Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-064

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ النَّوَافِلِ ”السُّنَّةُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَانِ، وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَإِنْ شَاءَ رَكْعَتَيْنِ، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الْعِشَاءِ، وَأَرْبَعٌ بَعْدَهَا، وَإِنْ شَاءَ رَكْعَتَيْنِ. وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: "مَنْ صَابَرَ عَلَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ"“. بَابُ النَّوَافِلِ، یہ باب ہے نوافل کے بیان میں۔ اس باب میں صاحبِ ہدایہ نوافل اور سنتوں کو بیان فرمائیں گے۔ کیونکہ سنتیں بھی کیا ہیں؟ نفل ہیں بھئی۔ نفل کا معنی ہے زائد زائد۔ تو یہ جو سنتیں ہیں، یہ بھی فرضوں سے زائد ہیں، یہ بھی نوافل ہیں۔ البتہ ان پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پابندی فرمائی ہے اور ان کی تاکید فرمائی ہے تو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ سنت کہتے ہیں بھئی۔ تو اس میں سنتیں بھی بیان ہوں گی اور نوافل بھی بیان ہوں گے۔ تو پہلے سنتوں کا بیان کر رہے ہیں صاحبِ قدوری بھئی: ”السُّنَّةُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ“، سنت جو ہے وہ دو رکعت ہے فجر سے پہلے، یعنی فجر سے پہلے دو رکعت یہ سنتیں ہیں، یہ پڑھنا مسنون ہے۔ ”وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ“، اور چار رکعت ظہر سے پہلے۔ ”وَبَعْدَهَا رَكْعَتَانِ“، اور ظہر کی نماز کے بعد دو رکعتیں۔ ”وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الْعَصْرِ وَإِنْ شَاءَ رَكْعَتَيْنِ“، اور چار رکعت عصر سے پہلے اور اگر چاہے تو دو رکعت پڑھ لے، اگر چاہے تو دو رکعت پڑھ لے۔ ”وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ“، اور دو رکعت ہیں مغرب کے بعد۔ ”وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الْعِشَاءِ“، اور چار رکعت عشاء کے سے پہلے۔ ”وَأَرْبَعٌ بَعْدَهَا“، اور چار رکعت عشاء کے بعد، ”وَإِنْ شَاءَ رَكْعَتَيْنِ“، اور اگر چاہے تو دو رکعت پڑھ لے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ سنتیں پڑھتے ہیں، تو یہ انہی کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ فجر سے پہلے کتنی سنتیں ہیں؟ دو رکعت ہیں۔ وہ بھی ذکر ہو گیا۔ ظہر سے پہلے کتنی رکعت ہیں؟ سنتِ مؤکدہ جو ہیں وہ چار رکعت ہیں اور ظہر کی نماز کے بعد دو رکعت ہیں بھئی۔ ”وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الْعَصْرِ وَإِنْ شَاءَ رَكْعَتَيْنِ“، جی، یہ عصر سے پہلے چار رکعت اور اگر چاہے تو دو رکعت پڑھ لے بھئی۔ صاحبِ قدوری نے اس کو سنتوں میں ذکر فرمایا جبکہ آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ مستحب ہیں۔ یہ عصر سے پہلے چار یا دو رکعت پڑھنا مستحب ہے بھئی۔ ”وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ“، اور اسی طرح مغرب کے بعد کتنی رکعت سنتِ مؤکدہ ہے؟ دو رکعت ہیں۔ اور عشاء سے پہلے چار رکعت ہیں بھئی، یہ بھی وہ آپ کو بتلائیں گے یہ کیا ہیں؟ مستحب ہیں۔ اور عشاء کے بعد چار اور اگر چاہے تو دو رکعت بھئی۔ ”وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اور اصل اس کے اندر حضور علیہ السلام کا قول ہے، آپ نے فرمایا: ”مَنْ صَابَرَ عَلَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ“. صَابَرَ يُصَابِرُ کے معنی ہوتے ہیں پابندی کرنا۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں جس نے پابندی کی بارہ رکعتوں پر دن اور رات میں، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائیں گے۔ جس نے دن رات میں بارہ رکعتوں پر پابندی کی اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائیں گے۔ تو یہ بارہ رکعتیں ہیں بھئی: دو فجر سے پہلے، اور چار ظہر سے پہلے اور دو بعد میں، یہ کتنی ہو گئیں؟ چار اور دو چھ اور دو فجر کی آٹھ، اور دو مغرب کے بعد دس، اور دو عشاء کے بعد بارہ۔ یہ سنتِ مؤکدہ ہیں بھئی، باقی جو ہیں وہ مستحب ہیں یا جن کو آپ سنتِ غیر مؤکدہ کہتے ہیں، تو ان کا بھی آگے صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں اصل اس کے اندر حضور علیہ السلام کا قول ہے جس نے پابندی کی بارہ رکعت پر دن اور رات میں اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔ ”وَفَسَّرَ عَلَى نَحْوِ مَا ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ“، اور حضور علیہ السلام نے تفسیر فرمائی اسی طریقے پر جس طرح کہ ذکر کیا ہے فِي الْكِتَابِ، کتاب میں یعنی قدوری کے اندر۔ فِي الْكِتَابِ کے نیچے مبسوط لکھا ہے، مبسوط یہ درست نہیں بھئی۔ فِي الْكِتَابِ سے کیا مراد ہے؟ یہ متن مراد ہے اور اس کتاب میں اور یہ متن کس کا ہے؟ قدوری کا ہے، یہ قدوری کی عبارت ہے بھئی۔ تو جس طرح حضور علیہ السلام نے بھی ان رکعتوں کی اسی طرح تفصیل فرمائی جس طرح اس کتاب یعنی قدوری کے اندر ذکر ہیں، البتہ یہ عصر سے پہلے چار یا دو اور عشاء سے پہلے چار، یہ میں نے آپ کو بتایا مستحبات میں سے ہیں۔ اور یہ اب آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر کرنے لگے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے بھی اسی طریقے پر ان کی تفسیر فرمائی جس طرح کتاب قدوری کے اندر ذکر ہے، ”غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْأَرْبَعَ قَبْلَ الْعَصْرِ“، مگر یہ کہ حضور علیہ السلام نے حدیث کے اندر عصر سے پہلے کی جو چار رکعتیں ہیں ان کو ذکر نہیں فرمایا۔ صاحبِ قدوری نے تو ذکر فرمایا لیکن یہ جو حدیث ہے، حدیثِ مصابَرَہ، اس کے اندر حضور علیہ السلام نے عصر سے پہلے چار رکعتوں کا ذکر نہیں فرمایا۔ ”فَلِهَذَا سَمَّاهُ فِي الْأَصْلِ حَسَنًا“، اسی وجہ سے اس کا نام اس کو قرار دیا ہے اصل میں یعنی مبسوط میں، کس میں؟ مبسوط۔ وہ جو پیچھے آیا تھا نا "أَيِ الْمَبْسُوطِ" الکتاب کے نیچے بین السطور، یہ یہاں ہونا چاہیے تھا۔ اصل سے کیا مراد ہے؟ مبسوط مراد ہے، تو یہ کتابت کی غلطی ہے کہ وہاں درج کر دیا گیا۔ تو حضور علیہ السلام نے حدیث کے اندر عصر سے پہلے چار رکعتوں کو ذکر نہیں فرمایا، ”فَلِهَذَا سَمَّاهُ فِي الْأَصْلِ حَسَنًا“، اسی وجہ سے اصل میں یعنی مبسوط میں امام محمد رحمہ اللہ نے ان چار رکعت کو حسن قرار دیا ہے، حسن کہا ہے، تو یعنی مستحب کہا ہے۔ ”وَخُيِّرَ لِاخْتِلَافِ الْآثَارِ“، بھئی صاحبِ قدوری نے کیا فرمایا تھا؟ عصر سے پہلے چار پڑھے اور اگر چاہے تو دو پڑھ لے، اختیار دیا گیا۔ اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَخُيِّرَ لِاخْتِلَافِ الْآثَارِ“، اور اختیار دیا گیا احادیث کے مختلف ہونے کی وجہ سے کیونکہ اس کے بارے میں مختلف احادیث آئی ہیں، بعض میں چار کا ذکر ہے تو بعض میں دو کا ذکر ہے۔ ”وَالْأَفْضَلُ هُوَ الْأَرْبَعُ“، اور افضل کیا ہے؟ کتنی رکعت پڑھے عصر سے پہلے؟ چار رکعت پڑھے بھئی۔ اور ان کی بڑی فضیلت ہے بھئی، بڑی فضیلت ہے۔ تو برصغیر کا ایک بڑا مشہور بادشاہ گزرا ہے، سلطان التمش نام تھا، سلطان التمش۔ اور تو خواجہ بختیار کاکی رحمہ اللہ ان کا انتقال ہوا جو اس زمانے میں بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں۔ تو ان کا جب انتقال ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ میری نمازِ جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کی کبھی عصر کی سنتیں بھی قضا نہ ہوئی ہوں زندگی بھر۔ زندگی بھر اس کی کبھی بھی عصر کی سنتیں قضا نہ ہوئی ہوں۔ اب ان کی تو پابندی بہت کم لوگ کرتے ہیں کیونکہ مستحب ہیں بھئی، تو بہرحال جس کو اللہ توفیق دے دے۔ تو اب ان کے جب انہوں نے وصیت کر دی، اب انتظار میں ہیں کون شخص آگے ہو اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھائے بھئی۔ ایک شخص بھی آگے نہیں ہو رہا کیونکہ بڑی کڑی شرط انہوں نے لگا دی تھی کہ میری نمازِ جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کی زندگی بھر عصر کی سنتیں قضا نہ ہوئی ہوں، سنتیں قضا نہ ہوئی ہوں۔ کہتے ہیں کہ ایک، دو یا تین دن غالباً گزر گئے اور پھر بالآخر جو بادشاہ تھا سلطان التمش وہ آگے ہو گیا روتے ہوئے بھئی، اور کہنے لگا کہ آپ نے میرے راز کو سب کے سامنے کھول دیا، یعنی یہ بات تو میں نے سب سے چھپا کر رکھی تھی کہ میں نے کبھی بھی ان میں یہ عصر کی سنتیں میری نہیں چھوٹیں۔ تو دیکھیے اندازہ لگائیے کیسے نیک اور اولیاء بادشاہ گزرے ہیں کہ اور اور امورِ خیر کو تو چھوڑیے، سنتِ مؤکدہ کو تو چھوڑیے، سنتِ غیر مؤکدہ بھی ان کی زندگی بھر نہیں چھوٹی تھیں بھئی۔ تو اس کی بڑی فضیلت آئی ہے، تو پھر انہوں نے نمازِ جنازہ ان کی پڑھائی بھئی۔ ”وَلَمْ يَذْكُرِ الْأَرْبَعَ قَبْلَ الْعِشَاءِ“، اور صاحبِ قدوری نے تو کیا ذکر کیا تھا؟ عشاء سے پہلے بھی کتنی رکعت پڑھے؟ چار رکعت پڑھے جو متن کے اندر آیا۔ لیکن حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لَمْ يَذْكُرِ الْأَرْبَعَ قَبْلَ الْعِشَاءِ“، اس حدیثِ مصابَرَہ میں حضور علیہ السلام نے عشاء سے قبل چار رکعتوں کا بھی ذکر نہیں فرمایا۔ ”وَلِهَذَا كَانَ مُسْتَحَبًّا لِعَدَمِ الْمُوَاظَبَةِ“، اور اسی وجہ سے یہ چار رکعت کیا ہیں؟ مستحب ہیں، بوجہ پابندی نہ ہونے کے۔ یعنی حضور علیہ السلام نے ان پر پابندی نہیں فرمائی۔ جن چیزوں پر تو حضور علیہ السلام نے پابندی فرمائی ہے ان کو تو ہم کیا کہتے ہیں؟ نوافل میں سے ہے تو اور اس پر پابندی فرمائی ہے اس کو سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں، لیکن اس پر پابندی نہیں فرمائی تو یہ مستحب ہوں گے۔ ”وَذَكَرَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ“، اور متن میں تو کیا آیا تھا کہ عشاء کے بعد چار پڑھے اور اگر چاہے تو کتنی پڑھ لے؟ دو پڑھ لے۔ جبکہ حدیث میں ”وَذَكَرَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ“، اس حدیثِ مصابَرَہ کے اندر حضور علیہ السلام نے عشاء کے بعد دو رکعت کا ذکر فرمایا ہے۔ ”وَفِي غَيْرِهِ ذُكِرَ الْأَرْبَعُ“، اور اس کے علاوہ اور حدیثوں میں چار کا ذکر کیا گیا ہے، یا یوں کہیں ”وَفِي غَيْرِهِ ذَكَرَ الْأَرْبَعَ“، اس کے علاوہ بعض اور احادیث میں حضور علیہ السلام نے کتنا ذکر فرمایا ہے؟ چار۔ ”فَلِهَذَا خُيِّرَ“، اسی وجہ سے اختیار دیا صاحبِ قدوری نے۔ ”إِلَّا أَنَّ الْأَرْبَعَ أَفْضَلُ خُصُوصًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ عَلَى مَا عُرِفَ مِنْ مَذْهَبِهِ“، مگر یہ کہ چار رکعت پڑھنا افضل ہے، خصوصاً امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بوجہ اس کے جو معروف ہے ان کا مذہب بھئی، جو ان کا مذہب معروف ہے، ان کے نزدیک چار افضل۔ ”وَالْأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ بِتَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ عِنْدَنَا“، اور ظہر سے پہلے جو چار رکعتیں سنت ہیں، تو اس میں ہمارے نزدیک وہ ایک سلام کے ساتھ ہیں بھئی، کس کے ساتھ؟ ایک سلام کے ساتھ، یعنی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرنا بلکہ چار پوری کرنے کے بعد آخر میں سلام پھیرنا ہے۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ اختلاف فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں چار رکعت ہیں مگر دو سلاموں کے ساتھ، یعنی ہر دو رکعت کے بعد کیا کرنا ہے؟ سلام پھیرنا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ بِتَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ عِنْدَنَا كَذَا قَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“، اور وہ چار رکعت جو ظہر سے پہلے ہیں ایک سلام کے ساتھ ہیں ہمارے نزدیک، اسی طرح فرمایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، اور اس میں اختلاف ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کا، وہ فرماتے ہیں دو سلاموں کے ساتھ چار رکعت پڑھیں گے۔ ”قَالَ: وَنَوَافِلُ النَّهَارِ إِنْ شَاءَ صَلَّى بِتَسْلِيمَةٍ رَكْعَتَيْنِ وَإِنْ شَاءَ أَرْبَعًا“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ دن کے نوافل، اب نوافل کا بیان شروع ہوا۔ پہلے سنتِ مؤکدہ کا بیان ہو گیا، اب نوافل۔ کہتے ہیں دن کے نوافل جو ہیں، اگر چاہے تو پڑھے نماز پڑھنے والا ایک سلام کے ساتھ دو رکعتیں، اور اگر چاہے تو چار رکعت پڑھے ایک سلام کے ساتھ، چار رکعت۔ یعنی یہاں بتلانا یہ ہے، بھئی نوافل تو جتنے بھی پڑھنا چاہیں آپ پڑھ سکتے ہیں، لیکن ایک سلام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کتنی رکعتیں پڑھ سکتے ہیں دن میں یا رات میں؟ تو وہ بیان کر رہے ہیں۔ تو دن میں ایک سلام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کتنی پڑھ سکتے ہیں؟ چار رکعت۔ ”وَتُكْرَهُ الزِّيَادَةُ عَلَى ذَلِكَ“، اور اس پر زیادتی کرنا مکروہ ہے۔ یہ معنی نہیں کہ چار نفلوں سے زیادہ نہیں پڑھ سکتے بلکہ معنی یہ ہے کہ ایک سلام کے ساتھ چار رکعتوں سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے۔ ”فَأَمَّا نَافِلَةُ اللَّيْلِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ: إِنْ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ بِتَسْلِيمَةٍ جَازَ“، اور باقی رات کے نوافل جو ہیں، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر پڑھی نماز پڑھنے والے نے آٹھ رکعتیں ایک سلام کے ساتھ تو یہ بھی جائز ہے۔ رات کو کیا کر سکتے ہیں؟ آٹھ رکعتیں مسلسل پڑھ کر آخر میں آٹھویں رکعت پر سلام ایک ہی سلام ایک ہی مرتبہ پھیریں تو یہ بھی جائز ہے۔ ”وَتُكْرَهُ الزِّيَادَةُ عَلَى ذَلِكَ“، اور اس پر زیادتی مکروہ ہے بھئی۔ ”وَقَالَا: لَا يَزِيدُ بِاللَّيْلِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ“، اور صاحبین فرماتے ہیں نہ زیادہ کرے رات کے وقت دو رکعت پر۔ صاحبین فرماتے ہیں رات کے وقت دو رکعت پر زیادہ نہ کرے، یاد رکھیے یہ معنی نہیں کہ صاحبین کے نزدیک دو رکعت پر زیادہ کرنا ایک ہی سلام کے ساتھ مکروہ ہے بلکہ یہ افضل ہونے کا بیان ہے، کس چیز کا؟ افضل ہونے کا بیان۔ ان کے نزدیک بھی رات کے وقت آٹھ رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا جائز ہے، تو افضل یہ ہے کہ دو دو رکعت ہی پڑھتا رہے رات کو جتنی بھی نفل پڑھنا چاہے۔ یہ معنی ہے ”وَقَالَا: لَا يَزِيدُ بِاللَّيْلِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ بِتَسْلِيمَةٍ“، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ افضل یہ ہے کہ رات کے وقت زیادہ نہ کرے دو رکعت پر ایک سلام کے ساتھ۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ لَمْ يُذْكَرِ الثَّمَانِي فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ“، اور جامع صغیر کے اندر ذکر نہیں کیا گیا آٹھ رکعت کو صلاۃ اللیل میں، رات کی نماز میں۔ جامع صغیر میں آٹھ کو ذکر نہیں کیا گیا بلکہ وہاں چھ کا ذکر ہے، کتنے کا ذکر ہے؟ چھ۔ تو ”لَمْ يُذْكَرِ الثَّمَانِي“ پڑھ لیں یا ”لَمْ يَذْكُرِ الثَّمَانِيَ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ“، ضمیر پھر لوٹا دیں گے امام محمد رحمہ اللہ کو، اور امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر نہیں فرمایا آٹھ کو صلاۃ اللیل میں جامع صغیر کے اندر۔ اچھا بھئی، آٹھ سے زیادہ یا چار سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے، دن میں چار سے زائد ایک سلام کے ساتھ پڑھنا اور رات میں آٹھ سے زیادہ پڑھنا ایک سلام کے ساتھ، اس کو مکروہ کیوں قرار دیا؟ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَدَلِيلُ الْكَرَاهَةِ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ“، اور مکروہ ہونے کی دلیل جو ہے وہ یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے اس پر زیادتی نہیں فرمائی، یعنی دن میں چار رکعت سے زیادہ اور رات کو آٹھ رکعت سے زیادہ ایک سلام کے ساتھ آپ نے ادا نہیں فرمائے۔ ”وَلَوْلَا الْكَرَاهَةُ لَزَادَ تَعْلِيمًا لِلْجَوَازِ“، اگر کراہت نہ ہوتی تو حضور علیہ السلام بڑھا دیتے جواز کی تعلیم دینے کے لیے، جواز بتلانے کے لیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو جائز بتلانے کے لیے کبھی نہ کبھی ضرور ان سے زائد بھی ادا فرماتے، لیکن آپ نے کبھی بھی ان پر زیادتی نہیں فرمائی، معلوم ہوا اس سے زائد پڑھنا مکروہ ہے۔ ”وَالْأَفْضَلُ فِي اللَّيْلِ“، یہ تو تھا جائز اور مکروہ کا بیان بھئی، کہ کتنے پڑھنا رات کو دن کو زیادہ سے زیادہ ایک سلام کے ساتھ جائز ہے اور اس سے زیادہ مکروہ۔ اب افضل کیا ہے وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالْأَفْضَلُ فِي اللَّيْلِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى مَثْنَى مَثْنَى، وَفِي النَّهَارِ أَرْبَعٌ أَرْبَعٌ“، اور افضل جو ہے رات کے وقت صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک دو دو رکعت ہیں، اور دن میں چار چار رکعت یعنی چار ایک ہی سلام کے ساتھ یہ پڑھنا افضل ہے۔ ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِيهِمَا مَثْنَى مَثْنَى“، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں میں یعنی دن اور رات دونوں میں افضل کیا ہے؟ مَثْنَى مَثْنَى، دو دو ہیں بھئی، دو دو رکعت۔ اور یاد رکھیے یہ مثنیٰ ثانی یہ تاکید ہے مثنیٰ اول کی، کیونکہ مثنیٰ کا معنی ہی ہے دو دو۔ مثنیٰ کا کیا معنی؟ دو دو۔ تو یہ جو ثانی مثنیٰ ہے یہ اول کی تاکید ہے۔ ”وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ فِيهِمَا أَرْبَعٌ أَرْبَعٌ“، اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں میں، یعنی دن ہو یا رات ہو، دونوں میں چار چار رکعت پڑھنا افضل ہے۔ اب دلیلیں ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى“، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى“، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں دن اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ ”وَلَهُمَا“، صاحبین رحمہما اللہ کی دلیل، انہوں نے کیا ذکر کیا تھا؟ رات کو افضل ہے دو دو رکعت پڑھے اور دن میں چار چار پڑھے، ان کی دلیل: ”وَلَهُمَا الِاعْتِبَارُ بِالتَّرَاوِيحِ“، اور صاحبین کی دلیل جو ہے وہ قیاس کرنا ہے تراویح پر۔ وہ کس پر قیاس کرتے ہیں؟ تراویح پر قیاس کرتے ہیں اور تراویح بالاتفاق دو دو رکعت پڑھنا افضل ہے۔ تراویح کیا ہے؟ دو دو رکعت پڑھنا افضل ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ رات کے وقت دو دو پڑھنا افضل ہے۔ اور دن میں؟ دن میں انہوں نے کیا کہا تھا؟ چار افضل ہیں، وہ آگے امام صاحب کی جہاں دلیل آئے گی اسی میں ذکر انہی کی بھی دلیل، وہ ان کی بھی دلیل ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو ”وَلَهُمَا الِاعْتِبَارُ بِالتَّرَاوِيحِ“، اور ان کے نزدیک جو ہے قیاس کیا جائے گا تراویح پر۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعِشَاءِ أَرْبَعًا رَوَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا“، امام صاحب کا کیا مذہب تھا؟ دن میں بھی چار رکعت پڑھنا افضل ایک سلام کے ساتھ اور رات میں بھی چار رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا افضل۔ تو رات کے وقت بھی وہ فرماتے ہیں چار پڑھنا افضل ہے، اس کی کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام ”كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعِشَاءِ أَرْبَعًا“، کہ حضور علیہ السلام عشاء کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے ایک سلام کے ساتھ۔ ”رَوَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا“، روایت کیا ہے اس کو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے۔ ”وَكَانَ يُوَاظِبُ عَلَى الْأَرْبَعِ فِي الضُّحَى“، اب دن میں بھی کیا فرمایا تھا؟ امام صاحب کے نزدیک افضل کیا ہے؟ چار رکعت، اور صاحبین بھی کیا فرماتے ہیں؟ چار رکعت۔ تو یہ آگے دونوں کی دلیل ہو جائے گی۔ ”وَكَانَ يُوَاظِبُ عَلَى الْأَرْبَعِ فِي الضُّحَى“، اور حضور علیہ السلام پابندی فرماتے تھے چار رکعت پر چاشت کے وقت بھئی۔ چاشت کے وقت جب سورج تھوڑا سا بلند ہو جائے بھئی صبح، تو اس وقت حضور علیہ السلام چار رکعت ادا فرماتے تھے، معلوم ہوا دن کے وقت چار رکعت پڑھنا افضل ہے۔ یہ تو تھی بھئی نقلی دلیل، اب عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَدْوَمُ تَحْرِيمَةً فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَشَقَّةً وَأَزْيَدَ فَضِيلَةً“، امام صاحب فرماتے ہیں چار رکعت پڑھنا اس لیے بھی افضل کہ اس کے اندر تحریمہ لمبی ہو گی، تو درمیان میں وقفہ نہیں آئے گا اور یہ انسان کے لیے مشکل ہے، اس میں مشقت اس کے لیے زیادہ ہے۔ اگر ہر دو رکعت پر سلام پھیرے گا پھر تو درمیان میں کچھ وقفہ آ گیا، تحریمہ ختم ہو گئی۔ اور ایک یہ ہے کہ شروع میں تحریمہ شروع کی، آخر میں چار رکعت کے بعد جا کر سلام پھیرتا ہے، تو اس میں کیا ہے؟ مشقت زیادہ ہے، اور ظاہر سی بات ہے جس میں مشقت زیادہ جس عبادت کے اندر اس میں ثواب بھی زیادہ ہو گا، لہٰذا وہ افضل ہو گی۔ ”وَلِأَنَّهُ أَدْوَمُ تَحْرِيمَةً“، اور اس لیے کیونکہ یہ جو ہے چار رکعت یہ زیادہ دائمی ہے یعنی زیادہ لمبی ہے تحریمہ کے اعتبار سے، ”فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَشَقَّةً“، تو یہ زیادہ ہے مشقت کے اعتبار سے یعنی اس میں مشقت زیادہ ہے، ”وَأَزْيَدَ فَضِيلَةً“، اور یہ زیادہ ہے فضیلت کے اعتبار سے یعنی اس میں زیادہ فضیلت ہے۔ ”وَلِهَذَا لَوْ نَذَرَ أَنْ يُصَلِّيَ أَرْبَعًا بِتَسْلِيمَةٍ لَا يَخْرُجُ عَنْهُ بِتَسْلِيمَتَيْنِ“، اور اسی وجہ سے، کہتے ہیں اسی وجہ سے اگر ایک شخص نے منت مانی کہ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں چار رکعت نفل پڑھوں گا ایک سلام کے ساتھ، لہٰذا اب اگر اس کا وہ کام ہو گیا تو اس پر وہ چار رکعتیں واجب ہو گئیں، اب وہ اس نے کیا کہا تھا؟ ایک، لہٰذا اگر دو سلاموں کے ساتھ وہ نفل پڑھتا ہے تو یہ وہ جو واجب ہے وہ ادا نہیں ہو گا، ابھی بھی وہ اس کے ذمے باقی ہے، کیونکہ اس نے جن کا جن نفلوں کو اپنے اوپر لازم کیا تھا وہ ایک سلام کے ساتھ چار رکعت تھے اور ان میں مشقت زیادہ ہے، اور دو دو رکعت پر وہ سلام پھیرے گا تو اس میں مشقت کم ہے، تو لہٰذا جب زیادہ مشقت والے کو اس نے اپنے اوپر واجب کیا ہے تو ان کو اسی طرح ادا کرنا پڑے گا، کم مشقت کے ساتھ ادائیگی سے وہ واجب ادا نہیں ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یرحمک اللہ۔ لیکن اگر اس کا کوئی اس کا برعکس ہو، ایک شخص نے یہ منت مانی کہ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں چار رکعت نفل پڑھوں گا، قید کوئی نہیں لگائی یا کہہ دیا کہ دو سلاموں کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ دو سلاموں کے ساتھ، بلکہ قید کا اعتبار کریں، اس نے باقاعدہ قید لگائی کہ اے اللہ اگر یہ کام ہوا تو میں چار رکعت نفل پڑھوں گا دو سلاموں کے ساتھ، اور پھر اس کا وہ کام ہو گیا، اب وہ چار رکعت ایک ہی سلام کے ساتھ پڑھتا ہے، تو فقہاء لکھتے ہیں کہ اس کے کا وہ جو واجب اس کے ذمے ہے وہ ادا ہو جائے گا، کیونکہ اس نے واجب کس قسم کا اپنے اوپر کیا تھا؟ کم مشقت والا، اور اس نے اس سے بڑھ زیادہ مشقت والا ادا کر دیا تو وہ بطریقِ اولیٰ ادا ہو جائے گا، معلوم ہوا کہ ان چار میں کیا ہے؟ مشقت زیادہ ہے بھئی۔ ”وَلِهَذَا لَوْ نَذَرَ أَنْ يُصَلِّيَ أَرْبَعًا بِتَسْلِيمَةٍ لَا يَخْرُجُ عَنْهُ بِتَسْلِيمَتَيْنِ وَعَلَى الْقَلْبِ يَخْرُجُ“، اور اسی وجہ سے اگر منت مانی کسی شخص نے کہ وہ چار رکعت پڑھے گا ایک سلام کے ساتھ، تو وہ اس سے نکلے گا نہیں دو سلاموں کے ساتھ، اس سے وہ ادا نہیں ہوں گے، اور اس کے قلب کی صورت میں یعنی اس کے عکس صورت میں کہ اگر اس نے منت کیا مانی تھی کہ چار رکعت پڑھوں گا دو سلاموں کے ساتھ اور وہ پڑھتا کس کے ساتھ ہے ایک سلام کے ساتھ، ”يَخْرُجُ“، تو وہ نکل جائے گا اس ذمہ داری سے۔ ”وَالتَّرَاوِيحُ تُؤَدَّى بِجَمَاعَةٍ فَيُرَاعَى فِيهَا جِهَةُ التَّيْسِيرِ“، یہاں سے صاحبین کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ صاحبین نے کیا فرمایا تھا کہ رات کے وقت کتنے رکعت پڑھنا افضل؟ دو دو رکعت، اور کس پر قیاس کیا تھا؟ تراویح پر۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی تراویح کے اندر دو دو رکعت اس لیے پڑھی جاتی ہے اور وہ افضل ہے کیونکہ اس میں سب لوگ شریک ہوتے ہیں اور تو لوگوں کی آسانی کس کے اندر ہے؟ چار میں ہے یا دو میں ہے؟ دو میں۔ تو لوگوں کی آسانی کی خاطر اس میں دو دو رکعت پڑھنا افضل ہے کیونکہ لوگ ہر طرح کے ہوتے ہیں، کوئی کمزور ہو گا، کوئی بیمار ہو گا، کوئی ضعیف ہو گا وغیرہ بھئی، اس لیے وہاں دو رکعت پڑھنا افضل ہے تاکہ لوگوں کے تاکہ لوگ کہیں مشکل میں نہ پڑ جائیں۔ تو کہتے ہیں ”وَالتَّرَاوِيحُ تُؤَدَّى بِجَمَاعَةٍ“، اور تراویح جو ہے وہ جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، ”فَيُرَاعَى فِيهَا جِهَةُ التَّيْسِيرِ“، تو اس میں رعایت رکھی جائے گی آسانی والی جہت کی، آسانی والی جانب کی۔ ”وَمَعْنَى مَا رَوَاهُ شَفْعًا لَا وِتْرًا“، بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ دن اور رات دونوں میں دو دو رکعت پڑھنا افضل، اور دلیل کیا ذکر کی تھی؟ کہ حدیث میں آیا ہے ”صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى“، کہ دن اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اس کا بھی جواب ذکر فرما رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے صاحبِ ہدایہ، اور فرماتے ہیں کہ وہ جو حدیث میں آیا نا کہ دن اور رات کی نماز مثنیٰ مثنیٰ ہے، اس کا یہ معنی نہیں دو دو رکعت مراد ہیں بلکہ مثنیٰ سے مراد ہے جوڑا۔ جی دن اور رات کی نماز جوڑا جوڑا ہے، یعنی دو دو رکعت ہونی چاہیے، یعنی طاق نہیں، جفت ہونی چاہیے طاق نہیں۔ یعنی جفت ہونی چاہیے، طاق نہیں ہونی چاہیے، تو جو تو دو پڑھے گا یہ بھی جفت، چار ایک سلام کے ساتھ پڑھتا ہے یہ بھی کیا ہے؟ جفت ہے، یعنی چار پڑھے، دو پڑھے، چار پڑھتا ہے وغیرہ، اور یعنی طاق نہ پڑھے، تین یا پانچ یا سات وغیرہ۔ ”وَمَعْنَى مَا رَوَاهُ شَفْعًا لَا وِتْرًا وَاللهُ أَعْلَمُ“، اور معنی اس حدیث کا جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا اس کا معنی ہے شَفْعًا، جوڑا یا یوں کہیں جفت بھئی، اس کا معنی کیا ہے؟ جفت ہے، لَا وِتْرًا، طاق نہیں، وَاللهُ أَعْلَمُ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ فَصْلٌ فِي الْقِرَاءَةِ ”وَالْقِرَاءَةُ فِي الْفَرْضِ وَاجِبَةٌ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الرَّكَعَاتِ كُلِّهَا، وَقَالَ مَالِكٌ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ إِقَامَةً لِلْأَكْثَرِ مَقَامَ الْكُلِّ تَيْسِيرًا. وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} وَالْأَمْرُ بِالْفِعْلِ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ. وَإِنَّمَا أَوْجَبْنَا فِي الثَّانِيَةِ اسْتِدْلَالًا بِالْأُولَى لِأَنَّهُمَا تَتَشَاكَلَانِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ، فَأَمَّا الْأُخْرَيَانِ فَتُفَارِقَانِهِمَا فِي حَقِّ السُّقُوطِ بِالسَّفَرِ، وَصِفَةِ الْقِرَاءَةِ، وَقَدْرِهَا فَلَا تُلْحَقَانِ بِهِمَا. وَالصَّلَاةُ فِيمَا رَوَى مَذْكُورَةٌ صَرِيحًا فَتُصْرَفُ إِلَى الْكَامِلَةِ وَهِيَ الرَّكْعَتَانِ عُرْفًا كَمَنْ حَلَفَ لَا يُصَلِّي صَلَاةً بِخِلَافِ مَا إِذَا حَلَفَ لَا يُصَلِّي“. فَصْلٌ فِي الْقِرَاءَةِ، یہ فصل ہے قراءت کے بیان میں۔ قراءت کے بارے میں ایک فصل پہلے بھی گزر چکی ہے، یہاں مزید کچھ اسی سے متعلقہ قراءت سے متعلق مسائل ذکر کریں گے بھئی۔ کہتے ہیں ”وَالْقِرَاءَةُ فِي الْفَرْضِ وَاجِبَةٌ فِي الرَّكْعَتَيْنِ“، اور قراءت جو ہے وہ فرضوں میں واجب ہے، واجب یہاں بمعنی فرض کے ہے، قراءت فرضوں میں واجب ہے یعنی فرض ہے دو رکعتوں میں۔ بھئی فرضوں کے اندر دو رکعتوں کے اندر قراءت کا پڑھنا فرض ہے، دو میں۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الرَّكَعَاتِ كُلِّهَا“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ساری رکعتوں کے اندر قراءت فرض ہے، یعنی ظہر کی چاروں رکعتوں میں قراءت فرض، مغرب کی تینوں رکعتوں میں قراءت فرض، عشاء کی بھی اور عصر کی بھی چاروں رکعتوں میں قراءت فرض۔ جبکہ عند الاحناف پہلی دو رکعتوں میں قراءت فرض ہے بھئی، صرف پہلی دو رکعتوں میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل، کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ“، کوئی نماز نہیں مگر قراءت کے ساتھ، کوئی نماز نہیں مگر قراءت، یعنی نماز تو قراءت ہی کے ساتھ ہے یعنی اس میں ضروری ہے۔ ”وَكُلُّ رَكْعَةٍ صَلَاةٌ“، اور ہر رکعت صلاۃ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں کیا آیا ہے؟ بغیر قراءت کے کوئی نماز نہیں، اور ہر رکعت صلاۃ ہے، ہر رکعت کیا ہے؟ صلاۃ ہے، نماز ہے، اور حدیث میں ہے کوئی نماز بغیر قراءت کے نہیں، تو ہر رکعت کے اندر قراءت فرض ہو گی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے ”وَكُلُّ رَكْعَةٍ صَلَاةٌ“، اور ہر رکعت صلاۃ ہے نماز ہے، تو اور حدیث میں آیا کوئی نماز بغیر قراءت کے نہیں تو ہر رکعت میں قراءت فرض ہو گی۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ إِقَامَةً لِلْأَكْثَرِ مَقَامَ الْكُلِّ تَيْسِيرًا“، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین رکعتوں میں قراءت فرض ہے، کتنی رکعتوں میں؟ تین رکعتوں میں۔ وہ اس ضابطے کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، اکثر کے لیے کل کا حکم ہوتا ہے۔ تو جس نے تین رکعتوں کے اندر قراءت کر لی گویا اس نے کل نماز میں یعنی چاروں میں ہی کیا کر لی؟ قراءت کر لی، تو ان کے نزدیک اس وجہ سے تین رکعتوں کے اندر قراءت فرض ہے۔ تو کہتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین رکعتوں میں یعنی قراءت فرض ہے، قائم کرتے ہوئے اکثر کو کل کے مقام پر آسانی کے لیے۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ}“، اور ہماری دلیل جو ہے اللہ تعالیٰ کا قول ہے: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ}، پس تم پڑھو جو تمہیں میسر ہو قرآن میں سے، جو آسان ہو تمہارے لیے قرآن میں سے اس کی قراءت کرو۔ تو یہ امر آیا، {فَاقْرَءُوا} امر آیا، ”وَالْأَمْرُ بِالْفِعْلِ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ“، اور کسی فعل کا امر، کسی فعل کا جو حکم دیا جائے، یہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔ آپ اپنے غلام، آپ کا کوئی ہو، اس کو آپ کوئی حکم دے دیں، وہ ایک دفعہ اس کو کر لے تو آپ راضی ہو جاتے ہیں کہ اس نے میری بات مان لی، اس پر کیا کیا؟ عمل کر لیا۔ تو یہاں پر بھی امر آیا، ایک دفعہ اس پر عمل ہو جائے قراءت پر تو فرض ادا ہو جائے گا۔ تو اس آیت سے اس آیت سے تو معلوم ہوا ایک مرتبہ بھی قراءت کر لی جائے گی تو فرض ادا ہو جائے گا، یعنی ایک رکعت میں قراءت فرض ہونی چاہیے، ایک رکعت میں بھی اس پر عمل کر لیا جائے گا تو امر پر عمل ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں اور کسی فعل کا جو امر ہے اس کا جو حکم ہے وہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، جیسے کہ آپ اصولِ فقہ میں پڑھ چکے ہوں گے۔ ”وَإِنَّمَا أَوْجَبْنَا“، یہاں سے سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ کہ بھئی اگر آپ نے کیا دلیل ذکر کی کہ امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، لہٰذا قراءت قراءت جو ہے چاروں رکعتوں میں واجب نہیں، اگر اس کو دلیل بناتے ہو اے احناف پھر تو ایک رکعت میں قراءت فرض ہونی چاہیے، لیکن آپ تو کیا کہتے ہیں؟ دو میں قراءت فرض ہے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں بھئی۔ احناف کی باتیں بھئی سمندر سے بھی گہری ہوتی ہیں اور ہمارے پاس تمام مسائل کے اندر اتنے قوی ادلہ موجود ہیں بشرطیکہ کوئی صاحبِ مطالعہ ہو، بزرگوں کی کتابوں کا مطالعہ کرے اور دلائل کو دیکھے، احناف دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں بھئی۔ تو تو جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ کہ دوسری رکعت میں ہم نے پھر کیوں قراءت کو فرض قرار دیا؟ کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا أَوْجَبْنَا فِي الثَّانِيَةِ اسْتِدْلَالًا بِالْأُولَى“، اور ہم نے دوسری رکعت کے اندر بھی قراءت کو فرض قرار دیا پہلی رکعت سے ہی استدلال کرتے ہوئے، پہلی رکعت سے ہی دلیل پکڑتے ہوئے۔ کس طرح؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُمَا تَتَشَاكَلَانِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“، اس لیے کیونکہ یہ تو پہلی دو رکعتیں ہیں یہ ایک دوسرے کی ہم شکل ہیں ہر اعتبار سے۔ پہلی دو رکعتیں ہر اعتبار سے ایک دوسرے جیسی ہیں، تو لہٰذا جو چیز ایک میں ہو گی وہ دوسری میں بھی ہو گی، تو پہلی میں جب قراءت کو فرض قرار دیا تو دوسری میں بھی کیا قرار دیا جائے گا؟ فرض قرار دیا جائے گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے پھر تو تیسری اور چوتھی رکعت بھی پہلی رکعت جیسی ہیں، ان میں بھی کیا کرنا چاہیے؟ قراءت کو فرض قرار دینا چاہیے بھئی۔ اس کا بھی جواب آگے آ رہا ہے، کہتے ہیں: ”فَأَمَّا الْأُخْرَيَانِ فَتُفَارِقَانِهِمَا فِي حَقِّ السُّقُوطِ بِالسَّفَرِ“، باقی آخری دو جو رکعتیں ہیں وہ ان پہلی دو رکعتوں سے مختلف ہیں، ان سے جدا ہو جاتی ہیں سفر کی وجہ سے ساقط ہونے کے حق میں۔ یعنی دیکھیے بھئی سفر میں آپ قصر کرتے ہیں، چار رکعت فرضوں کے بجائے کتنے پڑھتے ہیں؟ دو رکعتیں، تو دیکھیے وہ آخری دو رکعتیں ساقط ہو گئیں اور پہلی دو کبھی بھی ساقط نہیں ہوتیں، تو آخری دو ساقط ہوتی ہیں، معلوم ہوا یہ پہلی دو جیسی نہیں۔ ”وَصِفَةِ الْقِرَاءَةِ“، اور قراءت کی صفت میں بھی یہ اس پہلی دو سے جدا ہیں، پہلی دو رکعت میں جہراً قراءت کی جاتی ہے، آخری دو میں کبھی بھی جہراً قراءت نہیں کی جاتی، معلوم ہوا یہ ان سے جدا ہیں۔ ”وَقَدْرِهَا“، اور قراءت کی مقدار میں بھی یہ اس سے ان پہلی دو سے الگ ہیں، پہلی دو کے اندر سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت بھی ملائی جاتی ہے جبکہ آخری دو میں فاتحہ کے ساتھ سورت نہیں ملائی جاتی۔ تو دیکھو معلوم ہوا یہ آخری دو رکعتیں پہلی دو رکعتوں کی طرح نہیں بلکہ یہ ان سے جدا ہیں، سفر کی وجہ سے ساقط ہونے کے حق میں بھی اور قراءت کی صفت میں بھی کہ پہلی دو میں جہراً ہے اور ان میں جہراً نہیں، اور قراءت کی مقدار میں بھی کہ پہلی دو میں سورت ساتھ ملائی جاتی ہے اور آخری دو میں سورت نہیں۔ ”فَلَا تُلْحَقَانِ بِهِمَا“، لہٰذا آخری دو کو پہلی دو کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا، یعنی پہلی دو میں قراءت فرض قرار دیا تو آخری دو میں فرض قرار نہیں دیا جائے گا۔ ”وَالصَّلَاةُ فِيمَا رَوَى مَذْكُورَةٌ صَرِيحًا“، باقی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب بھی ذکر فرما رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے ہر رکعت میں قراءت فرض ہے کیونکہ حدیث میں آیا ہے ”لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ“، کوئی نماز نہیں مگر کس کے ساتھ؟ قراءت کے ساتھ، اور ہر رکعت کیا ہے؟ نماز ہے، تو ہر رکعت میں قراءت فرض ہو گی کیونکہ کوئی نماز بغیر قراءت کے نہیں اور ایک رکعت بھی نماز ہی ہے۔ اس کا بھی جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَالصَّلَاةُ فِيمَا رَوَى مَذْكُورَةٌ صَرِيحًا“، اور صلاۃ کا لفظ اس حدیث میں جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا اس میں صلاۃ کا لفظ مذکور ہے صراحۃً، صراحۃً صلاۃ کا لفظ آیا ہے۔ اور تو صلاۃ کا لفظ ہی ذکر ہے اور اس کے ساتھ کوئی قید ذکر نہیں ہے، مطلقاً ذکر ہے، صلاۃ کے ساتھ کوئی قید ہے؟ کوئی قید نہیں۔ اور مطلق ذکر ہے، اور مطلق جب کوئی لفظ ذکر کیا جائے تو اس سے اس کا فردِ کامل مراد ہوتا ہے، اور فردِ کامل وہ نماز کا وہ ایک رکعت نہیں ہے، دو رکعت ہے، کتنا ہے؟ دو۔ چنانچہ عرف میں، عادت میں عام لوگ بھی اگر کوئی شخص ایک رکعت صرف پڑھے تو کوئی یہ نہیں کہتا اس نے نماز پڑھی ہے، لیکن دو رکعت پڑھ لے تو لوگ کیا کہتے ہیں؟ اس نے نماز پڑھی ہے، معلوم ہوا صلاۃ کا فردِ کامل کیا ہے؟ دو رکعت ہے، لہٰذا جو حدیث میں آیا اس سے دو رکعتیں مراد ہیں، کامل صلاۃ مراد ہے، ایک رکعت مراد نہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَالصَّلَاةُ فِيمَا رَوَى مَذْكُورَةٌ صَرِيحًا فَتُصْرَفُ إِلَى الْكَامِلَةِ وَهِيَ الرَّكْعَتَانِ عُرْفًا“، اور صلاۃ کا لفظ اس حدیث میں جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا صراحۃً مذکور ہے تو اس کو پھیرا جائے گا کامل نماز کی طرف، اور کامل نماز تو دو رکعتیں ہی ہیں عرفاً ای عادۃً، عرفاً یعنی عادۃً عام لوگوں کی عادت میں دو رکعت ہی کو نماز کہتے ہیں۔ ”كَمَنْ حَلَفَ لَا يُصَلِّي صَلَاةً“، جیسے کہ اس وہ شخص جو قسم اٹھا لے کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا، ایک آدمی ہے مثلاً وہ قسم اٹھا لیتا ہے ”لَا يُصَلِّي صَلَاةً“، لفظ کیا کہتا ہے؟ متکلم مثلاً کوئی شخص ہے وہ کہتا ہے واللہ میں صلاۃ نہیں پڑھوں گا، نماز نہیں پڑھوں گا، نماز۔ تو دیکھیے صلاۃ کا لفظ صراحۃً ذکر کر دیا، لا أصلي صلاۃً، اور صلاۃ مطلق آیا اور مطلق جب بولا جائے تو اس سے فردِ کامل مراد ہوتا ہے، لہٰذا اس سے فردِ کامل یعنی دو رکعت مراد ہوں گی۔ لہٰذا اب اگر یہ شخص اس نے نماز شروع کر دی، تو شروع کرتے ہی یہ حانث نہیں ہو گا۔ ایک رکعت پڑھ لی پھر بھی حانث نہیں ہو گا کیونکہ ابھی تک صلاۃِ کامل نہیں ہوئی اور اس نے بھی کیا قسم کھائی تھی کہ میں صلاۃ نہیں پڑھوں گا یعنی صلاۃِ کامل نہیں پڑھوں گا۔ ہاں جب دو رکعت پڑھ لے گا تو اب اس نے کامل نماز پڑھ لی اور اس نے تو قسم کھائی تھی میں کامل نماز نہیں پڑھوں گا تو اب حانث ہو جائے گا اور قسم کا اسے کفارہ دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ قسم اس نے اس طرح کی اٹھائی، وہ تو گناہگار ہو گا ہی، اس طرح کی قسم اٹھاتا ہے وہ، لیکن بات یہ نہیں ہو رہی، بات صرف یہ بیان کر رہے ہیں کہ حانث کس وقت ہو گا اگر یہ قسم کوئی اٹھا لیتا ہے تو دو رکعت پڑھنے پر حانث ہو گا۔ لیکن اس کے بجائے اگر وہ صرف یہ کہتا "واللہ لا أصلي"، واللہ میں نماز نہیں پڑھوں گا، تو فقہاء لکھتے ہیں اس صورت میں ایک رکعت پڑھتے ہی حانث ہو جائے گا کیونکہ اس نے کیا کہا واللہ لا أصلي، صلاۃ کا لفظ صراحۃً اس نے ساتھ ذکر نہیں کیا، صرف کہا میں نماز نہیں پڑھوں گا، اور ایک رکعت بھی نماز ہے یا نماز نہیں؟ وہ بھی نماز ہے، تو لہٰذا وہاں ایک رکعت پڑھتے ہی کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ ”كَمَنْ حَلَفَ لَا يُصَلِّي صَلَاةً بِخِلَافِ مَا إِذَا حَلَفَ لَا يُصَلِّي“، جیسے کہ وہ شخص جس نے قسم اٹھائی کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا، بخلاف اس کے کہ جب اس نے قسم اٹھائی لا يصلي، صرف یہ قسم اٹھائی، کہ اس صورت میں پوری کامل نماز کی شرط نہیں ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَهُوَ مُخَيَّرٌ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، إِنْ شَاءَ سَكَتَ، وَإِنْ شَاءَ قَرَأَ، وَإِنْ شَاءَ سَبَّحَ، كَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، وَهُوَ الْمَأْثُورُ عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، إِلَّا أَنَّ الْأَفْضَلَ أَنْ يَقْرَأَ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَاوَمَ عَلَى ذَلِكَ، وَلِهَذَا لَا يَجِبُ السَّهْوُ بِتَرْكِهَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“. ”وَهُوَ مُخَيَّرٌ فِي الْأُخْرَيَيْنِ“، اور نماز پڑھنے فرض پڑھنے والا جو ہے اس کو اختیار ہے آخری دو رکعتوں میں۔ فرضوں کی پہلی دو رکعتوں میں تو ہمارے نزدیک قراءت فرض ہے اور آخری دو رکعتوں میں اس کو اختیار، چاہے تو کیا کرے؟ سورۂ فاتحہ پڑھ لے، چاہے کیا پڑھ لے؟ تسبیحات پڑھ لے اور چاہے تو خاموش کھڑا رہے، یہی بات ذکر کر رہے ہیں۔ ”وَهُوَ مُخَيَّرٌ فِي الْأُخْرَيَيْنِ“، اور اس کو اختیار ہو گا آخری دو رکعتوں میں، ”مَعْنَاهُ“، اس کا معنی یہ ہے، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اس متن کا معنی یہ ہے: ”إِنْ شَاءَ سَكَتَ وَإِنْ شَاءَ قَرَأَ وَإِنْ شَاءَ سَبَّحَ“، کہ اگر چاہے تو وہ خاموش کھڑا رہے اور اگر چاہے تو قراءت کر لے یعنی فاتحہ پڑھ لے آخری دو میں، اور اگر چاہے تو تسبیح پڑھ لے۔ یرحمک اللہ۔ ”كَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“، اسی طرح روایت کیا گیا ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے۔ سمجھ میں آئی بات؟ اور یہ امام صاحب کوئی اپنی طرف سے بات نہیں کر رہے، سمجھ میں آیا، امام صاحب یہ کوئی اپنی طرف سے بات نہیں کر رہے بھئی، امام صاحب جو بھی بات کرتے ہیں قرآن اور حدیث کے اعتبار سے کرتے ہیں، اسی لیے کہتے ہیں ”وَهُوَ الْمَأْثُورُ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“، اور یہی منقول ہے حضرت علی سے بھی، حضرت ابن مسعود سے بھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی۔ ”إِلَّا أَنَّ الْأَفْضَلَ أَنْ يَقْرَأَ“، مگر افضل یہ ہے کہ قراءت کرے، آخری دو میں کیا کرے؟ قراءت یعنی فاتحہ پڑھے، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَاوَمَ عَلَى ذَلِكَ“، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اس پر پابندی فرمائی ہے، حضور علیہ السلام پابندی سے کیا پڑھتے تھے؟ آخری دو میں سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے۔ ”وَلِهَذَا لَا يَجِبُ السَّهْوُ بِتَرْكِهَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“، اور اسی وجہ سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا اس قراءت کو چھوڑنے کی وجہ سے آخری دو رکعتوں میں فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، کس میں؟ ظاہرِ روایت میں یعنی اس کے مطابق بھئی۔ ظاہرِ روایت سے کیا مراد ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں جو تواتر کے طریقے پر منقول ہیں اس لیے ان کا درجہ ان کی باقی کتابوں سے بڑھ کر ہے، تو ان میں جو مسئلہ ذکر ہو اس کو کہتے ہیں ظاہرِ روایت۔ سمجھ میں آیا؟ اور ان کے علاوہ اور کتابوں میں ذکر ہو تو اس کو کہتے ہیں نوادر، کیا کہتے ہیں؟ نوادر۔ ”وَالْقِرَاءَةُ وَاجِبَةٌ فِي جَمِيعِ رَكَعَاتِ النَّفْلِ، وَفِي جَمِيعِ رَكَعَاتِ الْوِتْرِ. أَمَّا النَّفْلُ: فَلِأَنَّ كُلَّ شَفْعٍ مِنْهُ صَلَاةٌ عَلَى حِدَةٍ، وَالْقِيَامُ إِلَى الثَّالِثَةِ كَتَحْرِيمَةٍ مُبْتَدَأَةٍ، وَلِهَذَا لَا يَجِبُ بِالتَّحْرِيمَةِ الْأُولَى إِلَّا رَكْعَتَانِ فِي الْمَشْهُورِ عَنْ أَصْحَابِنَا، وَلِهَذَا قَالُوا: يَسْتَفْتِحُ فِي الثَّالِثَةِ. وَأَمَّا الْوِتْرُ: فَلِلِاحْتِيَاطِ“. ”وَالْقِرَاءَةُ وَاجِبَةٌ فِي جَمِيعِ رَكَعَاتِ النَّفْلِ وَفِي جَمِيعِ رَكَعَاتِ الْوِتْرِ“، جی فرضوں کی بات ختم ہوئی، ان میں قراءت پہلی دو میں فرض اور آخری دو میں اختیار ہے لیکن افضل یہ ہے کہ قراءت کرے۔ نفلوں میں اور وتروں میں اس کے بارے میں بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَالْقِرَاءَةُ وَاجِبَةٌ فِي جَمِيعِ رَكَعَاتِ النَّفْلِ“، اور قراءت فرض ہے نفلوں کی تمام رکعتوں میں، تمام نفلوں میں، تمام سنتوں کی تمام رکعتوں میں، اور وتر کی ساری رکعتوں میں قراءت واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْقِرَاءَةُ وَاجِبَةٌ فِي جَمِيعِ رَكَعَاتِ النَّفْلِ وَفِي جَمِيعِ رَكَعَاتِ الْوِتْرِ“، اور قراءت واجب ہے نفلوں کی تمام رکعتوں میں اور وتروں کی ساری رکعتوں میں۔ بھئی نفلوں کی ساری رکعتوں میں قراءت واجب ہے، اسی نفل میں کیا آ گئیں؟ سنتیں بھی آ گئیں کیونکہ ابھی بیان ہوا سنت بھی دراصل کیا ہیں؟ نفل ہیں لیکن ان پر حضور علیہ السلام نے پابندی فرمائی ہے اور ان کی تاکید فرمائی ہے اس لیے ان کو سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں۔ اچھا، انہوں نے کیا ذکر کیا کہ نفلوں کی ساری رکعتوں میں بھی قراءت واجب، اس کی کیا دلیل ہے؟ اور اسی طرح وتر میں بھی، کہتے ہیں ”أَمَّا النَّفْلُ فَلِأَنَّ كُلَّ شَفْعٍ مِنْهُ صَلَاةٌ عَلَى حِدَةٍ“، باقی نفل جو ہیں اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر جوڑا جو ہے یعنی ہر دو رکعتیں جو ہیں نفلوں میں سے صَلَاةٌ عَلَى حِدَةٍ، وہ علیحدہ نماز ہے۔ نفلوں میں آپ چار رکعت ایک سلام سے پڑھتے ہیں لیکن ان میں بھی ہر دو رکعت دراصل کیا ہیں؟ علیحدہ۔ چار رکعت آپ نے ایک سلام سے پڑھے لیکن پہلی دو رکعت وہ علیحدہ نماز ہے پوری، علیحدہ دو نفل ہیں اور اگلے دو علیحدہ نفل ہیں۔ یہ معنی ہے کہ ان میں سے ہر جوڑا یعنی ہر دو رکعت جو ہے وہ علیحدہ نماز ہے، ”وَالْقِيَامُ إِلَى الثَّالِثَةِ كَتَحْرِيمَةٍ مُبْتَدَأَةٍ“، اور تیسری رکعت کی طرف اٹھنا یہ نئی تحریمہ کی طرح ہے۔ بھئی نفل پڑھ رہے ہیں، آپ نے چار رکعت کی نیت باندھی اور دو رکعت پڑھ لیے، تشہد پورا کیا، تشہد کے بعد اب جب یہ تیسری رکعت کے لیے آپ اٹھ رہے ہیں تو دوبارہ آپ تحریمہ کہتے ہیں؟ تحریمہ کہتے تو نہیں لیکن یہ ہے اسی طرح گویا آپ نئے سرے سے کیا کر رہے ہیں؟ دو رکعت شروع کر رہے ہیں، دو رکعت کی تحریمہ کہہ رہے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے اور تیسری رکعت کی طرف اٹھنا نئی تحریمہ کی طرح ہے۔ ”وَلِهَذَا لَا يَجِبُ بِالتَّحْرِيمَةِ الْأُولَى إِلَّا رَكْعَتَانِ فِي الْمَشْهُورِ عَنْ أَصْحَابِنَا“، اور اسی وجہ سے پہلی تحریمہ سے واجب نہیں ہوتے مگر دو ہی رکعتیں مشہور قول کے مطابق جو ہمارے فقہاء سے آیا ہے، نقل ہوا ہے۔ بھئی دیکھیے نفل کی ہر دو رکعتیں علیحدہ نماز ہیں، تو دو دو رکعت ہے گویا نماز، اور دو رکعت میں تو قراءت فرض ہوتی ہے تو ان میں بھی کیا ہو گی؟ قراءت فرض ہو گی، تو چاروں میں ہی قراءت فرض ہو جائے گی کیونکہ ہر دو رکعت علیحدہ نماز ہے، اور تیسری کے لیے آپ اٹھتے ہیں تو یہ گویا ایک نئی تحریمہ سے نماز شروع کر رہے ہیں، اسی طرح ہے، اسی طرح ہے۔ اور چنانچہ اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نفل شروع کیے اور چار رکعت کی نیت سے نفل شروع کیے، چار رکعت کی نیت کی کہ میں کتنے نفل پڑھتا ہوں؟ چار رکعت پڑھتا ہوں، اور اللہ اکبر کہہ کر نفل شروع کر دیے، ایک رکعت کے بعد ہی یا شروع کرتے ہی اس نے پھر ان نفلوں کو فاسد کر دیا، اور آپ نے کیا پڑھا ہے؟ نفل شروع کرنے سے پہلے تو نفل ہیں لیکن جب شروع کر دیں تو کیا بن جاتے ہیں؟ واجب بن جاتے ہیں کیونکہ اللہ فرماتے ہیں {وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ} تم اپنے عملوں کو باطل نہ کرو، اب عمل شروع کر دیا تو اب یہ واجب ہو گیا اس کو پورا کرنا۔ تو اب یہ دو رکعتیں جو اس نے شروع کی تھیں یہ اس پر واجب ہوئیں۔ تو یاد رکھیے اگر اس نے شروع کس نیت سے کیے تھے؟ چار رکعت، اور شروع میں ہی اس نے نفلوں کو فاسد کر دیا تو جو ہمارے فقہاء سے مشہور روایت آئی ہے اس کے مطابق اس پر دو نفل اب واجب ہیں، دو رکعت پڑھنا اس پر واجب ہو گئے۔ بھئی اس نے شروع تو چار رکعت کی نیت سے کیے تھے لیکن فقہاء کیا فرما رہے ہیں؟ دو رکعت اس پر واجب ہیں، معلوم ہوا اگلے دو جو ہیں وہ الگ ہیں، جب تک وہ شروع نہیں کیے وہ اس پر واجب بھی نہیں۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَلِهَذَا لَا يَجِبُ بِالتَّحْرِيمَةِ الْأُولَى إِلَّا رَكْعَتَانِ فِي الْمَشْهُورِ عَنْ أَصْحَابِنَا“، اسی وجہ سے پہلی تحریمہ کی وجہ سے واجب نہیں ہوتے مگر دو رکعت ہی مشہور روایت ہے ہمارے فقہاء سے۔ ”وَلِهَذَا قَالُوا يَسْتَفْتِحُ فِي الثَّالِثَةِ“، اور اسی وجہ سے فقہاء فرماتے ہیں کہ استفتاح کرے تیسری رکعت میں، کیا کرے؟ اس سے کیا معنی؟ أَيْ يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، وہ جو نماز کے شروع میں ہم ثناء پڑھتے ہیں "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ"، یہ دعا پڑھنی چاہیے کس میں؟ تیسری رکعت۔ جب نفلوں کی تیسری رکعت میں اٹھے، تشہد کے بعد اٹھا ہے، سلام نہیں پھیرا تو لیکن پھر بھی یہ کس کی طرح ہے؟ نئی تحریمہ کی طرح ہے، لہٰذا اس وقت کیا کرنا چاہیے اس کو؟ استفتاح پڑھنا چاہیے یعنی سبحانک اللہم کی دعا پڑھنی چاہیے۔ اور یہ مسئلہ بھی یاد رکھیے، انہوں نے یہ تو ذکر کیا کہ ایک آدمی نے چار رکعت والی نماز شروع کی، نفل شروع کیے اور شروع میں ہی نماز کو نفلوں کو فاسد کر دیا تو اس پر کتنے نفل واجب ہوں گے؟ دو رکعت۔ اور اسی طرح اگر ایک شخص نے شروع کیے تھے چار رکعت والے اور دو رکعتیں پوری کر لیں، تشہد بھی پڑھ لیا، تیسری کے لیے کھڑا ہو گیا، اب اس کے بعد کسی وقت اگر یہ فاسد کرتا ہے، تشہد کے تشہد میں بیٹھا تھا دوسری رکعت میں اور پھر وہ کھڑا ہوا ہے تیسری رکعت کے لیے، اب اگر وہ نفلوں کو فاسد کرتا ہے تو اس پر دو رکعت ہی قضا آئے گی کیونکہ پہلے دو تو کیا ہو گئے؟ پورے ہو گئے تشہد پر، اگلے دو جو ہیں وہ جیسے ہی شروع اس نے کیے وہ شروع ہو گئے اور اب جب ایک دفعہ شروع کر دیے تو اب ان کو باطل کرنا صحیح نہیں، لہٰذا اب اگر ان کو توڑا ہے تو اس صورت میں بھی پھر دو رکعت ہی اس کو ان کی قضا کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَأَمَّا الْوِتْرُ فَلِلِاحْتِيَاطِ“، باقی وتر، بھئی وتر میں بھی انہوں نے کہا تھا وتر کی ساری رکعتوں میں قراءت واجب ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں ”فَلِلِاحْتِيَاطِ“، وہ احتیاط کی وجہ سے ہے، اس لیے کیونکہ وتر اگرچہ امام صاحب کے نزدیک تو واجب ہیں لیکن اس میں سنت ہونے کی بھی علامتیں ہیں جیسے صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ وتر کے انکار کرنے والے کو کافر نہیں قرار دیا جاتا اور نیز وتروں کے لیے اذان اور اقامت نہیں کہی جاتی جیسے سنتوں کے لیے نہیں ہوتی، اور سنتوں کی تو ساری رکعتوں میں قراءت واجب ہے، لہٰذا بطورِ احتیاط کے وتر کی بھی ساری رکعتوں میں قراءت کو واجب قرار دیا جائے گا کیونکہ اس کی مشابہت ہے سنتوں کے ساتھ بھی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
82 approved lectures · 64 of 82