وَشَعْرُ الْمَيْتَةِ وَعَظْمُهَا طَاهِرٌ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى نَجِسٌ لِأَنَّهُ مِنْ أَجْزَاءِ الْمَيْتَةِ، وَلَنَا أَنَّهُ لَا حَيَاةَ فِيهِمَا وَلِهٰذَا لَا يَتَأَلَّمُ بِقَطْعِهِمَا فَلَا يَحُلُّهُمَا الْمَوْتُ إِذِ الْمَوْتُ زَوَالُ الْحَيَاةِ، وَشَعْرُ الْإِنْسَانِ وَعَظْمُهُ طَاهِرٌ۔
گزشتہ سبق میں آخر میں یہ بحث آئی تھی کہ جس کھال کو بھی دباغت دے دی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے، اس میں نماز پڑھنا یا اس کے اندر رکھے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے، سوائے خنزیر کے اور آدمی کی کھال کے۔
اب اسی سے ساتھ اور اجزا مردار کے جو ہیں ان کے بارے میں بتلا رہے ہیں کہ وہ پاک ہیں یا پاک نہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: وَشَعْرُ الْمَيْتَةِ وَعَظْمُهَا طَاهِرٌ اور مردار کے بال وَعَظْمُهَا اور اس کی ہڈیاں طَاهِرٌ وہ پاک ہیں بھئی۔ مردار کے بال اور ہڈی پاک ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ نَجِسٌ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ناپاک ہیں، لِأَنَّهُ مِنْ أَجْزَاءِ الْمَيْتَةِ کیونکہ وہ مردار کے اجزا میں سے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ دلیل کیا دیتے ہیں کہ یہ مردار کے اجزا ہیں لہٰذا یہ بھی اس کی طرح ناپاک ہیں۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّهُ لَا حَيَاةَ فِيهِمَا ہم کہتے ہیں کہ ان کے اندر زندگی نہیں ہے۔ یہ بالوں میں اور ہڈی کے اندر زندگی نہیں ہے، وَلِهٰذَا لَا يَتَأَلَّمُ بِقَطْعِهِمَا اسی وجہ سے وہ حیوان جو ہے وہ تکلیف نہیں محسوس کرتا ان کے کاٹنے کی وجہ سے۔ جس جاندار کے بھی بھئی ہڈی اور کھال ہے اس میں زندگی نہیں، ہڈی جیسے یہ ناخن ہے بھئی ناخن، یہ بھی ہڈی ہے۔ اب اس کو کاٹا جائے یا ان کے بالوں کو کاٹا جائے، ان کو تکلیف نہیں ہوتی معلوم ہوا ان کے اندر زندگی نہیں ہے۔ جب زندگی نہیں تو معلوم ہوا یہ میتہ نہیں مردار نہیں بھئی، کیونکہ زندگی ہوتی اور پھر ختم ہوتی تو کیا کہا جاتا اس کو؟ مردار۔ تو اسی وجہ سے یہ تکلیف نہیں ہوتی ان کو بِقَطْعِهِمَا ان کے کاٹنے سے فَلَا يَحُلُّهُمَا الْمَوْتُ تو موت ان میں داخل نہیں ہوتی، ان میں سرایت نہیں کرتی إِذِ الْمَوْتُ زَوَالُ الْحَيَاةِ کیونکہ موت جو ہے وہ تو زوالِ حیات کا نام ہے۔ زندگی کا ختم ہو جانا اس کا نام موت ہے اور ان بالوں کے اندر اور ہڈی کے اندر تو زندگی ہے ہی نہیں بھئی۔ تو ہڈی جیسے ناخن ہیں بھئی اور اسی طرح حیوان کے سینگ وغیرہ بھئی یہ بھی کیا ہے؟ ہڈی ہے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک مردار کے بال اور ہڈی پاک ہے بھئی پاک ہے۔ لہٰذا یہ پانی میں گریں گے تو پانی نجس نہیں ہو گا یا یہ ساتھ رکھے ہوئے ہیں اور نماز پڑھی تو اس صورت میں نماز ہو جائے گی کیونکہ یہ نجس ہیں ہی نہیں بھئی۔
وَشَعْرُ الْإِنْسَانِ وَعَظْمُهُ طَاهِرٌ اور انسان کے بال اور اس کی ہڈی پاک ہے ہمارے نزدیک۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ نَجِسٌ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نجس ہیں، انسان کے بال اور ہڈی بھی نجس ہیں۔ لِأَنَّهُ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ وَلَا يَجُوزُ بَيْعُهُ دلیل ان کی یہ کیونکہ ان کے ذریعے نفع نہیں اٹھایا جاتا، شریعت نے ان سے نفع اٹھانے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی ان کی بیع کرنا جائز ہے۔ معلوم ہوا یہ پاک نہیں نجس ہیں بھئی، اسی لیے شریعت ان کی بیع سے اور ان سے نفع اٹھانے سے منع کرتی ہے۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ أَنَّ عَدَمَ الِانْتِفَاعِ وَالْبَيْعِ لِكَرَامَتِهِ کہ ان سے جو ان سے نفع نہ اٹھانا ہے اور ان کی بیع نہ ہونا ہے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی، لِكَرَامَتِهِ وہ کس وجہ سے ہے؟ وہ اس کے انسان کی کرامت اس کی عزت کی وجہ سے ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ فَلَا يَدُلُّ عَلَى نَجَاسَتِهِ تو یہ اس کے نجاست پر دلالت نہیں کرتے۔ بیع کا جائز نہ ہونا اور ان سے انتفاع کا جائز نہ ہونا یہ ان چیزوں کے نجس ہونے پر دلالت نہیں کرتے بھئی۔
فَصْلٌ فِي الْبِئْرِ یہ فصل ہے کنویں کے بارے میں یعنی کنویں کے بیان میں۔ کنویں کے مسائل، ان کا حکم، کنویں کے پانی کا حکم چونکہ ماقبل میں پانی وغیرہ کا ذکر چل رہا تھا تو کنویں کے پانی میں نجاست وغیرہ گر پڑے تو اس کا حکم چونکہ مختلف ہے تو اس کو صاحبِ ہدایہ علیحدہ فصل میں باقاعدہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ تو فرماتے ہیں: فَصْلٌ فِي الْبِئْرِ یہ فصل ہے کنویں کے بارے میں۔ وَإِذَا وَقَعَتْ فِي الْبِئْرِ نَجَاسَةٌ نُزِحَتْ وَكَانَ نَزْحُ مَا فِيهَا مِنَ الْمَاءِ طَهَارَةً لَهَا بِإِجْمَاعِ السَّلَفِ اور جب گر پڑے کنویں کے اندر کوئی نجاست نُزِحَتْ تو اس کو نکالا جائے گا۔ نزح کے معنی نکالنے کے۔ اس کنویں کو نکالا جائے گا یعنی اس کے پانی کو نکالا جائے گا بھئی، یعنی اس کو خالی کیا جائے گا، کیا کیا جائے گا؟ خالی۔ وَكَانَ نَزْحُ مَا فِيهَا مِنَ الْمَاءِ اور اس میں سے پانی کا نکالنا جو ہے طَهَارَةً لَهَا یہ اس کے لیے پاکی ہے۔ اس سے پانی نکال دیں گے تو کنواں کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا بِإِجْمَاعِ السَّلَفِ سلف کے اجماع سے بھئی۔ سلف کا اس بات پر یعنی صحابہ اور تابعین وغیرہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ کنویں سے پانی، نجاست گر پڑی اور اس کا سارا پانی نکال دیا جائے تو کنواں پاک ہو جائے گا، یعنی اس کی دیواروں وغیرہ کو دھونے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے پانی نکالیں گے تو کنواں بھی پاک ہو گیا، اس کی دیواریں وغیرہ بھی پاک ہو گئیں، اسی طرح وہ رسی اور ڈول جس کے ذریعے پانی نکالا گیا وہ بھی پاک ہو گئے، ان کو علیحدہ دوبارہ سے دھونے کی ضرورت بھی نہیں ہے بھئی۔ بس یہ پانی کا نکال دینا ہی یہ کنویں کی پاکی ہے بھئی، اور اس پر تمام صحابہ اور تابعین وغیرہ کا اجماع ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں بِإِجْمَاعِ السَّلَفِ سلف کے اجماع سے، بزرگوں کے اجماع سے۔
