا ہے۔ ظہر کو وضو کیا ہے اور یہ وضو اس کا عشاء تک رہتا ہے تو ساری نمازیں اسی وضو سے پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح تیمم بھی طہارتِ مطلقہ ہے ہمارے نزدیک، تو یہ تیمم کے ذریعے بھی جتنے فرائض اور نوافل پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے۔ جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تیمم طہارتِ ضروریہ ہے، اس کی اجازت شریعت نے ضرورت کی بنا پر دی ہے۔ ایک آدمی ہے اور مثلاً اس کے پاس پانی نہیں ہے، نماز کا وقت آ گیا، اب ضرورت ہے نماز پڑھنے کی کیونکہ شریعت نے اس پر لازم کی ہے نماز، تو اب ضرورت ہے اور پانی نہیں ہے، تو اس ضرورت کی وجہ سے شریعت نے اس کو کیا اجازت دے دی ہے کہ تیمم کر لو اور نماز پڑھ لو۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تیمم طہارتِ مطلقہ نہیں بلکہ طہارتِ ضروریہ ہے، ضرورت کی وجہ سے اس کی اجازت دی گئی ہے، اور جب یہ تیمم کر لے گا اور وہ فرض پڑھ لے گا تو ضرورت پوری ہو گئی، لہٰذا اگلے فرضوں کو اسی تیمم سے وہ نہیں پڑھ سکتا، اس کے لیے علیحدہ تیمم کرنا پڑے گا کیونکہ وہ الگ ضرورت ہے، یہاں اس وقت ضرورت پوری ہو چکی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ طہارتِ ضروریہ ہے، جب ضرورت پوری ہو جائے تو بس یہ اتنا ہی عمل کرے گا۔ اور باقی ہاں، وہ فرماتے ہیں نوافل اور سنتیں پڑھ سکتا ہے اس کے ساتھ، اس لیے کیونکہ نوافل اور سنتیں وہ فرضوں کے تابع ہوتی ہیں۔ تو ایک تیمم سے ان کے نزدیک ایک ہی فرض اور اس کی سنتیں اور اس کے ساتھ نوافل پڑھ سکتا ہے، دوسرے فرض کے لیے دوسرا تیمم کرنا پڑے گا، جب کہ ہمارے نزدیک ایک ہی تیمم سے جتنے فرض اور جتنے نوافل چاہے وہ پڑھ سکتا ہے جب تک کوئی چیز منافیِ تیمم یا منافیِ طہارت نہ آ جائے۔
وَيُصَلِّي بِتَيَمُّمِهِ مَا شَاءَ مِنَ الْفَرَائِضِ وَالنَّوَافِلِ پڑھے وہ یعنی تیمم کرنے والا نماز پڑھے اپنے تیمم کے ساتھ مَا شَاءَ جو وہ چاہے مِنَ الْفَرَائِضِ وَالنَّوَافِلِ فرائض اور نوافل میں سے۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَتَيَمَّمُ لِكُلِّ فَرْضٍ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ تیمم کرے گا ہر فرض کے لیے یعنی الگ تیمم کرے گا ہر فرض کے لیے، لِأَنَّهُ طَهَارَةٌ ضَرُورِيَّةٌ اس لیے کیونکہ تیمم جو ہے وہ طہارتِ ضروریہ ہے وہ فرماتے ہیں۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ أَنَّهُ طَهُورٌ حَالَ عَدَمِ الْمَاءِ کہ تیمم جو ہے وہ مطہر ہے پانی کے نہ ہونے کی حالت میں۔ تیمم کیا ہے؟ پانی جب نہ ہو تو تیمم کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ پاکی کا فائدہ دیتا ہے تو یہ مطہر ہے۔ فَيَعْمَلُ عَمَلَهُ مَا بَقِيَ شَرْطُهُ تو یہ تیمم اپنا عمل کرتا رہے گا جب تک اس کی شرط باقی ہو۔ پانی نہ ہو تو تیمم کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ پاکی کا، اور یہ پاکی باقی رہے گی جب تک تیمم کی شرط باقی ہے، اور تیمم کی کیا شرط تھی، کب تک باقی رہے گا؟ مَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ جب تک وہ پانی کو نہ پا لے بھئی۔ یہ معنی ہے فَيَعْمَلُ عَمَلَهُ مَا بَقِيَ شَرْطُهُ تو یہ تیمم اپنا عمل کرے گا جب تک اس کی شرط باقی ہے۔
