Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-050

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَيَعْتَمِدُ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ لِأَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَصَفَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ وَادَّعَمَ عَلَى رَاحَتَيْهِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ، وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَيَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَعَلَ كَذٰلِكَ“ تو گزشتہ سبق میں نماز کا طریقہ بیان ہو رہا تھا اور صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ جب رکوع سے انسان سیدھا کھڑا ہو جائے تو پھر تکبیر کہے گا اور سجدے میں چلا جائے گا، سجدہ کرے گا بھئی۔ اب اس کی تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ سجدے میں جائے گا تو کس طرح جائے گا؟ کہ ”وَيَعْتَمِدُ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ“ اور رکھے گا اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر۔ بھئی اس کی کیا وجہ؟ دلیل اس کی کیا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَصَفَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ کیونکہ وائل ابن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور علیہ السلام کی نماز کا وصف بیان فرمایا، اس کی کیفیت بیان فرمائی، یعنی اپنے عمل کے ذریعے دکھلایا کہ حضور علیہ السلام کس طرح نماز پڑھتے تھے۔ ”فَسَجَدَ“ تو انہوں نے، حضرت وائل ابن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا کیا؟ سجدہ کیا۔ حضور علیہ السلام کی نماز کا طریقہ وہ عمل کے ذریعے بتلا رہے تھے بھئی۔ تو ”فَسَجَدَ“ تو حضرت وائل ابن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سجدہ کیا ”وَادَّعَمَ عَلَى رَاحَتَيْهِ“، ادّعم کے معنی ہوتے ہیں سہارا لینا۔ ”رَاحَتَيْهِ“ یہ تثنیہ ہے نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو راحت کہتے ہیں ہتھیلی کو۔ ”وَادَّعَمَ عَلَى رَاحَتَيْهِ“ اور انہوں نے سہارا لیا اپنی دونوں ہتھیلیوں پر، ”وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ“ اور بلند کیا عجیزتہ اپنے پچھلے دھڑ کو۔ عجیزہ کہتے ہیں بھئی انسان کے بدن کا وہ حصہ جو زمین پر بیٹھتے ہوئے رکھتا ہے یعنی سرین، اور تو اپنے پچھلے دھڑ کو اونچا کیا یعنی جس طرح انسان سجدہ کرتا ہے کہ دونوں ہاتھ کس پر ہوتے ہیں؟ زمین پر ہوتے ہیں اور ماتھا زمین پر ہوتا ہے اور پچھلا دھڑ کیا ہوتا ہے؟ اونچا ہوتا ہے، وہ بتلا رہے ہیں۔ تو انہوں نے حضور علیہ السلام کی نماز کی کیفیت بیان فرمائی اور اس کا طریقہ بتلایا، کر کے دکھلایا اور وہ کرتے ہوئے انہوں نے بتلاتے ہوئے کس طرح کیا؟ حضرت وائل ابن حجر نے سجدہ فرمایا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر سہارا لیا یعنی سجدے میں جاتے ہوئے اور ”وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ“ اور اپنے پچھلے دھڑ کو بلند کیا۔ ”وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ“ اور پھر یہ متن ہے، پھر نماز پڑھنے والا کیا کرے گا؟ ”وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ“ رکھے گا اپنے چہرے کو ”بَيْنَ كَفَّيْهِ“ اپنی ہتھیلیوں کے درمیان۔ ”وَيَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ“، یدیہ کا عطف ہے وجہہ پر، أَيْ ”وَوَضَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ“ اور رکھے گا اپنے دونوں ہاتھ کہاں پر؟ ”حِذَاءَ أُذُنَيْهِ“ کانوں کے دونوں کانوں کے بالمقابل بھئی، ان کے برابر میں۔ ”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَعَلَ كَذٰلِكَ“ بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایسا فرمایا بھئی۔ تو سجدے کا کیا طریقہ ہے؟ انسان کے دونوں ہاتھ جو ہیں کانوں کے برابر میں ہوں اور چہرہ دونوں ہتھیلیوں کے درمیان میں ہو، اس طرح ہاتھ رکھے گا بھئی۔ بعض لوگ ہاتھ رکھتے ہیں ہاتھ سر کے برابر یا اس سے آگے نکلے ہوتے ہیں، یہ طریقہ صحیح نہیں بھئی۔ مسنون طریقہ کیا ہے؟ کس طرح ہونا چاہیے؟ کہ چہرہ ہتھیلیوں کے درمیان آئے بھئی، چہرہ ہتھیلیوں کے درمیان۔ اور انہوں نے بتلایا متن کے اندر بھئی کہ دونوں ہاتھ کیا کرے؟ زمین پر رکھے اور پھر اپنے چہرے کو رکھے، تو اس میں ترتیب یاد رکھیے بھئی۔ علماء نے طریقہ بیان کیا ہے کہ انسان جب سجدے میں جائے تو گھٹنے بھی زمین پر رکھنے ہیں، ہاتھ بھی رکھنے ہیں اور پیشانی اور ناک بھی زمین پر رکھنی ہے، تو کس ترتیب سے رکھیں گے؟ تو یاد رکھیے: گھٹنے، دونوں ہاتھ، پیشانی اور ناک، ان میں سے جو حصہ زمین کے قریب ہے سجدے میں جاتے ہوئے پہلے اس کو زمین پر رکھے گا۔ پھر اس کے بعد دوسرے نمبر پر جو زمین کے قریب ہے پھر اس کو رکھیں گے زمین پر۔ پھر تیسرے نمبر پر جو قریب ہے اس کو زمین پر رکھیں گے اور سب سے آخر میں جو سب سے اونچا حصہ ہے اس کو زمین پر رکھیں گے۔ تو لہٰذا سب سے قریب کون سا حصہ؟ گھٹنے، تو سجدے میں جاتے ہوئے پہلے گھٹنے زمین پر رکھے گا۔ اس کے بعد ہاتھ ہیں، پھر دونوں ہاتھ زمین پر رکھے گا۔ پھر اس کے بعد ناک ہے، تو پھر ناک رکھے گا اور سب سے آخر میں پیشانی ہے۔ اور سجدے سے اٹھتے وقت اس کا عکس ہوگا، عکس بھئی۔ یعنی پہلے ماتھے کو اوپر اٹھائیں گے، پھر اس کے بعد ناک کو اٹھائیں گے زمین سے اور اس کے بعد دونوں ہاتھوں کو اٹھائیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، ”قَالَ: وَسَجَدَ عَلَى أَنْفِهِ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَسَجَدَ عَلَى أَنْفِهِ“ اور سجدہ کرے گا اپنی ناک پر ”وَجَبْهَتِهِ“ اور اپنی پیشانی پر۔ یعنی سجدے میں ناک بھی زمین پر رکھے گا اور پیشانی بھی، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهِ“ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پابندی فرمائی ہے۔ ”فَإِنِ اقْتَصَرَ عَلَى أَحَدِهِمَا جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اگر نماز پڑھنے والے نے اکتفا کر لیا ان دونوں میں سے کسی ایک پر، یعنی سجدے میں صرف پیشانی زمین پر رکھی ناک رکھی نہیں یا صرف ناک رکھی زمین پر پیشانی زمین پر نہیں رکھی، صرف ایک پر ہی اکتفا کر لیا، ”جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو یہ جائز ہے امام صاحب کے نزدیک، یعنی اس کی نماز ہو جائے گی، اس کا سجدہ ہو جائے گا اور سجدہ تو فرض تھا تو نماز بھی ہو جائے گی۔ ”وَقَالَا: لَا يَجُوزُ الِاقْتِصَارُ عَلَى الْأَنْفِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ ناک پر اکتفا کرنا جائز نہیں ”إِلَّا مِنْ عُذْرٍ“ مگر کسی عذر کے۔ صاحبین فرماتے ہیں صرف پیشانی پر اکتفا کر لیا، پیشانی زمین پر رکھی ناک نہیں رکھی، پھر تو ٹھیک ہے، لیکن اگر صرف ناک پر اکتفا کرتا ہے، ناک زمین پر رکھی ہے اور پیشانی نہیں رکھی، یہ جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ کوئی عذر ہو، مثلاً ماتھے پر کوئی زخم وغیرہ ہے ماتھا تو زمین پر رکھ ہی نہیں سکتا، صرف کس پر زمین پر رکھا؟ ناک کو، تو یہ تو عذر کی وجہ سے ہے پھر جائز ہے، ویسے جائز نہیں۔ ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام صاحب سے بھی، وہ بھی فرماتے ہیں صرف ناک پر اکتفا جائز نہیں، یہ ایک روایت ہے۔ ”لِقَوْلِهِ“ دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبین کے قول کی، کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سجدہ کروں سات ہڈیوں پر، مجھے کیا حکم دیا گیا ہے؟ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سجد۔ ”وَعَدَّ مِنْهَا الْجَبْهَةَ“ اور حضور علیہ السلام نے ان میں سے پیشانی کو شمار فرمایا۔ ان سات ہڈیوں میں کس کو گنا؟ پیشانی کو بھی گنا، اس کو بھی شمار کروایا۔ تو یہ صاحبین کی دلیل ہے۔ معلوم ہوا پیشانی کا رکھنا سجدے میں ضروری ہے بھئی، ضروری، اس کو نہیں رکھے گا تو سجدہ ہی ادا نہیں ہوگا۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ السُّجُودَ يَتَحَقَّقُ بِوَضْعِ بَعْضِ الْوَجْهِ“ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ سجدہ جو ہے وہ ثابت ہو جاتا ہے بعض چہرہ رکھنے سے۔ چہرے کا کچھ حصہ زمین پر رکھ دے تو سجدہ پایا جائے گا، سجدہ ہو جائے گا۔ بھئی کیونکہ سارا چہرہ تو انسان زمین پر رکھ ہی نہیں سکتا۔ کوئی ایسی صورت ہے کہ سارا چہرہ انسان زمین پر رکھ دے؟ سارا چہرہ تو زمین پر رکھ ہی نہیں سکتا، ایک دائیں جانب ہے وہ رکھے گا تو بائیں جانب نہیں ہو سکتی، بائیں جانب رکھے گا تو دائیں جانب نہیں، نیز اسی طرح ناک اور پیشانی اس کی وجہ سے یہ جو ناک کے ساتھ والا چہرے کا حصہ ہے وہ تو نیچے ہے، ناک اونچی ہے، وہ حصہ تو لگ ہی نہیں سکتا زمین پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا سجدے میں کچھ چہرہ ہی رکھنا پڑے گا، سارا چہرہ تو رکھ ہی نہیں سکتے۔ یہ معنی ہے کہ ”أَنَّ السُّجُودَ يَتَحَقَّقُ بِوَضْعِ بَعْضِ الْوَجْهِ“ کہ سجدہ جو ہے وہ پایا جاتا ہے کچھ چہرہ زمین پر رکھنے سے۔ ”وَهُوَ الْمَأْمُورُ بِهِ“ اور سجدہ ہی مامور بہ ہے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں کہ نماز میں کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ سجدے کا حکم دیا گیا ہے، سجدہ مامور بہ ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: ”وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا“، تو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور سجدے کے اندر پورا چہرہ تو رکھا نہیں جا سکتا، سجدہ تو ہوگا ہی کس طرح؟ بعض چہرہ، کچھ چہرہ رکھنے سے ہوگا، اور اب اس کچھ چہرے میں سے رخسار اور ٹھوڑی جو ہے یہ بالاجماع خارج ہیں بھئی، یہ سجدے میں یہ نہیں رکھے جائیں گے بلکہ کیا رکھا جائے گا؟ پیشانی اور ناک۔ تو کہتے ہیں سجدہ جو ہے وہ پایا جاتا ہے کچھ چہرے کو زمین پر رکھنے سے ”وَهُوَ الْمَأْمُورُ بِهِ“ اور وہی سجدہ ہی تو مامور بہ ہے اسی کا حکم دیا گیا ہے، ”إِلَّا أَنَّ الْخَدَّ وَالذَّقَنَ خَارِجٌ بِالْإِجْمَاعِ“ مگر یہ کہ رخسار جو ہے اور ٹھوڑی جو ہے ”خَارِجٌ بِالْإِجْمَاعِ“ یہ خارج ہیں بھئی، بالاجماع یہ خارج ہیں، ان کا رکھنا مراد نہیں، ان سے سجدہ نہیں ہوگا۔ ”وَالْمَذْكُورُ فِيمَا رُوِيَ الْوَجْهُ فِي الْمَشْهُورِ“ اچھا، تو امام صاحب کی کیا دلیل ہوئی؟ کہ چہرے کا کچھ حصہ زمین پر رکھیں تو سجدہ ہو جائے گا، کیونکہ سجدے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور ٹھوڑی اور رخسار تو بالاجماع خارج ہیں، باقی کیا رہ گئے؟ ناک اور پیشانی رہ گئے، ناک اور پیشانی۔ تو ان کو زمین پر رکھ دیں گے تو سجدہ ہو جائے گا، اب اس میں صرف ناک رکھ دے تو بھی بعض چہرہ زمین پر رکھ دیا، صرف پیشانی رکھ دے تو بھی کیا ہوا؟ بعض چہرہ زمین پر رکھ دیا، تو لہٰذا دونوں میں سے ایک پر بھی اکتفا کر لیا جائے تو یہ جائز ہو جائے گا اور نماز ہو جائے گی۔ ”وَالْمَذْكُورُ فِيمَا رُوِيَ“ اور مذکور اس حدیث کے اندر جس کو روایت کیا گیا ”الْوَجْهُ“ اس میں لفظ الوجہ آیا ہے ”فِي الْمَشْهُورِ“ مشہور روایات کے اندر۔ صاحبین نے تو حدیث کیا ذکر کی تھی کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَعَدَّ مِنْهَا الْجَبْهَةَ“ اور حضور علیہ السلام نے ان میں کیا شمار فرمایا ہے؟ پیشانی، ان سات ہڈیوں کو گنواتے ہوئے حضور علیہ السلام نے پیشانی کو ذکر فرمایا، صاحبین نے یہ حدیث ذکر کی ہے۔ اور امام صاحب فرماتے ہیں کہ بھئی جو مشہور احادیث ہیں ان کے اندر پیشانی کا ذکر نہیں بلکہ الوجہ چہرے کا ذکر آتا ہے، کس کا ذکر آتا ہے؟ کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان میں کس کو شمار فرمایا آپ نے؟ چہرے کو شمار فرمایا، جبہہ کو نہیں، مشہور روایات میں جبہہ کا لفظ نہیں ہے بلکہ چہرے کا ذکر ہے اور چہرہ ابھی ذکر ہو گیا کہ سجدے میں کیا کیا جاتا ہے؟ بعض چہرے کو زمین پر رکھا جاتا ہے اور ٹھوڑی اور رخسار تو بالاجماع خارج ہیں، باقی صرف ناک اور پیشانی رہ گئے تو ان میں سے جس کو بھی زمین پر رکھ دیں گے سجدہ ادا ہو جائے گا، کیونکہ ناک صرف ہے یہ بھی بعض وجہ ہے، چہرے کا بعض حصہ ہے اور پیشانی بھی چہرے کا بعض حصہ ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَالْمَذْكُورُ فِيمَا رُوِيَ الْوَجْهُ فِي الْمَشْهُورِ“ اور مذکور اس حدیث کے اندر جس کو روایت کیا گیا اس میں الوجہ کا لفظ ہے، مشہور روایات میں۔ ”وَوَضْعُ الْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ سُنَّةٌ عِنْدَنَا لِتَحَقُّقِ السُّجُودِ دُونَهُمَا“ اور دونوں ہاتھوں کا رکھنا اور دونوں گھٹنوں کا رکھنا سنت ہے ہمارے نزدیک ”لِتَحَقُّقِ السُّجُودِ دُونَهُمَا“ بوجہ پائے جانے سجدے کے ان دونوں کے بغیر، اس لیے کیونکہ ان دونوں کے بغیر بھی سجدہ پایا جاتا ہے، ان کے بغیر بھی سجدہ ہو سکتا ہے۔ بھئی ہمیں کس چیز کا حکم دیا گیا؟ سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اور سجدہ کس چیز کا نام ہے؟ بعض چہرے کو زمین پر رکھنے کا نام ہے، اور اس میں صرف ناک پر اکتفا کر لیا جائے تو بھی کافی، صرف پیشانی پر اکتفا کر لیا جائے تو بھی کافی ہے، اور یہ ہاتھوں اور گھٹنوں کا رکھنا یہ ہمارے نزدیک سنت ہے، اس لیے کیونکہ ان دونوں کے رکھے بغیر بھی سجدہ ہو سکتا ہے، ان دونوں کے رکھے بغیر بھی سجدہ... بھئی کس طرح؟ بھئی آپ سجدے میں جائیں اور دونوں ہاتھ زمین پر نہ لگائیں، ہو سکتا ہے یا نہیں؟ سجدے میں جائیں اور دونوں ہاتھ زمین پر نہ لگنے دیں، آپ بیٹھے ہوئے ہیں اور پھر گھٹنے زمین پر ہیں اور آپ سیدھا پیشانی زمین پر رکھ دیتے ہیں، تو سجدہ ہوا بغیر ہاتھ رکھے ہی۔ اور اسی طرح گھٹنے زمین پر نہ لگنے دیں اور ہاتھ رکھتے ہوئے پیشانی رکھ دیں، ہاتھ رکھ لیں لیکن گھٹنے نہ رکھیں اور پیشانی، تو ہو سکتا ہے یا نہیں بھئی؟ تو معلوم ہوا گھٹنے اور ہاتھ رکھے بغیر بھی سجدہ ہو سکتا ہے، گھٹنے اور ہاتھ رکھے بغیر بھی سجدہ، اور ہمیں بھی حکم کس چیز کا دیا گیا ہے؟ سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تو ان دونوں کے بغیر بھی سجدہ ہو سکتا ہے، جب ان دونوں کے بغیر سجدہ ہو سکتا ہے تو ان دونوں کا سجدے میں رکھنا فرض بھی نہیں ہے، یہ سنت ہے بھئی، دلیل سمجھ میں آگئی؟ ”لِتَحَقُّقِ السُّجُودِ دُونَهُمَا“ بوجہ سجدے کے پائے جانے کے دونھما ان دونوں کے بغیر بھی، کن دونوں کے بغیر؟ ہاتھ اور گھٹنوں کو رکھے بغیر بھی۔ ”وَأَمَّا وَضْعُ الْقَدَمَيْنِ فَقَدْ ذَكَرَ الْقُدُورِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ فَرِيضَةٌ فِي السُّجُودِ“ اور باقی قدموں کا رکھنا جو ہے تو امام قدوری رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ فرض ہے سجدے میں۔ دونوں قدموں کا زمین پر لگے ہونا یہ کیا ہے؟ فرض ہے سجدے کے اندر بھئی فرض ہے۔ تو یاد رکھیے اس میں خصوصاً احتیاط کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ سجدہ کرتے ہیں اور ادھر وہ سجدے میں جاتے ہیں ادھر دونوں پاؤں زمین سے اٹھ جاتے ہیں، حالانکہ ان کا زمین پر لگے ہونا ضروری ہے بھئی، پاؤں کی انگلیاں کیا ہوں؟ زمین پر لگی ہوں۔ تو اگر پورے سجدے کے اندر ہی دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے تو اس کا سجدہ ہی نہ ہوا کیونکہ یہ فرض ہے سجدے میں، اور جب سجدہ ہی نہ ہوا تو نماز بھی نہ ہوئی کیونکہ سجدہ تو فرض تھا۔ ہاں، اور اگر پورے سجدے میں ایک لمحے کے لیے بھی پاؤں زمین پر لگ گئے تو پھر سجدہ پایا گیا اور جب سجدہ پایا گیا تو فرض ادا ہو گیا، فرض ادا ہو گیا تو نماز ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آگئی؟ ”فَإِنْ سَجَدَ عَلَى كَوْرِ عِمَامَتِهِ أَوْ فَاضِلِ ثَوْبِهِ جَازَ“ پس اگر سجدہ کر لیا ”عَلَى كَوْرِ عِمَامَتِهِ“ اپنی پگڑی کے بل پر۔ کور، کورِ عمامہ بھئی، پگڑی کا بل، یہ جو پگڑی سر پر لپیٹتے ہوئے یہ جو ایک چکر دیا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں کور، کور بھئی، یعنی ایک بل ہے، جو ایک پیچ ہے پگڑی کا۔ تو بھئی ایک شخص اگر پگڑی کے پیچ پر سجدہ کرتا ہے یعنی پگڑی ماتھے پر آ گئی ہے، اب سجدہ کرتا ہے تو ماتھا زمین پر نہیں لگتا بلکہ کیا لگتی ہے؟ پگڑی زمین پر لگ رہی ہے، تو کیا اس سے سجدہ ہو جائے گا؟ تو بتلایا ہاں بھئی، اس سے بھی سجدہ ہو جائے گا۔ ”فَإِنْ سَجَدَ عَلَى كَوْرِ عِمَامَتِهِ“ پس اگر سجدہ کیا اپنی پگڑی کے بل پر ”أَوْ فَاضِلِ ثَوْبِهِ“ یا اپنے زائد کپڑے پر ”جَازَ“ تو یہ بھی جائز۔ بھئی زائد کپڑے پر کوئی مثلاً چادر وغیرہ ہے اور سجدہ کرتے ہوئے وہ پیشانی کے سامنے آ گئی تو سجدہ اسی کپڑے پر ہو گیا جو اس نے پہنا ہوا ہے، چادر اوڑھی ہوئی ہے، چادر ہے یا کوئی کپڑا ہے وہ اس نے یا رومال ہے تو وہ سجدہ کس پر ہوا؟ اسی کپڑے پر ہو گیا جس کو اس نے اوڑھا ہوا ہے، پہنا ہوا ہے، تو کیا ایسا جائز ہے؟ اس سے سجدہ ہو جائے گا؟ صاحب قدوری کیا فرما رہے ہیں؟ جائز ہے بھئی، ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں اگر اپنی پگڑی کے پیچ پر سجدہ کیا یا اپنے زائد کپڑے پر، جاز، تو یہ جائز ہے، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَسْجُدُ عَلَى كَوْرِ عِمَامَتِهِ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ سجدہ کرتے تھے، سجدہ فرماتے تھے ”عَلَى كَوْرِ عِمَامَتِهِ“ اپنی پگڑی کے پیچ پر، اپنی پگڑی کے بل پر۔ ”وَيُرْوَى أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا“ اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے نماز پڑھی ایک ہی کپڑے میں، یعنی ایک ہی چادر تھی بڑی چادر اس میں حضور علیہ السلام نے نماز پڑھی، ”يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا“ اور بچتے تھے اس کے زائد حصے کے ذریعے، اس چادر کے زائد حصے کے ذریعے بچتے تھے حضور علیہ السلام کس چیز سے؟ ”حَرَّ الْأَرْضِ“ زمین کی حرارت سے، اس کی گرمی سے ”وَبَرْدَهَا“ اور زمین کی ٹھنڈک سے، تو اسی پر سجدہ فرما لیتے تھے، زمین زیادہ گرم ہوتی یا زیادہ ٹھنڈی ہوتی۔ ”وَيُبْدِي ضَبْعَيْهِ“ اور نماز پڑھنے والا ظاہر کرے گا ”ضَبْعَيْهِ“ اپنے دونوں بازو۔ ضبع کہتے ہیں بازو کو بھئی، بازو، یہ بازو کا جو کندھے سے لے کر کہنی تک حصہ ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضبع۔ ”وَيُبْدِي ضَبْعَيْهِ“ اور نماز پڑھنے والا کیا کرے گا؟ اپنے دونوں بازو ظاہر کرے گا یعنی ان کو کھلا رکھے گا، بدن سے دور رکھے گا، کھلا رکھے گا۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَأَبْدِ ضَبْعَيْكَ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”وَأَبْدِ ضَبْعَيْكَ“، ابدی، ابدی ضبعیک، ابدی یبدی سے امر ہے ابدِ، اور ظاہر کر ضبعیک اپنے اپنے دونوں بازوؤں کو، اپنے دونوں بازوؤں کو ظاہر کر یعنی ان کو کھلا رکھو، پہلوؤں کے ساتھ ملا کر نہ رکھو اپنے بھئی، پہلوؤں کے ساتھ بلکہ کھلا رکھو۔ ”وَيُرْوَى: وَأَبِدَّ“ اور یہ روایت کیا گیا ہے: ”وَأَبِدَّ“، بھئی انہوں نے کیا روایت کی؟ یہ حدیث جو ہے: ”وَأَبْدِ ضَبْعَيْكَ“ اور اپنے دونوں بازو کیا کرو؟ ظاہر کرو۔ اپنے دونوں، اسی میں ”أَبْدِ“ کے بجائے بعض علماء نے کیا روایت کیا ہے؟ ”أَبِدَّ، أَبِدَّ مِنَ الْإِبْدَادِ“ یہ کس سے ہے؟ امداد سے۔ پہلا تو ابدی وہ تو تھا ابدی، یبدی، ابداء سے اور ابدّ ہو تو یہ ابدّ، یبدّ، ابداد سے ہے بھئی۔ تو ”وَيُرْوَى: وَأَبِدَّ مِنَ الْإِبْدَادِ“ اور ابدّ بھی روایت کیا گیا ہے جو ابداد مصدر سے ہے ”وَهُوَ الْمَدُّ“ اور وہ کسے کہتے ہیں؟ مد، لمبا کرنا۔ مد کا کیا معنی؟ تو ابداد کا معنی ہے لمبا کرنا، تو اس صورت میں کیا معنی ہوگا حدیث کا؟ ”وَأَبِدَّ ضَبْعَيْكَ“ اور اپنے بازو لمبے کرو، اپنے بازو اپنے بازو لمبے کرو، مراد وہی ہے ظاہر کرو یعنی اپنے بدن سے جدا کرو ان کو بھئی۔ ”وَالْأَوَّلُ مِنَ الْإِبْدَاءِ وَهُوَ الْإِظْهَارُ“ اور اول جو لفظ آیا جو ہم نے ذکر کیا وہ کس سے تھا؟ ابداء سے تھا اور ابداء کسے کہتے ہیں؟ اظہار، ظاہر کرنے کو کہتے ہیں۔ تو یاد رکھیے یہ مرد کے سجدہ کرنے کا طریقہ بیان ہو رہا ہے، وہ کیا کرے گا؟ اپنے بازو جو ہیں اپنے پہلوؤں سے جدا رکھے گا خوب کھول کر بھئی خوب کھول کر۔ ”وَيُجَافِي بَطْنَهُ عَنْ فَخِذَيْهِ“ اور جدا کرے اپنے پیٹ کو ”عَنْ فَخِذَيْهِ“ اپنی رانوں سے۔ پیٹ کو بھی کیا کرے انسان؟ رانوں سے جدا رکھے، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى أَنَّ بَهْمَةً لَوْ أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمَرَّتْ“ کیونکہ حضور علیہ السلام جب سجدہ فرماتے تھے ”جَافَى“ تو کیا کرتے تھے؟ دور کرتے تھے یعنی اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے، ”حَتَّى أَنَّ بَهْمَةً“، بہمۃ کہتے ہیں بھیڑ بکری کے چھوٹے بچے کو، یہاں تک کہ اگر کوئی بھیڑ بکری کا چھوٹا بچہ ”لَوْ أَرَادَتْ“ اگر وہ ارادہ کرتا ”أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ“ کہ وہ گزرے حضور علیہ السلام کے ہاتھوں کے بیچ میں سے ”لَمَرَّتْ“ تو وہ گزر جاتا۔ اگر کوئی چھوٹا بھیڑ بکری کا بچہ حضور علیہ السلام کے ہاتھوں کے بیچ میں سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا، یعنی اتنا حضور علیہ السلام بدن کو کھول کر رکھتے تھے، اور مراد کیا ہے؟ حدیث میں آیا کہ اگر وہ ارادہ کرتا حضور علیہ السلام کے ہاتھوں کے بیچ میں سے گزر جانے کا، مراد ہے مراد ہے پیٹ کے نیچے سے نکلنے کا، کیا مراد ہے؟ پیٹ، یعنی حضور علیہ السلام اس طرح ہاتھوں کو کھول کر رکھتے اور اتنا پیٹ کو رانوں سے جدا رکھتے، بدن کو اتنا کھلا رکھتے سجدے کے اندر کہ اگر آپ کے پیٹ کے نیچے سے کوئی بکری کا چھوٹا بچہ گزرنا چاہتا تو وہ بھی گزر جاتا، اتنے اتنا بدن کو کھول کر رکھتے تھے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے کہ اگر کوئی بھیڑ بکری کا بچہ ارادہ کرتا کہ وہ حضور علیہ السلام کے ہاتھوں کے بیچ میں سے گزرے تو وہ گزر جاتا۔ ”وَقِيلَ: إِذَا كَانَ فِي صَفٍّ لَا يُجَافِي كَيْ لَا يُؤْذِيَ جَارَهُ“ اور کہا گیا ہے کہ جب صف کے اندر ہو انسان، جماعت کے اندر صف کے اندر کھڑا ہو اور نمازی بھی ساتھ کھڑے ہیں تو ”لَا يُجَافِي“ اس وقت اس طرح نہ کرے بھئی، دور نہ کرے یعنی ہاتھوں وغیرہ کو اس طرح دور نہ کرے ”كَيْ لَا يُؤْذِيَ جَارَهُ“ تاکہ کہیں اپنے ساتھ والے کو تکلیف نہ دے، کیونکہ جماعت کے اندر صف میں تو سارے ساتھ ساتھ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، تو اب اگر اس طرح اپنے بدن کو کھولے گا، بازوؤں کو جسم سے علیحدہ کرے گا تو ساتھ والے کو تکلیف ہوگی، اور دوسروں کو تکلیف دینے سے تو منع کیا گیا ہے بھئی۔ جی، اور یاد رکھیے بھئی جب سجدہ کرتے ہیں، سجدہ، تو کہنیوں کو زمین سے اونچا رکھنا ہے۔ بعض لوگ سجدہ کرتے ہوئے کہنی سے ہتھیلی تک جو بازو کا حصہ ہے اس کو زمین پر بچھا دیتے ہیں، یہ یاد رکھیے یہ عورتوں کی نماز کا طریقہ ہے، مردوں کے لیے ہاتھوں کو بدن کو کھلا رکھنا ضروری ہے، اونچا رکھے کہنیوں کو زمین سے، اگر مرد اس طرح کرتا ہے تو یہ اس کے لیے مکروہ تحریمی ہے، کہنیوں تک کے حصے کو زمین پر بچھانا کیا ہے؟ مکروہ تحریمی ہے بھئی۔ ہاں، عورت جو ہے وہ وہ اپنے آپ کو سمیٹ کر رکھے گی، سمیٹ کر سجدے کے اندر، اور تو ہاتھوں کو یہ جو ہے زمین پر بچھائے گی، بدن کے ساتھ ملا کر رکھے گی، پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملا کر رکھے گی، کیونکہ اس میں اس کے لیے پردہ زیادہ ہے، تو وہ اپنے آپ کو چھپا کر رکھے گی، اس طریقے سے سجدہ ادا کرے گی اور مرد بدن کو خوب کھول کر بھئی۔ ”وَيُوَجِّهُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ نَحْوَ الْقِبْلَةِ“ اور متوجہ کرے اپنے دونوں پاؤں کی انگلیوں کو ”نَحْوَ الْقِبْلَةِ“ قبلے کی جانب بھئی۔ سجدے کی کیفیت بیان ہو رہی ہے، سجدے کے اندر قدموں کو زمین پر ہی رکھنا ہے اور اس طریقے سے کوشش کرنی ہے کہ جس قدر ہو سکے پاؤں کی انگلیوں کا رخ کس طرف ہو؟ قبلے کی طرف ہو بھئی، قبلے کی طرف ہو۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِذَا سَجَدَ الْمُؤْمِنُ سَجَدَ كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ ”إِذَا سَجَدَ الْمُؤْمِنُ“ جب مومن سجدہ کرتا ہے ”سَجَدَ كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ“ تو اس کا ہر عضو جو ہے وہ سجدہ کرتا ہے۔ جی، یہاں حدیث یہاں تک ہے بس بھئی: ”إِذَا سَجَدَ الْمُؤْمِنُ سَجَدَ كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ“، جب مومن سجدہ کرتا ہے تو اس کا ہر عضو کیا کرتا ہے؟ سجدہ کرتا ہے۔ تو آگے صاحب ہدایہ بیان فرما رہے ہیں: ”فَلْيُوَجِّهْ مِنْ أَعْضَائِهِ الْقِبْلَةَ مَا اسْتَطَاعَ“ تو اس نماز پڑھنے والے کو متوجہ کرنا چاہیے اپنے اعضاء کو قبلے کی طرف جس قدر وہ استطاعت رکھے، تو سجدے میں بھی دونوں پاؤں ذرا دبا کر زمین پر رکھے تاکہ انگلیاں تھوڑی مڑ کر ان کا رخ کس طرف کو ہو جائے؟ قبلے کی طرف ہو جائے۔ ”وَيَقُولُ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا، وَذٰلِكَ أَدْنَاهُ“ اور کہے اپنے سجدے میں ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى“ تین مرتبہ، ”وَذٰلِكَ أَدْنَاهُ“ اور یہ اس کی کم سے کم مقدار ہے، کم سے کم۔ بھئی یہاں لفظ بار بار آ رہا ہے سجود کا لفظ، میں نے آپ کو بتلایا سجود سے جمع نہ سمجھ لینا کہ یہ جمع ہے، بلکہ عربی زبان میں سجدے کو کیا کہتے ہیں؟ سجود کہتے ہیں۔ تو وہ کہے اپنے سجدے میں ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى“ تین مرتبہ اور یہ اس کی کم سے کم مقدار ہے، یعنی ادنیٰ کمال جمع ہے، یعنی جمع کے کامل ہونے کی یہ ادنیٰ مقدار ہے، کیونکہ جمع کا بھی اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر ہوتا ہے یا تین سے زیادہ پر، تو کم از کم تین دفعہ تسبیحات پڑھے۔ اور یہ یاد رکھنا رکوع کے اندر بھی ذکر ہوا تھا کہ تین تین مرتبہ ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ“ کہے گا اور یہ ادنیٰ مقدار ہے، سجدے میں بھی ذکر ہوا کہ تین دفعہ ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى“ پڑھے گا اور یہ ادنیٰ مقدار ہے، تو یہ کم سے کم مقدار ہے ادنیٰ مقدار، اور علماء لکھتے ہیں کہ پانچ مرتبہ پڑھے یہ متوسط مقدار ہے، پانچ مرتبہ پڑھنا متوسط مقدار ہے اور سات مرتبہ یہ تسبیحات پڑھنا یہ کامل مقدار ہے، کتنا کامل مقدار کیا ہے؟ سات مرتبہ پڑھے بھئی سات مرتبہ۔ بعضوں نے لکھا دس مرتبہ پڑھے، یہ ہے کامل مقدار بھئی دس مرتبہ۔ لیکن بہرحال یہ انسان جب اکیلا نماز پڑھ رہا ہو، اگر جماعت کے اندر ہے، جماعت کروا رہا ہے اور امام ہے تو پھر اس کو ہلکی نماز پڑھانی چاہیے، مختصر نماز پڑھانی چاہیے، پھر لمبی نماز نہیں پڑھانی چاہیے کیونکہ مقتدیوں میں مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں، کوئی ضعیف ہوتے ہیں، کوئی بیمار ہوتے ہیں وغیرہ، تو یہ نہ ہو لوگ جو ہیں اس سے تنگ آ جائیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَذٰلِكَ أَدْنَاهُ“ اور یہ اس کی کم سے کم مقدار ہے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَإِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا وَذٰلِكَ أَدْنَاهُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ جب کوئی سجدہ کرے تم میں سے کوئی ایک تو اسے چاہیے کہ کہے وہ اپنے سجدے میں ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى“ تین مرتبہ ”وَذٰلِكَ أَدْنَاهُ“ اور یہ اس کی کم سے کم مقدار ہے، أَيْ أَدْنَى كَمَالِ الْجَمْعِ، یعنی جمع کے کامل ہونے کی کم سے کم مقدار ہے۔ ”وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَزِيدَ عَلَى الثَّلَاثِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ بَعْدَ أَنْ يَخْتِمَ بِالْوِتْرِ“ اور مستحب یہ ہے کہ وہ زیادہ کرے تین پر، یعنی تین سے زیادہ تسبیحات پڑھ پڑھنا مستحب ہے رکوع اور سجدے میں ”بَعْدَ أَنْ يَخْتِمَ بِالْوِتْرِ“ بعد اس کے کہ جب وہ ختم کرے اس کو طاق پر۔ وتر کہتے ہیں طاق کو، یعنی طاق مقدار پر ختم کرتے ہوئے تین سے زائد تسبیحات کہنا مستحب ہے، تو تین سے زائد کہے اور طاق عدد ہونا چاہیے، تو مثلاً کتنی کہہ لے؟ پانچ کہہ لے یا کتنی کہہ لے؟ سات کہہ لے، یا اسی طرح نو بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہ بعد اس کے کہ وہ ختم کرے اس کو طاق عدد پر، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَخْتِمُ بِالْوِتْرِ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام بھی طاق عدد پر ختم فرماتے تھے۔ ”وَإِنْ كَانَ إِمَامًا لَا يَزِيدُ عَلَى وَجْهٍ يُمِلُّ الْقَوْمَ حَتَّى لَا يُؤَدِّيَ إِلَى التَّنْفِيرِ“ اور اگر وہ شخص امام ہے جس کے یہ جو تسبیحات پڑھ رہا ہے، امامت کروا رہا ہے، ”لَا يَزِيدُ عَلَى وَجْهٍ يُمِلُّ الْقَوْمَ حَتَّى لَا يُؤَدِّيَ إِلَى التَّنْفِيرِ“ تو پھر وہ زیادہ نہ کرے ایسے طریقے پر کہ اکتا دے وہ لوگوں کو۔ املّ یملّ کے معنی ہوتے ہیں کسی کو اکتاہٹ میں ڈال دینا، کسی کو اکتا دینا، تو وہ ایسے طریقے پر زیادتی نہ کرے کہ وہ ان لوگوں کو اکتا دے، لوگ اکتاہٹ میں پڑ جائیں کہ اتنی لمبی جماعت کروا رہا ہے، ”حَتَّى لَا يُؤَدِّيَ إِلَى التَّنْفِيرِ“ تاکہ کہیں پہنچا نہ دے تنفیر تک، نفرت انگیزی تک، نفرت نہ پھیلنے لگے لوگوں میں، وہ جماعت میں آنا ہی نہ چھوڑ دیں کہ اتنی لمبی جماعت کرواتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: ”حَتَّى لَا يُؤَدِّيَ إِلَى التَّنْفِيرِ“ تاکہ کہیں یہ تنفیر تک یعنی نفرت تک نہ پہنچا دے۔ ”ثُمَّ تَسْبِيحَاتُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ سُنَّةٌ“ پھر یہ رکوع اور سجدے کی تسبیحات جو ہیں وہ سنت ہیں۔ یاد رکھیے یہ تسبیحات رکوع اور سجدے میں جو ہیں سنت ہیں، لہٰذا ایک شخص ایک بھی تسبیح نہیں پڑھتا، رکوع اور سجدہ کرتا ہے تسبیح ایک بھی نہیں پڑھتا تو بھی اس کی نماز ہو جائے گی، اگرچہ اس نے برا عمل کیا، سنت کو چھوڑ دیا، لیکن بہرحال یہ واجب یا فرض نہیں تو نماز یعنی اس کی ہو جائے گی بھئی۔ کہتے ہیں یہ سنت ہیں: ”لِأَنَّ النَّصَّ تَنَاوَلَهُمَا دُونَ تَسْبِيحَاتِهِمَا“ اس لیے کیونکہ نص جو ہے وہ ان دونوں کو تو شامل ہے نہ کہ ان دونوں کی تسبیحات کو۔ نص کے اندر رکوع اور سجدے کا ذکر تو آیا ہے، تسبیحات کو وہ شامل نہیں۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”وَارْكَعُوا وَاسْجُدُوا“، رکوع اور سجدہ کرنے کا حکم ہے تو رکوع اور سجدے کو تو نص شامل ہوئی اس کا حکم ہے، تسبیحات کا ذکر اس میں نہیں، لہٰذا اس لیے وہ فرض نہیں، وہ سنت ہیں۔ ”فَلَا يُزَادُ عَلَى النَّصِّ“ تو نص پر زیادتی نہیں کی جائے گی، یعنی ان کو فرض قرار نہیں دیا جائے گا۔ ”وَالْمَرْأَةُ تَنْخَفِضُ فِي سُجُودِهَا“ دیکھیے میں نے کہا تھا یہ مرد کے سجدے کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ بدن کو کھول کر رکھے گا، عورت کا حکم وہ خود بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالْمَرْأَةُ تَنْخَفِضُ فِي سُجُودِهَا“ اور عورت اپنے آپ کو پست رکھے گی یعنی جھکا کر رکھے گی ”فِي سُجُودِهَا“ اپنے سجدے میں، ”وَتَلْزَقُ بَطْنَهَا بِفَخِذَيْهَا“ اور ملائے گی اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ”لِأَنَّ ذٰلِكَ أَسْتَرُ لَهَا“ اس لیے کیونکہ یہ اس میں اس کے لیے زیادہ ستر ہے، اس میں زیادہ پردہ ہے اس کا۔ ”قَالَ: ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيُكَبِّرُ لِمَا رَوَيْنَا“ پھر نماز پڑھنے والا وہ اٹھائے گا اپنے سر کو اور تکبیر کہے گا ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی۔ اپنے سر کو اٹھائے گا اور تکبیر کہے گا، تکبیر کیوں کہے گا؟ کیا وجہ؟ کہتے ہیں اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی اور وہ کیا کہ حضور علیہ السلام ہر اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر کہتے تھے بھئی۔ ”فَإِذَا اطْمَأَنَّ جَالِسًا كَبَّرَ وَسَجَدَ“ پھر جب اطمینان سے بیٹھ جائے تو تکبیر کہے اور سجدہ کرے یعنی دوسرا سجدہ کرے بھئی۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي حَدِيثِ الْأَعْرَابِيِّ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے جو کس میں آیا؟ حدیث اعرابی، دیہاتی کے والی حدیث میں آیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا: ”ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ جَالِسًا“، پھر اٹھا اپنے سر کو ”حَتَّى تَسْتَوِيَ جَالِسًا“ یہاں تک کہ تو سیدھا بیٹھ جائے، پھر اپنے سر کو سجدے سے اٹھا یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جائے۔ ”وَلَوْ لَمْ يَسْتَوِ جَالِسًا وَكَبَّرَ وَسَجَدَ أُخْرَى أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور اگر وہ سیدھا نہ ہوا، سیدھا نہ بیٹھا ”وَلَوْ لَمْ يَسْتَوِ جَالِسًا“ اور اگر وہ نماز پڑھنے والا سیدھا نہ بیٹھا ”وَكَبَّرَ وَسَجَدَ أُخْرَى“ اور تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کر لیا، یعنی پہلے سجدے سے اٹھ کر سیدھا نہیں بیٹھا تھوڑا سا اوپر اٹھا اور پھر دوسرے تکبیر کہہ کے دوسرے سجدے میں چلا گیا، ”أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ“ تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ کافی ہے۔ ”وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ“ اور تحقیق ہم اس کو ذکر کر چکے، اس کو ہم کیا کر چکے؟ ذکر کر چکے۔ بھئی کہاں ذکر کیا تھا؟ بھئی جہاں کل طمانینت کا ذکر ایا تھا، طمانینت یعنی ارکان کو اطمینان کے ساتھ ادا کرنا، یاد رکھیے اس کو تعدیل ارکان بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تعدیل ارکان، یعنی ارکان کو، رکوع سجدے وغیرہ کو، جلسے کو اطمینان سے ادا کرنا، یہ کیا ہے؟ تعدیل ارکان۔ تو صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں ہم اس کو ذکر کر چکے ہیں، جہاں تعدیل ارکان کا ذکر ایا تھا وہاں ہم نے بتلایا تھا بھئی کہ تعدیل ارکان ہمارے نزدیک فرض نہیں ہے بھئی فرض نہیں ہے۔ تو لہٰذا یہاں بھی اگرچہ اس نے جلسہ کیا ہے اور پوری طرح بیٹھا ہی نہیں پھر فوراً دوسرے سجدے میں چلا گیا تو دیکھو یہاں طمانینت نہیں پائی گئی، اطمینان کے ساتھ دو سجدوں کے درمیان وہ بیٹھا نہیں، تعدیل ارکان نہیں لیکن پھر بھی پھر بھی یہ اس کافی ہو جائے گا، بحث پیچھے گزر چکی۔ ”وَتَكَلَّمُوا فِي مِقْدَارِ الرَّفْعِ“ اور علماء نے کلام کیا ہے فقہاء نے ”فِي مِقْدَارِ الرَّفْعِ“ سر اٹھانے کی مقدار میں، کہ کتنا سر اٹھا لے گا سجدے سے اور پھر دوسرے میں چلا جائے تو دوسرا سجدہ ہو جائے گا؟ دوسرا سجدہ یعنی کتنا پہلے سجدے سے کتنا اٹھنا ضروری ہے پھر دوسرا سجدہ ہوگا؟ تو مختلف اقوال ہیں، بعض نے لکھا کہ تھوڑا سا بس پیشانی زمین سے اٹھا لے، چہرہ زمین سے اٹھا لے پھر رکھ دے تو بس یہ کافی ہو جائے گا، یہ کافی ہو جائے گا، لیکن صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ إِذَا كَانَ إِلَى السُّجُودِ أَقْرَبُ لَا يَجُوزُ“ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ ”أَنَّهُ إِذَا كَانَ إِلَى السُّجُودِ أَقْرَبُ لَا يَجُوزُ“ اگر اس طور پر تھا کہ وہ سجدے کے زیادہ قریب تھا تو ”لَا يَجُوزُ“ پھر جائز نہیں۔ بھئی ایک آدمی ہے اور نماز پڑھتے ہوئے پہلے سجدے سے وہ سر اٹھاتا ہے، تو اب دیکھا جائے گا کتنا سر اس نے سجدے سے اٹھایا؟ بیٹھنے کے زیادہ قریب آیا یا سجدے کے زیادہ قریب تھا؟ وہ بیٹھنے کے زیادہ قریب تھا یا سجدے کے؟ اگر سجدے کے زیادہ قریب تھا یعنی تھوڑا سا ہی اٹھا اور پھر سجدے میں چلا گیا تو یہ تو سجدے کے زیادہ قریب تھا، تو لہٰذا اس کو دوسرا سجدہ شمار ہی نہیں کریں گے، یوں سمجھیں گے ابھی وہ پہلا ہی سجدہ تھا، اور دوسرا سجدہ تو فرض تھا لہٰذا اس کا دوسرا سجدہ نہ ہوا اور جس کا دوسرا سجدہ نہیں اس کی نماز بھی نہیں۔ اور اگر وہ شخص اتنا اٹھا ہے کہ بیٹھنے کے قریب تک پہنچ گیا، بیٹھا تو نہیں پوری طرح لیکن بیٹھنے کے قریب پہنچ گیا پھر واپس چلا گیا تو اس صورت میں ہم کہیں گے دوسرا سجدہ پایا گیا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے کہ اصح قول یہ ہے کہ ”أَنَّهُ إِذَا كَانَ إِلَى السُّجُودِ أَقْرَبُ لَا يَجُوزُ“ کہ اگر وہ سجدے کے زیادہ قریب ہو تو پھر جائز نہیں، ”لِأَنَّهُ يُعَدُّ سَاجِدًا“ اس لیے کیونکہ اس کو سجدہ کرنے والا ہی شمار کیا جائے گا، یوں سمجھا جائے گا ابھی سجدے میں ہی ہے پہلا ہی سجدہ چل رہا ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ إِلَى الْجُلُوسِ أَقْرَبُ جَازَ“ اور اگر وہ بیٹھنے کے زیادہ قریب تھا ”جَازَ“ تو پھر یہ جائز ہو جائے گا یعنی دوسرا سجدہ کافی ہو جائے گا، دوسرا سجدہ درست ہو جائے گا، ”لِأَنَّهُ يُعَدُّ جَالِسًا“ اس لیے کیونکہ اس کو بیٹھا ہوا شمار کیا جائے گا، ”فَتَحَقَّقَ الثَّانِيَةُ“ تو دوسرا سجدہ بھی متحقق ہو جائے گا وہ پایا جائے گا، تو لہٰذا اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ مکمل ہو جائے گی۔ ”فَإِذَا اطْمَأَنَّ سَاجِدًا كَبَّرَ“ پھر جب اطمینان سے سجدہ کر لے دوسرا سجدہ، ”كَبَّرَ“ تو تکبیر کہے گا، ”وَقَدْ ذَكَرْنَا“ تحقیق ہم اس کو ذکر کر چکے، یعنی دوسرے سجدے سے اٹھتے ہوئے بھی کیا کہے گا؟ تکبیر کہے گا، اور ہم اس کو ذکر کر چکے کہ حضور علیہ السلام ہر اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر کہتے تھے۔ تو تکبیر کہے گا، ”وَاسْتَوَى قَائِمًا عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ“ اور سیدھا کھڑا ہو جائے گا ”عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ“ اپنے پاؤں کے اگلے حصے پر، یعنی جو پاؤں کا پنجہ ہے اس پر اٹھتے ہوئے سیدھا کھڑا ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ معنی ہے: ”وَاسْتَوَى قَائِمًا عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ“ اور سیدھا کھڑا ہو جائے گا پاؤں کے اگلے حصے پر یعنی پنجوں کے بل، ”وَلَا يَقْعُدُ“ اور بیٹھے گا نہیں ”وَلَا يَعْتَمِدُ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ“ اور نہ رکھے گا اپنے دونوں ہاتھ زمین پر۔ دونوں ہاتھ زمین پر بھی نہیں رکھے گا۔ سجدے سے جب اٹھ رہے ہیں، دوسرا سجدہ کر لیا، دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہو رہے ہیں تو اٹھتے ہوئے سیدھا اٹھنا ہے اب جلسہ نہیں کرنا، اب بیٹھنا نہیں، جبکہ اگے ذکر ائے گا امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، دوسرے سجدے سے اٹھ کر سیدھا کھڑا نہیں ہوگا بلکہ سجدے سے سر اٹھا کر پہلے بیٹھ جائے، تھوڑا سا بیٹھ جائے اور پھر کھڑا ہو جائے، سمجھ میں آیا بھئی؟ پھر کھڑا ہو جائے۔ اور نیز کھڑا ہوتے ہوئے ہاتھ زمین پر نہیں رکھیں گے، مسنون طریقہ کیا ہے کہ ہاتھ زمین پر یعنی ہاتھوں کا سہارا لیتے ہوئے، زمین پر سہارا لیتے ہوئے نہیں کھڑے ہونا بلکہ گھٹنوں پر سہارا لیتے ہوئے کھڑا ہوگا۔ سجدے سے دونوں ہاتھ اٹھا لیے، اب کھڑا ہونا ہے تو گھٹنوں پر سہارا لیتے ہوئے، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر انسان کیا کرے؟ کھڑا ہو جائے۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا يَعْتَمِدُ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ“ اور نہ رکھے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَجْلِسُ جَلْسَةً خَفِيفَةً“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیٹھ جائے ”جَلْسَةً خَفِيفَةً“ تھوڑا سا، یعنی سیدھا نہ کھڑا ہو تھوڑا سا جلسہ کر لے، ”ثُمَّ يَنْهَضُ مُعْتَمِدًا عَلَى الْأَرْضِ“ پھر وہ فرماتے ہیں کہ اٹھے وہ ”مُعْتَمِدًا عَلَى الْأَرْضِ“ زمین پر ہاتھ رکھتے ہوئے، زمین پر سہارا لیتے ہوئے۔ یعنی دونوں چیزوں میں امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں اٹھتے ہوئے ہاتھ کس پر رکھنے ہیں؟ زمین پر رکھنے ہیں، اس کا سہارا لیتے ہوئے کھڑا ہونا ہے۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ کس پر ہاتھ رکھیں گے؟ گھٹنوں پر ہاتھ رکھیں گے۔ نیز وہ فرماتے ہیں کہ خفیف سا جلسہ بھی کیا جائے گا کھڑے ہونے سے پہلے، ہم کہتے ہیں جلسہ بھی نہیں کیا جائے گا۔ دلیل ان کی، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَعَلَ ذٰلِكَ“ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَنْهَضُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ“ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام وہ اٹھتے تھے نماز میں ”عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ“ کس پر؟ اپنے اپنے پاؤں کے اگلے حصے پر یعنی پنجوں پر بھئی، کس پر؟ پنجوں پر۔ ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى حَالَةِ الْكِبَرِ“ اور وہ حدیث جس کو روایت کیا انہوں نے وہ محمول ہے بڑھاپے کی حالت پر، یعنی ہم کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کا عام معمول جو تھا وہ اسی طرح تھا کہ وہ اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہوتے تھے اور ہاتھ بھی زمین پر نہیں رکھتے تھے اور جلسہ بھی نہیں کرتے تھے، اور جو روایت میں آیا ہے بعض روایتوں میں تو وہ بڑھاپے پر محمول ہے کہ جب حضور علیہ السلام کی جب عمر زیادہ ہو گئی اور بدن کچھ بوجھل ہو گیا، وزنی ہو گیا تو اب آپ کے لیے ویسے کھڑا ہونا مشکل ہوتا تو آپ کس کا سہارا لیتے؟ ہاتھ کہاں رکھتے تھے؟ زمین پر رکھتے تھے اور سجدے سے فوراً سیدھے نہیں کھڑے ہوتے تھے بلکہ دوسرے سجدے سے اٹھ کر تھوڑا سا جلسہ، خفیف سا جلسہ کرتے، بیٹھتے اور پھر کھڑے ہو جاتے تھے۔ یہ معنی ہے: ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى حَالَةِ الْكِبَرِ“ اور وہ حدیث جس کو انہوں نے امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ محمول ہے بڑھاپے کی حالت پر۔ ”وَلِأَنَّ“ دوسری عقلی دلیل کہ بیٹھنے گے نہیں، سیدھا کھڑے ہوں گے، کہتے ہیں اس لیے: ”وَلِأَنَّ هٰذِهِ قَعْدَةُ اسْتِرَاحَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ استراحت کا بیٹھنا ہے، استراحت، آرام کے لیے بیٹھنا ہے، کس لیے؟ سجدے سے سیدھا کھڑے ہوں گے، یہ بیٹھنا قعدۂ استراحت ہے، جلسۂ استراحت ہے، کہ اطمینان سے تاکہ کھڑا ہو سکے، تو یہ استراحت کا جلسہ ہے، ”وَالصَّلَاةُ مَا وُضِعَتْ لَهَا“ اور نماز وہ استراحت کے لیے وضع نہیں کی گئی، استراحت کے لیے مقرر نہیں کی گئی، لہٰذا اس لیے بھی یہ جلسہ نہیں ہونا چاہیے نماز میں، تو یہ عقلی دلیل بھی ذکر کر دی بھئی، دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو بہرحال بھئی یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں ہیں۔ حضور علیہ السلام کا عام معمول تو یہی تھا کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے جلسہ نہیں فرماتے تھے، لیکن جب عمر بڑھ گئی تو پھر اپ پھر خفیف سا جلسہ فرماتے تھے اور پھر کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن چونکہ یہ عمل تھا سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا، اللہ نے اپ کے ایک ایک عمل کی بھی حفاظت فرما لی قیامت تک کے لیے، چنانچہ کچھ لوگوں وہ جو ہیں وہ اپ کے ایک عمل کو اپنائے ہوئے ہیں تو کچھ اپ کی دوسری سنت کو اپنائے ہوئے ہیں، تو یہ سب کیا ہیں؟ جنت کی طرف جانے والے راستے ہیں بھئی، یہ سب حضور علیہ السلام کی سنتیں ہیں بھئی، سمجھ میں ایا؟ یہ ہیں فقہائے کرام بھئی، اللہ تعالیٰ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں ان فقہائے کرام پر بھئی۔ کس طرح ایک ایک سنت کو انہوں نے محفوظ کر لیا اور اج چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور دین بعینہٖ اسی شکل میں موجود ہے جس طرح سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا، اور چودہ سو سال سے زیادہ گزر گئے کوئی معمولی مدت نہیں ہے۔ اپ کسی کو ایک عمل سکھائیں، پندرہ دن بعد اپ دیکھیں گے وہ عمل جا کر دیکھیں وہ کچھ نہ کچھ اس میں تبدیلی ا چکی ہوگی بھئی۔ ایک مہینے میں اپ دیکھ لیں گے پتہ نہیں کیا سے کیا صورت بدل جاتی ہے چیزوں کی، اور یہ فقہائے کرام کا کمال ہے، چودہ سو سال گزر گئے اور اسی طرح دین محفوظ ہے، یہ سب فقہاء، علماء، محدثین ان سب کی محنتیں ہیں۔ اور اس میں بھی پھر یاد رکھو، احناف پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ فلاں حدیث میں یوں اتا ہے تم یوں کرتے ہو، فلاں حدیث میں یوں اتا ہے تم یوں کرتے ہو، یاد رکھیے احناف کے پاس ہر مسئلے کے اندر دلائل کے انبار موجود ہیں، پہاڑ کی طرح مضبوط دلیلیں ہیں بھئی، پہاڑ کی طرح مضبوط دلیلیں۔ سمجھ میں ایا؟ لیکن شرط یہ ہے اس کے لیے کوئی صاحب مطالعہ چاہیے، وہ دیکھے کیا ہمارے فقہاء نے کیا حدیث ذکر کی ہیں، کیا دلائل دیے ہیں بھئی، سمجھ میں ایا؟ اور میں نے بتایا احناف کی تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ سب حدیثوں پر عمل ہو جائے، کوئی ایسی صورت نکلے کہ سب پر کیا ہو جائے؟ عمل۔ جہاں صورت ہی نہیں ہوتی وہاں مجبورا چھوڑنا پڑتا ہے، ایک راستے کو اختیار کرنا پڑتا ہے، سمجھ رہے ہیں؟ تو ایک راستے کو اختیار کرنا پڑتا ہے اور ایک راستے کو، لیکن ہمارے پاس قران سے بھی دلائل، احادیث سے بھی دلائل، اجماع وغیرہ سے بھی دلائل اور اسی طرح قیاس سے بھی دلائل، تو قیاس وغیرہ کی طرف تو ہم تب جاتے ہیں جب ضرورت، بے انتہا ضرورت پڑ جائے، ویسے ہم قیاس کی طرف جاتے ہی نہیں ہیں بھئی۔ تو یہ تو یہ دین یہاں تک اسی اسی... اور پھر یاد رکھیے صحابہ کا واسطہ بڑا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے حدیث کے اندر یہ ایا ہے، احناف اس طرح کیوں نہیں کرتے؟ بھئی دیکھیے، ہمیں صحابہ کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ حضور علیہ السلام پر تئیس سال کے عرصے میں یہ پورا دین اترا ہے، یہ پورا قران اترا ہے، احکامات نازل ہوئے ہیں، تو احکام میں تبدیلی اتی رہی ہے، جیسے ابتدا میں شراب حلال تھی اور پھر کیا ہوئی؟ حرام۔ اب اگر وہ صرف ابتدا والے حکم کو کوئی لے لے تو کوئی کوئی اس کو تسلیم کرے گا؟ کوئی بھی اس کو تسلیم نہیں کرے گا کہ یہ تو ابتدا میں حلال تھی، بعد میں کیا کر دی گئی؟ حرام، تو اخری حکم کا اعتبار ہوتا ہے، اخر میں کیا کیا گیا بھئی؟ تو اسی طرح ہم کوشش کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے اخری فعل کو لیں، اخ یعنی اخری فعل اور جو کسی عذر وغیرہ کی وجہ سے نہ ہو بھئی، اخری فعل پر عمل کیا جائے، اخری احکامات پر عمل کیا جائے، اور پھر صحابہ کا واسطہ بڑا ضروری بھئی۔ صحابہ نے حضور علیہ السلام سے سیکھا تو ان کو بھی پتہ تھا یہ احکام بدل رہے ہیں، اب حکم یوں ہوا اب یوں ہوا، تو اب جو اخری حالت معلوم ہوا حضور علیہ السلام کے انتقال کے بعد جب صحابہ عمل کر رہے ہیں معلوم ہوا یہ حضور علیہ السلام کا اخری بتلایا ہوا طریقہ ہے، اس پر یہ چل رہے ہیں، پھر خصوصا خلفائے راشدین بھئی، خصوصا کون؟ خلفائے راشدین بھئی، وہ ایک عمل کر رہے ہیں، ان کی تو ان کی تو ساری زندگی حضور علیہ السلام کے ساتھ گزری ہے، وہ ایک عمل نہیں کر رہے۔ حدیث میں ایک عمل ا رہا ہے اور ہم ان کو دیکھتے ہیں وہ اس عمل کو نہیں کر رہے، معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی یہ حکم بدل چکا، یہ حکم کیا ہے؟ بدل چکا ہے۔ بہت سی ایسی چیزیں اپ کو ملیں گی کہ اپ احادیث میں اپ کو ان کا ذکر ملے گا لیکن اپ دیکھتے ہیں تو خلفائے راشدین اس پر عمل نہیں کر رہے، یہ کتنی واضح دلیل ہے کہ معلوم ہوا یہ عمل کیا ہے؟ یہ اس کو یہ بدل چکا، حضور علیہ السلام نے اس طرح کیا ہے لیکن پھر اخر میں اس کو کیا کر دیا ہے؟ چھوڑ دیا ہے، وہ اخری طریقہ اپ کا یہ نہیں، اخری طریقہ وہ ہے جس پر کون عمل کر رہے ہیں؟ خلفائے راشدین، کیونکہ خلفائے راشدین وہ حضور علیہ السلام کے بتلائے ہوئے راستے سے ایک سوئی کی نوک کے برابر بھی ادھر ادھر ہلنا پسند نہیں کرتے، کر سکتے بھئی، صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو لہٰذا احناف پر یہ اعتراض کرنا کہ حدیث میں یہ ایا ہے اور اپ یہ عمل نہیں کرتے، تو ہاں وہاں جہاں بہت سے جوابات دیے جاتے ہیں وہاں ایک یہ بھی جواب دیتے ہیں کہ بھئی خلفائے راشدین کا یہ عمل نہیں ہے، معلوم ہوا اس حدیث کے اندر یا تو کوئی تاویل وغیرہ ہے یا یہ پہلے والا حکم ہے جو بعد میں کیا کر دیا گیا؟ منسوخ کر دیا گیا۔ یا اسی طرح یہ بھی دلیل ذکر کی جاتی ہے کہ احناف کو کہا جاتا ہے اپ اس حدیث پر عمل نہیں کرتے، تو ہم کہتے ہیں بھئی یہ حدیث کس صحابی کی ہے؟ فلاں صحابی کا نام ذکر ہوتا ہے حدیث میں فلاں کی ہے، ہم کہتے ہیں ان کا اپنا عمل دیکھو وہ اس حدیث کے خلاف ہے۔ جو روایت کرنے والا ہے وہ حدیث کو روایت کر رہا ہے لیکن عمل حدیث کے خلاف ہے، معلوم ہوا خود اس صحابی کے نزدیک بھی یہ حکم بدل چکا ہے، حدیث تو انہوں نے نقل کر دی ہے لیکن ان کو علم ہے کہ حکم بدل چکا ہے، اسی لیے اس پر خود عمل نہیں کر رہے، صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی یہ، تو یہ ان سب کی محنتیں ہیں اور یہ ان باتوں کو فقہاء ہی صحیح طور پر دین کے معنی کو، محدثین نے احادیث روایت کیں اور فقہاء نے دین کے معنی کو سمجھا، تو دونوں طبقے ضروری دین کی حفاظت کے لیے، سمجھ میں ایا؟ تو حدیث کے معنی کیا ہیں وہ معنی فقہاء سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا، اور حدیث کو روایت کیا اور محفوظ اور حفاظت کر کے اگے نقل کیا وہ کام محدثین سے بہتر کسی نے نہیں کیا بھئی، تو یہ سب سب جو ہیں یہ مبارک لوگ ہیں اور انہوں نے اسی طرح دین کو ہم تک پہنچایا ہے، اللہ ان سب کے کروڑہا درجات بلند فرمائے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 50 of 82