وَمَسَائِلُ الْبِئْرِ مَبْنِيَّةٌ عَلَى اتِّبَاعِ الْآثَارِ دُونَ الْقِيَاسِ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کنویں کے جو مسائل ہیں ان کی بنیاد اتباعِ آثار پر ہے بھئی، اتباعِ آثار پر ہے، دُونَ الْقِيَاسِ نہ کہ قیاس پر۔ یعنی کنویں کے جو مسائل بیان ہوں گے اور ذکر کیے جائیں گے یہ سارے اتباعِ آثار پر مبنی ہیں، احادیث وغیرہ میں اور بزرگوں سے جس طرح منقول ہے، اس میں قیاس وغیرہ کا دخل نہیں ہے بھئی۔ بھئی صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ کنویں کے جو مسائل ہیں ان کی بنیاد اتباعِ آثار پر ہے نہ کہ قیاس پر۔ تو یہاں دو صورتیں ہیں بھئی دو صورتیں کہ کنواں، وہ کنواں جو ہے وہ یا تو اس میں ماء قلیل ہو گا یا ماء کثیر ہو گا۔ یعنی یا وہ کنواں بڑا ہو گا یا چھوٹا ہو گا۔ اگر وہ کنواں دہ در دہ سے کم ہے تو چھوٹا ہے اور اگر دہ در دہ کے برابر یا اس سے بڑا ہے تو وہ ماء کثیر ہے۔ تو اگر تو وہ ماء کثیر ہے اس میں پھر تو نجاست کے گرنے سے اس کو نجس ہونا ہی نہیں چاہیے۔ نجاست کے گرنے سے اس کو نجس ہونا ہی نہیں چاہیے، حالانکہ یہاں کیا بتلایا جا رہا ہے کہ کنویں میں جب نجاست گر پڑے تو اس کو کیا کیا جائے گا؟ خالی کیا جائے گا پانی کو اس کے، سارا پانی کو نکالا جائے گا بھئی۔ تو حالا یا اسی طرح اگر کنواں ماء جاری والا ہے تو یعنی چشمے والا ہے تو پھر تو کنویں سے پانی نکالتے جائیں نیچے سے اور پانی مسلسل آتا رہتا ہے تو یہ تو ماء جاری کی طرح ہوا اور ماء جاری کے اندر بھی آپ نے پڑھا نجاست گرے تو وہ نجس نہیں ہوتا الّا یہ کہ پانی کے اندر اس نجاست کا اثر ظاہر ہو جائے بھئی، اثر ظاہر ہو جائے۔ تو لہٰذا قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اگر ماء کثیر والا کنواں ہے تو اس کو تو نجس ہونا ہی نہیں چاہیے۔ اور اگر ماء قلیل ہے کنویں کے اندر وہ دہ در دہ سے کم ہے کنواں تو پھر اس صورت میں نجاست کے گرنے سے سارا پانی بھی نجس اور کنویں کی دیواریں اور مٹی گارا وغیرہ سب نجس ہو گیا تو پھر تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ اب یہ کنواں تا قیامت پاک ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اب وہ دیواریں بھی نجس ہو گئیں، وہ گارا بھی کیا ہو گیا؟ نجس ہو گیا۔ تو جب اگر آپ سارا پانی نکال بھی لیں، سارا پانی، تو بھی وہ پانی وہ دیواریں کیا ہیں؟ نجس ہیں بھئی، اور پانی بھی آئے گا تو وہ انہی کے ساتھ ملے گا تو وہ کیا ہو جائے گا؟ نجس۔ اس کو بھی نکال دیں تو پھر اور پانی آئے گا تو یہ بھی نجس تھا اب اور جو پانی آئے گا وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ کیونکہ دیواریں نجس ہیں اور مٹی نجس ہے بھئی۔ تو تا قیامت بھی وہ پھر پاک نہیں ہو، تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا تھا کہ اگر ماء قلیل ہو پھر تو کنویں کو، پھر تو کنواں تا قیامت پاک ہو ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ اسی لیے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ کنویں کے مسائل جو ہیں ان کی بنیاد اتباعِ آثار پر ہے، قیاس پر ان کی بنیاد نہیں ہے بھئی۔ آثار احادیث بھئی احادیث، احادیث پر ان کی بنیاد ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں نے بتلایا تھا حدیث کے کئی نام ہیں خبر، اثر، سنت، حدیث بھئی۔ تو آثار جمع ہے اثر کی، احادیث مراد ہیں بھئی احادیث۔ تو کہتے ہیں: وَمَسَائِلُ الْبِئْرِ مَبْنِيَّةٌ عَلَى اتِّبَاعِ الْآثَارِ دُونَ الْقِيَاسِ اور کنویں کے مسائل جو ہیں وہ مبنی ہیں آثار کے اتباع پر نہ کہ قیاس پر۔
فَإِنْ وَقَعَتْ فِيهَا بَعْرَةٌ أَوْ بَعْرَتَانِ مِنْ بَعْرِ الْإِبِلِ أَوِ الْغَنَمِ لَمْ تُفْسِدِ الْمَاءَ اسْتِحْسَانًا۔ فَإِنْ وَقَعَتْ فِيهَا بَعْرَةٌ أَوْ بَعْرَتَانِ، بَعْرَةٌ بھئی مینگنی، مینگنی، بکری کا فضلہ جو ہے۔ فَإِنْ وَقَعَتْ فِيهَا بَعْرَةٌ أَوْ بَعْرَتَانِ اگر گر پڑے کنویں کے اندر ایک یا دو مینگنیاں مِنْ بَعْرِ الْإِبِلِ اونٹ کی مینگنیوں میں سے أَوِ الْغَنَمِ غنم کا معنی ہے بھیڑ بکری بھئی۔ یہ دونوں جنسوں کو شامل ہے، بکری کی جنس کو بھی اور بھیڑ کی جنس کو بھی، تو غنم سے یہ دونوں مراد ہوتے ہیں۔ اسی طرح شَاة کا لفظ بھی عبارتوں میں آتا ہے اور اس کا عموماً ترجمہ بکری کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیے شَاة صرف بکری کو نہیں کہتے، شَاة بھی غنم کی طرح یہ بھیڑ اور بکری دونوں جنسوں پر بولا جاتا ہے بھئی۔ تو شَاة کا لفظ جہاں بھی آئے وہاں آپ نے اس کا ترجمہ بکری کے ساتھ نہیں کرنا بلکہ بھیڑ بکری کے ساتھ کریں تاکہ واضح پتہ چلے کہ دونوں مراد ہیں۔ تو اگر کنویں میں گر پڑے ایک یا دو مینگنیاں مِنْ بَعْرِ الْإِبِلِ اونٹ کی مینگنیوں میں سے أَوِ الْغَنَمِ یا بھیڑ بکریوں کی مینگنی میں سے لَمْ تُفْسِدِ الْمَاءَ تو یہ پانی کو فاسد نہیں کریں گے اسْتِحْسَانًا تو یہ استحساناً پانی کو فاسد نہیں کریں گے۔ وَالْقِيَاسُ أَنْ تُفْسِدَهُ اور قیاس تو یہ ہے کہ یہ فاسد کر دیں گے لِوُقُوعِ النَّجَاسَةِ فِي الْمَاءِ الْقَلِيلِ اس وجہ سے کہ نجاست گری ہے ماء قلیل کے اندر بھئی۔ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس پانی کو کیا ہو جانا چاہیے؟ نجس ہو جانا چاہیے کیونکہ ماء قلیل کے اندر نجاست گری ہے بھئی۔ لیکن استحساناً کیا حکم لگایا گیا کہ پانی ناپاک نہیں ہو گا۔ اور یہ جو آیا ایک یا دو مینگنیاں گر پڑیں بھئی یاد رکھیے اس سے عدد مراد نہیں ہے ایک یا دو ہی مراد ہوں بلکہ قلیل ہیں، کیا مراد ہیں؟ قلیل مینگنیاں ہیں، آگے کیونکہ آگے کثیر کا ذکر آئے گا بھئی تو یہ اس کے مقابلے میں ہے اور بتلائیں گے بھئی آپ کو کہ قلیل اور کثیر امام صاحب کے نزدیک جس کو دیکھنے والا قلیل سمجھے وہ قلیل ہیں، جس کو دیکھنے والا کثیر سمجھے وہ کثیر ہیں بھئی۔
اچھا بھئی یہاں پر استحسان کا ذکر آیا، استحسان۔ یاد رکھیے استحسان اس شرعی دلیل کو کہا جاتا ہے جو قیاس کے مقابلے میں جو بھی دلیل آئے متفق علیہ دلیل اس کو استحسان کہا جاتا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں قیاس ہونا چاہیے بھئی۔ جیسے بھئی ابھی وضو کے مسئلے کے اندر آپ نے پڑھا بھئی۔ وضو کے مسئلے میں آپ نے پڑھا کہ قیاس تو یہ چاہتا ہے کہ بدن سے جہاں سے نجاست خارج ہوئی ہے اسی حصے کو دھونا چاہیے اور اسی کو پاک کرنے کا حکم ہو، لیکن قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ قرآن میں وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے بھئی۔ تو دیکھیے یہ حکم خلافِ قیاس ہوا تو اس کے مقابلے میں قیاس ہے تو یہ اور عمل کس پر ہے؟ قیاس پر یا قرآن پر عمل ہے؟ قرآن پر عمل ہے۔ تو بس جو بھی متفق علیہ دلیل ہو چاہے قرآن ہو، چاہے حدیث ہو، چاہے اجماع ہو اور اس کے مقابلے میں قیاس ہو، قیاس دوسری بات کا تقاضا کر رہا ہو، تو یہ جو متفق علیہ دلیل ہے جس پر سب کا اتفاق ہے اس کو استحسان کہا جاتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ چاہے کیا ہو؟ قرآن ہو، چاہے کیا ہو؟ حدیث ہو، چاہے اجماع ہو، اس کو استحسان کہیں گے بھئی استحسان، جبکہ اس کے مقابلے میں قیاس ہو بھئی۔