وَيَتَيَمَّمُ الصَّحِيحُ فِي الْمِصْرِ إِذَا حَضَرَتْ جَنَازَةٌ وَالْوَلِيُّ غَيْرُهُ فَخَافَ إِنِ اشْتَغَلَ بِالطَّهَارَةِ أَنْ تَفُوتَهُ الصَّلَاةُ، بھئی ایک شخص ہے شہر کے اندر ہے، تندرست ہے، بیمار بھی نہیں ہے، وہ بھی بعض صورتوں میں تیمم کر سکتا ہے۔ کب؟ مثلاً جنازے کی نماز کھڑی ہونے لگی ہے اور ایک آدمی ہے اس کا وضو نہیں ہے۔ اب قریب ہی پانی موجود ہے لیکن اس شخص کو یہ خوف ہے کہ اگر میں جاؤں گا اور جا کر وضو کر کے آؤں گا تو اتنی دیر میں تو جنازہ نکل جائے گا بھئی، نماز ہو جائے گی جنازے کی، تو اس شخص کے لیے جائز ہے کہ کیا کر لے؟ تیمم کر لے اور نمازِ جنازہ میں شریک ہو جائے۔ اسی طرح ایک شخص عید کی نماز کے لیے آیا ہے اور اس کا وضو ٹوٹ گیا، ادھر اب جماعت کھڑی ہونے لگی ہے، اب قریب پانی موجود ہے لیکن اس کو یہ خوف ہے کہ اگر میں وضو کرنے جاؤں گا تو پوری جماعت ہی نکل جائے گی، واپسی تک جماعت ختم ہو چکی ہو گی، تو اس شخص کے لیے بھی جائز ہے کہ تیمم کر کے عید کی نماز میں شریک ہو جائے۔
تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی کس کس چیز کے لیے تیمم شہر میں جائز ہے اور کس چیز کے لیے شہر میں تیمم جائز نہیں؟ تو ضابطہ یاد رکھنا: جس چیز کا بدل اور نائب موجود ہو اس کے لیے تیمم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی شہر میں، اور اگر جس چیز کا بدل اور نائب نہیں ہے اس کے لیے شہر کے اندر اور تندرست ہونے کی حالت میں بھی آپ کیا کر سکتے ہیں؟ تیمم کر سکتے ہیں جب کہ اس کے فوت ہو جانے کا خوف ہو۔ تو اب دیکھیے یہ نمازِ جنازہ جو ہے اس کا بدل اور اس کا نائب کوئی نہیں، یہ اگر رہ جائے کسی کی تو اس کی قضا وغیرہ نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح عید کی نماز جو ہے اس کی قضا نہیں کی جاتی، معلوم ہوا اس کا کوئی بدل اور نائب نہیں۔ جب کہ اس کے مقابلے میں جو عام نمازیں ہیں ان کا بدل موجود ہے، ایک آدمی ہے ظہر کی نماز اس کی رہ گئی، ظہر کا سارا وقت نکل گیا لیکن پھر بھی آخر وقت میں تیمم کرنے کی اسے اجازت نہیں کہ جلدی سے تیمم کر کے نماز پڑھ لے، مثلاً پانچ منٹ رہ گئے ہیں ظہر کا وقت نکلنے والا ہے، اب اسے خوف ہے کہ میں وضو کرتا ہوں تو وقت ہی نکل جائے گا تو لہٰذا تیمم کر کے پڑھ لیتا ہوں، نہیں بھئی اس کے لیے گنجائش نہیں، کیوں؟ اس لیے کیونکہ ظہر کی نماز کا نائب اور بدل موجود ہے اور وہ کیا؟ اس کی قضا کر لے، ادا نہ کر سکا تو پھر کیا کر لے اس کی؟ قضا کر لے۔ اسی طرح جمعے کی نماز، ایک شخص کو خوف ہے کہ اگر میں وضو کرنے جاؤں گا تو جمعے کی نماز نکل جائے گی تو اس کو بھی تیمم کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اگر جمعہ فوت بھی ہو گیا تو اس کا بدل اور نائب یعنی ظہر کی نماز وہ بعد میں پڑھ سکتا ہے، جمعہ نکل بھی جائے۔ تو جس چیز کا بدل اور نائب ہے اس کے لیے تیمم کی اجازت نہیں اور جس چیز کا بدل اور نائب نہیں اور خوف ہے کہ وضو کروں گا تو یہ چیز فوت ہو جائے گی اور آگے تو اس کا بدل کوئی نہیں تو پھر اس کے لیے شریعت نے اجازت دی ہے، وہ کیا کر سکتا ہے؟ تیمم کر سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَيَتَيَمَّمُ الصَّحِيحُ فِي الْمِصْرِ اور تیمم کر سکتا ہے صحیح آدمی، صحیح یعنی تندرست جو بیمار نہ ہو، اور تیمم کر سکتا ہے تندرست شخص فِي الْمِصْرِ شہر کے اندر بھی إِذَا حَضَرَتْ جَنَازَةٌ جب جنازہ حاضر ہو جائے وَالْوَلِيُّ غَيْرُهُ اس حال میں کہ ولی اس کے علاوہ کوئی اور ہے، جنازے کا ولی یہ نہیں ہے جس کا ذکر کیا جا رہا ہے بلکہ جنازے کا ولی کوئی اور ہے تو اس شخص کے لیے یہ تیمم کر سکتا ہے۔ دیکھیے، دوبارہ عبارت: وَيَتَيَمَّمُ الصَّحِيحُ اور صحیح اور تندرست آدمی تیمم کر سکتا ہے فِي الْمِصْرِ شہر میں، کب؟ إِذَا حَضَرَتْ جَنَازَةٌ وَالْوَلِيُّ غَيْرُهُ فَخَافَ إِنِ اشْتَغَلَ بِالطَّهَارَةِ أَنْ تَفُوتَهُ الصَّلَاةُ کہ جب جنازہ حاضر ہو جائے اس حال میں کہ ولی اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو اس شخص کو یہ خوف ہے کہ اگر وہ طہارت میں یعنی وضو میں مشغول ہوا تو اس کی نماز فوت ہو جائے گی یعنی نمازِ جنازہ فوت ہو جائے گی تو یہ صحیح اور تندرست شخص بھی شہر میں تیمم کر سکتا ہے۔ لِأَنَّهَا لَا تُقْضَى اس لیے کیونکہ نمازِ جنازہ جو ہے اس کی قضا نہیں کی جاتی فَيَتَحَقَّقُ الْعَجْزُ تو عجز ثابت ہو گیا۔ عجز کیا ہوا؟ ثابت ہو گیا، کیونکہ وضو کرتا ہے تو جنازے کی نماز نکل جاتی ہے، وضو کرتا ہے تو جنازہ فوت ہو رہا ہے تو یہ پانی کے استعمال سے گویا عاجز ہوا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو تیمم کر سکتا ہے۔
وَكَذَا مَنْ حَضَرَ الْعِيدَ اور اسی طرح جو شخص عید کی نماز میں حاضر ہوا فَخَافَ إِنِ اشْتَغَلَ بِالطَّهَارَةِ أَنْ يَفُوتَهُ الْعِيدُ يَتَيَمَّمُ تو اس کو خوف ہے کہ اگر وہ طہارت یعنی وضو میں مشغول ہوا تو اسے خوف ہے أَنْ يَفُوتَهُ الْعِيدُ کہ عید کی نماز اس سے فوت ہو جائے گی، رہ جائے گی يَتَيَمَّمُ تو یہ شخص بھی تیمم کر سکتا ہے لِأَنَّهَا لَا تُعَادُ کیونکہ عید کی نماز کا اعادہ نہیں کیا جاتا، اس کو دوبارہ نہیں لوٹایا جاتا، اس کی کوئی قضا وغیرہ نہیں ہے بھئی۔
وَقَوْلُهُ: وَالْوَلِيُّ غَيْرُهُ، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ متن کے اندر جو قید آئی تھی: وَالْوَلِيُّ غَيْرُهُ، یہ قید متن میں بڑھائی بھئی۔ بھئی یہ قید کیوں بڑھائی؟ کہتے ہیں: یہ جو قید متن میں آئی وَالْوَلِيُّ غَيْرُهُ إِشَارَةٌ یہ اشارہ ہے إِلَى أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْوَلِيِّ کہ ولی کے لیے یہ کرنا جائز نہیں یعنی جو جنازے کا ولی ہے وہ تیمم نہیں کر سکتا۔ وجہ اس کی یہ کہ جو جنازے کا ولی ہے اس کے لیے تو لوگ انتظار کر لیں گے وہ اگر جا کر وضو کر کے آئے بھئی، اور فرض کریں انتظار نہیں بھی کرتے تو پھر ولی کو شریعت نے اجازت دی ہے وہ کیا کر سکتا ہے؟ وہ دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں یہ جو متن میں وَالْوَلِيُّ غَيْرُهُ کی قید آئی إِشَارَةٌ یہ اشارہ ہے إِلَى أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْوَلِيِّ کہ ولی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ تیمم کرے وَهُوَ رِوَايَةُ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ اور یہ روایت ہے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے وَالصَّحِيحُ اور یہی قول صحیح ہے بھئی، لِأَنَّ لِلْوَلِيِّ حَقَّ الْإِعَادَةِ، اعادہ، اس کا ہمزہ قطعی ہے کیونکہ باب افعال ہے اور آپ نے پڑھا ہے باب افعال کا ہمزہ کیا ہے؟ قطعی، لہٰذا اس کو پڑھیں گے۔ اس لیے کیونکہ ولی جو ہے اس کو اعادے کا یعنی نماز کو لوٹانے کا حق ہے فَلَا فَوَاتَ فِي حَقِّهِ لہٰذا اس کے حق میں فوت ہونا ہے ہی نہیں، اس کے حق میں فوت ہونا نہیں ہے۔ دوسرا آدمی تو وضو کرے گا تو اس کی تو نماز فوت ہو جائے گی لیکن ولی کے لیے تو فوت ہونا ہے ہی نہیں کیونکہ وہ دوبارہ کیا کر سکتا ہے؟ لوٹا سکتا ہے، وہ پھر پڑھ لے تو فوت ہو گی یا ہو جائے گی؟ وہ جب دوبارہ پڑھے گا تو فوت تو نہ ہوئی، نماز تو ہو گئی بھئی۔ جی، تو انہوں نے یہ کیا کہا کہ یہ روایت ہے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی، میں نے بتلایا تھا حسن ابن زیاد رحمہ اللہ یہ شاگرد ہیں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اور اسی طرح یہ شاگرد ہیں امام زفر اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بھی اور بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں بھئی فقہائے احناف میں سے۔
وَإِنْ أَحْدَثَ الْإِمَامُ أَوِ الْمُقْتَدِي فِي صَلَاةِ الْعِيدِ تَيَمَّمَ وَبَنَى عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى وَقَالَا: لَا يَتَيَمَّمُ، اور اگر امام کو حدث پیش آیا یعنی اس کا وضو ٹوٹ گیا أَوِ الْمُقْتَدِي یا مقتدی کو حدث پیش آیا یعنی اس کا وضو ٹوٹ گیا فِي صَلَاةِ الْعِيدِ عید کی نماز میں تَيَمَّمَ وَبَنَى عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تو تیمم کر لے اور اسی پر بنا کر لے امام صاحب کے نزدیک۔ بنائے صلاۃ آپ پڑھ چکے، بنائے صلاۃ کسے کہتے ہیں؟ ایک آدمی مثلاً نماز پڑھ رہا ہے اور درمیان میں اس کا ایک دو رکعتیں پڑھ چکا تھا کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا تو شریعت نے اسی نماز پر بنا کرنے کی اجازت دی ہے کہ یہ جائے اور جا کر وضو کر کے آئے اور پھر آ کر وہیں سے نماز پڑھ لے یعنی جو پڑھ چکا وہ ہو چکی، اگلی دو رکعتیں وہیں سے پڑھنا شروع کر دے اور نماز کو پورا کر لے بھئی۔ لیکن اس میں میں نے بتلایا تھا شرط یہ ہے کہ یہ جو واپس گیا وضو کرنے کے لیے اور واپس آیا یہ اس وقت بھی من وجہ نماز کی حالت میں ہے، لہٰذا اس دوران کوئی منافیِ صلاۃ عمل نہیں ہونا چاہیے، اگر اس دوران اس نے کسی سے بات کر لی حتی کہ کسی کے سلام کا جواب دے دیا یا اس دوران اس نے کوئی چیز کھا لی پی لی تو یہ کھانا پینا اور بات کرنا نماز کے منافی ہے تو اس صورت میں پھر بنا کی اجازت نہیں ہو گی بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں امام کو یا مقتدی دونوں میں سے کسی کو بھی عید کی نماز میں حدث پیش آ جائے، ان کا وضو ٹوٹ جائے تو تیمم کر لے وہیں پر وَبَنَى اور اسی پر بنا کر لے عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا: لَا يَتَيَمَّمُ صاحبین فرماتے ہیں کہ تیمم نہیں کر سکتا، تیمم نہیں کرے گا۔
بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ صاحبین کی دلیل ذکر ہو رہی ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّ اللَّاحِقَ يُصَلِّي بَعْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ فَلَا يَخَافُ الْفَوْتَ، بھئی دیکھیے لاحق آیا، لاحق کا لفظ آیا۔ یاد رکھیے نماز پڑھنے والے جو ہیں وہ تین قسم کے ہوئے بھئی جو جماعت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں: ایک ہے لاحق، ایک ہے مسبوق، ایک ہے مدرک بھئی۔ لاحق یہ متن میں آ گیا، کتاب کے اندر۔ مسبوق: م، س، ب، و اور ق دو نقطوں والا، مسبوق۔ اور مدرک: م، د، ر اور ک چھوٹا بھئی، مدرک۔ تو یہ تین قسم کے لفظ آتے ہیں: لاحق، مسبوق اور مدرک، یہ ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونے چاہییں بھئی، ذہن میں ہونے چاہییں۔ یاد رکھیے مدرک: أَدْرَكَ يُدْرِكُ إِدْرَاكًا، ادراک کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پا لینا، تو مدرک وہ ہے جس نے ساری رکعتیں پا لی ہیں، ساری رکعتیں امام کے ساتھ اس نے پڑھی ہیں بھئی، اس کو کیا کہیں گے؟ مدرک کہیں گے۔ اور مسبوق، مسبوق وہ ہے جس کی ایک یا ایک سے زیادہ رکعتیں چھوٹ گئی ہوں پھر وہ آ کر جماعت میں شریک ہوا، ایک رکعت ہو چکی تھی پھر آ کر شریک ہوا یا ایک سے زیادہ ہو چکی تھیں اور پھر وہ آ کر نماز میں شریک ہوا، یہ ہے مسبوق۔ اور لاحق، لاحق وہ ہے جو نماز پر بنا کرتا ہے پھر بھئی۔ کیا کرتا ہے؟ بنا۔ امام یا مقتدی جو ہے اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وہ گیا اور پھر آ کر پھر وہ کیا کرتا ہے؟ باقی نماز پوری کرتا ہے، تو دیکھو درمیان میں وضو ٹوٹنے کی وجہ سے اس کی کچھ رکعتیں رہ گئیں، شامل ہوا تھا جماعت میں لیکن درمیان کی کچھ رکعتیں رہ گئیں، اس کو کیا کہیں گے؟ لاحق کہیں گے بھئی۔ تو چاہے وضو ٹوٹنے کی وجہ سے کچھ درمیان کی رکعتیں رہ گئیں یا سو جانے کی وجہ سے، وہ کھڑے کھڑے ہی سو گیا تھا اس دوران ایک رکعت نکل گئی یا بیٹھے بیٹھے سو گیا تھا اور آپ نے پڑھا ہے نماز کی حالت میں کوئی سو جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کی بہرحال رکعتیں تو رہ گئیں یا نہیں رہ گئیں؟ تو اس کو کیا کہیں گے؟ لاحق کہیں گے بھئی۔
تو صاحبین نے مسئلہ ذکر کیا، کیا بتلایا کہ امام یا مقتدی کا وضو ٹوٹ گیا عید کی نماز میں تو وہ تیمم کر کے بنا نہیں کر سکتا بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ جائے جا کر وضو کر کے آئے اور یہ شخص ہے اب لاحق بھئی، کیا ہے؟ لاحق ہے، اور لاحق تو جماعت کے بعد بھی چاہے واپس پہنچے وہ کیا کر سکتا ہے؟ اپنی نماز کو پورا کر سکتا ہے۔ تو امام جائے گا اگر وہ واپس آیا جماعت ہو رہی تھی، دوسرے کو آگے کر دیا اور خود چلا گیا، تو اگر وہ واپس آیا تو کیا ہوا؟ لاحق، درمیان کی کچھ رکعتیں رہ گئی ہیں نا، تو لاحق جماعت ہو بھی جائے وہ بعد میں آ کر جو رکعتیں رہ گئی ہیں وہ پوری کر سکتا ہے، اور مقتدی تھا وہ بھی اسی طرح کر سکتا ہے، اگر واپس پہنچا جتنی رکعتیں اور کچھ مل گئیں، کوئی رکعت مل جاتی ہے تو شامل ہو، اگر رہ گئی ہے تو پھر اس کو بعد میں پورا کر لے، لہٰذا ان کے حق میں فوت ہونا ہے ہی نہیں۔ ان کے حق میں نماز تو نہیں فوت ہو رہی، نماز ہو جائے گی ان کی یا نہیں ہو گی؟ اسی نماز پر بنا کر کے نماز پوری کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ پوری کر سکتے ہیں، لہٰذا ان کے حق میں نماز کا فوت ہونا ہے ہی نہیں، نماز ان کی چھوٹ ہی نہیں رہی، لہٰذا ان کو یہاں ہم تیمم کی اجازت نہیں دے سکتے بلکہ یہ کیا کریں؟ جائیں جا کر وضو کر کے آئیں اور پھر بنا کر لیں بھئی۔ صاحبین یہ فرماتے ہیں۔
جب کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ عید کا دن ہے عام دن نہیں ہے، بے انتہا ہجوم ہو گا اور اس ہجوم کی وجہ سے ہو سکتا ہے یہ وضو کرنے جا رہا ہے اور اس حالت میں بھی حالتِ نماز میں ہے، اس نے نماز کے منافی کوئی کام نہیں کرنا، تو عید کا دن ہے بے انتہا ہجوم ہے، ہو سکتا ہے کوئی ایسا عارض پیش آ جائے جس کی وجہ سے اس کی نماز ہی فاسد ہو جائے، اور جب نماز فاسد ہو گئی تو جو پہلے پڑھی تھی وہ رکعتیں بھی گئیں اور واپس پہنچا تو نماز بھی نکل چکی ہے تو دیکھو عید کی نماز اس کی فوت ہو جائے گی۔ تو لہٰذا یہ معلوم ہوا یہ شخص عاجز ہے اور عاجز کے لیے تو تیمم کی اجازت ہے۔ تو بے انتہا ہجوم ہے، کوئی عارض پیش آ سکتا ہے، مثلاً واپس آ رہا ہے وضو کر کے جماعت ہو چکی ہے، یہ لاحق ہو گیا نا، لیکن کوئی اس کو گلے لگا لیتا ہے: مبارک ہو بھئی، مبارکباد دینا شروع کر، عید کی مبارک دے رہا ہے، یا کوئی سلام کر دیتا ہے یا کوئی بھی بات پیش آ سکتی ہے تو لہٰذا اس لیے وہ فرماتے ہیں کہ یہ ہجوم والا دن ہے، اس لیے اگرچہ اس نے شروع میں وضو کیا تھا لیکن بیچ میں اب کیا کر سکتا ہے؟ تیمم کر سکتا ہے۔ اور یاد رکھیے یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب اس نے شروع نماز وضو کے ساتھ کی تھی۔ اگر شروع ہی تیمم کے ساتھ کی تھی تو بالاتفاق بھئی وہ تیمم کر کے بنا کر سکتا ہے، پھر تو صاحبین بھی فرماتے ہیں کہ ابتدا کس سے کی تھی؟ تیمم سے، لہٰذا اب بیچ میں بھی کیا کر سکتا ہے؟ تیمم کر سکتا ہے۔
تو صاحبین کی دلیل آ رہی ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّ اللَّاحِقَ يُصَلِّي بَعْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ اس لیے کیونکہ لاحق جو ہے وہ تو نماز پڑھ لے گا امام کے فارغ ہو جانے کے بعد بھی فَلَا يَخَافُ الْفَوْتَ تو اسے فوت ہو جانے کا خوف نہیں ہے۔ وَلَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْخَوْفَ بَاقٍ کہ خوف ابھی بھی باقی ہے لِأَنَّهُ يَوْمُ الزَّحْمَةِ، زحمت بھیڑ بھئی، ہجوم، اس لیے کیونکہ یہ ہجوم والا دن ہے، بھیڑ کا دن ہے فَيَعْتَرِيهِ عَارِضٌ يُفْسِدُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ تو پیش آ سکتا ہے اس کو کوئی ایسا عارض جو اس پر اس کی نماز کو فاسد کر دے۔ صاحبِ ہدایہ آگے بتلا رہے ہیں: وَالْخِلَافُ فِيمَا إِذَا شَرَعَ بِالْوُضُوءِ اور اختلاف اس صورت میں ہے جب اس شخص نے یا امام نے نماز کو شروع کیا تھا کس کے ساتھ؟ وضو کے ساتھ، تب یہ اختلاف ہے جو متن میں آیا، وَلَوْ شَرَعَ بِالتَّيَمُّمِ تَيَمَّمَ وَبَنَى بِالِاتِّفَاقِ اور اگر اس نے تیمم کے ساتھ نماز کو شروع کیا تھا تو تیمم کرے گا اور بنا کرے گا بالاتفاق بھئی، پھر تو بالاتفاق ہے۔
لِأَنَّا لَوْ أَوْجَبْنَا الْوُضُوءَ يَكُونُ وَاجِدًا لِلْمَاءِ فِي صَلَاتِهِ فَيَفْسُدُ، اس لیے کیونکہ اگر ہم وضو کو واجب قرار دے دیں تو یہ شخص پانی کو پانے والا ہوا فِي صَلَاتِهِ کس کے اندر؟ اپنی نماز میں، فَيَفْسُدُ، یہ فَتَفْسُدُ ہونا چاہیے بھئی بہرحال، تو یہاں فَيَفْسُدُ ہے، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی کیونکہ دورانِ صلاۃ میں وہ پانی کو پانے والا بن گیا۔ بھئی دیکھیے! اگر اس نے، امام یا مقتدی جو تھا اس نے نماز کس طرح شروع کی ہے؟ تیمم کے ساتھ، پھر بالاتفاق وہ کیا کر سکتا ہے؟ درمیان میں وضو ٹوٹا ہے تو تیمم کر کے اس پر بنا کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ اگر اس حالت میں جب درمیان میں وضو ٹوٹا ہم اس کو کیا کہیں؟ وضو کرو، وضو کرو۔ معلوم ہوا یہ پانی کو پانے والا بن گیا۔ پہلے تو متیمم تھا پانی سے عاجز تھا، اب پانی کو پانے والا ہوا، اور یہ پانی کو پانے والا ہوا بیچ نماز کے۔ اور جب تیمم کے اندر انسان پانی کو دیکھ لیتا ہے، تو بھئی جب پانی کو دیکھا تو کوئی مانعِ طہارت چیز پائی گئی؟ اس کا کوئی وضو ٹوٹا ہے؟ کوئی نجاست بدن سے خارج ہوئی ہے؟ نہیں، تو مانعِ طہارت تو کوئی چیز نہیں پائی گئی، پھر کیوں تیمم ٹوٹ جاتا ہے؟ وجہ یہ کہ وہ جو پچھلا حدث تھا اس کا اثر ظاہر ہو جاتا ہے۔ تیمم کیا تھا، پاکی حاصل ہو گئی تھی، کس سے حاصل ہوئی تھی پاکی؟ حدث سے، تو اب جب پانی نظر آتا ہے، پانی پر یہ قادر ہو جاتا ہے تو اس حدث کا اثر ظاہر ہو جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اگر ہم اس کو کہیں کہ وضو کرنا پڑے گا اور اس نے شروع تو کس کے ساتھ کیا تھا؟ تیمم کے ساتھ، معلوم ہوا وہ تیمم کیوں کیا تھا؟ پاکی حاصل کرنے کے لیے، حدث پر تیمم کیا تھا، تو اب اگر ہم اس کو کہیں وضو کرنا پڑے گا تو گویا یہ پانی کو پانے والا ہوا، اور کوئی شخص پانی کو پا لے تو اس کا تیمم ٹوٹ جاتا ہے اور کس وجہ سے تیمم ٹوٹتا ہے؟ اس سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہو جاتا ہے، اور یہاں بیچ نماز میں اس سابقہ حدث کا اثر ظاہر ہوا، گویا یہ بے وضو ہی نماز پڑھ رہا تھا۔ گویا بے وضو ہی نماز پڑھ رہا تھا، اور بے وضو نماز ہو سکتی ہے؟ نہیں، تو لہٰذا بیچ میں اگر ہم یہ کہہ دیں کہ شروع تیمم سے کیا تھا اور بیچ میں اب وضو ٹوٹا ہے ہم کہہ دیں وضو کرنا پڑے گا تو اس حدث کا اثر ظاہر ہو گا اور اس کی نماز ہی فاسد ہو جائے گی۔ اگر نماز پوری ہو جائے پھر اس کے بعد پانی ملتا ہے، اب تو نماز پوری ہو چکی، اب اس حدث کا اثر ظاہر بھی ہو اس پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن یہاں صورت کیا ہے؟ بیچ نماز کے اندر اس حدث کا اثر ظاہر ہو رہا ہے لہٰذا نماز ہی کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے، اس وجہ سے اگر شروع میں تیمم کیا تھا اور پھر بیچ میں وضو ٹوٹا ہے تو پھر بالاتفاق کیا کر لے؟ تیمم کر کے اسی پر بنا کر لے، کسی کے نزدیک بھی اس پر وضو کرنا واجب نہیں، لِأَنَّا لَوْ أَوْجَبْنَا الْوُضُوءَ اس لیے کیونکہ اگر ہم اس پر وضو کو واجب قرار دے دیں يَكُونُ وَاجِدًا لِلْمَاءِ فِي صَلَاتِهِ تو اس صورت میں یہ پانی کو پانے والا ہوا، يَكُونُ وَاجِدًا لِلْمَاءِ، لیکن پڑھنا کیسے ہے؟ وہ یرملون والا قاعدہ لگے گا: وَاجِدَلْ لِلْمَاءِ فِي صَلَاتِهِ، تو یہ پانی کو پانے والا ہوا نماز میں فَيَفْسُدُ تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔
وَلَا يَتَيَمَّمُ لِلْجُمُعَةِ وَإِنْ خَافَ الْفَوْتَ لَوْ تَوَضَّأَ، جمعے کے لیے تیمم نہیں کر سکتا اگرچہ اس کو فوت ہو جانے کا خوف ہے لَوْ تَوَضَّأَ اگر یہ وضو کرے۔ عبارت پر نظر ہے؟ وَإِنْ خَافَ الْفَوْتَ لَوْ تَوَضَّأَ اگرچہ اس کو فوت ہو جانے کا خوف ہو، کب خوف ہو؟ لَوْ تَوَضَّأَ اگر یہ کیا کرے؟ وضو کے لیے جاتا ہے پھر اس کو خوف ہے جمعے کے فوت ہو جانے کا تو بھی یہ جمعے کے لیے تیمم نہیں کر سکتا، بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ وضو کرنا پڑے گا، بتلا دیا: لَا يَتَيَمَّمُ لِلْجُمُعَةِ جمعے کے لیے تیمم نہیں، تو وضو کرے گا۔ فَإِنْ أَدْرَكَ الْجُمُعَةَ صَلَّاهَا پس اگر یہ جمعے کی نماز کو پا لے، وضو کر کے آئے اور جمعے کی نماز پا لے صَلَّاهَا تو اس کو پڑھ لے وَإِلَّا صَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعًا ورنہ ظہر کے چار رکعتیں پڑھ لے لِأَنَّهَا تَفُوتُ إِلَى خَلَفٍ اس لیے کیونکہ یہ جمعہ جو ہے یہ فوت ہوتا ہے کس کی طرف؟ خلیفہ یعنی نائب اور بدل کی طرف، جمعے کا خلیفہ موجود ہے وَهُوَ الظُّهْرُ اور وہ ظہر ہے بھئی بِخِلَافِ الْعِيدِ بخلاف عید کے کہ اس کا کوئی بدل نہیں، اگر وہ نکل گیا، عید کی نماز نکل گئی تو اس کی قضا وغیرہ نہیں ہے بھئی۔
چلیے بس، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ
کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہ آئی ہو؟
جی؟
بھئی یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ متن میں آیا تھا اگر کوئی عیسائی اسلام لانے کے ارادے سے تیمم کرتا ہے تو کیا اس کا تیمم معتبر ہو گا؟ کیونکہ وہ تو عیسائی ہے وہ تو نیت کا اہل نہیں؟ بھئی وہ اسی لیے تو اسلام لانے کی قید ذکر کی انہوں نے یہاں پر، اسلام لانے کے لیے وہ کیا کر رہا ہے؟ تیمم کر، اور اسلام ہے قربتِ مقصودہ، تو قربتِ مقصودہ کی نیت سے تیمم کر رہا ہے، اسی وجہ سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس کے تیمم کا اعتبار کرتے ہیں لیکن طرفین کیا ہیں؟ اعتبار نہیں کرتے بھئی کہ قربت صرف قربتِ مقصودہ نہ ہو بلکہ ایسی قربتِ مقصودہ جو بغیر طہارت کے ہوتی ہی نہ ہو۔