لیکن زیادہ تر اس استحسان کا اطلاق جو ہے وہ قیاسِ خفی پر ہوتا ہے، قیاسِ خفی پر۔ یاد رکھیے قیاس دو قسم پر ہے: ایک قیاسِ جلی ہے، جلی جو ظاہر ہو ظاہر، اور ایک قیاسِ خفی ہے۔ قیاسِ خفی جو ذرا گہرا ہو بھئی۔ قیاسِ جلی جس کی طرف فوراً ذہن چلا جاتا ہے اور قیاسِ خفی جس میں بات ذرا گہری ہو بھئی فوراً ذہن نہیں جاتا، کچھ غور و فکر کرنا پڑتا ہے پھر وہاں تک ذہن پہنچتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ خفی بھئی اور وہ اس کو استحسان کہا جاتا ہے۔ تو دیکھیے اس کے مقابلے میں بھی قیاس ہے۔ دلیل کے مقابلے میں استحسان تب ہی کہیں گے جب مقابلے میں کیا ہو؟ قیاس ہو بھئی قیاس ہو۔ اگر قیاس مقابلے میں نہیں ہے تو پھر اس کو استحسان بھی نہیں کہیں گے اگرچہ گہری بات ہی کیوں نہ ہو بھئی۔ تو قیاسِ خفی یعنی استحسان اسی کو دلیل کو کہیں گے جس کے مقابلے میں قیاسِ جلی ہو بھئی قیاسِ جلی۔ اور استحسان کو ہمیشہ ترجیح ہوتی ہے قیاسِ جلی پر بھئی۔ علماء فرماتے ہیں کہ صرف بیس بائیس مسائل ایسے ہیں جن کے اندر قیاس کو ترجیح ہے استحسان پر، باقی تمام جگہوں پر استحسان کو ترجیح ہوتی ہے کس پر؟ قیاس پر ترجیح ہوتی ہے بھئی ترجیح ہوتی ہے۔
اور استحسان کا معنی بھی ہے پسندیدہ، پسندیدہ۔ تو اس کے استحسان سے کا جو حکم ہو گا وہ پسندیدہ ہو گا، اس میں عوام کے لیے آسانی ہو گی، لوگوں کے لیے اس میں آسانی ہو گی۔ جب آسانی ہے تو پھر پسندیدہ ہوا بھئی پسندیدہ ہوا۔ چنانچہ آپ نے ابھی پڑھا بھئی کہ ایک دو مینگنیاں گر پڑیں تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے پانی کو کیا قرار دینا چاہیے؟ نجس قرار دینا چاہیے، لیکن استحساناً اس کو پاک قرار دیا گیا۔ اب آپ بتائیے کس کے اندر آسانی زیادہ ہے؟ استحسان کے اندر، دیکھو یہ پسندیدہ ہوتا ہے، اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہوتی ہے بھئی۔ اور میں نے بتایا ایک دو مینگنیوں سے قلیل مینگنیاں مراد ہیں، یہ عدد ہی نہیں مراد بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَالْقِيَاسُ أَنْ تُفْسِدَهُ لِوُقُوعِ النَّجَاسَةِ فِي الْمَاءِ الْقَلِيلِ اور قیاس تو یہ ہے کہ وہ اس پانی کو فاسد کر دیں لِوُقُوعِ النَّجَاسَةِ فِي الْمَاءِ الْقَلِيلِ بوجہ گر جانے نجاست کے ماء قلیل کے اندر، وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ استحسان کی وجہ یہ ہے أَنَّ آبَارَ الْفَلَوَاتِ، آبَار جمع ہے بِئْر کی، فَلَوَات جمع ہے فَلَاة کی بھئی، فلاۃ کہتے ہیں بیابان کو بھئی، جنگل بیابان بھئی، کہ بیابانوں کے جو کنویں ہوتے ہیں لَيْسَتْ لَهَا رُءُوسٌ حَاجِزَةٌ، رُءُوس سرے، حَاجِزَةٌ رکاوٹ، حاجز کسے کہتے ہیں؟ رکاوٹ، مانع۔ اس لیے کیونکہ بیابانوں کے جو کنویں ہوتے ہیں ان کے کوئی رکاوٹ والے سرے رکاوٹ والے سر نہیں ہوتے یعنی ان کے اوپر کوئی منڈیر وغیرہ یا کوئی دیوار وغیرہ ان کے کناروں پر نہیں بنی ہوتی، تو وَالْمَوَاشِي تَبْعَرُ حَوْلَهَا اور مویشی جو ہیں مینگنیاں کر دیتے ہیں اس کے ارد گرد بھئی۔ جنگلات، جنگل بیابان میں مویشی چر رہے ہیں تو اس کنویں وغیرہ کی کوئی دیوار بھی نہیں تو وہ وہاں پر مویشی چرتے ہوئے کیا کر دیتے ہیں؟ مینگنیاں وہاں کر ہی دیتے ہیں فَتُلْقِيهَا الرِّيحُ فِيهَا تو ڈال دیتی ہے آندھی ان کو، ان مینگنیوں کو فِيهَا اس کنویں کے اندر۔ یاد رکھیے ایک ہے رِیح لفظ عربی میں، ایک ہے رِیاح بھئی۔ یہ جو نرم اور آہستہ اور خوشگوار ہوا چلتی ہے اس کے لیے عربی میں رِیَاح کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور رِیح کا لفظ یہ ہلکی ہوا کے لیے نہیں عام استعمال ہوتا، وہ یہ آندھی وغیرہ جو تیز ہوا ہے اس کو رِیح کہا جاتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا وہ مویشی اس کے کنویں کے گرد چرتے ہیں اور مینگنیاں کر دیتے ہیں فَتُلْقِيهَا الرِّيحُ فِيهَا تو وہ تیز ہوا ان مینگنیوں کو اس کنویں میں ڈال جا ڈال دیتی ہے، تو فَجُعِلَ الْقَلِيلُ عَفْوًا لِلضَّرُورَةِ تو قلیل مقدار کو معاف قرار دیا گیا لِلضَّرُورَةِ بناء بر ضرورت کے۔ ضرورت ہے بھئی، وہ مینگنیاں وہ کر دیتے ہیں اور ہوا اس میں ڈال دیتی ہے کنویں کے اندر تو اگر نجس ہونے کا حکم لگایا جائے تو لوگ تو بڑی مشکل میں پڑ جائیں گے بھئی کیونکہ ایک دو مینگنیاں، دو چار مینگنیاں تو ضرور اس کے اندر ہوا گرا ہی دے گی بھئی۔ تو اس میں ضرورت کی بناء پر اس کو معاف قرار دیا گیا، وَلَا ضَرُورَةَ فِي الْكَثِيرِ اور کثیر میں ضرورت نہیں ہے بھئی، اس میں ضرورت نہیں کیونکہ کثیر تو کبھی ہی ہو گا ایسا کہ کثیر گر پڑیں، عموماً قلیل ہی گرتی ہیں۔
اب قلیل یا کثیر کسے کہتے ہیں؟ کثیر کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ مَا يَسْتَكْثِرُهُ النَّاظِرُ إِلَيْهِ وہ مقدار يَسْتَكْثِرُهُ کہ جس کو کثیر سمجھے النَّاظِرُ إِلَيْهِ اس کی طرف دیکھنے والا، یعنی جس کو ایسے پانی کے استعمال سے واسطہ پڑا ہے جو اس کی طرف دیکھنے والا ہے، وہ دیکھ رہا ہے کنویں کے اندر چند مینگنیاں گری ہوئی ہیں تو اگر وہ ان کو کثیر سمجھتا ہے تو یہ کیا ہیں؟ کثیر ہیں، تو پانی کے نجس ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ اور اگر وہ مینگنیاں قلیل ہیں اس کی نگاہوں میں اور اس کی نظر میں تو ان کو کیا سمجھا جائے گا؟ قلیل سمجھا جائے گا اور وہ پانی کیا ہو گا؟ پاک ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ مَا يَسْتَكْثِرُهُ النَّاظِرُ إِلَيْهِ فِي الْمَرِوِيِّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور کثیر وہ ہے کہ جس کو دیکھنے سے اس کی طرف دیکھنے والا اس کو کثیر سمجھے فِي الْمَرِوِيِّ اس قول اس قول کے اندر جو روایت کیا گیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، وَعَلَيْهِ الِاعْتِمَادُ اور اسی قول پر کیا ہے؟ اسی قول پر اعتماد ہے بھئی، یعنی فقہاء نے اسی پر اعتماد کیا ہے اور اسی پر فتویٰ دیتے ہیں۔
وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ وَالصَّحِيحِ وَالْمُنْكَسِرِ وَالرَّوْثِ وَالْخَثَى اور کوئی فرق نہیں ہے بَيْنَ الرَّطْبِ، رَطْب کا معنی تر بھئی تر، جو گیلی ہو خشک نہ ہو۔ يَابِس کا معنی خشک بھئی۔ صَحِيح کا معنی جو مینگنی ٹوٹی ہوئی نہیں بھئی سالم ہے۔ مُنْكَسِر کا معنی ٹوٹی ہوئی بھئی۔ رَوْث کہتے ہیں رَوْث یہ گھوڑے گدھے کا جو فضلہ ہے یعنی لید بھئی لید۔ خَثَى اس کو خَثَى پڑھنا بھی صحیح اور خِثْيٌ بھئی خِثْيٌ، یعنی ثا کو ساکن پڑھیں، وَالرَّوْثِ وَالْخِثْيِ، يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، تو چاہے اس طرح پڑھیں وَالرَّوْثِ وَالْخَثَى یا اس طرح پڑھ لیں وَالرَّوْثِ وَالْخِثْيِ۔ تو رَوْث وہ میں نے بتایا گھوڑے اور گدھے وغیرہ کا فضلہ، اور خَثَى جو ہے یا خِثْيٌ جو ہے یہ گائے بیل وغیرہ کا جو فضلہ ہے یعنی گوبر بھئی گوبر، اور بَعْر مینگنی بھئی یہ بکری یا اونٹ وغیرہ کا جو فضلہ ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ان سب کا یہی حکم ہے، ان میں فرق نہیں ہے: وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ اور کوئی فرق نہیں ہے تر اور خشک کے اندر وَالصَّحِيحِ وَالْمُنْكَسِرِ اور سالم اور ٹوٹی ہوئی میں وَالرَّوْثِ وَالْخَثَى اور لید میں اور گوبر میں وَالْبَعْرِ اور مینگنی میں، ان میں کوئی فرق نہیں سب کا یہی حکم ہے لِأَنَّ الضَّرُورَةَ تَشْمَلُ الْكُلَّ اس لیے کیونکہ ضرورت سب کو شامل ہے، سب میں یہ حاجت ہے بھئی کہ یہ مویشی کیا کریں گے؟ وہاں پر گوبر وغیرہ کریں گے اور ہوا کچھ نہ کچھ اڑا کر پانی میں ڈال دے گی۔
وَفِي شَاةٍ تَبْعَرُ فِي الْمَحْلَبِ بَعْرَةً أَوْ بَعْرَتَيْنِ اور وہ اس بھیڑ بکری میں جو مینگنی کر دے فِي الْمَحْلَبِ، مَحْلَب کہتے ہیں وہ دودھ نکالنے کا برتن بھئی، جو مینگنی کر دے دودھ نکالنے کے برتن میں، کتنی مینگنی؟ بَعْرَةً أَوْ بَعْرَتَيْنِ ایک یا دو مینگنیاں یعنی قلیل بھئی، قَالُوا فقہاء فرماتے ہیں يُرْمَى الْبَعْرَةُ وَيُشْرَبُ اللَّبَنُ کہ مینگنی کو پھینک دیا جائے گا اور دودھ کو پی لیا جائے گا لِمَكَانِ الضَّرُورَةِ ضرورت کے ہونے کی وجہ سے بھئی۔ کس وجہ سے؟ ضرورت کے ہونے کی وجہ سے کہ اس میں ضرورت ہے بھئی۔ کیونکہ صحراؤں میں رہنے والے عموماً ان کے پاس ان کی خوراک ہی یہی دودھ وغیرہ ہوتا ہے اور دودھ نکالتے ہوئے جانور مینگنی کبھی کبھار عموماً کر ہی دیتے ہیں، تو اگر اس دودھ پر نجس ہونے کا حکم لگا دیا جائے تو وہ غریب غرباء تو بڑی مشکل میں پڑ جائیں گے بھئی، تو ضرورت اور حاجت کی بناء پر اس کو مقدار کو بھی فقہاء نے معاف قرار دیا ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں يُرْمَى الْبَعْرَةُ وَيُشْرَبُ اللَّبَنُ کہ مینگنی کو پھینک دیا جائے گا اور دودھ کو پی لیا جائے گا لِمَكَانِ الضَّرُورَةِ ضرورت ہونے کی وجہ سے، وَلَا يُعْفَى الْقَلِيلُ فِي الْإِنَاءِ اور معاف نہیں ہے قلیل برتن کے اندر۔ یہ تو وہ دودھ نکالنے والے برتن کا حکم بتایا، اس میں اگر ایک دو مینگنیاں گر جائیں قلیل تو وہ معاف ہیں، عام برتنوں کے اندر عام برتنوں میں کیا وہ بھی اس میں بھی قلیل مقدار معاف ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، وہاں ضرورت نہیں ہے۔ ان برتنوں کو تو ڈھانپ کر اور حفاظت سے رکھا جا سکتا ہے لیکن اس میں تو دودھ نکال رہے ہیں تو عین اسی وقت وہ مینگنی کر دیتی اور جانور کر دیتے ہیں اس وقت مینگنی تو وہ دودھ میں گرے گی تو اس میں ضرورت ہے، باقی برتنوں میں ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُعْفَى الْقَلِيلُ فِي الْإِنَاءِ عَلَى مَا قِيلَ اور قلیل مقدار معاف نہیں ہے برتنوں میں عَلَى مَا قِيلَ بوجہ اس قول کے جو کیا گیا ہے لِعَدَمِ الضَّرُورَةِ کیونکہ ضرورت نہیں ہے، وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ كَالْبِئْرِ فِي حَقِّ الْبَعْرَةِ وَالْبَعْرَتَيْنِ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یہ برتن جو ہیں، یہ برتن یہ بھی کنویں کی طرح ہے ایک یا دو مینگنیوں کے حق میں، یعنی ان میں بھی قلیل مقدار، عام برتنوں میں بھی قلیل مقدار معاف ہے بھئی۔
فَإِنْ وَقَعَ فِيهَا خُرْءُ الْحَمَامِ أَوِ الْعُصْفُورِ لَا يُفْسِدُهُ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى۔ فَإِنْ وَقَعَ فِيهَا اگر گر پڑے کنویں کے اندر خُرْءُ الْحَمَامِ کبوتر کی بیٹ، کبوتر کا فضلہ بھئی۔ خُرْءٌ کہتے ہیں پرندے کا جو فضلہ ہوتا ہے، پرندے کی بیٹ بھئی۔ فَإِنْ وَقَعَ فِيهَا خُرْءُ الْحَمَامِ اور اگر گر پڑے کنویں کے اندر کبوتر کی بیٹ أَوِ الْعُصْفُورِ یا چڑیا کی بیٹ لَا يُفْسِدُهُ تو وہ اس پانی کو فاسد نہیں کرے گی خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ کبوتر اور چڑیا کی بیٹ یہ بھی کیا کر دے گی؟ پانی کو فاسد کر دے گی، نجس کر دے گی۔ لَهُ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّهُ اسْتَحَالَ إِلَى نَتْنٍ وَفَسَادٍ فَأَشْبَهَ خُرْءَ الدَّجَاجَةِ، دَجَاجَة لفظ آیا بھئی، دَجَاجَة اس کے اندر دال پر فتحہ پڑھنا بھی جائز، ضمہ پڑھنا بھی جائز اور کسرہ پڑھنا بھی جائز: دَجَاجَةٌ، دُجَاجَةٌ، دِجَاجَةٌ بھئی۔ تو یہ تینوں حرکتیں دال پر یعنی فا کلمے پر جائز ہیں تو اس قسم کا لفظ اس کو مُثَلَّثُ الْفَاء کہا جاتا ہے بھئی جس میں فا پر تینوں حرکتیں جائز ہوں بھئی، مثلث الفاء۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر ہو رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ کبوتر اور چڑیا کی بیٹ یہ بھی پانی کو نجس کر دے گی، وہ فرماتے ہیں کہ حیوانات جو بھی غذا کھاتے ہیں اس میں دو صورتیں ہیں: کبھی وہ غذا اچھی صورت کی طرف بدل جاتی ہے اور کبھی وہی غذا بدبو اور فساد کی طرف بدل جاتی ہے، خراب ہو جاتی ہے بدبو آنے لگتی ہے بھئی۔ کیا چیز؟ وہ غذا جو حیوانات کھاتے ہیں۔ تو کبھی کبھار وہ غذا جو ہے بدبو اور فساد کی طرف بدل جاتی ہے جیسے پیشاب اور پاخانہ، یہ وہی غذا ہے لیکن کس کی طرف بدل گیا؟ بدبو اور فساد کی طرف۔ اور کبھی یہی غذا اچھی حالت کی طرف بدل جاتی ہے جیسے انڈا ہے بھئی۔ اب انڈا کیا ہے؟ یہ وہی خوراک وغیرہ مرغی نے کھائی اور اسی سے اس کے پیٹ میں کیا بن گیا؟ انڈا۔ یا جیسے شہد ہے بھئی، شہد کی مکھی نے خوراک کھائی اسی سے کیا بن گیا؟ شہد بن گیا اور یا اسی طرح دودھ ہے بھئی، یہ دودھ بھی کس سے بنا؟ غذا سے ہی بنا، غذا کھائی اور اس سے دودھ بن گیا، تو بعض اوقات غذا اچھی حالت کی طرف بدلتی ہے تو اس کے پاک ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں، وہ تو بالاتفاق سب کے نزدیک کیا ہے؟ پاک۔ جب غذا کس حالت کی طرف بدلے؟ اچھی حالت کی طرف۔ اور اگر غذا بدبو اور فساد کی طرف بدلے تو پھر وہ نجس ہو گی بھئی، کیا ہو گی؟ نجس ہو گی جیسے پیشاب اور پاخانہ ہے۔ تو فرماتے ہیں کہ یہاں پر بھی یہ جو کبوتر اور چڑیا نے بیٹ کی ہے یہ اسْتَحَالَ، استحَالَ کے معنی بدل جانا حالت کا، یہ بدل گئی ہے اس کی حالت إِلَى نَتْنٍ وَفَسَادٍ، نَتْن کہتے ہیں بدبو کو، فساد خرابی، یہ بدل گئی ہے بدبو اور خرابی کی طرف فَأَشْبَهَ خُرْءَ الدَّجَاجَةِ تو یہ مشابہ ہو گئی مرغی کی بیٹ کے، یہ عام گھریلو پالتو مرغی جو ہوتی ہے اس کے یہ مشابہ ہو گئی یہ بیٹ، اور مرغی کی بیٹ تو بالاتفاق نجس ہے لہٰذا اس کبوتر اور چڑیا کی بیٹ کو بھی کیا کہا جائے گا؟ نجس کہا جائے گا بھئی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ یہ غذا کس کی طرف بدلی ہے؟ بدبو اور فساد کی طرف، تو یہ کس کے مشابہ ہو گئی؟ مرغی کی بیٹ کے، کیونکہ وہ بھی کس کی طرف بدلی ہے؟ بدبو اور فساد کی طرف بدلی ہے اور وہ تو بالاتفاق کیا ہے؟ ناپاک ہے، تو یہ بھی اس کے مشابہ ہے تو اس کا بھی وہی حکم ہو گا، یہ بھی کیا ہو گی؟ ناپاک ہو گی بھئی۔
وَلَنَا اور ہماری دلیل جو ہے إِجْمَاعُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى اقْتِنَاءِ الْحَمَامَاتِ فِي الْمَسَاجِدِ اور ہماری دلیل جو ہے وہ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے عَلَى اقْتِنَاءِ الْحَمَامَاتِ، اِقْتِنَاء کا معنی ہے جمع کرنا، حاصل کرنا، مراد ہے رکھنا رکھنا، اور ہماری دلیل تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اس بات کس بات پر؟ عَلَى اقْتِنَاءِ الْحَمَامَاتِ کبوتروں کے رکھنے پر فِي الْمَسَاجِدِ کس کے اندر؟ مسجدوں میں مَعَ وُرُودِ الْأَمْرِ بِتَطْهِيرِهَا باوجود اس کے کہ حکم وارد ہوا ہے ان مسجدوں کے پاک کرنے کا۔ اگرچہ شریعت نے مسجدوں کو پاک کرنے اور پاک رکھنے کا حکم دیا ہے، نجاست والی چیزوں کو اس سے دور رکھنے کا حکم دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدا سے آج تک کبوتر وغیرہ مساجد میں آتے ہیں، بسیرا کرتے ہیں اور جب وہ آتے ہیں جاتے ہیں یقیناً بیٹ وغیرہ بھی کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کوئی بھی مسلمان ان کو روکتا نہیں ہے بھئی۔ معلوم ہوا تمام مسلمانوں کا ان کے آنے جانے پر اجماع ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس کی بیٹ پاک ہے، نجس نہیں ہے بھئی۔ اگر نجس ہوتی تو پھر یقیناً مسلمان اس کو روکتے، آنے نہ دیتے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَاسْتِحَالَتُهُ لَا إِلَى نَتْنِ رَائِحَةٍ فَأَشْبَهَ الْحَمْأَةَ اب جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا۔ انہوں نے اس کبوتر اور چڑیا کی بیٹ کو قیاس کیا تھا مرغی کی بیٹ پر اور وہ تو ناپاک تھی تو اس کو بھی کیا حکم دیا؟ ناپاکی کا حکم دے دیا۔ ہم کہتے ہیں کہ غذا جو ہے، غذا وہ اس کو ناپاک تب کہیں گے جب نتن اور فساد دونوں چیزیں اس میں ہوں۔ وہ غذا جب حالت بدل گئی اس میں بدبو بھی ہو اور فساد بھی ہو، فاسد بھی ہو جائے خراب بھی ہو جائے، تو پھر اس کو نجس کہا جائے گا نجس کہا جائے گا۔ لیکن یہاں کبوتر کی جو بیٹ ہے اور چڑیا کی بیٹ ہے اس وہ اس میں فساد تو ہے لیکن بدبو نہیں۔ اس میں بدبو نہیں، یعنی ایسی بدبو نہیں کہ جسے انسان محسوس کرے بھئی، کچھ نہ کچھ بدبو تو ہو گی لیکن عام بدبو اس میں زیادہ اس میں بدبو نہیں ہے یعنی گویا تقریباً ہے ہی نہیں بھئی، اتنی قلیل ہے۔ تو یہ غذا صرف فساد کی طرف بدلی ہے، اس میں بدبو نہیں، بدبو نہیں۔ اور صرف فساد کی وجہ سے اب نجس ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا بھئی جب تک اس میں بدبو بھی نہ آ جائے۔ تو اس میں صرف فساد ہے، صرف فساد ہے۔ تو یہ سیاہ سیاہ کیچڑ کے مشابہ ہو گئی۔ یہ بیٹ کس کے مشابہ ہے؟ حَمْأَةٌ لفظ آ رہا ہے حَمْأَةٌ، یاد رکھیے حَمْأَةٌ سیاہ کیچڑ کو کہتے ہیں، وہ کیچڑ جو کنویں وغیرہ کی تہہ میں ہوتا ہے۔ اب چونکہ وہ عرصے تک ہوتا ہے تہہ کے اندر لہٰذا آپ دیکھتے ہیں اس کا رنگ سیاہ پڑ جاتا ہے، سیاہ پڑ جاتا ہے۔ لیکن کیا وہ نجس ہے؟ کوئی اس کو نجس کہتا ہے؟ نہیں، وہ فساد تو اس کے اندر ہے لیکن بدبو نہیں اس لیے کوئی بھی اس کو خراب نہیں کہتا، تو یہ بیٹ بھی اس کے مشابہ ہو گئی کہ اس کے اندر فساد تو ہے لیکن نتن، بدبو نہیں ہے۔ لہٰذا اس کا بھی وہی حکم، اور وہ تو کسی کے نزدیک بھی ناپاک نہیں لہٰذا اس کو بھی ناپاک نہیں کہا جائے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے کبوتر وغیرہ کی بیٹ کو قیاس کیا تھا مرغی کی بیٹ پر اور اس کے نجس ہونے کا حکم لگایا تھا اور ہم نے کہا کہ اس کو کس پر قیاس کیا جائے گا؟ سیاہ کیچڑ پر، کالے کیچڑ پر قیاس کیا جائے گا جو پانی کے اندر نیچے ہوتا ہے اور عرصے تک رہنے کی وجہ سے سیاہ ہو جاتا ہے، اور وہ تو بالاتفاق پاک ہے تو یہ بھی کیا ہو گا؟ پاک ہو گا بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کبوتر اور چڑیا کی بیٹ کو قیاس کیا تھا مرغی کی بیٹ پر تو ہم کہتے ہیں کہ اس کو مرغی کی بیٹ پر قیاس نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پانی کی تہہ میں جو سیاہ کیچڑ ہوتا ہے اس پر قیاس کیا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ مرغی کی جو بیٹ ہے اس کے اندر فساد بھی ہے اور بدبو بھی ہے، جبکہ یہ کبوتر اور چڑیا کی بیٹ کے اندر فساد تو ہے لیکن بدبو نہیں، تو لہٰذا یہ اس کے مشابہ نہیں، البتہ یہ کنویں کی جو سیاہ مٹی ہوتی ہے کیچڑ ہوتا ہے اس کے مشابہ ہے کیونکہ اس کے اندر بھی کیا ہے؟ فساد تو ہے لیکن بدبو نہیں، تو یہ زیادہ کس کے مشابہ ہوا؟ مرغی کی بیٹ کے یا اس کالے کیچڑ کے؟ کالے کیچڑ کے زیادہ مشابہ ہوا، تو لہٰذا اس پر قیاس کرنا چاہیے اور اس کا حکم دینا چاہیے اور وہ تو بالاتفاق پاک ہے، لہٰذا اس کو بھی کیا قرار دینا چاہیے؟ پاک قرار دینا چاہیے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ کہتے ہیں: وَاسْتِحَالَتُهُ لَا إِلَى نَتْنِ رَائِحَةٍ اور اس کے حالت کا بدلنا لَا إِلَى نَتْنِ رَائِحَةٍ بدبو کے علاوہ کی طرف، یعنی بدبو اس میں نہیں، بدبو کے علاوہ کی طرف اس کی حالت کا بدلنا ہے فَأَشْبَهَ الْحَمْأَةَ تو یہ سیاہ کیچڑ کے مشابہ ہو گئی۔
فَإِنْ بَالَتْ فِيهَا شَاةٌ نُزِحَ الْمَاءُ كُلُّهُ پس اگر پیشاب کر دیا کنویں کے اندر شَاةٌ کس نے؟ بھیڑ بکری نے، پھر بکری کہہ رہے ہیں، بھیڑ بکری نے، ہاں۔ پس اگر پیشاب کر دیا کنویں کے اندر بھیڑ بکری نے نُزِحَ الْمَاءُ كُلُّهُ تو نکالا جائے گا سارا پانی عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک سارا پانی نکالا جائے گا بھئی۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَا يُنْزَحُ إِلَّا إِذَا غَلَبَ عَلَى الْمَاءِ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں پانی نہیں نکالا جائے گا إِلَّا إِذَا غَلَبَ عَلَى الْمَاءِ مگر یہاں تک کہ وہ پیشاب پانی پر غالب آ جائے۔ پانی پر پیشاب کیا آ جائے؟ غالب آ جائے، پھر نکالا جائے گا۔ فَيَخْرُجُ مِنْ أَنْ يَكُونَ طَهُورًا اس کو فَيَخْرُجُ بھی پڑھ سکتے ہیں، فَيُخْرِجُ بھی۔ فَيُخْرِجُ پڑھیں تو کیا ترجمہ ہو گا؟ کہ یہاں تک کہ پیشاب پانی پر غالب آ جائے فَيُخْرِجُ مِنْ أَنْ يَكُونَ طَهُورًا تو وہ نکال دے گا پانی کو طہور ہونے سے یعنی طہور کیا معنی؟ مطہر، مطہر ہونے سے نکال دے گا۔ پانی طاہر تو اب بھی ہے لیکن مطہر نہیں، اس سے پاکی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یا اس کو پڑھ لیں فَيَخْرُجُ کہ جب إِلَّا إِذَا غَلَبَ عَلَى الْمَاءِ مگر یہ کہ وہ پیشاب غالب آ جائے پانی پر فَيَخْرُجُ مِنْ أَنْ يَكُونَ طَهُورًا تو نکل جائے گا وہ پانی طہور ہونے سے یعنی اب وہ مطہر نہ رہے، پاک ہے لیکن مطہر نہیں ہے بھئی۔
اس اختلاف کی وجہ دراصل یہ ہے کہ شیخین اور امام محمد رحمہ اللہ کا اختلاف ہے بھئی مأکول اللحم جانوروں کے پیشاب کے اندر۔ مأکول اللحم جانور وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے بھئی، بکری، گائے، اونٹ وغیرہ بھئی، یہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کا پیشاب امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پاک ہے، یہ ناپاک ہے ہی نہیں، یہ پاک ہے۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا پیشاب بھی ناپاک ہے نجس ہے بھئی۔ تو لہٰذا شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چونکہ کنویں کے اندر اس کا پیشاب گرا بھیڑ بکری کا اور یہ تو ناپاک ہے تو ناپاک چیز کنویں میں گری ہے تو کیا کرنا پڑے گا؟ سارے پانی کو نکالنا پڑے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تو یہ پیشاب ان کا پاک ہے لہٰذا یہ کنویں میں گرے گا بھی تو پاک چیز گری ہے، پانی کو نکالنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ اختلاف کی وجہ سمجھ میں آئی بھئی؟
وَأَصْلُهُ أَنَّ بَوْلَ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ طَاهِرٌ عِنْدَهُ اصلہ، ھا ضمیر اختلاف کو راجع کریں۔ اس اختلاف کی اصل یہ ہے أَنَّ بَوْلَ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ طَاهِرٌ عِنْدَهُ نَجِسٌ عِنْدَهُمَا کہ وہ پیشاب اس جانور کا جس کا گوشت کھایا جاتا ہے وہ پاک ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، نَجِسٌ عِنْدَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک نجس ہے ناپاک ہے۔ لَهُ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَمَرَ الْعُرَنِيِّينَ بِشُرْبِ أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا عرنیین یعنی قبیلہ عرینہ والوں کو بِشُرْبِ أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا اونٹوں کے پیشاب اور ان کے دودھ کے پینے کا۔ بھئی یہ کچھ لوگ تھے قبیلہ عرینہ والے بھئی، سات آٹھ یا نو افراد تھے اور یہ آئے اور مدینہ منورہ میں رہنے لگے بھئی مدینہ منورہ میں۔ تو مدینہ منورہ کی آب و ہوا ان کو موافق نہ آئی، یہ بیمار ہو گئے، کمزور پڑ گئے، ان کے رنگ زرد ہو گئے، پیٹ پھول گئے ان کے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنی تکلیف اور پریشانی ذکر کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ مدینے سے پانچ چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام تھا جہاں مسلمانوں کی صدقے کی اونٹنیاں وغیرہ رکھی جاتی تھیں، چرواہے وغیرہ ان کے پاس وہ اونٹنیاں ہوتیں، تو حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ تم وہاں جا کر رہو اور ان اونٹنیوں کا دودھ بھی پیو اور ان کا پیشاب بھی پیو، دودھ پیو اور پیشاب پیو۔ تو چنانچہ یہ وہاں جا کر رہنے لگے اور پھر یہ وہاں پر تندرست ہو گئے بھئی ان کی صحت ٹھیک ہو گئی، لیکن یہ اتنے بد فطرت لوگ تھے کہ انہوں نے پھر ان چرواہوں کو قتل کر دیا ٹھیک ہونے کے بعد، ان کو قتل کیا اور اونٹنیوں اور اونٹوں کو بھگا کر لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی، آپ نے صحابہ کی جماعت کو ان کے پیچھے بھیجا بھئی۔ صحابہ گئے اور ان کو گرفتار کر کے لے آئے بھئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیے اور لوہے کی سلائیاں گرم کر کے ان کی آنکھوں میں پھیر دی گئیں آنکھیں ان کی پھوڑ دی گئیں اور پھر ان کو اسی حالت کے اندر، اسی حالت کے اندر دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر ڈال دیا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ پانی پانی پکار رہے تھے پیاس کی وجہ سے، جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم النَّار، النَّار یعنی آگ آگ فرماتے تھے جواب میں بھئی۔ تو یہ قبیلہ عرینہ والے لوگ تھے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اتنی سختی کیوں کی گئی، وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دراصل اسی سزا کے لائق تھے، یہ بیمار ہو گئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیماری کا علاج ان کو بتایا اور نہ صرف علاج بتایا بلکہ اس کا بندوبست بھی کیا کہ جاؤ جا کر رہو وہاں ہماری مسلمانوں کی اونٹنیاں ہیں ان کا دودھ بھی پیو اور پیشاب بھی پیو، باقاعدہ دوا بھی میسر فرما دی اور پھر ان چرواہوں کو بھی کہا ہو گا یہ لوگ آئے ہیں ان کا خیال وغیرہ رکھنا بھئی، تو وہاں رہے اور پھر تندرست ہونے کے بعد تو ان کے ساتھ احسان کیا گیا تھا تو اس کا جواب ان کو احسان سے دینا چاہیے تھا، لیکن احسان نہ کرتے لیکن کم از کم تکلیف تو نہ دیتے، لیکن انہوں نے کیا کیا؟ احسان کا جواب الٹا تکلیف، اور تکلیف کہتے ہیں عام تکلیف بھی نہیں وہ چرواہے جو ہیں صرف اونٹوں کو بھگا کر نہیں لے گئے، چرواہوں کو قتل کیا اور چرواہوں کو بھی کوئی عام قتل نہیں کیا، اسی طرح ظالمانہ طریقے سے قتل کیا تھا انہوں نے چرواہوں کو بھئی۔ حتیٰ کہ ان کی آنکھوں اور زبان کے اندر کیکر کے کانٹے چبھوئے تھے انہوں نے بھئی، تو خوب ظالمانہ طریقے سے ان کو قتل کیا تھا تو اس لیے حضور علیہ السلام نے ان کو سزا بھی اسی طرح عبرت ناک دی تاکہ آئندہ کبھی کسی کو اس طرح کرنے کی جرأت نہ ہو بھئی، جرأت نہ ہو۔ تو اس طرح یہ ان کا یہ ان کو یہ سزا دی گئی بھئی۔
اور یاد رکھیے یہ ہاتھ پاؤں کا کاٹنا، آنکھوں کا پھوڑنا وغیرہ یہ اس کو مُثْلَہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مثلہ کہتے ہیں اور شریعت میں مثلہ حرام ہے، جائز نہیں ہے کہ کسی جنگ کے اندر بھی کسی کو مخالف کوئی دشمنوں کو قتل کیا جائے تو ان کا مثلہ کرنے کی شریعت نے اس سے منع کیا ہے بھئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر تو ان کا مثلہ کیا گیا، مثلہ کہتے ہیں اللہ کی تخلیق کو بگاڑنا خراب کرنا، تو دیکھو یہ ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں اسی طرح ناک کان کاٹ دیے جائیں وغیرہ آنکھیں پھوڑ دی جائیں تو اس میں بھی تخلیق کا بگاڑنا ہے بھئی، تو اس سے منع کیا گیا ہے تو تو اگر کوئی یہ اشکال کرے کہ مثلہ تو جائز نہیں پھر کیسے یہ حکم دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ تو جواب یاد رکھیے گا بھئی کہ یہ واقعہ مثلہ کی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس کے بعد حکم نازل ہوا اور مثلہ کی ممانعت کر دی گئی بھئی، مثلہ کی۔ تو یہ تھی اس واقعے کی تفصیل بھئی۔ یہ جو دلیل ذکر فرما رہے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کہ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَمَرَ الْعُرَنِيِّينَ بِشُرْبِ أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عرینہ والوں کو اونٹنیوں کا پیشاب پینے اور ان کا دودھ پینے کا حکم فرمایا تھا، معلوم ہوا یہ مأکول اللحم جانوروں کا پیشاب پاک ہے جبھی تو حضور علیہ السلام ان کو پینے کا حکم دے رہے ہیں بھئی، یہ ان کی دلیل ہے بھئی، یہ ان کی دلیل ہے۔
وَلَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ تم لوگ پیشاب سے بچو فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ کیونکہ عام طور پر اکثر جو ہے عذابِ قبر جو ہے منہ اسی کی وجہ سے ہوتا ہے کہ انسان پیشاب سے بچتا نہیں بے احتیاطی کرتا ہے۔ تو یہ حدیث شیخین کی دلیل ہے مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ حضور علیہ السلام نے یہ فرمایا بغیر کوئی فرق کیے، یہ صاحبِ ہدایہ کے الفاظ ہیں مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بغیر کسی فرق کے، یعنی اس میں مأکول اللحم اور غیر مأکول اللحم کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی ان کا کوئی فرق نہیں کیا گیا بس مطلقاً فرما رہے ہیں پیشاب سے تم لوگ بچو۔ معلوم ہوا چاہے مأکول اللحم کا جانور کا پیشاب ہو یا غیر مأکول اللحم کا سب کیا ہیں؟ نجس ہیں، اس سے بچنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
بھئی یہ حدیث آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم لوگ پیشاب سے بچو کیونکہ اکثر عذابِ قبر اسی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا یوں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبر دو قبریں بنی ہوئی تھیں نئی اور تازہ قبریں، ان کے پاس سے گزرے اور پھر آپ نے دو شاخیں درخت کی دو شاخیں لے کر ایک ایک تازہ شاخیں کٹوا کر ایک ایک قبر پر لگا دی اور ایک دوسری قبر پر لگا دی بھئی۔ اور فرمایا کہ فرمانے لگے کہ ان کو عذاب ہو رہا ہے قبر کے اندر تو تو میں نے چاہا کہ یہ تر شاخیں لگا دوں کہ یہ جب تک یہ تر شاخیں یہ درخت بھی کیا ہیں؟ اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں تو یہ تر شاخیں حضور نے لگائیں کہ یہ ذکر جب تک ذکر کرتی رہیں گی تب تک ان کے عذاب میں تخفیف ہو جائے گی بھئی، تب تک اللہ ان کے عذاب میں تب تک اللہ ان کے عذاب میں تاکہ تخفیف فرما دیں بھئی۔ تو یاد رکھیے یہ اس طرح علماء نے لکھا ہے کہ اس طرح کرنا جائز ہے بھئی۔ کسی کی قبر پر تر شاخ لگانا جائز ہے لیکن اس میں مبالغے کی ضرورت نہیں مبالغہ اس کے اندر نہ کیا جائے بھئی، کیونکہ تمام صحابہ گزرے ہیں اور کسی سے اس پر عمل ثابت نہیں سوائے ایک آدھ صحابی کے جنہوں نے وصیت کی تھی کہ میری قبر پر اس طرح شاخ لگا دی جائے، تو اس پر عمل البتہ ایک آدھ مرتبہ انسان کر سکتا ہے، علماء نے جائز لکھا ہے لیکن مبالغہ نہ ہو مبالغہ نہ ہو بھئی۔ اور اسی وجہ سے علماء فرماتے ہیں کہ درخت اور پودے وغیرہ چونکہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں لہٰذا قبر پر اگر پودے وغیرہ ہوں تو ان کو کاٹنا نہیں چاہیے بھئی کیونکہ ان کی وجہ سے قبر والے کو نفع ملتا ہے نفع پہنچتا ہے اس کو، ان کو کاٹنا نہیں چاہیے۔ لیکن اس میں میں نے بتایا کہ شاخ وغیرہ لگانے میں مبالغہ نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ اور یہ جو قبروں پر پھول ڈالتے ہیں، پھول اور پتیاں ڈالتے ہیں یاد رکھیے یہ جائز نہیں، اس شاخ لگانے کے واقعے سے ان پھولوں کے ڈالنے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے بھئی، صحیح نہیں ہے۔ یہ پھول وغیرہ اور پھولوں کی پتیاں ڈالنا یاد رکھیے یہ کفار اور مشرکین کا طریقہ ہے وہ اس طرح کرتے ہیں بھئی۔ اس سے قبر والے کو کیا فائدہ حاصل ہو گا کہ اس پر پھول ڈالے جائیں بھئی؟ تو بلکہ اس کے لیے کیا کرے انسان؟ ایصالِ ثواب کرے بھئی یا زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے ایک شاخ لگا دے اس قبر پر کہ تاکہ جب تک وہ خشک نہیں ہوتی یا جو پودے لگے ہیں ان کو کاٹے نہ ان کے اوپر سے سبز پودے بھئی سبز پودے۔ اور یہ قبریں کن کی تھیں؟ بعض علماء فرماتے ہیں یہ قبریں کفار کی تھیں، لیکن زیادہ علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی قبریں تھیں بھئی۔ کس کی قبریں تھیں؟ مسلمانوں کی قبریں تھیں جبھی تو ان کے عذاب میں تخفیف کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز شاخیں ان پر لگائیں بھئی سبز شاخیں لگائیں۔ اور علماء کہتے ہیں کہ یہ واقعہ یہ واقعہ ایک بھی نہیں ہے بلکہ دو تین واقعات ہیں بھئی دو تین واقعات اس طرح پیش آئے ہیں بھئی اس طرح کے۔ البتہ بعض روایتوں میں یہ آتا ہے بعض روایتوں میں یہ آتا ہے کہ ان میں سے ایک قبر سید الاوس جلیل القدر صحابی حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھی بھئی، بعض روایات میں یہ آیا ہے، لیکن یاد رکھیے تمام علماء نے اس کی سختی سے تردید کی ہے، علامہ ابن حجر رحمہ اللہ بھی بڑی سختی سے اس کی تردید فرماتے ہیں کہ حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ تو نہایت جلیل القدر صحابی تھے، ان کا اللہ کے ہاں اتنا عظیم مقام تھا اتنا اونچا مرتبہ تھا کہ روایات میں آتا ہے حدیث میں آتا ہے کہ ان کے انتقال پر عرشِ الٰہی لرز اٹھا بھئی، عرشِ الٰہی لرزنے لگا بھئی۔ تو یہ اتنے جلیل القدر صحابی تھے کہ عرش ان کی موت کی وجہ سے عرشِ الٰہی بھی لرزنے لگا، یا تو غم کی وجہ سے کہ ان کا انتقال ہوا ہے یا خوشی کی وجہ سے کہ ایک عظیم روح جو ہے دنیا سے اس عالمِ بالا کی طرف منتقل ہوئی ہے بھئی۔ یاد رکھیے مومن کا جنازہ بڑا وزنی ہوتا ہے، ایمان کا بہت وزن ہوتا ہے، تو جتنا ایمان قوی اور اونچے درجے کا ہو گا اتنا ہی جنازہ وزنی ہو گا، لیکن حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ جب اٹھایا گیا تو وہ بڑا ہی ہلکا پھلکا تھا، چنانچہ منافقین باتیں کرنے لگے کہ حضرت سعد ابن معاذ نے وہ یہودیوں کا قبیلہ تھا بنو قریظہ، ان کے بارے میں چونکہ بڑا سخت فیصلہ کیا اور ان سب کے بالغ مردوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا انہوں نے اور ایسا ہی کیا گیا ان سب کو پھر قتل کر دیا گیا، یہ غزوہ خندق کے فوراً بعد کا واقعہ ہے بھئی، تو ان سب کو قتل کر دیا گیا تو منافقین باتیں کرنے لگے بھئی کہ چونکہ انہوں نے انہوں نے ان کے بارے میں بڑا سخت فیصلہ کیا اس لیے ان کا جنازہ ہلکا پھلکا ہے۔ لیکن حضور علیہ السلام کے سامنے یہ ذکر ہوا تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ان کا جنازہ اس لیے ہلکا ہے کیونکہ آسمان سے ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں شرکت کے لیے آئے ہیں اور وہ ان کے جنازے کو اٹھائے ہوئے ہیں بھئی۔ اندازہ لگائیے اتنے جلیل القدر صحابی بھئی، تو لہٰذا یہ جو بعض روایات میں آیا کہ یہ ان کی قبر تھی یہ درست نہیں ہے بھئی یہ روایت درست نہیں ہے۔ تو یہ اس موقع پر وہ جو قبروں پر حضور علیہ السلام نے وہ سبز شاخیں لگائیں اس موقع پر حضور علیہ السلام نے فرمایا: اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ پیشاب سے بچو تم لوگ کیونکہ اکثر عذابِ قبر اسی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
وَلِأَنَّهُ يَسْتَحِيلُ إِلَى نَتْنٍ وَفَسَادٍ یہ شیخین رحمہما اللہ کی ایک تو دلیل حدیث ذکر کر دی اور ایک ان کی دوسری دلیل قیاس بھی ذکر کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: وَلِأَنَّهُ يَسْتَحِيلُ إِلَى نَتْنٍ وَفَسَادٍ بھئی دیکھیے حیوان جو بھی غذا کھاتا ہے اس کی دو ہی حالتیں ہیں: یا تو وہ نتن اور فساد کی طرف بدلتا ہے یا کس کی طرف؟ اچھی حالت کی طرف، اور یہ جو مأکول اللحم جانور کا پیشاب ہے یہ بھی کس حالت اچھی حالت کی طرف بدلا ہے یا نتن اور فساد کی طرف بدلا ہے؟ یہ نتن اور فساد کی طرف بدلا ہے اس میں بدبو بھی ہے اور یہ فاسد بھی ہے، تو یہ غیر مأکول اللحم جانوروں کے پیشاب کی طرح ہوا۔ کس کا پیشاب؟ مأکول اللحم جانوروں کا پیشاب غیر مأکول اللحم جانوروں کے پیشاب کی طرح ہوا کیونکہ وہ بھی کس کی طرف بدلا ہے؟ نتن اور فساد کی طرف، تو یہ بھی نتن اور فساد کی طرف بدلا ہے، یہ ان کی طرح ہوا اور وہ تو بالاتفاق نجس ہیں لہٰذا اس کو بھی کیا کہا جائے گا؟ نجس کہا جائے گا بھئی۔ وَلِأَنَّهُ يَسْتَحِيلُ إِلَى نَتْنٍ وَفَسَادٍ اور اس لیے کیونکہ یہ جو پیشاب ہے مأکول اللحم جانوروں کا یہ بدلا ہے إِلَى نَتْنٍ وَفَسَادٍ بدبو اور فساد کی طرف، فَصَارَ كَبَوْلِ مَا لَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ تو یہ ہو گیا وہ پیشاب ان جانوروں کے جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا ان کی طرح۔
وَتَأْوِيلُ مَا رَوَى أَنَّهُ عَرَفَ شِفَاءَهُمْ وَحْيًا اور تاویل اس حدیث کی جس کو امام محمد رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ وہ جو حضور علیہ السلام نے عرنیین والوں کو اونٹوں کے پیشاب پینے کا حکم دیا تھا اس کی تاویل یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کو ان کی شفاء کا پتہ وحی سے چلا تھا بھئی۔ کس چیز سے؟ وحی کے ذریعے حضور علیہ السلام کو بتلایا گیا تھا کہ یہ ان کی شفاء کس کے اندر ہے ان اونٹوں کے اونٹنیوں کا دودھ بھی پیئیں اور ان کا پیشاب بھی پیئیں بھئی پیشاب بھی پیئیں۔ تو لہٰذا اس سے ان کا پاک ہونا ثابت نہیں ہوتا بھئی، پاک ہونا۔ اور علماء لکھتے ہیں، علماء لکھتے ہیں چونکہ یہ بد فطرت لوگ تھے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے بتلایا گیا اور نجس چیز کو ان کے لیے بطورِ علاج کے تجویز کیا گیا بھئی کہ یہ بد فطرت لوگ ہیں تو بری چیز ہی ان کے لیے علاج کے طور پر ذکر کی گئی۔ تو کہتے ہیں: وَتَأْوِيلُ مَا رَوَى أَنَّهُ عَرَفَ شِفَاءَهُمْ وَحْيًا اور تاویل اس حدیث کی جس کو روایت کیا امام محمد رحمہ اللہ نے وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانا تھا ان کی شفاء کو وحی سے۔
ثُمَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَا يَحِلُّ شُرْبُهُ لِلتَّدَاوِي اچھا بھئی مأکول اللحم جانوروں کا مأکول اللحم جانوروں کا پیشاب اس میں آپ نے اختلاف پڑھ لیا، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ ناپاک ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ پاک ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کیا اس مأکول اللحم جانور کے پیشاب کو بطورِ دوا کے علاج معالجے کے طور پر استعمال کرنا جائز ہے یا جائز نہیں ہے بھئی؟ تو وہ ذکر کر رہے ہیں: ثُمَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ پھر امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک لَا يَحِلُّ شُرْبُهُ لِلتَّدَاوِي حلال نہیں ہے جائز نہیں ہے اس کا پینا لِلتَّدَاوِي علاج معالجے کے لیے، لِأَنَّهُ لَا يُتَيَقَّنُ بِالشِّفَاءِ فِيهِ اس لیے کیونکہ یقینی نہیں ہے شفاء اس میں، کیونکہ اس میں شفاء کا ہونا یقینی نہیں ہے، حضور علیہ السلام کو تو وحی کے ذریعے بتلایا گیا تھا، ویسے کسی اور کا اس میں شفاء کا ہونا یقینی نہیں ہے، تو لہٰذا فَلَا يُعْرَضُ عَنِ الْحُرْمَةِ لہٰذا حرمت سے اعراض نہیں کیا جائے گا، حرمت حرام ہے تو اس حرمت کو چھوڑا نہیں جائے گا اسی طرح حرام قرار دیا جائے گا علاج کے لیے بھی استعمال جائز نہیں کیونکہ وہاں پر تو ان کا شفاء کا یقینی طور پر علم ہوا تھا وحی کے ذریعے، کوئی اور استعمال کرتا ہے تو وہاں پر شفاء کا یقینی شفاء یقینی نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے فَلَا يُعْرَضُ عَنِ الْحُرْمَةِ لہٰذا اعراض نہیں کیا جائے گا حرمت سے۔
وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَحِلُّ لِلتَّدَاوِي امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہے تو نجس لیکن علاج کے طور پر اس کا استعمال جائز ہے حلال ہے، لِلْقِصَّةِ اس قصے کی وجہ سے، قصۂ عرنیین بھئی۔
وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَحِلُّ لِلتَّدَاوِي وَغَيْرِهِ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ان اس کا استعمال حلال ہے جائز ہے لِلتَّدَاوِي علاج کے لیے بھی وَغَيْرِهِ اور غیر علاج کے لیے بھی اور علاج وغیرہ کے علاج کے علاوہ بھی یہ جائز ہے لِطَهَارَتِهِ عِنْدَهُ بوجہ اس کے پاک ہونے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، کیونکہ ان کے نزدیک یہ کیا ہے؟ پاک ہے بھئی پاک ہے۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